اس بات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹویوٹا موٹر کارپوریشن میں مینجمنٹ امور چند اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انجام دیے جاتے ہیں جو اس کے خواب اور اس کے حصول کے طریقوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح کئی دوسرے کاروباری ادارے اپنے کاموں میں عرصۂ دراز سے مختلف اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔ مفکرین اور مصنفین بڑی تعداد میں وقتاً فوقتاً مینجمنٹ کے اصولوں کا مطالعہ کرتے رہے ہیں درحقیت مینجمنٹ کے فلسفے کی ایک طویل تاریخ ہے اس کے اصول ارتقا پاچکے ہیں یہ اور یہ عمل مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ (دیکھیے باکس)۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مینجمنٹ کے فلسفے کا ارتقا کافی دلچسپ رہا ہے۔ ہم اس باب میں فریڈرک ونسلوٹیلر اور ہنری فایول کی خدمات کا مطالعہ کریں گے جن کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان کا تعلق مینجمنٹ کے کلاسیکی نظریہ سے تھا۔ ایک مضمون کی حیثیت سے مینجمنٹ کے مطالعے میں دونوں کا زبردست تعاون ہے۔ ایف، ڈبلیو ٹیلر امریکہ کا ایک میکانکی انجینئر تھا جب کہ ہنری فایول ایک فرانسیسی کان کنی انجینئر تھا۔ٹیلر نے ’سائنٹیفک مینجمنٹ‘ کا نظریہ پیش کیا جب کہ فایول نے ’انتظامی اصولوں‘ (Administrative Principles) پر زور دیا۔
ان کے کارناموں کی تفصیل میں جانے سے قبل آئیے ہم مینجمنٹ کے اصولوں کے مفہوم کا مطالعہ کریں۔
مینجمنٹ کے اصولوں کا ارتقا
مینجمنٹ کی تاریخ کا سراغ لگانے میں کئی طرح کے مکاتبِ فکر کا سامنا ہوتا ہے جنھوں نے مینجمنٹ کاموں کی رہنمائی کے لیے اصولوں کی تدوین کی ہے۔ ان مکاتبِ فکر کو، مختلف ادوار،مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:1۔ ابتدائی پس منظر2۔ کلاسیکی مینجمنٹ کا نظریہ (Classical Management theory) 3۔ نیوکلاسیکل نظریہ، انسانی تعلقات کا نظریہ 4۔ برتاوی کی سائنس کا نظریہ (Behavioural Sciece Approach)۔ آرگنائزیشنل ہیومنن ازم (Organisational Humanism) 5۔ مینجمنٹ سائنس اپریشنل ریسرچ 6۔ جدیدمینجمنٹ۔
ابتدائی پس منظر (Early Prespectives)
اب تک کی معلومات کے مطابق مینجمنٹ کے سلسلے میں خیالات کا اظہار پہلی بار 3000-4000 ق۔م میں کیا گیا۔ مصری حکمراں شیوپس (Cheops) نے 2900 قبل مسیح میں ایک پیرامڈ (اہرامِ مصر) کی تعمیر کرائی تھی جس کے لیے 100000 لوگوں کو بیس سال تک کام کرنا پڑا۔ یہ 13 ایکڑ کی اراضی پر پھیلا ہوا تھا اور اس کی بلندی کی پیمائش 481میٹر تھی۔ پتھر کی سلوں کو ہزاروں کلو میٹر کی دوری سے لانا پڑا تھا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ان اہرام (Pyramids) کے اطراف کے گاؤں میں ایک ہتھوڑے کی آواز بھی نہیں سنی گئی۔ ایسا یادگاری کام بغیر مضبوط مینجمنٹ اصولوں کو مدِ نظر رکھے تکمیل نہیں پاسکتا تھا۔
کلاسیکی مینجمنٹ کا نظریہ (Classical Management theory)
عقلیت پسندانہ معاشی نظریہ، سائنٹفک مینجمنٹ انتظامی اصول اور بیوروکریٹک تنظیم اس دور میں تشکیل پائی۔ عقلیت پسندانہ معاشی نظریہ میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ لوگ بنیادی طور پر معاشی فائدوں کے ذریعہ ترغیب پاتے ہیں۔ ایف، ڈبلیوٹیلر کا سائنٹیفک مینجمنٹ پیداوار کے بہترین طریقے پر زور دیتا ہے۔ ہنری فایول کے انتظامی نظریات لوگوں اور کاموں کو ایک اہل تنظیم میں جوڑنے پر زور دیتے ہیں۔میکس ویبر کے ضابطہ پرست (Bureaucratic) مینجمنٹ نظریات طاقت کے غلط استعمال کی وجہ سے مینجمنٹ کی بے قاعدگی کو ختم کرنے کے طریقوں پر زور دیتے ہیں۔ یہ صنعتی انقلاب اور پیداوار کے فیکٹری نظام کا دور تھا۔ بڑے پیمانے پر پیداوار ان اصولوں کو مدِ نظر رکھے بنا ممکن نہیں تھی جو کہ مہارت اور کام کے بٹوارے پر مبنی پیداوار کی تنظیم کاری، آدمی اور مشین کے درمیان تعلق، نیز لوگوں کا مینجمنٹ کرنے وغیرہ پر لاگو ہوتے تھے۔
’’نیو کلاسیکل نظریہ (Neo Classical theory) —انسانی تعلقات کا نظریہ‘‘
1920 اور 1950کے درمیان قائم ہوئے اس مکتبِ فکر نے یہ محسوس کیا کہ قانون اور اختیار کی بالادستی نیز معاشی انعامات ہی ملازمین کی عقلیت پسندانہ کارکردگی پر موثر نہیں ہوتے بلکہ انسانی رویّے اور سماجی ضروریات بھی اس سلسلے میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ قدرتی بات تھی کہ صنعتی انقلاب کے ابتدائی دور میں ٹکنالوجی اور تکنیکوں کی ترقی پر زور دیا گیا۔ انسانی عوامل پر توجہ اس مکتبِ فکر کی خاصیت تھی۔ اس توجہ نے برتاوی سائنس (Behavioral Science) کی ترقی میں ایک پیشرو کا کام انجام دیا۔
’’برتاو کی سائنس کا طریقہ—آرگنائزیشنل ہیومین ازم‘‘
تنظیمی برتاو کے ماہرین جیسے کریس آ جیریس (Cris Argyris)، ڈگلس میک گریگور (Dougals Mc Gregor)، ابراہم ماسلو اور فریڈرک ہرز برگ (Fredrick Herzberg) نے اس نظریے کو بنانے میں نفسیات، عمرانیات اور انسانیات کی معلومات کو استعمال کیا تھا۔آرگنائزیشنل ہومین ازم کا فلسفہ یہ ہے کہ افراد کو کام پر بھی اور گھر پر بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تخلیقی مہارتوں کو استعمال کرنے کی ضروت ہوتی ہے۔
’’مینجمنٹ سائنس آپریشنل تحقیق‘‘
یہ سائنس کمیتی یا مقداری تکنیکوں (Quantitaive Techniques) کے استعمال اور دیگر کاموں میں تحقیق پر زور دیتی ہے تاکہ منیجروں کو فیصلے لینے میں آسانی ہو۔
’’جدید مینجمنٹ‘‘
جدید مینجمنٹ کی نظر میں جدید تنظیمیں پیچیدہ نظام ہیں اور اسی لیے ان کو ایک ہنگامی طریق کار اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور تنظیمی اور انسانی مسائل حل کرنے کے لیے بھی جدیدتکنیکوں کا اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
Source: Adapted form inlient modem history source book on www.fordham.edu.
مینجمنٹ کے اصول—تصور (Principles of Managment:TheConcept)
فیصلہ سازی اور انسانی برتاوکے لیے تعین کے لیے مینجمنٹ ایک وسیع اور عمومی رہنما اصول ہے۔ مثلاً ایک ملازم کی ترقی کے بارے میں فیصلہ لیتے وقت ایک منیجر سینئرہونے (Seniority) کو مدِ نظر رکھتا ہے جب کہ دوسرا منیجر لیاقت (Merit) کے اصول کی پیروی کرتا ہے۔
خالص سائنس اور مینجمنٹ کے اصولوں کے درمیان فرق ہے۔مینجمنٹ کے اصول خالص سائنس کے اصولوں کی طرح سخت نہیں ہیں۔ ان کا تعلق انسانی برتائو سے ہے اور اس لیے انھیں پیش آنے والے حالات اور ان کے تقاضوں کے مطابق لاگو کیا جاتا ہے۔ کاروبار کومتاثر کرنے والی ٹیکنالوجی اور انسانی برتاو کبھی جامد نہیں رہتے۔ اس لیے تمام اصولوں کو ان تبدیلیوں کے ساتھ قدم ملا کر چلنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اطلاعاتی و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT)، کی ایجاد سے پہلے مینیجر ایک تنگ جغرافیائی جگہ کے اندر ایک چھوٹے عملہ کی نگرانی کرسکتا تھا۔ ICT نے منیجروں کی صلاحیتوں کو وسیع بنا دیا ہے جس کی بدولت وہ پوری دنیا میں پھیلی اپنی کاروباری سلطنت کو سنبھال سکتے ہیں۔ انفوسیس (Infosys) نے بنگلور کے اپنے ہیڈ کوارٹر کے کانفرنس روم میں ایشیا کا سب سے بڑا اسکرین نصب کیا ہے جہاں سے اس کے منیجر دنیا کے تمام حصوں میں موجود اپنے گاہکوں اورملازمین سے تعلق قائم کرسکتے ہیں۔
مینجمنٹ کے اصولوں کی صحیح تفہیم کے لیے یہ جاننا بھی فائدے مند ہوگا کہ یہ اصول کیا نہیں ہیں۔مینجمنٹ کے اصولوں اور مینجمنٹ کی تکنیکوں کے درمیان فرق کرنا چاہیے۔تکنیکیں وہ لائحہ عمل یاطریقۂ کار ہوتی ہیں جو کہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی ایک ترتیب پرمشتمل ہوں۔ اصول، تکنیکوں پر عمل کے دوران فیصلہ سازی کے لیے رہنماہوتے ہیں۔ اسی طرح اصولوں کو اقدار (Values) سے بھی جدا سمجھنا چاہیے۔ اقدار وہ چیزیں ہیں جو قابلِ قبول یا قابل خواہش ہوں۔ اقدار میں اخلاق کا عنصر بھی ہوتا ہے۔ اصول بنیادی حقائق یا برتاو کے لیے رہنما ہوتے ہیں۔ اقدار، معاشرے میں افراد کے برتاو کے لیے بنائے گئے عام قوانین ہیں جنھیں عمومی طرز عمل کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے۔ جب کہ مینجمنٹ کے اصولوں کو کام کے حالات میں تحقیق کرنے کے بعد تشکیل دیا جاتا ہے اور یہ نوعیت کے اعتبار سے تکنیکی ہوتے ہیں۔ بہرحال، مینجمنٹ کے اصولوں پر عمل کرتے وقت اقدار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ کاروبار کو سماج کے تئیں اپنی سماجی اور اخلاقی ذمے داریوں کو پورا کرنا پڑتا ہے۔
مینجمنٹ کے اصولوں کی نوعیت (Nature of Principles of Management)
نوعیت سے مراد کسی شے کی ماہیت یا خصوصیات سے ہے۔ اصول ایسے عمومی قضایا (Propositions) ہوتے ہیں جو مخصوص حالات کے رونما ہونے پر لاگو ہوتے ہیں۔ ان کے منیجروں کے ذاتی تجربات نیز مشاہدات اور عملی تجربات کی بنیاد پر انجام پاتا ہے۔ ایک سائنس یا آرٹ کی حیثیت سے مینجمنٹ کے ارتقا میں ان اصولوں کا کتنا حصہ یا کتنا تعاون (Contribution) ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ کس طرح اخذ کیے گئے ہیں اور کتنے موثر ہیں۔ ان اصولوں کے اخذ کرنے کو سائنس کا معاملہ کہا جاسکتا ہے اور ان کے تخلیقی طورپر استعمال کو آرٹ کہا جاسکتا ہے۔ ان اصولوں نے مینجمنٹ کو ایک قابلِ تعلیم اور قابلِ تدریس مضمون بنادیا ہے۔
اسی وجہ سے مینجمنٹ سے متعلق عہدوں پرترقی پیدائشی حق نہیں ہوسکتی بلکہ یہ ضروری لیاقت کے ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ واضح طورپر، مینجمنٹ کے پیشہ وارانہ ہونے میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مینجمنٹ کے اصولوں کی اہمیت بھی بڑھی ہے۔
یہ عملی رہنمائی کے اصول ہیں اور ان میں علت ومعلول (Cause and effect) کا رشتہ ہے۔منصوبہ بندی، تنظیمی امور کی انجام دہی، عملہ کی فراہمی، ہدایت کاری اورکنٹرولنگ وغیرہ عمل، ایسے عمل ہیں جو مینجمنٹ کے وقت سامنے آتے ہیں لیکن فیصلے لیتے وقت جو چیز منیجروں کے کام آتی ہے وہ اصول ہیں۔ مندرجہ ذیل نکات سے مینجمنٹ کے اصولوں کی نوعیت کا خلاصہ ہوجائے گا۔
(i) ہمہ گیری (Univesal applicability): مینجمنٹ کے اصول ہر طرح کی تنظیمو ں پر لاگو ہوتے ہیں چاہے وہ کاروباری ہوں یا غیر کاروباری، بڑی ہوں یا چھوٹی، پبلک سیکٹر کی ہوں یا نجی سیکٹر کی، اشیاسازی کی ہوں یاخدماتی سیکٹروں کی۔ بہر حال ان کا دائرہ کار ادارے کی نوعیت، کاروباری سرگرمی اور کاموں کے پیمانے کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔ مثلاً پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے پورے کام کو چھوٹے کاموں میں تقسیم کرنا چاہیے اور ہر ایک ملازم کی تربیت اس کے مخصوص کام کی انجام دہی کے لیے کی جانی چاہیے۔ یہ اصول سرکاری دفتروں میں قابلِ استعمال ہے جہاں ایک ڈائری کلرک ہوتا ہے جس کا کام ڈاک کو بھیجنا اور وصول کرنا ہوتا ہے، ایک ڈاٹا انٹری آپریٹر بھی یہاں ہوتا ہے جس کا کام کمپیوٹر میں ڈاٹا کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح چوکیدار اور افسر وغیرہ بھی یہاں ہوتے ہیں۔ یہ اصول ایک لمیٹڈ کمپنی کے لیے بھی موزوں ہے جہاں پیداوار، فنانس، بازار کاری اور تحقیق وترقی وغیرہ کے علاحدہ شعبہ ہوتے ہیں۔ کام کی تقسیم کا دائرۂ کارسب صورتوں میں بہر حال مختلف ہوسکتا ہے۔
(ii) عمومی ہدایات (General Guidlines): یہ اصول دراصل عمومی ہدایات یا رہنما اصول ہیں لیکن یہ تمام مینجمنٹ کے تمام مسائل کے لیے تیار شدہ اور مناسب حل فراہم نہیں کرتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی کاروباری حالات کافی پیچیدہ اور تغیر پذیر ہوتے ہیں اور متنوع عوامل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ بہر حال مینجمنٹ کے اصولوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کسی مسئلہ کو حل کرنے میں ایک چھوٹی سی رہنمائی بھی کافی مدد کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، دوشعبوں کے آپسی تنازع کو حل کرنے کے لیے، ایک منیجر تنظیمی مقاصد کی اولیت پر زور دے سکتا ہے۔
(iii) تجربے اور عمل کی بنیاد پر تشکیل شدہ (Formed by practice and experimentation): مینجمنٹ کے اصول منیجروں کی اجتماعی دانش مندی اور تجربات کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ عام تجربہ کی بات ہے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نظم وضبط کا ہونا لازمی ہے۔ اس اصول کا ذکر مینجمنٹ کے نظریات میں ملتا ہے۔ دوسری طرف، فیکٹری میں کام کرنے والے کارکنوں کی تھکاو(Fatigue) دور کرنے کے لیے بہتر طبعی حالات کے اثرات کا تجربہ کیا جاسکتا ہے تاکہ دباو کو کم کیا جا سکے۔
(iv) لچک دار (Flexible): مینجمنٹ کے اصول ایسے سخت نہیں ہوتے جن کی پیروی مکمل طورپر کرنی پڑے۔ یہ لچک دار ہوتے ہیں۔ حالات کی ضرورت کے مدِ نظر منیجر ان میں ترمیم کرسکتے ہیں۔ مثال کے طورپر اختیار کی مرکزیت (Centralisation) یا لامرکزیت (Decentralisation) کا انحصار ہر ادارے کے حالات پر ہوگا۔ مزید برآں، انفرادی اصول مختلف مقاصد میں استعمال ہونے والے مختلف اوزاروں کی طرح ہوتے ہیں اور یہ فیصلہ منیجر کو کرنا ہوتا ہے کہ کن حالات میں کون سا اوزار استعمال کیا جائے گا۔
(v) انسانی برتاو سے متعلق (Mainly Behav- ioural) : مینجمنٹ کے اصولوں کا مقصد انسانی برتاو کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے مینجمنٹ کے اصول نوعیت کے اعتبار سے محض برتاو سے متعلق ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان اصولوں کا تعلق اشیا اور واقعات سے نہیں ہے۔ یہ معاملہ محض اہمیت کا ہے۔مزید برآں یہ اصول، تنظیمی مقاصد کو حاصل کرنے میں انسانی اور مادی وسائل کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک فیکٹری کے نقشے کی منصوبہ بندی کے دوران، نظم وہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ضرورت اس بات کی ہوگی کہ کام کے بہاو اور آدمیوں کی نقل و حرکت نیز مال کے بہاو کو ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے۔
(vi) علّت ومعلول کا تعلق (Cause and effect Relationship) : مینجمنٹ کے اصولوں سے علت ومعلول کے درمیان تعلق قائم کرنا مقصود ہوتا ہے تاکہ ان اصولوں کو ایک ہی طرح کے بہت سارے واقعات میں استعمال کیا جاسکے۔ اور اسی لیے یہ ہم کو بتاتے ہیں کہ اگر ایک خاص اصول کو ایک خاص حالت میں استعمال کیا جائے توا س کا کیا ممکنہ اثر ہوگا۔مینجمنٹ کے اصول مکمل نہیں ہیں کیوں کہ یہ خاص طور سے انسانی برتاو پر لاگو ہوتے ہیں۔حقیقی زندگی میں، حالات ایک سے نہیں ہوتے۔ اسی لیے علّت ومعلول کا صحیح صحیح تعلق قائم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ بہر حال، کچھ حد تک ان تعلقات کو قائم کرنے میں مینجمنٹ کے اصول منیجروں کی مدد کرتے ہیں اور اسی لیے قابلِ استعمال ہیں۔ ہنگامی حالات میں ضروری ہوتا ہے کہ کوئی ایک شخص ذمے داری سنبھالے اور دوسرے اس کی پیروی کریں۔لیکن ایسے حالات میں جہاں مختلف علمی وفنی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے ایک نئی فیکٹری کو قائم کرنا وہاں فیصلہ سازی میں زیادہ لوگوں کی شمولیت کومناسب سمجھا جاتا ہے۔
(vii) موقوف/مشروط (Contingent): مینجمنٹ کے اصولوں کا استعمال کسی مخصوص وقت پر رونما ہونے والے حالات پرمنحصر یا موقوف ہوتاہے۔ ضروریات کے مطابق ان اصولوں کے استعمال میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ مثال کے طورپر ملازمین جائز اور منصفانہ اجرت پانے کے حق دار ہوتے ہیں لیکن جائز اور منصفانہ اجرت کیا ہوگی اس کے تعین میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل ہیں ملازمین کے ذریعے کام میں حصہ داری، مالک کی ادائیگی کی صلاحیت اور متعلقہ کام کے لیے موجودہ یا رائج مزدوری کی شرح۔
مینجمنٹ کے اصولوں کی خوبیوں اورخصوصیات کی تشریح کرنے کے بعد آپ کے لیے مینجمنٹ سے متعلق فیصلہ سازی میں ان اصولوں کی اہمیت کو جانچنا آسان ہوجاتا ہے۔لیکن اس سے قبل آپ ’کِرن مجُمدار شا‘ کی حسب ذیل کیس اسٹڈی کو پڑھیے جو کہ ہندوستان کی کامیاب ترین تاجر ہے اور ’بایو کان‘ کی ’سی ای او‘ ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ کیسے اس نے ’بایو ٹکنالوجی‘ کے ایک چھوٹے سے سیکٹر کو ایک بہت زیادہ منافع بخش کمپنی میں تبدیل کردیا اورایسے خطاب حاصل کیے جن کا خواب ہر کوئی دیکھتا ہے۔
اس کہانی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر کرن مجمدار شا کی کوششوں کی وجہ سے بایوکان کی کامیابی، محض اتفاق نہیں تھا۔ بلکہ یہ صلاحیتوں کے صحیح استعمال پر مشتمل ایک سنجیدہ کوشش تھی جو کہ براہ راست یا بالواسطہ طورپر مینجمنٹ کے اصولوں کا حصہ ہے۔ اب آپ ان اصولوں کی اہمیت کو خود ہی سمجھ سکتے ہیں۔
مینجمنٹ کے اصولوں کی اہمیت (Significance of principle of Managment)
اصولوں کی اہمیت ان کی افادیت میں پوشیدہ ہے۔ یہ اصول منیجروں کے برتاو (Behaviour) کے بارے میں بصیرت عطا کرتے ہیں اور ان کے کام کاج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان اصولوں کا استعمال منیجر اپنے کاموں اور ذمّے داریوں کو پورا کرنے میں کرسکتے ہیں۔ یہ اصول فیصلوں کو لینے اور ان کو لاگو کرنے میں منیجروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر ایک قابلِ ذکر اور اہم شے کسی نہ کسی مدون اصول کے تحت ہوتی ہے۔ مینجمنٹ کے نظریات پیش کرنے والوں کی کوشش یہ رہی ہے اور یہ ہونی بھی چاہیے کہ ایسے اصول تلاش کیے جائیں جنھیں بار بار رونما ہونے والے حالات میں مینجمنٹ ایک عادت کے طورپر اپنا سکے۔مینجمنٹ کی اہمیت کوحسب ذیل نکات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے:
ڈاکٹر کرن مجمدار شا کی کہانی بہت اثر آفرین ہے۔ اس نے اس وقت بایو ٹکنالوجی کی اہمیت کا اندازہ کرلیا تھا جب کوئی اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکا تھا۔ اس نے محض 10000 روپیے کے سرمایے سے آئر لینڈ کی بایو کان بایو کمیکل لمیٹڈ کے ساتھ مل کر اپنے گیراج میں ہی اپنی کمپنی بایوکان انڈیا کا آغاز کیا ۔
جب اس نے مالی اداروں سے قرض لینا چاہا تب کسی مالی ادارے نے اس کی مدد نہیں کی۔ اس کی تین وجوہا ت تھیں: بایو ٹکنالوجی ایک نیا میدان تھا، اس کی کمپنی کے پاس اثاثہ جات کی کمی تھی۔ تیسرے یہ کہ 1978 کے زمانے میں خاتون تاجر شاذونادر ہی ہوا کرتی تھیں۔ اسے لوگوں کو بھرتی کرنے میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔کمپنی کا ابتدائی کام پپیتے سے اینزائم (Enzyme) کو نکالنا تھا۔
اب بایوکان لمیٹڈ ایک مربوط بایو ٹکنالوجی ادارہ ہے جس کا خاص کام بایو فرما سوٹیکلس، کسٹم ریسرچ، کلینیکل ریسرچ اور انزائمس کو تیار کرنا ہے۔ یہ 50 سے زیادہ ممالک میں اپنے گاہکوں اورمتعلق ساجھے داروں کو پروڈکٹس اور محلول فراہم کرتی ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ’’بایوکان میں ہماری کامیابی، نئی نئی ٹکنالوجی اور اشیاکو تیار کرنے اور انھیں متلعقہ مقامات تک پہنچانے کی صلاحیت میں مضمرہے۔ اس اچھوتے ’متحدہ اختراعی‘ نظریے کی بدولت ہم متعلقہ شدہ اشیااور ٹکنالوجی کو فراہم کرسکے اور اپنے عالمی گاہکوں کے ساتھ کثیر سطحی تعلقات کو بنانے کے قابل ہوئے۔‘‘ اس کی دو ذیلی کمپنیاں ہیں۔پہلی سینجین (Syngene) انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ ہے جو کہ ابتدائی مرحلے میں کیمسٹری اور سالمات (Molecules) پر مبنی کسٹم ریسرچ خدمات فراہم کرتی ہے اور پھر ادویات کی دریافت اور تیاری کا کام انجام دیتی ہے۔ دوسری کمپنی کلین جین (Clinigene) پرائیویٹ لمیٹڈ ہے جو ذیابیطس میں طول البلدی تحقیق کرتی ہے اور ادویات کی تیاری اورطبی تجربات میں وسیع پیمانے پر خدمات پیش کرتی ہے۔ بایوکان ہندوستان کی وہ پہلی بایو ٹکنالوجی کمپنی ہے جسے ISO 9001 سرٹی فیکشن ملا۔
بایوکان آج جو کچھ بھی ہے اس کی وجہ ان اصولوں کی پیروی ہے جو اچھے مینجمنٹ کے لیے تدوین کیے گئے ہیں۔
Adapted From www.biocom.com and other sources
(i) اصول، منیجروں کو حقائق کے بارے میں سودمند بصیرت عطا کرتے ہیں (Providuseful unisight into reality) :
مینجمنٹ کے اصول منیجروں کو دنیا کے حقیقی حالات کی مفید بصیرت عطا کرتے ہیں۔ ان اصولوں کی پیروی کرنے سے ان کی معلومات، قابلیت اور انتظامی ضرورتوں کے ادراک اور شعورمیں اضافہ ہوتاہے۔ یہ منیجروں کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور بار بار رونما ہونے والے مسائل کو جلدی سے حل کرسکیں۔ اس طرح مینجمنٹ کے اصول انتظامی لیاقت میں اضافہ کرتے ہیں۔ مثلاً ایک منیجر تفویض اختیارات کے اصول پر عمل کرتے ہوئے فیصلہ سازی کو اپنے ماتحتوںپر چھوڑسکتا ہے اورصرف غیرمعمولی حالات کی دیکھ بھال کرسکتا ہے جن میں اس کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
(ii) وسائل کا بھر پور استعمال اور موثر انتظام (Optimum utilization of resources and effective ad- ministration) : کمپنی کو دستیاب انسانی اور مادی وسائل محدود ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا بھر پور استعمال کرنا پڑتا ہے۔بھر پور استعمال سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمیں وسائل کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ وہ کم سے کم لاگت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فائدہ دیں۔ اصول منیجروں کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں اورجدو جہد کے درمیان علت ومعلول کے رشتے کا پہلے سے ہی صحیح اندازہ کرلیں۔ اس طرح آزمائش اور غلط نظریے (Trial-and-error approch) سے جڑے نقصانات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ موثر انتظام کے لیے منیجر کے فیصلوں اور اس کی صوابدید کا غیرشخصی (Impresronal) ہونا ضروری ہے تاکہ مینجمنٹ کے کاموں میں جانب داری اور درستگی کا پہلو نمایاں رہے۔مینجمنٹ کے اصول اختیارات اور شخصی صواب دید کو محدود رکھتے ہیں تاکہ فیصلوں کو ذاتی مفاد پرستی اورتعصب سے آزادا رکھا جاسکے۔ مثال کے طور پر، مختلف شعبوں کے لیے اختتامی بجٹوں کا فیصلہ کرنے میں،تنظیمی مقاصد کی بالا دستی کو سامنے رکھنا چاہیے نہ کہ ذاتی ترجیحات کو۔
(iii) سائنٹفک فیصلے (Scientific Deci- sions) :
فیصلے حقائق پر مبنی ہونے چاہئیں۔ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے انھیں سوچ سمجھ کر لیا جانا چاہیے۔ ان کا بروقت اور حقیقت پسند ہونا ضروری ہے۔ فیصلوں کے اثرات اور نتائج کی جانچ پرکھ کے بعد ہی ان پر عمل کرنا چاہیے۔مینجمنٹ کے اصول فکر انگیز اور دانش مندانہ فیصلے لینے میں معاون ہوتے ہیں۔ یہ منطق پر زور دیتے ہیں نہ کہ اندھی تقلید پر۔ اصولوں کی بنیاد پر لیے گئے مینجمنٹ فیصلے ذاتی مفاد پرستی، ذاتی رائے اور تعصب سے آزاد ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال کے با مقصد تجزیے پر مبنی ہوتے ہیں۔
(iv) تغیر پذیر ماحول کی ضرورتوں کی تکمیل (Meeting Changing EnviornmentRequirements) :
حالاں کہ یہ اصول اپنی نوعیت کے اعتبار سے عام ہدایات یا رہنما اصول ہیں لیکن ان میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ اور اس طرح یہ تبدیل ہوتے ہوئے ماحول کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں منیجروں کی مدد کرتے ہیں۔ آپ پہلے مطالعہ کرچکے ہیں کہ مینجمنٹ کے اصول فعال کاروباری ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے لچک دار ہوتے ہیں۔ مثلاً، مینجمنٹ کے اصول کے مطابق کام کی تقسیم ہونی چاہیے اور کام کرنے والوں کی فنی مہارت اورتخصیص جدید زمانے میں اس اصول کا دائرہ پورے کاروبار تک وسعت پا چکا ہے جہاں کمپنیاں اپنی اصل اہلیت (کاروبار) میں مہارت حاصل کررہی ہیں اور غیر اصل کاروباروں سے دست کش ہورہی ہیں۔ اس تناظر میں ہندوستان لیورلمیٹڈ کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جو اپنے بیجوں اور کیمیکل کے کاروباروں سے دست کش ہورہی ہے۔ کچھ کمپنیاں اپنی غیر اصل (Non-care) سرگرمیوں جیسے حصص کے تبادلہ کا مینجمنٹ اور اشتہارات وغیرہ کے لیے بیرونی ذرائع سے کرایے پر خدمات حاصل کررہی ہیں۔آج کل یہ اتنا زیادہ ہورہا ہے کہ کمپنیاں تحقیق وترقی، مینوفکچرنگ اور بازارکاری جیسے اصل کاموں کو بھی بیرونی ذرائع سے کرایے پر کرارہی ہیں۔ کیا آپ نے ’بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ‘ (BPO) اور نالج پروسیس آئوٹ سورسنگ (KPO) کی وسعت کے بارے میں نہیں سنا۔
(v) سماجی ذمے داری کی انجام دہی (Fulfilling Social Responsibility) : عوام کی بڑھی ہوئی بیداری، کاروباری اداروں خاص کرلمیٹڈ کمپنیوں کو اپنی سماجی ذمے داری پوری کرنے پر زور دیتی ہے۔ ان مانگوں کے پیشِ نظر مینجمنٹ نظریات اورمینجمنٹ کے اصولوں کا ارتقا بھی ہوا ہے۔ مزید برآں، زمانے میں تبدیلی کے ساتھ اصولوں کی ترجمانی بھی نئے اور عصری مطالب میں کی جارہی ہے اس لیے اگر آج کوئی ’ایکوٹی‘ (Equity) کی بات کرے تو یہ صرف مزدوری (Wages) پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس اصول کی حد میں اب گاہکوں کی قدر، ماحول کے لیے دیکھ بھال، کاروباری ساتھیوں کے ساتھ لین دین سبھی شامل ہیں۔ اس اصول کے اطلاق سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ عوامی سیکٹر کے اداروں نے پورے کے پورے شہروں کی تعمیر کی ہے۔ مثال کے طور پر بھیل (BHEL) نے ہر دوار (اترانچل) میں رانی پور کی تعمیر کی۔ اس ضمن میں شری مہیلا گرہ اُدیوگ لجّت پا پڑ کا حوالہ بھی دیا جاسکتا ہے جس کو ذیل کے باکس (صفحہ نمبر42) پر دیکھا جاسکتا ہے۔
شری مہیلا گریہہ ادیوگ لجت پاپڑ—سماجی ذمے داری کے ساتھ کاروبار کرنا (خواتین کی ایک تنظیم، خواتین کے لیے اور خواتین کے ذریعے)
مستقبل کے منیجروں کے لیے شری مہیلا گریہہ ادیوگ لجت پا پڑ کی کہانی نہایت اثر انگیز ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کیسے ایک تنظیم کاروبار کو سماجی ذمے داری کے ساتھ جوڑ سکتی ہے اور کیسے لوگوں سے وابستہ لوگوں کو خود کفیل بناسکتی ہے۔ دراصل 40000 سے زائد خواتین ہیں جنھیں لجّت پا پڑ بنانے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ پا پڑ پوری دنیا میں اپنے معیار کے لیے مشہور ہیں۔ یہ تنظیم جس کا آغاز 80 روپیے کے قرض سے ہوا تھا اب اس کی ٹرن اوور 301 کروڑ روپیے سے زیادہ ہے۔ اس کی برآمد ات 10 کروڑ روپیے سے زیادہ ہوچکی ہے۔ منافع کو وابستہ لوگوں کے درمیان ان کے حصہ کے تناسب سے تقسیم کردیا جاتا ہے۔ یہ اپنی اقدار پر 40 سالوں سے جمی ہوئی ہے۔ اس نے دکھادیا ہے کہ گاندھی جی کی اقدار کو کاروبار کے ساتھ کس طرح جوڑا جاسکتاہے۔کمپنی کی کم ازکم 61 شاخیں ہیں۔ ان اصل اقدار میں شامل کوئی بھی خاتون تنظیم کا ممبر بن سکتی ہے۔تنظیم کی ویب سائٹ www.lijjat.com کے مطابق، شری مہیلا گریہہ ادیوگ لجّت پا پڑ تین مختلف تصورات (اصل اقدار) کا مرکب ہے جو یہ ہیں:
1۔ کاروبار کا تصور
2۔ خاندان کا تصور
3۔ ایثارو قربانی کا تصور
اس ادارے میں ان تینوں تصورات کی مکمل اور یکساں طورپر پابندی کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ادارے کے اندر لجت کا اپنا ایک خاص انداز فکر قائم ہوچکا ہے۔
ادارے نے ابتدا سے ہی کاروبار کے تصور کو اپنایا۔ اس کے تمام لین دین عملی بنیاد پر کیے جاتے ہیں لیکن واجب قیمتوں پر اور پیداوار بھی معیاری ہوتی ہے۔ اس نے کبھی کسی سے کوئی خیرات، عطیہ، امداد یا تحفہ قبول نہیں کیااور نہ یہ مستقبل میں ایسا کرے گا۔ اس کے برعکس، وقتاً فوقتاً ممبر بہنیں اچھے مقاصد کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق اجتماعی طورپر امداد کرتی رہتی ہیں۔
کاروبار کے تصور کے علاوہ، ادارے نے اپنی تمام ممبر بہنوں کے ہمراہ باہمی طورپر خاندانی شفقت، اعتماد اور ہمدردی کے تصور کو اپنایا ہے۔ ادارے کے تمام معمولات اُسی طرز پر کیے جاتے ہیں۔ جس طرح ایک خاندان اپنے روز مرہ کے گھریلو کام کاج کی انجام دہی کرتا ہے۔
لیکن ادارے کے ذریعے اپنایا گیا سب سے اہم تصور ایثار اور لگن یا خود کو وقف کردینے کا تصور ہے۔ممبران بہنوں، ملازمین اور خیرخواہوں کے لیے یہ ادارہ محض روزگار حاصل کرنے کی جگہ کبھی نہیں رہا۔ یہ عبادت کی وہ جگہ ہے جہاں کوئی اپنی قوت کو نہ صرف اپنے فائدے کے لیے بلکہ سب کے فائدے کے لیے وقف کرتا ہے۔ اس ادارے میں کام عبادت ہے۔ یہ ادارہ ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی تصورات میں اعتقاد رکھتا ہو۔
ماخذ: http://www.lijjat.com/organisation/corevalue
(vi) مینجمنٹ کی تربیت، تعلیم اور تحقیق (Management Training, Educational Research) : مینجمنٹ کے اصول مینجمنٹ کے نظریے کی اصل ہیں۔ اس وجہ سے انھیں مینجمنٹ کی تربیت، تعلیم اور تحقیق کے لیے بنیاد کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں داخلے سے پہلے مینجمنٹ صلاحی(Management aptitude) کے لیے ٹیسٹ دینا ہوتا ہے۔ مینجمنٹ کے اصولوں کی سمجھ نیز ان اصولوں کو کس طرح مختلف صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے ان دونوں باتوں کے بغیر ان ٹیسٹوں کو تیار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مضمون یا موضوع مطالعے کے طور پرمینجمنٹ کی ترقی کے لیے یہ اصول بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ابتدائی سطح پرپیشہ ورانہ کورس جیسے ایم بی اے (ماسٹر آف بزنس ایڈ منسٹریشن) اوربی بی اے (بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن) بھی اپنے نصاب میں ان اصولوں کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ اصول مینجمنٹ کے کام کاج کو بہتر بنانے اور مینجمنٹ کے نئی تکنیکوں کو ترقی دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ عملی تحقیق، لاگتی کھاتہ داری، جسٹ ان ٹائم (Just in time)، کان بان اور کائی زین جیسی تکنیکوں نے ان اصولوں پر مزید تحقیق کی بدولت ترقی پائی ہے۔
نتیجتاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ مینجمنٹ کے مفہوم، نوعیت اور اہمیت کی تفہیم ضروری ہے کیوں کہ ہمیں حقیقی زندگی میں ان کو استعمال کرکے مدد ملتی ہے۔
جیسا کہ باب کے آغاز میں بیان کیا گیا کہ مینجمنٹ کے اصول، ارتقا کی ایک طویل تاریخ سے گزر چکے ہیں اور یہ مسلسل ارتقاء پارہے ہیں۔ اس باب میں اب آگے کلاسیکی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مینجمنٹ کے اصولوں کی تشریح کی گئی ہے جن کی تدوین ایف ڈبلیو ٹیلر اور ہنری فایول نے کی ہے۔
ٹیلر کا سائنٹیفک مینجمنٹ (Taylor's Scientific Management)
سائنٹفک مینجمنٹ سے مراد مینجمنٹ کے اس مکتبِ فکر سے ہے جسے کلاسیکی اسکول کہا جاتا ہے۔ کلاسیکی اسکول سے متعلق دوسرے دوسلسلوں یا مکتبِ فکر سے مرادایک تو فایول کا انتظامی نظریہ (Administraion thoery) اور دوسرا میکسن ویبر کا ضابطہ پسند نظریہ (Bureaucracy) ۔ ہم یہاں ضابطہ پسند (Bureaucracy) کی تشریح نہیں کریں گے۔ فایول کے اصولوں پرتبصرہ بہر حال سائنٹفک مینجمنٹ پر تبصرے کے بعد کیا جائے گا۔
اپنے فہم کی جانچ کیجیے
1۔ کیا آپ کی رائے میں ٹویوٹا اور کرن مجمد ارشا کی اختراع پذیری (Innov- ativeness) کو مینجمنٹ کے اصولوں کی نوعیت سے جوڑا جاسکتا ہے؟
2۔ آپ مینجمنٹ کے اصولوں کی اہمیت کے کن پہلوؤں کو بھیل (BHEL) اور شری مہیلا گریہہ ادیوگ لجّت پا پڑ کی جدوجہد کے ساتھ منسوب کریں گے۔
فریڈرک وینسلوٹیلر (20مارچ 1856 تا 21 مارچ 1915 ) ایک امریکن میکینیکل انجینئر تھا جس نے صنعتی کارگزاری کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ 1874 میں وہ ایک اپرینٹس میکانسٹ (Apprentice Mechanist) کاریگر بنا اور اس نے بنیادی سطح سے فیکٹری کے حالات کو سیکھا۔ اس نے میکینیکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔ وہ اہلیت تحریک کے دانشور رہنماؤں میں سے تھا اور اس نے پیداوار کے فیکٹری نظام کی از سر نو تشکیل پر کافی اثر ڈالا۔ اس کا تعلق صنعتی انقلاب کے زمانے سے تھا جب کہ بڑے پیمانے پر پیداوار کی جاتی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر نئی ترقی کو ہر طرح سے درست ہونے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ ٹیلر کی حصے داری کو ان کوششوں کی روشنی میں دیکھنا چاہیے جو پیداوار کے فیکٹری نظام کو ہر طرح سے درست کرنے کے لیے کی گئیں۔
فریڈرک وینسلوٹیلر—سائنٹفک مینجمنٹ تحریک کا بانی
زمانۂ حیات: 20 مارچ 1856 تا 21 مارچ 1915
پیشہ: امریکن میکینکل انجینئر
تعلیم: 1883 میں اسٹیونس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے میکینکل انجینئر کی ڈگری
تقرری:
1۔ 1874میں کارآموز مشین کاریگر
2۔ 1884 میں میڈویل اسٹیل کمپنی میں ایگزیکیٹو
3۔ 1898 میں بیت اللحم آیرن کمپنی میں جو کہ بعد میں بیت اللحم اسٹیل کمپنی بن گئی
4۔ 1900 میں قائم ہوئے ٹک اسکول آف بزنس میں پروفیسر
5۔ 1906 سے 1907 تک امریکن سوسائٹی آف میکینکل انجینئرس کا صدر
تحریریں:’سائنٹفک مینجمنٹ کے اصول‘ امریکن میگزین میں مارچ اور مئی 1911کے دوران شائع ہوئے مقالات کا سلسلہ جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔
1۔ ’’Concrete, Plaine and Reinforced‘‘ 1906
2۔ ’’Notes on Belting‘‘ 1893
3۔ ’’On the Art of Cutting Metals‘‘ 1906 دسمبر
4۔ ’’A Piece Rate System‘‘ جون 1895
5۔ ’’دی میکنگ آف پٹنگ گرین‘‘ آرٹیکلس کا سلسلہ جو 1915 میں شائع ہوا
6۔ ’’ناٹ فاردی جینیس بٹ فاردی ایوریج مین‘‘ مارچ 1918 میں دی امریکن میگزین میں شائع ہوا
Adapted from www.wikipedia.org and www.stevens.edu/library
ٹیلر نے سوچا کہ کام کا سائنٹفک طورپر تجزیہ کرکے اس کو کرنے کا ’ایک بہترین طریقہ ‘ معلوم کرنا چاہیے۔ وہ وقت اور حرکت کے مطالعہ کے لیے سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔ اس نے ایک کام کو اس کے ترکیبی اجزا میں تقسیم کیا اور ہر ایک کی دوسرے سے پیمائش کی۔
ٹیلر کا یقین تھا کہ عصری مینجمنٹ غیر پیشہ وارانہ ہے اور اس کا مضمون کے طورپر مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ وہ یہ بھی چاہتاتھا کہ کارکنان کو مینجمنٹ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ اور اس طرح ٹریڈ یونینوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ بہترین نتائج ایک تربیت یافتہ اور لائق مینجمنٹ نیز معاون اور تخلیقی عملے کے درمیان ساجھے داری سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ ان میں سے ہرایک کو دوسرے کی ضرورت ہے۔
وہ 1911 میں شائع ہوئے اپنے مقالے ’The Principle of Scientific Managment‘ میں ’سائنٹفک مینجمنٹ‘ کی اصطلاح کے لیے جانا جاتا ہے۔ بیت اللحم اسٹیل کمپنی سے نکالے جانے کے بعد اس نے ’شاپ فلور‘ نامی کتاب تحریر کی جو کہ خوب فروخت ہوئی۔ وہ 1906 سے 1907 تک کے لیے امریکن سوسائٹی آف میکانیکل انجینئرز (اے ایس ایم ای) کا صدر منتخب ہوا۔ وہ 1900 میں ڈارٹ ماؤتھ کالج میں قائم کیے گئے ٹک اسکول آف بزنس میں پروفیسر تھا۔
1884 میں وہ اپنی قائدانہ صلاحیت کے اظہار کی بدولت مڈوال اسٹیل کمپنی کا ایگزیکیٹو بن گیا۔ اس نے اپنے ساتھی کارکنوں کو مرحلوں میں کام کرنے کی ہدایت دی۔ 1898 میں وہ بیت اللحم آیرن کمپنی میں شامل ہوگیا جو بعد میں بیت االلحم اسٹیل کمپنی بن گئی۔ اس کو دراصل اکائیوں کے لحاظ سے مزدوری کی ادائیگی کے نظام کو متعارف کرانے کے لیے ملازم رکھا گیا تھا۔ مزدوری کے اس نظام کو قائم کرنے کے بعد کمپنی میں اسے مزید اختیارات اور ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اپنے نئے وسائل کا استعمال کرکے اس نے عملے میں اضافہ کیا اوربیت اللحم کو موجدانہ کام کے لیے ایک نمائشی جگہ بنادیا۔ بدقسمتی سے کمپنی کو کسی دوسرے گروپ کو فروخت کردیاگیا اور اسے سبک دوش ہونا پڑا۔
1910 میں اس کی صحت خراب ہونے لگی۔ 1915 میں نمونیہ کی وجہ سے اس کی وفات ہوئی۔ اس کے کاموں کا جائزہ اگلے صفحے پر باکس سے کیا جاسکتا ہے۔
سائنٹفک مینجمنٹ کے اصول (Principles of Scienfic Management)
سائنٹفک مینجمنٹ کے لیے ٹیلر کا تعاون
حسب ذیل اقتباسات 1912 میں امریکی مجلس نمائندگان کی مخصوص کمیٹی کے سامنے ٹیلر کے ذریعے دیے گئے دلائل نیز 1911 میں شائع ہونے والے اس کی نہایت اہم تصنیف ’’سائنٹفک مینجمنٹ کے اصول‘‘ (The principles of Scientific Management) سے لیے گئے ہیں۔
’’سائنٹفک مینجمنٹ میں سب سے پہلے قدامت پرستی کے تحت بنائے گئے مختلف آلات میں سے ہر ایک کی محتاط تحقیق کی ضرورت ہے اور دوسرے، ان تمام آلات میں ہر ایک کی قابلِ حصول رفتار کے وقت اور حرکت مطالعہ کے بعد، ان میں سے کئی آلات کے اچھے نکات کو ایک معیاری عملی آلہ بنانے میں استفادہ کیا جائے جس کی بدولت کارکن کام کو نہایت تیزی اور ایسی آسانی سے انجام دینے کے قابل ہوسکیں گے جیسا کہ وہ پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد یہ ایک آلہ ان مختلف اقسام کے آلات کی جگہ بطور معیار کے اپنا لیا جائے گا جو کہ اس سے پہلے استعمال کیے جاتے تھے اوریہ اس وقت تک تمام کارکنوں کے لیے معیار رہے گا جب تک کہ وقت اور حرکت کے مطالعہ کے ذریعہ اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے کوئی دوسرا آلہ سامنے نہ آئے۔‘‘
(سائنٹفک مینجمنٹ، صفحہ 119)
سائنٹفک مینجمنٹ کے اہم عناصر ہیں: (سائنٹفک مینجمنٹ صفحہ 129 تا130)
’’وقت کا مطالعہ‘‘ (Time Studies)
عملی یا ماہرانہ نگرانی (Functional or Specialized supervision)
اوزاروں اور آلات کا معیار (Standardisation of tools and equipment)
کام کے طریقوں کا معیار (Standaridisation of work methods)
علاحدہ منصوبہ بندی عمل (separate planning funcion)
مینجمنٹ بذریعہ استثنائی اصول (Management by exception principle)
لائڈرولز اور اس جیسی دوسری وقت بچانے والی تدابیر کا استعمال(Sales of Slide Rule and Similar Time saving devices)
کارکنان کے لیے ہدایتی کارڈ
کام کی سپردگی اور کامیاب کارکردگی کے لیے زیادہ بونس
الگ الگ معاوضوں کے نظام کا استعمال
اشیااور آلات کی زمرہ بندی کے لیے نظام یاد داشت
ایک راہ بنانے کا (routing) نظام
ایک جدید لاگتی نظام وغیرہ وغیرہ
ٹیلر نے ان عناصر کو ’’محض مینجمنٹ کے میکانزم کے عناصر یا ان کی تفصیلات‘‘ کہا۔ اس نے انھیں مینجمنٹ کے چار اصولوں کا نام دیا ہے (صفحہ 130، سائنٹفک مینجمنٹ)
1۔ ایک حقیقی سائنس کی ترقی
2۔ کارکنوں کا سائنٹیفک انتخاب
3۔ کارکنوں کی سائنٹیفک طور پر تعلیم و ترقی
4۔ مینجمنٹ اور ملازمین کے مابین دوستانہ اورقریبی تعاون
Taylorism (F.W.Taylor & Scintific Management) سے اخذ کیا گیا
at http://www.quality.org/tqm_msj/taylor.html.
صنعتی انقلاب کے ابتدائی دنوں میں جب فیکٹری کی تنظیم کا کوئی قائم شدہ نظریہ موجود نہ تھا۔فیکٹری مالکان اور منیجر اپنے کاموں کامینجمنٹ کرنے کے دوران پیش آنے والے مسائل کا سامنا اپنی ذاتی سوجھ بوجھ کی بنا پر کرتے تھے۔ اسی کو قدامت پرستی (Rule of Thumb) کہا جاتا ہے۔ جب اور جس طرح حالات رونما ہوتے تھے، وہ لوگ اس کا حل بھی اسی طرح ڈھونڈ لیتے تھے لیکن یہ طریقۂ کار آزمائش اور فروگذاشت نظریے (Trial and error approch) کی خامیوں سے پُر تھا۔ دراصل یہ جاننا بہت ضروری ہوتا ہے کہ کیا بات کام کی اور مفید ہے اورکیا چیز غیر اہم اور غیر ضروری ہے۔
اس کے لیے ایک ایسے نظریے کی پیروی کرنے کی ضرورت تھی جس میں ایک مسئلے کو سائنٹفک طورپر بیان کیا جاتا، متبادل حل تیار کیے جاتے، نتائج کا اندازہ کیا جاتا، کارکردگی کی پیمائش کی جاتی اور نتائج اخذکیے جاتے۔
اس صورت حال میں، ٹیلر سائنٹیفک مینجمنٹ کے بانی‘ کے طورپر ابھرا۔ اس نے قدامت پرستی کے برخلاف سائنٹفک مینجمنٹ کو پیش کیا۔ اس کے انسانی سرگرمی کو چھوٹے حصّوں میں تقسیم کیا اوریہ معلوم کیا کہ کس موثر طریقہ سے کم وقت میں زیادہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ کس طرح کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ اس سے مراد کاروباری سرگرمیوں کو معیاری اوزاروں، طریقوں اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ انجام دینا تھا تاکہ پیداوار اور اس کے معیار میں اضافہ ہوسکے نیز لاگتوں اور ضائع ہونے (ردّی) میں کمی لائی جاسکے۔
ٹیلر کے الفاظ میں ’’سائنٹفک مینجمنٹ سے مراد ٹھیک ٹھیک طورپر یہ معلوم کرنا ہے کہ آپ افراد سے کیا کام لینا چاہتے ہیں اور یہ دیکھنا کہ وہ اس کو سستے اور بہترین طریقے سے انجام دیں‘‘۔بیت اللحم اسٹیل کمپنی نے جہاں ٹیلر خود کام کرتا تھا سائنٹفک مینجمنٹ کے اصولوں کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت میں تین گنا اضافہ کیا۔ اس لیے ان اصولوں پر گفتگو ضروری ہے۔
(i) سائنس نہ کہ قدامت پرستی (Science, not Rule of Thumb) :
ٹیلر نے مینجمنٹ کاموں کی سائنٹفک جانچ کے طریقے کو متعارف کیا۔ ہم مینجمنٹ میں قدامت پرستی کے طریقے کی خامیوں کا پہلے ہی حوالہ دے چکے ہیں۔ چوں کہ مختلف منیجر خود ساختہ قدامت پرستی کی پیروی کرتے تھے اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ وہ سب کے سب مساوی طور پر موثر نہیں ہوسکتے تھے۔ ٹیلر کا یقین تھا کہ لیاقت کو صرف ایک ہی طریقے سے ممکن حد تک بڑھایا جاسکتا ہے اوریہ طریقہ مطالعے اور تجربے کے ذریعے ہی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تیار کیا گیا طریقہ پورے ادارے میں قدامت پرستی کا متبادل ہو سکتا تھا۔ سائنٹیفک طریقہ روایتی طریقوں کی جانچ پر مشتمل تھا۔ یہ جانچ، کام کا مطالعہ کرکے، بہترین کاموں میں اتحاد پیدا کرکے اور ایک معیاری طریقے کو تیار کرکے کی جاتی تھی۔ اور پھر اس تیار شدہ طریقے کی پورے ادارے میں اتباع کی جاتی۔ ٹیلر کے مطابق، ایک چھوٹی پیداواری سرگرمی کی بھی سائنٹفک طورپر منصوبہ بندی اوراس کا مینجمنٹ کیا جاسکتا ہے جیسے لوہے کے مستطیل ٹکڑوں کو سائنٹفک طریقے سے ٹرالی میں رکھنا۔ اس کے نتیجے میں انسانی قوت کی کافی بچت ہوتی اور ساتھ ہی مال اور وقت کی بربادی میں بھی کمی آتی۔ اعمال میں جتنا زیادہ سائنٹفک طریقۂ کار اپنایا جاتا اتنی ہی زیادہ بچت ہوتی۔
دورِ حاضر میں بھی انٹر نیٹ کے استعمال سے ادارے کی اندرونی اہلیتوں اور صارفین کے اطمینان میں ڈرامائی طور پر بہتری آئی ہے۔
(ii) ہم آہنگی نہ کہ عدم موافقت (Harmony, not Discord) :
پیداوار کے فیکٹری نظام کے تحت منیجر، مالکوں اور کاریگروں کے درمیان ایک رابطے کا کام کرتا ہے۔ چوں کہ منیجر کی حیثیت سے اس کا کام کارکنوں سے کام لینا ہوتا ہے اس لیے منیجروں اور کارکنوں کے مابین سطحی تنازعات کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ٹیلر نے نشان دہی کی کہ تنازعات سے کسی کا فائدہ نہیں ہوتا، نہ ہی کارکنوں، منیجروں اور نہ ہی فیکٹری مالکان کا۔ اس نے کارکنوں اور مینجمنٹ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پر زور دیا۔ اس نے کہا کہ ہر ایک کو دوسرے کی اہمیت جان لینا چاہیے۔ اس حالت کو حاصل کرنے کے لیے ٹیلر نے مینجمنٹ اور کارکنان دونوں کی جانب مکمل ذہنی انقلاب پر زور دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مینجمنٹ اور کارکنان دونوں کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی چاہیے۔ ایسی صورت میں ٹریڈ یونینیں بھی ہڑتال وغیرہ کے بارے میں نہیں سوچیں گی۔
مکمل ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے مینجمنٹ اور کارکنان کے درمیان منافعوں کی حصّے داری
مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ کمپنی کے منافعوں کو کارکنوں کے ساتھ بانٹے۔ دوسری طرف کارکنوں کو سخت محنت کرنی چاہیے اور کمپنی کی بھلائی میں کی جانے والی تبدیلی کو قبول کرنا چاہیے۔ دونوں کو خاندان کے حصے کے طور پر رہنا چاہیے۔ ٹیلر کے مطابق سائنٹیفک مینجمنٹ کی بنیاد اس مضبوط عزم پر ہے کہ کارکنوں اور مینجمنٹ کا حقیقی مفاد ایک ہی ہے۔ یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یعنی آجر کی خوش حالی زیادہ طویل عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس کے ملازمین خوش حال نہ ہوں۔ یہی بات ملازمین پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
جاپانیوں کے کام کرنے کی تہذیب اس صورت حال کی روایتی مثال ہے۔ جاپانی کمپنیوں میں پدرانہ طرز کا مینجمنٹ کیا جاتاہے وہاں مینجمنٹ اور کارکنوں کے درمیان ایک مکمل آزاد ماحول ہے۔ اگر کارکنوں کو ہڑتال پر جانا ہی پڑ جائے تو وہ کالی پٹیاں باندھ لیتے ہیں لیکن مینجمنٹ کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نارمل اوقات سے زیادہ کام کرتے ہیں۔
(iii) تعاون نہ کہ فرد پسندی (Cooperation, not individualism) :
مینجمنٹ اور کارکنوں کے درمیان فرد پسندی کے بجائے مکمل تعاون ہوناچاہیے۔ یہ اصول، ہم آہنگی نہ کہ عدم موافقت، کے اصول کی وسعت ہے۔ مسابقت کی جگہ تعاون ہونا چاہیے۔ دونوں کو یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ انھیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
اس کے لیے، مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ ملازمین کے ذریعے دی گئی تعمیری تجاویز کو بغور سنے۔ ملازمین کے ذریعے دی گئی ایسی تجاویز پر انھیں انعام ملنا چاہیے جس کی بدولت لاگتوں میں کمی واقع ہو۔ ملازمین کو مینجمنٹ کا حصہ ہونا چاہیے اور کوئی بھی اہم فیصلہ کارکنوں کو اعتماد میں لے کر کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح کارکنوں کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری ہڑتالوں پر نہ جائیں اور نہ ہی مینجمنٹ سے غیرواجب مانگیں کریں۔ درحقیقت جہاں کھلاترسیلی نظام اور ساکھ ہوگی وہاں ٹریڈ یونین کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ بلکہ پدرانہ طرز کا مینجمنٹ جس میں آجر (Employer) اپنے ملازمین کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں جاپانی کمپنیوں کی مثل عمل میں آجائے گا۔
ٹیلر کے مطابق، مینجمنٹ او رکارکنوں کے درمیان کام اور ذمے داری کی مساوی تقسیم ہونی چاہیے۔ تمام دن مینجمنٹ کو کارکنوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے ان کی مدداور حوصلہ افزائی کرنا چاہیے اور ان کے لیے راہ ہموار کرنا چاہیے۔
(iv) ہر شخص کی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق ترقی
(Devolopment of each and every person to his or her greatest effeciency and prosperity) :
صنعتی کارکردگی کا انحصاربڑی حد تک عملے کی صلاحیتوں پر ہوتا ہے اسی لیے سائنٹیفک مینجمنٹ کارکنوں کی پختگی یا تکمیل پر زور دیتا ہے سائنٹیفک نظریے کا’ایک بہترین طریقہ‘ کارکنوں کی تربیت بھی تھا۔ ٹیلر کا خیال تھا کہ اہلیت پر توجہ ملازمین کے انتخاب کے عمل سے ہی شروع ہو۔ ہر شحض کا انتخاب سائنٹیفک طورپر کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد اس کی ذہنی، جسمانی اور شعوری صلاحیتوں کے مطابق اسے کام سپرد کیا جانا چاہیے۔ اہلیت میں اضافے کے لیے انھیں ضروری تربیت دی جانی چاہیے۔ اہل ملازمین زیادہ پیداوار اور زیادہ کمائی کریں گے۔ جس کی وجہ سے ملازمین اور کمپنی دونوں کے لیے نہایت خوش حالی اور اہلیت یقینی ہوجائے گی۔ مذکورہ بالا امور سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ٹیلر کاروبار میں پیداوار کے سائنٹفک طریقۂ کار کے استعمال کا زبردست حامی تھا۔
سائنٹیفک مینجمنٹ کی تکنیکیں (Techniques of Scientific Management)
آئیے اب ہم ٹیلر کی بتائی ہوئی تکنیکوں پر تبصرہ کریں۔ یہ تکنیکیں ان مختلف تجربات پر مبنی ہیں جو اس نے اپنے پیشہ وارانہ دورمیں کیے۔
عملی فورمین شپ (Functional Foremanship)
فیکٹری نظام میں، فورمین مینجمنٹ کی وہ نمائندہ شکل ہے جس کا کارکنان سے روزانہ سابقہ پڑتا ہے۔ اس کتاب کے پہلے باب میں آپ نے دیکھا کہ فورمین نچلی سطح کا منیجر اور اعلیٰ سطح کا کارکن ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا محور ہوتا ہے جس کے گرد تمام تر پیداواری منصوبہ بندی، منصوبوں پر عمل درآمد اور کنٹرول کا کام گردش کرتا ہے۔ اس لیے ٹیلر نے فیکٹری نظام میں اس کردار کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ درحقیقت، اس نے ایک اچھے فورمین کی خوبیوں کی نشاندہی کی اور یہ پایا کہ کوئی بھی شخص واحد ان تمام خوبیوں پر پورا نہیں اتر سکتا۔ اس بات نے اسے آٹھ افراد کے ذریعے عملی فورمین شپ کی تجویز پیش کرنے پر آمادہ کیا۔
ٹیلر نے منصوبہ بندی کے کاموں اورمنصوبوں پرعمل درآمد کے کاموں کے درمیان علاحدگی کی حمایت کی۔ اس تصور کو کارخانے کے تمام عملے تک وسیع کردیا گیا اور اسے عملی فورمین شپ کا نام دیا گیا۔ فیکٹری منیجر کے تحت انچارج برائے منصوبہ بندی اور انچارج برائے پیداوار رکھے گئے۔ منصوبہ بندی انچارج کے تحت چار افراد کا عملہ رکھا گیا جن کے نام تھے ضابطہ کار (Disciplinarian)، وقت اور لاگت کلرک (Time and Cost Clerk)، راہ کا تعین کرنے والا کلرک اور ہدایت کارڈ کلرک (Instruction Card Clerk)۔ ان لوگوں کا کام بالترتیب یہ تھا ضابطہ قائم کرنا، وقت اور لاگت کا خاکہ تیار کرنا، راہ کا تعین کرنا اور کارکنوں کو ہدایت دینا۔ انچارج برائے پیداوار کے تحت جس عملے کو کام کرنا تھا ان کے نام تھے نگراں پیداوار (Inspectors)، نگراں مرمت (Repair Boss)، نگراں جماعت (Gang Boss) اور نگراں رفتار (Speed Boss)۔جن کی بالترتیب ذمے داری کام کے معیار کی جانچ کرنا، مشینوں اور آلات کو مناسب عملی حالت میں بنائے رکھنا، مشینوں اور اوزاروں کو کارکنان کے کام میں لیے جانے کے لیے تیار رکھنا نیز کام کو صحیح طور پر بروقت مکمل کرنا تھی۔
عملی فورمین شپ سبھی عملے تک کام کی تقسیم اور مہارت کے اصول کی ایک وسعت ہے۔ ہر کارکن کو اپنے متعلقہ پیداواری کام میں ان آٹھ فورمینوں کے احکام لینے ہوں گے۔فورمینوں میں عقلمندی، تعلیم، موقع شناسی، عزم، فیصلے کی قوت، خاص معلومات، چابک دستی، توانائی اور ایمان داری ہونی چاہیے۔ یہ تمام خوبیاں ایک اکیلے فورمین میں ہمیشہ نہیں پائی جاسکتیں۔ اس لیے ٹیلر نے ایک ایسے نظام کے بارے میں سوچا جس میں آٹھ ماہرین ہوں اور ان میں سے ہر ایک ایک کام کا ذمے دار ہو جس کے لیے مخصوص خوبیاں ضروری ہوں گی۔ وہ لوگ جن کو تکنیکی مہارت، عقل اور عزم وحوصلہ حاصل ہوگا ان کو منصوبہ بندی کا کام دیا جائے گا۔ دوسرے جن کے پاس توانائی اوراچھی صحت وغیرہ ہے انھیں منصوبہ بندی کو عمل میں لانے کی ذمے داری سپرد کی جاسکتی ہے۔
کام کی معیارسازی اور کام کی سادہ کاری (Standardisation and Simplificaton of work)
ٹیلر کام کو معیاری بنانے کا سرگرم حامی تھا۔ اس کے مطابق سائنٹیفک طریقوں کا استعمال قدامت پرستی کے تحت رائج پیداواری طریقوں کا تجزیہ کرنے میں کیا جانا چاہیے۔بہترین کاموں کو باقی رکھ کر اور مزید بہتر بنانے کے لیے ایک معیار بنایا جاسکتاہے جس کی پیروی پوری تنظیم میں کی جانی چاہیے۔ یہ کام مطالعے کی تکنیکوں کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے جو وقت کے مطالعے، حرکت کے مطالعے، تھکاوٹ کے مطالعے اور طریقے کے مطالعے پر مشتمل ہیں۔ ان تکنیکوں کی تشریح اسی باب میں آگے چل کر کی جائے گی۔یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کاروباری عمل کی عصری تکنیکوں کا مقصد بھی کام کو معیاری بنانا ہے یہ تکنیکیں دی انجینئرنگ، کائی زین (مسلسل بہتری) اور بینچ مارکنگ پر مشتمل ہیں۔
معیارسازی سے مراد ہر کاروباری سرگرمی کے لیے معیارات کو قائم کرنے کے عمل سے ہے۔ یہ عمل، خام مال، وقت، اشیا، مشینری، طریقوں یا کام کے ماحول کا معیاری بنانا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ معیارات وہ نشانے ہیں جن کاپیداواری عمل کے دوران خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ معیارسازی (Standardisation) کے مقاصد حسب ذیل ہیں:
(i) کسی پروڈکٹ کی دی ہوئی لائن کو طے شدہ اقسام، جسامت اور خصوصیات تک گھٹا دینا۔
(ii) تیار کی گئی مصنوعات اور ان کے حصوں کے درمیان باہمی تبدیلیوں کو قائم کرنا۔
(iii) مٹیریل میں کوالٹی اور عمدگی کے معیارات کو قائم کرنا اور
(iv) انسانوں اور مشینوں کی کارکردگی کے معیارات قائم کرنا۔
سادہ کاری سے مراد فاضل قسموں، سائزوں اور ابعاد کا ختم کرنا ہے جب کہ معیارسازی موجودہ اقسام کی جگہ نئی اقسام کی شمولیت پر منحصر ہے۔ سادہ کاری کا مقصد اشیامیں غیر ضروری قسم کی تبدیلیوں اور الٹ پھیر کو روکنا ہے۔ اس کے نتیجے میں آلات، مشینوں اور مزدوری کی لاگتوں میں بچت ہوتی ہے۔ یہ اضافی فروخت، خام مال کے استعمال میں کمی اور آلات کے بھر پور استعمال پر مشتمل ہے۔
زیادہ تر بڑی کمپنیاں جیسے نوکیا، ٹویوٹا اور مائیکروسافٹ وغیرہ کامیابی کے ساتھ سادہ کاری اور معیاریت کو نافذ کرچکی ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج وہ اپنے مختلف بازاروں میں اپنا بڑا حصہ رکھتی ہیں۔
طریقۂ کار کا مطالعہ (Method Study)
طریقۂ کار کے مطالعے کا مقصد کام کی انجام دہی کے ایک بہترین طریقے کو معلوم کرنا ہے ۔ کام کو کرنے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک بہترین طریقے کا تعین کرنے کے کئی پیمانے ہوتے ہیں۔ خام مواد کو حاصل کرنے سے لے کر گاہکوں کو تیار مال کی سپردگی تک کی جانے والی ہرسرگرمی طریقۂ کار کے مطالعے کا حصہ ہے۔ ٹیلر نے طریقۂ کار کے مطالعے کے ذریعے اسمبلی لائن کے تصور کی ایجاد کی۔ فورڈ موٹر کمپنی نے اس تصور کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔ اب تک آٹو کمپنیاں اس کو استعمال کررہی ہیں۔
اس تمام کوشش کا مقصد پیداوار کی لاگتوں کو کم سے کم کرنا اور گاہکوں کے اطمینان نیز معیار کو زیادہ سے زیادہ بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے کئی تکنیکیں جیسے پراسیس یا عمل چارٹ اور آپریشن ریسرچ وغیرہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کار کو ڈیزائن کرنے کے لیے، اسمبلی لائن پیداوار کے تحت کاموں کی ترتیب، خام مال، مشینوں اور کارکنوں کے لیے جگہ وغیرہ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ طریقۂ کار کے مطالعے کا حصہ ہے۔
’حرکت‘ کا مطالعہ (Motion Study)
حرکت کے مطالعہ سے مراد نقل وحرکت جیسے اشیا کو اٹھانے، رکھنے، بیٹھنے اور پوزیشن تبدیل کرنے وغیرہ کے مطالعے سے ہے۔ یہ سب حرکات ایک کام کو کرتے وقت کی جاتی ہیں۔غیر ضروری حرکات کو پہچان کران سے نجات پانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ کام کو اہلیت کے ساتھ مکمل کرنے میں کم وقت لگے۔ مثال کے طو رپر ٹیلر اور اس کے ساتھ فرینک گیل برتھ نے اینٹیں لگانے میں کی جانے والی حرکات کو 18 سے کم کرکے 5 تک لے آنے میں کامیابی حاصل کی۔ ٹیلر نے اس عمل کو چار مرتبہ انجام دے کر پیداواری صلاحیت میں ہوئے اضافے کا مظاہرہ کیا۔
جسم کی حرکات کو اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو یہ باتیں ہمیں معلوم ہوں گی: (i) کون سی حرکات تخلیقی ہیں (ii) کون سی حرکات واقعاتی یا اتفاقی ہیں (یعنی اسٹور میں جانا) اور (iii) کون سی غیر تخلیقی ہیں۔ ٹیلر نے مختلف حرکتوں اور ان سے متعلق رنگوں اور علامتوں وغیرہ کو پہچاننے کے لیے اسٹاپ واچ کا استعمال کیا۔ ٹیلر نے مناسب آلات، اوزار ڈیزائن کیے اور ملازمین کو ان کے استعمال کی تعلیم دی جس سے بہترین نتائج برآمد ہوئے۔
وقت کا مطالعہ (Time Study)
یہ تکنیک، تنظیم میں ایک متعین کام کو انجام دینے کے سلسلے میں صرف ہوئے معیاری وقت کا تعین کرتی ہے۔کسی بھی کام کے کرنے میں لگے ہوئے وقت کو براہِ راست وقت کی پیمائش کرنے والے آلات سے دیکھنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کام کے ہر جز پر کتنا وقت خرچ ہوا ہے۔ وقت کے مطالعے کا طریقۂ عمل کام کے حجم اور اس کی رفتار، عمل کا سائیکل ٹائم اور وقت کی پیمائش پر آئے خرچ پر منحصر ہوگا۔ وقت کے مطالعے کا مقصد یہ متعین کرنا ہے کہ کتنے ملازمین کو کام پر لگایا جائے۔حوصلہ افزا اسکیموں کے لیے کون سا خاکہ مناسب ہوگا اور کتنی محنت درکار ہوگی۔
مثال کے طور پر یہ طے کیا جانا ہے کہ ایک کارڈ بورڈ باکس کو بنانے میں ایک کارکن 20 منٹ کا معیاری وقت لے گا۔ اس لیے ایک گھنٹے میں وہ 3 باکس (ڈبے) بنائے گا۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ کارکن کو ایک شفٹ میں 8 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے جس میں ایک گھنٹہ آرام اور کھانے کے لیے کم کرلیا جائے تو ایسی صورت میں یہ طے ہے کہ وہ 7 گھنٹوں میں 3 ڈبے فی گھنٹہ کے لحاظ سے 21 ڈبے کو بنائے گا۔ اب یہ ایک معیاری کام ہے جو ایک کارکن کو کرنا ہے اور اس کے مطابق مزدوری کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
تھکاوٹ کا مطالعہ (Fatigue Study)
اگر کوئی شخص بغیر آرام کیے کام کرے تو وہ لازماً ذہنی اور جسمانی طور پر تھک جائے گا۔ آرام کے وقفے وقت کو دوبارہ حاصل کرنے اور یکساں صلاحیت کے ساتھ دو بارہ کام کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تھکاوٹ کا مطالعہ کام کی تکمیل میں آرام کے لیے درمیانی وقفوں کا تعین کرنا ہے اور یہ بھی طے کرنا ہے کہ یہ وقفہ کتنی کتنی دیر کے بعد دیا جائے۔ مثال کے طور پر، عموماً ایک پلانٹ میں کام آٹھ آٹھ گھنٹوں کی تین شفٹوں میں کیا جاتا ہے۔ ہر شفٹ میں کارکنوں کو اپنے کھانے وغیرہ کے لیے آرام کا کچھ وقفہ دیا جاتا ہے۔ اگر کام کافی جسمانی مشقت پر مشتمل ہے تب چھوٹے چھوٹے وقفے کارکنوںکو بار بار دیے جانے چاہئیں تاکہ وہ کام کے لیے اپنی پوری قوت کودوبارہ سے حاصل کرسکیں۔
تھکاوٹ کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے طویل کام کے اوقات، غیر مناسب یا غیرموزوں کام کرنا، سربراہ کے ساتھ غیر صحت مندانہ یا نا خوشگوار تعلقات اور کام کے خراب حالات وغیرہ۔ بہتر کارکردگی کے لیے ایسی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے۔
الگ الگ معاوضوں کا نظام (Differential Piece Wage System)
ٹیلر الگ الگ معاوضوں کے نظام کا زبردست حامی تھا۔ وہ اہل اورنااہل کارکنوں کے درمیان فرق کرنا چاہتا تھا۔ مذکورہ بالا کام کے مطالعے کی بنیاد پر معیاری وقت اور دیگر حدود یا پیمانوں کا تعین ہونا چاہیے۔ پھر ان معیارات کی بنیاد پر اہل اورنااہل کارکنوں کی زمرہ بندی کی جاسکتی ہے۔ وہ اہل کارکنوں کو انعام سے نوازنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے معیار سے زیادہ کارکردگی کرنے والوں اور معیار سے کم کارکردگی کرنے والوں کے لیے الگ لگ معاوضوں کی ادائیگی کو متعارف کیا۔ مثال کے طورپر یہ طے شدہ ہے کہ فی کارکن معیاری پیداوار 10 اکائیاں فی دن ہے اور وہ لوگ جو معیاری پیداوار یا اس سے زیادہ پیداوار کرتے ہیں انھیں 50 روپیے فی اکائی کے حساب سے مزدوری دی جائے گی اور اس سے کم پیدا وار کرنے والوں کو 40 روپیے فی اکائی کے حساب سے مزدوری دی جائے گی۔ اب ایک اہل کارکن جو کہ 11 اکائیاں بناتا ہے اسے 550 =11×50 روپیے فی یوم ملیں گے جب کہ ایک کارکن جو 19 اکائیاں بناتا ہے اسے 360=9×40 روپیے فی یوم ملیں گے۔
ٹیلر کے مطابق، 190 روپیے کا فرق نااہل کارکن کو بہتر کارکردگی کی ترغیب دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ ٹیلر نے اپنے تجربے سے اسکمیٹ (Schmiat) نامی کارکن کی مثال دی جس نے بیت اللحم اسٹیل کمپنی میں سائنٹیفک مینجمنٹ کی تکنیکوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی مزدوری میں 60 فی صد کا اضافہ کیا۔ ان تکنیکوں کو بروئے کار لا کر وہ ٹرالی میں لوہے کے مستطیل ٹکڑوں کو 12.5 ٹن فی آدمی فی دن کی نسبت سے47 ٹن فی آدمی فی دن کے حساب سے لادنے لگا جس کی بدولت اس کی مزدوری 1.15ڈالر سے بڑھ کر 1.85ڈالر ہوگئی۔
سائنٹفک مینجمنٹ کی تکنیکوں پر از سر نو نظر ڈالنا ضروری ہے جو ٹیلر کے ذریعہ دیے گئے اہلیت کے مجموعی نسخے پر مشتمل ہیں۔ اہلیت کی تلاش کے لیے ایک بہترین طریقے کو تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور منتخب طریقۂ کار ایسا ہونا چاہیے جس سے ایک دن کے واجب کام کو مکمل کرنے یا اس سے زیادہ کام کرنے والوں میں تفریق کی جاسکے۔ یہ الگ الگ معاوضے کا نظام اس قضیے (Premise) پر مبنی ہے کہ اہلیت مینجمنٹ اور کارکنان کی ملی جلی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس لیے حاصل شدہ سرپلس میں حصے کے اوپر جھگڑنے کے بجائے مینجمنٹ اور کارکنان کو زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے ہم آہنگی سے کام کرنا چاہیے نہ کہ اس پیداوار کو محدود کرنا چاہیے۔ ظاہرہے کہ ٹیلر کے خیالات کی اصل حقیقت سائنٹفک مینجمنٹ کے اصولوں اور تکنیکوں کی بکھری ہوئی تشریح میں نہیں ہے بلکہ اس کی اصل فکری تبدیلی میں ہے جسے اس نے ذہنی یا فکری انقلاب کا نام دیا۔ فکری انقلاب مینجمنٹ اور کارکنان کے ایک دوسرے کے تئیں برتاو میں تبدیلی پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ تبدیلی مسابقت سے تعاون کی جانب ہونی چاہیے۔ دونوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انھیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ دونوں کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سرپلس کمائی میں اضافہ ہو۔ اس سے کارکنان کے ذریعے کیے جانے والے احتجاج کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ سرپلس کمائی کا حصہ کارکنوں کے ساتھ بانٹے۔ کارکنوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی قوت صرف کریں تاکہ کمپنی کو منافع ہوسکے۔ یہ رویہ ان دونوں کے لیے بھی بہتر ہوگا اور کمپنی کے لیے بھی۔ طویل عرصے میں کارکنان کی بھلائی ہی کاروبار کی خوش حالی کو یقینی بنائے گی۔
اب، سائنٹفک مینجمنٹ کی تکنیکوں، اصولوں اوراجزا کا مطالعہ کرنے کے بعد، ہم ٹیلر کے زمانے اور موجودہ زمانے میں ان کی عملی افادیت پر غور کرسکتے ہیں۔ ہم سائنٹیفک مینجمنٹ کی موجودہ حیثیت کا تجزیہ بھی کرسکتے ہیں۔ دورِ حاضر میں سائنٹفک مینجمنٹ کے نتائج پر مبنی چند نئی تکنیکیں بنائی گئی ہیں۔آپریشن ریسرچ کو، دوسری عالمی جنگ کے دوران جنگی سازوسامان کو میدانِ جنگ میں زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اسی طرح اسمبلی لائن کی دریافت بھی ایف۔ڈبلیو ٹیلر نے کی جس کا استعمال فورڈ کمپنی نے عوام الناس کے لیے ’ماڈل ٹی‘ کی کاروں کو بنانے میں کیا۔ اس تصور کا اب زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سائنٹیفک مینجمنٹ کی نئی صورت، انحصاری مصنوعات سازی، Lean) (Manufacturing بھی ہے۔ آج کل پیداوار اور دیگر کاروباری سرگرمیوں میں روبوٹوں (Robots) اور کمپیوٹروں کا استعمال کیا جارہا ہے یہ ان سرگرمیوں کے سائنٹیفک مینجمنٹ کاحصہ ہے۔ اس کی بدولت پیداواری صلاحیت کی سطحوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ آپریشن ریسرچ کی تکنیکیں بھی تیار کی جارہی ہیں اور سائنٹیفک مینجمنٹ کے نتیجہ کے طور پر انھیں استعمال کیا جارہا ہے۔ ذیل میں دیا گیا باکس جدید مصنوعات سازی میں استعمال کی جانے والی چند اصطلاحات کے معنوں کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔
فایول کے اصولِ مینجمنٹ (Fayol's Prcinciples of Management)
مینجمنٹ کے کلاسیکی مکتبِ فکر کی تکمیل میں فایول کا انتظامی نظریہ ایک اہم رابطہ ہے جب کہ ٹیلر نے عملی فورمین شپ، الگ الگ معاوضوں کے نظام اور بہترین طریقۂ کار کی ایجادکرکے فیکٹری کی سطحی کارکردگی میں انقلاب لانے میں کامیابی حاصل کی۔ ہنری فایول نے وضاحت کی کہ ایک منیجر کے کام کی مقدار کیا ہوگی اور اسے اس کام کی انجام دہی میں کن اصولوں کا اتباع کرنا چاہیے۔ اگر فیکٹری نظام میں کارکنوں کی اہلیت معنی رکھتی ہے تو اسی طرح منیجروں کی اہلیت کی بھی اہمیت ہے۔ فایول کے کام اور مینجمنٹ کی اہلیت کے سلسلے میں اس کی اہمیت دراصل اس کی کتابوں کی رہین منت۔ ہے ان کتابوں نے منیجروں کی اہلیت کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اورآئندہ بھی کرتی رہیں گی۔
ٹیلر اوراس کے ہم عصروں کے ذریعے سائنٹیفک مینجمنٹ کا استعمال (Applications of Scientific Management by Toylor and his Contemporaries)
1۔ بیت اللحم اسٹیل کمپنی پر کام کے مطالعے (Work Study) میں سلسلہ وار تجربات کے ذریعے ٹیلر نے پتہ لگایا کہ بیلچہ سے ڈھوائی کا بھرپور بوجھ 21 پونڈ فی بیلچہ فی کارکن تھا۔ اس پر عمل درآمد نے ہر سال کمپنی کو 75000 ڈالر سے 80000 ڈالر تک کی بچت دی۔
2۔ فی کس فی یوم لوہے کے مستطیل ٹکڑوں کو سنبھالنے میں اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ 12.5ٹن سے 47 ٹن تک تھا۔ اس کے نتیجہ میں مزدوروں کو ملنے والی مزدوری میں بھی 60 فی صد کا اضافہ ہوا نیز 500 کی جگہ 140 کی کم تعداد میں مزدوروں کو لگانے کے باعث کمپنی کی بچت بھی بڑھ گئی۔
3۔ اس نے ’’دھاتوں کو کاٹنے کے فن‘‘ پر ایک مقالہ شائع کیا جس نے اس فن کو ایک سائنس میں تبدیل کردیا۔
4۔ اس نے بیت اللحم اسٹیل کمپنی کے لیے ’’اکائی کی شرح سے مزدوری نظام‘‘ (Piece Rate Wage System) کے علاوہ ترغیب وتشویق پیدا کرنے کے لیے تدابیر بھی شروع کیں۔
5۔ ٹیلر کے ساتھ فرینک گلبرتھ نے ’اینٹ کا ردّا لگانے‘ (Brick layering) کے فن پر سائنٹیفک مینجمنٹ کو لاگو کیا اور حرکت کے مطالعہ کے ذریعہ اس جیسی چند ایسی باتوں کا خاتمہ کیا جو کہ اینٹ کی پرت رکھنے والوں کے ذریعے ضروری سمجھی جاتی تھیں (18سے 5 تک حرکات کو گھٹایا گیا)۔اس نے باڑ کے لیے سادہ آلات اور اینٹو ںکو تھامنے کے لیے پیکٹ ڈیزائن تیارکیے اور آخر میں اینٹ کے ردّے رکھنے والوں کو ایک ہی وقت میں دونو ں ہاتھوں کو استعمال کرنا سکھایا۔
یہ اینٹ کاردّا رکھنے کے فن میں سائنٹفک مینجمنٹ کے استعمال کی ایک روایتی یا کلاسیکی مثال ہے۔
ہنری فایول (1841-1925) مینجمنٹ کا ایک فرانسیسی نظریہ ساز تھا۔ مزدوروں کی سائنٹیفک تنظیم سے متعلق اس کے نظریات نے بیسویں صدی کے اوائل میں وسیع پیمانے پر اثر ڈالا۔ اس نے 1860 میں سینٹ ایٹیین (Sant-etienne) کی کانکنی اکاڈمی سے کانکنی (Mining) میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس 19سالہ انجینئر نے ’’کوم پیگنی ڈی کومینٹری۔فوچامبین۔ڈیکازیوائل‘‘ نامی کانکنی کمپنی میں کام شروع کیا اور 1888سے 1918تک اس کامنیجنگ ڈائریکٹر رہا۔
اس کے نظریات ایک ایسے مسابقتی ادارے کے تناظر میں پیداوار کی تنظیم سے متعلق ہیں جو اپنی پیداواری لاگتوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ فایول وہ پہلا شخص تھا جس نے مینجمنٹ کے چار کاموں (منصوبہ بندی، تنظیم کاری، ہدایت کاری اور کنٹرول کرنے) کی نشان دہی کی۔ حالانکہ اس کے الفاظ ذرا مختلف تھے۔ منصوبہ، تنظیم، احکام، تال میل اور کنٹرول۔ فایول کے مطابق ایک صنعتی ادارے کی تمام سرگرمیوں کو تکنیکی، کاروباری، مالیاتی، حفاظتی، کھاتہ داری اور مینجمنٹ سرگرمیوں میں تقسیم کیا جاسکتا تھا۔ اس پر بھی تجویز پیش کی کہ ایک منتظم میں جو خوبیاں ہونی چاہئیں وہ ہیں: طبعی، اخلاقی، تعلیمی، علمی اورتجرباتی۔ اس کاماننا تھا کہ تنظیمی کاموں کو بہتر بنانے میں معاون مینجمنٹ اصولوں کی تعداد لامحدود ہے۔
’’سائنٹیفک مینجمنٹ ، جدید پیداوار سے متعلق چند اصطلاحات کی فرہنگ‘‘
1۔ بروقت مینو فکچرنگ (Just in time manufacturing) :۔ یہ ایک انوینٹری (Inventory) مینجمنٹ کی حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے دوران عمل انوینٹری اور اس سے جڑی لاگتوں کو کم کرکے سرمایہ کاری پر رٹرن کو بہتر بنایا جاتا ہے۔ اس نظام کوبصری اشارات یا کان بان (Kan Ban) کے استعمال کے ذریعے لاگو کیا جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ آیا پیداوری عمل کی کسی سطح پر کسی تجدیدوتقویت کی ضرورت ہے یا نہیں۔
2۔ انحصاری مینوفکچرنگ (Lean Manufacturing) :۔ یہ زائد پیداوار کی سات ضائع کاریوں کو کم کرنے پر مرکوز ایک مینجمنٹ فلسفہ ہے۔کسی بھی طرح کے مینوفکچرنگ عمل یا کسی بھی طرح کے کاروبار میں زائد پیداوار کی سات ضائع کاریاں ہیں: مدت انتظار، ٹرانسپورٹ، پراسیسنگ، حرکت، انوینٹری اور ردی۔ ضائع کاری کا خاتمہ کرکے پیداواری وقت اور لاگت کو کم کیا جاتا ہے اور معیار کو بہتر بنایا جاتا ہے۔
3۔ کائی زین (Kaizen):۔ یہ ایک جاپانی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’بہتری کے لیے تبدیلی’ یا بہتری‘۔ یہ پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کا ایک نظریہ ہے جسے جاپانیوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد ایف ڈبلیو ٹیلر جیسے امریکی ماہرین کے کاموں کو بروئے کار لاکر اپنایا۔ کائی زین کے مینجمنٹ، ضائع کاری کے خاتمہ (جس کو ایسی سرگرمیاں کہا گیا جو لاگت میں اضافہ کرتی ہیں لیکن اشیایا خدمات کی مالیت میں نہیں)، بروقت سپردگی، پیداواری بوجھ کی مقدار اور نوع کی سطح سازی، رفتار سے ہم آہنگ لائنیں، صحیح سائز کے اوزار اور دیگر سازوسامان پر مشتمل ہیں۔ اس لفظ کا جاپانی استعمال ان معنوں میں ہے ’’علاحدہ کرو اور بہتر طریقے سے کرو‘‘ عام طو رپر جو چیز علاحدہ کی جاتی ہے وہ یاتو کوئی عمل (Process) ہوتا یا نظام یا پروڈکٹ اور یا کوئی خدمت ۔ یہ ایک روز مرہ کی سرگری ہے جو کام کی جگہ انسانی زندگی عطا کرتی ہے، دماغی اور جسمانی محنت کا خاتمہ کرتی ہے۔ لوگوں کو سکھاتی ہے کہ سائنٹیفک طریقے کا استعمال کرکے تیزی سے تجربات کس طرح کرنے ہیں اور انھیں کس طرح دیکھنا ہے نیز کاروباری عمل میں ہونے والی بربادی کو ختم کرتی ہے۔
4۔ سِکس سگما (Six Sigma) :۔ یہ اعداوشمار پر مبنی نظریہ ہے جو معیار کے تغیر (Quailty Variation) کو کم کرکے اور وقت کی بچت کرکے، کسی بھی میدان یا سیکٹر میں کام کررہی تنظیم کو اپنی خراب کارکردگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس میں گاہکوں کی بھلائی کے لیے اعدادو شمار پر مبنی ایک نظریہ ہے جو کہ زیادہ بہتر عمل کو تخلیق کرتا ہے یا موجودہ اعمال (Processes) کو بہتر بناتا ہے۔تجویز شدہ ضوابط کے مطابق فی ملین مواقع میں 3 یا 4 سے زائد خرابیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ اس کو کسی بھی عمل پر لاگو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کےلیے مینجمنٹ کی ایماندارانہ حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپنے فہم کی جانچ کیجیے
فرض کیجیے آپ اسٹیشنری کی چیزوں کو بنانے کے لیے ایک چھوٹے پیمانے کی صنعت کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اور بک پبلشنگ کا کام بھی کرنا چاہتے ہیں۔آپ سائنٹیفک مینجمنٹ کو نافذ کرنے کے لیے کیا اقدامات کریں گے۔آپ سائنٹیفک مینجمنٹ کے جو اجزا نافذ کرنا چاہتے ہیں ان کی نشان دہی کیجیے اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی فہرست بنائیے۔
اس نے انتظام (Administraion) کا تصور پیش کیا جو کہ زیادہ تر اس کے اپنے تجربات پر مبنی تھا۔ اس نے مینجمنٹ کے 14 اصول پیش کیے۔ جن پر تفصیلی تبصرہ 1917 میں شائع ہوئی اس کی کتاب ’ایڈمنسٹریشن انڈسٹریلی اٹ جنریل‘ (Administration Industrielleet Et Gnerale) میں ملتا ہے۔ یہ 1949 میں انگریزی میں ’جنرل اینڈ انڈسٹریل مینجمنٹ (General and Industrial Management) کے نام سے شائع ہوئی۔ اسے کلاسیکل مینجمنٹ نظریے میں وسیع طور پر بنیادی تصنیف خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی خدمات کی وجہ سے فایول کو ’جنرل مینجمنٹ کا بانی‘ (Father of General Management) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے پیش کردہ مینجمنٹ کے چودہ اصول حسب ذیل ہیں:
(i) کام کی تقسیم (Division of Work) : کام کو چھوٹے چھوٹے حصوں کاموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہرحصے کو ایک تربیت یافتہ ماہر کو سونپا جاتا ہے جو اس کام کو کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ اس طرح کام کی تقسیم کے باعث مہارت پیدا ہوتی ہے۔ فایول کے مطابق’’کام کی تقسیم سے مراد یکساں کوشش کے ساتھ بہتر کام کرنا اور زیادہ پیداوار کرنا ہے۔ مہارت انسانی کوشش کو زیادہ اہل طریقے سے استعمال کرنے کا نام ہے۔‘‘
’’ہینری فایول‘‘ (Henri Fayol)
1۔ دورِ حیات: 1841 تا1925
2۔ پیشہ:کانکنی انجینئر اور مینجمنٹ کا نظریہ ساز (فرانسیسی شہری)
3۔ تعلیم:1880 میں سینٹ اینٹینی کی کانکنی اکاڈمی سے گریجویشن
4۔ مقام ومرتبہ :’’کیمپیگنی ڈی کویمنٹری۔فورکیمبو۔ڈیکارزیوائل‘‘ نامی کانکنی کمپنی کو قائم کیا اور 1888سے 1918 تک اس کا منیجنگ ڈائریکٹر رہا۔
5۔ تصانیف:’’Administative Industrielle et generde‘‘۔ یہ 1949 میں جرنل اینڈ انڈسٹریل مینجمنٹ کے نام سے انگریزی میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کو وسیع پیمانے پر مینجمنٹ کے کلاسیکی نظریے کا بنیادی کام خیال کیا جاتا ہے۔
6۔ تعاون؍کام:خاص طورپر مینجمنٹ کے 14 اصول، جو نوعیت کے اعتبار سے انتظامی (Administative) کہے جاتے ہیں ان میں اعلیٰ مینجمنٹ اور دیگر منیجروں کے کاموں سے متعلق اعلیٰ تا ادنیٰ طریقۂ کار موجود ہے۔
ماخذ: www.en.wikipedia.org
ماخوذ تصویر: www.image.google.com
اگر کاروبار میں کام کو چھوٹی چھوٹی ذمے داری کی شکل میں ماہر اور تربیت یافتہ افراد کو سونپ دیا جائے تو وہ کام زیادہ بہتر طورپر انجام پائے گا۔ اس کے نتیجے میں پیداوار اہل اورموثر ہوگی۔ اسی لیے ہم کمپنی میں مالیات، بازار کاری، پیداوار اور انسانی وسائل کی ترقی وغیرہ کے لیے علاحدہ شعبے رکھتے ہیں۔ ان سبھی کے پاس ماہر افراد ہوتے ہیں۔ یہ اجتماعی طور پر کمپنی کی پیداوار اور فروخت سے متعلق مقاصد کو حاصل کرتے ہیں۔ فایول نے کام کی تقسیم کے اصول کو تمام طرح کے کاموں میں استعمال کیا چاہے وہ تکنیکی ہوں یا مینجمنٹ سےمتعلق۔ آپ اس اصول کامشاہدہ کسی بھی تنظیم میں کرسکتے ہیں جیسے اسپتال یا سرکاری دفتر وغیرہ میں۔
(ii) اختیار اور ذمے داری (Authority and Responsibility) : اختیار احکامات دینے اور اطاعت حاصل کرنے کا حق ہے اور ذمہ داری اختیار کا منطقی نتیجہ ہے ۔اختیار دو طرح کا ہوتا ہے۔ با ضابطہ اختیار، جو حکم دینے کا اختیار ہے اور مناسب اختیار جو انفرادی منیجر کا اختیار ہے۔
اختیار رسمی بھی ہوتا ہے اور غیر رسمی بھی۔ منیجروں کو اپنی ذمے داری کے مناسب اختیارات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اختیار اور ذمے داری کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔ ایک تنظیم کو مینجمنٹ قوت کے غلط استعمال کے خلاف حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسی طرح، اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے منیجر کے پاس ضروری اختیار بھی ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر، ایک سیلز منیجر کو ایک گاہک سے کسی سودے پر بات چیت کرنی ہے۔ اسے پتا چلتا ہے کہ اگر وہ گاہک کو 60 دن کے ادھار کی پیش کش کرے تو اسے یہ سودا حاصل ہوسکتا ہے جس سے کمپنی کو 50 کروڑ روپے کا منافع ہونے کا امکان ہے۔ اب کمپنی منیجر کو صرف 40 دن کا ادھار دینے کا اختیار عطا کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختیار اور ذمے داری کے درمیان توازن نہیں ہے۔ اس صورتِ حال میں کمپنی کے مفاد کے مدِ نظر منیجر کو 60 دن تک ادھار کی پیش کش کا اختیار دیا جانا چاہیے تھا۔اس طرح اس مثال میں منیجر کو 100 دنوں تک ادھار دینے کا اختیار نہیں دیا جانا چاہیے کیوں کہ اس کی ضرورت نہیں۔ ایک منیجر کے پاس کسی ماتحت کے ذریعہ جان بوجھ کر ایک جائز حکم کو نہ ماننے پر سزا دینے کا حق ہونا چاہیے۔لیکن اس سے پہلے اسے ماتحت کو اپنی عدم کارکردگی کی وضاحت کا پورا موقع دینا چاہیے۔
(iii) ڈسپلن (Discipline) : ڈسپلن ان تنظیمی قوانین اور ملازمتی معاہدوں کی اطاعت یا احترام ہے جو تنظیم کی کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ فایول کے مطابق ڈسپلن کی ضرورت ہر سطح پر بہتر کردار، صاف اور منصفانہ معاہدوں اور عدل پر مبنی جرمانوں کے استعمال کے لیے ہوتی ہے۔
مثلاً مینجمنٹ اور مزدوروں کے درمیان معاہدہ ہوا کہ کمپنی کو نقصان سے نکالنے کے لیے کارکن بغیر کسی زائد ادائیگی کے زیادہ گھنٹوں تک کام کریں گے۔ بدلے میں مینجمنٹ نے یہ مقصد پورا ہونے پر مزدوری میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا۔ یہاں اگر ڈسپلن کو لاگو کیا جائے گا تو اس کا مطلب ہوگا کہ مینجمنٹ اور کارکنان ایک دوسرے کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے اپنے وعدوں کا احترام کرتے ہیں۔
(iv) وحدت کمان (Unity of Command) : فایول کے مطابق ہر انفرادی ملازم کے لیے صرف ایک ہی باس یا آقا ہونا چاہیے۔ اگر ایک ملازم ایک ہی وقت میں دو سربراہوں سے احکام وصول کرتا ہے تو ایسی صورت میں کمانڈ کے اتحاد کی خلاف ورزی ہوگی۔ کمانڈ کے اصول کے مطابق رسمی تنظیم میں ہر شریک کو صرف ایک ہی سربراہ سے احکامات وصول ہونے چاہئیں اور وہ اسی کے لیے ذمے دار ہونا چاہیے۔ فایول نے اس اصول کو بہت اہمیت دی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ اگر اس اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس سے ’’اختیار کمزور ہوگا، ڈسپلن مخدوش ہوگا، ترتیب میں خلل پڑے گا اور استحکام کے لیے خطرہ پیدا ہوجائے گا‘‘۔ یہ اصول فوجی تنظیم سے مشابہ ہے۔ دوہری ماتحتی سے پرہیز ضروری ہے۔ اس سے کیے جانے والے کام سے متعلق پریشانی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ مثلاً مارکیٹنگ منیجر سلیز مین سے گاہک کے ساتھ سودا کرنے کے لیے کہتا ہے اور اسے 10 فی صد کٹوتی دینے کی اجازت دیتا ہے لیکن مالیاتی شعبہ اس سے کہتا ہے کہ وہ 5 فی صد سے زائد کٹوتی کی پیش کش نہ کرے۔ اب یہاں کمانڈ کا اتحاد نہیں ہے۔ اگر مختلف شعبوں کے درمیان تال میل ہوتو اس سے بچا جاسکتا ہے۔
(v) وحدت سمت (Unity of Direction) : ایک تنظیم کی تمام اکائیاں مربوط اور مرکوز کوششوں کے ذریعے مشترکہ مقاصد کی جانب مائل ہونی چاہئیں۔ مشترکہ مقصد والی سرگرمیوں کے ہر گروپ کے پاس ہر حال میں ایک سربراہ (ہیڈ) اور ایک منصوبہ ہو گا۔ یہ کاموں کی وحدت اور ان کے درمیان تال میل کو یقینی بناتی ہے مثال کے طور پر، اگر ایک کمپنی موٹر سائیکلیں اور کاریں بنا رہی ہے تب اس کے پاس ان دونوں کے لیے علاحدہ ڈویژن ہونے چاہئیں۔ ہر ڈویژن کے پاس اس کا اپنا انچارج ، منصوبے اور ان کوعملی جامہ پہنانے کے وسائل ہونے چاہئیں۔ اور کسی بھی وجہ سے دونوں ڈویژن کے کاموں کو ایک دوسرے پر چڑھا ہوا (Overlap) نہیں ہونا چاہیے یعنی ایسا نہ ہو کہ ایک ڈویژن نے ایک کام پہلے کردیا ہو اور دوسرا ڈویژن اسے دوبارہ کرگزرے۔ آئیے اب ہم کمانڈ کی وحدت اور سمت کی وحدت کے اصولوں کے درمیان فرق کریں۔
(vi) انفرادی مفادات عمومی مفادات کے تابع (Individual interest to General Interest) : فایول کے مطابق تنظیم کے مفادات کو کسی بھی انفرادی ملازم کے مفادات پر برتری حاصل ہونی چاہیے۔ ایک کمپنی میں کام کرنے کے لے ہر کارکن کے کچھ انفرادی مفادات ہوتے ہیں۔کمپنی کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کمپنی کی خواہش ملازمین سے مسابقتی لاگتوں (تنخواہ) پر زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی ہوتی ہے۔ دوسری طرف، ایک ملازم کی خواہش کم سے کم کام کرکے زیادہ سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے کی ہوسکتی ہے۔ دوسری صورت حال میں ایک ملازم کچھ ایسی رعایتوں کی مانگ کرسکتا ہے جو دوسرے ملازم کو قابلِ تسلیم نہ ہوں جیسے کہ کم وقت کام کرنا۔
وحدتِ کمان اور وحدتِ سمت کے درمیان فرق
| بنیاد |
وحدت کمان |
وحدت سمت |
| 1- مفہوم |
ایک ماتحت کو صرف ایک ہی سربراہ سے احکامات وصول ہونے چاہئیں اور وہ اسی کا ذمےدار ہونا چاہیے۔ |
یکساں مقاصد رکھنے والی سرگرمیوں کے ہرگروپ کے پاس ایک سربراہ ( ہیڈ ) اور ایک منصوبہ ہونا چاہیے۔ |
| 2- مقصد |
یہ دوہری ماتحتی کو روکتا ہے۔ |
یہ سرگرمیوں کے ایک دوسرے پر چڑھنے ( Overlapping ) کو روکتا ہے۔ |
| 3- نتائج |
اس سے ایک انفرادی ملازم متاثر ہوتا ہے۔ |
اس سے پوری تنظیم متاثر ہوتی ہے۔ |
ان تمام صورتوں میں کمپنی یاگروپ کے مفادات انفرادی مفاد ات کی جگہ لیں گے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ کارکنان اور کاروبار میں دلچسپی رکھنے والے نیز جوکھم اٹھانے والوں کے وسیع تر مفادات کسی ایک شخص کے مفادات سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کاروبار میں دلچسپی رکھنے والے نیز جوکھم اٹھانے والے لوگ جیسے مالکان، حصّے داران، قرض خواہ، قرض دار، ٹیکس ماہرین، گاہک اور سماج کے مختلف مفادات کی قربانی کسی ایک فرد یا ایک چھوٹے گروپ کے لیے لیے نہیں دی جاسکتی جو کہ کمپنی پر اپنے مفاد ات کو پورا کرنے کا دباو ڈالتے ہیں۔ ایک منیجر اپنے مثالی برتاو کے ذریعے ایسا کرسکتا ہے مثال کے طور پر، اسے کمپنی مالکان کے وسیع تر عام مفادات کے بالمقابل انفرادی خاندانی فائدے کے لیے اپنی قوت کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کے لالچ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اس سے کارکنوں کی نظر میں اس کا مقام بلند ہوجائے گا اور پھر وہ بھی ایسا ہی رویہ اپنا ئیں گے۔
(vii) ملازمین کا معاوضہ (Remuneration of Employees) :
تنظیم اور ملازمین دونوں کے لیے ادائیگی اور معاوضے کا تمام تر طریقہ درست اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ ملازمین کو منصفانہ اجرت کی ادائیگی کی جانی چاہیے جو کہ انھیں کم ازکم واجب معیارِ زندگی عطا کرسکے۔ دوسری طرف یہ اجرت کمپنی کی ادائیگی کی صلاحیت کے اندر ہونی چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں معاوضہ درست اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ اس سے مینجمنٹ اور کارکنوں کے درمیان بہتر تعلقات اور صحت مند ماحول کا قیام یقینی ہوجائے گا۔ نتیجتاً کمپنی کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔
(viii) مرکزیت او رلامرکزیت (Centralisation and Decentralisation) :
فیصلہ سازی کے اختیار کی یکسوئی (Concentration) ’مرکزیت یا Centralisation ‘کہلاتی ہے جب کہ اس کا ایک سے زیادہ افراد کے درمیان منقسم ہونا ’لامرکزیت (Decentralisation)‘کہلاتا ہے۔ فایول کے مطابق ’’مرکزیت کے ذریعے منیجروں کے پاس جو آخری اختیار ہوتا ہے اس کے ساتھ لامرکزیت کے ذریعے ماتحتوں کے حقوق شمولیت کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ درجۂ مرکزیت کا انحصار ان حالات پر ہوگا جن کے اندرکمپنی کام کررہی ہے۔ عام طور پر بڑی تنظیموں میں چھوٹی تنظیموں کی بہ نسبت زیادہ لامرکزیت ہوتی ہے۔ مثلاً دیہاتوں کی فلاح وبہبود کے لیے ہمارے ملک میں پنچایتوں کو فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات اور خرچ کرنے کے لیے زیادہ رقم عطا کی جارہی ہیں۔ یہ قومی سطح پر لامرکزیت ہے۔
(ix) اختیار کی زنجیر (Scalar Chain) : ایک تنظیم سربراہوں (Superiors) اور ماتحتوں (Subordinates) پر مشتمل ہوتی ہے۔ اعلیٰ عہدوں سے ادنیٰ عہدوں تک اختیار اور مواصلات (Communication) رسمی خطوط (Lines) کو ’اختیار کی زنجیر‘ کہا جاتا ہے۔ فایول کے مطابق ’’تنظیم میں اعلیٰ سے ادنیٰ عہدوں تک اختیاراور ترسیل کی ایک زنجیر ہونی چاہیے اور تمام منیجروں اور ماتحتوں کو اس کی پیروی کرنی چاہیے‘‘۔
آئیے ہم ایک صورت حال پر غور کریں جہاں ایک سربراہ A ہے جس کے تحت اختیار کی دولائنیں ہیں۔ Aکے تحت ایک لائن F, E, D, C, B پر مشتمل ہے جب کہ دوسری P, O, N, M, L پر۔ اگر E کو Oکے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہو جو کہ اختیار کی یکساں سطح پر فائز ہے تب اسے O, N, M, L, A, B, C, D, Eکے راستہ سے گزرنا پڑے گا۔ ایسا اس لیے ہے کہ اس صورت حال میں اختیار کی زنجیر کے اصول کی اتباع کی جارہی ہے۔ فایول کے مطابق ’’رسمی مواصلات کے نارمل عمل کے دوران اس زنجیر کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ بہر حال ہنگامی صورت حال میں ’’Gang Plank‘‘ کے ذریعہ Eبراہِ راست O سے رابطہ قائم کرسکتا ہے جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ مختصر راستہ اس لیے فراہم کیا گیا ہے تاکہ مواصلات میں تاخیر نہ ہو۔عملی طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ ایک کارکن کمپنی کے سی ای او سے براہِ راست تعلق قائم نہیں کرسکتا۔ اگر اسے ایسا کرنا پڑے تب اسے تمام رسمی سطحوں یعنی فورمین، سپرینٹنڈنٹ، منیجر، ڈائریکٹر وغیرہ کو معاملہ کے بارے میں بتانا ہوگا۔ بہرحال ہنگامی صورت میں یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک کارکن براہِ راست سی ای او سے رابطہ قائم کرے۔
فایول کی اسکیلر چین
(x) ترتیب (Order) :
فایول کے مطابق ’’زیادہ سے زیادہ اوربہتر کارکردگی کے لیے لوگوں اور میٹریل کا مناسب وقت پر اور مناسب جگہوں پر ہونا لازمی ہے‘‘۔ اس اصول کے مطابق ’’ہرچیز اور ہر ایک کے لیے ایک مقام ہے اور ہر چیز اورہر ایک کی ایک جگہ پر ہے‘‘۔ یقینی طور پر اس کا مطلب ترتیب ہے۔ اگر ہر چیز کے لیے ایک جگہ مقرر ہے اور یہ وہاں موجود ہے تب کاروبار یا فیکٹری کی سرگرمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی اور اس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت اور اہلیت میں اضافہ ہوگا۔
(xi) انصاف (Equity) :
فایول کے مطابق ’’ملازمین سے جتنا ممکن ہو منصفانہ برتاو کیا جانا چاہیے۔ تمام ملازمین کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے بہتر جذبے اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے‘‘ یہ اصول کارکنوں کے تئیں منیجروں کے رحم دلانہ اور منصفانہ رویّے پر زور دیتا ہے۔ اس سے کارکنوں کی وفاداری اور ایثار یقینی ہوجائے گا۔ فایول بعض اوقات قوت کے استعمال کرنے کو بھی منع نہیں کرتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ سست عملے کے ساتھ سخت برتاو کیا جائے تاکہ ہر ایک کو لگے کہ مینجمنٹ کی نظر میں سب برابر ہیں۔ ذات، مذہب، زبان، جنس، عقائد یا قومیت وغیرہ کی بنیاد پر کسی سے تعصب نہیں کیا جانا چاہیے۔عملی طورپر آج ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ ملٹی نیشنل کارپوریشن میں مختلف قومیت کے افراد ایک ساتھ مل جل کر غیر تفریقی اورآزاد ماحول میں کام کرتے ہیں۔ ایسی کمپنیوںمیں ہر ایک کے لیے ترقی کے مساوی مواقع دستیاب ہیں۔ اس لیے آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں پیدا ہوئے لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہ ہیں جیسے رجت گپتا جو کہ میکنزی انکارپوریشن کے سربراہ ہیں اورحال ہی میں ہندوستان میں پیدا ہوئے امریکی ارون سرین ’’وو ڈا فون لمیٹڈ‘‘کے جو ایک بڑی برطانوی ٹیلی کمیونیکشن کمپنی ہے،CEO بن چکے ہیں۔
(xii) عہدے کی مدت میں استحکام (Stability of Personnel) : فایول کے مطابق ’’بہتر تنظیمی کارکردگی کو قائم رکھنے کے لیے ملازمین کی الٹ پھیر (ٹرن اوور) کم سے کم ہونی چاہیے۔ واجب اور سخت طریقۂ کار کے بعد عملے کا انتخاب اور تقرری ہونی چاہیے لیکن جب ایک مرتبہ ان کا انتخاب ہوجائے تو پھر ایک کم از کم مقررہ مدت کے لیے انھیں نتائج دکھانے کے لیے ضروری وقت ملنا چاہیے۔ اس حوالے سے کسی بھی طرح کا عارضی پن (adhocism) ملازمین کے درمیان غیر محفوظ اور غیر مستحکم ہونے کا احساس پیدا کرے گا اور وہ تنظیم کو چھوڑ جائیں گے۔ بھرتی، انتخاب اور تربیت کی لاگت بھی زیادہ ہوگی۔ اس کے لیے عملہ کے عہدوں کی مدت میں استحکام کاروبار کے لیے بہتر ہے۔
ملازمین مشاورتی نظام : پیش قدمی کے لیے تربیت کار مینیجروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے
فایول: تب اور اب
آئیے اب ہم دیکھیں کہ عصری کاروباری حالات میں فایول کے اصولوں کا کیا مطلب ہے خاص طور پر، خدمات پر مبنی اور ہائی ٹیک معیشتوں میں ۔ مونٹ کلیر اسٹیٹ یونیورسٹی اپر مونٹ کلیر، نیو جرسی، امریکہ کے کارل اے، روڈریگویس نے اپنے پیپر’’فایول کے 14 مینجمنٹ اصول‘‘ میں درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں۔ اس کامقالہ:"Then and now A Frame work for Mangoging Today's Organizations effectively" جس جرنل میں شائع ہوا تھا اس کا نام "Management Decision"ہے۔ 39/10(2001) پی پی880-889
|
اصول کا نام |
تب |
اب |
| 1. |
کام کی تقسیم |
کارکنوں کے کام مہارت |
کارکنوں کے کام میں تعمیم |
| 2. |
اختیار اور ذمہ داری |
منیجر با اختیارہوتے ہیں |
ملازمین با اختیار ہوتے ہیں |
| 3. |
ڈسپلن |
رسمی کنٹرول |
غیر رسمی ، ہم رتبہ دباو کا کنٹرول |
| 4. |
وحدت کمان |
ما تحت صرف ایک سربراہ کو رپورٹ دیتے ہیں |
ما تحت کثیر التعداد سربراہوں کو رپورٹ دیتے ہیں |
| 5. |
وحدت سمت |
کاموں کا صرف ایک منصوبہ اور ایک سربراہ ہوتا ہے |
کاموں کے کثیر پلان اور کثیر سربراہ ہوتے ہیں |
| 6. |
انفرادی مفادات، عمومی مفادات کے تابع |
ملازمین تنظیم کے تائیں وقف ہوتے ہیں |
تنظیم ملازمین کے تئیں اور ملازمین تنظیم کے تئیں وقف ہوتے ہیں |
| 7. |
ملازمین کامعاوضہ |
واجب ادائیگی اور انعام کا نظام |
کارکردگی پر مبنی انعامی نظام |
| 8. |
مرکزیت |
فیصلہ سازی کا اوپر سے نیچے کی طرف کم ہوتے جانا |
کام کے مطابق عارضی فیصلہ سازی |
| 9. |
اختیار کی زنجیر |
نظام مراتب کے مطابق رسمی مواصلات |
کم باضابطہ، کم رسمی، اصلاح پسند مواصلاتی نظام |
| 10. |
ترتیب |
کنٹرول کے مقصد سے اندرونی اطلاعاتی نظام |
تال میل کے مقصد سے اندرونی اطلاعتی نظام |
| 11. |
انصاف |
نرم مہربانی کے ذریعے ذمےداری اور جذبہ قربانی کا حصول |
مالک ہونے کا احساس دلا کر احساس ذمے داری کا حصول |
| 12. |
عہدے کی مدت میں استحکام |
ملازمین کی تربیت کرو اور ان کی حوصلہ افزائی کرو |
ملازمین کی تربیت اور ترقی کو ہمیشہ جاری رکھو |
| 13. |
پہل |
منیجر نئے خیالات سوچیں اور انھیں عمل میں لائیں |
کارکنان نئے خیالات سوچیں اور انھیں عمل میں لائیں |
| 14. |
اجتماعی جذبہ |
کارکنان کے درمیان بلند حوصلہ بنائے رکھنا نہایت ضروری ہے |
کارکنان کے درمیان بلند حوصلہ بنائے رکھنا نہایت ضروری نہیں ہے |
(xiii) پہل (Initiative) :
فایول کے بہترنتائج کے لیے منصوبے بنانے اور انھیں عملی جامہ پہنانے میں کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ پہل سے مراد ذاتی ترغیب کے ساتھ پہل کرنے سے ہے۔ پہل دراصل منصوبہ بنانا اور اسے عملی جامہ پہنانا ہے۔ یہ ایک ذہین شخص کی خصوصیات میں سے ایک خاصیت ہے۔ پہل کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔لیکن اس سے مرادکمپنی کے قائم شدہ طریقۂ کار سے محض اس بنا پر انحراف کرنا نہیں ہے کہ یہ بات ذرا مختلف یا اس میں کچھ نیا پن ہے۔ ایک اچھی کمپنی کے پاس ملازمین کی تجاویز کو حاصل کرنے کا نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے ایسی پہل تجاویز کو انعام دیا جانا چاہیے جس سے کہ لاگت وقت میں حقیقی طور پر کمی آئی ہو۔
(xiv) اجتماعی جذبہ (Espirit de Corps) :
فایول کے مطابق ’’مینجمنٹ کو ملازمین کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کے جذبے کو بڑھاوا دینا چاہیے‘‘ خاص کر بڑی تنظیموں میں مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ ٹیم ورک اور ٹیم اسپرٹ کو فروغ دے کیوں کہ اس کے بغیر مقاصد کوحاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے نتیجے میں تال میل (Coordination) کا بھی نقصان ہوگا۔ٹیم اسپرٹ میں اضافے کے لیے ایک منیجر کو چاہیے کہ وہ کارکنان کے ساتھ اپنی تمام گفتگو میں ’میں‘ کی جگہ ’ہم‘ کا استعمال کرے۔ اس سے ٹیم کے ممبران کے درمیان باہمی اعتماد اور تعلق کا جذبہ فروغ پائے گا۔ اس سے کارکنان کے لیے جرمانے کے استعمال کرنے کی ضرورت بھی کم سے کم ہوجائے گی۔
فایول بمقابلہ ٹیلر—ایک موازنہ
اب ہم فایول اور ٹیلر دونوں کے کاموں کا موازنہ کرنے کی حالت میں ہیں۔ دونوں نے ہی مینجمنٹ کی معلومات میں بے حد تعاون دیا ہے جو کہ منیجروں کے ذریعے کیے جانے والے مزید کاموں کی بنیاد بن چکا ہے۔ یہاں یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان دونوں کا تعاون ایک دوسرے کی تکمیل کرتا ہے ہم ان کاموں یا تعاون کے درمیان حسب ذیل نکات سے امتیاز کرسکتے ہیں۔
آپ مینجمنٹ کے علم کے ارتقا میں ہندوستانیوں کے تعاون کے بارے میں بھی جاننا چاہیں گے۔ اس کے لیے متعلق باکس پر نظر ڈالیے۔
| نمبر شمار |
فرق کی بنیاد |
ہینری فایول |
ایف۔ ڈبلیوٹیلر |
| 1. |
تناظر |
مینجمنٹ کی اعلیٰ سطح |
فیکٹری کے ملازمین کی سطح |
| 2. |
کمانڈر کی وحدت |
پرجوش حمایتی |
اس بات کو اہم نہیں سمجھتا تھا کہ عملی فورمین شپ کے تحت ایک کارکن آٹھ ماہرین سے احکامات وصول کرے |
| 3. |
اطلاق کی صلاحیت |
ہمہ گیر طور پر قابل اطلاق |
مخصوص حالات میں قابل استعمال |
| 4. |
تشکیل کی بنیاد |
ذاتی تجربہ |
مشاہدات اور تجربات |
| 5. |
توجہ کا مرکز |
تمام تر انتظامیہ کو بہتر نانا |
پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا |
| 6. |
شخصیت |
پریکٹیشز |
سائنس داں |
| 7. |
اظہار |
انتظام کا عام نظریہ |
سائنٹیفک مینجمنٹ |
(b) فایول کے اصول مخصوص حالات میں لاگو ہوتے ہیں جب کہ ٹیلر کے اصولوں کا ہمہ گیر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(c) فایول کے اصول ذاتی تجربے کے ذریعے تشکیل دیے گئے تھے جب کہ ٹیلر کے اصول مسلسل تجربات کے ذریعے تشکیل دیے گئے تھے۔
(d) فایول کے اصول اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ پر لاگو ہوتے ہیں جب کہ ٹیلر کے اصول شاپ فلور پر لاگو ہوتے ہیں۔
3۔ اگر کوئی تنظیم انسانی اور طبعی وسائل کے لیے صحیح جگہ فراہم نہیں کرتی، تب کون سے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے؟ اوراس کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟
2۔ فایول کے ذریعہ دیے گئے مینجمنٹ کے حسب ذیل اصولوں کی مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
1۔ کاروباری میگزینوں، اختتامی رپورٹوں، اخباروں یا انٹرنیٹ سے معلوم کیجیے کہ پیداواری کاموں، کاروباری کنٹرول وغیرہ سے متعلق کمپنیوں میں کیا تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ ایک اسکریپ بک (Scrapbook) تیار کیجیے۔ ان کیسوں (Cases) پر اپنے استاد اور دوستوں سے گفتگو کیجیے۔ اس کی ایک رپورٹ تیار کیجیے۔
لیکن اس کے نتیجے میں کئی مسائل پیدا ہوگئے۔ کام کے اضافی دباو کی وجہ سے کارکنوں کی بہتر کام کرنے کا صلاحیت میں کمی آگئی۔بعض اوقات ماتحتوں کو ایک سے زیادہ سربراہوں کے لیے کام کرنا پڑتا۔ نتیجتاً اہلیت میں کمی واقع ہوئی۔ وہ لوگ جو پہلے ایک پروڈکٹ پر کام کررہے تھے ان سے دو یا دو سے زیادہ اشیا پر کام لیے گیے۔ اس سے کام کی زیادہ بربادی اور دوہراپن (Overlaping) ہوا۔ کارکنان کے درمیان ڈسپلن ختم ہورہا تھا۔ٹیم ورک جو کہ پہلے کمپنی کی خاصیت تھی اب زوال پذیر ہوگئی۔ کارکنان ایسا محسوس کررہے تھے کہ ان کو دھوکا دیا گیا ہے اور ان کی پیش قدمی میں کمی آگئی تھی۔ اشیا کی کوالٹی بھی گرنا شروع ہوگئی اور کمپنی کا بازاری حصہ (Market Share) کم ہونے لگا۔ درحقیقت کمپنی نے ضروری بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure) تیار کیے بغیر تبدیلیاں نافذ کردی تھیں۔
1۔ کمپنی کے ذریعہ مینجمنٹ کے جن اصولوں (فایول کے ذریعہ دیے گئے 14میں سے ) کی خلاف ورزی کی گئی ان کی نشان دہی کیجیے۔
3۔ مندرجہ بالا اصولوں سے متعلق کمپنی مینجمنٹ کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ وہ کمپنی کی کھوئی ہوئی شان کو دوبارہ حاصل کرسکے؟
'F' لمیٹڈ کمپنی کے مینجمنٹ کو اب اپنی حماقت کا احساس ہوا اور اس نے صورتِ حال کو درست کرنے کے لیے ایک مینجمنٹ مشیروں (M.Consultants) کا تقرر کیا۔'M'مشیروں نے کمپنی کو واپس اپنے مقام پر لانے کے لیے ایک نیا ڈھانچہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا اور حسب ذیل تبدیلیاں کیں—
2۔ روٹینگ، شیڈولنگ، ڈسپیچنگ اور فیڈبیک پر مشتمل پیداواری منصوبہ بندی کو عمل میں لانا چاہیے۔
3۔ منصوبہ بندی سے عملی مینجمنٹ کو علاحدہ کرنے کے لیے ’عملی فورمین شپ‘ کو متعارف کرنا چاہیے۔
4۔ وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ’کام کے مطالعہ‘ کو اپنانا چاہیے۔
5۔ جواب دہی اور اہلیت میں اضافہ کرنے کے لیے تمام سرگرمیوں کو معیاری بنانا چاہیے۔
6۔ کارکنان کی ترغیب کے لیے ’الگ الگ معاوضوں کی ادائیگی‘ کے نظام کو لاگو کرنا چاہیے۔
7۔ مندرجہ بالا تبدیلیوں کو واقعاتی سلسلہ 1میں تجویز کیے گئے اقدامات کے علاوہ متعارف کرنا چاہیے۔
یہ توقع کی گئی کہ یہ تبدیلیاں کمپنی کی کارگزاری میں زبردست بدلاو لائیں گی اورکمپنی اپنی پچھلی شہرت کو دوبارہ حاصل کرلے گی۔
1۔ کیا آپ کی رائے میں 'M'مشیروں کے ذریعے تجویز کردہ سائنٹفک مینجمنٹ سے متوقع نتائج حاصل ہوجائیں گے؟
آپ واقعاتی مسئلہ میں واضح کیے گئے1سے 6 نکات کے لیے ہر تکنیک کا علاحدہ علاحدہ جواب دیجیے۔