باب 10
انسانی فلاح و بہبود میں خوردبین عضویے (مائیکروبس)
(Microbes in Human Welfare)
10.1 گھریلو چیزوں میں مائیکروبس
10.2 صنعتی چیزوں میں مائیکروبس
10.3 فضلہ یاسیویج کے ٹریٹمنٹ میں مائیکروبس
10.4 بائیوگیس کی پیداوار میں مائیکروبس
10.5 مائیکروبس بطور بائیوکنٹرول ایجینٹس
10.6 مائیکروبس بطور بائیوفرٹیلائزرز
میکرواسکوپک پودوں اور جانوروں کے علاوہ مائیکروبس اس زمین پر حیاتیاتی نظاموں کا اہم حصہ ہیں۔ آپ کلاس XI میں زندہ عضویوں کے تنوع کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے زندہ عضویوں میں کون سی کنگڈمس میں مائیکرو اورگینزمس آتے ہیں؟ وہ کون سے ہیں جو صرف خوردبینی ہوتے ہیں؟ مائیکروبس ہر جگہ موجود ہیں۔ مٹی ، پانی، ہواکے علاوہ ہمارے جسموں کے اندر اور دوسرے جانوروں اور پودوں میں۔ وہ ایسی جگہوں پر بھی موجود ہوتے ہیں جہاں زندگی کی کوئی دوسری شکل کے ہونے کا امکان نہیں۔ ایسی جگہیں جیسے گیزرس کے اندرونی حصوں میں (تھرمل وینٹس) جہاں درجہ حرارت 100Cº جتنا ہو، مٹی کی گہرائی میں، برف کی کئی میٹر موٹی تہوں کے نیچے اور بے حد تیزابی ماحول میں۔ مائیکروبس متنوع ہوتے ہیں۔ پروٹوزوا، بیکٹیریا، فنجائی اور خوردبینی پودے، جانور اور وائرسز، وائرائیڈس اور پری اونس جو پروٹینی متعدی ایجنٹس ہوتے ہیں۔ کچھ مائیکروبس اشکال 10.1 اور 10.2 میں دکھائے گئے ہیں۔
مائیکروبس جیسے بیکٹیریا اور بہت سے تغذئی میڈیم پر اگائے جاسکتے ہیں جہاں وہ کالونیز بناتے ہیں(شکل 10.3) اور انھیں سادہ آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے ایسے کلچرس خوردبینی عضویوں کے مطالعات میں مفید ہوتے ہیں۔
آپ نے باب 8 میں پڑھا ہے کہ مائیکروبس انسانوں میں کئی قسم کی بیماریوں کا سبب ہوتے ہیں۔ وہ جانوروں اور پودوں میں بھی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ مگر اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ تمام مائیکروبس ضرررساں ہوتے ہیں؛ بہت سے مائیکروبس مختلف طریقوں سے آدمی کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ مائیکروبس کے ذریعے انسانوں کی انتہائی اہم خدمات میں سے کچھ اس باب میں زیر بحث آئی ہیں۔
10.1 گھریلو چیزوں میں مائیکروبس
(Microbes in Household Products)
آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ ہم ہر روز مائیکروبس یا ان سے بنی چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ ایک عام مثال دودھ سے دہی کی پیداوار ہے۔ خوردبینی عضویے جیسے Lactobacillus اور دیگر جو عام طور پر Lactic acid bacteria (LAB) کہلاتے ہیں دودھ میں پیدا ہو کر اسے دہی میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اپنی نشوونما کے دوران LAB تیزاب پیدا کرتے ہیں جو دودھ کے پروٹینس کو جماتے اور جزوی طور پر ہضم کر دیتے ہیں۔ تھورا سا دہی جو دودھ میں ابتدائی طور پر ڈالا جاتا ہے باہر جز جس میں لاکھوں LAB ہوتے ہیں جو ایک مناسب درجۂ حرارت پر افزائش پاتے ہیں اور اس طرح دودھ کو دہی میں تبدیل کر دیتے ہیں جو وٹامن B12 کی مقدار بڑھاکر اس کی تغذئی خصوصیات کو بھی بہتر کر دیتے ہیں۔ ہمارے معدے میں بھی LAB بیماری پیدا کرنے والے مائیکروبس کو روکنے کا مفید کردار بھی نبھاتے ہیں۔
گوندھا ہوا آٹا جو کھانے کی چیزیں جیسے ڈوسا اور اڈلی بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے وہ بھی بیکٹیریا کے ذریعے خمیر کیا جاتا ہے۔ آٹے کی پھولی پھولی شکل CO2 گیس پیدا ہونے سے ہوتی ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہاںکون سا تحولی عمل کارفرما ہے جس کے نتیجے میں CO2 بن رہی ہے؟ آپ کے خیال میں یہ خمیر تیار کرنے کے لیے بیکٹیریا کہاں سے آتے ہیں؟ اسی طرح سے گندھا ہوا آٹا جو ڈبل روٹی بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بیکر کے ایسٹ (Saccharomyces cerevisiae) کی مدد سے خمیر بنتا ہے۔ متعدد مشروبات اور غذائیں بھی مائیکروبس کے ذریعے خمیر کی جاتی ہیں۔ جنوبی ہندوستان کے کچھ حصوں کا ایک روایتی مشروب تاڑی "Toddy" کھجور یا تاڑتنے کے رس کو خمیر کرکے بنایا جاتا ہے۔ مچھلی، سویابین اوربانس کے تنے کو مائیکروبس سے خمیر کرکے غذا کی اشیا بنائی جاتی ہیں۔ پنیر کھانے کی قدیم ترین چیزوں میں سے ایک ہے جس میں مائیکروبس استعمال ہوتے ہیں۔ پنیر کی مختلف ویرائٹیز اپنی مخصوص ساخت، بو اور ذائقے کے لیے جانے جاتے ہیں جن میں یہ خصوصیت استعمال کیے جانے والے مائیکروبس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’سوئیس چیز‘‘ میں بڑے سوراخ Propioni bacterium sharmanii نامی ایک بیکٹیریئم کے ذریعے بڑی مقدار میں CO2 پیدا ہونے سے بنتے ہیں۔ Roquefort cheese ایک مخصوص فنجائی کو اُگاکر تیار کیا جاتا ہے جو اسے ایک خاص قسم کی بُو دیتے ہیں۔
10.2 صنعتی چیزوں میں مائیکروبس
(Microbes in Industrial Products)
صنعت میں بھی مائیکروبس متعدد چیزوں کی تالیف میں استعمال کیے جاتے ہیں جو انسانوں کے لیے اہم ہیں۔ شرابیں اور اینٹی بائیوٹکس کچھ مثالیں ہیں۔ صنعتی پیمانے پر پیداوار کے لیے مائیکروبس کو بہت بڑی ویسلس میں اگانے کی ضرورت پڑتی ہے جنہیں Fermentors کہا جاتا ہے (شکل 10.4)۔
10.2.1 تخمیری مشروبات
(Fermented Beverages)
مختلف مائیکروبس بالخصوص ایسٹ قدیم زمانے سے مختلف مشروبات جیسے وائین، بیئر، وسکی، برانڈی یا رم کی تیاری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس مقصد سے وہی ایسٹ Saccharomyces cerevisiae جو ڈبل روٹی بنانے میں استعمال کی جاتی ہے اور عام طور سے بریورس ایسٹ (Brewer's yeast) کہلاتی ہے اسے مالٹڈاناج (Malted cereals) اور پھلوں کے رس کی تخمیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے الکحل (Ethanol) پیدا ہوتی ہے۔ کیا آپ کو تحولی تعملات یاد ہیں جو ایسٹ کے ذریعے Ethanol پیدا کرنے کا نتیجہ ہوتے ہیں؟ تخمیر کے لیے استعمال کیے جانے والے خام مٹیریل کی اقسام اور پروسسنگ کی قسم (کشید یا بنا کشید کے ساتھ) کی بنیاد پر مختلف قسم کے الکحلی مشروبات حاصل کیے جاتے ہیں۔ وائین اور بیئر بغیر کشید کیے تیار کی جاتی ہیں جبکہ وسکی، برانڈی اور رم تخمیر شدہ یخنی کو کشید کرکے تیار کی جاتی ہیں۔ ایک فرمینٹی ایشن پلانٹ کا فوٹوگراف شکل 10.5 میں دکھایا گیا ہے۔
10.2.2 اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics)
مائیکروبس کے ذریعے پیدا کی گئی اینٹی بایوٹکس بیسویں صدی کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک خیال کی جاتی یہ جس نے انسانی سوسائیٹی کی بہت بڑے پیمانے پر خدمت کی ہے۔ Anti ایک یونانی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’مخالف‘‘ اور bio کا مطلب ہے زندگی، دونوں کا مطلب ہے ’’زندگی مخالف‘‘ (بیماری پھیلانے والے عضویوں کے حوالے سے) جبکہ انسانوں کے حوالے سے وہ ’زندگی موافق‘ ہیں نہ کہ زندگی مخالف۔ اینٹی بائیوٹکس کیمیائی چیزیں ہیں جو کچھ مائیکروبس کے ذریعے پیدا کی جاتی ہیں۔ اور دوسرے مائیکروبس (بیماری پیدا کرنے والے( کو مار سکتی ہیں یا ان کی نشوونما کو روک سکتی ہیں۔
عام طور پر استعمال کی جانے والی اینٹی بائیوٹک پینیسیلن سے آپ واقف ہوں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پنیسلین دریافت کی جانے والی پہلی اینٹی بائیوٹک تھی اور یہ دریافت اتفاقاً تھی؟ الیکزینڈر فلیمنگ نے Staphylococci پر کام کرتے ہوئے ایک بار مشاہدہ کیا کہ اس کی ایک بغیر دھلی ہوئی کلچر پلیٹ پر ایک کائی پیدا ہو ئی ہے جس کے اطراف Staphylococci پیدا نہیں ہو رہے ہیں۔ اس نے معلوم کیا کہ اس کی وجہ پھپھوند کے ذریعے پیدا کیا جانے والا ایک کیمیکل تھا جسے اس نے پھپھوند Penicillium notatum کے نام پر Penicillin نام دیا۔ البتہ بطور ایک مؤثر اینٹی بائیوٹک کے اس کی پوری قوت بہت بعد میں ارنیسٹ چین اور ہوورڈ فلورے کے ذریعے قائم کی گئی۔ یہ اینٹی بائیوٹک عالمی جنگ -II میں زخمی امریکن سپاہیوں کے علاج میں بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی۔ اس دریافت کے لیے فلیمنگ چین اور فلورے کو 1945 میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
پینیسلین کے بعد دوسری اینٹی بائیوٹکس بھی دوسرے مائیکروبس سے صاف کرکے نکالی گئیں۔ کیا آپ کچھ کوئی دوسری اینٹی بائیوٹکس کے نام بتا سکتے ہیں اور ان کے وسائل معلوم کر سکتے ہیں؟ اینٹی بائیوٹکس نے کئی طاعون، (کالی کھانسی)، ڈپتھیریا (گل گھوٹو) اور لیپروسی (کوڑھ) جیسی مہلک بیماریوں کے علاج کے لیے ہماری صلاحیتوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی جان لے لیتی تھیں۔ آج ہم بغیر اینٹی بائیوٹکس کی دنیا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
10.2.3 کیمکلس، اینزائمس اور دوسرے مولیکیولس
Chemicals, Enzymes and Ohter Molecules
مائیکروبس بعض کیمیکلس جیسے نامیاتی تیزاب، الکوحل اور اینزائمس کی صنعتی اور کمرشل پیداوار کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تیزاب پیدا کرنے واولں کی مثالیں ہیں سِٹرک ایسڈ کے لیے Aspergillus niger (ایک پھپھوند) ایسیٹک ایسڈ کے لیے Acetobacter acetie (ایک بیکٹیریم)، بیوٹرک ایسڈ کے Clostridium butylium (ایک بیکٹیرئیم) اور لیکٹک ایسڈ کے Lactobacillus (ایک بیکٹیرئیم)۔
ایسٹ (Saccharomyces cerevisiae) ایتھینول کی تجارتی پیداوار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اینزائمس کی پیداوار کے لیے بھی مائیکروبس استعمال کیے جاتے ہیں Lipases صابن بنانے میں استعمال ہوتے ہیں اور وہ کپڑوں کے تیل کے دھبّوں کو صاف کرنے میں مفید ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بازار سے لائے ہوئے بوتل بند پھلوں کے رس گھر میں بنائے رسوں کے مقابلے زیادہ صاف ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بوتل بند رس پیکٹی نیزیز اور پروٹی نیزز کے استعمال سے صاف کیے جاتے ہیں۔ Streptococcus بیکٹیریم کے ذریعے پیدا کیے گئے Streptokinase کو جینی انجینئرنگ کی مدد سے تبدیل کرکے بطور Clot buster استعمال کیا جاتا ہے اُن مریضوں کی خون کی نالیوں سے جمے خون (Clots) کو ہٹانے میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں دل کی بیماری کی وجہ سے دل کا دورہ پڑ چکا ہوتا ہے۔
Cyclosporin-A ایک دوسرا حیاتیاتی طور پر متحرک مالیکیول ہے جو ایک پھپھوند Trichoderma polysporum کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے اور ان مریضوں کے بطور Immunosuppressive ایجینٹ کے دیا جاتا ہے جن کے اعضاء کی پیوندکاری کی جاتی ہے۔ ایسٹ، Monascus purpureus سے پیدا ہونے والے Statims خون میں کولسٹرول کو کم کرنے والے ایجینٹ کے طور پربازار میں دستیاب ہیں۔ یہ کولسٹرول کی تالیف کے لیے ذمہ دار اینزائم پر مقابلے میں روک لگاکر عمل کرتا ہے۔
10.3 سیویج کے ٹریٹمینٹ میں مائیکرو بس
(Microbes in Sewage Treatment)
ہم جانتے ہیں کہ شہروں اور قصبات میں ہر روز بڑی مقدار میں ناقابل استعمال مخلوط پانی پیدا ہوتا ہے۔ اس ناقابل استعمال مخلوط پانی کا ایک بڑا جُز انسانی فضلہ ہوتا ہے۔ اس مخلوط پانی کو سیویج بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں نامیات مادّے اور مائیکروبس ہوتے ہیں، جن میں سے بہت سے جراثیمی ہوتے ہیں۔ کیا آپ کبھی اس بات پر حیران نہیں ہوئے کہ سیویج کی اتنی بڑی مقدار یا شہری مخلوط پانی روزانہ کہاں پھینکا جاتا ہے؟ اس کوبراہ راست پانی کے قدرتی ذخائر جیسے دریائوں اور چشموں میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ آپ سوچ سکتے ہیں کیوں۔ پس نکاسی سے پہلے سیویج کو سیویج ٹریٹمینٹ پلانٹس (STPs) میں کم آلودہ بنانے کے لیے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ فاضل پانی کا ٹریٹمینٹ سیویج میں قدرتی طور پر موجود Heterotrophic microbes سے کیا جاتا ہے۔ یہ ٹریٹمینٹ دو مراحل میں انجام دیا جاتا ہے:
ابتدائی ٹریٹمنٹ Primary treatment: ٹریٹمینٹ کے ان اقدامات میں بنیادی طور پر تقطیر اور ترسیب Filleralim Sodimentationکے ذریعے سیویج سے چھوٹے بڑے ذرات کو طبیعی طور پر ہٹایا جاتا ہے۔ انھیں مراحل میں ہٹایا جاتا ہے، ابتداًء تیرتے ہوئے کچرے کو سلسلہ وار تقطیر سے الگ کیا جاتا ہے۔ پھر کنکروں (مٹی اور چھوٹے پتھر) کو ترسیب سے ہٹایا جاتا ہے۔ نیچے بیٹھنے والی تمام ٹھوس چیزیں Primary sludge بناتی ہیں اور اوپر تیرنے والا حصہ Effluent پرائمری سیٹلنگ ٹینک سے Effluent کو ثانوی ٹریٹمینٹ کے لیے لیا جاتا ہے۔
ثانوی یا حیاتیاتی ٹریٹمنٹ Secondary treatment or Biological treatment : پرائمری Effluent کو بڑے ہوا دار ٹینکس میں ڈالا جاتا ہے (شکل 10.6) جہاں اسے میکانکی طور پر لگاتار ہلایا جاتا ہے اور اس کے اندر ہوا پمپ کی جاتی ہے۰ اس سے مفید ایروبک مائیکروبس کی Flocs کی شکل میں (بیکٹیریا کے مجموعے جن کے ساتھ فنگل فلامینٹس ہوتے ہیں جو جال جیسی ساختیں بنالیتے ہیں) بے تحاشہ نشوونما ہوتی ہے۔ اپنی نشوونما کرتے ہوئے یہ مائیکروبس Effluent میں موجود نامیاتی مادے کا زیادہ تر حصہ استعمال کر لیتے ہیں۔ اس سے Effluent کی BOD )Biochemical oxygen demand)
نمایاں طور پر گھٹ جاتی ہے۔ BOD آکسیجن کی اس مقدار کو ظاہر کرتا ہے جو اس وقت استعمال ہوگی جب ایک لیٹر پانی میں موجود تمام نامیاتی مادے کو بیکٹیریا کے ذریعے آکسی ڈائزڈ (Oxidised) کیا جائے۔ سیویج کا پانی اس وقت تک ٹریٹ کیا جاتا ہے جب تک BOD گھٹ نہیں جاتا۔ BOD ٹیسٹ کے ذریعے پانی کے ایک نمونے میں خوردبینی عضویوں کے ذریعے آکسیجن استعمال کرنے کی شرح ناپی جاتی ہے اور بس اس طرح BOD پانی میں نامیاتی مادّے کی ایک پیمائش ہے۔ مخلوط پانی کا BOD جتنا زیادہ ہوگا اسی قدر اس کی آلودگی قوت زیادہ ہوگی۔
ایک بار جب سیویج یا مخلوط پانی کا BOD نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے تو Effluent کو سیٹلنگ ٹینک میں ڈال دیا جاتا ہے جہاں رسوب میں بیکٹیرئیل ’فلاکس‘ بننے دیے جاتے ہیں۔ اس رسوب کو Activated sludge کہا جاتا ہے۔ Activated sludge کا تھوڑا سا حصّہ ایئریشن ٹینک میں واپس بھیجا جاتا ہے جہاں وہ (ابتدائی آباد کاری یاInocolum) کا کام کرتا ہے۔ سلج کا باقی بڑا حصہ ایک بڑے ٹینک میں پمپ کر دیا جاتا ہے جسے این ایروبک سلج ڈائی جیسٹر (Anaerobic sludge digester) کہتے ہیں۔ یہاں دوسرے قسم کے بیکٹیریا جو این ائیروبک طور پر بڑھتے ہیں سلج میں موجود بیکٹیریا اور فنجائی کو ہضم کر لیتے ہیں۔ اس ہاضمے کے دوران بیکٹیریا گیسوں جیسے میتھین، ہائڈروجن سلفائڈ اور کاربن ڈائی آکسائڈ کا ایک آمیزہ پیدا کرتے ہیں۔ یہ گیسیںBiogas بناتی ہیں اور جلنے کی خاصیت رکھنے کی وجہ سے توانائی کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں۔
سیکنڈری ٹریٹمینٹ پلانٹ سے عموماً Effluent پانی کے قدرتی ذخائر جیسے دریاؤں اور چشموں میں چھوڑا جاتا ہے۔ ایسے ایک پلانٹ کا ہوائی منظر شکل 10.7 میں دکھایا گیا ہے۔
آپ اس بات کی ستائش کر سکتے ہیں کہ کیسے ساری دنیا میں لاکھوں گیلن پانی روزانہ ٹریٹ کرنے میں مائیکروبس ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اس طریقے پر دنیا کے تقریباً سبھی حصوں میں ایک صدی سے بھی زیادہ عمل کیا جارہا ہے۔ آج کی تاریخ تک انسان کی بنائی ہوئی کوئی بھی ٹیکنولوجی سیویج کے مائیکروئبل ٹریٹمینٹ کا مقابلہ نہیں کر سکی ہے۔
آپ واقف ہیں کہ بڑھتی ہوئی شہری آبادیوں کی وجہ سے اتنا زیادہ سیویج پیدا ہو رہا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ البتہ اتنی زیادہ مقدار میں سیویج کو ٹریٹ کرنے کے لیے سیویج ٹریٹمینٹ پلانٹس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس لیے بغیر ٹریٹ کیا ہوا سیویج اکثر دریائوں میں براہ راست خارج کر دیا جاتا ہے جس سے ان کی کثافت اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
اینوائرنمینٹ اور فاریسٹ منسٹری نے گنگا ایکشن پلان (Ganga Action Plan) اور جمنا ایکشن پلان (Yamuna Action Plan) ہمارے ملک کے دو اہم دریاؤں کو کثافت سے بچانے کے لیے شروع کیے ہیں۔ ان پلانٹوں کے تحت یہ تجویز کیا گیا ہے کہ کثیر تعداد میں سیویج ٹریٹمینٹ پلانٹس کی تعمیر کی جائے تاکہ صرف ٹریٹ کیا ہوا سیویج ہی دریائوں میں خارج ہو سکے۔ آپ کے لیے کسی قریبی جگہ پر واقع ایک سیویج ٹریٹمینٹ پلانٹ کو دیکھنا آپ کے لیے بہت دلچسپی اور معلوماتی تجربے کا باعث ہوگا۔
10.4 بائیو گیس کی پیداوار میں مائیکروبس
(Microbes in Production of Biogas)
بائیوں گیس کمیٹی بائیو گیسوں کا ایک آمیزہ ہے (جس میں زیادہ تر میتھین ہوتی ہے) جو مائیکروبس کی عملیات سے پیدا ہوتی ہے اور جسے بطور ایندھن کے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ مائیکروبس نشوونما اور تحول کے دوران کئی چیزیں گیسوں کی شکل میں پیدا کرتے ہیں۔ پیدا ہونے والی گیس کا انحصار مائیکروبس اور ان نامیاتی اشیا پر ہوتا ہے جنھیں وہ استعمال کرتے ہیں۔ آٹے کی تخمیر، پنیر کے بننے اور شراب کی تیاری کے سلسلے میں پیش کی گئی مثالوں میں اصل پیدا ہونے والی گیس CO2 تھی۔ البتہ بعض بیکٹیریا جو سیلیولوز جیسے میٹیرئل پر این ایئروبیکلی بڑھتے ہیں وہ CO2 اور H2 کے ساتھ بڑی مقدار میں میتھین پیدا کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان بیکٹیریا کو Methanogens کہتے ہیں۔ اور ایسا ایک عام بیکٹیریئم (Methanobacte- rium) ہے۔ یہ بیکٹیریا عام طور پر سیویج ٹریٹمینٹ کے دوران این ایروبک سلج میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا مویشیوں کے ریومین (Rumen) (معدے کا ایک حصہ) میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ مویشی کے کھانے میں بہت سا سیلیولوزک میٹیرئل کو توڑنے میں مدد کرتے ہیں اور مویشی کے تغذیے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ ہم انسان غذائوں میں موجود سیلیولوز کو ہضم کرنے کے قابل ہیں؟ پس مویشی کے فضلے جسے عام طور سے گوبر کہتے ہیں، یہ بیکٹیریا بکثرت ہوتے ہیں۔ گوبر بایوگیس پیدا کرنے کے لیےاستعمال کیا جاسکتا یہ جسے عموماً گوبرگیس کہتے ہیں۔
بائیوگیس پلانٹ کنکریٹ کے بنے ایک ٹینک پر مشتمل ہوتا ہے (10-15 فِٹ گہرا) جس میں حیاتیاتی فضلہ اکٹھا کیا جاتا ہے اور اس میں مائیکروئبل عملیات سے پیدا ہونے والی گیس کے سبب اوپر اٹھتا رہتا ہے۔ بائیوگیس پلانٹ میں ایک باہر نکلنے کا راستہ ہوتا ہے۔
جو ایک پائپ سے قریبی مکانوں کو گیس فراہم کرنے کے لیے جوڑا جاتا ہے۔ استعمال شدہ محلول ایک دوسرے راستے سے باہر نکال دیا جاتا ہے اور بطور کھاد کے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گائوں کے علاقے میں مویشیوں کا گوبر بڑی مقدار میں دستیاب ہوتا ہے جہاں مویشی مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اس لیے بایوگیس پلانٹس گائوں میں زیادہ تعمیر ہوتے ہیں۔ پس پیدا کی گئی بایوگیس کھانا پکانے اور روشنی کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ بایوگیس پلانٹ کی تصویر شکل 10.8 میں دکھائی گئی ہے۔ بایوگیس پیداوار کی ٹیکنولوجی ہندوستان میں بنیادی طورپر انڈین ایگریکلچر رسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی اے آر آئی) اور کھادی اینڈ ویلیج انڈسٹریز کمیشن (کے وی آئی سی) کی کوششوں سے تیار کی گئی تھی۔ اگر آپ کا اسکول کسی گاؤں یا گائوں کے قریب ہے تو یہ معلوم کرنا انتہائی دلچسپی کا باعث ہوگا کہ کیا قریب میں کوئی بائیوگیس پلانٹس ہیں۔ گیس پلانٹ کو دیکھیے اور جو لوگ سچ مچ اس کا انتظام کر رہے ہیں ان سے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔
10.5 مائیکروبس بطور بائیوکنٹرول ایجینٹس
(Microbes as Biocontrol Agents)
بایوکنٹرول سے مراد ہے پودوں کی بیماریوں اور پیسٹس کے انسداد کے لیے حیاتیاتی طریقوں کا استعمال۔ ترقی یافتہ سوسائیٹی میں زیادہ تر یہ مسائل کیمیکلس یعنی انسیکٹی سائیڈس اور پیسٹی سائیڈس کے استعمال سے حل کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانوں اور جانوروں کے لیے ایک ہی طرح سے زہریلے اور بے حد ضررساں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ہمارے ماحول (زمین، اندرونی پانی)، پھلوں، سبزیوں اور فصلوں کو آلودہ کرتے ہیں۔ جنگلی گھاس کو ہٹانے کے لیے وی ڈی سائیڈس کے استعمال سے بھی ہماری زمین آلودہ ہوتی ہے۔
پیسٹس اور بیماریوں کا حیاتیاتی انسداد: زراعت میں پیسٹس کے انسداد کا ایک ایسا طریقہ ہے جو کیمیکلس کے استعمال پر بھروسہ نہ کرکے حیاتیاتی طریقوں پر انحصار کرتا ہے۔ ایک جدید کسان کو یقین کامل ہے کہ حیاتیاتی تنوع بہترصحت کا ضامن ہوتی ہے۔ کسی مقام پر جس قدر متفرقات ہوں گی وہ اتنا ہی دیرپا ہوگا۔ اس لیے جدید کسان ایک ایسا نظام تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں ان کیڑوں کو بھی جو کبھی کبھی پیسٹس کہے جاتے ہیں ختم نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے بجائے انھیں ایک زندہ اور فعّال ایکوسسٹم کے اندرروک اور توازن کے ایک پیچیدہ نظام کے ذریعے ایک قابل برداشت حد پر رکھا جاتا ہے۔ مروجہ زراعتی طریقوں کے خلاف جو عموماً کیمیائی طریقوں کے استعمال سے مفید اور ضرر رساں دونوں طرح کی زندگیوں کو بناتخلیص مارڈالتے ہیں۔ یہ ایک وسیع نظریہ ہے جس میں ایک علاقے کے فاؤنا اور فلوراتشکیل دینے والے بے شمار قسم کے عضویوں کے درمیان تعملات ثانوی جال (Webs) کا تصوّر پیدا ہوتا ہے۔ ایک جدید کسان کا خیال ہے کہ ان مخلوقات کا مکمل خاتمہ جو پیسٹس کہلاتے ہیں نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری بھی، کیونکہ ان کے بغیر مفید شکار خور اور طفیلی کیڑے جو ان پر غذا یا ہوسٹ کے لیے انحصار کرتے ہیں زندہ نہیں رہ پاتے۔ پس حیاتیاتی کنٹرول کے طریقے زہریلے کیمیکلس یا پیسٹی سائیڈس پر ہمارا انحصار بڑی حد تک کم کردیں گے۔ حیاتیاتی زراعت کے طریقے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کسی ایک علاقے میں رہنے والے مختلف ذی حیات شکار خور یا پیسٹس اور ان کے دور حیات، کھانے اور رہنے کے وہ طریقے جنہیں وہ پسند کرتے ہیں سبھی کے بارے معلومات حاصل کی جائے اور اس سے بائیوکنٹرول کے مناسب طریقے تیار کرنے میں مدد ملے گی۔
سُرخ اور کالے نشانات والی بے حد معروف بیٹل- لیڈی برڈ اور ڈریگن فلائیز بالترتیب ایفڈس اور مچھروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مفید ہیں۔ مائیکروبیٹل بائیوکنٹرول ایجینٹس کی ایک مثال جسے تتلی کے لاروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک بیکٹیریا Bacillus thuringiensis (جسے اکثر Bt لکھا جاتا ہے) ہے۔ یہ خشک اسپورس کی شکل میں تھیلی بند ملتے ہیں جنھیں پانی میں ملاکر متأثرہ پودوں جیسے سرسوں یا پھلوں کے درختوں پر چھڑک دیا جاتا ہے جہاں کیڑوں کے لادولے انھیں کھالیتے ہیں ان کے معدے میں زہر بھر جاتاہے اور لاروامر جاتا ہے جب کہ دوسرے کیڑوں کا نقصان نہیں ہوتا ہے ۔ پچھلے عشروں کے دوران جینی انجینیئرنگ کے طریقے عمل میں آنے کی وجہ سے سائنسدانوں نے B.thuringiensis کا زہریلا جین پودوں میں داخل کر دیا۔ ایسے پودوں میں ایسیکٹ ہیسٹس کے تئیں مدافعت پیدا ہو گئی۔ Bt-cotton ایک ایسی ہی مثال ہے جو ہمارے ملک کی کچھ ریاستوں میں کاشت کی جارہی ہے۔ آپ باب 12 میں اس کے بارے میں مزید پڑھیں گے۔
پودوں کی ایک بیماری کو قابو کرنے کے لیے ایک بائیولوجیکل کنٹرول تیار جارہا ہے جو ایک پھپھوند Trichoderma ہے۔ Trichoderma فنجائی کی ایک آزادانہ پائی جانے والی نوع ہے جو جڑ کے ایکوسسٹمس میں بہت عام ہے۔ وہ پودوں کے لیے جراثیموں کے لیے بہت مؤثر بائیوکنٹرول ایجینٹس ہیں۔
بیکولووائرسسز (Baculoviruses) وہ جراثیم ہیں جو کیڑوں اور دوسرے آرتھروپوڈس پر حملہ کرتے ہیں۔ بطور بائیولوجیکل کنٹرول ایجینٹس استعمال کیے جانے والے زیادہ تر بیکولووائرسسز جینس (Nucleopolyhedrovirus) سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وائرسسز ایسے نوع-مخصوصی انسیکٹی سائیڈل کنٹرول کے لیے بہترین ہیں جن کا دائرہ محدود ہو۔ پودوں، پستانیوں، پرندوں، مچھلیوں یہاں تک کہ ان کیڑوں پر بھی ان کا کوئی منفی اثر نہیں ہوتا جو نشانے پر نہ ہوں۔ یہ اس وقت خصوصیت سے مطلوبہ خوبی ہوتی ہے جب ایک مشترکہ پیسٹ مینجمینٹ (IPM) کے لیے مفید کیڑوں کی حفاظت مقصود ہو یا کسی ماحولیاتی طور پر حساس علاقے میں ٹریٹ منٹ کیا جاتا ہو۔
10.6 مائیکروبس بطور فرٹیلائیزرس (Microbes as Biofertilisers)
ہماری موجودہ طرز زندگی میں ماحولیاتی آلودگی فکر مندی کا ایک اہم سبب ہے۔ زراعتی پیداوار کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کیمیائی کھادوں کے استعمال کا اس آلودگی میں ایک نمایاں ہاتھ ہے۔ بلاشبہ اب ہمیں اندازا ہوا ہے کہ کیمیائی کھادوں کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے بہت سے مسائل وابستہ ہیں اور دباؤ پڑ رہا ہے کہ Organic formings یعنی Biofertilisers کے استعمال کو اپنایا جائے۔ بائیوفرٹیلائیزرس وہ عضویے ہیں جو مٹی کی تغذئی کوالٹی کو بڑھاتے ہیں۔ بایو فرٹیلائزرس کے اصل وسیلے بیکٹیریا، فنجائی اور سائنو بیکٹیریا (Cyanobacteria) ہیں۔ آپ نے پھلی دار پودوں کی جڑوں پر گانٹھوں کے بارے میں پڑھا ہے جو Rhizobium کے ہم باشی تعلق کی وجہ سے بنتی ہیں۔ یہ بیکٹیریا فضائی نائیٹروجن کو نامیای شکل میں فکس کر دیتے ہیں جسے پودا تغذیے کی شکل میں استعمال کرتا ہے۔ دوسرے بیکٹیریا مٹی میں آزادانہ رہتے ہوئے فضائی نائٹروجن کو فکس کر سکتے ہیں (مثالیں ہیں Azospirillumto اور Azotobacter) اور اس طرح مٹی کے نائٹروجنی مشمول کو بڑھاتے ہیں۔
فنجائی بھی پودوں کے ساتھ ہم باشی تعلقات قائم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں (Mycorrhiza)۔ جینس Glomus کی بہت سی اقسام مائیکروزائبزا کی تشکیل کرتی ہیں۔ ہم باش پھپھوندمٹی سے فاسفورس کو جذب کرکے پودے کو پہنچاتا ہے۔ ایسے تعلق رکھنے والے پودے دوسرے فائدے بھی حاصل کرتے ہیں جیسے جڑمیں رہنے والے جراثیموں کے تئیں مدافعت، کھاد اور خشک سالی کے لیے برداشت اور مجموعی طور پر پودے کی نمو اور بڑھت۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس تعلق سے فنگس کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
سائنوبیکٹیریا آٹوٹرافک (خود غذائی) مائیکروبس ہیں جو آبی اور خشکی کے ماحول میں دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے فضائی نائٹروجن کو فکس کر سکتے ہیں جیسے Anabaena، Nostoc، Oscillatoria وغیرہ۔ دھان کے کھیتوں میں سائنوبیکٹیریا ایک اہم بائیوفرٹیلائیزرس کا کام کرتے ہیں۔ بلیوگرین ایلگی بھی مٹی میں نامیاتی مادّے کا اضافہ کرکے اس کی زرخیزی بڑھاتی ہے۔ آج ہمارے ملک میں صنعتی طور پر متعدد بائیوفرٹیلائزرس بازار میں دستیاب ہیں اور کسان اپنے کھیتوں میں زمینی تغذیات کو بحال کرنے اور کیمیائی فرٹیلائیزرس پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے باقاعدگی سے ان کا استعمال کرتے ہیں۔
خلاصہ
مائیکروبس زمین پر زندگی کا ایک بہت اہم جز ہیں۔ تمام مائیکروبس جراثیم نہیں ہوتے۔ بہت سے مائیکروبس انسانوں کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ ہم مائیکروبس اور ان سے بنی ہوئی چیزیں تقریباً روزانہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ بیکٹیریا جو لیکٹک ایسڈ بیکٹیریا (LAB) کہلاتے ہیں دودھ میں پیدا ہو کر اسے دہی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ گندھا ہوا آٹا جو ڈبل روٹی بنانے کے کام آتا ہے ایسٹ میں تخمیر کیا جاتا ہے جسے Saccharomyces cerevisiae کہتے ہیں۔ بعض کھانے جیسے اِڈلی اور ڈوسا مائیکروبس سے تخمیر کیے ہوئے آٹے سے بنائے جاتے ہیں۔ بیکٹیریا اور فنجائی سے پنیر کو مخصوص ساخت، ذائقہ اور بو ملتی ہے۔ مائیکروبس لیکٹک ایسڈ، ایسیٹک ایسڈ اور الکوحل جیسی صنعتی چیزیں بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں جو انڈسٹری میں قسم قسم کے پروسسز میں استعمال ہوتی ہیں۔ پنسیلین جیسی اینٹی بائیوٹکس بیماری پھیلانے والے ضرررساں مائیکروبس کو مارنے کے لیے مفید مائیکروبس کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس نے متعدی بیماریوں جیسے ڈپتھیریا، کالی کھانسی اور نمونیا کو کنٹرول کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ سو سالوں سے بھی زیادہ سے مائیکروبس ایکٹیویٹڈ سلج فارمشین کے پروسس سے سیویج (فاضل پانی) ٹریٹ کرنے میں استعمال ہو رہے ہیں جو قدرت میں پانی کی ری سائکلنگ میں مدد کرتا ہے۔ میتھانوجنس پودوں کے کچرے کو سڑاتے وقت میتھین (بائیوگیس) پیدا کرتا ہے۔ مائیکروبس کے ذریعہ پیدا کی گئی بائیوگیس گائوں کے علاقوں میں بطور توانائی کے وسیلے کے استعمال کی جاتی ہے۔ پروسس سے جو بائیوکنٹرول کہلاتا ہے مائیکروبس مضر رساں پیسٹس کو مارنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اس عمل کو بایو کنٹرول کہتے ہیں۔ بائیوکنٹرول کے طریقوں سے پیسٹس کو کنٹرول کرنے میں زہریلے پیسٹی سائیڈس کے بکثرت استعمال سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ آج کیمیائی کھادوں کی جگہ بائیوفرٹیلائیزرس کے استعمال کو بڑھاوا دینے کی سخت ضرورت ہے۔ انسانوں کے ذریعے مائیکروبس کے متنوع استعمال سے واضح ہے کہ وہ انسانی سوسائیٹی کی فلاح و بہبود میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔
مشق
1۔ بیکٹیریا بلاواسطہ آنکھوں سے نہیں دیکھے جاسکتے لیکن انھیں خوردبین کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کو گھر سے ایک نمونہ اپنی تجربہ گاہ ایک خوردبین کی مدد سے مائیکروبس کی موجودگی دکھانے کے لیے لے جانا ہو تو آپ کون سا نمونہ لے جائیں گے؟ اور کیوں؟
2۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ تحول کے دوران مائیکروبس گیسیں چھوڑتے ہیں مثالیں دیجئے۔
3۔ کس غذا میں آپ لیکٹک ایسڈ بیکٹیریا پاتے ہیں؟ ان کے کچھ مفید استعمال بتائیے۔
4۔ گیہوں، چاول اور چنے (یا ان سے بنی چیزوں) سے بنی روایتی ہندوستانی غذاؤں کے نام بتائیے۔ جن میں مائیکروبس کا استعمال شامل ہو۔
5۔ ضرر رساں بیکٹیریا کے سبب ہونے والی بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں مائیکروبس کس طرح اہم رول ادا کرتے ہیں۔
6۔ کسی دو فنگس انواع کے نام بتائیے جنھیں اینٹی بایوٹکس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
7۔ سیویج کیا ہوتا ہے؟ سیویج ہمارے لیے کس طرح نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
8۔ پرائمری اور سیکنڈری سیویج ٹریٹمینٹ میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے؟
9۔ یا آپ سمجھتے ہیں کہ مائیکروبس کو توانائی کے وسیلے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اگر ہاں تو کیسے؟
10۔ مائیکروبس کو کیمیائی کھادوں اور پیسٹی سائیڈس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہاں تو کیسے؟
11۔ پانی کے تین نمونوں کو جن کا نام ہے دریا کا پانی، نان ٹریٹڈ سیویج کا پانی اور ایک سیویج ٹریٹمینٹ پلانٹ سے خارج ہونے والا سیکنڈری ایفلیونیٹ، ان کا BOD ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ نمونے A، B اور C نشان زد کیے گئے لیکن تجربہ گاہ کے ملازم نے نہیں دیکھا کہ کس پر کیا نشان تھا۔ تین نمونوں A، B اور C کی ویلیوز بالترتیب 20mg/L، 8mg/L اور 400mg/L رکارڈ کی گئیں۔ کون سا نمونہ سب سے زیادہ آلودہ ہے؟ کیا آپ یہ فرض کرکے کہ دریا کا پانی مقابلتاً صاف ہے، ہر ایک پر صحیح نشان لگاسکتے ہیں؟
12۔ ان مائیکروبس کے نام معلوم کیجیے جن سے Cyclosporin A (ایک Immunosuppressive ڈرگ) اور Statins (خون کا کولسٹرول گھٹانے والے ایجنٹ) حاصل ہوتے ہیں
13۔ حسب ذیل میں مائیکروبس کا رول معلوم کیجیے اور اپنے استاد سے اس پر بات کیجیے:
(a) واحد سیل پروٹین (SCP)
(b) مٹی
13۔ حسب ذیل کو ان کی انسانی سوسائیٹی کی فلاح و بہبود کے لیے گھٹتی ہوئی ترتیب کے مطابق ترتیب دیجئے۔ اپنے جواب کے لیے وجوہات لکھیے۔
بائیوگیس، سٹرک ایسڈ، پنسلین اور دہی
15۔ بائیوفرٹیلائزرس کس طرح مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں؟