باب 7
ارتقا(Evolution)
7.1 زندگی کی ابتدا
7.2 جانداروں کی ارتقاء۔ایک تھیوری
7.3 ارتقاء کے لیے کیا شواہد ہیں ؟
7.4 مطابقتی پھیلاؤ کیا ہے؟
7.5 حیاتیاتی ارتقاء
7.6 ارتقاء کا میکنیزم
7.7 ہارڈی ۔ وین برگ کا اصول
7.8 ارتقاء کا ایک مختصر جائزہ
7.9 آدمی کی ابتداء اور ارتقاء
ارتقائی حیاتیات زمین پر جانداروں کی اقسام کی تاریخ کا مطالعہ ہے۔ ارتقاء آخر ہے کیا؟ فلورا اور فائونا میں ہونے والی تبدیلیاں جو زمین پر کروڑوں سال تک واقع ہوئی ہیں،کو سمجھنے کے لیے ہمیں زندگی کی ابتداء کے سیاق و سباق کی سمجھ پیدا کرنا ہوگی یعنی زمین کے ارتقاء ،اس کے بعد جو کبھی بھی ہے وہ تجزیاتی اور خیالی کہانیوں پر مبنی ہے۔ زمین اور زندگی کی ابتداء اور ارتقاء کائنات کے ارتقاء کے پس منظر اس کے علاوہ جانداروں کی ارتقاء یا کرۂ ارض پر حیاتیاتی تنوع کی ارتقاء۔
7.1 زندگی کی ابتداء(Origin of Life)
جب ایک صاف رات میں آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہیں تو ایک طرح سے ہم وقت میں پیچھے کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ستاروں کے فاصلے نوری سالوں میں ناپے جاتے ہیں۔ جو ہم آج دیکھتے ہیں ایک ایسی شے ہے جس سے نکلنے والی روشنی نے کروڑوں کلومیٹر دور سے لاکھوں سال پہلے اپنا سفر شروع کیا تھا اور اب ہماری آنکھوں تک پہنچی ہے۔ البتہ جب ہم چیزوں کو ایکدم اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں تو ہم انھیں فوراً دیکھ لیتے ہیں یعنی موجودہ وقت میں ۔ اس لیے جب ہم ستاروں کو دیکھتے ہیں تو درحقیقت ہم ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں۔
کائنات کی تاریخ میں زندگی کی ابتدا ایک منفرد وقوع خیال کیا جاتا ہے۔ یہ کائنات بہت وسیع ہے۔ اگر مقابلتاً بات کی جائے تو خود زمین ایک ذرّے جیسی ہے۔ کائنات بہت پرانی ہے۔ تقریباً 20 بلیٔن سال پرانی کہکشاؤں کے وسیع وعریض جھنڈ کائنات کی تشکیل کرتے ہیں۔ کہکشائوں میں ستارے، گیس اور دھول کے بادل ہیں۔ کائنات کے ہیئت کا تصور کیجیے تو زمین سچ مچ ایک ذرہ ہے۔ عظیم دھماکہ (Big Bang) تھیوری نے ہمیں کائنات کی ابتدا کے بارے میں بتایا ہے۔ مادّی اصطلاح میں یہ تھیوری ایک ناقابلِ تصّور واحد دھمکا کے کی بات کرتی ہے جس سے کائنات پھیل گئی اور درجہ حرارت نیچے آ گیا ۔ کچھ عرصے بعد ہیلیم اور ہائدروجن بنیں اور گیسوں کے کشش کے تحت منجمد ہو کر آج کی کائنات کی کہکشائیں بنائیں خیال کیا جاتا ہے کہ شمسی نظام میں دودھیا کہکشاں اور زمین تقریباً 4.5 بلیٔن سال پہلے وجود میں آئے تھے۔ اولین زمین پر فضا نہیں تھی۔ پگھلے ہوئے مادہ سے نکلنے والے پانی کے بخارات، میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ایمونیا سے سطح ڈھکی ہوئی تھی۔ سورج سے نکلنے والی الٹراوائلٹ ریز نے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں منقسم کر دیا تھا اور ہلکی H2 نکالی گئی تھی آکسیجن نے ایمونیا اور میتھین سے مل کر پانی ، Co2 اور دیگر چیزیں بنائیں۔ اوزون کی پرت تیار ہو گئی۔ جیسے جیسے وہ ٹھنڈی ہوئی پانی کے بخارات بارش بن کر گرنے لگے جنھوںنے تمام گڈھوں کو بھر دیا اور سمندر بنا دیے۔ زمین بننے کے 500 ملیٔن سال بعد زندگی ظہور میں آئی یعنی تقریباً چار بلیٔن سال پہلے۔
کیا زندگی باہری خلاسے آئی ہے؟ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ باہر سے آئی ہے۔ اولین یونانی مفکروں کا خیال تھا کہ زندگی کی اکائیاں جو اسپورس (spores)کہلاتے تھے مختلف سیاروں بشمول زمین پر منتقل کیے گیے تھے۔ بہت سے ماہر ین فلکیات کے نزدیک نظریٔہ چرتومیت (Panspermia) اب بھی ایک پسندیدہ خیال ہے۔ ایک لمبے عرصے تک یہ بھی خیال کیا جاتا تھا کہ زندگی بھوسے اور مٹی وغیرہ جیسے مادوں کے گلنے سڑنے کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ یہ از خود پیدائش (spontaneous generation) کا نظریہ تھا۔ لوئس پاسچر نے اپنے محتاط تجربات سے بتایا کہ زندگی صرف پہلے سے موجود زندگی ہی سے وجود میں آئی ہے۔ اس نے دکھایا کہ چراشیم پاک کیے گیے فلاسکوں میں مردہ ایسٹ سے زندگی پیدا نہیں ہوئی جبکہ دوسرے ہوا کے لیے کھُلے ہوئے فلاسک میں مردہ ایسٹ سے نئے زندہ عضویے بن گیے۔ ازخود پیدائش کا نظریہ ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیا گیا۔ البتہ اس نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ زمین پر زندگی کی پہلی شکل کیسے بنی تھی۔
روس کے اوپیرن اور انگلینڈ کے ہالڈین نے تجویز کیا کہ ہو سکتا ہے زندگی کی پہلی شکل پہلے سے موجود بے جان نامیاتی سالموں (یعنی RNA، پروٹین وغیرہ ) سے آئی ہو اور یہ کہ زندگی کی تشکیل سے پہلے کیمیائی ارتقاء واقع ہوا ہو یعنی غیر نامیاتی اجزا سے متنوع نامیاتی سالموں کی تشکیل ۔ زمین پر حالات کچھ یوں تھے۔ درجہ حرارت بہت زیادہ تھا، آتش فشانی طوفان تھے اور رڈیوسنگ فضا میں NH3, CH4وغیرہ موجود تھیں۔ 1953 میں ایک امریکن سائنسدان ایس۔ایل۔مِلر نے تجربہ گاہ میں اس جیسے حالات پیدا کیے (شکل 7.1) اُس نے ایک بند فلاسک میں برقی ڈسچارج پیدا کیا جس میں 8000Cº پر CH3، H2،NH4اور پانی کے بخارات موجود تھے۔ اس نے ایمینو ایسڈس کی تشکیل کا مشاہدہ کیا۔ ایسے ہی تجربوں میں دوسروں نے شگرس، نایٔٹروجن بیسسز، پگمینٹ اور فیٹس کی تشکیل کا مشاہدہ کیا۔ شہاب کے اجزا کا تجربہ کرنے سے بھی ویسے ہی مرکبات کا پتا چلا جو ظاہر کرتے ہیں کہ خلا میں دوسری جگہوں پر بھی ایسے عمل واقع ہو رہے ہیں۔ اس محدود ثبوت کے ساتھ، کہانی کا پہلا حصہ یعنی کیمیائی ارتقاء کم و بیش منظور کر لیا گیا۔
ہم نہیں جانتے کہ خود اپنی نقل تیار کرنے والا (Self replicating)زندگی کا پہلا میٹابولی کیپسول (metabolic capsule) کیسے بنا؟ زندگی کی پہلی غیر سیلیولر شکلیں 3 بلین سال پہلے وجود میں آئی ہوں گی۔ وہ غیر معمولی رہے ہوں گے (آراین اے، پروٹین، پولی سیکرائیڈس وغیرہ) ان کیپسولس نے غالباً اپنے سالموں کی افزائش کر لی۔ زندگی کی پہلی سیلیولر شکل 2000 ملین سال پہلے تک وجود پذیر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ بایو جینیس (Biogenesis) کا وہ تصور حس کی بنیاد پر یہ کہا جاتاہے کہ زندگی کی پہلی شکل کیمیائی سالموں کے ارتقاء کے ساتھ ایک واحد خلیہ کی صورت میں کسی آبی ماحول میں وقوع پذیرہوا ہوگا۔ تو اکثریت نے تسلیم کرلیا ہے۔ البتہ ایک بار بننے کے بعد زندگی کی پہلی سیلیولر شکلیں آج کے پیچیدہ حیاتیاتی ننوع میں کیسے ارتقاء پذیر ہو سکیں مسحورکن کہانی ہے جن پر ذیل میں گفتگو کی جائے گی۔
ابلتا پانی؍ ویکوئم پمپ کو؍ الیکٹروڈس؍ اسپارک ڈسچارج؍ گیس؍ پانی باہر؍ کنڈینسر؍ پانی اندر؍ پانی کے قطرے؍ پانی سمیت نامیاتی مرکبات؍ ٹریپ میں رقیق پانی
شکل 7.1 مِلر کے تجربے کی شکلی پیش کش
7.2 جانداروں کا ارتقاء ۔ ایک نظریہ
(Evolution of Life Forms – A Theory)
روائتی مذہبی ادب ہمیں خصوصی تخلیق (special creation) کے نظریے کے بارے میں بتایا ہے۔ اس نظریے کے تین مغہوم ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ تمام عضویے (انواع یا ٹائپس) جنھیں آج ہم دیکھتے ہیں ایسے ہی پیدا کیے گیے تھے۔ دوسرے یہ کہ تنوع تخلیق کے وقت سے ایسی ہی ہے اور مستقبل میں بھی ایسی ہی رہے گی۔ تیسرا مفہوم یہ کہ زمین تقریباً 4000 سال پرانی ہے ۔ انیسوی صدی کے دوران ان تمام خیالات کو سختی سے چیلنج کیا گیا۔ چارلس ڈارون نے ان مشاہدات کی بنیاد پر جو انھوں نے ایک جہاز میں سمندری سفر کے دوران کیے تھے جس کا نام ایچ۔ایم۔ایس۔یبگل تھا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا کہ موجود جاندار اقسام میں مختلف درجوں کی شباہتیں نہ حرف آپس میں ہوتی ہیں بلکہ ان اقسام کے ساتھ بھی ہوتی ہیں جو کئی ملیٔن سال پہلے رہتی تھیں۔ بہت سی جانداروں کی ایسی اقسام اب موجود نہیں ہیں جانداروں کی مختلف اقسام گزرتے سالوں کے ساتھ ناپید ہوئی ہیں ٹھیک ویسے ہی جیسے نئی اقسام زمین کی تاریخ کے مختلف زمانوں میں وجود میں آئی ہیں۔ جانداروں کی اقسام بتدریج ارتقاء ہوا ہے۔ کوئی بھی آبادی اپنی خصوصیات میں تنوع پیدا کرتی ہے۔ وہ خصوصیات جو کسی کو قدرتی حالات (آب و ہوا، غذا، طبیعی عناصروغیرہ) میں بہتر طور پر زندہ رہنے کا اہل بنائیں اُن کے مقابلے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہیں جنھیں ایسے قدرتی حالات میں زندہ رہنے میں قدرے دشواری ہو۔ دوسرا لفظ ان افراد یا آبادی کی موزونیت (fitness) ہے۔ ڈارون کے بموجب موزونیت بالاخر حرف تولیدی موزونیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پس وہ جو ایک ماحول کی نسبت سے زیادہ موزوں ہوتے ہیں دوسروں کے مقابلے زیادہ نسل چھوڑتے ہیں۔ اس لیے یہ زیادہ زندہ رہیں گے اور قدرت کے ذریعے منتخب کر لیے جائیں گے۔ اس نے اِسے قدرتی اتخاب (natural selection) کہا اور اسے ارتقاء کا ایک میکینزم تصور کیا۔ آیے ہم یہ بھی یاد رکھیں کہ ایک ماہر فطرت، الفرڈ ویلسس جس نے ملایا آر کی پلیگو میں کام کیا تھا اس نے بھی تقریباً اسی وقت میں اس سے ملتے جلتے نتائیج اجذ کیے۔ اسی دوران بظاہر نئے عضویوں کی پہچان ہوئی۔ زندگی کی تمام موجودہ اقسام میں شباہتیں موجود ہیں اور ان کے اجداد ایک ہیں۔ البتہ یہ اجداد زمین کی تاریخ میں مختلف اوقات پر موجود تھے( عہد، زمانہ، دور : epochs, periods, eras) زمین کی ارضیاتی تاریخ زمین کی حیاتیاتی تاریخ کے ساتھ قریبی تعلق رکھتی ہے ۔ ایک عام قابل قبول نتیجہ یہ ہے کہ زمین بہت پرانی ہے نہ صرف ہزاروں سال جیسا پہلے سوچا جاتا تھا بلکہ کروڑوں سال پرانی۔
7.3 ارتقاء کے کیا ثبوت ہیں؟
(?What are the Evidences for Evolution)
یہ ثبوت کہ زمین پر جانداروں کی اقسام کا ارتقاء درحقیقت واقع ہوا ہے، بہت سمتوں سے آیا ہے۔ رکازات (Fossils) زندگی کی اقسام کے باقیات کے سخت حصے ہیں جو چٹانوں میں پائے گئے ہیں۔ چٹانیں رسوب (sediments)بناتی ہیں اور زمینی پرت کی ایک عرضی تراش زمین کی لمبی تاریخ کے دوران رسوبوں کی ایک کے اوپر ایک ترتیب کو دکھاتی ہے۔ مختلف عمر کے چٹانی رسوبوں میں زندگی کی مختلف اقسام کے رکازات ہوتے ہیں جو غالباً مخصوص رسوب کی تشکیل کے دوران فوت ہو گیے تھے۔ ان میں سے کچھ جدید عضویوں کی مانند دکھائی دیتے ہیں (شکل 7.2)۔ وہ ناپید عضویوں کی نمائیذگی کرتے ہیں (جیسے ڈائنوسورس) مختلف رسوبی پرتوں میں رکازات کا مطالعہ اس ارضیاتی زمانے کے ظاہر کرتا ہے جس میں وہ رہے تھے۔ مطالعے نے دکھایا کہ وقت کے ساتھ زندگی کی اقسام میں فرق رہا ہے اور زمینی تاریخ میں مختلف وقتوں پر زندگی کی نئی اقسام پیدا ہوئی ہیں۔ یہ سب پیلی اونٹوجیکل (paleontological) ثبوت کہلاتا ہے۔ کیا آپ کوریڈیو ایکٹیوڈ یٹنگ (radioactive-dating) کا طریقہ اور اس طریقے کے پیچھے کارفرما اصول یاد ہیں۔
اسٹیگوسورس؍ ٹرائی سیراٹوپس؍ ٹائرینوسورس؍ بریکیوسورس؍ آرکی اوپیٹریکس؍ کروکوڈیلئن؍ ٹیرانوڈن
شکل 7.2 ڈایٔنوسورس کا ایک فیملی ٹرِی اور اُن کے آج کے زندہ جوڑی دار عضویے جیسے مگرمچھ اور پرندے۔
ارنسٹ ہیکل (Ernst Heckel) نے ارتقا کے موضوع پر جنینیاتی (Embryological) ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ اس کی بنیاد تمام فقرہ دار جانوروں میں مشترک جنینیاتی مرحلے کے دوران کچھ ایسی خصوصیات کا مشاہدہ تھا جو بالغ افراد میں موجود نہیں ہوتیں۔ مثلاً انسانوں سمیت تمام فقرے دار جانوروں کے جنین میں سر کے پیچھے Vestigial gill slit کی ایک قطار ہوتی ہے لیکن یہ عضو صرف مچھلیوں میں فعال یا باعمل ہوتا ہے اور کسی بھی دیگر بالغ فرد میں نہیں پایا جاتا۔ بہر حال کارل ارنسٹ وان ووئر (Karl Ernst Von Boer) کے ذریعے کی گئی تحقیقات کی بنیاد پر اس نظریے کو نامنظور کردیا گیا۔ اس نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جنین کبھی بھی دیگر جانوروں کے بالغ مراحل سے نہیں گذرتے۔
تقابلی اناٹومی اور مورفولوجی سے آج کے اور سالوں پہلے بننے والے عضولیوں کے درمیان مماثلث اورفرق دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی مماثلتوں کی تشریح یہ سمجھنے کے لیے کی جا سکتی ہے کہ آباد اجداد مشترک تھے یا نہیں۔ مثال کے طور پر اگلے جوارح کی ہڈیوں کی طرز میں جو مماثلتیں ہیں وہ وھیل، چمگادڑوں چیتا اور انسان (تمام پستانیوں) میں ، (شکل 7.3b) ۔ حالانکہ ان جانوروں میں یہ اگلے جوارح مختلف کام انجام رہتے ہیں، ان کی اینوٹومیکل ساخت ایک جیسی ہے۔ سب کے اگلے جوارحوں میں ہیومیرس، ریڈیٔس، النا، کارپلس، میٹاکارپس اورفیلینجز ہوتے ہیں۔ پس ان جانوروں میں ایک ہی ساخت مختلف ضرورتوں سے مطابقت رکھنے کی وجہ سے مختلف رجوں پر نمو پا گئی تھیں۔ یہ ڈایٔٹورجینٹ ایوولیشن (divergent evolution) ہے اور یہ ساختیں ہومولوگس (homologous) ہیں۔
(a) کانٹے؍ بوکن ویلیا؍ کوکربیٹا
(b) آدمی؍ چیتا؍ وھیل؍ چمگادڑ
شکل 7.3 (a) پودوں اور (b) جانوروں میں ہومولوگس اعضاء کی مثالیں
ہومولوجی (homology) مشترک آباؤ اجداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ورٹی بریٹس کے دل اور دماغ دوسری مثالیں ہیں۔ پودوں میں بھی Bougainvillea اور Cucurbita کے کانٹے اور بیل ڈورے (tendrils) ہومولوجی کو ظاہر کرتے ہیں (شکل 7.3 a) ۔ ہومولوجی اختلافی ارتقاء (divergent evolution) پر مینی ہے جبکہ اینولوجی (analogy) ایک ایسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اِس کے بالکل الٹ ہے۔ تتلی پرندوں کے کے پَر ایک جیسے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک جیسے کام کرتے ہیں مگر ایک جیسی ساختیں نہیں ہیں۔ پس اینیولوگس (analogous)ساختیں کنورجینٹ ایوولیوشن (convergent evolution) کا نتیجہ ہیں۔ مختلف ساختں جو ایک ہی کام کے لیے ارتقاء پائیں اور پس مماثلت رکھیں۔ اینیلوجی کی دوسری مثالیں اوکٹوپس اور پستانیوں کی آنکھ یا پینگوئن اور ڈالفنس کے فلیپرس (flippers) ہیں۔ یہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک جیسا محل وقوع ہے۔ جس کا نتیجہ عضویوں کے مختلف گروہوں میں ایک ہی کام کے لیے ایک جیسی توافقی خوبیوں کا انتخاب (Selectionہوتا ۔ شکرقندی (ترمیم شدہ جر) اور آلو ( ترمیم شدہ تنا) اینیلوجی کی دورسی مثال ہے۔
اسی دلیل کے تحت عضویوں میں پروٹینس اور جینس کی یکسانیت، جو کسی کام کو مختلف (divergent) عضویوں میں انجام دیتی ہیں، مشترک آباو اجداد کا پتا دیتی ہیں۔ یہ بایٔوکیمیکل مماثلتیں اسی طرح ایک مشترک حسب نسب کی طرف اشارہ کرتی ہیں جیسے مختلف عضویوں میں ساختی یکسا نیت۔
آدمی نے زراعت، باغبانی کھیل یا محفاظت کے لیے منتخب پودوں اور جانوروں کی افزائش نسل کی ہے۔ بہت سے جنگلی جانوروں اور فصلوں کو آدمی نے پالا اور بویا ہے۔ رسیع پیمانے پر اس نسل کاری کے پروگرام نے ایسی نسلیں پیدا کی ہیں جو دوسری نسلوں سے مختلف ہیں (جیسے کتے) مگر اب بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر سینکڑوں سالوں میں انسان نئی نسلیں پیدا کر سکتا ہے تو قدرت لاکھوںسال بعد یہی کیوں نہیں کر سکتی؟
قدرتی انتخاب کے ذریعہ ارتقاء کی تائید کرنے والا دوسرا دلچسپ مشاہدہ انگلینڈ میں ہوا۔ پروانوں کا ایک ذخیرہ جو 1850 میں اکٹھا کیا گیا یعنی ضعقی نظام قائم ہونے سے پہلے اس میں مشاہدہ کیا گیا کہ درختوں پر سیاہی مائل پروں والے یعنی میلانائزڈ پروانوں (melanised moths) کے مقابلے سفید پَروں والے پروانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ دوسرا ذخیرہ جو صنعتی نظام کے قائم ہونے کے بعد یعنی 1920 میں اسی علاقے سے اکٹھا کیا گیا ان میں سیاہی مائل پروں والے پروانوں کی تعداد زیادہ تھی یعنی تناسب الٹا ہو گیا تھا۔
اس مشاہدے کے سلسلے میں یہ تشریح کی گئی کہ شکارخورمخالف پس منظر میں ایک پروانے کو پہچان لیتے ہیں۔ صنعتی نظام قائم ہونے کے طویل عرصہ بعددرختوں کے تنے صنعتی دھویں اور کالک کی وجہ سے کالے ہو گئے۔ اس صورت حال میں سفید پروں والے پروانے شکارخوروں کی وجہ سے زندہ نہ رہ سکے لیکن سرمئی پروں والے یامیلانائزڈ پروانے زندہ رہے۔ صنفی نظام قائم ہونے سے پہلے کائی کی دبیز تہہ نے جو تقریباً سفید تھی درختوں کو ڈھک دیا۔ اس پس نظر میں سفید پروں والے پروانے زندہ رہے لیکن گہرے رنگ والے پروانے شکارخوروں کی پکڑمیں آگئے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کائی صنعتی آلودہ کی نشان دہی کرنے والے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ وہ ان علاقوں میں نہیں اُگے گی جو کشیف ہوں۔ پس جو پروانے اپنی ہیت تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے تھے یعنی پس منظر میں چھپ سکتے تھے، زندہ رہے (شکل 7.4)۔ اس خیال کی تائید اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ ان علاقوں میں جہاں صنعتی نظام واقع نہیں ہوا تھا جیسے گاؤں کے علاقے، وہاں میلانائزڈ پروانوں کی تعداد کم تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک ملی جلی آبادی میں وہ جو اچھی طرح مطابقت پیدا کر سکتے ہیں، زندہ رہتے اور اپنی آبادی کے تناسب کو بڑھاتے ہیں۔ یاد رکھیے کوئی بھی ترمیم شدہ ذی حیات (variant) مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
شکل 7.4 شکل سفید پروالے پتنگے اور گہرے رنگ والے پتنگوں (میلانائزڈ) کو درخت کے تنوں پر دکھا رہی ہے۔ (a) غیر آلودہ جگہ (b) آلودہ جگہ
اسی طرح زیادتی کے ساتھ ہربی سایٔڈس (herbicides)، انسیکٹی سائیڈس (insecticides) کے استعمال کا نتیجہ مدافعتی بہت کم وقت کے اندر مدافقی ویرائیٹیز کے ارتقا کی شکل میں نکلتا ہے۔ یہی بات ان مائیکروبس پر بھی صادق آتی ہے جن کے خلاف ہم اینٹی بائیوٹکس یا ڈرگس استعمال کرتے ہیں جیسے پس مدافعتی عضویے/ سیلس صدیوں میں نہیں بلکہ مہینوں اور سالوں میں ظہور پذیر ہو جاتے ہیں۔ یہ انسانی ہاتھوں ارتقاء کی مثالیں ہیں۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ عقیدے کے معنی میں ارتقاء ایک یقینی عمل نہیں ہے۔ یہ ایک امکانی عمل ہے جس کا انحصار فطرت میں اتفاقی وقوعات اور عضویوں میں اتفاقی میوٹیشن پر ہوتا ہے۔
7.4 تطبیقی ریڈی ایشن کیا ہے؟ (what is adaptive radiation؟)
ڈارون اپنے سفر کے دوران گیلاپیگوس آئس لینڈ گیا۔ وہاں اس نے مخلوقات کے حیران کن تنوع کا مشاہدہ کیا۔ خصوصی دلچسپی کے چھوٹے کالے پرندوں نے اسے حیران کیا جو بعد میں ڈارونس فِنچز (Darwin's Finches) کہلائے۔ اس نے اندازہ کیا کہ ایک ہی جزیرے میں بہت سی ویرائٹیز کے فئنچیز تھے۔ اس نے قیاس کیا کہ تمام ویرائیسٹز اسی جزیرے پر ارتقاء پذیر ہوئی تھیں۔ بنیادی طور پر بیج کھانے والی خوبیوں سے ترمیم شدہ چونچیں وجود میں آئیں جنھوں نے انھیں سبزی خور فنچز سے کیٹراخور فنچز بننے کے قابل بنایا (شکل 7.5)۔ ایک دیے ہوئے جغرافیائی علاقے میں مختلف انواع کا ارتقاء کے یہ عمل جو ایک جگہ سے شروع ہو کر دوسرے جغرافیائی کی علاقوں (محل ووقوع) تک شعاعی انداز سے جاتا ہے اسے ایڈیپٹیو ریڈی ایشن (adaptive radiation)کہتے ہیں۔ ڈارون کی فنچز اسِ مظہر کی بہترین متالوں میں سے ایک ہے۔ آسٹریلٔین مارسوپی ایلس (marsupials) دوسری مثال ہے۔
شکل 7.5 فنچز کی چونچوں کی اقسام جو ڈارون نے گلاپاگومس جریزے میں پائیں۔
متعدد مارسوپی الس جن میں ہر ایک دوسرے سے مختلف تھے (شکل 7.6) ایک ہی موروثی شاخ (ancestral stock) سے ارتقاء پذیر ہوئے لیکن سب کے سب آسٹریلین برّاعظم کے اندر تھے۔ جب لگتا ہے کہ ایک سے زیادہ اڈیپٹیو ریڈی ایشن ایک الگ تھلگ جغرافیائی کی علاقے میں (مختلف محل ووقوع کی نمائندگی کرتے ہوئے) واقع ہوئے ہیں تو اسے کنورجینٹ ایوولیوشن (convergent evolution) کہتے ہیں۔ آسٹریلیا میں پلیزینٹل پستانیے بھی اڈیپٹیو ریڈی ایشن کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ایسی ویرائیٹیز میں ارتقاء پذیر ہو کے ہیں کہ ہر ایک متقابلی مارسوپی ایل کی طرح لگتی ہے (جیسے پلینٹائی بھیڑیا اور تسمانیٔن ولف ۔ مارسوپی ایل)۔ (شکل 7.7)
آسٹریلیا
مارسوپی ایل ریڈی ایشن
کنگارو؍ مارسو پی ایک چوہا؍ دھاری دار چیونٹی خور؍ ٹائگر بلی؍ تسما بھیڑیا؍ شکر گلائیڈر؍ مارسوپی ایل مول؍ کوآلا؍ بینڈی کوٹ؍ وومبیٹ
شکل 7.6 آسٹریلیا کے مارسوپی ایلس کا اڈیپٹیو ریڈی ایشن
7.5 حیاتیاتی ارتقاء(Biological Evolution)
حقیقی معنوں میں قدرتی انتخاب کے ذریعہ ارتقاء اس وقت شروع ہوا ہوگا جب زمین پر زندگی کی سیلیولر شکلیں تحولی اہلیت میں فرقوں کے ساتھ وجود میں آئی ہوں گی۔
ارتقاء کے بارے میں ڈارون کے نظریے کا نچوڑ قدرتی انتخاب ہے۔ نئی اقسام کے ظہور کی شرح کو دور حیات (life cycle) یا زندگی کی مدت (life span) سے منسلک کیا جاتا ہے۔ مائکروبس جو بہت تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں ان میں گھنٹوں کے اندر افزائش کر کے لاکھوں افراد پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ایک مِڈیم میں نشوونما پانے والی بیکٹریا کی ایک کولونی نے خوراک کے ایک جُز کو استعمال کرنے کی اہلیت کے معنوں میں ایک ترمیم شدہ بیکٹیریا پیدا کر لیا۔ میڈیم کی ترکیب میں ایک تبدیلی آبادی کے صرف اس حصے کی افزائش کر ے گی (سمجھیے B کی) جو نئے حالات میں زندہ رہ سکتا ہے۔ اسی اثنا میں آبادی کا یہ ترمیم شدہ حصہ دوسروں پر سبقت لے جاتا ہے اور ایک نئی نوع کی مانند سامنے آتا ہے۔ یہ چنددنوں ہی میں ہو جائے گا۔ اسی بات کو کسی مچھلی یا الّو میں ہونے کے لیے لاکھوں سال لگ جائیں گے کیونکہ ان جانوروں کی زندگی کی مدت سالوں میں ہے۔ یہاں ہم کہیں گے کہ نئے حالات کے تحت B کی موزونیت A کے مقابلے بہتر ہے۔ قدرت موزونیت کے لیے انتخاب کرتی ہے۔ یہ بات ضرور یاد رکھنے کی ہے کہ جو چیز موزوینت کہلاتی ہے اس کا انحصار ایسی خصوصیات پر ہوتا ہے جوان کی توریث ہوتی ہے۔ پس منتخب ہونے اور ارتقاء پانے کے لیے کوئی جنسی بنیاد ہونا ضروری ہے۔ اسی بات کو دوسری طرح سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ کچھ عـضویے ایک ماحول میں زندہ کے لیے زیادہ بہتر تطابق رکھتے ہیں جبکہ دوسروں کے لیے وہ ماحول مخالف ہے۔ تطابقی صلاحیت کی توریث ہوتی ہے۔ اس کی ایک جینسی بنیاد ہوتی ہے موزونیت تطابق پیدا کرنے کی صلاحیت کا اور قدرت کے ذریعے منتخب ہونے کا آخری نتیجہ ہوتی ہے۔
ڈارون کے ارتقاء کے نظریے کے دو کلیدی تصورات Branching descent اور Natural selection ہیں (شکل 7.7 اور 7.8)
| آسٹریلین مارسو پی ایلس | پلیسنٹائی پستا |
| مارسو پی ایل مول | مول |
| نمبیٹ (چیوٹی خور) | چیونٹی خور |
| مارسو پی ایل چوہا | چوہا |
| داغ دار کس کس | لیمر |
| اڑن فیلنجز | اڑن گلہری |
| تسمانیائی ٹائیگر بلی | بوب کیٹ |
| تسمانیائی بھیڑیا | بھیڑیا |
شکل 7.7 آسٹریلیٔن مارسوپی ایلس اور پلیسنٹائی پستانیوں کا کنور جینٹ ارتقاء دکھاتی ہوئی تصویر
ڈارون سے بھی پہلے ایک فرانسیسی ماہر فطرت لیمارک نے کہا تھا کہ جانداروں کا ارتقاء ہوا ہے لیکن اسے اعضاء کے استعمال اور غیر استعمال سے تقویت ملی ہے۔ انھوں نے زراف کی مثال پیش کی جس نے اونچے درختوں کے پتے کھانے کی کوشش میں اپنی گردن کو لمبا کرنے سے تطابق پیدا کر لیا ۔ لمبی گردن حاصل شدہ خصوصیت کو آنے والی نسلوں کو دے دیا تو سالوں بعد زرافوں نے آہستہ لمبی گردنوں کو حاصل کر لیا۔ اب اس قیاس آرائی پر کوئی بھی یقین نہیں کرتا۔
کیا ارتقاء ایک عمل ہے یا ایک عمل کا نتیجہ؟ جس دنیا کو ہم دیکھتے ہیں خواہ بے جان یا جاندارصرف ارتقاء کی کامیاب کہانیاں ہیں۔ جب ہم اس دنیا کی کہانی بیان کرتے ہیں تو ارتقاء کو بطور ایک عمل کے بیان کرتے ہیں۔
ففیوٹائپ کے ساتھ افراد کی تعداد
قدرتی انتخاب سے ففیوٹائپس کو بڑھاوا ملتا ہے؍ اوسط سائز کے افراد کو بڑھاوا ملتا ہے
پیک (peak) اونچی اور تنگ تر ہو جاتی ہے
پیک ایک سمت میں ہٹتی ہے
دو پیک بنتی ہیں
شکل 7.8 مختلف خصوصیت پر قدرتی انتخاب کے عمل درآمد کی شکلی پیشکش: (a) استحکام (stabilising) (b) سمتی (directional) اور (c) انتشاری (Disruptive)۔
اس کے برخلاف جب ہم زمین پر زندگی کی کہانی کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہم ارتقاء کو ایک عمل کا نتیجہ بتاتے ہوئے قدرتی انتخاب کہتے ہیں۔ یہ ہم پر آپ بھی بہت واضح نہیں ہے کہ ارتقاء اور قدرتی انتخاب کو عمل سمجھا جائے یا پھر غیر معلوم عملوں کا آخری نتیجہ۔
اس بات کا امکان ہے کہ آبادیوں پر تھومس لتھس کے کام نے ڈارون کو متاثر کیا ہو۔ قدرتی انتخاب کا انحصار بعض مشاہدات پر ہوتا ہے جو حقیقی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر قدرتی وسائل محدود ہیں، آبادیاں سوائے موسمی اتار چڑھاؤ کے مستحکم ہوتی ہیں، آبادی کے افراد کی خصوصیات میں فرق ہوتا ہے (در حقیقت کوئی بھی دو فرد ایک جیسے نہیں ہوتے) چاہے وہ اوپر سے ایک جیسے ہوں، زیادہ تر ترمیمات توریث ہوتی ہیں وغیرہ ۔ یہ حقیقت ہے کہ بظاہر آبادی کا سائزExpenentially بڑھے گا، اگر آبادی کا ہرفرد اپنی پوری صلاحیت کے مطابق تولید کر ے (اس کو بڑھتی ہوئی بیکٹریا کی آبادی میں دیکھی جاسکتی ہے) اور یہ حقیقت ہے کہ اصل میں آبادی کے سائز محدود ہوتے ہیں، مطلب ہے کہ وسائل کے لیے مقابلہ آرائی ہوئی ہے چند قربان ہوتے ہیں اور چند زندہ رہتے اور بڑ ھتے ہیں۔ ڈارون کی انوکھی اور درخشاں بصیرت یہ تھی : اس نے پرزور انداز میں کہا کہ تغیّرات (variation) جو کہ توریثی ہوتے ہیں اور جو بعض کے لیے وسائل کے استعمال کو بہتر بنا دبتے ہیں، (محل وقوع سے بہتر تطابق ) وہ صرف ان ہی کو تولید کرنے اور زیادہ نسل چھوڑنے کے قابل بنائیں گے۔ پس کچھ مدت کے لیے بہت سی نسلوں کے دوران زندہ رہنے والے زیادہ تناسلی چھوڑیں گے اور آبادی کی خصوصیات میں تبدیلی واقع ہوگی اور پس نئی اقسام ظہور پذیر ہوں گی۔
7.6 ارتقاء کا میکنیزم(Mechanism of Evolution)
اس تغیّر کی ابتداء کیا ہے اور انواع بننے کا عمل کیسا ہوتا ہے؟ حالانکہ مینڈل نے فینوٹائپ (phenotype : شکلی نوع) پر اثر انداز ہونے والے توارثی عناصر کی بات کی تھی ڈارون نے یا تو ان مشاہدات نہیں پڑھا پھر خاموشی اختیار کی بیسوی صدی کے اوائل میں ہیوگوڈی وریز نے ایوننگ پرم روز پر اپنے کام کی بنیاد پر میوٹیشنس (mutations) کا خیال پیش کیا۔ یعنی ایک آبادی میں اچانک پیدا ہونے والے بڑے فرق۔ اس کا خیال تھا کہ یہ میوٹیشن ہی ہے جو ارتقاء کا سبب ہے اور معمولی تغیّرات نہیں جن کے بارے میں ڈارون نے بات کی تھی ۔ میوٹیشنس بے ترتیب اور غیر سمتی ہوتی ہیں جبکہ ڈارون کے تغیرات معمولی اور ایک سمت رکھنے والے ڈارون کے لیے ارتقاء بتدریج تھا جبکہ ڈی وریز کا خیال تھا کہ انواع بننے (specification) کا سبب میوٹیشن تھا اور پس اسے سالٹیشن (saltation) (ایک ہی قدم میںہونے والی بڑی تبدیلی) کہا۔ بعد میں آبادی کی جینیات کے مطالعے سے کچھ مزید وضاحتیں ہوئیں۔
7.7 ہارڈی وین برگ کا اصول (Hardy-Weinberg Principle)
کسی دی ہوئی آبادی میں کوئی شخص ایک جین کے ایلیلس (alleles) یا ایک لوکس (locus) کے واقع ہونے کا تواتر (frequency) معلوم کر سکتا ہے۔ یہ تواتر نہ صرف ایک جیسا رہتا ہے بلکہ نسلوں تک ایسا ہی رہتا ہے۔ ہارڈی وین برگ نے اس اصول کو الجبرا کی مساوات کے ساتھ بیان کیا ۔
یہ اصول کہتا ہے کہ ایک آبادی میں ایلیل تواتر مستحکم ہوتے ہیں اور نسل درنسل ایک جیسے رہتے ہیں۔ جین پول (ایک آبادی میں کل جینس اور ان کے ایلیلس) ایک جیسا رہتا ہے۔ اسے جینی توازن (genetic equilibrium) کہتے ہیں۔ تمام ایلیلک تواتروں کا کل میزان 1 ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر الگ الگ تواتروں کو p، q نام دیا جا سکتا ہے۔ ایک ڈیپلائڈ میں p، اور q ایلیل A اور ایلیل a تواتروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک آبادی میں AA افراد کا تو اتر محض P2 ہوتا ہے۔اسے ایک دوسرے طریقے سے بیان کیا جاتا ہے یعنی یہ امکان کہ ایک ڈپلائیڈ فرد کے دونوں کروموسومس پر ایک ایلیل A ، p تواتر کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے محض امکانات پروڈکٹ یعنی P2ہوتی ہے۔ اسی طرح aa کے لیے q2 اور Aa کے لیے 2pq۔ پس p2+2pq+q2=1 ۔ یہ (p+q)2کی ایک بائی نومیٔل ایکسپینشن(binomial expansion) ہے۔ جب تواتر کی پیمائش کی جاتی ہے تو وہ متوقع ویلیوزسے (values) مختلف ہوتف ہے اور فرق (رخ) ارتقائی تبدیلی کی حد کو ظاہر کرتا ہے۔ جینی توازن میں انتشار یا ہارڈی وین برگ کا توازن یعنی ایک آبادی میں ایلیلس کے تواتر کی تبدیلی کو ارتقاء کے ماحاصل کے طور پرسمجھا جائے گا۔
پانچ عناصر ہارڈی وائن برگ کے توازن پر اثر انداز ہونے والے جانے جاتے ہیں۔ یہ ہیں جین مایٔگریشن یا جین فلو(gene migration or gene flow)، جینیٹک ڈرِفٹ (genetic drift)، میوٹیشن، جینیٹک ری کمبی نیشن(genetic recombination) اور قدرتی انتخاب۔ جب کسی آبادی کے ایک حصے کی دوسری آبادی میں ہجرت واقع ہوتی ہے تو جین تواتر اصل کے ساتھ ہی نئی آبادی میں بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ نئے جینس/ایلیلس کا نئی آبادی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ پرانی آبادی سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ جین مائیگر یشن کئی بار واقع ہوتو ایک جین فلو کہتے ہیں۔ اگر یہی تبدیلی اتفاق سے واقع ہو تو اسے جینیٹک ڈرفٹ کہا جائے گا۔ کبھی کبھی آبادی کے نئے نمونے میں ایلیل کے تواتر کی تبدیلی اس قدر مختلف ہوتی ہے کہ وہ ایک نئی نوع بن جاتے ہیں۔ ابتدائی ڈِرفٹ کی ہوئی آبادی فاؤنڈرس (founders) بن جاتی ہے اور اثر کو فاؤنڈ رایفیکٹ (founder effect) کہا جاتا ہے۔
مائیکر وبیٔل تجربات دکھاتے ہیں کہ جب پہلے سے موجود مفید میوٹیشنس کا انتخاب کیا جائے تو نئے فینوٹایٔپس سامنے آئیںگے ۔ پھرکئی نسلوں بعد speciation لائق تولید ہوتے ہیں اس کا نتیجہ ہوگا۔ قدرتی انتخاب ایک عمل ہے جس میں توارثی تغیرات کے ذریعہ بہتر طور پر زندہ رہنے کی اہلیت دینے والے لائق تولید ہوتے ہیں بڑی تعداد میں نسل چھوڑتے ہیں۔ ایک تنقیدی تجزیہ ہمیں یہ تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیمیٹوجینیسِس کے دوران میوٹیشن کی وجہ سے ہونے والے تغیرات یا ری کمبی نشین کی وجہ سے ہونے والے تغیرات یا جین فلو کی وجہ سے یا جینیٹک ڈرفٹ مستقبل کی نسلوں میں جینس اور ایلیلس کے تواتر میں تبدیلی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ساتھ ہی قدرتی انتخاب تولیدی کامیابی میں اضافہ کرکے لیے اسے ایک مختلف آبادی کی شکل دیتا ہے۔ قدرتی انتخاب سے استحکام عمل میں آتا ہے (جس میں زیادہ افراد character value حاصل کرتے ہیں) سِمتی تبدیلی (زیادہ افراد mean character valueسے انحراف اختیار کرتے ہیں)، یا ڈسرپشن (disruption) (زیادہ اقراد ڈسٹریبیوشن کرد کے دونوں سِروں پر peripheral character value حاصل کرتے ہیں) (شکل7.8)۔
7.8 ارتقاء کا ایک مختصر جائزہ(A Brief Account of Evolution)
تقریباً 2000 ملین سال (mya) پہلے زمین پر زندگی کی اولین سیلیولر شکلوں کا ظہور ہوا۔ غیر معلوم کہ کس میکنیزم کے ذریعے بڑے بڑے میکرومالیکیولس کے غیر سیلیولر مجموعے سیلس کی شکل میں ارتقاء پا سکے جو جھلّی دار غلافوں کے ساتھ تھے۔ ان میں سے کچھ سیلس میں O2 چھوڑنے کی صلاحیت تھی یہ تعمل فوٹوسین تھیسِس میں روشنی کے تعمل (Light reality) سے ملتا جلتا رہا ہوگا جہاں پانی شمس توانائی کی مدد سے الگ الگ عنصروں میں توڑا جاتا ہے جو مناسب روشنی کو اکٹھا کرنے والے پگمینٹس کے ذریعے پکڑی اور سے استعمال کی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ ایک سیل والے عضویوں نے زندگی کی کِشر سیل والی شکلیں اختیار کر لیں۔ 500 ملیٔن سال پہلے تک اِن ورٹی بریٹس بن چکے تھے اور سرگم تھے۔ بے جبڑے والی مچھلیاں غالباً 350 ملیٔن سال پہلے وجود میں آئیں۔ سمندری کائنات اور کچھ پودے شاید 320 ملیٔن سال پہلے کے آس پاس رہتے تھے۔ جب جانوروں نے زمین پر ہلہ بولا وہ زمین پر وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے تھے۔ مچھلیاں اپنے طاقت ور اور مضبوط فینس کی مدد سے خشکی پر گھوم سکتے اور پانی میں واپس جا سکتے تھے۔ ایسا 350 ملیٔن سال پہلے تھا۔ 1938 میں مغربی افریقہ میں پکڑی گئی ایک مچھلی جو ایک سیلاکینتھ (Coelacanth) تھی اس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ ناپید ہو چکی ہے۔ یہ جانور جنھیں لوب فنس (lobefins) کہا گیا ارتقاء پانے والے پہلے ایمفیبیٔنس (amphibians) تھے جو خشکی اور پانی دونوں میں رہتے تھے۔ ان کے کوئی بھی نمونے ہمارے پاس باقی نہیں ہیں۔
البتہ یہ جدید زمانے کے مینڈکوں اور سلیمنڈرس کے آبائو اجداد تھے۔ ایمفیبیٔن نے ریپٹائلس میں ارتقاء پایا۔ وہ موٹے چھلکے والے انڈے دیتے تھے جو ایمفبیٔنس کے انڈوں کی مانند سورج میں خشک نہیں ہوتے تھے۔ ہم ایک بار پھر ان کی جدید ورثا ٹرٹلس ، ٹورٹائزز اور کروکوڈائلس ہی کو دیکھتے ہیں۔ اگلے 200 ملیٔن سال کے لگ بھگ مختلف سائز اور بناوٹوں کے ریپٹائلس ہی کی زمین پر بالادستی قائم رہی۔ بڑے بڑے فرنس (ٹیریڈوفائٹس: pteridophytes) موجود تھے لیکن وہ بتدریج گر کر دفن ہوگئے اس کے بعد کوئلے کے ذخائر بنے۔ خشکی سے کچھ ریپٹائلس غالباً 200 ملین سال پہلے ریپٹائل جیسی مچھلیوں (جیسے Ichthyosaurs) کو وجود دینے کے لیے واپس پانی میں چلے گیے۔ خشکی کے ریپٹائلس بلاشبہ ڈائنوسورس تھے۔ ان میں سب سے بڑا یعنی Tyrannosaurus rex اونچائی میں تقریباً 20 فیٹ تھا اور اس کے بے حد بڑے خوفناک خنجر جیسے دانت تھے۔ تقریباً 65 ملین سال پہلے ڈائنوسورس اچانک ذمین سے غائب ہو گیے۔ ہم صحیح وجہ نہیں جانتے بعض کہتے ہیں موسم کی تبدیلیوں نے انھیں مار ڈالا بعض کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر پرندوں میں ارتقاء پا گیے۔ سچائی ان کے درمیان ہو سکتی ہے۔ ان زمانے کے چھوٹے سائز کے ریپٹائلس آج بھی موجود ہیں۔
شکل 7.9 ارضیاتی دوروں کے ذریعے پودوں کی اقسام کے ارتقاء کا ایک خاکہ
پہلے پستا نیے کرم خور چوہے جیسے تھے۔ ان کے رکازات چھوٹے سائز کے ہیں۔ پستانیے بچے دیتے تھے اور پیدائش سے پہلے نوخیز کی حفاظت ماں کے جسم کے اندر کرتے تھے۔ پستانیے کم ازکم خطرے محسوس کرنے اور اس سے بچنے کے لیے زیادہ ذہین تھے۔ ریپٹائلس کے ختم ہونے کے بعد پستانیوں نے زمین کو سنبھالا۔ مغربی امریکہ میں گھوڑے، ہپّوپوٹیس، ریچھ، خرگوش وغیرہ سے ملتے جلتے پستانیے تھے۔ کونٹی نینٹل ڈرفِٹ کی وجہ سے جب جنوبی امریکہ شمالی امریکہ سے جڑا، توشمالی امریکہ کے فالونا نے انھیں دبا دیا۔ اسی کونٹی نینٹل ڈرفٹ کی وجہ سے آسٹریلیا کے تھیلے دار پستانیے زندہ رہے کیونکہ وہاں کسی بھی دوسرے پستانیے سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔
ہم بھول نہ جائیں کہ کچھ پستانیے صرف پانی میں رہتے ہیں۔ وھیلس، ڈالفنس ، سیلس اور سمندری گائیں ان کی کچھ مثالیں ہیں۔ گھوڑے، ہاتھی، کتے وغیرہ کے ارتقاء کی مخصوص کہا نیاں ہیں۔ آپ اعلیٰ جماعتوں میں ان کے بارے میں پڑھیں گے۔ آدمی جس کے پاس زبان کی مہارت اور ذاتی شعور موجود ہے اس کے ارتقاء کی کہانی سب سے زیادہ کامیاب ہے۔
جانداروں کے ارتقاء کا ایک سرسری خاکہ اور ارضیاتی پیمانے پر ان کے اوقات کو (شکل 7.9 اور 7.10 ) میں دکھایا گیا ہے۔
شکل 7.10 ارضیاتی دوروں میں ورٹی بریٹس کی نمائندہ ارتقائی تاریخ
7.9 آدمی کی ابتداء اور ارتقاء(Origin and Evolution of Man)
تقریباً 5 ملین سال پہلے Dryopithecus اور Ramapithecus کہلانے والے پرائمٹس موجود تھے۔ ان کے بال تھے اور وہ گوریلائوں اور چمپینزیز کی طرح چلتے تھے۔ Ramapithecus آدمی جیسا زیادہ تھا جبکہ Dryopithecus ایپس سے زیادہ ملتا تھا۔ ایتھوپیا اور تنزانیہ میں کچھ آدمی جیسی ہڈیوں کے رکازات دریافت ہوئے ہیں (شکل 7.11)۔
شکل 7.11 بالغ جدید انسان، بے بی چیمپینزی اور بالغ چمپینزی کی کھوٹریوں کا ایک موازنہ۔ بے بی چمپینزی کی کھوپڑی بالغ چمپینزی کی کھوپڑی کے مقابلے بالغ انسان کی کھوپڑی سے زیادہ ملتی ہے۔
یہ انسانی خصوصیات دکھاتے ہیں جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ 4-3 ملیٔن سال پہلے انسان نُما پرائمیٹس ایسٹرن افریقہ میں چلتے تھے۔ وہ غالباً 1 فٹ سے لمبے نہیں تھے لیکن سیدھے چلتے تھے۔ دو ملیٔن سال پہلے شاید Australopithecines ایسٹ افریقہ کے جنگلوں میں رہتا تھا۔ ثبوت دکھاتے ہیں کہ وہ پتھر کے ہتھیاروں سے شکار کرتے تھے مگر اصل میں پھل کھانے والے تھے۔ دریافت کی گئی ہڈیوں میں سے کچھ ہڈیاں مختلف تھیں۔ یہ مخلوق پہلی انسان نما ہومونڈ تھی اور ان کو Homo habilis کہا گیا۔ دماغ کی وسعت 800-650 سی سی کے درمیان تھیں۔ وہ غالباً گوشت نہیں کھاتے تھے۔ 1891 میں جاوا میں دریافت کیے گیے رکازات اگلی حالت یعنی Homo erectus کو آشکار کرتے ہیں جو تقریباً 1.5 ملیٔن سال پہلے تھی۔ Homo erectus کا دماغ بڑا تقریباً 900 سی سی کے برابر تھا۔ Homo erectusشاید گوشت کھاتا تھا۔ نی اینڈر تھل آدمی جس کا دماغ 1400 سی سی تھا نزدایسٹ اور سنٹرل ایشیا میں 40,000-1,00,000 سال پہلے رہتا تھا۔ وہ اپنے جسم کی حفاظت کے لیے پوشیدہ جگہوں کا استعمال کرتا تھا اور اپنے مردوں کو دفن کرتا تھا۔ Homo sapiens افریقہ میں پیدا ہوا اوربرّاعظموں کے پار گیا اور اس نے واضح نسلوں (distinctraces)میں نموپائی۔ 75,000 سے 10,000 سال پہلے آئس ایج کے دوران جدید Homo sapiens پیدا ہوا۔ تقریباً 18000 سال پہلے قبل تاریخ غار کا فن ظہور میں آیا ۔ زراعت تقریباً 10,000 سال پہلے وجود میں آئی اور انسانی بستیاں شروع ہوئیں۔ باقی جو کچھ ہوا انسانی نمو کی تاریخ اور تہذیبوں کی گراوٹ کا حصہ ہے۔
خلاصہ
زمین پر زندگی کی ابتداء کوصرف کائنات بالخصوص زمین کی ابتداء کے پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر سائنسدان کیمیائی ارتقاء پر یقین رکھتے ہیں یعنی زندگی کی پہلی خلوی حالت کے ظہور سے پہلے مائیو مالیکیولس کی تشکیل ہوئی۔ بعد کے وقوعات کہ زندگی کی پہلی شکل پر کیا گزری، ڈارون کے ان تصورات پر بنی ایک خیالی کہانی ہے جن کا تعلق قدرتی انتخاب کے ذریعے نامیاتی ارتقاء سے ہے۔ زمین پر جانداروں کا تنوع کروڑوں سال سے تبدیل ہو رہا ہے۔ عام طور سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک آبادی میں تغیّرات کا نتیجہ تبدیل شدہ موزونیت ہوتی ہے۔ دوسرے مظاہر جیسے محل وقوع کا ٹکڑوں میں تقسیم ہونا اور جینیٹک ڈرفٹ سے یہ تفیرات نمایا ہو سکیں اور نئی انواع وجود میں آئیں یعنی ارتقاء واقع ہوں برانچنگ ڈیسینٹ (branching descent) کے لیے ہومولوجی کی اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تقابلی ایناٹومی، رکازات اور تقابلی بائیوکیمسٹری کے مطالعے سے ارتقاء کے لیے ثبوت فراہم ہوتے ہیں۔ انفرادی انواع کے ارتقاء کی کہانیوں کے درمیان جدید آدمی کے ارتقاء کی کہانی سب سے زیادہ دلچسپ ہے اور انسانی دماغ اور زبان کے ارتقاء کے متوازی نظر آتی ہے۔
مشق
1 ۔ ڈارون کے سیلیکشن کے نظریے کی روشنی میں بیکٹیریا میں دیکھی گئی اینٹی بائیٹوٹک مدافعت کی تشریح کیجیے۔
2 ۔ اخبارات اور عام سائنسی مضامین کے ذریعے کسی بھی نئے فاسل کی دریافت یا ارتقاء سے متعلق متنازع خیالات کے بارے میں معلوم کیجیے۔
3 ۔ اصطلاح ونوع کی ایک واضح تعریف کرنے کی کوشش کیجیے۔
4۔ انسانی ارتقاء کے مختلف اجزا کی تلاش کیجیے (اشارے: دماغ کا سائز اور کام، ڈھانچی ساخت ، غذائی ترجیحات وغیرہ)
5 ۔ انٹرنیٹ اور عام سائنسی مضامین کے ذریعہ معلوم کیجیے کہ کیا آدمی کے علاوہ دوسرے جانوروں میں ذاتی شعور ہوتا ہے۔
6 ۔ 10 جدید جانوروں کی فہرست بنائیے اور انٹرنیٹ وسائل کے استعمال سے انھیں ان کے ہم پلّہ رکازات سے منسلک کیجیے۔ دونوں کے نام بتائیے۔
7۔ مختلف جانوروں اور پودوں کی ڈرائینگ بنانے کی کوشش کیجیے۔
8 ۔ تطابقی ریڈی ایشن کی ایک مثال بیان کیجیے۔
9 ۔ کیا ہم انسانی ارتقاء کو تطابقی ریڈی ایشن کہہ سکتے ہیں؟
10 ۔ اسکول لائبریری یا انٹر نیٹ اور اپنے استاد سے گفتگو جیسے وسائل کا استعمال کر کے کسی ایک جانور ، جیسے گھوڑے کی ارتقائی حالتوں کی نشان دہی کیجیے۔