Skip to content
Karobariuloom-I-003



باب 3



کاروباری ماحول

(BUSINESS ENVIRONMENT)



سیکھنے کے مقاصداس باب کے مطالعہ کے بعد آپ:

•  کاروباری ماحول کے مفہوم کی وضاحت کرسکیں گے؛

•  کاروباری ماحول کی اہمیت پر تبصرہ کرسکیں گے؛

•  کاروباری ماحول کے مختلف عناصر کی تشریح کرسکیں گے؛ اور 

•  ہندوستان کے معاشی ماحول اور کاروبار نیز صنعت پرحکومت کی پالیسیوں کے اثرات کا تجزیہ کرسکیں گے۔


سال 2006 کے اوائل میں پیپسی کو اور کوکاکولا، جو سافٹ ڈرنکس کا کاروبار کرنے والی بڑی فرمیں ہیں ، کی فروخت ہندوستان میں کم ہونے لگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرومنٹ (سی ایس ای) نامی ماحولیاتی گروپ نے ان کی مشروبات کے اندر صحت کے لیے قابل اجازت حدو د سے 50 گنا زیادہ مہلک جراثیم ماردوا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اپنے مشروبات کے مکمل طورپر محفوظ ہونے کا دعویٰ کرنے کے لیے، ان کمپنیوں نے بڑی تعداد میں پریس میں بیانات دیے اور ہندوستان میں کئی طریقے سے اس بات کے غلط ہونے کی تشہیر کی۔ مرکزی وزارت صحت کی ایکسپرٹ کمیٹی نے بھی یہ مشاہدہ کیا کہ کوک اور پیپسی محفوظ ہیں۔

لیکن سی ایس ای نے ایکسپرٹ کمیٹی کی دریافت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کوک اور پیپسی کے 11مشروبات میں جراثیم ماردوا کی اتنی مقدار تھی جو حکومتِ ہند کے ذریعے منظور شدہ حدود سے 24 گنا زیادہ تھی۔ وزارتِ صحت کے ذریعہ ان دونوں کو بری کیے جانے کے باوجود کئی ریاستوں نے کوک اور پیپسی دونوں کی فروخت پر پابندی لگا دی۔ بہر حال کئی ریاستوں میں ان کی فروخت بہت متاثر ہوئی کیوں کہ لوگ ان مشروبات کے معاملے میں محتاط تو ہوہی گئے تھے۔ آرگینک فوڈ پروڈکٹس صحت مند متبادل کے طورپر اچانک مقبول ہوگئیں ۔ آرگینک (نامیاتی) سے مراد پھل، سبزیاں، اناج نیز پراسیسڈ اشیا ہیں جو بغیر جراثیم مار دوا یا غیر نامیاتی (ان آرگینگ) کھادوں کے ذریعے پیدا کی جارہی ہیں۔ اس دوران سافٹ ڈرنکس کے بڑے تاجر مسلسل اشتہارات دے رہے ہیں او راپنی اشیاکے محفوظ ہونے کے بارے میں گاہکوں کوراغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔


پیپسی کولا کا تنازع ایک دلچسپ سوال پیش کرتا ہے: سافٹ ڈرنکس کے بڑے تاجر، ’’کوکا کولا‘‘ اور پیپسی ‘‘ اپنی فروخت کم ہوجانے کے بعد ہندوستان میں پبلسٹی کی کارروائیوں پر اتنی محنت کیوں کررہے ہیں؟ اس کا جواب اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ان کی کامیابی نہ صرف ان کے اندرونی مینجمنٹ پرمنحصر ہے بلکہ یہ کئی بیرونی قوتوں پر بھی انحصار کرتی ہے۔ مثلاً حکومتوں کے فیصلے اور اقدامات، صارف، دیگر کاروباری فرمیں اور یہاں تک کہ غیر سرکاری تنظیمیں (NGO) جیسے سی ایس ای وغیرہ۔ اس باب میں، ہم چند اہم بیرونی قوتوں (یا ماحولیاتی حالات) اور کاروباری اداروں کے کامو ں پر ان کے اثرات کی نشان دہی کریں گے۔

کاروباری ماحول کا مفہوم (Meaning of Business Environment)

کاروباری ماحول سے مراد وہ تمام افراد، ادارے اور دیگر قوتیں ہیں جو ایک ادارے کے کنٹرول سے باہر ہیں لیکن یہ اس کی کارکردگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ایک مصنف اس کو کچھ یوں بیان کرتا ہے ’’کائنات کی مثال لیجیے اور اس میں سے اس تنظیم کو گھٹا دیجیے جو باقی بچتا ہے وہ ماحول ہے۔‘‘
اس طرح معاشی، سماجی، سیاسی، تکنیکی اور دیگر قوتیں جو ایک کاروبار کے باہر کام کرتی ہیں اس کے ماحول کا حصہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح، انفرادی گاہک یا مسابقتی ادارے، حکومتیں، گاہکوں کے گروپ، مدِ مقابل، عدالتیں، میڈیا اور دیگر ادارے جو ایک ادارے کے باہر کام کرتے ہیں اس کے ماحول کو تشکیل دیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان افراد، اداروں اور قوتوں سے ایک کاروباری ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔حالانکہ یہ اس کی حدود سے باہر واقع ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، حکومت کی معاشی پالیسیاں، تیز تکنیکی، ترقی، سیاسی بے اطمینانی، گاہکوں کے فیشن اور ذائقوں میں تبدیلیاں اور بازار میں بڑھی ہوئی مسابقت یہ تمام باتیں ایک کاروباری ادارے کی کارکردگی کو غیر معمولی طور سے متاثر کرسکتی ہیں۔
حکومت کے ذریعے لگائے گئے ٹیکس اشیاکو مہنگا کرسکتے ہیں۔ ٹکنالوجی میں بہتری موجودہ اشیا کو بے کار کردیتی ہے۔ سیاسی اتھل پتھل سے سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں ڈر پیدا ہوسکتا ہے۔ گاہکوں کے فیشن اور ذائقوں میں تبدیلیاں بازار میں بڑھی ہوئی مسابقت سے بازار میں یہ مانگ ہوسکتی ہے کہ پرانی موجودہ پروڈکٹس کے بجائے نئی پروڈکٹس لائی جائیں۔ نیز بازار میں بڑھی ہوئی مسابقت سے فرموں کا منافع کم ہوسکتا ہے۔
گزشتہ تبصرے کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کاروباری ماحول کی حسب ذیل خصوصیات ہوتی ہیں:

(i)  بیرونی قوتوں کی مجموعیت (Totality of External forces) :

 کاروباری ماحول، کاروباری فرموں کے باہر کی تمام چیزوں کامیزان ہوتا ہے اور اس طرح یہ نوعیت کے اعتبار سے مجموعی (Aggregative)ہوتی ہے۔

(ii)  خصوصی اور عمومی قوتیں (Specific and General forces) :

 کاروباری ماحول میں خصوصی اور عمومی دونوں قوتیں شامل ہیں۔ خصوصی قوتیں (جیسے سرمایہ کار، گاہک، مدِ مقابل اور سپلائر) انفرادی اداروں کے روز مرہ کے کاموں کو براہ راست اور فوری طور پر متاثر کرتی ہیں۔ عمومی قوتیں (جیسے سماجی، سیاسی، قانونی اور تکنیکی حالات) تمام کاروباری اداروں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اس طرح ایک انفرادی فرم کو صرف بالواسطہ طور پر ہی متاثر کرسکتی ہیں۔

(iii)  بین متعلقین (Inter-relatedness) :

 کاروباری ماحول کے مختلف عناصر یا حصوں کا قریبی باہمی رشتہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر عمر اور بہتر صحت کے بارے میں لوگوں کی بیداری کی وجہ سے صحت سے متعلق بہت سی مصنوعات مثلاً Diet Coke، بغیر چربی والے کھانے کے تیل کے علاوہ صحت کے لیے مفید تفریحی مقامات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اب صحت وزندگی سے متعلق نئی پروڈکٹس اور نئی سروسز نے لوگوں کے طرز زندگی کو زبردست طریقے پر متاثرکیا ہے۔
(iv) فعال نوعیت (Dynamic Nature) : کاروباری ماحول فعال ہوتاہے۔ یہ تبدیل بھی ہوتا رہتا ہے۔ یہ تبدیلی تکنیکی بہتری کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے اور گاہکوں کی ترجیحات میں تبدیلی کے باعث بھی یا پھر بازار میں نئے مدِ مقابل کے داخلے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔

(v)  غیر یقینیت (Uncertainty) : 

کاروباری ماحول زیادہ تر غیر یقینی ہوتا ہے کیوں کہ مستقبل کے واقعات کی پیشین گوئی کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے خاص کرجب ماحولیاتی تبدیلیاں بار بار رونما ہورہی ہوں جیسا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی اور فیشن کی صنعتوں میں ہورہا ہے۔

(vi)  پیچیدگی (Complexity) : 

چوںکہ کاروباری ماحول باہمی طور پر بہت سے مربوط اور فعال حالات اورایسی قوتوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کے ذرائع مختلف ہوتے ہیں اس لیے، ایک بارمیں صحیح طورپر یہ معلوم کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ایک دیے گئے ماحول کے اجزا کیا ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ماحول ایک ایسا پیچیدہ واقعہ ہے جس کو حصوں میں سمجھنا نسبتاً آسان ہے لیکن مجموعی طور پر سمجھ پانا مشکل ہے۔ مثال کے طورپر، سماجی، معاشی، سیاسی، تکنیکی یا قانونی عوامل بازار میں اشیاکی مانگ پر متعلقہ اثر کی حد کو سمجھ پانا مشکل ہوسکتا ہے۔

(vii)  وابستگی (Relativity) :

کاروباری ماحول ایک متعلقہ تصور (Relative Concept) ہے کیوں کہ یہ ملک درملک یہاں تک کہ علاقہ درعلاقہ الگ ہوتا ہے۔ مثلاً ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سیاسی حالات، چین اورپاکستان کے سیاسی حالات سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح، ہندوستان میں ساڑیوں کی مانگ واضح طو رپر زیادہ ہوگی جب کہ فرانس میں ان کا وجود ہی نہیں ہے۔

کاروباری ماحول کی اہمیت (Importance of Business Environment) 

انسانوں کی طرح ہی کاروباری ادارے بھی الگ تھلگ نہیں رہتے۔ کوئی کاروباری فرم اپنے آپ میں ایک جزیرے کی مانند نہیں ہوتی بلکہ یہ اپنے ماحول کے عناصر اور قوتوں کے درمیان موجود رہتی ہے، بقا پاتی ہے اورنشوونما کرتی ہے۔ چوں کہ ایک انفرادی فرم کے پاس، ان قوتوں کو کنٹرول کرنے یا ان کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے لہٰذا ان کے پاس ان کے مطابق ردِ عمل ظاہر کرنے یا خود کو ڈھال لینے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہوتا۔ کاروبار کے منیجروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی متعلقہ فرموں کی بیرونی قوتوں کو شناخت کرنے، ان کی جانچ کرنے اور اس طرح پھر ردِ عمل ظاہر کرنے کے لیے ماحول کو بہتر طور پر سمجھیں۔ اگر ہم حسب ذیل حقائق پر غورکریں تو ہم منیجروں کے لیے کاروباری ماحول کی اہمیت اور اس کی تفہیم کی وضاحت کرسکتے ہیں۔

(i)  ماحول کی بہتر تفہیم کے ذریعے مواقع کی نشان دہی کرسکتی ہیں اوراولین محرک کا فائدہ بھی حاصل کرسکتی ہیں(It enables the firms to identify opportunities and getting the first mover adva- ntage) : مواقع سے مراد وہ بیرونی تبدیلیاں اوررجحانات ہیں جو ایک فرم کی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کریں گے۔ ماحول کاروبار کی کامیابی کے لیے متعدد مواقع فراہم کرتا ہے۔ ماحول سے آگاہی ابتدائی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں فرم کی مدد کرسکتی ہے کیوں کہ بعد میں مقابلے کے بڑھ جانے کی وجہ سے وہ یہ مواقع کھو بھی سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ماروتی ادیوگ چھوٹی کاروں کے بازار میں رہنما بن گئی کیوں کہ اس نے ماحول میں چھوٹی کاروں کی مانگ کا اندازہ کرلیا تھا۔ ماحول کی مانگ میں یہ اضافہ ہندوستان میں مڈل کلاس طبقہ کی بڑھتی آبادی اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث تھا۔

(ii)  یہ قبل ازوقت تنبیہی اشارات اور اندیشوں کی نشان دہی میں فرم کی مددگار ہوسکتی ہے (It helps the firm to identify threats and early warning signals) :

 اندیشوں سے مراد بیرونی ماحول کی وہ تبدیلیاں اور رجحانات ہیں جو کہ ایک فرم کی کارکردگی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مواقع کے علاوہ، ماحول اندیشوں کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ ماحول سے آگاہی، پہلے سے تنبیہی اشارات (Warning Signals) دے کر، منیجروں کو مختلف طرح کے اندیشوں کو بر وقت پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طورپر، اگر ایک ہندوستانی فرم کو پتا چلے کہ ایک غیر ملکی ملٹی نیشنل نئے متبادل لے کر ہندوستانی بازار میں داخل ہورہی ہے تو یہ بات اس کے لیے ایک تنبیہی اشارہ ہونا چاہیے۔ اس معلومات کی بنیاد پر ہندوستانی فرمیں اس اندیشے سے نمٹنے کے لیے تیاری کرسکتی ہیں وہ یہ تیاری چند اقدامات کرکے جیسے اشیا کے معیار کو بہتربنا کر، پیداوار کی لاگت کو گھٹا کر، جارحانہ اشتہار بازی کرکے کرسکتی ہیں۔

(iii)  یہ کار آمد وسائل کے حصول میں مدد گار ہے (It helps in tapping useful resources)  :

 ماحول کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف وسائل کا ایک ذریعہ ہے۔ کسی بھی طرح کی سرگرمی کی انجام دہی کے لیے کسی کاروباری ادارے کو اپنے ماحول سے مختلف وسائل کو یکجا کرنا پڑتا ہے جنھیں ان پٹ (Input) کہا جاتا ہے جیسے مالی وسائل، مشینیں، مزدور وغیرہ۔ ان میں مالی امداد فراہم کرنے والے، حکومت اور سپلائرز بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ ان وسائل کو اس لیے فراہم کرتے ہیں کہ بدلے میں انھیں فرم سے کچھ پانے کی توقع ہوتی ہے۔ کاروباری ادارہ ماحول کو اپنا آؤٹ پٹ (Output) فراہم کرتا ہے جیسے گاہکوں کو اشیا اور خدمات، حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی، سرمایہ کاروں کو ان کی سرمایہ کاری پر رٹرن وغیرہ۔ کاروباری ادارہ ماحول پر منحصر ہوتا ہے کیوںکہ یہ اس کے وسائل یا ان پٹ کے لیے ایک ذریعہ ہوتا ہے اور اس کے آؤٹ پٹ کے نکاس کا راستہ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ادارہ ایسی پالیسیاں تشکیل دیتا ہے جس کی بدولت اسے حسب ضرورت وسائل حاصل ہوجائیں تاکہ یہ ان وسائل کو ماحول کی مانگوں کے مطابق آؤٹ پٹ میں تبدیل کرسکے۔ اس کام کو اس صورت میں بہتر طور پر کیا جاسکتا ہے جب یہ سمجھ لیا جائے کہ ماحول کی پیش کش کیا ہے۔

(iv)  تیز تر تبدیلیوں پر قابو پانے میں مددگار ہے (It helps in coping with rapid changes) :

 آج کا کاروباری ماحول زیادہ فعال ہوتا جارہا ہے جہاں پر تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں۔تبدیلیوں کے رونما ہونے کی اپنے آپ میں اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی ان تبدیلیوں کی رفتار کی ہے۔ بازاری حالات کی تلاطم خیزی، برانڈ سے کم وفاداری، بازاروں کی تقسیم اور مزید تقسیم، زیادہ مانگ کرنے والے گاہک، ٹکنالوجی میں تیز تر تبدیلیاں، زبردست عالمی مسابقت چند ایسی تصویریں ہیں جنھیں آج کل کے کاروباری ماحول کی تشریح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چھوٹے بڑے اور ہر قسم کے کاروباری ادارے آج ایسے ماحول کا سامنا کررہے ہیں جو اضافی طورپر متحرک اور فعال (Dynaimc) ہے۔ ان اہم تبدیلیوں سے موثر طور پر نمنٹنے کے لیے منیجروں کو چاہیے کہ وہ ماحول کو سمجھیں اس کی جانچ کریں او رپھر مناسب حکمت عملی تیار کریں۔

(v)  یہ پالیسی کی تشکیل اور منصوبہ بندی میں مددگار ہے (It help assisting in planning and Policy  formulation) :

 چوں کہ ماحول کسی کاروباری ادارے کے لیے مواقع اور اندیشوں دونوں کا ذریعہ ہے، اس لیے، اس کی سمجھ اور تجزیہ، مستقبل کے طریقۂ کار (منصوبہ بندی) یا فیصلہ سازی (پالیسی) کے لیے تربیتی ہدایات کی بنیاد ہوسکتا ہے۔ مثلاً نئے مدِ مقابل کا بازار میں داخلہ، جس کا مطلب ادارے کے لیے زیادہ مسابقت ہوسکتا ہے، ادارے کو حالات کا سامنا کرنے کے لیے نئی طرح سے سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

(vi)  یہ کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ہے: (It helps in improving perfprmance) :

 کاروباری ماحول کی سمجھ کے لیے آخری دلیل کا تعلق اس بات سے ہے کہ آیا یہ واقعی کاروبار کی کارکردگی میں فرق پیدا کرتی ہے یا نہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ فرق پیدا کرتی ہے۔ تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے کا مستقبل ماحول میں رونما ہونے والے واقعات سے وابستہ ہوتا ہے۔ اور وہ ادارے جو اپنے ماحول پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ نیز مناسب طریقۂ عمل کو اپناتے ہیں وہ نہ صرف اپنی موجودہ کارکردگی کو بہتر کرتے ہیں بلکہ طویل عرصے تک بازار میں مسلسل کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

’’کاروباری ماحول کی جہات‘‘ (Dimensions of Business Environment)


کاروباری ماحول کی جہات یا اس کے تشکیلی عوامل، معاشی، سماجی، تکنیکی، سیاسی اور قانونی حالات پر مشتمل ہوتے ہیں جن کو ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے نیز اس کی فیصلہ سازی کے لیے موزوں خیال کیا جاتا ہے۔مخصوص ماحول کے برعکس یہ عوامل عام ماحول کی وضاحت کرتے ہیں جو  ایک وقت میں کئی اداروں کو متاثر کرتا ہے۔ بہر حال ہرادارے کا مینجمنٹ ان جہات کے بارے میں آگاہی حاصل کرکے مستفید ہو سکتا ہے۔ مثلاً سائنسی تحقیق ایک ایسی ٹکنالوجی کی دریافت کرچکی ہے جس کی وجہ سے ایک توانائی بچانے والا بلب بنانا ممکن ہوگیا ہے جو ایک معیاری بلب سے کم ازکم بیس گنا زیادہ چلتا ہے ۔ جنرل الیکٹرک (GE) اور فلپس کے لائٹنگ کے شعبہ جات کے سینئر منیجروں نے نشان دہی کی ہے کہ اس دریافت نے ان کی اکائی کی نشوونما اور صلاحیت ِ منافع پر زبردست اثر ڈالا ہے۔ اس لیے انھوں نے اس تحقیق کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت پر پوری احتیاط کے ساتھ عمل کیا اور اس کی دریافتوں کو نفع بخش طریقہ سے استعمال کیا۔ کاروبار کے عام ماحول کی تشکیل کرنے والے عوامل پر مختصراً تبصرہ ذیل میں دیا گیا ہے:

(i)  معاشی ماحول (Economic Environment)  :

 مدد کی شرحیں، افراطِ زر کی شرحیں، لوگوں کی آمدنی میں تبدیلیاں، اسٹاک مارکیٹ کے رجحانات اور روپیے کی قدر چند ایسے معاشی عوامل ہیں جو ایک کاروباری ادارے کے مینجمنٹ کے کاموں کو متاثر کرسکتے ہیں۔مختصر اور طویل مدتی سود کی شرحیں اشیااور خدمات کی مانگ پر اہم اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً آٹو موبائل بنانے والوں اور تعمیری کمپنیوں کے لیے مختصر مدتی اور طویل مدتی شرحیں زیادہ فائدے مند ہوتی ہیں کیوں کہ اس کے نتیجہ میں گاہک ادھار رقم پر گھروں اور کاروں کی خریداری میں زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح، ملک کی کل گھریلو پیداوار میں اضافے کے باعث لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں اشیاکی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ افراطِ زر کی اونچی شرحیں عام طور پر کاروباری اداروں کے لیے رکاوٹوں کا باعث ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اس سے مختلف کاروباری لاگتوں جیسے خام مال یا مشینری کی خریداری نیز ملازمین کی تنخواہوں اور اجرتوں کی ادائیگی وغیرہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
16
کاروباری ماحول کے عناصر
سماجی ماحول
معاشی ماحول
قانونی ماحول
سیاسی ماحول
تکنیکی ماحول

معاشی ماحول کے ارکان (Components of Economic Environment) 

•  عوامی اور نجی سیکٹر کے اضافی (Relative) رول کے حوالے سے معیشت کا موجودہ ڈھانچہ
•  ثابت اور جاری (Current and constant) قیمتوں پر فی کس آمدنی اورGNP (کل قومی پیداوار) میں اضافے کی شرحیں
•  بچت اور سرمایہ کاری کی شرحیں
•  مختلف اشیاکی درآمدات اور برآمدات کی مقدار
•  ادائیگیوں کا توازن اورغیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں تبدیلیاں
•  زرعی اور صنعتی پیداوار کے رجحانات
•  ذرائع آمدورفت اور ذرائع ابلاغ کی وسعت
•  معیشت میں رسدِ زر (Money supply) 
•  عوامی قرضہ (Public debt) (اندرونی اور بیرونی)
•  نجی اور عوامی سیکٹروں میں منصوبہ بند اخراجات

(ii)  سماجی ماحول (Social Environment) : 

کاروبار کا سماجی ماحول سماجی قوتوں جیسے رسم ورواج، اقدار، سماجی رجحانات، کاروبار سے معاشرے کی توقعات وغیرہ پرمشتمل ہوتا ہے۔ رسم ورواج سے مراد وہ سماجی کام اور طور طریقے ہیں جو دہائیوں یا صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ مثال کے طور پر، دیوالی، عید، کرسمس اور گروپروکے تہوار، گریٹنگ کارڈس کی کمپنیوں، مٹھائیاں بنانے والوں، درزی کی دکانوں اور دوسرے متعلقہ کاروباروں کے لیے اہم مالی مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اقدار سے مراد وہ نظریات ہیں جن کا ایک سماج بہت لحاظ کرتا ہے۔ ہندوستان میں، انفرادی آزادی، سماجی انصاف، مواقع کی مساوات اور قومی یک جہتی اقدار کی ایسی اہم مثالیں ہیں جو ہم سب کو بہت عزیز ہیں۔ کاروباری نقطۂ نظر سے ان اقدار کا مطلب ہے بازار میں انتخاب کرنے کی آزادی، سماج کے تئیں کاروبار کی ذمے داری، روزگار سے متعلق کاموں میں تعصب نہ برتنا۔ سماجی رجحانات کاروباری اداروں کو مختلف مواقع بھی فراہم کرتے ہیں اور خطرات سے بھی دوچار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر شہروں میں بسنے والے زیادہ تر لوگوں کے درمیان صحت اور تندرستی کے بارے میں بیداری پیدا ہوچکی ہے جس کی وجہ سے نامیاتی غذا (Organic Food)، پرہیزی سافٹ ڈرنکس، ورزش گاہوں (Gymes)، بوتل بند پانی (منرل واٹر)، اور ضمنی غذا (سپلیمنٹری فوڈ) جیسی اشیاکی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس رجحان نے بہر حال دوسری صنعتوں جیسے ڈیری پراسیسنگ تمباکو اور شراب کے کاروباروں کو نقصان پہنچایا ہے۔

سرگرمی1

معاشی ماحول

گزشتہ پندرہ دنوں کے اخبارات کو پڑھیے اور حکومت کے ذریعے معاشی پالیسیوں میں کی گئی کوئی بھی پانچ تبدیلیاں نوٹ کیجیے۔کاروباری اداروں کی کارکردگی پر ان کے اثر کا تجزیہ کیجیے۔
آربی آئی (RBI) ملک کے معاشی ماحول کا کلیدی ضابطۂ کار (Regulator) ہے کیوںکہ یہ:
•  سود کی شرحوں کو متاثر کرتا ہے
•  معیشت میں روپیے کے بہاو کو کنٹرول کرتا ہے
•  بینکوں کی کارکردگی کو باضابطہ بناتا ہے

’’نئی تجارتی پالیسی کی خصوصیات‘‘ (Salient features of New Trade Policy 

(ایک انتخاب)
•  اشیااور خدمات کی تمام تر برآمدات پر سروس ٹیکس کا خاتمہ
•  برآمد کے طریقۂ کار کی سادہ کاری
•  دست کاری کے لیے اسپیشل اکنامک زونس اور بائیو۔ٹکنالوجی پارکوں کا قیام
•  نئے تجارتی اور ویر ہاؤسنگ زونوں کا قیام
•  ایسے برآمد کار (Exporters) جن کی ٹرن اوور 5 کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان کو بینک گارنٹی سے مستثنیٰ کرنا
  31 اگست 2005 کی اخباری رپورٹوں پر مبنی


(iii)  تکنیکی ماحول (Technological Environment) :

 تکنیکی ماحول ان قوتوں پرمشتمل ہوتا ہے جن کا تعلق ایسی سائنٹیفک ترقی اور اختراعات سے ہے جن سے اشیا اور خدمات کی فراہمی کے نئے طریقے فراہم ہوتے ہیں اور جن سے کاروبار کی نئی تکنیکیں بھی معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً الیکٹرانکس اور کمپیوٹروں میں موجودہ تکنیکی ترقی نے ان تمام طریقوں میں ترمیم کروی ہے جن کے ذریعے کمپنیاں اپنے مال کی تشہیر کرتی ہیں۔ سی ڈی، رومس (CD-Roms)، کمپیوٹر ائنرڈ انفارمیشن کیوسک، اور انٹرنیٹ کے ذریعے اشیاکی خوبیوں کو نمایاں طور پر دیکھنا اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ اسی طرح، خردہ فروشوں کا براہِ راست سپلائروں سے رابطہ قائم ہوچکا ہے جو ضرورت کے وقت اسٹاک کو پوا کردیتے ہیں۔مینوفیکچررس کے پاس اب مینوفیکچرنگ کے لوچ دار نظام ہیں۔ ہوائی (ایئرلائن) کمپنیوں کے پاس اب انٹرنیٹ اور عالمی ویب پیجز (Pages) کی سہولیات موجود ہیں جن کے ذریعے گاہک فلائٹ کے اوقات، منزل مقصود اورکرایوں کو دیکھ سکتے ہیں نیز آن لائن ٹکٹ بھی بک کرسکتے ہیں۔مزید برآںمختلف انجینئرنگ اور سائنسی میدانوں جیسے لیزر، روبوٹک، بائیوٹکنالوجی، غذائی تحفظات، ادویہ، ٹیلی مواصلات اور سنتھیٹک ایندھن (Synthetic fuel) میں مسلسل تحقیق اور اختراع نے مختلف اداروں کے لیے متعدد مواقع اور اندیشوں دونوں کو جنم دیا ہے۔ ویکیوم ٹیوب کے بجائے ٹرانسسٹر، بھاپ کے انجن کے بجائے ڈیزل سے چلنے والے الیکٹرانک انجن، فائونٹن پین کے بجائے بال پوائنٹ پین، پنکھے سے چلنے والے ہوائی جہاز کے بجائے جیٹ ہوائی جہاز اور ٹائپ رائٹر کے بجائے کمپیوٹر پر مبنی ورڈ پراسیسر تک مانگ میں ہونے والی تبدیلیوں نے کاروبار کے نئے افق کھول دیے ہیں۔

سماجی ماحول کے اہم عناصر (Major Elements of Social Environment) 

•  صارفین کی ترجیحات، پیشہ وارانہ تقسیم (ocupational distribution)، طرزِ زندگی اور نئی اشیاکے تئیں رویہ
•  معیارِ زندگی سے متعلق تشویش
•  متوقع زندگی
•  کارکنوں سے توقعات
•  کارکنوں میں خواتین کی موجودگی سے متعلق تبدیلیاں
•  شرحِ اموات اور شرحِ پیدائش
•  آبادی میں تبدیلیاں
•  تعلیمی نظام اور خواندگی کی شرحیں
•  اشیاکو استعمال کرنے کی عادتیں
•  خاندان کا ڈھانچہ اور اس کا نظم

(iv)  سیاسی ماحول (Political Environment):

 سیاسی ماحول سیاسی حالات پر مشتمل ہوتاہے جیسے ملک میں عام استحکام امن، اور کاروبار کے تئیں حکومت کے منتخب نمائندوں کا رویہ۔ کاروباری کامیابی میں سیاسی حالات کی اہمیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ مستحکم سیاسی حالات کے اندر کاروباری سرگرمیوں سے متعلق پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف، لا اینڈ آرڈر کو لاحق اندیشوں نیز سیاسی اتھل پتھل کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں بے اطمینانی کی کیفیت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس طرح، سیاسی استحکام لوگوں کے اندر معیشت کی نشوونما کے لیے طویل مدتی پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری کرنے کا اعتماد پیدا کرتا ہے۔ سیاسی اتھل پتھل اس اعتماد کو متزلزل کردیتا ہے۔ اسی طرح، کاروبار کے تئیں سرکاری افسران کا رویہ بھی کاروبار پر مثبت یا منفی اثر ڈالتا ہے۔ مثال کے طور پر، 1991 میں ہماری معیشت کے دروازے غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کھلنے کے بعد بھی، ان کمپنیوں کو ہندوستان میں کام کرنے کی خاطر اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے نوکر شاہی کی ضابطہ پرستی سے گزرنے میں نہایت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجتاً ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے معاملے میں ان کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب حالت سدھر چکی ہے۔

سرگرمی II

سماجی ماحول

ایسے دس خاندانوں سے رابطہ قائم کیجیے جن کو آپ کو جانتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ان کی کھپت کی عادتوں میں آئی تبدیلیوں کو معلوم کیجیے۔ ایک کاروباری ادارے کی کارکردگی پر ان تبدیلیوں کے اثر کا تجزیہ کیجیے۔
17
الیکٹرانک سازوسامان
( سازوسامان کی مانگ میں اضافہ )
فیشن کی صنعت
( رسمی پہناوے کے تئیں تبدیلی )
غذائی عادتیں
( ڈبہ بند غذاوں کے تئیں تبدیلی )
کاسمیٹک صنعت
( مانگ میں اضافہ )
کام کاجی میں خواتین کی موجودگی کی تبدیلیوں کا اثر

انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن لمیٹڈ 

(حکومتِ ہند کا ایک ادارہ)

اس ویب سائٹ پر ای۔ٹکٹ بکنگ—رہنما ہدایات

•  بحیثیت فرد کے اپنا رجسٹریشن کرائیے۔ رجسٹریشن مفت ہے
•  اپنا استعمالی نام (User Name) اور پاس ورڈ (Password) داخل کرکے،لاگ اِن (Login) کیجیے۔
•  ’’میرے سفر کی پلاننگ اور ٹکٹ کی بکنگ‘‘ کا صفحہ اسکرین پر ظاہر ہوجائے گا۔
•  ٹکٹوں کو بک کرنے میں اگر کسی مدد کی ضرورت ہو تو ’’ہیلپ (Help)‘‘ کا آپشن (Option) استعمال کیجیے۔

18

ذیل میں دی گئی ہدایات کی پیروی 
کرتے ہوئے تفصیلات پُرکیجیے
19

تکنیکی ترقی کی وجہ سے اب گھر، دفتر وغیرہ سے انٹر نیٹ کے ذریعے ریلوے ٹکٹ بک کرنا ممکن ہوچکا ہے۔


(iv)  قانونی ماحول (Legal Environment) :

 قانونی ماحول، حکومت کے ذریعے پاس کیے گئے مختلف قوانین، حکومت کی اتھارٹیز کے ذریعے جاری کیے گئے انتظامی احکامات، حکومت کی ہر سطح یعنی، مرکزی، ریاستی یا علاقائی سطحوں پر مختلف کمیشنوں اور ایجنسیوں کے ذریعہ دیے گئے فیصلوں نیز عدالتوں کے ذریعے دیے گئے فیصلوں پر مشتمل ہوتاہے۔ ہر ادارے کے مینجمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمینی قانون کی تعمیل کرے۔ اس لیے حکومت کے ذریعے تشکیل کیے گئے قوانین اور ضابطوں کی مناسب معلومات کاروبار کی بہتر کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ قوانین کی تعمیل نہ کرنے سے کاروباری ادارہ قانونی مسائل میں پھنس سکتا ہے۔ ہندوستان میں، کمپنی ایکٹ 1956، انڈسٹریز (ڈیولپمینٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 1951، فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ اور امپورٹ ایکسپورٹ (کنٹرول) ایکٹ 1947، فیکٹریز ایکٹ 1948، ٹریڈ یونین ایکٹ 1926، ورک مین کمپنی سیشن ایکٹ 1923، انڈسٹریل ڈسپیوٹ ایکٹ 1947، کنسیومر پراٹیکشن ایکٹ 1986، کمپیٹشن ایکٹ 2002 اور ایسے ہی دیگر قوانین، جن میں پارلیمنٹ کے ذریعے وقتاً فوقتاً ترمیم ہوتی رہتی ہے، کی عملی معلومات کاروبار کرنے کے لیے اہم ہیں۔ قانونی ماحول کے اثر کو، صارفین کے مفادات کی حفاظت کے لیے بنائے گئے حکومتی ضوابط کی مثال سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً الکوحل کی مشروبات کا اشتہار ممنوع ہے۔ ایسے اشتہارات جن میں سگریٹ کے پیکٹ شامل ہوںان میں قانونی تنبیہ دی جاتی ہے ’’سگریٹ پینا صحت کے لیے مضر ہے‘‘ اسی طرح، بچوں کی غذا کے اشتہارات میں خریداروں کو یہ اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے کہ ماں کا دودھ بچوں کے لیے بہترین ہے۔ اشتہار دینے والوں کو ان تمام قوانین و ضوابط کی پیروی کرنا ضروری ہے۔

سیاسی ماحول کے اہم عناصر (Major Elements of Political Environment)

•  ملک کا آئین
•  رائج سیاسی نظام
معاشی معاملات اور کاروبارکو سیاسی رنگ دیے جانے کی حد 
•  اہم سیاسی پارٹیوں کے غالب نظریات، عقائد اور اقدار
•  سیاسی شخصیات کی سوچ و فکر اور سیاسی قیادت کی نوعیت اور خصوصیت
•  سیاسی اخلاق کی سطح
•  سیاسی ادارے جیسے حکومت اور ملحقہ ایجنسیاں
•  برسرِ اقتدار پارٹی کا سیاسی نظریہ اور کام
•  کاروبار میں سرکاری مداخلت کی حد اور نوعیت


ہندوستان میں معاشی ماحول (Economic Environment in India) 

ہندوستان کا معاشی ماحول پیداوار کے ذرائع اور دولت کے بٹوارے کے حوالے سے مختلف میکروسطح (Macro-level) کے عوامل پر مشتمل ہے جن سے صنعت اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں درج ذیل امور شامل ہیں:
(a)  ملک کی معاشی ترقی کا مرحلہ
(b)  ملی جلی معیشت کا معاشی ڈھانچہ جو عوامی اور نجی دونوں سیکٹروں کی نشان دہی کرتا ہے۔
(c)  حکومت کی معاشی پالیسیاں، بشمول صنعتی، مالیاتی اور مالی پالیسیاں۔
(d)  معاشی منصوبہ بندی، بشمول پنچ سالہ منصوبے، اختتامی بجٹ وغیرہ۔
(e)  معاشی علامات جیسے قومی آمدنی، آمدنی کا بٹوارہ، کل قومی پیداوار (جی این پی) کی شرح اور ترقی، فی کس آمدنی، ذاتی شخص آمدنی اور سرمایہ کاری کی شرح، در آمدات اور برآمدات کی مالیت، ادائیگیوں کا توازن وغیرہ
(f)  بنیادی سہولتیں Infrastructure، جیسے مالی ادارے، بینک، ذرائع آمدورفت، ذرائع ابلاغ کی سہولیات وغیرہ۔
     ہندوستان میں کاروباری اداروں کو اپنی کارکردگی پر معاشی ماحول کے اثر اور اس کی اہمیت کا پورا احساس ہے۔ کمپنیوں کے چیئر مین جو سالانہ رپورٹیں پیش کرتے ہیں ان میں ملک کے عام معاشی ماحول اور کمپنیو ںپر اس کے اثرات کی  تشخیص کے بارے میں پوری توجہ دی جاتی ہے۔
     ہندوستان کا معاشی ماحول خصوصاً حکومت کی پالیسیوں کے باعث تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ آزادی کے وقت:
(a)  ہندوستانی معیشت زرعی اور دیہی معیشت پر مبنی تھی۔
(b)  کام کرنے والی آبادی کا تقریباً 70 فی صد زراعت میں لگا ہوا تھا۔
(c)  آبادی کا تقریباً 85 فی صد دیہاتوں میں رہ رہا تھا۔
(d)  بے سوچے سمجھے کم پیداواری صلاحیت رکھنے والی ٹکنالوجی کا استعمال کرکے پیداوار کی جاتی تھی۔
(e)  وبائی (Communicable) بیماریاں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھیں، شرح اموات زیادہ تھی، عوامی صحت کا نظام اچھا نہیں تھا۔


جون 1991 کا بحران  (Crisis of June 1991)

بحرانی صورت حال کے اہم عناصر جن کی وجہ سے حکومتِ ہند کو معاشی اصلاح کا اعلان کرنا پڑا تھا مندرجہ ذیل تھے:
•  تشویشناک مالی بحران جس کے اندر 1990-91 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کی 6.6 فی صد سطح تک پہنچ گیا تھا۔
•  بھاری اندرونی قرض تقریباً جی ڈی پی کا 50 فی صد تک ہوگیا تھا اور جس پر سود کی ادائیگی مرکزی حکومت کے ذریعے جمع کیے گئے کل ریوینو کا تقریباً 39 فی صد تھی۔
•  جی این پی نشو ونما کی کم شرح 1988-89میں(1980-81قیمتوں پر) 10.5 فی صد کی بلند سطح سے 1.4 فی صد تک گرچکی تھی۔
•  تمام تر زرعی پیداوار، غلہ کی پیداوار اور صنعتی پیداوار میں کمی نے بالترتیب 2.8 فی صد اور 5.3 فی صد اور 0.1 فی صد کی منفی نشوونما شرحیں ظاہر کیں۔
•  بڑھتی ہوئی افراطِ زر کی شرح جو کہ 13-14 فی صد پر ہول سیل پرائز انڈیکس اور کنسیومر پرائز انڈیکس (صنعتی کارکنوں کے لیے) پر مبنی تھی۔
•  غیر ملکی تجارت کا سکڑنا، برآمدات (ڈالر میں) 1.5 فی صد اور در آمدات19.4 فی صد تک گرچکی تھی۔
•  ڈالر کے مقابلہ روپیے میں 26.7 فی صد کی فرسودگی۔
•  غیر ملکیزرِ مبادلہ (فارن ایکسچینج)کے ذخائر اس حد تک کم ہوچکے تھے کہ یہ چند ہفتوں برآمدات ضروریات کو بہ مشکل پورا کرسکتے تھے۔ غیر ملکوں میں رہنے والے ہندوستانی (این آر آئی) انتباہی بلند شرح تک اپنی جمع رقوم کو نکال رہے تھے۔
•  بین الاقوامی مالی اداروں کا اعتماد بری طرح متزلزل تھا اور ایک سال کے دوران ہی اس کی ادائیگی ، قرض کی صلاحیت کی درجہ بندی AAA سے BB+ تک گرچکی تھی۔
•  ملک بین الاقوامی مالی ذمے داریوں (قرضوں) کو ادا نہ کرنے کے قریب تھا۔ اس صورت نے تشویش ناک حالت سے بچنے کے لیے فوری پالیسی عمل کرنے کا جواز پیش کیا۔ مئی 1991میں، حکومت کو اپنے اسٹاک میں سے 20 ٹن سونا اسٹیٹ بینک آف انڈیا کولیز پر دینا پڑا تاکہ وہ اسے چھے ماہ بعد دوبارہ خریدنے کے آپشن پر فروخت کرسکے۔ مزید برآں، بینک آف انگلینڈ سے 600 ملین ڈالر کا قرض لینے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا کو اس کے پاس 47 ٹن سونا گروی رکھنے کی اجازت دی گئی۔


ہمارے ملک کے معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے ہماری حکومت نے چند صنعتوں کو ریاست کے ذریعے کنٹرول کرکے، مرکزی منصوبہ بندی کرکے اور نجی سیکٹر کی اہمیت کو کم کرکے کئی اقدامات کیے۔ ہندوستان کے ترقیاتی منصوبوں کے اہم مقاصد یہ تھے:
(a)  معیارِ زندگی کو بلند کرنے، غربت اور بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے تیز تر معاشی نشونماکو فروغ دینا۔
(b) خود کفیل بنانا اور بھاری نیز بنیادی صنعتو ں پر زور دیتے ہوئے ایک مضبوط صنعتی بنیاد کو قائم کرنا۔
(c)  دولت اور آمدنی کی نا برابری کو کم کرنا۔
(d)  اشتراکی نظامِ ترقی کو اپنانا جو مساوات پر مبنی ہو اور فرد کا فرد کے ذریعے ہونے والے استحصال کو روک سکے۔
معاشی منصوبہ بندی کے مطابق، حکومت نے بنیادی سہولتوں (Infrastructure) کی صنعتوں کو قائم کرنے کے لیے عوامی سیکٹر کو اہم رول دیا اور اشیائے صرف کی صنعت کو ترقی دینے کی ذمے داری نجی سیکٹر کو سونپی گئی۔ اسی دوران حکومت نے نجی سیکٹرکے اداروں کی کارکردگی پر کئی پابندیاں، ضابطے اور کنٹرول عائد کیے۔ ہندوستان کی معاشی منصوبہ ہندی کے ساتھ تجربہ کے ملے جلے نتائج برآمد ہوئے۔ 1991 میں معیشت کو زر مبادلہ کے تشویش ناک بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ وافر فصلیں ہونے کے باوجود سرکاری خسارہ بہت بڑھ گیا تھا اور قیمتوںمیں اضافے کا رجحان تھا۔
معاشی اصلاحات کے حصے کے طور پر، جولائی 1991 میں حکومتِ ہند نے نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس پالیسی کی اہم خصوصیات حسب ذیل تھیں۔
(a)  حکومت نے لازمی لائسنس کے تحت صنعتوں کی تعداد کو کم کرکے چھے تک کردیا۔
(b)  پچھلی پالیسی کے تحت کئی صنعتیں عوامی سیکٹر کے لیے مخصوص (ریزرو) تھیں انھیں غیر مخصوص کردیا گیا۔ عوامی سیکٹر کے رول کو حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہمیت رکھنے والی چار صنعتوں تک محدود کردیا گیا۔
(c)  عوامی سیکٹر کے کئی صنعتی اداروں سے سرکار نے اپنا سرمایہ نکال لیا۔
(d)  غیر ملکی سرمایے کے تئیں آزاد پسندی (Liberaliation)  کی پالیسی کو اپنایا گیا۔غیر ملکی ایکوٹی حصہ داری میں اضافہ کیا گیا اور کئی سرگرمیوں میں 100فی صد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی اجازت دی گئی۔
(e)  غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ تکنیکی معاہدوں کے لیے خود کار اجازت عطا کی گئی۔
(f)  ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے اور اس کا راستہ ہموار کرنے کے لیے فارن انویسٹمنٹ       پرموشن بورڈ (ایف آئی پی بی) قائم کیا گیا۔
     وسیع صنعتی ایوانوں کی صنعتی اکائیوں کے ارتقا اور توسیع کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے۔ چھوٹے پیمانے کے سیکٹر کو مکمل مدد اور ان کے بقدر جائز مقام کی یقین دہانی کی گئی۔
     درحقیقت، اس پالیسی نے لائسنسی نظام کی بندشوں سے صنعت کو آزادی دلائی (رواداری)، عوامی سیکٹر کے رول کو تیزی سے کم کیا (نج کاری)، ہندوستانی صنعتی ترقی میں غیر ملکی نجی حصّے داری کی حوصلہ افزائی کی (عالم کاری)

’’آزاد پسندی‘‘(Liberalisation) :

 پیش کی گئی معاشی اصلاحات کا مقصد ہندوستانی صنعت اور کاروبار کو تمام غیر ضروری کنٹرولوں اور پابندیوں سے آزاد کرنا تھا۔ انھوں نے لائسنس، اورپرمٹ کوٹاراج کے خاتمے کا اشارہ دیا۔ ہندوستانی صنعت کی آزاد پسندی جن معاملات میں واقع ہوئی وہ تھے:
(i)  چند خاص صنعتوں کے علاوہ بہت سی صنعتوں پر سے لائسنس کی پابندی کو ہٹایا گیا۔
(ii)  کاروباری سرگرمیوں کے پیمانے کے بارے میں فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی یعنی کاروباری سرگرمیوں کی توسیع یا ان کے حجم کو کم کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
(iii)  اشیا اور خدمات کی نقل وحرکت پر سے پابندیوں کو ہٹایاگیا۔
(iv)  اشیا اور خدمات کی قیمتوں کو مقرر کرنے کی آزادی دی گئی۔
(v)  ٹیکس کی شرحیں کم کی گئیں اور معیشت کے اوپر سے غیر ضروری کنٹرول کو اٹھایاگیا۔
(vi)  ہندوستان میں غیر ملکی سرمایے اور ٹکنالوجی کی آمد کو آسان بنایا گیا۔


قبل از وقت بحران کا تصفیہ: اصلاحی اقدامات (Early crisis Met: Reform Measures) 

معاشی بحران کا مینجمنٹ کرنے کے لیے کیے گئے چند اقدامات حسب ذیل تھے:
•  1991-92 میں کی گئی مالی اصلاح کا مقصد مالی خسارے کو 7700 کروڑ روپیے سے کم کرنا تھا۔ (1990-91 کے مقابلے)
•  جولائی 1991میں نئی صنعتی پالیسی کے اعلان کے ذریعے، ایک مزید مسابقتی اور موثر صنعتی معیشت کے فروغ کے لیے صنعتی اصول اور ضوابط کو نرم کیا گیا۔
•  بنیادی اور ماحولیات نیز در آمدات کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل 18 صنعتوں کو چھوڑ کر تمام صنعتی پروجیکٹوں کے لیے صنعتی لائسنس کا خاتمہ کردیا گیا۔ تقریباً 80 فی صد صنعتوں کو لائسنس کی پابندی سے آزاد کردیا گیا۔
•  بڑی کمپنیوں کو صلاحیت کی توسیع، تنوع، نیز ادغام (Merger) کے لیے مرکزی حکومت سے پیشگی منظوری لینی ہوتی تھی۔ اس ضرورت کو ختم کرنے کے لیے ایم آرٹی پی ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔
•  نو بنیادی اور اصل صنعتیں پہلے عوامی سیکٹر کے لیے مخصوص تھیں انھیں نجی سیکٹر کے لیے کھولا گیا۔
•  بہت سی اہم صنعتوں میں غیر ملکی ایکویٹی رکھنے کی حد 40 فی صد سے بڑھاکر 51 فی صد کردی گئی۔
•  بڑی بین الاقوامی فرموں کے ذریعے کی گئی پیش کشوں پر گفت وشنید کرنے کے لیے اور سرمایہ کاری کی پیش کشوں کا جلد تصفیہ کرنے کے لیے فارن انویسٹمنٹ پروموشن بورڈ (ایف آئی پی بی) قائم کیا گیا۔
•  اکتوبر 1991 میں آئی پی بی ایم سے 20 ماہ سے زائد مدت کے بعد گفت وشنید سے طے ہوئے 2.3 ملین ڈالر کے قرض کی مدد سے، جولائی 1تا 3، 1991کے دوران روپیے کی 18 فی صدکم قدری کی گئی۔
•  اپریل 1992 میں عالمی بینک سے 500 ملین ڈالر کے قرض برائے ساختیاتی تسویہ (Structural Adjustment loan) کی بات چیت اور جنوری —ستمبر1991کے بیچ انٹر نیشنل مونیٹری فنڈ (ائی ایم ایف) سے 1.3بلین ایس ڈی آر کے مجموعی قرض کی بات چیت۔
•  اکتوبر 1991 میں غیر ممالک میں رکے ہوئے فنڈس کو وطن واپس لانے کے لیے انڈیا ڈیولپمینٹ بانڈ اسکیم اور امیونٹی اسکیم (Immunity Scheme) کو پیش کیا گیا جس کے تحت 1991-92کے دوران 2 بلین ڈالر سے زیادہ کی واپسی ہوئی۔
•  بینک آف انگلینڈ اور بینک آف جاپان کے پاس پہلے سے گروی رکھے سونے کو واپس لایا گیا۔
•  قرض کی بازور وصولی (Credit Squeeze) اور درآمدی کنٹرول کے اقدامات کوجاری رکھا گیا۔
•  درآمدات کے لائسنسی بندوبست کو، برآمداتی آمدنی سے وابستہ آزاد قابل تجارت برآمداتی حقوق ایگذم اسکرپس‘‘ (Exim scrips) سے وابستہ آزادانہ قابلِ تجارت درآمد حقوق (Eximscrips) سے بدلا گیا۔ اس اقدام سے ہندوستان کی غیر ملکی تجارت میں خود توازنی میکانزم کو رائج کرنے کی توقع کی گئی۔
•  لبرلائزڈ ایکسچینج ریٹ مینجمنٹ سسٹم (Liberalised Exchange Rate Management Syst(LERMS کو متعارف کرایا گیاجس کے تحت لین دین کی شرح کا دوہرا نظام قائم کیا گیا تھا جب کہ بازار میں ایک شرح موثر طورپر جاری تھی، اور
•  بیش تر سرمایہ جاتی اشیا، خام مال، اور آلات پر سے درآمدی لائسنس ختم کردیا گیا۔ پیشگی لائسنس کے نظام کو کافی سادہ بنادیاگیا۔
اقدامات کے شروعاتی سلسلے نے مستقبل کی معاشی اصلاحات کے لیے راہ ہموار کی۔ یہ سبھی اقدامات اصلاح کے مسلسل عمل کا حصہ رہے۔



’’نجی کاری‘‘ (Privatisation) : 

معاشی اصلاحات کے نئے خاکے کا مقصد قوم وملک کی تعمیر میں نجی سیکٹر کو زیادہ رول اور عوامی سیکٹر کو کم رول دینا تھا۔ ہندوستانی منصوبہ سازوں کے ذریعے اب تک اپنائی گئی ترقی کی حکمتِ عملی کا یہ الٹا عمل تھا۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے حکومت نے کئی کام کیے۔ اس نے 1991 کی نئی صنعتی پالیسی میں عوامی سیکٹر کے رول کی ازسرِ نو تعریف کی۔عوامی سیکٹر کی منصوبہ بند نجی کاری (Disinvestment) کی پالیسی کو انپایا نیز کمزور اور نقصان میں جارہے اداروں کو بورڈ آف انڈسٹریل اینڈ فائننشیل ری کنسٹرکشن کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں نجی کاری (Disinvestment) کی اصطلاح کو استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب عوامی سیکٹر کے اداروں کو نجی سیکٹر کے سپرد کرنا تھا۔ نتیجتاً عوامی اداروں میں حکومت کے مفادات کم ہوئے ۔ اگر کسی ادارے میں 51 فی صد سے زیادہ حکومت کی ملکیت کی تخفیف ہوئی تو اس کا نتیجہ اس ادارے کی ملکیت اور مینجمنٹ کی نجی سیکٹر میں منتقلی کی صورت میں نکلا۔

عالم کاری (Globalisation) :

عالم کاری سے مراد عالمی معیشتوں کا ایک پرزور اتحاد ہے۔ 1991 تک، حکومتِ ہند نے در آمدات کی مالیت اورحجم کے ضمن میں ایک سخت ضابطۂ کار پالیسی کی پیروی کی تھی۔ یہ ضابطے جن معاملات کے ضمن میں تھے وہ تھے:(a) درآمدات کا لائسنس (b) محصول (ٹیرف) کی پابندیاں (c)کمیّتی مقداری پابندیاں۔ نئی معاشی اصلاحات  کا مقصدتجارتی رواداری تھا۔ان اصلاحات کا مقصد درامدات میں رواداری اور ٹیرف ڈھانچے نیز غیر ملکی زر مبادلے میں سدھار کرکے برآمدات کو فروغ دیتا تھا تاکہ ملک باقی دنیا سے کٹ کر تنہا نہ رہ جائے۔ عالم کاری کے تحت عالمی معیشت میں مختلف قوموں کے درمیان باہمی انحصار اور باہمی تعلق کو بڑھاواد یا جاتا ہے۔ اگر ایک کاروباری ادارے کو جغرافیائی طور پر دو بازاروں میں اپنے گاہک کی خدمت کرنی ہو، تو اب یہ طبعی جغرافیائی خلیج یا سیاسی حدود اس کے لیے روکاوٹیں نہیں رہیں۔حکومتوں کی آزاد تجارتی پالیسیوں اور ٹکنالوجی میں تیز پیش رفت کی بدولت اب یہ ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ 1991کی پالیسی کے ذریعے، حکومتِ ہند نے ملک کو اسی عالم کاری طرز پر آگے بڑھایا ہے۔


ایک حقیقی عالمی معیشت (A Truly Globalised Economy) 

ایک حقیقی عالمی معیشت سے مراد ایک ایسی دنیا ہے جس کی کوئی سرحد نہیں اور جہاں :
(i)    ملکوں کے درمیان اشیااور خدمات کا بلا روک ٹوک تبادلہ ہوتا ہے
(ii)    ملکوں کے درمیان سرمایے کا بلا روک ٹوک بہاو ہوتا ہے
(iii)   معلومات او رٹکنالوجی کا بلا روک ٹوک بہاو ہوتا ہے
(iv)  سرحدوں کے درمیان لوگوں کی بلاروک ٹوک نقل وحرکت ہوتی ہے
(v)    تنازعات کے نپٹارے کے لیے ایک مشترکہ قابلِ قبول میکانزم ہوتا ہے
(vi)   ایک عالمی حکومت کا تناظر ہوتاہے


سرگرمی 3

عالم کاری

پانچ ایسی ہندوستانی کمپنیوں کی فہرست بنائیے جو آج عالمی طو رپر کام کررہی ہیں۔ ان پروڈکٹس کا پتہ لگائیے جن کو یہ فروخت کرتی ہیں اور ان ممالک کا بھی جہاں یہ کام کررہی ہیں۔


نوٹوں کی منسوخی (Demonetization)

8 نومبر 2016 کو حکومتِ ہند نے ایک اعلان کیا جس کے ہندوستانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 500 روپے اور 1000 روپے کے دو سب سے بڑے کرنسی نوٹوں کو اعلان کے فوراً بعد ہی منسوخ کر دیا گیا۔ جس کے تحت یہ کرنسی نوٹ مند مخصوص مقاصد جیسے گھریلو ضرورت کے بلوں کی ادائیگی کو چھوڑ کر باقی تمام خرید و فروخت کے لیے منسوخ قرار دے دیے گئے۔ اس طرح بازار میں لین دین کے لیے موجود چھیاسی فیصد رقم منسوخ ہو گئی۔ ہندوستانی عوام کو منسوخ شدہ کرنسی نوٹ بینکوں میں جمع کرانے تھے اور بینکوں سے نقد رقم نکالنے پر بھی کچھ پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں گھریلو رقومات اور بینک میں جمع رقومات کو استعمال کرنے پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ 
نوٹوں کی منسوخی کا مقصد بد عنوانی کو ختم کرنا ،دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے بڑے نوٹوں کے استعمال کو روکنا اور بالخصوص ایسے ’کالے دھن ‘پر پابندی عائد کرنا تھا جو ایسی آمدنی سے جمع کیا گیا ہو جس کا اعلان ٹیکس اہلکاروں کے سامنے نہیں کیا گیا تھا۔

خصوصیات

1۔  نوٹوں کی منسوخی کو ٹیکس انتظامیہ کے ایک اقدام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اعلان شدہ آمدنی سے جمع نقد رقومات بینکوں میں جمع ہی تھیں اور اسے نئے نوٹوں میں تبدیل کر دیا گیا ۔ لیکن جن لوگوں کے پاس کالا دھن تھا ، انھیں اپنی غیر اعلان شدہ دولت کا اعلان کرنا پڑا اور جرمانے کے شرح کے ساتھ ٹیکس ادا کرنا پڑا ۔ 
2۔  نوٹوں کی منسوخی کو حکومت کی جانب سے اس تبدیلی کے طور پر بھی دیکھا گیا کہ اب ٹیکس چوری کو برداشت یا قبول نہیں کیا جائے گا ۔ 
3۔  نوٹوں کی منسوخی سے ٹیکس انتظامیہ کو بچت کردہ رقومات کو باضابطہ مالی نظام میں لگانے کا موقع ملا ۔
  حالانکہ بینکنگ نظام میں جمع کی گئی رقم کا بیشتر حصّہ نکال لینے کے لیے ہی تھا لیکن بینکوں کی جانب سے رقومات جمع کرنے کی اسکیموں سے کم شرحِ سود پر بنیادی قرضے مہیّا کیے جاتے رہیں گے۔ 
ڈجیٹل کاری کے سبب موٹے طور پر سماج کے تین طبقوں پر اثر پڑا ،غریب لوگ جو کافی حد تک ڈجیٹل معیشت سے باہر تھے؛ کم مالدار لوگ جو ڈجیٹل معیشت کا حصّہ بننے جا رہے ہیں جن کا احاطہ جن دھن کھاتوں کے تحت اور RuPay کارڈس کے تحت کر لیا گیا اور ایسے مالدار افراد جو ڈیجیٹل لین دین سے پوری طرح واقفیت رکھتے تھے۔ 
4۔  نوٹوں کی منسوخی کی ایک اور اہم خصوصیت نقد رقومات کے کم استعمال والی معیشت بنانا تھا یعنی باضابطہ مالی نظام کے ذریعہ زیادہ بچتوں کو صحیح راستہ دکھانا اور ٹیکس ادائیگی کو بہتر بنانا ۔حالانکہ اس کے خلاف بھی دلیلیں دی گئی کہ ڈجیٹل لین دین کے لیے صارفین کو موبائل یا سیل فون کی ضرورت پیش آئے گی اور کاروباری افراد کو Point of Sale پی اوایس مشینوں کی جو کہ صرف انٹر نیٹ رابطہ کاری کے ذریعہ ہی کام کرتی ہیں۔ اس کے بر عکس ان خامیوں کے لیے اس دلیل سے توازن قائم کیا گیا کہ اس سے لوگوں کو باضابطہ معیشت میں شامل ہونے میں مدد ملے گی جس سے مالیاتی بچت میں اضافہ ہوگا اور ٹیکس چوری میں کمی آئے گی۔


ڈجیٹل کاری کے سبب موٹے طور پر سماج کے تین طبقوں پر اثر پڑا ،غریب لوگ جو کافی حد تک ڈجیٹل معیشت سے باہر تھے؛ کم مالدار لوگ جو ڈجیٹل معیشت کا حصّہ بننے جا رہے ہیں جن کا احاطہ جن دھن کھاتوں کے تحت اور RuPay کارڈ س کے تحت کر لیا گیا اور ایسے مالدار افراد جو ڈیجیٹل لین دین سے پوری طرح واقفیت رکھتے تھے۔ 

نوٹوں کی منسوخی کے اثرات


i- رقم / شرح سود ( i ) نقد لین دین میں کمی
ii- نجمی دولت ( ii ) بینک میں جمع رقومات میں اضافہ
iii- سرکاری شعبے کی دولت ( iii ) مالی بچتوں میں اضافہ
iV- ڈیجیٹل کاری اس میں گراوٹ آئی کیوں کہ کچھ بڑے نوٹ واپس نہیں کیے جا سکتے اور زمین جائیداد کی قیمتیں کم ہوئیں۔
v- زمین جائیداد کوئی اثر نہیں
vi- ٹیکس حصولیابی  آمدنی کے اعلان میں اضافے کے سبب آمدنی ٹیکس کی حصولیابی میں اضافہ


 

کاروبار اور صنعت پر حکومت کی پالیسی میں تبدیلیوں کے اثرات

(Impact of Govenment Policy Changes on Business and Industry) 

حکومت کی آزاد پسندی، نجی کاری اور عالم کاری کی پالیسی نے کاروباری اور صنعتی اداروں کی کارکردگی پر خاصا اثر ڈالا۔ حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے باعث ہندوستانی کارپوریٹ سیکٹر کو کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان چیلنجوں کو حسب ذیل طرح سے واضح کیا جاسکتا ہے۔
(i)  بڑھتی ہوئی مسابقت (Increasing Competition) : غیر ملکی فرموں کے داخلے اور صنعتی لائسنس کے قوانین میں تبدیلیوں کے باعث ہندوستانی فرمو ں کامقابلہ بڑھ چکا ہے۔ یہ مقابلہ خاص طو رپر خدماتی صنعتوں جیسے ٹیلی کمیونیکیشن، ایئر لائن، بینک کاری، بیمہ وغیرہ میں بڑھا ہے۔ یہ صنعتیں پہلے عوامی سیکٹر میں ہوا کرتی تھیں۔
(ii)  زیادہ مانگ کرنے والے گاہک (More Demanding Customer) : آج کل گاہک زیادہ مانگ کرنے والے ہوگئے ہیں کیوںکہ ان کے پاس بہتر معلومات ہے۔ بازار میں بڑھی ہوئی مسابقت نے گاہکوں کو خریداری میں وسیع انتخاب کی سہولت نیز بہتر کوالٹی کی اشیااور خدمات مہیا کی ہیں۔
(iii)  تیزی سے تبدیل ہوتا ہوا تکنیکی ماحول (Repidly Changing TechnologicaEnvironment): بڑھی ہوئی مسابقت نے فرموںکو بازار میں بقا اور نشوونما حاصل کرنے کے لیے نئے طریقے ڈھونڈنے پر مجبور کردیا ہے۔ نئی تکنیکیوں کی بدولت مشینوں، طریق کار، اشیااور خدمات کو بہتر بنانا ممکن ہوگیا ہے۔ تیزی سے تغیر پذیر تکنیکی ماحول چھوٹی فرموں کے لیے سخت چیلنج ساتھ لایا ہے۔
(iv)   تبدیلی کی ضرورت (Necessity for Change) : 1991 سے پہلے کے باضابط ماحول (Regulated Environment) میں فرمیں نسبتاً مستحکم پالیسیاں اور طریقۂ کار اپنا سکتی تھیں۔ 1991 کے بعد، بازاری قوتیں تلاطم خیز ہوچکی ہیں نتیجتاً اداروں کو اپنے کاموں میں مسلسل ترمیم کرنی پڑ رہی ہے۔
(v)  انسانی وسائل کو ترقی دینے کی ضرورت (Need for Developing Human Resoruce) : ہندوستانی ادارے غیر تربیت یافتہ عملے سے کافی مدت پریشان رہ چکے ہیں۔ نئے کاروباری حالات میں زیادہ باصلاحیت اور زیادہ لگن رکھنے والے لوگوںکی ضرورت ہے۔ اسی لیے انسانی وسائل کو ترقی دینا ضروری ہوگیا ہے۔
(vi)  بازار کا رخ (Market Orientation) : گزشتہ دور میں فرمیں پہلے پیداوار کیا کرتی تھیں اور بعد میں فروخت کے لیے بازار جایا کرتی تھیں۔ بالفاظِ دیگر، وہ پیداوار پر مبنی بازار کاری کاموں کو انجام دیتی تھیں۔ اب تیزی سے تغیر پذیر دنیامیں، بازار کے رخ کو مدِ نظر رکھ کر سرگرمیوں کو انجام دینے کی تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ ہے کہ اب فرموں کو پہلے بازار کا مطالعہ اور تجزیہ کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے مطابق پیداوار کرنی پڑتی ہے۔
(vii)  عوامی سیکٹر کو بجٹ میں رعایت نہ ملنے کا نقصان (Loss of budegetary support to the pusector) :پچھلے سالوں میں عوامی سیکٹر کی مالی مدد کے لیے مرکزی حکومت کے بجٹی اخراجات میں کمی آچکی ہے۔ عوامی سیکٹر کے اداروں کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ انھیں بقا اور نشونما حاصل کرنے کےلیے زیادہ موثرگر اور باصلاحیت ہونا پڑے گا اور ان مقاصد کو پوا کرنے کے لیے خود اپنے وسائل پیدا کرنے پڑیں گے۔
مجموعی طور پر، حکومت کی پالیسی میں تبدیلیوں کا اثر خاص طو رپر آزاد پسندی، نجی کاری اور عالم کاری کے ضمن میں مثبت رہا کیوں کہ ہندوستانی کاروبار اور صنعت نے نئی معاشی ترتیب کے ساتھ معاملات کرنے میں نہایت لچک کا اظہار کیا۔ ہندوستانی اداروں نے مسابقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پالیسیاں تیار کیں نیز کاروباری عمل اور طریقۂ کار اپنائے۔ انھوں نے گاہکوں پر زیادہ توجہ دی اور گاہکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور انھیں مطمئن کرنے کے لیے اقدامات کیے۔




کلیدی اصطلاحات


کاروباری ماحول (Business Environment)          • مواقع (Opportunites)
اندیشے (Threats)                                     معاشی ماحول (Economic Environment)
سیاسی ماحول (Political Environment)              • سماجی ماحول (Social Environment)
تکنیکی ماحول (Technological Environment)    
قانونی ماحول  (Legal Environment)                 •آزاد پسندی (Liberalisation)
نجی کاری (Privatisation)                                •عالم کاری (Globalisation)


خلاصہ

کاروباری ماحول کا مفہوم

 کاروباری ماحول سے مراد،وہ تمام افراد، ادارے اور دیگر قوتیںہیں جو ایک کاروباری ادارے کے کنٹرول سے باہر ہیں لیکن یہ اس کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ کاروباری ماحول کی خصوصیات حسب ذیل ہیں:
(a)  بیرونی قوتوں کی مجموعیت (Totality of External Forces)
(b)  مخصوص اور عام قوتیں (Specific and general Forces)
(c)  باہمی تعلق (Inter relatedness)
(d)  فعال نوعیت (Dynamic nature)
(e)  غیر یقینی (Uncertanity)
(f)  پیچیدگی (Complexity)
(g)  وابستگی (Relativity)

کاروباری ماحول کی اہمیت

 کاروباری ماحول کا ادراک بہت اہم ہے کیوں کہ  یہ : (i) فرموں کو مواقع کی نشان دہی کرنے اور پہلے سے حرکت میں آنے کا فائدہ حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے (ii) یہ پہلے سے تنبیہی اشارات اور اندیشوں کی نشان دہی میں فرم کا مدد گار ہے (iii) یہ کار آمد وسائل کے حصول میں مدد گار ہے (iv) تیز تر تبدیلیوں پر قابو پانے میں مدد گار ہے (v) یہ پالیسی کی تشکیل اور منصوبہ بندی میں مدد گار ہے (vi) یہ کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ہے۔

کاروباری ماحول کے عناصر

 کاروباری ماحول پانچ اہم جہات پر مشتمل ہے۔ یہ جہات ہیں معاشی، سماجی، تکنیکی سیاسی اور قانونی۔

معاشی ماحول

یہ سود کی شرحیں، افراطِ زر کی شرحیں، لوگوں کی آمدنی میں تبدیلیاں، اسٹاک مارکیٹ، انڈیکس اور روپیے کی قدر جیسے عوامل پر مشتمل ہے۔

سماجی ماحول

 یہ رسم ورواج، اقدار، سماجی رجحانات، سماجی کاروبار سے توقعات وغیرہ جیسے عوامل پر مشتمل ہے۔

تکنیکی ماحول

 تکنیکی ماحول ان قوتوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کا تعلق ایسی سائنٹفک ترقی اور اختراعات سے ہے جو اشیااور خدمات کو پیدا کرنے کے نئے طریقے نیز کاروبار کرنے کی نئی تکنیکیں اور طریقے فراہم کرتی ہیں۔

سیاسی ماحول

یہ سیاسی حالات پر مشتمل ہوتا ہے جیسے ملک میں عام استحکام اور امن، نیز کاروبار کے تئیں حکومت کے منتخب نمائندوں کا رویہ۔

قانونی ماحول

 یہ حکومت کے ذریعے پاس کیے گئے مختلف قوانین، حکومت کی اتھارٹیز کے ذریعے جاری کیے گئے انتظامی احکامات، حکومت کی تمام یعنی مرکزی، ریاستی یا علاقائی سطحوں پر مختلف کمیشنوں اور ایجنسیوں کے ذریعے دیے گئے فیصلوں نیز عدالتوں کے ذریعے دیے گئے فیصلوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔

ہندوستان میں معاشی ماحول

 ہندوستان کا معاشی ماحول پیداوار کے ذرائع اور دولت کے بٹوارے سے متعلق مختلف میکرو۔سطح کے عوامل پر مشتمل ہے جن سے صنعت اور کاروبار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں کاروبار کا معاشی ماحول ازادی کے وقت سے مسلسل تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہا ہے۔ اس کی خاص وجہ حکومت کی پالیسیاں ہیں۔ آزادی کے وقت ہمارے ملک کے معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت نے چند صنعتوں کو ریاست کے ذریعے کنٹرول کرکے مرکزی منصوبہ بندی کرکے اور نجی سیکٹر کی اہمیت کو کم کرکے کئی اقدامات کیے۔ ان اقدامات سے 1991 تک ملے جلے نتائج برآمد ہوئے۔ 1991 میں معیشت کو زرِمبادلہ کے تشویش ناک بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ وافر فصلیں ہونے کے باوجودحکومتی خسارہ بہت زیادہ تھا اور قیمتو ںمیں اضافے کا رجحان تھا۔

آزاد پسندی،نجی کاری اور عالم کاری

 معاشی اصلاحات کے طور پر، حکومتِ ہند نے جولائی 1991میں ایک نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس پالیسی نے لائسنسی نظام کی بندشوں سے صنعت کو آزادی دلائی (رواداری)، عوامی سیکٹر کے رول کو تیزی سے کم کیا (نجی کاری)، ہندوستانی صنعتی ترقی میں غیر ملکی نجی حصے داری کی حوصلہ افزائی کی(عالم کاری)۔
حکومت کی پالیسی میں تبدیلیوں کے باعث کاروبار اور صنعت پر اس کے اثرات
 حکومت کی آزاد پسندی، نجی کاری اور عالم کاری کی پالیسی نے کاروباری اور صنعتی اداروں کی کارکردگی پر خاصا اثر ڈالا۔ یہ اثر ان معنوں میں تھا:
(a)  بڑھتی ہوئی مسابقت
(b)  زیادہ مانگ کرنے والے گاہک
(c)  تیزی سے تغیر پذیر تکنیکی ماحول
(d)  تبدیلی کی ضرورت
(e)  انسانی وسائل کو ترقی دینے کی ضرورت
(f)  بازارکا رخ 
(g)  عوامی سیکٹر کو بجٹ میں رعایت نہ ملنے کا نقصان
نئے معاشی ماحول میں، ہندوستانی ادارے مسابقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف پالیسیاں تیار کرچکے ہیں۔

مشق

متبادل جواب والے سوالات (Multiple Choice) 

1۔ مندرجہ ذیل میں سے کیا کاروباری ماحول کی ایک خاصیت نہیں ہے؟

   (a)  غیر یقینی
   (b)  ملازمین
   (c)  وابستگی (Relativity)
   (d)  پیچیدگی

2۔ مندرجہ ذیل میں سے کس سے کاروباری ماحول کی اہمیت کو بہترین طو رپر ظاہر ہوتی ہے؟

    (a)  نشان دہی
    (b)  کارکردگی میں بہتری
    (c)  تیز تر تبدیلیو ں پر قابو پانا
    (d)  یہ سب

3۔ مندرجہ ذیل میں سے کون سماجی ماحول کی ایک مثال ہے؟

   (a)  معیشت میں رسدِ زر (Money Supply) 
   (b)  کنسیومر پراٹیکش ایکٹ
   (c)   ملک کا آئین
   (d)   خاندان کا ڈھانچہ اور اس کا نظم

آزاد پسندی سے مراد

   (a)  معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی
   (b)  حکومتی کنٹرول اور پابندیوں میں کمی
   (c)  سرمایہ نکال لینے کی منصوبہ بند پالیسی (Policy of Planned disinvestment)
   (d)  ان میں سے کوئی نہیں

5۔ مندرجہ ذیل میں سے کون کاروبار اور صنعت پر حکومت کی پالیسی پر تبدیلی کے اثرات کی وضاحت نہیں کرتا۔

   (a)  زیادہ مانگ کرنے والے گاہک
   (b)  بڑھتی ہوئی مسابقت
   (c)   زرعی قیمتوں میں تبدیلی
   (d)   بازارکا رخ

مختصر جوابی سوالات (Short Answer Type) 

1۔  کاروباری ماحول سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
2۔  کاروباری اداروں کے لیے اپنے ماحول کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ مختصراً وضاحت کیجیے۔
3۔  کاروباری ماحول کی مختلف جہات بیان کیجیے۔
4۔  مندرجہ ذیل کو مختصر طور پر واضح کیجیے۔
    (a)      آزاد پسندی
(b) نجی کاری
   (c)      عالم کاری
5۔  کاروبار اور صنعت پر حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کے اثرات کی مختصر وضاحت کیجیے۔

طویل جوابی سوالات (Long Answer Type) 

1۔  آپ کاروباری ماحول کی خصوصیات کو کیسے بیان کریں گے؟ عمومی اور خصوصی ماحول کے درمیان فرق کو مثالوں کے ذریعے واضح کیجیے۔
2۔  ایک کاروباری ادارے کی کامیابی اس کے ماحول کے ذریعے متاثر ہوتی ہے؟ دلائل دے کر وضاحت کیجیے۔
3۔  کاروباری ماحول کی مختلف جہات کی مثال کے ذریعے وضاحت کیجیے۔
4۔  1991 کی صنعتی پالیسی کے تحت حکومت نے کن معاشی تبدیلیوں کی شروعات کی؟ ان تبدیلیوں نے کاروبار اور صنعت پر کیا اثر ڈالا؟
5۔  (a) آزادی پسند، (b) نجی کاری (c) عالم کاری کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟



واقعاتی مسئلہ

موجودہ دور میں کئی کمپنیاں ہندوستان کے منظم خردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہیں۔ ان کے اس فیصلے میں کئی اہم عوامل کار فرما ہیں۔
گاہک کی آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے۔ لوگوں میں بہتر کوالٹی کی اشیاکے لیے ذائقہ تیار ہوچکا ہے چاہے انھیں ان کو حاصل کرنے کے لیے زیادہ ادائیگی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔خواہشات کی سطح میں اضافہ ہوگیاہے اس سلسلہ میں حکومت کی معاشی پالیسیاں بھی آزاد پسندی (Liberal) ہوچکی ہیں یہاں تک کہ حکومت نے خردہ کاروبار کے چند سیکڑوں میں صد فی صد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی اجازت دے دی ہے۔

سوالات

1۔  مختلف عنوانات (معاشی، سماجی، تکنیکی، سیاسی اور قانونی) کے تحت کاروباری ماحول میں ان تبدیلیوں کی نشان دہی کیجیے جو منظم خردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کمپنیوں کی منصوبہ سازی میں معاون ہیں۔
2۔  نجی کاری اور عالم کاری کے ضمن میں ان تبدیلیوں کا کیا اثر رہا ہے؟


سرگرمیاں

1۔  حکومتِ ہند نے 8 نومبر 2016 کی آدھی رات سے 500 اور 1000 روپے کے بڑے نوٹوں کو منسوخ کیے جانے کا اعلان کیا ۔ اس کے نتیجے میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کی کرنسی نوٹوں کی حیثیت اس دن سے ختم ہو گئی۔
 اس اعلان کے بعد ریزروبینک آف انڈیا نے 500 روپے اور 2000 روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے۔کاروبار کے قانونی اور معاشی ماحول کی روشنی میں ’نوٹوں کی منسوخی ‘ پر بحث کیجیے۔
2۔  ایک ایسے کاروباری ادارے کو منتخب کیجیے جس سے آپ آشنا ہیں۔ پیش آمدہ واقعات کو از سر نو اکٹھا کیجیے (و ہ واقعات جنھیں آپ نے اخبارات یا رسالوں میں پڑھا ہے یا ٹیلی ویژن یا ریڈیو پر سنا ہے) ان واقعات میں سے چند ایسی ماحولیاتی قوتوں کی نشان دہی کیجیے جنھوں نے اس ادارے پر اثر ڈالا ہے۔
3۔  ایک ایسی اہم ہندوستانی کمپنی کو منتخب کیجیے جس کے بارے میں آپ کی اسکول لائبریری میں خاصی معلومات دستیاب ہے۔ حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کے باعث اس کمپنی کی کارکردگی پر ہونے والے اثر کا تجزیہ کیجیے۔