Skip to content
Karobariuloom-I-004



باب 4



منصوبہ بندی

(PLANNING)




سیکھنے کے مقاصداس باب کے مطالعے کے بعد آپ:

•  منصوبہ بندی کے معنی بتاسکیں گے؛

•  منصوبہ بندی کی اہمیت اورخصوصیات کی تشریح کرسکیں گے؛

•  منصوبہ بندی کی حدود کی وضاحت کرسکیں گے؛

•  منصوبہ بندی کے عمل میں کیے  جانے والے اقدامات کا تجزیہ کرسکیں گے؛ اور

•  مختلف اقسام کے منصوبوں کی نشان دہی کرسکیں گے۔



       گیس اتھارٹی آف انڈیا کے نئے منصوبے 

 انڈیا جس کی گیس منتقلی کے سیکٹر میں اجارہ داری تھی اِسے آنے والے دنوں میں سخت مسابقت کا سامنا کرنا ہے کیوں کہ ایک طرف تو ریلائنس، ٹرنک پائپ لائن سگمنٹ میں داخل ہونے کے لیے پرتول رہا ہے تو دوسری طرف برٹش گیس کمپنی، شہری گیس تقسیم کاری سیکٹر میں داخل ہونے کی کوشش میں ہے۔GAIL کے نئے چیئرمین نے کمپنی کے آیندہ منصوبوں کے بارے میں اظہار خیال کیا کہ کمپنی کو کیسے آگے لے جایا جائے۔

  کی اہم ترجیحات کیا ہیں؟ ( GAIL )

کاروباری حکمت عملی کے مطابق گیس کے وسائل، گیس منتقلی، بازارکاری، پراسیسنگ، پیٹروکمیکل، عالم کاری اور شہری گیس تقسیم کاری GAIL کی توجہ کے خصوصی شعبے ہوں گے۔ ہم سرحد پار پائپ لائنوں اور ایل این جی کے ذریعے نیز ملکی دریافتوں سے گیس کے وسائل کو حاصل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہمارا ارادہ اپنے گیس کے جال کو 5600 کلو میٹر سے 10000 کلو میٹر تک وسیع کرکے گیس کے بازار کو ترقی دینے کا ہے۔ 11ویں پنچ سالہ منصوبے کے اختتام تک شہری گیس پراجیکٹ 6 سے 45 تک بڑھ جانے کی توقع ہے۔

پیداوار اور کھوج کرنے والی غیر ملکی کمپنی (Exploration & production  Company E&P) کو حاصل کرنے کے لیے GAIL کے کیا منصوبے    ہیں؟

GAIL کو اپنی کھوج اور پیداواری سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کے لیے منصوبے بنانے ہوں گے۔ ایک مضبوط کمپنی بننے کے لیے، GAIL کئی متبادل پر غور کر رہا ہے۔ ایک E&P کمپنی کو حاصل کرنا بھی ایک ایسا ہی متبادل ہے۔

آپ کے Capex منصوبے کیا ہیں اور ان کا مالی بندوبست کرنے کے لیے آپ نے کیا منصوبہ بنایا ہے؟ 

مالی سال 2006-07 کے لیے GAIL کا بجٹ شدہ Capex منصوبہ 2967.28 کروڑ روپیے ہے۔ یہ رقم پائپ لائن اور دیگر پروجیکٹوں پر 2579.58 روپیے کے اثاثہ جاتی اخراجات نیز پیٹرول کمیکل پراجیکٹس کے لیے 387.7 کروڑ روپیے پر مشتمل ہے۔ اس کا مالی بندوبست اندرونی محفوظات (ریزرو) کے ذریعے کیا جائے گا۔


شہری گیس تقسیم کاری کے لیے آپ کے کیا منصوبے ہیں؟کیا GAIL اپنے ایندھن مینجمنٹ منصوبوں کو جاری رکھے گا؟

  ہم پہلے ہی کامیابی کے ساتھ اپنا کاروبار ممبئی، دہلی، بڑودہ، وجے واڑہ، آگرہ، لکھنؤ اور کانپور میں قائم کرچکے ہیں۔شہری گیس پروجیکٹوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے GAIL اب تک آٹھ مشترکہ کاروباری Join Venture کمپنیاں تشکیل کرچکا ہے۔ ان پروجیکٹوں نے آلودگی کی سطحوں پر اثر ڈالا۔ GAIL راجستھان میں شہری گیس پروجیکٹوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیل کی بازار کاری کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ کاروبار کی تشکیل کرنے کے لیے عمل سے گزر رہا ہے۔

ٹیلی کام کے اندر تنوع حاصل کرنے کے لیے GAIL کے کیا منصوبے ہیں؟ اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے؟

گیل ٹیل (Gailtel)، جو گیل ٹیلی کام خدمات کا بازو ہے پورے ہندوستان میں ٹیلی کام آپریٹروں کی رہنمائی کرنے کے لیے کاروباری طور پر ٹیلی کام خدمات پیش کرتا ہے۔گیل ٹیل اپنے تقریباً 13000 روٹ کلو میٹر کے فائبر آپٹک نیٹ ورک کو چلاتا ہے۔ GAIL اپنے مستقبل کے ارتقائی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے مختلف متبادل کی جانچ کر رہا ہے۔

ماخذ: دی اکنومک ٹائمس ، اکتوبر 2006



تعارف (Introduction)

آپ نے گیس اتھارٹی آف انڈیا لمٹیڈ کے منصوبوں کے بارے میں پڑھا۔ یہ ہماری پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں سے ایک اہم کمپنی ہے۔   جی اے آئی ایل کے چیئرمین نے اس کےحقیقی منصوبوں کا تذکرہ کیا اور بتایا  کہ وہ کس طرح اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بے شک، یہ کمپنی کے بلند بانگ دعوے ہیں اور انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسی پبلک سیکٹر کمپنی کی مثال ہے جس کی پورے ملک میں رسائی ہے اور جو ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی بننے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ مزیدبرآں، ہر تنظیم کو چاہے وہ حکومت کی ملکیت میں ہو یا نجی ملکیتی کاروبار ہو یا پھر نجی سیکٹر کی کمپنی ہو منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت ملک کے لیے پنچ سالہ منصوبے بناتی ہے، ایک چھوٹے کاروبار کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں جب کہ دیگر کمپنیوں کے پاس بڑے منصوبے، فروخت کاری کے منصوبے، پیداواری منصوبے وغیرہ ہوتے ہیں۔ بہرحال ان سبھی کے پاس کچھ منصوبے ہوتے ہیں۔
تمام کاروباری فرمیں منافع کمانا، اپنی فروخت میں اضافہ کرنا اور کامیاب ہونا چاہتی ہیں۔ تمام منیجر کامیابی کے خواب دیکھتے ہیں اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔لیکن ان خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے، منیجروں کو مستقبل کے بارے میں سوچنے، کاروباری پیشین گوئیاں کرنے اور مقاصد کو حاصل کرنے میں سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔خوابوں کو حقیقت میں اسی وقت تبدیل کیا جاسکتا ہے جب کاروباری منیجر پیشگی یہ سوچ لیں کہ کیا کیا جانا ہے اور اسے کیسے کیا جانا ہے۔ یہی منصوبہ بندی کی اصل ہے۔

تصوّر (Concept)

منصوبہ بندی، یہ طے کرنے کا نام ہے کہ کیا کیا جانا ہے اور کیسے کیا جانا ہے یہ مینجمنٹ کے کاموں میں، ایک بنیادی کام ہے۔ کچھ بھی کرنے سے قبل منیجر کے لیے ایک خیال کا تشکیل کرنا لازمی ہوتا ہے کہ فلاں کام کیسے انجام دیا جائے گا۔ اسی لیے منصوبہ بندی کا تخلیقیت اور اختراع سے قریبی تعلق ہے لیکن اولین طور پر منیجر کو مقاصد کا تعین کرنا ہوتا ہے کیوں کہ جب اسے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ اُسے کہاں جانا ہے تو منصوبہ بندی اُس خلیج کو پار کرنے کی کوشش کرتی ہے جو ’جہاں ہم ہیں‘ اور ’جہاں ہمیں جانا ہے‘ کے درمیان حائل ہے۔منصوبہ بندی وہ کام ہے جو تمام سطحوں کے منیجر کرتے ہیں۔ اس میں فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اس میں متبادل لائحہ عمل کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
اس طرح منصوبہ بندی، مقاصد طے کرنے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے مناسب لائحہ عمل تیار کرنے پر مشتمل ہے۔ مقاصد مینجمنٹ کے تمام فیصلوں اور کاموں کے لیے ایک جہت فراہم کرتے ہیں۔ پہلے سے طے شدہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی ایک دانش مندانہ نظریہ فراہم کرتی ہے۔ اس لیے، تمام ممبران کو تنظیمی مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ مقاصد ان نشانوں کو طے کرتے ہیں جنھیں حاصل کیا جانا ہے اور جن کے مقابلے میں حقیقی کارکردگی کی پیمائش ہوگی۔ اس لیے، منصوبہ بندی سے مراد مقاصد اور نشانوں کو طے کرنا اور ان کے حصول کے لیے عملِ منصوبہ تشکیل کرنا ہے۔ اس کا تعلق ذرائع اور اختتام دونوں سے ہے یعنی کیا کیا جانا ہے اور یہ کیسے کیا جانا ہے۔
ایک تیار کردہ منصوبے کو عمل میں لانے کے لیے وقت درکار ہوتاہے لیکن وقت ایک محدود وسیلہ ہے۔ اس کا استعمال بہت سوجھ بوجھ سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وقت جیسے اہم عامل کا خیال نہ رکھا جائے تو حالات تبدیل ہونے کے باعث تمام منصوبہ بیکار بھی ہوسکتا ہے اگر منصوبہ بندی پر عمل نہ کیا جائے تو پھر منصوبہ کی تیاری ایک لاحاصل مشق ہوگی۔
کیا آپ کی رائے میں ہم مندرجہ بالا بیانات کی روشنی میں منصوبہ بندی کی ایک قابلِ فہم تعریف کرسکتے ہیں؟ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوگا کہ ہم منصوبہ بندی کی تعریف اس طرح کریں کہ :منصوبہ بندی، وقت کی دی گئی مدت کے لیے مقاصد طے کرنا، ان مقاصد کے حصول کے لیے لائحہ عمل تشکیل کرنا اور پھر مختلف دستیاب لائحہ عمل میں سے ایک بہترین ممکن متبادل کا انتخاب کرنا ہے۔

منصوبہ بندی کی اہمیت (Importance of Planning)

آپ نے فلموں اور اشتہاروں میں دیکھا ہوگا کہ ایگزیکیٹیو کس طرح منصوبے بناتے ہیں اور ان کو بورڈ کے سامنے کتنے زوردار طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ منصوبے حقیقی طور پر کام کرتے ہیں؟ کیا یہ کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں؟ آخر ہمیں منصوبہ سازی کیوں کرنی چاہیے؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا حل ہمیں تلاش کرنا ہوگا۔ منصوبہ بندی واقعی اہم ہے کیوںکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کہاں جانا ہے، یہ پیشین گوئی کے ذریعہ غیر یقینی حالات کے خطرات کو کم کرتی ہے اور جہت فراہم کرتی ہے۔ منصوبہ بندی کے اہم فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
21
منصوبہ بندی: مقصد کو ذہن میں رکھنا اور سرگرمِ عمل رہنا


(i)  منصوبہ بندی جہتیں فراہم کرتی ہے (Planning Provides Directions): 

’’کام کیسے کیا جانا ہے اس بات کو منصوبہ بندی پیشگی طور پر بتا کر عمل کے لیے جہت فراہم کرتی ہے۔منصوبہ بندی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ نشانوں یا مقاصد کو واضح الفاظ میں بیان کیا جائے تاکہ یہ اس سلسلے میں رہنمائی کر سکیں کہ کیا کرنا ہے اور کس سمت میں کرنا ہے۔ اگر مقاصد واضح ہوں تو ملازمین اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ تنظیم کیا کرنا چاہتی ہے اور انھیں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں، تنظیم کے مختلف شعبے اور افراد ایک دوسرے کے ساتھ تال میل بنا کر کام کرتے ہیں۔ اگر منصوبہ بندی نہ ہو تو ملازمین مختلف جہتوں میں کام کریں گے اور تنظیم اپنے مطلوبہ مقاصد کو حاصل نہ کرسکے گی۔

(ii) 

 منصوبہ بندی غیر یقینی صورت حال کے اندیشے کو کم کرتی ہے (Planning reduces the risk uncertainly) :

 منصوبہ بندی ایک ایسی سرگرمی ہے جو منیجروں کو پیش بینی کرنے اور تبدیلیوں کا اندازہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ کیے جانے والے کاموں کے بارے میں پیشگی فیصلہ سازی کے لیے، منصوبہ بندی تبدیلیوں اور غیر یقینی واقعات سے نمٹنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ واقعات یا تبدیلیوں کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کا اندازہ کیا جاسکتاہے اور ان کے لیے مینجمنٹ کا ردِّ عمل تیار کیا جاسکتاہے۔

(iii) 

 منصوبہ بندی گڈ مڈ اور غیر مفید سرگرمیوں میں کمی لاتی ہے (Planning reduces overlapping and wasteful activities):  

منصوبہ بندی، مختلف شعبوں، حصّوں اور افراد کی کوششوں اور سرگرمیوں کے مابین تال میل کی بنیاد کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ تذبذب اور غلط فہمی جیسی صورت حال کو دور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ کیوںکہ منصوبہ بندی خیال و عمل کی وضاحت کو یقینی بناتی ہے اس لیے کام بغیر کسی رکاوٹ کے تسلسل سے جاری رہتا ہے۔ غیر ضروری اور غیر مفید سرگرمیاں یا تو کم سے کم ہوجاتی ہیں یا پھر ان کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ کارکردگی کی خامیوں کی نشان دہی اور انھیں ٹھیک کرنے کے لیے اقدامات کرنا آسان ہوجاتاہے۔

(iv)

  منصوبہ بندی جدت پسندانہ خیالات کو فروغ دیتی ہے (Planning promotes innovative ideas):  

(v)

  منصوبہ بندی فیصلہ سازی میں مدد کرتی ہے

(Planning facilitates decision making) :

 منصوبہ بندی مستقبل میں دیکھنے اور مختلف لائحہ عمل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں منیجروں کی مدد کرتی ہے۔ منیجر کو ہر ایک متبادل کی جانچ کرنی پڑتی ہے اور سب سے زیادہ موثر متبادل کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ منصوبہ بندی، نشانوں کو طے کرنے نیز مستقبل کے حالات کی پیشین گوئی کرنے پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس طرح یہ دانش مندانہ فیصلہ سازی میں مدد کرتی ہے۔

(vi)

  منصوبہ بندی کنٹرول کرنے کے معیار کو قائم کرتی ہے (Planning establishes stand- ardcontrolling) :

 منصوبہ بندی میں مقاصد کو طے کیا جاتا ہے۔مینجمنٹ کا سارا عمل، پیشگی طے شدہ مقاصد کو منصوبہ بندی، تنظیم کاری، عملے کی فراہمی، ہدایت کاری، کنٹرولنگ کے ذریعے حاصل کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔منصوبہ بندی مقاصد یا معیار فراہم کرتی ہے جس کی روشنی میں حقیقی کارکردگی کی پیمائش کی جاتی ہے۔ معیاروں سے حقیقی کارکردگی کا موازنہ کرکے منیجر یہ جان پاتے ہیں کہ آیا وہ مقاصد کو واقعی حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اگر کارکردگی میں مقاصد سے کوئی انحراف پایا جاتاہے تو اِسے درست کیا جاتاہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیشگی منصوبہ بندی کنٹرول کرنے کے لیے لازمی شرط ہے۔ اگر مقاصد یا معیار نہ ہوں تب انحراف کا پتا چلانا، جو کنٹرول کرنے کا حصہ ہے، ممکن نہ ہوگا۔ مطلوبہ اصلاحی عمل کی نوعیت، معیار سے انحراف کی حد پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لیے منصوبہ بندی کنٹرول کی ایک اساس فراہم کرتی ہے۔

پولارس کا ممبئی میں نئی سہولت کا منصوبہ 

آئی ٹی کمپنی پولارس سافٹ ویئر لیب ممبئی میں ایک نئی سہولت کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں 800 پیشہ ور لوگ کام کرتے ہیں۔
ابھی پوری ممبئی میں کمپنی کے تین مراکز کے اندر 1,200 پیشہ ور لوگ ہیں اور اگلے چھ ماہ میں نئے مرکز کے قائم ہونے کی توقع ہے۔
  پولاراس میں چیئرمین اور سی ای او نے کہا ہے کہ کمپنی کا گزشتہ اعلانیہ رواں سال کے دوران پیشہ ور لوگوں کی تعداد میں 1500 سے 2000 تک اضافہ کرکے  اسے مارچ 2007 تک 9000 کے نشانہ تک پہنچانا تھا اور اس ضمن میں کمپنی کی کارکردگی قابل اطمینان ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے ہم چھوٹی بوتیک مشاورتی کمپنیوں کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کی توجہ کا مرکز بینک کاری، مالی خدمات اور بیمہ (بی ایف ایس آئی) کے لیے جگہ کی فراہمی ہے۔ اس سے گاہکوں کو خدمات فراہم کرنے اور حسابی مینجمنٹ کرنے کی ہماری صلاحیتوں میں مضبوطی آئے گی۔
               ماخذ: دی اکنومک ٹائمس، اکتوبر 06


منصوبہ بندی کی خصوصیات (Features of Planning)

یہ پولاراس کمپنی کی مثال ہے۔ یہ کمپنی توسیع کے منصوبے رکھتی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ یہ لوگ مزید 800 پروفیشنل کو ملازم رکھ سکیں۔ ان کی متعین مدت (ٹارگیٹ ٹائم) چھے ماہ ہے۔ رواں سال کا مقصد بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے جو 1500 سے  2000تک مزید پروفیشنل کے ذریعے صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ کیوں کہ منصوبہ بندی پروفیشنل کا ابتدائی کام ہے اس لیے وہ پہلے ہی اپنے مقاصد طے کرلیتے ہیں۔ اسی طرح، تمام کاروباری ادارے ایک طے شدہ طرز پر منصوبہ بندی کی پیروی کرتے ہیں۔آپ حقیقی زندگی میں اپنے مشاہدات اور منصوبہ بندی کی خصوصیات میں یکسانیت معلوم کرسکیں گے۔ کوشش کیجیے اور ان کی نشان دہی کیجیے۔
منصوبہ بندی کی چند خصوصیات ہیں۔ یہ خصوصیات منصوبہ بندی کی نوعیت اور دائرۂ کار پر روشنی ڈالتی ہیں۔

(i)

  منصوبہ بندی مقاصد کے حصول پر توجہ دیتی ہے (Planning focuses on achieving objectives) : 

تنظیمیں عمومی مقاصد کو مدنظر رکھ کر قائم کی جاتی ہیں۔خصوصی مقاصد اور وہ سرگرمیاں جو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کی جائیں گی منصوبوں میں طے کی جاتی ہیں۔ اس طرح منصوبہ بندی با مقصد ہوتی ہے۔ منصوبہ بندی اُس وقت تک بے معنی ہے جب تک یہ پہلے سے طے شدہ مقاصد کے حصول میں معاون نہ ہو۔

(ii)

  منصوبہ بندی مینجمنٹ کا بنیادی کام ہے ( Planning is a primary function of management) :

 منصوبہ بندی مینجمنٹ کے دیگر کاموں کے لیے اساس فراہم کرتی ہے۔ مینجمنٹ کے تمام کام منصوبوں کے ذریعے فراہم کردہ دائرۂ کار میں انجام دیے جاتے ہیں۔ اس طرح منصوبہ بندی دوسرے کاموں سے پہلے کی جاتی ہے۔ اس کو منصوبے کی اولیت کے حوالے سے بھی جانا جاتاہے۔مینجمنٹ کے مختلف کام آپس میں مربوط اور متعلق ہیں اور یہ مساوی طور پر اہم ہوتے ہیں۔ بہرحال، منصوبہ بندی دیگر تمام کاموں کے لیے اساس فراہم کرتی ہے۔

(iii)

  منصوبہ بندی ہمہ گیر ہوتی ہے۔ (Planning is Pervasive): 

تنظیم کے تمام شعبوں اور مینجمنٹ کی تمام سطحوں پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کسی مخصوص شعبہ یا اعلیٰ مینجمنٹ کا ایک علاحدہ کام نہیں ہے۔ البتہ مختلف شعبوں کے درمیان اور مختلف سطحوں پر منصوبہ بندی کا دائرۂ کار مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اعلیٰ مینجمنٹ پوری تنظیم کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے، درمیانی سطح کا مینجمنٹ شعبہ جاتی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ نچلی سطح پر نگراں روزمرہ کے عملی کاموں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

(iv)

  منصوبہ بندی ایک مسلسل عمل ہے (Planning is continuous):

 منصوبے ایک خاص مدت کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ مدت ایک ماہ، سہ ماہ یا ایک سال کی بھی ہوسکتی ہے۔ اس مدت کے اختتام پر نئی ضروریات اورمستقبل کے حالات کی بنیاد پر نئے منصوبے بنانے پڑتے ہیں۔ اس طرح منصوبہ بندی مسلسل ایک عمل ہے۔منصوبہ بندی کے تسلسل کا تعلق منصوبہ بندی کے دور (Cycle) سے ہے۔ اس سے مراد کہ ایک منصوبہ تیار کیا جائے اس کو لاگو کیا جائے اور اس کے بعد مسلسل یہ عمل چلتا رہے۔

(v)

  منصوبہ بندی کا تعلق مستقبل سے ہے (Planning is futuristic) : 

منصوبہ بندی آگے دیکھنے اور مستقبل کے لیے تیاری کرنے پر مشتمل ہے۔منصوبہ بندی کا مقصد ادارے کا بہترین فائدہ کرنے کے لیے مستقبل کے واقعات سے موثر طور پر نپٹنا ہے۔ اس سے مراد مستقبل میں جھانکنے، اس کا تجزیہ کرنے اور اس کی پیشین گوئی کرنے سے ہے۔ اسی لیے منصوبہ بندی کو پیش گوئی کی اساس پر آگے دیکھنے والا کام کیا جاتا ہے۔ پیش بینی کے ذریعے مستقبل کے حالات اور واقعات کا اندازہ کیا جاتاہے اور ان کے مطابق منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، فروخت کی پیش گوئی کی بنیاد پر کاروباری فرم اپنے پیداوار اور فروخت سے متعلق پلان تیار کرتی ہے۔

(vi)

  منصوبہ بندی میں فیصلہ سازی شامل ہوتی ہے (Planning involves decision making) : 

 منصوبہ بندی مختلف متبادل اور مختلف سرگرمیوں کے درمیان انتخاب کرنے پرمشتمل ہوتی ہے۔ اگر ممکن مقصد یا ممکن لائحہ عمل صرف ایک ہی ہو تب منصوبہ بندی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی کیوں کہ ایسی صورت میں انتخاب کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔منصوبہ بندی کی ضرورت اُس وقت ہوتی ہے جب متبادل دستیاب ہوتے ہیں۔ درحقیقت منصوبہ بندی میں متبادلوں کی موجودگی پیشگی سوچ لی جاتی ہے۔ اس طرح منصوبہ بندی تمام متبادلوں پر اچھی طرح غور کرنے اور ایک انتہائی مناسب متبادل انتخاب کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔

(vii)

  منصوبہ بندی ایک ذہنی مشق ہے (Planning is a mental exercise) :

 منصوبہ بندی میں ذہنی کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کہ پیش بینی، دور اندیشی، بصیرت اور درست فیصلے لینے کی صلاحیت پرمشتمل ہوتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ’کرنے سے زیادہ ’سوچنے‘کی دماغی سرگرمی ہے کیوں کہ منصوبہ بندی میں کیے جانے والے کاموں کو پہلے سے طے کیا جاتاہے۔منصوبہ بندی میں اندازاً  کام کرنے سے زیادہ منطقی اور باقاعدہ طور پر سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، منصوبہ بندی کے لیے غوروفکر کے عمل کو ایک تو مرتب ہونا چاہیے دوسرے یہ عمل، پیشین گوئیوں اور حقائق کے تجزیے پر مبنی ہونا چاہیے۔
22

منصوبہ بندی: مینجمنٹ کا پہلا قدم


Essar کی بین الاقوامی عالی ہمتی

Essar گروپ مشرقِ وسطیٰ، مشرق یورپ اافریقہ کے پُر خطر لیکن منافع بخش بازاروں میں داخل ہوکر اپنے کاموں کو عالمی طور پر قائم کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔
اپنے اسٹیل کے اصل کاروبار میں بھی Essar گروپ مشرقی یورپ میں ایک متحدہ اسٹیل پلانٹ کو حاصل کرنے پر غورکر رہا ہے۔
گروپ نے شارجہ، ایران اور قطر میں گرین فیلڈ اسٹیل سازی کے کاموں کو قائم کرنے کے ارادے کا بھی اعلان کیا ہے۔ Essar کے نیوز لیٹر کے مطابق اس نے ایک ملین ٹن فی سال اسٹیل پلانٹ ایران میں، ایک ملین ٹن اسٹیل کا رولنگ پلانٹ شارجہ کے نواح میں اور 1.5 ملین ٹن اسٹیل کے پلانٹ کے لیے قطر کی ریاستی اسٹیل کمپنی کے ساتھ ساتھ 50-50 کے جوائنٹ کاروبار کو قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہاں تک کہ Essar کی انڈونیشیائی شاخ، جہاں یہ گروپ ایک کولڈ رولنگ کمپلیکس چلاتا ہے۔ اس علاقے میں بھی یہ شاخ بھی ’’حصول و ادغام‘‘ (Merger and acquisitions) کے مواقع پر غور کرتی رہتی ہے۔
ماخذ: بزنس ورلڈ، 25 ستمبر 06


منصوبہ بندی کی خامیاں (Limitations of Planning)

ہم دیکھ چکے ہیں کہ کاروباری تنظیموں کے لیے منصوبہ بندی کس طرح ضروری ہے۔بغیر باضابطہ منصوبہ بندی کے کاموں کا مینجمنٹ نہایت دشوار ہے۔ یہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے تنظیم کو حرکت دینے کے لیے بہت اہم ہے۔ البتہ ہم نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ اکثر دیکھا ہے کہ چیزیں ہمارے منصوبے کے مطابق نہیں ہوتیں۔ ہنگامی حالات اور تبدیلیاں، قیمتوں اور لاگتوں میں اضافہ، ماحولیاتی تبدیلیاں، حکومتی مداخلتیں، قانونی ضابطے یہ سب ہمارے کاروباری منصوبوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں، منصوبوں میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم منصوبوں کی پیروی نہیں کرسکتے تو پھر ہمیں منصوبے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اسی بات کا ہمیں تجزیہ کرنا ہے۔منصوبہ بندی کی اہم خامیاں مندرجہ ذیل ہیں:

(i)

  منصوبہ بندی جامد رہنے پر آمادہ کرتی ہے (Planning leads to rigidity): 

کسی بھی ادارے میں، ایک متعین مدت کے اندر مخصوص مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے واضح منصوبہ بنایا جاتاہے۔ یہ منصوبہ مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کرتا ہے اور منیجر بھی ان کو بدل نہیں سکتے۔ منصوبوں میں اس طرح کی سختی سے مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔ تبدیل شدہ حالات سے نمٹنے کے لیے منیجروں کو تھوڑی بہت لچک دی جانی چاہیے۔ تبدیل شدہ حالات میں پہلے سے متعین منصوبے کی پیروی تنظیم کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔

(ii)  منصوبہ بندی فعال ماحول میں کام نہیں کرتی (Planning maynot work in a dynamic environment):

 کاروباری ماحول فعال ہے اس میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہے۔ یہ ماحول متعدد ، معاشی، سیاسی، طبعی، قانونی اور سماجی جہات پر مشتمل ہوتا ہے۔ تنظیم کو تبدیلیوں کے مطابق مستقل طور پر خود کو ڈھالنا پڑتاہے۔ ماحول میں مستقبل کے رجحانات کی تشخیص ایسی صورت میں مشکل ہوجاتی ہے جب معاشی پالیسیوں میں ترمیم ہو یا ملک کے سیاسی حالات میں اتھل پتھل ہو یا کوئی قدرتی آفات رونما ہوجائیں۔ بازار میں مسابقت بھی مالی منصوبوں پر بُرا اثر ڈالتی ہے۔ فروخت کے نشانوں کو دوبارہ طے کرنا پڑتا ہے اور اس کے مطابق ہی نقد بجٹوں میں ترمیم کرنی پڑتی ہے کیوںکہ یہ فروخت کے اعداد و شمار پر مبنی ہوتے ہیں۔ منصوبہ بندی ہر چیز کی پیش بینی نہیں کرسکتی اور اسی لیے مؤثر منصوبہ بندی میں رکاوٹیں ہوسکتی ہیں۔

(iii)

  منصوبہ بندی تخلیقیت کو کم کردیتی ہے (Planning reduces creati- vity):

منصوبہ بندی اعلیٰ مینجمنٹ کے ذریعے کی جانے والی سرگرمی ہے۔ بقیہ ممبران اکثر و بیش تر ان منصوبوں کو صرف عملی جامہ پہناتے ہیں۔ نتیجتاً درمیانی سطح کے منیجروں اور دیگر فیصلہ ساز وں کونہ تو منصوبوں سے انحراف کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور نہ ہی خود اپنے طور پر کام کرنے کی۔ اس طرح، ان میں موجود بیش تر تخلیقیت صلاحیت یا پیش قدمی یا تو ختم ہوجاتی ہے یا کم ہوجاتی ہے۔ ملازمین اکثر منصوبوں کو تشکیل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ وہ صرف احکامات پر عمل کرتے ہیں اس طرح منصوبہ بندی ایک طرح سے تخلیقی صلاحیت کو کم کردیتی ہے کیوںکہ لوگ دوسرے لوگوں کی طرح ہی سوچنے لگتے ہیں اور کچھ بھی نیا نہیں کرپاتے۔

(iv)  منصوبہ بندی پر کافی لاگت آتی ہے (Planning involves huge costs):

 جب منصوبے بنائے جاتے ہیں تب ان کی تشکیل میں کافی لاگت آتی ہے۔ یہ لاگتیں وقت اور رقم دونوں اعتبار سے ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، حقائق کی درستگی کو جانچنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔تفصیلی منصوبوں میں حقائق اور اعداد و شمار کو معلوم کرنے کے لیے سائنسی تخمینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض اوقات، لاگتوں اور فوائد کے درمیان کوئی تناسب نہیں ہوتا۔ کچھ لاگتیں اتفاقی بھی ہوتی ہیں جیسے منصوبے کی پائیداری معلوم کرنے کے لیے ابتدائی تفتیش پر خرچ، بورڈ کی نشستوں اور پیشہ ور ماہرین کے ساتھ گفت و شنید پر اخراجات وغیرہ۔

(v)

  منصوبہ بندی ایک وقت طلب عمل ہے (Planning is a time consuming process): 

بعض اوقات بنائے جانے والے منصوبے اس قدر وقت لے لیتے ہیں کہ انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی وقت نہیں بچتا۔

وزارت نے 2008 تک ریاستی بجلی بورڈس کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ وضع کیا ہے۔

Ministry Draws up Plan to Turn Around SEB's by 08

ریاستی بجلی بورڈوں (SEBs) کی مالی حالت سدھارنے کے لیے، بجلی کی وزارت نے ایک گیارہ نکاتی ایجنڈا تیار کیا ہے۔ اس سے 2007-08 تک ان بجلی بورڈوں کی مالی حالت میں سدھار ہونے کی توقع ہے۔ اس ایجنڈے میں یہ بھی تجویز ہے کہ بجلی جیسی عوامی سہولت کی تقسیم کار ایجنسیاں نرخ ناموں (tariff) کو ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس منظوری کے لیے بھیجنے کے طریقے میں تبدیلی لائیں اور ایک ایسا کاروباری منصوبہ تیار کریں جو مناسب وقت پر مکمل ہوسکے۔
وزارت نے عوامی سہولیات سے وابستہ ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ ریگولیٹری بورڈ کے سامنے پیش کرنے کے لیے 2007-08 کے نرخ نامے (Tariff) کو کثیر سالہ (multi-year) بنائیں اور یہ کام دسمبر 2006 تک مکمل کرلیں۔ اس نے عوامی خدماتی اداروں (utilities) سے یہ بھی کہا کہ وہ ایسا ریاست سے منظور شدہ ایک منصوبہ بنائیں جس میں تین، چھے اور 12 ماہ کی مدت کے لیے واضح مقاصد موجود ہوں۔ اس کے علاوہ زائد ایندھن اور دیگر غیر متوقع لاگتوں کو وصول کرنے کے لیے خود کار محصول ایڈجسٹمنٹ کی منظوری بھی ریاستی ضابطہ کار ریگولیٹری سے لینے کی ضرورت ہے۔
ماخذ: دی اکنومک ٹائمس، ستمبر 06


(vi)

  منصوبہ بندی کامیابی کی ضامن نہیں ہوتی (Planning does not guarantee success):

 ایک ادارے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب مناسب طور پر منصوبے بنائے جائیں اور مناسب طریقے سے انھیں عملی جامہ پہنایا جائے۔ ہر منصوبے پر عمل در آمد کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ یہ بے معنی ہوجاتا ہے۔ پہلے سے آزمودہ اور جانچ شدہ منصوبوں پر بھروسہ کرنا منیجروں کی عادت ہوتی ہے اور یہ ہمیشہ ہی سچ ثابت نہیں ہوتا کہ جو منصوبہ پہلے کام کرچکا ہے وہ دوبارہ بھی کارآمد ہوگا۔ اس کے علاوہ ایسے کئی دیگر عوامل ہیں جنھیں مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔ اس طرح کے اطمینان اور جھوٹے تحفظ احساس سے درحقیقت کامیابی کے بجائے ناکامی ہاتھ آتی ہے۔ بہرحال اپنی حدود کے باوجود منصوبہ بندی ایک غیر مفید مشق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جسے احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہیے۔یہ مستقل کے لائحہ عملوں کا تجزیہ کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے البتہ یہ تمام مسائل کا حل نہیں ہے۔

منصوبہ بندی کا عمل

 (Planning Process)


منصوبہ بندی، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں پیشگی طور پر یہ طے کرنا ہے کہ کیا کیا جانا ہے اور کیسے کیا جانا ہے۔ یہ فیصلہ سازی کا ایک عمل ہے۔ ہم ایک منصوبہ کیسے بناتے ہیں؟ منصوبہ بندی چوں کہ ایک سرگرمی ہے اس لیے اس میں چند منطقی اقدامات ہوتے ہیں جن کا منیجروں کو خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

(i)

  مقاصد کا تعین (Setting Objectives): 

(ii)

  مفروضات یا قیاسات کو ترتیب دینا

(Developing Premises) :

 منصوبہ بندی کا تعلق مستقبل سے ہے اورمستقبل غیر یقینی ہوتا ہے۔منصوبہ ساز مستقبل میں رونما ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کو استعمال کرتا ہے۔ اس لیے منیجر کو مستقبل کے بارے میں چند مفروضات بنانے پڑتے ہیں۔ ان مفروضات کو منطقی زبان میں مقدمات (premises) کہا جاتاہے۔ مفروضات وہ بنیادی میٹیریل ہیں جن کے اوپر منصوبے بنائے جاتے ہیں۔یہ بنیادی میٹیریل، پیشین گوئیوں، موجودہ منصوبوں ، پالیسیوں یا سابقہ معلومات کی شکل میں ہوسکتا ہے۔ قیاسات یا مفروضات سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں اور ان پر مجموعی اتفاق ہونا چاہیے۔ منصوبہ سازی میں شامل تمام منتظمین یکساں مفروضات کے استعمال سے آشنا ہونے چاہئیں۔ مثال کے طور پر، منطقی مفروضہ قائم کرنے میں پیشین گوئی کرنے کی اہمیت ہے کیوں کہ یہ معلومات کو یکجا کرنے کی ایک تکنیک ہے۔ٹیکس کی شرحوں، سرمایہ جاتی اشیاکی قیمتوں، سود کی شرحوں، پالیسی میں تبدیلی یا کسی خاص شے کی مانگ وغیرہ کے بارے میں پیشین گوئیاں کی جاسکتی ہیں۔اس لیے درست پیشین گوئیاں کامیاب منصوبوں کے لیے ضروری ہوجاتی ہیں۔

(iii)

  متبادل لائحہ عمل کی نشان دہی کرنا (Indentifying alternative courses of action):  

جب ایک بار مقاصد طے ہوجاتے ہیں اور مفروضات تیار ہوجاتے ہیں تب اگلا قدم ان پر عمل کرنے کا ہوتا ہے۔ مقاصد کو حاصل کرنے اور عمل درآمد کرنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں۔ تمام متبادل لائحہ عمل کی نشان دہی کرنی چاہیے۔ ایک پابند لائحہ عمل یا پھر کسی نئے لائحہ عمل کو اپنایا جاسکتا ہے۔ نئے لائحہ عمل کو اپنانے کے لیے زیادہ لوگوں اور ان کے خیالات کو شامل کیا جاتاہے۔ اگر پروجیکٹ اہمیت کا حامل ہے تو ایسی صورت میں زیادہ متبادلوں کو تیار کرنا چاہیے اور تنظیم کے ممبران کے درمیان ان پر پوری طرح سے بات چیت ہونی چاہیے۔

(iv)

  متبادل لائحہ عمل کی جانچ (Evaluating alternative courses) :

 اگلا قدم ہر ایک متبادل کے نشیب و فراز اور اس کے عواقب و نتائج پر غور و فکر ضروری ہے۔ ہر لائحہ عمل کے مختلف عواقب و نتائج ہوسکتے ہیںجن کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنا ہوتا ہے۔ مطلوبہ مقاصد کی روشنی میں ہر تجویز کے مثبت اور منفی پہلوئوں کی جانچ کرنی پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر، مالی منصوبوں میں پُر خطر سرمایہ کاری میں زیادہ متوقع آمدنی اور کم متوقع آمدنی میں کم خطرسرمایہ کاری بہت عام ہے۔ یعنی سرمایہ کاری جتنی زیادہ جوکھم بھری ہوگی اتنا ہی زیادہ اس سے منافع ملنے کا امکان ہے۔ ایسی تجاویز کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے ڈیوڈینڈ، ٹیکس، سود، فی حصص منافع اور دیگر منافعوں کا تفصیلی تخمینہ لگایا جاتا ہے اور پھر فیصلہ سازی کی جاتی ہے۔ یقینی/ غیر یقینی حالات میں کی گئی درست پیشین گوئیاں ان تجاویز کے لیے مضبوط مفروضات بن جاتی ہیں۔ متبادلوں کی جانچ ان کے قابل عمل ہونے اور نتائج کی روشنی میں کی جاتی ہے۔

(v)  متبادل کا انتخاب کرنا (Selecting an alternative):

 یہ فیصلہ سازی کا اصل مقام ہوتا ہے۔ بہترین منصوبے کو اپنانا اور پھر عملی جامہ پہنانا پڑتا ہے۔ بے شک ایک مثالی منصوبہ وہ ہوتا ہے جو زیادہ قابل عمل اور منافع بخش ہونے اور ساتھ ہی کم از کم منفی نتائج کا حامل ہو۔ بیش تر، منصوبوں کا ہمیشہ ہی حسابی تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے حالات میں، منیجروں کا تجربہ، پرکھ اور وجدان سب زیادہ قابلِ عمل متبادل کا انتخاب کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔بعض اوقات، ایک بہترین لائحہ عمل کے بجائے منصوبوں کے مجموعہ (مرکب) کا انتخاب کیا جاسکتاہے۔ منیجر کو ہر ممکن ترکیب کا استعمال کرکے ایک بہترین ممکن طریقۂ کار کا انتخاب کرنا ہوگا۔

(vi)

  منصوبے کو عملی جامہ پہنانا (Implementing the Plan): 

یہ وہ اقدام ہے جہاں مینجمنٹ کے دوسرے کام بھی سامنے آتے ہیں۔ یہ اقدام منصوبہ پر عمل درآمد کرنے سے متعلق ہے یعنی وہ کرناجس کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، اگر منصوبہ پیداوار میں اضافہ کرنے کا ہے تب زیادہ مزدوروں، زیادہ مشینوں کی ضرورت ہوگی۔ اس اقدام میں مزدوروں کے لیے تنظیم کاری اور مشینوں کی خریداری بھی شامل ہوگی۔

(vii)

  کام کی نگرانی (Follow-up action): 

یہ دیکھنا بھی منصوبہ بندی عمل کا ہی حصہ ہوتا ہے کہ آیا شیڈول کے مطابق منصوبوں پر عمل درآمد اور سرگرمیوں کی انجام دہی ہورہی ہے یا نہیں۔ مقاصد کے حصول کے لیے منصوبوں پر نظر رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

   (Types of Plans) منصوبہ بندی کی قسمیں

یک بارگی اور قائمہ منصوبہ 

(Single Use and Standing Plans)


کسی تنظیم کو اپنی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق کوئی فیصلہ لینے سے قبل منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ استعمال اور منصوبے کی مدّت کے اعتبار سے منصوبوں کی کئی قسموں میں زمرہ بندی کی جاسکتی ہے۔ کچھ منصوبے مختصر مدتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور یہ کارروائی سے متعلق نشانوں کے حصول میں مدد دیتے ہیں۔ ان منصوبوں کو یک بارگی منصوبے اور قائمہ منصوبے کہا جا سکتا ہے۔
یک بارگی منصوبہ (Single Use Plan):
 یک بارگی منصوبہ ایک مرتبہ کے کسی پروگرام یا پراجیکٹ کے لیے بنایا جاتا ہے۔اس طرح کے لائحہ عمل کو مستقبل میں دوہرانے کی ضرورت پیش نہیں آتی یعنی یہ ایسی صورتِ حال کے لیے ہوتے ہیں جو بار بار پیش نہیں آتیں۔ اس طرح کے منصوبے کی مدت کا انحصارپر اجکیٹ کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ 
یہ ایک ہفتے یا ایک مہینے پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کوئی پراجیکٹ محض ایک روزہ ہی ہو جیسے کوئی پروگرام یا سیمنار یا کانفرنس منعقد کرنا ۔ ان منصوبوں میں بجٹ ،پروگرام اور پراجیکٹ شامل ہوتے ہیں۔ ان میں تمام تفصیلات ہوتی ہیں جن میں ان ملازمین کے نام شامل ہوتے ہیں جنھیں کام کی ذمہ داری دی گئی ہو اور جو یک بارگی منصوبے کے لیے کام کریں گے۔ مثال کے طور پر ممکن ہے کہ کوئی پروگرام دیگر چھوٹے کاموں سے نمٹنے کے لیے ایک نیا محکمہ قائم کرنے کی غرض سے درکار اقدامات اور طریقۂ کار کی نشان دہی پرمشتمل ہو۔ پراجیکٹ، پروگراموں سے مماثل ہوتے ہیں تاہم اپنے امکانات اور پیچیدگیوں کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ بجٹ، ایک متعین مدت کے لیے اخراجات،محصولات اور آمدنی کا گوشوارہ ہوتا ہے۔

قائمہ منصوبہ (Standing Plan):

قائمہ منصوبہ بندی ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ایک مدتِ خاص تک متواتر انجام دی جاتی رہتی ہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وضع کی جاتی ہیں کہ کسی تنظیم کی اندرونی کارروائی ٹھیک ڈھنگ سے انجام پاتی رہی۔ اس طرح کی منصوبہ بندی سے معمول کی فیصلہ سازی کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر یہ منصوبہ ایک بار ہی بنایا جاتا ہے البتہ اس میں ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کی جاتی رہتی ہیں۔ قائمہ منصوبوں میں پالیسیاں ضابطۂ عمل (Procedure)طریقۂ کار اور ضوابط شامل ہوتے ہیں۔
پالیسیاں قائمہ منصوبہ بندیوں کی عمومی قسمیں ہیں جو کسی مخصوص صورتِ حال میں تنظیم کے ردِّ عمل کو بیان کرتی ہیں جیسے کسی تعلیمی ادارے کی داخلہ پالیسی ۔ طریقۂ عمل ان اقدامات کو ظاہر کرتے ہیں جن پر کسی مخصوص صورتِ حال میں عمل کرنا ہوتا ہے جیسے پیداوار کے تعلق سے پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنے کا ضابطۂ عمل ۔طریقۂ کار (Method) وہ طریقے بتاتے ہیں جس میں کسی عمل کو انجام دیا جاتا ہے۔ ضابطے بہت واضح طورپر بیان ہوتے ہیں یعنی یہ کہ قطعی طور پر کیا کیا جانا ہے جیسے کسی مخصوص مدت میں کام کی رپورٹ پیش کرنا ۔ 
یک بارگی اور قائمہ منصوبے عملیاتی بندی عمل کا حصّہ ہیں۔ 
منصوبوں کی ایسی قسمیں بھی ہیں جنھیں یک بارگی یا قائمہ منصوبہ بندی نہیں کہا جاتا ۔ مثال کے طور پر حکمتِ عملی کلیدی نوعیت کی منصوبہ بندی یا مینجمنٹ کا حصّہ ہے۔ یہ ایک ایسا عمومی منصوبہ ہے جواعلیٰ مینجمنٹ وضع کرتا ہے اور اس میں وسائل کو مختص اور ترجیحات کو طے کیا جاتا ہے جس کے لیے کاروباری ماحول اور مسابقت کو زیر غور رکھا جاتا ہے۔ مقاصد عموماً اعلیٰ مینجمنٹ طے کرتی ہیں اور یہ مجموعی منصوبہ بندی کے لیے رہنمائی عطا کرتے ہیں۔ اس کے بعدہر اکائی مجموعی تنظیمی نشانوں کو زیر غور رکھ کر اپنے اپنے مقاصد وضع کرتی ہے ۔ 
منصوبہ سے کیا حاصل کرنا مقصود ہے، اس کی بنا پر منصوبوں کی مقاصد، حکمتِ عملی ،پالیسی ،ضابطۂ عمل ،طریقۂ کار، ضابطے، پروگرام اور بجٹ کے نام سے زمرہ بندی کی جاسکتی ہے۔ 

مقاصد (Objectives)

مقاصد طے کرنا منصوبہ بندی کا اولین مرحلہ ہے۔ اس لیے مقاصد کو مستقبل کی وہ مطلوبہ حالت کہا جاسکتا ہے جہاں مینجمنٹ پہنچنا چاہتا ہے۔ مقاصد تنظیم کے لیے بہت بنیادی ہوتے ہیں۔ ان کی تعریف میں کہا جاتا کہ یہ وہ اختتامی نتائج ہوتے ہیں جن کو مینجمنٹ اپنے کاموں کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، مقصد وہ ہے جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی سرگرمیوں کا اختتامی نتیجہ۔ مثال کے طور پر، تنظیم کا مقصد فروخت میں 20 فی صد اضافہ کرنا ہوسکتا ہے یا سرمایہ کاری پر واجب شرح سے منافع کمانایا پھر کاروبار سے 20 فی صد منافع کمانا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ منصوبہ بندی کا آخری مقام ہے۔ دیگر تمام مینجمنٹ سرگرمیاں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ یہ عموماً ادارے کی اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ کے ذریعہ طے کیے جاتے ہیں اور ان کی توجہ کا مرکز عام اور وسیع مسائل ہوتے ہیں۔تنظیم مستقبل میں کاروباری معاملات کی جس حالت کو حاصل کرنا چاہتی ہے یہ اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہ تمام تر کاروباری منصوبہ بندی کے لیے رہنمائی کا کا کام کرتے ہیں۔تنظیم کی مختلف اکائیوں اور شعبوں کے اپنے اپنے مقاصد ہوسکتے ہیں۔
مقاصد کو خصوصی اصطلاحات میں بیان کرنا ضروری ہوتا ہے یعنی یہ مقداری اصطلاحات میں قابلِ پیمائش ہونے چاہئیں نیز انھیں دی گئی مدّت میں حاصل کیے جانے والے مطلوبہ نتائج کے تحریری بیان کی شکل میں ہونا چاہیے۔

حکمت عملی (Strategy)

حکمتِ عملی کسی کاروباری تنظیم کے خدوخال کا اظہار ہے۔ اس سے مراد مستقبل کے ایسے فیصلے بھی ہوتے ہیں جو طویل مدت میں تنظیم کی سمت اور دائرۂ کار کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکمت عملی تنظیم کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک قابلِ فہم منصوبہ ہوتا ہے۔ یہ قابلِ فہم منصوبہ تین جہات پر مشتمل ہوتا ہے (i) طویل مدتی مقاصد کو طے کرنا۔ (ii) ایک متعین طریقۂ کار کو اپنانا (iii) مقصد حاصل کرنے کے لیے ضروری وسائل کو بروئے کار لانا۔
حکمت عملی کو تیار کرتے وقت کاروباری ماحول کو مدِنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ معاشی، سیاسی، سماجی، قانونی اور تکنیکی ماحول میں تبدیلیاں تنظیم کی حکمتِ عملی کو متاثر کرتی ہیں۔عموماً حکمت عملیاں کاروباری ماحول میں تنظیموں کی پہچان کا باعث ہوتی ہیں۔ حکمت عملی کے اہم فیصلے جن منصوبوں پر مشتمل ہوتے ہیں وہ ہیں آیا تنظیم اپنی موجودہ کاروباری لائن کو جاری رکھے گی یا موجودہ کاروبار کے ساتھ نئی کاروباری سرگرمیوں کو شامل کرے گی یا پھر اسی بازار میں ایک غالب مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ مثال کے طور پر، ایک کمپنی کی بازار کاری حکمتِ عملی کو کچھ سوالوں کا حل تلاش کرنا پڑتا ہے یعنی گاہک کون ہیں؟ اشیاکی مانگ کیا ہے؟ تقسیم کاری کے کن ذرائع کو استعمال کرنا ہے؟ قیمت کے تعین کی پالیسی کیا ہے؟ اور ہم اپنی اشیا کا اشتہار کیسے دیں؟ یہ اور ایسے کئی مسائل ہیں جن کو تنظیم کی بازار کاری حکمت عملی تیار کرتے وقت حل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

پالیسی (Policy)

پالیسیاں ایسے وضاحتی خطوط ہیں جو ایک مخصوص سمت میں ہماری فکر کی رہنمائی کرتی ہیں یا ہماری توانائیوں کو کسی خاص جانب موڑ دیتی ہیں۔ پالیسیاں حکمتِ عملی کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں جو عموماً عام اصطلاحات میں بیان کی گئی ہوتی ہے۔ پالیسیاں حکمتِ عملی پر عمل درآمد کرنے کے لیے مینجمنٹ کے کاموں اور فیصلوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کمپنی کی بھرتی اور قیمت کے تعین سے متعلق پالیسی ہوسکتی ہے جس کے اندر مقاصد طے کیے جاتے ہیں اور فیصلے لیے جاتے ہیں۔ ایک قائم شدہ پالیسی ہونے کی صورت میں مسائل یا مشکلات کو حل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس طرح، پالیسی کسی خاص مسئلہ یا صورتِ حال کے لیے عام ردِّ عمل ہوتی ہے۔
ادارے کے تمام شعبوں اور سطحوں کے لیے پالیسیاں ہوتی ہیں۔ یہ پالیسیاں کمپنی کی اہم پالیسیوں سے لےکر چھوٹی پالیسیوں تک ہوتی ہیں۔ اہم یا بڑی پالیسیاں سب ہی لوگوں کی معلومات کے لیے ہوتی ہیں یعنی گاہک، موکل، سابقہ کار (Competitor) بھی انھیں جان سکتے ہیں جب کہ چھوٹی پالیسیاں ادارے کے اندرونی لوگوں پر لاگو ہوتی ہیں اور یہ ادارے کے ملازمین کے لیے بے حد ضروری دقیقی معلوماتی تفصیلات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ البتہ دوسرے لوگوں پر اس معلومات کو ظاہر کرنے کا کچھ بندوبست کیا جاتاہے۔ 
پالیسیاں ان وسیع حدود کو واضح کرتی ہیں جن کے اندر ایک منیجر کو کام کرنا ہوتا ہے۔ بہرحال، منیجر ایک پالیسی کا مطلب اخذ کرنے اور اس پرعمل پیرا ہونے میں اپنی مرضی کا استعمال کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر خریداری پالیسی کے تحت کیے گئے فیصلے نوعیت کے اعتبار سے مینوفیکچرنگ یا خریداری سے متعلق فیصلے ہوں گے۔ ایک کمپنی کو اپنی ڈبہ بندی، ٹرانسپورٹ خدمات، اسٹیشنری کی چھپائی، پانی، توانائی اور دیگر ضروریات کو خریدنا چاہیے یا پھر ان کو خود بنانا چاہیے؟ سپلائی حاصل کرنے کے لیے فروخت کاروں (Vendors) کا انتخاب کیسے کرنا چاہیے؟ کمپنی کو خریداری کرنے کے لیے کتنے سپلائروں سے رابطہ کرنا چاہیے؟ سپلائروں کے انتخاب کا کیا معیار ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب خریداری پالیسی کے ذریعے دیا جائے گا۔

ضابطۂ عمل  (Procedure)

ضابطۂ ٔ عمل سرگرمیوں سے متعلق معمول کے اقدامات ہیں کہ انھیں کس طرح چلایا جائے۔ یہ کسی کام کے اصل طریقے کی تفصیل فراہم کرتے ہیں۔ یہ مطلوبہ کاموں کی ترتیب وار وضاحت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، پیداوار سے قبل سپلائی حاصل کرنے کا ضابطۂ عمل ہوسکتا ہے۔ ضابطۂ عمل مخصوص حالات میں اپنائے جانے والے واضح اقدامات ہوتے ہیں۔ یہ عموماً ادارے کے اندرونی لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔ کیے گئے اقدامات کی ترتیب عموماً پہلے سے طے شدہ مقاصد کو حاصل کرنے اور پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ پالیسی اور ضابطۂ عمل کا ایک دوسرے سے باہمی تعلق ہوتا ہے۔ ضابطۂ عمل ایک وسیع پالیسی خاکے کے اندر کیے جانے والے اقدامات ہوتے ہیں۔

طریقۂ کار (Method)

طریقۂ کار مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی کام کے انجام دینے کے لیے مجوزہ طریقے یا انداز ہیں۔ طریقۂ کار کا تعلق کسی اہم کام (task) سے ہے جس میں ضابطۂ عمل (procedure) کا کوئی اقدام بھی شامل ہوتا ہے اور جو یہ وضاحت کرتا ہے کہ یہ اقدام کس طرح انجام دیا جاناہے۔ مختلف کاموں کے لیے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں ۔ مناسب طریقے کا انتخاب وقت، رقم اور محنت کو بچاتا ہے اور کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ سے لے کر نگرانی کی سطح تک ملازمین کو تربیت دینے کے لیے مختلف طریقوں کو اپنایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ کی تربیت کے لیے اورینٹیشن پروگرام، لیکچر اور سیمیناروں کا انتظام کیا جاسکتا ہے جب کہ نگرانی کی سطح پر، کام کے دوران تربیت دینے کے طریقے (on the job training methods) اور کام کی رہنمائی عطا کرنے والے طریقہ کار مناسب رہتے ہیں۔

اصول و ضوابط (Rule)

اصول ایسے وضاحتی بیانات ہوتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کوئی کام کس طرح کیا جانا ہے۔ یہ کسی لچک یا اختیار (مرضی) کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ مینجمنٹ سے متعلق فیصلوں کو ظاہر کرتے ہیں جن کا تعلق اس لہر سے ہوتا ہے کہ ایک مخصوص کام کو کیا جانا چاہیے یا نہیں کیا جانا چاہیے۔ عموماً یہ منصوبوں کی سادہ ترین قسم ہوتے ہیں کیوں کہ ان میں اس وقت تک تبدیلی نہیں کی جاسکتی جب تک کہ پالیسی سے متعلق فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

پروگرام (Programme)

پروگرام کسی پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بیانات ہوتے ہیں جو کسی لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مطلوبہ مقاصد، پالیسیوں، طریقۂ عمل، اصول و ضوابط، انسانی اور طبعی وسائل اور بجٹ کی تشریح کرتے ہیں۔ پروگرام میں تنظیم کی پالیسی نیز پورے کاروباری منصوبے میں اس پالیسی کے تعاون کی نوعیت اور سرگرمیاں پروگرام کے دائرۂ کار میں شامل ہیں۔ وسیع پالیسی کے اندر باریک سے باریک تفصیلات جیسے طریقۂ کار، اصول و ضوابط، بجٹ وغیرہ کو معلوم کیا جاتاہے۔

بجٹ (Budget)

بجٹ اعداد کی شکل میں متوقع نتائج کا گوشوارہ ہے۔ یہ ایک منصوبہ ہوتا ہے جو مستقبل کے حقائق اور اعداد و شمار کو عددی شکل میں واضح کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، فروخت بجٹ، کسی مہینے میں کسی ایک شعبے کی مختلف اشیاکی فروخت کے بارے میں پیشین گوئی کرتا ہے۔ زیادہ پیداوار کے زمانے میں فیکٹری میں درکار کارکنوں کی تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے بھی بجٹ تیار کیا جاسکتا ہے۔
چوں کہ بجٹ تمام چیزوں کو اعدادی شکل میں پیش کرتا ہے اس لیے متوقع اعداد کے ساتھ حقیقی اعداد کا موازنہ کرنا اور اس کے بعد اصلاحی اقدامات کرنا آسان ہوجاتاہے۔ اس طرح، بجٹ ایک کنٹرول کرنے کا ذریعہ بھی ہے جس کی مدد سے انحراف کو سنبھالا جاسکتا ہے۔ البتہ بجٹ بنانے کے لیے پیشین گوئی کرنا ضروری ہوتا ہے اسی لیے یہ منصوبہ بندی کے تحت ہی آتاہے۔ یہ بہت سی تنظیموں میں منصوبہ سازی کا بنیادی اوزار ہے۔
آئیے ہم کیش (نقد) بجٹ کی مثال لیں۔ نقد بجٹ نقد کے مینجمنٹ کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ وہ ذریعہ ہے جو نقد کے استعمال کی منصوبہ بندی اور اس کے کنٹرول میں مینجمنٹ کی مدد کرتا ہے۔ یہ کسی دی گئی مدت کے دوران تخمینہ شدہ نقد کے اندرونی اور بیرونی بہاو (flow) کو ظاہر کرنے والا گوشوارہ ہوتا ہے۔ نقد کا اندرونی بہاو (cash inflow) عموماً نقد فروخت سے ہوتا ہے جبکہ نقد کا بیرونی بہاو (cash outflow) کاروباری کاموں سے جڑے اخراجات اور لاگتوں کے باعث ہوتا ہے۔ نقد کی اصل حالت کا تعین نقد بجٹ کے ذریعہ کیا جاتاہے یعنی اندرونی بہاو نفی (–) بیرونی بہاو = اضافہ یا خسارہ۔
مینجمنٹ کو مختلف مقاصد کے لیے نقد کے معقول بیلنس رکھنے پڑتے ہیں۔ تاہم اِسے نقد کے زائد بیلنس (Excess Balance) سے بچنا چاہیے۔ کیوں کہ اس سے یا تو کچھ بھی منافع نہیں ہوتا یا ہوتا بھی ہے تو بہت کم۔ کاروبار کو نقد کی ضرورت کی تشخیص اور منصوبہ بندی احتیاط کے ساتھ کرنی پڑتی ہے۔


کلیدی اصطلاحات


 متبادل (Alternatives)                       • منصوبہ بندی (Planning)                 • حکمت عملی (Strategy) 
مقاصد (Objectives)                         • پالیسی (Policy)                             •  نشانے (Goals)
ضابطۂ عمل (Procedure)                       • فیصلے (Decisions)                      • اصول و ضواط (Rule) 
معیار (Standards)                             • پروگرام (Programme)                 • کنٹرول کرنا (Controlling)
بجٹ (Budget)                                • منطقی مقدمات (Premises)                • مفروضات (Assumptions)

خلاصہ 

منصوبہ بندی 

منصوبہ بندی، پہلے سے یہ طے کرنا ہے کہ کیا کیا جانا ہے اور کیسے کیا جانا ہے۔ یہ مینجمنٹ کاموں میں، ایک بنیادی کام ہے۔
اس طرح منصوبہ بندی، مقاصد طے کرنے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے مناسب لائحہ عمل تیار کرنے پر مشتمل ہے۔

منصوبہ بندی کی اہمیت

منصوبہ بندی جہات فراہم کرتی ہے، غیر یقینی کے جوکھموں کو کم کرتی ہے، گڈمڈ اور غیر مفید سرگرمیوں میں کمی لاتی ہے، جدت پسندانہ خیالات کو فروغ دیتی ہے، فیصلہ سازی میں مدد کرتی ہے کنٹرول کرنے کے لیے معیار قائم کرتی ہے۔

منصوبہ بندی کی خصوصیات

منصوبہ بندی مقاصد کے حصول پر توجہ دیتی ہے۔ یہ مینجمنٹ کا ابتدائی کام ہے۔ یہ ہمہ گیر (Peruasive) ہے۔ یہ مسلسل اورمستقبل سے متعلق عمل ہے، یہ فیصلہ سازی پر مشتمل ہوتی ہے، یہ ایک ذہنی مشق ہے۔

منصوبہ بندی کے نقص

منصوبہ بندی جامد رہنے پر آمادہ کرتی ہے، تخلیقی صلاحیت کو کم کرتی ہے، اس پر کافی لاگت آتی ہے، یہ ایک دقت طلب عمل ہے۔ یہ فعال ماحول میں کام نہیں کرتی اور کامیابی کی ضامن نہیں ہوتی۔

منصوبہ بندی کا عمل

مقاصد طے کرنا:پوری تنظیم کے لیے بھی مقاصد طے کیے جاسکتے ہیں یا پھر ہر شعبہ یا تنظیم کی ہر ایک اکائی کے لیے بھی۔

قیاسات (Premises) کو فروغ دینا : 

منصوبہ بندی کا تعلق مستقبل سے ہے جو غیر یقینی ہے اور منصوبہ ساز مستقبل میں رونما ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کو استعمال کرتا ہے۔ اس لیے منیجر کو مستقبل کے بارے میں چند مفروضات بنانے پڑتے ہیں۔ ان مفروضات کو منطقی مقدمات کہا جاتاہے۔

متبادل لائحہ عمل کی نشان دہی کرنا: 

 جب ایک بار مقاصد طے ہوجاتے ہیں اور مفروضات تیار ہوجاتے ہیں تب اگلا قدم ان پر عمل کرنے کا ہوتا ہے۔

متبادل لائحہ عمل کی جانچ کرنا:

 اگلا قدم ہر ایک متبادل کے نشیب و فراز (Pros and cons) کا اندازہ کرتا ہے۔

متبادل کا انتخاب :

 یہ فیصلہ سازی کا اصل مقام ہے۔ بہترین منصوبے کو اپنانا اور پھرعملی جامہ پہنانا پڑتا ہے۔

منصوبے کو عملی جامہ پہنانا: 

 یہ اقدام منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے متعلق ہے۔کام کی نگرانی : مقاصد کے حصول کے لیے منصوبوں پر نظر رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔

منصوبوں کی اقسام 

مقاصد:

حکمت عملی:

حکمت عملی کسی کاروباری تنظیم کے وسیع خدوخال کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سے مراد مستقبل کے ایسے فیصلے ہوتے ہیں جو طویل مدت میں تنظیم کی جہت اور دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہیں۔
پالیسی: پالیسیاں عام بیانات ہوتی ہیں جو کسی مخصوص جہت کی جانب ہماری فکر کی رہنمائی کرتی ہیں یا ہماری توانائیوں کو اس جانب موڑ دیتی ہیں۔
ضابطۂ عمل: سرگرمیوں کی انجام دہی میں اپنائے جانے والے لگے بندھے اقدامات طریقۂ کار ہوتے ہیں۔
اصول و ضوابط: اصول وہ مخصوص بیانات ہوتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کوئی کام کس طرح کیا جانا ہے۔
پروگرام: پروگرام ایک پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بیانات ہوتے ہیں جو لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مطلوبہ مقاصد، پالیسیوں، طریقۂ کار، اصول و ضوابط، انسان اور طبعی وسائل اور بجٹ کی تشریح کرتے ہیں

مشق

مختصر جوابی سوالات

1۔  منصوبہ بندی کی تعریف میں اہم نکات کیا ہیں؟
2۔  منصوبہ بندی کس طرح جہت عطا کرتی ہے؟
3۔  کیا آپ کی رائے میں منصوبہ بندی تغیر پذیر ماحول میں کارگر ہوسکتی ہے؟
4۔  منصوبہ بندی کا تعلق مستقبل کی تفصیلات سے ہے پھر یہ کامیابی کو یقینی کیوں نہیں بناتی؟
5۔  اصول و ضوابط کو منصوبے کیوں مانا جاتاہے؟
6۔  کاروباری تنظیموں کے ذریعہ لیے جانے والے کلیدی فیصلوں کی اقسام کیا ہیں؟

طویل جوابی سوالات

1۔  ایسا کیوں ہے کہ تنظیمیں ہمیشہ اپنے تمام مقاصد کی تکمیل نہیں کرپاتیں؟
2۔  مینجمنٹ کو منصوبہ بندی کرتے وقت منصوبہ بندی کی کن خصوصیات کو ذہن میں رکھنا چاہیے؟
 3۔  منصوبہ بندی عمل میں انتظامیہ کے ذریعہ کیا اقدامات کیے جاتے ہیں؟
4۔  کیا منصوبہ بندی  اس بات کی حقیقی مستحق ہے کہ اس میں اعلیٰ لاگت لگائی جائے؟ وضاحت کیجیے۔

سرگرمیاں

ایک علاقائی چھوٹے کاروباری منیجر کا انٹرویو لیجیے اور معلوم کیجیے کہ وہ اپنے مقاصد اور ان کے حصول کے وقت کو کیسے طے کرتا ہے۔ آپ نے جو کچھ اس باب میں پڑھا اس کا موازنہ منیجر کے جوابات سے کیجیے۔

واقعاتی مسئلہ

ایک آٹو کمپنی سی لمیٹیڈ کو بازار میں پہلے سے موجود اور نئے حریفوں سے بڑھی ہوئی مسابقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کا بازاری حصہ (مارکیٹ شیئر) گھٹتا جارہا ہے۔ اس کے حریف (Competitors) گاہکوں کی بڑی تعداد کے لیے جو قیمت کے معاملے میں حساس ہیں کم قیمت کے ماڈلوں کو پیش کررہے ہیں۔ معیار کا شعور رکھنے والے گاہکوں کے لیے، کمپنی نئے ماڈلوں کو بازار میں اتار رہی ہے جو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے نئے ہیں اور ان میں اضافی خوبیاں بھی ہیں۔

سوالات

1۔  موجودہ چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے سی لمیٹیڈ کے واسطے ایک مثالی کاروباری منصوبہ تیار کیجیے۔ آپ کو مقداری حدود (Quantitative Parameters) کے بارے میں بہت زیادہ صراحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ کس قسم کا منصوبہ بنا رہے ہیں اس بات کی آپ وضاحت کرسکتے ہیں۔
2۔  ایسے منصوبوں کی خامیوں کی نشان دہی کیجیے۔
3۔  آپ ان خامیوں (limitations) کو کس طرح ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔