Skip to content
Hayatiyaat(Biology)

اکائی X

ایکولوجی (Ecology)


باب 13 

عضویے اور آبادی 

باب 14 

ایکوسسٹم

باب 15 

بائیوڈائیورسٹی اور تحفظ

باب 16

ماحولیاتی مسائل

ڈائیورسٹی صرف عضویوں کی خصوصیات نہیں ہیں بلکہ حیاتیات کی تدریسی کتابوں کے مضامین میں بھی۔ حیاتیات کو نباتیات، حیوانیات اور خورد حیاتیات یا بنیادی اور جدید مضامین کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ اصطلاح جدید حیاتیات کے سالمی (مالیکیولر) پہلوئوں کے لیے متبادل لفظ ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارے پاس کئی دھاگے ہیں جن کو بن کر حیاتیاتی معلومات کے مختلف موضوعات ہر ایک متحد اصول پیش کیا جاسکتا ہے ایکولوجی ایک ایسا ہی دھاگا ہے جو حیاتیات مکمل زاویہ نظر پیش کرتا ہے۔ حیاتیاتی علم مقصد یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ عضویہ کیسے اکیلا رہ کر بھی دوسرے عضویوں اور طبعی محلات (Habitats) سے ایک گروپ کی شکل میں ملتا ہے اور بحیثیت مجموعی منظم رہتا ہے یعنی پالولیشن، کمیونیٹی، ایکوسسٹم یا ایک پورا بائیو سفیر ان تمام چیزوں کا علم ہمیں ایکولوجی سے ملتا ہے یہ اس کا ایک خاص پہلو انسانوں کے ذریعے ماحول کا بگاڑ اور سماجی و سیاسی مسائل جو اس کی وجہ سے کھڑے ہوئے ہیں اور ان کا مطالعہ یہ اکائی مندرجہ بالا پہلوئوں کو بیان کرتی ہے اور ان کے اوپر ایک تنقیدی نگاہ ڈالتی ہے۔ 


pic1 chapter 13
رام دیو مسرا 
(1998-1908)
pic2 chapter 13

باب 13

عضویے اور آبادی (Organism and Populations)

13.1    عضویہ اور اس کا ماحول 
13.2 آبادیاں 
ہماری زندہ دنیا حیرت انگیز طور پر متنوع اور حیران کن طور پر پیچیدہ ہے۔ اس پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے حیاتیاتی تنظیم کی مختلف سطحوں کلاں سالمے ، خلیے، بافت، عضویے، انفرادی عضویے اور آبادی کمیونیٹی، ایکوسسٹم اور بائیومیں مختلف عملیات کی تحقیق و تجزیہ کرسکتے ہیں۔ حیاتیاتی تنظیم کی ہر سطح پر ہم دو طرح کے سوال پوچھ سکتے ہیں۔ مثلاً باغ میں علی الصباح جب بلبل کی چہک کی آواز ہم سنتے ہیں تو پوچھ سکتے ہیں۔ چڑیا کیسے گانا گاتی ہے؟ یا چڑیا کیوں گانا گاتی ہے؟ ’کیسے‘ والے کے سوالات عمل کے پیچھے جو میکانزم برسر پیکار ہے اس کے بارے میں سوال کرتے ہیں جبکہ ’کیوں‘ والے کے سوالات عمل کی اہمیت کے بارے میں سوال کرتے ہیں ہماری مثال میں پہلے سوال کا جواب تو غالباً وائس باکس اور تھرانے والی ہڈی کے طریقہ کار میں ہے جبکہ دوسرے سوال کا جواب شاید یہ ہو کہ پرندہ اپنے ساتھی سے بریڈنگ سیزن میں گفتگو کرنا چاہتا ہو۔ جب آپ قدرت کا مشاہدہ سائنسی نقطہ نظر سے کریں گے تو دونوں قسموں کے کئی سوالات آپ کے ذہن میں ابھریں گے۔ رات میں کھلنے والے پھول عموماً سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟ شہد کی مکھی کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کس پھول میں نیکٹر ہے، کیکٹس میں بہت سارے کانٹے کیوں ہوتے ہیں؟ چوزہ اپنی ماں کو کیسے پہچانتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ 
یہ آپ پچھلی کلاسوں میں پڑھ چکے ہیں کہ ایکولاجی وہ مضمون ہے جس میں عضویوں میں باہمی اور عضویوں اور اس کے اطراف میں طبعی (اے بائیوٹک) ماحول کے درمیان یاآپسی رشتوں کا مطالعہ کرتے ہے۔ 
ماحولیات بنیادی طور پر حیاتیاتی تنظیم کی چار سطحوں عضویہ، آبادی کمیونیٹیز اور بائیوم سے تعلق رکھتی ہے۔ اس باب میں ہم ایکولوجی کا نامیاتی جسم اور آبادی کی سطح پر جائزہ لیں گے۔ 

13.1 عضویہ اور اس کا ماحول (Organism and Its Environment)

ایکولوجی سطح پر اصل میں فعلیاتی ایکولوجی ہے جو یہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے کہ مختلف عضوئے اپنے آپ کو اپنے اطراف کے ماحول میں کس طرح ڈھالتے ہیں نہ صرف اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے بلکہ تولید کے لیے بھی آپ نے پہلے پڑھا ہوگا کہ سورج کے گرد ہماری زمین کے چکر لگانے سے اور اپنے محور سے جھکائو کی وجہ سے درجہ حرارت کی مدت اور تمازت میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس وجہ سے مختلف موسم وجود میں آتے ہیں۔ یہ موسمی تبدیلیاں مع پریسی پیٹیشن (یاد رکھئے پرستی ٹیپیشن میں بارش اور برف باری دونوں شامل ہوتے ہیں) کی سالانہ تبدیلیاں اہم بایوم جیسے صحرا، زمین جنگل اور ٹنڈرا کی تشکیل کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ (شکل 13.1)ہر عضویے میں ناقابل تبدیل طور پر طے شدہ ایسے حالات کا سلسلہ ہوتا ہے جن کو وہ برداشت کر سکتا ہے، وسائل میں ایسا تنوع ہوتا ہے جس سے وہ استفادہ کر سکتا ہے اور ماحولیاتی نظام میں اس کا ایک جداگانہ عملی رول ہوتا ہے اور یہ سب چیزیں مل کر اس کے مقام (Niche) کی تکمیل کرتے ہیں۔
pic3 chapter 13
شکل 13.1 سالانہ درجہ حرارت اور پرسی پٹیشن کے لحاظ سے بائیوم کا بکھرائو 

ہر ایک بائیوم میں علاقائی اور مقامی تبدیلیاں کثیر تعداد میں محلات (Habitats) بناتی ہیں۔ ہندوستان کے اہم بائیوموں کو شکل 13.2 میں دکھایا گیا ہے۔ زمین پر حیات نہ صرف کچھ موافق محلات میں موجود ہے بلکہ حد درجہ تکلیف دہ محلات مثلاً چلچلاتے راجستھان کے صحرا، بارش سے تر میگھالیہ کے جنگلات، سمندر کی عمیق گہرائیوں، تیز دھارے والے دریا، قطبین کے برفانی علاقے، اونچے پہاڑوں کی چوٹیاں، گرم پانی کے چشمے بدبودار کمپوسٹ کے گڈھے میں بھی موجود ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے ہاضمے کی نلی بھی سیکڑوں مائیکرولبس کے لیے ایک بے مثال مسکن ہے۔ 
pic4 chapter 13
شکل 13.2  ہندوستان کے اہم بائیوم: (i) ٹراپیکل بارانی جنگلات، (ii) پت جھڑ والے جنگلات،(iii) صحرا (iv) سمندری کنارے

مختلف محلات کی طبعی اور کیمیائی حالات میں اتنے زیادہ تغیرات کے لیے کون سے کلیدی عناصر ذمے دار ہیں؟ درجہ حرارت، پانی، روشنی اور مٹی ان میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ غیر حیاتی (طبعی کیمیائی یا غیر حیاتیAbiotic) جز جسم کے مسکن کو اکیلے ہی خاصیت نہیں بیان کرتے، مسکن میں حیاتی (بائیوٹک) جز مثلاً جراثیم، طفیلے، شکاری جانور اور عضویوں کے حریف (مقابلہ کرنے والے) بھی شامل ہیں جو مسلسل اس کے رابطے میں رہتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ایک عرصے کے بعد، فطری انتخاب کے ذریعے عضویوں نے اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اور تولید کے لیے اپنے مسکن سے مناسب وضع طرازی کرلی ہے۔
13.1.1  اہم غیر حیاتی اسباب(Major Abiotic Factors)
درجہ حرارت:       ماحولیاتی لحاظ سے درجہ حرارت سب سے زیادہ اہم عامل ہے آپ کو معلوم ہے کہ زمین پر اوسط درجہ حرارت موسم کے لحاظ سے بدلتا ہے یہ خط استوا سے قطبین کی طرف بتدریج کم ہوتا جاتا ہے اور میدانی علاقوں سے پہاڑوں کی چوٹیوں تک کم ہوتا جاتا ہے۔ گرم موسم میں اس کا دائرہ (Range) قطبی علاقوں اور اونچی جگہوں پر صفر سے نیچے سے لیکر ٹراپیکل صحرا پچاس ڈگری سیلسیس تک ہوتا ہے۔ لیکن کچھ ایسے بے مثال مسکن ہیں جیسے ابلتے ہوئے پانی کے چشمے اور گہرے سمندر میں ہائیڈروتھرمل وینٹس جہاں اوسط درجہ حرارت سوڈگری سیلسیس سے بھی زیادہ وہتا ہے۔ یہ معلومات عام ہے کہ آم کے درخت سرد ممالک جیسے کناڈا اور جرمنی میں نہیں اگتے اور اگ سکتے بھی نہیں برف میں رہنے والا تیندوا کیرالا کے جنگلات میں نہیں ملتا اور سمند میں ٹراپیکل عرض البلد کے آگے ٹونا مچھلی کبھی کبھار ہی پکڑی جاتی ہے۔ جاندار عضویوں کے لیے درجہ حرارت کتنا اہم ہے یہ آپ با آسانی سمجھ جائیں گے جب آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ خامروں کی حرکات پرائر انداز ہوتا اور اس کے ذریعے یہ عضویہ کا بنیادی تحول اور دیگر حرکیات(Kinatics) عمل پر اثر ڈالتا ہے۔ کچھ نامیاتی عضوئے درجہ حرارت کے وسیع دائرے کو آسانی سے سے برداشت کرلیتے ہیں۔ (انکو یوری تھرمل کہتے ہیں) لیکن ان کی اکثریت درجہ حرارت کے چھوٹے دائرے تک محدود رہتے ہیں (ان کو اسٹینو تھرمل کہتے ہیں) مختلف انواع (Species) کی گرمی کو برداشت کرنے کی قوت بہت حد تک ان کے جغرافیائی پھیلائو کا تعین کرتی ہے کیا آپ کچھ مزید یوری تھرمل اور اسٹینو تھرمل جانوروں یا پودوں کے نام سوچ سکتے ہیں؟ 
ہر عضویے میں ناقابل تبدیل طور پر طے شدہ ایسے حالات کا سلسلہ ہوتا ہے جن کو وہ برداشت کر سکتا ہے، وسائل میں ایسا تنوع ہوتا ہے جس سے وہ استفادہ کر سکتا ہے اور ماحولیاتی نظام میں اس کا ایک جداگانہ عملی رول ہوتا ہے اور یہ سب چیزیں مل کر اس کے مقام (Niche) کی تکمیل کرتے ہیں۔
ادھر چند سالوں سے دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے (باب 16) اگر یہ رجحان مسلسل جاری رہتا ہے تو کیا آپ کچھ انواع کے پھیلاؤ میں تبدیلی کی امید کرتے ہیں؟ 
پانی:          درجہ حرارت کے بعد پانی عضویوں پر اثر انداز ہونے والا دوسرا سب سے زیادہ اہم عامل ہے در اصل حیات کی ابتداء ہی پانی میں ہوئی ہے اور بغیر پانی کے اس کا قائم رہنا ناممکن ہے۔ صحرا میں اس کی دستیابی اتنی محدود ہے کہ صرف اسپیشل اڈاپٹیشن ہی کی مدد سے وہاں عضویوں کا رہنا ممکن ہے۔ پودوں کی پیداوار اور بکھرائو بھی پانی پر ہی منحصر ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ جانور جو سمندر جھیل اور دریا میں رہتے ہیں انھیں پانی سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں پیش آتا ہوگا نہیں یہ سچ نہیں ہے۔ آبی عضویوں کے لیے پانی کی کوالیٹی (کیمیائی اجزاء pH) بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ میٹھے پانی میں نمکیات کا ارتکاز (کھارا پن حصہ فی ہزار کی حیثیت سے ناپا جاتا ہے) 5 فیصدی سے بھی کم ہوتا ہے، سمندری پانی میں یہ 30-35 فیصدی اور کچھ ہائپر سیلائین لاگونز میں 100 فیصدی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ نامیاتی اجسام میں زیادہ کھارے پانی کو برداشت کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ (یوروہیلائین) لیکن دوسرے بہت زیادہ کھارپن کو برداشت نہیں کرپاتے (اسٹینو ہیلائن) میٹھے پانی میں نہیں رہ سکتے کیونکہ انھیں Osmotic دباؤ کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
روشنی :         چونکہ پودے اپنی غذا ضیائی تالیف کے ذریعے بناتے ہیں جو تب ہی ممکن ہے جب ذریعہ توانائی سورج کی روشنی ہو، لہٰذا عضویوں کے لیے خاص طور پر آٹو ٹرانس کے لیے روشنی کی اہمیت کا اندازہ ہم آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ جنگل میں اگنے والے بہت سارے چھوٹے پودے (اور لمبے) بہت کم روشنی میں مناسب ضیائی تالیف کرنے کے عادی ہوگئے ہیں کیونکہ ان پر مسلسل گھنے درختوں کا سایہ رہتا ہے۔ پھول بنانے کے لیے بھی پورے اپنی فوٹو ہیراڈک ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سورج کی روشنی پر منحصر رہتے ہیں۔ بہت سارے جانوروں کے لیے بھی روشنی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ روشنی کی ڈائی ارنل(Diurnal) اور روشنی کی مدت (فوٹو پیریڈ) اور شدت میں موسمی تبدیلیاں ان کے لیے چارے کی تلاش، تولید اور ہجرت کے لیے اشارے کا کام کرتی ہیں۔ زمین پر روشنی کی دستیابی، درجہ حرارت سے قریبی تعلق رکھتی ہے چونکہ سورج ہی دونوں کا ذریعہ ہے لیکن سمندر کی گہرائی (500 میٹر سے زیادہ) میں ماحول ہمیشہ تاریک رہتا ہے اور وہاں کے باشندے آسمانی ذریعہ توانائی یعنی سورج کے وجود سے واقف نہیں ہیں۔ (تو پھر ان کا ذریعہ توانائی کیا ہے؟) شمسی شعاع کی اسپیکٹرل کوالٹی بھی حیات کے لیے بہت اہم ہے۔ اسپیکٹرم کا یووی جز کچھ عضویوں کے لیے نقصان وہ ہے جبکہ سمندر کی مختلف گہرالوں میں رہنے والے پودوں کی مرئی اسپیکٹرم (Visible Spectrum) کے سارے رنگ دستیاب نہیں ہوتے۔ سرخ، سبز اور یا بھوری الگی جو سمندر میں رہتی ہے۔ میں سے کون سی سمندر کے سب سے گہرے پانی میں ملتی ہے اور کیوں؟ 
مٹی: مختلف جگہوں کی مٹی کی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں ٹوٹنے یا گھسنے کا عمل، آیا مٹی کہیں سے لائی گئی ہے یا تہہ دار (Sedimentry) ہے اور مٹی کا نمو کیسے ہوا، یہ سب موسم پر منحصر ہے مٹی کی مختلف خصوصیات مثلاً مٹی کے اجزاء دانے کا سائز اور مٹی کا مجموعہ، رسائو اور پانی کے انجذاب کی قوت کا تعین کرتی ہیں۔ ان خصوصیات کے علاوہ pH نمکیاتی اجزاء اور ٹوپوگرافی بہت حد تک کسی علاقے کی نباتات کا تعین کرتی ہیں۔ اور پھر یہی اس بات کا تعین بھی کرتے ہیں کہ کون سے جانور ان علاقوں میں رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح سے آبی ماحول میں وہاں کی تہہ دار خصوصیات تعین کرتی ہیں کہ کون سے بنتھک جانور وہاں رہ سکتے ہیں۔ 
13.1.2  غیر حیاتی اسباب کے خلاف ردِّ عمل(Responses to Abiotic Factors)
اس بات کا اندازہ ہونے کے بعد کہ اکثر محلات (مساکن) کے غیر حیاتی حالات میں کافی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ ان محلات میں یہ عضویے ایسی تکلیف دہ حالات کا سامنا کیسے کرتے ہیں؟ لیکن اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ کیوں تغریذپر بیرونی ماحول عضویوں کو پریشان کرتا ہے؟ یہ مانا جاسکتا ہے کہ ان کے وجود کے لاکھوں سال کے دوران کئی انواع نے نسبتاً غیر تغیر پذیر اندرونی (جسم کے اندر) ماحول کاارتقاء کیا ہوگا جس کی وجہ سے تمام حیاتی کیمیائی افعال اور فعلیاتی فرائض زیادہ سے زیادہ موثر انداز میں انجام دیے جاسکیں اور اس طرح انواع کی مجموعی مناسبت (Overall Fitness) میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مناسب ترین درجہ حرارت اور جسمانی سیال کا ولوجی (Osmotic) ارتکاز ہوسکتے ہیں۔ تمثیلی طور پر عضویے کو اپنے اندرونی ماحول کو غیر تغیر پذیر رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ (اس عمل کو ہومیوسٹیسس کہتے ہیں) باوجود متغیر بیرونی ماحول کے جو عضویے کے ہومیوسٹیس کو بگاڑنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ آئنے اہم نظریے کو مزید سمجھنے کے لیے ہم ایک تشبیہہ لیتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک آدمی یا عورت 25 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پر اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ اس عمل کو اسی طرح برقرار رکھنا چاہتا ہے چاہے باہر جھلسا دینے والی گرمی ہو یا شدید سردی۔ وہ اس امر کو گھر میں دوران سفر کار اور جائے ملازمت گرمیوں میں ائیر کنڈیشنر اور سردیوں میں ہیٹر استعمال کرکے حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا اس کی کارکردگی ہمیشہ بہترین رہے کہ خواہ اس کے اردگرد ماحول کچھ بھی ہو۔ یہاں اس فرد کا ہومیواسٹیس فعلیاتی طور پر نہیں بلکہ مصنوعی طور پر برقرار رہ پاتا ہے۔ دوسرے عضویے ایسے حالات کا کس طرح سامنا کرتے ہیں؟ اب ذرا مختلف امکانات پر غور کریں (شکل13.3)
pic5 chapter 13
شکل 13.3  عضویوں کے ردِّ عمل کا خاکہ
 
(i) ضابطہ دار (Regulate) :         کچھ عضویے ہومیواسٹیسس کو فعلیاتی (کبھی کبھی عادات سے) طریقے سے برقرار رکھتے ہیں جو غیر تغیر پذیر جسمانی درجہ حرارت، غیر تغیر پذیر ولوجی ارتکاز، وغیرہ کو یقینی بناتا ہے۔ تمام پرندے اور پستانیے اور کچھ نچلے ورٹیبریٹس (ظہری) اور انور ٹیبریٹس (غیر ظہری) انواع اس طرح کے ریگولیشن (تھرموریگولیشن اور آسمو ریگولیشن) کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ماہرین قانون ارتقاء کا ماننا ہے کہ پستانیوں کی کامیابی کا راز ان کی اس اہلیت میں ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے جسم کا درجہ حرارت یکساں قائم رکھتے ہیں چاہے وہ انٹارکٹیکا میں ہوں یا سہارا کے ریگستان میں رہ رہے ہوں۔ 
پستانیوں کی اکثریت اپنے جسم کے درجہ حرارت کی ضابطگی کے لیے وہی طریقہ استعمال کرتے ہیں جو انسان کرتا ہے۔ ہم اپنے جسم کا درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس ہر حالت میں برقرار رکھتے ہیں گرمیوں میں جب بیرونی درجہ حرارت ہمارے جسم کے درجہ حرارت سے تجاوز کرجاتا ہے تو ہمیں پسینہ آتا ہے۔ تبخیر کے عمل سے حاصل شدہ ٹھنڈک (جس اصول پر ڈزرٹ کولر ٹھنڈک پیدا کرتا ہے) ہمارے جسم کے درجہ حرارت کو کم کر دیتی ہے۔ سردیوں میں جب درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس سے بہت کم ہوتا ہے تو ہم کانپنے لگتے ہیں جو ایک طرح کی جسمانی ورزش ہے جو حرارت پیدا کرکے جسمانی درجہ حرارت کو بڑھا دیتی ہے۔ دوسری طرف پودوں میں اندرونی درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کا ایسا کوئی عمل نہیں ہوتا۔ 
(ii) مطابقت دار (Conform) :       جانوروں کی بڑی اکثیریت (99 فیصدی) اور تقریباً تمام پودے یکساں (غیر تغیر پذیر) اندرونی ماحول برقرار نہیں رکھ سکتے۔ ان کے جسم کا درجہ حرارت ان کے ارد گرد کے درجہ حرارت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ آبی جانوروں میں جسمانی سیال کا ولوجی ارتکاز (Osmotic Concentration)  ارد گرد کے ہوا اور پانی کے ارتکاز کے لحاظ سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ جانور اور پودے محض مطابقت (Conform) رکھنے والے ہیں۔ عضویوں کا یکساں اندرونی ماحول کی افادیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں پوچھنا چاہیے کہ یہ کانفرمز ترقی کرکے ریگولیٹرز کیوں نہیں بن گئے؟ اوپر دی گئی انسان والی مثال یاد کیجیے۔ کتنے لوگ ائر کنڈیشنر خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں؟ اکثریت پسینہ بہا کر گرم موسم میں کم کارکردگی کو تسلیم کرلیتے ہیں۔ کئی عضویوں میں تھرموریگولیشن توانائی کے لحاظ سے قیمتی عمل ہے خاص طور پر چھوٹے جانوروں مثلاً چھچھوندر اور ہمینگ برڈ کے لیے۔ حرارت کا اخراج یا اسے حاصل کرنا سطح کے رقبے پر منحصر ہوتا ہے۔ جب باہر سردی ہو تو جسم سے حرارت کا اخراج تیزی سے ہوتا چونکہ چھوٹے جانوروں میں حجم کے مقابلے میں ان کے جسم کی سطح کا رقبہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا تحویل کے ذریعے جسم میں حرارت پیدا کرنے کے لیے انھیں زیادہ توانائی خرچ کرنی پڑتی ہے۔ یہی خاص وجہ ہے کہ قطبین میں چھوٹے سائز کے جانور کم ہی پائے جاتے ہیں۔ ارتقاء کے دوران، یکساں اندرونی ماحول کو برقرار رکھنے کے نفع اور نقصان کا خیال رکھا گیا ہے۔ کچھ انواع نے اپنے اندر ضابطگی کرنے کی اہلیت کو پیدا کر لیا ہے۔ لیکن ماحولیاتی حالات کے ایک محدود دائرے تک اس کے آگے وہ محض مطابقت کرتے ہیں۔ 
اگر تکلیف دہ بیرونی ماحول مقامی ہے یا کم مدت کے لیے ہے تو عضویوں کے سامنے دو دیگر راستے ہیں۔ 
(iii) مہاجر (Migrate) :      تکلیف دہ مسکن سے عارضی طور پر عضویے زیادہ مہمان نواز علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور تکلیف دہ حالات کے ختم ہونے کے بعد واپس آجاتے ہیں اگر انسان کی مثال لی جائے تو یہ ترکیب ایسی ہے جیسے گرمیوں میں لوگ دہلی سے شملہ چلے جاتے ہیں۔ جانور، خاص طور سے پرندے، سردیوں میں فاصلاتی ہجرت کرکے بہت مہمان نواز علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔ مشہور کیولاڈو قومی پارک (بھرن پور) راجستھان ہر موسم سرما میں ہزاروں مہاجر پرندوں کی مہمان نوازی کرتا ہے جو سائبیریا اور دوسرے بے انتہا سرد شمالی علاقوں سے ہجرت کرکے آتے ہیں۔ 
(iv) معلق (Suspend) :      بیکٹیریا، فنجی اور نچلے پودوں میں کئی طرح کے موٹی دیواروں والے بذرے بنتے ہیں جو انھیں غیر موافق حالات میں زندہ رہنے میں مدد کرتے ہیں اور موزوں ماحول کی موجودگی میں اگتے ہیں۔ اعلیٰ پودوں میں یہ کام بیج اور دیگر نباتی تولیدی ساختیں انجام دیتی ہیں اور تکلیف دہ حالات سے نبٹنے کا نہ صرف ذریعہ بنتی ہیں بلکہ انتشار میں بھی مدد کرتی ہیں۔ موافق نمی اور درجہ حرارت کی موجودگی میں یہ اگ کر نئے پودے بناتی ہیں۔ یہ اپنے تحولی عملیات کو سست رفتار اور خوابیدگی (ڈرامنسی) کے عالم میں جاکر یہ عمل انجام دیتی ہیں۔
جانوروں میں، عضویے، اگر ہجرت نہیں کرپاتے تو اس تکلیف دہ حالات سے چھٹکارا حاصل کر نے کے لیے وقفہ سے نجات کا ذریعہ ڈھونڈتے ہیں۔ سردیوں میں ریچھ کا خوابیدگی کی حالت میں چلے جانا۔ وقفہ سے نجات (Escape in Time) حاصل کرنے کی ایک جانی پہچانی مثال ہے۔ گرمی سے متعلق مشکلات مثلاً گرمی اور سوکھ جانے کی ڈر سے کچھ گھونگے اور مچھلیاں بے حسی ایسٹیویشن (Aestivation) کی حالت میں چلے جاتے ہیں غیر موافق حالا میں زوپلانکن انواع جھیل اور تالابوں میں ڈایا پاز (Dia-pause) میں داخل ہوجاتے ہیں، معلق نمو کا ایک مرحلہ۔ 
13.1.3  تصرف (Adaptations)
یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ تکلیف دہ ماحول کو برداشت کرنے کے لیے عضویوں کے پاس مختلف متبادل ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کچھ فعلیاتی ہم آہنگی کے ذریعے اور کچھ عادتاً (کم تکلیف دہ مساکن پر عارضی ہجرت کرکے) جوابی کاروائی کرتے ہیں۔ یہ جوابی کاروائی بھی در اصل ان کا توافق کا طریقہ ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اعضویوں کی کوئی بھی خصوصیت (بیرونی ساخت، فعلیاتی، عاداتی) جو ان کو اپنے مسکن اپنا میں وجود برقرار رکھنے اور عمل تولید میں مدد پہنچاتی ہو تصرف کہلاتی ہے۔ بہت سے تصرفات ایک طویل ارتقائی عرصے میں نمو ہوئے ہیں اور ان کا تعلق ان کی جنیٹکس سے ہے۔ پانی کی بیرونی دستیابی کی غیر موجودگی میں شمالی امریکہ کی ریگستانوں میں پایا جانے والا کنگارو چوہا۔ پانی کی اپنی تمام ضروریات کو اندرونی چربی کی تکسید سے پورا کرتا ہے (اس عمل میں پانی ایک ضمنی پیداوار ہے) اس میں اپنے پیشاب کو گاڑھا کرنے کی اہلیت بھی ہوتی ہے تاکہ اخراجی ماحصل کو نکالنے کے لیے کم سے کم پانی استعمال ہو۔ 
بہت سارے ریگستانی پودوں کی پتیاں کیوٹیکل کی موٹی تہہ سے ملفوف ہوتی ہیں اور ان کے عمل تبخیر کے دوران پانی کے اخراج کو مزید کم کرنے کے لیے اسٹوماٹا گہرے گڈھوں میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ ضیائی تالیف کے لیے ان میں ایک مخصوص راستہ (CAM) ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے اسٹوماٹا دن میں بھی بند رہتے ہیں۔ اوپنشیا جیسے کچھ ریگستانی پودوں میں پتیاں ہوتی ہی نہیں بلکہ وہ مخفف ہو کر کانٹوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور ضیائی تالیف کا عمل چپٹے اور سبز تنے کرتے ہیں۔ 
سرد علاقوں کے پستانیوں کے کان اور جوارح بہت چھوٹے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے حرارت کا نقصان کم از کم ہوتا ہے۔ (اس کو الین (Allen's) کا اصول کہتے ہیں) قطبین میں رہنے والے آبی پستانیوں کی کھال کا عین نیچے چربی کی ایک دبیز تہہ بلبّر(Blubber) ہوتی ہے جو تحفظ (انسولیٹر) کا کام کرتی ہے اور حرارت کے اخراج کو کم کرتی ہے۔ 
کچھ عضویے فعلیاتی تصرف کا اظہار کرتے ہیں جن کی وجہ سے وہ تکلیف دہ حالات کا بہت جلد اور کامیابی سے مقابلہ کر پاتے ہیں۔ اگر آپ کبھی بہت اونچائی والے علاقے (3500 میٹر سے زیادہ جیسے منالی کے نزدیک روہتانگ پاس اور لیہہ گئے ہوں تو آپ کو  آلٹی ٹیوڈ علالت کا تجربہ ہوا ہوگا۔ الٹی، تھکن اور قلب کی تیز دھڑکن اس کے کچھ علامتیں ہیں۔ ایسا اونچے علاقوں میں ہوائی دباؤ کی کمی کے باعث ہوتا ہے اور جسم کو وافر مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی۔ لیکن آہستہ آہستہ آپ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور آلٹی ٹیوڈ علالت کا احساس نہیں رہتا۔ آپ کا جسم اس مشکل کا حل کیسے تلاش کر لیتا ہے؟ جسم آکسیجن کی کمی کو، خون کے سرخ خلیوں کی پیداوار کی رفتار میں اضافہ کرکے، ہیموگلابن کی باندھنے کی اہلیت کو کم کرکے اور تنفس کی شرح کو بڑھاکر پورا کرتا ہے۔ ہمالیہ پہاڑ کے اونچے علاقوں میں کئی قبیلے رہتے ہیں۔ معلوم کیجیے کہ کیا ان میں خون کی سرخ خلیوں کی تعداد (ہیموگلابن) میدانی علاقوں میں رہنے والوں سے عموماً زیادہ ہوتی ہیں؟ 
جانوروں کی اکثریت میں، تحولی عملیات لہٰذا تمام فعلیاتی وظائف درجہ حرارت کے ایک محدود دائرے میں مناسب رفتار سے کام کرتے ہیں۔ (انسانوں میں یہ 37 ڈگری سیلسیس ہے) لیکن بیکٹیریا(آرکپیکٹریا) گرم پانی کے چشموں اور گہرے سمندر کے ہائیڈروتھرمل وینٹس میں رہتے ہیں جہاں درجۂ حرارت 100 ڈگری سیلسیس سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ 
انٹارکٹکا کے پانی میں کئی مچھلیاں رہتی ہیں جہاں درجۂ حرارت ہمیشہ صفر سے نیچے رہتا ہے۔ وہ اپنے جسم کے سیال کو جمنے سے کیسے روکتی ہیں؟
سمندری انورٹی بریٹس اور مچھلیوں کی بہت سی انواع سمندر کی عمیق گہرائیوں میں رہتی ہیں جہاں عام ہوائی دباؤ کے لحاظ سے سوگنا سے بھی زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔ یہ کس طرح اتنے اونچے کچل دینے والے دباؤ میں رہتے ہیں کیا ان کے کچھ مخصوص خامرے ہوتے ہیں؟ ایسے جاندار جو اس طرح کے شدید ماحول میں رہتے ہیں، بائیوکیمیائی تصرفات کی دلچسپ ترتیب کا اظہار کرتے ہیں۔
کچھ عضوئیے اپنے ماحول کے اختلافات کا سامنا کرنے کے لیے عاداتی تصرفات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ریگستانی گرگٹ میں پستانیوں والی وہ تخلیاتی اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے مسکن کے بلند درجۂ حرارت کا مقابلہ کر سکیں، لیکن عاداتی تصرف کی بناء پر وہ اپنے جسمانی درجۂ حرارت کو بڑی حد تک یکساں رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ جب ان کا جسمانی درجۂ حرارت آرام دہ سطح سے نیچے آجاتا ہے تو وہ دھوپ سینکتے ہیں اور حدت کو اپنے جسم میں جذب کر لیتے ہیں، لیکن جیسے ہی ان کے جسم کا یا آس پاس کا درجۂ حرارت بڑھنے لگتا ہے تو سائے میں چلے جاتے ہیں۔ کچھ انواع زمین میں سوراخ کھود کر بل بنالیتے ہیں اور زمین کی سطحی حدت سے بچنے کے لیے اس میں گھس کر چھپ جاتے ہیں۔ 

13.2 آبادی (Populations)

13.2.1 آبادی کی خصوصیات (Population Attributes)
قدرت میں ہم شازونادر ہی کسی نوع کے اکیلے افراد نظر آتے ہیں؛ ان کی اکثریت ایک متعین جغرافیائی علاقے میں اجتماعی شکل میں رہتی ہے، ایک ہی طرح کے وسائل کے لیے مقابلہ کرتے ہیں یا اس کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں، اپنی نسل بڑھاتے ہیں اور ایک آبادی کی تشکیل کرتے ہیں۔ حالانکہ اصطلاح ’انٹربریڈ‘ جنسی تولید کی طرف اشارہ کرتی ہے، لیکن غیر جنسی تولید کے ذریعے بننے والے مجموعے کو بھی ماحولیاتی مطالعے کی غرض سے، آبادی ہی قرار دیا جاتا ہے۔ آبی زمین (Wetland) کارمورنیٹس، ویران گھر کے چوہے، جنگلات میں ساگوان کے درختوں کا سلسلہ، کلچرپلیٹ میں بیکٹیریا اور تالاب میں کنول کے پودے، آبادی کی کچھ مثالیں ہیں۔ گذشتہ ابواب میں آپ نے سیکھا ہے کہ تبدیل شدہ ماحول کا سامنا ایک اکیلا عضویہ کرتا ہے، مگر ایک مفید صفت کی ارتقاء کے لیے قدرتی انتخاب آبادی کی سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لہٰذا آبادی ماحولیات (Population ecology)، وہ اہم  شعبہ ہے جو ماحولیات کو آبادی جنٹکس اور ارتقا سے منسلک کرتا ہے۔
ایک آبادی کی کچھ خصوصیات ایسی ہوتی ہیں جو انفرادی نامیاتی جسم میں نہیں ہوتیں۔ ایک فرد کی پیدائش اور موت ہوتی ہے، لیکن آبادی کی شرح پیدائش اور شرحِ اموات ہوتی ہے۔ آبادی میں یہ شرح فی کس پیدائش اور اموات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لہٰذا یہ شرحیں آبادی کے ممبران کی تعداد میں تبدیلی (اضافہ یاکمی) کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہاں ایک مثال ہے۔ ایک تالاب میں ایک سال پہلے 20 کنول کے پودے تھے اور تولید کے ذریعے آٹھ نئے پودوں کا اضافہ ہو گیا، موجودہ آبادی کو 28 لے کر ہم شرح پیدائش کا حساب 8/20 = 0.4 خلف فی کنول فی سال لگاتے ہیں۔ لیب میں 40 فروٹ فلائیز کی آبادی 4 عدد اگر ایک خاص وقفے، مثلاً ایک ہفتے میں، مر جاتی ہیں تو اس آبادی کی اس وقفے میں شرح موت 4/40 = 0.1 افراد فی فروٹ فلائی فی ہفتہ ہوئی۔
آبادی کی دوسری خصوصیت جنسی شرح ہے۔ ایک فرد یا تو نر ہوگا یا مادہ لیکن آبادی کی ایک جنسی شرح ہوتی ہے (مثلاً آبادی کا60 فیصدی حصہ مادہ اور 40 فیصدی نر پر مشتمل ہے)۔
کسی دئے ہوئے وقت میں آبادی کے افراد کی مختلف عمر ہوتی ہے۔ اگر کسی آبادی کے عمر کا انتشار (کسی خاص عمر کے فی صدافراد یا ایج گروپ) پلاٹ کیا جائے تو نتیجے میں جو شکل سامنے آئے گی اس کو ایج پیرامِڈ (عمر کا پیرامڈ) کہتے ہیں (شکل 13.4)۔ انسانی آبادی کے لیے ایج پیرامڈ نر اور مادہ کی عمروں کا انتشار عموماً ایک ہی شکل میں دکھا یا جاتا ہے۔ پیرامڈ کی ساخت آبادی کی موجودہ نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ (a) کیا اس میں اضافہ ہو رہا ہے، (b) ساکت ہے یا (c) کم ہو رہی ہے۔

تولید کے بعد؍ تولیدی؍ تولیدی سے پہلے

اضافی؍ ساکت؍ کم ہونا

pic6 chapter 13
شکل 13.4 انسانی آبادی کی عمری پیرامڈ کا نمونہ 
آبادی کا سائز کسی مسکن میں اس کی حالت کے بارے میں بتاتا ہے۔ ہم کسی آبادی میں، چاہے جس ماحولیاتی عمل کا مطالعہ کریں آیا وہ دوسرے انواع سے مقابلے کی شکل میں ہو، حملہ آور شکاری کا اثر یا کیڑے مارنے والی دوا کا اثر، اس کو ہم ہمیشہ آبادی کی سائز میں تبدیلی کی حیثیت سے ناپتے ہیں۔ قدرت میں سائز چند (دس سے بھی کم) (بھرت پور جھیل میں سائیبرین سارس کی کسی سال میں تعداد) سے لاکھو ںمیں (تالاب میں کلیمائڈوموناس) ہو سکتی ہے۔ آبادی کے سائز کو تکنیکی طور پر آبادی کثافت یا آبادی کی کثافت کہا جاتا ہے اور اس کو N سے ظاہر کرتے ہیں، اور ضروری نہیں ہے کہ یہ صرف تعداد کی شکل میں ہی ہو۔ حالانکہ کسی آبادی کی کثافت کو ناپنے کے لیے سب سے موزوں پیمانہ عموماً کل تعداد ہوتی ہے، یہ بعض حالات میں بے معنی ہو جاتی ہے یا اس کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک علاقے میں، اگر 200 کیرٹ گراس(میٹرو فورس) پارتھینیم کے پودے ہیں لیکن صرف ایک بڑا سا برگد کا گھنا درخت ہے، یہاں یہ کہنا کہ برگد کے درخت کی ڈینسیٹی،  کیرٹ گراس کے مقابلے میں کم ہے تو کمیونیٹی پر برگد کے درخت کے بے حساب اثر کے بارے میں غلط اندازہ لگانے کے برابر ہوگا۔ ایسے حالات میں آبادی کے سائز کا پیمانہ فی صد غلاف یا بائیوماس زیادہ موزوں اور معنی خیز ہوگا۔ آبادی کا سائز بہت بڑا ہے اور تعداد کا شمار کرنا ممکن نہ ہو یا بہت زیادہ وقت درکار ہو تو ایسی صورت میں بھی کل تعداد کا پیمانہ اختیار کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اگر ایک پیٹری پلیٹ میں بیکٹیریا کا کلچر بہت کثیف ہے تو اس بیکٹیریا کی کثافت کو ناپنے کا کون سا پیمانہ استعمال کریں گے، کبھی کبھی کچھ ماحولیاتی مطالعے میں، یہ ضروری نہیں کہ آبادی کی حتمی کثافتیں معلوم ہوں؛ متعلقہ کثافت (Relative Densities) بھی یہ مقصد پورا کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر جال ڈالنے پر اوسطاً پکڑی گئی مچھلیوں کی تعداد جھیل میں موجود مچھلیوں کی کل تعداد کا کا فی صحیح اندازہ دے سکتی ہے۔ بغیر انھیں گنے ہوئے یا دیکھے ہوئے، اکثر ہمیں آبادی سائز کا بالواسطہ اندازہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے قومی پارکوں اور شیروں کے تحفظی مقامات میں چیتے کا شمار اکثر ان کے پیروں کے نشان (پگ مارکس) یا ان کے فضلے کے ڈھیلوں کی گنتی پر منحصر ہوتا ہے۔
13.2.2 آبادی کا نمو(Population Growth)
کسی نوع کی آبادی کا سائز ایک ساکت پیمانہ نہیں ہے۔ غذا کی دستیابی، شکار کا اثر اور بدلتے موسم اور ایسے ہی کئی اسباب کی بناء پر، یہ وقت کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے۔ دراصل آبادی کی کثافت میں یہ تبدیلیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ آبادی کن حالات سے دوچار ہے۔ آیا اس میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی واقع ہو رہی ہے۔ چاہے کچھ بھی وجہ ہو، کسی مسکن میں کسی ایک وقت پر آبادی کی کثافت میں چار بنیادی عملیات میں تبدیلی کی وجہ سے اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، ان میں دو (شرح پیدائش اور آبادی میں باہر سے ہجرت کرکے آنا) آبادی کی کثافت میں اضافے کی ذمے دار ہیں اور دیگر دو (فنائیت اور ترکِ وطن کرکے جانا) اس میں کمی واقع ہونے کی ذمے دار ہیں۔ 
(i) شرحِ پیدائش (Natality) کسی دئے گئے وقت میں پیدائش کی وہ تعداد ہے جو آبادی کی ابتدائی کثافت میں جوڑی جاتی ہے۔
(ii) فنائیت (Mortality) کسی دئے گئے وقت پر آبادی میں اموات کی تعداد ہے۔
(iii) آبادی کے لیے آنا (Immigration) اُسی نوع کے افراد کا وہ عدد ہے جو دئے گئے وقت میں کسی دوسری جگہ سے آکر اس مسکن میں رہنے لگتے ہیں۔
(iv) ترکِ وطن کرکے جانا (Emigration) کسی دئے گئے وقت میں کسی آبادی کے افراد کا وہ عدد ہے جو اپنے مسکن چھوڑ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔

آبادی کے لیے آنا (I)؍آبادی کی کثافت(N)؍ترکِ وطن کر کے جانا

شرحِ پیدائش (B)؍ آبادی کی کثافت(N)؍ فنائیت(D)


pic7 chapter 13
لہٰذا اگرN  پاآبادی کی کثافت t وقت پر ہے تو t + 1 پر اس کی کثافت ہوگی
Nt+1 = Nt + [(B + I) – (D + E)]
اوپر دی گئی مساوات شکل 13.5 میں آپ دیکھ سکتے ہیں اگر پیدائش کی تعداد جمع آبادی کے لیے آنے والوں کی تعداد (B + I)، اموات کی تعداد جمع ترک وطن کرنے والوں کی تعداد (D + E) سے زیادہ ہے تو آبادی کی کثافت میں اضافہ ہوگا،  معمولی حالات کے تحت، پیدائش اور اموات، آبادی کی کثافت پر اثر انداز ہونے والے سب سے زیادہ اہم اسباب ہیں، بقیہ دو اسباب کچھ خاص مواقع پر اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر مسکن میں کسی آبادی کی ابتداء ہورہی ہے، تو آبادی کے لیے آنے والوں کی تعداد، شرحِ پیدائش کے مقابلے میں زیادہ موثر ثابت ہوگی۔
نمو کے ماڈلز:  کیا وقت کے لحاظ سے آبادی کا نمو کوئی مخصوص اور قابل پیشین گوئی نظم کا اظہار کرتا ہے؟ انسانی آبادی کے بے لگام نمو سے اور ہمارے ملک میں اس سے پیدا ہونے والی مشکلات سے ہم پریشان ہیں ہماری یہ جستجو کہ کیا جانوروں کی آبادی بھی یہی رویہ اختیار کرتی ہے یا اس کو قابو میں کیا جا سکتا ہے، قدرتی امر ہے۔ شاید ہم قدرت سے ایک یا دو سبق سیکھ سکیں کہ آبادی کی نمو کو کیسے قابو میں کیا جاسکتا ہے۔
(i) ایکسپونینشیل نمو (Exponential Growth) :    بغیر رکاوٹ کے آبادی کی نمو کے لیے وسائل (غذا اور جگہ) کی دستیابی ازخد ضروری ہیں۔ جیسا کہ قدرتی انتخاب کی نظرئے کے مطالعے کے دوران ڈارون نے مشاہدہ کیا کہ جب مسکن میں وسائل لامحدود ہوتے ہیں، تو ہر نوع اپنی تعداد میں اضافے کے لیے اپنے اندر نہاں تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس وقت آبادی کی نمو ایکسپونینشیل یا جیومٹرک انداز میں ہوتی ہے۔ اگر آبادی کا سائز N ہے، شرحِ پیدائش (کل تعداد نہیں بلکہ فی کس پیدائش) کو b سے اور شرحِ موت (یہاں بھی فی کس شرحِ موت) کو d سے ظاہر کریں تو اکائی مدتِ وقت t(dN/dt) پر N میں اضافے یا کمی کو مندرجہ ذیل طریقے سے دکھا سکتے ہیں:
dN/dt= (b-d) N

(b – d) × N dN/dt =  
اگر

 (b – d) = r
ہے تو
dn/dt=rn
اس مساوات میں r قدرتی اصافے کی درونی (Intrinsic) شرح ہے، اور آبادی کی نمو پر حیاتی اور غیر حیاتی اسباب کے اثر کی تشخیص کا بہت اہم پیمانہ ہے۔
آپ کو قدر r کی اہمیت اور وسعت کا انداز دینے کے لئے، ناروے چوہے کی r قدر 0.015 ہے، اور آٹے میں گھن کی 0.12 ہے۔ 1981 میں، ہندوستان میں انسانی آبادی کی r قدر 0.0205 تھی۔ معلوم کیجیے کہ اس وقت r قدر کیا ہے۔ اس کا محاسبہ کرنے کے لے آپ کو شرحِ پیدائش اور شرح موت کی ضرورت پڑے گی۔ 
مندرجہ بالا مساوات ایک آبادی کی ایکسپونینشیل یا جیومٹریک نمو کی ترتیب کو بیان کرتی ہے (شکل 13.5) اور جب ہم N کو وقت کے تعلق سے پلاٹ کرتے ہیں تو J-ساخت کاخط بناتی ہے۔ اگر آپ بنیادی کیلکولس سے واقف ہیں تو ایکسپونینشیل نمو کی مساوات کا انٹیگرل نکال سکتے ہیں۔
Nt = Noert
جہاں
t     = Nt وقت کے بعد آبادی کی ڈینسیٹی
N0 = صفر وقت پر آبادی کی ڈینسیٹی
r = قدرتی اضافے کی درونی (Instrinsic) شرح
e = قدرتی لاگریتھم کا بیس (2.71828)
کوئی نوع جو لا محدود وسائل کی موجودگی کی وجہ سے ایکسپونینشیل نمو کی حالت میں ہو تو کم وقت میں اس کی آبادی بہت زیادہ ڈینسٹی تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈارون نے دکھایا کہ بہت ہم کم رفتار سے نمو پذیر جانور مثلاً ہاتھی، اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو، اس کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ نیچے ایک ایسا واقعہ پیش کیا جارہا ہے جو یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ایکسپونینشیل نمو کے دوران کس طرح آبادی سرعت کے ساتھ بڑھتی ہے۔
pic8 chapter 13
شکل 13.6 آبادی کے نمو کا خط منحنی آبادی کے نمو کا خط
a   جب وسائل نمو کو نہیں روکتے، خط ایکسپونینشیل ہوتا ہے۔
b  جب وسائل نمو کے لیے محدود ہیں تو خط لاجسٹک ہوتا ہے۔
K  ڈھونے کی صلاحیت
ایک بادشاہ اور اس کا وزیر شطرنج کھیلنے بیٹھے۔ بادشاہ کو اپنی جیت کا یقین تھا لہٰذا وہ وزیر کے ساتھ کوئی بھی شرط لگانے کو تیار تھا۔ وزیر نے باادب کہا کہ اگر وہ جیتا تو اس کو گیہوں کے چند دانے چاہییں، اور اس کی مقدار کا حساب اس طرح لگایا جائے کہ شطرنج کی بساط کے پہلے خانے پر گیہوں کا ایک دانہ رکھا جائے دوسرے خانے پر دو، تیسرے  ایک بادشاہ اور اس کا وزیر شطرنج کھیلنے بیٹھے۔ بادشاہ کو اپنی جیت کا یقین تھا لہٰذا وہ وزیر کے ساتھ کوئی بھی شرط لگانے کو تیار تھا۔ وزیر نے باادب کہا کہ اگر وہ جیتا تو اس کو گیہوں کے چند دانے چاہییں، اور اس کی مقدار کا حساب اس طرح لگایا جائے کہ شطرنج کی بساط کے پہلے خانے پر گیہوں کا ایک دانہ رکھا جائے دوسرے خانے پر دو، تیسرے خانے پر چار اور چوتھے پر آٹھ اور اسی طرح پر اگلے خانے پر دگنے دانے رکھ دئے جائیں یہاں تک کہ تمام 64 خانے پُر ہو جائیں۔ بادشاہ نے بظاہر اس بچکانہ شرط کو مان لیا اور کھیل شروع کر دیا، بدقسمتی سے وزیر بازی جیت گیا۔ بادشاہ کو لگا کہ وزیر کی یہ شرط بہت آسان ہے۔ اس نے ایک دانہ بساط کے پہلے خانے پر رکھا اور دوسرے خانوں پر وزیر کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دانے رکھتا گیا لیکن جب وہ بساط کے آدھے خانوں تک پہنچا تو اسے اندازہ ہوا کہ اگر اس کی سلطنت کی گیہوں کی تمام پیداوار کو ایک جگہ جمع کرے تب بھی وہ بساط کے پورے 64 خانوں کو گیہوں سے پُر نہیں کر سکتا۔ اب قیاس لگائیے کہ ایک ننھا پیرامیسیم ایک فرد سے اپنی نمو شروع کرتا ہے، اور بائینیری فشن کے ذریعے روز وہ اپنی تعداد کو دگنا کرلیتا ہے۔ تو اندازہ لگائیے کہ وہ 64 دنوں میں کتنی بڑی آبادی پیدا کردے گا (اگر غذا اور جگہ لامحدود ہوں)۔
(ii) لاجسٹک نمو (Logistic Growth):        قدرت میں کسی نوع کی آبادی کے پاس ایکسپونینشیل نمو کے لیے لامحدود وسائل نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے افراد کے درمیان، محدود وسائل کے لیے مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ آخر کار، سب سے مناسب فرد زندہ رہے گا اور عملِ تولید کرے گا۔ مختلف ممالک کی حکومتوں نے بھی اس حقیقت کا اندازہ کر لیا ہے کہ اور انسانی آبادی کو محدود کرنے کے لیے مختلف رکاوٹوں کو لاگو کیا ہے۔ قدرت میں، ایک مسکن میں محدود تعداد کی کفالت کے لیے مناسب وسائل ہوتے ہیں۔ اس سے زیادہ تعداد کی کفالت ممکن نہیں ہوتی۔ اس مسکن میں رہنے والی انواع کے لیے ہم اس حد کو قدرت کی ڈھونے کی صلاحیت (K) کہتے ہیں۔
ایک مسکن میں محدود وسائل کے ساتھ نمو پذیر آبادی ابتداء میں لیگ فیز کا اظہار کرتی ہے، اس کے بعد ایکسپونینشیل فیز اور آہستہ روفیز اور آخیر میں اسمپٹوٹ، جب آبادی کی ڈینسٹی مسکن کی ڈھونے کی صلاحیت کو پہنچ جاتی ہے۔ t وقت کے لحاظ سے اگر N کو پلاٹ کریں تو سگموائیڈ خط ملتا ہے۔ آبادی کی نمو کو ورہلسٹ پرل (Verhulst Pearl)لاجسٹک نمو (شکل 13.5) کہتے ہیں اور جو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے:
pic9 chapter 13
جہاں  N= وقت t پر آبادی کی کثافت 
 r= قدتی اضافے کی درونی (Intrinsic) شرح
K= ڈھونے کی صلاحیت
چونکہ اکثر جانوروں کے آبادی کی نمو کے لیے وسائل محدود ہیں لہٰذا جلد ہی آبادی کے لیے محدود کن ہوجاتے ہیں۔ لاجسٹک نمو کا ماڈل حقیقت کی زیادہ قریت مانا جاتا ہے۔
حکومت کی مردم شماری کے اعداد و شمار سے ہندوستان کے پچھلے سو سال کے آبادی کے اعداد حاصل کیجیے، ان کو پلاٹ کیجیے اور معلوم کیجیے کہ نمو کا کون سا نظم و واضح ہورہا ہے۔

13.2.3  دورِ حیات میں تغیر(Life History Variation)
آبادی اپنے مسکن میں اپنی تولیدی صلاحیت جس کو ڈارونین فٹنیس r قدر کی زیادتی بھی کہتے ہیں کو انتہائی درجے تک پہنچانے کے لیے ارتقاء پذیر ہوتی ہیں۔ ایک مخصوص انتخابی دباؤ کے تحت، عضوئے مناسب تولیدی طریقۂ کار کی جانب ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔ کچھ عضویے اپنی دورِ حیات میں صرف ایک باربریڈ کرتے ہیں۔ بحر الکاہل کی سالمن مچھلی، بانس) جبکہ دوسرے جانور اپنی دورِ حیات میں کئی بار اپنی نسل کی افزائش کرتے ہیں (زیادہ تر پرندے اور پستانیے)۔ کچھ بڑی تعداد میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچے پیدا کرتے ہیں (سیپ، پیلاجک مچھلی) جبکہ دوسرے بڑے سائز کے مگر کم تعداد میں اپنے بچے پیدا کرتے ہیں۔ (پرندے اور پستانیے)۔ تو اہلیت یافٹفس کے لیے کیا پسندیدہ ہے؟ ماہرِ ماحولیات کہتے ہیں کہ عضویوں کی صفت، دورِحیات، ان کے مسکن جن میں وہ رہتے ہیں، کے حیاتی اور غیر حیاتی اجزاء کے ذریعے لگائی گئی قیود کے تعلق سے ارتقاء پذیر ہوتی ہے۔ مختلف انواع میں دورِ حیات صفت کا ارتقاء ان دنوں ماہر ماحولیات کے ذریعے کی جانے والی تحقیق کا ایک اہم میدان ہے۔
13.2.4  آبادی میں آپسی اشتراک (Population Interactions)
زمین پر کسی ایسے قدرتی مسکن کے بارے میں کیا آپ سوچ سکتے ہیں جہاں صرف ایک ہی نوع رہتی ہو۔ ایسا کوئی مسکن نہیں ہے اور ایسی حالت بعید از قیاس ہے۔ کسی بھی نوع کو کم از کم ایک اور نوع کی ضرورت ہوتی ہے جس کا وہ شکار کرکے اپنی غذا حاصل کر سکے۔ یہاں تک کہ پودے بھی جو اپنی غذا خود بناتے ہیں اکیلے نہیں رہ سکتے؛ زمین میں موجود نامیاتی مادے کو توڑنے کے لیے انہیں زمینی جراثیم کی ضروت ہوتی ہے اور غیر نامیاتی غذائی اجزاء کے انجذاب کے لیے مہیا کر سکیں اور پھر جانور کی مدد کے بغیر زیرگی کا عمل کیسے پورا ہوگا؟ لہٰذا یہ کہ قدرت میں، جانور پودے اور جراثیم علاحدہ نہیں رہتے اور نہ رہ سکتے ہیں بلکہ وہ بائیولوجیکل کمیونیٹی کو بنانے کے لیے ایک دوسرے سے یاہم کنار ہوتے ہیں۔ چھوٹی کمیونٹی میں بھی کئی اشتراکی رشتے ملتے ہیں حالانکہ وہ ظاہر نہیں ہوتے۔
دو مختلف انواع کی آبادیوں کے اشتراک بین الانواع (Inturpuipi Intration) اشتراک کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ ایک  کے لیے یا دونوں کے لیے مفید، نقصان دہ یا غیر جانبدار (نہ نقصان دہ اور نہ ہی مفید) ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم مفید اشتراک کو '+' کے نشان، نقصان دہ کو '–' اور '0' سے غیر جانبدار کی ظاہر کریں تو آیے دیکھیں کہ بین الانواع اشتراک کے کیا امکانات ہو سکتے ہیں (جدول 13.1)۔
نوع A نوع B آپسی اشتراک کا نام
+ + میوچوالزم (ہمہ مستفید)
- - کامپٹیشن (مقابلہ شکار)
+ - پریڈیشن
+ - طفلیات (پیراسٹِزم)
+ 0 کمنیسلزم یک مستفید
- 0 انسالزم نقصان دہی

جدول 13.1 آبادیوں میں آپسی اشتراک 

pic10 chapter 13
دو انواع کا ایک دوسرے کے ساتھ آپسی اشتراک کے تحت میوچوالزم میں دونوں انواع کو فائدہ ہوتا ہے اور کامپٹیشین میں دونوں کا نقصان۔ پیراسٹزم اور پریڈیشن میں صرف ایک نوع کو فائدہ (پیراسائیٹ اور پریڈیٹر بالترتیب) اور دوسری نوع کو نقصان پہنچتا ہے (بالترتیب مہمان اور شکار)۔ ایسا اشتراک جس میں ایک نوع کو فائدہ پہنچتا ہے اور دوسرے کو نا تو فائدہ ہی ہوتا اور نہ ہی نقصان کمینسلزم کہلاتا ہے۔ امینسلزم میں ایک کو نقصان ہوتا ہے جبکہ دوسرا غیر متاثر رہتا ہے۔ پریڈیشن، پیراسٹزم اور کمینسلزم میں ایک خصوصیت یکساں ہے — اشتراک کرنے والے انواع ایک دوسرے کے بہت قریب رہتی ہیں۔
(i) پریڈیشن (Predation):       اس تمام توانائی کا کیا ہوگا جو آٹوٹرافک عضویوں کے ذریعے جمع کی جاتی ہے ہے اگر کمیونیٹی میں ان پودوں کو کھانے والا کوئی جانور نہ ہو؟ پریڈیشن پودوں کے ذریعے جمع کی ہوئی توانائی کو ایک اعلیٰ ٹرافک سطح پر منتقل کرنے کا قدرتی طریقہ ہے۔ جب ہم شکاری اور شکار کے بارے میں سوچتے ہیں تو عموماً شیر اور ہرن ہمارے ذہن میں آتا ہے، لیکن بیج کھانے والی گوریا بھی کم شکاری نہیں ہے۔ حالانکہ پودے کھانے والے جانور سبزی خور کے زمرے میں آتے ہیں، وسیع ماحولیاتی نظریہ میں وہ شکاری سے بہت مختلف نہیں ہیں۔
ٹرافک سطح کے درمیان توانائی کی منتقلی کے لیے ’نلکے‘ کی طرح کام آنے کے علاوہ شکاری اور بہت سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ شکار کی آبادی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ شکاری کے بغیر شکار انواع کی آبادی کثافت میں بے انتہا اضافہ ہو جائے گا جو ایکوسسٹم کو متزلزل بنادے گی۔ کسی جغرافیائی علاقے میں جب کسی نئی نوع کا داخلہ کیا جاتا ہے، تو وہ حملہ آور (Invasive) ہو جاتی ہیں اور اس علاقے میں بہت تیزی سے پھیلنے لگتی ہیں کیونکہ وہاں ان کا کوئی قدرتی شکاری نہیں ہوتا۔ کانٹے دار پیئر کیکٹس کا جب 1920 کے اوائل میں آسٹریلیا میں تعارف کرایا گیا تو رینج لینڈ کی لاکھوں ہیکٹرز میں تیزی سے پھیل کر تباہی برپاد کردی۔ آخر کار اس حملہ آور کو قابو میں کرنے کے لیے اس کیکٹس کو کھانے والے شکاری (پتنگا) کو اس کے مسکن سے لاکر اس ملک میں چھوڑا گیا۔ فصلوں کے لیے تباہ کن کیڑوں کو قابو میں کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا حیاتیاتی طریقہ شکاری کی شکار کے آبادی کو کنٹرول کرنے اہلیت پر منحصر ہے۔ مقابلہ کرنے والی شکار انواع کے درمیان مقابلے کی شدت کو کم کر کے شکاری، کمیونیٹی میں انواع کے تغیر کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتاہے۔ بحرالکاہل کے امریکی ساحل کی پتھریلی انٹرٹائیڈل کمیونٹیز میں اسٹارفش (Pisaster) ایک اہم شکاری ہے۔ ایک فیلڈ تجربے میں جب ایک محدود اور محفوظ انٹرٹائیڈل علاقے سے سارے سٹارفش ہٹا دئے گئے، تو بین الانواع مقابلے کی وجہ سے دس سے زیادہ انورٹیربیٹس ایک سال کے اندر فنا (Extinct) ہو گئے۔ 
اگر شکاری بہت فعال ہے اور بہت زیادہ شکار کرتا ہے، تو شکار کی آبادی ختم ہو سکتی ہے اور اس کے بعد غذا کی قلت کی وجہ سے شکاری بھی ختم ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت میں شکاری بڑے ہوشیار ہوتے ہیں۔ پریڈیشن کے اثر کو کم کرنے کے لیے شکار انواع بہت سارے تحفظی طریقے اختیا کرتے ہیں۔شکاری کی نگاہ سے بچنے کے لیے کچھ کیڑے اور مینڈھک تبدیل ہیئت اختیار کر لیتے ہیں (Camouflaged)۔ کچھ زہریلے ہوتے ہیں اور شکاری خود ان سے بچتا ہے۔ شکاری پرندوں کے لیے شاہی (Monarch) تتلی بہت بدذائقہ ہوتی ہے کیونکہ اس کے جسم میں مخصوص کیمیاء پائے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تتلی خود اپنے کیٹر پیلر (Caterpillar) کے مرحلے پر زہریلی گھانس کو کھاکر حاصل کرتی ہے۔
پودوں کے لئے، سبزی خور شکاری ہیں۔ تمام کیڑوں میں تقریباً 25 فیصدی کیڑے فائیٹوفیگس (پودوں کے عرق اور دوسرے حصو ںکو غذا بنانا) ہوتے ہیں۔ پودوں کے لیے یہ سب سے بڑی مشکل ہے کہ جانوروں کی طرح اپنے شکاری سے بھاگ نہیں سکتے۔ لہٰذا یہ سبزی خور کے خلاف حیرت انگیز اقسام کے بیرونی اور کیمیائی تحفظی نظام اختیار کر لیتے ہیں۔ کانٹے (ببول، کیکٹس) سب سے زیادہ عام بیرونی تحفظی نظام ہیں۔ بہت سارے پودے ایسے کیمیاء بناتے ہیں اور جمع کر لیتے ہیں جن کو سبزی خور کھاکر بیمار پڑ جاتا ہے۔ کھانا چھوڑ دیتا ہے یا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے، اس کی تولیدی اہلیت پر اثر انداز ہوتا ہے یا کبھی کبھی مر بھی جاتا ہے۔ آپ نے میدانوں میں آگ یا مدار (Calotropis) کاپودا دیکھا ہوگا۔ یہ پودا بہت زہریلا کارڈیک گلائیکوسائیڈز بناتا ہے اور اسی لیے آپ نے کسی گائے یا بکری کو یہ پودا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔ بہت سارے کیمیائی مرکبات جو ہم پودوں سے تجارتی پیمانے پر کشید کرتے ہیں (نیکوٹین، کیفین، کوئنین، سٹرکنین، افیم وغیرہ) دراصل وہ چرند اور پرند کے غلاف تحفظی اقدامات ہیں۔
(ii) مقابلہ (Competition):        جب ڈارون نے قدرت میں بقا کے لیے جدوجہد اور (Survival of the Fittest) کا نظریہ پیش کیا انھیں یقین تھا کہ نامیاتی ارتقاء میں بین الانواع مقابلہ ایک بہت اہم قوت ہے۔ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب قریبی تعلق رکھنے والی انواع یکساں اور محدود وسائل کے لیے سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں تو مقابلہ شروع ہوتا ہے مگر یہ کلی طور پر صحیح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کچھ کم گہرائی والی جنوبی امریکن جھیلوں میں آنے والی فلیمنگوز اور ان میں مقیم مچھلیاں غذا کے ایک ہی وسیلے کے لیے جو جھیل کے زوپلیکٹانز ہیں، مقابلہ کرتے ہیں، دوسرے یہ ضروری نہیں ہے کہ مقابلہ ہونے کے لیے وسائل محدود ہوں مداخلتی مقابلے میں، اگر وسائل (غدا اور جگہ) وافر بھی ہوں تو ایک نوع کی کھانے کی صلاحیت، دوسری مداخلتی اور رکاوٹ ڈالنے والی نوع کی موجودگی میں، کم ہو سکتی ہے۔ لہٰذا مقابلے کی بہترین تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ وہ عمل ہے جس میں ایک نوع کی فِٹ نیس (جو 'r' کے پیمانے میں ناپی جاتی ہے (اندرونی اضافہ کی شرح) دوسری نوع کی موجودگی میں کافی حد تک کم ہوتی ہے۔ لیب کے تجربے میں اس کو آسانی سے سمجھایا جاسکتا ہے، جیسا کہ گائوس اور دوسرے تجربے کرنے والے ماہر ماحولیات نے کرکے دکھایا کہ جب وسائل محدود ہوں تب مقابلے میں طاقت ور نوع دوسری نوع کو آخر کار ختم کردیتی ہے یا مسکن سے نکال دیتی ہے۔ لیکن فطرت میں اس طرح کے مقابلائی اخراج کے ثبوت فیصلہ کن نہیں ہیں۔ کچھ حالات میں پرزور اور منوالینے والے تفصیلی ثبوت نہیں ملتے۔ جب بکریوں کو گالاپیگوس جزیرے میں داخل کیا گیا تو بظاہر ان کی بہتر چرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اینگڈان کچھوے دس سال کے اندر اندر اس جزیرے سے غائب ہو گئے۔ فطرت میں مقابلے کی موجودگی کا مزید ثبوت ملتا ہے جسے مقابلہ جاتی ریلیز‘ کہتے ہیں۔ ایک نوع جس کا پھیلائو، مقابلے میں مضبوط تر نوع کی موجودگی کی وجہ سے ایک چھوٹے جغرافیائی علاقے میں محدود ہوتا ہے، اس وقت اپنے پھیلائو کو بہت سرعت سے بڑھاتی ہے اگر مقابلے والی نوع کو وہاں سے تجرباتی طور سے ہٹادیا جائے۔ کارنیل (Cornell) نے اپنے شاندار تجربے کے ذریعے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ کے پتھریلے ساحلی سمندر پر بڑے اور مقابلے میں بہتر بارنیکل، انٹرٹائیڈل علاقے میں حاوی رہتے ہیں اور چھوٹے بارنیکل کیتھامالس (Cathamalus) کو وہاں سے بھگادیتے ہیں۔ عموماً مقابلے میں گوشت خور کی نسبت سبزی خور اور پودوں پر زیادہ برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
گاؤس کے (Competitive Exclusion) اصول کے مطابق دو قریبی تعلق رکھنے والی انواع جو یکساں وسائل کے لیے مقابلہ کر رہی ہوں ہمیشہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں اور مقابلے میں کمزور نوع آخر کار وہاں سے چلی جاتی ہے۔ اگر وسائل محدود ہوں تو یہ صحیح ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔ جدید تحقیقات مقابلے کے بارے میں اس طرح کی صریح قاعدۂ کلی کی تصدیق نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ فطرت میں بین الانواع مقابلے کی بالکل نفی نہیں کرتے بلکہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ نوع جو مقابلے کا سامنا کر رہی ہے ایسے میکانزم پیدا کرتی ہے جو مل جل کر رہنے کے روئے کو بڑھاوا دیتی ہے نہ کہ (Exclusion) کو۔ ایسا ہی ایک میکانیزم ہے وسائیل کا بٹوارہ (رسورس پارلٹیشنگ)۔ مثلاً اگر دو انواع ایک ہی وسیلے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں، تو وہ غذا حاصل کرنے کے مختلف اوقات کا انتخاب کرکے یا غذا کی حصول یابی کے مختلف طریقے استعمال کرکے اس مقابلے سے گریز کر سکتے ہیں۔ میکارتھرنے دکھایا کہ وار بلر چڑیا کے پانچ قریبی انواع ایک ہی درخت پر رہ کر غذا کی حصول یابی کے مختلف عادتی طریقے استعمال کرکے مقابے سے گریز کرتے ہیں اور مل جل کر رہتے ہیں۔ 
(iii) طفیلیت (Parasitism):        یہ خیال کرتے ہوئے کہ طفیلی طریقۂ حیات، مفت میں رہنے اور کھانے کی ضمانت ہے، یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ طفیلیت پودوں سے لے کر اعلیٰ ورٹیبریٹس کے کئی درجاتی جماعتوں میں اور ارتقاء پذیر ہوئی ہے۔ بہت سے طفیلیے اس طرح میزبان پسند ارتقاء پذیر ہوئے ہیں (یعنی صرف ایک نوع پر طفیلیت کرتے ہیں) کہ مہمان اور میزبان دونوں ایک ساتھ ارتقاء پذیر ہوتے ہیں یعنی اگر مہمان طفیلیے سے گریز کرنے کے لیے خاص میکانزم پیدا کرتا ہے تو طفیلیے کو اس کے ردِعمل میں اور اس کی نفی کرنے کے لیے اور مہمان نوع کے ساتھ کامیابی کے ساتھ رہنے کے لیے بھی مخصوص میکانزم پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ان کی طرزِ حیات کے مطابق، طفیلیے خاص توافقات پیدا کر لیتے ہیں مثلاً حسی عضو کا ختم ہونا، چپکنے والے عضو کی موجودگی یا مہمان سے چپک کر چوسنے کے اعضاء نظا ہاضمہ کا ختم ہونا اور زیادہ تولیدی صلاحیت۔ طفیلیوں کا دورِ حیات عموماً پیچیدہ ہوتا ہے، جس میں پہلے میزبان پر طفیلیت کرنے کے لیے درمیانی ایک یادو مزید میزبانوں یا ویکٹر کی مدد لیتی ہے۔ اپنی دورِ حیات کو مکمل کرنے کے لیے انسانی لیورفلوک (ٹریمٹیوڈ طفیلیہ) کا انحصار دو درمیانی میزبانوں (گھونگا اور مچھلی) پر ہوتا ہے۔ ملیریا کا جراثیم دوسرے مہمان تک پہنچنے کے لیے مچھر (ویکٹر) کی مدد لیتے ہیں۔ طفیلیوں کی اکثریت میزبان کو نقصان پہنچاتی ہے؛ ان کی بقا کو کم کر سکتے ہیں، نمو اور تولید کو کم کر کے ان کی آبادی کی کثافت کو کم کر سکتے ہیں۔ جسمانی طور پر میزبان کو کمزور کرکے پریڈیشن کے لیے ہدف بنا سکتے ہیں۔ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک تمثیلی طفیلیہ اپنے میزبان کو نقصان پہنچائے بغیر اس کے ساتھ رہ سکتا ہے؟ تو پھر فطری انتخاب (Natural Selection) کیوں نہیں ایسے کلّی طور پر بے ضرر طفیلیوں کا ارتقاء کرتا ہے؟
ایسے طفیلیے جو مہمان عضویوں کے بیرونی سطح سے غذا حاصل کرتے ہیں ایکٹوپیراسائٹس کہلاتے ہیں۔ اس جماعت کی عام مثال انسانوں میں جوں اور کتوں میں کھٹمل ہیں۔ کئی سمندری مچھلیاں ایکٹوپیراسٹم کوپی پوڈز سے بھری ہوتی ہیں۔ مربیل یا اکاس بیل (Cuscuta) ، پودے کا ایک طفیلیہ جو عام طور پر باڑھ کے پودوں پر پایا جاتا ہے، دورانِ ارتقاء اس کا کلوروفل اور پتیاں غائب ہو گئیں۔ یہ جس پودے پر طفیلیت کرتا ہے اس سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ مادہ مچھر، حالانک اس کو طفیلیہ نہیں مانا جاتا کو تولید کے لیے انسانی خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیوں؟
ان کے برعکس، درونی طفیلیے (Endoparasites) میزبانوں کے جسم کے اندر مختلف جگہوں میں رہتے ہیں (جگر، گردے، پھپھیڑے، آر بی سی وغیرہ)۔ اپنے حد درجہ کے تخصّص (Specialisation) کی وجہ سے اینڈوپیراسائیٹس کا دورِ حیات زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ ان کے بیرونی اور اندرونی خصوصیات بہت سادہ ہو جاتی ہیں جبکہ ان کی تولیدی اہلیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
پرندوں میں آشیانے کی طفیلیت، طفیلیت کی دلچسپ مثال ہے جس میں طفیلیاتی پرندہ اپنے میزبان کے کو گھونسلے میں انڈے دیتا ہے اور میزبان ان کو سیتا ہے۔ ارتقاء کے دوران، اس اندیشے کے ڈر سے کہ میزبان پرندہ باہری انڈوں کو پہچان کر انھیں گھونسلے سے باہر نہ پھینک دے، طفیلی پرندے نے اپنے انڈوں کا رنگ اور سائز مہمان پرندے کے انڈوں جیسا کرلیا۔ بریڈینگ سیزن (بہار اور گرمی) میں اپنے پڑوس کے پارک میں کوئل اور کووں کی حرکات کا مشاہدہ کیجیے اور بروڈینگ پیراسیٹزم کو عمل میں دیکھیے۔
(iv)  کمینسلزم (Commensalism):   یہ وہ آپسی اشتراک جس میں ایک نوع کو تو فائدہ پہنچتا ہے لیکن دوسری کو نہ نقصان اور نہ ہی فائدہ ہوتا ہے۔ آم کی شاخ پر آرکڈ کا ایپی فائٹ کی طرح نمو ہونا، اور بارنیکل کا وہیل کی پیٹھ پر نمو ہونا جبکہ نہ تو آم کا درخت اور نہ ہی وہیل کو بظاہر کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر آپ زراعت والے دیہاتی علاقے میں رہتے ہیں تو بگلا (ایگریٹ) اور چرنے والی گائے یا بھینس کی قربت آپ کے لیے ایک عام سمجھایا جاسکتا ہے، جیسا کہ گائوس اور دوسرے تجربے کرنے والے ماہر ماحولیات نے کرکے دکھایا کہ جب وسائل محدود ہوں تب مقابلے میں طاقت ور نوع دوسری نوع کو آخر کار ختم کردیتی ہے یا مسکن سے نکال دیتی ہے۔ لیکن فطرت میں اس طرح کے مقابلائی اخراج کے ثبوت فیصلہ کن نہیں ہیں۔ کچھ حالات میں پرزور اور منوالینے والے تفصیلی ثبوت نہیں ملتے۔ جب بکریوں کو گالاپیگوس جزیرے میں داخل کیا گیا تو بظاہر ان کی بہتر چرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اینگڈان کچھوے دس سال کے اندر اندر اس جزیرے سے غائب ہو گئے۔ فطرت میں مقابلے کی موجودگی کا مزید ثبوت ملتا ہے جسے مقابلہ جاتی ریلیز‘ کہتے ہیں۔ ایک نوع جس کا پھیلائو، مقابلے میں مضبوط تر نوع کی موجودگی کی وجہ سے ایک چھوٹے جغرافیائی علاقے میں محدود ہوتا ہے، اس وقت اپنے پھیلائو کو بہت سرعت سے بڑھاتی ہے اگر مقابلے والی نوع کو وہاں سے تجرباتی طور سے ہٹادیا جائے۔ کارنیل (Cornell) نے اپنے شاندار تجربے کے ذریعے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ کے پتھریلے ساحلی سمندر پر بڑے اور مقابلے میں بہتر بارنیکل، انٹرٹائیڈل علاقے میں حاوی رہتے ہیں اور چھوٹے بارنیکل کیتھامالس (Cathamalus) کو وہاں سے بھگادیتے ہیں۔ عموماً مقابلے میں گوشت خور کی نسبت سبزی خور اور پودوں پر زیادہ برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
گاؤس کے (Competitive Exclusion) اصول کے مطابق دو قریبی تعلق رکھنے والی انواع جو یکساں وسائل کے لیے مقابلہ کر رہی ہوں ہمیشہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں اور مقابلے میں کمزور نوع آخر کار وہاں سے چلی جاتی ہے۔ اگر وسائل محدود ہوں تو یہ صحیح ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔ جدید تحقیقات مقابلے کے بارے میں اس طرح کی صریح قاعدۂ کلی کی تصدیق نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ فطرت میں بین الانواع مقابلے کی بالکل نفی نہیں کرتے بلکہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ نوع جو مقابلے کا سامنا کر رہی ہے ایسے میکانزم پیدا کرتی ہے جو مل جل کر رہنے کے روئے کو بڑھاوا دیتی ہے نہ کہ (Exclusion) کو۔ ایسا ہی ایک میکانیزم ہے وسائیل کا بٹوارہ (رسورس پارلٹیشنگ)۔ مثلاً اگر دو انواع ایک ہی وسیلے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں، تو وہ غذا حاصل کرنے کے مختلف اوقات کا انتخاب کرکے یا غذا کی حصول یابی کے مختلف طریقے استعمال کرکے اس مقابلے سے گریز کر سکتے ہیں۔ میکارتھرنے دکھایا کہ وار بلر چڑیا کے پانچ قریبی انواع ایک ہی درخت پر رہ کر غذا کی حصول یابی کے مختلف عادتی طریقے استعمال کرکے مقابے سے گریز کرتے ہیں اور مل جل کر رہتے ہیں۔ 
(iii) طفیلیت (Parasitism):    یہ خیال کرتے ہوئے کہ طفیلی طریقۂ حیات، مفت میں رہنے اور کھانے کی ضمانت ہے، یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ طفیلیت پودوں سے لے کر اعلیٰ ورٹیبریٹس کے کئی درجاتی جماعتوں میں اور ارتقاء پذیر ہوئی ہے۔ بہت سے طفیلیے اس طرح میزبان پسند ارتقاء پذیر ہوئے ہیں (یعنی صرف ایک نوع پر طفیلیت کرتے ہیں) کہ مہمان اور میزبان دونوں ایک ساتھ ارتقاء پذیر ہوتے ہیں یعنی اگر مہمان طفیلیے سے گریز کرنے کے لیے خاص میکانزم پیدا کرتا ہے تو طفیلیے کو اس کے ردِعمل میں اور اس کی نفی کرنے کے لیے اور مہمان نوع کے ساتھ کامیابی کے ساتھ رہنے کے لیے بھی مخصوص میکانزم پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ان کی طرزِ حیات کے مطابق، طفیلیے خاص توافقات پیدا کر لیتے ہیں مثلاً حسی عضو کا ختم ہونا، چپکنے والے عضو کی موجودگی یا مہمان سے چپک کر چوسنے کے اعضاء نظا ہاضمہ کا ختم ہونا اور زیادہ تولیدی صلاحیت۔ طفیلیوں کا دورِ حیات عموماً پیچیدہ ہوتا ہے، جس میں پہلے میزبان پر طفیلیت کرنے کے لیے درمیانی ایک یادو مزید میزبانوں یا ویکٹر کی مدد لیتی ہے۔ اپنی دورِ حیات کو مکمل کرنے کے لیے انسانی لیورفلوک (ٹریمٹیوڈ طفیلیہ) کا انحصار دو درمیانی میزبانوں (گھونگا اور مچھلی) پر ہوتا ہے۔ ملیریا کا جراثیم دوسرے مہمان تک پہنچنے کے لیے مچھر (ویکٹر) کی مدد لیتے ہیں۔ طفیلیوں کی اکثریت میزبان کو نقصان پہنچاتی ہے؛ ان کی بقا کو کم کر سکتے ہیں، نمو اور تولید کو کم کر کے ان کی آبادی کی کثافت کو کم کر سکتے ہیں۔ جسمانی طور پر میزبان کو کمزور کرکے پریڈیشن کے لیے ہدف بنا سکتے ہیں۔ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک تمثیلی طفیلیہ اپنے میزبان کو نقصان پہنچائے بغیر اس کے ساتھ رہ سکتا ہے؟ تو پھر فطری انتخاب (Natural Selection) کیوں نہیں ایسے کلّی طور پر بے ضرر طفیلیوں کا ارتقاء کرتا ہے؟
ایسے طفیلیے جو مہمان عضویوں کے بیرونی سطح سے غذا حاصل کرتے ہیں ایکٹوپیراسائٹس کہلاتے ہیں۔ اس جماعت کی عام مثال انسانوں میں جوں اور کتوں میں کھٹمل ہیں۔ کئی سمندری مچھلیاں ایکٹوپیراسٹم کوپی پوڈز سے بھری ہوتی ہیں۔ مربیل یا اکاس بیل (Cuscuta) ، پودے کا ایک طفیلیہ جو عام طور پر باڑھ کے پودوں پر پایا جاتا ہے، دورانِ ارتقاء اس کا کلوروفل اور پتیاں غائب ہو گئیں۔ یہ جس پودے پر طفیلیت کرتا ہے اس سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ مادہ مچھر، حالانک اس کو طفیلیہ نہیں مانا جاتا کو تولید کے لیے انسانی خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیوں؟
ان کے برعکس، درونی طفیلیے (Endoparasites) میزبانوں کے جسم کے اندر مختلف جگہوں میں رہتے ہیں (جگر، گردے، پھپھیڑے، آر بی سی وغیرہ)۔ اپنے حد درجہ کے تخصّص (Specialisation) کی وجہ سے اینڈوپیراسائیٹس کا دورِ حیات زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ ان کے بیرونی اور اندرونی خصوصیات بہت سادہ ہو جاتی ہیں جبکہ ان کی تولیدی اہلیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
پرندوں میں آشیانے کی طفیلیت، طفیلیت کی دلچسپ مثال ہے جس میں طفیلیاتی پرندہ اپنے میزبان کے کو گھونسلے میں انڈے دیتا ہے اور میزبان ان کو سیتا ہے۔ ارتقاء کے دوران، اس اندیشے کے ڈر سے کہ میزبان پرندہ باہری انڈوں کو پہچان کر انھیں گھونسلے سے باہر نہ پھینک دے، طفیلی پرندے نے اپنے انڈوں کا رنگ اور سائز مہمان پرندے کے انڈوں جیسا کرلیا۔ بریڈینگ سیزن (بہار اور گرمی) میں اپنے پڑوس کے پارک میں کوئل اور کووں کی حرکات کا مشاہدہ کیجیے اور بروڈینگ پیراسیٹزم کو عمل میں دیکھیے۔
(iv)  کمینسلزم (Commensalism):    یہ وہ آپسی اشتراک جس میں ایک نوع کو تو فائدہ پہنچتا ہے لیکن دوسری کو نہ نقصان اور نہ ہی فائدہ ہوتا ہے۔ آم کی شاخ پر آرکڈ کا ایپی فائٹ کی طرح نمو ہونا، اور بارنیکل کا وہیل کی پیٹھ پر نمو ہونا جبکہ نہ تو آم کا درخت اور نہ ہی وہیل کو بظاہر کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر آپ زراعت والے دیہاتی علاقے میں رہتے ہیں تو بگلا (ایگریٹ) اور چرنے والی گائے یا بھینس کی قربت آپ کے لیے ایک عام منظر ہوگا، کمینسلزم کی یہ عمدہ مثال ہے۔ بگلا ہمیشہ اپنی غذا وہیں تلاش کرتا ہے جہاں بھینس یا گائے چرتی ہیں کیونکہ جب وہ چلتی ہیں تو سبزے میں سے کیڑوں کو اڑاتی ہیں یا نکالتی ہیں جن کو ایگریٹ یا بگلے کے لیے اور طرح سے تلاش کرنا اور پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ کمینسلزم کی دوسری مثال سمندری انیمون جس کے لیے زہریلے ٹینٹیکلز ہوتے ہیں اور کلائون مچھلی جو ان کے درمیان رہتی ہے۔ مچھلی کو شکاریوں سے تحفظ ملتا ہے جو      ڈنک مارنے والے ٹیٹیکلز سے دور بھاگتے ہیں۔ کلائون مچھلی کی میزبانی کرنے سے انیمون کو بظاہر کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
pic11 chapter 13
شکل 13.7 انجیر کے درخت اور بڑکے درخت کا باہمی رشتہ : (a) انجیر کے پھول میں بڑکے ذریعے زیرگی ہو رہی ہے؛ (b) بڑا نجیر کے پھل میں انڈے دے رہی ہے۔

(v) میوچوالزم (Mutualism):   یہ آپسی اشتراک، اشتراک کرنے والی دونوں انواع کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ لائیکن، پھپھوند اور ضیائی تالیف کرنے والی الگی یا سائینو بیکٹریا کے درمیان اس گہری میوچوالسٹک رشتے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسی طرح پھپھوند اور اعلیٰ پودوں کی جڑوں میں رشتہ مائیکورائزا میں نظر آتا ہے۔ پھپھوند پودے کو زمین سے ضروری غذا کے انجذاب میں مدد کرتا ہے اور پودا پھپھوند کو توانائی خارج کرنے والے کاربوہائیڈریٹز مہیا کرتا ہے۔
ارتقاء کے لحاظ سے میوچوالزم کی سب سے دلچسپ مثال پودوں اور جانوروں کے رشتے میں ملتی ہے۔ اپنے پھولوں کی زیرگی کے لیے اور بیچ کے انتشار کے لیے جانوروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پودوں کو جانوروں کی خدمات کے لیے انھیں فیس بھی چکانی پڑتی ہے۔ پودے زیرگی کرنے والے کو پالن اور نیکٹر اور بیج کا انتشار کرنے والوں کو رس بھرے اور غذائیت سے بھرپور پھلوں کی شکل میں انعام یا فیس پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس باہمی فائدے مند نظام کو دھوکے بازوں سے بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ جانور جو زیرگی کے عمل میں مدد کئے بغیر نیکٹر چرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پودوں اور جانور کے باہمد گر عموماً میوچوالیسٹس (Mutualists) میں کو-ایولیوشن کا اظہار کیوں ہوتا ہے یعنی پھول اور اس کے زیرگی کرنے والے نوع کے ارتقاء میں ایک دوسرے سے بہت گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ انجیر درخت کی کئی انواع میں اور بڑ (Wasp) کی نوع میں ایک اور ایک کا مضبوط رشتہ ہوتا ہے (شکل 13.7)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انجیر کی ایک نوع صرف اپنے ساتھی بڑ کی نوع سے زیرگی کراسکتی ہے کسی اور نوع سے نہیں۔ مادہ بڑپھل کو نہ صرف انڈے دینے کی جگہ کے طور پر استعمال کرتی ہے بلکہ پھل میں نموپذیر بیج کو اپنے لاروے کی  غذا کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
آرکڈز کے پھول ایک حیران کن تغیر کا اظہار کرتے ہیں جن میں کئی اس شکل میں ارتقاء پذیر ہوئے ہیں جو صرف صحیح زیرگی کرنے والے کیڑوں (شہد کی مکھی اور بمبل بی) کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور زیرگی کی ضمانت کروالیتے ہیں (شکل 13.8)۔ تمام ارکڈز انعام نہیں دیتے۔ میڈیٹرمنین آرکڈ آفرس (Ophrys) شہد کی مکھی کی ایک نوع سے زیرگی کے لیے جنسی فریب اختیار کرتا ہے۔ اس کے پھول کا ایک پٹیل اپنی شکل بدل کر شہد کی مکھی کی مادہ کے سائز، رنگ اور نشانات کی پراسرار مشابہت اختیار کر لیتا ہے۔ شہد کی مکھی کانر اس پھول کو مادہ سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوتاہ ے اور نقلی مباشرت (سوڈوکاپیولیٹ) کرتا ہے اور اس عمل میں اس پر پھول کے پالن کی جھرجاتے ہیں اور جب یہی نر دوسرے پھول سے نقلی مباشرت کرتا ہے تو پہلے والے کے پالن دوسرے پھول پر منتقل کر دیتا ہے اور اس طرح دوسرے پھول کی زیرگی عمل میں آتی ہے۔ دورانِ ارتقاء اگر مادہ مکھی کی رنگت میں ذرا بھی تبدیلی کسی بھی وجہ سے واقع ہو جائے تو زیرگی کی کامیابی میں بھی کمی واقع ہو جائے گی جب تک کہ آرکڈ کا پھول بھی ارتقاء پذیر ہو کر اپنے پیٹل کو مادہ مکھی کے مشابہہ نہ کرے۔
pic12 chapter 13
شکل 13.8 شہد کی مکھی — آرکڈ کے پھول پر زیرگی کرتے ہوئے  

خلاصہ

حیاتیات کی شاخ کی حیثیت سے، ماحولیات، عضویوں کے ماحول کے غیر حیاتی (طبعی - کیمیائی اسباب) اور حیاتی اجزاء (دوسری انواع) کے باہمی رشتے کے مطالعے کو کہتے ہیں۔ اس کا تعلق حیاتی- تنظیم کی چار سطحوں- عضویے، آبادی، کمیونٹی اور بائیوم سے ہے۔
درجۂ حرارت، روشنی، پانی اور مٹی، ماحول کے سب سے اہم طبعی اسباب ہیں جن کی جانب عضویوں میں مختلف طریقوں سے توافق پیدا ہوتا ہے۔ عضویے کے ذریعے اندرونی ماحول (ہومیوسٹیسس) کی دائم برقراری، مناسب اور موزوں کارکردگی میں مدد کرتی ہے، لیکن تبدیل پذیر بیرونی ماحول کے مقابلے میں چند عضویے (ریگولٹیز) ہی ہومیوسٹیسس کی اہلیت رکھتے ہیں۔ دوسرے یا تو نامکمل طور پر اپنے اندرونی ماحول کو کی ضابطگی کرتے ہیں یا محض کانفارم ہو جاتے ہیں۔ کچھ دوسری انواع نے غیر موافق مکانی (Space) حالات سے گریز کرنے کے لیے ہجرت غیر موافق اوقات سے بچنے کے لیے بے حسی، ہائبرنیشن، اور ڈائیاپاز توافقات پیدا کر لیتے ہیں۔
فطری انتخاب کے ذریعے ارتقائی تبدیلیاں آبادی کی سطح پر عمل میں آتی ہیں لہٰذا، آبادی ایکلوجی، ماحولیات کا ایک اہم میدان ہے۔ آبادی کسی نوع کے افراد کا ایسا مجموعہ ہے جو کسی مخصوص جغرافیائی علاقہ میں رہتا ہے اور یکساں وسائل کے حصول کے لیے مقابل رہتا ہے یا ان کا اشتراک کرتا ہے۔ آبادی کی کچھ صفات ہوتی ہیں جو انفرادی طور پر عضویوں میں نہیں پائی جاتیں۔ شرح پیدائش اور شرحِ اموات، جنسی تناسب اور کی غیر یکسانیت (نوفرادس)۔ آبادی میں نر اور مادہ کی مختلف عمر کی جماعت کا تناسب عموماً گراف کی شکل میں عمر کے پیرامڈ کی طرح پیش کیا جاتا ہے: اس کی ساخت آبادی کے سکوت نمو پذیری یا کمی واقع ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
آبادی پر کسی سبب کے ماحولیاتی اثرات کا عموماً اس کے سائز (آبادی کثافت) سے نمایاں ہوتا ہے، جس کو انواع کے مطابق مختلف طریقوں (تعداد،بائیوماس، فی صد غلاف وغیرہ) سے ظاہر کرتے ہیں۔
آبادی میں پیدائش اور درآمدی مہاجرین کی وجہ سے اضافہ اور اموات اور تارک مہاجرین کی وجہ سے کمی واقع ہوتی ہے۔ جب وسائل لامحدود ہوتے ہیں تو نمو عموماً ایکسپونینشیل لیکن جب وسائل بتدریج محدود ہو جاتے ہیں تو ترتیب نمو لاجسٹک ہو جاتی ہے۔ ان دونوں حالات میں نمو آخرکار ماحول کی ڈھونے کی صلاحیت کی بناء پر محدود رہتی ہے۔ آبادی کے نمو کی توریثی اہلیت کا پیمانہ فطری اضافے کی اندرونی شرح 'r' ہے۔
مسکن میں مختلف انواع کی آبادیاں علاحدہ میں نہیں رہتیں بلکہ کئی طریقوں میں اشتراک کرتی ہیں۔ نتائج کے لحاظ سے دو انواع کے درمیان اشتراک کو مقابلے (دونوں انواع کو نقصان)، پریڈیشن و طفیلیت (ایک کو فائدہ اور دوسرے کو نقصان)، کمینسلزم (ایک کو نقصان اور دوسرا غیر متاثر)، امینسلزم )ایک کا نقصان اور دوسرا غیر متاثر) اور میوچوالزم (دونوں انواع کو فائدہ) میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔ پریڈیشن ایک بہت اہم عمل ہے جس سے خوردنی توانائی کے کی منتقلی میں مدد ملتی یہ اور کچھ شکاری اپنے شکار کی آبادی کو قابو میں رکھنے میں مدد بہم پہنچاتے ہیں۔ پودوں نے سبز خوری سے بچنے کے لیے مختلف اشکالی اور کیمیائی تحفظات پیدا کر لیے ہیں۔ مقابلے میں، یہ فرض کر لیاگیا ہے کہ بہتر مقابلہ کرنے والے کم اہلیت والوں کو ختم کر دیتے ہیں (Competitive Exclusion اصول)، لیکن کئی قریبی رشتے والی انواع میں ایسے میکانزمز پائے جاتے ہیں جو مل جل کر رہنے میں مدد کرتے ہیں۔ فطرت میں میوچوالزم کی چند حیران کن مثالیں پودے- اور زیرگی کرنے والوں کے اشتراک میں نظر آتی ہیں۔

مشق

1۔     ڈائیا پاز، ہائیبرنیشن سے کس طرح مختلف ہے؟
اگر سمندری مچھلی ایک میٹھے پانی کے ایکویریم میں رکھ دی جائے تو کیا وہ مچھلی زندہ رہے گی؟
عضویوں کی اکثریت 45°C درجۂ حرارت سے اوپر زندہ نہیں رہ سکتے۔ کچھ مائیکروبس ایسے مساکن میں کیسے رہتے ہیں جہاں درجۂ حرارت 100°C سے بھی زیادہ ہوتا ہے؟
4۔     ایسی خصوصیات کی فہرست بنائیے جو آبادیوں میں پائی جاتی ہیں اور افراد میں نہیں۔
اگر ایک آبادی (Expondentially)نموپذیر ہو کر اپنی تعداد 3 سال میں دوگنی کر لیتی ہے تو، آبادی کے اضافہ کی اندرونی شرح (r)کیا ہوگی؟
6۔    سبز خوری سے بچنے کے لیے پودوں میں اہم تحفظاتی میکانزم کے نام لکھئے۔
7۔    آم کے درخت کی شاخ پر ایک ارکڈپودا اگ رہا ہے۔ آرکڈ اور آم کے درخت کے درمیان اس اشتراک کو آپ کس طرح بیان کریں گے؟
تباہ کن کیڑے (پیسٹس) کے حیاتیاتی کنٹرول کے طریقوں کے پیچھے کون سا ماحولیاتی اصول کار افرما ہوتا ہے؟
مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے:
(i) ہائبرنیشن اور ایسٹی ویشن (خوابیدگی اور بے حسی)
(ii) ایکسوتھرم اور اینڈو تھرم

10۔     مندرجہ ذیل موضوعات پر مختصراً لکھئے۔

(i) ریگستانی پودوں اور جانوروں میں تصرفات 
(ii) پانی کی قلت کی وجہ سے پودوں میں تصرفات 
(iii) جانوروں میں عاداتی تصرفات 
(iv) پودوں کے لیے روشنی کی اہمیت
(v) درجۂ حرارت کا اثر یا پانی کی قلت اور جانوروں میں تصرفات
11۔     مختلف غیر حیاتی ماحولیاتی اسباب کی فہرست بنائیے۔
12۔     مندرجہ ذیل کی ایک مثال دیجئے:
(i) ایک اینڈوتھرمک جانور
(ii) ایک ایکسوتھرمک جانور
(iii) بینتھک علاقہ کا ایک عضویہ
13۔ آبادی اور کمیونیٹی کی تعریف بیان کیجیے۔
14۔    مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تعریف بیان کیجیے اور ہر ایک کی ایک مثال دیجئے:
(i) کمینسلزم
(ii) طفیلیت
(iii) تبدیلیٔ ہیت (Camouflage)
(iv) میوچوالزم
(v) بین الانواع مقابلہ
15۔ موزوں شکل کی مدد سے لاجسٹک آبادی نمو (Logistic Population Growth) خط کو بیان کیجیے۔
16۔ اس بیان کا انتخاب کیجیے جو طفیلیت کو بہترین انداز میں سمجھاتا ہے۔
(i) ایک عضویے کو فائدہ پہنچتا ہے۔
(ii) دونوں عضویوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
(iii) ایک عضوے کو فائدہ پہنچتا ہے دوسرا غیر متاثر رہتا ہے۔
(iv) ایک عضویے کو فائدہ پہنچتا ہے دوسرا متاثر ہوتا ہے۔
17۔ آبادی کی کسی تین اہم خصوصیات کی فہرست بنائیے اور وضاحت کیجیے۔