باب 14
ایکوسسٹم (Ecosystem)
14.1 ایکوسسٹم - ساخت اور کام
14.2 پیداوار
14.3 ڈکمپوزیشن
14.4 توانائی کا بہاؤ
14.5 ایکولاجیکل پیرامڈ
14.6 ایکولاجیکل سکسیشن (Succession)
14.7 غذا کی سائیکلنگ
14.8 ایکوسسٹم خدمات
ایک ایکوسسٹم فطرت کی عملی اکائی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جہاں عضویے آپس میں ایک دوسرے کے علاوہ اپنے اطراف کے طبعی ماحول سے بھی رابطگی رکھتے ہیں۔ ایکٹوسسٹم کا سائز ایک چھوٹے تالاب سے لے کے بڑے جنگل یا سمندر پر محیط ہے۔ بہت سے ماہرِ ماحولیات یہاں تک کہتے ہیں کہ پورا بائیواسفیئر زمین پر مقامی ایکوسسٹم کے مجموعہ کی حیثیت سے ایک گلوبل ایکو سسٹم ہے۔ بیک وقت مطالعے کے لیے یہ نظام بہت بڑا اور پیچیدہ ہے لہٰذا آسانی کے لیے اس کو دوبنیادی زمروں میں تقسیم کردیا جاتا ہے، یعنی زمینی (ٹیرسٹریل) اور آبی (ایکوٹیک) جنگلات، گراس لینڈ اور ریگستان، زمینی یا ٹریسٹریل ایکوسسٹم کی چند مثالیں ہیں، تالاب، جھیل، ویٹ لینڈ، دریا اور دریا کا دہانہ (ایسچوری) ایکٹوٹیک ایکوسسٹم کی چند مثالیں ہیں۔ زراعتی میدان اور ایکیوریم کو بھی آدمی کے خود ساختہ ایکوسسٹم ہیں۔
اِن پُٹ (پیداوار)، توانائی کی منتقلی (فوڈ چین/ ویب، نیوٹرینڈ سائکلنگ) اور آوٹ پٹ (ٹوٹنا اور توانائی کا اخراج) کو سمجھنے کے لیے ہم پہلے ایکوسسٹم کی ساخت پر نظر ڈالیں گے۔ ہم ان روابط پر بھی غور کریں گے۔ ادوار، زنجیر، جال، جو سسٹم کے اندر توانائی کے بہائو کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کے باہمی روابط کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔
14.1 ایکوسسٹم - ساخت اور وظائف
(Ecosystem – Structure and Function)
باب 13 میں آپ نے ماحول کے مختلف غیر حیاتی اور حیاتی اجزا کے بارے میں پڑھا ہے۔ آپ نے پڑھ ا کہ کس طرح انفرادی حیاتی اور غیر حیائی اسباب ایک دوسرے پر اور اپنے اطراف پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اب ذرا ان اجزا کو مزید مکمل طور پر پڑھیں گے اور سیکھیں گے کہ ایکوسسٹم کے ان اجزا میں توانائی کا بہائو کس طرح تکمیل پاتا ہے۔
حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کے باہم ربطگی کے نتیجے میں ایک طبعی ساخت بنتی ہے جو ہر ایک طرح کے ایکوسسٹم کی خصوصیت ہوتی ہے۔ ایک ایکوسسٹم کے پودوں اور جانوروں کی پہچان اور شمار اس کی انواع کے بارے میں بتاتا ہے۔ مختلف سطحوں پر موجود مختلف انواع کا عمودی انتشار سٹیریفیکیشن کہلاتا ہے۔ مثلاً کسی جنگل عمودی تہہ میں درخت سب سے بالائی جگہ پر مانا جاتا ہے، جھاڑیاں (Shrubs)، دوسرے اور بوٹیاں (Hurbs) اور گھاس سب سے نیچے کی تہہ میں آتے ہیں۔
جب ہم مندرجہ ذیل کے پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ایکوسسٹم ایک اکائی کی طرح کام کرتا نظر آتا ہے:
(i) پیداوار (پروڈکٹیویٹی)
(ii) ڈی کمپوزیشن
(iii) توانائی کا بہاؤ
(iv) غذائی دور (Nutrient cycling)
ایک ایکوٹیک ایکوسسٹم کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ہم ایک چھوٹے سے تالاب کی مثال لیتے ہیں۔ یہ کافی حد تک خود کو زندہ رکھنے والی اکائی ہے اور کسی ایکوٹیک ایکوسسٹم میں موجود پیچیدہ باہمی رابطگی کو سمجھانے کے لیے ایک آسان مثال ہے۔ تالاب ایک اتھلے پانی کا گڑھا ہے جس میں ایکو سسٹم کے مندرجہ بالا چاروں اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس کا غیر حیاتی خبر پانی ہے جس میں تمام غیر نامیاتی اور نامیاتی مرکبات محلول ہیں اور تالاب کی تہہ میں غذائیت سے بھرپور مٹی ہے۔ سورج کی کرنیں، درجۂ حرارت کا دور ، دن کی مدت اور دوسرے موسمی حالات پورے تالاب کے عملیات کی شرح کو ضابطگی دیتے ہیں۔ آٹوٹرافک جز میں فائیٹوپلانکٹن چند الگی اور تیرنے والے، ڈوبے ہوئے اور کناروں پر اگنے والے پودے شامل ہیں۔ کنزیومر کی نمائندگی، زوپلانکٹن، تیرنے والے اور پیندے میں رہنے والے جانور کرتے ہیں۔ فنجائی، بیکٹیریا اور فلاجیلا والے عضویے تالاب کی تہہ میں کثرت سے پائے جانے والے ڈکمپوزر ہیں۔ یہ سسٹم کسی بھی ایکوسسٹم کے بلکہ پورے بائیوسفیئر میں عمل پذیر رہتا ہے مثلاً آٹوٹراف کے ذریعے سورج کی شعائی توانائی کی مدد سے غیرنامیاتی کو نامیاتی مادے میں تبدیل کرنا؛ ہیٹروٹرافز کا آٹو ٹرافز کو کھانا؛ مرے ہوئے عضویوں کو توڑ کر ڈیکمپوز کرنا اور اسے آٹو ٹراف کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانا، یہ تمام مراحل بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ اس میں توانائی اعلیٰ ٹرافیک سطح کی جانب یک طرفہ طور پر منتقل ہوتی ہے اور ماحول میں حرارت کی شکل میں منجذب ہوکر پھیلتی ہے۔
14.2 پیداوار (Productivity)
کسی ایکوسسٹم میں شمسی توانائی کی مسلسل آمد اس کے عمل اور بقا کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ضیائی تالیف کے دوران ایک مخصوص مدت میں فی اکائی رقبے میں بائیوماس یانامیاتی مادے کے بننے کو پرائمری پروڈکشن کہتے ہیں۔ اس کا اظہار وزن (g–2) یا توانائی (kcal m–2) کی اصطلاح میں ہوتا ہے۔ بائیوماس کے بننے کی شرح کو پرڈکٹیویٹی کہتے ہیں۔ مختلف ایکوسسٹم کی پروڈیکٹیویٹی کا موازنہ کرنے کے لیے اس کا اظہار g–2 yr–1 یا (kcal m–2) کی اصطلاحات سے کرتے ہیں۔ اس کو گراس پرائمری پروڈکٹیویٹی (GAP) اور نِٹ پرائمری پروڈکٹیویٹی (NPP) میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ضیائی تالیف کے دوران نامیاتی مادے کی پیداوار کی شرح کو ایکوسسٹم کی گراس پرائمری پروڈکٹیویٹی کہتے ہیں۔ عملِ تنفس کے دوران پودے GPP کی کافی مقدار استعمال کرتے ہیں۔ گراس پرائمری پوڈکٹیویٹی میں سے تنفسی نقصان (R) کو گھٹانے سے نِٹ پرائمری پروڈکٹیویٹی (NPP) ہوتی ہے۔
GPP – R = NPP
دوسروں پر انحصار کرنے والے (Heterotrophs) (سبزی خور اور ڈیکمپوزرز) کے استعمال کے لیے دستیاب بائیوماس نِٹ پرائمری پروڈیکٹیویٹی کہلاتا ہے۔ کنزیومرز کے ذریعے بننے والے نئے نامیاتی مادے کی شرح کو سکنڈری پروڈکٹیویٹی کہتے ہیں۔
ایک مخصوص علاقے میں رہنے والے پودوں کی انواع پر پرائمری پروڈکٹیویٹی کا انحصار ہوتا ہے۔ یہ کئی ماحولی اسباب پر بھی منحصر ہوتی ہے مثلاً غذا کی دستیابی اور پودوں کی ضیائی تالیف کی اہلیت اس لیے مختلف ایکوسسٹمز میں یہ مختلف ہوتی ہے۔ پورے بائیو سفیئر کی سالانہ نِٹ پرائمری پروڈکٹیویٹی تقریباً 170 بیلین ٹنز (ڈرائی وزن) نامیای مادہ ہے۔ اس میں سے سطح زمین کا 70 فیصدی حصہ پانی وہنے کے باوجود سمندر کی پروڈکٹیویٹی صرف 55 بلین ٹنز ہے۔ بقیہ سطح زمین پر ہے۔ اپنے استاد کے ساتھ سمندر کی پروڈکٹیویٹی کے کم ہونے کے بارے میں گفتگو کیجیے۔
14.3 ڈیکمپوزیشن (Decomposition)
آپ نے سنا ہوگا کہ کیچوے کو کسان کا دوست کہا جاتا ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ پیچیدہ نامیاتی مادے کو توڑنے میں اور مٹی کو بھرُبھرُا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اسی طرح ڈیکمپوزرز پیچیدہ نامیاتی مادوں کو غیرنامیاتی مادوں جیسے کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی اور غذا میں تبدیل کرتے ہیں، اس عمل کو ڈکمپوزیشن کہتے ہیں۔ بے جان پودوں کے حصے مثلاً پتیاں، چھال، پھول اور مردہ جانوروں کے حصے مع فضلے کے ڈیٹرائٹیس کہلاتے ہیں جو ڈکمپوزیشن کے لیے خام مادہ ہے۔ ٹوٹنا، لیچنگ، کیٹابولزم، ہیومیفیکیشن اور منرالائی زیشن، ڈکمپوزیشن کے اہم مراحل ہیں۔
ڈیٹراسٹ خور (مثلاً کیچوے) ڈیٹرائیٹس کو چھوٹے ذرّوں میں توڑتے ہیں اس عمل کو فریگمینٹیشن کہتے ہیں۔ لیچگ کے ذریعے پانی میں حل ہونے والے غیر نامیاتی تغذیہ مٹی میں چلا جاتا ہے اور یر ناقابل حصول نمکیات کی شکل میں جم جاتا ہے۔ بیکٹیریا اور فنجی کے خامرے ڈیٹرائیٹس کو چھوٹے غیر نامیاتی مادوں میں توڑدیتے ہیں۔ اس عمل کو کیٹابولزم کہتے ہیں۔
یہ بات ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ ڈکمپوزیشن کے مندرجہ بالا تمام مراحل ڈیٹرائیٹس پر بیک وقت عمل کرتے ہیں (شکل 14.1)۔ مٹی میں ڈکمپوزیشن کے دوران ہی ہیومیفیکیشن اور منرالائزیشن ہوتا ہے۔ ہیومیفیکیشن کے دوران گہرے رنگ غیر متشکل مادہ جسے ہیومس کہتے ہیں۔ جمع ہو جاتا ہے اس میں جراثیمی عمل کے غلاف بہت قوتِ مدافعت ہوتی ہے اور اس کا ڈکمپوزیشن بے انتہا سست رفتار ہوتا ہے۔ کولائیڈل ہونے کی وجہ سے یہ غذا کے ذخیرے کی طرح کام کرتا ہے۔ جراثیم کے ذریعے ہیومس مزید لوٹ کر غیر نامیاتی غذا کو خارج کرتا ہے اور اس عمل کو منرالائی زیشن کہتے ہیں۔
Organic Rich Soil
کینچوئے بیکٹریا زمنینی کیڑے اور فنجائی وغیرہ کے در لہجہ میں مزید ڈیکمپریشن
ڈیکمپوز جیسے بیکٹریا اور فنجائی کے ذیرعہ جذوی طور پر کھائی ہوئی پتی بتدریج اپنی ہیئت کھو دیتی ہے اور لٹر بن جاتی ہے
ایک درخت زمین پر اگتا ہے
ایک ہری پتی زمین پر گرتی ہے
کچھ کیڑوں اور دوسرے جانوروں کی خوراک ہو جاتے ہیں۔ غذا اور توانائی خوردنی جال میں داخل ہوتے ہیں۔
کیمیائی عمل کی وجہ سے کچھ تغذئی کی لیچنگ زمین میں ہو جاتی ہے۔
شکل 14.1 ٹیرسٹریل ایکوسسٹم میں ڈکمپوزیشن دور کا تصویری خاکہ
ڈکمپوزیشن کے عمل میں عموماً آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیٹرائیٹس کے کیمیائی اجزا اور موسمی اسباب ڈکمپوزیشن کی شرح کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ایک خاص موسم میں اگر ڈیٹرائیٹس میں لیگنین اور کائٹین زیادہ ہے تو شرح آہستہ ہوگی، اور اس کی رفتار تیز ہوگی اگر ڈیٹرائیٹس میں نائٹروجن اور پانی میں حل والے مادوں مثلاً شکر کی مقدار زیادہ ہوگی۔ درجۂ حرارت اور مٹی کی رطوبت سب سے اہم موسمی اسباب ہیں جو مٹی کے جراثیم کی فعلیات پر اثر انداز ہو کر ڈکمپوزیشن کو ضابطگی ہیں۔ گرم رطوبتی ماحول ڈکمپوزیشن کے لیے فائدے مند ہیں جبکہ کم درجۂ حرارت اور انیروبائیوسس (Aneerobiosis) ڈکمپوزیشن کی مزاحمت کرتے ہیں اور نتیجتاً نامیاتی مادہ جمع ہوتا رہتا ہے۔
14.4 توانائی کا بہاؤ (Energy Flow)
گہرے سمندر میں ہائڈروتھرمل ایکوسسٹم کے علاوہ زمین پر تمام ایکوسسٹمز کا ذریعہ توانائی سورج ہے۔ زمین پہنچنے والی شمسی تاب کاری کا 50 فیصدی سے کم فوٹوسینتھیٹکلی ایکٹوتاب کاری ہوتی ہے (PAR) ہمیں معلوم ہے کہ پودے اور ضیائی تالیف اور کیمیائی تالیف کرنے والے بیکٹیریا (آٹو ٹرانسفر)، سورج کی شعائی توانائی کی تثبیت کرکے آسان غیر نامیاتی مادوں کو غذا میں تبدیل کرتے ہیں۔ پودے PAR کی صرف 2 سے 10 فیصدی کو ہی استعمال کر پاتے ہیں اور توانائی کی یہ چھوٹی مقدار ہی پوری زندہ دنیا کو چلاتی ہے۔
لہٰذا یہ اہم ہے کہ ہم معلوم کریں کہ پودے کے ذریعے حاصل کی گئی شمسی توانائی کسی ایکوسسٹم میں مختلف عضویوں کے درمیان کیسے پہنچتی ہے۔ بالواسطہ یا بلاواسطہ تمام عضویے اپنی غذا کے لیے پروڈیوسرز پر منحصر ہیں۔ لہٰذا آپ دیکھیں گے کہ شمسی توانائی پروڈیوسرز سے ہو کر کنزیومر تک ایک سمت میں بہتی ہے۔ کیا یہ تھرموڈائینمکس کے پہلے اصول کے مطابق ہے؟
مزید برآں، ایکوسسٹم تھرموڈائینمکس کے دوسرے اصول سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اپنی ضرورت کے مطابق سالموں کی تالیف کے لیے انھیں مستقل توانائی کی ضرورت رہتی ہے اور ابتری کی طرف بڑھتے ہوئے عالم گیر رجحان کو روکنے کے لیے بھی توانائی کی ضرورت رہتی ہے۔
ایکوسسٹم کی زبان میں سبز پودے پروڈیوسرز کہلاتے ہیں۔ ٹیریسٹریل ایکوسسٹم میں جڑی بوٹیاں اور چوبی درخت اہم پروڈیوسرز ہیں۔ اسی طرح ایکوٹیک ایکوسسٹم میں، فائیٹوپلانکٹن کی کسی انواع، الگی اور اعلیٰ پودے پرائمری پروڈیوسرز ہیں۔
آپ نے فوڈ چین اور ویب جو فطرت میں پائی جات ہیں، کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔ پودوں سے شروع ہو کر (پروڈیوسرز سے) غذائی زنجیر یا جال اس طرح بنتا ہے کہ جانور پودوں کو کھاتا ہے یا دوسرے جانوروں کو کھاتا ہے اور خود دوسروں کی غذابن جاتا ہے۔ ایک دوسرے پر انحصار ہونے سے یہ سلسلہ یا جال مرتب ہوتا ہے۔ عضویوں میں مقید توانائی ہمیشہ کے لیے ان میں نہیں رہتی۔ پروڈیوسرز کے ذریعے مقید کی گئی توانائی یا تو کنزیومرز کو منتقل کردی جاتی ہے یا وہ مرجاتا ہے۔ عضویے کی موت ڈٹیرایٹسغذائی سلسلے یا جال کا آغاز کرتی ہے۔
تمام جانور اپنی غذا کے لیے (بالواسطہ یا بلاواسطہ) پودوں پر منحصر ہوتے ہیں اس لیے انھیں کنزیومرز یا ہیٹروٹرافس کہا جاتا ہے۔ اگر وہ پروڈیوسرز یعنی پودوں کو کھاتے ہیں تو انھیں پرائمری کنزیومرز اور اگر وہ دوسرے جانوروں کو جو پودے کھاتے ہیں (یا ان کے ماحصل) کو اپنی غذا بناتے ہیں تو انھیں سیکنڈری کنزیومرز کہتے ہیں۔ اسی طرح آپ ٹرشری کنزیومرز کا تصور کر سکتے ہیں۔ واضح ہے کہ پرائمری کنزیومرز سبزی خور ہوں گے۔ ٹیرسٹیرل ایکوسسٹم میں چند عام سبزی خور جانور، کیڑے مکوڑے، پرندے اور پستانیے ہیں اور موسکا وغیرہ ایکوٹیک ایکوسسٹم ہیںکنزیومرز جو ان سبزی خور جانوروں کو اپنی غذا بناتے ہیں گوشت خور یا زیادہ صحیح طور پر پرائمری گوشت خور (حالانکہ یہ سکنڈری کنزیومرز ہوتے ہیں)۔ وہ جانور جو اپنی غذا کے لیے پرائمری گوشت خوروں پر منحصر ہیں انھیں سکنڈری گوشت خور کہتے ہیں۔ نیچے ایک آسان گریزینگ فوڈزنجیر (GFC) دی جارہی ہے:
گھاس (پروڈیوسر)>بکری (پرائمری کنزیومر)>انسان (سیکنڈری کنزیومر)
ڈائیٹریٹس فوڈ۔جیر (DFC) مردار نامیاتی مادے سے شروع ہوتی ہے۔ یہ ڈکمپوزرز جو فنجائی اور بیکٹیریا جیسے ہیٹرو ٹرافک عضویوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ اپنی توانائی اور غذائی ضروریات سڑے ہوئے مردہ نامیاتی مادوں یا ڈیٹرائیٹس سے پوری کرتے ہیں۔ ان کو سیپروفائیٹس بھی کہتے ہیں۔ (سیپرو = سڑنا)۔ ڈکمپوزرز ہاضمے والے خامرے خارج کرتے ہیں جو مردہ اور ضائع مال کو پھوڑ کر آسان، غیر نامیاتی مادں میں تبدیل کرنے سے جو انھیں کے ذریعے جذب کر لیے جاتے ہیں۔
ایکوٹیک ایکوسسٹم میں GFC توانائی کے بہائو کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس ٹیرسیٹریل ایکوسسٹم میں توانائی کا بہت بڑا حصہ GFC کے مقابلے DFC کے ذریعے بنتا ہے۔ DFC کسی سطح پر GFC سے بھی منسلک ہو سکتی ہے: DFC کے کچھ عضویے GFC جانوروں کے شکار بن جاتے ہیں اور ایک فطری ایکوسسٹم میں کچھ جانور مثلاً کاکروچ وغیرہ آمینورس (سب چیزیں کھانے والے) ہوتے ہیں۔ اس طرح کے باہمی انسلاک غذائی جال (فوڈویب) بناتے ہیں۔ آپ انسانوں کو کس زمرے میں رکھیں گے؟
فطری ماحول میں یا کمیونیٹی میں عضویے دوسرے عضویوں سے اپنے غذائی نسبت کے مطابق جگہ بناتے ہیں۔ اپنے غذائی ذرائع کی بناء پر عضویے فوڈچین میں اپنی جگہ کا تعین کرتے ہیں اس کو ٹرافک سطح کہتے ہیں۔ پروڈیوسرز، پہلے ٹرافک سطح سے تعلق رکھتے ہیں، سبزی خور، دوسرے (پرائمری کنزیومرز) اور گوشت خور (کارنیورز، سکنڈری کنزیومرز) تیسری سطح سے تعلق رکھتے ہیں (شکل 14.2)۔
قابل غور بات یہ ہے کہ توانائی کی مقدار ٹرافک سطح کے ساتھ بتدریج گھٹتی رہتی ہے۔ جب کوئی عضویہ مرجاتا ہے تو وہ ڈیٹرائیٹس یا مردہ بائیوماس میں تبدیل ہو کر ڈکمپیوزرز کے لیے توانائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہر ٹرافک سطح کے عضویے توانائی کے لیے اپنے سے نچلے ٹرافک سطح کے جانوروں پر منحصر رہتے ہیں۔
ہر ٹرافک سطح پر ایک خاص وقت میں کچھ زندہ مادہ ہوتا ہے جسے سٹینڈنگ کراپ کہتے ہیں۔ اس کو زندہ عضویوں کے ماس (بائیوماس) یا ایک اکائی رقبے میں تعداد کی طرح ناپا جاتا ہے۔ کسی نوع کے بائیوماس کو تازہ یا خشک وزن سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ بائیوماس کی پیمائش خشک وزن میں زیادہ صحیح ہوتی ہے۔ کیوں؟
گریزینگ فوڈ چین (GFC) میں ٹراپک سطح کی تعداد محدود رہتی ہے کیونکہ توانائی کی منتقلی دس فی صدی کے قانون پر عمل کرتا ہے۔ نچلے ٹرافک سطح سے ہر ٹراپک سطح پر صرف دس فی صدی توانائی منتقل ہوتی ہے۔ فطرت میں کئی سطحوں کا ہونا ممکن ہے۔ جیسے GFC میں پروڈیوسر، سبزی خور، پرائمری کارنیور، سکنڈری کارٹیو (شکل 14.3)۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ڈیٹرائیٹس فوڈ چین میں ایسی کوئی حد ممکن ہے؟
مثالیں
| پروڈیوسر | پہلا ٹرافک سطح (پودے) | فائٹوپلانکٹن |
| پرائمری کنزیومر | دوسرا ٹرافک سطح (سبزی خور) | زوپلانکٹن، ٹڈے اور گائے |
| سیکنڈری کنزیومر | تیسرا ٹرافک سطح (کارنیور) | پرندے، مچھلیاں، بھیڑیا |
| ٹرشری کنزیومر | چوتھا ٹرافک سطح (ٹاپ اعلیٰ گوشت خور) | انسان، شیر |
شکل 14.2 ایکوسسٹم میں ٹرافک سطح کا خاکہ
14.5 ایکولاجیکل پیرامڈس (Ecological Pyramids)
آپ پیرامڈ کی ساخت سے تو ضرور واقف ہوں گے۔ اس کا اساس (Base) چوڑا ہوتا ہے اور اوپر کی جانب پتلا ہوتا جاتا ہے۔ جب آپ مختلف ٹراپک سطحوں کے عضویوںکے درمیان غذا یا توانائی کے رشتے کا اظہار کرینگے تو آپ کو ایسا ہی پیرامڈ ملے گا۔ لہٰذا روابط کا اظہار تعداد، بائیوماس یا توانائی سے کیا جاتا ہے۔ پیرامڈ کا اساس پروڈیوسرز یا پہلے ٹراپک سطح کی اور اوپری چوٹی تیسرے یا ٹاپ سطح کے کنزیومرز کی نمائندگی کرتا ہے۔ تین قسم کے ماحولیاتی پیرامڈز جو عموماً زیر مطالعہ رہتے ہیں وہ (a) تعداد کا پیرامڈ؛ (b)بائیوماس کا پیرامڈ اور (c) توانائی کا پیرامڈ ہیں۔ تفصیل کے لیے (شکل 14.4 a، b اور c دیکھیے)۔
شکل 14.3 مختلف ٹراپک سطحوں کے درمیان توانائی کا بہائو
توانائی، بائیوماس یا تعداد کا حساب لگانے کے لیے اس ٹراپک سطح کے تمام عضویوں کو شامل کرنا ہوگا۔ کسی بھی ٹراپک سطح کے صرف چند افراد کو لے کر اگر کوئی قاعدۂ کلیہ بنائیں گے تو وہ صحیح نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ، کوئی عضویہ بیک وقت ایک سے زیادہ ٹراپک سطح میں پایا جاسکتا ہے۔ یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ٹراپک سطح صرف عملی سطح کی ترجمانی کرتا ہے نوع کی نہیں۔ کوئی نوع ایک ہی ایکوسسٹم میں ایک سے زیادہ ٹراپک سطحوں میں پایا جاسکتا ہے: مثال کے طور پر
شکل 14.4 (a) گراس لینڈ ایکوسسٹم میں تعداد کا پیرامڈ۔ ایکوسسٹم جو ساٹھ لاکھ پودوں پر مشتمل ہے صرف 3 ٹاپ سطحی کارنیورز کو سہارا دے سکتا ہے
شکل 14.4 (b) بائیوماس کا پیرامڈ جس میں اعلیٰ ٹرافک سطحوں پر بائیوماس میں تیزی سے کمی ہوتی ہے۔
شکل 14.4 (c) الٹا بائیوماس کا پیرماڈ - فائیٹوپلانکٹن کا چھوٹی فصل پلانکٹن کی بڑی تعداد کو سہارا دیتی ہے۔
شکل 14.4 (d) توانائی کا ایک تمثیلی پیرامڈ - مشاہدہ کیجیے کہ پرائمری پروڈیوسرز انھیں دستیاب شمسی توانائی کا صرف 1فیصدی توانائیNPP میں تبدیل کرتے ہیں۔
گوریا جب بیج، پھل،مڑکھاتی ہے تو پرائمری کنزیومر ہے اور جب کیڑے مکوڑے (Worms) کھاتی ہے تو سکنڈری کنزیومر مانی جاتی ہے۔ کیا آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ فوڈ چین میں انسان کتنے ٹرافک سطحوں پر کام کرتا ہے؟
زیادہ تر ایکوسسٹم میں، تعداد، توانائی اور بائیوماس کے تمام ہیرامڈز سیدھے ہوتے ہیں یعنی پروڈیوسرز تعداد اور بائیوس ماس میں سبزی خوروں سے زیادہ ہوتے ہیں، اور سبزی خور تعداد اور بائیوماس میں گوشت خوروں سے زیادہ زیادہ تر ایکوسسٹم میں، تعداد، توانائی اور بائیوماس کے تمام ہیرامڈز سیدھے ہوتے ہیں یعنی پروڈیوسرز تعداد اور بائیوس ماس میں سبزی خوروں سے زیادہ ہوتے ہیں، اور سبزی خور تعداد اور بائیوماس میں گوشت خوروں سے زیادہ ہوتے ہیں نچلے ٹرافک سطحوں پر توانائی بھی اعلیٰ سطحوں کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔
اس قاعدۂ کلیہ میں کچھ اعتراضات بھی ہیں: اگر آپ ایک بڑے درخت پر کھانے والے کیڑوں کی تعداد کا شمار کریں تو آپ کو کس طرح کا پیرامڈ ملے گا؟ اب اس میں کیڑوں پر منحصر چھوٹی چڑیوں کو، اور بڑے پرندوں کو جو چھوٹی چڑیوں کو کھاتے ہیں، کی تعداد شامل کردیں۔ اب پیرامڈ بنائیے اور دیکھیے کہ آپ کو کیا شکل ملتی ہے؟
سمندر میں بائیوماس کا پیرامڈ عموماً الٹا ہوتا ہے کیونکہ مچھلیوں کا بائیوماس، فائیٹوپلانکٹن سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ کیا بظاہر مہمل بات نہیں لگتی؟ آپ اس کو کیسے سمجھائیں گے؟
توانائی کا پیرامڈ ہمیشہ سیدھا ہو جاتا ہے، الٹا ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ توانائی جب ایک خاص ٹرافک سطح سے اگلے ٹرافک سطح کی طرف بہتی ہے تو کچھ توانائی ہمیشہ حرارت کی شکل میں ہر مرحلے سے باہر نکل جاتی ہے۔ توانائی کے پیرامڈ میں ہر پٹی ہر ٹرافک سطح میں ایک خاص وقت میں یا فی اکائی رقبے میں سالانہ موجود توانائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ماحولیاتی پیرامڈز میں چند خامیاں بھی ہیں مثلاً ایک ہی نوع دو یا دو سے زیادہ ٹرافک سطحوں پر عمل پیرا ہوتی ہے اور پیرامڈ میں اس کا شمار نہیں کیا جاتا۔ اس کی بنیاد آسان فوڈ چین پر ہے، جو فطرت میں کبھی نہیں پائی جاتی: فوڈ ویب کے لیے بھی اس میں جگہ نہیں ہے۔ مزید براں، سیپروفائیٹس کو بھی ماحولیاتی پیرامڈ میں جگہ نہیں دی جاتی ہے حالانکہ وہ ایکوسسٹم میں وہ بہت اہم کردار نبھاتے ہیں۔
14.6 حیوانیاتی جانشینی (Ecological Succession)
آبادی اور کمیونیٹی کی خصوصیات ماحول کے لیے انکا ردِّعمل پھر کس طرح یہ ردِّعمل ایک انفرادی ردِّعمل سے مختلف ہوتا ہے آپ باب 13 میں پڑھ چکے ہیں۔ اب ذرا وقت کے ساتھ کمیونٹی کے ردِعمل کے ایک اور پہلو پر غور کرتے ہیں۔
تمام کمیونٹیز کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان کے اجزا اور ساخت، بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے ردِعمل میں ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تبدیلی، طبعی ماحول کی تبدیلیوں کے متوازن، سلسلے وار اور منظم ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں آخر میں ایسی کمیونیٹی کی تشکیل کرتے ہیں جو اپنے ماحول کے ساتھ متوازن ہوتی ہے اور اسے کلائمکس کمیونٹی کہتے ہیں۔ کسی علاقے میں انواع کے کمپوزیشن میں پہلے سے اندازہ ہو جانے والی بتدریج تبدیلیوں کو ایکالوجیکل جانشینی (Ecological succession) کہتے ہیں۔ اس تبدیلی کے دوران بعض نوع ایک علاقے پر قابض ہو جاتی ہیں اور ان کی آبادی گھنی ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری انواع کی آبادی میں کسی واقع ہو جاتی ہے اور آخر کار وہاں سے غائب ہو جاتی ہیں۔
کسی علاقے میں کمیونٹیز کی پوری ترتیب میں جو بتدریج تبدیلی واقع ہوتی ہے اسے سِیّر(ز) کہتے ہیں۔ انفرادی تغیر پذیر کمیونٹیز کو سیرل سٹیج یا سیرل کمیونٹی کہتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے سیرل حالتوں میں عضویے کی انواع کی ڈائیورسٹی میں تبدیلیاں آتی ہیں، عضویوں اور انواع کی تعداد میں اضافہ، اور کل بائیوماس میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
دنیا میں آج کل کی کمیونٹیز اس جانشینی(Succession) کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں جو حیات کی ابتداء کے بعد کروڑوں سال میں عمل آئی ہیں۔ دراصل جانشینی اور ارتقاء اس وقت متوازن عمل رہے ہوں گے۔
جانشینی وہ عمل ہے جو کسی علاقے میں وہاں شروع ہوتا ہے جہاں کوئی جاندار نہیں رہتا یہ ایسی جگہیں بھی ہوسکتی ہیں جہاں کبھی بھی کوئی جاندار نہیں رہا ہو، فرض کیجیے ننگی چٹان: یا وہ علاقے جہاں کے تمام عضویے بالکل غائب ہو گئے یا ختم ہو گئے۔ پہلی مثال پرائمری جانشینی، جبکہ دوسری سکنڈری جانشینی کی ہے۔
ان علاقوں کی مثالیں جہاں پرائمری جانشینی واقع ہوتی ہوگی۔ ٹھنڈے لاوا، ننگی چٹان، نئے تعمیر شدہ تالاب یا پانی کے ذخیرے۔ نئی حیاتی کمیونٹی کا قیام عموماً سست رفتار ہوتا ہے۔ مختلف حیاتی کمیونٹی کے قیام سے پہلے یہ ضروری ہے کہ وہاں مٹی موجود ہو۔ اس کے لیے فطری عملیات ذمے دار ہیں جو سیکڑوں سال سے لے کر ہزار ہا سال چٹان پر ذرخیز مٹی بنانے میں لیتے ہیں، ان عملیات کا انحصار عموماً موسم پر ہوتا ہے۔
سیکنڈری جانشینی ایسے علاقوں میں شروع ہوتی ہے جہاں قدرتی حیاتی کمیونٹیز کو تباہ کر دیا گیا ہو مثلاً ویران فارم لینڈ / کھیت، جلائے گئے یا کاٹے گئے جنگلات، علاقے جہاں سیلاب آگیا ہو۔ چونکہ کچھ مٹی یا مٹی کی پرتیں موجود ہوتی ہیں اس لیے یہ وراثت، پرائمری جانشینی سے تیز ہوتی ہے۔
ایکولاجیکل جانشینی کے بیانات عموماً ہرے پودوں میں تبدیلی پر مرکوز ہوتے ہیں۔ تاہم ہرے پودوں میں تبدیلیاں بعد میں مختلف جانوروں کے لیے غذا اور رہنے کی جگہ میں تبدیلیاں لاتے ہیں۔ لہٰذا جیسے جیسے جانشینی ہوتی جاتی ہے، جانوروں کی تعداد اور اقسام میں تبدیلیاں ہوتی جاتی ہیں اور ڈکمپوزرز بھی بدلتے ہیں۔
پرائمری اور سکنڈری جانشینی کے درمیان، قدرتی یا انسانی خلل (آگ، جنگلات کا کاٹنا وغیرہ)، جانشینی کی کسی سیرل مرحلے کو اس سے پہلے کے مرحلے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اس طرح کی دخل اندازی نئے حالات پیدا کرتی ہے جو چند انواع کے لیے مزید بہتر اور دوسروں کے لیے غیر مناسب ثابت ہو سکتی ہے اور وہاں سے ختم بھی ہو سکتی ہے۔
14.6.1 پودوں میں جانشینی (Succession of Plants)
مسکن کی فطرت کی بنیاد پر چاہے وہ پانی ہو (یا دلدلی علاقے) یا یہ کسی بہت خشک علاقے ہوں۔ پودوں کی جانشینی ہائیڈرارک یا زیرارک بالترتیب کہلاتی ہے۔ ہائیڈراک جانشینی نم علاقوں میں ہوتی ہے اور وراثتی سیریز ہائیڈرار سے میزیک (Mesic) کی جانب بڑھتی ہے۔ اس کے برعکس زیراک جانشینی خشک علاقوں میں عمل میں آتی ہے اور سیریز زیریک (خشک) سے میزیک حالات کی جانب بڑھتی ہے۔ لہٰذا ہائیڈرارک اور زیرارک جانشینی دونوں درمیانی آبی حالات (میزیک) میں آتے ہیں۔ نہ بہت خشک (زیرک) اور نہ بہت گیلا (ہائیڈرک) ۔
وہ انواع جو بالکل خالی علاقے میں داخل ہوتی ہیں انھیں اوّلین نوع (Pioneer species) کہتے ہیں۔ چٹانوں پر پرائمری جانشینی میں عموماً یہ لائیکن ہوتے ہیں جو تیزاب خارج کرکے چٹان کی سطح کو گھلادیتے ہیں اور مٹی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ بعد میں یہ دوسرے چھوٹے پودوں جیسے برائیوفائیٹس کے لیے جگہ بناتے ہیں، جو اس تھوڑی سی مٹی میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کی جگہ اونچے پودے لے لیتے ہیں اور کئی اور مراحل کے بعد آخیر کار ایک مستحکم کلائمکس جنگل کمیونیٹی بنتی ہے۔ یہ کلائمکس کمیونیٹی اس وقت تک مستحکم رہتی ہے جب تک کہ ماحول نہیں بدلتا۔ وقت کے ساتھ زیروفیٹک مسکن، میزوفیٹک مسکن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
پانی میں پرائمری جانشینی کے دوران، چھوٹے فائیٹوپلانکٹنز، پیشرو ہوتے ہیں، وقت کے ساتھ ان کی جگہ آزادانہ تیرنے والے انجیوسپرمز لے لیتے ہیں، اس کے بعد جڑوالے ہائیڈروفائیٹس، سیج، گھاس اور آخر کا درخت۔ یہاں پر بھی کلائمکس جنگل ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ پانی کی جگہ زمین میں تبدیل ہو جاتی ہے (شکل 14.5)۔
شکل 14.5 پرائمری جانشینی کا شکلی خاکہ
سیکنڈری جانشینی میں جو انواع داخل ہوتی ہیں وہ مٹی کی حالت، پانی کی دستیابی، ماحول اور بیج اور دوسرے حمالوں پر منحصر ہوتی ہے۔ چونکہ مٹی وہاں پہلے ہی سے موجود ہوتی ہے، تو جانشینی کی شرح بہت تیز ہوتی ہے، کلائمکس بھی بہت جلد حاصل کر لیا جاتا ہے۔
یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جانشینی، اور خاص کر پرائمری جانشینی بہت ہی سست رفتار عمل ہے، جو کلائمکس تک پہنچنے کے کئی ہزار سال تک لے سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ جانشینی چاہے پانی میں یا زمین پر واقع ہو رہی ہو، ترقی کرکے یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جانشینی، اور خاص کر پرائمری جانشینی بہت ہی سست رفتار عمل ہے، جو کلائمکس تک پہنچنے کے کئی ہزار سال تک لے سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ جانشینی چاہے پانی میں یا زمین پر واقع ہو رہی ہو، ترقی کرکے ایک ہی کلائمکس کمیونیٹی تک پہنچتی ہے یعنی میزیک۔
14.7 غذائی دور یا سائیکلنگ(Nutrient Cycling)
آپ نے گیارہویں جماعت میں پڑھا ہے کہ عضویوں کو نمو، تولید اور دیگر جسمانی کاموں کو انجام دینے کے لیے مسلسل غذا کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کاربن، نائٹروجن، فاسفورس کیلشیم وغیرہ، جو کسی بھی وقت مٹی میں موجود ہوتے ہیں اور اس کو کھڑی حالت یا (Standing State) کہتے ہیں۔
اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ایکوسسٹم سے غذا کبھی بھی غائب نہیں ہوتی یہ ہمیشہ بار بار استعمال ہوتی رہتی ہے۔ ایکوسسٹم کی مختلف اجزا میں غذائی عنصر کی حرکت غذائی سائیکلنگ کہلاتی ہے۔ غذائی سائیکلنگ کا دوسرا نام ہے بائیوجیوکیمیکل دور (بائیو : زندہ عضویے؛ جیو؛ چٹان، ہوا، پانی)ہے۔ غذائی دور دو قسم کی ہوتی ہیں (a)گیسی (Gaseous) اور (b) سیڈیمینٹری گیسی غذائی دور کا ذخیرہ (نائٹروجن، کاربن قرن) ہوا میں موجود ہے اور سیڈیمنٹری سائیکل (سلفر اور فاسفورس قرن) کا ذخیرہ زمین کی بالائی سطح میں واقع ہے۔ ماحولی اسباب مثلاً مٹی، رطوبت، pH، درجۂ حرارت وغیرہ ہوا میں غذا کے اخراج کی ضابطگی کرتے ہیں۔ ان ذخائر کا کام ایفلکس اور انفلکس کی شرحوں میں غیر توازنی پیدا ہونے سے جو کمی واقع ہوتی ہے ان کو پورا کرتا ہے۔
آپ نے نائٹروجن دور کا تفصیلی مطالعہ گیارہویں جماعت میں کیا ہے۔ یہاں ہم کاربن اور فاسفورس دور پر بحث کریں گے۔
14.7.1 ایکوسسٹم - کاربن دور (Ecosystem – Carbon Cycle)
جاندار عضویوں کے اجزا کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ عضویوں کا خشک وزن میں 49 فیصدی کاربن ہوتا ہے جو پانی کے بعد سب سے زیادہ جز ہے۔ دنیا میں کاربن کی کل مقدار پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ 71 فیصدی کاربن سمندر میں گھلی ہوئی ہے۔ یہ سمندری ذخیرہ، ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کو ضابطگی کرتا ہے (شکل 14.6)۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہوا میں دنیا کی کل کاربن کا صرف ایک فیصدی حصہ ہوا میں موجود ہے؟
متحجرّہ ایندھن (فاسل فیول) بھی کاربن کے ذخیرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ کاربن دور ہوا، سمندر کے ذریعے اور زندہ اور مردہ عضویوں کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ ایک قیاس کے مطابق سالانہ بائیو سفئیر میں ضیائی تالیف کے ذریعے 4X1013 kg جمودپاتی ہے یا فکس ہوتی ہے۔ پروڈیوسرز اور کنزیومرز میں تنفس کے ذریعے کاربن کی بڑی مقدار CO2 کی شکل میں ہوا میں خارج ہوتی ہے۔ زمین اور سمندر کے ضائع مادے اور مردار نامیاتی مادے پر عمل کرکے ڈکمپوزرز بھی CO2 کے اس ذخیرے میں بہت حد تک اضافہ کرتے ہیں۔ تبثیتی یا جمودیافتہ کاربن کی کچھ مقدار تہہ میں چلی جاتی ہے اور دور سے باہر ہو جاتی ہے۔ لکڑی کا جلنا، جنگل کی آگ، نامیاتی ماد کے جلنے، فاسل فیول، جوالا مکھی چند ایسے اضافی ذرائع ہیں جن سے CO2 ہوا میں خارج ہوتی ہے۔
انسانی حرکات نے کاربن دور کو بہت متاثر کیا ہے۔ جنگلات کا تیزی سے صفایا اور توانائی اور ٹرانسپورٹ کے لیے فاسل فیول کے بڑے پیمانے پر استعمال نے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی اخراج کی شرح میں معنی خیر اضافہ کیا ہے (باب 16 میں گرین ہائوس اثر دیکھیے)۔
شکل 14.6 بائیوسفیئر میں کاربن دور کا آسان ماڈل
14.7.2 ایکوسسٹم فاسفورس دور (Ecosystem – Phosphorus Cycle)
فاسفورس حیاتیاتی جھلّی، نیوکلیک ایسڈز اور خلوی توانائی کے تبادلے کے نظام کا اہم جز ہے۔ بہت سے جانوروں کو شیل (باہری سخت خول)، ہڈیاں اور دانت بنانے کے لیے بھی اس عنصر کی بڑی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ فاسفورس کا قدرتی ذخیرہ چٹانیں ہیں جن میں فاسفورس فاسفیٹس ک شکل میں موجود ہوتی ہے۔ جب چٹانیں گھستی ہیں، ان فاسفیٹس کی حقیر مقدار مٹی میں محلول ہوجاتی ہے اور پودوں کی جڑوں کے ذریعے جذب ہوتی ہے (شکل 14.7)۔ سبزی خور اور دوسرے جانور اس عنصر کو پودوں سے حاصل کرتے ہیں۔ ضائع ماحصل اور مردار عضویے، فاسفیٹ حل کرنے والے بیکٹیریا کے ذریعے ڈکمپوز ہو کر فاسفورس خارج کرتے ہیں۔ کاربن دور کے برعکس تنفس کے ذریعے فاسفورس ہوا میں شامل نہیں ہوتی۔ کیا آپ کاربن اور فاسفورس دور میں فرق کر سکتے ہیں؟
شکل 14.7 ٹیریسٹریل ایکوسسٹم میں فاسفورس دور کا آسان ماڈل
کاربن اور فاسفورس دور میں دیگر دو اہم فرق ہیں جن میں پہلا، فاسفورس کا بارش کے ذریعے ہوا سے داخلہ، کاربن ان پٹ سے بہت کم ہے اور دوسرا عضویوں اور ماحول کے درمیان فاسفورس کا گیسی تبادلہ نہیں کے برابر ہے۔
14.8 ایکوسسٹم خدمات(Ecosystem Services)
مختلف معاشی، ماحولیاتی اور جمالیاتی چیزوں اور خدمات کی بنیاد صحت مند ایکوسسٹم ہے۔ ایکوسسٹم عملیات کے ماحصل کو ایکوسسٹم خدمات کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک صحت مند ایکوسسٹم ہوا اور پانی کو صاف کرتا ہے، قحط اور سیلاب کے اثرات کو کم کرتا ہے، غذا کی سائکلنگ، ذرخیز زمین مہیا کرتا ہے، جنگلی زندگی (Wild life) مسکن دیتا ہے، بائیوڈائیورسٹی کو برقرار رکھتا ہے، فضلوں کی زیرگی کرتا ہے، کاربن کے ذخائر مہیا کرتا ہے اور جمالیاتی، ثقافی اور روحانی اقدار مہیا کرتا ہے۔ حالانکیہ بائیوڈائیورسٹی کی خدمات کی قیمت کا تعین کرنامشکل ہے لیکن یہ بات معقول نظر آتی ہے کہ بائیوڈائیورسٹی کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔
رابرٹ کوسٹینزا (Robert Constanza) اور اس کے ساتھیوں نے حال میں قدرت کی لائف سپورٹ سروسز کی قیمت کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ محققین نے ان بنیادی ایکوسسٹم سروسز کی اوسطاً قیمت 33 ٹریلین یو ایس ڈالر سالانہ متعین کی ہے جن کو عموماً ہم اپنا حق سمجھتے ہیں کیونکہ یہ مفت میں دستیاب ہیں۔ یہ قیمت گلوبل گراس نیشنل پروڈٹ (18 ٹریلین US $) (GNP) کی تقریباً دوگنی ہے۔
مختلف ایکوسسٹم سروسز کی کل قیمت میں سے مٹی کا بننا 50 فیصدی ہے، اور دوسری خدمات جیسے سیر و تفریح اور غذائی دور کا الگ الگ 10 فیصدی سے کم حصہ ہے۔ موسم کاریگولیشن اور وائلڈ لائف کے مسکن کی الگ الگ قیمت تقریباً 6 فیصدی ہے۔
خلاصہ
ایکو سسٹم قدرت کی ایک عملی اکائی ہے اور غیر حیاتی اور حیاتی اجزا پر مشتمل ہے۔ غیر حیاتی اجزا غیر نامیاتی مادے، ہوا، پانی اور مٹی ہیں جبکہ پروڈیوسرز، کنزیومرز اور ڈکمپوزرز حیاتی اجزا ہیں۔ غیر حیاتی اور حیاتی اجزا کے درمیان باہم ربط کے نتیجے میں ہر ایکوسسٹم ایک خاص طبعی ساخت اختیار کر لیتا ہے۔ انواع کی ترتیب اور سطح دار نظام ایکوسسٹم کی دو اہم ساختی خصوصیات ہیں۔ غذا کے ذریعے کی بنیاد پر ایک ایکوسسٹم میں ہر عضویہ اپنی جگہ اختیار کرتا ہے۔
پیداوار، ڈکمپوزیشن، توانائی کا بہاؤ اور غذائی سائکلنگ، ایک ایکوسسٹم کے چار اہم اجزا ہیں شمسی توانائی کو حاصل کرنے کی شرح یا پروڈیوسرز کے ذریعے پیدا کئے گئے بائیو ماس کو پرائمری پروڈکٹیویٹی کہتے ہیں۔ اس کو دو قسموں میں بانٹ سکتے ہیں: گراس پرائمری پروڈکٹیویٹی (GPP) اور نِٹ پرائمری پروڈیکٹیوٹی (NPP)۔ شمسی توانائی کی گرفت (Capture) کرنے کی شرح یا نامیاتی مادے کی کل پیداوار GPP کہلاتی ہے۔ باقی ماندہ بایوماس یا پروڈیوسرز کے ذریعے استعمال کے بعد باقی ماندہ توانائی کو NPP کہتے ہیں۔ کنزیومرز کے ذریعے غذائی توانائی کے حصول کی شرح کو سکنڈری پروڈکٹیویٹی کہتے ہیں۔ ڈکمپوزیشن کے دوران ڈیٹرائیٹس کے پیچیدہ نامیاتی مرکبات کو ڈکمپوزرز کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی اور غیر نامیاتی غذائی اجزا میں تبدیل کردیتے ہیں۔ ڈکمپوزیشن تین عمل پر مشتمل ہے: ڈیڑائیٹس کی توڑ پھوڑ، لیچنگ اور کیٹابولزم۔
توانائی کا بہاؤ یک طرفہ ہوتا ہے۔ پہلے، پودے شمسی توانائی کو پکڑتے ہیں اور بعد میں غذا، پروڈیوسرز سے ڈکمپوزرز تک منتقل ہوتی ہے۔ عضویوں کے غذا اور توانائی کے لیے فطرت میں مختلف ٹرافک سطحیں آسپیس میں جڑی ہوتی ہیں اور ایک غذائی زنجیر بناتے ہیں ایکوسٹٹم کے مختلف اجزا میں تذخیر اور غذائی عناصر کی حرکات کو غذائی سائیکلنگ کہتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے غذا متعدد بار استعمال ہوتی ہے۔ غذائی سائیکلنگ دو طرح کی ہوتی ہے، گیسی اور تلچھٹی، ہوا یا ہائیڈروسفیئر گیسی قسموں کی دور (کاربن) کا ذخیرہ ہے، جبکہ زمین کی بالائی سطح پرت دار قسم (فاسفورس) کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ ایکوسسٹم کے عملیات کے ماحصل کو ایکوسسٹم سروسز کہتے ہیں مثلاً جنگلات کے ذریعے پانی اور ہوا کی کثافت کو صاف کرنا۔
حیاتی کمیونٹی فعال ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں سلسلے وار اور منظم ہوتی ہیں اور ماحولیاتی جانشینی کی تشکیل کرتی ہیں۔ جانشینی کا آغاز ایک برہنہ غیر جاندار علاقے میں اوّلین کے داخلے سے ہوتا ہے اور بعد میں ان کی جگہ ان کے جانشین (اعلیٰ پودے) لے لیتے ہیں اور آخر میں ایک مستحکم کلائمکس کمیونیٹی کاقیام ہوتا ہے۔ یہ کلائمکس کمیونیٹی اس وقت تک مستحکم رہتی ہے جب تک کہ ماحول میں تبدیلیاں نہ ہوں۔
مشق
1۔ خالی جگہوں کو پر کیجیے۔
(i) پودوں کو __________ کہتے ہیں کیونکہ وہ کاربن کی تبثیت کرتے ہیں۔
(ii) ایک ایکوسسٹم جس میں درخت حاوی ہیں، پیرامڈ (تعداد کا) __________ قسم کا ہوتا ہے۔
(iii) ایکوٹیک ایکوسسٹم میں، پروڈکٹیویٹی کے لیے محدود کن سبب __________ ہے۔
(iv) ہمارے ایکوسسٹم میں عام ڈیٹراٹیورس __________ ہیں۔
(v) زمین پر کاربن کا اہم ذخیرہ __________ ہے۔
2۔ مندرجہ ذیل میں سے فوڈ چین میں کس کی آبادی سب سے بڑی ہے؟
(i) پروڈیوسرز
(ii) پرائمری کنزیومرز
(iii) سکنڈری کنزیومرز
(iv) ڈکمپوزرز
3۔ جھیل میں دوسری ٹرافک سطح کون سی ہے؟
(i) فائیٹوپلانکٹن
(ii) زوپلانکٹن
(iii) بیتھوس
(iv) مچھلیاں
4۔ کون سے سکنڈری پروڈیوسرز ہیں؟
(i) سبزی خور
(ii) پروڈیوسرز
(iii) گوشت خور
(iv) کوئی بھی نہیں
5۔ آنے والے شمسی شعاعوں میں ضیائی تالیفی فعال شعاع (PAR) کا کتنا حصّہ ہے؟
(i) فیصدی 1000
(ii) فیصدی 50
(iii) فیصدی 1-5
(iv) فیصدی2-10
6۔ تفریق کیجیے۔
(i) گریزینگ فوڈ چین اور ڈیٹرائیٹس فوڈ چین
(ii) پروڈکشن اور ڈکمپوزیشن
(iii) سیدھا اور الٹا پیرامڈ
(iv) فوڈ چین اور فوڈ جال
(v) لِٹر اور ڈیٹرائیٹس
(vi) پرائمری اور سکنڈری پروڈکٹیوی
7۔ ایک ایکوسسٹم کے اجزا (Components) کو بیان کیجیے۔
8۔ ماحولیاتی پیرامڈز کی تعریف لکھیے اور تعداد اور بائیوماس کے پیرامڈز کی مثالیں دے کر بیان کیجیے۔
9۔ پرائمری پروڈکٹیویٹی کیا ہے؟ ان اسباب کو مختصراً بیان کیجیے جو پرائمری پروڈکٹیویٹی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
10۔ ڈی کمپوزیشن کی تعریف بیان کیجیے اور ڈکمپوزیشن کے عملیات اور ماحصل کو بیان کیجیے۔
11۔ ایکوسسٹم میں توانائی کے بہائو کے بارے میں لکھیے۔
12۔ ایکوسسٹم میں تل چھٹی دور کی اہم خصوصیات لکھیے۔
13۔ ایکوسسٹم میں کاربن دور کے اہم خصوصیات کو بیان کیجیے۔