Skip to content
Hayatiyaat(Biology)

اکائی IX

بائیو ٹیکنالوجی (Biotechnology)

باب 11

بایوٹیکنالوجی: اصول اور پراسس

باب 12

بائیوٹیکنالوجی اور اس کا استعمال

سترھویں صدی کے فرانسیسی فلسفی، ریاضی داں اور ماہر حیاتیات Rene Descartes کے زمانے سے ہی تمام انسانی علم بالخصوص نیچرل سائنس تکنیکی ترقی کے راستے پر گامزن ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی میں سکون و آرام کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں کا اضافہ ہوا ہے۔ فطری مظہر کو سمجھنے کا طریقہ کار بشر مرکزی (Anthropocentric) بن چکا ہے۔ علم طبیعات اور کیمیا نے انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کو فروغ دیا۔ ان سبھی نے مل کر انسانی آسائش اور بہبود کے لیے کام کیے حیاتیاتی دنیا کا سب سے اہم استعمال غذا کے ذریعہ کے طور پر ہو رہا ہے۔ بائیوٹیکنالوجی ماڈرن حیاتیات کی بیسویں صدی کی شاخ ہے جس نے ہماری روز مرہ کی زندگی کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ اس کے ماحصل صحت اور غذا کی پیداوار میں یقینی سدھار کا سبب بن چکے ہیں۔ بائیوٹیکنالوجی کے عملوں سے وابستہ بنیادی اصولوں اور استعمال پراس اکائی میں روشنی ڈالی گئی ہے اور ان پر بحث کی گئی ہے۔

pic 1 chapter 11
ہربرٹ بویر
(1936)
ہربرٹ بویر (Herbert Boyer) کی پیدائش 1936 میں ہوئی اور وہ مغربی پینسلوینیا میں پلے بڑھے جہاں کے ریل روڈ اور کانیں زیادہ تر نوجوانوں کا مقدر تھیں۔ انھوں نے اپنی گریجویشن کی پڑھائی ٹیس برگ یونیورسٹی میں مکمل کی۔ 1963 میں انھوں نے (Yale) میں تین برسوں تک اپنی پوسٹ گریجویشن کی پڑھائی کی۔
1966 میں بویر سین فرانسسکو میں واقع کیلفورنیا یورنیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1969 تک انھوں نے مفید خصوصیات کے حامل E. coli بیکٹریم کے دو بندشی خامروں (Restriction enzymes) کا مطالعہ کیا۔ بویر نے پایا کہ ان انزائموں میں DNA اسٹرینڈ کو ایک مخصوص انداز میں کاٹنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور جو باقی بچتا ہے وہ اسٹرینڈ پر چپچپا سرا 'Sticky ends' کہلاتا ہے۔ یہ سرے ایک مخصوص طریقے میں DNA کے ٹکڑوں کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ 
اس کھوج کے نتیجے میں ہوائی میں اسٹین فورڈ سائنس داں اسٹینلے کوہین (Stanley Cohen) کے ساتھ معلومات افزا گفتگو ہو سکی کوہین DNA کے چھوٹے چھوٹے رنگ لیٹ (Ringlet) جنھیں پلازمڈز (Plasmids) کہتے ہیں، پر کام کر رہے تھے۔ یہ پلازمد کچھ مخصوص بیکٹریائی خلیوں میں آزادانہ طور پر تیرتے رہتے ہیں اور DNA کے کوڈنگ اسٹرینڈ سے آزادانہ طور پر لپٹے رہتے ہیں۔ کوہین نے خلیوں سے ان پلازمڈ کو ہٹانے اور انھیں دوبارہ سے دیگر خلیوں میں بھیجنے کی تکنیک کو فروغ دیا۔ DNA کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے اس عمل کی وجہ سے بویر اور کوہین DNA کے مطلوبہ قطعات کو جوڑنے اور انھیں بیکٹریائی خلیوں میں داخل کرنے کے اہل ہو گئے جن کی بدولت مخصوص پروٹین کو بنانے کے لیے کارخانے کو تیار کرسکے۔ یہ وہ کامیابی تھی جس پر بائیوٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی گئی۔

pic 2 chapter 11

باب 11

بائیوٹیکنالوجی: اصول اور طریقۂ کار

(Biotechnology: Principles and Processes)

11.1 بائیوٹیکنالوجی کے اصول
11.2 پاریکمبنینٹ DNA ٹیکنالوجی کے آلات
11.3       باز متحد DNA ٹیکنالوجی کے طریقے

بائیوٹیکنالوجی (Biotechnology) میں ان تکنیکوں کا بیان ہے جس میں عضویوں یا ان سے حاصل ہونے والے خامروں کا استعمال کرکے انسانوں کے لیے مفید ماحصل یا پراسس (عملوں) کو فروغ دیا جاتا ہے۔ دہی، ڈبل روٹی، شراب وغیرہ کو بنانے کے افعال خردعضویوں کے توسط سے انجام پاتے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے بائیوٹیکنالوجی کی ہی ایک شکل ہے۔ موجودہ دور میں، محدود معنی میں بائیوٹیکنالوجی کو دیکھا جائے تو اس میں وہ پراسس شامل ہیں جن میں جینیاتی طور پر ترمیم شدہ (Genetically modified) عضویوں کا استعمال مطلوبہ مادوں کو بڑی مقدار میں پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ مزید کئی پراسس/تکنیکوں کو بائیوٹیکنالوجی میں شامل کیا گیا ہے۔ مثلاً In vitro بارآوری کے ذریعہ’’ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘‘ کی تشکیل، جین کی تالیف اور اس کا استعمال، DNA ٹیکہ اور ناقص جین کو درست کرنا، یہ سبھی بائیوٹیکنالوجی کا ہی حصہ ہیں۔
یوروپین فیڈریشن آف بائیوٹیکنالوجی (EFB) کے ذریعہ بائیوٹیکنالوجی کی جو تعریف پیش کی گئی ہے اس کے مطابق اس میں روایتی نظریہ اور جدید سالماتی بائیوٹیکنالوجی دونوں پر زور دیا گیا ہے۔ EFB کے مطابق بائیوٹیکنالوجی کی تعریف مندرجہ ذیل ہے:
نئے ماحصل اور خدمات کے لیے نیچرل سائنس اور جاندار عضویوں خلیوں اور ان کے اعضا نیز سالماتی مشابہتوں کا مجموعہ ہے۔

11.1 بائیوٹیکنالوجی کے اصول (Principles of Biotechnology)

جدید بائیوٹیکنالوجی کے فروغ میں دو بنیادی تکنیکیںکاکردار براہم ہے۔
(i) جینیٹک انجینئرنگ : اس تکنیک کے ذریعہ جینیٹک مادوں (DNA یا RNA) کی کیمسٹری کو تبدیل کرکے انھیں میزبان عضویوں میں داخل کیا جاتا ہے اور پھر اس میزبان عضویوں کے فینوٹائپ (Phenotype) کو تبدیل کرتے ہیں۔
(ii) کیمیکل انجینئرنگ پراسس میں اسٹیرائل (خورد عضویوں کے مہلک اثر سے آزاد) ماحول پیدا کرکے صرف مطلوبہ خرد عضویوں / یوکیریوٹک خلیوں میں نشوونما کراکر بڑی مقدار میں اینٹی بایوٹک، ٹیکے، خامرے وغیرہ جیسی چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔
آئیے اب جینیٹک انجینئرنگ کے اصولوں کے فروغ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ 
آپ غیر صنفی تولید کے مقابلے صنفی تولید کی افادیت کے بارے میں جانتے ہیں۔ آخرالذکر عضویوں کے جینیٹک سیٹ اپ کے کمبینیشن میں تنوعات کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ تنوعات (Vareations) عضویوں اور آبادی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ غیر صنفی تولید میں جینیٹک اطلاعات محفوظ رہتی ہیں جبکہ صنفی تولید تنوع کا باعث ہے۔ نباتاتی اور حیوانی نسل افزائش کے لیے مخلوطیت کے روایتی طریقوں کے استعمال سے مطلوبہ جین کی کے ساتھ ساتھ غیر مطلوبہ جین بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ان کی تقسیم بھی ہوتی ہے۔ مذکورہ بالا خامیوں کو دور کرنے کے لیے جینیٹک انجینیئرنگ تکنیکوں میں جین کلوننگ اور جین ٹرانسفر کا استعمال کرکے باز متحد ڈی این اے (Recombinant DNA) کی تشکیل کی جاتی ہے جس کی مدد سے غیر مطلوبہ جین کے بغیر صرف ایک یا ایک سے زیادہ مطلوبہ جین کو منتخب عضویوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ فیروقرابت دار (Alien) عضویوں میں کسی طرح سے منتقل کیے ہوئے DNA قطعات کا مستقبل کیا ہے! قوی امید ہے کہ یہ DNA عضویے کی اگلی نسلوں میں میں خود بخود تقسیم نہیں ہو پائے گا۔ لیکن جب یہ DNA میزبان عضوئیے کے جینوم سے منسلک ہو جاتا ہے تو یہ تقسیم ہو کر میزبان DNA کے ساتھ موروثی ہو جاتا ہے۔ یہ غیر قرابت دار DNA قطعہ کروموسوم کا حصہ ہوتا ہے جس میں ریپلیکیٹ (Replicate) کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کروموسوم میں ایک مخصوص DNA تواتر ہوتا ہے جسے ریپلیکیشن کی ابتدا (Origin of replication) کہتے ہیں اور جو ریپلیکیشن کو شروع کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ کسی بھی عضویہ میں غیر قرابت دار DNA قطعہ کی تقسیم کے لیے اسے اس کروموزوم کا جزو ہونا لازمی ہے جس میں ایک مخصوص تواتر ہوتا ہے جسے ’’ریپلیکیشن کی ابتدا‘‘ کہتے ہیں۔ اس طرح ایک غیر قرابت دار DNA قطعہ ریپلیکیشن کی ابتداء سے منسلک یا متصل ہوتا ہے تاکہ غیر قرابت دار DNA قطعہ میزبان خلیہ میں خود بخود ریپلیکیٹ اور تقسیم ہو سکے۔ اسے کلوننگ (Cloning) بھی کہا جاسکتا ہے جس میں کسی ٹیمپلیٹ DNA کی بہت مساوی مماثل نقل کی بنائی جاتی ہے۔
آئیے اب مصنوعی باز متحد DNA سالمہ کی تشکیل پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ سب سے پہلے باز متحد DNA کی تشکیل سالمونیلا ٹائفی موریم کے پلازمڈ (ایک دائری اضافی کروموسومل DNA جو خودبخود ریپبلیکیشن کرتا ہے) میں اینٹی بایوٹک مزاحمتی جین کے اتصال کے امکان سے نمودار ہوئی۔ اسٹینلے کوہین اور رابرٹ بویر نے 1972 میں مذکورہ بالا کام کو پلازمڈ سے DNA کے قطعہ کو کاٹ کر انجام دیا جس میں اینٹی بایوٹک مزاحمت فراہم کرنے کے لیے ذمہ دار جین موجود تھا۔ سالماتی قینچی کہلانے والے بندشی خامرے (Restriction enzyme) کی کھوج سے DNA کو مخصوص جگہوں پر کاٹنا ممکن ہو سکا۔ کٹے ہوئے DNA کا حصہ پلازمڈ DNA سے منسلک کیا جاتا ہے۔ یہ پلازمڈ DNA ایک جین برادر (Vector) کی طرح کام کرتا ہے جو اس سے منسلک DNA کو منتقل کرتا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مچھر ملیریا کے طفیلیہ کو انسان کے جسم میں منتقل کرنے کے لیے کیریر یا ویکٹر کا کام کرتا ہے بالکل اسی طرح پلازمڈ کو ویکٹر کے طور پر استعمال کرکے غیر قرابت دار DNA کے قطعات کو میزبان عضویوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ اینٹی بایوٹک مزاحم کو ویکٹر کے ساتھ منسلک کرنے کا کام انزائم DNA لائگیز کے ذریعہ ہوتا ہے جو DNA سالمہ کے لیے ہوئے حصوں کے کناروں کو جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ اس اتصال سے (In vitro) غیر جسمی ازخود ریپلیکیٹگ DNA کی تشکیل ہوتی ہے جسے باز متصل DNA کہتے ہیں۔ جب یہ DNA، ای کولائی (E. coli) (ایک بیکٹیریا جو سالمونیلا سے کافی مشابہت رکھتا ہے) میں منتقل کیا جاتا ہے تو یہ نئے میزبان DNA پالیمریز انزائم کا استعمال کرکے متعدد نقلیں بنالیتا ہے۔ اس طرح E. Coli میں اینٹی بایوٹک مزاحم جین مصنوعی طریقہ سے پہنچ جاتی ہے۔ اس عمل کو E. Coli میں اینٹی بایوٹک مزاحم جین کی کلوننگ کہتے ہیں۔ آپ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ عضویہ کی توارثی ترمیم میں تین بنیادی اقدام شامل ہیں۔
(i) مطلوبہ جین کے حامل DNA کی شناخت
(ii)   شناخت کیے گئے DNA کی میزبان میں منتقلی
(iii) منتقل کیے گئے DNA کا میزبان میں رکھ رکھائو اور اسے اگلی نسل میں منتقل کرنا۔

11.2 باز متصل DNA ٹیکنالوجی کے آلات

(Tools of Recombinant DNA Technology)

اب ہم جانتے ہیں کہ جینیٹک انجینئرنگ یا باز متحد DNA تکنیک اسی وقت بروئے کار لائی جاسکتی ہے جب ہمارے پاس بندشی انزائم، پالیمریزانزائم، لائگیز ویکٹر اور میزبان عضویے جیسے کلیدی اوزار موجود ہوں۔ آئیے ان میں سے کچھ اوزاروں کا تفصیلی مطالعہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
11.2.1  بندشی انزائم (Restriction Enzymes)
1963 میں دو انزائم علیحدہ کیے گئے جو E. coli میں بیکٹیریو فیج (Bacteriophage) کی نمو کو روک دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک میتھائل گروپ کو DNA سے منسلک کردیتا ہے جبکہ دوسرا DNA  کو کاٹتا ہے۔ مؤخرالذکر انزام کو بندشی اینڈونیوکلیئز (Restriction endonuclease) کہتے ہیں۔
پہلا بندشی اینڈونیوکلیئز Hind-II، جس کا کام DNA نیوکلیوٹائڈ تواتر پر منحصر ہے، پانچ سال کے بعد علیحدہ کیا گیا۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ Hind-II، DNA سالمہ کو ہمیشہ اس مخصوص مقامات پر کاٹتے ہیں جہاں چھ اساس جفتوں (Base pairs) کا ایک مخصوص تواتر ہوتا ہے۔ اس مخصوص اساس تواتر کو Hind-II کے لیے پہچان تواتر (Recognition sequences) کہتے ہیں۔ Hind-II کے علاوہ آج 900 سے بھی زیادہ بندشی انزائموں کے بارے مںی جانکاری ہے جو بیکٹریا کے 230 سے بھی زیادہ اسٹرینس (Strains) سے علیحدہ کیے گئے ہیں ان میں سے ہر ایک مختلف پہچان تواتر کی شناخت کرتا ہے۔
ان انزائموں کے تسمیہ میں روایت کے مطابق نام کا پہلا حروف جین سے آتا ہے اور دوسرے دو حروف اس پروکیریوٹک خلیہ کی نوع سے لیے جاتے ہیں جس سے انھیں علیحدہ کیا گیا ہے۔ مثلاً E.coRl کو Escherichia coliRy-13 سے لیا گیا ہے۔ حرف R کو اسٹرین کے نام سے اخذ کیا گیا ہے۔ نام کے بعد رومن ہندسے اس ترتیب کو ظاہر کرتے ہیں جس میں بیکٹیریا کے اسٹرین سے انزائم علیحدہ کیے گئے تھے۔ 
بندشی انزائم، خامروں کے ایک بڑے کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں نیوکلیئریز (Nucleases) کہا جاتا ہے۔ یہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایکسونیوکلئیزیز (Exonucleases) اور اینڈو وینوکلئیزیز۔ ایکسو نیوکلئیزیز DNA کے سرے سے نیوکلیوٹائڈ کو علیحدہ کرتا ہے جبکہ اینڈونیوکلئیزیز DNA درمیان کی مخصوص پوزیشن پر کاٹتا ہے۔
ہر ایک بدنشی اینڈونیوکلئیزیز DNA تواتر کی لمبائی کا معائنہ کرنے کے بعد کام کرتا ہے۔ جب یہ اپنے مخصوص پہچان تواتر کو تلاش کرلیتا ہے تو یہ DNA سے منسلک ہو جاتا ہے اور ڈبل ہیلکس کی دونوں پٹیوں (Strands) کو شکر-فاسفیٹ بنیادوں میں مخصوص پوائنٹ پر کاٹتا ہے (شکل 11.1)۔ ہر ایک بندشی اینڈونیوکلئیزیز DNA میں مخصوص پیلنڈرومک نیوکلیوٹائڈ تواتر کو پہچانتا ہے۔ 
کیا آپ جانتے ہیں کہ پیلینڈروم کیا ہیں؟ یہ حروف کا ایسا مجموعہ ہیں جنھیں آگے اور پیچھے دونوں طرف سے پڑھنے پر ایک ہی لفظ بنتا ہے۔ جیسے MALAYALAM۔ لفظ پیلینڈروم اور DNA پیلینڈروم میں فرق ہے، DNA میں پیلنڈروم اساس جفتوں کا ایسا توار ہے جو پڑھنے کی تشریق کو یکساں رکھنے پر دونوں لڑیوں یا پٹیوں میں ایک جیسا پڑھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل تواتر کو 5' ® 3' سمت میں پڑھنے پر دونوں لڑیوں میں ایک جیسا پڑھا جائے گا۔ اگر اسے 3' ® 5' سمت میں پڑھا جائے تو بھی یہ بات درست ثابت ہوتی ہے۔ 
5' — GAATTC — 3' 
3' — CTTAAG — 5' 
بندشی انزائم DNA لڑی کو پیلنڈروم تواتر کے مرکز سے تھوڑا فاصلہ پر لیکن مقابل لڑیوں میں دو یکساں اساس کے درمیان کاٹتے ہیں جس کے نتیجے میں سروں پر ایک لڑی والا حصہ باقی رہ جاتا ہے۔ ہر ایک لڑی میں اور لٹکتا سرا (Overhang) بنتا ہے جنھیں چپچپا سرا (Sticky ends) کہتے ہیں (شکل 11.1)۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ یہ اپنے کیے ہوئے کاؤنٹر پارٹ کے ساتھ ہائیڈروجن بانڈ بناتے ہیں۔ سروں پر یہ چپچپاہٹ DNA لائیگیز انزائموں کے عمل میں مدد کرتی ہے۔
pic 3 chapter 11
شکل 11.1  بندشی انزائمEcoRI کے عمل سے ریکمبنینٹ DNA بنانے کے اقدام

بندشی اینڈونیوکلئیز کا استعمال جینیٹک انجینئرنگ میں DNA کے باز متحد (Recombinant) سالمات بنانے میں کیا جاتا ہے جو مختلف ذرائع / جینوم پر سے حاصل ہوتے ہیں۔ 
ایک ہی بندشی انزائم کے ذریعہ کاٹنے پر حاصل ہونے والے DNA قطعات میں ایک ہی قسم کے چپچپے سرے میں ہوتے ہیں جو DNA لائیگیز کی مدد سے آپس میں (کنارے سے کنارہ) منسلک ہو جاتے ہیں (شکل 11.2)۔
آپ مکمل طور پر سمجھ گئے ہوں گے کہ عام طور سے جب تک ایک ویکٹر اور مآخذ DNA کو ایک ہی بندشی انزائم کی مدد سے نہیں کاٹا جاتا، باز متحد ویکٹر سالمات کی تشکیل نہیں ہو سکتی۔
DNA قطعات کی علیحدگی اور حصول : بندشی اینڈو نیوکلئیز کے ذریعہ DNA کو کاٹنے کے نتیجے میں DNA کے قطعات حاصل ہوتے ہیں۔ ان قطعات کو ایک تکنیک  کے ذریعہ علیحدہ کر سکتے ہیں جسے جیل الیکٹروفوریس (gel DNA قطعات کی علیحدگی اور حصول : بندشی اینڈو نیوکلئیز کے ذریعہ DNA کو کاٹنے کے نتیجے میں DNAکے قطعات حاصل ہوتے ہیں۔ ان قطعات کو ایک تکنیک کے ذریعہ علیحدہ کر سکتے ہیں جسے جیل الیکٹروفوریس (gel electrophoresis) کہتے ہیں کیونکہ DNA قطعہ منفی چارج شدہ ہوتا ہے اس لیے انھیں برقی میدان کے زیر اثر کسی میڈیم/میٹرکس کے ذریعہ اینوڈ کی طرف بہا کرکے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ آج کل سب سے زیادہ استعمال میں آنے والا میٹرکس (Matrix) ایگاروز (Agarose) ہے جو کہ سمندری ویڈ سے اصل کیا جانے والا قدرتی پالیمر ہے۔ DNA قطعات کو ان کے سائز کے مطابق ایگاروز جیل کے ذریعہ مہیا کیے جانے والے تقطیری اثر (Sieving effect) کے ذریعہ علیحدہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح قطعات کا سائز جتنا چھوٹا ہوگا وہ اتنی ہی زیادہ دور تک جائیں گے۔ شکل 11.3 دیکھیے اور اندازہ لگائیے کہ جیل کے کس سرے پر DNA محلول کو داخل کیا گیا تھا۔ 
pic 4 chapter 11
شکل 11.2  ریکامبی  نینٹ ڈی این اے ٹکنالوجی کا تصویری خاکہ

علیحدہ کیے گئے DNA قطعات کو اسی وقت دیکھا جاسکتا ہے جب اس DNA کو اتھیڈیم برومائڈ مرکب سے اسٹین (Stain) کرکے اس پر UV اشعاع ریزی کی جاتی ہے (آپ خالص DNA قطعات کو مرئی روشنی میں اور غیر اسٹین کیے ہوئے نہیں دیکھ سکتے)۔ اتھیڈیم برومائڈ اسٹین شدہ جیل پر UV اشعاع ریزی کرنے سے DNA کی چمکدار نارنجی رنگ کی پٹی نظر آتی ہے (شکل 11.3)۔ DNA کی علیحدہ کی گئی پٹیوں کی ایگاروز جیل سے کاٹ کر نکال لیتے ہیں اور جیل کے ٹکڑوں سے اس کا استخراج کرلیتے ہیں۔ اس عمل کو الیوشن(Elution) کہتے ہیں۔ اس طریقے سے خالص بنئے گئے DNA کو کلوننگ ویکٹ کے ساتھ منسلک کرکے باز متحد DNA کی تشکیل کی جاتی ہے۔
11.2.2 کلوننگ ویکٹرس (Cloning Vectors)
آپ جانتے ہیں کہ پلازمڈ اور بیکٹریوفیج بیکٹریائی خلیہ میں کروموسومل DNA کے کنٹرول کے بغیر ریپلیکیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیکٹریوفیج کی کثیر تعداد کی وجہ سے بیکٹیریائی خلیہ میں ان کے جینوم کی متعدد نقلیں (Copies) پائی جاتی ہیں۔ کچھ پلازمڈ کافی کم تعداد میں ہوتے ہیں اور وہ ایک یا دو کی تعداد میں ہی ایک بیکٹریا میں ہوتے ہیں۔ جبکہ دیگر پلازمڈ 15 سے 100 تک فی سیل پائے جاسکتے ہیں۔ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگر ہم غیر قرابت دار DNA قطعات کو بیکٹریوفیج یا پلازمڈ DNA سے منسلک کر سکیں تو ان کی تعداد کو بھی بیکٹریوفیج یا پلازمڈ کی تعداد کے مساوی کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں استعمال کیے جارہے ویکٹر اس طرح تیار کیے جاتے ہیں کہ وہ آسانی سے بیرونی DNA سے منسلک ہوسکیں اور غیر باز متحد شدہ سے باز متحدہ شدہ کے انتخاب میں بھی مدد کریں۔
pic 5 chapter 11
شکل 11.3ایک تمثیلی ایگاروز جیل الیکٹروفوریسس جس میں (لین1) بغیر کٹا ہوا ڈی این اے اور (لین 4-2 ) ڈی این اے قطعات کے کٹے ہوئے سیٹ کو ظاہر کر رہا ہے۔

ویکٹرس میں کلوننگ کے لیے مندرجہ ذیل خصوصیات کی ضرورت ہوتی ہے۔

(i)    ریپلیکیشن کی ابتدا (Origin of replication (ori) :

 یہ وہ تواتر ہے جہاں سے ریپلیکیشن کی ابتدا ہوتی ہے اور جب کسی DNA کا کوئی ٹکڑا اس تواتر سے منسلک ہو جاتا ہے تو میزبان خلیوں کے اندر ریپلیکیٹ کر سکتا ہے۔ یہ تواتر منسلک کیے گئے DNA کی نقل کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی ذمہ دار ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی ہدفی (Target) DNA کی بہت زیادہ کاپیاں حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسے ویکٹر میں کلون کرنا چاہیے جس کا مبدا (Ori) بہت زیادہ کاپیاں بنانے میں معاون ہو۔
(ii) قابل انتخاب نشان دہندہ (Selectable marker): Ori کے ساتھ ویکٹر کو قابل انتخاب مارکر کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو non-transformants کی شناخت کرکے انھیں ہٹانے میں مدد کرے اور Transformants کی منتخبہ نمو کو ہونے دے۔ تبدیلی (Transformation) ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ DNA کے ایک قطعہ کو میزبان خلیہ میں داخل کرتے ہیں (آپ آئندہ سیکشن میں اس عمل کا مطالعہ کریں گے)۔ عام طور سے ایمپیسیلن، کلوریمفینیکال، ٹیٹراسائکلین یا کونامائسین جیسے اینٹی بایوٹک کے تئیں مزاحمت کوڈ کرنے والے جین E.coli کے لیے مفید قابل انتخاب چانشان دہ تصور کیے جاتے ہیں۔ عام E.coli خلیوں میں ان میں سے کسی بھی اینٹی بایوٹک کے تئیں مزاحمت نہیں ہوتی۔
(iii) کلوننگ مقام (Cloning Site) : غیر قرابت دار DNA کو منسلک کرنے کے لیے عام طور سے بروئے کار لائے جانے والے بندشی انزائموں کے لیے ویکٹر میں چند یا واحد شناختی مقامات ہونے چاہئیں۔ ویکٹر کے (iii) کلوننگ مقام (Cloning Site) : غیر قرابت دار DNA کو منسلک کرنے کے لیے عام طور سے بروئے کار لائے جانے والے بندشی انزائموں کے لیے ویکٹر میں چند یا واحد شناختی مقامات ہونے چاہئیں۔ ویکٹر کے اندر ایک سے زیادہ شناختی مقامات ہونے کی وجہ سے اس کے کئی قطعات بن جاتے ہیں جو جین کلوننگ کو پیچیدہ بنادیتے ہیں (شکل 11.4)۔ غیر قرابت دار DNA کا انسلاک (Ligation) ان دونوں اینٹی بایوٹک مزاحم جین میں سے کسی ایک میں موجود بندشی مقام پر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ غیر قرابت دار DNA کو ویکٹر pBR322 میں موجود ٹیٹراسائکلین مزاحم جین سے منسلک کر سکتے ہیں۔ باز متحد پلازمڈ کی ٹیٹرا سائکلین کی مزاحمت بیرونی DNA کے درمیانی تداخل سے ختم ہو جاتی ہے لیکن Transformant کو ایمپیسیلین پر ملے ہوئے میڈیم میں افزائش کرکر باز متحد سے ابھی بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔ ایمپسیلین پر مشتمل میڈیم پر نمو کرنے والے Transformant کو پھر ٹیٹراسائکلین پر مشتمل میڈیم پر منتقل کر دیتے ہیں۔ باز متحد، ایمپسلین والے میڈیم میں افزائش کرے گا لیکن ٹیٹرا سائکلین والے میڈیم پر افزائش نہیں ہوگی۔ لیکن غیر باز متحد دونوں اینٹی بایوٹک والے میڈیم میں افزائش کرے گا۔ اس معاملے میں ایک اینٹی بایوٹک مزاحم جین Transformants کے انتخاب میں مدد کرتا ہے جبکہ دوسرا اینٹی بایوٹک مزاحم جین غیر قرابت دار DNA کے تداخل سے بے عمل (Inactivated) ہو جاتا ہے اور باز متحد کے انتخاب میں مدد کرتا ہے۔
pic 6 chapter 11
شکل11.4 ای کولائی کلوننگ ویکٹر  322پی بی آر رسٹریکشن مقامات (Hind III, EcOR I, BamH I, Sal I, Pvu II, Pst 1, Cla I) مبدا (ori) اینٹی بایوٹک مدافعت جنیز (ampR) اور (tetR) کو ظاہر کر رہا ہے۔ Rop ان پوٹینز کو کوڈ کرتا ہے جو پلازمڈ کے ریپلیکیشن میں مدد کرتے ہیں۔

اینٹی بایوٹک کے بے عمل ہو جانے کی وجہ سے باز متحد کے انتخاب کا طریقہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس میں مختلف اینٹی بایوٹک والی دو پلیٹوں پر ساتھ ساتھ پلیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے متبادل قابل انتخاب مارکر کا فروغ ہوا جو باز متحد اور غیر باز متحد کے درمیان اس بنیاد پر فرق کرتا ہے کہ وہ کروموجینک سبسٹریٹ کی موجودگی میں رنگ پیدا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ اس میں ایک باز متحد DNA کو b-galactosidase خامرے کے کوڈنگ تواتر میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس انزائم کی تالیف کے لیے جین بے عمل ہو جاتا ہے جسے Insertioral inactivation کہتے ہیں۔ اگر بیکٹیریا میں پلازمڈ داخل (Insert) نہیں ہوتا ہے تو کروموجینک سبسٹریٹ کی موجودگی میں نیلے رنگ کی کالونی وجود میں آتی ہے۔ داخل ہونے پر میں b-galactosidase جین کا Insertional inactivation ہو جاتا ہے جس سے بغیر رنگ والی کالونی بنتی ہے۔ جس کی شناخت باز متحد کالونی کے طور پر کی جاتی ہے۔
(iv) پودوں اور جانوروں میں جین کلوننگ کے لیے ویکٹر: آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ ہم نے جین کو پودوں اور جانوروں میں منتقل کرنا بیکٹیریا اور وائرسوں سے سیکھا جنھیں یہ بات بہت پہلے سے معلوم تھی۔ انھیں معلوم تھا کہ یوکیریوٹک خلیوں کو ٹرانسفارم کرنے کے لیے جین کا کس طرح استعمال کیا جائے اور وہ (بیکٹیریا اور وائرس) جو چاہتے ہیں اسے انجام دینے کے لیے جین کو مجبور کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایگروبیکٹیریم ٹیومیفیشی اینس (Agrobacterium tumifaciens) جو کئی ڈائی کاٹ (Dicot) پودوں کا مرض آور عضویہ (Pathogen) ہے، DNA کے ایک قطعہ (جسے T-DNA کہتے ہیں) کو ٹرانسفارم کرکے     عام پودے کے خلیہ کو ٹیومر (Tumor) میں تبدیل کر دیتا ہے اور یہ ٹیومر خلیے پیتھوجن کے لیے ضروری کیمکلس پیدا کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح سے حیوانی خلیوں میں ریٹرو وائرس عام خلیوں کو کینسر خلیوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ پیتھوجن کے ذریعہ اپنے یوکیریوٹک میزبان میں جین کو منتقل کرنے کے طریقہ کو بہتر طور پر سمجھ کرانسانوں نے پسندیدہ جین قابل استعمال ویکٹر میں داخل کرنے کے طریقہ میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ایگروبیکٹیریم ٹیومی فیشینس کا Ti پلازمڈ (جو کہ ٹیومر پیدا کرتا ہے) کو اب کلوننگ ویکٹر کے طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے جو پودوں کے لیے مرض آور نہیں ہے بلکہ اس کا استعمال ہمارے لیے مفید جین کو متعدد پودوں میں منتقل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح سے ریٹرووائرس کو غیر مضر بناکر حیوانی خلیوں میں مطلوبہ جین کو منتقل کرنے میں کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے جب کسی جین یا DNA کے ٹکڑے کو مناسب ویکٹر سے منسلک کر دیا جاتا ہے تو پھر اسے بیکٹیریا، پودے یا حیوانی میزبان میں منتقل کیا جاتا ہے (جہاں افزائش کی تعداد میں کثرت کرتے ہیںہوتا رہتا ہے)۔
11.2.3  مستعد (Competent) میزبان (باز متحد DNA کے ساتھ ٹرانسفارمیشن کے لیے)
چونکہ DNA ہائڈروفلک (آب پسند) سالمہ ہے اس لیے یہ خلوی جھلی سے ہو کر نہیں گزرسکتا ہے۔ کیوں؟ بیکٹیریا کو پلازمڈ لینے کے لیے مجبور کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بیکٹیریائی خلیہ کو پلازمڈ لینے کے لیے مستعد بنایا جائے۔ ایسا کرنے کے لیے پہلے دوویلنسی والے کیٹ آین جیسے کہ کیلشیم کے مخصوص ارتکاز کے ساتھ بیکٹریائی خلیوں کا ٹریٹمینٹ کیا جاتا ہے۔ اس DNA کو بیکٹیریا بیکٹریائی خلوی دیوار میں موجود مسامات سے ہو کر اندر داخل ہونے میں کافی مدد ملی ہے۔ ایسے خلیوں کو باز متحد DNA کے ساتھ پہلے برف میں رکھا جاتا ہے اس کے بعد باز متحدہ DNA کو ان آمادہ خلیوں میں داخل کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد انھیں کچھ وقت کے لیے 42°C پر (Heat shock) دیا جاتا ہے اور دوبارہ برف میں رکھا جاتا ہے ایسا کرنے سے برونی DNA یا باز متحد DNA بیکٹیریا میں داخل ہو جاتا ہے۔
میزبان خلیوں میں غیر قرابت دار DNA کو داخل کرانے کے لیے صرف یہی طریقہ نہیں ہے۔ مائکروانجیکشن (Micro injection) طریقہ میں بیرونی DNA کو سیدھے ہی حیوانی خلیہ کے نیوکلیس کے اندر انجیکٹ کردیا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ جو عموماً پودوں کے لیے کارآمدہے، اس میں خلیوں پر DNA کی پرت چڑھے ہوئے سونے یا ٹنگسٹن کے ذرات کی بمباری خلیوں پر کرتے ہیں جسے بایولسٹک (Biolistics) یا جین گن (Gene gun) کہتے ہیں۔ آخری طریقہ جس میں غیر مضر بنائے ہوئے پیتھوجن ویکٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ویکٹرکا جب خلیہ میں داخلہ ہوتا ہے تو یہ باز متحد DNA کو میزبان خلیوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔
اب ہم باز متحد DNA کی تشکیل کے طریقوں کے بارے میں سیکھ چکے ہیں۔ آئیے اب ان عملوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو باز متحد DNA تکنیک
(Recombinant DNA Technology) میں معاون ہیں۔ 

11.3 باز متحد DNA تکنیک کے اعمال

(Processes of Recombinant DNA Technology) 

باز متحد DNA ٹیکنالوجی میں مختلف مراحل شامل ہیں جو ایک مخصوص تواتر میں بروئے کار لائے جاتے ہیں جیسے DNA کا آئسولیشن یا علیحدگی، بندشی اینڈونیوکلئیزیز کے ذریعہ DNA کی قطعہ سازی، مطلوبہ DNA کے قطعہ کا آئسولیشن یا علیحدگی۔ DNA قطعہ کا ویکٹر سے انسلاک، باز متحد DNA کی میزبان میں منتقلی، میزبان خلیوں کی بڑے پیمانے پر میڈیم میں کاشت (Culturing) اور مطلوبہ ماحصل کا استخراج۔ آئیے ان سبھی مراحل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
11.3.1  جنیٹک مادے (DNA) کی علیحدگی
یاد رکھیے کہ بغیر کسی استثنیٰ کے، سبھی عضویوں کا جینیک مادہ نیوکلک ایسڈ (Nucleic acid) ہے۔ زیادہ تر عضویوں میں یہ ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ یا DNAہے۔ بندشی انزائموں کی مدد سے DNA کو کاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے دیگر میکروسالمات سے آزاد خالص شکل میں ہونا چاہیے۔ کیونکہ DNA خلیوں کے اندر مقید رہتا ہے اس لیے ہمیں خلیہ کو توڑ کر کھولنا پڑے گا تاکہ DNA اور دیگر کلاں سالمات (Macro-molecules) جیسے RNA، پروٹین، پالی سیکیرائڈ اور چکنائی باہر آسکیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب بیکٹریائی خلیہ/ نباتاتی یا حیوانی بافت کو لائسوزائم (بیکٹیریا)، سیلیولیز (نباتاتی خلیے)، کائٹینیز (پھپھوند) جیسے انزائموں کے ذریعے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیںکہ جین DNA کے طویل سالمات پر واقع ہوتے ہیں جو ہسٹون جیسی پروٹین کے ساتھ لپٹے رہتے ہیں RNA کو رائبونیوکلئیز کے ٹریٹمنٹ کے ذریعہ ضائع کرسکتے ہیں۔ دوسرے سالمات کو مناسب ٹریٹمینٹ کے ذریعہ علیحدہ کیا جاسکتا ہے اور نہایت سرد کیے ہوئے الکحل (Chilled Ethanol) ملاے پر خالص DNA کی ترسیب ہو جاتی ہے۔ رقیق کے درمیان معلق باریک دھاگوں کے مجموعہ کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے (شکل 11.5)۔
pic 7 chapter 11
شکل11.5  DNA that separates out can be removed by spooling
11.3.2  DNA کو مخصوص جگہوں پر کاٹنا
(Cutting of DAN at Specific Locations)
خالص DNA سالمات کو بندشی انزائم کے ساتھ مناسب حالات میں (جو اس بندشی خامرے کے لیے مخصوص ہیں) رکھ چھوڑنے سے بندشی خارہ اس پر عمل پذیر ہوتا ہے۔ اور DNA قطعات بن جاتے ہیں جسے دیکھنے کے لیے ایگاروزجیل الیکٹروفورسیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ DNA ایک منفی چارج والا سالمہ ہے اس لیے یہ مثبت الیکٹروڈ (اینوڈ) کی طرف حرکت کرتا ہے (شکل 11.3)۔ اس عمل کو ویکٹر DNA کے ساتھ بھی دوہرایا جاتا ہے۔ 
DNA کو جوڑنے میں کئی اعمال ملوث ہیں۔ مآخذ DNA اور ویکٹر DNA کو مخصوص بندشی انزائم کے ذریعہ کاٹنے کے بعد مآخذ DNA سے کٹے ہوئے مفید جین، شگاف زدہ ویکٹر کے درمیان لائیگیز کے ذریعہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک باز متحد DNA تیار ہو جاتا ہے۔
11.3.3  پی سی آر کا استعمال کرکے مفید جین کی تعداد میں اضافہ
(Amplification of Gene of Interest using PCR)
PCR کا مطلب ہے Polymerase Chain Reaction۔ اس تعامل میں خلیوں کے باہر مطلوبہ جین (DNA) کی بہت سی نقل تیار کی جاتی ہے۔ اس عمل میں پرائمر (چھوٹے کیمیائی طور پر تالیف شدہ Oligonucleotide جو DNA خطوں کے لیے (Complementry) ہوتے ہیں) کے دو سیٹ اور DNA پالیمیریز انزائم کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ انزائم تعامل میں فراہم کیے گئے نیوکلیوٹائڈ اور جینومک DNA کا ٹیمپلیٹ کے طور پر استعمال کرکے پرائمر کی توسیع کر دیتا ہے۔ اس طرح DNA کے ریپلیکیشن کے عمل کو متعدد بار دہرایا جاتا ہے اس طرح DNA کے قطعہ میں تقریباً ایک ارب گنا تک توسیع کی جاسکتی ہے یعنی ایک ارب کاپیاں بنائی جاسکتی ہیں یہ مکرر توسیع حرارت مزاحم DNA پالیمیر(Thermus aquaticus بیکٹیریا سے علیحدہ کیا گیا) کے ذریعہ بروئے کار لائی جاتی ہے۔ بہت زیادہ درجۂ حرارت تک (جو DNA کے Denaturation کے لیے دیا جاتا ہے) سرگرم رہتا ہے۔ اگر ضرور پڑے تو پھر سے کسی ویکٹر کے ساتھ منسلک کرکے آگے کلوننگ میں استعمال کر سکتے ہیں (شکل 11.6)۔
pic 8 chapter 11
شکل 11.6  پالی میریز چینی ریکشن (PCR) ہر سائیکل میں تین اقدام ہوتے ہیں (i) ڈینوچوریشن، (ii) پرائمر انیلنگ اور (iii) توسیع
11.3.4 باز متحدDNA کا میزبان خلیہ / عضویہ میں تداخل
(Insertion of Recombinant DNA into the Host Cell/Organism)
انسلاکی DNA کو حصول کارخلیوں میں داخل کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ یہ کام اس وقت کیا جاتا ہے جب حصول کار خلیہ میں اپنے چاروں طرف موجود DNA کو حاصل کرنے کی استعداد ہو۔ اگر اینٹی بایوٹک (مثلاّ ایمپنسلین) مزاحم جین پر مشتمل باز متحد DNA کو E.coli خلیوں میں منتقل کیا جاتا ہے تو میزبان خلیے ایمپسلین مزاحم خلیوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اگرہم ایمپسیلین پر مشتمل اگر (Agar) پلیٹوں پر تبدیل شدہ خلیوں کا ٹیکہ لگائیں تو صرف ترمیم شدہ خلیے ہی زندہ رہ سکتے ہیں بقیہ دیگر خلیے مر جائیں گے۔ ایمپسلین مزاحم جین کی وجہ سے کوئی بھی ایمپسیلین کی موجودگی میں تبدیل شدہ خلیہ کا انتخاب آسانی سے کرسکتا ہے اس لیے ایمپسیلین مزاحم جین کو قابل انتخاب مار کر کہتے ہیں۔
11.3.5 بیرونی جین کے ماحصل کی بازیابی
(Obtaining the Foreign Gene Product)
جب آپ غیر قرابت دار DNA کے قطعہ کو کلوننگ ویکٹر میں داخل کرکے اسے بیکٹیریائی نباتاتی یا حیوانی خلیہ میں منتقل کرتے ہیں تو غیر قرابت دار DNA اپنی تعداد میں بھی اضافہ کرتا ہے تقریباً سبھی بازمتحد تکنیکوں کا حتمی مقصد مطلوبہ پروٹین کا حصول ہے۔ اس کے لیے باز متحد DNA کے RNA اور پروٹین کی شکل میں اظہار کرنے کی ضروت ہوتی ہے۔ بیرونی جین مناسب حالات میں ظاہر ہوتے ہیں میزبان خلیوں میں بیرونی جین کے ظاہر ہونے کو سمجھنے کے لیے کئی تکنیکی باتوں کی تفصیلی جانکاری ضروری ہے۔ 
مطلوبہ جین کو کلون کرنے، ہدف پروٹین کے اظہار کے حالات کو قابو میں کرنے کے بعد انھیں بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے بارے میں سوچا جاتا ہے۔ کیا آپ کوئی وجہ بتا سکتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ان کی پیداوار کیوں ضروری ہے؟ اگر کوئی پروٹین بنانے والی جین کسی ہیٹرولوگس میزبان میں اظہار کرتی ہے تو اس پروٹین کو باز متحد پروٹین (Recombinant Protein) کہتے ہیں۔ مفید کلون شدہ جین کو پناہ دینے والے خلیوں کی چھوٹی پیمانے پر تجربہ گاہ میں افزائش کی جاسکتی ہے۔ کلچر کا استعمال مطلوبہ پروٹین کے استخراج کے لیے کر سکتے ہیں اور علیحدگی کے مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے اس پروٹین کی تخلیص کی جاتی ہے۔ خلیوں کی مسلسل کلچر نظام میں تقسیم کے ذریعہ تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس میں استعمال شدہ میڈیم کو ایک طرف سے نکال کر دوسری طرف سے تازہ میڈیم کو بھرتے ہیں تاکہ خلیے اپنے سب سے زیادہ سرگرم لاگ (قوت نمائی) حالت میں بنے رہیں۔ اس طریقے سے بہت زیادہ حیاتیاتی مادہ پیدا کیا جاتا ہے جس سے مطلوبہ پروٹین کی اچھی پیداوار ہوتی ہے۔
کم حجم کے کلچر سے ماحصل کی بہت زیادہ مقدار کا حصول ممکن نہیں ہے۔ زیادہ پیداوار کے لیے بایوری ایکٹر (Bioreactors) کا فروغ ضروری تھا جہاں کلچر کے بہت زیادہ حجم (100 سے 1000 لیٹر) کی پراسیسنگ کی جاسکے۔ اس طرح، بایوری ایکٹر ایک برتن کی طرح ہے جس میں خرد عضویوں، پودوں، جانوروں اور انسانی خلیوں کا استعمال کرتے ہوئے خام مادوں کو حیاتیاتی طور پر مخصوص ماحصل، منفرد خامرے وغیرہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بایوری ایکٹر، مطلوبہ ماحصل تیار کرنے کے لیے نمو کے مناسب حالات (درجۂ حرارت، pH، سبسٹریٹ، نمک، وٹامن، آکسیجن) فراہم کرتا ہے۔ 
سب سے زیادہ استعمال میں آنے والے بایو ری ایکٹر اسٹیرنگ (Stirring) قسم کے ہیں جو شکل 11.7 میں دکھائے گئے ہیں۔
اسٹیرڈ ٹینک ری ایکٹر عام طور سے اسطوانی (Cylindrical) ہوتے ہیں یا ان کے اساس خمیدہ (Curved) ہوتے ہیں جس سے ری ایکٹر کے اندر اجزا کی آمیزش میں مدد ملتی ہے۔ بایو ری ایکٹر میں اسٹیئرر (Stirrer) آکسیجن کی فراہمی اور آمیزش میں مدد کرتے ہیں۔ متبادل طور پر ہوا کو بلبولوں کی شکل میں ری ایکٹر میں بھیجا جاتا ہے اگر آپ شکل کا بغور مشاہدہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ری ایکٹر میں ایجیٹیٹر سسٹم (Agitator system)، آکسیجن ڈلیوری سسٹم اور جھاگ کنٹرول سسٹم، درجۂ حرارت کنٹرول سسٹم، pH کنٹرول سسٹم اور سیمپلنگ پورٹ لگے ہیں تاکہ کلچر کا تھوڑا حجم تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد نکالا جاسکے۔
pic 9 chapter 11
شکل 11.7  (a) ایک معمولی اسٹبرڈٹینک بایورئیکٹر (b) اسپارجڈ اسٹرڈ ٹینک بایو ریئکٹر جس کے ذریعہ محفوظ ہوائی بلبلے چھوڑے جاتے ہیں۔ 
11.3.6  ڈائون اسٹریم پروسیسنگ (Downstream Processing)
حیاتیاتی تالیفی مرحلہ کے مکمل ہونے کے بعد ماحصل کو حتمی ماحصل کے طور پر بازار میں اتارنے سے پہلے متعدد اقدام پر مبنی ایک سلسلہ سے گزارا جاتا ہے۔ ان عملوں میں علیحدگی اور تخلیص شامل ہیں اور اسے مجموعی طور پر ڈائون اسٹرئیم پروسیسنگ کہتے ہیں۔ پروڈکٹ کو مناسب تحفظ کار (Preservative) کے ساتھ فارمولیٹ کرتے ہیں۔ دوائوں کے معاملے میں ایسے فارمولیشن کو کلینکل جانچ سے گزارا جاتا ہے۔ ہر ایک پروڈکٹ کے لیے کوالٹی کنٹرول ٹیسٹنگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈائون اسٹریم پروسیسنگ اور کوالٹی کنٹرول ٹیسٹنگ ہرایک پروڈکٹ کے لیے مختلف ہوتی ہے۔

خلاصہ

بائیوٹیکنالوجی کا تعلق عضویوں، خلیوں اور انزائموں کا استعمال کرتے ہوئے ماحصل اور اعمال کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور مارکیٹنگ سے ہے۔ جدید بائیوٹیکنالوجی میں جینیاتی طور پر ترمیم شدہ عضویوں کا استعمال اسی وقت ممکن ہو سکا جب انسان نے DNA کی کیمسٹری کو تبدیل کرکے باز متحد DNA کی تشکیل کی۔ یہ کلیدی عمل باز متحد DNA ٹیکنالوجی یا جینیٹک انجینئرنگ کہلاتا ہے۔ اس عمل میں بندشی اینڈونیوکلئیزیز، DNA لائیگیز کا استعمال، مناسب پلازمڈ یا وائرل ویکٹر کے ذریعہ بیرونی DNA کو علیحدہ کرنا اور میزبان عضویوں میں داخل کرتا، بیرونی جین کا اظہار، جین ماحصل یعنی فعال پروٹین کی تخلیص اور آخر میں بازار میں لانے کے لیے مناسب فارمولیشن کی تشکیل شامل ہے۔ بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے بایوری ایکٹر کا استعمال ہوتا ہے۔

مشق

کیا آپ دس باز متحد پروٹینوں کے بارے میں بتاسکتے ہیں جو میڈیکل پریکٹس میں استعمال کی جاتی ہیں۔ معلوم کیجیے کہ معلاجہ میں ان کا استعمال کہاں کیا جاتا ہے؟ (انٹر نیٹ کی مدد لیجیے)
ایک چارٹ (تصویری اظہا) بنائیے جس میں بندشی انزائم، سسٹیریٹ DNA جس پر یہ کام کرتا ہے، وہ جگہ جہاں پر یہ DNA کو کاٹتا ہے اور اس سے بننے والے ماحصل کو دکھائیے۔
جو کچھ آپ نے سیکھا اس کی بنیاد پر کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سالماتی سائز کے اعتبار سے آیا انزائم بڑے ہیں یا DNA۔ آپ کس طرح پتہ لگائیں گے؟
انسانی خلیہ میں DNA کا مولر ارتکاز کیا ہوگا؟ اپنے استاد صاحبان سے مشورہ لیجیے۔ 
کیا انسانی خلیہ میں بندشی اینڈونیوکلیز ہوتے ہیں اپنے جواب کے لیے جواز پیش کیجیے۔
اچھی ہوا اور آمیزشی خصوصیات کے علاوہ ادور شیک فلاسک کے مقابلے اسٹیرڈ ٹینک بایوری ایکٹر کے کیا فائدے ہیں؟
اپنے اساتذہ کی مدد سے پیلینڈرومک DNA تواتر کی پانچ مثالیں جمع کیجیے۔ بلکہ بیس پیپر قانون کی اتباع کرتے ہوئے پیلینڈرومک تواتر تشکیل دینے کی کوشش کیجیے۔
میوسس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ باز متحد DNA کس اسٹیج پر بنتے ہیں؟
کیاآپ سوچ سکتے ہیں کہ قابل انتخاب مارکرکے علاوہ، بیرونی DNA کے ذریعہ میزبان خلیوں کے ٹرانسفارمیشن کو مانیٹر کرنے کے لیے رپورٹر انزائم کا استعمال کس طرح کیا جاسکتا ہے؟
10۔ مندرجہ ذیل کو مختصراً بیان کیجیے۔
(a) ریپلیکیشن کی ابتدا
(b) بایوری ایکٹر
(c) ڈائون اسٹریم پروسیسنگ
11۔ مختصر وضاحت کیجیے۔
(PCR        (a 
(b) بندشی انزائم اور DNA
(c) کائٹینیز (Chitinase)
12۔ اپنے اساتذہ کے ساتھ گفتگو کرکے مندرجہ ذیل میں فرق واضح کیجیے۔
(a) پلازمڈ DNA اور کروموسومل DNA
  (RNA    (bاور DNA
(c) ایکسوینوکلئیز اور اینڈونیوکلئیز