باب 9
غذائی پیداوار میں اضافے کی حکمت عملی
(Strategies for Enhancement in Food Production)
9.1 اینیمل ہزبنڈری
9.2 پلانٹ بریڈنگ
9.3 واحد سیل کی پروٹینس
9.4 ٹشو کلچر
دنیا کی لگاتار بڑھتی آبادی کے ساتھ غذا کی پیداوار میں اضافہ ایک اہم ضرورت ہے۔ ان حیاتیاتی اصولوں کا جن کا اطلاق اینیمل ہزبنڈری اور پلانٹ بریڈنگ پر کیا گیا ہے، غذائی پیداوار کو بڑھانے کی ہماری کوششوں میں ایک اہم رول ہے۔ کئی نئی تکنیک جیسے جنین منتقلی ٹیکنولوجی اور ٹشو کلچر ٹیکنیکس غذائی پیداوار میں مزید اضافہ کرنے میں ایک کلیدی رول ادا کرنے والی ہیں۔
9.1 اینیمل ہزبینڈری (Animal Husbandry)
اینیمل ہزبینڈری مویشیوں کی افزائش نسل اور انھیں پالنے کا ایک زراعتی طریقہ ہے۔ کسانوں کے لیے یہ ایک اہم فن ہے اور یہ جتنا آرٹ ہے اتنا ہی سائنس بھی اینیمل ہزبینڈری میں بھینس، گائیں، سور، گھوڑے، بھیڑ، اونٹ، بکری جیسے مویشیوں کی دیکھ ریکھ اور افزائش شامل ہے۔ جو انسانوں کے لیے فائدے مند ہیں۔ مزید وسعت دینے پر اس میں مرغی پالن اور مچھلی پالن بھی شامل کی جاتی ہیں۔ فشریز یا مچھلی پالن میں مچھلیوں، گھونگوں (شیل فش) اور کرسٹیشیئن (جھینگے، کیکڑے وغیرہ) کو پالنا، پکڑنا اور بیچنا وغیرہ شامل ہے زمانہ قدیم سے شہد کی مکھیاں، ریشم کے کپڑے، جھینگے، کیکڑے، مچھلیاں، پرندے، سور، مویشی، بھیڑ اور اونٹ جیسے جانور انسانوں کے ذریعے دودھ، انڈوں، گوشت، اون، ریشم، شہد وغیرہ جیسی چیزوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا کے مویشیوں کی آبادی کا 70 فیصدی ہندوستان اور چین میں ہے، تاہم یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کی فارم پیداوار میں یہ حصہ صرف 25 فیصدی ہی ہے یعنی فی یونٹ پیداوار بہت کم ہے پس اینیمل بریڈنگ اور دیکھ ریکھ کے روایتی طریقوں کے علاوہ معیاری اور بہتر پیداوار کے حصول کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔
9.1.1 فارمس اور فارم کے جانوروں کا مینجمنٹ
فارم مینجمنٹ کے روایتی طریقوں کو ایک پیشہ ورانہ طرز عمل دے کر ہم اپنی غذائی پیداوار کو بہت کچھ انہی ضروریات کے مطابق بڑھا سکتے ہیں۔ آئیے اینیمل فارم سسٹم میں رائج کچھ انتظامی طریقوں پر بات کرتے ہیں۔
9.1.1.1 ڈیری فارم مینجمنٹ
انسانوں کے استعمال کے لیے دودھ یا دودھ سے بنی چیزیں پیدا کرنے والے جانوروں کا مینجمنٹ ڈیرنگ (Dairying) کہلاتا ہے۔ کیا آپ ایسے جانوروں کی ایک فہرست تیار کرسکتے ہیں جنھیں ایک ڈیری میں پالنے کی آپ کی توقع ہو؟ ایک ڈیری فارم کے ذریعہ وہ کون سی مختلف قسم کی چیزیں ہیں جو دودھ سے بنائی جاسکتی ہیں؟ڈیری فارم مینجمنٹ میں ہم ان طریقوں اور نظاموں پر بحث کرتے ہیں جو دودھ کی پیداوار میں اضافہ اور معیار میں بہتری پیدا کرتے ہیں۔ دودھ کی پیداوار بنیادی طور پر فارم میں موجود نسلوں کے معیار پر منحصر ہوتی ہے۔ زیادہ پیداوارکی قوت رکھنے والی نسلوں کا انتخاب (علاقے کے موسمی حالات کے تحت) اور اس کے ساتھ بیماریوں کے خلاف مدافعت بہت ضروری ہے۔ پیداواری قوت کے حصول کے لیے مویشیوں کی دیکھ ریکھ اچھی طرح ہوتی ہے۔ انھیں اچھی جگہوں پر رکھا جاتا ہے، ان کے لیے مناسب مقدار میں پانی ہونا چاہیے اور انھیں بیماریوں سے پاک رکھنا چاہیے۔ مویشیوں کو سائنسی انداز سے چارہ دیا جانا چاہیے جس میں چارے کی معیار اور مقدار دونوں پر خصوصی توجہ ہو۔ اس کے علاوہ دودھ دوہنے ذخیرہ کرنے اور دودھ اور اس سے بنی چیزوں کی نقل حمل کے دوران از حد صفائی ستھرائی (مویشی اور اسے دوہنے والا دونوں کی) انتہائی ضروری ہیں۔ آج کل بلاشبہ ان میں سے بہت سے طریقے مشینی ہوگئے ہیں جس سے چیزوں کو براہ راست ہاتھ لگانے کے موقع بہت کم ہوگئے ہیں۔ ان سخت اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے بلاشبہ مناسب رکارڈوں کے ساتھ لگاتار معائنہ درکار ہوگا۔ اس سے کسی بھی مسئلہ کو جس قدر جلد ممکن ہو شناخت کرنے اور اسے حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ایک مویشیوں کے ڈاکٹر کی باقاعدگی سے آمد بھی ضروری ہوگی۔
آپ کو شاید یہ دلچسپ لگے کہ اگر آپ کو ڈیری قائم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر ایک سوالنامہ تیار کرنا تو آپ اپنے علاقے کے ایک ڈیری فارم میں جاکر ان سوالات کے جوابات معلوم کریں۔
9.1.1.2 پالٹری فارم کا مینجمنٹ
پالتو مرغ (پرندے) کی ایک جماعت ہے جسے کھانے یا ان کے انڈوں کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ تمثیلی طور پر تو اس میں مرغیاں اور بطخیں اور کبھی کبھی فیل مرغ اور ہنس شامل ہوتے ہیں۔ لفظ پولٹری ان ہی پرندوں کے گوشت کے لیے مستعمل ہے لیکن زیادہ عام معنی میں دوسرے پرندوں کے گوشت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈیری فارمنگ ہی کی طرح بیماری پاک اور مناسب نسلوں کا انتخاب، ٹھیک اور محفوظ فارم حالات، صحیح خوراک اور پانی، اور صفائی ستھرائی اور صحت کی دیکھ ریکھ پولٹری فارم مینجمنٹ کے اہم اجزا ہیں۔
آپ نے برڈ فلو وائرس کے بارے میں ٹیلیویژن میں دیکھا ہوگا یا اخبارات کی رپورٹ دیکھی ہوں گی جس نے ملک میں ایک خوف پیدا کرکے انڈے اور مرغی کی کھپت کو بری طرح متاثر کیا تھا اس کے بارے میں مزید معلوم کیجیے اور بحث کیجیے کہ کیا یہ وحشت آمیز رد عمل حق بجانب تھا۔ اگر اور بھی مرغیاں متعدی ہوں تو ہم فلو کے پھیلنے کو کس طرح روک سکتے ہیں۔
شکل 9.1مویشی اور مرغ کی بہتر کی گئی نسل
(a) جرسی (b)لیگ ہارن
9.1.2 جانوروں کی افزائش (Animal Breeding)
جانوروں کی افزائش اینیمل ہزبینڈری کا ایک اہم پہلو ہے جانوروں کی افزائش کا مقصد جانوروں کی پیداوار کو بڑھانا اور مطلوبہ خصوصیات کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ ہم کس قسم کی خصوصیات کے لیے جانوروں کی افزائش کرتے ہیں؟ کیا خصوصیات کے انتخاب میں جانوروں کے انتخاب کے ساتھ فرق ہوگا؟
ہم اصطلاح ’’نسل (Breed) سے کیا مطلب سمجھتے ہیں؟ جانوروں کا ایک گروہ جو آبائی اعتبار سے ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہوں اور زیادہ تر خصوصیات جیسے عام شکل، ساختی خصوصیات، ہیئت، بناوٹ وغیرہ میں ایک جیسے ہوں وہ ایک نسل سے تعلق رکھنے والے کہلاتے ہیں۔ اپنے علاقے کے فارم میں مویشی اور پولٹری کی کچھ عام نسلوں کے نام معلوم کیجیے۔
جب ایک ہی نسل کے جانوروں کے درمیان افزائش ہو تو اسے Inbreeding کہتے ہیں، جبکہ مختلف نسلوں کے درمیان اختلاط کو Out Breeding کہا جاتا ہے۔
ان بریڈنگ Inbreeding : ایک ہی نسل کے اندر زیادہ قریبی تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان 6-4 نسلوں تک اختلاط کو Inbreeding کہا جاتا ہے۔ نسل کاری کا طریقہ حسب ذیل ہوتا ہے۔ ایک ہی نسل کے اعلیٰ نر اور اعلیٰ مادہ کی شناخت کی جاتی ہے اور جوڑوں میں اختلاط کرایا جاتا ہے۔ ایسے اختلاطات سے حاصل ہونے والی اولادوں کو پرکھ کر ان میں اعلیٰ نر اور اعلیٰ ماداؤں کو مزید اختلاط کے لیے شناخت کیا جاتا ہے۔ ایک مویشی میں ایک اعلیٰ مادہ وہ گائے یا بھیس ہوتی ہے جو ہر بار میں زیادہ دودھ دیتی ہے۔ اس کے برعکس ایک اعلیٰ نر وہ بیل ہوتا ہے جو دوسرے نروں کے مقابلے اعلیٰ نسل پیدا کرتا ہے۔
باب 5 کے اسباق میں مینڈل کی پیدا کی گئی ہوموزائی گیس خالص لائین کو یاد کرنے کی کوشش کیجیے۔ مویشی میں خالص لائینوں کو پیدا کرنے کے لیے اسی طریقے کا استعمال کیا جاتا ہے جو مٹر میں استعمال ہوتی تھیں۔ ان بریڈنگ Homozygosity کو بڑھاتی ہے۔ پس اگر ہم کسی جانور میں خالص لائن پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ان بریڈنگ ضروری ہے۔ ان بریڈنگ ضرررساں پوشیدہ جین کو ظاہر کردیتی ہے جو انتخاب کے ذریعہ چھانٹ دی جاتی ہیں یہ اعلیٰ جینوں کو جمع کرنے اور کم پسندیدہ جینوں کو چھاٹنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ اس لیے یہ طرز عمل جہاں ہر قدم پر انتخاب ہوتا ہے، ان بریڈ آبادی کی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔البتہ چند حالات میں انبریڈنگ بالخصوص شروعاتی ادوار میں ان بریڈ(Inbreed) عموماً زرخیزی یہاں تک کہ پیداوار تک کو گھٹاتی ہے۔ اسے Inbreeding Depression کہتے ہیں۔ جب کبھی یہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے تو افزائیش آبادی کے منتخب جانوروں کا اسی بریڈ کے غیر متعلقہ اعلیٰ جانوروں سے اختلاط کرانا چاہیے۔ اس سے عموماً زرخیزی اور پیداوار بحال ہوجاتی ہے۔
آؤٹ بریڈنگ Out Breeding :
آؤٹ بریڈنگ غیر متعلقہ جانوروں کی نسل کاری ہوتی ہے جو ایک ہی نسل کے افراد کے درمیان (لیکن ان کے اجداد ایک نہ ہوں) یا مختلف نسلوں کے درمیان (کراس۔بریڈنگ) یا مختلف انواع کے درمیان (انٹر۔اسپیسیفک اختلاط) ہوسکتی ہے۔
آؤٹ کراسنگ Out-Crossing :
یہ ایک ہی نسل کے اندر جانوروں کے اختلاط کا طریقہ ہے لیکن ان کی نسل میں دونوں طرف 6-4 نسلوں تک مشترکہ اجداد نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ایسے اختلاط کی اولاد کو آئوٹ کراس (Out-Cross) کہا جاتا ہے ایسے جانوروں کے لیے جو دودھ کی پیداوار میں اوسط سے نیچے اور گائے بھینس وغیرہ میں نشوونما کی شرح سے نیچے رکھتے ہوں یہ بہترین بریڈنگ کا طریقہ ہے۔ اکثر ایک واحد آئوٹ کراس ہی ان بریڈنگ ڈپریشن کو قابو کر لینے کافی ہوتا ہے۔
کراس بریڈنگ Cross Breeding:
اس طریقے میں ایک نسل کے اعلیٰ نروں کا دوسری نسل کی اعلیٰ ماداؤں سے اختلاط کرایا جاتا ہے۔ کراس بریڈنگ سے دو مختلف نسلوں کی مطلوبہ خصوصیات کو ملایا جاتا ہے۔ ہائبرڈ جانوروں کی اولاد کو خود صنعتی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ متبادل طور پر موجودہ نسلوں سے بہتر نئی مستحکم نسلیں پیدا کرنے کے لیے ان میں ایک قسم کی ان بریڈنگ اور انتخاب کرایا جاسکتا ہے۔ اس طریقے سے جانوروں کی بہت سی نئی نسلیں تیار کی گئی ہیں۔ Hisardale ایک نئی نسل ہے جسے پنجاب میں بیکانیری بھیڑ(Bikaneri Ewes) اور میرینوریس (Marino Rams) کی کراسنگ کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔
شکل9۔2خچر
انٹرسپفسک ہائبرڈائزیشن Interspecific Hybridisation :
اس طریقے میں دو مختلف انواع کی نر اور مادہ جانوروں کا اختلاط کرایا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں اولاد میں دونوں والدین کی مطلوبہ خصوصیات مشترک ہوسکتی ہیں اور وہ معاشی اعتبار سے بہت اہم ہوسکتی ہیں جیسے خچر (شکل9.2) کیا آپ جانتے ہیں کہ کس کراس سے خچر پیدا ہوتا ہے؟
Controlled Breeding Experiments
کو Artificial Insemination
کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس نر سے مادہ منویہ اکٹھا کیا جاتا ہے جس کا انتخاب بطور والدین کے ہوتا ہے اور بریڈر کے ذریعہ اسے منتخب مادہ کے تولیدی راستے میں انجکشن سے پہنچا دیا جاتا ہے۔ منویہ کو یا تو فوراً یا پھر یخ بستہ کرکے بعد میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اسے جمی ہوئی شکل میں اس جگہ بھی منتقل کیا جاسکتا ہے جہاں مادہ کو رکھا گیا ہو۔ اس طرح سے مطلوبہ اختلاط کیے جاتے ہیں۔ مصنوعی منویہ ریزی (Artificial Insemination) ہمیں نارمل اختلاط میں آنے والے کئی مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کیا آپ اس پر گفتگو کرکے ان کی ایک فہرست تیار کرسکتے ہیں؟
مصنوعی منویہ ریزی کے باوجود اکثربالغ نر اور مادہ جانوروں کی کراسنگ کی شرح خاصی کم ہوتی ہے۔ ہائرڈس کی کامیاب پیداوار کے مواقع بہتر کرنے کے لیے دوسرے طریقوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ریوڑ کی بہتری کے لیے ایسا ایک طریقہ Multiple Ovulation Embryo Transfer Technology (MOET)
ہے۔ اس طریقے میں ایک گائے کو FSH ہارمونس دیے جاتے ہیں جس سے فولیکیولر میچوریشن (Follicular Maturation) اور سپر اوویولیشن کو ترغیب ملتی ہے اس سے صرف ایک بیضے ہی نہیں (جو عام طور پر وہ ہر دور میں پیدا کرتی ہے) بلکہ اس طرح وہ 8-6 بیضے پیدا کر لیتی ہے۔ جانور یا تو ایک اعلیٰ بیل سے اختلاط کرایا جاتا ہے یا پھر مصنوعی منویہ ریزی کی جاتی ہے۔ بارآور بیضوں کو 32-8 سیلس کی حالت میں غیرسرجیکل طریقے سے دوبارہ حاصل کرکے قائم مقام ماؤں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ نسلی ماں دوسرے دور کے نسلی اوولیولیشن کے لیے پھر دستیاب ہوجاتی ہے۔ اس ٹیکنولوجی کا مویشیوں، بھیڑوں، خرگوشوں، بھینسوں، گھوڑوں وغیرہ میں استعمال کیا گیا ہے۔ زیادہ دودھ دینے والی ماداؤں کی نسلیں اور بہتر قسم کا گوشت (کم چربی کا سوکھا گوشت) دینے والے بیل کم وقت میں ریوڑوں کا سائز بڑھانے کے لیے کامیابی کے ساتھ پیدا کیے گئے ہیں۔
9.1.3 نحل کاری (Bee-Keeping)
شہد کی مکھی پالن یا Apiculture شہد کی پیداوار کے لیے شہد کی مکھی کے چھتوں کو قائم رکھنا ہے۔ یہ ایک قدیمی گھریلو صنعت ہے۔ شہد ایک اعلیٰ تغذئی اہمیت کی غذا ہے اور ساتھ ہی گھریلو دوا سازی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ شہد کی مکھیوں سے موم بھی پیدا ہوتا ہے۔ جس کو بہت سے صنعتی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے جیسے کومیٹکس اور کئی قسم کی پولشیں بنانے میں شہد کی بہت زیادہ مانگ کی وجہ سے شہد کی مکھیاں بڑے پیمانے پر پالی جارہی ہیں اور اس طرح یہ چھوٹے یا بڑے پیمانے پر یہ ایک آمدنی والی صنعت بن گئی ہے۔
شہد کی مکھی پالنے کا کام کسی بھی علاقے میں کیا جاسکتا ہے جہاں کافی مقدار میں مکھیوں کا کھانا بشکل جنگلی جھاڑیوں، پھلوں کے باغ اور کاشتی فصلوں کے موجود ہو۔ شہد کی مکھی کی کئی اقسام ہیں جنھیں پالا جاسکتا ہے۔ ان میں سے سب سے عام نوع Apis Indica ہے شہد کی مکھی کے چھتوں کو کسی شخص کے گھر کے صحن، برآمدے یا چھت پر رکھے جاسکتے ہیں شہد کی مکھی پالن کے لیے زیادہ مزدور درکار نہیں ہوتے۔
شہد کی مکھیوں کو پالنا آسان ہے مگر اس کے لیے مخصوص علم کی ضرورت ہوتی ہے اور کئی تنظیمیں ایسی ہیں جو شہد کی مکھیاں پالنا سکھاتی ہیں کامیاب مکھی پالن کے لیے حسب ذیل نکتے اہم ہیں۔
(i) شہد کی مکھیوں کی عادت اور ہیت کی معلومات
(ii) شہد کی مکھیوں کے چھتے رکھنے کے لیے مناسب جگہوں کا انتخاب
(iii) سوارمس (شہد کی مکھیوں کے جھنڈ) کو پکڑنا اور واپس چھتے میں لانا
(iv) مختلف موسموں کے دوران شہد کی مکھیوں کے چھتوں کا مینجمنٹ اور
(v) دستی طور پر شہد اور موم اکٹھا کرنا، شہد کی مکھیاں ہماری بہت سی فصلوں کی الواع میں زیرگی کے کام انجام دیتی ہیں (باب 2 دیکھیے) جیسے کہ سورج مکھی سرسوں سیب اور ناشپاتی، پھول آنے کے زمانے میں چھتوں کو فصل کے کھیتوں میں رکھنے سے زیرگی کا عمل بڑھتا ہے اور جس سے پیداوار بڑھ جاتی ہے اور جو فصل اور شہد دونوں کی پیداوار کے نقطہ نظر سے مفید ہے۔
9.1.4 مچھلی پالن (Fisheries)
مچھلی پالن ایک صنعت ہے جو مچھلیوں شیل مچھلیوں اور دیکھ کھائے جانے والے چھوٹے آبی جانوروں کو پکڑنے ان کی پروسسنگ اور فروخت کے لیے وقف ہے۔ ہماری ایک بڑی آبادی کا انحصار مچھلیوں، مچھلی سے بنی دوسری چیزوں کے علاوہ غذا کے لیے دوسرے آبی جانوروں جیسے جھینگا کیکڑا لوبسٹر، کھانے والے اوایسٹر وغیرہ پر ہے۔ میٹھے پانے کی کچھ مچھلیاں جو بہت عام ہیں ان میں Catla، Rohu اور عام کارپ شامل ہیں۔ کچھ سمندری مچھلیاں جو کھائی جاتی ہیں ان میں Mackerel ، Sardines ، Hilsa اور Pomfrets
شامل ہیں۔ معلوم کیجیے کہ آپ کے علاقے میں کون سی مچھلیاں کھائی جاتی ہیں؟
ہندوستان کی معیشت میں فشریز کا ایک اہم مقام ہے۔ اس کے ذریعے لاکھوں مچھواروں اور کسانوں کو بالخصوص ساحلی ریاستوں میں آمدنی ہوتی ہے اور روزگار ملتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے تو یہ روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے۔ فشریز میں بڑھتی ہوئی مانگوں کے پیش نظر پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف تکنیکوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایکواکلچر (Aquaculture) اور پسی کلچر (Pisci culture) کی مدد سے میٹھے اور سمندری دونوں طرح کے پانی میں ہم آبی پودوں اور جانوروں کی پیداوار بڑھانے کے قابل ہوئے ہیں۔ Pisciculture اور Aquaculture کے درمیان فرق معلوم کیجیے۔ اس سے فشریز صنعت کی نمو ہوتی ہے اور اسے پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے اور اس سے کسانوں کی آمدنی میں بالخصوص اور ملک کی آمدنی میں عام طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اب ہم نیلے انقلاب (Blue Revolution) کی بات کرتے ہیں کیونکہ وہ سبز انقلاب ہی کے متوازی پر روبہ عمل ہورہا ہے۔
9.2 پلانٹ بریڈنگ (Plant Breeding)
انسانوں اور جانوروں کے لیے روایتی زراعت سے کھانے کے طور پر ایک محدود بایوماس ہی پیدا ہوپاتا ہے۔ کاشت کے علاقوں میں اضافہ اور مینجمنٹ کے بہتر طریقوں سے پیداوار بڑھ تو سکتی ہے مگر صرف ایک حد تک پلانٹ بریڈنگ نے بطور ایک ٹیکنولوجی کے بڑے پیمانے پر پیداوار میں اضافہ کرنے میں مدد دی ہے۔ ہندوستان میں کس نے Green Revolution کے بارے میں نہیں سنا جو ہمارے ملک کے لیے غذائی پیداوار میں نہ صرف قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے بلکہ برآمد کرنے کے لیے بھی ذمہ دار ہے؟ گرین ریوولوشن گیہوں، دھان، مکا وغیرہ میں زیادہ پیداوار اور بیماری سے مبریٰ ویرائٹیز پیدا کرنے کے لیے بڑی حد تک پلانٹ بریڈنگ ٹیکنیکس پر منحصر رہا ہے۔
9.2.1 پلانٹ بریڈنگ کیا ہے؟ (What is Plant Breeding)
پلانٹ بریڈنگ پودوں کی انواع میں بامقصد ردو بدل کرنا ہے تاکہ مطلوبہ نسل کا پودا پیدا ہو جو کاشت کے لیے زیادہ موزوں اور بہتر پیداوار دینے کے علاوہ بیماری کے تئیں مدافعتی ہو۔ روایتی پلانٹ بریڈنگ انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے ہزاروں برس سے ہوتی آئی ہے۔ پلانٹ بریڈنگ کے رکارڈ شدہ ثبوت 11000-9000 سال پہلے تک کے موجود ہیں۔ بہت سی آج کی فصلیں قدیمی وقت سے اگائے جانے کا نتیجہ ہیں۔ ہماری آج کی تمام خاص خاص غذائی فصلیں ان ہی اگائی گئی ویرائٹیز سے حاصل کی گئی ہیں۔ روایتی پلانٹ بریڈنگ میں خالص لائینوں کی کراسنگ یا ہائبریڈائزیشن (Hybridisation) شامل ہوتی ہے جس کے بعد مصنوعی انتخاب کرکے مطلوبہ خصوصیات زیادہ پیداوار دینے والے مقوی اور بیماریوں سے مدافعت رکھنے والے پودے پیدا کیے جاتے ہیں۔ جینیٹکس، مالیکیولر بائیولوجی یا سالماتی حیاتیات اور ٹشوکلچر یا بافتی نشونما میں ترقیات کے ساتھ پلانٹ بریڈنگ اب زیادہ تر مالیکیولر جینیٹک ٹولس کی مدد سے کی جاتی ہے۔
اگر ہمیں ان خصوصیات کی فہرست بنانا ہو جسے بریڈرس فصلوں کے پودوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم سر فہرست فصل کی زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کو رکھیں گے ماحولیاتی دبائو کے تئیں اضافی قوت برداشت (کھاری پن، انتہائی کی درجہ حرارت، سوکھا) جراثیموں کے تئیں مدافعت (وائرس فنجا ئی اور بیکٹیریا) اور کیڑوں کے تئیں اضافی قوت برداشت بھی ہماری فہرست میں آئیں گے۔
پلانٹ بریڈنگ پروگرام دنیا بھر کے سرکاری اداروں اور کمرشل کمپنیوں میں ایک تنظیمی انداز سے انجام دیے جاتے ہیں۔ ایک فصل کی ایک نئی جینیٹک وایرائٹی پیدا کرنے میں اہم اقدامات یہ ہوتے ہیں۔
(i) جینیٹک تغیرات (Collection of Variability) : جینیٹک تغیرات کسی بھی بریڈنگ پروگرام کی جڑ ہے۔ بہت سی فصلوں میں فصل کے جنگلی قربت داروں میں پہلے سے موجود جینیٹک تغیرات دستیاب ہوتے ہیں۔ آبادیوں میں دستیاب قدرتی جین کو موثر طور پر استعمال کرنے کے لیے کاشت ہونے والی انواع کی تمام مختلف جنگلی ویرائٹیز انواع اور قربت داروں کو اکٹھا کرنا اور محفوظ کرنا ایک شرط اوّل ہوتی ہے۔ (جس کے بعد ان کی خصوصیات کے اعتبار سے ان کا موازنہ کیا جاتا ہے)۔ پورا مجموعہ (پودوں/اور بیجوں کا) جس میں ایک فصل میں تمام جینس کے مختلف ایلیس ہوتے ہیں۔ Germplasm Collection کہلاتا ہے۔
(ii) پرکھوں کی جانچ اور انتخاب Evaluation and Selection of Parents :
پودوں میں مطلوبہ خصوصیات کی شناخت کے لیے جرم پلازم کی جانچ کی جاتی ہے۔ منتخب کیے گئے پودوں کی افزائش کرکے انھیں ہائبریڈائزیشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خالص لائن جہاں کہیں مطلوب اور ممکن ہوں پیدا کی جاتی ہیں۔
(iii) منتخب پرکھوں میں دغلا نا (Cross Hybridisation Among the Selected Parents) :
مطلوبہ خصوصیات اکثر دو مختلف پودوں (پیرنٹس) سے یکجا کیے جاتے ہیں، مثلاً ایک پیرنٹ کی زیادہ پروٹین کی خصوصیت کا دوسرے پیرنٹ سے بیماری، مدافعتی خصوصیت کے ساتھ اشتراک ضروری ہوسکتا ہے۔ یہ دو پیرنٹس پودوں کے کراس ہائبرڈاز شو کے ذریعہ ممکن ہے جس سے ایسے ہائبرڈس پیدا ہوتے ہیں جن میں ایک پودے میں مطلوبہ خصوصیات جینی طور پر مشترک ہوتی ہیں یہ بہت وقت لینے والا اور مشکل عمل ہے کیونکہ مطلوبہ نرپودے سے بالن گیرین چنے ہوئے مادہ پودے کے پھولوں کے اسٹگما پر رکھے جاتے ہیں۔ (باب 2 میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کراسس کیسے بنائے جاتے ہیں) ساتھ ہی یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہائبرڈ میں مطلوبہ خصوصیات کا اشتراک ہو ہی جائے عموماً کئی سو سے ایک ہزار تک کراسس میں سے ایک مطلوبہ اشتراک کا مظاہرہ کرتا ہے۔
(iv) اعلیٰ ہائبرڈس کی پرکھ اور انتخاب Selection and Testing of Superior Recombinants :
یہ اقدام ہائبرڈس کی اگلی نسل کے پودوں میں سے ان پودوں کے انتخاب پر مشتمل ہوتا ہے جس میں مطلوبہ خصوصیات کا اشتراک ہو۔ انتخابی عمل بریڈنگ مقصد کی کامیابی کے لیے فیصلہ کن ہوتا ہے اور نسلی پودوں کا احتیاط کے ساتھ سائنسی طور پر جانچ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان اقدام سے ایسے پودے پیدا ہوتے ہیں جو ان کو پیدا کرنے والے دونوں پودوں سے بہتر ہوتے ہیں۔ (کبھی کبھی بہتر خصوصیات والے ایک سے زیادہ دستیاب ہوجاتے ہیں) ان میں کئی نسلوں تک خود زیرگی کرائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ یکسانیت کی حالت (ہوموزائیگوسٹی؟) میں پہنچ جائیں تاکہ اولاد میں خصوصیات بکھرنے نہ پائیں۔
(v) نئی ویرائٹیز کو تجارت کے لیے جانچنا اور ان کا اجراءTesting Release and Commercialisation of New Cultivars :
نئی منتخب کی گئی لائینوں کو ان کی پیداوار اور دیگر عمدہ کھیتی کے لائق خصوصیات بیماری کے تئیں مدافعت وغیرہ کے لیے جانچا جاتا ہے۔ جانچنے کا یہ کام انھیں تحقیقاتی کھیتوں میں بہترین کھاد، آبپاشی اور دیگر مینجمنٹ کے طریقوں کا استعمال کرکے بونے اور پھر ان کی کارکردگی کو رکارڈ کرکے کیا جاتا ہے۔ تحقیقاتی کھیتوں میں اس طرح جانچنے کے بعد انھیں کسانوں کے کھیتوں میں کم از کم تین موسموں تک ملک کے مختلف مقامات پر پرکھا جاتا ہے جن میں وہ تمام ایگرونامک علاقے شامل ہوتے ہیں جہاں عموماً وہ فصل بوئی جاتی ہے۔ پرکھی جانے والی چیز کو مقامی طور پر دستیاب سب سے بہتر اعلیٰ فصل (Cultivar) کے مقابلے میں جانچا جاتا ہے جیسے جانچ کے لیے پیمائیشی فصل (Refrence Cultivar) کہتے ہیں۔
شکل 9.3 کچھ ہندوستانی ہائبرڈ فصلیں (a) مکا (b) گیہوں (c) مٹر
ہندوستان دراصل ایک زراعتی ملک ہے زراعت ہندوستان کے GDP کا تقریباً 33 فیصدی بناتی ہے اور اس میں آبادی کے تقریباً 62 فیصدی لوگ کام کرتے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد ملک کے سامنے اہم ترین مسائل میں سے ایک بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے اس لیے غذا پیدا کرنا تھا۔ چونکہ زراعت کے لیے مناسب زمین بہت محدود ہے اس لیے ہندوستان کو موجودہ زمین پر فی یونٹ علاقے کے حساب سے پیداوار بڑھانے میں بہت جدوجہد کرنا پڑی۔ مختلف پلانٹ بریڈنگ ٹیکنیکس کے نتیجے میں 1960 کے وسط میں گیہوں اور دھان کی کئی زیادہ پیداوار دینے والی نسلوں کے پیدا ہونے سے ہمارے ملک میں ڈرامائی انداز سے غذا کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ یہ دور عموماً گرین ریوولوشن کہلاتا ہے۔ شکل 9.3 زیادہ پیداوار دینے والی ہندوستانی ہائبرڈ فصلوں کو دکھاتی ہے۔
گیہوں اور دھان: 1960 سے 2000 کے دوران گیہوں کی پیداوار 11 ملین ٹن سے بڑھ کر 75 ملین ٹن ہوگئی جبکہ دھان کی پیداوار 35 ملین ٹن سے 89.5 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ ایسا گیہوں اور دھان کی نیم بونی (Semi-Dwarf) ویرائیٹر بننے کی وجہ سے ہوا۔ نوبل انعام یافتہ نارمین بورلوگ نے سینٹر فارویٹ اینڈ میز امپروومینٹ ان میکسیکو میں سیمی ڈوآرف گیہوں پیدا کیا۔ 1963 میں کئی ویرائیٹیز جیسے Kalyan Sona ، Sonalika ہندوستان کے گیہوں پیدا کرنے والی پوری پٹی پر شروع کی گئی جو زیادہ پیداوار دینے والی اور بیماری کے تئیں مدافعتی تھیں۔ دھان کی نیم بونی نسل IR-8 سے (انٹرنیشنل رائس رسرچ انسٹی ٹیوٹ، (IRRI) فلیپائن میں پیدا کی گئیں) اور ٹائی چونگ نیٹیو 1 (Taichung Native -1) (تائیوان سے) حاصل کی گئیں۔ حاصل شدہ ویرائٹیز 1966 میں شروع کی گئیں۔ بعد میں بہتر پیداوار دینے والی ویرائٹیز Jaya اور Ratna ہندوستان میں تیار کی گئیں۔
گنا: اصلاً (Saccharum Barberi) بنیادی شمالی ہندوستان میں بویا جاتا تھا تاہم اس میں شکر کا جز اور پیداوار کم تھی۔ ٹراپکل گنا (Saccharum Officinarum) جو جنوبی ہندوستان میں بویا جاتا ہے اس کے تنے موٹے اور شکر کے اجزا زیادہ ہوتے ہیں لیکن وہ شمالی ہندوستان میں ٹھیک طرح سے نہیں ہوتا۔ ان دونوں انواع کو کامیابی کے ساتھ گنے کی ایسی ویرائٹیز حاصل کرنے کے لیے کراس کرایا گیا جس میں مطلوبہ خصوصیات یعنی زیادہ پیداوار، موٹے تنے، زیادہ شکر اور شمالی ہندوستان میں کاشت کی صلاحیت کا اشتراک ہو۔
باجرا (Milletes) : ہندوستان میں مکا، جوار اور باجرے کے ہائبرڈس کامیابی سے تیار کیے گئے ہیں۔ ہائبرڈ بریڈنگ سے کئی زیادہ پیداوار دینے والی پانی کے دباؤ کے تین مدافعتی ویرائٹیز پیدا کی گئی ہیں۔
9.2.2بیماری کی مدافعت کے لیے پلانٹ بریڈنگ(Plant Breeding for Disease Resistance)
کاشتی فصلوں کی انواع بالخصوص ٹروپیکل موسموں والی فصلوں کی پیداوار فنگل بیکٹریل اور وائرل جراثیموں سے متاثر ہوتی ہے۔ اکثر فصل کے نقصانات بہت نمایاں 30-20 فیصدی تک ہوتے ہیں یا کبھی کبھی سو فیصدی بھی۔ اس صورت حال میں ہماری مدافعتی فصلوں کی بریڈنگ اور تیاری غذائی پیداوار کو بڑھا دیتی ہے۔ اس سے فنجی مار (Fungicides) اور بیکٹیریو سائیڈس (Bacteriacides) پر انحصار بھی کم ہوجاتا ہے۔ ہوسٹ پلانٹ کی مدافعت جراثیم کو بیماری پیدا کرنے سے روکنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس کا تعین ہوسٹ پلانٹ کی جینیٹک تشکیل سے ہوتا ہے۔ بریڈنگ کرنے سے پہلے بیماری پھیلانے والے عضویے اور بیماری پھیلانے کے طریقے کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے۔ گنے کا ریڈراٹ (Red Rot) اور آلو کا لیٹ بلائٹ (Late Blight) بیکٹریا سے ہونے والی بلیک راٹ آف کروسی فرس (Black rot of Crucifers)
اور وائرس سے ہونے والی ٹوبیکو موزایئک (Tobacco Mosaic) اور ٹرنپ موزئیک (Turnip Mosaic) وغیرہ ہوتی ہیں۔
بیماری سے مدافعت کے لیے بریڈنگ کے طریقے : بریڈنگ روایتی ٹیکنیکس (پہلے بتائی جاچکی ہیں) یا میوٹیشن بریڈنگ کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ بیماری سے مدافعت کے لیے بریڈنگ کا روایتی طریقہ ہے ہائبریڈائزیشن اور پھر اس کا انتخاب اس کا طریقہ بھی پودوں میں دیگر خصوصیات جیسے بہتر پیداوار) کو یکجا کرنے کے لیے کرائی گئی بریڈنگ کی طرح ہی ہوتا ہے۔ ان کے مخصوص اقدامات ہیں، مدافعتی وسائل کے لیے جرم پلازم کی چھٹائی، انتخاب شدہ پیرنٹس کا ہائبریڈائزیشن، ہائبرڈس کا انتخاب اور جانچا جانا اور نئی ویرائٹیز کی جانچ اور بوئے جانے کی منظوری۔
فصلوں کی کچھ نسلیں جن کی فنجائی بیکٹریا اور وائرل بیماریوں کے تئیں مدافعت کے لیے بریڈنگ ہائبریڈائزیشن اور انتخاب کے ذریعہ کی گئی تھی اور جو بوئے جانے کے لیے منظور کی گئیں ہیں۔ (جدول 9.1)
| فصل | ویرائٹی | بیماریاں جن کے تئیں مدافعت ہے |
| گیہوں | ہیم گری | لیف اور اسٹرائپ رسٹ، ھل بنٹ |
| سرسوں | پوساسورنم (کرن رائی) | وائٹ رسٹ |
| گوبھی | پوساشبھرا؍ پوسا سنوبال کے 1 | بلیک راٹ اور کرل بلائٹ؍ بلیک راٹ |
| لوبیا | پوساگومل | بیکٹیریل بلائٹ |
| مرچ | پوسا سدابہار | چلی موزیئک وائرس؍ ٹوبیکو موزئیک وائرس اور لیف کرل |
جدول 9.1
روایتی بریڈنگ کبھی کبھی دستیاب بیماری کے تئیں۔ مدافعتی جینوں کی محدود تعداد وجہ سے مشکل ہوجاتی ہے جو فصلوں کی مختلف ویرائٹیز یا جنگلی قرابت داروں میں موجود ہوتی ہے یا شناخت کی جاتی ہیں۔ پودوں میں مختلف طریقوں سے میوٹیشنس کی ترغیب دینے اور مدافعت کے لیے پلانٹ میٹیریل کی چھٹائی کرنے سے ہی اکثر مطلوبہ جینس کی شناخت ہوپاتی ہے۔ ان مطلوبہ خصوصیات والے پودوں کی تب یا تو براہ راست افزائش کی جاسکتی ہے یا انھیں بریڈنگ میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے استعمال کیے جانے والے طریقے سوماکلونکل ویری اینٹس (Somaclonal Variants) میں سے انتخاب اور جینی انجینئرنگ ہیں۔
Mutation
ایک عمل ہے جس کے ذریعہ جینس کے اندر اساس کی ترتیب (Base Sequence) میں تبدیلیوں کے ذریعے جینی تغیرات (Genetic Variations) پیدا کیے جاتے ہیں جس کا نتیجہ عموماً ایک نئی خصوصیت یا (برائی یا خوبی) ہوتی ہے جو پیرینٹل ٹائپ میں نہیں پائی جاتی۔ مصنوعی طور پر کیمیکلس یا ریڈی ایشینس (جیسے گاما ریڈی ایشنس)کے ذریعہ میوٹیشنس کی ترغیب دینا، انتخاب کرنا اور ان پودوں کا استعمال کرنا ممکن ہے جن میں مطلوبہ خصوصیت ہوتی ہے ان کا مزید استعمال اگلی نسل افزائش یا بریڈنگ میں کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو Mutation Breeding کہتے ہیں۔ مونگ میں یلوموزائیک وائرس (Yellow Mosaic Virus) اور پاؤڈری مل ڈیو (Powdary Mildew) کے تین مدافعت میوٹیشن کے ذریعہ پیدا کی گئی تھی۔
مختلف کاشت کی جانے والی انواع کے پودوں کے کئی جنگلی قربت داروں میں بعض مدافعتی خصوصیات دیکھی گئی ہیں لیکن پیداوار بہت کم ہے۔ پس ضرورت اس بات کی ہے کہ مدافعتی جینس کو زیادہ پیداوار دینے والی کاشت کی جانے والی ویرائٹیز میں داخل کیا جائے۔ بھنڈی (Abelmoschus Esculentus) میں موجود یلوموزائیک وائرس کے تین مدافعت کو ایک جنگلی نوع سے منتقل کیا گیا تھا جس کا نتیجہ ایک نئی ویرائٹی A.esculentus تھی جو Parbhani Kranti کہلاتی ہے۔
اوپر بیان کی گئی تمام مثالوں میں مدافعتی جینوں کے وسائل اسی فصل میں موجود میں اور جن کی بیماری کے تین مدافعت کے لیے بریڈ کیا گیا ہے یا وہ اس کی قرابت دار جنگلی نوع میں موجود ہیں۔ مدافعتی جینوں کی منتقلی چنندہ پودے اور مخصوص جین برادر پودے کے درمیان جنسی ہائبریڈائزیشن کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے جس کے بعد انتخاب کیا جاتا ہے۔
9.2.3 بیسٹ کیڑوں کے تئیں مدافعت پیدا کرنے کے لیے پلانٹ بریڈنگ
(Plant Breeding For Developing Resistence to Insect Pests)
فصلوں کے پودوں اور ان کی پیداوار کی بڑے پیمانے پر بربادی کے لیے دوسرا اہم سبب کیڑے اور بیسٹ انفیسٹیشن (Pest Infestation) ہے۔ ہوسٹ فصل کے پودوں میں کیڑوں کے تئیں مدافعت مورفوجیکل، بائیوکیمیکل یا فیزیولوجیکل خصوصیات کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ کئی پودوں میں بالدار پتوں کا تعلق انسیکٹ پیسٹ کے تئیں مدافعت سے ہوتا ہے جیسے کپاس میں جیسڈ(Jassids) کی مدافعت اور گیہوں میں سیریل لیف بیٹل (Careal Leaf Beetle) کی مدافعت گیہوں میں ٹھوس تنوں کی وجہ سے اسٹیم سافلائی (Stem-Sawfly) اس کی طرف رغبت نہیں دیتی اور کپاس کی ویرائٹیز اپنے چکنے پتوں اور اس کی نکڑ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بول ورمس (Boll-worms) کے لیے باعث کشش نہیں ہوتیں۔ مکا میں اسپارٹک ایسڈ کی زیادتی، کم نائیٹروجن اور شکر کے جز میزاسٹیم بوررس (Maize Stem Borers) کے لیے مدافعت پیدا کرتے ہیں۔
انسیکٹ پیسٹ مدافعت (Insect Pest Resistance) کے لیے بریڈنگ کے طریقوں میں وہی اقدامات ہوتے ہیں جو کسی بھی دوسری ایگرونومک خصوصیت جیسے پیداوار یا معیار کے لیے ہوتے ہیں جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ مدافعتی جین کے وسائل زیر کاشت ویرائٹیز فصل کے جرم پلازم کلیکشنس یا جنگلی قرابت دار ہوسکتے ہیں۔
بونے کے لیے منظور کی گئی کچھ فصلوں کی ویرائٹیز جو انسیکٹ پیسٹ مدافعت کے لیے ہائبریڈائزیشن اور انتخاب کے ذریعے تیار کی گئیں جدول 9.2 میں دی گئی ہیں۔
| فصل | ویرائٹی | انسیکٹ پیسٹ |
| سرسوں (Rapseed Mustard) | پوساکورو | ایفڈس |
| فلیٹ بین | پوساسیم2؍ پوساسیم3 | جیسڈس، ایفڈس اور فروٹ بور |
| اوکرا (بھنڈی) | پوساساونی؍ پوسا اے 4 | شوٹ اینڈ فروٹ بور |
جدول 9.2
9.2.4 بہتر کی گئی غذا کی معیار کے لیے پلانٹ بریڈنگ
(Plant Breeding for Improved Food Quality)
دنیا میں 840 ملین سے زیادہ لوگوں کو اپنی روزانہ کی غذا اور تغذیائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی غذا حاصل نہیں ہوتی۔ اس سے بھی کہیں بڑی تعداد یعنی تین بلین لوگ مائیکرو ینوٹری اینٹس پروٹین اور وٹامن کی کمی یا پوشیدہ بھوک کا شکار ہیں کیونکہ وہ کافی مقدار میں پھل، ترکاریاں، پھلیاں، مچھلی اور گوشت نہیں خرید سکتے۔ خوراک میں خورد تغذئی بالخصوص آئرن، وٹامن، اے آیوڈین اور زنک کی عدم موجودگی سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور عمر اور ذہنی صلاحیتیں گھٹ جاتی ہیں۔
Biofortification
عوام کی صحت کو بہتر کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ایسی فصلوں کی بریڈنگ ہے جس میں وٹامنس اور نمکیات (میزل) کی سطح زیادہ ہو، زیادہ پروٹینس اور صحت مند چکنائی ہوں۔
تغذی معیار کو بہتر بنانے کے لیے جو بریڈنگ کی جاتی ہے اس کا مقصد حسب ذیل کو بہتر کرنا ہوتا ہے۔
(i) پروٹین اجزا اور معیار
(ii) تیل اجزا اور معیار
(iii) وٹامن اجزا اور
(iv) مائیکرو نیوٹری اینٹس یا خود تغذئی اور میزل اجزا
سن 2000 میں مکا کے ایسے ہائبرڈ تیار کیے گئے جن میں مکا کے موجودہ ہائبرڈس کے مقابلے میں ایمینوایسڈس، لائی سین اور ٹرپٹومنن کی مقدار دوگنی تھی۔ گیہوں کی ویرائٹی ایٹلس 66 جس میں پروٹین کا جز زیادہ تھا۔ کاشت کو کئے جارہے گیہوں کو بہتر بنانے کے لیے بطور ایک ڈونر (Donor) کے استعمال کیاگیا۔
انڈین ایگریکلچرل رسرچ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے بھی ترکاریوں کی کئی فصلیں جاری کی ہیں جن میں وٹامنس اور منرلس زیادہ ہیں جیسے وٹامن اے اضافتی گاجریں، پالک، کدو، وٹامن۔سی اضافتی کریلہ، بتھوا، سرسوں، ٹماٹر، آئرن اور کیلشیم اضافتی پالک اور بتھوا اور پروٹین اضافتی سیمیں، بروڈ لب لب فرینچ اور گارڈن مٹر
9.3 سنگل سیل پروٹین (Single Cell Protein (SCP)
اناج، دالوں، سبزیوں، پھلوں وغیرہ کی روایتی انداز کی زراعتی پیداوار انسانوں اور جانوروں کی آبادی کی غذا کی مانگ کو اس شرح پر پورا کرنے کی اہل نہیں ہوسکتی جس رفتار سے وہ بڑھ رہی ہے۔ اناج سے گوشت کی خوراک کی طرف بدلائو سے بھی اناج کے لیے مانگ زیادہ ہوئی ہے کیونکہ اینیمل فارمنگ کے ذریعے اکلو گوشت پیدا کرنے کے لیے 10-3 کلو اناج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا آپ غذائی زنجیروں سے متعلق اپنی معلومات کی روشنی میں اس بیان کی تشریح کرسکتے ہیں؟ انسانی آبادی کا 25 فیصدی سے زیادہ حصہ بھوک اور تغذیائی کمی کا شکار ہے۔ جانور اور انسانی تغذیے کے لیے پروٹین کے متبادل وسائل میں سے ایک Single Cell Protein (SCP) ہے۔
پروٹین کے اچھے ذریعہ کے طور پر خورد عضویے صنعتی پیمانے پر پیدا کیے جارہے۔ نیلی ہری الگانی جیسے Spirulina کو آلو کے پروسسنگ پلانٹس سے اخراج شدہ پانی، (اسٹارچ کے جزو والا) بھوسے، گڑ، جانوروں کی کھاد یہاں تک سیویج جیسی چیزوں پر آسانی سے بڑی مقدار میں اُگاکر پیدا کی جاتی ہے جو زیادہ پروٹین معدنیات چکنائی کاربوہائڈریٹ اور وٹامنس والی غذا کا کام دے سکتی ہے۔ اس کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوتی ہے۔
کچھ خورد بینی عضویوں جیسے (Methylophilus Methylotrophus) سے ان کی پیداوار اور زیادہ شرح نمو کی وجہ سے 25 ٹن پروٹین پیدا کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ خوردنی مشروم کھاتے ہیں اور مشروم کلچر ایک بڑھتی ہوئی صنعت ہے، اب یہ یقین ہو چلا ہے کہ مائیکرو پک فنگائی بھی بطور غذا کے قابل قبول ہیں۔
9.4 ٹشو کلچر (Tissue Culture)
چونکہ روایتی بریڈنگ تکنیکیں مانگ کا ساتھ دینے اور فصلوں کو بہتر بنانے کے لیے کافی حد تک تیز اور موثر طریقے فراہم کرنے میں ناکام رہیں، اس لیے ایک دوسری ٹیکنولوجی وجود میں آگئی جسے Tissue Culture کہتے ہیں۔ ٹشو کلچر سے کیا مطلب ہے؟ 1950 کے دوران سائنسدانوں نے پتا چلایا کہ Explants سے پورے پودے دوبارہ پیدا کیے جاسکتے ہیں ٹشوکلچر کا اصل مطلب ہے ایک پودے کا کوئی بھی حصہ نکال کر جراثیم سے محفوظ حالات میں مخصوص تغذئی میڈیم کے ذریعہ ایک ٹیسٹ ٹیوب کے اندر اگانا۔ ایک سیل ایکس پلانٹ سے ایک پورے پودے کو پیدا کرنے کی صلاحیت Totipotency کہلاتی ہے۔ آپ اگلی کلاسوں میں جانیں گے کہ اسے کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہاں اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ تغذیائی میڈیم کو ایک کاربن کا ذریعہ جیسے سکروز اور ساتھ ہی غیر نامیاتی نمک، وٹامنس، ایمینو ایسڈس اور اوکزن، سائیٹو کائینن وغیرہ جیسے گروتھ ریگولیٹرس لازمی طور پر فراہم کرنے چاہیے۔ ان طریقوں کے استعمال سے بہت کم وقت میں کثیر تعداد میں پودوں کی افزائش حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ٹشوکلچر کے ذریعے ہزاروں پودے پیدا کرنے کا یہ طریقہ Micropropagation کہلاتا ہے۔ ان پودوں میں سے ہر ایک جینی اعتبار سے اس اصل پودے سے مشابہ ہوگا جس سے انھیں اگایا گیا ہے یعنی وہ Somaclones ہیں۔ بہت سے اہم غذائی پودوں جیسے ٹماٹر، کیلا، سیب وغیرہ کو اس طریقے کے استعمال سے صنعتی پیمانے پر پیدا کیا گیا ہے۔ پروسس کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کی ستائش کرنے کے لیے اپنے استاد کے ساتھ ایک ٹشوکلچر کی تجربہ گاہ دیکھنے کی کوشش کیجیے۔
اس طریقے کا دوسرا اہم استعمال بیمار پودوں سے صحت مند پودوں کا حصول ہے۔ چاہے ایک پودا وائرس سے متعدی ہو، Meristem (اوپری اور بغلی) وائرس سے پاک ہوتا ہے۔ پس ایک شخص میری اسٹیم کو الگ کرسکتا ہے اور اسے In vitro اگاکر جراثیم پاک پودے حاصل کرسکتا ہے۔ سائنسداں، گنے آلو وغیرہ کے میری اسٹیمس کی کلچرنگ میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
سائنسدانوں نے تو پودوں سے واحد سیلس تک کو علیحدہ کیا ہے۔ اور ان کی سیل دیواروں کو زائل کرنے کے بعد ننگے پروٹوپلاسٹس کو الگ کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ (پلازما میمبرینس سے گھرے ہوئے) پودوں کی دو مختلف ویرائٹیز سے علیحدہ کیے گئے پروٹوپلاسٹس ہر ایک پروٹوپلاسٹ ایک مطلوبہ خصوصیت سے ہوئے ایک دوسرے سے ضم کرکے ہائبرڈ پروٹوپلاسٹس بناسکتے ہیں۔ جنھیں ایک نئے پودے کی شکل میں مزید اگایا جاسکتا ہے۔ ان ہائبرڈس کو Somatic Hybrids اور اس عمل کو Somatic Hybridisation کہتے ہیں۔ ایک ایسی صورت حال کا تصور کیجیے جب ایک ٹماٹر کا پروٹوپلاسٹ آلو کے پروٹوپلاسٹ میں ضم کیا جاتا ہے اور تب آلو اور ٹماٹر کی خصوصیات کا اشتراک کرنے والے نئے ہائبرڈ پودے بنانے کے لیے انھیں اگایا جاتا ہے جی ہاں! ایسا کیا جاچکا ہے جس کے نتیجے میں پومیٹو (Pomato) کی تشکیل ہوئی مگر بدقسمتی سے اس پودے میں اس کے صنعتی استعمال کے لیے تمام مطلوبہ خصوصیات کا اشتراک نہیں تھا۔
خلاصہ
اینیمل ہزبینڈری میں سائنسی اصولوں کے استعمال سے گھریلو جانوروں کی بریڈنگ اور دیکھ ریکھ کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ اینیمل ہزبینڈری کے بہتر طریقوں کی مدد سے جانوروں اور جانوروں سے بنی اشیا کی ہمیشہ بڑھنے والی مانگ کو اس کے معیار اور مقدار دونوں اعتبار سے پوری کی جاتی ہے۔ ان طریقوں میں شامل ہے۔ (i) فارم اور فارم کے جانوروں کا مینجمنٹ اور (ii) جانوروں کی بریڈنگ شامل ہے۔ شہد کی انتہائی تغذئی اور اس کی طبی اہمیت کے پیش نظر شہد کی مکھی پالن یا ایپی کلچر کے طریقوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ فشریز ایک دوسری پھولنے پھلنے والی صنعت ہے جس سے مچھلیوں سے بنی چیزوں اور دیگر آبی غذاؤں کی لگاتار بڑھتی مانگیں پوری ہوتی ہیں۔
پلانٹ بریڈنگ ایسی قسمیں پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو جراثیموں اور انسیکٹ پیٹس کے تئیں مدافعتی ہوں۔ یہ غذا کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ طریقہ پودے کے پروٹینی اجزا کو بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے جس سے غذا کی معیار بہتر ہوتی ہے ہندوستان میں مختلف فصلوں کی ویرائٹیز تیار کی گئی ہیں۔ یہ تمام اقدامات پیداوار کو بڑھاتے ہیں۔ ٹشو کلچر اور سومیٹک ہائبریڈائزیشن کی ٹیکنیکس پودوں کی نئی ویرائٹیز کو مصنوعی ماحول میں یا ان وٹرو پیدا کرنے کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔
مشق
1۔ انسانی فلاح میں اینیمل ہزبینڈری کا رول مختصراً بیان کیجیے۔
2۔ اگر آپ کے خاندان کے پاس ایک ڈیری فارم ہے۔ آپ دودھ کی پیداوار کی مقدار اور معیار کو بہتر کرنے کے لیے کیا اقدامات کریں گے؟
3۔ اصطلاح ’’بریڈ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ جانوروں کی بریڈنگ کے مقاصد کیا ہیں؟
4۔ اینیمل بریڈنگ میں استعمال ہونے والے طریقوں کے نام بتائیے۔ آپ کی نظر میں کون سا طریقہ سب سے بہتر ہے؟ اور کیوں؟
5۔ ایپی کلچر کیا ہوتا ہے؟ اس کی ہماری زندگیوں میں کیا اہمیت ہے؟
6۔ غذا کی پیداوار بڑھانے میں فشریز کے رول پر بحث کیجیے۔
7۔ پلانٹ بریڈنگ میں شامل مختلف اقدامات کو مختصراً بیان کیجیے۔
8۔ بائیوفورٹی فیکیشن کا کیا مطلب ہے؟ تشریح کیجیے۔
9 ۔ جراثیم سے محفوظ پودے بنانے کے لیے پودے کا کون سا حصہ موزوں ترین ہوتا ہے؟ اور کیوں؟
10۔ مائیکرو پروپیگشن کے ذریعے پودے پیدا کرنے کے خاص فائدہ کیاہے؟
11۔ معلوم کیجیے ایک ایکس پلانٹ کو ان وٹرو افزائش کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والے میڈیم میں کون سے مختلف اجزا ہوتے ہیں؟
12۔ ہندوستان میں پیدا کی گئی فصلوں کے پودوں کی کن ہی پانچ قسموں کے نام بتائیے۔