باب 15
حیاتیاتی تنوع اور اس کا تحفظ
(Biodiversity and Conservation)
15.1 حیاتیاتی تنوع
15.2 حیاتیاتی تنوع کا تحفظ
اگر کسی دور افتادہ کہکشاں سے کوئی اجنبی ہمارے سیّارے، زمین کو دیکھنے کے لیے آئے تو غالباً سب سے پہلی چیز جو اُسے متعجب اور متحیّر کرے گی وہ ہے زندگی کا بے پناہ تنوع جو اسے دکھائی دے گا۔زمین پر موجود عضویوں کی بے شمار اقسام ہمیں بھی حیرت میںڈال سکتی ہیں۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ چیونٹیوں کی 20,000 سے زیادہ انواع، بھونرے کی 3,00,000 انواع، مچھلیوں کی 28,000 اورثعلبیوں(Orchids) کی 20,000 انواع ہیں۔ ماحولیاتی اور ارتقائی ماہرین حیاتیات اہم نکات ڈھونڈ کر ایسے تنوع کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اتنی بہت سی انواع کیوں ہیں؟ کیا زمین کی پوری تاریخ میں زبردست تنوع قائم رہا ہے؟ یہ تنوعات کیسے وجود میں آئے؟ یہ تنوع کرۂ حیات کے لیے کیسے اور کیوں اہم ہے؟ اگر یہ تنوع بہت کم ہوتا تو کیا یہ مختلف انداز سے کام کرتی؟ زندگی کے تنوع سے انسانوں کو کیسے فائدہ ہوتا ہے؟
15.1 حیاتیاتی تنوع (Biodiversity)
ہمارے کرّۂ حیات پر زبردست تنوع نہ صرف نوعی سطح پر بلکہ حیاتیاتی تنظیم کی تمام سطحوں پر موجود ہے جس کا سلسلہ خلیوں کے اندرمیکروسالمات سے بائیومس تک پھیلا ہوا ہے۔ کے ایڈورڈ ولسن نے جو ایک ماہر سماجیات تھے حیاتیاتی تنوع کی اصطلاح حیاتیاتی تنظیم کی تمام سطحوں پر مشترک تنوع کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی تھی۔ ان میں سے اہم ترین تنوع یہ ہیں:
کے ایڈورڈ ولسن نے جو ایک ماہر سماجیات تھے حیاتیاتی تنوع کی اصطلاح حیاتیاتی تنظیم کی تمام سطحوں پر مشترک تنوع کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی تھی۔ ان میں سے اہم ترین تنوع یہ ہیں:
(Genetic Diversity) (i) :
ایک واحد نوع اس پورے علاقے میں جہاں وہ پائی جاتی ہے، جینی سطح پر بہت زیادہ تنوع کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ جینی مفائرتیں جن کا مظاہرہ ہمالیہ کے مختلف حصوں میں اگنے والا طبّی پودا Rauwolfia vomitoria کرتا ہے وہ پودے کی قوت اور اس کے ذریعے پیدا کیے جانے والے فعال کیمکل کیمیا (ری سرپین : Reserpine) کے ارتکاز کے حوالے سے
واضح ہے۔ ہندوستان میں دھان کی 50,000 جینی طور پر دھان کی سے زیادہ نسلیں اور 1,000 سے زیادہ آم کی اقسام ہوتی ہیں۔
(Species Diversity) (ii) :
نوعی سطح پر تنوع۔ مثال کے طور پر مشرقی گھاٹ کے مقابلے مغربی گھاٹ پر موجود ایمفیبئین انواع(Species)ہیں۔
(Ecological Diversity) (iii) :
مثال کے طور پر ماحولیاتی نظام کی سطح پر ہندوستان اپنے ریگستانوں، بارانی جنگلات، چمرنگوں، مرجانی چٹانوں، دلدلی علاقوں، دریائی دہانوں کے علاقوں اور پہاڑی چراگاہوں کی وجہ سے اسکینڈی نیوئن ملک جیسے ناروے سے کہیں زیادہ ایکوسسٹم کا تنوع رکھتا ہے۔
قدرت میں اتنی کثرت سے تنوع کو حاصل کرنے میں ارتقا کے لاکھوں سال لگے ہیں لیکن اگر انواع کے ناپید ہونے کی موجودہ شرح جاری رہی تو ان سب کو کھودینے میں صدیوں سے بھی کم کا عرصہ لگے گا۔ آج بائیوڈائیورسٹی اور اس کا تحفظ اہم ماحولیاتی مسائل ہیں ان کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر لوگوں نے اپنی بقا اور تحفظ کے لیے اس سیارے پرحیاتیاتی تنوع کی شدید اہمیت کے بارے میں محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔
15.1.1 زمین پر کتنی انواع ہیں اور کتنی ہندوستان میں ہیں؟
(How Many Species are there on Earth and How Many in India)
کیونکہ تمام دریافت شدہ اور موسوم انواع کے شائع شدہ رکارڈس موجود ہیں اس لیے ہم جانتے ہیں کہ ابھی تک کل کتنی انواع رکارڈ کی گئی ہیں۔ تاہم اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے کہ زمین پر کل کتنی انواع موجود ہیں۔ انٹر نیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اینڈ نیچرل ریسورسز(IUCN) (2004) کے مطابق پودوں اور جانوروں کی بیان کی گئی انواع کی کل تعداد 1.5 ملین سے کچھ زیادہ ہے لیکن ہم وضاحت سے نہیں کہہ سکتے کہ کتنی انواع اب بھی دریافت اور بیان ہونا باقی ہیں۔ اندازوں میں بہت زیادہ فرق ہے اور ان میں سے زیادہ تر محض قیاسات ہیں۔ بہت سے ماہرین ٹیکنولوجی کے خیال میں گرم سیر علاقوں میں منطقہ حارہ کے مقابلے منطقہ معتدلہ کے ملکوں میں انواعی اندراجات زیادہ مکمل ہیں۔ اس بات کا خیال کرتے ہوئے کہ منطقۂ حارہ میں انواع کا ایک غیر معمولی بڑا حصہ اب بھی دریافت ہونے کا منتظر ہے ماہرین حیاتیات نے منطقہ معتدلہ اور منطقہ حارہ کے کیڑوں کے ایک ایسے گروپ کی نوعی کثرت کا شماریاتی موازنہ کیا جس پر بہت زیادہ تفصیلاتی مطالعات ہو چکے تھے۔ انھوں نے زمین پر موجود کل انواع کا موٹے طور پر اندازہ لگانے کے لیے اس تناسب کا دوسرے جانوروں اور پودوں سے موازنہ کیا۔ ان میں سے کچھ اندازے 20 سے 50 ملین تک ہوسکتے ہیں تاہم ایک بہت محتاط اور سائنسی اعتبار سے مستحکم اندازے کے مطابق جو رابرٹ مے نے لگایا تھا عالمی انواع کا تنوع تقریباً 7 ملین ہے۔
آئیے زمین کے حیاتیاتی تنوع کے بارے میں کچھ دلچسپ پہلوئوں پر نظر ڈالیں جن کا انحصار انواع کے موجودہ دستیاب اندراجات پر ہے۔ رکارڈ کی گئی تمام انواع میں 70 فیصدی سے زیادہ جانور ہیں جبکہ پودے (جن میں ایلگی، فنجائی، برائیوفائیٹس، جمنواسپرمس اور اینجیواسپرمس شامل ہیں) کل کا 22 فیصدی سے زیادہ نہیں بناتے۔ جانوروں میںکیڑے سب سے زیادہ نوعی کثرت رکھنے والے ٹیکسونومک گروپ ہیں جو کل کا 70 فیصدی سے زیادہ بناتے ہیں۔ اوسطاً اس سیّارے پر ہر دس جانوروں میں سے 7 کیڑے ہوتے ہیں۔ ایک بار پھر ہم کیڑوں کے اس بے پناہ تنوع کی کس طرح تشریح کریں گے۔ دنیا میں فنجائی کی انواع کی تعداد مچھلیوں، ایمفیبینس، ریپٹائلس اور پستانیوں کی کل مشترک تعداد سے زیادہ ہے۔ شکل 15.1 میں حیاتیاتی تنوع کو دکھایا گیا ہے جہاں اہم ٹیکسنوں(Taxa) کی انواع کی تعداد دکھائی گئی ہے۔


(Species-Area relationships) (iii) :
شکل 15.1 عالمی حیاتیاتی تنوع دکھاتے ہوئے: پودوں، اِن ورٹی بریٹس اور ورٹی بریٹس کے خاص ٹیکساس کی انواع کی متناسب تعداد
ایک بات نوٹ کی جانی چاہئے کہ ان اندازوں میں پروکیری اوٹس کے لیے کوئی اعداد نہیں دیے گئے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ روایتی ٹیکسونومک طریقے مائیکروبیئل انواع کی شناخت کے لیے موزوں نہیں ہیں اور بہت سی انواع تجربہ گاہ کے حالات میں کلچر کی جانے کی اہل نہیں ہیں۔ اگر ہم اس گروپ کی انواع کو بیان کرنے کے لیے بائیوکیمیکل یا مالیکیولر کسوٹی کو تسلیم کرلیں تو صرف ان ہی کا تنوع لاکھوں تک پہنچ سکتا ہے۔
حالانکہ ہندوستان کے پاس دنیا کے زمینی رقبہ کا صرف 2.4 فیصد ہی ہے عالمی انواع کے تنوع میں اس کا حصہ موثر طور پر 8.1 فیصد ہے۔ یہی بات ہے جو ہمیں دنیا کے 12 میگاڈائیورسٹی والے ممالک میں سے ایک بناتی ہے۔ پودوں کی 45,000 اقسام اور جانوروں کی اس سے دوگنی اقسام ہندوستان سے رکارڈ کی گئی ہیں۔ زندہ انواع کی کتنی ہی تعداد حقیقتاً ابھی دریافت اورتسمیہ یعنی نام دیے جانے کی منتظر ہے؟ اگر ہم مے (May) کے عالمگیر اندازوں کو تسلیم کرلیں تو ابھی تک کل انواع کا صرف 22 فیصدی ہی رکارڈ ہوا ہے۔ ہندوستان کے تنوع کے اعداد پر اس تناسب کا اطلاق کرنے پر ہمارا اندازا ہے کہ یہاں غالباً 1,00,000 پودوں، 3,00,000 سے زیادہ جانوروں کی انواع کا ابھی دریافت ہونا اور ان کا اندراج ہونا باقی ہے۔ کیا ہم کبھی بھی اپنے ملک کی حیاتیاتی دولت کا مکمل اندراج کرنے کے قابل ہوں گے؟ اس کام کو پورا کرنے ے لیے بے پناہ تربیت یافتہ انسانی طاقت (ٹیکسونومِسٹس) اور درکاروقت کا تصور کیجیے۔ صورت حال مزید نا امیدی کی نظر آتی ہے جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ ان انواع کے ایک بہت بڑے حصے کو ان کے دریافت ہونے سے پہلے ہی ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ قدرت کی حیاتیاتی لائبریری، کتابوںکے اندراج سے پہلے ہی جل کر نابود ہوئی جارہی ہے۔
15.1.2 حیاتیاتی تنوع کے انداز (Patterns of Biodiversity)
(Latitudinal Gradients :(i دنیا بھر میں پودوں اور جانوروں کا تنوع یکساں نہیں ہے بلکہ اس میں ایک غیر مساوی تقسیم ہے۔ بہت سے جانوروں اور پودوں کے بہت سے گروپوں میں تنوع کے دلچسپ طرز ہیں جن میں سب سے زیادہ معروف تنوع میں Latitudinal gradient ہے۔ عام طور سے ہم جیسے جیسے خط استوا سے قطبین کی طرف جاتے ہیں نوعی تنوع گھٹتا جاتا ہے۔ چند مستشنات کو چھوڑ کر منطقہ حارہ کے علاقوں23.5ºشمالی عرض البلد سے 23.5º جنوبی عرض البلد تک) میں منطقہ معتدلہ اور قطبین کے علاقوں کے مقابلہ زیادہ انواع پائی جاتی ہیں۔کولمبیا جو خط استوا کے قریب واقع ہے وہاں پرندوں کی تقریباً 1,400 انواع ملتی ہیں جبکہ 41ºN پر واقع نیویارک میں 105 اور 71ºNپر واقع گرین لینڈ میں صرف 56 انواع پائی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں جس کا زیادہ تر علاقہ منطقہ حارہ(Tropical Latitudes) میں آتا ہے پرندوں کی 1,200 سے زیادہ انواع پائی جاتی ہیں۔ ٹروپیکل علاقے جیسے Equador کے ایک جنگل میں امریکہ کے معتدل علاقے Midwest کے اتنے ہی بڑے جنگل میں ویسکولر پودوں کی 10گنی زیادہ انواع پائی جاتی ہیں۔ ساؤتھ امریکہ کے آمیزن بارانی جنگل میں جس کا زیادہ حصہ ٹروپیکل ہے، دنیا بھر میں سب سے زیادہ حیاتیاتی تنوع پایا جاتا ہے۔ یہ 40,000 سے زیادہ پودوں، 3000 مچھلیوں، 1300 پرندوں، 427 پستانیوں، 427 ایمفبینس، 378 ریپٹائلس اور 1,25,000 اِن ورٹی بریٹ انواع کا گھر ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ان بارانی جنگلات میں کم از کم دو ملین کیڑوں کی انواع دریافت ہونے اور نام دیے جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔
ٹروپکس یعنی منطقہ حارہ کے بارے میں ایسا کیا خاص ہے جس کا تعلق اس کے کثیر حیاتیاتی تنوع سے ہے؟ ماہرین ماحولیات اور ارتقانے مختلف مفروضات پیش کیے ہیں؛ ان میں سے کچھ خاص یہ ہیں : (a) عموماً Speciation وقت کا ایک عمل ہے۔ معتدل علاقوں کے برخلاف جہاں ماضی میں اکثر Glaciations کے عمل ہوئے ہیں، منطقہ حارہ کے عرض البلد لاکھوں برس تک مقابلتاً پُرسکون رہے ہیں اور انھیں انواع کے تنوع کے لیے ایک لمبا ارتقائی وقت ملا ہے، (b) ٹیمپیریٹ ماحولوں کے برخلاف ٹروپیکل ماحول کم موسمیاتی، مقابلتاً زیادہ ایک طرح کے اور ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ ایسے مستقل قسم کے ماحول Niche قسم کی خصوصیات کو فروغ دیتے ہیں جس سے نوعی تنوع میں اضافہ ہوتا ہے اور (c) ٹروپکس یعنی منطقہ حارہ میں زیادہ سورج کی توانائی دستیاب ہوتی ہے جس سے پیداوار زیادہ ہوتی ہیں اور بدلے میں اس میں زیادہ تنوع ہو سکتا ہے۔
شکل 15.2 انواع اور - رقبے کا تعلق دکھاتے ہوئے نوٹ کیجیے کہ لوگ پیمانے پر تعلق لینیئر (Linear) ہو جاتا ہے
ایک بڑے جرمن ماہر فطرت اور جیوگرافرالیکزینڈروان ہمبولڈ (Alexander Von Humboldt) نے جنوبی امریکی جنگلات کی ویرانیوں میں کیے گئے اپنے اولین نوعیت کے اور بہت وسیع علاقوں پر محیط سفروں میں ، مشاہدہ کیا کہ ایک علاقے کا مطالعہ جتنابڑھتا ہے اس کی انواع کثرت بڑھتی ہے تاہم صرف ایک حد تک۔ درحقیقت بہت زیادہ اقسام کے ٹیکسا (اینجیواسپرم پودے، پرندے، چمگادڑ، میٹھے پانی کی مچھلیاں) کے لیے نوعی کثرت اور رقبے کے درمیان تعلق ایک Rectangular hyperbola بناتا ہے (شکل 15.2)۔ ایک لوگیرِتھمک پیمانے پر، یہ تعلق حسب ذیل مساوات کے ذریعے بیان کی گئی ایک سیدھی لائن ہوتا ہے۔
log C + Z log A log S =
جہاں
رقبہ =A نوعی کثرت = S
ریگریشن کوایفی شیئنٹ Z= (=Regression coefficient)
C=Y-intercept
ماہرین ماحولیات نے دریافت کیا ہے کہ Z کی ویلیو 0.1 سے 0.2 تک رہتی ہے جس میں اس بات کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا کہ ٹیکسونومک گروپ کون سا ہے اور علاقہ کون سا(آیا یہ کہ پودے برطانیہ میں ہیں، پرندے کیلیفورنیا یا نیویارک اسٹیٹ میں مولسکی، ریگریشن لائن کے سلوپس (Slopes) حیران کن طور پر ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اگر آپ پورے بر اعظموں جیسے بہت بڑے رقبوں کے درمیان نوعی رقبے کے تعلق کا تجزیہ کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ لائین کا سلوپ بہت زیادہ کھڑا (Steeper)ہو جاتا ہے (Z کی ویلیوز 0.6 سے 1.2 تک ہوتی ہے)۔ مثال کے طور پر مختلف براعظموں کے ٹروپیکل جنگلات میں پھل کھانے والے(Fugivorous) پرندوں اور پستانیوں کے لیے سلوپ 1.15 پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے زیادہ کھڑے ہوئے سلوپس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
نیویارک اسٹیٹ میں مولسکی، ریگریشن لائن کے سلوپس (Slopes) حیران کن طور پر ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اگر آپ پورے بر اعظموں جیسے بہت بڑے رقبوں کے درمیان نوعی رقبے کے تعلق کا تجزیہ کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ لائین کا سلوپ بہت زیادہ کھڑا (Steeper)ہو جاتا ہے (Z کی ویلیوز 0.6 سے 1.2 تک ہوتی ہے)۔ مثال کے طور پر مختلف براعظموں کے ٹروپیکل جنگلات میں پھل کھانے والے(Fugivorous) پرندوں اور پستانیوں کے لیے سلوپ 1.15 پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے زیادہ کھڑے ہوئے سلوپس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
15.1.3 ماحولیاتی نظام کے لیے نوعی تنوع کی اہمیت
(The Importance of Species Diversity to the Ecosystem)
کیا ایک کمیونٹی میں انواع کی تعداد ماحولیاتی نظام کی کارکردگی کے لیے کوئی معنی رکھتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا یقینی جواب دینے سے ماہرین ماحولیات قاصر ہیں۔ کئی عشروں تک ماہرین ماحولیات یہی خیال کرتے تھے کہ عموماً زیادہ انواع والی کمیونٹیز کم انواع والی کمیونٹیز کے مقابلے زیادہ مستحکم ہوتی ہیں۔ ایک حیاتیاتی کمیونٹی کے لیے استحکام حقیقتاً کیا ہے؟ ایک مستحکم کمیونٹی کو اپنی سال بہ سال کی تولید میں زیادہ مغائرت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؛ اُسے گاہے بہ گاہے ہونے والی مزاحمتوں (قدرتی یا انسانوں کے ذریعے) کے تئیں مزاحمتی یا اُبھرنے کی قوت رکھنے والی ہونا چاہئے اور ساتھ ہی بیرونی انواع کے حملوں کے تئیں بھی مزاحمتی ہونا ضروری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ایک کمیونٹی میں یہ خوبیاں نوعی کثرت سے کیسے تعلق رکھتی ہیں لیکن ڈیوڈ تِلمان نے اپنے طویل عرصے کے تجربات سے جس میں انھوں نے آوٹ ڈورپلاٹس (Outdoor plots) کا استعمال کیا تھا، نظریاتی جوابات فراہم کیے۔ تِل مان نے معلوم کیا کہ ان پلاٹس نے جن میں زیادہ انواع تھیں اپنے کل بائیوماس میں سال بہ سال کم مغائرتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس نے اپنے تجربات میں یہ بھی دکھایا کہ بڑھے ہوئے تنوع نے زیادہ پیداوار میں مدد دی۔ حالانکہ ہم پوری طرح یہ نہیں سمجھ سکتے کہ نوعی کثرت ایک حیاتیاتی نظام کی بہتری میں کس طرح مدد کرتی ہے، ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ حیاتیاتی تنوع کی کثرت ایک ماحولیاتی نظام کی صحت کے لیے نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس سیارے پر نسلِ انسانی کی بقا تک کے لیے لازمی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہم ایک مایوس کن رفتار سے انواع کو کھورہے ہیں تو یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر چند انواع ناپید بھی ہو جائیں تو کیا واقعی اس کا کوئی مطلب ہے؟ کیا ویسٹرن گھاٹ کے ماحولیاتی نظام کی کارکردگی کچھ کم ہو جائے گی اگر اس کے ٹری فراگ (Tree frog) کی ایک نوع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے؟ اگر زمین پر 20,000 کے بجائے چیونٹیوں کی صرف 15000 انواع ہوں؟تو ہماری زندگی کی کوالٹی کس طرح متاثر ہوگی؟
ان سادہ سوالات کے براہ راست جوابات نہیں ہیں پھر بھی ہم ایک تمثیل (The rivet popper hypothesis) کے ذریعے ایک مناسب تناظر بناسکتے ہیں جیسے اسٹینڈفورڈ کے ماہر ماحولیات پال ایرسخ (Paul Ehrilich) نے استعمال کیا تھا۔ ایک ہوائی جہاز (ماحولیاتی نظام) کے تمام حصوں کو ہزاروں رِپٹ (انواع) کی مدد سے ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اگر اس میں سفر کرنے والا ہر مسافر ایک رِپٹ نکال کر گھر لے جانا شروع کرے (انواع کے معدوم ہونے کا سبب بنے) تو ضروری نہیں کہ ابتداً اڑان کی حفاظت متاثر ہو (یعنی ماحولیاتی نظام کی کارکردگی) لیکن جیسے جیسے مزید رپٹ نکالے جاتے ہیں تو ہوائی جہاز ایک مدت گزرنے پر خطرناک حد تک کمزور ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات بھی اہم ہو سکتی ہے کہ کون سا رپٹ نکالا گیا ہے۔ پنکھوں پر رِپٹ کا ضائع ہونا بمقابلہ سیٹوں پر یا جہاز کے اندر کھڑکیوں کے چند رِپٹ کے ضائع ہونے سے اڑان کی حفاظت کے لیے شدید خطرے کا باعث ہیں۔
15.1.4 حیاتیاتی تنوع کا نقصان (Loss of Biodiversity)
اگرچہ اس بات میں شبہ ہے کہ زمین کے نوعی خزانے میں اگر کچھ انواع کا (Speciation کے ذریعے) اضافہ ہوا ہے لیکن اُن کے لگاتار ضائع ہوتے رہنے کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ہمارے سیارے کی حیاتیاتی دولت تیزی سے روبہ زوال ہے اور الزام دینے والی انگلیاں واضح طور پر انسانی سرگرمیوں پر اٹھ رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسانوں کے ذریعے ٹروپیکل پیسیفک جزائر کی آبادکاری نے مقامی پرندوں کی 2,000 انواع کو ناپید کر دیا ہے۔ IUCN کی ریڈلسٹ (2004) میں پچھلے 500 برسوں کے دوران 784 انواع (بشمول 338 ورٹی بریٹس، 359 اِن ورٹی بریٹس اور 87 پودے) کے ناپید ہونے کا اندراج ہے۔ کچھ حالیہ ناپید ہونے والی مثالوں میں ڈوڈو (Dodo) (موریشیئس)، گوآگا (Guagga) (افریقہ)، تھائلیسین (Thylacine) (آسٹریلیا)، اسٹیلرس سی کائو (Steller's Sea Cow) (روس) اور شیروں کی تین ذیلی انواع (بالی، جوان، کیسپیئن) شامل ہیں۔ صرف گذشتہ بیس سالوں نے 27انواع کو ناپید ہوتے دیکھا ہے۔ ان کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکساکا ناپید ہونا بے ترتیب نہیں ہے؛ بظاہر بعض ایمفیبیئن کو معدومیت کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ معدومیت کے تشویشناک منظر نامے میں یہ حقیقت ہے کہ عالمی پیمانے پر 15,500 انواع کو ناپید ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔ حالیہ طور پر دنیا میں پرندوں کی 12 فیصدی انواع، تمام پستانیوں کی 23 فیصدی انواع تمام ایمفیبئینس کی 32 فیصدی انواع اور تمام جمنواسپرمس کی 31 فیصدی انواع کو ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
رُکازی Fossil رکارڈس کے ذریعے زمین پر زندگی کی تاریخ کے ایک مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ بڑے پیمانے پر انواع کا ضائع ہونا انسانوں کے زمین پر ابتدا سے بھی پہلے سے واقع ہوتا رہا ہے۔ ایک لمبی مدت کے دوران (< تین بلین سال) جب اس زمین پر زندگی کی ابتدا اور تنوع ہوا یہاں بہت بڑے پیمانے پر انواع کے ناپید ہونے کے پانچ واقعات ہوئے۔ ’چھٹی معدومیت‘ جو حالیہ برسوں میں جاری ہے کس طرح گذشتہ واقعات سے مختلف ہے؟ فرق شرحوں میں ہے؛ اندازاً انواع کی موجودہ شرح معدومیت اولین انسانی زمانوں کے مقابلے 100 سے 1000 گنا زیادہ تیز ہے اور ان تیز شرحوں کے لیے ہماری اپنی سرگرمیاں ذمہ دار ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا رُکازی Fossil رکارڈس کے ذریعے زمین پر زندگی کی تاریخ کے ایک مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ بڑے پیمانے پر انواع کا ضائع ہونا انسانوں کے زمین پر ابتدا سے بھی پہلے سے واقع ہوتا رہا ہے۔ ایک لمبی مدت کے دوران (< تین بلین سال) جب اس زمین پر زندگی کی ابتدا اور تنوع ہوا یہاں بہت بڑے پیمانے پر انواع کے ناپید ہونے کے پانچ واقعات ہوئے۔ ’چھٹی معدومیت‘ جو حالیہ برسوں میں جاری ہے کس طرح گذشتہ واقعات سے مختلف ہے؟ فرق شرحوں میں ہے؛ اندازاً انواع کی موجودہ شرح معدومیت اولین انسانی زمانوں کے مقابلے 100 سے 1000 گنا زیادہ تیز ہے اور ان تیز شرحوں کے لیے ہماری اپنی سرگرمیاں ذمہ دار ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو اگلے 100 برسوں میں زمین پر موجودہ تمام انواع کی تقریباً آدھی آبادی ختم ہو سکتی ہے۔
عام طور پر ایک علاقے میں حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے (a) پودوں کی پیداوار میں کمی، (b) ماحولیاتی خرابیاں جیسے خشک سالی کے تئیں گھٹتی مزاحمت، (c) ماحولیاتی نظام کے بعض اعمال جیسے پودوں کی پیداوار، پانی کے استعمال اور گھن اور بیماریوں کے ادوار میں بڑھے ہوئے تغیرات واقع ہو سکتے ہیں۔
حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے اسباب: انواعی معدومیت کی بڑھی ہوئی شرحیں زیادہ تر انسانی سرگرمیو ںکی وجہ سے ہیں۔ اس کے چار اہم اسباب ہیں (Evil Quartet انھیں بیان کرنے کے لیے استعمال کرنے والا فرضی نام ہے)۔
(i) مسکن کا نقصان اور اس کی توڑ پھوڑ (Habitat Loss and Fragmentation) : جانوروں اور پودوں کو ناپید کرنے والا یہ سب سے اہم سبب ہے۔ محل وقوع کے ضائع ہونے کی سب سے ڈرامائی مثال منطقہ حارہ کے(ٹروپیکل) بارانی جنگلات سے آتی ہے۔ ایک زمانے میں زمین کی خشک سطح کے 14 فیصدی سے زیادہ حصے کو ڈھکنے والے یہ بارانی جنگلات اب 6 فیصدی سے زیادہ حصے کو نہیں ڈھکتے۔ وہ بہت تیزی سے روبہ زوال ہیں۔ جب تک آپ اس باب کا مطالعہ کریں گے تب تک 1000 ہیکٹر مزید بارانی جنگلات تباہ ہو جائیں گے۔ اموزون بارانی جنگل (یہ اس قدر بڑا ہے کہ اسے سیارے کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے) جس میں غالباً لاکھوں انواع رہتی ہیں کاٹ کر سویا بین کی کاشت کے لیے صاف کیا جارہا ہے یا گھاس کے میدان کے بجائے گوشت کے لیے مویشیوں کی افزائش کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ کل نقصان کے علاوہ کثافت کی وجہ سے بہت سے مسکنوں کی تنزلی نے بہت سی انواع کی بقاء کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جب مختلف انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بڑے مسکن چھوٹے حصوں میں منقسم ہو گئے ہیں تو وہ پستانئے اور پرندے جنھیں بڑے علاقے درکار ہوتے ہیں اور بعض وہ جانور جنہیں ہجرت کرنے کی عادتیں ہیں، بُری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان کی آبادی گھٹی ہیں۔
(ii) ناجائز استعمال (Over-exploitation) : انسانوں نے اپنی غذا اور حفاظت کے لیے ہمیشہ قدرت پر انحصار کیا ہے۔ لیکن جب ضروریات لالچ میں تبدیل ہوئی ہیں تو اس سے قدرتی وسائل کا ضرورت سے زیادہ استحصال ہوا ہے۔ گذشتہ 500 سالوں میں بہت سی انواع کے ناپید ہونے کی وجہ انسانوں کے ذریعے استحصال تھا (اسٹیلرس سی کائو، پیسینجر پجن)۔ حال میں دنیا بھر میں بہت سی سمندری مچھلیوں کی آبادیوں کو ضرورت سے زیادہ نکالا گیا ہے جس سے بعض کمرشل اہمیت کی مچھلیوں کا وجود خطرے میں آگیا ہے۔
(iii) بیرونی انواع کے حملے (Alien Species Invasions): کسی ایکوسسٹم میں جب انجانے یا دانستہ طور پر کوئی باہری انواع داخل کردی جاتی ہیں تو ان میں کچھ حملہ آور ہو تی ہیں اور بعض مقامی انواع کو کم کرنے یاناپید کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ مشرقی افریقہ میں وکٹوریا جھیل کے اندر نیل پرچ (Nile Perch) کو داخل کرنے کا بالآخر نتیجہ جھیل میں cichlid مچھلیوں کی 200 سے زائد انواع پر مشتمل ایک ماحولیاتی طور پر منفرد مجموعہ کے ناپید ہونے میں نکلا۔ آپ یقینا حملہ آور جنگلی جھاڑیوں جیسے کیرٹ گراس (پارتھینیئم)، Lantana اور واٹر ہائی سینتھ (Eicchornia) سے پیدا ماحولیاتی تباہی اور لاحق خطرے سے واقف ہوں گے جو اُن کے ذریعے ہماری مقامی انواع کو لاحق ہے۔ حال ہی میں افریقن کیٹ فِش Clarias Gariepinus جسے Aquaculture کے مقصد سے غیر قانونی طور پر داخل کیا گیا تھا وہ ہمارے دریائوں میں مقامی کیٹ فِشیز کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
(iv) ہم ناپیدی (Co-extincitions): جب کوئی نوع ناپید ہوتی ہے تو ناگزیر طور پر اس سے وابستہ دیگر پودوں یا جانوروں کی انواع بھی ناپید ہو جاتی ہیں۔ جب ایک میزبان مچھلی کی نوع ناپید ہوتی ہے تو ان جڑے طفیلیوں کے مجموعہ کا بھی وہی انجام ہوتا ہے۔ دوسری مثال ایک ساتھ ارتقا پانے والے پودے۔ (Plant-pollinator Mutualism) کی ہے جہاں ایک کی معدومیت ہمیشہ ہی دوسرے کے ناپید ہونے کا بھی سبب ہوتی ہے۔
15.2 حیاتیاتی تنوع کا تحفظ (Biodiversity Conservation)
15.2.1 ہمیں حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کیوں کرنا چاہیے؟
(?Why Should We Conserve Biodiversity)
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے Narrowly utilitarian دلائل واضح ہیں۔ انسان قدرتی غذائوں (اناج، دالیں، پھل)، ایندھن، ریشوں، تعمیری اشیاء، صنعتی چیزوں (رنگنے والی چیزیں، چکناہٹ والی اشیاء، رنگ گوند، عطریات) اور طبی اہمیت کی چیزوں کی شکل میں بے شمار صنعتی فوائد براہ راست حاصل کرتا ہے۔ عالمی پیمانے پر بازار میں بیچی جانے والی 25 فیصدی سے زیادہ حالیہ دوائیں پودوں سے حاصل کی جاتی ہیں اور 25000 پودوں کی انواع دنیا بھر میں روایتی دوائوں کے طور پر مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا طبی طور پر مفید کتنے مزید مفید پودے ٹروپیکل بارانی جنگلات میں دریافت ہونے کے منتظر ہیں۔ 'Bioprospecting' یعنی ’مستقبل کی حیاتیاتی توقعات‘ سے وابستہ بڑھتے وسائل کے ساتھ وہ قومیں جن کے پاس بکثرت حیاتیاتی تنوع موجود ہے، بے شمار فوائد حاصل کرنے کی توقع کر سکتی ہیں۔
Broadly Utilitarian
دلیل یہ ہے کہ حیاتیاتی تنوع قدرت کی فراہم کردہ بہت سی ایکوسسٹم کی خدمات میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ تیزی سے زوال پذیر ہوتا ہوا آموزون جنگل فوٹوسِن تھیسِس کے ذریعے زمینی فضا کی کل آکسیجن کا اندازاً 20 فیصدی پیدا کرتا ہے۔کیا ہم قدرت کے ذریعے دی گئی اس خدمت کی اقتصادی اہمیت کا تخمینہ لگا سکتے ہیں؟ یہ معلوم کرکے کہ آپ کے پڑوس کا اسپتال آکسیجن کے ایک سلینڈر پر کیا خرچ کرتا ہے، آپ کچھ انداز کرسکتے ہیں۔ زیرگی(Pollination) ایک دوسری خدمت ہے (جس کے بغیر پودے ہمیں پھل اور بیج نہیں دے سکتے) جو پولینیٹرس شہد کی مکھیوں، بمبل بینر، پرندوں اور چمگادڑوں کے ذریعے ایکوسسٹمس فراہم کرتے ہیں۔ بغیر قدرتی پولینیٹرس کے زیرگی حاصل کرنے کی کیا قیمت ہوگی؟ اور بھی بہت سے ناقابل بیان فوائد ہیں جو ہم قدرت سے حاصل کرتے ہیں۔ گھنے جنگلات سے گزرتے ہوئے موسم بہار میں کھلے ہوئے پھولوں کو دیکھ کر یا صبح سویرے ایک بلبل کا گانا سن کر اٹھنا جمالیاتی احساسات کی خوشی اور انبساط ہے۔ کیا ہم ایسی چیزوں پر قیمت کا لیبل لگاسکتے ہیں؟
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے Ethical دلیل کا تعلق اس سے ہے جس کے لیے ہم لاکھوں پودوں، جانوروں اور خوردبینی انواع کے رہین منّت ہیں جن کے ساتھ ہم اس سیارے پر اشتراک کرتے ہیں۔ فلسفیانہ طور یا روحانی طور پر ہمیں احساس ہونا چاہئے ہر نوع کی اپنی ایک پوشیدہ قدروقیمت ہے چاہے وہ ہمارے لیے حالیہ یا معاشی نوعیت کی نہ بھی ہو۔ یہ ہمارا اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم ان کی بہتری کا خیال رکھیں اور اپنے حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کیسے کریں؟
15.2.2 ہم حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کیسے کریں؟
(?How do we conserve Biodiversity)
جب ہم کسی ایکوسسٹم کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کرتے ہیں تو اس کے حیاتیاتی تنوع کی حفاظت تمام سطحوں پر ہو جاتی ہے۔ ہم پورے جنگل کو محفوظ کرکے شیر کی حفاظت کرتے ہیں۔ برمحل اس طریقۂ کار کو in situ بر محل تحفظ کہتے ہیں۔ البتہ جب حالات ایسے ہوں جہاں ایک جانور یا پودا خطرے میں ہو یا خطرہ لاحق ہویا مستقبل قریب میں عضویوں کے معدوم ہو جانے کا بڑا خطرہ ہو اور ان کو ناپید ہونے سے بچانے کے لیے فوری اقدام کرنا ضروری ہوں تو exsitu مطلوبہ طریقہ کار ہوگا۔
خارج از مقام(In Situ Conservation) : بہت سے ملکوں کو ترقی اور تحفظ کے درمیان تنازعہ درپیش ہوتا ہے وہ اپنی تمام حیاتیاتی دولت کے تحفظ کو غیر حقیقی اور معاشی اعتبار سے لائق عمل نہیں خیال کرتے۔ اکثر و بیشتر صورتوں میں ان انواع کی تعداد جو تحفظ حاصل کرنے کی منتظر ہوتی ہیں، دستیاب تحفظی وسائل سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ عالمی پیمانے پر اس مسئلے کا ماہرین تحفظ نے سامنا کیا ہے۔ انھوں نے سب سے زیادہ تحفظ دیے جانے کے لیے بعض حیاتیاتی تنوع کے ہاٹ اسپاٹس (Hotspots) کو شناخت کیا جن میں نوعی کثرت اور Endemism کی سطح بہت زیادہ تھی (یعنی وہ انواع جو اسی علاقے تک محدود تھیں اور دوسری جگہوں پر نہیں پائی جاتی تھیں)۔ ابتداً 25 حیاتیاتی تنوع کے ہاٹ اسپاٹس شناخت کیے گئے لیکن بعد میں فہرست میں 9 مزید کا اضافہ کیا گیا جس سے دنیا میں موجود حیاتیاتی تنوع کے ہاٹ اسپاٹس کی کل تعداد 34 ہو گئی۔ یہ ہاٹ اپساٹس وہ علاقے بھی ہیں جہاں محل وقوع کی تباہی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ان میں سے تین ہاٹ اسپاٹس : مغربی گھاٹ اور سری لنکا، انڈوبرما اور ہمالیہ ہمارے ملک کے غیر معمولی طور پر زیادہ حیاتیاتی تنوع والے علاقے کا احاطہ کرتے ہیں۔ حالانکہ تمام ہاٹ اسپاٹس مل کر زمین کے خشکی کے حصے کا 2 فیصدی سے بھی کم بناتے ہیں تاہم اس میں مجموعی طور پر موجود انواع کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان ہاٹ اسپاٹس کی سختی سے حفاظت سردست جاری معدومیت کو تقریباً 30 فیصدی تک کم کر سکے گی۔
ہندوستان میں ماحولیاتی طور پر منفرد اور حیاتیاتی تنوع کے کثرت والے علاقوں کو بطور بائیواسفیئر ریزروز (Biosphere reserves)، نیشنل پارک اور سینچورینر کے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ہندوستان میں اس وقت 14 بائیواسفیئر ریزروز، 90نیشنل پارکس اور 448 وائلڈ لائف سینچوریز موجود ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ مذہبی اور ثقافتی روایات پر بھی مشتمل ہے جو قدرت کے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔ بہت سی ثقافتوں میں جنگلات کے سفر ممنوع تھے اور وہاں موجود تمام درخت اور وائلڈلائف قابل احترام تھی اور انھیں مکمل تحفظ دیا جاتا تھا۔ ایسے Sacred groves (مقدس جنگلات) میگھالیہ کے کھاسی اور جینٹیا پہاڑیوں، راجستھان کی آراولی پہاڑیوں، کرناٹکا اور مہاراشٹرا کے ویسٹرن گھاٹ کے علاقوں اور مدھیہ پردیش کے سرگوجا، چندا اور بستر علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ میگھالیہ میں مقدس جنگلات بڑی تعداد میں نادر اور خطرے سے دوچار پودوں کی آخری پناہ گاہ ہیں۔
Ex Situ Conservation: اس طریقۂ کار میں خطرے سے دوچار جانوروں اور پودوں کو ان کے قدرتی محل وقوع سے نکال کر مخصوص جگہوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کی حفاظت اور خصوصی دیکھ ریکھ ہو سکے۔ زولوجیکل پارکس، بوٹینکل گارڈنس اور وائلڈ لائف سفاری پارکس یہ مقصد پورا کرتے ہیں۔ بہت سے جانور ایسے ہیں جو جنگل میں تو ناپید ہو گئے ہیں لیکن زولوجیکل پارکوں میں بدستور پائے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں Ex situ تحفظ کے ذریعہ خطرے سے دوچار انواع کو بند جگہوں میں رکھنے سے آگے نکل گیا ہے۔ اب خطرے سے دوچار انواع کے گیمیٹس کو لمبے عرصوں کے لیے فعّال اور زرخیز حالت میں کرائیوپریز روشن ٹیکنیکس (Cryopreservation techniques) کا استعمال کرکے ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ انڈوں کو in vitro میں بارآور کرکے اور پودوں کو ٹشوکلچر طریقوں سے بڑھایا جاسکتا ہے۔ صنعتی طور پر اہم پودوں کے مختلف جینی اسٹرینس کے بیجوں کو لمبے عرصوں تک بیج بینکوں میں رکھا جاسکتا ہے۔
حیاتیاتی تنوع کی کوئی سیاسی سرحدیں نہیں ہوتیں اور اس لیے اس کا تحفظ تمام ملکوں کی مجموعی ذمہ داری ہے۔ 1992 میں ریودی جنیریو کے مقام پر حیاتیاتی تنوع (دی ارتھ سمٹ : The Earth Summit) پر منعقد تاریخی کنوینشن نے تمام ممالک سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس کے فوائد کے حسب ضرورت استعمال کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔ 2002 میں اس کی پیروی میں ساؤتھ افریقہ کے جو ہنسبرگ کے مقام پر حسب ضرورت پیداوار پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں 190 ممالک نے اپنے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے عہد کیا اور کہا کہ 2010 تک عالمی، علاقائی اور مقامی سطحوں پر حیاتیاتی تنوع کے موجودہ نقصان کی شرح میں ایک نمایاں کمی کی جائے گی۔
خلاصہ
چونکہ زمین پر زندگی کی ابتدا تقریباً 3.8 بلین سال پہلے ہوئی تھی اس لیے زمین پر زندگی کی شکلوں میں بے پناہ تنوع پیدا ہو گیا ہے۔ حیاتیاتی تنوع حیاتیاتی تنظیم کی تمام سطحوں پر موجود تنوع کے کل میزان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جینی، نوعی اور ماحولیاتی نظام کی سطحوں پر تنوع مصنوعی اہمیت کا حامل ہے اور ان تمام سطحوں پر تنوع کی حفاظت اور تحفظ کی کوششیں کی گئی ہیں۔
دنیا بھر میں 1.5 ملین سے زیادہ انواع رکارڈ کی گئی ہیں لیکن توقع ہے کہ اب بھی تقریباً 7 ملین انواع دریافت ہونا اور انھیں نام دیا جانا باقی ہے۔ جن انواع کو نام دیے جاچکے ہیں ان میں سے 70 فیصدی سے زیادہ جانور ہیں اور ان میں 70 فیصدی کیڑے ہیں۔ فنجائی میں تمام ورٹی بریئس کی کل انواع کی میزان سے بھی زیادہ انواع ہیں۔ ہندوستان اپنی 45000 پودوں اور اس سے دگنی جانوروں کی انواع کے ساتھ دنیا کے 12 میگا ڈائیورسٹی والے ممالک میں سے ایک ہے۔
زمین پر نوعی تنوع یکساں طور پر تقسیم نہیں ہے بلکہ دلچسپ انداز کا مظاہرہ کرتا ہے۔ عموماً ٹروپکس میں یہ سب سے زیادہ ہے اور قطبین کی طرف کم ہوتا جاتا ہے۔ ٹروپکس میں نوعی کثرت کے لیے اہم تشریحات ہیں۔ ٹروپکس کو زیادہ ارتقائی وقت میسّر آیا، انھوں نے مقابلتاً ایک جیسا ماحول فراہم کیا اور یہاں سورج کی توانائی بہتات میں تھی جس نے پیداوار میں مدد کی۔ نوعی کثرت ایک علاقے کے رقبے کا عمل بھی ہوتا ہے۔ عموماً نوع - رقبہ تعلق ایک ریکٹ اینگولر ہائپر بولک فنکشن ہوتا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ تنوع والی کمیونٹیز میں مقائرت کا رجحان کم ہوتا ہے، وہ زیادہ آباد کار اور حیاتیاتی حملوں کے تئیں زیادہ مزاحمتی ہوتی ہیں۔ زمین کی رکازی تاریخ سے بڑے پیمانے پر انواع کے ناپید ہونے کے واقعات کا پتا چلتا ہے تاہم ناپید ہونے کی موجودہ شرح 100 سے 1000 گنا زیادہ ہے جس کے لیے زیادہ تر انسانی سرگرمیاں ذمہ دار ہیں۔ حالیہ وقتوں میں تقریباً 700 انوع ناپید ہو چکی ہیں اور 15,500 سے زیادہ انواع کو ناپید ہونے کا خطرہ درپیش ہے (جن میں 650 سے زیادہ ہندوستانی ہیں)۔ اس وقت ناپید ہونے کی بڑھی ہوئی شرح کے اسباب میں محل وقوع (بالخصوص جنگلات) کا ضائع ہونا اور ٹکڑے ٹکڑے ہونا، ضرورت سے زیادہ استحصال، حیاتیاتی حملے اور ہم معدومیت شامل ہے۔
انسانی بقا کے لیے زمین کی نوعی کثرت ضروری ہے۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اسباب ہیں Narrowly utilitarian، Broadly utilitarian اور Ethical۔ ایکوسسٹم کے براہ ِراست فوائد (غذا، ریشے، ایندھن، فارماسیوٹیکس وغیرہ) کے علاوہ بہت سے بالواسطہ فوائد بھی ہیں جو ہمیں ایکوسسٹم خدمات سے حاصل ہوتے ہیں جیسے زیرگی، گھن(Pest) کنٹرول، موسمی تبدیلی اور سیلاب کی روک تھام۔ زمینی حیاتیاتی تنوع کا خیال رکھنا اور اسے اچھی حالت میں ہماری اگلی نسل کو منتقل کرنا بھی ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔
حیاتیاتی تنوع کا تحفظ in situ اور ساتھ ہی ex situ ہے۔ in situ تحفظ میں خطرے سے دوچار انواع کی حفاظت ان کے قدرتی مسکن میں اس طرح کی جاتی ہے کہ پورے ایکوسسٹم کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کے 34 ہاٹ اسپاٹس شدید تحفظی کوششوں کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین (ویسٹرن گھاٹ ، سری لنکا، ہمالیہ اور انڈوبرما) ہندوستان کے حیاتیاتی تنوع کے کثرت والے علاقوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی in situ کوششوں کا اس کے 14 بائیواسفیئر ریزروس، 90 نیشنل پارکوں > 450وائلڈ لائف سینکچوریز اور بہت سے مقدس جنگلات سے پتا چلتا ہے۔ ex situ تحفظی کوششوں میں چڑیا گھر، زولوجیکل پارکس اور بوٹینکل گارڈنس ہیں۔ ان کے علاوہ ان میں خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کو قائم رکھنے کے لیے، in vitro بارآواری، ٹشوکلچر سے افزائش اور گیمیٹس کا کرائیوپریزرویشن شامل ہے۔
مشق
1۔ حیاتیاتی تنوع کے تین اہم اجزا کے نام لکھیے۔
2۔ ماہرین ماحولیات دنیا میں موجود انواع کی کل تعداد کا کیسے اندازا لگاتے ہیں؟
3۔ تین مفروضات اس بات کی تشریح میں پیش کیجیے کہ ٹروپکس نوعی کثرت کی تین سب سے بڑی سطحوں کا مظاہرہ کیوں کرتا ہے؟
4۔ ایک نوعی- رقبہ تعلق میں ریگریشن کے سلوپس کی کیا اہمیت ہے؟
5۔ ایک جغرافیائی علاقے میں انواع کے ضائع ہونے کے اہم اسباب کیا ہوتے ہیں؟
6۔ ایکوسسٹم کی کارکردگی کے لیے حیاتیاتی تنوع کس طرح اہم ہے؟
7۔ سیلاب اور زمینی کٹائو کی روک تھام ایکوسسٹم کی خدمات میں ہیں۔ انھیں ایکوسسٹم کے حیاتیاتی اجزا سے کیسے حاصل کیا جاتا ہے؟
9۔ پودوں کا نوعی تنوع (22 فیصد) جانوروں کے نوعی تنوع (72 فیصد) سے بہت کم ہے۔ اس بات کی کیا تشریح کی جاسکتی ہے کہ جانوروں میں تنوع زیادہ ہوا ہے۔
10۔ کیا آپ کسی ایسی صورت حال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جہاںہم دانستہ طور پر ایک نوع کو ناپید کرنا چاہتے ہیں؟ آپ اس کی تشریح کیسے کریں گے؟