Skip to content


pic1 chapter 12

باب 12

بائیوٹیکنالوجی اور اس کا استعمال

(Biotechnology and its Applications)

12.1 ذراعت میں بائیوٹکنالوجی کا استعمال
12.2  ادویات میں بائیوٹکنالوجی کا استعمال 
12.3 ٹرانسجینک جانور
12.4      اخلاقی مسائل

بائیوٹکنالوجی، جیسا کہ آپ نے گذشتہ باب میں سیکھا ہوگا، جینی طور پر تبدیل شدہ مائکروبس، فنجائی، پودوں اور جانوروں کو استعمال کرکے صنعتی پیمانے پر بائیوفارما سیوٹیکلز اور بائیولاجیکلز پیدا کرنے سے تعلق رکھنے والا علم ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی کا استعمال ، معالجات اور تشخیص ذراعت کے لیے جینی طور پر تبدیل شدہ، پروسیسڈ فوڈ، بایوریڈیشن ویسٹ ٹریٹمنٹ اور توانائی کی پیداوار کے لیے پر ہوتا ہے بائیوٹکنالوجی کے تین اہم تحقیق کے میدان مندرجہ ذیل ہیں:
(i) بہتر عضویے کی شکل میں عمدہ کٹیایسٹ مہیا کرنا جو عموماً ایک مائیکروب یا خالص خامرہ ہوتا ہے۔
(ii) کیٹالیسٹ کو عمل کرنے کے لیے انجینئرنگ کے ذریعے مناسب حالات پیدا کرنا، اور 
(iii) پروٹین/ نامیاتی مرکب کو خالص بنانے کے لیے ڈاؤن سٹریم پروسیسنگ ٹیکنالوجی ۔
آئیے اب ہم سیکھیں کہ انسان نے بائیوٹکنالوجی کو انسانی زندگی کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے خاص طور پر غذا کی پیداوار اور صحت کے میدان میں کیسے استعمال کیا۔

12.1 زراعت میں بائیوٹیکنالوجی کا استعمال 

(Biotechnological Applications in Agriculture)

اب ذرا ان تین طریقوں کے بارے میں سوچیں جو غذا کی پیداوار میں اضافے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔
(i) زراعتی۔ کیمیاء کی بنیاد پر ذراعت
(ii) نامیاتی ذراعت
(iii) جینی طور پر تبدیل شدہ فصل کی بنیاد پر ذراعت
سبز انقلاب غذا کی سپلائی کو تین گنا کرنے میں کامیاب رہا مگر پھر بھی بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کے لیے کافی نہیں تھا۔ پیداوار میں اضافہ کچھ تو فصلوں کی بہتر اقسام کے استعمال سے ہوا، لیکن زیادہ اضافہ بہت انتظامی دستور اور ایگروکیمکلز (فرٹی لائیزز اور کیڑے مار دوائیں) کے استعمال سے ہوا۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں کسانوں کے لیے ایگروکیمیکلز عموماً بہت مہنگے ثابت ہوتے ہیں، اور رسمی افزائش کے طریقوں کو استعمال کرکے موجودہ اقسام سے پیداوار میں مزید اضافہ ممکن نہیں ہے۔ کیا کوئی دوسرا راستہ ہے جو جنیٹکس کی ہماری معلومات ہمیں دکھا سکے تاکہ کسان اپنے کھیتوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرسکیں؟ کیا کوئی راستہ ہے جس کے ذریعہ کیمیائی کھاد کے استعمال کو کم کرسکیں تاکہ ماحول پر ان کے مضر اثرات میں کمی واقع ہوسکے؟ جینی طور پر ترمیم شدہ فصل کا استعمال اس کا ایک ممکن حال ہے۔
پودے، بیکٹیریا، فنجائی اور جانور جن کے جین سبکدستی سے تبدیل کئے جاچکے ہوں جینی طور پر تبدیل شدہ عضویے (جی ایم او) کہلاتے ہیں۔ جی ایم پودے کئی طرح سے مفید ہیں۔ جٹیٹک موڈیفکیشن نے:
(i) فصلوں کے غیر حیاتی تناؤ (سردی، قحط، نمک، مدت) کے معاملے میں ان کی قوتِ مدافعت میں اضافہ کیا ہے۔
(ii) کیڑے مار کیمیاپر انحصار کم کیا ہے گھن(پیسٹ مدافعتی یا مزاحمتی فصلیں)ہر بی سائڈ مزاحم پودوں کی پیداوار میں مدد کی ہے تاکہ کھیتوں میں ان کے استعمال کے بعد فصلیں ہر بی سائڈ  سے متاثر نہ ہوں۔
(iii) فصل کی کٹائی کے بعدہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔
(iv) پودوں کے ذریعہ نمکیات کے استعمال کی کارگزاری میں اضافہ کیا ہے۔ (یہ مٹی کی زرخیزی کو جلد ختم ہونے سے روکتی ہے)
(v) کھانے کی غذائیت میں اضافہ کیاہے مثال کے طور  پر گولڈن چاول یعنی وٹامن اے ملائے ہوئے چاول۔
ان استعمال کے علاوہ، جی ایم کا استعمال ایسے پودے تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے جو نشاستہ، ایندھن اور فاردواؤں کی شکل میں کارخانوں کو متبادل وسائل مہیا کرتے ہیں۔
ذراعت میں بائیوٹکنالوجی کے چند استعمال جن کو آپ تفصیل سے پڑھیں گے، وہ پیسٹ مدافعتی مزاحمتی پودے بنانا، جو کیڑے مار ادویہ کے استعمال کو کم کردیں گے۔ جی ٹی ٹاکسن ایک بیکٹیریا بناتاہے جیسے بیسلس تھورنجینسیس (مختصراً بی ٹی) کہتے ہیں۔ بی ٹی ٹاکسن کے جین کو بیکٹیریا سے نکال کر پودوں میں کلون کیا گیا تاکہ پودوں میں اس کے اظہار سے کیڑوں سے مدافعت کی اہلیت پیدا ہوسکے اور کیرے مار دوائیں کا استعمال کم ہوسکے۔ حقیقتاً ٹرانس جینک پودوں میں ایک بائیو۔ پیسیٹی سائیڈ بنایا گیاہے۔ اس کی مثالیں بی ٹی کائن، بی ٹی مکّا، چاول، ٹماٹر، آلو اور سویابین وغیرہ ہیں۔
ذراعت میں بائیوٹکنالوجی کے چند استعمال جن کو آپ تفصیل سے پڑھیں گے، وہ پیسٹ مدافعتی مزاحمتی پودے بنانا، جو کیڑے مار ادویہ کے استعمال کو کم کردیں گے۔ جی ٹی ٹاکسن ایک بیکٹیریا بناتاہے جیسے بیسلس تھورنجینسیس (مختصراً بی ٹی) کہتے ہیں۔ بی ٹی ٹاکسن کے جین کو بیکٹیریا سے نکال کر پودوں میں کلون کیا گیا تاکہ پودوں میں اس کے اظہار سے کیڑوں سے مدافعت کی اہلیت پیدا ہوسکے اور کیرے مار دوائیں کا استعمال کم ہوسکے۔ حقیقتاً ٹرانس جینک پودوں میں ایک بائیو۔ پیسیٹی سائیڈ بنایا گیاہے۔ اس کی مثالیں بی ٹی کائن، بی ٹی مکّا، چاول، ٹماٹر، آلو اور سویابین وغیرہ ہیں۔
بی ٹی کاٹن: بیسیلس تھورنجینسیس کی کچھ اقسام ایسے پروٹینز بناتے ہیں جو مخصوص کیڑوں مثلاً لیپیڈوٹیپرا (ٹوبیکو بڈورم، آرمی ورم) کولیوپٹیرا (بیٹل) اور ڈیپٹرا (مکھیاں، مچھر) کو ماردیتا ہے۔ بی ٹی اپنے دورِ نمو کے ایک خاص حصے میں پروٹینزکے کرسٹل بناتا ہے۔ کرسٹلز میں زہریلا انسیکٹی سائیڈل پروٹین موجود ہوتا ہے۔ یہ زہریلا کرسٹل بسیلیس کو کیوں نہیں مارتا؟ دراصل بی ٹی ٹاکسن ایک غیر فعال پروٹاکسن کی حیثیت سے موجود رہتی ہے لیکن جب کیڑا اس غیر فعال ٹاکسن کونگل لیتا ہے ، تو اس کی آنت کا الکلائین پی ایچ اس پروٹاکسن کو گھول کر ایک فعال (ایکٹو) ٹاکسن بنا دیتا ہے۔ یہ فعال ٹاکسن  درمیانی آنت کے ایپسی تھیلیل خلیوں سے چیک جاتاہے اور ان میں سوراج بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے خلیے پھول جاتے ہیں اور مر جاتے ہیں اور آخر کار کیڑے کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
مخصوص بی ٹی ٹاکسن جنیز بیسلیس تھورنجینسیس سے علاحدہ کرکے مختلف فصلوں میں منسلک کردیے گیے مثلاً کپاس (کاٹن) (شکل 12.1) جنیز کا انتخاب فصل اور ہدفی کیڑے پر منحصر ہوتا ہے کیونکہ بی ٹی ٹاکسن کی اکثریت خاص کیڑوں کی جماعت کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ یہ ٹاکسن ایک جین کوڈ کرتا ہے جس کا نام (Cry I AC) ہے۔ یہ کئی طرح کے ہوتے ہیں مثلاً جنیز کرائی IAc اور کرائی 2Ab کاٹن بال ورم کو کنٹرول کرتا ہے، اور کرائی IAb کارن بورر کو کنٹرول کرتاہے۔

pic 2 chapter 12
شکل 12.1 کاٹن بال: (a) بال ورم کے ذریعہ برباد شدہ؛ (b) پختہ کاٹن بال
>

پیسٹ مدافعتی پودے: کئی نمیٹوڈز انسانوں سمت پودوں اور جانوروں کی کئی قسموں پر طفیلے کے طور پر رہتے ہیں۔ ایک نمیٹوڈ میلوائیڈ گائن ان کا گنیشیا تمباکو پودے کی جڑوں کو انفیکٹ کرتا ہے اور اس کی پیداوار میں بھاری کمی کا باعث بنتا ہے۔ اس قسم کے حملے کو روکنے کے لیے ایک نئی ترکیب اپنائی گئی جس کی بنیاد آر این اے انٹرفیرینس (RNA interference) (RNAi)پر ہے۔ RNAi خلوی دفاع کے طور پر ہریوکیراٹک عضویے میں پایا جاتاہے۔ اس طریقۂ کار میں خاص قسم کے آر این اے کو خاموش کردیا جاتاہے)۔ اور کامپلیمینٹری ایم آر این اے سے چپکنے کے بعد ڈی ایس آراین اے سالمے کی وجہ سے ایم آرین کا ٹرانسلیشن رک جاتا ہے (اس عمل کو سائلنیسنگ کہتے ہیں)۔ یہ کامپلیمیٹری آرایناے کسی ایسے وائرس کے ذریعے انفیکشن سے آسکتا ہے۔ جس کا جیتوم آر این اے پر مشتمل ہو یا موبائل جنیٹک عنصر (ٹرانس پوزونس) جو درمیانی آر این اے کے ذریعے ریپلکٹ کرتا ہو۔ 
ایگروبیکٹریم ویکٹور استعمال کرکے نمیٹوڈ کے خاص جنیز میزبان پودے میں داخل کیے گیے (شکل 12.2) ڈی این اے کا داخلہ اس طرح سے کیا گیا کہ اس نے سنس اور اینٹی سینس آر این اے دونوں کو میزبان پودے میں بنایا۔ ان دونوں آر این اے نے ایک دوسرے کامپلمینٹری ہونے کی وجہ سے ایک دودھاگے والا (ds RNA) آر این اے بنایا جس نے آر این اے آئی شروع کیا اور اس طرح نمیٹوڈ کے خاص جنیز کو خاموش کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ طفیلیہ (نمیٹوڈ) مخصوص آر این اے آئی کے اظہار کی وجہ سے بیرون جینی (transgenic) میزبان میں رہ نہیں پایا۔ اوراس طرح ٹراسنجینگ پودے نے اپنے آپ کو اس طفیلے سے محفوظ کرلیا (شکل 12.2)۔
pic 3 chapter 12
شکل 12.2 میزبان پودے کے ذریعہ پیدا شدہ دو دھاگی آر این اے ، نمیٹوڈ کے حملے سے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ (a) ایک تمثیلی کنٹرول پودے کی جڑ؛ (b)جان بوجھ کر نمیٹوڈ سے انفیکشن کرانے کے پانچ دنوں بعد ٹرانسجینک پودے کی جڑ اس نے اپنے نئے میکانیرم کے ذریعے اپنے کو محفوظ رکھا۔

12.2 ادویات میں بائیوٹکنالوجی کا استعمال

(Biotechnological Applications in Medicine)

ریکامبنینٹ ڈی این اے ٹیکنالوجی کے عملیات نے محفوظ اور زیادہ موثر معالجاتی دواؤں  کو کثیر مقدار میں پیدا کرکے تحفظ صحت کے میدان میں بے اندازہ اثر ڈالا ہے۔ مزیدبراں ریکامبنینٹ معالجات غیر ضروری امیونولاجیکل ردعمل بھی نہیں پیدا کرتے جیسا کہ غیر انسانی وسائل سے کشید اس طرح کے ماحصل کرنے پر کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں آج کل انسانوں کے استعمال کے لیے تقریباً 30 ریکامبنینٹ ادویہ کی منظوری دی جاچکی ہے۔ ان میں12ہندوستان میں آج کل برائے فروخت مہیا ہیں۔

پرو انسولین؍ Bخلیے پپٹائڈیرز؍ انسولین+آزاد Cپپٹائیڈ

pic 4 chapter 12
شکل 12.3 سی پپٹائیڈ کے ہٹ جانے کے بعد پرو انسولن کی انسولین میں پختگی۔
12.2.1 جینی طور پر تبدیل شدہ انسولین
بالغی ذیابیطس (Adult-onset Diabetes) کو پابندی سے انسولین لے کر اس بیماری کا نظم و ضبط کیا جاسکتا ہے۔ اگر انسانی انسولین وافر مقدار میں دستیاب نہ ہو تو ذیابیطس کے مریض کیا کریں گے؟ اگر آپ اس موضوع پر بحث کریں تو جلد ہی آپ کو اندازہ ہوجائے گا انسان کو دوسرے جانور سے انسولین حاصل کرکے استعمال کرنا پڑے گا۔ تو کیا دوسرے جانوروں سے حاصل شدہ انسولین اتنی ہی موثر ثابت ہوگی جتنی کہ خود انسان کے ذریعے بنائی ہوئی اور کیا یہ انسانی جسم میں امیون ردِّ عمل نہیں پیدا کرے گا؟ اب خیال کیجیے کہ اگر انسانی انسولین بنانے کے لیے بیکٹیریا دستیاب ہوتے ہیں۔ اچانک تمام عملیات آسان ہوجاتے ہیں۔ آپ آسانی سے بیکٹریا کثیر تعداد میں پیدا کرسکتے ہیں اور جتنی ضرورت ہو اتنی انسولین بنا سکتے ہیں۔
سوچئے کہ کیا ذیابیطس کے مریض انسولین کو منہ کے ذریعہ لے سکتے ہیں یا نہیں۔ کیوں؟
ذیابیطس کے لیے انسولین پہلے ذبح شدہ مویشیوں اور سور کے پنکریاز سے کشید کی جاتی تھی۔ حالانکہ دوسرے جانوروں سے حاصل شدہ انسولین کچھ مریضوں میں الرجی پیدا کرسکتی ہے یا بیرونی پروٹینز کے خلاف دوسری طرح کے رئیکشن ہوسکتے ہیں۔ انسولین دو چھوٹے پالی پیپٹائیڈز پر مشتمل ہوتی ہے: چین اے اور چین بی جو ڈائی سلفائیڈ بندشوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں (شکل 12.3) پستانیوں بشمول انسانوں میں انسولین کی تالیف پروہارمون (پروانزائم کی طرح، پروہارمون کو بھی پوری طرح سے پختہ ہارمون بننے کے لیے پروسیسنگ کی ضرورت پڑتی ہے) کی طرح ہوتی ہے جس میں ایک اضافی شاخ ہوتی ہے جسے سی پیٹائیڈ (C  peptide) کہتے ہیں۔ یہ سی پیٹائیڈ پختہ انسولین میں نہیں موجود ہوتی اور انسولین کی پختگی کے دوران علاحدہ ہوجاتی ہے آر ڈی این اے ٹیکنک کو استعمال کرکے انسولین کو بنانے میں سب سے بڑا چیلنج انسولین کو پختہ شکل دینے کے لیے دونوں پیٹائیڈز کو جوڑنا تھا۔ 1983  میں ایک امریکن کمپنی ایلی لِلی انسانی انسولین کی اے اور بی چین کے مطابق ڈی این اے کے دو سیکوئنس بنائے اور پھر ان کو انسولین زنجیریں بنانے کے لیے ای کولائی کے پلازمڈز میں داخل کردیا۔ زنجیر اے اور بی الگ الگ پیدا ہوئیں۔ ان کو علاحدہ کرکے ان میں ڈالی سلفائیڈ کے بانڈزبناکر انسانی انسولین تیار کی گئی۔
12.2.2  جین تھیراپی (Gene Therapy)
اگر ایک انسان مورثی بیماری کے ساتھ پیدا ہوا ہے، تو کیا اس بیماری کا اصلاحی علاج ممکن ہے؟ جین تھیراپی اسی سمت میں ایک کوشش ہے۔ جین تھیراپی ان طریقوں کا مجموعہ ہے جو بچے/ ایمبریو میں تشخیص شدہ جین کی خرابی کی اصلاح کرسکنے کی مدد بہم پہنچاتے ہیں۔ اس طریقۂ کار کے تحت بیماری کے علاج کے لیے انسان کے خلیوں یا بافت میں جنیز کو منسلک کیا جاتاہے۔ جینی غلطی کی اصلاح کے لیے فرد میں یا ایمبریو میں نارمل جین داخل کیا جاتاہے تاکہ وہ غیر فعال جین کی تلافی کرسکے اور صحیح کام کرسکے۔
پہلا کلینکل جین تھیراپی 1990 میں چار سال کی لڑکی کو دیا گیا ایڈنیوسین ڈی امینیز، کی کمی (اے ڈی اے) میں مبتلا تھی۔ نظام دفاع کے کام کرنے کے لیے یہ خامرہ لازمی ہے۔یہ بیماری ایڈنیوسین ڈی امینیزجین کی ناہلیت سے پیدا ہوتی ہے۔ کچھ بچوں میں اے ڈی اے کی کمی کو بون میرو کے ٹرانس پلانٹیشن سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے، دوسروں میں خامرے کو تبدیل کرکے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ جس میں فعال اے ڈی اے مریض انجکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ ان دونوں طریقوں کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر علاج نہیں کرپاتے۔ جین تھیراپی کی طرف پہلا قدم، مریض کے خون سے لمفوسائٹس کو علاحدہ کرکے جسم کے باہر مصنوعی کلچر میں نمو کیا جاتاہے۔ پھر ایک فعال اے ڈی اے کا سی ڈی این اے (ریٹرو وائرل ویکٹر استعمال کرکے) ان لمفوسائٹس میں داخل کیا جاتاہے جو بعد میں دوبارہ اسی مریض میں واپس داخل کردیا جاتا ہے۔ تاہم چونکہ یہ خلیے لافانی نہیں ہوتے، اس لیے مریض کو ان جینی طور پر تبدیل شدہ ڈی لمفوسائٹس کی ضرورت بار بار پڑتی ہے۔ لیکن اگر اے ڈی اے بنانے والا جین ہڈی کی گدی (Bone Marrow) خلیوں سے نکالا جائے اور ابتدائی ایمبرائی مراحل کے خلیوں میں داخل کیا جائے تو ممکن ہے کہ علاج مستقل طور پر ہوسکے۔
12.2.3  سالماتی تشخیص(Molecular Diagnosis)
یہ آپ کو معلوم ہے کہ بیماری کے موثر علاج کے لیے، قبل از وقت تشخیص اور پیتھو فیربالوجی کی سمجھ نہایت ضروری ہیں۔ تشخیص کے رسمی طریقے (سیرم اور پیشاب کی جانچ وغیرہ) کو استعمال کرکے بیماری کا قبل از وقت انکشاف ممکن نہیں ہے۔ ریکامیننٹ ڈی این اے ٹکنالوجی، پالمیرنز چین ریکشن (پی سی آر) اور انیزائم لنکڈ امیونو۔ ساربنٹ ایسے (EliSA) (2) کچھ ایسی تکنیک ہیں جو زور تشخیص کے مقاصد کو پورا کرسکتی ہیں۔
پیتھوجن (بیکٹیریا، وائرس وغیرہ) کی موجودگی عموماً اس وقت محسوس کی جاتی ہے جب وہ بیماری کی علامات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس وقت تک جسم میں پیتھوجن کا ارتکاز بہت بڑھ چکا ہوتا ہے۔ تاہم بیکٹیریا یا وائرس کے بہت کم ارتکاز کو (اس وقت بیماری کی علامات آشکارہ نہیں ہوپاتی ہیں) ان کے نیوکلیائی تیزاب کو پی سی آر کے ذریعہ جانچ کر ان کی موجودگی کا انکشاف کیا جاسکتا ہے۔ کیا آپ سمجھا سکتے ہیں کہ ڈی این اے کی بہت کم مقدار کو پی سی آر کے ذریعے کیسے معلوم کرسکتے ہیں؟ مشکوک ایڈز کے مریضوں میں ایچ آئی وی کی موجودگی کو معلوم کرنے کے لیے پی سی آر آج کل روز کا معمول بن گیا ہے۔ مشکوک کینسر کے مریضوں کے جنیز میں میولٹیشن معلوم کرنے کے بھی پی سی آر کا استعمال ہوتا ہے۔ دیگر جینی بیماریوں کی شناخت کے لیے یہ ایک با اثر ٹیکنک ہے۔
ایک یک دھاگی ڈی این اے یا آر این اے کو ریڈیو ایکٹو سالمے (پروب) سے ملا کر خلیے کے کلون کے کامپلمینٹری ڈی این اے سے ہابریڈائز کرایا جاتاہے اور اس کے بعد آٹوریڈیو گرافی کے ذریعے پتہ لگایا جاتاہے۔ جس کلون میں تبدیل شدہ جین ہوگا وہ فوٹو گرافک فلم میں نظر نہیں آئے گا، کیونکہ پروب میں اور میوٹیڈڈ جین میں باہم مطابقت نہیں ہوتی۔
ELISA یا الائی زا کی بنیاد اینٹی جن۔ اینٹی باڈی کے مابین عمل اصول پر منحصر ہے۔ پیتھوجن کے انفیکشن کو اینٹی جن پروٹینز، گلائکو پروٹینز وغیرہ کی موجودگی کی بناء پر معلوم کرتے ہیں یا پیتھوجن کے خلاف تالیفی اینٹی باڈیز کی موجودگی کا انکشاف کرکے کرتے ہیں۔

12.3 ٹرانسجینک جانور(Transgenic Animals)

وہ جانور جن کا ڈی این اے اس طرح سے تبدیل کیاگیا ہو کہ وہ اضافی (بیرونی) جین رکھتے ہوں اور ان کا اظہار کرتے ہوں ٹرانسجینک جانور کہلاتے ہیں۔ ٹرانسجینک چوہے، خرگوش، سور، بھیڑ، گائے اور مچھلی بنائے جاچکے ہیں۔ گو کہ تمام ٹراسنجینک جانوروں میں چوہوں کی تعداد 95 فیصدی ہے۔ یہ جانور کیوں بنائے جارہے ہیں؟ اس طرح کی تبدیلیوں سے انسان کو کیا فوائد پہنچ سکتے ہیں؟ آئیے اب ذرا کوشش کریں اور کچھ عام وجوہات کو تلاش کریں:
(i) نارمل فعلیات اور نمو: ٹرانسجینک جانوروں کو مخصوص طریقے سے ڈیزائن کیا جاسکتا ہے تاکہ ہم مطالعہ کرسکیں کہ جین کی کس ضابطگی ہوتی ہے اور کس طرح وہ جسم کے عام کاموں اور نمو کو متاثر کرتے ہیں مثلاً پیچیدہ اسباب کا مطالعہ جن میں انسولین کی طرح کے گروتھ فیکٹر نمو میں ملوث ہیں۔ دوسری نوع کے جنیز کو داخل کرکے جو اس فیکٹر کے بننے میں تبدیلی لاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے بائیولاجیکل اثرات کا مطالعہ جس سے جسم میں اس فیکٹر کے حیاتیاتی کردار کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے۔
(ii) بیماری کا مطالعہ: کئی ٹرانسجینک جانور اس طرح ڈیزائن کیے جاتے ہیں جو ہماری اس معلومات میں اضافہ کرتے ہیں کہ یہ جین کس طرح بیماری کے نمو میں تعاون دیتے ہیں۔ یہ خاص طور پر بنائے جاتے ہیں تاکہ یہ انسانی بیماریوں کے لیے نمونہ بن سکیں اور بیماریوں کے نئے علاج کی تلاش ممکن بنائی جاسکے۔ آج کئی انسانی بیماریوں جیسے کینسر، سسٹک فائبروسس، رہیومٹیائیڈ آرتھرائیٹس اور انزہائیمر کے ٹرانسجینک نمونے موجود ہیں۔
(iii) حیاتیاتی ماحصل: کچھ انسانی بیماریوں کا علاج کرنے والی دواؤں میں حیاتیاتی ماحصل موجود ہوسکتا ہے، لیکن ایسے ماحصل کو بنانا بہت مہنگا ہوتا ہے۔ مفید حیاتیاتی ماحصل بنانے والے ٹراسنجینک جانوروں کو، ڈی این اے کے ایک حصے (یا جنیز کو) کو داخل کرکے، بنایا جاسکتا ہے جو ایک خاص ماحصل کو پیدا کریں جیسے انسانی پروٹین (µ1 اینٹی ٹرپسن) جو ایمفی سیما کا علاج کرتاہے۔ فینائل کیٹونیوریا (پی کے یو) اور سیسٹک فائیروسیس کے علاج کے لیے بھی اسی طرح کی کاوشیں جاری ہیں۔ 1997 میں، پہلی ٹرانسجینک گائے، روزی، بنائی گئی جو انسانی پروٹین (204 گرام فی لیٹر) سے بھرپور دودھ دیتی ہے۔ اس دودھ میں انسانی الفا۔ لیکٹالبیومن موجود ہوتاہے جو غذائیت کے اعتبار سے انسان کے بچوں کے لیے قدرتی گائے کے دودھ کے مقابلے زیادہ متوازن دودھ ہے۔
(iv) ٹیکے کا تحفظ : انسانوں پر استعمال ہونے سے پہلے ویکسین کی افادیت کی جانچ کے لیے ٹرانسجینک چوہے بنائے جارہے ہیں۔ پولیوویکسین کے محفوظ استعمال کی جانچ پہلے ٹراسنجینک چوہوں پر کی گئی ہے۔ اگر کامیاب اور معتبر ثابت ہوجائے تو یہ جانچ بندروں کے بجائے چوہوں پر کی جاسکتی ہے پر کی جاتی ہے۔
(v) محفوظ کیمیا کی جانچ: اس کو ٹاکسیسیٹی/ سفیٹی جانچ کہتے ہیں۔ اس کا طریقہ وہی ہے جو دوائوں کی ٹاکسیسیٹی کی جانچ کا ہوتا ہے۔ ٹرانسجینک جانوروں میں وہ جنیز داخل کئے جاتے ہیں جو انھیں زہریلے مادوں کے لیے نان۔ ٹرانسجینک جانوروں کے مقابلے میں زیادہ حساس بنا دیتے ہیں ان میں زہریلے مادے داخل کیے جاتے ہیں اور ان کے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ایسے جانوروں میں ٹاکسیسیٹی کی جانچ کے نتائج جلد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

12.4 اخلاقی مسائل (Ethical Issues)

انسانوں کے ذریعے زندہ عضویوں میں تبدیلیاں، بغیر کسی ضابطے کے مہین کی جاسکتیں۔ انسانی حرکات، جو کسی عضویے کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتی ہیں، کی اخلاقیات کا اندازہ لگانے کے لیے کچھ اخلاقی پیمانے کا ہونا ضروری ہیں۔
ان مسائل کی اخلاقیات کے علاوہ، ان چیزوں کی حیاتی اہمیت بھی ہے۔ جینی طور پر تبدیل شدہ عضویوں کو جب ایکوسسٹم میں داخل کیا جائے گا تو کچھ ناگہانی نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔
لہٰذا حکومتِ ہندنے ایک آرگنائزیشن جی ای اے سی (جنیٹک انجینئرنگ اپروول کمیٹی) کا قیام کیا ہے، جو جی ایم تحقیق کی معقولیت اور عوام کی خدمت کے لیے جی ایم عضویوں کو استعمال کرنے تحفظ کے بارے میں فیصلہ کیا کرے گی۔
عوام کی خدمت (جیسے غذا اور دواؤں کے ذرائع کے طور پر) کے لیے عضویوں تبدیلی نے ان کے پٹینٹ (جملہ حقوق) کے بارے میں بھی مشکلات پیدا کردی ہیں ۔
عوام کے عضے کی ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ کمپنیوں کو ایسے پروڈکٹس اور تکنیکوں کے مکمل حقوق دے دییے گئے ہیں جن کی شناخت بہت پہلے ہوچکی ہے اور جس کا مقامی لوگ اور کسان کو عرصۂ دراز سے استعمال کررہے ہیں۔
چاول ایک اہم فصل ہے جس کی موجودگی کے آثار ایشاء کی ذراعتی تاریخ میں ہزاروںسال پہلے سے ملتے ہیں۔ صرف ہندوستان میں چاول کی 200,000سے زائد ورائٹیز ملتی ہیں۔ دنیا میں چاول کی ڈائیورسٹی سب سے زیادہ ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ باسمتی چاول اپنے خوشبو اور ضائقے کے لیے مشہور ہے اور اسکی 27 دستاویزیورائٹیز ہندوستان میں اگائی جاتی ہیں۔ باسمتی کے حوالے پرانی کتابوں، لوک کہانیوں اور شاعری میںملتے ہیں یہ سیکڑوں سالوں سے اگایا جارہا ہے۔ 1997میں یوایس پٹینٹ او رٹریڈمارک آفس کے ذریعے ایک امریکن کمپنی نے باسمتی چاول کے یو ایس اور باہر کے حقوق حاصل کر لئے۔ باسمتی کی یہ ’نئی‘ ورائیٹی دراصل ہندوستانی کسان کی ورائٹی سے حاصل کی گئی تھی۔ ہندوستانی باسمتی کو نیم بونی ورائیٹی سے کراس کرکے اسکو ایک ایجاد یا انوکھے ہونے کا دعوا کیا۔ چونکہ پیٹنٹ عملیاتی مساویوں functional equivalents)پر بھی لاگو ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس ٹینٹ کے ذریعے دوسرے لوگ باسمتی چاول نہیں بیچ سکتے۔ ہندوستان کے روائیتی جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ دوائیں مثلاً ہلدی، نیم کے استعمال ، کو بھی ٹینٹ کرانے کی کئی کوششیں ہوچکی ہیں۔ اگر ہم ہوشیار نہیں رہیں اور ان پٹینٹس کی درخواستوں پر جوابی کاروائی نہ کریں تو دوسرے ممالک یا افراد ہماری اس قیمتی وراثت کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ہم اس بارے میں کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔
بائیوپائیرلیسی:
 یہ اصطلاح ہے جو جس میں بین الاقوامی کمپنیاں اور دیگر آرگنائیز یشنز‘ متعلقہ عوام یاممالک کو بغیر انکی اجازت کے اور بغیر معاوضہ دیے انکی حیاتی مسائل کا استعمال کرتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت روپے پیسوں سے بہت امیر ہے لیکن بائیوڈائیوسٹی اور روایتی معلومات کے لحاظ سے بہت غریب ہیں۔ اس کے برعکس ترقی پذیر اورزیر ترقی دینا بائیوڈائیورسٹی اور حیاتی وسائل کے متعلق روائیتی معلومات میں بہت امیر ہیں۔ حیاتی وسائیل سے متعلق روائیتی معلومات کو جدید افادیت کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے او ر ان کو تجارتی پیمانے تک لانے کے لیے وقت کوشش اور خرچ کی بچت کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان نا انصافی،نامناسب معاوضے اور فائدے میںشرکت کے بارے میں احساس قوی ہوتا جارہا ہے۔ لہٰذا کچھ ممالک اپنے حیاتی وسائل اور روائیتی معلومات کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے قوانین اخذ کررہے ہیں۔
ہندوستانی پارلمنٹ نے حال ہی میں انڈین ٹینٹ ایکٹ میں دوسری ترمیم کو پاس کیا ہے جو پیٹنٹ شرائط کے ہنگامی نکات اور تحقیق ترقیاتی اقدامات جیسے مسائل کو اپنے دائرے میں لیتی ہے۔

خلاصہ

مائکروبس’پورے‘ جانور اور انکی تحولی مشینری کواستعمال کرکے بائیوٹکنالوجی نے انسانوں کو بہت سارے مفید ماحصل عطا کئے ہیں۔ ریکامینٹ ڈی این اے ٹکنالوجی نے مائکروبس‘ پودوں اور جانوروں کو اس طرح تبدیل کرنا ممکن بنادیا ہے کہ ان میں انوکھی اہلیت پیداہوسکے۔ قدرتی طریقوں کو چھوڑ کر ایسے طریقے استعمال کرکے جن کے ذریعے ایک یاایک سے زیادہ جینوں کو ایک عضویے سے دوسرے میں منتقل کرکے جینی طور پر تبدیل شدہ عضوئیے تیار کئے گئے ہیں، اس کام کے لیے عموماً باز متحدہ یا ریکامبننیٹ ڈی این اے و جینی ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔
جی۔ایم پودے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، کٹائی کے بعد کے نقصانات کو کم کرنے اور فصلوں کو تنائو کامتحمل بنانے کے لیے مفید ہیں۔ ایسے کئی جی ایم فصلوں کے پودے ہیں جن میں خوراک میں بہتر غذائیت اور کیمیائی کیڑے ماردوائوں پر کم انحصار (پیسٹ نراحمتی خوبیاں)

ریکامبنیٹ ڈی این اے ٹکنالوجی کے عملیات نے محفوظ اور زیادہ موثر معالجاتی دوائوں کو کثیر مقدار پیدا کرکے تحفظ صحت کے میدان میں بڑا اثر ڈالا ہے۔ چونکہ ریکامنینٹ ادویہ انسانی پروٹنیز کے مشابہہ ہوتے ہیں، وہ غیر ضروری، مدافعتی رد عمل نہیں پیدا کرتے اور ایسے انفکیشن کے خطرے سے بھی سبرا ہیں جنکا مشاہدہ غیر انسانی ذرائع سے علاحدہ کئے گئے مدحصل میں ہوتا ہے۔ انسانی انسولین بیکٹر یا میں بنائی جاتی ہے پھر بھی اسکی ساخت بالکل قدرتی سالمے سے مشابہہ ہوتی ہے۔
انسانی بیماریوں جیسے کینسر سیٹک فائیروسیس‘ رہیومٹیائیڈ آرتھرائٹیس اور الزا ئمیرز کا نمونہ بنا کر ٹراسجنک جانوروں کا استعمال یہ معلوم کرنے کے لیے بھی کرتے ہیں کہ جنیز کس طرح بیماری کی نمومیں شامل ہوتے ہیں۔
جین تھیراپی کسی فرد کے خلیے یابافت میں نپی جنیز کو منسلک کرنے کو کہتے ہیں ‘ یہ طریقہ خاص طور پر موروئی بیماریوں کے علاج کے لیے اپنا یا جاتاہے۔ یہ ایسا غلط سیوٹنیٹ الیل کو ایک فعال الیل سے بدل کرکیا جاتا ہے یا جین کو ہدف بنا کر ان میں  جین فراوانی (Gene amplification)شامل ہے۔وہ دائرس جو میزبان شدہ پر حملہ کرتے ہیں اور اپنا جنٹک میٹریل ان میں اس طرح ڈال دیتے ہیں کہ وہ ان کے ریپلیکیشن سائیکل ان کو کسی خلیہ میں ویکٹر کے طور پر مکمل صحتمند جین یا اس کا ایک حصہ لے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 
مائکروبس، پودوں، اور جانوروں میں تبدیلی کی موجودہ دلچسپی نے کئی تشویشن ناک اخلاقی سوالات کھردرے کر دیے ہیں۔

مشق 

کچھ بیکڑیا کے ذریعے پیدا کئے گئے بی ٹی ٹاکسن کرسٹل بیکٹریا کو نہیں ختم کرتے کیونکہ:۔
(a) بیکٹریا ٹاکسن کی مزاحمت کرتے ہیں
(b)       ٹاکس غیر پختہ ہوتاہے
(c) ٹاکس غیر فعال ہوتاہے
   (d)    بیکٹریا ٹاکس کو ایک مخصوص غلاف میں رکھتا ہے
ٹرانسجینک بیکٹریا کیا ہیں؟ ایک مثال کو لیکر سمجھائیے۔ 
جینی طور پر تبدیل شدہ فصل کو بنانے کے فوائد اور نقصانات کا موازنہ اور تفریق کیجیے۔
4۔  کرائی ہر وٹنیز کیا ہیں؟ اس عضویہ کا نام بتائیے جو ان کو بناتا ہے۔ انسان نے اپنے فائدے کے لیے اس پروٹین کو کیسے استعمال کیا؟
جین تھیراپی کیا ہے؟ ایڈینوسین ڈیمینیز (اے ڈی اے) کی کمی کی مثال دیکر سمجھائیے۔
انسانی جین( مثلاً گروتھ ہارمون کا جین) کی ای کو لائی بیکٹریم میں کلوننگ اور اس کے اظہار کے تجرباتی اقدامات کو تصویر ی خاکے کے ذریعے دکھائیں
7۔  ریکامننیٹ ڈی این اے ٹکنالوجی اور تیل کی کمیسٹری کی اپنی معلومات کی بنیاد پر کیا آپ بیچ سے تیل (ہائیڈو کاربن) کو نکالنے کا طریقہ پیش کرسکتے ہیں؟
انٹرنٹ سے معلوم کیجیے کہ گولڈن رائس کیا ہے؟
9۔  کیا ہمارے خون میں پروٹنیرز اور نیوکلینیرز ہیں؟
10۔ انٹرنیٹ کے ذریعے معلوم کیجیے کہ منہ سے کھائی جانے والی فعال پروٹینی دوا کیسے بناسکیں گے اور ان میں کون سی اہم مشکلات درپیش ہونگی ؟