ایک مرتبہ جب منصوبے طے کر لیے جاتے ہیں اور مقاصد کی صراحت کردی جاتی ہے تو اگلا قدم وسائل کو اس طرح منظم کرنا ہوتا ہے کہ مقاصد کا حصول ہوسکے۔منصوبہ بندی کے عمل میں بیان کردہ مقاصد کے حصول میں ایک نازک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک موثر کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے تنظیم کے کام کی تشکیل کی جائے۔کسی کاروباری مہم کو اس طور پر منظم ہونا چاہیے کہ منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ لاگو کیا جاسکے ۔ منصوبہ بندی کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے کچھ امور پر دھیان دینا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ ضروری وسائل کو استعمال میں لا کر ممکن الحصول کام انجام دیے جائیں نیزیہ بھی کہ مقاصد کے حصول کے لیے ملازمین کو بااختیار بنایا جائے اور اس طرح ان کو ذمہ دار بھی بنایاجائے۔
ساری دنیا میں ایک کامیاب ٹیکنولوجی کمپنی بن جانے کے لیے وپرو نے جو طریقۂ کار اختیار کیا اس سے ظاہر ہے کہ منصوبوں کو عمل میں لانے کے لیے تنظیم کاری کا بہت اہم کردار ہے۔
دنیا کی دیگر قد آور کمپنیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے وپرو نے اور کیا کیا قدم اٹھائے؟کیا وِپرو کے طریق کار سے کوئی سبق سیکھنا چاہیے۔
وپرو نے بہت انوکھے ڈھنگ سے تنظیم کاری کی۔ اس نے تنظیم کو صارف جہتی (Customer-Oriental) بنا کر اس بات کو دیگر مقاصد پر فوقیت دی اور پیداوار کی بنیاد پر تنوع بھی پیدا کیا۔ وپرو نے مقاصد اور مینجمنٹ کے درمیان توافق پیدا کرنے کے لیے، مینجمنٹ کے نظام مراتب (Hierarchy) میں بھی اصلاحات کیں۔
تنظیم کاری کے عمل سے یہ امر یقینی ہوجاتا ہے کہ منصوبہ بندی کے دوران جو مقاصد طے کیے گئے تھے ان کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں، وسائل کا بھر پور استعمال کیا جارہا ہے اور سبھی لوگ اجتماعی اور موثر طور پر ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کو انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح ایک موثر مینجمنٹ کی وجہ سے ہی تنظیم کاری کے عمل کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔تنظیم کاری منصوبوں کو عملی شکل دینے کا ایک ذریعہ ہے۔
تنظیم کاری کا عمل ایک تنظیمی سانچے کی تخلیق میں رہنمائی کرتاہے جس میں صاف طور پر ہنرمند لوگوں کے ذریعے پُر کیے جانے والے عہدے داروں کے کاموں کی تشکیل نیز ان عہدے داروں کے کاموں کے بین باہمی تعلق کی تعریف بھی شامل ہے۔ تاکہ فرائض کی انجام دہی میں کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جاسکے۔ یہ بات نہ صرف یہ کہ عملے کے درمیان پیداواری تعاون کے لیے لازمی ہے بلکہ ان کے اختیارات کے حدود کی وضاحت کے لیے، سرگرمیوں کی منطقی گروپ بندی کے لیے اور اس بات کے لیے بھی ضروری ہے کہ نتائج کی ذمّے داری کس پر ہوگی۔
(Meaning) مفہوم
تنظیم کاری کس طرح وقوع پذیر ہوتی ہے آئیے اس بات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیا آپ نے کبھی اس طرف دھیان دیاہے کہ اسکول کا میلہ جس سے آپ بہت لطف اندوز ہوتے ہیں کس طرح منعقد کیا جاتا ہے؟ اس کی کامیابی میں کن کن باتوں کا عمل دخل ہوتا ہے؟ اس تمام سرگرمی کو چند گروپوں میں تقسیم کر دیا جاتاہے۔ ہر گروپ کو ایک مخصوص کام سپرد کر دیا جاتاہے۔ جیسے غذائی کمیٹی،سجاوٹ کمیٹی اور ٹکٹ کمیٹی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کام اس جشن کے متعلقہ انچارج کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔ مختلف گروپوں میں تال میل اور تعاون قائم کیا جاتا ہے تاکہ اس جشن کے لیے ہر گروپ کی خدمات میں خوش گوار رابطہ رہے۔ مذکورہ تمام سرگرمیاں جشن کی تنظیم کاری کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔
تنظیم کاری سے مراد وہ عمل ہے جو انسانی کوششوں میں تال میل پیدا کرتا ہے۔ وسائل کو مجتمع کرتاہے اور انسانی کوششوں اور وسائل کے ایک متحدہ کُل کو طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے ایک متحدہ نظام میں جوڑتا ہے۔
تنظیم کاری ایک عمل ہے جو ملازمین کے فرائض اور ان کے باہمی رشتوں کی وضاحت کرکے نیز وسائل کو موثر طورپر فروغ دے کر منصوبوں کو عملی جامہ پہناتا ہے، تاکہ مطلوبہ نتائج اور مقاصد حاصل ہوں۔
عمل تنظیم کاری کے اقدامات
یہ اقدامات مطلوبہ مقاصدحاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ آئیے ایک مثال کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ تنظیم کاری کس طرح انجام دی جاتی ہے۔
فرض کیجیے موسم گرما کی چھٹیوں میں بارہ طالب علم اسکول لائبریری کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایک سہ پہر ان سے کہا جاتاہے کہ نئی کتابوں کی کھیپ کو اتارا جائے، انھیں کتب خانہ کی الماریوں میں رکھا جائے اور پھر تمام بیکار چیزوں (پشتاروں اور کاغذوں وغیرہ)کو ٹھکانے لگادیا جائے۔ اگر تمام طالب علم اس کام کو اپنے اپنے طور پر انجام دیں تو اس سے بڑی الجھن پیدا ہوگی۔ کام کو تقسیم کرکے اوراس کو الگ الگ طلبا کو سپرد کرکے بہتر طور پر اور بہت جلدی کام انجام دیا جاسکتا ہے۔
مذکورہ بیان سے کام کی تنظیم کاری کے درج ذیل اقدامات سامنے آتے ہیں:
:(Identification & Division of Work) کام کی نشان دہی اور تقسیم (i)
تنظیم کاری کے عمل میں پہلا قدم یہ ہے کہ کام کی نشان دہی اور تقسیم اس طور پر کی جائے کہ وہ کام جسے انجام دیا جانا ہے اسے طے شدہ منصوبوں کے مطابق قابل عمل سرگرمیوں میں تقسیم کر لیا جائے تاکہ کام کے دودو بار ہونے سے بچا جاسکے نیز کام کے بوجھ کو ملازمین کے مابین تقسیم کیا جاسکے۔
(Definition of Organising) تنظیم کاری کی تعریف
تنظیم کاری کیے جانے والے کام کی نشاندہی کرنے اور گروپ بندی یا شعبہ کاری کرنے کا عمل ہے۔ اس میں اختیار اور ذمہ داری کو واضح کیا جاتا ہے اور انھیں تفویض کیا جاتا ہے نیز مقاصد کے حصول کے لیے تعلقات کو قائم کیا جاتا ہے تاکہ لوگ آپس میں مل کر زیادہ موثر طریقہ سے کام کو انجام دے سکیں۔
(Louis Allen) لوئیس ایلن
تنظیم کاری ادارے کی سرگرمیوں کو واضح کرنے اور گروپ بندی کرنے نیزان کے درمیان اختیار کے تعلقات کو قائم کرنے کا عمل ہے۔
(Theo Haimman) تھیوہیمین
(Extra-curricular activities) (Think About It) اس بارے میں سوچیے
آپ کے اسکول میں معاون نصابی سرگرمیوں ( Extra- curricular activities ) کے لیے مختلف سوسائٹیاں ہوں گی جیسے ڈراما سوسائٹی، کوئز کلب، علم معاشیات کی سوسائٹی اور بحث و مباحثہ سوسائٹی وغیرہ۔ ان سوسائٹیوں نے اپنی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں محنت کی تقسیم نیز اپنے کام کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے ترسیل کی زنجیر کے جن طریقوں کا استعمال کیا ہے ان کی فہرست تیار کیجیے اور ان کا مشاہدہ کیجیے۔ آپ جس عمل کے بارے میں مطالعہ کر چکے ہیں یہ اس سے کس قدر یکساں ہے؟
:(Departmentalisation) شعبہ کاری (ii)
کام کو ایک مرتبہ چھوٹی چھوٹی اور قابل عمل سرگرمیوں میں تقسیم کرنے کے بعد یکساں نوعیت کی سرگرمیوں کو یکجا کردیا جائے۔ کام کی ترتیب کا یہ عمل شعبہ کاری کہلاتا ہے۔ شعبہ کاری کے لیے مختلف معیاروں کو بنیاد بنایا جاسکتاہے۔ علاقہ (شمالی، جنوبی، مغربی وغیرہ) اور مصنوعات (کل پرزے، کپڑے اورکاسمیٹکس وغیرہ) ان بنیادوں کی مثالیں ہیں۔
:(Assignment of Duties) فرائض کی تفویض (iii)
یہ ضروری ہے کہ کام مختلف ملازمین کو تفویض کیا جائے۔ ایک مرتبہ شعبوں کی تشکیل ہوجائے تو پھر ہر ایک شعبہ ایک فرد کے چارج میں دے دیا جائے۔ پھر ہر شعبے کے ممبران کو ان کی فنی مہارتوں اور اہلیت کے مطابق عہدوں کا تعین کردیا جائے۔ مؤثر کارکردگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک عہدے کی نوعیت اور ایک فرد کی صلاحیت کے مابین ہم آہنگی ہو جائے۔ کام صرف ان لوگوں کو تفویض کیا جائے جو اسے انجام دینے کے سب سے زیادہ موزوں ہوں۔
(Establishing Reporting Relationship) رپورٹنگ تعلق قائم کرنا (iv)
محض کام کی تفویض ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ہر فرد کو یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ اسے کس سے ہدایات اور احکام لینے ہیں اور کس کے سامنے وہ جواب دہ ہے۔ وہ اِس طرح کے واضح تعلق قائم ہونے سے نظام مراتب (Hierarchal Structrue) کے بنانے میں مدد ملتی ہے نیز اس سے مختلف شعبوں کے مابین تال میل میں بھی مدد ملتی ہے۔
(Importance of Organising) تنظیم کاری کی اہمیت
تنظیم کاری کے عمل کی بجا آوری سے ایک فعال کاروباری ماحول کے اندر کاروباری ادارے کے خوش گوار معاملات کے لیے راہ ہموار ہوتی ہے ۔تنظیم کاری کے عمل سے کسی کاروباری ادارے کی بقا اور فروغ میں مدد ملتی ہے اور اس طرح ایک ادارہ مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لائق بن جاتا ہے۔ کسی بھی کاروباری ادارے میں مقررہ کاموں کو خاطر خواہ طور پر انجام دینے اور کامیابی کے ساتھ نشانوں کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تنظیم کاری کے عمل کو باقاعدگی کے ساتھ انجام دیا جائے۔درج ذیل نکات سے کسی بھی کاروباری ادارے میں تنظیم کاری کے کلیدی رول پر روشنی پڑتی ہے۔
(Benefits of Specialisation) اختصاص کے فوائد (i)
ملازمین (Work force) کے مابین کاموں کی باضابطہ تفویض کے لیے تنظیم کاری خوب رہنمائی کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف کام کا بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ پیداوار میں بھی بڑھوتری ہوتا ہے کیوںکہ اس طور پر مخصوص کارکنان باقاعدگی کے ساتھ ایک مخصوص کام کو انجام دیتے ہیں۔ ایک مخصوص کام کی بار بار انجام دہی سے ایک کارکن کو اس میدان میں خاطر خواہ تجربہ ہوجاتاہے اوراس طرح اس کو کام میں خصوصی مہارت پیدا ہوجاتی ہے۔
(Clarity in working Relationship) کام سے متعلق تعلقات کی وضاحت (ii)
کارکنوں کے درمیان رشتوں کے قیام سے رسل ورسائل (Communication) کے خطوط کی وضاحت ہوتی ہے اور یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کس کو رپورٹ لینی ہے اور کس کو دینی ہے۔ اس سے اطلاعات اور ہدایات کی منتقلی میں ابہام دور ہوجاتاہے۔ اس سے نظام مراتب (Hierarchical Order) کی تشکیل میں مدد ملتی ہے اور کسی فرد کو حاصل اختیارات اور ذمہ داریوں کے حدودمقرر کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
(Optimum Ultilisation of resources) وسائل کا بھر پور استعمال (iii)
تنظیم کاری سے تمام مٹیریل، مالی اور انسانی وسائل کے مناسب استعمال کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ کاموں کی مناسب تفویض سے کام گڈ مڈ نہیں ہوتے اور اس سے وسائل کا بہترین استعمال بھی ممکن ہوجاتاہے۔ اس سے کام دوبار ہ نہیں ہوتا اور نتیجتاً وسائل اور کوششیں برباد نہیں جاتیں۔
(Adaptation of Change) تبدیل سے توافق (iv)
تنظیم کاری عمل کاروباری ادارہ کو کاروباری ماحول میں تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتاہے۔ یہ تنظیمی ڈھانچے کو اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ اس میں مناسب طور پر ترمیم کی جاسکے نیز مینجمنٹ کی سطحوں میں باہمی رابطوں پر نظرثانی کرکے خوش گوار لین دین کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ یہ ادارے کے استحکام کا بھی ضامن ہے کیوں کہ تبدیلیوں کے باوجود بھی اس سے ادارہ زندہ رہتا اور ترقی بھی کرتا ہے۔
(Effective Administration) موثر انتظام (v)
تنظیم کاری مفوضہ کاموں اور متعلقہ فرائض کی صاف ستھری تصویر فراہم کرتی ہے۔ اس سے شک و شبہات اور دہرے پن کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کارکنوں کے روابط میں صاف ستھرے پن سے کاموں کی مناسب انجام دہی ممکن ہوتی ہے۔ اور اس سے تاثیر پیدا ہوتی ہے۔
اس کے بارے میں سوچیے
تنظیم کاری سے کام میں مہارت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف ایک ہی کام کو بار بار کرتے رہنے سے اکتاہٹ، دباو، بے لطفی اور کام سے غائب رہنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔منیجر حضرات اس صورتِ حال کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
(Development of Personnel) عملے کا فروغ (vi)
تنظیم کاری سے منیجر حضرات کے مابین تخلیقی رجحان اُبھرتا ہے۔ موثر تفویض سے منیجر حضرات کے کام کا بوجھ کم ہوجاتاہے کیوں کہ وہ اپنے ماتحتوں کو روز مرہ کے کام تفویض کردیتے ہیں۔ چوں کہ ہر فرد کی کارکردگی کی اہلیت محدود ہوتی ہے اس لیے تفویض کے ذریعے کام کے بوجھ کو کم کرنا محض ضروری ہی نہیں بلکہ اس لیے بھی کہ منیجر حضرات کو کاموں کے انجام دینے کے نئے نئے طریقوں کو فروغ دینے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے انھیں ترقی کے میدان دریافت کرنے کا وقت مل جاتا ہے نیز کمپنی کی مقابلہ جاتی صورتِ حال کو مضبوط کرنے کے لیے جدید کاری کا موقع بھی مل جاتاہے۔اختیارات اور کاموں کی تفویض (Delegation) سے ماتحتوں میں موثر کارکردگی کی صلاحیت کو فروغ ملتا ہے اور اس سے انھیں اپنی تمام تر مہارتوں اورصلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔
(Expansion &Growth) توسیع و ترقی (vii)
تنظیم کاری سے کسی کاروباری ادارہ کی ترقی اور توسیع میں مدد ملتی ہے اس طرح وہ موجودہ اصول و ضوابط کی جگہ نئے چیلنجوں کو قبول کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
تنظیم کاری سے ایک کاروباری ادارے میں نوکریاں بڑھتی ہیں، شعبوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ مصنوعات میں بھی تنوع اور اضافہ ہوتا ہے۔ کاروبار کو نئے جغرافیائی علاقوں میں وسیع کیا جاسکتا ہے مزید یہ کہ اس سے صارف رخی فروخت اور منافع کے اضافے میں مدد ملتی ہے۔
لہٰذا تنظیم کاری ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے منیجر ابتری کی جگہ نظم و ضبط لاسکتا ہے۔ لوگوں کے درمیان کام یا ذمے داری پر لڑائی جھگڑے کو ختم کرسکتا ہے اور اجتماعی کام کے لیے سازگار ماحول پیداکرسکتا ہے ۔
تنظیمی ڈھانچہ (Organisation Structure)
تنظیمی ڈھانچہ تنظیم کاری کا نتیجہ ہوتا ہے اورایک مؤثر ڈھانچے سے کاروباری ادارے کی منافع انگیزی (Profitabiltiy) میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک کاروباری ادارہ جب پھیلتا اور ترقی کرتا ہے تو اسے ایک مناسب تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کاروباری ادارے کسی ایک ہی ڈھرّے پر جمے رہتے ہیں ترقی نہیں کرپاتے۔ بہر حال یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس طرح کا جمود و تعطل کسی ادارے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیوںکہ وہ کمپنیاں جو مطلق تبدیلی نہیں کرتیں یا تو بند ہوجاتی ہیں یا ان کی ترقی رُک جاتی ہے۔
جیسے جیسے کوئی تنظیم ترقی کرتی ہے نئے شعبوں اور ساختیاتی نظام مراتب (Structural Hierarchies) کے سبب تال میل مشکل ہوجاتاہے۔ اس لیے خوش اسلوبی کے ساتھ کسی تنظیم کے چلنے نیز ماحولیاتی تبدیلیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہوجاتاہے کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچہ کی طرف خصوصی توجہ دے۔
پیٹر ڈریکر (Peter Drecker) ایک مناسب تنظیمی ڈھانچے کی اہمیت کو یہ کہہ کر واضح کرتا ہے: ’’تنظیمی ڈھانچہ ایک ناگزیر ذریعہ ہے اور ایک غلط ڈھانچہ کاروباری صلاحیت کو سخت نقصان پہنچانے کا سبب ہے حتی کہ غلط ڈھانچہ کاروبار کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔‘‘
تنظیمی ڈھانچے کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کے مینجمنٹ سے متعلق امور اور کاروبار کے تمام معاملات انجام دیے جاتے ہیں۔ اس سے افراد، وسائل اورکاموں کے درمیان رشتوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ اس سے انسانی، طبعی اور مالیاتی ذرائع کے مابین باہمی تعلق اور تال میل ظاہر ہوتا ہے اور اس سے ایک کاروباری ادا رہ اپنے مطلوبہ نشانوں کو حاصل کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ ایک فرم کے تنظیمی ڈھانچے کو اگلے صفحے پر تنظیمی چارٹ میں دکھایا گیا ہے۔
مینجمنٹ کا پھیلاو بڑی حد تک مینجمنٹ ڈھانچے کو شکل دیتا ہے۔ مینجمنٹ کے پھیلائو سے مراد ہے کہ ماتحتوں کی وہ تعداد جو کسی اعلیٰ افسر (Superior) کے ذریعے موثر طور پر منظم کی جاسکے۔ یہ پھیلاو ڈھانچے کے مینجمنٹ کی سطحوں کو متعین کرتا ہے ۔
ایک مناسب تنظیمی ڈھانچہ ایک بہتر ترسیل اور کاروباری ادارے کے معاملات کو صحیح طور پر کنٹرول کرنے کے لیے لازمی ہے۔
ایک تنظیمی ڈھانچہ وہ خاکہ فراہم کرتا ہے جس کے باعث ادارہ شعبوں اور افراد کی ذمہ داریوں کو باضابطہ بناکر اور ان میں ارتباط پیدا کرکے ایک متحد اکائی کی حیثیت سے کام کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ آئیے ہم اس کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
:مثال کے طور پر
کچھ عرصہ پہلے سمیتا نے اپنی ٹریول ایجنسی کا آغاز کیا۔ اس نے حسب ذیل طریقے سے اپنے تین ملازمین کو کام تفویض کیا۔ ’’نیہا!، تم ہوائی جہاز، ریل اور بس کی ریزرویشن کی انچارج ہو۔ کرن! تم رہائشی بکنگ کو سنبھالو گے:
ساحل! آپ آن لائن استفسار (on Line queries) اور کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیوں کا کام انجام دیتے رہیں ۔ میں آپ تینوں سے باقاعدہ رپورٹ چاہتی ہوں۔‘‘ اس طرح چند جملوں میں ہی ایک تنظیمی ڈھانچہ تیار ہے جس میں اختیارات بھی طے ہوگئے اور ذمّے داریاں بھی۔
تنظیمی ڈھانچوں کی قسمیں (Types of organisation Structures)
کسی تنظیم کے ذریعے اختیار کیے گئے ڈھانچے کی قسم اس کے ذریعے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بدلتی رہے گی۔ تنظیمی ڈھانچے کو دو زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جو درج ذیل ہیں:
اپنے تحقیق و ترقی کے ڈھانچے کو مضبوط و مستحکم کرتے ہوئے (Honda) ہونڈا
کارپوریٹ 21، فروری 2006
ٹوکیو، جاپان، 21 فروری 2006۔ ہونڈا موٹر لمیٹڈ نے یکم اپریل 2006سے شروع ہونے والے ہونڈا R&D کمپنی لمیٹڈ کے لیے ایک نیا تنظیمی ڈھانچہ جاری کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ یہ ہونڈا کی ایک مکمل طور پر نجی معاون کمپنی ہے جوتحقیق و ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ذمے دار ہے۔ ٹیکنو لوجی میں ہونے والی حالیہ ترقیات اورکاروبار میں مسلسل توسیع کے سبب ہونڈا آراینڈ ڈی میں تیار ہونے والے تکنیکی کل پرزوں اور گاڑیوں کی تعداد میں ڈرامائی طورپر اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتِ حال اور مستقبل میں کاروبار کی مزید توسیع کو نظر میں رکھتے ہوئے نیا ڈھانچہ شروع ہوگا۔ اس نئے ڈھانچے کے شروع ہونے سے کاروبار سے وابستہ سبھی لوگ کاروبار کے فروغ کے لیے نئے نئے اقدامات کرسکیں گے اور یہ بھی طے کرسکیں گے کہ کس کی کیا ذمہ داری ہے اور کس کا کیا رول ہے۔ اس سے اختیارات کی جرأت مندانہ تفویض بھی سہل ہوگی۔ اس نئے ڈھانچے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ترسیل (Communication) بہتر ہوجائے اور نتیجتاً تنظیم کے اندر فیصلہ سازی کے عمل میں تیزی آسکے۔ نئے تنظیمی ڈھانچے کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں۔
نئی ساخت کا خاکہ
۔موجودہ آر اینڈ ڈی سینٹرس، اساکا آر اینڈ ڈی سینٹر، واکو آرا اینڈڈی سینٹر اور ٹوچیکی آر اینڈ ڈی سینٹرپر مشتمل ہے جو فی الوقت جغرافیائی علاقے کی بنیاد پر منظم ہیں اور جو مخصوص کاموں کی بنیاد پر پانچ مرکزوں میں دوبارہ منظم کیے جائیں گے۔ ان پانچ نئے مرکزوں کے نام ہوں گے موٹر سائیکل ڈیولپمنٹ سینٹر، آٹو موبائل ڈیولپمنٹ سینٹر، پاور پروڈکٹس ڈیولپمنٹ سینٹر، ایرو انجینئرنگ ڈیولپمنٹ سینٹر اور بیسک ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر۔
۔ ہر مرکز کا دفتر الگ ہوگا، منصوبہ بندی، پیداواری ترقی، تکنیکی، ترقی اور انتظامی امور میں ان میں سے ہر ایک کا ایک طے شدہ کردار ہوگا۔
۔ کاروباری معاملات کے لیے فیصلے لینے کا بنیادی اختیارجو فی الوقت ہر سینٹر کے سربراہ کے ذمے ہے۔ہر مرکز میں واقع دفتر کے سربراہ کے ذمے ہوگا تاکہ وہ ایک خود مختار عملی ڈھانچہ تیار کرسکے اور تمام ضروری فیصلے لے سکے۔
سربراہ
منصوبہ بندی
ٹیکنالوجی اور مصنوعاتی فروغ کے ترقیاتی نوشے
ڈیولپمنٹ سینٹر کا انچارج بورڈ ممبر
مصنوعاتی ترقی
ٹیکنالوجی ترقی
بند و بست
مصنوعاتی ترق بشمول مصنوعاتی ڈیزائن
مصنوعات کے ہر حصے جیسے انجن اور موٹر گاڑی کے ڈھانچے کے لیے ٹیکنالوجی
تمام بندوبست کے معاملات بشمول عام معاملات H.R سہولت مینجمنٹ وغیرہ
۔ ایک ایسا تنظیمی ڈھانچہ تیار کیا جائے جو سادہ ہو اور جس میں زیادہ تنظیمی طبقے ہوں۔ اس کے نتیجے میں دفتر کے سربراہ اور دیگر وابستگان کے درمیان براہ راست ترسیل آسان ہوجائے گی۔
۔ آٹو موبائل ڈیولپمنٹ سینٹر کے پیداواری ترقی کے کام کو ہونڈا برانڈ اور ایکیورا برانڈ کے مابین مزید علاحدہ کیا جائے گا۔
یہ ساختیاتی تبدیلی ہونڈا کی مسلسل کوششوں کا ایک حصہ ہے تاکہ ہونڈا کی بنیادی خصوصیات کو مستحکم اورمنفرد بنایا جاسکے۔ مقصدیہ ہے کہ جدید اور تخلیقی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کو جاری رکھا جائے جو ہونڈا کے لیے بے مثال ہیں اور ہونڈا ایک ایسی کمپنی بن جانے کا عمل جاری رکھے جس کو سماج چاہتاہے۔
http : //worldhonda.com / news/2006/CO60221 Round D Operations
(Functional Structure) عملی ساخت (i)
(Divisional Structure) تقسیمی ساخت (ii)
(Functional Structure) عملی ساخت
ایک جیسے کاموں کو کسی ایک فنکشن کے تحت زمرہ بند کرنے اور پھر ایسے بڑے بڑے فنکشنوں کی الگ الگ شعبوں میں تنظیم کاری کرنے سے عملی ساخت (Functional Structure) وجود میں آتی ہے۔ یہ تمام شعبے ایک رابطہ افسر (Co-Ordinating Lead) کو رپورٹنگ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مینو فکچرنگ کمپنی پیداوار، خریداری، مارکیٹنگ، اکاؤنٹس اور ملازمین وغیرہ جیسے کام الگ الگ کلیدی فنکشنوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ان شعبوں کو مزید تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا عملی ساخت ایک ایسا تنظیمی روپ ہے جو ایک جیسے یا باہم مربوط کاموں کی زمرہ بندی کرتا ہے۔
:(Advantages) فوائد
:عملی ساخت کے بہت سے فوائد ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم درج ذیل ہیں
عملی ساخت پیشہ وارانہ مہارت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ کیوں کہ یہاں خصوصی کاموں کی طرف توجہ مرکوز ہوتی ہے۔ اس سے انسانی وسائل کے استعمال کوفروغ ہوتا ہے۔ کیوں کہ ملازمین ایک ہی شعبے میں ایک ہی طرح کے کاموں کو انجام دیتے ہیں اور اس طرح ان کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔
اس سے ایک ہی شعبے میں کنٹرول اور تال میل کو تقویت ملتی ہے کیوںکہ انجام دیے جانے والے کاموں میں یکسانیت ہوتی ہے۔ (b)
اس سے مینجمنٹ اور ملازمین کی عملی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجے میں کاروبار کے منافع میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ (c)
اس کے نتیجے میں کام دو دوبار نہیں ہوتا اور اس طرح کوششیں ضائع نہیں ہوتیں بلکہ ان کی بڑے پیمانے پرکفایت شعاری ممکن ہوتی ہے اور جس سے لاگتوں میں کمی آتی ہے۔ (d)
اس سے ملازمین کی تربیت آسان ہوجاتی ہے کیوں کہ مہارتوں کے محدود حلقے پر توجہ مرکوز ہوتی ہے۔ (e)
عملی ساخت
مینیجنگ ڈائریکٹر
خریداری
تحقیق اور ترقی
مارکینگ
وسائل انسانی
تمام کام توجہ سے انجام پاتے ہیں۔ (f)
:(Disadvantages) نقصانات
عملی ساخت کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنھیں ہر تنظیم کو عملی ساخت کے اس طریقے کے اختیار کرنے سے پہلے ہر تنظیم کوذہن نشین کرلینا چاہیے۔
عملی ساخت (Functional Structure) میں عملی سربراہ کے ذریعے طے کردہ مقاصد کے مقابلے کاروباری ادارے کے مجموعی مقاصد پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اس طریق کار سے عملی تجارتی ادارے (Functional Empires) پروان چڑھتے ہیں۔جہاں کسی خاص کام کی اہمیت پر ضرورت سے زیادہ توجہ مرکوز ہوجاتی ہے۔ شعبہ جاتی مفادات کو تنظیمی مفادات کی قیمت پر رکھا جاتاہے اس سے دو یا دو سے زیادہ شعبوں کے مابین تعامل (Interaction) میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
اس سے تال میل کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں کیوںکہ اطلاعات کا تبادلہ ان تمام شعبوں ہی میں ہوتا ہے جو عملی طور پر ممتاز ہوتے ہیں۔ (b)
اگر دو یا دو سے زیادہ شعبوں میں باہم توافق نہ ہو تو مفادات کی کشمکش پیدا ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر شعبۂ فروخت صارفین دوست (Customer Friendly) اسکیموں پر بضد ہو تو اس سے پیداواری مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ ان تنظیمی مفادات کی تکمیل میں نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ الگ الگ ذمہ داریاں طے نہ ہونے کی صورت میں شعبوں کے مابین کشمکش پیدا ہوسکتی ہے۔
اس سے غیر لچک دار انداز کو طاقت ملتی ہے۔ کیوں کہ یکساں مہارتوں اور علم والے لوگوں سے تنگ نظری فروغ پا سکتی ہے اور اس طرح وہ دوسرے کے نقطۂ نظر کی تعریف نہیں کریں گے۔عملی سربراہوں (Functional Heads)کو مینجمنٹ کے اعلیٰ عہدوں کی تربیت حاصل نہیں ہوتی کیوںکہ ان کو مختلف شعبوں کا تجربہ حاصل نہیں ہوتا۔
اس کے بارے میں سوچیے
باقاعدگی سے اخبار پڑھیے اور مختلف کاروباری تنظیموں کی ساختوں کی نشان دہی کیجیے ۔کیا ان کی ساختوں نے کچھ بہتر صورت اور مطلوبہ نتائج حاصل کیے۔
عملی اور تقسیمی ساخت کو ظاہر کرتا ھوا تنظیمی چارٹ
مینیجنگ ڈائریکٹر
جلد کی دیکھ بھاکل سے متعلق
جوتے
کپڑے
کاس میٹک
خریداری
تحقیق اور ترقی
مارکیٹنگ
انسانی وسائل
:(Suitability) موزونیت
جب کسی تنظیم کا سائز بڑا ہو اس کی سرگرمیاں مختلف النوع ہوں اور اس کے کاروباری معاملات میں اعلیٰ درجے کی مہارت و تخصیص کی ضرورت ہو تو یہ عملی ساخت زیادہ مناسب رہتی ہے۔
:(Divisional Structure) تقسیمی ساخت
بہت سی بڑی تنظیموں نے جن کی مختلف النوع سرگرمیاں ہیں، اپنے آپ کو سادہ اور بنیادی عملی ساخت کے بجائے تقسیمی ساخت کے طور پر منظم کیاہے جو ان کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ مناسب و موزوں ہے۔ یہ خاص طور پر ان کاروباری اداروں کے لیے زیادہ مناسب ہے جو ایک سے زائد مصنوعات کی مینو فکچرنگ کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ اگرچہ ہر تنظیم ایک ہی جیسے مختلف کاموں کو انجام دیتی ہے لیکن چوں کہ ان کے پیداواری زمروں میں تنوع ہوتا ہے اس لیے ایک زیادہ ارتقا یافتہ ساختیاتی ڈیزائن (Sturctural Design) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ تنظیم پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے نبرد آزما ہوسکے۔
ایک تقسیمی ساخت میں تنظیمی ڈھانچہ علاحدہ کاروباری اکائیوں یا ڈویژنوں (Divisions) پر مشتمل ہوتاہے۔ ہر اکائی کا ایک ڈویژنل منیجر ہوتاہے جو کارکردگی کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے اور وہ اس اکائی کا مختار ہوتاہے۔ عام طور پر انسانی قوت کی زمرہ بندی مختلف مصنوعات کی پیداوار بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ہر اکائی کثیر عملی ہوتی ہے کیوںکہ ہر ڈویژن کے اندر پیداوار، مارکیٹ ، مال اور خریداری وغیرہ سے متعلق کاموں کو یکجا طور پر انجام دیا جاتاہے تاکہ مشترکہ مقصد کو حاصل کیا جاسکے۔ ہر ڈویژن اپنی جگہ مکمل ہوتی ہے کیوںکہ اسے کاروباری مصنوعات سے متعلق تمام کاموں میں مہارت کا مظاہرہ کرنا ہوتاہے۔
دوسرے الفاظ میں ہر ڈویژن کے اندر عملی ساخت کو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ بہرحال مختلف ڈویژنوں اور شعبوں میں مصنوعات کے لحاظ سے کام مختلف ہوسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر ڈویژن نفع کے ایک مرکز کے طور پر کام کرتا ہے جہاں اس کا سربراہ اپنے ڈویژن کے نفع یا نقصان کے لیے ذمے دار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بڑے پیمانے کی کمپنی میں کوسمیٹکس، اور کپڑوں وغیرہ کے ڈویژن ہوسکتے ہیں۔
عملی اور تقسیمی ساختوں کا موازنہ
| تقسیمی ساخت |
عملی ساخت |
بنیاد |
| تشکیل مصنوعات کے پیمانے پر ہوتی ہے جس کی تصدیق کاموں سے ہوتی ہے |
تشکیل کاموں کی بنیاد پر ہوتی ہے |
تشکیل |
| مصنوعاتی تخصیص و مہارت |
عملی تخصیص |
تخصیص |
| کارکردگی کے لیے ذمہ داری کا تعین کرنا آسان |
کسی ایک شعبے پر ذمہ داری ڈالنا مشکل ہے |
ذمہ داری |
| آسان تر، خود مختاری نیز مختلف النوع کاموں کو انجام دینے کا موقع مینجمنٹ کے فروغ میں مددگار ہوتا ہے |
مشکل، کیوں کہ ہر عملی منیجر ( Functional Manager کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ مینجمنٹ کو باخبر رکھے ) |
مینجمنٹ کا فروغ |
| مختلف شعبوں میں وسائل کو بار بار دہرائے جانے کے سبب نہنگی |
کاموں کا بار بار نہ دہرائے جانے کے سبب کفایتی |
لاگت |
| آسان ، کیوں کہ ایک خاص شے سے متعلق تمام کام ایک ہی شعبے میں یکجا اور مکمل ہوتے ہیں |
کسی مختلف قسم کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی کے لیے مشکل |
تال میل |
او این جی سی کا تنظیمی چارٹ
(Structural Transformation of ONGC) میں ساختیاتی تبدیلی ONGC
اپنے آغاز ہی سے ONGC ملک کے اہم لیکن محدود سیکٹر کو ایک بڑا مساوی مواقع والا مشن بنانے میں مصروف ہے جس کا دائرہ کار ہند وبیرون ہند میں پھیلا ہو۔
1990 کی دہائی ONGC کے لیے بڑی سخت تھی
۔ الگ بھگ ایک دہائی کے عرصے میں کارپوریشن غیر یقینی حالات سے ابھر سکی ۔
دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ، کارپوریشن تنظیمی کمزوری کا بھی شکار تھی۔ ONGC نے اپنی بقاکے لیے MC Kinsey سے بھی مدد حاصل کی۔
Mc Kinsey کا یہ کہنا تھا کہ ایک ایسی تنظیمی ساخت قائم کی جائے جو کاروبار پر مشتمل تنظیموں کے مقابلے اس کی کاروباری ضرورتوں کے لیے موثر ہو۔ ONGC سسٹم جو عملی سربراہوں کے ذریعے لاگوکیا گیا ہے، اس میں اکثر ایک سال سے بھی زیادہ تاخیر ہوجاتی تھی بالخصوص ان معاملات میں جن سے متعلق فی الفور فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چوں کہ پیداوار کی سطح پر ذمہ داریاں مختلف کاروباری گروپوں میں بٹی ہوئی تھیں اس لیے ذمے داری قبول کرنے کے مسئلہ پر بھی ایک نزاع موجود تھا۔ اس طرح گروہی وفاداریاں اکثر تفویض کردہ کاموں پر غالب آجاتی تھیں۔ لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کارکردگی کی جانچ کا طریقہ کاروباری گروپوں کے پیمانوں کے مطابق تھا۔ مکمل طور پر مختلف میدانوں کی ضروریات کے مخالف تھا۔ Mc Kinsey نے ایک اثاثے (Asset-based Theory) کی تجویز پیش کی جس میں بہت واضح طورپر ذمے داریوں کو بیان کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ Mc Kinsey کی تجاویز کو بڑے پیمانے پر منظور کرلیا گیالیکن مشترک خدمات سے متعلق تال میل کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔
بالآخر ، تمام عملے پر کنٹرول اثاثہ منیجروں کے سپرد کردیا گیا۔ ان منیجروں کو اس بات کا ذمے دار قرار دیا گیا کہ وہ اپنی اپنی اکائیوں کے ملازمین کی کارکردگی کی دیکھ بھال کریں۔ یہاں تک کہ حصول طاقت یعنی عہدوں کے حاصل کرنے کے لیے بھی ذمے داریاں تفویض کی گئیں۔ بالآخر 14اثاثوں اور 11مرکزی خدمات پر مشتمل ایک ڈھانچہ تیار کیا گیا اور اس کو نافذ کیاگیا۔
اسے خود کیجیے
پچھلے صفحہ پر ONGCکے تنظیمی ڈھانچے کو بطورمثال دکھایا گیا ہے۔ دوسری تنظیموں کی ویب سائٹس کھولیے اور ان کے تنظیمی چارٹ کا مطالعہ کیجیے۔ جس ساخت کو وہ استعمال کر رہے ہیں اس کی نشان دہی کیجیے۔ (Structure)
:فوائد
تقسیمی ساخت کے بہت سے فوائد ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم درج ذیل ہیں:
( ) مصنوعاتی تخصیص سے ڈویژنل سربراہ میں مختلف طرح کی مہارتوں کے فروغ میں مدد ملتی ہے جس سے وہ اعلیٰ مراتب کے لائق ہوجاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ وہ ایک مخصوص پیداوار، سےمتعلق تمام کاموں کا تجربہ حاصل کرلیتا ہے۔
(b) ڈویژنل سربراہ منافع کے ذمے دار ہوتے ہیں کیوں کہ مختلف شعبوں سے متعلق ریونیو اور لاگتوں کی شناخت کرکے ذمے داری کو ان کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔ اس سے کارکردگی کی جانچ کے لیے مناسب بنیاد فراہم ہوتی ہے۔ یہ کسی ڈویژن کی ناقص کارکردگی کی صورت میں ذمہ داریوں کو بھی طے کرسکتی ہے اور اس طرح مناسب تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔
(c) اس سے لچیلے پن اور تخلیقیت کو فروغ حاصل ہوتا ہے کیوںکہ ہر ڈویژن ایک خود مختار اکائی کے طورپر کام کرتا ہے جس سے فیصلہ سازی میں تاخیر نہیں ہوتی۔
(d) نئی مصنوعات کے لیے موجودہ کاموں (Operations) میں کسی خلل اندازی کے بغیر صرف ڈویژنل سربراہ اور عملہ کے اضافے سے ہی نئے ڈویژن کھولے جاسکتے ہیں اس لیے اس سے توسیع اور ترقی کو فروغ ہوتا ہے۔
:(Disadvantages) نقصانات
ڈویژنل ساخت کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(a) فنڈکے اختصاص کے معاملے میں مختلف ڈویژن میں تصادم پیدا ہوسکتا ہے۔ نیز ایک ڈویژن دوسرے ڈویژنوں کی قیمت پر اپنے منافعوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔
(b) اس سے لاگتوں میں اضافے کے امکانات بھی ہیں کیوںکہ مصنوعاتی سرگرمیاں ایک بار سے زیادہ بھی انجام پذیر ہوسکتی ہیں۔ایک ہی جیسے کام کے لیے الگ الگ ڈویژنوںکو پیسوں اور سہولتوں کی فراہمی سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
(c) اس سے کسی ڈویژن کی تمام سرگرمیوں سے متعلق منیجروں کو اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منیجر کی طاقت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پھر اپنی آزادیٔ حق پرجمے رہتے ہوئے وہ تنظیمی مفادات کو بھی نظر انداز کرسکتا ہے۔
:(Suitability) موزونیت
ڈویژنل ساخت ان کاروباری اداروں کے لیے مناسب ہے جہاں مختلف پیداواری وسائل کا استعمال کرکے مختلف النوع مصنوعات کی پیداوار ہوتی ہے۔ جب کسی تنظیم کی توسیع وترقی ہوجاتی ہے اور نتیجتاً اس کو ملازمین کے اضافے، مزید شعبوں کے قیام اور مینجمنٹ کی نئی سطحوں کو متعارف کرانے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ڈویژنل ساخت اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ٹیبل 1میں عملی ساخت اور تقسیمی ساخت کا موازنہ کیا گیا ہے تاکہ اس موضوع سے متعلق مزید وضاحت کی جاسکے۔
لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ کاروبار ایک موثر ماحول میں ہی چل پاتاہے اور وہ کاروباری ادارے جو تبدیلی کو اپنانے میں ناکام ہوتے ہیں،ان کا وجود غیر یقینی ہوجاتاہے۔ لہٰذا مینجمنٹ کو اپنے منصوبوں اور مقاصد پر مسلسل نظرثانی کرتے رہنا چاہیے۔اور اسی طرح اگر ترمیم کی ضرورت ہو تو تنظیمی ڈھانچے میں وقتاً فوقتاً نظرثانی کرتے رہنا چاہیے۔
ایک تنظیمی ساخت کو ہمہ وقت کاروباری ادارے کے مقاصد کے حصول کی طرف نظر رکھنی چاہیے۔ اور اس کے لیے نئے نئے قدم اٹھانے چاہئیں تاکہ عملے (Personnel) کی خدمات بھر پور اور موثر ہوسکیں۔
(Formal & Informal Organisation) رسمی اور غیر رسمی تنظیم
تمام تنظیموں میں، اصول و ضوابط اور طریقۂ کار ملازمین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کاروباری ادارے کے کاموں کو ڈھنگ
سے چلانے کے لیے سونپے گئے کاموں کی وضاحت اور طریقۂ کار سے متعلق اصول و ضوابط کا تعین کرنا ضروری ہے۔ یہ رسمی تنظیم (Formal Organisation) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
رسمی تنظیم سے مراد وہ تنظیمی ساخت ہے جو کسی مخصوص کام کے انجام دینے کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہے۔ یہ ذمہ داریوں اور اختیارات کی حدود کو صاف طور پر واضح کرتی ہے۔ ایسی تنظیم میں مقاصد کے حصول کے لیے مختلف سرگرمیوں کے درمیان ایک باقاعدہ تال میل ہوتاہے۔
رسمی تنظیم میں ساخت عملی یا تقسیمی (Functional or Divisional) کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ رسمی تنظیم کو اس کی خصوصیات کے مطالعے کے ذریعے، جو درج ذیل ہیں، بہتر :طور پر سمجھا جاسکتا ہے
(a) یہ ملازمین کے مختلف عہدوں کے درمیان ربط و تعلق کی اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کی وضاحت کرتی ہے۔ اس سے اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ کون کس کو رپورٹ دے گا اور کس سے لے گا۔
یہ ان مقاصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے جن کی صراحت منصوبوں میں کی جاچکی ہوتی ہے کیوں کہ یہ ان کے حصول کے اصول و ضوابط اور طریقِ کار کا تعین بھی کرتی ہے۔ (b)
رسمی تنظیم کے ذریعے مختلف شعبوں کی کوششوں میں تال میل قائم کیا جاتاہے۔ ان کو مربوط کیا جاتاہے اور ان کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کی جاتی ہے۔ (c)
تنظیم کو ڈھنگ سے چلانے کے لیے اعلیٰ مینجمنٹ اس کو بامقصد وضع کر تا ہے۔ (d)
رسمی تنظیم ملازمین کے درمیان باہمی تعلق کے مقابلے ان کے ذریعے انجام پانے والے کام کی طرف زیادہ توجہ دیتی ہے۔ (e)
:(Advantages) فوائد
:رسمی تنظیم بہت سی خوبیوں کی حامل ہے ان میں سے کچھ اہم درج ذیل ہیں
ذمہ داریوں کا تعین کرنا آسان تر ہوتا ہے کیوں کہ باہمی روابط کی صاف طور پر وضاحت کردی جاتی ہے۔ (a)
جس شخص کو جو ذمے داری انجام دینی ہوتی ہے وہ متعین ہوتی ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہوتا۔ (b)
اس سے کوششوں کے دوہرے پن یعنی غیر ضروری طور پر دہرائے جانے سے بچا جاسکتا ہے۔
( c) کمانڈ کی ایک طے شدہ زنجیر (Chain of Command) کے ذریعے، کمانڈ کی وحدت کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
رسمی تنظیم، تمام کاموں کی انجام دہی کے لیے ایک خاکہ مہیا کرکے مقاصد کے حصول کے لیے ایک موثر کردار ادا کرتی ہے اور یہ بھی یقینی بناتی ہے کہ کس ملازم کو کیا کام انجام دینا ہے۔
یہ تنظیم کو استحکام بخشتی ہے۔ چوںکہ ملازمین کی رہنمائی کے لیے اصول وضوابط طے شدہ ہوتے ہیں اس لیے ملازمین کے رویوں کی بھی واضح طور پر پیشین گوئی کی جا سکتی ہے۔ (e)
:(Disadvantages) نقصانات
رسمی تنظیم سے درج ذیل نقصانات ہیں:
(a) رسمی ترسیل کی وجہ سے کارروائی میں تاخیر ہوسکتی ہے کیوںکہ کمانڈ کی طے شدہ زنجیر کے مطابق ہی کام کیا جاتا ہے۔ اس سے فیصلہ سازی میں لیا جانے والا وقت بڑھ جاتاہے۔
(b) ناقص تنظیمی معاملات کی وجہ سے تخلیقی جوہر کی کھلے دل سے ستائش نہیں ہوپاتی کیوںکہ اس روایتی پالیسی سے انحراف کی اجازت کم ہی ہوتی ہے۔
(c) کسی کاروباری ادارے میں تمام انسانی روابط کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے کیوںکہ اس میں زیادہ توجہ ساخت اور کام پر ہوتی ہے۔ لہٰذا رسمی تنظیم اس بات کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی کہ ایک تنظیم کیسے کام کرتی ہے۔
(Informal Organisation) غیر رسمی تنظیم
ملازمین کے درمیان تعامل (Interaction) سے ان کے مابین سماجی تعلقات کا جونیٹ ورک ابھرتا ہے، وہ غیر رسمی تنظیم کہلاتاہے۔
جب لوگ اپنے دفتری امور سے ہٹ کر ایک دوسرے سے ملتے ملاتے اور تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے تو ہیں غیر رسمی تنظیم کا ایک نیٹ ورک ظہورپذیر ہوتا ہے۔جب لوگوں کے مابین باہمی رابطہ اور تعلق زیادہ ہوتا ہے تو سخت قسم کی کسی رسمی تنظیم کے لیے راہ ہموار نہیں ہوتی البتہ لوگوں کے درمیان باہمی تعلق اور دوستی ہو تو ایسے گروپ تشکیل پاتے ہیں جن کے مفادات یکساں نوعیت کے ہوں۔ جو لوگ کسی چھٹی کے دن کرکٹ میچ کھیلتے ہیں یا کسی کافی ہاؤس وغیرہ میں ملتے ملاتے ہیں یا ڈراموں وغیرہ میں حصہ لیتے ہیں اور جن کے مشترکہ مفادات ہیں ان کے گروپ غیر رسمی تنظیموں کی مثالیں ہیں۔غیر رسمی تنظیم کا کوئی تحریری اصول نہیں ہوتا۔ یہ اپنی شکل اور دائرۂ کار میں رواں دواں ہوتی ہے اور خبر رسانی کے متعین خطوط پر مبنی نہیں ہوتی۔ اگلے صفحے پر ٹیبل میں غیر رسمی تنظیم کا رسمی تنظیم سے موازنہ کیا گیاہے تاکہ دونوں قسم کی تنظیموں کے بارے میں بہتر تفہیم حاصل کی جاسکے۔
غیر رسمی تنظیم کو درج ذیل خصوصیات کی مدد سے زیادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
( a )غیر رسمی تنظیم رسمی تنظیم کے اندر ہی سے ملازمین کے مابین ذاتی تعامل (Interaction)کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے۔
رویّوں کے معیار گروپ کے معیاروں ہی سے مرتب ہوتے ہیں نہ کہ با ضابطہ متعین طور پر وضع کردہ اصول و ضوابط سے ۔ (b)
ترسیل کی واضح ہدایات کے بغیر ہی، گروپ کے ممبروں کے درمیان ترسیل کے آزاد چینل کام کرتے ہیں۔ (c)
یہ خود بخود وجود میں آتی ہے اور اسے مینجمنٹ کے ذریعے عمداً قائم نہیں کیا جاتا۔ (d)
اس کی کوئی واضح و متعین ساخت نہیں ہوتی کیوں کہ یہ افراد کے درمیان سماجی تعلقات پر مبنی ایک پیچیدہ نیٹ ورک ہے۔ (e)
(Formal Organisation) رسمی تنظیم
رسمی تنظیم بالکل واضح طور پر طے شدہ کاموں کا ایک نظام ہے، اور ہر کام کی ذمے داری، جواب دہی اور اختیارات بھی طے شدہ ہیں۔
(Louis Allen) لویس ایلین
رسمی تنظیم مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے دو یا دو سے زائد لوگوں کی شعوری طور پر مربوط سرگرمیوں کا ایک نظام ہے۔
(Chester Barnand) چیسٹر برنانڈ
:(Advantages) فوائد
غیر رسمی تنظیم کے بہت سے فوائد ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم ذیل میں دیے گئے ہیں۔
(a) اس میں ترسیل کے مجوزہ خطوط کی پیروی نہیں کی جاتی۔ لہٰذا غیر رسمی تنظیم میں اطلاعات کی ترسیل بھی تیز ہوتی ہے اور اس سے نتائج بھی جلدی سامنے آتے ہیں۔
(b) یہ ممبروں کی سماجی ضرورتوں کی تکمیل میں مدد کرتی ہے اوراس میں ہم فکروہم خیال لوگ یکجا ہوجاتے ہیں اور اس طرح ان کے مابین جو اپنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے اس سے ان کے اندر ملازمت کے تئیں تسکین ویکسوئی پیدا ہوتی ہے۔
(c) غیر رسمی تنظیم، رسمی تنظیم کی خامیوں کی تلافی کرتی ہے اور اس کے مقاصدکی تکمیل میں مدد گار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر منصوبوں اور پالیسیوں کے معاملے میں ملازمین کے ردِّ عمل کو غیر رسمی نیٹ ورک (Networks) کے ذریعے جانچا جاسکتا ہے۔
غیر رسمی تنظیم
ایک غیر رسمی تنظیم بغیر کسی شعوری مقصد کے بین شخصی روابط و تعلقات کا ایک مجموعہ ہے۔لیکن مشترکہ نتائج کے حصول میں معاون ہوتی ہے۔
چیسٹر برناڈ (Chester Barnand)
غیر رسمی تنظیم ذاتی اور سماجی روابط کا ایک نیٹ ورک ہے جو نہ رسمی تنظیم کے ذریعے قائم ہوتی ہے اورنہ مطلوب ہے۔ لیکن لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ربط وضبط ہونے کے نتیجے میں خودبخود وجود میں آتی ہے۔
کیتھ ڈیوس (Keith Davis)
:(Disadvantages) نقصانات
غیر رسمی تنظیم کے کچھ نقصانات بھی ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
غیر رسمی تنظیم، جب افواہیں پھیلا کر ایک موجب تفریق طاقت بن سکتی ہے۔ یہ رسمی تنظیم کے مفاد کے خلاف کام کرسکتی ہے۔ (a)
(b) اگر غیر رسمی تنظیم، مینجمنٹ کی نافذ کردہ تبدیلیوں کے مخالف ہو تو، مینجمنٹ کا کامیاب ہونا مشکل ہوتا ہے۔ ان کی مزاحمت سے کاروباری فروغ میں تاخیر یا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔
(c) غیر رسمی تنظیم ممبران پر یہ بھی دباو ڈال سکتی ہے کہ اس گروپ کی توقعات کے مطابق ہی کام کریں۔ اگر گروپ کی توقعات تنظیم کے مفادات کے خلاف ہوں تو یہ چیز تنظیم کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
غیر رسمی تنظیم کو کلی طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا تنظیم کے بہترین مفاد کے لیے یہ ہونا چاہیے کہ اس طرح کے گروپوں کو تسلیم کیا جائے اور وہ کردار جو ان کے ممبران کو ادا کرنا ہے اس کی نشان دہی کردی جائے۔ اس قسم کے گروپوں کے علم ، مہارت اور ان کی حمایت کو یکجا کرکے استعمال کیا جاسکتاہے اور نتیجتاً اس سے تنظیمی کارکردگی بہتر ہوگی۔ اس طرح کے گروپ مفید ذرائع ترسیل فراہم کرسکتے ہیں۔ ان سے تصادم کے بجائے، مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ رسمی و غیر رسمی دونوں تنظیموں کو فنی چابک دستی کے ساتھ اپنا لے تاکہ تنظیم ڈھنگ سے چلتی رہے۔
رسمی و غیر رسمی تنظیم کا موازنہ
(Formal and Informal Organisation: A comparative View)
| غیر رسمی تنظیم |
رسمی تنظیم |
بنیاد |
| ملازمین کے درمیان باہمی تعامل ( Interaction ) سے پیدا شدہ سماجی رشتوں کا نیٹ ورک |
مینجمنٹ کے ذریعے بتائے گئے اختیارات کے رشتوں کی ساخت |
مفہوم |
| سماجی تعامل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے |
کمپنی کے اصول و ضوابط اور پالیسی کے نتیجے میں قائم ہوتی ہے |
اصل ماخذ |
| ذاتی صلاحیتوں کی بنا پر قائم ہوتی ہے |
مینجمنٹ میں و عہدے کی صلاحیت کی بنا پر قائم ہوتی ہے |
اختیار |
| طریق کار کا کوئی باضابطہ اصول( Pattern ) نہیں ہے |
یہ اصول و ضوابط کے ذریعے چلائی جاتی ہے |
برتاو |
| ترسیل منصوبہ بند نہیں ہوتی یہ کسی بھی سمت واقع ہوسکتی ہے |
ترسیل کا بہاو ایک منظم زنجیر کے ذریعے ہوتا ہے |
ترسیل |
| لوچ دار |
سخت اور بے لوچ |
نوعیت |
| قائد منیجر ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ انھیں گروپ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے |
منیجر قائد ہوتے ہیں |
قیادت |
(Delegation) اختیارات کی تفویض
ایک منیجر، قطع نظر اس کے کہ وہ کتنا ہی اہل ہو، صرف اپنے بل بوتے پر ہر کام کا مینجمنٹ از خود نہیں کرسکتا۔ کام بہت زیادہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ وہ تمام تر مینجمنٹ کو ازخود دیکھے۔ اس لیے اگر وہ چاہتا ہے کہ تنظیمی نشانوں کی تکمیل ہو، مقاصد پر ضروری توجہ دی جائے اور تمام امور خوش اسلوبی سے انجام پا جائیں تو اس کو لازمی طو رپر اختیارات کی تفویض کرنی پڑے گی۔
اختیارات کی تفویض (Delegation) سے مراد ہے کہ ایک اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے ایک ماتحت کو یعنی اوپر سے نیچے کی کی طرف اختیارات کی منتقلی کو موثرطور پر چلانے کے لیے اولین اور لازمی عمل ہے کیوںکہ اسے ایک منیجر اپنے وقت کو اعلیٰ ترجیحی سرگرمیوں میں استعمال کرسکتا ہے۔ اس سے ماتحتوں کی ضرورتیں بھی پوری ہوتی ہیں، وہ ترقی بھی کرسکتے ہیں اور نیا پن بھی لاسکتے ہیں۔
اختیارات کی تفویض سے منیجر اپنے کاروباری معاملات کے دائرۂ کار کو پھیلاسکتا ہے کیوںکہ اس کے بغیر اس کی سرگرمیاں محض اس حد تک محدود رہ جاتی ہیں جو وہ بذاتِ خود کرسکتا ہے۔ اس لیے تفویضِ اختیارات کا مطلب کام سے دست برداری یا علاحدگی ہرگز نہیں، منیجر مفوضہ کاموں کی انجام دہی کے لیے پھر بھی جواب دہ ہوگا۔ مزید یہ کہ کسی ماتحت سے تفویض کردہ اختیار کو واپس بھی لیا جاسکتاہے اور اسے کسی دوسرے شخص کو دوبارہ تفویض کیا جاسکتاہے۔ اس طرح، تفویض کردہ اختیارات کی حد سے قطع نظر، منیجر پھر بھی اس حد تک جواب دہ ضرور ہوگا جتنا وہ تفویض سے پہلے تھا۔
تفویض اختیارات
تفویض اختیار ایک ایسا عمل ہے جو کوئی منیجر اپنے ذمے کاموں کی تقسیم کے لیے انجام دیتاہے تاکہ وہ صرف وہی کام انجام دے جو اس کے منفرد تنظیمی وقار و مقام کے موافق ہے۔جنھیں موثر طور پر انجام دے سکتا ہے اور اس طرح باقی بچے کاموں کو دوسروں کی مدد سے انجام دے سکتا ہے۔
لویس ایلین Lousin Allen
تفویض اختیارات کا مطلب بس اتنا ہے کہ اختیارات کو ماتحتوں کے سپرد کردیا جائے تاکہ انھیں مجوزہ حدودمیں انجام دے سکیں۔
تھیوہیمین Theo Haiman
تفویض اختیار نہ ہونے کی صورت میں فیصلہ سازی میں تاخیر ہوتی ہے
تمام فائلوں پر میری منظوری لازمی ہے
(Elements of Delegation) تفویض اختیار کے عناصر
لویس ایلن (Louis Allen) کے مطابق، تفویض اختیار کا مطلب ہے ذمے داریوں اور اختیارات کو دوسرے اشخاص کو تفویض کر دینا اور ان کو کارکردگی کے لیے جواب دہ بنانا۔
لویس ایلن کی تعریف کے تفصیلی تجزیے سے تفویض اختیار کے درج ذیل لازمی عناصر پر روشنی پڑتی ہے۔
:(Authority) اختیارات (i)
اختیارات سے مراد وہ حق ہے جو کسی فرد کو اپنے ماتحتوں کی قیادت کے لیے حاصل ہوتا ہے اور اس حق کے سبب وہ اپنے عہدے کے حدود میں اسے استعمال کرتاہے۔ اختیارات کا نظریہ معینہ عددی زنجیر سے قائم ہوتا ہے جو تنظیم کے مختلف مفوضہ منصوبوں اور سطحوں کو جوڑتا ہے۔ اختیار سے مراد فیصلہ لینے کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہہ سکے کہ تم کو فلاں فلاں کام کرنے ہیں نیز یہ کہ ملازمین یا عہدے داران سے کن کن کاموں کی توقع ہے۔ اختیار مینجمنٹ کا جزولاینفک ہے۔
رسمی تنظیم میں اختیار کسی فرد کے عہدے کے مطابق وجود میں آتاہے اور اختیار کی توسیع اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ سے نچلی سطحوں کی طرف کم ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح اختیار اوپر سے نیچے کی طرف چلتا ہے یا یوں کہیے کہ اعلیٰ عہدے داران کو ماتحتوں پر اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔
اختیارات کا رابطہ تنظیم میں نظم و ضبط قائم رکھنے میں مدد کرتاہے یعنی منیجر اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ماتحت ان کی فرماں برداری کریں اور ملازمین ان کی ہدایات پر عمل کریں۔
اختیار اعلیٰ عہدے داروں اور ماتحتوں کے تعلق کو طے کرتا ہے جس میں اعلیٰ عہدے دار ماتحتوں کو اپنے فیصلوں سے آگاہ کرتا ہے۔ ان سے اپنے احکام کی تکمیل کی توقع رکھتاہے اور ماتحت اپنے اعلیٰ عہدے دار کی رہنمائی میں ان فیصلوں پر عمل در آمد کرتاہے۔ ایک اعلیٰ عہدے دار کس حد تک اپنے ماتحت کو اپنے حکم کی تعمیل پر مجبور کر سکتا ہے، اس کا انحصار اعلیٰ عہدے دار کی شخصیت پر ہے۔
یہ بات لازمی طور پر نوٹ کرلینی چاہیے کہ اتھارٹی کا حق اختیار کسی تنظیم کے اصول و ضوابط کا پابند ہوتا ہے اور وہی اس کا دائرہ عمل متعین کرتے ہیں۔ بہرحال جیسے جیسے ہم مینجمنٹ کے نظام مراتب (hierarchy) میں بلند تر ہوتے جاتے ہیں، دائرۂ اختیار بڑھتا رہتاہے۔
(( Responsibility ) ذمے داری (ii)
ذمے داری ماتحت کی اس پابندی کا نام ہے جس کے تحت اسے سونپے گئے کام کو باقاعدگی سے انجام دینا ہوتاہے۔ یہ اعلیٰ عہدے دار و ماتحت کے مابین تعلق سے وجود میں آتی ہے کیوں کہ ماتحت اپنی ذمے داری کو جو اسے اپنے اعلیٰ عہدے دار سے ملتی ہے، انجام دینے کا پابند ہوتا ہے۔ لہٰذا ذمے داری کا بہاو اوپر کی طرف ہوتا ہے یعنی ایک ماتحت ہمیشہ اپنے اعلیٰ عہدے دار کو جواب دہ ہوتاہے۔
حق اختیار اور ذمہ داری دونوں سے متعلق ایک اہم قابلِ غور بات جو پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ جب کسی ملازم کو کسی کام کی ذمے داری دی جائے تو اسے اس ذمے داری کو نبھانے کے لیے کسی نہ کسی درجے میں ضروری اختیار بھی ضرور دیا جانا چاہیے۔ لہٰذا ایک مفوضہ اختیار، مفوضہ ذمے داری کے ساتھ لازماً ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اگر عطا کردہ اختیار ذمے داری سے زیادہ ہو تو اس سے اختیار کے غلط استعمال کو فروغ ملے گا۔ اور اگر مفوضہ ذمے داری اختیار سے زیادہ ہو تو اس سے وہ شخص بے کار اور غیر موثر ہوکر رہ جائے گا۔
(Accountability) جواب دہی (iii)
تفویضِ اختیار (Delegation) بلاشبہ ایک ملازم کو اپنے اعلیٰ عہدے دار کے لیے کام کرنے کا مجاز بناتی ہے لیکن پھر بھی نتائج کے لیے اعلیٰ عہدے دار جواب دہ ہوگا۔
جواب دہی کا مطلب ہے آخری نتائج کے لیے جواب دہ ہونا۔تفویض اختیاراور ذمے داری کو قبول کرنے کے بعد پھر کوئی شخص جواب دہی سے انکار نہیں کرسکتا۔ جواب دہی کو تفویض نہیں کیا جاسکتا یعنی یہ کسی کو سونپی نہیں جاسکتی اور یہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے یعنی ایک ماتحت اپنے کاموں کی تسلی بخش انجام دہی کے لیے اپنے اعلیٰ عہدے دار کے لیے جواب دہ ہوگا۔ یہ منیجر کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ماتحت اپنی ذمے داریوں کو ٹھیک طورپر انجام دیں۔تکمیل کیے گئے کام کی حد تک لگاتار باز عمل آوری (Feedback) کے ذریعے اسی پر عمل درآمد کیا جاتاہے۔ ماتحتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے کاموں نیز اپنی فروگزاشتوں کے نتائج کی بھی وضاحت کریں۔
بالآخر، یہ کہا جاسکتاہے کہ جب اختیار (Authority) تفویض کیا جاتا ہے تو ذمے داری سنبھالی جاتی ہے اور جواب دہی عائد کی جاتی ہے۔ ذمے داری، اختیار سے برآمد ہوتی ہے اور جواب دہی ذمہ داری سے برآمد ہوتی ہے۔ جدول میں تفویض اختیار کے عناصر کا ایک مختصر خاکہ پیش کیاگیا ہے۔
کارکردگی کے لیے جواب دہی کا تعین
آپ اس پروجیکٹ کے انچارج ہیں اگر آپ کو میری ضرورت محسوس ہو تو میں یہاں موجود ہوں
(Importance of Delegation) تفویضِ اختیارات کی اہمیت
تفویض اختیارات سے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ ماتحت منیجر کی ایما پر کام انجام دیتے ہیں جس سے اس کے کام کا بار کم ہوجاتا ہے اور اہم معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے زیادہ وقت مل جاتاہے۔ موثر تفویض اختیار کے درج ذیل فوائد ہیں:
تفویض اختیار کے عناصر کا ایک مختصر خاکہ
(Overview of the elements of delegation)
| ( Accountability )جواب دہی |
( Responsibilty )ذمہ داری |
( Authority )اختیار |
بنیاد |
| تفویض کردہ کام کے نتیجے کے لیے جواب دہی |
مفوظہ کام کو انجام دینے کی پابندی |
کمانڈ کا حق |
مفہوم |
| کسی بھی طور پر تفویض نہیں کی جسکتی |
پورےطور پر تفویض نہیں کی جاسکتی |
تفویض کیا جا سکتا ہے |
تفویض |
| ذمہ داری سے طے ہوتی ہے |
تفویض کردہ اختیار سے ظہور پذیر ہوتی ہے |
رسمی عہدے سے ظہور پذیر ہوتا ہے |
اصل ماخذ |
| ما تحت سے اعلیٰ عہدے دار تک اوپر کی طرف بہاو ہوتا ہےس |
ماتحت سے اعلیٰ عہدے دار تک اوپر کی طرف بہاو ہوتا ہے |
اعلیٰ عہدے دار سے ماتحت کی طرف کی سمت بہاو ہوتا ہے |
بہاو |
:موثر مینجمنٹ (i)
ملازمین کو اختیار ات دے کر، منیجر حضرات زیادہ موثر طور پر کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں کیوں کہ اہم معاملات میں اپنی توجہ مرکوز کرنے کے لیے ان کو زیادہ وقت مل جاتاہے۔ چوں کہ ان کو روز مرہ کے کاموں سے نجات حاصل ہوجاتی ہے اس لیے انھیں نئے میدانوں میں کچھ نیا اور اچھا کرنے کے مواقع حاصل ہوجاتے ہیں۔
:ملازمین کا فروغ (ii)
تفویض اختیارات کے نتیجے میں ملازمین کو اپنی ہنرمندیوں کے استعمال کے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں اور اس سے ان کی مخفی صلاحیتوں کو فروغ دیاجاسکتاہے۔ اس سے ان کی مہارتوں کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے اور تاب ناک مستقبل کے لیے بھی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اندر اچھے قائد کی خصوصیات اور فیصلے لینے کی صلاحیت بھی فروغ پاتی ہے۔ لہٰذا تفویض مستقبل کے بہتر منیجر تیار کرنے میں مدد کرتی ہے۔تفویض کار ملازمین کو اپنی ہنرمندیوں کے استعمال کا موقع فراہم کرکے انھیں تقویت پہنچاتی ہے۔ اس سے ان کو تجربات حاصل ہوتے ہیں اور وہ خودکو بلند و برتر عہدوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔
:ملازمین کے لیے ترغیب (iii)
تفویض اختیارات ملازمین کی ہنرمندیوں کو بروئے کار لانے میں مددگار ہوتی ہے۔ اس کے نفسیاتی فوائد بھی ہیں۔ جب کوئی اعلیٰ عہدے دار اپنے ماتحت کو کوئی کام سپرد کرتا ہے تو یہ محض کام کا بانٹنا ہی نہیں ہوتابلکہ اس میں یہ بات بھی پوشیدہ ہوتی ہے کہ منیجر اعلیٰ عہدے دار کو اپنے ماتحت پر اعتماد ہے نیز ماتحت اپنی ذمے داریوں کے تئیں سنجیدہ اور با عمل ہے۔ کام کی ذمے داری ایک ملازم کی عزتِ نفس اور خود داری کی بھی تعمیر کرتی ہے اور اس کے اعتماد و یقین کو بھی بہتر بناتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو حوصلہ مند محسوس کرتا ہے اور اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتاہے۔
(Facilitation of growth) ترقی کی سہولت (iv)
تفویض اختیارات سے تنظیم کو وسعت بھی حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ تفویض، ملازمین کو نئے نئے کاروباروں میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچادیتی ہے۔تربیت یافتہ اور تجربہ کار ملازمین نئے نئے پروجیکٹوں میں اپنی بہتر کارکردگی کے ذریعے نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
عظیم پریم جی کے ساتھ انٹرویو
عظیم پریم جی، بنگلور میں قائم وپرو کے 80فیصد سے زیادہ کے مالک ہیں۔ وہ ہندوستان کے تیسرے سب سے بڑے سافٹ ویئر ایکسپورٹر ہیں جس کا سالانہ محصول 2005میں 1.8 بلین امریکی ڈالر رہا۔ فوربس میگزین کے مطابق ان کی خالص دولت 13بلین امریکی ڈالر سے زائد ہے اور وہ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں پچیسویں نمبر پر ہیں۔ پریم جی روی ایرن (Ravi Aron) سے جو واٹن میں آپریشن اینڈ انفارمیشن مینجمنٹ کے پروفیسر ہیں، وِپرو کی ازسرنو تنظیم کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
ایرن: وویک پال (وپرو کا سابق CEO) نے گزشتہ سال کمپنی چھوڑ دی۔ آپ نے اپنی تنظیمی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ ان تبدیلیوں نے آپ کی مارکٹوں پر اوروپرو کےمستقبل کےتعلق سے آپ کے خیالات پر، کیا اثر ڈالا؟
پریم جی:۔ سب سے زیادہ اہم چیز جسے آپ سراہیں گے یہ ہے کہ ازسر نوتنظیم سے ہم نے وپرو کی قیادت کو صارفین کے قریب لانے کی کوشش کی۔ اس عمل میں ہم نے تنظیم کے اندر نئی طبقہ بندی کی کوشش کی ہے۔ اور اپنے کاروباری قائدین کو زیادہ با اختیار بنایا۔ اسی لیے ہم نے مینجمنٹ کی ایک پوری پرت کو ختم کردیا ہے۔ ہمارا مینجمنٹ عملہ اپنے کاموں میں کافی ہوشیار ہے اور اپنے کاموں کو پوری طرح انجام دیتاہے، اس عزم و یقین کے ساتھ کہ وہ نئی ساخت کے ذریعے بہتر نتائج پیدا کرسکتاہے۔
ایرن: اپنی کمپنی کے نئے ڈھانچے میں، کیا آپ نے P4 کی ذمہ داری کو عمودی سطح پر رکھ کرتنظیم کی از سر نو حد بندی کی ہے؟
(ایڈیٹرکا نوٹ: وِپروکی عمودی ساخت نے کمپنی کو ٹیلی کام سروس پرووائڈرس پروڈکٹ انجینئرنگ سولوشن، فائینانس سولوشنز اور انٹرپرائز سولوشنز کی اکائیوں میں بانٹ دیا ہے۔ یہ اکائیاں بینکنگ، انشورنس اور سیکیوریٹیز وغیرہ جیسی صنعتوں کو مزید بڑھاوا دیتی ہیں)
پریم جی: ہر عمودی ایک مکمل کاروبار کی طرح ہے۔ یہ امریکی معیاروں کے مطابق بھی ایک درمیانی سائز کی کمپنی کی طرح ہے۔کیوںکہ ہر عمودی سالانہ300 بلین امریکی ڈالر کا ریوینو پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ وہ ایک یکساں ساخت کے ماتحت کام کرتی ہے، مالیات، HR کوالٹی اور مارکیٹنگ وغیرہ وسائل کے علاوہ کام کرنے والے لوگ بھی ان کے پاس ہیں۔ لہٰذا نتیجے کے طور پر عمودی ایک علاحدہ کمپنی کی طرح ہے۔
ایرن: کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ ان مکمل کمپنیوں کو مزید اختیار اور ذمے داری تفویض کرنا چاہتے ہیں؟
پریم جی: بالکل
ایرن: اس کے پیچھے آپ کی کیا سوچ ہے؟
پریم جی: یہ سب قیادت پرمنحصر ہے۔ قیادت کا م میں تیزی بھی لاتی ہے اور قیادت سے ہی فیصلے بروقت لیے جاسکتے ہیں۔ یہی بروقت لوگوں کو بااختیار بناتی ہے اور انھیں اس بات کی اجازت دیتی ہے۔ مزید یہ کہ جو لوگ قیادت کو باخبر رکھتے ہیں، قیادت ان کو اور بااختیار بناتی ہے کیوںکہ اب ان کے کام زیادہ ذمے داری کے ہیں۔
http://www. ibef.org/artdisplay. aspx? cat_id=105 & art=id=11158
(Basic of Mangagment Hierarchy) مینجمنٹ کے نظام مراتب کی بنیاد (v)
اختیارات کی تفویض سے ماتحت اور افسر کے درمیان رشتے استوار ہوتے ہیں۔ یہی رشتے مینجمنٹ کے نظام مراتب (Hierarchy) کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہ اقتدار واختیار کے اعلیٰ مقام اور اعلیٰ رسوخ پر منحصر ہے کہ کون کس کو رپورٹ دے گا۔ تنظیم میں کون کیا کام انجام دے گا اور کس کو کون کون سے اختیارات حاصل ہوں گے ان سب باتوں کا تعلق تفویض اختیارات کی توسیع سے ہی ہے۔
:(Better Coordiantion) بہتر تال میل (vi)
تفویض کے عناصر (یعنی اختیار، ذمہ داری اور جواب دہی) سے کسی تنظیم کے مختلف عہدوں کے متعلق اختیارات، فرائض اور جواب دہی کی وضاحت اور صراحت ہوتی ہے۔ اس سے ایک طرف تو فرائض گڈ مڈ نہیں ہوتے اور دوسری طرف کام دو دوبار نہیں ہوتے کیوںکہ اس سے مختلف سطحوں پر ہونے والے کام کی پوری اور واضح تصویر سامنے ہوتی ہے۔ ترسیل کی واضح صورت حال کے نتیجے میں۔ مینجمنٹ کے مختلف شعبوں اور اس کے مختلف طبقوں کے درمیان بہتر تال میل قائم رہتا ہے۔
اس طرح تفویض اختیار (Delegation) موثر تنظیم کا ایک کلیدی حصہ ہے۔
:(Decentralisation) لامرکزیت
بہت سی تنظیموں میں اعلیٰ مینجمنٹ تمام فیصلے لینے میں ایک سرگرم رول ادا کرتا ہے۔ جب کہ ایسی تنظیمیں بھی ہیں جن میں یہ اختیار مینجمنٹ کی نچلی سطحوں کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ وہ تنظیمیں جن میں فیصلہ سازی کا اختیار اعلیٰ مینجمنٹ پر ہی مرکوز ہوتا ہے، مرکوز تنظیمیں کہلاتی ہیں جب کہ وہ تنظیمیں جن میں یہ اختیار نچلی سطحوں میں تقسیم کردیا جاتاہے وہ لامرکزی تنظیمیں کہلاتی ہیں۔
لامرکزیت (Decentralisation) سے اس طریقِ کار کی وضاحت ہوتی ہے جس میں فیصلہ سازی کی ذمے داریاں مرتبے وار سطحوں (hierarchical levels) کے مابین تقسیم کردی جاتی ہیں۔ صاف و سادہ لفظوں میں، لامرکزیت سے مراد ہے تنظیم کی تمام سطحوں پر اختیار کی تفویض۔ فیصلہ سازی کا اختیار نچلی سطحوں میں منقسم کردیا جاتا ہے اور نتیجتاً کاموں اور فیصلوں میں دوری کم ہوجاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں فیصلہ سازی کا اختیار ایک ہاتھ میں نہ رہ کر مختلف سطحوں میں پھیل جاتا ہے۔
جب نچلی سطحوں کے ذریعے لیے گئے فیصلے زیادہ اور اہم ہوتے ہیں تو پھرتنظیم کو نہایت درجہ لامرکزی سمجھا جاتاہے۔
(Innovation at HCL) ایچ سی ایل کی اختراع
ہندوستان میں دنیا کی جدید ترین انتظامیہ، ایچ سی ایل ٹیکنالوجی اپنے ملازمین کو اختیارات دے کر کاروبار کے مستقبل کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ فورچیون، اپریل 14، 2006۔
ہر ملازم 1-5 پیمانے کی بنیاد پر 18 سوالات تیار کرکے اپنے سربراہ، اپنے سربراہ کے سربراہ اور اپنی مرضی سے کسی دوسری کمپنی کے کن ہی تین مینجروں کا اندازۂ قدر کرتا ہے۔ ایسی 360 درجہ کی جانچیں عام ہیں لیکن ایچ سی ایل میں تمام نتائج کو آن لائن بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ہر ملازم انہیں دیکھ سکے۔ یہ بات عام نہیں ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایچ سی ایل کا ہر ملازم کمپنی کے کسی بھی معاملہ میں جسے وہ توجہ کا مستحق سمجھتا ہے، کی جانب توجہ دلانے کے لیے کسی بھی وقت ایک الیکٹرانک ٹکٹ، تخلیق کر سکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایسے ٹکٹ صرف ملازمین کے ذریعہ ہی بند کیے جاسکتے ہیں اور نایرؔ [ونیت نایرؔ 30000 ملازمین رکھنے والی ہندوستان کی ایچ سی ایل تکنالوجیس کا صدر ہے] چوکنّا رہتا ہے کہ مینجر ٹکٹوں کی کو تخلیق کرنے یا بند کرنے کے بارے میں ملازمین کو دھمکائیں نہیں۔ مینجروں کا اندازۂ قدر بھی جزوی طور پر اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ ان کے شعبوں نے کتنے ٹکٹوں کی تخلیق کی ہے۔ یہ جتنی زیادہ ہوں اتنا بہتر ہے۔
مزید برآں، ہر ملازم ایک عوامی عمل میں جسے ’U ا ورI ‘ کہا جاتا ہے کسی بھی موضوع پر ایک سوال یا تبصرہ پوسٹ کر سکتا ہے ایسے 400 سوالات یا تبصرے ہر ماہ آتے ہیں اور تمام سوالات اور جوابات کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دیا جاتا ہے۔ نایر وضاحت کرتا ہے کہ ’’میں ایک ایسی کمپنی چاہتا ہوں جو کسی بھی دوسری کمپنی کے مقابلہ میں اپنے ملازمین کو برتر خدمات دے۔‘‘اسے پختہ یقین ہے کہ ایچ سی ایل کی مستقبل میں رہنمائی کرنے کے لیے نظریہ اس کا اپنا نہیں ہوگا بلکہ یہ نچلی سطح سے ہی آئے گا۔ ابتدائی اشارات سے لگتا ہے کہ اس کی حکمت عملی کام کر رہی ہے۔ نایرؔ صرف ایک سال کے عرصہ تک صدر رہا اور اسی ہنگامہ خیز عرصہ میں زیادہ تر اختراعات کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے، لیکن وہ کہتا ہے کہ اس وقت کمپنی کی فرسودگی کی شرح گر کر آدھی رہ گئی تھی۔ ایچ سی ایل کی اختراعات محض انتظامی نہیں ہیں۔ نایر کہتا ہے کہ کمپنی کا مقصد بزنس پراسیس منجمنٹ پر گاہکوں کے ساتھ کام کرکے اور انفرا اسٹرکچر کا کم از کم انتظام کرکے، گاہکوں کے ساتھ حکمت عملی کا شراکت دار بننا ہے یہ وہ کاروبار ہے جس میں وہ ہندوستان میں رہنمائی کر رہا ہے۔ یہ حکمت عملی اے ایم ڈی (ریسرچ) کے ساتھ کامیاب ہو چکی ہے یہ ایک بڑا گاہک ہے جس کے ساتھ کمپنی مندرجہ بالا کاروبار کرتی ہے۔ دوسرا کلیدی گاہک سِسکو (ریسرچ) یہ ایک 10 سال پرانا گاہک ہے جس کے ساتھ اب ایچ سی ایل ایک دوسری شکل کی اختراع ’’جوکھم کی حصّہ داری‘‘ کو اپنا رہی ہے۔ فروری سے، ایچ سی ایل، سِسکو کی ایک پراڈکٹ کو بنانے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہے اس کو اس بنیاد پر ادائیگی ملتی ہے کہ پراڈکٹ کتنا فروخت ہوتا ہے۔ نایرؔ کی عاجزی ایک اہل انتظامی اثاثہ نظر آتی ہے۔
ڈیوڈ کریکپیٹرک کے آرٹیکل سے ماخوذ:
http://www.indianembassy.org/newsite/News/US%20Media/2006/115.asp
(Centralisation & Decentralisation) مرکزیت اور لامرکزیت
مرکزیت اور لامرکزیت اضافی اصطلاحات ہیں۔ جیسا کہ مختلف تجارتی اداروں کی موجودہ حیثیت میں نظر آتا ہے۔
کوئی تنظیم مرکوز اس وقت کہلاتی ہے جب فیصلہ سازی کا اختیار مینجمنٹ کی اونچی سطحوں کے ذریعے قائم رکھا جاتاہے جب کہ لامرکزی اس وقت کہلاتی ہے جب یہ اختیار تفویض کردیا جاتاہے۔
مکمل مرکزیت سے مراد یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے کاموں کے تمام حقوق کو مرتبہ وار مینجمنٹ (Management Hierarchy) کی بلند ترین سطح پر مجتمع کر دیا جائے۔اس سے مرتبہ وار مینجمنٹ کی ضرورت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف مکمل طور پر لامرکزیت سے مراد ہوگی کہ تمام فیصلہ سازی کے کاموں کو مرتبہ وار مینجمنٹ کی نچلی سطحوں تک تفویض کیا جائے۔ اس سے مینجمنٹ کی اونچی سطحوں کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے۔ دونوں ہی منظر نامے غیر حقیقی ہیں۔
کوئی بھی تنظیم کبھی بھی مکمل طور پر نہ تو مرکوز ہوسکتی ہے نہ ہی غیر مرکوز۔ جیسے جیسے اس کے سائز اور پیچیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو لامرکزیت پر مبنی فیصلہ سازی کا رجحان فروغ پاتاہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ بڑی تنظیموں میں ملازمین مختلف کاروباری معاملات میں براہِ راست اور قریبی طور پر جڑے ہوتے ہیں۔ انھیں اعلیٰ مینجمنٹ کے ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ علم اور فنی مہارت ہوتی ہے جو صرف بالواسطہ طور پر انفرادی معاملات سے جڑے ہوتے ہیں۔
اس لیے، ان دونوں موجود قوتوں کے درمیان توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر تنظیم مرکزیت اور لامرکزیت دونوں پر مبنی خصوصیات کی حامل ہوتی ہے۔
لامرکزیت
لامرکزیت سے مراد ہے نچلی سطحوں تک تمام اختیارات کو تفویض کرنے کی باضابطہ کوشش سوائے ان اختیارات کے جو مرکزی سطح پر ہی رہیں گے۔
Louis Allen لویس ایلن
ہر وہ شے جو کسی ماتحت کے رول کی اہمیت کو بڑھاتی ہے لامرکزیت ہے۔ ہر وہ شے جو اسے گھٹاتی ہے مرکزیت ہے۔
Henri Fayol ہنری فایول
(Importance) اہمیت
لامرکزیت نظام مراتب والی مینجمنٹ (Management hierarchy) محض نچلی سطحوں پر اختیار ات کی منتقلی کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جس سے مراد ہے اختیارات کی منتخب طور پر توسیع یا بالفاظ دیگراختیار کی باضابطہ تفویض۔ کیوں کہ اختیارات کی اس توسیع یا تفویض کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگ باصلاحیت اور اہل ہیں اور وسائل کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی اہلیت کے حامل ہیں۔ وہ اپنے فیصلوں کے نفاذ کے لیے موثر ذمے داری نبھاسکتے ہیں۔ اس لیے یہ نقطۂ نظر فیصلہ سازی کی خود مختاری کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔اب یہ فیصلہ کرنا مینجمنٹ کا کام ہے کہ کن امور کی فیصلہ سازی کا حق نچلی سطح کو منتقل کیا جائے اور کن امور کی فیصلہ سازی کے حقوق اونچی سطح کے لیے محفوظ رکھے جائیں۔ ٹیبل 4 تفویض اختیار اور لامرکزیت کے درمیان نمایاں فرق کو پیش کرتی ہے۔
لامرکزیت ایک بنیادی قدم ہے اور اس کی اہمیت کو درج ذیل نکات کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔
(i) لامرکزیت ماتحتوں کے درمیان اختراع پسندانہ اقدامات کو فروغ دیتی ہے (Develops Initiative among Subordinates : لامرکزیت ماتحتوں کے درمیان خود اعتمادی اور بھروسے کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہے۔ جب مینجمنٹ کی نچلی سطحوں کو اپنے طور پر فیصلہ لینے کی آزاد ی دی جاتی ہے تو وہ اپنے ذاتی فیصلوں پر انحصار کرنا سیکھتی ہیں۔ لامرکزیت کی وجہ سے ہی ان کو ایسی صورتیں بھی پیش آتی ہیں جب ان کو مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے یا پھر مشکلات پر قابو پانا ہوتا ہے۔ لامرکزیت پر مبنی پالیسی ایسے افراد (Executive) کی نشان دہی میں مدد کرتی ہے جو فعال قائد ہونے کے لیے درکار صلاحیت رکھتے ہیں۔
(ii) یہ مستقبل کی منیجرانہ صلاحیت کو فروغ دیتی ہے (Develops managerial talent for the future) : رسمی تربیت ماتحتوں کومہارتوں سے آراستہ کرنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے انھیں تنظیم میں ابھرنے کا موقع ملتا ہے لیکن اسی کے مساوی وہ تجربہ ہے جو انھیں آزادانہ طور پر مفوضہ کاموں کے کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ لامرکزیت انھیں اپنی صلاحیتوں کے ثابت کرنے کا ایک موقع دیتی ہے اور اس کے علاوہ تنظیم کے پاس صاحب استعداد ورکرس کی بڑی تعداد جمع ہوجاتی ہے جنھیں چیلنجوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ترقی دے کر اعلیٰ عہدے دیے جاسکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی نشان دہی کرنے میں بھی مدد کرتی ہے جو زیادہ ذمے داری نبھانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اس طرح، اس سے جہاں مینجمنٹ کو تربیت یافتہ اور باصلاحیت لوگوں سے کام لینے کا موقع ملتا ہے وہیں یہ مینجمنٹ کی تعلیم کا بھی ایک ذریعہ ہے۔
(iii) فوری فیصلہ سازی (Quick decision Making) : مینجمنٹ کے نظام مراتب (Management hierarhcy) کو خبر رسانی کی ایک زنجیر کے طور پر بھی مانا جاسکتاہے۔ مرکزیت پر مبنی تنظیم میں چوںکہ ہر فیصلہ اعلیٰ مینجمنٹ کے ذریعے لیا جاتاہے اس لیے اطلاعات کا بہائو سست ہوتا ہے کیوںکہ اسے بہت سی سطحوں سے گزرنا پڑتاہے۔ جواب میں بھی دیر لگتی ہے۔ اس سے فیصلہ سازی کی رفتار میں کمی آتی ہے اور کسی کاروباری ادارے کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ ایک فعال ماحول برقرار رکھ سکے۔ کسی لامرکزیت پر مبنی تنظیم میں، چونکہ فیصلے ان سطحوں سے لیے جاتے ہیں جو حرکت و عمل سے قریب تر ہوتی ہے، نیز یہ کہ بہت سی سطحوں سے منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے یہ عمل زیادہ تیز ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ حاصل شدہ اطلاعات کی غلط بیانی کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں کیوں کہ اسے طویل چینلوں سے نہیں گزرنا پڑتا۔
(iv) اعلیٰ مینجمنٹ کی تسکین (Relief to top management): لا مرکزیت ماتحتوں کی سرگرمیوں پر اعلیٰ عہدے داروں کی براہ راست نگرانی کی ضرورت کو ختم کردیتی ہے۔ کیوں کہ انھیں کام کرنے کی اور فیصلہ کرنے کی آزادی دی جاتی ہے بھلے ہی وہ آزادی اعلیٰ عہدے دارکے ذریعے طے شدہ حدودکے اندر ہو۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ شخصی نگرانی عام طور پر کنٹرول کی دوسری شکلوں کے ذریعے بھی کی جاتی ہے۔ مثلاً سرمایہ کاری پرمنافع (Return) وغیرہ۔ لامرکزیت سے اعلیٰ مینجمنٹ کو اچھا خاصا وقت مل جاتاہے جسے وہ اہم فیصلہ سازی پالیسیوں میں صرف کرسکتا ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنا وقت پالیسی اور کاروباری فیصلوں دونوں میں صرف کریں۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر مینجمنٹ کی نچلی سطحوں کے ذریعہ لیے گئے فیصلوں کو کچھ زیادہ چیک کرنے کی ضرورت ہو تو لا مرکزیت بہت کام کی چیز ہے۔
(v) نشوونما کو سہولت فراہم کرتی ہے (Facilitates Growth): لامرکزیت مینجمنٹ کی نچلی سطحوں نیز ڈویژنل یا شعبہ جاتی سربراہوں کو بڑا اختیار دیتی ہے۔ اس سے انھیں اپنے شعبے کے لیے سب سے زیادہ مناسب و موزوں طریقے پر کام کرنے کی اجازت حاصل ہوتی ہے اور شعبوں کے درمیان مقابلہ و مسابقت کا رجحان فروغ پاتاہے۔ نتیجتاً ہر شعبے کے ساتھ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور دوسروں پر سبقت لے جانے کے احساس سے پیداواری سطحوں میں اضافہ ہوتا ہے اور تنظیم مزیدمنافع و محاصل کے مواقع پیدا کرنے کی اہل ہوتی ہے جنھیں کاروباری توسیع کے مقاصد میں استعمال کیا جاسکتاہے۔
(Decentralisation : A strength) لامرکزیت: ایک قوت
میک نیل (Mc Neil) کا نام 1879ء سے ادویاتی مصنوعات کی مینو فکچرنگ اور فروخت سے جڑا ہوا ہے جب انھوں نے پینسلونیا (Pennsylvania) میں اپنا پہلا ادویاتی مرکز کھولا۔ ایک ابھرتی ہوئی دواساز کمپنی کی حیثیت سے میک نیل لیبوریٹریز 1933میں امریکہ کی ایک کمپنی بن گئی اور 1959 میں جونسن اینڈ جونسن کے گھرانے میں شامل ہوگئی۔ Mc Neil Consumer Healthcare نے کناڈا میں ایک موجودہ مینجمنٹ جونسن اینڈ جونسن پروگرام کی شروعات کرکے Guelph 1980 میں اپنا کاروبار شروع کیا۔
گلفOntario,(Gulph) میں Mc Neil Consumer Healthcare(غیر نسخہ بند ادویاتی مصنوعات) ، کناڈا کی جونسن اینڈ جونسن کمپنی کے خاندان کا ایک ممبر ہے۔
جونسن اینڈ جونسن کے درمیان اور دوسری کمپنیوں کے درمیان فرق مینجمنٹ کی لا مرکزیت کے نظریے کا ہے ، ایک بڑی ایک کثیر بلین ڈالر والی کمپنی کے بجائے جونسن اینڈ جونسن 190چھوٹی کمپنیوں کی شکل میں کام کررہی ہے اور ہر کمپنی کسی خاص دوا یا مصنوعات کو کسی مخصوص علاقے میں تیار کر رہی ہے۔ ہم لا مرکزیت کے ذریعے بڑے ہونے کے فوائد کو چھوٹی کمپنیوں کی مستعدی اور دل چسپی سے جوڑ دیتے ہیں۔ لا مرکزیت سے کمپنی اپنے ملازمین اور صارفین کے ساتھ جڑی رہتی ہے، ان سے قریبی تعلق بنائے رکھتی ہے اور صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہے۔ جونسن اینڈ جونسن مرک کنزیومر فارما کیوئیکل کمپنی بھی گلف (Guetph) میں ہماری وڈلان روڈ پر واقع ہمارے مرکز سے مصروف خدمت ہے۔
http:/www. mcneilcanada.com / eng/eco 07pg 1.5 .shtm
اس کے بارے میں سوچیے
اگر آپ ایک منیجر ہوتے تو کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ لا مرکزیت کا مطلب فیصلہ سازی کے اختیار کو تفویض کرنا ہے، لامرکزیت اختیار کرتے؟
تفویض اختیار اور لامرکزیت: ایک موازنہ
Delegation & Decentralisation : A Comparative View
| ( Decentralisation )لامرکزیت |
( Delegation )تفویض اختیار |
بنیاد |
| لامرکزیت ایک اختیاری پالیسی فیصلہ ہے۔ یہ اعلیٰ مینجمنٹ کی مرضی پر لیا جاتا ہے۔ |
تفویض اختیار ایک لازمی عمل ہے کیوں کہ کوئی فرد بھی تمام کاموں کو بذات خودانجام نہیں دے سکتا |
نوعیت |
| مینجمنٹ کا عملے پر کنٹرول کم ہوتا ہے اس لیے کام کرنے کی زیادہ آزادی ہوتی ہے۔ |
اعلیٰ عہدیداروں کے ذریعے زیافدہ کنٹرول ہے اسی لیے اس میں ذاتی فیصلہ سازی کی آزدی کم ہوتی ہے |
عمل کی آزادی |
| یہ مینجمنٹ کی فیصلہ پالیسی کی نتیجہ ہوتی ہے |
یہ ایک عمل ہے جو کاموں کو بانٹنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے |
مرتبہ |
| اس کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے کیوں کہ اس سے مراد مینجمنٹ کی نچلی سطحوں تک تفویض اختیار کی توسیع ہے۔ |
اس کا دائرہ کار تنگ اور محدود ہوتا ہے کیوں کہ یہ اعلیٰ عہدے دار اور اس کے نزدیکی ماتحتوں تک محدود ہوتا ہےس |
دائرہ کار |
| تنظیم میں ماتحتوں کو مزید اختیارات دے کر انکے رول کو بڑھانا۔ |
منیجر کے بوجھ کو کم کرنا |
مقصد |
بہتر کنٹرول (Better Control): لامرکزیت سے یہ ممکن ہوجاتاہے کہ ہر سطح پر کارکردگی کو جانچا پرکھا جاسکے اور شعبوں کو انفرادی طور پر نتائج کے لیے جواب دہ بنایا جاسکے۔تنظیمی مقاصد کے حصول یابی کی حدوں اور تمام مقاصد کے حصول میں ہر شعبے کی خدمات کوطے کیا جا سکتا ہے۔ تمام سطحوں سے بازرسی (feed back) نزاعات اور اختلاف کا تجزیہ کرنے میں مدد کرتی ہے اور کاروباری معاملات کو بہتر بناتی ہے۔ لامرکزیت میں ایک اہم چیلنج کارکردگی کی جواب دہی کا ہے۔ اس چیلنج کے مقابلے کے لیے بیلنس اسکور کارڈ (balance score card) اور مینجمنٹ کے اطلاعاتی نظام (Management Information System) جیسے بہتر کنٹرول کے نظام وضع کیے جارہے ہیں۔ لامرکزیت سے مینجمنٹ مجبور ہوتا ہے کہ کارکردگی کی جانچ کے لیے جدّت پسندانہ نظام اپنائے۔
مختصر طور پر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اپنی تمام خوبیوں کے باوجود لامرکزیت کو بہت احتیاط کے
ساتھ استعمال میں لانا چاہیے کیوںکہ اس سے تنظیمی عدم اتحاد کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر شعبے اپنے وضع کردہ اصولوں پر کام کریں جو تنظیم کے مفاد کے برخلاف بھی ہوسکتے ہیں۔ لامرکزیت کو ہمیشہ اہم پالیسی فیصلوں کے میدانوں میں مرکزیت کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے۔
کلیدی اصطلاحات
(Organising) تنظیم کاری • (Organisatiol Structure) تنظیمی ساخت
(Departmentalisation) شعبہ سازی • (Delegation) تفویض اختیار
اختیار (Authority) • (Responsibility) ذمے داری (Accountability) جواب دہی
(Functional Structure) عملی ساخت • (Divisional Structure) تقسیمی ساخت
(Formal organistion) رسمی تنظیم • (Informal organisation) غیر رسمی تنظیم
(Span of Management) مینجمنٹ کی وسعت • (Centralisation) مرکزیت
(Decentralisation) لامرکزیت
خلاصہ
تنظیم کاری
تنظیم کاری، سرگرمیوں کا مفہوم واضح کرنے اور ان کی زمرہ بندی کا عمل ہے۔ نیز ان کے مابین اختیارات کے رشتے کو قائم کرنا ہے۔
عمل (Process): تنظیم کاری کا عمل درج ذیل اقدامات پر مشتمل ہوتاہے۔
کام کی نشان دہی اور تقسیم (a)
(Departmentalisation) شعبہ سازی (b)
(Assignment of duties) فرائض کی تفویض (c)
اطلاعات رسانی کے رشتوں کا قیام (d)
(Establishing reporting relationship)
:(Importance) اہمیت
تنظیم کاری کو اہم مانا جاتا ہے کیوں کہ یہ کام کی تقسیم اطلاع رسانی کے روابط، وسائل کے استعمال، نشوونما، عملہ کاری (Staffing) اور اخلاقیات کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
تنظیمی ساخت
وہ فریم ورک ہے جس نشوونما مینجمنٹ سے متعلق نیز تمام عملی کام انجام پاتے ہیں۔ یہ ساخت عملی یا تقسیمی ہوسکتی ہے۔
مینجمنٹ کی وسعت
کسی اعلیٰ نگراں کے تحت ماتحتوں کی تعداد ہوتی ہے۔
عملی ساخت
عملی ساخت میں وہ سرگرمیاں شامل ہیں جو کام کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔تخصیص، بہتر کنٹرول، مینجمنٹ کی بہترین کارکردگی اور ملازمین کی تربیت کے لیے سہولیات اس قسم کی ساخت کے فائدے ہیں۔عملی اختیارات، مفادات کا ٹکراو، لچک کا ہونا اور مینجمنٹ کی ترقی میں پابندیاں اس کے نقائص ہیں۔
تقسیمی ساخت
میں وہ سرگرمیاں شامل ہیں جن کی بنیاد مصنوعات پر ہے۔ اس کی خوبیاں ہیں: یکجہتی، مصنوعاتی مہارت۔ جواب دہی کا زیادہ احساس، لچیلا پن، بہتر تال میل اور جدت پسندانہ اقدامات۔ اس کے نقائص ہیں: شعبہ جاتی تصادم ، مہنگا عمل (Process)، تنظیمی مفادات کی طرف سے غفلت، جنرل منیجروں کی ضرورت میں اضافہ۔
رسمی تنظیم
رسمی تنظیم مینجمنٹ کے ذریعے تنظیمی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے وضع کی جاتی ہے۔ اس کی خوبیاں ہیں: ذمے داری کا تعین۔ رول کی وضاحت،کمانڈ کی وحدت اور مقاصد کی موثر تکمیل اس کے نقائص ہیں: کارروائی میں تاخیر، تخلیقی جوہر کی شناخت اور اس کے اعتراف میں کمی اور محدود دائرۂ کار۔
غیر رسمی تنظیم
غیر رسمی تنظیم کام پر لگے لوگوں کے درمیان تفاعل سے قائم ہوتی ہے۔ اس کی خوبیاں ہیں: تیزی اور سماجی ضروریات کی تکمیل۔ یہ رسمی ساخت کی ناہمواریوں کو پُر کرتی ہے۔ اس کے نقائص ہیں:فسادی قوت، تبدیلی کی مزاحمت اور گروپ کے مفادات کی ترجیح۔
تفویض اختیار
اختیار اعلیٰ عہدے دار سے ماتحت کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس کے تین عناصر ہیں:۔ اختیار، ذمے داری اور جواب دہی۔ تفویض اختیار کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے موثر مینجمنٹ میں مدد ملتی ہے، ملازمین کی ترقی ہوتی ہے، ان کے لیے ترغیب کا سامان بہم پہنچتا ہے اور تال میل میں مدد ملتی ہے۔
لامرکزیت
پوری تنظیم میں اختیارات کی تفویض، لا مرکزیت ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ منیجرانہ صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہے۔جلدفیصلہ سازی میں مددگار ہے، اعلیٰ مینجمنٹ کے بوجھ کوکم کرتی ہے، جدت پسندانہ اقدامات کو فروغ دیتی ہے اور بہتر کنٹرول کو فروغ دیتی ہے۔
مشق
(Multiple Choice) متبادل جواب والے سوالات
۔1درج ذیل میں سے کون سا تفویض اختیار کا عنصر نہیں ہے؟
جواب دہی (a)
اختیار (b)
ذمے داری (c)
غیر رسمی تنظیم (d)
۔2-سماجی تعلقات کا فریم ورک جو کام کے دوران تفاعل (Interaction)کی وجہ سے خود بخود قائم ہوتا ہے کیا کہا جاتاہے
رسمی تنظیم (a)
غیر رسمی تنظیم (b)
لامرکزیت (c)
تفویض اختیار (d)
3۔ درج ذیل میں سے کون سی میزانی زنجیر (Scalar Chain)کی پیروی نہیں کرتی ہے؟
عملی ساخت (a)
تقسیمی ساخت (b)
رسمی تنظیم (c)
غیر رسمی تنظیم (d)
۔4 ایک لمبی ساخت درج ذیل میں سے کیا چیزرکھتی ہے:
مینجمنٹ کا تنگ پھیلاو (a)
مینجمنٹ کا وسیع پھیلاو (b)
مینجمنٹ کا پھیلاو نہیں (c)
مینجمنٹ کی کم سطحیں (d)
۔5 مرکزیت سے مراد ہے۔
فیصلہ سازی کے حق اختیار کو محفوظ رکھنا (a)
فیصلہ سازی کے حق اختیار کا بکھراو (b)
منفعتی مرکزوں کے طور پر ڈویژن قائم کرنا (c)
نئے مراکز یا شاخیں کھولنا (d)
6۔تفویض اختیار (Delegation) کے موثر ہونے کے لیے درج ذیل میں سے کون سی چیز ’’ذمے داری‘‘ کے ساتھ جوڑنی چاہیے:
اختیار (a)
انسانی وسائل (b)
ترغیبات (c)
ترقی (d)
7۔ مینجمنٹ کی وسعت سے مراد ہے:۔
منیجروں کی تعداد (a)
وہ مدتِ کار جس کے لیے کسی منیجر کا تقرر کیا گیا ہے۔ (b)
اعلیٰ عہدے دار کے زیر اثر ماتحتوں کی تعداد (c)
اعلیٰ مینجمنٹ میں ممبروں کی تعداد (d)
۔تنظیم کی وہ شکل جو افواہیں پھیلانے کے لیے جانی جاتی ہے کیا کہلاتی ہے
مرکزیت پر مبنی تنظیم (a)
لامرکزیت پر مبنی تنظیم (b)
غیر رسمی تنظیم (c)
رسمی تنظیم (d)
۔9۔ پروڈکٹ لائنوں کی بنیاد پر سرگرمیوں کی گروپنگ کرنا ایک حصہ ہے
تفویضی تنظیم کا (a)
تقسیمی تنظیم کا (b)
عملی تنظیم کا (c)
خود مختار تنظیم کا (d)
10۔ کاموں کی بنیاد پر سرگرمیوں کی گروپنگ کرنا ایک حصہ ہے۔
لامرکزیت پر مبنی تنظیم کا (a)
تقسیمی تنظیم کا (b)
عملی تنظیم کا (c)
مرکوز تنظیم کا (d)
مختصر جوابی سوالات
۔ تنظیم کاری (Organising) کی تعریف بیان کیجیے۔1
2۔ تنظیم کاری کے عمل میں کیا اقدامات ہوتے ہیں؟
3تفویض اختیار (Delegation) کے عناصر بیان کیجیے۔
۔ مینجمنٹ کی وسعت سے کیا مراد ہے؟4
5۔ کن حالات میں عملی ساخت ایک مناسب اورموزوںپسند انتخاب ثابت ہوگی؟
6۔ ایک خاکہ بنائیے اور کی وسعت ساخت کی تصویر کشی کیجیے۔
7۔ کیا ایک بڑے سائز کی تنظیم مکمل طور پر مرکوز یا لا مرکوز ہوسکتی ہے؟
8۔ لامرکزیت تفویض اختیار (Delgation) نچلی سطحوں تک توسیع کا نام ہے۔ بحث کیجیے۔
طویل جوابی
1۔ موثر تنظیم کاری کے لیے تفویض اختیار (Delegation) کو لازمی کیوں خیال کیا گیاہے؟
2۔ قسیمی ساخت کیا ہے؟ اس کی خوبیاں اور نقائص بیان کیجیے۔
3۔ لامرکزیت ایک انتخابی پالیسی ہے۔ وضاحت کیجیے کہ کسی تنظیم میں لامرکزیت کا انتخاب کیوں کیا جانا چاہیے؟
4۔ غیر رسمی تنظیم رسمی تنظیم کی کس طور پر معاونت کرتی ہے؟
5۔ مرکزیت اور لامرکزیت پر مبنی تنظیموں کا فرق واضح کیجیے۔
6۔ عملی ساخت تقسیمی ساخت سے کس طور پر مختلف ہوتی ہے؟
اطلاقی قسم کے سوالات
1 نیہا ایک فیکٹری چلاتی ہے جس میں وہ جوتوں کی مینو فیکچرنگ کرتی ہے۔کاروبار بہتر چل رہا ہے ۔ وہ چمڑے کے بیگ اور مغربی طرز کے کپڑے بنا کرکمپنی کی توسیع کرنا چاہتی ہے اور اس طرح کارپوریٹ ویر میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہے۔ کس قسم کی ساخت آپ اس کی توسیع شدہ تنظیم کے لیے تجویز کریں گے اور کیوں؟
- پروڈکشن منیجر نے فورمین سے 200 یونٹ روزانہ کی پیداوار کا نشانہ حاصل کرنے کے لیے کہا۔ لیکن وہ اسے اسٹور ڈپارٹمنٹ سے مطلوبہ اوزار اور خام مال کا اختیار نہیں دیتا۔ اگر فورمین مطلوبہ نشانہ حاصل نہ کرسکے تو کیا پروڈکشن منیجر فورمین کو اس کے لیے موردِ الزام ٹھہرا سکتا ہے ؟ وجوہات بتائیے۔ 2
3۔ ایک منیجر 500 اکائیوں سے 700 اکائیوں تک ماہانہ پیداواری ہدف بڑھانا چاہتا ہے۔ لیکن خام مال نکالنے کا اختیارنہیں دیتا۔ پروڈکشن منیجرنئے نشانے کو حاصل نہ کرسکا۔ کون اس کے لیے ذمہ دار ہے اور کون سا اصول اس میں توڑا گیا؟
4۔ ایک کمپنی کا رجسٹرڈ آفس دہلی میںمینوفیکچرنگ گڑگائوں میں اور مارکیٹنگ اور سیلز ڈپارٹمنٹ فریدآباد میں ہے۔ کمپنی کنزیومر پروڈکٹس کی مینوفیکچرنگ کرتی ہے۔ اسے تنظیمی ساخت کی کون سی قسم اختیار کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنے ہدف تک پہنچ سکے؟
واقعاتی مسائل
1۔ ایک کمپنی جو کھلونوں کے ایک معروف برانڈ کی مینوفیکچرنگ کرتی ہے مارکیٹ میں اس کی اچھی ساکھ اور شہرت ہے۔پروڈکٹس کی مینوفیکچرنگ کے لیے اس نے مارکیٹنگ، مالی اور انسانی وسائل اور تحقیق و ترقی کے علاحدہ علاحدہ شعبوں کے ساتھ عملی ساخت کو اختیار کررکھا ہے۔
اب وہ اپنے تجارتی مارکہ (brand name) کو استعمال کرکے نئے کاروباری مواقع حاصل کرنے کے لیے وہ الیکٹرونک کھلونے بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہے جس کے لیے ایک نئی مارکیٹ ابھر رہی ہے۔
:سوالات
1-تنظیمی ساخت سے متعلق ٹھوس وجوہات دیتے ہوئے ایک رپورٹ تیار کیجیے کہ کمپنی کو جو قدم اٹھانے چاہیں ان سے اسے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔
2۔ ایک برطانوی کمپنی جس نے 1945ء میں سلائی مشین کی مینوفیکچرنگ کا سلسلہ شروع کیا مکمل طور پر رسمی تنظیم کا نظام اختیار کر رکھا ہے۔ اب فیصلہ سازی میں اسے بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نتیجتاً وہ کاروبار کے بدلتے ہوئے ماحول میں خود کو ہم آہنگ نہیں کر پارہی ہے ملازمین کو بھی کچھ ترغیبات نہیں دی گئی ہیں۔ وہ پرانے طریقوں سے ہی اپنی پریشانیوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ملازمین کا Turnover زیادہ ہے۔ کمپنی کا بازار شیئر بھی بدلتے حالات اور کاروباری ماحول کے سبب گھٹ رہا ہے۔
:سوالات
کمپنی کو مشورہ دیجیے کہ وہ اپنی تنظیمی ساخت میں کیا تبدیلی لائے تاکہ ان مسائل کا ازالہ ہوسکے جن کا اسے سامنا ہے۔ آپ کے مشورہ دیے جانے سے کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی ان کی وجوہات بتائیے۔ مارکیٹ کے گرتے ہوئے مزاج کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتائیے کہ کمپنی کن نئی مصنوعات کی طرف متوجہ ہو اور کمپنی میں تنوع پیدا کرے۔
3۔ ایکس لمیٹڈ نامی کمپنی کاسمیٹکس بناتی ہے۔ اب وہ بہت وسیع ہوگئی۔ کاسمیٹکس کو کاروباری دنیا میں بڑا نمایاں مقام حاصل ہے۔ 1991تک کمپنی کا کاروبار بہت اچھا تھا لیکن آزاد ماحول کی بنا پر اب ملٹی نیشنل کمپنیاں اس میدان میں کود پڑیں۔ اس کے نتیجے میں ایکس لمیٹڈ کا حصۂ بازار گھٹ گیا۔ کمپنی نے ڈائریکٹرس اور ڈویژنل سرپرستوں کے علاوہ یہاں تک کہ معمولی فیصلے لینے کے لیے بھی نہایت مرکزیت پر مبنی ماڈل اختیار کر رکھا ہے۔ 1991ء سے قبل یہ کاروباری ماڈل کمپنی کی بہت اچھی طرح خدمت کرچکا تھا۔ کیونکہ صارفین کے پاس کوئی اور انتخاب تھا ہی نہیں۔ لیکن اب کمپنی اصلاحات کے لیے مجبور ہے۔
:سوالات
کمپنی کو اپنے حصۂ بازار کو قائم رکھنے کے لیے اپنی تنظیمی ساخت میں کیا تبدیلیاں لانی چاہئیں؟ آپ کی تجویز کردہ تبدیلیوں سے فرم کو کس طرح مدد ملے گی؟ یہ ذہن میں رکھیے کہ وہ دائرہ جس میں کمپنی ہے FMCG ہے۔