Skip to content
Hayatiyaat(Biology)

اکائی VIII

انسانی فلاح و بہبود میں حیاتیات(Biology in Human Welfare)

باب8 انسانی صحت اور بیماری

باب 9 غذا کی پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات

باب 10  انسانی فلاح وبہبود میں مائیکروبس


حیاتیات قدرتی سائینس کے نوخیز ترین اور شعبوں میںآتا ہے۔ حیاتیات کے مقابلے طبیعیات اور کیمسٹری نے بہت تیزی سے ترقی کی۔ ہماری روز مرہ کی زندگی میں بھی  طبیعیات اور کیمسٹری کا اطلاق حیاتیات کے مقابلے بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ البتہ بیسویں اور اکیسویں صدی نے یقینی طور پر علم الحیاتیات کے استعمال کو انسانی فلاح وبہبود کی اعانت کرنے کا مظاہرہ کیا ہے خواہ صحت کے شعبہ میں ہو یا پھر رزاعت میں۔ اینٹی بائیوٹکس اور مصنوعی پودوں سے حاصل شدہ دوائیں ہوں یا انستھیسیاکی دریافت نے طبّی طریقے کے ساتھ  انسانی صحت پر اثر ڈالا ہے ۔ پچھلے سالوں میں انسانوں کی متوقع زندگی ڈرامائی انداز سے تبدیل ہوئی ہے۔ زراعتی طریقوں، غذا کو خراب ہونے سے بچانے کے عمل اور بیماریوں کی تشخیص نے انسان کے لیے سماجی وثقافتی تبدیلیاں پیدا کیں ہیں۔ انھیں اس یونٹ کے حسب ذیل تین بالوں میں مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اگست 1925 میں تامل ناڈو کے کمباکونام کے مقام پر پیدا ہوئے مون کامبو سمباسیون سوامی ناتھن (Monkambu Sambasivan Swaminathan) نے مدراس یونیورسٹی سے باٹنی میں گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کیا۔ انھوں نے ہندوستان اور بیرون ملک کے بہت سے اداروں میں مختلف حیثیتوں میں کام کیا اور جنیٹکس اور پلانٹ بریڈنگ میں مہارت پیدا کی۔

pic 2 chapter 8
ایم ۔ایس۔ سوامی ناتھن
(1925)
مونا کمبوسمبا سون سوامی ناتھن کی پیدائش اگست 1925  میں تمل ناڈو کے کمبا کونم شہر میں ہوئی۔انھوں نے مدراس یونیورسٹی سے گریجویشن اور نباتات میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کیں۔انھوں نے ہندوستان اور بیرون کے متعدد اداروں میں مختلف عہدوں پر کام کیا اور جینٹک اور پلانٹ بریڈنگ میں مہارت حاصل کی۔
انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی اے آر آئی) میں اسکول آف سائیٹو جینیٹکس اینڈ ریڈی ایشن ریسرچ کے قیام نے سوامی ناتھن اوران کے ساتھیوں کو کم عرصے میں زیادہ پیداوار دینے والی دھان کی اقسام بشمول خوشبودار باسمتی پیدا کرنے کے مواقع فراہم کیے وہ اپنے پیدا کیے کراپ کیفٹیریا، کراپ شیڈیولنگ اور جینی طور پر پیداوار اور کوالٹی کوبہتربنانے جیسے تصورات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔
سوامی ناتھن نے نورمین بورلوگ (Norman Borlaug) سے اشتراک کی ابتدا کی جس کے نتیجہ میں ہندوستان میں گیہوں کی میکسیکن ویرایٔٹیز کو داخل کر کے سبز انقلاب لادیا۔ اسے بہت مانا اور سراہا گیا۔ وہ تجربہ گاہ سے میدان تک فوڈ سیکیورٹی اور دیگر ماحولیاتی پروگراموں کے موجد بھی ہیں۔ انھیں پدم بھوشن اور امتیازی اداروں کے کئی دوسرے پُروقاراعزازات ، میڈلس اور فیلوشیپس سے نوازا گیا۔
pic 3 chapter 8

باب 8

انسانی صحت اور بیماری (Human Health and Disease)

8.1  انسانوں میں عام بیماریاں 

8.2  مدافعت
8.3  ایڈس AIDS 
8.4  کینسر
8.5  ڈرگھس اور الکوحل کا غلط استعمال
ایک طویل عرصے تک صحت کوجسم اور دماغ کی ایک کیفیت کے طور پر تصور کیا جاتا تھا جہاں بعض کیفیت کا ایک توازن ہوتا ہے۔ یہی اصول اولین یونانیوں جیسے ہپّوکریٹس اور ہندوستانی آیورویدک طریقۂ علاج میں بھی تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سیاہ پت لوگ گرم شخصیت والے ہوتے ہیں اور انھیں بخار آتا ہے۔ یہ خیال خالصتاً تصوری فکر کی دین تھا۔ ویلٔم ہاروے کے ذریعے تجرباتی طریقے سے دوران خون کی دویافت اور تھرمامیٹر کے استعمال سے سیاہ پت لوگوں کے نارمل جسمانی درجہ حرارت کے مظاہر نے صحت کے ’خوش مزاجی‘ کے مفرد ضے کو مسترد کر دیا۔ بعد کے سالوں میں حیاتیات نے بتایا کہ دماغ عصبی اور اینڈوکرائین نظاموں کے ذریعے ہمارے مدافعی نظام کو متاثٔر کرتا ہے اور یہ کہ ہمارا مدافعتی نظام ہی ہماری صحت کو قائم رکھتا ہے۔ پس دماغ اور دماغی کیفیت ہماری صحت کو متائثر کر سکتی ہے۔ بلا شبہ صحت حسب ذیل سے متاثر ہوتی ہے:
(i) جینسنی نقائص ۔ کمیاں جن کے ساتھ ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور کمیاں / نقائص جنھیں پیدائش سے بچہ اپنے والدین سے وراثت میں حاصل کرتا ہے۔
(ii) تعدے اور 
(iii) طرز زندگی بشمول غذا اور پانی جو ہم لیتے ہیں، آرام اور ورزش جو ہم اپنے جسموں کو دیتے ہیں، وہ عادات جو ہم میں ہیں یا معدوم  ہیں وغیرہ
اصطلاح صحت (Health) کی ہم کیسے اس کی تعریف کرتے ہیں؟ صحت کا مطلب محض ’’بیماری کی غیر موجودگی‘‘ یا ’’جسمانی موزونیت‘‘ نہیں ہوتا۔ اس کی تعریف بطور مکمل جسمانی ، دماغی اور سماجی عافیت کے کی جا سکتی ہے۔ جب لوگ صحت مند ہوں تو وہ کام میں زیادہ تیز ہوتے ہیں۔ اس سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی خوش حالی آتی ہے۔ صحت لوگوں کی عمر بڑھاتی ہے اور نوزائیدہ بچوں اور ماں کی شرح اموات کو گھٹاتی ہے۔ 
اچھی صحت کو قائم رکھنے کے لیے متوازن غذا، شخصی صفا ئی ستھرائی اور باقاعدہ ورزش بہت اہم ہے۔ جسمانی اور دماغی صحت کے حصول کے لیے یوگا قدیم زمانے سے زیر عمل ہے۔ اچھی صحت کے حصول کے لیے بیماریوں اور جسمانی کاموں پر ان کے اثرکے بارے میں آگہی متعدی بیماریوں کے خلاف ٹیکہ لگانا (امّیونائزیشن) ، فضلے کی مناسب نکاسی، ویکٹرس کا انسداد اور ساف ستھرے غذا اور پانی کے وسائل کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ 
جب جسم کے ایک یاکئی اعضاء یا نظاموں کی کارکردگی بُری طرح متائثر ہو جس کی مختلف قسم کی نشانیاں اور علامتیں ظاہر ہوں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم صحت مند نہیں ہیں یعنی ہمیں ایک بیماری (Disease) لاحق ہے۔ بیماریوں کو موٹے طور پر متعدی (infectious) اور غیرمتعدی (non-infectious) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ وہ بیماریاں جو ایک سے دوسرے میں منتقل کی جاتی ہیں متعدی بیماریاں (infectious diseases) کہلاتی ہیں متعدی بیماریاں بہت عام ہیں ہم میں سے سبھی کبھی نہ کبھی ان میں مبتلا ہوتے ہیں بعض متعدی بیماریاں جیسے AIDS مہلک ہوتی ہیں۔ غیر متعدی بیماریوں میں کینسر موت کا اہم سبب ہے۔ ڈرگ اور الکوحول کا غلط استعمال بھی ہماری صحت کو بڑی طرح متائثر کرتا ہے۔ 

8.1 انسانوں میں عام بیماریاں(Common Diseases in Humans)

عضویوں کی ایک بڑی تعداد جن کا تعلق بیکٹیریا، وائریسز، فنجائی، پروٹوزوائنس، ہیلمِنتھس وغیرہ سے ہے آدمی میں بیماریوں کا سبب ہو سکتی ہے۔ ایسے بیماری پیدا کرنے والے عضویے جراثیم (pathogens) کہلاتے ہیں۔ بیشتر  طفیلی عضویے (parasites) پیتھوجنس ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ہوسٹ (host) میں یا اس پر رہ کر ضرر کا سبب بنتے ہیں۔ جراثیم مختلف طریقوں سے ہمارے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں جہاں وہ افزائش کر کے ہماری نارمل اوراہم معمولات میں مداخلت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مورفولوجیکل اور فنگشنل نقصان ہوتا ہے۔ جراثیموں کو ہوسٹ کے ماحول میں زندگی سے تطابق پیدا کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ جراثیم جو غذا کی نالی میں داخل ہوں انھیں کم pH پر معدے کے اندر زندہ رہنے کا طریقہ اور مختلف ہضمی اینزائمس کے خلاف مدافعت کرنا آنا چاہیے۔ جراثیمی عضویوں کے مختلف گروہوں سے چند نمائندہ جراثیموں پر اور ان سے ہونے والی بیماریوں پر یہاں گفتگوں کی گئی ہے۔ عمومی  طور پر ان بیماریوں کے خلاف احتیاطی اور انسدادی تدابیر بھی مختصراً بیان کی گئی ہیں۔
Salmonella Typhi ایک جراثیمی بیکٹیریا ہے جو انسانوں میں ٹائفائیڈ (typhoid) بخار کا سبب ہے۔ عام طور سے یہ جراثیم غذا اور ان سے آلودہ پانی کے ذریعہ چھوٹی آنت میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر خون کے ذریعے دوسرے اعضاء میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس بیماری کی کچھ عام علامتیں مسلسل تیز بخار (390 سے 400C )، کمزوری ، پیٹدرد، سر درد اور بھوک کا ختم ہو جانا ہیں۔ شدید حالتوں میں آنت میں سوراخ اور موت واقع ہو سکتی ہے۔ ٹائیفائڈ بخار کی تصدیق وایٔڈل ٹیسٹ (widal test) کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ طب میں تاریخی نوعیت کی ایک مثال میری میلون کی ہے جس کا لقب Typhoid Mary جیسے یہاں بیان کرنا مناسب ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک باورچن تھی جس میں پائفائیڈ کے جراثیم موجود تھے اور وہ کئی سال تک اپنے تیار کیے گیے کھانے کے ذریعے ٹائیفائیڈ پھیلاتی رہی۔
بیکٹیریا جیسے Streptococcus pneumoniae  اور  Haemophilus influenzae انسانوں میں نمونیا (pneumonia) بیماری کے لیے ذمہ دار ہیں جو پھیپھڑوں کے ایلویولائی (alveoli) (ہوا بھری تھیلیاں) کو جراثیم آلود کرتے ہیں۔ تعدے کے نتیجے میں ایلویولائی رقیق سے بھر جاتے ہیں جس سے سانس لینے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ نمونیا کی علامات میں بخار، سردی لگنا، کھانسی اور سردرد شامل ہے۔ شدید حالتوں میں ہونٹ اور انگلیوں کے ناخن گہرے سے نیلے ہو جاتے ہیں۔ ایک صحت مند آدمی متعدی شخص کے نکالے ہوئے چھوٹے قطرات / چھینٹے کوسانس کے ذریعے اندرلینے سے یہاں تک کہ متعدی شخص کے گلاس یا برتن استعمال کرنے سے تعدید زدہ ہو جاتا ہے۔ انسانوں میں پیچش، پلیگ، ڈپتھیریا وغیرہ کچھ دوسری بیکٹریا سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔
بہت سے وائرسسز بھی انسانوں میں بیماریوں کا سبب ہیں۔ وائرسسز کے ایسے ہی ایک گروہ کی نمائندگی Rhino وائرسسز کرتے ہیں جو انسانوں کی انتہائی متعدی بیماری عام نزلے (common cold) کا سبب ہیں۔ وہ پھیپھڑوں کو نہیں بلکہ ناک اور تنفسی راستے کو جرائیم زدہ کرتے ہیں۔ عام نزلہ ناک بند ہونے اور بہنے ، گلے کی خراش ، آواز کے پیٹھنے ، کھانسی، سردرد ، تھکاوٹ وغیرہ سے پہچانا جاتا ہے اور جو عموماً 7-3 دن تک چلتا ہے۔ ایک متعدی شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے جو چھینک اڑتی ہیں وہ اگر براہ راست سانس کے ساتھ اندر چلی جائیں یا آلودہ چیزوں جیسے قلم، کتابوں، پیالیوں، دروازوں کے کنڈوں، کمپیوٹر بورڈوں یا مائوس وغیرہ کے ذریعے منتقل ہو جائیں تو صحت مند آدمی میں تعدے کا سبب ہوتی ہے۔
کچھ انسانی بیماریوں کا سبب پروٹوزونس بھی ہوتے ہیں۔ آپ نے ملیریا (malaria) کے بارے میں سنا ہوگا، یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے آدمی سالوں سے لڑ رہا ہے۔ اس بیماری کے لیے ایک چھوٹا سا پروٹوزون، Plasmodium ذمہ دار ہے۔ Plasmodium کی مختلف انواع (P.vivax, P. malaria  and P. falciparium) ملیریا کی مختلف اقسام کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ان میں سے Plasmodium falciparumسے سب سے زیادہ مہلک قسم کا یامیلیگنینٹ ملیریا کا ذمہ دارہوتا ہے جو ہلاکت خیز بھی ہو سکتا ہے۔ 
آئیے Plasmodium (شکل 8.1) کے دور حیات پر ایک نظر ڈالیں انسانی جسم میں Plasmodium  متعدی مادہ Anopheles مچھر کے کاٹنے سے Sporozoites کی شکل میں داخل ہوتا ہے۔ پیراسائٹس ابتدا میں جگر کے سیلس میں افزائش کرتے ہیں اور پھر خون کے سرخ ذرات (RBC) پر حملہ کرتے ہیں جس سے وہ پھٹ جاتے ہیں۔ RBCs کے پھٹنے کا تعلق ایک زہریلی شے ہیموزواِن (haemozoin) سے ہے جو سردی لگنے اور تیز بخار کے لیے ذمہ دار ہے جو ہر تین چار دن بعد آتا ہے۔ 
pic 4 chapter 8
شکل 8.1  Plasmodium کے دور حیات کی حالتیں
جب ایک مادہ Anopheles مچھر ایک متعدی شخص کو کاٹتا ہے یہ پیراسائیٹس مچھر کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور ان میں مزید نمو ہوتی ہے۔ پیراسائیٹس ان کے اندر اسپوروزوائیٹس بناکر افزائش کرتے ہیں اور ان کے لعابی غدودوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔ جب یہ مچھر کسی انسان کو کاٹتے ہیں تو اسپوروزواٹس اس کے جسم میں داخل ہو کر اوپر بتائے ہوئے وقوعات کی ابتداء کر دیتے ہیں۔ یہ جاننا باعث دلچسپی ہوگا کہ ملیریٔل پیراسائٹ کو اپنا دور حیات مکمل کرنے کے لیے (شکل 8.1) دو ھوسٹس درکار ہوتے ہیں۔ انسان اور مچھر  مادہ Anopheles  ویکٹر (منتقل کرنے والا ایجنٹ) ہے۔
Entamoeba histolytica انسانوں کی بڑی آنت میں ایک پروٹوزوأن پیراسائٹ ہے جو amoebiasis(amoebic dysenter) کا سبب ہے۔ بیمارکی علامتوں میں قبض، پیٹ درد اور مروڑ، آنوں کی زیادتی اور خون کے لوتھڑوں کے ساتھ اجابت شامل ہے۔ مکھیاں پیراسائٹ کو متعدی شخص کے فضلے سے غذا اور غذائی اشیا تک منتقل کرنے اور انھیں آلودہ کرنے میں میکینیکل کیریٔر (mechanical carrier) کا کام کرتی ہیں۔ فضلات سے آلودہ پینے کا پانی اور غذا تعدی کا اصل ذریعہ ہوتے ہیں۔
عام گول کرمی، Ascaris اور فائیلیریا کرمی، wuchereria کچھ ہبلمنتھس ہیں جو آدمی کے لیے جراثیمی سمجھتے جاتے ہیں۔  Ascaris جو ایک آنت کا پیراسائٹ ہے ascariasis کا سبب ہے اس بیماری کی علامات میں اندرونی جریانِ خون ، عضلاتی درد، بخار ، انیمیا اور آنتئی راستے کا بند ہونا شامل ہے ۔ پیراسائٹ کے انڈے متعدی شخص کے فضلے کے ساتھ خارج ہو جاتے ہیں جو مٹی، پانی اور پودوں وغیرہ کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ ایک صحت مند آدمی پانی، سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے تغذیہ حاصل کرتا ہے۔
pic 5 chapter 8
شکل 8.2 فیل پا کی وجہ سے نچلے جوارح میں ورم دکھاتی ہوئی شکل

فائیلیریا wuchereria(w. bancrofti اور w.malayi) عموماً ٹانگوں کی لمفیٹک نالیوں کی ایک آہستہ پذیراور سوزش کی بیماری ہے، جہاں ان کے کرمی برسوں، رہتے ہیں۔ یہ بیماری elephantiasis یا filariasis (شکل 8.2) کہلاتی ہے۔ ان میں  تناسلی اعضاء بھی اکثر متاثر ہوتے ہیں جس کے نتیجہ ان کی شکل اور ہیئت بگڑ جاتی ہے۔ جراثیم مادہ مچھر (ویکٹرس) کے کاٹنے سے ایک صحت مند شخص میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
pic 6  chapter 8
شکل 8.3  جلد کا داد( رِنگ ورم) سے متاثٔر حصہ دکھاتی ہوئی شکل

بہت سے فنجائی جن کا تعلق جینس Microsporum، Trichophytonاور Epidermophyton سے ہے ringwormsکے لیے ذمہ دار ہیں جو آدمی ہیں ایک عام ترین متعدی بیماری ہے۔ اس بیماری کی خاص علامتیں جسم کے مختلف حصوں جیسے جلد، ناخن اور کھوپڑی میں خشک کھپڑے جیسے زخموں کا پیدا ہونا ہے (شکل8.3) ۔ زخموں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی اور نمی ان فنجائی کو بڑھنے میں مدد کرتی ہے اور انھیں جلدی تہوں جیسے جانگھوں اور انگلیوں کے درمیانی حصوں میں پنپنے میں مدد کرتی ہے۔ دیگر ورمس عموماً متعدی افراد کے تولیے، کپڑے یہاں تک کہ کنگھے استعمال یا پھر مٹی کے ذریعے پہنچتے ہیں۔
بہت سی متعدی بیماریوں کی احتیاط اور انسداد کے لیے شخصی اور عوامی صفائی ستھرائی کا قائم رکھنا ضروری ہے۔ شخص صفائی ستھرائی کے لیے اقدامات میں جسم کا صاف رکھنا، پینے کے صاف پانی ، غذا، سبزیوں اور پھلوں وغیرہ کا استعمال وغیرہ اور عوامی صفائی ستھرائی میں غلاظت اور فضلے کی مناسب نکاسی، پانی کے ذخائر تالابوں اور ٹینکس وغیرہ کی وقفے وقفے سے صفائی اور انھیں جراثیم پاک کرنا اور عوامی ضیافتی انتظامات میں صفائی کے معیاری طریقوں کا خیال رکھنا شامل ہے۔ یہ اقدامات خصوصیت سے وہاں لازمی ہیں جہاں متعدی ایجینٹس غذا اور پانی سے پھیلتے ہوں جیسے ٹائیفائیڈ ، ایمی بی ایسس اور ایسکیری ایسس۔ ہوا کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں جیسے نمونیا اور نزلہ ، اوپر بتائے گیے اقدامات کے علاوہ متعدی لوگوں یا ان کی چیزوں سے بچنا چاہیے۔ ملیریا اور فائیلیریا جیسی بیماریوں کے لیے جو انسیکٹ ویکٹرس (insect vectors) کے ذریعے پھیلتی ہیں سب سے اہم طریقہ ویکٹرس اور ان کے پیدا ہونے کی جگہوں کا انسداد یا خاتمہ ہے۔ اس کے حصول کے لیے رہائشی علاقوں میں اور ان کے اطراف پانی کو جمع نہ ہونے دیں، گھریلو کولروں کی پابندی سے صفائی کریں اور مچھر دانیاں استعمال کریں۔ تالابوں میں Gambusia مچھلیاں پالیں جو مچھروں کے لاروے کھاتی ہیں گھڑوں، نالیوں اور کیچڑ والی جگہوں پر کیڑاکش دوائوں کا چھڑکاؤ کریں۔ ان کے علاوہ مچھروں کے داخلے کو روکنے کے لیے دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگوائیں ۔ یہ احتیاطی تدابیر ہندستان کے بہت سے علاقوں میں ڈینگو اور چکن گنیا جیسی  ویکٹر بورن(vector=borne)بیماریوں کے وسیع پیمانے پر پھیلنے سے اور بھی زیادہ ضروری ہو گئی ہیں۔ 
حیاتیاتی سائنس کی ترقیات نے بہت سی متعدی بیماریوں سے مؤثر انداز سے لڑنے کے لیے ہمیں مسلح کر دیا ہے۔ ٹیکوں کے استعمال اور مدافقی پروگراموں میں ہمیں چیچک جیسی مہلک بیماریوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے قابل بنایا ہے۔ متعدی بیماریوں جیسے پولیو، ڈپتھیریا، نمونیا اور ٹیٹنس ٹیکوں کی مدد سے بڑی حد تک کنٹرول کر لی گئی ہیں۔ بائیوٹیکنولوجی (جس کے بارے میں باب 12میں آپ اور پڑھیں گے) دستیاب نئی اور محفوظ ٹیکوں کی تیاری کی ڈگر پر کھڑی ہے۔ اینٹی بائیوٹکس اور مختلف دوسری ڈرگس کی دریافت نے بھی ہمیں متعدی بیماریوں کے مؤثر علاج کے قابل بتایا ہے۔

8.2 مامونیت (Immunity) 

ہم روزانہ ہی کیثر تعداد میں متعدی ایجنٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔ البتہ ان میں سے کچھ ہی ہیں  جن کی زد میں ہم آتے ہیں بیماری پیدا کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم زیادہ تر اِن بیرونی ایجینٹوں کا خود دفاع کرنے کا امل ہے۔ بیماری پیدا کرنے والے عضویوں سے مقابلہ کرنے کی ہوسٹ کی یہ مجموعی اہلیت مامونی نظام (immune system) کی عطاء کردہ ہے جسے مامونیت (immunity) کہتے ہیں۔
اِمیونٹی دو قسم کی ہوتی ہے: (1) اِنیٹ امیونٹی  (innate immunity) اور (ii) ایکوائرڈ امیونٹی (Acquired immunity) ۔

8.2.1  اِنّیٹ امّیونٹی (Innate Immunity: خلقی مامونیت)

اِنّیٹ امّیونٹی غیر مخصوصی (non-specific) قسم کا دفاع ہے جو پیدائش ہی سے موجود ہوتا ہے۔ اِسے ہمارے جسم میں بیرونی ایجنٹوں کے داخلے پر مختلف قسم کی رکاوٹیں لگا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ انّیٹ امّیونٹی چار قسم کی رکاوٹوں (barriers) پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ ہیں۔
(i) Physical barriers: ہمارے جسم پر جلد اہۃم رکاوٹ ہے جو خورد بینی عضولوں کا داخلہ روکتی ہے۔ ایپی تھیلیٔم (epithelium) جو تنّفسی، گیسٹرو اینٹسٹائنل اور یورو جینائٹل کا استر بناتا ہے اس پر میوکس کی تہہ ہمارے جسم میں جانے والے مائکروبس کو روکنے میں بھی مدد کرتی ہے۔
(ii)Physiological barriers: معدے میں تیزاب ، آنکھوں میں آنسو۔ سب مائیکروبیل نشوونما کو روکتے ہیں۔
(iii)Cellular barriers: ہمارے جسم کے اندربعض اقسام کے سفید ذرّات (WBC) جیسے پولی مورفو۔ نیوکلیٔر لیوکوسائیٹس (PMNL- neutrophils) اور مونوسائیٹس اور خون میں قدرتی طور پر مارنے والے ہیںاور ساتھ ہی ٹشو میں موجود میکروفیجز مائیکروبس کو کھا کرختم کر دیتے ہیں (یعنی phagocytose کر دیتے ہیں)۔
(iv)Cytokine barriers: وائرس سے متعدی سیلس پروٹینس افراز کرتے ہیں جنھیں interferons کہا جاتا ہے جو غیر متعدی سیلس کو مزید وائرل تعدیے سے محفوظ رکھتے ہیں۔

8.2.2  ایکوایرڈ امّیونٹی (Acquired Immunity: اکتسابی مامونیت)

اس کے برعکس ایکوائرڈ امیونٹی جراثیم مخصوص ہوتی ہے۔ یاداشت اس کی خصوصیت کہی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب ہمارے جسم سے پہلی بار ایک جراثیم ٹکراتا ہے تو وہ ایک رد عمل پیدا کرتا ہے جسے primary response کہتے ہیں جو بہت کم طاقت کا ہوتا ہے۔ اسی جراثیم کے ساتھ بعد کے ٹکراؤ ایک زیادہ شدید ثانوی یا ماضی کی یاد سے متعلق (anamnestic) رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لگتا ہے ہمارے جسم میں پہلے ٹکراؤ  کی یاداشت موجود ہے۔
پرائمری اور سیکنڈری امّیون رد عمل ہمارے خون میں موجود دو مخصوص قسم کے لمعوسائیٹس یعنی B- lymphocytes اور T- lymphocytes کی مدد سے پیدا ہوتے ہیں۔ B-lymhocytes جراثیموں کے ردعمل میں ان سے لڑنے کے لیے ہمارے خون میں پروٹینس کی ایک فوج پیدا کر دیتے ہیں۔ ان پروٹینس کو اینٹی باڈیز کہا جاتا ہے۔ T ۔ سیلس خود اینٹی باڈیز  کا افراز نہیں کرتے بلکہ انھیں پیدا کرنے میںBسیلز کی مدد کرتے ہیں۔ ہر اینٹی بوڈی مالیکیول میں چار پیپٹائیڈ زنجیریں ہوتی ہیں، دو چھوٹی light chains اور دو لمبی heavy chains کہتے ہیں۔ پس ایک اینٹی باڈی H2 L2 ظاہر کی جاتی ہے۔ہمارے جسم میں مختلف قسم کی اینٹی باڈیز پیدا کی جاتی ہیں۔ جوIGDاور IgA, IgM,IgE,IgG ہیں۔ شکل 8.4 میں ایک اینٹی باڈی کا ایک خاکہ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اینٹی باڈیز خون میں پائی جاتی ہیں اس لیے رد عمل بھی humoral immune response کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے دو قسم کے ایکوائرڈ امّیون ریسپونس میں سے ایک ہے۔ جس میں اینٹی باڈی ثالثی کرتی ہے۔ دوسری قسم کو سیل۔ ثالثی امّیون ریسپونس یا (CMI) Cell- mediated immunity کہتے ہیں۔ T-lymphocytes، CMI سے ثالثی کرتے ہیں۔ بہت موقوں پر جب بعض انسانی اعضاء جیسے دل، آنکھ، جگر، گردہ تسلّی بخش کام کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو مریض کو ایک نارمل زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے عضوبدلی (transplantation) ہی واحد علاج ہے۔ تب ایک تلاش شروع ہوتی ہے۔ ایک مناسب معطی (donor) کو تلاش کرنا۔ ایسا کیوں ہے کہ کسی بھی شخص کے اعضاء کیوں نہیں لیے جا سکتے؟ وہ کیا ہے جس کی ڈاکٹر جانچ کرتا ہے؟ کسی بھی وسیلے سے پیوند جیسے ایک جانور ، دوسرے پرائیمٹ یا انسان سے لگایا جا سکتا کیونکہ جلد یا دیر سے یہ پیوند نامنظور کر دیے جائیں گے۔ کسی بھی پیونہ کاری سے پہلے ٹشو ملانا، خون کے گروپ کا ملانا لازمی ہے حالانکہ اس کے بعد بھی مریض کو ساری عمر immuno-suppresants لینا پڑتے ہیں۔ جسم سیلف اور نان سیلف (self and non-self) میں فرق کرنے کا اہل ہے اور وہی سیل جس نے امّیون ردعمل کی ثالثی کی تھی پیوند کو نامنظور کرنے کے بھی ذمہ دار ہے۔
pic 7 chapter 8
شکل 8.4  ایک اینٹی باڈی مالیکیول کی ساخت

8.2.3  ایکٹیواور پیسیو امّیو نٹی (Active and Passive immunity) 

جب  کوئی فرداینٹی جنس (زندہ یا مردہ مائیکروبس ہوں یا دوسرے پروٹینس کی شکل میں)کے رابطے میں آتا ہے تو اس فردکے جسم اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہیں۔ اس قسم کی مامونیت کو ایکٹیو امیونٹی (active immunity) کہتے ہیں۔ ایکٹیو امیونٹی سست رفتار ہوتی ہے اور اپنا مکمل موئثر ردعمل دینے میں وقت لیتی ہے۔ مامونیت کے دوران جان بوجھ کر مائیکروبس کو انجیکٹ کرنے یا قدرتی تعدیے کے دوران متعدی عضویوں کے جسم تک پہنچنے میں کامیاب ہونے پر ایکٹیو امیونٹی کو ترغیب ملتی ہے۔ جب تیار اینٹی باڈیز بیرونی ایجنٹوں کے خلاف جسم کی حفاظت کے لیے براہ راست دی جاتی ہیں تو اسے Passive immunityکہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ماں کا دودھ نومولود کے لیے کیوں بہت لازمی تصوّر کیا جاتا ہے؟ رضاعت  کے ابتدائی دنوں کے دوران ماں کے ذریعے افراز کیے گئے زردی مائل رقیق، colostrum میں نومولودی کی حفاظت کرنے کے لیے کثیر مقدار میں اینٹی باڈیز (IgA) ہوتی ہیں۔ جنین حمل کے دوران پلیسینٹا کے ذریعے بھی کچھ اینٹی باڈیز حاصل کرتا ہے۔ یہ passive immunity کی کچھ مثالیں ہیں۔

8.2.4  ٹیکہ کاری اور مامونیت (Vaccination and Immunisation) 

مامونیت یا ٹیکہ کاری کے اصول کی بنیاد مامونی نظام کی یاداشت، کی خصوصیت پر ہے۔ ٹیکہ کاری میں جراثیم کی اینٹی جینس پروٹینس سے تیار کی گئی شے یا غیر فعال کیے گیے/ کمزور کیے گیے جراثیم (ٹیکہ) جسم میں داخل کیے جاتے ہیں۔ ان اینٹی جنس کے خلاف جسم میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز حقیقی تعدیے کے دوران جراثمی ایجنٹوں کو ناکارہ کر دیتی ہیں۔ ٹیکے بھی یادداشت B- اور T سیلس پیدا کرتے ہیں جو بعد کے رابطوں میں جراثیم کی تیزی سے شناخت کر کے کثیرمقدار میں اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں اور حملہ آوروں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بعض مہلک مائیکروبس سے متعدی ہوتا ہے جس کے لیے تیزی سے امّیون رد عمل درکار ہو جیسے کہ tetanus میں ہوتا ہے تو ہمیں پہلے سے تیار اینٹی باڈیز یا اینٹی ٹوکسین (ایک تیار کی گئی شے جس میں ٹوکسین (زہر) کے لیے اینٹی باڈیز موجود ہوں) براہ راست انجیکٹ کرنا ہوتی ہے۔ یہاں تک کے سانپ کا ٹنے کے معاملات میں مریض کو دیے جانے والے انجیکشن میں سانپ کے زہر کے خلاف پہلے سے تیار کی گئی اینٹی باڈیز ہی ہوتی ہیں۔ اس قسم کی مامونیت کو passive immunisation کہتے ہیں۔
وی کمبی نینٹ DNA ٹیکنولوجی کے ذریعے بیکٹیریا یا ایسٹ میں جراثیم کے اینٹی جینک پولی پیپٹائیڈس (antigenic polypeptides) کی تیاری ہوتی ہے ۔ اس طریقے کے استعمال سے بڑے پیمانے پر ٹیکوں کی پیداوار ہوتی ہے اور اس لیے مامونیت کے لیے وہ بہتات میں دستیاب ہوتے ہیں جیسے ایسٹ سے پیدا کیاگیا ہیپٹائٹسB- کا ٹیکہ۔

8.2.5  الرجیز (Allergies) 

کیا آپ کو ہوئی ہے؟ جب آپ کسی نئی جگہ جاتے ہیں اور اچانک چھینکنے اور خرخر کرنے لگتے ہیں جس کی کوئی لائقِ تشریح وجہ نہیں ہوتی اور جب آپ واپس آ جاتے ہیں تو علامات غائب ہو جاتی ہیں۔ ہم میں سے کچھ ماحول میں موجود کچھ ذرّات کے تئیں حساس ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا رد عمل پولن، مائٹس وغیرہ سے الرجی کی وجہ سے ہو سکتا ہے جو مختلف جگہوں پر مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔
ماحول میں موجود بعض اینٹی جنس کے لیے امّیون نظام کا مبالغہ آمیز رد عمل الرجی (allergy) کہلاتا ہے۔ وہ چیزیں جن کے لیے ایسا امیون ردعمل پیدا ہوتا ہے الرجنس (allergens) کہلاتے ہیں۔ ان کے لیے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز IgE قسم کی ہوتی ہیں۔دھول میں مائیٹس، پولنس، جانوروں کے جسم کی دھول وغیرہ الرجنس کی عام مثالیں ہیں۔ الرجک رد عمل کی علامات میں چھینکیں آنا، آنکھوں سے پانی نکلنا، ناک بہنا اور سانس لینے میں دشواری ہونا شامل ہیں۔ الرجی ماسٹ سیلس (Mast cells) سے ہسٹامین (histamine) اور سیروٹونِن (serotonin) جیسے کیمیکلس کے نکلنے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ الرجی کا سبب معلوم کرنے کے لیے مریض کو ککمن الرجنس کی بہت قلیل مقدار کے رابطے میں لایا جاتا ہے یا اس میں انجیکٹ کر دی جاتی ہے اور پھر رد عمل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اینٹی ہسٹامین، ایڈرینیلِن (adrenalin) اور اسٹیرائیڈ (steroid) جیسی ڈرگس کے استعمال سے الرجی کی علامتیں تیزی سے کم ہو جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ زندگی کے جدید طریقوں کے نتیجے میں الرجنس کے تئیں مامونیت گھٹی اور حسّاسیت بڑھی ہے۔ ماحول سے حساسیت کے سبب ہندستان کے عظیم شہروں میں زیادہ سے زیادو بچے الرجیز اور دمے میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ زندگی کے شروع میں محفوظ ماحول مہیا کرنا ہو سکتا ہے۔
8.2.6  اوٹوامّیونٹی (Auto Immunity)
اعلیٰ ورٹی بریٹس میں پیدا ہونے والی یا داشت پر مبنی ایکوائرڈ امّیونٹی کی بنیاد بیرونی عضویوں (یعنی جراثیم) کوخود کے سیلس سے الگ پہچان لینے کی اہلیت پر ہوتی ہے۔ ہم جبکہ اب بھی اس کی بنیاد کو سمجھنے شے قاصر ہیں، اس اہلیت کے دو منطقی نتائیج ہمیں سمجھنا ہوں گے۔ اوّل اعلیٰ ورٹی بریٹس بیرونی مالیکیولس اور ساتھ ہی بیرونی عضویوں کو پہچان سکتے ہیں۔ زیادہ تر تجرباتی مامونیات (experimental immunology) اسی پہلو سے بحث کرتی ہے۔ دوئم یہ کہ کبھی کبھی جینیائی یا دیگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر جسم خود کے یا سیلف سیلس پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً جسم کو نقصان پہنچتا ہے اور اسے auto-immune مرض کہا جاتا ہے۔ رومیٹائیڈ آرتھرائیٹس (Rheumatoid arthritis) جو ہماری سوسائٹی میں بہت سے لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہے ایک اوٹو۔امّیون بیماری ہے۔ 
8.2.7  جسم میں امّیون نظام (Immune System in the Body) 
انسانی امّیون نظام لمفوائیڈ اعضاء ، ٹشوز ، سیلس اور اینٹی باڈیز جیسے حل پزیر مالیکیولس پر مشتمل ہوتا ہے۔جیسا کہ آپ نے پڑھا ہے امّیون نظام اس معنی میں منفرد ہے کہ وہ بیرونی اینٹی جنس کی شناخت کر سکتا ہے، ان کے تین رد عمل دکھاتا ہے اور انھیں یاد رکھتا ہے۔ امّیون نظام الرجک ردعمل، اوٹو امّیون بیماریوں اور عضوی پیوندکاری میں بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔
لمفائیڈ اعضاء (Lymphoid organs): یہ وہ اعضاء ہیں جہاں لمفوسائیٹس (lymphocytes) کی ابتداء ، اور / یا پختگی اور افزائش ہوتی ہے۔ پرائمری لمفوائیڈ اعضا bone marron اور thymus ہیں جہاں غیر پختہ لمفوسائٹس اینٹی جن حساس لمفوسائیٹس میں تبدیل ہوتے ہیں۔ پختگی کے بعد لمفوسائیٹس ثانوی لمفائیڈ اعضاء جیسے اسلپین، لمف نوڈس، ٹونسِلس، چھوٹی آنت اور اپینڈکس کے پیئر (Peyer's) دھبّوں میں ہجرت کر جاتے ہیں۔ ثانوی لمفوائیڈ اعضاء لمفوسائیٹس کو اینٹی جن کے ساتھ تعمل کرنے کی جگہیں مہیا کرتے ہیں۔ جو پھر افزائش کر کے ایفیکٹر سیلس (effector cells) بن جاتے ہیں۔ انسانی جسم میں مختلف لمفوائیڈ اعضاء کی جگہ شکل 8.5 میں دکھائی گئی ہے۔
  ہڈی کا گودا اہم ترین لمفوائیڈ عضو ہے جہاں لمفوسائیٹس سمیت تمام خون کے سیلس پیدا ہوتے ہیں۔ تھائمس ایک ثنہ دار عضو ہے جو دل  کے پاس سینے کی ہڈی کے نیچے واقع ہوتا ہے۔پیدائش کے وقت تھائمس خاصا بڑا ہوتا ہے لیکن عمر کے ساتھ چھوٹا ہوتا جاتا ہے اور بلوغت تک بہت چھوٹا ہو جاتا ہے۔ ہڈی کا گودا اور تھائمس دونوں ہی T۔ لمفوسائٹس کی نمو اور پختگی کے لیے مائیکرو ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اسپلین ایک بڑا سیم۔ نما عضو ہے۔ اس میں خالصاً لمفوسائیٹس اور فیگوسائیٹس ہی ہوتی ہیں۔ یہ خون میں موجود خورد بینی عضویوں کو روک کر خون کی ایک چھلنی کا کام کرتا ہے۔ اسپلین میں بھی ایری تھروسائیٹس (erythrocytes) کا ایک بڑا ذخیرہ ہوتا ہے۔ لمف نوڈس لمفیٹک نظام کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر واقع چھوٹی ٹھوس سا ختیں ہوتی ہیں۔ لمف نوڈس خوردینسی عضویوں اور دوسرے اینٹی جنس کو جو لمف اور ٹشو رقیق میں داخل ہو جاتے ہیں روکنے کا کام کرتی ہیں۔لمف نوڈس میں روکے گیے اینٹی جنس وہاں موجود لمفوسائیٹس کو متحرک کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور امّیون رد عمل کا سبب ہوتے ہیں۔
  لمفوائیڈ ٹشو اہم راستوں (تنفسی، ہۃضمی اور بول تناسلی راستوں) کے استر میں بھی واقع ہوتے ہیں جنھیں (MALT) mucosal-associated lymphoid tissue کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی جسم میں لمفوئیڈ ٹشو کا تقریباً 50 فیصد حصہ بناتا ہے۔ 
pic 8 chapter 8
شکل 8.5  لمف نوڈس کا شکلی خاکہ

لمف نوڈس

تھائمس

لمفیٹک نالیاں

8.3 ایڈس (AIDS) 

لفظ AIDS ایکوائرڈ امّیونو ڈیفی  ٹئینسی سنڈروم (Acquired Immuno Deficiency syndrome) کا قائم مقام ہے۔ اس کا مطلب ہے ایک فرد کی زندگی میں حاصل کی گئی امّیون نظام کی کمی جو بتاتی ہے یہ چھوت والی بیماری نہیں ہے۔ سنڈروم کا مطلب ہے علامتوں کا ایک گروہ۔ AIDSسب سے پہلے 1981 میں رپورٹ کیا گیا اور پچھلے تقریباً پچیس برسوں میں یہ دنیا بھر میں پھیل کر 25 ملیٔن سے زیادہ لوگوں کی موت کا سبب بنا ہے۔
AIDS کا سبب ہومین امّیونو ڈیفیشیٔنس وائرس (HIV) ہے ہے جو وائرسسز کے گروہ کا ایک وائرس ہے جسے retrovirus کہتے ہیں جس میں ایک غلاف کے اندر RNA جینوم بند ہوتا ہے (شکل 8.6)۔ عموماً HIV تعدیے کی منتقل (a) متعدی شخص کے ساتھ جنسی تعلق، (b) آلودہ خون یا خون کی اشیا کی منتقلی، (c) آلودہ انجکشن کی سوئیوں کا اشتراک جیسے انٹراوینس طور پر ڈرگس کا غلط استعمال کرنے والے اور (d) پلیسینٹا کے ذریعے متعدی ماں سے بچے کو۔ پس وہ لوگ جنھیں اس تعدیے کا بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے ان میں وہ افراد جن کے کئی جنسی ساتھی ہیں ڈرگس کے عادی جو انٹراوینس طور پر ڈرگس لیتے ہیں، وہ افراد جنھیں بار بار خون منتقل کرانا پڑتا یا وہ بچے شامل ہیں جو ایک متعدی ماں سے پیدا ہو ئے ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کب لوگوں کو بار بار خون منتقل کرانے کی ضرورت ہوتی ہے؟ معلوم کیجیے اور ایسے حالات کی ایک فہرست تیار کیجیے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ HIV/AIDS محض چھونے یا جسمی رابطے سے نہیں پھیلتا۔ یہ صرف جسم کے رقیقوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ پس جسمانی اور نفسیاتی بہتری کے لیے یہ ضروری ہے کہ HIV/AIDS متعدی لوگوں کو خاندان اور سوسائیٹی سے الگ نہ کیا جائے۔ تعدیے اور AIDS کی علامتیں ظاہر ہونے کے درمیان ہمیشہ رقفہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں چند مہینوں سے کئی سالوں کا فرق ہو سکتا ہے (عموماً 10-15 سال)
pic 9 chapter 8
شکل 8.6  ریٹرو وائرس کی ریپلیکیشن
ایک شخص کے جسم میں داخل ہونے کے بعد وائرس میکروفیجز (macrophages) میں داخل ہوتا ہے جہاں وائرس کا RNA جینوم ایک انیزائم رِورس ٹرانس کرپٹیس (reverse transcriptase) کی مدد سے وائرل DNA بنانے کے لیے ریپلیکیٹ کرتا ہے۔ یہ وائرل DNA ہوسٹ سیل کے DNA میں شامل ہوکر متعدی سیل کو وائرس ذرات پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے (شکل 8.6)۔ میکروفیجز وائرس پیدا کرنا جاری رکھتے ہیں اور اس ایک HIV فیکٹری کی طرح کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھHIV مددگار T۔ لمفوسائیٹس (TH) میں داخل ہو جاتا ہے، ریپلیکیٹ کرتا ہے اور نئے وائرسسز پیدا کرتا ہے۔ یہ نئے  وائرسسز خون میں چھوڑے جانے پر دوسرے مددگار T۔لمفوسائیٹس پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ دہرایا جاتا ہے جس سے متعدی شخص کے جسم میں رفتہ رفتہ مددگار T۔لمفوسائیٹس کی تعداد میں کمی ہو جاتی ہے۔ اس مدت کے دوران وہ شخص باربار بخار ڈائیریا اور وزن کی کمی میں مبتلا ہوتا ہے۔ مددگار T۔ لمفوسائیٹس کی تعداد میں کمی ہونے کی وجہ سے وہ شخص ایسے تعدیوں کا بھی شکار ہونے لگتا ہے جس پر دوسری صورت میں قابو پایا جا سکتا تھا مثلاً وہ جو بیکٹیریا بالخصوص Mycobactertium، وائرسسز ، فنجائی اور یہاں تک کہ Toxoplasma جیسے پیراسائیٹس کی وجہ سے ہو سکتے تھے۔ مریض اس حد تک امّونو۔ڈیفیشیٔنٹ ہو جاتا ہے کہ وہ ان تعدیوں کے خلاف اپنی حفاظت کا اہل نہیں ہوتا۔ AIDS کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے والا تشخیص ٹیسٹ ELISA) enzyme linked immuno-sorbent assay )ہے۔ اینٹی وائرل ڈرگس سے AIDS کا علاج حرف جزوی طور پر مؤثر ہے۔ وہ صرف مریض کی زندگی کو طول دے سکتے ہیں، موت کو رو نہیں سکتے جو یقینی ہوتی ہے۔
AIDS سے بچاؤ: کیونکہ AIDS کا کوئی علاج نہیں ہے، احتیاط بہترین تدبیر ہے۔ مزید یہ کہ HIV تعدیہ زیادہ تر شعوری طرز عمل سے پھیلتا ہے نہ کہ کسی ایسے عمل سے جو اَن جانے میں ہو جاتا ہو جیسے نمونیا یا ٹائیفائیڈ۔ بلاشبہ خون منتقل کیے گیے مریضوں ، نومولود بچوں (ماں سے) وغیرہ میں تعدیہ مونیٹرنگ کی کمی سے ہو سکتا ہے۔ واحدعذر لاعلمی ہو سکتا ہے اور بالکل ٹھیک کہا گیا ہے۔ ’’لاعلمی سے مت مرد‘‘۔ ہمارے ملک میں نیشنل ایڈس کنٹرول آرگینائزیشن (NACO) اور دوسری غیر سرکاری تنظیمیں  (AIDS (NGOsکے بارے میں لوگوں کو کافی معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ WHO نے HIV تعدیے کو پھیلنے سے روکنے کے لیے متعدد پروگرامس شروع کیے ہیں۔ خون کو HIV سے محفوظ بنانے کے لیے (بلڈ بینکوں سے) عوامی اور پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں Disposable سوئیوں اور سیرینجز کے استعمال کو یقینی بنانا، کنڈومس کی مفت تقسیم، ڈرگس کی لت کا انسداد ، محفوظ جنسی اختلاط کی وکالت اور ممکنہ آبادیوں میں AIDS جانچ کو بڑھاوا دینا کچھ ایسے اقدامات ہیں جو لیے جاتے ہیں۔
HIV سے تعدیہ یا AIDS میں مبتلا ہونا ایسی باتیں ہیں جنھیں چھپانا نہیں چاہیے۔ورنہ تعدیہ اور بہت سے لوگوں میں پھیل سکتا ہے۔ AIDS/HIV زدہ لوگوں کو مدد اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی نہ یہ کہ سوسائٹی ان سے اجتناب برتے۔ جب تک سوسائٹی یہ نہ سمجھے کہ یہ ایک مسئلہ ہے جسے مجموعی انداز سے نپٹایا جانا چاہیے، اس بیماری کے کئی گنا پھیلنے کے اندیشے بڑھتے رہیں گے۔ یہ ایک عارضہ ہے جسے سوسائٹی اور طبی اشتراک دونوں ہی مل کر بیماری کے پھیلنے سے بچا سکتے ہیں۔

8.4  کینسر (Cancer)

کینسر انسانوں کی مہلک ترین بیماریوں میں سے ایک ہے اور عالمگیر پیمانے پر اموات کا ایک اہم سبب ہے۔ ایک ملین سے زیادہ ہندوستانی کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک کیثر تعداد ہر سال فوت ہو جاتی ہے۔ کینسر کے وجوہات یا سیلس کی اونکوجینک ٹرانسفورمیشن (کینسر بنانے سیلس میں تبدیلی)، اس کا علاج اور انسداد حیاتیات اورطب میں تحقیق کے انتہائی اہم میدانوں میں سے کچھ ہیں۔
ہمارے جسم میں سیل کی نشوونما اور تفریق انتہائی طورپر منظم اور ضابطگی ہوتی ہے۔ کینسر کے سیلس میں ان منظم میکنیزمس میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ نارمل سیلس ایک خصوصیت کا مظاہرہ کرتے ہیں جسے Contact inhibition کہتے ہیں جس کی وجہ سے دوسرے سیلس کے ساتھ رابطہ ان کی غیر منضبط نشوونما کو روکتا ہے۔ کینسر سیلس میں یہ خصوصیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کینسر زدہ سیلس بس تقسیم کو جاری رکھتے ہیں جس سے سیلس کے مجموعے بن جاتے ہیں جو tumors کہلاتے ہیں۔ ٹیومرس دو قسم کے ہوتے ہیں  بینائن(benign) اور میلگنینٹ (malignant)۔ عام طور پر Benign tumors اپنی ابتدائی جگہوں پرقائم رہتے ہیں۔ وہ جسم کے دوسرے حصوں میں نہیں پھیلنے اور کم نقصان کا سبب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس malignant tumors افزائش کرنے والے سیلس کا مجموعہ ہوتے ہیں جنھیں  نیوپلاسٹک یا ٹیومر سیلس (neoplastic or tumor cells) کہتے ہیں۔ یہ سیلس بہت تیزی سے بڑھتے اور اطراف کے نارمل ٹشو پر حملہ کرتے اور اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ یہ سیلس بڑی سرگرمی سے تقسیم ہوتے اور بڑھتے ہیں وہ اہم تغذیے کے لیے سبقت لے کر نارمل سیلس سے فاقہ کراتے ہیں۔ ایسی ٹیومرس سیلس الگ ہو کر خون کے ذریعے دور کی جگہوں پر جا پہنچتے ہیں اور جسم میں وہ جہاں کہیں بھی اٹک جاتے ہیں وہاں ایک نئی ٹیومر شروع کر دیتے ہیں۔ یہ خصوصیت جو metastasis کہلاتی ہے جو میلگنینٹ ٹیومرس کی انتہائی خوفناک خصوصیت ہے۔
کینسر کے اسباب :  نارمل سیلس کو کینسر زدہ نیوپلاسٹک سیلس میں تبدیل ہونے کی ترغیب فیزیکل ، کیمیکل اور بائیولوجیکل ایجینٹوں سے ملتی ہے۔ ان ایجنٹوں کو carcinogens کہتے ہیں۔ آیونائیزنگ ریڈی ایٹنس (Ionising radiations: تابکاری) جیسے x شعاعیں اور گاما شعاعیں  اور نان۔آیونائیزنگ ریڈی ایشنس جیسے UV سے DNA کو ضرر پہنچتا ہے جس سے نیوپلاسٹک تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ تمباکو کے دھوئیں میں موجود کیمیائی کارسینوجنس کی پھیپھڑوں کے کینسر کے اہم سبب کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے۔ کینسر پیدا کرنے والے وائرسس (جو oncogenic viruses) کے جینس viral oncogenesکہے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ کئی جینس جنھیں (c-onc (cellular oncogenes یا proto oncogenes کہتے ہیں انھیں نارمل سیلس میں بھی شناخت کیا گیا ہے جنہیں جب بعض مخصوص حالات میں فعال کیا جاتا ہے تو وہ سیلس کا اونکوجینک ٹرانس فارمیشن کر دیتے ہیں۔
کینسر کا پتا لگانا اور تشخیص : کینسرس کا ابتداء ہی میں پتا چلا لینا ضروری ہے کیونکہ اس طرح بہت سے معاملات میں  بیماری کا کامیابی سے علاج ہو جاتا ہے۔ کینسر کا پتا چلانے کا انحصار بائیوپسی (biopsy) اور ٹشوز کے ہسٹوپیتھولوجیکل مطالعات اور خون کے کینسر میں سیلس کی بڑھی ہوئی تعداد کے لیے خون اور ہڈی کے گودے کی جانچوں پر ہوتا ہے۔ بائیوپسی میں ایک پیتھولوجسٹ کے ذریعے مشتبہ ٹشو کے ایک ٹکڑے کی پتلی تراشیں کاٹ کر رنگی جاتی ہیں اور خوردبین کے نیچے ان کا معائینہ کیا جاتا ہے (ہسٹوپیتھولوجیکل مطالعات)۔ اندرونی اعضاء کے کینسر کا پتا لگانے کے لیے ریڈیوگرافی (x۔ شعاعوں کا استعمال)، CT(کمپیوٹڈ ٹوموگرافی) اور MRI (میگنیٹک ریزونینس امیجنگ) بہت مفید ہیں ۔ کمپیوٹڈ ٹوموگرافی میں x۔شعاعوں کے استعمال سے کسی عضو کے اندر کا سر العباذی (3-dimentional) عکس پیدا کیا جاتا ہے۔ MRI طاقتور میگنیٹک فیلڈس اور نان آیونائیزنگ ریڈی ایشنس کے استعمال سے زندہ ٹشو میں پیتھولوجیکل اور فیزیولوجیکل تبدیلیوں کو یقین کے ساتھ پتا لگاتا ہے۔
بعض کینسر کا پتا لگانے کے لیے کینسر مخصوص ایجینٹوں کے خلاف اینٹی باڈیز بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ افراد میں ان جینس کا پتا لگانے کے لیے مالیکیولر بائیولوجی ٹیکنیکوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں بعض کینسرس کو قبول کر لینے کی،خاصیت توارثی ہوتی ہے۔ ایسی جینس کی شناخت جو ایک فرد کو بعض کینسرس کے لیے پہلے ہی سے آمادہ بناتی ہیں، کینسر سے بچنے میں بہت مددگار ہو سکتی ہے۔ ایسے افراد کو مخصوص کارسینوجینس سے بچنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے جن کے تئیں وہ زود جس ہوں (جیسے پھیپھڑوں کے کیندر کی صورت میں تمباکو کا دھواں)۔
کینسر کا علاج : کینسر کے علاج کے لیے سرجری، ریڈی ایشن تھیراپی اور امّیونوتھیراپی عام طریقے ہیں۔ ریڈیوتھیراپی میں ٹیومر کے سیلس پر ہلاکت خیز شعاع ریزی (iraadiated lethally) کی جاتی ہے اور ٹیومر ماس کے اطراف کے نارملٹشو کا مناسب خیال رکھا جاتا ہے۔ کئی کیموتھیراپیوٹک (chemotherapeutic) ڈرگس کینسر زدہ سیلس کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ خاص ٹیومرس کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ زیادہ تر ڈرگس کے دوٹیمی اثرات ہوتے ہیں جیسے بالوں کا جھڑنا، انیمیا وغیرہ۔ زیادہ تر کینسروں کا علاج سرجری ، ریڈیو تھیراپی اور کیموتھیراپی کو ملا کر کیا جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ٹیومر سیلس پتا لگانے کے عمل اور مامونی نظا م سے ختم ہونے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے مریضوں کو ایسی چیزیں دی جا سکتی ہیں جنھیں بائیولوجیکل ریسپائونس موڈیفائیرس(biological response-modifiers) کہتے ہیں جیسے a-interferons جو ان کے مامونی نظام کو متحرک کر کے ٹیومر کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

8.5 ڈرگس اور الکوحل کا غلط استعمال 

سروے اور اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ ڈرگس اور الکوحل کا استعمال بالخصوص نوجوانوں میں بڑھ رہا ہے۔ یہ سچ مچ ایک قابل غور کی بات ہے کیونکہ بہت سے ضرر رساں اثرات اس کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ مناسب تعلیم اور رہنمائی کے ذریعے نوجوانوں کو خود کو ان خطرناک طرز عمل سے محفوظ رہنے اور ایک صحت مند طرز زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔
ڈرگس جن کا عموماً غلط استعمال ہوتا ہے وہ ہیں اوپی اوئیڈس (opioids)، کینّابی نوائیڈس (cannabinoids) اور الکالوائیڈس (alkaloids)۔ ان میں سے زیادہ تر پھولدار پودوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ کچھ فنجائی سے بھی حاصل ہوتی ہیں۔
pic 10 chapter 8

Opioids ہمارے مرکزی عصبی نظام اور گیسٹروانٹیسٹائنل راستے میں موجود مخصوص اوپی اوئیڈ ریسیپٹرس (opioid receptors) سے بندش کرتے ہیں۔ ہیروئن (شکل 8.7) جو عموماً اسمیک کہلاتی ہے۔ کیمیائی طور پر ڈائی اسٹیل مورفین (diacetylmor phine) ہے ایک سفید، بے بو، تلخ کِرسٹیلائن مرکب ہے۔ اس مورفین کے ایسٹیلیشن عمل کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے (شکل 8.7) جو پوپی پودے، Papaver somniferum (شکل 8.8) کے دودھ سے نکالی جاتی ہے۔ عموماً نسواریا انجکشن کی شکل میں لی جانے والی ہیروئن ایک Depressant ہے اور جسم کے افعال سست کر دیتی ہے۔
pic 11 chapter 8
canabinoids کیمیکلس کا ایک گروپ ہے (شکل 8.9) جو کینابی نوائیڈس ریسیپٹرس کے ساتھ تعمل کرتے ہیں جو بنیادی طور پر دماغ میں موجود ہوتے ہیں۔ قدرتی کینابی نوائیڈس ایک پودے Cannabis satliva (شکل 8.10) کی پھولواری سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ پھول کے اوپری حصے، پتے اور کینابس پودے کا گوند میری جوانا (marijuana) ، ہشیش (hashish) ، چرس (charas) اور گانجا (ganja) پیدا کرنے کے لیے مختلف ترکیبوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ عموماً سانس کے ساتھ یا منہ سے کھانے پر یہ جسم کے کارڈیووسکولر نظام پر اپنے اثرات کے لیے جانی جاتی ہیں۔
کوکا ایلکولائیڈ یا Cocaine کو کا پودے، Erythroxylum coca سے حاصل ہوتی ہے جو ساؤتھ امریکہ سے تعلق رکھتاہے۔ یہ نیورو ٹرانسمیٹر ڈوپامین (dopamine) کی منتقلی میں مداخلت کرتی ہے۔ کوکین جو عام طور سے cock یا crack کہلاتی ہے ناک سے لی جاتی ہے۔ مرکزی عصبی نظام پر اس کا ایک قوت بخش تحریکی عمل ہوتا ہے جس سے بشاشت اور بڑھی ہوئی توانائی کا احساس ہوتا ہے۔ کوکین کی زیادہ خوراک تصوراتی اسباب پیدا کرتی ہے۔ ہیلیوسینوجینک خصوصیات کے دوسرے معروف پودوں میں Atropa belladona اور Datura (شکل 8.11) آتے ہیں۔ آج کل بعض کھلاڑیوں کے ذریعے کینابی نوائڈی بھی غلط طور پر استعمال ہونے لگے ہیں۔ 
pic 12 chapter 8
شکل 8.11  دھتورے کی پھول دار شاخ
  باربیٹوریٹس (Barbiturates)، ایمفیٹامائنس (amphetamines)، بینیزوڈیازیپینس (benzodiazepines)، لائی سرجک ایسڈ ڈائی ایتھائل ایمائیڈس جیسی ڈرگس اور ان جیسی دوسری ڈرگس ایسی ہیں جو مریضوں کو ان کی دماغی بیماریوں جیسے یا سیت اور نیند آنے کے عارضوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے ان دنوں اکثرغلط طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ مورفین ایک بے حد موئثر مسکّن اور درد دور کرنے والی چیز ہے اور ان لوگوں کے لیے جن کی سرجری ہوئی ہو بے حد مفید ہے۔ ہیلیوسینوجینک خصوصیات رکھنے والے کئی پودے، پھل اور بیج سیکڑوں سال سے لوک دوائوں، مذہبی رسم و رواج میں عالمی پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ جب انھیں طبّی کے علاوہ دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے یا ایسی مقدار میں لیا جائے جو عموماً کسی شخص کے فیزیکل ، فیزیولوجیکل یا سائیکولوجیکل کاموں میں بے ربطی پیدا کروے تو یہ ڈرگس کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ 
سگریٹ نوشی بھی سخت ڈرگس کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ تمباکو 400 سال سے بھی زیادہ سے انسانوں کے ذریعے استعمال کی جا رہی ہے۔ اسے پیا، چبایا یا نسوار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تمباکو میں کثیر تعداد میں کیمیائی اشیا ہوتی ہیں جن میں نیکوٹین بھی شامل ہے جو ایک ایلکیلائیڈ ہے۔ نیکوٹین دوران خون میں ایڈری نیلین (adre naline) اور نور ۔ ایڈری نیلین (nor-adrenaline) چھوڑنے کے لیے ایڈرینل غدودوں کو متحرک کرتی ہے۔ یہ دونوں خون کے دباؤ اور دھڑکن کی شرح بڑھاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کا پھیپھڑوں پیشاب کے مثانے اور گلے کے کینسروں برونکائیٹس، ایمفائی سیما، کورونری ہارٹ ڈیسیز، گیسٹرک السر وغیرہ کے واقعات سے تعلق ہے۔ تمباکو چبانے کا منہ کی کیوٹی کے کینسر کے اضافی خطرے سے تعلق ہے۔ سگریٹ نوشی خون میں کاربن مونو آکسائیڈ (co) کی مقدار بڑھاتی اور ہیم بونڈ (haembound) آکسیجن کے ارتکاز کو گھٹا دیتی ہے۔ اس سے جسم میں آکسیجن کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ 
جب کوئی سیگریٹ کے پیکٹس خریدتا ہے تو وہ اس پر موجود قانونی وارننگ کو پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا جو سیگرٹ نوشی کے خلاف خبردار کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ صحت کے لیے کیسے ضرر پہچانے والی ہے۔ پھر بھی سماج میں سیگرٹ نوشی بہت عام ہے چاہے وہ نوجوانوں کی ہو یا بوڑھوں کی۔ سیگرٹ نوشی کرنے اور تمباکو چبانے اور اس کی لت لگنے کی کیفیت جاننے پر نوجوانوں اور بوڑھوں کو ان عادتوں سے بچنا چاہیے۔ ہر عادی کو عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے صلاح مشورے اور طّبی مدد درکار ہوتی ہے۔

8.5.1 بلوغت اور ڈرگ/ الکوحل کا غلط استعمال

(Adolescence and Drug/Alcohol Abuse)

بلوغت کے دونوں مطلب ہیں، ’’ایک مدت‘‘ اور ’’ایک عمل‘‘ جس کے دوران ایک بچہ سماج میں مؤثر طور پر ہاتھ بٹانے کے لیے اپنے رویّے اور اعتقاد کے اعتبار سے پختگی حاصل کرتا ہے۔ 12 سے 18 سال کے بیچ کی مدت کو دور بلوغت یاAdolescenceسمجھا جا سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بلوغتAdolescence بچپن اور جوانی کو ملانے والا پل ہے۔ بلوغت کے ساتھ کئی حیاتیاتی اورنفسیاتی تبدیلیاں جڑی ہیں۔ پس بلوغت ایک فرد کی ذہنی اور نفسیاتی نمو کا ایک انتہائی پُر خطر دور ہے۔
تجّس، جوش وجذبات اور تجربات عام اسباب ہیں جو نوجوانوں کو ڈرگس اور الکوحل کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ایک بچے کا قدرتی تجسّس اسے تجربے کے لیے اکساتا ہے۔ یہ ان اثرات سے مزید پیچیدگی اختیار کرتا ہے جو الکوحل یا ڈرگ کے استعمال کے فوائد کے طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ پس ڈرگ یا الکوحل کا پہلا استعمال تجسّس کی وجہ سے یا تجربے کے لیے ہوتا ہے، تاہم بعد میں بچہ مسائل سے فرار حاصل کرنے کے لیے انھیں استعمال کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں پڑھائی اور امتحانات میں امیتاز حاصل کرنے کے دبائو سے جو تناؤ پیدا ہوتا ہے اس نے بھی نوجوانوں کوالکوحل اور ڈرگس کی ترغیب دینے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ نوجوانوں میں یہ تصور کہ سیگریٹ پینا پرسکون یا ترقی پسند ہوتا ہے، ایک لحاظ سے نوجوانوں میں ڈرگس اور الکوحل کے استعمال کی عادتوں کو شروع کرنے کا ایک اہم سبب ہے۔ اس خیال کو فروغ دینے میں ٹیلیویژن، فلمیں، اخبارات، انٹرنیٹ بھی مدد کرتے ہیں۔ دوسری باتیں جو بالغوں میں ڈرگس یا الکوحل کے غلط استعمال سے جڑی دیکھی گئی ہیں وہ غیر مستحکم اور غیر حوصلہ بخش خاندانی تشکیل اور امتیازانہ دباؤ ہیں۔

8.5.2 لت اور انحصار(Addiction and Dependence)

عارضی فوائد کا احساس کرنے کی وجہ سے ڈرگس اکثر باربار استعمال کی جاتی ہیں۔ سب سے زیادہ اہم بات جس کو سمجھنے میں ایک شخص ناکام رہتا ہے وہ الکوحل اور ڈرگس کی پوشیدہ لت کی خصوصیت ہے۔ لت بعض اثرات سے نفسیاتی لگائو ہے۔ جیسے ڈرگس اور الکوحل سے جڑا بشاشت اور عافیت کا ایک عارضی احساس۔ یہ لوگوں کو اس وقت بھی انھیں لینے پر آمادہ کرتے ہیں جب ان کی ضرورت نہیں ہوتی یا جب ان کا استعمال ذاتی طور پرتباہ کن ہوتا ہے۔ ڈرگس کے باربار استعمال سے ہمارے جسم میں موجود ریسیپٹرس میں انھیں برداشت کرنے کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً ڈرگس یا الکوحل کی زیادہ مقدار ہی سے ریسیپٹرس میں ردعمل پیدا ہوتا ہے جس سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور لت پڑتی ہے۔ البتہ ذہن میں یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ ان ڈرگس کا استعمال خواہ ایک ہی بار کیوں نہ ہو وہ لت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پس ڈرگس اور الکوحل کی لت کی قوت استعمال کرنے والے کو برائی کے چکر میں پھانس لیتی ہے اور وہ اس کا عادی (غلط استعمال) بن جاتا ہے جس سے وہ نکل نہیں سکتا۔ عموماً صلاح اور رہنما ئی کی عدم موجودگی میں ایک شخص عادی ہو جاتا ہے اور ان کے استعمال پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ 
انحصار (dependence) جسم کا ایک خصوصیت کو ظاہر کرنے کا رجحان ہے جو ڈرگس /الکوحل کی مقررہ مقدار اچانک روک دیے جانے سے تو ایک ناخوشگوار withdrawal syndrome کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ یہ کیفیت بے چینی، تذبذب، متلی اور پسینہ آنے سے ظاہر ہوتی ہے لیکن جب استعمال دوبارہ شروع کر دیا جائے تو دور ہو جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں فرار کی علامتیں بہت شدید یہا ں تک زندگی کے لیے خطرہ ہوتی ہیں اور تب اس شخص کو طبی نگہداشت کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ 
انحصار کی وجہ سے ایک مریض اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خاصی رقم حاصل کرنے کے چکر میں سماجی فرائض کو نظرانداز کرتے ہے۔ اس سے سماج کے ساتھ نبھاؤ کے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

8.5.3  ڈرگ / الکوحل کے غلط استعمال کے اثرات

(Effects of Drug/Alcohol Abuse)

ڈرگ اور الکوحل کے غلط استعمال کے فوری تباہ کن اثرات غیر ذمہ دارانہ برتائو، وحشی پن، اور وہشت گردی کی شکل میں رونما ہوتے ہیں۔ ڈرگ کی اضافی مقدار سے کاما اور تنقسی رکاوٹ سے موت کے علاوہ دماغ کا خونی رساؤ  Hemages ہوسکتا ہے۔ ڈرگس کی آمیزش یا انھیں الکوحل کے ساتھ لینے میں عموماً مقدار بڑھ جاتی ہے اور موت تک سکتی ہے۔ نوجوانوں میں ڈرگ اور الکوحل کی عام ترین خطرے کی علامت میں پڑھائی میں کمزورہو جانا، اسکول / کالج سے بے سبب غیر حاضری ، ذاتی صفائی ستھرائی میں عدم دلچسپی، فرار، علیحدگی پسندی، یاسیت، تھکاوٹ، سخت پسندی اور باغیانہ برتائو، خاندان اور دوستوں سے بگڑتے تعلقات، شوق کے کاموں سے عدم دلچسپی، سونے اور کھانے کی عادتوں میں تبدیلی، وزن، بھوک میں اتار چڑھاؤ وغیرہ شامل ہیں۔
ڈرگ اور الکوحل کے بعض بہت دور رس نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ڈرگ /الکوحل کا غلط استعمال کرنے والے پیسے حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتا تو وہ چوری کر سکتا/سکتی ہے۔ تباہ کن اثرات صرف اس شخص تک محدد نہیں رہتے جو ڈرگ یا الکوحل کا استعمال کرتا ہے۔ بعض اوقات ڈرگ الکوحل کا عادی اپنے پورے خاندان اور دوستوں کے لیے ذہنی اور مالی پریشانیوں کا سبب بن جاتا ہے۔
وہ جو ڈرگس خون کے ذریعے (ایک سوئی اور سیرنج کی مدد سے براہ راست نس میں انجکشن )لیتے ہیں انھیں AIDS اور ہیپیٹائٹس B- کے شدید تعدیے کے امکانات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔ وہ وائرسسز جو ان بیماریوں کے ذمہ دارہوتے ہیں، ایک سے دوسرے شخص میں سیرینجز کے اشتراک سے منتقل ہوتے ہیں AIDS اور ہیپیٹائٹسB- دونوں کے تعدیے آہستہ پذیر تعدیے ہوتے ہیں جو بالاخر مہلک ثابت ہوتے ہیں۔دونوں تعدیے خون کے ذریعہ منتقل ہوسکتے ہیں۔
بلوغت کے دوران الکوحل کے استعمال کے بھی دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس سے بلوغ میں بہت زیادہ پنپنے کی عادت ہو سکتی ہے۔ ڈرگس اور الکوحل کو لمبے عرصے تک استعمال کرنے سے عصبی نظام اور جگر کو نقصان پہنچتا ہے (cirrhosis)۔ حمل کے دوران ڈرگس اور الکوحل کا استعمال بھی جنین پر تباہ کن اثرات کے لیے جانا جاتا ہے۔
ڈرگ کا دوسرا غلط استعمال وہ ہے جو بعض کھلاڑی اپنی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کرتے ہیں۔ وہ نارکوٹک اینل جیسک، اینا بولک اسٹیرائیڈس، ڈایوریٹکس اور بعض ہارمونس کا عضلات کی مقدار اور قوت بڑھانے اور اپنے جوشیلے پن کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور نتیجتاً اپنے کھیل کی کارکردگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ عورتوں میں اینابولک اسٹیرائیڈس کے استعمال کے ضمنی اثرات میں مردانہ پن (مردوں جیسی خصوصیات)، جوشیلے پن میں اضافہ، موڈ میں ردوبدل ، یا سیت، ایب نارمل حیضی دور ، جسم اور چہرے پر بالوں کی بہتات، کلائٹورس کا لمباپن اور آواز کا بھاری پن شامل ہے۔ مردوں میں اِن اثرات میں مہاسے، جوشیلے پن میں اضافہ، موڈ کا اتار چڑھاؤ یاسیت، بیضوں کے سائز میں کمی، اسپرمس کی پیداوار میں کمی، گردوں اور جگر کی قوت اور کام میں بگاڑ، پستانوں کا بڑھنا، قبل از وقت گنجاپن اور پروسٹریٹ غدودوں کا بڑھنا شامل ہے۔ زیادہ لمبے عرصے استعمال کرنے سے یہ اثرات دائمی ہو جاتے ہیں۔ بالغ مرد یا عورت میں چہرے اور جسم پر بہت زیادہ مہاسے اور لمبی ہڈیوں کے نشوونما والے مرکزوں کا قبل از وقت بند ہونے سے ان کی بڑھت ٹھٹھر جاتی ہے۔

8.5.4  احتیاط اور انسداد(Prevention and Control)

صدیوں پرانی کہاوت ’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘ یہاں بھی صحیح ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ عادتیں جیسے سیگرٹ پینا، ڈرگ یا الکوحل لینا چھوٹی عمر ہی میں پڑتی ہیں اور بلوغت کے دوران پروان چڑھتی ہیں۔ پس سب سے بہتر یہ ہے کہ ان صورتوں کی نشان دہی کی جائے جو ایک نوعمر کو ڈرگ یا الکوحل کے استعمال کی طرف دھکیل سکتی ہوں اور وقت سے پہلے ہی اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ اس سلسلے میں والدین اور استادوں کی خصوصی ذمہ داری ہے۔ والدین کی محبت جس میں ایسی اعلی درجے کی تربیت اور پائیدار ڈیسپلن شامل ہو کسی شے (الکوحل/ ڈرگ/تمباکو) کے غلط استعمال کے خطرے کو کم کر دیتا ہے۔ یہاں بتائے گیے اقدامات نوعمروں میں خصوصیت سے الکوحل اور ڈرگس کے غلط استعمال سے احتیاط اور انسراد کے لیے مفید ہوں  گے۔
(i) غیر ضروری امتیازی دبائو سے بچیں ۔ ہر بچے کی اپنی ایک پسند اور شخصیت ہوتی ہے جس کی غرت ہونی چاہیے اور اسے بڑھاوا ملنا چاہیے۔ ایک بچے پر غیر ضروری طور پر اپنی حدود سے زیادہ کارگزاری کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے وہ تعلیم ہو، کھیل یا دیگر سرگر میاں ہوں۔ 
(ii) تعلیم اور اصلاحی رہنمائی ۔ مسائل اور تناؤ کا سامنا کرنے اور نامحرومیوں اور ناکامیابیوں کو زندگی کا ایک حصہ سمجھنے کے لیے تعلیم اور اصلاحی رہنمائی ہو۔ یہ بھی بہتر ہوگا اگر بچے کی توانائی کو صحت مند کاموں جیسے کھیلوں، پڑھنے، موسیقی، یوگا اور دیگر ایکسٹرا کیریکولر سرگرمیوں میں لگایا جائے۔
(iii)  والدین اور بزرگوں سے مدد لینا ۔ والدین اور بزرگوں سے فوری مدد لینا چاہیے تاکہ وہ مناسب طور پر رہنمائی کر سکیں۔ مدد تو قریبی اور بھروسے مند دوستوں سے بھی لی جانا چاہیے۔ مناسب مشورے کے ساتھ ان کے مسائل بھی معلوم کیے جانے چاہیے، اس سے نوعمروں کے تفکر اور جرم کے احساسات کو بھی حل پذیر کیا جاسکتا ہے۔
(iv) خطرے کی علامتوں پر نظر رکھنا۔ ہوشیار والدین اور استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اوپر کہی گئی خطرے کی باتوں پرنظر رکھیں اور ان کی شناخت کریں۔ یہاں تک کہ دوست بھی اگر وہ کسی کو ڈرگ یا الکوحل کا استعمال کرتا دیکھیں تو انھیں متعلقہ شخص کی بہتری کے خیال سے بغیر ہچکچاہٹ والدین یا استادوں کے علم میں لانا چاہیے۔ تب عارضے کی ضروری تشخیص اور کارفرما اسباب کے لیے درکار مناسب اقدامات کیے جانے چاہیے۔ اس سے مناسب اصلاحی اقدامات اور علاج کرنے میں مدد ملے گی۔
(v) پیشہ وارنہ اور طبّی مدد لینا ۔ انتہائی سندیافتہ ماہر نفسیات، دماغی معالج اور لتوں سے چھٹکارے اور بحالی کے پروگراموں کی شکل میں بہتری مدد دستیاب ہے جو ایسے لوگوں کی مدد کے کے لیے دستیاب ہے جو بدقسمتی سے ڈرگ/ الکوحل کے غلط استعمال کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسی مدد سے متائثرہ افراد اپنی کوششوں اور قوت ارادی سے مکمل طور پر اپنی الجھن سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اور پوری طرح ایک نارمل اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ 

خلاصہ

صحت صرف بیماری کی عدم موجودگی نہیں ہوتی۔ یہ ایک مکمل جسمانی، ذہینی، سماجی اور نفسیاتی عافیت کی کیفیت ہے۔ ٹائیفائیڈ، کالرا، نمونیا، جلد کے فنجائی تعدیے، ملیریا اور ایسی دوسری بہت سی بیماریاں انسانوں میں تکلیف کا باعث ہوتی ہیں۔ ویکٹر پر منحصر بیماریاں جیسے جان لیوا ملیریا بالخصوص وہ جو Plasmodium falciparum سے ہوتا ہے ، اگر اس کا علاج نہ ہو تو مہلک ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی صفائی ستھرائی اور پائی، عوامی صحت کے اقدامات جیسے فضلے کی مناسب عکاسی، پینے کے پانی کا جراثیم سے پاک کیا جانا، ویکٹرس جیسے مچھروں کا انسداد اور ٹیکہ کاری ان بیماریوں سے بچائو کے لیے بہت مفید ہیں۔ ہم جب بیماری پھیلانے والے ایجٹیوں کے رابطے میں آتے ہیں تو ہمارا مامونی نظام ان بیماریوں سے بچانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ ہمارے جسم پیدائشی مامونیت Innate defences جیسے جلد، میوکس جھلیاں، ہمارے آنسوئمر میں موجود اینٹی مائکروبیل چیزیں، لعاب اور فیگوسائیٹک سیلس ہمارے جسم میں داخل ہونے والے جراثیم کو روکتے ہیں۔ اگر جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہونے میں کا میاب ہو جاتے ہیں نو مخصوص اینٹی باڈیز (ہیومورل امّیون ریسپونس) اور سیلس (امّیون ریسپونس میں ثالثی کرنے والے سیلس) جراثیموں کو مارنے کا کام کرتے ہیں۔ امّیون نظام کی یاداشت ہوتی ہے۔ ایک ہی جراثیم کے بعد کے رابطوں سے، امّیون رد عمل تیز اور شدید ہوتا ہے۔ یہی ٹیکہ کاری اور امیونائیزیشن کے ذریعے حفاظت کی بنیاد بناتا ہے۔ دوسری بیماریوں میں AIDS اور کینسر عالمی پیمانے پر کثیر تعداد میں لوگوں کے موت کی وجہ ہے۔ ہیومین امّیونو۔ ڈیفیشیٔنسی وائرس (HIV) کے سبب ہونے والا AIDS مہلک ہوتا ہے لیکن اگر کچھ احتیاطیں برتی جائیں تو بچا جا سکتا ہے۔ بہت سے کینسرس قابل علاج ہیں اگر ان کی ابتداء ہی میں تشخیص ہو جائے مناسب تھیراپینوٹک اقدامات لیے جائیں۔ حالیہ برسوں میں جوانوں اور نوعمر بچوں میں ڈرگ اور الکوحل کا غلط استعمال ایک دوسرا قابل غور مسئلہ بن رہا ہے۔ الکوحل اور ڈرگ کی لت پڑنے کی وجہ اور تصوراتی فوائید جیسے تنائو سے راحت کے سبب ایک شخص امتیازی دباؤ، امتحانات اور مقابلوں سے متعلق تناؤں کی وجہ سے انھیں لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسا کرنے میں وہ ان کا/کی عادی ہو سکتا/ہوسکتی  ہے۔ ان کے ضرر رساں اثرات کے بارے میں تعلیم، اصلاحی صلاح اور فوری طور پر پیشہ ورانہ اور طبّی مدد لینے سے ایک فرد مکمل طور پر ان برائیوں سے چھٹکارہ حاصل کر لے گا۔

مشق

1۔ عوامی صحت کے وہ کون سے اقدامات ہیں جن کا آپ متعدی بیماریوں کے خلاف بطور احتیاطی تدابیر کے مشورہ دیں گے۔
2۔ حیاتیات کے مطالعے نے متعدی بیماریوں کے کنٹرول میں کس طرح سے ہماری مدد کی؟
3۔ حسب ذیل بیماریاں کس طرح سے پھیلتی ہے؟
(a)   ایمی بی ایسس (b) ملیریا (c) ایسکیری ایسس (d) نمونیا
4 ۔ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے آپ کیا اخدامات کریں گے؟
5 ۔ اپنے استاد سے گفتگو کیجیے کہ DNA ٹیکوں کے حوالے سے ایک موزوں جین کا کیامطلب ہوتا ہے؟
6۔ ابتدائی اور ثانوی لمفوائیڈ اعضاء کے نام بتائیے۔
7۔ حسب ذیل چند معروف مخفّفات ہیں جو اس بات میں استعمال کیے گیے ہیں۔ ہر ایک کو مکمل شکل میں لکھیے:
(a)   MALT (b) CMI (c) AIDS (d) NACO (c) HIV 

8۔ حسب ذیل میں فرق بتائیے اور ہر ایک کی مثالیں دیجیے:
(a) انّیٹ اور ایکوائیرڈ امّیونٹی (b) ایکیٹو اور پیسیوں امّیونٹی
9۔ ایک اینٹی باڈی سالمہ کی لیبل کی ہوئی شکل بنائیے۔
10۔ وہ کون سے واسطے ہیں جن کے ذریعے ہیومین امّیونو ڈیفیشیٔنسی وائرس کی منتقلی واقع ہوتی ہے؟
11 وہ کون سا میکینزم ہے جس سے AIDS وائرس متعدی شخص کے امّیون نظام کی ڈیفشیٔنسی کا سبب بنتا ہے؟
12۔ کیسے ایک کینسر زدہ سیل ایک نارمل سیل سے مختلف ہوتا ہے؟
13۔ میٹاسٹیسِس کا کیا مطلب ہے؟ تشریح کیجیے؟
14۔ الکوحل/ ڈرگ کے غلط استعمال کے سبب ہونے والے مضر اثرات کی فہرست تیار کیجیے۔
15۔  کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوست کسی کو الکوحل /ڈرگ لینے کے لیے اثر ڈال سکتے ہیں؟اگر ہاں تو کیسے کوئی خود کو ایسے اثر سے بچا سکتا ہے؟
16۔ ایسا کیوں ہے کہ جب ایک شخص الکوحل یا ڈرگ لینا شروع کر دیتا ہے تو اس عادت سے چھٹکارا پانا مشکل ہوتا ہے؟ اس پر اپنے استاد سے گفتگو کیجیے۔
17۔ آپ کے خیال سے کیا چیز نوعمری میں الکوحل یا ڈرگس لینے پر آمادہ کرتی ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟