تعارف
مذکورہ بالا مثال ایک ایسے کامیاب ادارے کی مثال ہے جو کہ ہندوستان کی اعلیٰ کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ اس مقام پر اپنے مینجمنٹ کے معیار کی وجہ سے پہنچا ہے۔مینجمنٹ کی ضرورت سبھی طرح کے اداروں میں ہوتی ہے چاہے وہ کمپیوٹر ساز ہوں یا ہینڈ لوم ہوں، اشیائے صرف کے تاجر ہوں یا بال سنوارنے کی خدمات فراہم کرنے والے ہوں۔یہاں تک کہ غیر کاروباری تنظیموں میں بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔آئیے ایک دوسری مثال دیکھتے ہیں۔
سوہاسنی، فیب مارٹ نامی ایک تنظیم کی برانچ منیجر ہیں۔ یہ ادارہ ہندوستانی دستکاری او رہینڈ لوم کے مال کی فروخت کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ روایتی فن کاروں کو مناسب ملازمت فراہم کرنے کا کام بھی کرتاہے۔ فیب مارٹ اپنے مال کو، پورے ہندوستان سے، 7500 سے زائد فن کاروں اور کاری گروں سے حاصل کرتا ہے۔ مال کی منصوبہ بندی کرنا ایک مشکل کام ہے۔ یہ کام مارکٹنگ اور ڈیزائننگ کے ماہرین کے ذریعہ اس بات کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی بنایاجائے وہ بازار کی ضرورت کے مطابق ہو۔سوہاسنی کے ان منصوبوں کو قصباتی فن کاروں کو بھیج دیتی ہیں جو دراصل ان منصوبوں کوعملی جامہ پہناتے ہیں۔
فیب مارکٹ ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے جس کی متعدد شاخیں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کا تنظیمی ڈھانچہ پیچیدہ ہے جس میں حقیقی پیداوار کاکام کئی ماہر فن کاروں کے ہاتھ میں ہے اور مارکٹنگ کا کام مختلف شاخوں کے عملے کے ذریعہ کیا جاتاہے۔ ایک شاخ میں مینجمنٹ کا کام سوہاسنی کرتی ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ملازمین کومسلسل ہدایات اور ترغیب فراہم کرتی رہیں ۔ انھیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ پیداوار منصوبوں کے مطابق کی جائے تاکہ فروخت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سوہاسنی کی زندگی کا ہر کاروباری دن ایک دوسرے سے جڑے، مسلسل کاموں کے ایک سلسلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسے دیوالی اور کرسمس کے لیے مخصوص تہواروں میں استعمال ہونے والے مال کو اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے زیادہ فنڈس کا مینجمنٹ کرنا پڑتا ہے اور زیادہ فن کاروں کو بھرتی کرنا پڑے گا۔ اسے اپنے سپلائرز کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھنا پڑتا ہے تاکہ اشیاکی حوالگی بروقت ہوسکے۔ دن کے خاتمہ پر وہ گاہکوں سے عام تاثر (فیڈ بیک) معلوم کرنے کے لیے ملتی ہیں اور ان اشیاکے بارے میں ان سے تجاویز بھی لیتی ہیں۔
سوہاسنی فیب مارٹ کی منیجر ہے۔ اسی طرح بومبے ڈائنگ کی نُسلی واڈیہ، مائیکرو سافٹ کے بل گیٹس، ایچ سی ایل انٹرپرائز کے شیو نادار، پیپسی کوکی اندرانوئی اور آپ کے اسکول کے منتظم آپ کے پرنسپل ہیں۔ یہ تمام لوگ تنظیموں کا مینجمنٹ کرتے ہیں۔ اسکول، اسپتال، دکانیں اور بڑی کارپوریشنس مختلف مقاصد رکھنے والے ایسے ادارے ہیں جن کا مقصد کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ چاہے کوئی بھی تنظیم ہو یا اس کے کچھ ہی مقاصد ہوں لیکن چند چیزیں ان سب میں یکساں ہوتی ہیں وہ ہیں مینجمنٹ اور منتظمین۔
آپ مشاہدہ کرچکے ہیں کہ بطور منیجر سوہاسنی کا کام مختلف سلسلہ وار سرگرمیوں یا کاموں پر مشتمل ہے جن کا مقصد ادارے کے مقاصد کا حصول ہے۔ یہ ایک دوسرے سے جڑے اور ایک دوسرے پرمنحصر کام مینجمنٹ کاحصہ ہیں۔ کامیاب ادارے اپنے مقاصد کو غیر شعوری طور پر حاصل نہیں کرتے بلکہ وہ ان مقاصد کی حصولیابی کے لیے ایک شعوری اور دانستہ طریقۂ کار اپنا تے ہیں جسے مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔
مینجمنٹ تمام تنظیموں کے لیے ضروری ہے چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، منافع کمانے والے ہوں یا غیر منفعتی خدمات مہیّا کرنے والے ہوں یا اشیا سازی کرنے والے۔ مینجمنٹ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہر فرد اجتماعی مقاصد کے لیے بہترین کوشش کرے۔
مینجمنٹ ایک دوسرے سے جڑے کاموں کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے جو کہ تمام منتظمین کے ذریعہ انجام دیے جاتے ہیں۔ HCL انٹر پرائز کا CEO شیو نادار تمام کاموں کو فیب مارٹ کی سوہاسنی کی طرح ہی انجام دیتا ہے۔ اس باب میں آگے چل کر آپ اس بات کو سمجھ سکیں گے کہ حالانکہ یہ دونوں ہی منیجر ہیں لیکن یہ دونوں تنظیم کی مختلف سطحوں پر کام کرتے ہیں۔ بہر حال مختلف کاموں میں مینجروں کے ذریعے صرف کیا جانے والا وقت مختلف ہوتا ہے۔تنظیم کی نچلی سطح کے مقابلے میں تنظیم کی اعلیٰ سطح پر منیجر منصوبہ بندی اور تنظیم کاری میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔
مینجمنٹ کی تعریفیں (Definitions of Managemnet)
’’مینجمنٹ ایک ایسے ماحول کو تشکیل کرنے اور بنائے رکھنے کا عمل ہے جس میں افراد گروپوں کی شکل میں ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ، منتخب مقاصد کو موثر طور پر حاصل کرتے ہیں۔‘‘
—Harold Koontz and Heinz Weihrich.
’’مینجمنٹ کی تعریف میں کہاجاتا ہے کہ یہ تنظیم کے کاموں کی منصوبہ بندی کرنے، اس کو آرگنائز کرنے، عمل درآمد کرانے اور کنٹرول کرنے کا عمل ہے تاکہ انسانی اور مادی وسائل میں ایک تال میل قائم ہوسکے جو کہ مقاصدکے موثر حصول کے لیے ضروری ہے۔‘‘
—Robert L. Trawelly and M. Gene Newport.
’’مینجمنٹ تغیر پذیر ماحول میں محدود وسائل کا مؤثر طور پر استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ نیز ان کے وسیلے سے کام انجام دینے کا عمل ہے تاکہ تنظیمی مقاصد کو موثر طور پر حاصل کیا جاسکے۔‘‘
—Kreintner
تصور (Concept)
مینجمنٹ ایک بہت مشہور اصطلاح ہے جس کا وسیع طور پر استعمال ہرطرح کی سرگرمیوں کے لیے کیا جارہا ہے لیکن خصوصی طورپر اس کا استعمال کسی ادارے میں مختلف سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے کیا جاتا ہے
جیسا کہ آپ نے مندرجہ بالا مثال اور کیس اسٹڈی میں مشاہدہ کیا کہ مینجمنٹ ایک ایسی سرگرمی ہے جو ایسی جگہوں پر ضروری ہے جہاں لوگ اجتماعی طور پر ایک تنظیم میں کام کرتے ہوں۔تنظیموں میں لوگ مختلف کاموں کو انجام دیتے ہیں لیکن وہ سب ہی یکساں مقصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ مینجمنٹ کا مقصد یکساں مقاصد کے حصول کے لیے ان کی کوششوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ اس طرح، مینجمنٹ یہ دیکھتا ہے کہ کام کی تکمیل اور مقاصد کا حصول (موثریت کے ساتھ) کم سے کم لاگت پر اور کم سے کم وسائل (کفایت) کے ساتھ ہوجائے۔
اس لیے مینجمنٹ کی تعریف میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مقاصد کے حصول کے لیے کفایتی اور مؤثر طور پر کام لینے کا عمل ہے۔ہمیں اس تعریف کاتجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی کئی اصطلاحات ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ یہ ہیں (a) عمل (Process( (b) مؤثر طورپر (Effectivety) اور (c) کفایتی طورپر (Efficiently)۔
عمل سے مراد وہ ابتدائی سرگرمی یا کام ہے جو کہ مینجمنٹ کام لینے کے لیے انجام دیتا ہے۔ یہ کام منصوبہ بندی، تنظیم ، عملے کی فراہمی، ہدایات اور کنٹرول کرنا ہیں جن کا مطالعہ ہم اس باب میں آگے چل کر کریں گے۔
کام کے موثر ہونے یا کام موثر طور پرکرنے سے مراد دیے گئے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔مینجمنٹ میں موثریت (Effectiveness) کا تعلق صحیح طور پر کام کرنے، سرگرمیوں کو مکمل کرنے اور مقاصد کو حاصل کرنے سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا تعلق اختتامی نتائج سے ہے۔
لیکن کام کو مکمل کرنا کافی نہیں ہے۔ ایک اور پہلو بھی ہے یعنی کفایت (Efficiency) کا ہونا۔ یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ کام کو کفایت کے ساتھ کام کرنا۔
کفایت سے مطلب ہے کام کو درست طورپر اورکم ازکم لاگت کے ساتھ انجام دینا۔ اس میں لاگتی فائدے کا تجزیہ اور لگائے گئے وسائل اور پیداوار کے درمیان تعلق شامل ہے۔ اگر کم وسائل کا استعمال کرکے زیادہ فائدہ حاصل کیا جارہا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ کفایت میں اضافہ ہوچکا ہے۔کفایت میں اس وقت بھی اضافہ ہوتا ہے جب چند وسائل کا استعمال کرکے یا کم لاگت لگا کر پہلے جیسی ہی پیداوار یا فائدہ حاصل کیا جارہا ہو۔کسی خاص کام کو انجام دینے کے لیے مطلوبہ اورضروری وسائل میں روپیہ، خام مال اوزار اور افراد شامل ہیں۔مینجمنٹ کا تعلق ان وسائل کے کفایت مندانہ یا با صلاحیت استعمال سے ہے کیونکہ ان کی وجہ سے لاگتیں کم ہوتی ہیں اور منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔
موثریت بنام کفایت
(Effectiveeness versus Efficiency)
یہ دونوں اصطلاحات مختلف ہیں لیکن ان کا آپس میں باہمی تعلق ہے۔مینجمنٹ کے لیے موثریت اور کفایت دونوں اہم ہیں۔ موثریت اور کفایت ایک سکے کے دو پہلو ہیں۔لیکن ان دونوں پہلوؤں میں توازن کا ہونا ضروری ہے۔بعض اوقات مینجمنٹ کو کفایت کے معاملے میں سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔مثلاً موثر ہونا آسان ہے اور کفایت کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہے۔ یعنی دیے گئے کام کو زیادہ لاگت پر مکمل کیا جاسکتاہے۔ فرض کیجیے ایک کمپنی کا نشانہ ایک سال میں 5,000 اکائیوں کی پیداوار ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے منیجر کو دو شفٹوں میں کام کرنا پڑے گا کیونکہ زیادہ تر وقت بجلی موجود نہیں رہتی۔ منیجر 5000 اکائیاں بنانے کا نشانہ حاصل کرنے کا اہل ہے لیکن زیادہ پیداواری لاگت پر۔ اس صورت میں منیجرنے موثریت (Effectiveness) سے کام کیا لیکن کفایت سے نہیں کیونکہ یکساں پیداوار کے لیے زیادہ وسائل (مزدوری، لاگت اور بجلی) کا استعمال کیا گیا۔
بعض اوقات، ایک کاروبار چند وسائل کا استعمال کرکے زیادہ اشیاکی پیداوار پر توجہ مرکوز کرتا ہے یعنی نشانہ کی پیداوار کو نہ حاصل کرکے لاگت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نتیجتاً اشیابازار تک نہیں پہنچتیں اور ان کی مانگ میں گراوٹ آجاتی ہے جس کی وجہ سے مدِّ مقابل (Competitors) بازار میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یہ صورت مؤثر نہ ہو کر محض اہل ہونے کی ہے کیونکہ اشیابازار تک نہیں پہنچتیں۔
اس لیے، مینجمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ کم ازکم وسائل کے ذریعے مقاصد حاصل ہوں یعنی جتنا ممکن ہو کفایت کے ساتھ ہو اور موثریت وکفایت میں توازن قائم رہے۔ اکثر اعلیٰ کفایت کو اعلیٰ موثریت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جو کہ تمام منیجروں کا مقصد ہوتا ہے۔ لیکن مؤثر ہوئے بغیر اعلیٰ کفایت پر بے جا زور دینا بھی بہتر نہیں ہے۔خراب مینجمنٹ کی بڑی وجہ غیرکفایتی اور غیر موثریت دونوں ہی ہیں۔
مینجمنٹ کی خصوصیات (Charactreistics of Management)
چند تعریفوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں چند ایسے عناصر کا پتہ چلتا ہےجنھیں مینجمنٹ کی بنیادی خصوصیات کہا جاسکتا ہے۔
(i) مینجمنٹ ہدف کی سمت میں کیا جانے والا عمل ہے (Management is a goal-oriented process): ایک تنظیم کے متعدد بنیادی ہدف ہوتے ہیں جو کہ اسے قائم کرنے کا بنیادی سبب ہوتے ہیں۔ یہ سادہ اور واضح طورپر بیان ہونے چاہئیں۔مختلف تنظیموں کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک خوردہ اسٹور کا مقصد فروخت میں اضافہ کرنا ہوسکتا ہے لیکن ہندوستان کی اسپاسٹک سوسائٹی کا مقصدمخصوص ضرورتوں والے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا ہے۔مینجمنٹ ان مقاصد کے حصول کی جانب مختلف افراد کی کوششوں کو متحد کرتا ہے۔
(ii) مینجمنٹ کا تمام جگہ پھیلاوہے (Management is all pervasive) :
تمام تنظیموں میں چاہے وہ معاشی ہوں، سماجی یا سیاسی ہوں ان میں ادارے کا مینجمنٹ کرنے کی یکساں سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ ایک پیٹرول پمپ کا مینجمنٹ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک اسپتال یا ایک اسکول کا مینجمنٹ کرنا۔منیجروں کا جو کام ہندوستان میں ہے وہی کام امریکہ، جرمنی اور جاپان میں بھی ہے۔ وہ اس کام کو کیسے انجام دیتے ہیں یہ ذرا مختلف ہوسکتا ہے۔ یہ فرق تاریخ، ثقافت اور رواج میں امتیازات کی بنا پر ہے۔
(iii) مینجمنٹ کثیر جہتی ہوتاہے (Management is multidimensional) :
مینجمنٹ ایک پیچیدہ سرگرمی ہے اور اس کی تین اہم جہتیں ہیں جویہ ہیں:
(a) کام کا مینجمنٹ: تمام تنظیموں کا وجود چند کاموں کو انجام دینے کے لیے ہوتاہے۔کسی فیکٹری میں مال تیار کیا جاتا ہے، کسی کپڑے کی دوکان میں گاہکوں کی ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے اور کہیں کسی اسپتال میں مریض کا علاج کیا جاتا ہے۔مینجمنٹ اس کام کوحاصل کیے جانے والے مقاصد کے نام سے جانا جاتا ہے اور انھیں حاصل کرنے کے لیے ذرائع فراہم کرتا ہے۔ یہ کام ، مسائل کو حل کرکے، فیصلے لے کر، منصوبے بنا کر، بجٹ تیار کرکے، ذمہ داریاں سونپ کر، اور اختیارات دے کر انجام دیا جاتا ہے۔
GE کا مینجمنٹ منتر (The Management Mntra from GE)
1981 میں جیک ویلچ کو GE کا سی ای او مقرر کیا گیا۔ اس وقت فرم کی بازاری اثاثہ 13بلین ڈالر تھا۔ 2000 میں جب وہ اپنے عہدے سے ہٹا تو فرم کا لین دین کئی گنا بڑھ کر 500 بلین ڈالر ہو چکا تھا۔ ویلچ کی کامیابی کا راز کیا تھا؟ اس
نے منیجروں کو کامیاب مینیجر بنانے کے لیے حسب ذیل نکات تدوین کیے:۔
• ایک خواب تخلیق کرو اور اس کے بعد اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی تنظیم میں آگ سی لگا دو۔ لوگوں کو اپنے کام کے لیے اتنا جذباتی کرو کہ وہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کا انتظارتک نہ کرسکیں۔ نتائج کے حصول اور لوگوں کو حوصلہ مند اورپرجوش کرنے کی صلاحیت اور مقابلہ کرنے کے جذبے کے لیے تمھارے پاس بھرپور توانائی ہونی چاہیے۔ ایسے رہنماؤں کو تلاش کرو جن میں یہ خصوصیات موجود ہوں۔
• کلیدی یا اہم معاملات پر توجہ: تمھارا کام اپنے ہر ایک کاروبار میں موجود اہم مسئلوں کو سمجھنا ہے۔ ان بازاروں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ذہانت وصلاحیت کی نشان دہی کرو۔
• اہم مسئلے پر توجہ: تمھارا کام بڑے بڑے تصورات قائم کرنا ہے۔ ہر ایک تفصیل کامینجمنٹ مت کرو۔خود کو باریکیوں میں مت الجھائو بجائے اس کے دوسروں کو اپنے چند خوابوں کی تکمیل کےلیے ترغیب دو۔ اپنے اطراف میں کام کے لوگوں کو رکھو اور ان کے کام میں ان پر اعتماد کرو اورتنظیم کے لیے ان کی بہترین کوششوں اور کاوشوں کو اپنے ساتھ لو۔
• ہرایک کو اپنے ساتھ لاو اورہر جانب سے عظیم خیالات کو خوش آمدید کہو: ہر کوئی ایک رہنما بن سکتا ہے بشرطیکہ تنظیمی کاموں میں حصہ لے اور ہر ایک کے لیے حصہ لینے کا بہترین اور بامعنی طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک اچھا خیال یا مشورہ ظاہر کرے۔ کاروبار ہر کسی سے اس کے بہترین خیالات حاصل کرنے کا نام ہے۔ نئے خیالات تنظیم کی جان ہیں۔ یہ وہ ایندھن ہے جس سے تنظیم دوڑتی ہے۔ ’’ہیرو وہ شخص ہے جس کے پاس نیا خیال ہو۔‘‘ درحقیقت ایک تنظیم کے لیے اتنی زیادہ اہمیت کسی بات کی نہیں ہے جتنی ایک خواب کی تخلیق اور خیالات کے اظہار کی ہے۔
• مثال قائم کرکے رہنمائی کرو: دوسروں میں کام کو انجام دینے کا جذبہ ابھارنے کے لیے، آپ کو مثال قائم کرکے رہنمائی کرنی لازمی ہے۔ جیک ویلچ (Jack Welch) کے بیان کردہ چار قائدانہ اصول ہمیشہ مشعل راہ ہوں گے۔ یہ اصول انگریزی کے حرف 'E' سے شروع ہوتے ہیں یعنی
(Energy (i (توانائی)
(Energise (ii (حوصلہ افزائی)
(Edge (iii (مقابلہ جاتی حوصلہ) اور
(Execution (iv) (نفاذ)۔ ’’اس کے پاس عظیم توانائی تھی، اس نے دوسروںکو حوصلہ مندی عطا کی،اس کے پاس بہترین مقابلہ کرنے کی ہمت تھی، اور پروگراموں کو نافذ کرنے اور ان کو عمل میں لانے کا اس کا ریکارڈ ایسا تھا کہ اس کے بعد اس کی مثال نہیں ملتی۔‘‘ یہی ویلیج کے غیر معمولی ہونے کی کنجی ہے۔ اگر خود ویلچ میں یہ خوبیاں نہ ہوتیں تو وہ شہرت کے اس بلند مرتبے پر نہ پہنچتا۔
ماخذ: www.ge.co.in
(b) لوگوں کا مینجمنٹ:
انسانی وسائل یا لوگ کسی تنظیم کا عظیم اثاثہ ہوتے ہیں۔ٹکنالوجی میں تمام تر ترقی کے باوجود ایک منیجر کے لیے اب تک سب سے اہم کام ’’دوسروں سے کام لینا ہی ہے‘‘۔مینجمنٹ کرنے والوں کی دو جہتیں ہیں (i) اس سے مراد مختلف ضرورتوں اور رویّوں کے حامل افراد سے تعلق قائم رکھنا ہے۔ (ii) اس سے مراد لوگوں کے افراد سے اجتماعی تعلق رکھنابھی ہے۔مینجمنٹ کا کام تنظیمی مقاصد کے حصول کے لیے لوگوں سے کام لینا ہے۔مینجمنٹ لوگوں کی قوت کو مؤثر بنا کر اور ان کی کمزوریوں کو غیرمتعلق مان کر یہ عمل انجام دیتی ہے۔
(c) کاموں کا مینجمنٹ:
چاہے جو بھی تنظیم ہو اسے اپنی بقا کے لیے چند بنیادی اشیا یا خدمات فراہم کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے لیے ایک ایسے پیداواری عمل کی ضرورت ہوتی ہے جو خام مال، وسائل اور ٹکنالوجی کے بہاو کو تبدیل کرکے کھپت کے لیے درکار تیار مال میں بدل دے۔ اس کا باہمی تعلق کام کے مینجمنٹ اور لوگوں کے مینجمنٹ دونوں سے ہے۔
مل جل کر ہر شخص زیادہ کامیابی حاصل کرتا ہے
انسانی وسائل
پیداوار
مالیات
بازار
(iv) مینجمنٹ ایک مسلسل عمل ہے (Management is a continuous process) :
مینجمنٹ ایک مسلسل، مشترکہ لیکن علاحدہ کاموں (منصوبہ بندی، تنظیم کاری، ہدایات کاری، عملے کی فراہمی اور کنٹرول کرنے) کا عمل ہے۔ یہ کام تمام منیجروں کے ذریعے بہ یک وقت ایک ساتھ انجام دیے جاتے ہیں۔ آپ مشاہدہ کرچکے ہیں کہ فیب مارٹ میں سوہاسنی متعدد کاموں کو ایک ہی دن میں انجام دے دیتی ہیں۔ اور کسی دوسرے دن وہ اپنا وقت ملازمین کے مسائل کو جاننے میں صرف کرتی ہیں۔منیجر کا کام کاموں کے ایک جاری رہنے والے سلسلے پر مشتمل ہوتا ہے۔
(v) مینجمنٹ ایک اجتماعی سرگرمی ہے (Management is a group activity) :
ایک تنظیم مختلف ضروریات کے حامل مختلف افراد کا مجموعہ ہوتی ہے۔گروپ کے ہر فرد کا مقصد اس تنظیم میں شامل ہونے کے لیے مختلف ہوتا ہے۔لیکن تنظیم کے ممبران کی حیثیت سے وہ یکساں تنظیمی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس کے لیے ایک یکساں سمت میں انفرادی کوشش کے تال میل اور ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایک منتظمہ کی ذمّے داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام افراد (ملازمین) کو تغیر پذیر ضرورتوں اور مواقع کے مطابق نشوونما پانے او رپھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرے۔
منصوبہ بندی
تنظیم کاری
کنٹرول کرنا
قیادت
انسانی وسائل
مالی وسائل
اطلاعاتی وسائل
مادی وسائل
مینجمنٹ —
ایک کثیر جہتی سرگرمی
(vi) مینجمنٹ ایک متحرک عمل ہے (Management is a dynamic function):
مینجمنٹ ایک متحرک عمل ہے اور اس انتظام کو تغیر پذیرماحول کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ ایک تنظیم کو خارجی ماحول کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا ہے۔ یہ ماحول مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل پر مشتمل ہوتا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے، ایک ادارے کو ماحول کی ضرورتوں کے مطابق اپنے آپ میں اور اپنے مقاصد میں تبدیلی کرنا لازمی ہے۔ شاید آپ جانتے ہوں کہ فاسٹ فوڈ کے لیے مشہور میک ڈونالڈ (Mc Donalds) نے ہندوستانی بازار میں کامیابی اور بقا حاصل کرنے کے لیے اپنے مینو میں اہم تبدیلیاں کیں۔
(vii) مینجمنٹ ایک ناقابلِ دید قوت ہے (Management is an intangible force):
مینجمنٹ ایک غیر مرئی قوت ہے جس کو دیکھا نہیں جاسکتا لیکن تنظیم کے کام کرنے کے طریقہ سے اس کی موجودگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جہاں منصوبوں کے مطابق نشانوں کو پورا کیا جاتا ہو، ملازمین خوش اور مطمئن ہوں، اور جہاں ہنگامہ آرائی کی جگہ ترتیب ہووہاں مینجمنٹ کے اثر ونفوذکا پتہ چل جاتا ہے۔
مینجمنٹ کے مقاصد
(Objectives of Management)
مینجمنٹ کسی سرگرمی کے مطلوبہ نتائج سے مخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان مقاصد کا حصول کسی بھی کاروبار کی بنیادی غرض ہوتی ہے۔کسی بھی تنظیم میں مختلف مقاصد ہوتے ہیں اور مینجمنٹ کو ان تمام مقاصد کو مؤثر اور سلیقہ مندی سے حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مقاصد کی درجہ بندی تنظیمی، سماجی اور ذاتی یا انفرادی مقاصد کے اعتبار سے کی جاسکتی ہے۔
(i) تنظیمی مقاصد (Organisaitonal Objectitves) :
مینجمنٹ تنظیم کے مقاصد کے تعین اورحصول کے لیے ذمے دار ہوتی ہے۔ اس کو تمام فریقوں کے مفاد کا خیال کرتے ہوئے تمام میدانوں میں مختلف مقاصد حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ ان فریقوں میں حصے دار، ملازمین، صارف اور حکومت شامل ہیں۔کسی بھی تنظیم کا خاص مقصدانسانی اور مادی وسائل کوممکن حد تک زیادہ سے زیادہ افادیت کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔یعنی کہ کاروبار کے معاشی مقاصد کو پورا کرنا جن میں بقا (Survival)، منافع (Profit) اور نشوونما (Growth)۔
بقا: بقا کسی بھی کاروبار کا بنیادی مقصد ہے۔مینجمنٹ کو ادارے کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ بقا حاصل کرنے کے مقصد سے ایک ادارے کو اپنی لاگتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی محصولات کمانا لازمی ہے۔
منافع: کاروبار کے لیے محض بقا کا ہونا کافی نہیں ہے مینجمنٹ کو اس بات کو بھی یقینی بنانا پڑتا ہے کہ ادارہ منافع کمائے۔ ادارے کے کام کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے منافع زبردست ترغیب فراہم کرتا ہے۔ کاروباری جوکھم اور لاگتوں کو پورا کرنے کے لیے منافع ضروری ہے۔
نشوونما: کاروبار کو طویل مدت میں پیش آنے والے امکانات کو اپنی ضرورت میں شامل کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے کاروبار کی نشوونما ضروری ہے۔صنعت میں اپنا مقام قائم رکھنے کے لیے مینجمنٹ کو ادارے کی نمو کی لیاقت کو مکمل طور پر بروئے کار لانا ضروری ہے۔ کاروبار کی نشوونما کی پیمائش فروخت میں اضافہ، ملازمین کی تعداد، مال کی تعداد ومقدار یا سرمایہ کاری میں اضافہ وغیرہ سے کی جاتی ہے۔نشوونما کی دیگر علامتیں بھی ہوسکتی ہیں۔
(ii) سماجی مقاصد (Social Objectives):
اس مقصد کے تحت،کسی بھی تنظیم کی سماج کے لیے افادیت شامل ہے۔ سماج کے ایک حصے کے طورپر، ہرادارے کو، خواہ وہ کاروباری ہو غیر کاروباری، سماجی ذمہ داری پوری کرنی ہوتی ہے۔ اس سے مراد سماج کے مختلف تشکیلی عناصر کے لیے مستقل طورمعاشی قدر (Economic Value) کو تخلیق کرنا ہے۔ اس میں پیداوار کے دوستانہ ماحول کے طریقوں کا استعمال کرنا، سماج کے کمزور طبقوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا، بنیادی سہولیات جیسے اسکولوں اور ملازمین کے لیے دارالاطفال وغیرہ کی فراہمی شامل ہیں۔پچھلے صفحے پر دیا گیا باکس اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک کمپنی اپنی سماجی ذمے داری کو کیسے پورا کرتی ہے۔
آئی ٹی سی (ITC) دیہی ہندوستان کو بااختیار بنا رہا ہے
ایک خاموش ڈیجیٹل انقلاب ہندوستان کے دوردراز دیہاتوں کے کسانوں کی زندگیوں میں تشکیل پارہا ہے۔ ان دیہاتوں میں کسان زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر ہزاروں سال سے سویا بین، گیہوں اور کافی اگاتے آرہے ہیں۔ روایتی گاؤں میں بجلی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، ٹیلی فون کی لائنیں دقیانوسی ہوچکی ہیں۔کسان زیادہ تر ناخواندہ ہیں اور انھوں نے کمپیوٹر کبھی نہیں دیکھا ہے۔لیکن اب ان دیہاتوں کے کسانوں نے ای۔ چوپال نامی ایک ابتدا کے ذریعہ ای کاروبار کی شروعات کردی ہے جو کہ ITC کے ذریعہ تخلیق کیا گیاہے ITC ہندوستان کی اشیائے صرف اور زراعتی کاروبار کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
ITC کی ای۔ چوپال کاروباری اداروں کے ذریعے اپنی سماجی ذمے داری کو پورا کرنے کی ایک اچھی مثال ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دیہی ہندوستان کے کسانوں کو براہِ راست بازار کاری کے ذرائع کو استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا اور بڑی تعداد میں بچولیوں اور ان کے ہاتھوں مال کی بربادی نیز غیر ضروری سودا لاگتوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ ای۔ چوپال دیہی ہندوستان میں سے کسی کمپنی کے ذریعے انفارمیشن ٹکنالوجی پر مبنی واحد سب سے بڑی شروعات ہے، جس نے ہندوستانی کسانوں کو ترقی پسند اورعلم کے متلاشی شہریوں میں تبدیل کردیا ہے اور انھیں قوتِ عمل سے مالا مال اور بااختیار بنا کر ایک نئے بلند مرتبے پر فائز کردیا ہے۔
ای چوپال کسان کی فیصلہ لینے کی قوت کو بہتر بنانے کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق علم اور معاصر معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس میں زراعتی پیداوار کوبازاری مانگ سے جوڑنا بہتر طور پر بہتر معیار اور پیداواری صلاحیت حاصل کرنا، بہترقیمتوں کی کھوج کرنا شامل ہیں۔ چونکہ دیہی سیکٹر میں تعلیمی سطح کم ہے اس لیے گاؤں کا رہنما کسان جسے چوپال سنچالک کہا جاتاہے اس کا رول اس پراجیکٹ میں مرکزی ہے۔ یہ چوپال سنچالک کسانوں اورکمپیوٹر ٹرمنل کے درمیان مادی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ای۔چوپال اسمارٹ کارڈ، ضرورت کے مطابق ای ویب سائٹ پرمعلومات فراہم کرنے کے لیے کسان کی شناخت کیا کرتا ہے۔ استعمال کی مقدار اور مالیت کے لیے کسانوں کو انعامات سے نوازنے کی خاطر آن لائن سودوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
ای چوپال کا مطالعہ ہاورڈ بزنس اسکول میں ایک کیس اسٹڈی کے طورپر کیا جارہا ہے جو کہ غریب دیہاتیوں کی بھلائی کے لیے، ایک بڑے کاروباری ادارے کے ذریعے جدید ٹکنالوجی کے استعمال کی مثال ہے۔
ماخذ: موہن بیر ساہنی، میک کورمیک ٹریبوین پروفیسر آف ٹکنالوجی،
کیلوگ اسکول آف مینجمنٹ، امریکہ
(iii) ذاتی مقاصد (Personal Objectives):
تنظیمیں مختلف شخصیات، پس منظر، تجربات اور مقاصد رکھنے والے لوگوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ یہ سبھی لوگ اپنی مختلف ضرورتوں کو پوراکرنے کے لیے تنظیم کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ ضرورتیں مالی ضروریات بھی ہوسکتی ہیں جیسے بہتر تنخواہ اور انعامات، سماجی ضروریات بھی ہوسکتی ہیں جیسے سماج میں اپنے مقام وحیثیت کی شناخت اور اعلیٰ سطحی ضروریات بھی ہوسکتی ہیں جیسے ذاتی نشوونما اور ترقی۔ مینجمنٹ افراد کے ذاتی اغراض کو ادارے کے مفادات ومقاصد سے ہم آہنگ کروا رہی ہے۔
مینجمنٹ کی اہمیت (Importance of Management)
ہم جان چکے ہیں کہ مینجمنٹ ایک آفاقی سرگرمی ہے جو کہ کسی بھی تنظیم کا جزو لازم ہے۔ آئیے اب ہم چند ایسے امور کا تجزیہ کریں جنھوں نے مینجمنٹ کو اتنا اہم بنا دیاہے:
(i) مطلوبہ مقاصد کے حصول میں مدد (Management hleps in achiveving group goals) : مینجمنٹ کی ضرورت خود اس کے لیے نہیں ہوتی اپنے بلکہ اس کی ضرورت تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ ایک منیجر کا کام تنظیم کے تمام تر مقاصد کو حاصل کرنے میں انفرادی کوشش کو ایک مشترکہ سمت فراہم کرنا ہے۔
(ii) مینجمنٹ لیاقت میں اضافہ کرتا ہے (Mangement increases efficiency): ایک منیجرکا مقصد بہتر منصوبہ بندی، تنظیمی صلاحیت، ہدایات، عملے کی فراہمی اور تنظیم کی سرگرمیوں میں باقاعدگی پیدا کرکے کم لاگت پر پیداوری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔
(iii) مینجمنٹ ایک فعال تنظیم کی تخلیق کرتی ہے (Management creats a dynamic organisation) : تمام اداروں کو ایسے ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے جومسلسل تغیر پذیر رہتا ہے۔ عام طورپر دیکھا گیا ہے کہ ادارے کے افراد تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں کیوں کہ اس کا مطلب اکثر ایک جانے پہچانے اور محفوظ ماحول سے، ایک نئے اور زیادہ چیلنج بھرے ماحول کو قبول کرنا ہوتا ہے۔مینجمنٹ ان تبدیلیوں کے مطابق لوگوں کو ڈھلنے میں مدد کرتا ہے تاکہ ادارہ مقابلہ کرنے کی خاصیت وبرتری کو قائم رکھ سکے۔
(iv) مینجمنٹ ذاتی مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے (Management helps in achiveving personal objectives): ایک منیجر اپنی ٹیم کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی اس طرح کرتا ہے کہ انفرادی ممبران تمام ترتنظیمی مقاصد کے لیے کوشاں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی مقاصد بھی حاصل کرلیتے ہیں۔مینجمنٹ رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے کارکنوں کی ٹیم کے اندر تعاون اوراجتماعی کامیابی، کے لیے لگن کے جذبے کو بیدارکرنے میں مدد کرتی ہے۔
(v) مینجمنٹ سماج کی ترقی میں مدد کرتی ہے (Management helps in the developement of socity): ایک ادارہ اپنے مختلف گروپوں کے تئیں کثیر مقاصد رکھتا ہے۔ ان تمام مقاصد کو پورا کرنے کے عمل میں مینجمنٹ ادارے کی ترقی میں مدد کرتا ہے اور اس کے ذریعے یہ سماج کی ترقی میں مدد کرتا ہے۔ یہ اچھے معیاری اشیااور خدمات کی فراہمی، روزگار کے مواقع کی تخلیق اور لوگوں کی بھلائی کے لیے نئی ٹکنالوجی کو اپنانے میں مدد کرتا ہے اور اس طرح ترقی اور نشوونما کی راہ میں رہنمائی کرتا ہے۔
مینجمنٹ کی نوعیت
(Nature of Mangement)
مینجمنٹ اتنا ہی قدیم ہے جتنی ہماری تہذیب۔حالانکہ جدید تنظیمیں دور حاضر کی پیداوار ہیں لیکن تنظیمی سرگرمیاں قدیم تہذیب وتمدن کے وقت سے ہی وجود میں آچکی تھیں۔ درحقیقت تنظیموں کو، غیرمہذب سماج سے مہذب سماج کو علاحدہ کرنے والا ایک خط فاصل مانا جاتاہے۔ پرانے زمانے میں مینجمنٹ ان اصول وضوابط کا مجموعہ تھے جو سرکاری اور کاروباری سرگرمیوں سے حاصل شدہ تجربات کی بنیاد پر وضع کیے گئے تھے۔ تجارت اور کامرس کی ترقی رفتہ رفتہ مینجمنٹ کے اصولوں اور طور طریقوںکی ترقی کا باعث بنی۔
آج مینجمنٹ کی اصطلاح کے کئی معنیٰ ہیں جو اس کی نوعیت کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔مینجمنٹ کے مطالعے کا ارتقا ایک طویل عرصے میں جدیدتنظیموں کے ساتھ ساتھ ہوا ہے جو کہ منیجروں کی عمل آوری اور وتجربات اوران کے درمیان نظریاتی رشتوں کی بنیادپر استوار ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک ہمہ جہت مضمون بن چکا ہے جس کی اپنی الگ خصوصیات ہیں۔ بہر حال، ایک سوال جس پر توجہ دی جانی ضروری ہے وہ مینجمنٹ کی نوعیت سے متعلق ہے کہ آیا مینجمنٹ ایک سائنس ہے یا ایک فن ہے یا پھر یہ دونوں ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے آئیے ہم سائنس اور فن دونوں کی خصوصیات کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ مینجمنٹ انھیں کس حد تک پورا کرتا ہے۔
مینجمنٹ ایک آرٹ کی حیثیت سے
(Management as an art)
آرٹ (فن) کیاہے؟ فن مطلوبہ نتائج کو حاصل کرنے کے لیے موجودہ علم کا ہنرمندانہ اور ذاتی استعمال ہے۔ اس کو تجربات، مشاہدے اور مطالعے کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتاہے۔ چونکہ آرٹ کا تعلق علم کے ذاتی استعمال سے ہے اس لیے سیکھے گئے بنیادی اصولوں کو بروئے کار لانے میں ایک قسم کی جدت اور تخلیق کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی فن کی بنیادی خصوصیات حسب ذیل ہیں:
(i) نظریاتی علم کی موجودگی (Existence of theoretical knowledge) :
فن میں پیشگی طورپر یہ فرض کیا جاتا ہے کہ اس فن کا ایک نظریاتی علم موجود ہے۔ ہر فن کے متعلق ماہرین چند بنیادی اصول تدوین کرلیتے ہیں جو کہ اس خاص شکل کے فن میں قابلِ استعمال ہوتے ہیں مثلاً رقص، عوامی بول چال، اداکاری یا موسیقی پر تحریروں کی موجودگی سے ہرشخص واقف ہے۔
(ii) شخصی استعمال (personalised application):
اس بنیادی علم کا استعمال مختلف لوگ مختلف ڈھنگ سے کرتے ہیں۔ اس لیے آرٹ (فن) بہت شخصی نظریہ ہے۔ مثال کے طورپر دو ر قاص، دو مقرر، دواداکار یا دو مصنف اپنے آرٹ کو ظاہر کرنے میں ہمیشہ مختلف ہوں گے۔
(iii) فن کی بنیاد عمل اور تخلیقیت پر ہوتی ہے (Based on practice and creativity) :
تمام آرٹ عملی ہیں۔آرٹ موجودہ نظریاتی علم کے تخلیقی عمل پرمشتمل ہوتا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ موسیقی میں سات بنیادی سروں کا استعمال کس طرح اپنے تخلیقی اندازمیں ہوتا ہے۔
مینجمنٹ کو ایک آرٹ یا فن کہا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ درج ذیل شرائط کو پورا کرتا ہے:
(i) ایک کامیاب منیجر کسی ادارے میں روز مرہ کے مینجمنٹ کاموں کی انجام دہی اپنے مطالعے، مشاہدے اورتجربے کی بنیاد پر کرتا ہے مینجمنٹ کے مختلف میدانوں جیسے بازارکاری، مالیات نیز انسانی وسائل پر بہت سی تحریریں اورکتابیں دستیاب ہیں جن میں منیجر کو مہارت حاصل کرنی پڑتی ہے۔ مینجمنٹ میں نظریاتی علم موجودہی ہے۔
(ii) مینجمنٹ کے مختلف مفکرین نے مینجمنٹ کے مختلف نظریات پیش کیے ہیں اور انھوں نے چند آفاقی اصول پیش کیے ہیں۔ ایک منیجر ان سائنسی طریقوں اوراس منظم مجموعۂ معلومات کو دیے گئے حالات،یا مسائل میں اپنے انفرادی انداز سے استعمال کرتا ہے۔ ایک اچھا منیجر اپنی قوت عمل،تخلیقیت، پرواز تخیل اور اپنی اختراعی صلاحیتوں کا استعمال کرکے،اپنے فرائض کو انجام دیتا ہے۔ ایک منیجر طویل عرصے تک عملی طورپر کام کرنے کے بعد ہر طرح سے کمال اور اعتماد حاصل کرلیتا ہے۔مینجمنٹ کے طالب علم ان اصولوں کو مختلف طرح سے استعمال کرتے ہیں جس کا انحصاراس بات پر ہوتا ہے کہ ان میں تخلیقی صلاحیت کیسی ہے۔
(iii) ایک منیجرموجودہ حقائق کی روشنی میں اپنے حاصل کیے ہوئے علم کو شخصی طور پر اور ہنر مندانہ طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ وہ ادارے کی سرگرمیوں سے چونکہ براہ راست وابستہ ہوتا ہے، اس لیے وہ پیچیدہ حالات کا مطالعہ بھی کرتا ہے اور خود اپنے افکار کو نئی شکل وصورت میں اس موقع ومحل پر استعمال کرتا ہے اور اسی کی بنا پرمینجمنٹ کے مختلف طریقے وجود میں آتے ہیں۔
بہترین منیجر نہایت ذمہ دار اورحوصلہ مند ہوتے ہیں جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افرادہوتے ہیں جن میں نہ صرف بلند نظری، عالی حوصلگی، تخلیقیت اور پیش بینی جیسی خصوصیات ہوتی ہیں بلکہ وہ خود اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ اس ادارے کی ترقی کے بھی خواہش مند ہوتے ہیں جس سے ان کا تعلق ہے۔مینجمنٹ کے تمام عمل ایک ہی جیسے اصولوں کے مجموعے پر مبنی ہیں۔ ایک کامیاب منیجر اور ایک کم کامیاب منیجر میں فرق صرف اس صلاحیت کا ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ ان اصولوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔
مینجمنٹ بحیثیت سائنس (Management as a Scince)
سائنس علم کی وہ مرتب ومنظم شاخ ہے جو کچھ عام حقیقتوں یا عمومی قوانین کے طریق کار کی وضاحت کرتی ہے۔ سائنس کی بنیادی خصوصیات حسب ذیل ہیں۔
(i) علم کی منظّم شاخ (Systematised body of konwledge): سائنس معلومات کا ایک منظم مجموعہ ہے۔اس کے اصول ’’وجہ اور اثر کے تعلق‘‘ (Cause & effect relationship) پر مبنی ہیں۔ مثال کے طورپر پیڑ سے سیب کے زمین پر گرنے کے واقعہ کی وضاحت ثقلِ کشش کے قانون کے ذریعے کی گئی۔
(ii) اصول تجربات پر مبنی ہوتے ہیں (Principles based on experiments): سائنسی اصول پہلے مشاہدے کے ذریعے وجود میں آتے ہیں اور پھر کنٹرول کیے گئے حالات میں بار بار تجربات کرکے ان کی جانچ کی جاتی ہے۔
(iii) آفاقی تصدیق (Univesal Validity) سائنسی اصول آفاقی طور پر تصدیق شدہ اور قابل اطلاق ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا خصوصیات کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مینجمنٹ میں سائنس کی چند خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔
(i)مینجمنٹ کے پاس بھی علم کی ایک منظم شاخ ہے۔ اس کے بھی اپنے اصول اور نظریات ہیں جن کاایک طویل مدت میں ارتقا ہوا ہے لیکن اس نے دیگر مضامین جیسے معاشیات، عمرانیات،نفسیات اور ریاضی سے بھی استفادہ کیا ہے۔کسی بھی دیگر منظم سرگرمی کی طرح مینجمنٹ کے پاس اپنی اصطلاحات اور نظریات کا اپنا ذخیرہ ہے۔ مثال کے طورپر ، ہم سب کرکٹ اور فٹ بال سے متعلق گفتگو میں ایک جیسا ذخیرۂ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ کھلاڑی بھی ایک دوسرے سے گفتگو کرنے میں ان اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح منیجر بھی اپنے کام یا کاروباری مشاغل کی بہترتفہیم کے لیے ایک دوسرے سے بات چیت کرنے میں یکساں ذخیرۂ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(ii)مینجمنٹ کے اصولوں کا ارتقا ایک لمبے عرصے میں اور مختلف قسم کی تنظیموں میں بار بار کیے گئے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر ہوا ہے۔ بہر حال، چوں کہ مینجمنٹ کا تعلق انسانوں اور انسانی برتاؤ سے ہے اس لیے ان تجربات کے نتائج کی ٹھیک ٹھیک پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ اس مینجمنٹ کو ایک نرم سائن(Inexact Scince) کہا جاسکتا ہے۔ ان خامیوں کے باوجود مینجمنٹ کے اسکالروں نے مینجمنٹ کے عام اصولوں کے نشان دہی کی ہے۔ مثال کے طور پر ایف ڈبلیو ٹیلر کے سائنسی مینجمنٹ کے اصول اور ہنری فے یال (Henry Fayol) کے عملی مینجمنٹ کے اصول جنھیں آپ اگلے باب میں پڑھیں گے۔
(iii) چونکہ مینجمنٹ کے اصول سائنس کے اصولوں کی طرح سخت نہیں ہوتے اس لیے ان کا استعمال بھی آفاقی (Universal) نہیں ہے۔ ان کے اندر دیے گئے حالات کے مطابق ترمیم کرنی پڑتی ہے۔ بہرحال یہ منیجروں کو چند معیاری تکنیکیں ضرور فراہم کرتے ہیں جن کو مختلف حالات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان اصولوں کا استعمال منیجروں کی تربیت اور ترقی کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔
آپ گذشتہ گفتگو سے سمجھ چکے ہوں گے کہ مینجمنٹ میں سائنس اور آرٹ دونوں کی خصوصیات موجود ہیں۔مینجمنٹ کا عمل ایک آرٹ ہے۔ بہر حال منیجر اس وقت بہتر کام انجام دے سکتے ہیں اگر ان کا عمل مینجمنٹ کے اصولوں پر مبنی ہو۔ یہ اصول مینجمنٹ کی سائنس کو تشکیل کرتے ہیں۔ اس لیے مینجمنٹ بحیثیت سائنس اور بحیثیت آرٹ باہمی طور پر جدا نہیں ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
چند دلچسپ بین شعبہ جاتی امکانات
انسانیات: انسانیات سماجوں کا مطالعہ ہے جو انسان اور اس کی سرگرمیوں کو جاننے کے بارے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ ماہر انسانیات تمدنوں اور ماحول پر کام کرتے ہیں۔ مثلاً وہ مختلف تنظیموں کے اندر نیز مختلف ممالک کے لوگوں کے درمیان بنیادی اقدار، رویوں اور برتاوکے فرق کو سمجھنے میں منیجروں کی مدد کرتے ہیں۔
معاشیات:۔ معاشیات کا تعلق قلیل وسائل کو مختص کرنے (Allocate) اور تقسیم کرنے سے ہے۔ یہ عالمی تناظر میں آزاد بازار، مسابقت کے رول اوربدلتی ہوئی معیشت کو سمجھنے میں ہماری مددکرتی ہے۔عالمی بازار میںکام کرنے والے کسی بھی منیجر کے لیے آزاد تجارت اور تحفظاتی پالیسیوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اوریہ وہ مضامین ہیں جن پر ماہرین معاشیات توجہ دیتے ہیں۔
فلسفہ: فلسفے کا موضوع اشیا کی ماہیت کی تحقیق ہے خاص طور پر اقدار اور اخلاقیات کے حوالے سے۔ اخلاق وہ معیار ہے جو انسان کے طرز عمل پر لاگو ہوتا ہے۔ فلسفہ اخلاقیات نے کاروبار اورکارپوریٹ کی شکل کی توجیہہ پیش کرکے، ان کے لیے ایک قانونی جواز فراہم کیا ہے اور ان کی کارکردگی کو انعامات سے جوڑ کر دور حاضر کی تنظیموں کی تشکیل کی ہے۔
سیاسیات:سیاسیات سیاسی ماحول کے اندر افراداور گروپوں کے رویّے کا مطالعہ ہے۔مینجمنٹ ملکی حکومت کی شکل سے متاثر ہوتا ہے۔مثلاً یہ اپنے شہریوں کو جائیداد رکھنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں، کیا اس کے شہری معاہدہ کرنے اور اس کو نافذ کرنے کے اہل ہیں یا نہیں، یہاں تکلیفات کی بھرپائی کے لیے اپیل کرنے کا نظام موجود ہے یا نہیں۔ جائیداد، معاہدوں اور انصاف سےمتعلق ایک ملک کا نظریہ اس کی تنظیموں کی پالیسیوں، اقسام اور شکل کو تشکیل کرتا ہے۔
نفسیات:نفسیات وہ سائنس ہے جو انسانوں اور دیگر حیوانوں کے روییّ کی پیمائش، وضاحت اور بعض اوقات ان میں تبدیلی بھی کرتی ہے۔آج کے منیجروں کو مختلف قسم کے ملازمین اور مختلف قسم کی صارفین سے سابقہ پڑتا ہے۔ ماہرین نفسیات نے جنسی اور ثقافتی تنوع کو سمجھنے کی جو کاوشیں کی ہیں ان سے منیجروں کو نہ صرف صارفین کی ضرورتوںکو بہتر طورپر سمجھنے میں مددملی ہے بلکہ اپنے ملازمین کی آبادیوں کو بھی صحیح طور پر سمجھنے میں ان کومدد ملی ہے۔ نفسیات کے مختلف کورس منیجروں کے لیے اس لیے بھی معنویت رکھتے ہیں کہ ان کے ذریعے ان کو ملازمین کی ذہنی آمادگی، قیادت، اعتماد، ملازمین کے انتخاب، ان کی کارکردگی اور ٹریننگ کی تکنیکوں کی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔
عمرانیات:عمرانیات لوگوں کے آپسی رشتوں کے تعلق کا مطالعہ ہے۔ وہ کون سے چند عمرانیاتی مسائل ہیں جن کا تعلق مینجروں سے ہوتا ہے؟ چند مسائل یہ ہیں:سماجی تبدیلیاں جیسے عالم کاری، بڑھتا ہوا ثقافتی تنوع، تبدیل ہوتے ہوئے نسلی کردار، اور خانگی زندگی کی مختلف شکلیں کس طرح تنظیمی کاموں کو متاثر کرتی ہیں؟ اسکولی کاموں اور تعلیمی رجحانات کا مستقبل کے ملازمین کی صلاحیت اور ہنر پر کیا اثر ہے؟ ان سوالات کے جوابات کا منیجروں کے ذریعے کیے جانے والے اپنے کاروباری کاموں کی انجام دہی پر خاص اثر پڑتا ہے۔
ماخذ: فنڈامینٹلس آف مینجمنٹ
اسٹیفن پی۔رابنس Stephen P. Robins
ڈیویڈ اے،ڈی سینزوDavid A decenzo
مینجمنٹ بحیثیت ایک پیشہ (Management as a profession)
آپ اب تک سمجھ چکے ہیں کہ ہر ایک طرح کی منظم سرگرمی کو مینجمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ تنظیموں کو مخصوص لیاقت اور تجربہ رکھنے والے افراد کی تلاش ہوتی ہے جو کہ ان کا مینجمنٹ سنبھال سکیں۔ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف تو کارپوریٹ شکل کے کاروبار میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف کاروباری اداروں کے مینجمنٹ پر کافی زور دیا جارہا ہے۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ مینجمنٹ ایک پیشہ ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے آئیے ہم ایک پیشے کی خصوصیات کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ کیا مینجمنٹ ان پر پورا اترتا ہے۔
کسی پیشے کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہوتی ہیں:
(i) بہتر طے شدہ مجموعۂ علم (Well-defined body of knowledge): تمام پیشے بہتر طے شدہ مجموعۂ علم پر مبنی ہوتے ہیں جس کو تعلیم کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(ii) محدود اور مشروط داخلہ (Restricted entry): کسی پیشے میں داخلہ کسی امتحان یاتعلیمی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ مثال کے طورپر ہندوستان میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بننے کے لیے ایک امیدوار کو انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ آف انڈیا کے ذریعے منعقدہ ایک مخصوص امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔
(iii) پیشہ ورانہ انجمن (Professional Associ- ation): تمام پیشے ایک پیشہ ورانہ انجمن سے ملحق ہوتے ہیں جو داخلے کو باضابطہ بناتی ہے، کام کرنے کی سند عطا کرتی ہے اور ایک ضابطۂ اخلاق کو وضع کرتی ہے اور اسے نافذ کرتی ہے۔ ہندوستان میں وکالت کرنے کے لیے وکیلوں کو بار کونسل کا کارکن ہونا ضروری ہے جو ان کی سرگرمیوں کو با ضابطہ بناتی اور کنٹرول کرتی ہے۔
(iv) ضابطۂ اخلاق (Ethical code of conduct): تمام پیشے ایک ضابطۂ اخلاق کے تحت کام کرتے ہیں۔یہی ضابطۂ اخلاق اس کے ممبران کے برتاو کی رہنمائی کرتاہے۔ مثال کے طورپر تمام ڈاکٹر اپنے پیشے میں داخلے کے وقت ایک ضابطۂ اخلاق پر عمل کرنے کا حلف لیتے ہیں۔
(v) خدمت کا مقصد (Service Motive): پیشے کا بنیادی مقصد احساس ذمہ داری اور ایثار کے ساتھ خدمات انجام دے کر اپنے موکلوں؍صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ایک وکیل کا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کے مؤکل کو انصاف ملے۔
مینجمنٹ پیشہ کے معیار پر مکمل طورپر پورا نہیں اترتا۔ پھر بھی اس مینجمنٹ میں پیشے کی چند خصوصیات موجودہیں:
(i) تمام دنیا میں مینجمنٹ بحیثیت ایک مضمون یا موضوع مطالعہ بہت مقبول ہورہا ہے۔ یہ علم کے ایک منظم مجموعے (Body of knowldge)پر مبنی ہے جس میں مختلف کاروباری حالات کی بنیاد پر بنائے گئے طے شدہ اصول شامل ہیں۔ یہ علم مختلف کالجوں، پیشہ ورانہ اداروں سے بڑی تعداد میں موجودکتابوں اور رسالوں کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ مضمون مختلف اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ مینجمنٹ کی تعلیم فراہم کرنے کے مخصوص مقصد سے ہی قائم کیے گئے ہیں جیسے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIMS) ۔مختلف اداروں میں داخلہ عموماً امتحان کے ذریعے ہوتا ہے۔
(ii) کسی بھی کاروباری ادارے میں کسی شخص کے لیے بحیثیت منیجر تقرری پر کوئی پابندی نہیں ہے۔کسی بھی شخص کو منیجر کہا جاسکتا ہے چاہے اس کے پاس تعلیمی لیاقت ہو یا نہ ہو۔
طب یا قانون جیسے پیشوں کے بر خلاف جن میں بحیثیت ڈاکٹر یا وکیل کام کرنے کے لیے قابل قبول ڈگری کا ہونا ضروری ہوتا ہے پوری دنیا میں منیجر کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی خاص ڈگری ہو۔ البتہ پیشہ ورانہ معلومات اور تربیت کو ضروری لیاقت خیال کیا جاتا ہے کیوں کہ ایسے لوگوں کی زیادہ مانگ ہے جن کے پاس مشہور اداروں کی ڈگری یا ڈپلوما ہوتے ہیں۔ اس طرح مینجمنٹ پیشہ کے دوسرے معیار پر بھی مکمل طور سے پورا نہیں اترتا۔
(iii) ہندوستان میں بحیثیت منیجرکام کرنے والوں کی کئی انجمنیں ہیں مثلاً آل انڈیا مینجمنٹ ایسوسی ایشن (AIMA) جو اپنے ممبران کی سرگرمیوں کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق وعمل کی تدوین کرتی ہے۔ بہرحال منیجروں کے لیے ایسی انجمنوں کا ممبر بننا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی ایسی انجمنوں کی کوئی قانونی پشت پناہی ہے۔
(iv) مینجمنٹ کا بنیادی مقصد ادارے کے اپنے مطلوبہ نشانے کو حاصل کرنے میں مدد دینا ہے۔ یہ نشانہ کسی کاروباری ادارے کے لیے منافع کو انتہا درجہ تک بڑھانا بھی ہوسکتا ہے اور کسی اسپتال کے لیے خدمت کی فراہمی بھی ہوسکتی ہے۔ بہرحال منافع کا زیادہ سے زیادہ کرنا اب مینجمنٹ کا مقصد واحد نہیں رہا ہے۔ اس میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ اس لیے، اگر ایک ادارے کے پاس اچھی مینجمنٹ ٹیم موجود ہے جو کہ اہل بھی ہے اور موثر بھی تب یہ واجب داموں پر اچھے معیار کی اشیاکو فراہم کرکے اپنے آپ ہی معاشرے کی خدمت کرتی ہے۔
انتظامی سطحیں
(Levels of Management)
شیونادار اور سوہاسنی دونوں ایک ادارے کے منیجر ہیں۔ شیو نادار ایچ سی ایل کے سی ای او ہیں اور سوہاسنی فیب مارٹ کی برانچ منیجر ہیں۔ دونوںاپنے ادارے کا مینجمنٹ مختلف سطحوں پر کرتے ہیں۔مینجمنٹ ایک آفاقی اصطلاح ہے جس کا اطلاق کسی ادارے میں افراد کے ذریعے کیے جانے والے کاموں کے لیے کیا جاتا ہے جو باہم آپس میں تعلقات کے ایک نظام مراتب (Hierarchy) کے پابند ہوتے ہیں۔ اس نظامِ مراتب میں ہر فرد ایک مخصوص کام کی کامیاب تکمیل کے لیے ذمے دار ہوتاہے۔ ذمے داری کو پورا کرنے کے لیے اسے کچھ اختیار یا فیصلہ لینے کا حق دیا جاتا ہے۔ اختیار۔ذمہ داری (Authority-Responsibiltiy) کا یہ تعلق افراد کو سربراہ اور ماتحت کے طور پر جوڑتا ہے اور اس کی وجہ سے ادارے میں مختلف سطحیں وجود میں آجاتی ہیں عام طورپر ایک ادارے کے نظام مراتب کی تین سطحیں ہوتی ہیں:
(i) اعلیٰ سطح کا مینجمنٹ(Top Management): یہ سطح سب سے سینئر عہدے داروں پر مشتمل ہوتی ہے چاہے انھیں کسی بھی نام سے پکارا جائے۔ عام طورپر انھیں چیئر مین، چیف ایگزیکیٹو آفیسر، چیف آپریٹنگ آفیسر، صدر اورنائب صدر کہا جاتا ہے۔ اعلیٰ مینجمنٹ منیجروں کی ایک ٹیم پر مشتمل ہوتا ہے جن کا تعلق مختلف عملی سطحوں سے ہوتا ہے۔ ان کا بنیادی کام ادارے کے مقاصد کے مطابق مختلف عناصر کو متحدکرنا اورمختلف شعبوں کی سرگرمیوں میں تال میل قائم کرنا ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے یہ منیجر ادارے کی فلاح اور بقا کے لیے ذمے دار ہوتے ہیں۔ وہ کاروباری ماحول اور فرم کی بقا کے لیے اس کے مضمرات (Implications)کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ ادارے کے تمام مقاصد اور ان کے حصول کے لیے حکمت عملیوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ وہ کاروبار کی تمام سرگرمیوں اور سماج پر ان کے اثرات کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اعلیٰ منیجر کا کام پیچیدہ، تھکا دینے والا اور زیادہ دقت طلب ہوتا ہے اور جس کی انجام دہی کے لیے ادارے کے تئیں لگن کی ضرورت ہوتی ہے۔
(i) درمیانی سطح کا مینجمنٹ (Middle Management): یہ اعلیٰ سطح اور نچلی سطح کے منیجروں کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔ یہ منیجر اعلیٰ سطح کے منیجروں کے ماتحت اور نچلی سطح کے منیجروں کے اعلیٰ افسران ہوتے ہیں۔ عام طورپر ان کو شعبہ جاتی سربراہ (Division heads) ،عملی منیجر (Operations Manager) یا پلانٹ سپرینٹنڈنٹ کہا جاتا ہے۔ درمیانی مینجمنٹ اعلیٰ مینجمنٹ کے ذریعے بنائے گئے منصوبوں اورحکمت عملیوں کو روبہ عمل لانے اور کنٹرول کرنے کے لیے ذمے دار ہوتی ہے۔ یہ مینجمنٹ نچلی سطح کے منیجروں کی تمام تر سرگرمیوں کے لیے بھی ذمے دار ہوتی ہے۔ ان کا اہم کام اعلیٰ منیجروں کے ذریعے تشکیل دیے گئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس کے لیے انھیں مندرجہ ذیل کام انجام دینے ہوتے ہیں:(i) اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ کی بنائی گئی پالیسیوں کی وضاحت کرنا۔(ii)
اس بات کی نگرانی رکھنا کہ شعبے میں عملہ پورا ہو۔
(iii) انھیں ضروری فرائض اور ذمے داریاں تفویض کرنا۔
(iv) ادارے کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے انھیں ذہنی طور پر آمادہ کرنا اوران کی حوصلہ افزائی کرنا۔
(v) دوسرے شعبوں کے ساتھ تعاون کرنا تاکہ تنظیم کو بہتر طور پر چلایا جاسکے۔
اس کے ساتھ ساتھ درمیانی سطح کے منیجر نچلی سطح کے منیجروں کی تمام سرگرمیوں کے لیے ذمے دارہوتے ہیں۔
آپ مینجمنٹ صرف کتابوں سے نہیں سیکھتے
(iii) نگراں کار یا عملی مینجمنٹ (Supervisory or Operational Management): ادارے کے نظام مراتب (Hierarchy) کی نچلی سطح جیوری کے نمائندوں (Foremen) اور نگراں کاروں (Super Visors) پر مشتمل ہوتی ہے۔ سپروائزر کارکنوں کے کاموں کی براہِ راست نگرانی کرتے ہیں ان کے اختیارات اور ذمے داری اعلیٰ مینجمنٹ کے ذریعہ بنائے گئے منصوبوں کے مطابق محدود ہوتی ہے۔نگراں مینجمنٹ ادارے میں نہایت اہم رول ادا کرتی ہے کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق حقیقی کارکنوں سے ہوتا ہے اور یہ درمیانی سطح کی انتظامیہ کو کارکنوں کے سلسلے میں ہدایات بھی دیتی ہے۔ حالانکہ نگراں کارمینجمنٹ کی کوششیں پیداوار کے معیار کو قائم رکھنے، خام مال کی بربادی کو کم کرنے اور حفاظتی معیاروں کو بنائے رکھنے کی ہوتی ہے لیکن درحقیقت کارکردگی کے معیار اور پیداوارکی مقدار کا انحصار سخت محنت، نظم وضبط اور کارکنوں کی وفاداری پر ہوتا ہے۔
مینجمنٹ کے کام (Functions of Management)
مینجمنٹ کی تعریف میں کہاجاتا ہے کہ یہ تنظیمی ممبران کے کاموں کی منصوبہ بندی کرنے ،تنظیمی امور کوانجام دینے، ہدایات دینے، ان کو کنٹرول کرنے اور مقاصد کے حصول کے لیے تنظیمی وسائل کو استعمال کرنے کا عمل ہے۔
منصوبہ بندی (Planning) : منصوبہ بندی پیشگی طور پریہ طے کرنے کا کام ہے کہ کیا کیا جانا ہے اور اس کو کون انجام دے گا۔ اس سے مراد مقاصد کو پہلے سے طے کرنا اور ان کو مؤثر طورپر حاصل کرنے کے طریقے کا تعین کرنا ہے۔سوہاسنی کے ادارے کا مقصد ہندوستان کی روایتی دست کاری اور ہینڈلوم کی اشیاکا حصول اور ان کی فروخت ہے۔ یہ ادارہ ہندوستان کے روایتی کپڑے سے بنی گھریلو اشیا اور تیار شدہ کپڑوں اور سجاوٹ کے سازو سامان کو فروخت کرتا ہے۔سوہاسنی کو مذکورہ بالا تمام اشیاکے رنگوں، اقسام اور مقدار کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد اسے مختلف سپلائرز سے خریداری کے لیے وسائل کو جمع کرنا پڑتا ہے یا پھر ان وسائل کے ذریعے انھیں خود ہی اپنے کارخانے میں تیار کرانا پڑتا ہے۔منصوبہ بندی مشکلات کو روک نہیں سکتی لیکن ان کے بارے میں پیشین گوئی کرسکتی ہے اور ان کے رونما ہونے کی صورت میں یہ ان سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبوں کو تیار کرتی ہے۔
اعلیٰ سطح کا مینجمنٹ
درمیانی سطح کا مینجمنٹ
عملی مینجمنٹ
انتظامی سطحیں
تنظیم کاری (Organising) : تنظیم کاری، ایک مخصوص منصوبہ بندی پر عمل کرنے کی خاطر فرائض سونپے، کاموں کی گروہ بندی، اختیارات قائم کرنے اور وسائل کو استعمال کرنے کا نام ہے۔ جب تنظیمی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص منصوبہ بن جاتا ہے،تنظیم کاری کا کام منصوبے پر عمل کرنے کے لیے ضروری سرگرمیوں اور وسائل کا تجزیہ کرناہے۔ضروری وسائل اور سرگرمیوں کا تعین کرنا اور یہ طے کرنا کہ کون کس کام کو انجام دے گا، یہ کام کہاں کیا جائے گا اور کب کیا جائے گا۔تنظیم کاری میں، ضروری کاموں کی قابلِ مینجمنٹ شعبوں یا اکائیوں میں گروپنگ کرنا اورتنظیمی نظامِ مراتب (Hierachy) میں اختیارات اور جواب دہی کے تعلقات کو قائم کرنا شامل ہے۔مناسب تنظیمی تکنیکیں کام کی تکمیل میں معاون ہوتی ہیں اور یہ کاموں کی لیاقت اور نتائج کی موثریت (Effectiveness) دونوں کو بڑھاوا دیتی ہیں۔مختلف طرح کے کاروبار میں کام کی نوعیت کے مطابق مینجمنٹ کے مختلف ڈھانچوں کی ضرورت ہوتی ہے آپ اس کے بارے میں زیادہ تفصیل کے ساتھ اگلے باب میں پڑھیں گے۔
عملہ کی فراہمی (Staffing) : عملے کی فراہمی سادہ الفاظ میں کہا جائے تو صحیح کام کے لیے درست لوگوں کو تلاش کرنے کا کام ہے۔مینجمنٹ کا نہایت اہم پہلو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لیے صحیح لوگ صحیح لیاقتوں کے ساتھ صحیح جگہوں پر اور صحیح وقت میں دستیاب ہوں۔ اس کو انسانی وسائل کا کام بھی کہاجاتا ہے اوریہ عملے کی بھرتی، انتخاب اور تربیت جیسی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ انفوسیز (Infosys) ٹیکنالوجیز جس نے سافٹ ویئر کو ترقی دی ہے اسے سسٹم اینالیسٹ اور پروگرامروں کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ فیب مارٹ کو ڈیزائنروں اور دست کاروں کی ایک ٹیم کی ضرورت ہے۔
ہدایت کاری (Directing) : اس میں دیے گئے کاموں کی انجام دہی کے لیے ملازمین کو ذہنی طور پر تیارکرنا، ان کی رہنمائی کرنا اور انھیں ترغیب دینا شامل ہے۔ اس کے لیے ایک ایسے ماحول کی تعمیر کی ضرورت ہوتی ہے جو ملازمین کو اپنے کاموں کو بہترین طور پر انجام دینے کے لیے حوصلہ افزاہو۔ رہنمائی (Leadership) اور ترغیب (Moti- vation) ہدایت کاری کے دواہم اجزا ہیں۔ کارکنوں کو ترغیب دینے سے مراد ایک ایسے ماحول کو تخلیق کرنا ہے جس کی بدولت وہ کام کرنا چاہیں۔ رہنمائی سے مراد دوسروں کو اس طرح متاثر کرنا ہے کہ جو رہنما چاہتا ہے وہی کام دوسرے لوگ انجام دیں۔ ایک اچھا منیجر کبھی تعریف اور کبھی تنقید کے ذریعے اس طرح ہدایت دیتا ہے کہ ملازمین اپنی بہترین کوششوں کے ساتھ کام کو انجام دیتے ہیں۔سوہاسنی کی ڈیزائن بنانے والی ٹیم نے بیڈ کور کے لے ریشم پر چمک دار رنگوں سے چند پرنٹس تیار کیے۔حالانکہ وہ بہت زیادہ دلفریب دکھائی دیتے تھے لیکن ریشم کے استعمال کی وجہ سے اوسط صارفین کے لیے یہ مال کافی مہنگا ہوگیا۔ ان کے کام کی ستائش کرتے ہوئے سوہاسنی نے انھیں صلاح دی کہ وہ ان ریشمی بیڈ کوروں کو خاص موقعوں جیسے دیوالی اور کرسمس وغیرہ کے لیے رکھ لیں اورمسلسل بنیاد پر (روز مرہ کے لیے ) صرف کاٹن کے بیڈ کور ہی تیار کریں۔
کنٹرول کرنا (Controlling) : یہ تنظیمی مقاصد کے حصول کے تئیں تنظیمی کارکردگی کی نگرانی رکھنے کا مینجمنٹ کام ہے۔ اس کام میں، کارکردگی کا معیار قائم کرنا، موجودہ کارکردگی کی پیمائش کرنا، اس کا قائم شدہ معیاروں کے ساتھ موازنہ کرنا اور جہاں کوئی انحراف پایا جائے وہاں درستگی کے اقدام کرنا شامل ہے۔یہاں مینجمنٹ کو یہ طے کرنا چاہیے کہ کامیابی کے لیے کون سی سرگرمیاں اورپیداواریں اہم ہیں، ان کی کیسے اور کہاں پیمائش کی جاسکتی ہے اور درستگی کے لیے اقدامات اٹھانے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے۔ جب سوہاسنی کو علم ہوا کہ اس کی ڈیزائنروں کی ٹیم نے ایسے بیڈ کور تیار کیے تھے جو کہ ان کے فروخت کے منصوبہ سے زیادہ مہنگے تھے تب اس نے لاگتوں کو کم رکھنے کے لیے کپڑے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
عام طورپر ایک منیجر کے مختلف کاموں کا تذکرہ مندرجہ بالا ترتیب میں کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک منیجر پہلے منصوبہ بندی کرتاہے، اس کے بعد تنظیم کاری کرتا ہے، عملہ کو ان کی جگہوں پر رکھتا ہے، پھر ہدایات دیتا ہے اور آخر میں کنٹرول کرتا ہے۔ درحقیقت منیجر ان کاموںکو شاذونادر ہی الگ الگ انجام دے پاتے ہیں۔ منیجرکی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں اور اس بات کو معلوم کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے کہ کب کون سی سرگرمی ختم ہوئی اور دوسری شروع ہوگئی۔
’’تال میل—مینجمنٹ کی روح‘‘ (Coordination—The Essence of Management)
اب آپ سمجھ چکے ہیں کہ ایک تنظیم کے مینجمنٹ میں منیجر کو ایک دوسرے سے جڑے پانچ کاموں کو انجام دینا پڑتا ہے۔تنظیم ایک ایسا نظام ہوتا ہے جوکہ باہمی طورپر منحصر اور مربوط مختلف ذیلی نظاموں سے بنا ہوتا ہے۔منیجر کو یکساں مقصد کے حصول کے لیے ان مختلف گروپوں کو جوڑنا پڑتا ہے۔ وہ عمل جس کے ذریعے ایک منیجر مختلف شعبوں کی سرگرمیوں کو بیک وقت انجام دیتا ہے تال میل (Co-ordination) کہلاتا ہے۔
تال میل وہ قوت ہے جو کہ مینجمنٹ کے دیگر تمام کاموں کو جوڑتی ہے۔تنظیم کی کارکردگی میں تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے یہ ایک ایسا مشترکہ دھاگہ ہے جو خریداری، پیداوار، فروخت اور مالیات (Finance) جیسی سرگرمیوں کو آپس میں پروتا ہے۔ تال میل کو بعض اوقات مینجمنٹ کا علاحدہ کام خیال کیا جاتا ہے۔ یہ بہر حال مینجمنٹ کی روح (Essence) ہے جو گروپ کے مقاصد کی تکمیل کے لیے انفرادی کوششوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ مینجمنٹ کاہرکام تال میل پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی انفرادی کوشش ہے۔ تال میل تنظیم کے تمام کاموں میں مضمر اور فطری طور پر ودیعت ہوتا ہے۔
ادارے کی سرگرمیوں میں تال میل کا کام منصوبہ بندی کے مرحلے سے شروع ہوجاتا ہے۔ اعلیٰ سطح کا مینجمنٹ پورے ادارے کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے۔ ان منصوبوں کے مطابق انتظامی ڈھانچہ تیار کیا جاتا ہے اور عملے کی فراہمی کی جاتی ہے۔ ان منصوبوں کو منصوبہ بندی کے مطابق عملی جامہ پہنانے کے لیے ہدایت کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ منصوبہ بند کی گئی سرگرمیوں اور حقیقی سرگرمیوں کے درمیان کسی بھی انحراف کو کنٹرول کے مرحلے پر درست کیاجاتا ہے۔ مشترک مقاصد کے حصول کے لیے ایک منیجر تال میل کے ذریعے انفرادی اور اجتماعی کوششوں کا ترتیب وار مینجمنٹ کرتا ہے اوروحدتِ عمل (Unity of Action) کو یقینی بناتا ہے۔ اس لیے تال میل سے مراد ایک ادارے کی مختلف اکائیوں کے ذریعے کی جانے والی کوششوں یا کاموں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ یہ تال میل کی ضروری مقدار، معیار اور ترتیب فراہم کرتی ہے جس سے منصوبہ بند کیے گئے مقاصد کو کم ازکم تنازعات اور ٹکراو کے ساتھ حاصل کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔
تال میل نہ ہونے کا نتیجہ انتشار ہوتا ہے۔
تال میل کی تعریفیں (Definitions of Coordination)
تال میل سے مراد ٹیم کے مختلف ممبران کو مناسب طورپر کام سپرد کرکے ان کو آپس میں متحد رکھنا اور ان کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ اور یہ دیکھنا ہے کہ کاموں کی انجام دہی ممبران کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ ہو۔
E.F.L Brech
تال میل وہ عمل ہے جس کے ذریعے ایک ایگزیکیٹو اپنے ماتحتوں کی اجتماعی کوششوں کی ترتیب سے انجام دہی کو ممکن بناتا ہے اور یکساں مقاصد کے لیے کام کے اتحاد کو حاصل کرتاہے۔
Mc Farland
تال میل مناسب مقدار، وقت اور عملی معیار فراہم کر کے ماتحتوں کے کاموں کو ترتیب کے ساتھ ہم آہنگ کرتاہے تاکہ ان کی متحدہ کوششیں بیان شدہ مقاصد کی جانب رہنمائی کریں جنھیں ادارے کا مشترک مقصد کہاجاتا ہے۔
Theo Haimanr
تال میل کی خصوصیات (Characteristics of Coordination)
مندرجہ بالا تعریفیں تال میل کی حسب ذیل خصوصیات کو ظاہر کرتی ہیں:
(i) تال میل اجتماعی کوششوں کے کو متحد کرتا ہے (Co- ordination integrates group efforts): تال میل غیر متعلق یا متنوع مفادات کو بامقصد عملی سرگرمی میں متحد کرتا ہے۔ یہ اجتماعی کوشش کو ایک مشترک مقصد دیتا ہے تاکہ کاکردگی بالکل ویسی ہی ہو جیسا کہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔
(ii) تال میل وحدتِ عمل کو یقینی بناتا ہے (Co- ordination ensures Unity of Action) : تال میل کا مقصد ایک مشترک مقصد کے حصول کے لیے وحدت عمل پیدا کرنا ہے۔ یہ شعبوں کے درمیان ایک جوڑنے والی قوت کے طورپر کام کرتا ہے اور یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ادارے میں کیے جانے والے تمام کاموں کا نشانہ ادارے کے مقاصد کا حصول ہوگا۔
آپ مشاہدہ کرچکے ہیں کہ فیب مارٹ میں پیداواری اور فروخت کاری شعبے کو اپنے کاموں میں تال میل سے کام لینا پڑا تاکہ پیداوار بازاری مانگ کے مطابق ہوسکے۔
(iii) تال میل ایک مسلسل عمل ہے (Co-ordination is a continous process) : تال میل کسی ایک وقت پر کیا جانے والا کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔یہ منصوبہ بندی کے مرحلے پر شروع ہوتا ہے اور کنٹرولنگ تک جاری رہتا ہے۔ سوہاسنی نے اپنے سردی کے مال کے لیے منصوبہ سازی جون کے ماہ میں کی تھی۔ اس کے بعد اس نے مناسب کارکنوں کو کام پر لگایا اور وہ مسلسل جائزہ لیتی رہتی تھی کہ آیا پیداوار منصوبوں کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں۔ اس لیے اپنے بازار کاری شعبے کو وقت پر اشتہارات سے متعلق ہدایات دینی پڑی تھیں۔
(iv) تال میل ہر جانب پھیلا ہوا کام ہے (Co- ordinationa is an all perva- sive function): مختلف شعبوں کی سرگرمیاں ایک دوسرے پر منحصر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مینجمنٹ کی تمام سطحوں پر تال میل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے مختلف شعبوں اور مختلف سطحوں کی کوششوں میں اتحاد پیدا ہوتا ہے۔ سوہاسنی کو مینجمنٹ کے مقاصد کے حصول کے لیے خریداری، پیداوار اور فروخت کاری شعبوں کے کاموں میں تال میل کرنا پڑا۔ خریداری شعبہ کپڑے کی خریداری کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ پیداواری شعبہ کی سرگرمی کی بنیاد بن جاتا ہے اورفروخت کی نوبت آخر میں آتی ہے۔ اگر گھٹیا معیار کا کپڑا خریدا گیا ہو یا اس کا معیار پیداواری شعبے کے ذریعہ دی گئی تفصیلات کے مطابق نہ ہو تو اس کے باعث فروخت میں کمی آجائے گی۔ تال میل نہ ہونے سے سرگرمیوں کی ہم آہنگی اور اتحاد کے بجائے آپسی ٹکراو اور انتشار پیداہوتا ہے۔
(v) تال میل تمام منیجروں کی ذمہ داری ہے (Co- ordination is the Responsi- bility of all Managers): تال میل تنظیم کے ہر ایک منیجر کا کام ہے۔ اعلیٰ سطح کے منیجر کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ تال میل قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ادارے کے لیے بنائی گئی تمام پالیسیوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ درمیانی سطح کے منیجر اعلیٰ سطح اور نچلی سطح دونوں کے منیجروں سے تال میل قائم رکھتے ہیں۔عملی سطح کا مینجمنٹ اپنے کارکنوں کی سرگرمیوںمیں تال میل قائم رکھتا ہے تاکہ منصوبوں کے مطابق کارکردگی کو یقینی بنایا جاسکے۔
(vi) تال میل ایک شعوری کام ہے (Coordination is a Deliberate function) : ایک منیجر کو دانستہ اور شعوری طور پر مختلف لوگوں کے کاموں میں تال میل پیداکرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک شعبے کے ممبران ارادتاً ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے کام کو انجام دیں تب بھی تال میل ان کے ارادی جذبہ کو ایک سمت عطا کرتا ہے۔ تال میل نہ ہونے کی صورت میں تعاون (Cooperation) کرنے سے محنت برباد ہوسکتی ہے اور ملازمین کے درمیان بے اطمینانی پیدا ہوسکتی ہے۔
ڈبّے والے—تال میل کے ذریعے برتری
ممبئی کے ڈبّے والے ایک سکس سگما (Six sigma) کاروباری ادارے کی کہانی ہے۔ اس کاروبار کی کامیابی پیچیدہ مگر کافی مربوط کام میں مضمر ہے جو دن بہ دن ممبئی کی گلیوں میں انجام دیا جارہا ہے۔ اس سلیقہ مندی کے پیچھے کیا راز ہے جس کے ساتھ وہ اپناکاروبار چلا رہے ہیں؟
ڈبے والوں کی کہانی ممبئی کے باورچی خانوں سے شروع ہوتی ہے۔ جب لوگ اپنے گھر سے نکلتے ہیں توکوئی ان کا رکنوں کے لیے تازہ، گھر میں پکے ہوئے کھانے کی تیاری کا عمل شروع کردیتا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ ڈبے والوں کے نظام کے تال میل کو ظاہر کرتاہے۔ پہلا ڈبے والا گھر سے ٹفن کواٹھاتا ہے اور قریب ترین ریلوے اسٹیشن تک لے جاتا ہے۔دوسرا ڈبے والا منزل کے مطابق ریلوے اسٹیشن پر ڈبوں کی چھٹائی کرتا ہے اور ان کو لگیج گیریج میں رکھ دیتا ہے۔ تیسرا ڈبے والا منزل کے قریب ترین ریلوے اسٹیشن تک ڈبوں کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ چوتھا ڈبے والا ڈبوںکو ریلوے اسٹیشن سے اٹھاتا ہے اور ان کو دفتروں تک پہنچاتا ہے۔
صبح سویرے، ہزاروں ڈبے والے ممبئی کی گلیوں میں سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں تاکہ اپنے گاہکوں کو گھر کا پکا گرم کھانا مہیاکرسکیں۔ٹفنوں کے پورے بٹوارے میں معمولی تکنیک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈبے والوں کا انحصار کم سرمایے اور سائیکل کے استعمال پر ہے۔ وہ اپنے مقصد کو لکڑی کے کیرج (جھلی) اور لوکل ٹرینوں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ ان کے کئی گروپ ہیں۔ جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے آزادانہ طورپر یا ایک دوسرے ساتھ نیٹ ورک بنا کر کام کرتے ہیں۔
ہر علاقہ کئی چھوٹے حصّوں میں بانٹ دیا جاتا ہے اور ہر حصے کو ایک خاص شخص سنبھالتا ہے۔ یہ شخص اس علاقہ کے پتوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہ مہارت اورکمال مشق سے حاصل ہوتا ہے۔ کئی نئے ملازمین اپنے سینئروں کی رہنمائی میں مہینوں کام کرتے ہیں۔
وقت کی پابندی اور اس کا مینجمنٹ ڈبے والوں کے لیے نہایت اہم کام ہے۔ حالات چاہے کچھ بھی ہوں ڈبّے والوں کو چند منٹوں کی تاخیر بھی کبھی نہیں ہوتی۔
اس لیے تال میل مینجمنٹ کا ایک علاحدہ کام نہیں ہے بلکہ یہ مینجمنٹ کی روح ہے۔ ہرتنظیم کو اپنے مقاصد کے موثر حصول کے لیے تال میل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مالایا ہار میں دھاگے کی مانند تال میل مینجمنٹ کے تمام کاموں کاایک لازمی حصّہ ہے۔
تال میل کی اہمیت Importance of Coordination
تال میل قائم کرنا بہت اہم ہے کیوں کہ اس سے افراد ، شعبوں اور ماہرین کی کوششوں کو مربوط کیا جاتا ہے۔ تال میل قائم کرنے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ کسی تنظیم میں افراد اور شعبے ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں یعنی اطلاعات اور وسائل کے لئے وہ ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں تاکہ اپنے متعلقہ کاموں کو انجام دے سکیں۔ اس طرح منیجر کا کام ہوتا ہے کہ وہ اندازِ نظر ، اوقاتِ کار،کوششوں یا مفادات میں پیدا ہونے والے اختلافات کی صورت میں مصالحت کرائے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ انفرادی نشانوں اور تنظیمی نشانوں میں یگانگت پیدا کی جائے ۔
(i) سائز کے اعتبار سے اضافہ Growth in size: جیسے جیسے تنظیم میں سائز کے اعتبار سے اضافہ ہوتا ہے،تنظیم میں کام کرنے والے لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی ہے۔کبھی کبھی ان کی کوششوں اور سرگرمیوں کو مربوط کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔سبھی افراد کام کرنے کے اپنے طریقے، پس منظر، صورتِ حال سے نمٹنے کے طریقہ اور دوسروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اعتبار سے الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس لیے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہو جاتا ہے کہ تمام افراد تنظیم کے مشترکہ ہدف یا نشانوں کو پورا کرنے کے لیے کام کریں۔البتہ ممکن ہے کہ ملازمین کے اپنے انفرادی نشانے بھی ہوں۔ اس لیے تنظیمی لیاقت کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ انفرادی نشانوں اور تنظیمی نشانوں میں تال میل کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کی جائے ۔
(ii) عمل آوری کے اعتبار سے فرق Functional differentiation: تنظیم اپنی عمل آوری یا کام کاج کے اعتبار سے شعبوں،ڈویژنوں اور زمروں میں بٹی ہوتی ہے۔ممکن ہے کسی تنظیم میں مالیات،پیداواریت،مارکیٹنگ اور انسانی وسائل کے الگ الگ شعبے ہوں۔ممکن ہے ان تمام شعبوں کے اپنے مقاصد ہوں، اپنی پالیسیاں ہوں یا کام کرنے کا اپنا طریقۂ کار ہو ۔ مثال کے طور پر مارکیٹنگ کے شعبے کا مقصد رعایتیں فراہم کرکے اپنی فروخت میں 10فیصد کا اضافہ کرنا ہو، لیکن مالیاتی شعبہ اس طرح کی رعایتیں دینے کی اجازت نہ دے، کیوں کہ اس سے آنے والے محصولات کا نقصان ہوگا ۔تنظیموں میں اس طرح کے تنازعات اس لیے سر ابھارتے ہیں کیوں کہ شعبے الگ الگ رہ کر کام انجام دیتے ہیں اور ان کے درمیان دوریوں میں مزید پختگی آتی جا رہے۔
تاہم سبھی شعبے اور افراد ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور ان کو ایک دوسرے پر منحصر ہونا ہی ہے تاکہ وہ سرگرمیوں کو انجام دے سکیں۔ ہر شعبے کی سرگرمی کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ مشترکہ تنظیمی نشانوں کو حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔مختلف شعبوں کی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا عمل تال میل کے ذریعے ہی پورا ہوتا ہے۔
(iii) اختصاص Specialisation : جدید تنظیمیں اپنا اعلیٰ اختصاص رکھتی ہیں۔ اختصاص جدیدٹیکنالوجی کی پیچیدگیوں اور انجام دیے جانے والے نشانوں کے تنوع کے سبب پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ تنظیمیں کئی ماہرین یا اختصاص کے حامل افراد کو بھرتی کریں۔ ماہرین عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے متعلقہ پیشہ وارانہ طریقۂ کار کے مطابق جانچنے ،پرکھنے اور فیصلہ کرنے کے ہی اہل ہیں۔ وہ اپنے اختصاص کے شعبے سے متعلق معاملات میں دوسروں کا مشورہ یا تجاویز لینا پسند نہیں کرتے۔ اس کے سبب اکثر مختلف ماہر نیز تنظیم کے دیگر افراد کے مابین تنازعات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس لیے کسی آزاد انہ فرد کے ہاتھوں کوئی تال میل قائم کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ماہرین کے اندازِ نظر،مفادات یا رائے کے اختلافات میں مصالحت کرائی جا سکے۔
اکیسویں صدی میں مینجمنٹ (Management in the twenty-first Century)
ابھی آپ اس باب کا مطالعہ کررہے ہیں اور ادھرتنظیم اور اس کی مینجمنٹ میں تبدیلی ہورہی ہے کیونکہ مملکوں اور ثقافتوں کی حدیں مٹتی جارہی ہیں اور نئی کمیونیکیشن ٹکنالوجی نے دنیا کو ایک ’’عالمی گاؤں ‘‘ (Global Village) بنا کررکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی اور ثقافتی تعلقات کا دائرہ تیزی سے پھیلتا جارہا ہے ۔ جدید تنظیم ایک عالمی تنظیم ہے جس کا مینجمنٹ عالمی تناظر میں کرنا پڑتا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟
ایک عالمی منیجر کے لیے چیلنج (The Challange of Being a Global Manager)
رجت لال ایک فرم کاڈائریکٹر ہے۔ یہ فرم عالمی سطح پر سیاحت کی صنعت کے لیے سافٹ ویئر حل مہیّاکرتی ہے۔ وہ ایک امریکی سافٹ ویئر خدمات فراہم کرنے والی فرم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ فرم گڑ گاؤں میں اپنے ساجھے داروں کے لیے پراجیکٹ ورک کو بیرونی ذرائع سے کرایے پر حاصل کرتی ہے۔ گڑ گاؤں شمالی ہندوستان میں سافٹ ویئر کا مرکز ہے۔ یہ پوری دنیا کی ٹکنالوجی، ٹرانسپورٹ اور تفریح سے متعلق کمپنیوں کے لیے سافٹ ویئر تیار کرتاہے۔ رجت اپنے عالمی صارفین اور اپنی ملکی تکنیکی ٹیم کے درمیان رابطے کاکام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا کام ان منیجروں کی نسبت جو کہ مکمل طورپر ملکی ماحول میں کام کرتے ہیں زیادہ چیلنج سے بھرا ہے۔
رجت کا اپنے کام کے چیلنجوں کے بارے میں کہنا ہے:
l بحیثیت ملکی منیجر (In the Capacity of the Country Manager): ایک عالمی منیجر کو جن معاملات کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے وہ ہیں علاقائی دفتر کی شکل میں اپنی کمپنی کی قانونی اور کاروباری موجودگی کو قائم کرنا۔ موکلوں، قانونی عہدے داروں بشمول وکیلوں اور امیگریشن افسران سے معاہدے اور بات چیت کرنا۔ یہ اس لیے کرنا پڑتا ہے کیونکہ خدمات فراہم کرنے کے لیے ہندوستان سے تکنیکی عملے کو یو اے ای؍یورپ میں بھی آباد کرنا ہوتا ہے۔ اسے علاقائی کمپنیوں سے بھی معاہدے اور بات چیت کرنی پڑتی ہے جو کہ بھرتی کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اس کا ایک اور اہم رول اہل موکلوں؍گاہکوں میں آرام اور سہولت کااحساس پیدا کرنا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے اسے بین الاقوامی اور ثقافتی موقعوں پرگاہکوں کو بیرونی طورپر خدمات کرایے پر حاصل کرنے اور عالمی طورپر مہیّا کرنے کے، مثبت اثرات بتانے پڑتے ہیں۔
l بحیثیت ایک عملی منیجر In the capacity of the functional Manager): ایک عالمی منیجر کو یہ یقین دہانی بھی کرنی پڑتی ہے کہ وہ صحیح تکنیکی اور فنی مہارتوں کو حاصل کرنے، ان فنی مہارتوں سے ایک مضبوط وسائل بنیاد تعمیر کرنے اور عالمی ماحول میں ان فنی مہارتوں سے کام لے کر سافٹ ویئر پراجیکٹ کو سپر(Deliver) کرنے کے قابل ہے۔ یعنی وہ یہ کام، کثیر وقتی علاقوں (Multiple Time-Zone) میں، صارف کے کاروباری دورکی بنیاد پراور اس کی ترجیحات کو سمجھ کر، صارف جن طریقوں اور عمل سے آشنا ہے ان کو سمجھ کر اور اپنا کر، انجام دے سکتا ہے۔ آخر میں اس کام کے اندر صارفین کی توقعات کا مینجمنٹ بھی شامل ہے جس میں عملی منیجر کو صارفین کی ترجیحات کے مطابق امریکہ،یورپ اور ہندوستان میں سرگرمیوںمیں تال میل قائم کرنا پڑتا ہے اور صارفین کو بتانا پڑتا ہے کہ کیا ممکن ہے کہ اس کے مطابق ہی اپنے ملازمین کی توقعات اور اطمینان کی سطحوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
l بحیثیت کاروباری رہنما (In the Capacity of the Business Leader) : عالمی منیجر کو تغیر پذیرکاروباری حالات اور گاہکوں کی ترجیحات کی بھی خبر رکھنی پڑتی ہے۔ اسے بیرونی ذرائع (Outsorucing) کے رجحانات کی معلومات بھی رکھنی پڑتی ہے اور اس کے پاس آنے والے مواقع اورامکانی خطروں کا ادراک کرنے کی لیاقت بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک منیجر کو اس کے صارف مسلسل کاروبار دے رہے ہیں تو ایک کاروباری منیجر کو فرم پرگرفت قائم رکھنے کے لیے بیرونی ذرائع سے متعلق تغیر پذیر قوانین کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک عالمی منیجر کو ہندوستان کے اندر کام کرنے کے ماحول اور اس کے اپنے ملک میں کام کرنے کے ماحول کے بیچ فرق کے تعلق سے کر گاہکوں کے جو احساسات ہوسکتے ہیں اس کے لیے بھر پور توجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیرونی ذرائع ہندوستان کو جو فوائد پیش کرتے ہیں، انھیں اس منیجر کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ یہ فوائد لاگتوں کو کم کرنے اور وسیع طورپر فنی مہارتوں کو حاصل کرنے کے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ منیجر کو کمزور میدانوں جیسے ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے وغیرہ پر بھی ماہرانہ توجہ دینی پڑتی ہے۔
دورحاضر میں ایک عالمی منیجر کے لیے ان سب کا کیا مطلب ہے؟
مختصر طورپر کہا جاسکتا ہے کہ دورحاضر میں ایک عالمی منیجر وہ شخص ہوتا ہے جس میں سخت قسم کی فنی مہارتوں کے ساتھ ’نرم‘ قسم کی مہارتیں بھی ہوتی ہیں۔ ایسے منیجر جو تجزیہ ، حکمت عملی، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کی سمجھ رکھتے ہیں اب تک ان کی مانگ جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی طورپر کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایسے لوگ نہایت اہم مانے جاتے ہیں جو اس بات کی سمجھ رکھتے ہیں کہ ٹیم ورک کیسے کیا جاتا ہے،تنظیمیں کیسے کام کرتی ہیں اور لوگوں کو کیسے ترغیب دی جاتی ہے۔ ایک ایسا منیجر جو حقیقتاً مختلف ثقافتوں کی سمجھ رکھتا ہے وہ مغربی یورپ اور انگریزی نہ بولنے والے ممالک میں کام کرنے کے لائق ہوتا ہے اس کے بعد اسے ملیشیا یا کینیا جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کا تبادلہ نیویارک (یوایس اے) کے دفتر میں بھی کیا جاسکتا ہے اور وہ ان تینوں مقامات پر فوری طورپر کام کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
اس طرح کہاجاسکتا ہے کہ ایک عالمی منیجر کے رول کا ارتقا بالکل اسی طرح ہوتا ہے جس طریقے پر عالمی معیشت اور صنعت کا ارتقا ہوتا ہے۔ یہ ایک معین کاروباری تناظر میں ایک یک جہتی رول سے تبدیل ہوکر کثیر رخی رول بن چکا ہے جس میں تکنیکی مہارتوں، نرم مینجمنٹ اور لوگوں کی مہارتوں کے متنوع اجتماع کے ساتھ ساتھ مختلف ثقافتی تجربات کو سیکھنے اور قبول کرنے کو ضروری قرار دیاجاتا ہے۔
Source: Harvard Business School, Working knowledge
کلیدی اصطلاحات
منتظمہ/مینجمنٹ (Management) عمل (Process) کفایت/لیاقت (Efficiecny)
مؤثریت (Effectiveness) آرٹ/فن (Art) سائنس (Science)
پیشہ (Profession) منصوبہ بندی (Planning) تنظیم کاری (Organising)
عملے کی فراہمی (Staffing) ہدایت کاری (Directing) کنٹرول کرنا (Controlling)
تال میل (Coordination)
خلاصہ
تصور (Concept)
مینجمنٹ، تنظیم کے مقاصد کے اہل اور موثر حصول کے لیے ادارے کے وسائل کی منصوبہ بندی،تنظیم کاری، عملے کی فراہمی، ہدایت کاری اور کنٹرول کرنے کا عمل ہے۔مینجمنٹ میں موثریت کا تعلق صحیح کام کو کرنے، سرگرمیوں کو مکمل کرنے اور مقاصد کو حاصل کرنے سے ہے۔ کفایت سے مراد کام کو صحیح طور پر کم سے کم لاگت کے ساتھ انجام دینا ہے۔
خصوصیات (Characteristics)
مینجمنٹ کی کلیدی خصوصیات ہیں: (i) مقاصد کی سمت میں کیا جانے والا عمل (ii) تمام جگہ پھیلاو (all pervasive) (iii) کثیر رخی (iv) مسلسل عمل (v) اجتماعی سرگرمی (vi) پرجوش کام (vii) نامرئی قوت(Tangible Force)۔
مقاصد (Objectives)
مینجمنٹ سے تین بنیادی مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے: یعنی تنظیمی سماجی اور شخصی،ذاتی۔
اہمیت (Importnace)
مینجمنٹ نہایت اہم ہے کیوں کہ یہ اجتماعی مقاصد کے حصول میں معاون ہوتا ہے، کفایت میں اضافہ کرتا ہے اور ایک فعال تنظیم کو تخلیق کرتا ہے۔ یہ شخصی مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے اور سماج کی ترقی میں حصہ لیتا ہے۔
نوعیت (Nature)
مینجمنٹ علم کی ایک منظم شاخ (سائنس) اور اس کے ماہرانہ اطلاق (آرٹ) کا مجموعہ ہے۔ حالاں کہ یہ ایک پیشے کی تمام شرائط کو پورا نہیں کرتا لیکن اپنی خصوصیات کے اعتبار سے یہ بڑی حد تک پیشہ ورانہ ہے۔
سطحیں (Levels)
مینجمنٹ کو ایک تین سطحی سرگرمی ماناجاتا ہے۔ اعلیٰ مینجمنٹ کی توجہ مقاصد اور پالیسیوں کے تعین پر ہوتی ہے۔ درمیانی سطح کا مینجمنٹ دیگر منیجروں کی کوششوں کے ذریعے ان مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور نگراں کار مینجمنٹ عملہ یا کارکنوں کے کاموں کی براہِ راست نگرانی کرتا ہے۔
کام (Functions)
تمام منیجر متفقہ طورپر ان باہم مربوط کاموں کو انجام دیتے ہیں: منصوبہ بندی، تنظیم کاری، عملہ کی فراہمی، ہدایت کاری اور کنٹرول کرنا۔
تال میل (Coordination)
تال میل مینجمنٹ کی روح ہے ۔ یہ تنظیم کے شعبوں اور باہمی طورپر منحصر سرگرمیوں کے درمیان وحدت عمل (Unity of Action) کو حاصل کرنے کا عمل ہے۔
مشق
مختصر جوابی سوالات
1۔ لفظ ’مینجمنٹ‘ کی تعریف بیان کیجیے۔
2۔ مینجمنٹ کی دو اہم خصوصیات بتائیے۔
3۔ ریتو ایک بڑی کمپنی کے شمالی ڈویژن کی منیجر ہے۔تنظیم میں وہ کس سطح پر کام کرتی ہے؟ اس کے بنیادی کام کیا ہیں؟
4۔ مینجمنٹ کو ایک کثیر رخی نظریہ کیوں مانا جاتا ہے؟
5۔ بحیثیت پیشہ مینجمنٹ کی بنیادی خصوصیات پر تبصرہ کیجیے۔
طویل جوابی سوالات
1۔ مینجمنٹ کو سائنس اور آرٹ دونوں مانا جاتاہے۔ وضاحت کیجیے۔
2۔ کیا آپ کی رائے میں مینجمنٹ پیشے کی مکمل خصوصیات کا حامل ہے؟
3۔ تال میل مینجمنٹ کی روح ہے۔ کیا آپ متفق ہیں؟ وجوہات بیان کیجیے۔
4۔ ’’ایک کامیاب ادارے کو اپنے مقاصد موثریت اور کفایت کے ساتھ حاصل کرنے پڑتے ہیں۔‘‘ وضاحت کیجیے۔
5۔ ’’مینجمنٹ‘‘ مسلسل طورپر ایک دوسرے سے مربوط کاموں کا سلسلہ ہے۔‘‘ تبصرہ کیجیے۔
متبادل جواب والے سوالات
1۔ مندرجہ ذیل میں سے کیا مینجمنٹ کا کام نہیں ہے۔
(a) منصوبہ بندی
(b) عملہ فراہمی
(c) تعاون کرنا
(d) کنٹرول کرنا
2۔ مینجمنٹ ہے:
(a) ایک آرٹ
(b) ایک سائنس
(c) آرٹ اور سائنس دونوں
(d) دونوں میں سے کوئی نہیں
3۔ حسب ذیل میں سے ایک مینجمنٹ کا مقصد نہیں ہے
(a) منافع کمانا
(b) تنظیم کی نشوونما
(c) ملازمت فراہم کرنا
(d) پالیسی بنانا
4۔ پالیسی بنانا کام ہے:
(a) اعلیٰـ سطح کے منیجروں کا
(b) درمیانی سطح کے منیجروں کا
(c) عملی مینجمنٹ (Operational Managment) کا
(d) مندرجہ بالا سب کا
5۔ تال میل
(a) مینجمنٹ کا کام ہے
(b) مینجمنٹ کی روح ہے
(c) مینجمنٹ کا مقصدہے
(d) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں
واقعاتی مسائل
1۔ آج کل X کمپنی کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ یہ سفید اشیاجیسے کپڑ ے دھونے کی مشینیں، مائیکرو یواوون، فریج اور ائیر کنڈیشنر بناتی ہے۔کمپنی کی لاگتیں بڑھتی جارہی ہیں اور اس کا منافع اور بازاری حصہ داری گھٹتا جارہا ہے۔ پیداواری شعبہ فروخت کے نشانے پورا نہ ہونے کے لیے بازار کاری شعبہ کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے اور بازار کاری شعبہ گاہکوں کی توقعات کے مطابق اچھے معیار کی اشیانہ بنانے کے لیے پیداواری شعبہ کو الزام دیتا ہے۔ مالیاتی شعبہ گھٹتے ہوئے منافع کے لیے خراب بازار کاری اور سرمایہ کاری کوذمہ دار مان کر بازار کاری اور پیداواری دونوں شعبوںپر الزام عائد کرتا ہے۔
آپ کے خیال میں کمپنی کے پاس مینجمنٹ کی کس کوالٹی (Quality) کی کمی ہے؟ مختصراً وضاحت کیجیے۔ کمپنی کے مینجمنٹ کو کمپنی دوبارہ صحیح راستے پر لانے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں۔
2۔ ایک کمپنی گھٹتی ہوئی فروخت کی وجہ سے بازار میں موجود اپنی اشیامیں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ آپ بھی کسی ایسے پروڈکٹ کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس سے آپ آشنا ہوں۔ اس فیصلے کو مؤثر بنانے کے لیے ہر سطح کے مینجمنٹ کو کیا اقدامات فیصلے کرنے چاہئیں۔
3۔ ایک فرم پیشگی منصوبہ سازی کرتی ہے اور اس کے پاس کنٹرول نظام اور اہل نگراں عملہ (SuperSvisory) کے ساتھ ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ کئی موقعوں پر ایسا لگتا ہے کہ منصوبوں پر عمل نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور کام دودوبار ہوجاتا ہے۔ اس کو ٹھیک کرنے کی تدبیر تجویز کیجیے۔
سرگرمی 1
ان سرگرمیوں کا مقصد نظریات کو مضبوطی فراہم کرنا اور مطالعے کو دلچسپ بنانا ہے۔ ان کامقصد طلبا کو ان کے فہم وادراک کے مطابق مینجمنٹ سرگرمیوں کے مشقی تجربات دینا بھی ہے۔
کلاس میں بچوں کی تعداد کے مطابق 5-6 طلبا کا الگ الگ گروپ بنائیے۔ انھیں ایک کپڑابنانے والی کمپنی چلانے کا کام دیجیے۔ ہر ایک گروپ کو حسب ذیل کام سونپیے:
(i) گروپ 'A' کو کمپنی میں رونما ہونے والی سرگرمیوں کی نشان دہی کرنی ہے۔
(ii) گروپ 'B' سے کہیے کہ وہ ان سرگرمیوں کے مینجمنٹ سے متعلق اور مینجمنٹ سے غیر متعلق سرگرمیوں کی زمرہ بندی کریں۔
(iii) گروپ 'C' کی منصوبہ بندی کی سرگرمیوں کی نشان دہی کرے۔
(iv) گروپ 'D' تنظیم کاری کی سرگرمیوں کی نشان دہی کرے۔
(v) گروپ 'E' ’عملے کی فراہمی‘ کی سرگرمیوں کی نشان دہی کرے۔
(vi) گروپ 'F' ’ہدایت کاری‘ کی سرگرمیوں کی نشان دہی کرے۔
(vii) گروپ 'G' کنٹرول کرنے کی سرگرمیوں کی نشان دہی کرے۔
(viii) گروپ 'H' تال میل سے متعلق سرگرمیوں کی نشان دہی کرے۔
اس کے بعد ٹیچر ان سرگرمیوں کا خلاصہ کرکے ان سے مناسب نتائج اخذ کرسکتا ہے۔ مندرجہ بالا سرگرمی کسی بھی سیکٹر کے لیے کی جاسکتی ہے جیسے سافٹ ویئر، ایکسپورٹ ہاؤس یا آٹو کمپنی۔ ٹیچر کو حقیقی سرگرمیوں کو معلوم کرنے کے لیے کچھ تیاری کرنی چاہیے۔ وہ حقیقی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے منتخبہ سیکٹر کے مطبوعہ مواد (Printed Material) اور انٹر نیٹ سے مدد لے سکتا ہے۔ ٹیچر کے ذریعے معلومات تلاش کرنے کی اس مشق میں طلبا کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
سرگرمی 2
اس سرگرمی میں اعلا، درمیانی اور نچلی مینجمنٹ کی سطحوں پر کی جانے والی ان سرگرمیوں کی نشان دہی اور زمرہ بندی کرنی ہے جو سرگرمی 1میں کی گئی تھیں۔ اس کے مطابق ہی تینوں سطحوں کے لیے A، B اور C تین گروپ بنائے جاسکتے ہیں۔ اگر ٹیچر چاہے تو وہ زیادہ گروپ بھی تشکیل کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ٹیچران گروپوں کے ذریعے اکٹھا کی گئی معلومات کا خلاصہ کرسکتا ہے۔
نوٹ:ٹیچر ان دونوں سرگرمیوں کے لیے پینل مباحثہ بھی کراسکتا ہے جہاں گروپ کے لیڈر اپنے اخذ کردہ نتائج بیان کرتے ہیں اور کلاس کے طلبا سوالات پوچھتے ہیں جن کے جواب پینل ممبران کے ذریعے ٹیچر کی مدد سے دیے جاسکتے ہیں۔
یہ مشق طلبا کو حقیقی زندگی میں ایک عملی ماحول کا احساس دلاتی ہے اور وہ اس ماحول کے تعلق سے اپنے مطالعہ کو سمجھ سکتے ہیں۔