باب 16
ماحولیاتی مسائل (Environmental Issues)
16.1 ہوائی آلودگی اور اس کے کنٹرول
16.2 آبی کثافت اور اس کے کنٹرول
16.3 ٹھوس کوڑے (Wastes)
16.4 زراعتی کیمیا اور اس کے اثرات
16.5 تاب کاری فضلے
16.6 گرین ہاؤس اثر اور آفاقی جدّت
16.7 اسٹریٹواسفیر میں اوزون کی ناپیدگی
16.8 وسائل کے غیر مناسب استعمال اور بحالی سے پیدا شدہ تخریب
16.9 جنگلات کی کٹائی
پچھلے سو سال میں انسانی آبادی میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غذا، پانی، گھر، بجلی، سڑک، گاڑیاں اور دیگر اشیا کی مانگ میں اضافہ۔ یہ مانگیں ہمارے قدرتی وسائل پر بے پناہ دباؤ ڈال رہی ہیں اور ہوا، پانی اور مٹی کی آلودگی میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ترقی کی رفتار کو روکے بغیر ہمارے قیمتی قدرتی وسائل میں پیدا شدہ تخریب ، آلودگی اور ناپیدگی کی توڑ پھوڑ کو روکا جائے۔
ہوا، زمین، پانی یا مٹی کی طبعی، کیمیائی یا حیاتیاتی خصوصیات میں غیر مطلوبہ تبدیلی کو پالیوشن یا آلودگی کہتے ہیں۔ جو عوامل یہ نامناسب تبدیلیاں لاتے ہیں ان کو پالیوٹینٹ کہتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کو قابو میں کرنے کے لیے اور ماحول (ہوا، پانی اور مٹی) کی خصوصیت کو بہتر بنانے اور محفوظ رکھنے کے لیے حکومتِ ہند نے 1986میں انوائرنمنٹ (پروٹیکشن) ایکٹ پاس کیا۔
16.1 ہوائی آلودگی اور اس کا کنٹرول
ہم لوگوں کا اپنی تنفسی ضروریات کے لیے ہوا پر انحصار ہے۔ ہوا کے آلود کار تمام عضویوں کو زخمی کردیتے ہیں۔ وہ فصلوں کی نمو اور پیداوار کو کم کردیتے ہیں اور پختہ ہونے سے پہلے پودوں کو مار دیتے ہیں۔ ہوائی آلودگی انسانوں اور جانوروں کے نظامِ تنفس پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ نقصان دہ اثرات آلود کاروں کے ارتکازاور عضویوں کے آلودہ ماحول میں رہنے کی مدت پر، کی مدت اور عضویے پر منحصر ہے۔
حرارتی بجلی گھروں(تھرمل پاور پلانٹس) کے دھوئیں کے بادل، اسمیلٹر اور دیگر کارخانے بے ضرر گیسوں جیسے نائٹروجن اور آکسیجن کے ساتھ ساتھ ہوا میں آلودگی والی گیسیں اور ذرات خارج کرتے ہیں۔ ان آلود کاروں کو خارج کرنے سے پہلے انھیں علاحدہ کرنا/ چھاننا ضروری ہے تاکہ صرف مفید گیسیں ہی ماحول میں داخل ہوسکیں۔
ذراتی مادوں کو ہٹانے کے کئی طریقے ہیں، جس میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا الیکٹروسٹیٹک یا پریسی پیٹر(Precipator) (شکل 16.1) ہے۔، جو تھرمل پاور پلانٹ کے ایگزہاسٹ Exhaust) میں سے 99 فی صدی ذرّات نکال سکتا ہے۔ اس میں الیکٹروڈ ہوتے ہیں جن میں کئی ہزار وولٹوں کی سپلائی ہوتی ہے، یہ ایک سرچشمہ یاکورونا بناتے ہیں جن سے الیکٹران خارج ہوتے ہیں۔ یہ الیکٹران گرد کے ذرات سے چپک کر انھیں منفی چارج دیتے ہیں۔ جمع کرنے والی پلیٹوں کو زمین پر لگایا جاتا ہے جو چارج شدہ گرد کے ذرات کو کھینچتی ہیں۔ پیسٹوں کے درمیان ہوا کی رفتار کم ہونی چاہیے تاکہ گرد نیچے گر جائے۔ ایک سکریر (شکل 16.1) بھی سلفر ڈائی آکسائڈ جیسی گیسوں کو ہٹا دیتا ہے۔ اسکربر میں ایگزہاسٹ کو پانی یا چونے کی پوچھار کے ذریعے گذارا جاتاہے۔ حال ہی میں ہمیں بہت ہی چھوٹے ذرّات کے خطروں کے بارے میں معلوم ہوا جو ان پریسی پی ٹیٹر کے ذریعے نہیں ہٹائے جاسکتے۔ سینٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق 5.2 مائکرو میٹر یا اس سے کم قطر والے ذرات انسان کی صحت کے لیے نہایت مضر ہیں۔ یہ ننھے ذرات سانس کے دوران پھیپھڑوں کی گہرائیوں میں چلے جاتے ہیں جو تنفس، جلن اور زخم کی علامتیں پیدا کرتے ہیں، پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور قبل ازوقت موت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
شکل 16.1 الیکٹروسٹیٹک پریسی پیٹر
آٹوموبائلز کم از کم بڑے شہروں میں ہوائی آلودگی کی بڑی وجہ ہیں۔ جیسے جیسے گاڑیوں کی تعداد سڑکوں پر بڑھ رہی ہے یہ مشکلات دوسرے شہروں میں نمایاں ہورہی ہیں۔ آٹوموبائلز کی صحیح دیکھ بھال اور لیڈ۔ فری پیٹرول یا ڈیزل کسے استعمال سے ان کے ذریعے نکالے گئے پالیوٹینٹس کو کم کیا جاسکتاہے۔ آٹوموبائلز سے زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ان میں کیٹالیٹک کنورٹر لگائے جاتے ہیں جن میں قیمتی دھاتوں مثلاً پلاٹنیم، پیلیڈیم اور رہوڈیم کا استعمال کیٹالسٹ کی طرح ہوتا ہے جب ایگزہاسٹ کیٹالسٹک کنورٹر سے گذرتا ہے تو یہ ادھ جلے ہائیڈرو کاربن کو بالترتیب کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی میں نیز کاربن مونو آکسائڈ اور نائٹریک آکسائڈ کو کاربن ڈائی آکسائڈ اور نائٹروجن گیس میں تبدیل کردیتا ہے۔ جن کا روں میں کیٹالسٹک کنورٹز لگے ہوتے ہیں ان کو بغیر لیڈ کا پٹرول استعمال کرنا چاہئے کیونکہ لیڈ کیٹالسٹ کو بے اثر بنا دیتاہے۔
16.1.1 گاڑیوں سے پیدا ہوائی آلوگی کو روکنا: دہلی کا ایک مطالعہ
(Controlling Vehicular Air Pollution: A case Study of Delhi)
دہلی اپنی گاڑیوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہوا کی آلودگی کی سطح میں ملک میں سب سے آگے ہے۔ یہاں گجرات اور مغربی بنگال کی تمام کاروں کو ملا کر بھی ان سے زیادہ کاریں ہیں۔ 1990 میں دہلی، دنیا کے 41سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں چوتھے نمبر پر تھا۔ دہلی میں ہوائی آلودگی اتنی زیادہ ہوگئی کہ ہندوستان کے سپریم کورٹ میں ایک مفادعامہ کی عرضی (PIL) دائر کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے سخت مذمت کے بعد حکومت سے کہا کہ ایک متعینہ مدت میں مناسب اقدامات اٹھائے جائیں اور عوام کی ٹرانسپورٹ یعنی تمام بسیں ڈیزل کے بجائے کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) سے چلائی جائیں۔ اور 2002 کے اختتام تک دہلی کی تمام بسیں CNG کے ذریعے چلنے لگیں۔ آپ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ CNGڈیزل سے کس طرح بہتر ہے؟ جواب یہ ہے کہ آٹو موبائلز میں CNG کی ڈیزل یا پیٹرول سے زیادہ جلنے کی اہلیت ہے، اور وہ بہت کم ادھ جلارہتا ہے۔ اور یہ کہ CNGپیٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میں سستا ہے، اس کی چوری کرکے پیٹرول یا ڈیزل کی طرح اس میں ملاوٹ بھی نہیں کی جاسکتی۔ CNG کو اختیار کرنے میں بڑی مشکل اس کو بانٹنے کے لیے پائپ کے ڈالنے کی اور بغیر رکاوٹ کے اس کی تقسیم کی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی گاڑیوں سے آلودگی روکنے کے لیے دہلی کی حکومت نے متواتر اقدام اٹھائے جیسے پرانی گاڑیوں کو سڑک سے ہٹا دیا، بغیر لیڈ کا پیٹرول کا استعمال، کم سلفر والے پیٹرول اور ڈیزل کااستعمال، کٹیالیٹک کنورٹرکا استعمال کو عام کیا اور گاڑیوں کے لیے آلودگی کی سطح کے پیمانے کو مزید سخت بنایا۔
حکومتِ ہند نے گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی کو ہندوستان کے شہروں میں کم کرنے کے لیے نئی آٹوفیول پالیسی کے تحت ایک خاکہ تیار کیا ہے۔ ایندھن کے لیے مزید سخت قوانین کا مطلب ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل میں سلفر اور ایرومیٹک اجزامیں بتدریج کمی کرنا۔ یورو IIقاعدے، مثال کے طورپر ڈیزل میں سلفر کی مقدار 350 حصہ فی میلین (ppm) تک اور پیٹرول میں150ppm تک مقرر کرتے ہیں۔ ایرومیٹک ہائیڈرو کاربن کی مقدار ایندھن میں 42فیصدی مقرر کی۔ اس خاکے کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل میں سلفر کی مقدار کو کم کرکے 50ppm کیا جائے اور اس کی سطح کو 35 فیصدی تک کم کیا جائے۔ ایندھن کے ساتھ ساتھ، گاڑی کے انجن کی اہلیت کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ مادے کے اخراج کے پیمانے (عبارت اسٹیجII جو یوروII قوانین کے متوازی ہے) ہندوستان کے کسی بھی شہر میں لاگو نہیں ہے۔ ہندوستان میں مادے کے اخراج کے پیمانے کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔ (جدول 16.1)۔
| گاڑی کی قسم | قوانین | شہر جہاں لاگو کیا گیا |
| ۴ پہیہ | بھارت اسٹیج IV | اپریل ۲۰۱۷ سے پورے ملک میں |
| ۴ پہیہ | بھارت اسٹیج IV | |
| ۳ پہیہ | بھارت اسٹیج IV | یکم اپریل ۲۰۱۷ سے پورے ملک میں |
| ۲ پہیہ | بھارت اسٹیج IV | اپریل ۲۰۱۷ سے پورے ملک میں |
جدول16.1: ہندوستان میں مادے کے اخراج کے پیمانوں کی جدول
ان تدابیر کا ہمیں شکریہ ادا کرنا چاہیے جن کی وجہ سے دہلی کے فضائی معیار میں قابل قدر بہتری ممکن ہو سکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 1997اور 2005 کے درمیان دہلی میں CO2 اور SO2 سطح میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔
16.2 آبی آلودگی اور اس کی روک تھام
(Water Pollution and its control)
پوری دنیا میں مختلف اقسام کی فاضل چیزوں کو پھینکنے کے لیے انسان آبی اجسام کا بے جا استعمال کرتے ہیں۔ ہم، بغیر یہ جانے بوجھے کہ آبی اجسام نہ صرف ہماری زندگی بلکہ تمام عضویوں کی زندگی کے لیے ازحد ضروری ہیں، یہ سمجھ لیتے ہیں کہ پانی ہر شئے کو دھو پھینکتاہے۔کیا آپ ایسی اشیا کی فہرست بناسکتے ہیں جن کو ہم دریا اور نالوں کے ذریعے دور پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں؟ انسانوں کی اس طرح کی حرکات سے تالاب، جھیلیں، چشمے، دریا، دریا کے دہانے اور سمندر دنیا کے مختلف حصوں میں آلودہ ہو رہے ہیں۔ پانی کی صفائی کو برقرار رکھنے کی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے پانی کے ذخائر اور وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت ہند نے 1974میں(پانی بچاؤ اور پالیوشن کنٹرول) ایکٹ پاس کیا۔
16.2.1 گھریلو سیویج اور اینڈ سٹریل انفلوئنٹ
(Domestic sewage and Industrial effluent)
جب ہم شہروں اور قصبوں میں اپنے گھروں پر پانی کا استعمال کرتے ہیں تو ہر چیز کو نالیوں میں بہا دیتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ گندگی (سیویج) جو ہمارے گھروں سے نکلتا ہے۔ کہاں جاتاہے؟ گائوں میں کیا ہوتا ہے؟ کیا اِس سیویج کو قریبی دریا میں لے جانے سے قبل اس کی صفائی کی جاتی ہے؟ گھریلو سیویج میں محض 0.1 فیصدی کی ملاوٹ اس کو انسان کے استعمال کے لیے ناکارہ بنا دیتی ہے (شکل 16.2) سیویج کی صفائی (treatment) جب ہم شہروں اور قصبوں میں اپنے گھروں پر پانی کا استعمال کرتے ہیں تو ہر چیز کو نالیوں میں بہا دیتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ گندگی (سیویج) جو ہمارے گھروں سے نکلتا ہے۔ کہاں جاتاہے؟ گائوں میں کیا ہوتا ہے؟ کیا اِس سیویج کو قریبی دریا میں لے جانے سے قبل اس کی صفائی کی جاتی ہے؟ گھریلو سیویج میں محض 0.1 فیصدی کی ملاوٹ اس کو انسان کے استعمال کے لیے ناکارہ بنا دیتی ہے (شکل 16.2) سیویج کی صفائی (treatment) کے بارے میں آپ باب 10میں پڑھ چکے ہیں۔ ٹھوس چیزوں کو نکالنا نسبتاً آسان ہے، لیکن حل شدہ نمکیات جیسے نائیڈریٹس، فاسفیٹس اور دیگر تغذیہ بخش اجزا، اور دھاتی آئینز اور نامیاتی مرکبات کو نکالنا مشکل ہے۔ گھریلو سیویج بنیادی طور پرحیاتیا طور پر قابل تنز نامیاتی مادے پر مشتمل ہوتا ہے جو بیکٹیریا اور دوسرے جراثیم کی مہربانی سے بہ آسانی ٹوٹ جاتا ہے جو ان نامیاتی مادوں کو غذا کے طور پر استعمال کرکے اپنی افزائش کرتے ہیں، اس طرح سیویج کا کچھ حصہ استعمال ہوجاتاہے۔ بائیوکیمکل آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) کو ناپ کر سیویج میں موجود نامیاتی مادے کا تخمینہ لگانا ممکن ہے۔ کیا آپ سمجھا سکتے ہیں کہ کیسے؟ مائکرو آرگنزم والے باب میں آپ BOD، مائیکرو آرگینزم اور بائیوڈگر میبل یعنی حیاتیاتی طور پر قابلِ تنزیل مادے کی مقدار کے باہمی روابط کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔
شکل 16.3 دریا کی چند اہم خصوصیات پر سیویج کا اثر
سویج جب دریا میں داخل ہوجاتاہے تو دریا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو شکل 16.3 میں دکھایا گیا ہے۔ اس طرح کے پانی میں نامیاتی مادے کو ہضم کرنے والے جرثومے کافی آکسیجن استعمال کرتے ہیں، نتیجتاً، سیویج کے دریا میںداخل ہونے کی جگہ سے بہائو کی طرف والے حصے میں محلول آکسیجن کی شدید کمی ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سے مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار مرجاتے ہیں۔
پانی میں غذا کی بڑی مقدار کی موجودگی بھی پلانکٹونک (آزاد تیرنے والے) الگی کی کثرت سے نموکی ذمہ دار ہے جسے الگل بلوم (algal bloom) (شکل 16.4) کہتے ہیں۔‘ یہ آبی اجسام کو ایک خاص رنگ عطا کرتی ہے۔ الگل بلوم پانی کی کوالٹی کو خراب کرتی ہے اور مچھلیوں کی موت کا باعث بنتی ہے۔ بلوم بنانے والے کھچ الگی انسانوں اور جانوروں کے لیے زہریلے ہوتے ہیں۔
شکل 16.4 الگل بلوم کا ایک منظر
آپ نے پانی میں ہلکے ارغوانی رنگ کے پھول والے دلکش پودے تیرتے ہوئے دیکھے ہوں گے۔ یہ پودے جو اپنے خوبصورت پھولوں کی وجہ سے ہندوستان میں داخل کئے گئے تھے، انھوں نے اپنی کثرتِ نمو کے باعث آپ نے پانی میں ہلکے ارغوانی رنگ کے پھول والے دلکش پودے تیرتے ہوئے دیکھے ہوں گے۔ یہ پودے جو اپنے خوبصورت پھولوں کی وجہ سے ہندوستان میں داخل کئے گئے تھے، انھوں نے اپنی کثرتِ نمو کے باعث پانی کے راستوں میں رکاوٹ ڈال کر ایک مشکل کھڑی کردی۔ ان کو ہٹانے کی ہماری اہلیت سے زیادہ تیز یہ نمو کرتے ہیں۔ یہ واٹر ہینتھ (Eichhornia Crassipes) یا جل کمبھی کہلاتے ہیں اور دنیا کے سب زیادہ مشکل پیدا کرنے والے آبی خود روہیں، انکو’’دہشت بنگال‘‘ بھی کہا جاتاہے۔ یہ پانی میں کثرت سے نمو پاتے ہیں اور آبی اجسام کے ایکوسسٹم کے حرکیات (dynamics) کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔
ہمارے گھروں اور اسپتال سے نکلنے والے سیویج میں بیماری پیدا کرنے والے مائیکروبس موجود ہوسکتے ہیں اور اس طرح کے سیوج کی بغیر صفائی کے بہتے ہوئے پانی میں خارج کردینے سے تشویش ناک بیماریوں کی وبا مثلاً پیچیش، موتی جھرہ، یرقان، ہیضہ وغیرہ پھیل سکتی ہے۔
گھریلو سیویج کے برعکس، پیٹرولیم، کاغذ سازی، دھات نکالنے اور پروسیس کرنے والے کیمیائی سازو سامان بنانے والے کارخانوں سے نکلے ہوئے پانی (Waste water) میں زہریلے مادوں خاص طور پر بھاری دھاتوں (heavy metals) (وہ عناصر جن کی کثافت) 5gm/cm3 سے زیادہ ہوتی ہے مثلاً پارا ، کیڈیم، تانبہ جست وغیرہ) اور نامیاتی مرکبات کے بہترین اقسام موجود ہوتی ہیں۔
کچھ زہریلے مادے جو صنعتی کارخانوں کے فضلاتی پانی میں اکثر موجود ہوتے ہیں آبی فوڈچین میں بائیولاجکل میگنی فیکیشن (بائیومیگنی فیکشن) کا اظہار کرتے ہیں۔ بائیو میگنی فیکیشن میں یکے بعد دیگرے ٹرافک سطحوں میں زہریلے مادے کے ارتکاز میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ عضویوں میں جمع ہونے والے زہر یلے مادے کا تحول یا اخراج نہیں ہوتا لہٰذا دوسری ٹرافک سطح پر منتقل ہوجاتاہے۔ یہ عمل خاص طور سے پارا اور ڈی ڈی ٹی کے لیے مشہورہے۔ شکل 16.5 آبی فوڈ چین میں ڈی ڈی ٹی کے بائیو میگنی فیکیشن کو دکھاتی ہے۔اس طرح سے ڈی ڈی ٹی کے ارتکاز میں یکے بعد دیگرے ٹرافک سطحوں میں اضافہ ہوتا ہے، فرض کیجیے یہ پانی میں 0.003پی پی بی (پارٹس پر بلیین ) سے شروع ہوتا ہے، یہ بائیومیگنی فیکیشن کے ذریعے مچھلی کھانے والی چڑیوں میں بالآخر 25ppm (پارٹس پر میلین ppm=) تک پہنچ سکتا ہے۔ ڈی ڈی ٹی کا کثیر ارتکاز پرندوں میں کیلشیم کے تحول میں خلل اندازہوتا ہے جس کی وجہ انڈوں کے چھلکے پتلے ہوجاتے ہیں اور قبل از وقت ٹوٹ جاتے ہیں، لہٰذا پرندوں کی آبادی کے زوال کا باعث ہوتا ہے۔ یوٹروفیکیشن، پانی میں حیاتی اجزا کی کثرت کی وجہ سے کسی جھیل کی قدرتی عمر رسیدگی کو کہتے ہیں۔ کسی نئی جھیل میں پانی خنک اور شفاف ہوتا ہے اور اس میں کچھ کچھ زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ چھوٹے نالے، تغذیہ بخش اجزا مثلاً نائٹروجن اور فاسفورس جھیل میں داخل کرتے ہیں جو آبی عضویوں کی غذا کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ جھیل کی زرخیزی میں اضافے کے ساتھ نباتی اور حیواناتی زندگی بھی پھلتی پھولتی ہے اور نامیاتی بچا کھچا مادہ جھیل کی تہہ میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ سیکڑوں سال بعد، جیسے جیسے مٹی اور نامیاتی مادہ جمع ہوتا رہتا ہے جھیل اتھلی اور گرم ہوتی جاتی اور خنک ماحول میں رہنے والے عضویوں کو ہٹا کر ان کی جگہ گرم پانی والے عضویے لے لیتے ہیں۔ دلدل میں اگنے والے پودے، اتھلی جگہ پر جڑیں پکڑ لیتے ہیں اور جھیل کے اصل نشیبی علاقے کو بھرنا شروع کردیتے ہیں۔ بالآخر، جھیل بڑے تیرنے والے (Bog) پودوں کو جگہ دے دیتی ہے اوربالاخر جھیل، زمین میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
| پانی (DDT 0.003 ppb) |
| زوپلانٹکنس (DDT 0.04 ppm) |
| چھوٹی مچھلی (DDT 0.5 ppm) |
| بڑی مچھلی (DDT 2 ppm) |
| مچھلیاں کھانے والی چڑیاں (DDT 5 ppm) |
شکل 16.5آبی فوڈ چین میں ڈی ڈی ٹی کا بائیو میگنی فیکیشن
کسی جھیل کی قدرتی عمر رسیدگی، جس کو ہزاروں سال کا عرصہ لگ سکتا ہے، کا انحصار موسم، جھیل کا سائز اور دیگر اسباب پر ہوتا ہے ۔ تاہم انسانی حرکات کی وجہ سے پیدا ہوئے پالیوٹینٹس جیسے کارخانوں اور گھروں سے نکلے ہوئے ایفلوینٹس اس عمر رسیدگی کے عمل میں نمایاں تیزی لاتے ہیں۔ اس عمل کو کلچرل یا ایکسیلریٹیڈ یوٹروفینگشن کہتے ہیں۔ گذشتہ صدی میں زمین کے کئی علاقوں کی جھلیوں میں، سیویج، زراعتی اور صنعتی کچرے کی وجہ سے شدید یوٹروفیکیشن ہوا ہے۔ نائٹریٹس اور فاسفیٹس بنیادی پالیوٹینٹس ہیں، جو پودوں کے لیے غذا رساں ہیں۔ یہ الگی کے نمو میں مزید اضافہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے گھناؤنا اور بدبودار جھاگ بن جاتاہے، اور دوسرے آبی جانوروں کے لیے ضروری آکسیجن کو بھی استعمال کرلیتے ہیں اسی کے ساتھ دوسرے پالیوٹینٹس جو بہہ کر جھیل میں آتے ہیں، مچھلیوں کی تمام آبادی کو زہر دے دیتے ہیں، جن کے مردہ اور سڑے ہوئے جسمانی جصے جھیل کی آکسیجن کو مزید کم کردیتے ہیں۔ اس طرح سے جھیل واقعی گھٹ کر مرجاتی ہے۔
بجلی پیدا کرنے والی اکائیوں مثلاً حرارتی بجلی گھروں سے نکلا ہوا گرم پانی ، پالیوٹینٹس کا ایک دوسرا مجموعہ ہے۔ تھرمل ویسٹ واٹر زیادہ درجۂ حرارت کے لیے حساس عضویوں کو یکسر ختم کردیا ہے یا ان کی تعداد کم دیتا ہے، اور شدید ٹھنڈے علاقوں میں کچھوؤں یا مچھلیوں کی نمو میں اضافہ کردیتا ہے لیکن اس سے پہلے وہاں سے اولین باشندے نباتات یا حیوانات کو نقصان پہنچاتاہے۔
16.2.2 انٹگریٹڈ ویسٹ واٹر ٹریٹمینٹ کا مطالعہ
(A Case Study of Integrated Waste Water Treatment)
مصنوعی اور قدرتی اعمال کی آمیزش کو استعمال کرکے ویسٹ واٹر اور سیویج کو منظم طریقے سے صاف کیاجا سکتا ہے۔ اس تحریک کی ایک مثال کیلفورنیا کے شمالی ساحل پر واقع ایک قصبے آرکاٹا میں ملتی ہے۔ ہیولٹ سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر حیاتیات کے تعاون سے قصبے کے لوگوں نے قدرتی نظام سے ہم آہنگ ایک متحد ویسٹ واٹر ٹریٹمینٹ عمل کی تشکیل کی ہے۔ صفائی دو مراحل میں ہوتی ہے۔ (a) رسمی سیڈیمینٹی ایشن، چھاننا اور کلورین ٹریٹمینٹ دیا جاتاہے۔ اس مرحلے کے بعد، محلول بھاری دھات جیسے کی پالیوٹینٹس پھر بھی رہ جاتے ہیں۔ اس سے لرنے کے لیے ایک نیا طریقہ اپنایا گیا۔ (b) ماہر حیاتیات کے 60 ہیکٹر دلدلی علاقے میں چھ عدد دلدل کو سلسلے وار ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ موزوں پودے، الگی، فنجائی اور بیکٹیریا کو اس میں چھو ڑاگیا جو پالیوٹینٹس کو بے اثر، جذب اور ہضم کرلیتے ہیں۔ لہٰذا جیسے جیسے پانی ان دلدلوں سے گذرتا ہے قدرتی طور پر صاف ہوتا جاتاہے۔
یہ دلدلیں وہاں رہنے والی مچھلیوں، جانوروں، پرندوں کی شکل میں اعلیٰ درجے کی بائیوڈائیورسٹی کے لیے جائے پناہ بھی بن جاتی ہیں۔ شہریوں کی ایک جماعت جس کا نام فرینڈس آف آرکاٹا مارش (ایف او اے ایم) ہے اس حیرت انگیز پروجیکٹ کی دیکھ بھال اور تحفظ کی ذمہ دار ہے۔
ابھی تک ہم یہی قیاس کرتے آئے ہیںکہ ویسٹ کو نکالنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے یعنی سیویج کا بننا۔ لیکن انسانی ویسٹ مثلاً فضلہ کو نکالنے کے لیے اگر پانی کی ضرورت نہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟ کیا آپ گمان کر سکتے ہیں کہ اگر ہم ٹوائلیٹ میں پانی فلش نہ کریں تو پانی کی کتنی مقدار کی بچت ہوسکتی ہے؟ جی اب یہ ایک حقیقت بن گئی ہے۔ خشک کمپوسٹینگ ٹوائلیٹس کو استعمال کرکے انسانی فضلے سے نبٹنے کے لیے ماحولیاتی صفائی (Ecological sanitation) ایک دائمی نظام ہے۔ یہ انسانی ویسٹ ڈسپوزل کا قابل عمل، جراثیم سے پاک، کارگزار اور سستا حل ہے۔ یہاں کلیدی نکتہ غور طلب یہ ہے کہ اس کمپوسٹنگ کے طریقہ میں انسانی فضلے کو دوبارہ وسیلے (قدرتی کھاد) کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں جو کیمیائی کھاد کی ضرورت کو بھی کم کرتا ہے۔ کیرالا اور سری لنکا کے کئی علاقوں میں ایکوسین (EcoSan)، ٹوائلیٹس کام کر رہے ہیں۔
16.3 ٹھوس کچرا (Solid Wastes)
ٹھوس کچرا (ویسٹ) ہراس چیز کو کہتے ہیں جو ردّی کی شکل میں باہر جاتا ہے۔ میونسپل ٹھوس ویسٹ وہ کچرا ہے جو گھروں، دفتروں، اسٹور، اسکولوں، اسپتالوں وغیرہ سے آتا ہے جو میونسپلٹی جمع کرتی ہے اور ٹھکانے لگاتی ہے۔ میونسپل ویسٹ عموما کاغذ، کھانے کا ویسٹ، پلاسٹک، شیشہ، دھات، ربر، کھال، کپڑے وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ جلانے سے کچرے( ویسٹ) کا حجم کم ہوجاتاہے، حالانکہ عموماً یہ نہیں جل پاتا اور کھلے ہوئے کوڑا گھر چوہوں اور مکھیوں کے لیے افزائش کی جگہ بن جاتے ہیں۔ سینیٹری لینڈ فلز کو کھلے ہوئے کوڑا گھروں پر ترجیح دی گئی ہے۔ سینیٹری لینڈ فلز میں کوڑے کو دبا کر نشیب یا خندق میں بھر دیا جاتاہے اور روز اس کو مٹی سے ڈھک دیا جاتاہے۔ اگر آپ شہر یا قصبے میں رہتے ہیں تو کیا آپ کو قریبی لینڈ فل کی جگہ معلوم ہے؟ لینڈ فلز بھی واقعتا اس کا حل نہیں ہے چونکہ کوڑا اس قدر نکلنے لگا ہے اور خاص طور پر بڑے شہروں میں کہ اب یہ جگہیں بھی بھر گئی ہیں۔ مزید برآں کیمیکل وغیرہ کے رسنے کا خطرہ رہتا ہے اور اس طرح یہ لینڈ فلز زیر زمین آبی وسائل کو آلودہ کرتی ہیں۔
ان مسائل کا صرف یہی ایک حل ہے کہ انسان ان ماحولی مسئلوں کے بارے میں مزید حساس ہوجائے۔ جتنا بھی کچرا ہم لوگ پیدا کرتے ہیں اس کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔ (a) بائیوڈیگر مڈبل، یا حیاتیاتی طور پر ناقابل تنزل(b) ری سائیکل کے لائق یا دوبارہ استعمال کے لائق (c) نان بائیوڈیگریڈبل یا حیاتیاتی طور پر ناقابل تنزل۔ یہ اہم ہے کہ تمام کچرا جو ہم پیدا کرتے ہیں اس کی چھنٹائی کی جائے۔ جو چیز دوبارہ استعمال میں لائی جاسکتی ہے یاری سائیکل کی جاسکتی ہے علاحدہ کرلی جائے، ری سائکلینگ کے لیے مٹیریل کو علاحدہ کرنے کا اہم کام ہمارے کباڑی والے یا کوڑا چننے والے ادا کرتے ہیں۔ بائیودیگریڈبل مٹیریل زمین میں گہرے گڈھوں میں ڈالا جاسکتا ہے جہاں وہ قدرتی طور پر ٹوٹ جائیں گے۔ اب صرف نان بائیوڈیگریڈبل کو ٹھکانے لگانا رہ جاتاہے۔ کم کچرا پیدا کرنے کی ضرورت ہمارا بنیادی ہدف ہونا چاہئے، لیکن ہم نان بائیوڈیگریڈل پروڈکٹس کے استعمال میں اضافہ کرتے جارہے ہیں۔ کسی عمدہ قسم کے کھانے کا تیار شدہ پیکٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے، مثلاً بسکٹ کا پیکٹ، اور اس کی پیکیجنگ کا مطالعہ کیجیے، کیا آپ تحفظ کے استعمال کی گئیں پرتوں کی تعداد گن سکتے ہیں؟ غور کیجیے کہ ایک پرت پلاسٹک کی ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے روزمرہ کے استعمال کی اشیا جیسے دودھ اور پانی کو پالی بیگز میں پیک کرنا شروع کر دیا ہے۔ شہروں میں پھل اور سبزیاں خوبصورت پالی سٹرین اور پلاسٹک کی پیکیجنگ میں خریدے جاسکتے ہیں۔ ہم اتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں اور کرتے کیا ہیں؟ ماحول کی آلودگی میں شدید اضافہ۔ پورے ملک میں ریاستی حکومتیں پلاسٹک کے استعمال میں کمی، اور ایکوفرینڈلی پیکیجنگ کے استعمال کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ ہم اپنے تئیں یہ کوشش کرسکتے ہیں کہ جب خریداری کے لیے بازار جائیں تو کپڑے کا یا دوسرے قدرتی دھاگوں کا تھیلا لے کر جائیں اور پالی تھین تھیلوں کے استعمال کو چھوڑ دیں۔
اسپتالوں میں بھی صحت کے لیے کچرا اکٹھا ہوجاتا ہے جس میں وبائی اورمتعد امراض کو دور کرنے والی ادویہ اور دیگر نقصان دہ کیمیکل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ مرض آفریں خورد عضویے بھی ہوتے ہیں۔ اس قسم کے کچرے کی تدبیر اور اس کا اتلاف احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسپتالوں کے کچرے کو جلانے والی مشینوں کا استعمال بھی بہت نازک کام ہے۔
ناقابل مرمت کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک سامان کو الیکٹرانک کچرا(E-Waste) کہا جاتا ہے۔ الیکٹرانک کچرے کو بھراؤ زمینوں میں دفن کر دیا جاتا ہے یا پھر جلا دیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں اکھٹا ہونے والے الیکٹرانک کچرے کا آدھے سے زیادہ حصہ ترقی پذیر ملکوں خاص طور پر چین، ہندوستان اور پاکستان کو برآمد کرایا جاتا ہے جہاں ری سائیکلنگ کے عمل سے تانبہ ،لوہا،سلی کون،نکل اور سونا وغیرہ جیسی دھاتیں ان سے نکال لی جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں الیکٹرانک کچرے کی ری سائیکلنگ کے لیے بہترین سہولتیں مہیا ہیں جبکہ ترقی پذیر ملکوں میں بہت سا کام ہاتھوں سے کرنا پڑتا ہے اور اس طرح الیکٹرانک کچرے میں موجود زہریلے مادے کامگاروں کی صحت کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ الیکٹرانک کچرے کا تنہا علاج ری سائیکلنگ ہے بشرطیکہ اس کام کو ایک ایسے ماحول میں انجام دیا جائے جس سے ماحول محفوظ رہے۔
16.3.1 پلاسٹک کچرے کے علاج کا ایک مطالعہ
(Case Study of Remedy for Plastic Waste)
بنگلور میں پلاسٹک کے تھیلے بنانے والے نے پلاسٹک ویسٹ کے لگاتار جمع ہوتے رہنے کے مسئلے کا ایک مثالی حل تلاش کیا ہے۔ احمد خاں عمر 57 سال، 20 سال سے پلاسٹک کے تھیلے بنا رہے ہیں۔ تقریباً 8 سال پہلے انھیں بنگلور میں پلاسٹک کے تھیلے بنانے والے نے پلاسٹک ویسٹ کے لگاتار جمع ہوتے رہنے کے مسئلے کا ایک مثالی حل تلاش کیا ہے۔ احمد خاں عمر 57 سال، 20 سال سے پلاسٹک کے تھیلے بنا رہے ہیں۔ تقریباً 8 سال پہلے انھیں اندازہ ہوا کہ پلاسٹک ویسٹ ایک بڑا اور اہم مسئلہ ہے۔ ان کی کمپنی نے ’پالی بلینڈ‘۔ ایک ری سائیکلڈ، تبدیل شدہ پلاسٹک کا مہین پائوڈر ایجاد کیا جسے سڑک بنانے کے لیے استعمال ہونے والے بیٹومن میں ملادیا جاتاہے۔ آروی کالج آف انجینئرنگ اور بنگلور سٹی کارپوریشن کے تعاون سے احمد خاں نے ثابت کیا کہ پالی بلینڈ اور بیٹومن کا آمیزہ جب سڑک بنانے کے لیے استعمال کیاگیا تو اس نے بیٹومن کی پانی کو دور رکھنے کی خصوصیت کو بڑھایا اور سڑک کی عمر میں تین گنا اضافہ کیا۔ پالی بلینڈ بنانے کے لیے خام مال کوئی بھی پلاسٹک کی فلم ہوسکتی ہے۔ لہٰذا کوڑے میں پلاسٹک ویسٹ کو اٹھانے والے جن کو پہلے 40 پیسے فی کلو ملتے تھے، احمد خاں ان کو اب چھ روپے فی کلو ادا کر رہے ہیں۔ خاں کی ٹیکنیک کو استعمال کرکے بنگلور میں 2002 تک 40 کلو میٹر سے بھی زیادہ لمبی سڑک بنائی جاچکی ہے۔ اس رفتار سے، پالی بلینڈ بنانے کے لیے خان کو بنگلور میں پلاسٹک ویسٹ کی قلت بہت جلد ہونے والی ہے۔ پالی بلینڈ جیسی ایجاد کا شکریہ کہ ہم شاید پلاسٹک ویسٹ کے گردو غبار سے بچ جائیں۔
اسپتال خطرناک کچرا پیدا کرتے ہیں جن میں ڈس انفیکٹینٹس اور دوسرے نقصان دہ کیمیکل، اور بیماری پیدا کرنے والے جراثیم موجود ہوسکتے ہیں ایسے کچرے کو بھی احتیاط سے صاف کرنے اور ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے۔ اسپتال کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے انسی نریٹرز (insinerators) کا استعمال بہت اہم ہے۔
مرمت نہ ہو پانے والے کمپیوٹرز اور دوسری الیکٹرانک اشیا کو الیکٹرانک کچرا(ای ویسٹ) کہتے ہیں۔ اس کو کو لینڈ فلز میں دفن کردیتے ہیں یا انسی فریٹرز میں ڈال کر ضائع کردیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں پیدا شدہ ای۔ ویسٹ کا تقریباً 50 فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک جیسے چین، ہندوستان اور پاکستان کو برآمد کردیا جاتاہے جہاں تانبہ، لوہا، سلیکان، نکل اور سونا جیسی دھاتوں کو ری سائیکلنگ کے عمل کے دوران نکال لیا جاتاہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس جہاں ای۔ویسٹ کی ری سائیکلنگ کے لیے مخصوص انتظامات موجود ہیں، ترقی پذیر ممالک میں عموماً یہ کام انسانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے اور اس عمل میں انھیں ای ویسٹ میں موجود زہریلے مادوں کا سامنا کرناپرتا ہے۔ بالآخر ای ویسٹ کی صفائی کا حل صرف ری سائیکلنگ ہی ہے مگر یہ کام ماحول دوستی کے انداز میں ہونا چاہیے۔
16.4 زراعتی کیمیکل اور ان کے اثرات
(Agro-chemicals and their Effects)
سبز انقلاب کے دوران فصلوں کی پیداوار میں اضافے کی خاطر غیر نامیاتی اور کیڑے مار دوائوں کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ کیڑے مارنے والی، خودروپودوں کو ختم کرنے والی اور پھپھوند کو مارنے والی دوائوں وغیرہ کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ان غیرہدف عضویوں کے لیے بھی زہریلے ہوتے ہیں جو مٹی کے ایکوسسٹم کا اہم جز ہیں۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ زمینی ایکوسسٹمز میں یہ بائیومیگنی فائی ہوسکتے ہیں؟ ہمیں معلوم ہے کہ مصنوعی کھاد کی اضافی مقدار یوٹروفی کیشن کے بالمقابل آبی ایکوسسٹمز میں کیا کرتی ہے ۔ لہٰذا زراعت میں حالیہ مشکلات شدید مایوس کن ہیں۔
16.4.1 نامیاتی کھیتی کا مطالعہ(Case Study of Organic Farming)
ہم آہنگ نامیاتی کھیتی باربار دھرایا جانے والا، زیرو ویسٹ طریقہ ہے جس میں ایک عمل کے پروڈکٹ دوسرے عمل کے لیے ازخود تغذیہ بن جاتے ہیں۔ اس میں وسائل کا بھر پور استعمال ہوتا ہے اور پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ سونی پت، ہریانہ کے ایک کسان رمیش چند ڈاگر بالکل یہی کر رہے ہیں۔ یہ شہد کی مکھی کو پالتے ہیں، ڈیری کا منیجمنٹ کرتے ہیں واٹر ہارویسٹنگ اور کمپوسٹنگ کو زراعت میں ایک سلسلے وار عمل کی شکل میں شامل کرتے ہیں،اور یہ سب کام ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں اور ایک نہایت کم قیمت اور دائمی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ فصلوں کے لیے کیمیائی کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ جانوروں کا فضلہ (گوبر) کھاد کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ فصلوں کا کچرا کمپوسٹ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو یا تو قدرتی کھاد کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے یا قدرتی گیس بنانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے جس سے فارم کی توانائی کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔اس معلومات کو پھیلانے کے جوش میں اورہم آہنگ نامیاتی کھیتی پر عمل کرنے کی غرض سے مدد پہنچانے کے لیے ڈاگر نے ہریانہ کسان ویلفیئر کلب کی تشکیل کی ہے جس کے فی الوقت 5000 کسان رکن ہیں۔
16.5 ریڈیو ایکٹیووکچرا (Radioactive Wastes)
ابتدا میں بجلی پیدا کرنے کے لیے جوہری توانائی کو آلودگی نہ پھیلانے والا طریقۂ کار مانا جاتاتھا۔ بعد میں یہ معلوم ہوا کہ جوہری توانائی کے استعمال میں دو بڑے تشویشناک اندرونی مسائل ہیں پہلا ایکسیڈینٹل رسائو، جیسا تھری مائل آئی لینڈ اورچرنوبل حادثوں میں ہوا تھا، دوسرا ریڈیو ایکیٹو کچرے کا محفوظ ڈسپوزل۔
تاب کاری (ریڈی ایشن) جو جوہری کچرے سے نکلتی ہے حیاتی عضویوں کے لیے بہت نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے میوٹیشن کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ تاب کاری کی بڑی خوراک جان لیوا ثابت ہوتی ہے لیکن چھوٹی خوراک کئی طرح کی بیماریوں کو جنم دیتی ہے، جس میں کینسر سب سے عام بیماری ہے۔ لہٰذا جوہری کچرا بہت زہریلا آلودگر (Pollutant) ہے اس کا نہایت احتیاط کے ساتھ نپٹارا کرنے کی ضرورت ہے۔
جوہری کچرے کو جمع کرنے کے بارے میں سفارش یہ ہے کہ اس کی پہلے ہی بڑے پیمانے پر تدبیر (Treatment) کر دی جائے۔ اس کے بعد تحفظی کنستروں میں بند کرکے چٹانوں کے درمیان سطح زمین سے 500 میٹر گہرائی میں دفن کر دیا جائے۔ حالانکہ ڈسپوزل کی اس حفاظتی تدبیر پر عوام میں شدید اختلاف ہے۔ آپ کے خیال میں کئی لوگ ڈسپوزل کے اس طریقۂ کار سے متفق کیوں نہیں ہیں؟
16.6 گرین ہائوس اور عالمی حدت
(Greenhouse Effect and Global Warming)
گرین ہاؤس اثر کی اصطلاح اس مظہر سے لی گئی ہے جو گرین ہاؤس میں رونما ہوتا ہے کیا آپ نے کبھی گرین ہاؤس دیکھا ہے؟ یہ ایک چھوٹے شیشے کے گھر کی مانند ہے جو خاص طور پر سردیوں میں پودوں کو اگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گرین ہاؤس میں شیشے روشنی کو اندر آنے دیتے ہیں لیکن حدت/ حرارت کو باہر نہیں جانے دیتے۔ اس لیے گرین ہائوس گرم ہوجاتا ہے، بالکل اس کار کے اندر کی طرح جو دھوپ میں کئی گھنٹے کھڑی رہی ہو۔
شکل 16.6 کرہ کے بیرونی حصے میں شمسی توانائی
شکل 16.7 گلوبل وارمنگ میں گرین ہائوس گیسوں کا تناسب
گرین ہاؤس اثر قدرتی طور پر واقع ہونے والا عمل ہے جو زمینی سطح اور ہوا کی گرمی کے لیے ذمہ دار ہے۔ آپ کو یہ معلوم کرکے حیرت ہوگی کہ بغیر گرین ہائوس اثر کے زمین کی سطح پر اوسط درجۂ حرارت موجودہ 15o°Cکے بجائے یخ بستہ –18o°C ہوتاہے۔ گرین ہائوس اثر کو سمجھنے کے لیے سورج کی روشنی کی توانائی کے بارے میں جاننا ضروری ہے جو سب سے باہری کرۂ ارض میں پہنچتی ہے (شکل 16.6)۔ بادل اور گیسیں آنے والی شمسی تاب کاری کے ایک چوتھائی کو منعکس (reflect) کردیتے ہیں اور کچھ کو جذب کر لیتے ہیں، لیکن آنے والی شمسی تاب کاری کا تقریباً آدھا حصہ زمین پر پڑتا ہے اور اسے گرم کرتا ہے جبکہ اس کا تھوڑا سا حصہ واپس منعکس ہوجاتاہے۔ سطح زمین حرارت کو انفرا ریڈ تاب کاری کی شکل میں واپس بھیجتی ہے لیکن اس کا کچھ حصہ خلا میں داخل نہیں ہوپاتا کیونکہ ہوائی گیسیں (مثلاً کاربن ڈائی آکسائڈ، میتھین وغیرہ) اس حرارت کا زیادہ حصہ جذب کر لیتی ہیں۔ ان گیسوں کے سالمے حرارتی توانائی کو پھیلاتے ہیں، اور کافی حصہ سطح زمین پر واپس آجاتا ہے، لہٰذا زمین کو دوبارہ حدت پہنچاتے ہیں۔ یہ دور کئی بار عمل میں آتا ہے۔ یہ گیسیں کاربن ڈائی آکسائڈ اور میتھین عام زبان میں گرین ہائوس گیسیں (شکل 16.7) کہلاتی ہیں کیونکہ یہی گرین ہائوس اثر کے لیے ذمہ دار ہوتی ہیں۔
گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں خاطر خواہ اضافے کی وجہ سے زمین پر حدت بہت زیادہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہورہی ہے۔ گذشتہ صدی کے دوران زمین کے درجۂ حرارت میں 0.6oC کا اضافہ ہوا ہے جس کا زیادہ حصہ گذشتہ تین دہائیوں میں ہوا ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ درجۂ حرارت میں اس اضافے کی وجہ سے ماحول میں بڑی تبدیلیاں آرہی ہیں جو موسم میں تبدیلیوں کا سبب ہیں (مثلاً النیوز افیکٹ وغیرہ)۔ لہٰذا نہ صرف قطبین کے برف کے پہاڑ پگھل رہے ہیں بلکہ ہمالیہ کی برفیلی چوٹیوں اور اسی طرح کی دوسری جگہوں پر اس کے آثار نمایاں ہیں۔ کئی سالوں بعد اس کے نتیجے میں سطح سمندر میں اضافہ ہوسکتا اور بہت سے ساحلی شہر پانی میں ڈوب سکتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جو مختلف قسم کی تبدیلیاں آرہی ہیں یا آسکتی ہیں، آجکل وہ تحقیق کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔
ہم گلوبل وارمنگ کو کس طرح کنٹرول کرسکتے ہیں؟ اس کے لیے اقدامات میں، فاسل ایندھن کے استعمال میں کمی، توانائی کے استعمال میں بہتر کارگزاری جنگلوں کی کٹائی کو کم کرنا، مزید درخت لگانا (شجر کاری) اور انسانی آبادی کے اضافے میں کمی کرنا، شامل ہیں۔ بین الاقوامی پیمانے پر بھی ہوا میں گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے سے متعلق اقدامات کیے جارہے ہیں۔
16.7 اسٹریٹو سفیئر میں اوزون کی کمی
(Ozone Depletion in the Stratosphere)
آپ نے گیارھویں جماعت کی علم کیمیا کی تدریسی کتابوں میں خراب اوزون کے بارے میں پڑھا ہے جو نچلے کرۂ ہوا (troposphere) (ٹروپوسفیئر) میں بنتی ہے اور جو پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہے۔ لیکن اچھی اوزن، بھی ہوتی ہے؛ یہ اوزون کرۂ ہوا کی بالائی سطح (سٹریٹو سفیر) میں پانی جاتی ہے۔ اور یہ سورج سے آنے والی الٹرا وائلیٹ تاب کاری کے لیے ڈھال کا کام کرتی ہے اور اسے جذب کرلیتی ہے۔ عضویوں کے لیے الٹراوائلٹ(UV) کرنیں بہت نقصان دہ ہیں کیونکہ ڈی این اے اور پروٹینز یووی کرنوں کو ترجیحی طور پر جذب کرتے ہیں اور ان کی موجود شدید توانائی ان سالموں کے کیمکل بانڈز کو توڑ دیتی ہیں۔ سطحِ زمین سے کرۂ ہوا کے اوپر تک کے ہوا کے ستون میں اوزون پرت کی موٹائی ڈابسن آکائی (ڈی یو) کے پیمانے پرناپی جاتی ہے۔
اوزون گیس سالماتی آکسیجن پر یووی کرنوں کے عمل سے مسلسل بنتی رہتی ہے، اوراسٹیریٹو سفیئر میں سالماتی آکسیجن میں بھی ٹوٹتی رہتی ہے۔ سٹریٹوسفیر میں اوزون کے بننے اور ٹوٹنے کے عمل میں ایک توازن برقرار رہنا چاہیے۔ لیکن کلوروفلورو کارنبز (CFCs)کے ذریعے اوزون کے ٹوٹنے میں اضافے کی وجہ سے ادھر یہ توازن بگڑ گیا ہے۔ ریفریجریشن کے لیے CFCs کا استعمال کثرت سے ہونے لگا ہے۔ کرۂ ہوا کے نچلے حصے میں سی ایف سی خارج ہو کر اوپر کی جانب بڑھتی ہے اور سٹریٹو سفیئر میں پہنچ جاتی ہے۔ سٹریٹو سفیئر میں یو وی(UV) کرنیں ان پر عمل کرکے کلورائیڈ (Cl)جوہر خارج کرتی ہیں۔ Clاوزون کو توڑ کر سالماتی آکسیجن خارج کرتی ہے، چونکہ Cl صرف کیٹالسٹ کی حیثیت سے کام کرتی ہے لہٰذا وہ ریکشن میں خرچ نہیں ہوتی۔ اس لیے سی ایف سی کی جو کچھ مقدار سٹیرٹومفیئر میں داخل ہوتی ہے، اس کا اثر اوزون کی مقدار پر مستقل اور مسلسل اثر پڑتا ہے۔ حالانکہ سٹریٹوسفیئر میں اوزون میں وسیع پیمانے پر کمی واقع ہورہی ہے، مگر انٹارکٹک علاقے کے اوپر اوزن میں کمی بہت نمایاں ہے۔ نتیجتاً وہاں اوزون کی پرت پتلی ہوگئی ہے جس کو عام زبان میں اوزون ہول (شکل 16.8) کہتے ہیں۔
شکل 16.8 انٹارکٹکا کے اوپر اوزن ہول ارغوانی رنگ سے دکھایا گیا ہے جہاں پر اس کی سب سے پتلی پرت ہے۔ اوزون کی موٹائی ڈالبسن اکائی میں ناپی جاتی ہے (ارغوانی سے سرخ تک کے رنگوں سے دکھائے گئے اس پیمانے کو غور سے دیکھیں) انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون ہول ہر سال آخیر اگست اور ابتدائی اکتوبر میں نمودار ہوتا ہے۔ بذریعہ ناسا۔
یو وی۔ بی سے کم طولِ موج کی یو وی تاب کاری تقریباً مکمل طور پر زمین کے کرۂ ہوا کے ذریعے جذب ہوجاتی ہے بشرطیکہ اوزون کی پرت سالم ہو۔ لیکن یو وی۔بی ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہے اور میوٹیشن واقع ہوسکتا ہے۔ یہ جلد کی سن رسیدگی میں اضافہ کرسکتی ہے، جلد کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور مختلف قسم کے جلدی کینسر پیدا کرسکتی ہے۔ انسانی آنکھ میں کورنیا یو وی۔ بی کی تاب کاری کو جذب کرسکتی ہے، اور یو وی۔ بی کی بڑی خوراک کورنیا کو جلا سکتی ہے، اس کوا سنو۔ بلائنیڈنیس کیٹاریکٹ کہتے ہیں اس طرح یو وی۔بی کورنیا کو مستقل طور پر ناکارہ کرسکتی ہے۔
اوزون میں کمی کو دیکھتے ہوئے کناڈا کے شہر مانٹریل میں ایک بین الاقوامی معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کو مانٹریل پروٹوکال کہتے ہیں جس کے تحت اوزون کو کم کرنے والے مادوں کے اخراج کو کنٹرول کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ 1987میں ہوا جسے 1989میں لاگو ہونا تھا۔ اس کے بعد مزید اقدامات اٹھائے گئے اور پروٹوکال نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے سی ایف سی اور دوسرے اوزون کو کم کرنے والے کیمیکل کے استعمال کو کم کرنے کے لیے الگ الگ واضح خاکہ تیار کیاہے۔
16.8 وسائل کے بیجا استعمال کی وجہ سے تنزل
(Degradation by Improper Resource Utilisation and Maintenance)
قدرتی وسائل کا ڈیگریڈیشن صرف آلودگروں کی ہی وجہ سے نہیں بلکہ وسائل کے بیجا استعمال سے بھی ہوتا ہے۔
مٹی کا کٹاؤاور ریگستان کا بننا: زمین کی زرخیز بالائی سطح صدیوں میں بن پاتی ہے لیکن انسانی مداخلت جیسے زیادہ پیداوار لینا، بغیر روک ٹوک کے جانوروں کو چرانا، جنگلات کاٹنا اور سینچائی کے غلط طریقوں کی وجہ سے بہ آسانی سے ختم کی جاسکتی ہے۔ جب وسیع بنجر علاقے پھیلتے ہیں اور ایک دوسرے سے منسلک ہوجاتے ہیں تو ریگستان وجود میں آتاہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ شہری علاقوں کے رقبے میں اضافے کی وجہ سے ریگستانوں کا وجود میں آنا آج کل اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔
پانی کا ٹھہرنا اور مٹی کی نمکیات: پانی کے مناسب نکاس کے بغیر سینچائی کرنے سے مٹی میں پانی اکٹھا ہوجاتاہے۔ فصلوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کے ٹھہرنے سے نمکیات مٹی کی بالائی سطح پر آکر جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ نمکیات ایک پتلی پرت کی طرح زمین کی سطح پر جمع ہونے لگتے ہیں یا پودوں کی جڑوں میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ نمکیات کی مقدار میں اضافہ فصلوں کی نمو کا دشمن اور زراعت کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ پانی کا ٹھہرنا اور زمین کا نمکین پن وہ چند مشکلات ہیں جو سبز انقلاب کے پیچھے پیچھے ہیں۔
16.9 جنگلات کی کٹائی(Deforestation)
جنگلات کی بے جا کٹائی جنگلاتی علاقوں کو غیر جنگلاتی علاقوں میں تبدیل کردیتی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق ٹراپکس میں تقریباً 40 فیصدی جنگلات ختم ہوگئے ہیں جب کہ صرف معتدل علاقوں میںایک فیصدی جنگلات ختم ہوئے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کی موجودہ صورت حال خاص طور پر ہندوستان میں بہت تشویش ناک ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ہندوستان میں جنگلات کا غلاف 30 فیصدی تھا۔ اور صدی کے آخری میں یہ گھٹ کر 21.54 فی صدی رہ گیا، جبکہ ہندوستان کی قومی جنگلات پالیسی (1988) نے 33 فیصدی جنگلات کا غلاف میدانی علاقوں کے لیے اور 67 فیصدی پہاڑی علاقوں کے لیے مقرر کیا ہے۔
جنگلات کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے؟ بہت سارے انسانی اعمال اس کام کو انجام دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے غذا فراہم کرنے کے لیے جنگلات کو زراعتی زمین میں تبدیل کرتا ہے۔ درختوں کو لکڑی حاصل کرنے کے لیے، ایندھن کے لیے،جانوروںکی چراگاہ اور دیگر مقاصد کے لیے کاٹا جاتاہے۔ جنگلات کے خاتمے میں ہندوستان کی شمال۔ مشرقی ریاستوں میں کاٹو اور جلائو زراعت کا طریقۂ کار کا بڑا ہاتھ ہے۔ جسے عموماً جھوم کاشت بھی کہتے ہیں۔ سلیش اینڈ برن زراعت میں کسان جنگل کے درخت کاٹ دیتے ہیں اور پودوں کو جلا دیتے ہیں۔ راکھ کھاد کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور اس زمین پر کاشت کرتے ہیں یا اس کو چراہ گاہ کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ کاشت کے بعد اس علاقے کو کئی سال کے لیے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ قدرتی طور پر وہ دوبارہ زرخیز ہوجائے۔ کسان پھر دوسری جگہوں پر منتقل ہوجاتے ہیں اور اسی عمل کو دہراتے ہیں۔ پہلے زمانے میں جب جھوم کاشت بہت عام تھی تو کافی بڑی مدت کا وقفہ دیا جاتا تھا تاکہ زمین کاشت کے اثرات سے ابھر سکے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ اور متعدد کاشت کاری کی وجہ سے اس وقفے کو ختم کر دیا گیا اور نتیجتاً جنگلوں کا خاتمہ عمل میں آیا۔
جنگلات کے خاتمے کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟ سب سے اہم اثر کرۂ ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کے ارتکاز میں اضافہ ہے کیونکہ درخت جو کاربن کی کثیر مقدار اپنے بائیوماس میں جمع رکھتا ہے جنگلات کے خاتمے کے بعد نہیں رہے۔ جنگلات کا خاتمہ انواع کے لیے مسکن (Hostel)کا خاتمہ ہے جس کی وجہ سے بائیوڈائیورسٹی کا بھی نقصان ہوتاہے، ہائیڈرولاجک دور میں فرق پڑتا ہے، مٹی کٹنے لگتی ہے اور شدید حالات میں پورا علاقہ ریگستان تک میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
ری فارسٹیشن یعنی دوبارہ شجرکاری وہ عمل ہے جس کے ذریعے ماضی میں تباہ کیے گئے جنگلات کو بحال کیا جاتاہے۔ ڈیفارسٹیڈ علاقوں میں ریفارسٹیشن قدرتی طور پر بھی عمل میں آسکتا ہے۔ تاہم اس علاقے میں پہلے والی ری فارسٹیشن یعنی دوبارہ شجرکاری وہ عمل ہے جس کے ذریعے ماضی میں تباہ کیے گئے جنگلات کو بحال کیا جاتاہے۔ ڈیفارسٹیڈ علاقوں میں ریفارسٹیشن قدرتی طور پر بھی عمل میں آسکتا ہے۔ تاہم اس علاقے میں پہلے والی موجود بائیوڈائیورسٹی کا خیال رکھتے ہوئے شجر کاری کے ذریعے اس عمل کی رفتار میں اضافہ کیا جاسکتاہے۔
16.9.1 جنگلات کے تحفظ میں عوام کی شرکت کا مطالعہ
(Case Study of People’s Participation in Conservation of Forests)
ہندوستان میں عوام کی شرکت کی طویل تاریخ ہے۔ 1731 میں جودھپور، راجستھان کے ایک راجا نے ایک نیا محل بنانے کے لیے اپنے وزرا سے عمارتی لکڑی جمع کرنے کے لیے کہا۔ وزیر اور ملازم درخت کاٹنے کے لیے ایک گاؤں کے قریب جنگل میں گئے جہاں بشنوئی رہتے تھے۔ بشنوئی قوم قدرتی ماحولیات کے ساتھ مل جل کر امن پسندانہ زندگی گذارنے کے لیے مشہور ہیں۔ انھوں نے راجا کے درخت کاٹنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ ایک بشنوئی عورت امرتیا دیوی نے مثالی جرأت کا مظاہرہ کیا اور درخت سے چپک کر راجا کے آدمیوں کو چیلنج کیا کہ درخت کو کاٹنے سے پہلے اس کو کاٹنا ہوگا۔ اس عورت کے لیے ایک درخت کی زندگی کی اہمیت اس کی اپنی زندگی کی اہمیت سے زیادہ تھی۔ افسوس کہ راجا کے آدمیوں نے اس کی ایک نہ سنی اور درخت کے ساتھ امرتیا دیوی کو بھی کاٹ دیا۔ اس کی تین بیٹیوں اور دوسرے سیکڑوں نے اس کی تقلید میں درخت کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں۔ تاریخ میں اس پیمانے کی ذمہ داری کی مثال نہیں ملے گی جہاں ماحول کی بہتری کے خاطر انسانوں نے اپنی جان کی قربانیاں دی۔ حکومتِ ہند نے حال ہی میں دیہی علاقوں کے ان افراد یا قوم کے لیے جنہوں نے وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے غیر معمولی جرأت اور اپنے تعلق کا مظاہرہ کیا ہو، ان کے لیے امرتیادیوی بشنوئی وائلڈ لائف تحفظ انعام کے قیام کا اعلان کیاہے۔
آپ نے گڑھوال (ہمالیہ) کی چپکو تحریک کے بارے میں تو ضرور سنا ہوگا۔ 1974ء میں مقامی خواتین نے درختوں کو ٹھیکیداروں کی کلہاڑی سے بچانے کے لیے درختوں سے چپک کر غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ پوری دنیا کی عوام نے چپکومومنٹ کی مدح سرائی کی۔
مقامی قوموں کی شرکت کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے 1980ء میں حکومتِ ہند نے جوائٹ فارسٹ منجمنٹ (جے ایف ایم) کا نظریہ پیش کیا تاکہ جنگلات کے نظم اور تحفظ کے لیے مقامی قوموں کے ساتھ مل کر کام جاسکے۔ جنگل کی خدمات کے بارے میں قوموں کو جنگل سے مختلف پیداواریں (مثلا پھل، گوند، ربر، ادویات وغیرہ) کی شکل میں فوائد حاصل ہوتی ہیں اس طرح جنگل کو دائمی طور پر تحفظ پہنچایا جاسکتا ہے۔
خلاصہ
ماحولیاتی آلودگی اور قیمتی قدرتی وسائل میں کمی سے متعلق اہم مسائل، مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی نوعیت میں مختلف ہیں۔ ہوائی آلودگی بنیادی طور پر کارخانوں اور آٹوموبائل میں فاسل فیول مثلاً کوئلہ اور پیٹرولیم کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسانوں، جانوروںاور پودوں کے لیے مضر ہے لہٰذا ہوا کو صاف رکھنے کے لیے انکا ہٹانا لازمی ہے۔ گھریلو سیویج، آبی اجسام کی آلودگی کا سب سے عام ذریعہ ہے جو پانی کے محلول آکسیجن کو کم کرتا ہے لیکن بائیوکیمکل ڈیمانڈ میں اضافہ کرتا ہے۔ گھریلو سیویج غذا ئی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے خاص طور پر نائٹروجن اور فاسفورس جن سے یوٹریفیکیشن اور الگل بلوم ہوتاہے۔ کارخانوں کے کوڑے میں عموماً زہریلے کیمیا خاص طور پر بھاری دھات اور نامیاتی مرکبات ہوتے ہیں۔ انڈسٹریل کچرا آبی عضویوں کو نقصان پہنچاتاہے۔میونسپل ٹھوس کچرے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں اور ان کو گڈھوںمیں دبا دینا چاہیے۔ نقصان دہ کچرے جیسے پانی کے بوسیدہ جہاز، ریڈیو ایکٹیو کچرے اور ای۔ کچرے کے لیے اضافی کوششوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مٹی کی آلودگی بنیادی طور پر زراعتی کیمیا (مثلاً کیڑے مار دوا) کی وجہ سے اور ان ٹھوس کچروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو کہ مٹی کے اوپر جمع ہوتے ہیں۔
دو اہم ماحولیاتی مسائل گرین ہاؤس اثر جو زمین کو گرم کر رہا ہے، اور سٹیریٹو سفیئر میں اوزون کی کمی، پوری دنیا پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ گرین ہاؤس اثر میں اضافے کی خاص وجہ کاربن ڈائی آکسائڈ، میتھین، نائٹرس آکسائیڈ اور سی ایف سی کے اخراج میں اضافہ ہے۔ یہ بارش کے نظام میں عالمی درجۂ حرارت میں شدید تبدیلیاں پیدا کردیتے ہیں، اس کے علاوہ عضویوں پر بھی اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سٹیریٹو سفیئر میں اوزون، جو الٹرا وائیلٹ تاب کاری کے اثرات سے ہمیں محفوظ رکھتی ہے، سی ایف سی کے اخراج کی وجہ سے تیزی سے کم ہورہی ہے اور جلد کے کینسر، میوٹیشن یا اچانک جینی ساخت کی تبدیلی اور دیگر بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔
مشق
1۔ گھریلو سیویج کے کون کون سے مختلف اجزا ہیں؟ سیویج کے دریا میں گرنے کے اثرات پر بحث کیجیے۔
2۔ آپ جو کچرا گھر یا اسکول یا مختلف مقامات پر اپنے سفر کے دوران پیدا کرتے ہیں ان کی فہرست بنائیے یا مختلف مقامات پر اپنے سفر کے دوران کیا آپ اس کو آسانی سے کم کرسکتے ہیں؟ کس کوکم کرنا مشکل یا تقریباً ناممکن ہے؟
3۔ گلوبل وارمنگ کے وجوہات اور اثرات پر بحث کیجیے۔ گلوبل وارمنگ کی روک تھام کے لیے کون سے اقدامات اٹھانے چاہئیں؟
4۔ کالم اے اور بی کے اجزا کو ملائیے:
کالم A کالم B
(a)کٹیا لیٹک کنورٹر (i) ذراتی
(b) الیکٹروسٹیٹک پریسی پی ٹیٹر (ii) کاربن مونو آکسائڈ اور نائٹروجن آکسائڈ
(c) کانوں میں روئی (iii) شور کی اونچی سطح
(d) زمینی بھراؤ (iv) ٹھوس کچرا
(v) ناکارہ جہاز
5۔ مندرجہ ذیل پر تنقیدی نوٹ لکھیے:
(a) یوٹروفیکیشن
(b) بائیولاجیکل میگنی فیکیشن
(c) زیر زمین پانی کے ذخیرے میں کمی اور اس کو بحال کرنے کے طریقے۔
6۔ انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون ہول کیوں بنتا ہے؟ الٹرا وائلیٹ تاب کاری میں اضافہ ہمیں کس طرح متاثر کرتا ہے۔
7۔ جنگلات کے تحفظ میں خواتین اورقوموں کے کردار پر بحث کیجیے۔
8۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے آپ ایک فرد کی حیثیت سے کیا اقدامات اٹھائیں گے؟
9۔ مندرجہ ذیل کو مختصراً بیان کیجیے:
(i) ریڈیو ایکٹیو کچرا
(ii) پانی کے بوسیدہ جہاز اورای۔ کچرا
(iii) میونسپل ٹھوس کچرا
10۔ دہلی میں گاڑیوں کے ذریعے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے گئے؟
11۔ مندرجہ ذیل کو مختصراً بیان کیجیے:
(i) گرین ہاؤس گیسیں
(ii) کیٹالیٹک کنورٹرز
(iii) الٹروائلٹ بی