Skip to content

باب 6

توریث کی سالماتی بنیاد (Molecular Basis of Inheritance)

6.1 ڈی این اے
6.2 جنٹک مٹیریل کی تلاش
6.3 آر این اے کی دنیا
6.4 ریپلیکیشن
6.5 ٹرانسکریشن
6.6 جنیٹک کوڈ
6.7 ٹرانسلیشن
6.8 جین ایکسپریشن کارگولیشن
6.9 ہیومن جینوم پروجیکٹ
6.10 ڈی این اے فنگر پرنٹنگ

گذشتہ باب میں آپ نے توریث کے طرز عمل اور ان کی جنٹک بنیاد کے بارے میں پڑھا ہے۔ مینڈل کے زمانے میں۔ توریث کے طرز عمل کی ضابطگی کو ریگولیٹ کرنے والے ’فیکٹر‘ کی خصوصیت واضح نہیں تھی۔ اگلے سو سالوں میں ممکنہ جنٹک مٹیریل کی خصوصیت کی تلاش کی گئی جس کی تکمیل ڈی این اے یا ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ کی شکل میں ہوئی عضویوں کی اکثریت میں جنٹک مٹیریل ہے۔ گیارہویں جماعت میں آپ نے سیکھا ہے کہ نیوکلیک ایسڈ، نیوکلیوٹائیڈز کے پالی مرز ہیں۔
ڈی آکسی رائبو نیوکلک ایسڈ (ڈی این اے) اور رائبو نیوکلیک ایسڈ (آر این اے) حیاتیاتی دنیا میں پائے جانے والے دو قسم کے نیوکلیک ایسڈز ہیں۔ اکثر عضویوں میں ڈی این اے جنٹک مٹیریل ہوتا ہے۔ آر این اے حالانکہ کچھ وائرسس میں جنٹک مٹیریل ہوتا ہے مگر زیادہ تر یہ پیام دار کا کام کرتا ہے۔ آر این اے کے بہت سے اضافی کام ہیں۔ یہ آڈاپٹر یا محصولی ساختی، اور کچھ حالات میں کیٹالیٹک (خامروں کی طرح) سالمے کی طرح بھی کام کرتا ہے۔ گیارہویں جماعت میں آپ نے نیوکلیوٹائڈز کی ساخت اور کس طرح یہ مونومر اکائیاں جڑ کر نیوکلیک ایسڈ پالیمرز بناتی ہیں پڑھا ہے۔ اس اکائی میں ڈی این اے کی ساخت کے بارے میں، اس کے ریپبلیکیشن، ڈی این اے سے آر این اے کے بننے کے عمل(ٹرانسکرپشن)، جنٹک کوڈ جو پروٹینز میں امینوایسڈ کی ترتیب کا تعین کرتے ہیں، پروٹین کی تالیف کے عمل (ٹرانسلیشن) اور ریگولیشن کی ابتدائی بنیاد کے بارے میں بحث کریں گے۔ گذشتہ دس سالوں میں انسانی جینوم کے نیوکلیوٹائڈ کی مکمل ترتیب کے تعین نے جینومکس کے ایک نئے باب کو جنم دیا ہے۔ آخری سیکشن میں ہیومن مینوم ترتیب سازی کے جزلازم اور اس کے نتائج پر بھی بحث کریں گے۔
آئیے اپنی بحث کا آغاز سب سے پہلے حیاتیات کے سب سے زیادہ دلچسپ سالمے کی ساخت یعنی ڈی این اے سے شروع کریں۔ اگلے حصوں میں ہم سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کیوں یہ سب سے زیادہ پایا جانے والا جنٹک مٹیریل ہے، اور آر این اے سے اس کا کیا رشتہ ہے۔

6.1 ڈی این اے

ڈی این اے ڈی آکسی نیوکلیوٹائیڈر کا ایک لمبا پالیمر ہے۔ ڈی این اے کی لمبائی عموماً اس میں موجود نیوکلیوٹائڈز (یا نیوکلیوٹائڈ کا جوڑا جسے بیس پیئر بھی کہتے ہیں) تعداد سے طے ہوتی ہے۔ یہ تعداد ایک عضویے کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ’بیکٹیریو فاج جسے f174 کہتے ہیں میں 5386 نیوکلیوٹیراز ہوتے ہیں بیکٹیریا لمبڈا میں 48502بیس پیئرز ای کولائی میں 106×4.6 بی پی، اور انسانی ڈی این اے کے ہپلائیڈ جنیوم میں 109×3.3  بی پی ہوتے ہیں۔ چلیں اب اس طویل پالیمر کی ساخت کے بارے میں گفتگو کریں۔

6.1.1 پالی نیو کلیو ٹائیڈ زنجیر کی ساخت

پہلے ذرا پانی نیوکلیوٹائڈ زنجیر (ڈی این اے یا آر این اے) کی کیمیائی ساخت کے اہم نکات کو دوہرالیتے ہیں۔ ایک نیوکلیوٹائیڈ کے تین اجزا ہوتے ہیں۔ ایک نائیٹروجنس بیس، ایک پنٹوز شوگر (آر این اے میں رائبوز اور ڈی این اے میں ڈی آکسی رائیبوز)، اور ایک فاسفیٹ گروپ۔ نائیٹروجنس بیس دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پیورنیز (ایڈنین اور گوانین)، اور پائرمیڈنیز (سائیڈسین، یوریسل اور تھائمین)۔ سائیڈ سین ڈی این اے اور آر این اے دونوں میں موجود ہوتی ہے اور تھائمین ڈی این اے میں اور آر این اے میں تھائمین کی جگہ یوریسل ہوتی ہے۔ گلائکوسیڈیک لنکیج کے ذریعے ایک نائیٹروجنس بیسOH of 1'C  پنٹوز شوگر سے مل کر ایک نیوکلیوسائیڈ بناتا ہے، جیسے ایڈ نیوسین یا ڈی آکسی ایڈ نیوسین، گوانوسین یا ڈی آکسی گوانوسین، سائیوسین یا ڈی آکسی سائیڈین اور یورڈین یا ڈی آکسی تھائمیڈین۔ جب فاسفوایسڈ بانڈ کے ذریعے فاسفیٹ گروپ نیوکلیوسائیڈ کے OH of 5'C سے ملتا ہے تو اس سے مطابقت رکھنے والا نیوکلیوٹائڈ بنتا ہے (یا ڈی آکسی نیوکلیوٹائیڈ جس کا انحصار شوگر کی قسم پر مبنی ہوتا ہے)۔ دو نیو کلیوٹائڈز '3 – '5 فارسفو ڈائی ایسٹر بانڈ سے منسلک ہوکر ڈائی نیوکلیوٹائیڈ بناتے ہیں۔ اس طرح بہت سے نیوکلیوٹائیڈز آپس میں جوڑے جاسکتے ہیں اور ایک پانی نیوکلیوٹائیڈ زنجیر بن جاتی ہے اور جو پالیمر بنتا ہے اس کے ایک سرے پر شوگر کے 5' والے سرے پر آزاد فاسفیٹ گروپ ہوتا ہے جس کو پالی نیوکلیوٹائیڈ زنجیر کا '5 سرا کہتے ہیں۔ اسی طرح سے پالیمر کے دوسرے سرے  شوگر کا 'OH of 3Cگروپ آزاد ہوتا ہے جس کو پالی نیوکلیوٹائیڈ زنجیر کا – 3' سرا کہتے ہیں۔ پالی نیوکلیوٹائیڈ زنجیر کی پشت شوگر اور فاسفیٹ کی بنی ہوتی ہے۔ نائیٹروجنس بیس جو شوگر سے جڑے رہتے ہیں وہ پشت سے ابھرتے ہیں۔ (شکل 6.1)
pic 2 chapter 6
شکل 6.1  ایک پالی نیوکلیوٹائیڈ زنجیر
آر این اے میں، رائبوز کے ہر نیوکلیوٹائیڈ رینریڈیو (Residue)کے 2' پوزیشن پر اضافی OH۔ موجود ہوتا ہے۔ آر این اے میں تھائمن 5۔ متھیائل یوراسل، تھائمن کا دوسرا نام) کی جگہ پوراسل موجود ہوتی ہے۔
فریڈرک میشر نے 1869 میں مرکزے میں موجود تیزابی مادے کو ڈی این ا ے کی حیثیت سے پہچانا۔ انھوں نے اس کا نام نیوکلین رکھا ۔لیکن اتنے لمبے پالیمر کو صحیح سالم علاحدہ کرنے کی ٹیکنیک نہ ہونے کی وجہ سے بڑے لمبے عرصے تک ڈی این اے کی ساخت کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ یہ تو مارس ولکینس (M. Wilikins) اور روزالینڈ فرانکلین (Rosalind Franklin) کے ذریعے کئے گئے، ایکس رے ڈیفریکشن کی معلومات کی بنیاد پر 1953 میں جیمس واٹسن اور فرانسس کرک نے ڈی این اے کی ساخت کا بہت سادہ اور مشہور ماڈل ڈبل ہلیکس پیش کیا۔ ان کی تجویز کی بات پالی نیوکلیوٹائیڈ کی زبخیر کے دو دھاگوں کے درمیان بیس پیرننگ کی تھی۔ تاہم اروِن شارگاف (Erwin Chargaff) کے مشاہدے پر بھی اس تجویز کی بنیاد تھی جس کے مطابق‘ دو دھاگی ڈی این اے کے لیے ایڈنیین اور تھائمین کے درمیان، اور گوانین اور سائڈ سین کے درمیان کا تناسب ہمیشہ ایک کے برابر رہتا ہے۔
بیس پرینگ، یا جوڑا بنانا پالی نیوکلیوٹائیڈ زنجیر کو ایک عجیب وغریب خصوصیت عطا کرتی ہے۔ یہ ایک دوسرے کے لیے (Complementary) ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر ایک دھاگے کے بیسس کا سیکوئنس معلوم ہو تو دوسرے دھاگے کے تواتر کی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے، مزید پر آگیا خریدبراں، اگر ڈی این 71 کا ایک دھاگہ (آبائی ڈی این اے) نئے دھاگے کی تالیف کے لیے ٹیمپلیٹ(Template)کا کام کرتا ہے، تو اس طرح بننے والا دو دھاگی ڈی این اے ( اس کو دختر ڈی این اے کہتے ہیں) آبائی ڈی این اے سالمے سے بالکل مشابہہ ہوگا۔ اس خصوصیات کی وجہ سے ڈی این اے کی ساخت کا جنٹیک پہلو بالکل واضح ہوگیا۔
ڈی این اے ڈبل ہیلکس ساخت کی نمایاں خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(i) یہ دو پالی نیوکلیوٹائیڈ رنجیروںکا بنا ہوا ہوتا ہے، جس کی پشت شوگر۔ فاسفیٹ پر مشتمل ہوتی ہے اور بیسس اندر کی (i) یہ دو پالی نیوکلیوٹائیڈ رنجیروںکا بنا ہوا ہوتا ہے، جس کی پشت شوگر۔ فاسفیٹ پر مشتمل ہوتی ہے اور بیسس اندر کی جانب نکلے ہوتے ہیں۔
pic 3 chapter 6
شکل 6.2  دو دھاگی پالی نیوکلیوٹائیڈ زنجیر
(ii) یہ دو زنجیریں مخالف سمت میں چلتی ہیں (Anti parallel polarity) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک زنجیر کا رخ 5'-3'ہے تو دوسری کا 3'-5'ہوتا ہے۔
(iii) دونوں دھاگوں کے بیسیس ہائیڈروجن بانڈز (Hبانڈز) کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں اور بیس ہئیرز (بی پی) بناتے ہیں۔ مخالف دھاگوں سے ایڈنین اور تھائمین کے دو ہائیڈروجن بانڈز ہیں، اسی طرح، گوانین تین ہائیڈروجن بانڈز کے ساتھ سائیڈسین کے ساتھ بندھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیورین پائیریمڈین کے مخالف (سامنے) ہوتا ہے۔ یہ ترتیب ہیلکس کے دو دھاگوں کے درمیان تقریباً یکساں فاصلہ برقرار رکھتی ہے (شکل(6.2۔
(iv) دو زنجیروں کا گھمائو رائٹ ہینڈڈ ہوتاہے۔ ہیلکس کی پیچ 3.4nm (ایک نینومیٹر، ایک میٹر کا دس کھربواں حصہ ہوتا ہے یعنی 1ہوتے ہیں۔ اس طرح پلیکس کے بی پی کے درمیان کا فا صلہ تقریباً0.34کے برابر ہوتا ہے۔
(v) ڈبل ہیلکس کے لیک بیس پیٹر کی سطح دوسرے بیس کے متوازی ہوتی ہے۔ یہ ترتیب اور ہائیڈروجن بانڈزمل کر سیڑھی نماساخت کو استحکام پہنچاتے ہیں شکل -(6.3)
pic 4 chapter 6

بیسس پیٹرز؍ شوگر فاسفیٹ پشت؍ تھائمین؍ ایڈنیین

شکل 6.3  ڈی ا ین اے ڈبل ہلیکس
پیورین اور ہائیریمیڈین کے ساخت کا موازنہ کیجیے۔ کیا آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ ڈی این اے کی دو پالی نیوکلیو ٹائیڈڈ زنجیروں کے درمیانی فاصلہ تقریباً یکساں کیوں رہتا ہے؟
ڈی این اے کے ڈبل ہیلکس کی ساخت کی تجویز اور اس کے جنٹیک پہلو کی وضاحت کی سادگی انقلابی ثابت ہوئی جلد ہی، فرانسس کرک نے مالکیولر بائیولوجی میں مرکزی عقیدے (سٹرل ڈاگما) کی تجویز پیش کی، جس کے مطابق جنٹک معلومات ڈی این اے سے آر این اے اور پھر پروٹین کی جانب بہتی ہے۔

مرکزی عقیدہ

ریپبلیکیشن (DNA) ٹرانسکرپشن؍ mRNA؍ ٹرانسلیشن؍ پروٹین

pic 5 chapter 6
کچھ دائرسس میں معلومات کے بہاؤ کا رخ الٹی جانب ہوتا ہے یعنی آر این اے سے ڈی این اے کی جانب اس عمل کے لیے کیا آپ آسان نام تجویز کرسکتے ہیں؟

6.1.2 ڈی این اے، ہیلکس کی پیکیجنگ

دو متواتر اساس جوڑے کے درمیان کے فاصلے کو2مان کر اگر تمثیلی پستانی خلیے میں موجود ڈبل ہیلکس کی لمبائی کا تخمینہ لگائیں (محض بی پی کی کل تعداد کو دومتواتر بی پی کے درمیان کے فاصلے سے ضرب دیکر یعنی3تو یہ لمبائی تقریباً 2.2 میٹرہوتی ہے۔ یہ وہ لمبائی ہے جو تمثیلی مرکزے کی حدود سے کہیں زیادہ ہے (تقریباً4)تو کسی طرح اتنا لمبا پالیمر ایک خلیے میں سمو جاتا ہے،
اگر ایک ای کولائی ڈی این اے کی لمبائی 1.36ملی میٹر ہے ، تو کیا آپ ای کو لائی کے اندر بیسس پیٹر ز کی تعداد کا حساب لگا سکتے ہیں؟
ای کولائی جیسے پروکیرائس میں مرکزہ نہیں ہوتا، پھر بھی ڈی این اے پورے خلیے میں بکھرا نہیں رہتا۔ ڈی این اے (منفی چارج ہونے کی وجہ سے) کچھ پروٹینز( جن کا جارچ مثبت ہوتا ہے) کے ساتھ بندھا رہتا ہے اور نیوکلائیڈ (Nucleoid) کے حلقہ میں رہتا ہے۔ نیوکلیائیڈ ڈی این اے پروٹینز کے ساتھ مل کر بڑے لوپز(loops)میں منظم رہتا ہے۔
یوکیرائس میں یہ تنظیم زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ مثبت چارج والے بیسک پروٹینز ہوتے ہیں جنھیں ہسٹونز کہتے ہیں۔ کسی پروٹین کے چارج کا انحصار اس کے چارج والی شاخی زنجیر والے امنیو ایسڈ کی کثرت پر ہوتا ہے۔ ہسٹونز میں بیسک چارج والے امنیو ایسڈ لائیسین اور آر جنیین کی بہتات ہوتی ہے۔ ان دونوں امنیو ایسڈ کے حصوں میں مثبت چارج والی زنجیرین ہوتی ہیں۔ ہسٹونز والے سالمے بتاتے ہیں جنھیں آکٹا مر کہتے ہیں۔ منفی چارج والے ڈی این اے ، مثبت چارج والے ہسٹون آکٹامر کے چاروں طرف لپٹ کر ایک مخصوص ساخت کی تشکیل کرتے ہیں جنھیں نیو کلیوسوم کہتے ہیں شکل (6.4a)۔ایک تمثیلی نیوکلیوسوم میں ڈی این اے ہیلکس کے 200بی پی ہوتے ہیں۔ مرکزے میں ایک ساخت ہوتی ہے جیسے کرومیٹن کہتے ہیں، جو نیوکلیوسومز اکائی کی تکرار کے آپس میں لپٹنے سے سے بنتا ہے، یہ مرکزے میں رنگین دھاگے نما جسم کی طرح نظر آتا ہے۔ کرومیٹن میں نیوکلیوسومز کو جب الیکٹران حوردبین کے ذریعے دیکھتے ہیں تو یہ دانہ دار مری کی طرح نظر آتا ہے۔(شکل 6.4b)

شکل 6.4a نیوکلیوسوم

پسٹون سالمہ کا اندرونی جز

ہسٹون آکٹامر؍ H1ہسٹون؍DNA

EM لڑی کے دانے کی تصویر

pic 6 chapter 6
بظاہر آپ کے خیال میں ا یک پستانیے کے خلیے میں اس طرح کے کتنے موتی ( نیوکلیوسوم) ہوسکتے ہیں؟ 
کرومٹین میں موتی جیسی ساخت پیک ہوکر کرومٹین فائبر بناتی ہے جو گھماؤ لیکر خلوی تقسیم کے مٹیافیز مرحلے میں کثیف ہوکر کروموسومز بناتی ہے۔ کرومٹین کی ہیکچنگ اعلی درجے پر کرنے کے لیے کچھ اور پروٹینز کی ضرورت ہوتی ہے جنھیں مجموعی طور پر نان۔ ہسٹون کروسومل (این ایچ سی) پروٹنز کہتے ہیں کروموسوم میں کچھ حصے ہلکے پیک ہوتے ہیں ان کو پوکرومٹین کہتے ہیں۔ کرومٹین کا وہ حصہ جو گھنا ہوتا ہے اور گہرا رنگ قبول کرتا ہے اسے ،سیڑو کرومٹین کہتے ہیں۔ یوکرومٹین ٹرانسکریشن کے لحاظ سے فعال کرومٹین ہے اور ہیٹرو کرومٹین عموماً غیر فعال ہوتا ہے۔

6.2 جینی مادے کی تلاش

حالانکہ میشر کے ذریعہ نیر کلین کا انکشاف اور مینڈل کے ذریعے تجویز کئے گئے اصول توریث ایک ساتھ وجود میں آئے، لیکن یہ کہ ڈی این اے ہی جینی مادہ ہے، یہ معلوم کرنے اور ثابت کرنے میں کافی وقت لگا۔۶۲۹۱ تک جنٹک وارثت کے میکانزم کا تعین سالماتی سطح تک پہنچ چکا تھا۔ گریگور مینڈل، ولٹرسٹین، تھامس ہنٹ مارگن اور دیگر سائنسدانوں نے اس تلاش کو کروموسومز تک محدود کردیا جو اکثر خلیوں کے مرکزے میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب کہ کون سا سالمہ دراصل جینی (Genetic Material) مادہ ہے ابھی تک نہیں مل پایا تھا۔

ٹرانسفارمینگ پرنسپل

اسٹریپٹوکا کس نیومونائی (نمونیا کے پیدا کرنے والے بیکٹریا) پر سلسلے دار تجربے کرتے ہوئے 1928 میں فریڈریک گریفتھ نے بیکٹیریا میں ٹرانسفارمیشن کا معجزاتی مشاہدہ کیا۔ ان کے تجربوں کے دوران، ایک زندے حضوئیے( بیکٹیریا) میں طبعیی تبدیلی آگئی تھی۔
جب اسٹریٹوکاکس نیومونائی (نیومو کا کس) بیکٹیریا کو کلچر پلیٹ پر نمو کیاگیا تو کچھ نے چمکیلی چھوٹی ہموار کالو نیز (S)بنائیں جبکہ دوسروں نے غیر ہموار کالونیز بنائیں (R)۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ Sسڈین(Stain)بیکٹیریا میں میوکس (پالی سیکیرائیڈ) غلاف ہوتاہے، جبکہ R اسٹرین میں یہ نہیں ہوتا۔S اسٹرین (مہلک) سے انفیکٹ کئے گئے چوہے نمونیا کی وجہ سے مرگئے لیکن وہ چوہے جنکو Rسٹرین سے انفیکٹ کیاگیا ان میں نمونیا نہیں پیدا ہوا۔

S اسٹرین> چوہے میں انجکشن>چوہا مر جاتا ہے

Rاسٹرین>چوہے میں انجکشن>چوہا زندہ رہتا ہے

pic 7 chapter 6
گریفتھ نے بیکٹیریا کو شدید حرارت سے مار ڈالا۔ اس نے دیکھا کہ جب حرارت سے مرے ہوئے S بیکٹیریا۔ کو چوہوں میں داخل کیا گیا تو وہ نہیں مرے لیکن جب انھوں نے گرمی سے مرے ہوے Sاور زندہ R بیکٹیریا کے آمیزے کو چوہوں میں داخل کیا تو چوہے مرگئے۔ یہی نہیں بلکہ انھوں نے مرے ہوئے چوہوں میں زندہ ۔ S بیکٹیریا بھی علاحدہ کئے ۔

حرارت سے مارے گئے Sاسٹرین>چوہے میں انجکشن>چوہا زندہ رہتا ہے

حرارت سے مارے Sاسٹرین+زندہ Rاسٹرین>چوہے میں انجکشن>چوہا مر جاتا ہے

pic 8 chapter 6
انھوں نے یہ نتیجہ ا خذکیا کہ Rسٹرین بیکٹیریا کی گرمی سے مرے ہوئے Sسٹرین بیکٹیریا کے ذریعے ٹرانسفارم (تبدیل) ہوگئے ہیں۔ گرمی سے مرے ہوئے بیکٹیریا سے کچھ ٹرانسفارمنگ جز Rسٹرین بیکٹیریا میں منتقل ہوگیا تھا جس نے Rسٹرین کو ہموار پالی سیکیرائیڈ غلاف بنانے کے قابل کر دیا تھا اوروہ مہک بیکٹیریا میں تبدیل ہوگئے۔ ایسا صرف اس مادہ کے منتقل ہونے سے ہی ہوسکتا ہے۔ تاہم اس تجربے سے جنٹک میٹریل کی بائیوکیمیائی فطرت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔
ٹرنسفارمنگ پرنسپل کی بائیوکیمیکل خصوصیات کا معلوم کرنا
آسوالڈ ایویری، کولن میکلیوڈ اور میکلین میکارٹی(44-1933 کے کام سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جینی مادہ ایک پروٹین ہوگا۔ ان لوگوں نے گریفتھ کے تجربے والے’ ٹرانسفارمنگ پرنسپل کی بائیوکیمیکل فطرت کو معلوم کرنے کا تہیہ کیا۔
انھوں نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ان میں ایسا کیا ہے جو زندہ Rخلیوں کو Sخلیوں میں تبدیل کردیتا ہے بائیو کیمیکلز (پروٹین، ڈی این اے ، آر این اے وغیرہ) علاحدہ کئے۔ اور معلوم کیا کہ S بیکٹیریا کو ٹرانسفارم کرنے کا ذمے دار در اصل DNA ہے۔
انھوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ پروٹین کو ہضم کرنے والے خامرے (پروٹییزز) اور آر این اے کو ہضم کرنے والے خامرے (آر این ایز (RNASEنے ٹرانسفارمیشن پر کوئی اثر نہیں ڈالا، لہٰذا ٹرانسفارمنگ پر نسپل پروٹین یا آر این اے نہیں تھا۔ ڈی این ایز(DNase)کے ساتھ تعامل کرنے پر ٹرانسفارمیشن نہیں ہوا، اس کا مطلب یہ ہوا ٹرانفارمیشن کا ذمے دار ڈی این اے ہی ہے۔ انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ڈی این اے ہی جینی یا توریثی مادہ ہے، اس وقت لیکن تمام ماہر حیاتیات اس نتیجے سے متفق نہیں تھے۔

کیا آپ DNAs اور DNase میں کوئی فرق سوچ سکتے ہیں؟

6.2.1 توریثی مادہ یا جنٹک میٹریل ڈی این اے ہے

اس امر کا غیر مبہم ثبوت کہ ڈی این اے ہی جنٹک میٹریل ہے الفریڈ ہر شے اور مار تھا چیز (1952) کے تجربات کے ذریعے حاصل ہوا۔ انھوں نے ان وائرسس پر کام کیا جو بیکٹیریا کو انفیکٹ کرتے ہیں اور ان کو بیکٹریو فاج کہتے ہیں۔
بیکٹیریو فاج بیکٹریا پر پر چیک جاتا ہے اور اس کا جنٹک میٹریل بیکٹیریا میں داخل ہوجاتا ہے۔ بیکٹریل حلیہ اس کو اپنا ہی جنٹک میٹریل سمجھ کر اس کی بہت ساری نقلیں تیار کر دیتا ہے۔ہر شے اور چنیزنے یہ م معلوم کرنے کے لیے ان پر کام کیا کہ یہ پروٹین ہے یا ڈی این اے جو دائریں سے بیکٹیریا میں داخل ہوتاہے۔
انھوں نے کچھ دائرس ایسے میڈیم میں نموکئے جس میں ریڈیو ایکٹو فاسفورس موجود تھا اورکچھ دائرس ایسی میڈیم میں نموکئے جس میں ریڈیو ایکٹو سلفر تھا۔ وہ دائرس جنکو ریڈیو ایکٹو فاسفورس کی موجودگی میں نمو کیاگیا ان میں ریڈیو ایکٹو ڈی این اے تھا لیکن ریڈیو ایکٹو پروٹین نہیں تھا کیونکہ ڈی این 17 میں فاسفورس موجود ہوتا ہے لیکن پروٹین میں نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ وائرس جنکو ریڈیوایکٹو سلفر میں نمو کیا گیا تھا ان میں ریڈیو ایکٹو پروٹین تھا لیکن ریڈیو ایکٹو ڈی این اے نہیں تھا کیونکہ ڈی این اے میں سلفر نہیں ہوتا۔
ایڈیو ایکٹو فاجز کو ای کولائی بیکٹیریا سے ساتھ ملایاگیا۔ اور جیسے جیسے انفیکشن بڑھتا گیا، وائرس کے غلاف کو ہلانے والے اوزار (Blender) سے ہلا کر بیکٹیریا سے علاحدہ کردیاگیا۔ اس کے بعد سنیٹریفیوج ا ستعمال کرکے وائرسس کو بیکٹیریا سے علاحدہ کر لیا گیا۔
جن بیکٹیریا کو ریڈیو ایکٹو یٹی والے وائرسس سے انفکیٹ کیاگیا تھا وہ ریڈیوایکٹو ہوگئے تھے، اس سے اشارہ یہ ملتا ہے کہ ڈی این اے ہی وہ مٹیریل ہے جو وائرس سے بیکٹیریا میں منتقل ہوا ہے۔ وہ بیکٹیریا جن کو ریڈیو ایکٹو پروٹین والے وائرسس سے انفیکٹ کیا گیا تھا وہ ریڈیو ایکٹو نہیں ہوئے، اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ وائرسس سے بیکٹیریا میں پروٹین نہیں منتقل ہوا۔ لہٰذا یہ معلوم ہوا کہ ڈی این اے ہی وہ مٹیریل ہے جو وائرسس سے بیکٹیریا میں منتقل ہوتاہے( شکل (6.5۔

6.2.2 جنٹک مٹیریل کی خصوصیات (ڈی این اے بمقابلہ آر این اے)

مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پروٹین اور ڈی این اے کے درمیان یہ بحث کر ان میں سے کون جنٹک میٹریل ہے ہر شے چنیر کے تجربات سے غیر مبہم طریقے پر حل ہوگیا۔ یہ حقیقت پر مبنی ہو گیا کہ ڈی این اے ہی جنٹک میٹریل کی طرح کام کرتا ہے۔ تاہم یہ بعد میں انکشاف ہو ا کہ چند وائرسس میں آر این اے جنٹک میٹریل ہوتا ہے (مثلاً، ٹوبیکوموزیک وائرسس ، کیوبی بیکٹیریو فاج وغیرہ) ۔چند ایسے سوالات کہ اکثر ڈی این ا ے ہی کیوں جنٹک میٹریل ہوتا ہے جبکہ آر این اے بہت سے اثر فعالی کام جیسے پیامبر اور آڈاپٹرز کے کام کرتا ہے کے جواب ان دونوں نیوکلیک ایسڈز سالموں کی مختلف لیمیائی ساخت میں ملیں گے۔

توریث کی سالماتی بنیاد

۱۔ انفیکشن

۲۔ بلیڈنگ

۳۔ سینٹریفیوگیشن

ریڈیو ایکٹو (p32)سے لیبل شدہ ڈی این اے؍ خلیوں میں ریڈیو ایکٹو (p32) پایا گیا+بالائی رقیق میں کوئی ریڈیو ایکٹوٹی نہیں پائی گئی

بیکٹر یوناج؍ ریڈیو (S35) سے لیبل شدہ پروٹین غلاف؍ خلیوں میں ریڈیو ایکٹو (S35) نہیں پایا گیا+بالائی رقیق میں ریڈیو ایکٹو (S35) پایا گیا

pic 9 chapter 6
شکل 6.5 ہر شے اور چیز کا تجربہ
کیا آپ ڈی ا ین اے اور آر این اے کے درمیان دو کیمیائی فرق یاد کرسکتے ہیں؟
ایک سالمے کو جنٹک مٹیریل کی طرح کام کرنے کے لیے مندرجہ ذیل معیار پر پورا اترناہوگا:
(i) اس کے اندر اپنا ہوبہو نقل (ریلپیکا) پید ا کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے رپلیکیشن 
(ii) ان کو کیمیائی اور ساختی طور پر مستحکم ہونا چاہیے۔
(iii) ان کو سست رفتا ر تبدیلی (میوٹیشن) کا موقع فراہم کرنا چاہیے جوار تقاء کے لیے لازمی ہے۔
(iv) ان میں منیڈل کی خصوصیات کی شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔
 اگر ہم ایک ایک کرکے ہر ضرورت یامعیار پر غور کریں، بیس ہئیرینگ اور کا مپلیمنٹری فطرت کی وجہ سے ، دونوں نیوکلیک ایسڈز (ڈ ی این اے اور آر این اے) میں اپنے آپ کو دہرانے (ڈپلیکیشن) کی اہلیت ہے، زندہ سسٹم میں دوسرے سالمے جیسے پروٹینز اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔
جنٹک مٹیریل اتنا مستحکم ہونا چاہیے کہ عمر یا دور حیات کے مختلف مراحل میں تبدیل نہ ہوسکے یا عضویئے کی فعلیات میں تبدیلی کے ساتھ نہ بدلے۔ جنٹک مٹیریل کی مستحکم خصوصیت گریفتھ کے تجربے میں بھی بہت عیاں تھی جہاں گرمی نے بیکٹیریا کو تو مار دیا لیکن ٹرانسفارمنگ پرنسپل یعنی جنٹک مٹیریل کے کچھ خصوصیات کو نقصان نہیں پہنچا سکی۔ اس پس منظر میں اس بات کی بہتر طریقہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ڈی این اے کے دو دھاگے کے کا مپلیمنیٹری ہونے کی وجہ سے، اگر انھیں گرم کرکے الگ الگ کیاجائے کے اور اگر مناسب حالات مہیا کئے جائیں تو وہ واپس اسی حالت میں آجاتے ہیں۔ آر این اے میں ہرنیوکلیوٹائیڈ میں موجود5 گروپ بہت ریکٹیو ہوتا ہے اور آر این اے کو پر خطر بنا دیتا ہے اور وہ آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں آر این اے کی اب کیٹالٹیک خصوصیات کا بھی پتہ چلا ہے لہٰذا یہ ریکیٹو ہوتا ہے۔ اس لیے آر این اے کے مقابلے میں ، ڈی این اے کیمیائی طور پر کم ریکیٹوہے اور ساختی طور پ زیادہ مستحکم ہوتاہے۔ لہٰذا ان دو نیوکلیک ایسڈز میں سے ڈی این اے زیادہ بہتر جنٹیک مٹیریل ہے۔
دراصل، یوراسیل کی جگہ تھائمین کی موجودگی بھی ڈی این اے کو اضافی استحکام عطا کرتاہے۔ (اس کے بارے میں تفصیلی بحث کے لئے ڈی این اے کی مرمت کے عمل کی معلومات ضروری ہے اور آپ نے ان کے بارے میں اعلی درجات میں مطالعہ کریں گے)۔
ڈی این اے اور آر این اے دونوں میں تبدیلی آسکتی ہے۔ چونکہ آر این غیر مستحکم ہے اس لیے اس میں تبدیلی زیادہ تیزی سے آتی ہے ۔ نتیجتاً ، وئرسس جن میں جنیوم آر این اے کاہوتا ہے اور انکا دور حیات بھی مختصر ہوتا ہے زیادہ میوٹیٹ ہوتے ہیں اور تیزی سے ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔
آر این اے براہ راست پروٹین کی تالیف کو کوڈ کر سکتے ہیں لہٰذا خصوصیات کا اظہار آسانی سے کرسکتے ہیں اور ڈی این اے پروٹین کی تالیف کے لیے آر این اے پر منحصر ہوتا ہے۔ پروٹین تالیفی مشینری آر این اے کے اطراف میںارتقا و پذیر ہوئی ہے۔ مندرجہ بالا بحث ظاہرکرتی ہے کہ آراین اے اور ڈی این اے دونوں جنٹک مٹیریل کی طرح  کام کرسکتے ہیں لیکن چونکہ ڈی این اے زیادہ مستحکم ہوتا ہے اس لیے جنیٹک معلومات کے ذخیرے کے لیے ڈی این اے کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔ جنٹیک معلومات کے مواصلات کے لیے آر این اے زیادہ بہتر ہے۔

6.3 آر این اے ورلڈ(RNA World) 

مذکورہ بالا بحث سے ایک سوال فوراً ذہن میں آتا ہے کہ کون سا پہلا جنٹیک مٹیریل ہے؟ کیمیائی ارتقاء کے باب میں اس میں تفصیلی بحث کی جائے گی، لیکن مختصراً یہاں چند نکات اور حقائق پرروشنی ڈالی جائے گی۔
آر این ا ے پہلا جنٹیک مٹیریل تھا۔ اب کافی پختہ ثبوت مل چکے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ لازی حیاتیاتی عملیات (مثلاً تحول، ٹرانسلیشن، سپلائسینگ وغیرہ) آر این اے کے اطراف میں ارتقاء پذیر ہوئے ہیں۔ آر این اے جنیٹک مٹیریل کی طرح کام کرتا تھا اور کٹیالسٹ کی طرح بھی (زندہ سسٹم میں چند اہم بائیوکیمیکل ریکیشنز آر این اے کیٹالسٹ کیٹالائز کرتا ہے نہ کہ پروٹینی خامرے)۔لیکن آر این اے کٹیالسٹ ہونے کی وجہ سے ریکٹیو ہوتا ہے لہٰذا غیر مستحکم ہوتا ہے۔ اس لیے کیمیائی تبدیلیوں کے بعد آر این اے سے ڈی این اے ارتقاء پذیر ہوا جس نے اسکو زیادہ مستحکم بنادیا۔دو دھاگی اور کا مپلیمنیٹری سٹرینڈ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈی ا ین اے میں مرمت کاعمل بھی ارتقا ء پذیر ہوا جو تبدیلیوں کی مزاحمت کرتاہے۔

6.4 ریپلیکیشن(Replication) 

ڈی ا ین اے کی ڈبل ہیلیکل ساخت کی تجویز پیش کرتے وقت، ڈانس اور کرک نے فوراً ڈی این اے کے ریپلکیشن کی اسکیم پیش کی۔ مندرجہ ذیل ان کے اپنے الفاظ ہیں:
’’جو مخصوص پیٹرننگ ابھی ہم نے تجویز کی ہے اس میں ہم یہ بھی پایا کہ وہ جینی مادے کو نقل کرنے کے کی ممکنہ میکا نزم کی طرف اشارہ کرتی ہے‘‘ ( واٹسن اور کرک، (1953
یہ ا سکیم اشارہ کرتی ہے کہ دو دھاگے علاحدہ ہو کر نئے کا مپلیمنٹیری سٹرینڈ کے لیے ٹیمپلیٹ (ہدف) کا کام کریں گے۔ ریپلیکیشن کے اختتام کے بعد، ہر ڈی این اے سالمے میں ایک پرانا اور ایک نیا تالیف شدہ سٹرنیڈ ہوگا۔ اس اسکیم کو سیمی کنزرویٹیو ڈی این اے ریپلیکیشن(SemiConservative DNA Replicationکہا جاتا ہے (شکل(6.6۔
pic 10 chapter 6
شکل 6.6 سیمی کنزرویٹیو ڈی این اے رینپلیکیشن کا واٹسن کرک ماڈل

6.4.1 تجرباتی ثبوت

اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ڈی این اے سیمی کنزرویٹیو طریقے سے ریپلیکیٹ کرتا ہے۔ اس کا مشاہدہ سب سے پہلے ا ی کو لائی میں کیاگیا اور بعد میں اعلیٰ عضویوں میں مثلاً پودوں اور انسانوں کے خلیوں میتھیو میلیسن اور فزانکن اسٹال (Mathew Meselson and Franklin Stahl) نے مندرجہ ذیل تجربہ 1958میں کیا:
(i) انھوں نے ای کولائی کو 15NH4Clوالی میڈیم میں نموکیا (15Nنائٹیروجن کا ہیوی آئسوٹوپ ہے)
جس میں کئی نسلوں تک صرف 15Nہی نائیٹروجن کا ذریعہ تھا۔ اس وجہ سے نئے تالیفی ڈی این اے میں 15Nداخل ہوگیا
( اور دوسرے  مرکبات میں جن میں نائٹروجن ہوتا ہے) اس ہیوی ڈی این اے سالمے میں نارمل ڈی این اے سے سینریم کلورائڈ ڈنیسیٹی گریڈینٹ سنیٹریفیوگیشن کے ذریعے امتیاز کیا جاسکتا ہے (نوٹ کیجیے 15Nریڈیو آئیسوٹاپ نہیں ہے اور اس کو 14Nسے صرف ڈینسٹی کی بنیاد پر ہی الگ کیا جاسکتاہے۔
(ii) اب انھوں نے خلیوں کو6 والی نارمل میڈیم پر منتقل کردیااور جب خلیے تقسیم ہونے لگے تو ایک خاص وقت کے وقفے سے ان میں سے نمونے علاحدہ کئے اور ان ڈی این اے کشید کئے جو ڈبل سٹیرینڈڈ ہلکس تھے۔ سینریم گریڈینٹس میں مختلف نمونے آزادانہ طور پر الگ ا لگ ہوگئے اور ان کی ڈی این اے کی ڈینٹییر کو ناپ لیاگیا (شکل(6.7۔
pic 11 chapter 6
شکل 6.7  میسلسن اور استھال کا تجربہ
کیا آپ کو یاد ہے کہ سنیٹریفیوگل قوت کیا ہے؟ اور سوچئے کہ کیوںزیادہ کمیت/دینسیٹی والے سالمے تیزی سے نیچے بیٹھتے ہیں؟
نتائج شکل 6.7میں دکھائے گئے ہیں۔
(iii) جب 15Nسے 14Nمیں منتقل کرنے کے بعد والے کلچر سے اگلی نسل ڈی این اے کشید کیاگیا (یعنی 20 منٹ بعد، ای کولائی 20 میں تقسیم ہوتاہے) تو وہ ہائیبرڈ تھا یعنی اس کی  دینسٹی درمیانی تھی۔ جب ڈی این اے دوسری نسل کے کلچر (یعنی 40 منٹ کے بعد)  دوسری نسل)سے نکالا گیا تو اس ہائیبرڈ اور ہلکے ڈی این اے کی مقدار برابر تھی۔
اگر ای کو لائی کو 80 منٹ تک نمو کیا جائے تو ہلکے اور ہائیبرڈ ڈینسیٹی کے ڈی این اے کا کیا تناسب ہوگا؟
اسی طرح کا تجربہ ریڈیو ایکٹو تھائمیڈین کو استعمال کرکے فابا پھلی (Vicia Faba) کے کروموسوم میں  نئے ڈی این اے تقسیم کو معلوم کرنے کے لیے ٹیلر (Taylor) اور ان کے ساتھیوں نے 1958میں کیا۔ تجربہ سے ثابت ہوا کہ کروموسومز میں بھی ڈی این اے سیمی کنزر ویٹیو طریقے سے ریپلیکیٹ کرتا ہے۔

6.4.2 مشینری اور خامرے

زندہ خلیوں جیسے ای کو لائی میں ریپلیکیشن کے عمل کے لیے کیٹالیٹس (خامروں) کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے اہم خامرہ ڈی این اے ڈپینڈینٹ ڈی  این اے پالمیرینر ہے کیونکہ یہ ڈی آکسی نیوکلیو ٹائیٹوز کے پالمیر ائزیشن کے لیے ڈی این اے ٹیمپلیٹ استعمال کرتا ہے۔ یہ خامرے بڑے کارگزار خامرے ہوتے ہیں کیونکہ ان کو بڑی تعداد میں نیوکلیوٹائیڈز کافی کم وقت میں بنانا ہوتا ہے۔ ای کولائی جس میں8  بی پی ہوتے ہیں جب کہ انسانوں کے ڈپلائیڈ خلیے میں7بی پی ہوتے ہیں ایپلیکشین کے عمل کو 38 منٹ میں مکمل کرلیتا ہے یا اس کا مطلب یہ ہواکہ پالیمیرائزیشن کی اوسط در 2000 بی پی فی سکنڈ ہوئی۔ ان پالیمیریزز کو نہ صرف تیز رفتار ہونا ہے بلکہ انھیں ریکیشنز کو بہت حد تک ایکیورٹیلی کٹیالائز بھی کرنا ہوتا ہے۔ریپلیکیشن کے دوران کسی غلطی کے نتیجے میں میوٹیشن ہوجاتاہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے لحاظ سے ریپلیکیشن ایک بہت مہنگا عمل ہے۔ ڈی آکسی رائبونیو کلیو سائیڈ ٹرائی ناسفیٹ کے دو مقاصد ہیں۔ سسبٹریٹ کی طرح عمل کرنے کے علاوہ یہ الیمیرائزیشن کے لیے توانائی بھی مہیا کرتے ہیں۔ (ڈی آکسی نیوکلیوسائیڈ ٹرائی فاسفیٹ کے دورٹرمینل آے ٹی پی کی طرح ہائی انرجی فاسفیٹس ہیں۔
ڈی این اے ڈپنیڈینٹ ڈی این اے پالیمیریرز کے علاوہ، ریپلیکیشن کے عمل کو صحیح طریقے سے مکمل کرنے کے لیے کئی اضافی خامروں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ لمبے ڈی این اے سالمے کے دونوں دھاگوں کو پوری لمبائی میں علاحدہ نہیں کیا جاسکتا ( جس کے لیے بہت توانائی کی ضرورت پڑتی ہے) ، ڈی این اے ہیلکس کے چھوٹے حصوں میں ریلیکیشن عمل میں آتا ہے ، ان کو ریپلیکیشن فارک کہتے ہیں۔ ڈی این اے ڈپنیڈینٹ ڈی این اے پالیمیر نر اپنے عمل کو ایک سمت میں کٹیالائز کرسکتا ہے یعنی5'-3'اس کی وجہ سے ریپلیکیشن فارک پر کچھ مزیدپیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا ایک دھاگے پر (3'-5' پولاریٹی والے ٹیمپلیٹ)، ریپلیکیشن مسلسل (Continuous)ہوتا ہے ، جبکہ دوسرے پر (5'-3' پولاریٹی والے پر) یہ غیر مسلسل کر (Discontinuous)ہوتا ہے۔ غیر مسلسل طور پر تالیف شدہ ٹکڑے بعد میں ڈی این اے لائیگیز خامرے کی مدد سے جوڑے جاتے ہیں(شکل(6.8۔
pic 12 chapter 6
شکل 6.8  رپلیکیٹنگ فورک
ڈی این اے پالیمیریز، ریپلیکیشن کے عمل کی ابتداء بذات خود نہیں کرسکتے۔ اور یہ کہ ڈی این اے میں ریپلیکیشن کہیں سے بھی شروع نہیں ہوجاتا۔ ای کولائی ڈی این اے میں ایک مخصوص علاقہ ہے جہاں سے ریپلیکیشن شروع ہوتا ہے۔ ان علاقوں کو اوریجن آف ریپلیکیشین کہتے ہیں۔ یہ اوریجن آف ریپلیکیشن کی ضرورت ہی ہے کے اگر ہم ریکامبنیٹ ڈی این اے عمل کے تحت ڈی این اے کے ایک ٹکڑے کی افزائش کرنا چاہیں تو ہمیں ویکٹر کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ ویکٹر اوریجن آف ریپلیکیشین مہیا کرتاہے۔
علاوہ ازیں، ریپلیکیشین کی مکمل تفصیل ابھی تک ہم اچھی طرح سے نہیں سمجھ سکے ہیں۔ یوکاربوٹس میں ڈی این اے کا رپلیکیشن خلوی دور کی 'S'فیز کے دروان عمل میں کرتا ہے۔ ڈی این اے کے رپلیکیشن اور خلوی تقسیم کے فرق میں گہرا ربط ہونا چاہے۔ ڈی این اے کے دہرانے کے بعد اگر خلوی تقسیم فیل ہوجائے تو پالی پلائیڈی (ایک کروموسوی بگاڑ) واقع ہوجاتی ہے۔ اوریجن اور ان عملیات کے بارے میں جو اس جگہ واقع ہوتے ہیں ان کی تفصیل آپ اعلی درجات میں پڑھیں گے۔

6.5 ٹرانسکرپشن(Transcription) 

ڈی این اے کی ایک اسٹرانڈ سے آر این اے میں جنٹک معلومات کی نقل کے عمل کو ٹرانسکرپشن کہتے ہیں۔ یہ عمل بھی رپلیکشن کی طرح ہے سوائے ایڈینوسین کے جو یہاں تھائمین کے بجائے یوراسیل کے ساتھ بیس پیٹرنگ کرتاہے۔ تاہم، ریپلیکیشین کے عمل کے برعکس، جو ایک بار شروع ہوجاتا ہے تو عضویے کا تمام ڈی این اے دہرا جاتا ہے، ٹرانسکریشن میں ڈی این اے کا ایک ٹکٹرا ، اور صرف ایک مخصوص اسٹرانڈ ہی کی نقل آر این اے میں ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈی این اے کے اس دھاگہ کا تعین ہو ا ور اس قطعہ کی حد بندی ہو جو ٹرانسکرائیب ہونے والے حصے کی نشاندھی کرسکے۔
ٹرانسکریشن کے دوران دونوں دھاگوں کی نقل کیوں نہیں ہوتی اس کا آسان جواب ہے ۔پہلا، اگر دونوں دھاگے ٹیمپلیٹ کی طرح کام کریں گے تو وہ مختلف سیکویئنس کے آر این اے سالمے بنائیں گے (یاد رکھیے کا مپلیمنٹیریٹی کا مطلب آئیڈینکل نہیں ہے) ، اور اگر وہ پروٹین کوڈ کرتے ہیں تو پروٹنیز میں امنیو ایسڈ کاسیکوئنس مختلف ہوگا اور یہ جنٹیک معلومات کو منتقلی کرنے والی مشینری کے لیے مشکلات پیدا کردے گا۔ دوسرا، اگر دو آر این اے سالمے ایک ساتھ بنتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے لیے کامپلیمنٹیری ہونگے، جو آپس میں مل کر دودھاگی آر این اے بنادیں گے۔ یہ آر این اے کو پروٹین بنانے سے روک دیں گے اور ٹرانسکریشن کی تمام مشق بے سود ثابت ہوگی ۔

6.5.1  ٹرانسکریشن اکائی (Transcription Unit) 

ٹرانسکر یشن اکائی ڈی این اے میں بنیادی طور پر ڈی این اے کے تین حصوں پر مشتمل ہوتی ہے
(i) ایک پروموٹر(Promoter) 
(ii) ساختی جین(Structural Gene)
(iii) ایک ٹرمنیٹر
ڈی این اے کے دودھاگوں میں وانسکریشن اکائی کے ساختی جنیز کو پہچاننے کے لیے ایک دستور ہے، چونکہ دونوں دھاگوں میں مخالف پولیریٹی ہوتی ہے اور ڈی این اے ڈپنیڈینٹ آر این اے پالیمیریز بھی پالیمیرائزیشن کو ایک ہی سمت میں عمل انگیز کرتا ہے یعنی5'-3'دو دھاگہ جسکی پولیریٹی 3'-5'ہے وہ ٹیمپلیٹ کا کام کرتا ہے اور اسے ٹیمپلیٹ سٹرنیڈ بھی کہتے ہیں۔ وہ دھاگہ جسکی پولیریٹی (5'-3')ہے اور اسکا سیکوئینس آر این اے سے مشابہہ (سواے، یوراسیل کی جگہ تھائمین)، ٹرانسکریشن کے دروان اپنی جگہ سے ہٹ جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سٹرینڈ کو ( جو کسی چیز کے لیے بھی کو ڈ نہیں کرتا) کوڈینگ سٹرینڈ کہتے یں۔ ٹرانسکریشن اکائی کی شناخت کے لیے تمام حوالے اس کوڈنگ سٹرینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نکتے کو سمجھانے کے لیے ٹرانسکریشن اکائی سے ایک فرضی سیکوئنس نیچے دکھایا جارہاہے:
pic 13 chapter 6
اوپر دئیے گئے ڈی این اے سے ٹرانسکرائیب ہونے والے آر این اے کا سیکوئنس کیاآپ لکھ سکتے ہیں؟
ایک ٹرانسکریشن اکائی میں ساختی چین کے دونوں طرف پروموٹر اور ٹرمنیٹیر ہوتے ہیں۔پروموٹر،ساختی جین کے 5سرے کی جانب(upstream)واقع ہوتاہے (کوڈنگ سٹرینڈ کی پولیریٹی کے حوالے سے)۔ آر این اے پالیمیرنر کے لیے بائیڈ نگ سائیٹ ڈی این اے ہی (ایک مخصوص سیکوئینس) مہیا کرتاہے اور ٹرانسکریشن اکائی میں پروموٹر کی موجودگی بھی ٹیمپلیٹ اور کوڈنگ سٹرینڈ کے فرق کی پہچان کراتی ہے۔ اگر اس کی  وقوع کوٹرمنیٹیر سے تبدیل کردیا جائے تو کوڈنگ اور ٹیمپلیٹ سٹرنیٹرز کی تعریف الٹ سکتی ہے۔ کوڈنگ سٹرینڈ کے 3سرے (Downstream) پروٹرمینٹیر واقع ہوتاہے اور عموماً یہ ٹرانسکریشن کے عمل کے اختتام کو ظاہر کرتا ہے (شکل6.9)۔ چند اضافی ریگولیٹری سیکوئنس ہوتے ہیں جو پروموٹر سے پہلے یا بعد میں موجود ہوسکتے ہیں۔ ان سیکوئینسس کی خصوصیات کی تفصیل بعد میں بیان کی جائے گی جب جین ایکسپریشن کے ریگویشن کے بارے میں بحث ہوگی۔

6.5.2 ٹرانسکرپشن اکائی اور جین

جین کی تعریف وراثت کی عملی اکائی کی طور پر بیان کی جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں جنیز ڈی این اے پر کے مخصوص جنز ہوتے ہیں، لیکن جین کے تعریف معنوں میں ڈی این اے کے سیکوئینس کے لحاظ سے بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ ڈی این اے سیکوئنس جو ٹی آر این اے یا آر این اے سالموں کو کوڈ کرتے ہیں وہ بھی جین ہوتے ہیں۔ تب پالی پٹیپائیٹ کو کوڈ کرنے والے ڈی این اے کے ٹکٹرے کو سسٹرون (Cistron) کہتے ہیں اور تو ٹرانسکرپشن اکائی میں ساختی جین کو مونوسٹرانک (اکثر یوکیرلوٹسس میں ) یا پالی اسٹرانک (اکثر بیکٹیریا یا پروکیراٹس میں ) کہہ سکتے ہیں۔ لو کیرائس میں مونوسیٹرانک ساختی جنیز کے کوڈنگ سیکوئنسس ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ یوکریوٹس میں جین ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں (Split)کوڈنگ سیکوئینسس یا ظاہر ہونے والے حصے کو کو ایگزان (axons)کہتے ہیں۔ایگزاتر وہ سیکوئنسس ہوتے ہیں جو پروسیسڈ یا بالیدہ آر این اے میں نظر آتے ہیں۔ ایگزانز کے درمیان میں انٹرانز(Introns)موجود ہوتے ہیں۔ انٹرانز بیچ میں مائل ہونے والے سیکوئنسس ہوتے ہیں اور تبدیل شدہ آر این میں نہیں پائے جاتے۔ یہ ٹکڑوں میں جنیز کی ترتیب ڈی این اے کے قطعہ کے لحاظ سے اس کی  تعریف میں مزید پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔
صفت کی وراثت، ساختی جین کے ریگولیٹری سیکوئنیسس اور پروموٹر سے بھی اثر انداز ہوتی ہے۔لہٰذا کبھی کبھی ریگولیٹری سیکوئنسس کو ریگولیٹری جنیز کہہ دیتے ہیں، حالانکہ سیکوئنسس کسی پروٹین یا آراین کو اے کوڈ نہیں کرتے۔

6.5.3 آر این اے کی قسمیں اور ٹرانسکرلیشن کا عمل

بیکٹیریا میں تین طرح کے اہم آر این اے ہوتے ہیں۔ ایم آر این اے (پیام بردار سر آر این اے)، ٹی آر این اے (ٹرانفسر آر این اے)، اور آر آر این اے (رائبو مومل آر این اے)۔ خلیے میں پروٹین کی تالیف کے لیے تینوں آر این اے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایم آر این اے ٹیمپلیٹ مہیا کرتا ہے، ٹی آر این اے امنیو ایسڈ کو لاتا ہے اور جنٹیک کو ڈ پڑھتا ہے‘ اور آر آر این اے ٹرانسلیٹن کے دوران ساختی اور عمل انگریزی کر دار ادا رکرتا ہے۔بیکٹیریا میں صرف ایک ہی طرح کا ڈی این اے ڈینڈنٹ آر این اے پالی میسرائز ہوتاہے جو تما طرح کے آر این اے کے ٹرانسکرلیشن کو کیٹالائز کرتاہے۔ آر این اے یوپی مسرنر پروموٹر سے ملکر ٹرانسکرمیشن کی ابتداء کرتا ہے(انیسیشن)۔ یہ نیوکلیوسائیڈ ٹرانی فاسفیٹ کو سسٹویت کی طرح استعمال کرتاہے اور کامپلیمینٹری اصول پر عمل کرکے ٹیمپلیٹ ڈینڈنٹ فشن میں پالی مسیرائز کرتاہے۔ یہ کسی طرح سے ہلکس کھلنے میں بھی مدد کرتا ہے اور ٹرانسکریشن کے عمل (ایلانگیشن) کو برقرار رکھتا ہے۔ آر این اے کا صرف ایک چھوٹا حصہ خامرے سے جڑا رہتا ہے۔ جب پولمیرنیر ٹرمنیٹر قطعے پر پہنچ جاتا ہے تو نوزائیدہ آر این اے کے ساتھ ساتھ آر این اے پولیمیر نیر بھی الگ ہو کر گرجاتا ہے اور ٹرانسکریشن کا اختتام ہوجاتا ہے (ٹرمینشین)۔
حیران کن سوال یہ ہے کہ آر این اے پولیمپریر کس طرح ہوئی تینوں عملیات یعنی انیشیشن ،ایلانگیشن اور ٹر مینیشن کو کیٹالائز کرتاہے؟ آر این اے پالیمیرنر صرف ایلانگیشن کے عمل کو کٹیالائز کرنے کے قابل یا اہلیت رکھتا ہے۔ یہ صرف تھوڑے وقفے کے لیے انیشیشن۔فیکٹر (Q)اور ٹرمینیٹر۔ فیکٹر (p)سے جڑتا ہے اور بالترتیب ٹرانسکریشن کی ابتداء اور اختتام کرتاہے۔ ان فیکٹرز کے ساتھ ملاپ آر این اے پولیمیرنر کی انیشیٹ کرنے یا ختم کرنے کی اہلیت (Specificity) کو تبدیل کر دیتا ہے۔(شکل 6.10)
بیکٹیریا میں چونکہ ایم آر این اے فعال ہونے کے لیے پروسینگ کی ضرورت نہیں ہوتی اورچونکہ ٹرانسکریشن اور ٹرانسلیشن ۔ایک ہی خانے میں عمل میں آتے ہیں (بیکٹیریا میں ساٹیو سول اور مرکزہ علاحدہ نہیں ہوتے ہیں) کئی بار ایم آر این اے کے پوری طرح سے ٹرانسکرائیب ہوتے ہیں قبل ہی ٹرانسیشن شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ٹرانسکریشن اور ٹرانسلیٹن بیکٹیریا میں باہم منسلک ہوسکتے ہیں۔
pic 14 chapter 6
شکل 6.10 بیکٹیریا میں ٹرانسکریشن کا عمل
یوکیرایوٹیس میں دو اضافی پیچیدگیا ں  ہیں۔
(i) مرکزے میں کم از کم تین آر این اے پولیمیر نیرز پائے جاتے ہیں( آگنیلز میں پائے جانے والے آر این اے پولمیز کے علاوہ ) اور ہر ایک کا الگ الگ کام ہوتاہے۔ آر این اے پولیمیرنر۔Iآر آر این اے (18S 28Sاور (5.8S، جبکہ آر این اے پالمییرینر III‘ ٹی آر این اے‘ 5srآر این اے، اور ایس این آر این اے (سمال نیوکلیئر آراین اے) کے ٹرانسکریشن کے لیے ذمے دار ہے۔ آر این اے پالیمیر ینرII، ایم آر این اے کے پیشرو، ہیٹروجینس نیوکلیر آر این اے(ایچ این آر این اے) ٹرانسکرائیب کرتاہے۔
(ii) دوسری پیچیدگی یہ ہے کہ پرائمری ٹرانسکرپٹ میں ایگز انز اور انٹرانز دونوں موجود ہوتے ہیں اور غیر فعال ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان میں ہر ایک عمل ہوتا ہے جیسے اسپلائسنگ کہتے ہیں جس  میں انٹرانز کو ہٹا کر ایگزانز کو آپس میں ایک خاص ترتیب ہیں جوڑ دیا جاتا ہے۔ ایچ این آر این اے دو اضافی عملیات سے گذرتا ہے جیسے کیپنگ اور ٹیلینگ (Capping & tailing)کہتے ہیں۔ کیپنگ میں ایک غیر معمولی نیوکلیوٹائیڈ کا اضافہ(متھیائل گو انوسین ٹرائی سفیٹ) ایچ این آر این اے کے 5سرے پر ہوتا ہے۔ ٹیلینگtailing میں ‘ ایڈینائل جیز (200-300) کا اضافہ 3'سرے پر ہوتا ہے جس کا تعلق ٹیمپلیٹ سے نہیں ہوتا۔ یہ مکمل طور پر بالیدہ ایچ این آر این اے جسے ایم آر این اے کہتے ہیں۔ یہ مرکزے سے باہر آکر ٹرانسلیشن کا عمل شروع کرتا ہے(شکل6.11)۔
ان پیچیدگیوں کی افادیت اب کچھ سمجھ میں آنے لگی ہے۔ اسپلٹ جین کی ترتیب شاید جینوم کی قدامت کی نمائیدگی کرتی ہے۔ انٹرانز کی موجودگی عہد رفتہ کی یاد گار ہے اور رسیلائسنگ کا عمل آر این اے ورلڈ کے تسلط کی نشانی ہے۔ آجکل زندہ سسٹم میں آر این اے اور آر این اے پر منحصر عملیات نے غیر معمولی اہمیت اختیار کرلی ہے۔
pic 15 chapter 6
شکل6.11  یو کیریواٹس میں ٹرانسکریشن کا عمل

6.6 جینیٹک کوڈ(Genetic Code) 

 ریپلیکیشن اور اورٹرانسکریشن کے دوران ایک نیوکلییک السیڈ نقل کے بعد دوسرا نیوکلیک اسیڈ بناتا ہے۔ کمپلیمنیٹریریٹی کی بنیاد پر ان عملیات کو ذہن نشین کرنا آسان ہے۔ ٹرانسلیشن کے عمل میں نیوکلیوٹائیڈ پالیمرمیں موجود جنٹک معلومات کو امنیو ایسڈ کے پالیمر میں منتقل کرنا ہوتاہے۔ نیوکیلو ٹائیذ اور امنیو ترشوں کے درمیان نہ ہی کوئی کمپلمینیٹریریٹی ہوتی ہے اورنہ ہی کچھ سوچی جاسکتی ہے۔ حالانکہ ایسے ثبوت ملتے جو اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ اگر نیوکلیک ایسڈ (جینیٹک مٹیریل) کی تبدیل ہو تو وہ پروٹین کے امنیو ایسڈ میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس مشاہدے کی وجہ سے جنٹک کوڈ تجویز کئے گئے جو پروٹین کے تالیف کے دوران امنیوایسڈکی ترتیب کاتعین کرسکیں۔

اگر جنٹک میٹریل کے بائیوکیمیکل فطرت کا تعین اور ڈی این اے کی ساخت کی کھوج دلچسپ موضوع تھے تو جنٹک کو ڈ کی تجویز اور ان کا مطلب نکالنا ایک چیلینج تھا۔ حقیقت میں اس کو حل کرنے کے لیے کئی مضامین کے ماہروں کی ضروت تھی مثلا فزکس، تامیاتی کیمسٹ، بائیوکمیسٹ اور ماہر جنیٹک۔ ایک ماہر طبیعات جارج گیمونے پہلے کہاکہ چونکہ صرف چار بیسس ہیں اور اگر انکو 102منیو ترشوں کو کوڈ کرنا ہے تو کوڈ بیسیس کا آمیزہ ہونا چائیے۔انھوں نے اشارہ دیا کہ تمام بیسوں امنیو ایسڈ کو کوڈ کرنے کے لیے لوڈ تین بیسیس پرمشتمل ہونا چاہیے۔ یہ ایک بہت جرات مندانہ تجویز تھی، کیونکہ9کا پرمیوٹیشن کا مبنیشین 64کوڈان ہیداکرے گاجو ضرورت سے بہت زیادہ کوڈاتر ہیں۔
اس بات کے لیے ثبوت مہیا کرنا کہ کوڈان تلاثی (Tripeel)ہے بہت وقت طلب کام تھا۔ہر گوبند کھورانا نے آر این اے تالیف کرنے کا ایک ایسا کیمیائی طریقہ تلاش کیا جس کے بیسیس (ہو مو پالیمر کو پالیمر) کی ترتیب پہلے سے طے شدہ تھی۔ مارشل نائیرنبرگ کے پروٹین کی تالیف کے لیے سیل فری سسٹم نے کوڈ کو توڑنے میں بالاخر مدد کی۔ آر این اے کے طے شدہ سیکوئنس کوٹیمپلیٹ کے بغیر بنانے میں سیویرو اوچوا خامرے (ہالی نیوکلیوٹائیڈ فاسفورلینر) نے بھی کافی مدد کی۔ آخر کار جنٹک کوڈ کے لیے چیکر بورڈ تیار کیاگیا جو جدول 6.1میں دیا گیا ہے۔

جدول6.1

pic 16 chapter 6

جنٹک کوڈ کے نمایاں خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں (i) کوڈان ثلاثی ہے۔ 61کو ڈ ون امینوایسڈ کوڈ کرتے ہیں اورتین کوڈون کسی امنیو ایسڈ کو کوڈ نہیں کرتے لہٰذا وہ سٹاپ کوڈانز کی طرح کام کرتے ہیں۔ (ii) کچھ امنیو ایسڈز ایک سے زیادہ کوڈون کے ذریعے کوڈ کئے جاتے ہیں لہٰذا یہ کوڈ ڈیجنیریٹ (Degenerate) ہے۔ (iii) ایم آر این اے میں کوڈ ان مسلسل طریقے سے پڑھے جاتے ہیں اوقاف(Punctuation)کا استعمال نہیں ہوتا۔ 


(iv) کوڈ تقریباً آفاتی ہے: مثال کے طور پر بیکٹیریا سے لیکر انسانوں تک UUUفینائل الانین(phe)کے لیے ہی کوڈ کرے گا۔ مائیٹو کانڈریااور کچھ ہروٹوزواتر میں پائے جانے والے کو چند کوڈون اس اصول کے کچھ استثنا (Exceptions) ہیں۔
(v) AUGکے دوہرے کام ہیں۔ میتھیونین(met)کو کوڈ کرنے کے علاوہ‘ انیشیٹر کو ڈان کے فرائض انجام دیتا ہے۔
اگر ایم آر این اے میں مندرجہ ذیل سیکوئنس ہے تو اس کے ذریعے کوڈ کئے جانے والے امنیوایسڈز کے سیکوئنس کو لکھئے۔ (چیکر بورڈ کی مدد لیجیے)
(vi) UGA UAG UAA   اسٹاپ ٹرمینیٹر کوڈان ہیں
-AUG UUU UUC UUC UUU UUU UUC-
اب اس کا الٹا کرکے دیکھیں۔مندرجہ ذیل انیواایسڈز کا سیکوئینس ایم آر این اے کے ذریعے کوڈ کیا گیا ہے اب آر این اے میں نیوکلیو ٹائیڈز کے سیکوئینس کی پیشن گوئی کیجیے۔
Met-Phe-Phe-Phe-Phe-Phe-Phe
الٹی پیشین گوئی کرنے میں کیا آپ کو کوئی وقت محسوس ہوئی؟
جنٹک کوڈ کی کن دو خصوصیات کے بارے میں آپ نے سیکھا؟ کیاآپ ان کے باہمی رشتے کو بتا سکتے ہیں؟
6.6.1 میوٹیشن اور جنٹک کوڈ
جنیز اور ڈی این اے کے درمیان کے تعلق کو میوٹیشنر کے ذریعے اچھی طرح سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ میوٹیشن اور اس کے اثرات کے بارے میں باب پانچ میں مطالعہ کرچکے ہیں۔ ڈی این اے کے قطع میں بڑے حصے کا نقصان اور دوبارہ ترتیب کے اثرات کو سمجھنا آسان ہے۔ اس کے نتیجے میں جین کے کھو جانے یا حاصل کرلینے سے ہمیں اس کے کام کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے۔ یہاں پوائنٹ میوٹیشن اثرات کے بارے میں سمجھایاجائے گا۔ پوائنٹ میوٹیشن کی عمدہ مثال گلوبن زنجیر کے جین میںایک بیس پیئر کی تبدیلی ہے جس کے نتیجے میں گلو ٹامین امنیوایسڈ ویلین میں تبدیل ہوجاتاہے۔ اس وجہ سے سکل سیل انیمیا بیماری کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ پوائنٹ میوٹیشن میں ساختی جین میں ایک بیس کے داخلے یا اخراج کے اثرات کو مندرجہ ذیل مثال کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
مندرجہ ذیل الفاظ جس کا ہر لفظ بیٹک کوڈ کی طرح تین حروف کا بنا ہوا ہے پر مبنی اس بیان پر غور کیجیے۔
RAM HAS RED CAP
HASٰٓاور REDکے درمیان اگر ہمBحرف داخل کردیں اور بیان کودوبارہ ترتیب دیں تو مندرجہ ذیل طریقے سے پڑھا جائے گا
RAM HAS BRE DLA P
اسی طرح اگر ہم اسی جگہ ہر دو حروف کو داخل کردیں مثلاً 'BI' کو تو اس طرح پڑھا جائے گا۔
RAM HAS BIR EDC AP
اب اگر ایک ساتھ تین حروف داخل کریں مثلاً BIG، تو بیان اس طرح ہوجائے گا
RAM HAS BIG RED CAP
اسی مشق کو حرف Dاور R,Eکو ایک ایک کرکے اگر خارج کریں اور بیان کو تلاثی لفظ بناکر دوبارہ ترتیب دیں تو 
RAM HAS EDC AP
RAM HAS DCA P
RAM HAS CAP
ٰٓاوپر دی گئی مشق کے نتائج بہت واضح ہیں۔ ایک یا دو بسیس کے داخلے یا اخراج سے ریڈنگ فریم میں داخلے یا اخراج کی جگہ سے تبدیل واقع ہوجاتی ہے۔ تین بیسیس یا اسکا مضروب (Multiple) ایک مترادف کو ڈان کو یا تو داخل کردیا ہے یا خارج کردیتا ہے لہٰذا ایک مترادف امنیو ایسڈ داخل یا خارج ہو جاتا ہے اور اس جگہ سے آگے کاریڈنگ فریم غیر تبدیل شدہ رہتا ہے۔ اس طرح میو ٹیشن کو قریم شیفٹ انسرشن (داخلی) یا ڈیلشین (اخراجی) میوٹیشن کہتے ہیں۔ یہ اس ثبوت کی جنٹک بنیاد ہے کہ کوڈ ان تلاثی (Triples)ہے اور سلسلے وار پڑھا جاتاہے۔(iv) کوڈ تقریباً آفاتی ہے: مثال کے طور پر بیکٹیریا سے لیکر انسانوں تک UUUفینائل الانین(phe)کے لیے ہی کوڈ کرے گا۔ مائیٹو کانڈریااور کچھ ہروٹوزواتر میں پائے جانے والے کو چند کوڈون اس اصول کے کچھ استثنا (Exceptions) ہیں۔
(v) AUGکے دوہرے کام ہیں۔ میتھیونین(met)کو کوڈ کرنے کے علاوہ‘ انیشیٹر کو ڈان کے فرائض انجام دیتا ہے۔
اگر ایم آر این اے میں مندرجہ ذیل سیکوئنس ہے تو اس کے ذریعے کوڈ کئے جانے والے امنیوایسڈز کے سیکوئنس کو لکھئے۔ (چیکر بورڈ کی مدد لیجیے)
(vi) UGA UAG UAA   اسٹاپ ٹرمینیٹر کوڈان ہیں
-AUG UUU UUC UUC UUU UUU UUC-
اب اس کا الٹا کرکے دیکھیں۔مندرجہ ذیل انیواایسڈز کا سیکوئینس ایم آر این اے کے ذریعے کوڈ کیا گیا ہے اب آر این اے میں نیوکلیو ٹائیڈز کے سیکوئینس کی پیشن گوئی کیجیے۔
Met-Phe-Phe-Phe-Phe-Phe-Phe
الٹی پیشین گوئی کرنے میں کیا آپ کو کوئی وقت محسوس ہوئی؟
جنٹک کوڈ کی کن دو خصوصیات کے بارے میں آپ نے سیکھا؟ کیاآپ ان کے باہمی رشتے کو بتا سکتے ہیں؟

6.6.1 میوٹیشن اور جنٹک کوڈ

جنیز اور ڈی این اے کے درمیان کے تعلق کو میوٹیشنر کے ذریعے اچھی طرح سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ میوٹیشن اور اس کے اثرات کے بارے میں باب پانچ میں مطالعہ کرچکے ہیں۔ ڈی این اے کے قطع میں بڑے حصے کا نقصان اور دوبارہ ترتیب کے اثرات کو سمجھنا آسان ہے۔ اس کے نتیجے میں جین کے کھو جانے یا حاصل کرلینے سے ہمیں اس کے کام کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے۔ یہاں پوائنٹ میوٹیشن اثرات کے بارے میں سمجھایاجائے گا۔ پوائنٹ میوٹیشن کی عمدہ مثال گلوبن زنجیر کے جین میںایک بیس پیئر کی تبدیلی ہے جس کے نتیجے میں گلو ٹامین امنیوایسڈ ویلین میں تبدیل ہوجاتاہے۔ اس وجہ سے سکل سیل انیمیا بیماری کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ پوائنٹ میوٹیشن میں ساختی جین میں ایک بیس کے داخلے یا اخراج کے اثرات کو مندرجہ ذیل مثال کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
مندرجہ ذیل الفاظ جس کا ہر لفظ بیٹک کوڈ کی طرح تین حروف کا بنا ہوا ہے پر مبنی اس بیان پر غور کیجیے۔
RAM HAS RED CAP
HASٰٓاور REDکے درمیان اگر ہمBحرف داخل کردیں اور بیان کودوبارہ ترتیب دیں تو مندرجہ ذیل طریقے سے پڑھا جائے گا
RAM HAS BRE DLA P
اسی طرح اگر ہم اسی جگہ ہر دو حروف کو داخل کردیں مثلاً 'BI' کو تو اس طرح پڑھا جائے گا۔
RAM HAS BIR EDC AP
اب اگر ایک ساتھ تین حروف داخل کریں مثلاً BIG، تو بیان اس طرح ہوجائے گا
RAM HAS BIG RED CAP
اسی مشق کو حرف Dاور R,Eکو ایک ایک کرکے اگر خارج کریں اور بیان کو تلاثی لفظ بناکر دوبارہ ترتیب دیں تو 
RAM HAS EDC AP
RAM HAS DCA P
RAM HAS CAP
ٰٓاوپر دی گئی مشق کے نتائج بہت واضح ہیں۔ ایک یا دو بسیس کے داخلے یا اخراج سے ریڈنگ فریم میں داخلے یا اخراج کی جگہ سے تبدیل واقع ہوجاتی ہے۔ تین بیسیس یا اسکا مضروب (Multiple) ایک مترادف کو ڈان کو یا تو داخل کردیا ہے یا خارج کردیتا ہے لہٰذا ایک مترادف امنیو ایسڈ داخل یا خارج ہو جاتا ہے اور اس جگہ سے آگے کاریڈنگ فریم غیر تبدیل شدہ رہتا ہے۔ اس طرح میو ٹیشن کو قریم شیفٹ انسرشن (داخلی) یا ڈیلشین (اخراجی) میوٹیشن کہتے ہیں۔ یہ اس ثبوت کی جنٹک بنیاد ہے کہ کوڈ ان تلاثی (Triples)ہے اور سلسلے وار پڑھا جاتاہے۔

6.6.2 ٹی آر این اے۔ ایک ایڈاپٹر سالمہ

کوڈ کی تجویز کی ابتداء ہی سے فرانسس کرک کو معلوم تھا کوڈ کو پڑھنے اور اس کو امنیوایسڈ سے جوڑنے کاکوئی نہ کوئی مخصوص طریقہ ضرور ہوگا، کیونکہ امنیوایسڈ میں کوئی ایسی ساختی خصوصیت نہیں ہے جو کوڈ پہچان یا پڑھ سکے۔ انھوں نے ایک ایسیاایڈاپٹر سالمے کی موجودگی کی تجویزپیش کی جو ایک طرف تو کوڈ کو پڑھ سکے اور دوسری طرف مخصوص امنیداسیڈ سے جڑسکے۔ ٹی آر این اے۔ جسکا پہلے نام ایس آر این اے (محلول آر این اے) تھا، جنٹک کوڈ کی تجویز سے پہلے اس کے بارے میں علم تھا۔ تاہم ایڈاپڑ سالمے کی حیثیت سے اسکا کام بہت بعد میں معلوم ہوا۔
ٹی آر این اے میں ایک اینٹی کوڈ ان لوپ ہوتاہے جس کے بیسیس کوڈ کے کامپلیمنٹیری ہوتے ہیں‘ اور اس میں ایک امنیوایسڈ محصولی سرا بھی ہوتاہے جس سے امنیوایسڈ جڑتا ہے۔ ٹی آر این اے ہر امنیوایسڈ کے لیے مخصوص ہوتاہے (شکل 6.12)۔ انیشیشن کے لیے ایک مخصوص ٹی آر این اے ہوتا ہے جسے افتتاحی ٹی آر این اے کہتے ہیں۔ اسٹاپ کوڈ ون کے لیے کوئی ٹی آر این اے نہیں ہوتا۔ شکل 6.12 میں ٹی آر این اے کی ثانوی ساخت دکھائی گئی ہے جو (Clover Leat) کی طرح ہوتی ہے۔ ٹی آر این اے کی اصل ساخت ایک گندھے ہوئے سالمے جیسی ہوتی ہے جو الٹے L کی طرح دیکھتی ہے۔
pic 17 chapter 6
شکل 6.12 ٹی آر این اے۔ ایڈاپٹرسالمہ

6.7 ٹرانسلیشن (Translation) 

ٹرانسلیشن امنیو ایسڈ کے پالیمرائزیشن کے عمل کو کہتے جس سے پالی پیٹیائیڈ بنتا ہے(شکل (6.13امنیو اسیڈز کے ترتیب کا تعین ایم آر این اے میں موجود بیسیس کے ترتیب سے ہوتا ہے۔ امنیو ایسڈز ایک دوسرے سے پیڈائیڈ بندش کے ذریعے جڑے رہتے ہیں۔ پیٹیائیڈبانڈ کے بننے کے لیے توانائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے پہلے ہی مرحلے میں اے ٹی پی کی موجودگی میں امنیو ایسڈز فعال (activated) ہوجاتے ہیں اور اپنے متعلقہ ٹی آر این اے سے جڑجاتے ہیں۔ اس عمل کوٹی آر این اے کی چارجنگ کہتے ہیں یا خصوصیت سے ٹی آر این اے کا امینو ایسائیلیشن کہتے ہیں۔ اس طرح کے دو جارج شدہ ٹی آر این اے اگر قریب لائے جائیں تو توانائیت کے طور پر دونوں کے درمیان پیٹیائیڈ بانڈ بن جائے گا۔کیٹالسٹ کی موجودگی اس پیٹیائیڈ بانڈ کے بننے کی شرح میںمزید اضافہ کردے گی۔
پروٹین کی تالیف کرنے کی ذمے داری خلوئی فیکٹری رائبوسوم ہے۔ رائبوسوم ساختی آر این اے اور تقریباً 80مختلف پروٹینوں پر مشتمل ہوتاہے۔ اپنے غیر فعالی حالت میں یہ دو سب یونٹس مو موجود ہوتا ہے یا ایک بڑی سب یونٹ اور ایک چھوٹی سب یونٹ۔ جب چھوٹی سب یونٹ کا واسطہ ایم آر این اے سے ہوتا ہے تو ایم آر این اے سے پروٹین کے ٹرانسلیشن کا عمل شروع ہوتاہے۔ بڑی سب یونٹ میں آنے والے امنیو ایسڈز کے جڑنے کے لیے اور اتنے قریب ہونے کے لیے کہ ان کے درمیان پیٹائیڈ بانڈ بن سکے، دو جگہیں ہوتی ہیں۔ پٹیائیڈ بانڈ بننے کے لیے رائبوزوم کیٹالسٹ کا بھی کام کرتا ہے (بیکٹیریا میں 235 آر آر این اے خامرے ہیں جن کو رائبوزائم کہتے ہیں)
pic 18 chapter 6
شکل 6.13  ٹرانسلیشن

ایم آر این اے کی ٹرانسلیشن اکائی آر این اے کی وہ ترتیب ہے ہے جس کے ایک طرف اسٹارٹ کوڈ ان (AUG)اور دوسری طرف سٹاپ کوڈ ان ہوتا ہے اوریہ پالی پٹیائیڈ کوڈ کرتاہے۔ ایک ایم آر این اے میں چند اضافی سیکوئینس بھی ہوتے ہیں جنکا ٹرانسلیشن نہیں ہوتا اور انکو غیر ترجمہ شدہ علاقے ریخبز (UTR)کہتے ہیں UTR 5' سرے (اسٹارٹ کوڈ ان سے پہلے) اور 3' سرے (اسٹاپ کوڈ ان کے بعد) دونوں طرف ہوتے ہیں۔ ان کی ضرورت بہتر ٹرانسلیشن کے لیے پڑتی ہے۔
انیشیشن کے لئے، رائبوسوم ایم آر این اے سے سٹارٹ کو ڈ ان (AUG)پر جڑتا ہے جسکو صرف اختتامی ٹی آر این اے ہی پہچان سکتاہے۔ اس کے بعد پروٹین کی تالیف کے لیے رائبوسوم ا یلانگیشن مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس مرحلے پر ، امنیوایسڈ جوٹی آر این اے سے جڑا ہوتا ہے کا مجموعہ ٹی آر این اے اینٹی کوڈ ان کے ساتھ کامپلیمنیٹری بیس ہیئرز بنا کر ترتیب وار مناسب ایم آر این اے سے جڑتا ہے۔ رائبوموم ایم آر این اے پر کوڈان در کوڈان چلتاہے اور ایک کے بعد ایک امنیوایسڈ جڑتے جاتے ہیں جن کی ایم آر این اے نمائندگی کرتا ہے اس طرح ڈی این اے کے کنٹرول کے تحت ہالی پٹیائیڈ سیکوئنس کا ٹرانسلیشن ہوتا ہے۔ آخر میں ریلیز فیکٹر سٹاپ کوڈ ان سے جڑتا ہے جو اس ترجمہ ٹرانسلیشن کو ختم کرکے مکمل پالی پٹیائیڈ رائبوسوم سے الگ کردیتا ہے۔

6.8 جین کے اظہار کی ضابطگی (Regulation of Gene Expression) 

جین کے اظہار کی ضابطگی ایک وسیع اصطلاح کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مختلف سطح پر عمل پزیر ہوسکتی ہے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ جین ایکپریشن کے نتیجے میں پالی پٹیائیڈ بنتا ہے، کی یہ مختلف سطحوں پر ضابطگی (یا ریگولیشن) ہوسکتی ہے۔ یوکیرایوٹس میں، ریگویشن مندرجہ ذیل مرحلوں پر ہوسکتاہے۔
(i) ٹرانسکرپشنل سطح (پرائمری ٹرانسکرپٹ کے بننے پر )
(ii) پروسیسنگ کی سطح پر 
(iii) ایم آر این اے کے مرکزے سے سائیٹوپلاز میں منتقلی پر 
(iv) ٹرانسلیشنل سطح پر
خلیے میں کسی خاص کام یا کاموں کے مجموعے کو کرنے کے لیے جین کا اظہار ہوتاہے۔ مثلاً ای کولائی میں بیٹا گیلکٹیوسائیڈیز خامرے کی تالیف لیکٹوز(ڈائی سیکیر ائیڈ) کوگیلکٹوز اور گلو کو ز میں ہائیڈلیسس کو عمل انگیز کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، بیکٹیریا اس کو توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتاہے۔ لہٰذا اگر بیکٹیریا کے اطراف میں لیکٹوز نہیں موجود ہے تو اسکو بیٹا گیلکٹیوسائیڈیز کی تالیف ضرور ت نہیں ہے۔ اس لیے آسان الفاظ میں یہ تحوتی فعلیاتی یا ماحولیاتی حالات ہیں جو جین ایکپریشن کو کی ضابطگی کرتے ہیں۔ عضویوں کے جنین سے بلوغ تک کا نمو اور نمو اور ڈیفرینسیشن بھی، جین کے مختلف مجموموں کے ایکسپر یشن کے ریگویشن اور ربط کا نتیجہ ہیں۔
پروکیرالوٹس میں ٹرانسکپرشنل انتشیشن کی کنٹرول ہی اصل میں جین ایکپریشن کے کنٹرول کی اہم جگہ ہے ایک برا انسکریشن اکائی میں اس کے پروموٹر پر آراین اے پالی میریز کی حرکت معاون پروٹینز کے کی مدد سے ریگولیٹ ہوتی ہے جو اسکواسٹارٹ سائٹیس کو پہچاننے کی اہلیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ ریگولیٹری پروٹینز مثبت (ایکٹیویٹرز) اور منفی (ریپریسر) دونوں طرح سے کام کرسکتے ہیں۔ پروکیراٹک ڈی این اے آپریٹر کہلانے والے سیکوئنس کے ساتھ پروٹین کے ملنے کے ذریعے ہوتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں عموماً پروموٹر فعال ہوتا ہے اکثر اوپیراٹز میں آپریٹر ریجن‘ پروموٹر عناصر سے متصل ہوتے ہیں اور اکثر حالات میں آپریٹر سیکوئنیس ریپریسرپروٹین سے جڑتے ہیں۔ ہر اوہران میں اس کا اپنا مخصوص آپریٹر اور مخصوص رہپریسرہوتاہے۔ مثلاً لیک آپریٹر صرف لیک اوپران میں ہی موجود ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر لیک رپریسر سے ہی جڑنا ہے۔

6.8.1 لیک اوپیران(The Lac operon)

لیک اوپران کا انکشاف ماہرجنیات فرانکوا جیکب اور ایک بائیو کیمسٹ جیکب جاک مونو کی قریبی شرکت کے ذریعے ممکن ہوا۔ ان دونوں نے سب سے پہلے ایک ٹرانسکرپشن کے ذریعہ  ضابطگی کے سسٹم کا انکشاف کیا۔ لیک اوپران میں (یہاں لیک کے معنی لیکٹوز کے ہیں) ، ایک پالی سسٹرانک ساختی جین مشترکہ پروموٹر اور ریگولیٹری جین سے ریگولیٹ ہوتا ہے۔ بیکٹیریا میں اس طرح کا عمل بہت عام ہے اور اسے اوپر ان کہتے ہیں۔ اس کی  چند مثالیں لیک اوپران، ٹیرپ ٹوفان اوپران، آرا اوپران، ہس اوپران، اور ویل اوپراں وغیرہ ہیں۔
لیک اوپران ایک ریگولیٹری جین ہے۔ (یہاں کا i مطلب اینڈیوسر نہیں ہے بلکہ یہ لفط ان ہیبٹر سے اخذ کیاگیا ہے) تین ساختی جنیز(z,y,a)پرمشتمل ہوتاہے۔ i جین لیک اوپران کے رپریسر کو کوڈ کرتا ہے۔ zجین بیٹا۔ گیلیکٹوسائیڈیز(ß-gal)کوکوڈ کرتا ہے جو بنیادی طور رپر ڈائی سیکرائیڈ کی ہائیڈرولیسس کے لیے ذمے دار ہے،  لیکٹوز کو گیلکیٹوز اور گلوکوز مونو میریک اکائیوں میں توڑتا ہے۔ y جین پر مینیر(permease)کوڈ کرتاہے جو بیٹا گیلیکٹو سائیڈس کو خلیے میں نفوذ کی اہلیت میں اضافہ کرتاہے۔ aجین ٹرانس اسیلیز کو کوڈ کرتا ہے۔ لہٰذا لیک اوپران کے تینوں جنیز کے ماحصل لیکٹوز کے تحول کے لیے ضروری ہیں۔ دوسرے بہت سے اوپیرانوں میں بھی، اوپیران میں موجود جنیز کی۔ اسی یا اس سے متعلق تحولی کاموں میں مدد کرنے کے لیے ایک ساتھ ضرورت ہوتی ہے۔ (شکل (6.14)
pic 19 chapter 6
شکل 6.14 لیک اوپیران
بیٹا۔ گیلیکٹوسائیڈیز خامرہ کا سبسٹریٹ لیکٹوز ہے جو اوپیران کے سوئچ آن اور سویچ آف کو ریگولیٹ کرتا ہے اسی لیے اسکو انڈیوسر کہتے ہیں۔ گلو کوز جیسے پسندیدہ کاربن کے ذریعے کی غیر موجود گی میں، اگر بیکٹیریا کی گروتھ میڈیم میں لیکٹوز مہیا کیا جائے تو پر مینیر کی کارگردگی کے ذریعے لیکٹوز خلیے میں پہنچتا ہے یاد رکھئے کہ خلیے میں ہروقت لیک اوپران کا ایکپریشن خفیف سطح پر ہوتا رہتا ہے ، ورنہ لیکٹوز خلیے میں داخل نہیں ہوسکتا)۔ لیکٹوز پھر مندرجہ ذیل طریقہ سے اوپیران کو انڈیوس کرتا ہے۔
iجین کے ذریعے اوپران کا ر پریسر (مستقل طور پر کنٹی ٹیوٹوئی) ہمیشہ زیر تالیف رہتا ہے۔ رپریسر پروٹین کے آہر یٹرریجن سے جڑ کر آراین اے پولیمینر کوٹرانسکریشن سے روکتا ہے۔ انڈیوسر کی موجودگی میں ، مثلاً لیکٹوزیا الولیکٹوز ، انڈیوسر سے کے آپسی میل پر رپریسر غیر فعال ہو جاتا ہے۔ اس کی  وجہ سے آر این اے ہالیمنیر کی پہنچ پروموٹر تک ممکن ہوجاتی ہے اور ٹرانسکریشن شروع ہوجاتا ہے(شکل 6.14)ایک اوپیران کے ریگویشن کو اس نظریے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ خامرے کی تالیف کا ریگویشن خامرے کے اپنے سبسٹویٹ سے ہوتا ہے۔
یاد رکھے کہ گلوکوز یا گیلیکٹوز لیک اوپیران کے انڈیوسر کی موجودگی میں ، مثلاً لیکٹوز یا الو لیکٹوز، انڈیوسر سے آپسی میل پروپریسر غیر فعال ہوجاتا ہے۔اس کی  وجہ سے آر این اے پالیمنیر کی پہنچ پروموٹر تک ممکن ہو جاتی ہے اور بڑا نسکریشن شروع ہوجاتا ہے۔ (شکل6.14)لازماً، لیک اوپران کے ریگویشن کو اس نظریے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ خامرے کی تالیف کا ریگویشن خامرے کے اپنے سبسٹریٹ سے ہوتا ہے۔
یاد رکھئے کہ گلوکوز یا گیلیکٹوز لیک اوپران کے انڈیوسر کی حیثیت سے کام نہیں کر سکتے ۔  کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ لیکٹوز کی موجودگی میں ایک اوپیران کب تک ایکپریس کرے گا؟
رپریسر کے ذریعے ایک اوپیران کا ریگویشن نگیٹیو ریگویشن کہلاتا ہے۔لیک اوپیران پازیٹو ریگولیشن کے تحت بھی کام کرتا ہے، مگر اس سطح پر یہ بحث کے دائرے سے باہر ہے۔

6.9 بیومن جینوم پروجیکٹ(Human Genome Project) 

گذشتہ ابواب  میں آپ نے سیکھا ہے کہ ڈی این اے میں بیسس مخصوص ترتیب ہیں جو کسی عضوئیے میں جنٹک معلومات کا تعین کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ایک عضوئیے یا ایک فرد کا جنٹک میک اپ ڈی این اے سیکوٹنس میں موجود ہوتا ہے۔ اگر دو افراد مختلف ہیںتو ڈی این اے سیکوئینس بھی کم از کم کسی جگہ پر مختلف ہونگے۔ ان مفروضات کی وجہ سے انسانی جینوم کے مکمل ڈی این اے سیکوئنس کی جستجو کو جنم دیا۔ جنٹک اخجیزیرنگ ٹیکنیکس کے قیام کے ساتھ جہاں ڈی این اے کی کسی حصے کو الگ کرکے کلون کرنا ممکن تھا اور ڈی این اے سیکوٹنس کو معلوم کرنے کی آسان اور تیز ٹیکنیکس کی دستیابی کی بناء پر 1990میں انسانی جنیوم سیکوئینسنگ کے ایک بہت حوصلہ مندپر وجیکٹ کی شروعات ہوئی۔
ہیومن جینوم پروجیکٹ(ایچ جی پی) کو ایک عظیم پروجیکٹ کہا گیا۔ آپ کو اس کی ضخامت اور پروجیکٹ کی ضروریات کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا اگر ہم صرف اس کے مقاصد کو ذیل میں بیان کردیں۔
انسانی جینوم میں تقریباً 10 بی پی ہوتے ہیں اور اگر ایک بیس کو سیکوئنس کرنے کی قیمت ۳ یوایس ڈالر لگائیں (شروعات میں اندازاً قیمت) تو پروجیکٹ کی قیمت تقریباً9بلین یوایس ڈالر ہوتی ہے۔ مزید، اگر حاصل شدہ معلومات کو کتابی شکل میں جمع کیا جائے، اور کتاب کے ہر ورق میں ایک ہزار حرف ہوں اور ہرکتاب ایک ہزار اوراق کی ہوتو ایک انسانی خلیے سے ڈی این اے سیکوئنس کی معلومات کو جمع کرنے کے لیے 3300 ایسی کتابوں کی ضرورت پڑے گی۔ جیسا کہ امید تھی، اس ضخیم ڈیٹانے تیز رفتار کمپیوٹیشنل مشینوں کی ضرورت کو لازمی بنادیا جو اس کو جمع کر سکیں اور ضرورت کے مطابق اس میں سے کا م کی بات کو نکال سکیں تاکہ انکا تجزیہ کیا جاسکے ۔ ایچ جی پی، وابستہ بائیولوجی میں تیزی سے نمو ہونے والے میدان بائیوانفارمیٹکس کہتے ہیں، سے بھی قریب رہا۔ 
 HGPکے مقاصد
ایچ جی پی کے اہم مقاصد میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(i) انسانی ڈی این اے میں موجود تقریباً 25,000۔20,000جیز کی پہچان کرنا
(ii) تین بیلیین کیمکل بیس پئیرز کے سیکوئنس کا تعین کرنا جو انسان ڈی این اے میں موجود ہیں۔
(iii) اس معلومات کوڈیٹا بیسس میں جمع کرنا
(iv) ڈٹیا کے تجزیہ کرنے والے طریقوں کو مزید بہتر کرنا
(v) متعلقہ تکنیکوں کو دوسرے اداروں میں منتقل کرنا مثلاً انڈسٹیرینر میں 
(vi) اخلاقی، قانونی اور سماجی مسائل (ای ایل ایس ای) کو خطاب کرنا جو اس پر وجیکٹ کے دوران پیدا ہوسکتے ہیں۔
ہیومن جینوم پروجیکٹ 13 سال کا پروجیکٹ تھا جس کی رابطگی یوایس ڈیپارٹمنٹ آف انرجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے کی۔ ایچ جی پی کے ابتدائی سالوں میں ویلکم ٹرسٹ(یو کے) اہم پارٹنر بنا بعد میں جاپان، فرانس، جرمنی، چین اور دوسرے ممالک سے اضافی تعاون ملا۔ پروجیکٹ 2003 میں مکمل ہوا۔ ڈی این اے کے تغیر کے اثرات کے بارے میں حاصل شدہ معلومات بنی نوع انسان پرائر انداز ہونے والی بیماریوں کی تشخیص، علاج اور کسی دن انکو روکنے میں انقلابی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ انسانی حیاتیات کی سمجھ، اور غیر انسانی عضویوں کے بارے میں معلومات کی طرف اشاارہ کرنے کے علاوہ، ڈی این اے سیکوئنیس ان کی  قدرتی اہلیت کے بارے میں بھی بتا سکتے ہیں جنکو حقظانِ صحت، ذراعت، توانائی کی پیداوار، ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کئی غیر انسانی ماڈل عضویوں مثلاً بیکٹیریا ، ایسٹ، سینوربڈائیٹس ایلی گانسس (ایک آزادانہ طور پر رہنے والا نان پتھیوں جنک نیمٹیوڈ)، ڈرا سوفیلا (فروٹ نلائی) پودوں(چاول اور ارپیڈاسس) وغیرہ کے جینوم سیکوئیس کئے جاچکے ہیں۔

طریقہ کار (Methodologies):

 طریقے میں دو چیزیں شامل ہیں۔ ایک اپروچ کے تحت ان تمام جینر کی پہچان کرنا تھا جو آر این اے کی طرح ایکسریس ہوتے ہیں( ایکسپرسڈ سیکوئنس ٹیگس) (ESTs)دوسری وہ نا معلوم اپروچ ہے جس میں تمام جینوم کے مجموعے کی محض سیکوئیسنگ جس میں کو ڈنگ اور نان کو ڈنگ سیکوئنیس شامل ہیں ، اور بعد میں مختلف سیکوئینس کے قطعوں کو ان کے کام تغویض کرنا(اسکو سیکر ئنس انوٹیشن کہتے ہیں)۔ سیکوئیسنگ کے لئے، خلیے سے مکمل ڈی این اے علاحدہ کیا جاتا ہے اور اس کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کیا جاتا ہے (یاد رکھئے کہ ڈی این اے ایک بہت لمبا ہالیمر ہے اور ڈی این اے کے لمبے ٹکڑے کو سیکوئنس کرنے میں کچھ تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے) اور مخصوص دیکٹرز کو استعمال کرکے انھیں مناسب ہوسٹ میں کلون کیا جات ہے۔ کلوننگ کے بعد ڈی این اے کے ہر ٹکڑے کی تعداد میں اضافہ(amplification)کیا جاتا ہے تاکہ بعد میں اس کی  سیکوئیسنگ آسانی سے ہوسکے۔ عام طور پر استعمال ہونے والے ہوسٹ بیکٹیریا اور ایسٹ ہیں، اور ویکٹرز بی اے سی (بیکٹریل آرٹیفیشیل کر موسوم) اور وائی اے سی ایسٹ آرٹیفیشیل کرو موسوم) ہیں۔
pic 20 chapter 6
شکل 6.15  ہیومن مینوم پروجیکٹ کا خاکہ
ان ٹکڑوں کو آٹومیٹیڈ سیکوئنیرز کو استعمال کرکے سیکوئینس کیاگیا۔ جو فریڈرک سینگر کے ذریعے ایجاد کئے گئے اصولوں پر کام کرتاہے( یادکیجیے کہ پروٹینز کو سیکوئینس کرنے کا طریقہ بھی سینگرنے ہی معلوم کیا تھا)۔ ان سیکوئنسنر کو ان میں موجود اور لیپنگ ریجنز کی بناء پرترتیب دیاگیا۔ اس وجہ سے سیکوئنسنگ کے لیے اور لینیگ ٹکڑوں کو پیدا کرنا ضروری ہوگیا۔ ان ترتیب کو سجانا انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس لیے کمپیوٹر کے مخصوص پروگرام بنائے گے (شکل (6.15۔ یہ ترتیب یا سیکوئنیز بعد میں کئے گئے اور ہر کرو موسوم سے تغویض کیاگیا۔ کروموسوم 1 (پہلے) کا سیکوئینس مئی 2006 میں مکمل ہوا (یہ کروموسوم سیکرئینس کئے گئے 24 کروموسونر۔ 22آٹوسونر اور xاور۔yمیں سب سے آخری تھا) دوسرا اہم کام تھا جینوم کا جنیٹک اور فزلیکل نقشہ مرتب کرنا یہ رسٹریکشن اینڈو نیوکلینیر پالی مارفنرم کے بارے میں معلومات اور چند ریپٹیٹیو ڈی این اے سیکوئینس جن کو مائکر سیٹیلائٹس کہتے ہیں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے بنایا گیا۔     (ریپی ٹیڈ ڈی این اے سیکوئینس پالیمارفزم کے استعمال کے بارے میں ہم ڈی این اے فنگریر نٹنگ والے اگلے سیکشن میں سمجھائیں گے)۔

6.9.1 ہیومن جینوم کی نمایاں خصوصیات

ہیومن جینوم پر جیکٹ سے حاصل کی کئے گئے چند نمایاں مشاہدات مندرجہ ذیل ہیں:
(i) ہیومن جینوم میں 3164.7 میلین نیوکلیوٹاٹیٹ بیسس ہیں۔
(ii) اوسط جین 300 بیسس جوڑے پر مشتمل ہے ، لیکن سائز زمین بہت بدلائو ہوتا ہے، سب سے بڑا انسانی جین ڈسیسٹرافن کا ہے جو 2.4 ملین بیسس کا ہوتا ہے۔
(iii) جینز کی کل تعداد تقریباً 30,000 ہے۔ پچھلے تخمینوں 80,000-1,40,00 جینز سے بہت کم ۔ تقریباً تمام (99.9 فیصدی) نیوکلیوٹائیڈز تمام لوگوں میں یکساں ہیں۔
(iv) 50 فیصدی دریافت شدہ جینز سے زیادہ کا کام ابھی معلوم نہیں ہے۔
(v) جینوم کا دو فیصدی سے کم حصہ پروٹینز کوڈ کرتا ہے۔
(vi) ہیومن جینوم کا زیادہ تر حصہ رپیٹیڈ سیکوئینس پر مشتمل ہے۔
(vii) ریپی ٹیسٹیڈ ترتیب ڈی این اے سیکوئینس کے وہ حصے ہیں جو اپنے آپ کو کئی دفعہ دہراتے ہیں، کبھی تو سو سے ہزار گناتک ۔ ان کے بارے میں خیال ہے کہ انکا کوئی کوڈنگ کا کام نہیں ہے لیکن کر وموسوم کی ساخت محرکات اور ارتقاء پر روشنی ڈالتے ہیں۔
(viii) کروموسوم اپر سب سے زیادہ جینز(2968)، اور Y میں سب سے کم (231 ) جینز ہیں۔
(ix) سائنسدانوں کے معلوم کیا ہے کہ انسانوں میں 1.4 میلین ایسی جگہیں ہیں جہاں ایک بیس کا فرق ہے ( ایس این پی۔ سنگل نیوکلیوٹائیڈ پالیمار فنرم ۔ تلفظ ۔ سسپنس یہ معلومات کروسومنر میں بیماریوں سے متعلق سیکوئینس والی جگہوں کو تلاش کرنے اور انسانی ارتقاء کا سراغ لگانے والے عملیات کے لیے انقلابی اور امید افزا ثابت ہوسکتی ہے۔
6.9.2 استعمال اور مستقبل کے چیلینجز(Applications and Future Challenges) 
ڈی این اے سیکوئینس سے حاصل ہونے والے معنی خیر علم آنے والے سالوں میں ہماری حیاتیاتی نظام کی سوجھ بوجھ کے بارے میں تحقیق کی راہیں ہموار کرے گا۔ اتنے بڑے کام کے لیے دینا بھر کے پبلک اور پرائیوٹ اداروں میں مختلف موضوعات کے ہزاروں ماہرین کی ذہانت اور مہارت کی ضرورت پڑے گی۔ ہیومن جینوم کے سیکوئیس کی موجودگی کا سب سے بڑا اثر بائیولاجیکل تحقیقات کے لیے نئی راہیں کھولنے پر پڑے گا۔ ماضی میں محقیقن ایک وقت میں ایک بار چند جنیز کا مطالعہ کرتے تھے۔ اب مکمل جینوم سیکوئیس اور جدید ٹکنیکس کے سہارے ہم سوال کو زیادہ منظم طریقے اور جو وسیع پیمانے پر حل کرسکتے ہیں۔ وہ جینوم میں تمام جینز مثلاً ایک بافت یا عضو یاٹیومر کے تمام ٹرنسکر پٹس کا بیک وقت مطالعہ کرسکتے ہیں یا کسی طرح ہزاروں جینز اور پروٹینز باہمی نیٹ ورکس میں ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور حیات کی کمیٹری کی نغمہ سرائی کرتے ہیں۔

6.10 ڈی این اے فنگر پرنٹگ (DNA Fingerprinting) 

جیسا کہ گذشتہ حصوں میں کہا گیا ہے کہ انسانوں میں 99.9 فیصدی بیس سیکوئینس مشترکہ ہے۔فرض کیجیے انسانی جیفوم میں 11 بی پی ہیں، تو کتنے بیس سیکوٹیسس میں فرق عیال ہوگا؟ یہ یہی ڈی این اے سیکوئیسس میں فرق ہیں جو ہر فرد کو ان کے بیرونی شکل میں بے مثال بناتے ہیں۔ اگر دو افراد کے درمیان جنٹک فرق کو معلوم کرنے کا مقصد ہو یا کسی آبادی میں افراد کے درمیان تو ہر بار ڈی این اے کی سیکوئیسنگ کرنا ایک وقت طلب اور مہنگا کام ثابت ہوگا۔ 11 بی پی کے دوسیٹس کا موازنہ کرنے کے بارے میں غور کریں۔ ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کسی دو افراد کے ڈی این کے موازنے کا ایک بہت مستعددطریقہ ہے۔
ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کیا جاتا ہے کیونکہ ان سیکوٹیس ڈی این اے کا ایک چھوٹا حصہ کئی دفعہ دہرایا ہوا ہوتا ہے۔ یہ ریپی ٹیٹو ڈی این اے، جینومک ڈی این اے کے بلک سے ڈینسیٹی گریڈینٹ سینٹر یفیوگشین کے دوران مختلف چوٹیوں (Apeaks) کی صورت میں الگ کیا جاتا۔ بلک ڈی این اے ایک بڑی چوٹی بناتا ہے اور دوسری چھوٹی چوٹیاں سیٹلائٹ ڈی این اے کہلاتی ہیں۔ بیس کے خبر (اے :ٹی رچ یا جی:سی رچ) ٹکڑے کی لمبائی اور ریپی ٹیڈ اکائی ک تعداد کی بنیاد پرسیٹلائیٹ ڈی این اے کو کئی زمروں میں بانٹا جاتاہے جیسے ٹائکرسیٹلائٹس، مینی سیٹلائٹس وغیرہ۔ یہ سیکوئینس عموماً کسی پروٹین کو کوڈ نہیں کرتے ، لیکن ہیومن جینوم کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ سیکوٹینس بہت زیادہ پالیمور فنرم کا اظہار کرتے ہیں اور ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کی بنیاد رکھتے ہیں۔ چونکہ کسی فرد کے ہر مانت (جیسے خون ، ہیئر فالیکلر جلد ، ہڈی ، لعاب دہن ، سپرم وغیرہ ) کا ڈی این اے ایک ہی قسم کا پالیمورفننر کا اظہار کرتے ہیں،وہ عدالتی استعمال کے لیے بہت مفید شناختی آلہ کاربن جاتے ہیں۔ مزیدبراں،پالیمور فزم کی والدین سے بچوں میں توریت ہوتی ہے، جھگڑے کی صورت میں دلدیت کا تعین کرنے کے لیے ڈی این اے ننگرپرنٹینگ بہت کا ر آمد ذریعہ ہے۔
ڈی این اے میں پالیمور فزم نہ صرف ہیومن جینوم کی جینٹک میپنگ کی بلکہ ڈی ا ین اے فنگر پر نیٹنگ کی بھی بنیاد ہے، یہ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم آسان الفاظ میں سمجھیں کہ ڈی این اے پائی مارفزم ہے کیا؟ پالی مارفزم (جنٹیک سطح پر تغیر) میوٹیشن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے (یاد کیجیے مختلف طرح کے میوٹیشنز اور ان کے اثرات جو آپ نے باب5 میں پڑھے ہیں‘اور اس باب کے گذشتہ سیکشنر میں) ایک فرد میں نئے میوٹیشنز یا تو جنسی خلیوں میں پیدا ہوتے ہیں(وہ خلیے جو جنسی تولیدی عضویوں میں زواجے بناتے ہیں) اگر جنسی خلیے کا میوٹیشن کسی خرد کی خلف پیدا کرنے کی صلاحیت کو زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا جو اس میوٹیشن کو منتقل کرسکتے ہیں تو یہ آبادی کے دوسرے افراد میں پھیل سکتا ہے( جنسی تولید کے ذریعے)۔ ایلی سیکوٹینس تغیر (باب پانچ سے الیل کی تعریف کو یاد کیجیے) اگر انسانی آبادی میں 0.01فریکوئنسی سے زیادہ اگر ایک لوکس پر ایک سے زیادہ الیل واقعے ہوں تو اسے ڈی این اے پالی مارفزم کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں، کسی آبادی میں اگر ایک توریتی میوٹیشن زیادہ فریکوئینسی میں مشاہدے میں آئے تو اسے ڈی این اے پالی مارژم کہتے ہیں۔ نان کو ڈنگ ڈی این اے سیکوئینس میں ایسے تغیرات کے پائے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان سیکوئینسس میں میوٹیشن کے ہونے سے فرد کی تولید صلاحیت میں فوری طور پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ میوٹیشنز نسل درنسل جمع ہوتے رہتے ہیں اور تغیر پائی مارفزم کی بنیاد ڈالتے ہیں۔ ایک نیو کلیوٹائڈ کی تبدیلی سے لیکر بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی پالی مارفزم کی مختلف اقسام ہیں۔ ارتقاء اور اسپے سیشین(نوع کا بننا) میں اس پالی مارفزم کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے اور آپ اس کے بارے میںتفصیل اعلی درجات میں پڑھیں گے۔
ڈی این اے فنگرپرنٹینگ کی ٹیکنیک الیک جفری نے پہلے معلوم کی۔ انھوں نے ڈی این اے سٹیلائٹ جو بہت زیادہ مارفزم کا اظہار کرتا تھا ا سکو پروب کی طرح استعمال کیا۔ اس کو ویریبل نمبرآف ٹینڈیم ریپٹیس (وی این ٹی آر) کہتے ہیں۔ تکنیک میں جیسا کہ پہلے استعمال ہوتی تھی، ریڈیولیبلڈوی این ٹی آر کو پروب کی حیثیت سے استعمال کرکے سدرن بلاٹ ہائبرڈائزیشن کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنیک میں مندرجہ ذیل مراحل شامل ہیں:
(i) ڈی این ا ے کو علاحدہ کرنا
(ii) رسٹریکشن اینڈو نیوکلیریز کے ذریعے ڈی این اے کو کاٹنا 
pic 21 chapter 6
شکل 6.16ڈی این اے فنگ پرٹنیگ کا ایک خاکہ: چند نمائیدہ کروموسونر کو دکھایا گیا ہے جن میں وی این ٹی آر کی مختلف کا پی نمبر ہیں۔ آسانی کے لیے جیل میں ہربنیڈ کے اوریجن کو تلاش کرنے کے لیے مختلف رنگوں کا استعمال کیاگیا ہے۔ ایک کروموسوم کے دوالیلز (ہدری اور مادری) بھی وی این ٹی آر کے مختلف نقلوں کی تعداد رکھتے ہیں۔ ڈی این اے کے بینڈنگ نمونے سے ظاہر ہے کہ موقع واردات سے لیاگیا ڈی این اے بی شخص سے ملتا ہے اے سے نہیں۔

(iii) الیکٹرو فوریسس کے ذریعے ان ٹکٹروں کو الگ الگ کرنا
(iv) علاحدہ ہوئے ڈی این اے کے ٹکڑوں کو متنوعی جھلّی مثلاب نائٹروسیلیولوز یا نائیلون پر منتقل کرنا (بلاٹنگ)
(v) لیبلڈ وی این ٹی آر پروب کو کرکے ہائیڈیڈائزیشن کرنا
(vi) آٹوریڈیو گرافی کے ذریعہ ہائیریڈائیزڈ ڈی این اے کے ٹکڑوں کا پتہ لگانا۔ ڈی این اے فنگر پر نٹنگ کا تصویری خاکہ شکل 6.16میں دکھایا گیا ہے۔
وی این ٹی آر سیٹلائٹ ڈی این اے کی ا یک جماعت جسکو مینی سٹیلائٹ کہتے ہیں سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک چھوٹے ڈی این  اے سیکوئنس کی کئی نقلیں(Copies)ایک کے بعد ایک مرتب ہوتی ہیں۔ ایک فرد کے الگ الگ کروموسومز میں کاپی نمبر تعیلوں کی تعداد مختلف ہوتا ہے۔ ریپٹیس کی تعداد بہت زیادہ درجے کی پالی مارمزم کا اظہار کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وی این ٹی آر کا سائز0.1سے 20 کلوبیس تک ہوتاہے۔ نتیجتاً وی این ٹی آر پروب سے ہاٹبرڈائزیشن کے بعد آلوڈریڈیوگرام مختلف سائزز کے کئی بینڈ دیتا ہے۔بینڈز کسی فرد ڈی این اے کے لیے ایک مخصوص نمونہ پیش کرتے ہیں۔ (شکل 6.16)۔کسی آبادی میں یہ مخصوص نمونہ فرداً فرداً علاحدہ ہوتا ہے سوائے مونوازئیگوٹک (آئیڈنٹیکل) جڑواں بچوں کے۔ اس ٹیکنیک کی صلاحیت میں ہالیمیریز چین ریکیشن کو ا ستعمال کرکے مزید اضافہ کردیاگیا ہے (پی سی آر۔ آپ اس کے بارے میں باب ۱۱میں پڑھیں گے)۔ لہٰذا ڈی این اے فنگرپرینٹنگ کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک خلیے سے حاصل شدہ ڈی این اے کافی ہوتا ہے۔ عدالتی سائنس میں استعمال کے علاوہ، اس کے اور بھی فوائد ہیں مثلاً پایولیشن اور جنیٹک ڈائیورسٹی کے تعین میں آجکل فنگرپرنٹس کو پیدا کرنے کے کئی مختلف طرح کے پروبس کا استعمال ہورہا ہے۔

خلاصہ

نیوکلیک ایسڈز نیوکلیوٹبڈا کے لمبے پالمیز ہوتے ہیں۔ ڈی این اے جنٹک معلومات کا ذخیرہ کرتا ہے آراین اے اکثر معلومات کے اظہار اور منتقلی میں مدد کرتا ہے۔ حالانکہ ڈی این اے اور آر این اے دونوںجنٹک میٹریل کی طرح کام کرتے ہیں ، لیکن چونکہ ڈی این اے کیمیکل اور ساختی طور پر زیادہ مستحکم ہے اس لیے بہتر جینی مادہ ہے۔ 
تاہم آر این اے پہلے ارتقاء پذیر ہوا اور اس سے ڈی این اخذ ہوا۔ دو دھاگے والے سیڑھی نما ڈی این اے کی امتیازی خصوصیت دو مخالف سٹرنیڈز سے بیسیس کے درمیان ہائیڈروجن بانڈز ہیں۔ اصول یہ ہے کہ دو ہائیڈروجن بانڈز کے ذریعے ایڈینین تھائمین کے ساتھ ملتا ہے، اور گوانین۔ سائٹیوسین کے درمیان تین ایچ۔ بانڈز ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک اسٹرینڈ کو دوسرے کا کامپلیمنٹیری ہوتا ہے۔ ڈی این اے سیمی کنزروٹیو طریقے سے ریپلیکیٹ کرتا ہے اور یہ عمل کامپلیمنٹیری ایچ۔بانڈینگ کے ذریعہ گائیڈ ہوتا ہے۔ ڈی این اے کا وہ ٹکڑا جو آر این اے کوڈ کرتا ہے آسان الفاظ میں اسکو جین کہہ سکتے ہیں۔ ٹرانسکریشن کے دروان بھی، ڈی این ایک کا ایک سٹرینڈٹیمپلیٹ کی طرح کام کرتا ہے اور کامپلیمنٹری آر این اے کی تالیف کرواتا ہے۔ بیکٹیریا میں ٹرانسکرائبڈ ایم آر این اے فعال ہوتا جو براہِ راست ٹرانسلیٹ ہوجاتاہے۔ یوکیراٹس میں جنین اسپلٹ ہوتے ہیں۔ کوڈنگ سیکوئینس ، ایگزان کے درمیان نان کوڈنگ سیکوئینسس انٹران موجود ہوتے ہیں۔ اسپلائینگ کے ذریعے انڑانز کو ہنا کر ایگزارکپس میں مل جاتے ہے اور فعال آر این ا ے بن جاتا ہے۔ ایم آر این اے میں بیس سیکوئینس ہوتے ہیں جو تثلیف تین کے کا مینیئینس میں پڑھے جاتے ہیں(ثلاثی جنٹیک کو ڈ بناتے ہیں) جو ایک امینوایسڈد کو کوڈ کرتے ہیں۔ جنیٹک کوڈ کا مپلیمنٹیر سیٹی کے اصول پر ٹی آر این اے کے ذریعے دوبارہ پڑھے جاتے ہیں جو ایک ایڈاپٹر سالمے کی طرح کام کرتا ہے۔ پرامنیوایسڈ کے لیے مخصوص ٹی آر این اے ہوتاہے۔ ٹی آر این اے ایک سرے پر مخصوص امنیو ایسڈ سے جڑتا ہے اور پائیڈرو جن بانڈنگ کے ذریعے ایم آر این اے کے کوڈ اور ا پنے انیٹی کوڈ ان کے درمیان پیئرنگ کرتا ہے۔
ٹرانسلیشن (پروٹین کی تالیف) رائبوسوم پر عمل میں آتا ہے ۔  جو ایم آر این اے سے مل کر امنیو ایسڈ کے جڑنے کے لیے مقام مہیا کرتاہے۔ آر آر این اے کی قسموں میں سے ایک پیٹائیڈ بانڈ کے عمل کو کٹیالائز کرتا ہے۔ جو آر این اے خامرے (رائبوز ایم) کی مثال ہے۔ ٹرانسلیشن ایسا عمل ہے جو آر این اے کے اطراف میں ارتقاء پذیر ہوا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حیات آر این اے کے اطراف شروع ہوئی۔ چونکہ ٹرالسکرایشن اور ٹرانسلیشن بہت زیادہ توانائی طلب عوامل ہیں لہٰذا انکا ریگویشن بہت سخت ہونا چاہیے۔ ٹرانسکریشن کا ریگولیشن جین ایکسرس کے لیے بنیادی قدم ہے۔ بیکٹیریا میں، ایک سے زیادہ جین ایک ساتھ جڑے رہتے ہیں اور اکائی کی طرح ریگولیٹ ہوتے ہیں انھیں اوپر اتر کہتے ہیں۔ لیک اوپران، بیکٹیریا میں اوپران کا پہلا نمونہ ہے، جو لیکٹوز کے تحول کے لیے ذمے دار جنین کو کوڈ کرتا ہے۔ بیکٹیریا جہاں نموپا رہا ہے اس میڈیم میں موجود لیکٹوز کی مقدار اوپران کو ریگولیٹ کرتی ہے۔ لہٰذا، اس ریگولیشن کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ خامرے کی تالیف کا ریگویشن اسکا اپنا سبٹریٹ کررہا ہے۔
ہیومن حینوم پروجیکٹ ایک عظیم پروجیکٹ تھا جس کا مقصد انسانی جینوم کے کی ترتیب کو جاننا تھا۔ اس پروجیکٹ نے بہت ساری نئی معلومات کا اضافہ کیا۔ اس پروجیکٹ کی وجہ سے بہت نئے میدان عمل اور نئی راہیں کھل گئیں۔ ڈی این اے فنگر پرنٹنگ وہ ٹکینیک ہے جس کے ذریعے آبادی میں کسی فرد میں ڈی این اے کی سطح پر تغیر کا پتہ لگا جاسکتا ہے۔ یہ ڈی این اے سیکوئینس میں پائی مارفزم کے اصول پر کام کرتی ہے۔ عدالتی سائینس ، جنیٹک بائیوڈائیورسٹی اور ارتقائی حیاتیات کے میدان میں اس کا زبردست استعمال ہے۔

مشق

مندرجہ ذیل میں نائیٹروجنس بیسس اور نیوکلیوسائیڈز کے گروپ بنائیے:ایڈینین، سائنٹی ڈین تھائمین، گوانوسین، یورسیل اور سائیٹوسین۔
اگر دو دھاگی ڈی این اے میں۲۰ فیصدی سائیوسین ہے تو ڈی این اے میں ایڈنین کی فی صد کا حساب لگائیے۔
ڈی این اے کے ایک سٹرنیڈ میں اگر سیکوئینس مندرجہ ذیل ہے:
5'ATG LAT GCA TGC ATG CAT GCA TGC ATGE-3
5'3'کی سمت میں کامپلیمنیٹری سٹرینڈ کا سیکوئینس لکھئے
ٹرانسکریشن اکائی میں کوڈنگ سیکوئینس اگر مندرجہ ذیل طرح سے لکھا جائے
5' ATG CAT GCA TGC ATG CAT GCA TGC ATGC-3'
تو ایم آر این کا سیکوئینس لکھئے۔
ڈی این اے ڈبل ہیلکس کی خصوصیت کی وجہ سے واٹسن اور کرک نے ڈی این اے رپلیکیشن کے سیمی کنزوٹیو ماڈل کی تجویز پیش کی۔ سمجھائیے۔
ٹیمپلیٹ (ڈی این اے یا آر این اے) کی کیمیکل خصوصیات اور اس سے تالیف شدہ نیوکلیک ایسڈز (ڈی این اے یا آر این اے) کی خصوصیت کی بنیاد پر، نیوکلک ایسڈ پالیمیر یز کی اقسام کی فہرست بنائیے۔
یہ ثابت کرتے ہوئے کہ ڈی این اے جینی مادہ ہے ہر شے اور چیز نے اپنے تجربے میں ڈی این اے پروٹینز میں کس طرح تفریق کی؟

مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے۔

(a) ریپی ٹیٹو ڈی این اے اور سٹیلائٹ ڈی این اے
(b) ایم آر این اے اور ٹی آر این اے
(c) ٹیمپلیٹ سٹرینڈ اور کوڈنگ سٹرینڈ
ٹرانسلیشن کے دوران رائبوسوم کے دو ا ہم کاموں کی فہرست بنائیے۔
10۔ ایک میڈیم جس میں ای کولائی نمو پذیر تھا، لیکٹیوز کا اضافہ کیاگیا، جس نے ایک اوپران کو عمل انگیز کردیا۔ پھر میڈیم میں لیکٹوز کے اضافے کے کچھ دیر بعد لیک اوپیران کام کرنا کیوں بند کردیتا ہے؟
11۔ مندرجہ ذیل کے کاموں کے بارے میں (ایک یا دولائین میں) سمجھائیے۔
(a) پروموٹر
(b) ٹی آر این اے
(c) ایگرانز
12۔ ہیومن جینوم پراجیکٹ ایک عظیم پروجیکٹ کیوں کہلاتا ہے؟
13۔ ڈی این اے فنگر پرنٹینگ کیا ہے؟ اس کے استعمال کے بارے میں لکھئے۔
14۔ مندرجہ ذیل کو مختصراً بیان کیجیے۔

(a) ٹرانسکرپشن
(b) پالی مارفزم
(c) ٹرانسلیشن
(d)   بائیو انفارمیٹکس