باب 6
عملہ کاری
(STAFFING)
سیکھنے کے مقاصداس باب کے مطالعے کے بعد آپ:
• عملہ کاری کی تعریف کر سکیں گے؛
• انسانی وسائل کے مینجمنٹ سے اس کا رشتہ قائم کر سکیں گے؛
• عملہ کاری کی ضرورت و اہمیت بیان کر سکیں گے؛
• عملہ کاری کے عمل میں لیے جانے والے اقدامات کو بیان کر سکیں گے؛
• تقرری اور انتخاب (Recruitment and selection) کا مفہوم واضح کر سکیں گے؛
• تقرری کے لیے اہم ذرائع کی وضاحت کرسکیں گے؛
• انتخاب کے عمل میں لیے جانے والے اقدام کی نشان دہی کر سکیں گے؛
• تربیت اور ترقی کی ضرورت کو واضح کر سکیں گے؛ اور
• کام کے دوران اور کام سے الگ تربیت کے مختلف طریقوں کی وضاحت کر سکیں گے۔
INFOSYS میں انسانی وسائل کا مینجمنٹ
’’ہمارے اثاثے ہر شام دروازے سے باہر چلے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات یقینی بنانی ہے کہ وہ اگلی صبح واپس آجائیں گے۔‘‘ (نرائنا مورتھی CEO، انفوسیز)
آج جب کہ تنظیمیں اپنے انسانی وسائل کی اہمیت پر بحث کر رہی ہیں، انفوسس جو ایک صلاح دینے والی اور سافٹ ویر خدمات انجام دینے والی تنظیم ہے، اپنے اثاثوں (Assets) کی قدروقیمت کے اظہار کے لیے اپنے انسانی وسائل کواپنے بیلنس شیٹ میں شامل کررہی ہے اور اس کے پیچھے جو عقلی دلیل ہے وہ یہ ہے: ’’کسی کمپنی کی بڑے پیمانے پر کامیابی کی جانچ کچھ خاص مالیاتی اور غیر مالیاتی پیمانوں کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ انسانی وسائل ان غیر مالیاتی پیمانوں میں سے ہیں جن کے مطابق کسی تنظیم کی جانچ کے روایتی طریقے غیر مفید ہیں۔ اجتماعی مہارت، جدّت پسندی، اختراعیت ، قیادت، کاروباری ادارے کی مالکانہ اور اہتمامی صلاحیتوں کی نمائندگی انسانی وسائل ہی کرتے ہیں۔
انفوسس اپنے انسانی وسائل کی قدروقیمت کو سمجھتی ہے اور اس مسابقاتی دور میں اپنے مقام ومرتبہ کو برقرار رکھنے کے لیے ان وسائل کی نگہداشت بھی کرتی ہے۔ انفوسس کو بخوبی احساس ہے کہ یہ وسائل ہاتھوں سے نکل بھی سکتے ہیں کیوں کہ ہند اور بیرون ہند میں آئی ٹی کمپنیاں اس کے وسائل کی تاک میں ہیں۔ نتیجتاً اب انفوسس کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ ان انسانی اثاثوں کو کس طرح اپنی طرف کھینچا جائے، ان کی حفاظت ونگہداشت کی جائے اور ان کو بہتر طور پر ترقی دی جائے تاکہ اس مسابقاتی اور تغیر پذیر ماحول میں کوئی انھیں ورغلا یا نہ جا سکے۔
Infosys میں اکثرانسان وسائل قائدین کی مدبرانہ نظر اور اس کلچر کا نتیجہ ہیں جس کو انھوں نے جنم دیا ہے۔ نارائن مورتھی جو اپنی قیادت اور مدبرانہ نظر کے لیے جانے جاتے ہیں، Infosys کا عوامی روپ ہیں۔ ان کی قیادت کا انداز سادہ اور شریفانہ ہے اور ہندوستانی کاروبار کی دنیا میں نہایت غیر معمولی ہے۔ وہ ملازمین کو اپنی دولت میں شریک بنانے اور ایک مثالی
قیادت پر یقین رکھتے ہیں۔ انفو سس جیسی علم سے وابستہ کمپنی میں وہ خوش گفتاری کے قائل ہیں اور ملازمین کو با اختیار بنانے کے فلسفے پر عمل کرتے ہیں۔ انفو سس میں بااختیار بنانے (Empowerment) اور ایک قسم کی اپنائیت کا ماحول پیدا کرنے کا سہرا انہی کے سر ہے۔ ان کے مینجمنٹ کا انداز نادر اور مغربی اسٹائل کے مینجمنٹ پر مبنی ہے۔
ماخذ: سمیتا رگھورام، فردھام گریجویٹ
اسکول آف بزنس
تعارف (Introduction)
کسی بھی تنظیم کی بنیاد ماہر اور محنتی لوگوں پر ہوتی ہے، جو کسی بھی فرم کے اصل اثاثے ہوتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی تنظیم کی ترقی اس کے باصلاحیت اور ہنر مند عملے پرمنحصر ہے۔ اس لیے مناسب و موزوں عملہ کاری یا مخصوص انسانی وسائل کی فراہمی کسی بھی تنظیم کی کامیابی کی لازمی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی تنظیم اسی وقت اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے جب کہ اس میں صحیح جگہ پر صحیح شخص ہو۔
مفہوم (Meaning)
تنظیمی ساخت کی منصوبہ سازی اور انتخاب کے بعد مینجمنٹ کے لائحہ عمل کا اگلا قدم یہ ہے کہ تنظیم میں ضروری اسامیوں کو پُر کیا جائے۔ اسے اصطلاح میں مینجمنٹ کی عملہ کاری کہا جاتا ہے، سادہ ترین اصطلاح میں ’’عملہ کاری لوگوں کو ان کے کارمنصبی پر لگانا ہے۔‘‘ یہ ملازمین کی منصوبہ بندی سے شروع ہوتی ہے اور اس میں دوسرے عمل جیسے تقرری، انتخاب، تربیت، فروغ، ترقی، معاوضہ اور ملازمین کی کارکردگی کی جانچ شامل ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں عملہ کاری مینجمنٹ کے لائحہ عمل کا وہ حصہ ہے جس کا تعلق ایک اطمینان بخش اور مطمئن ملازمین کو حاصل کرنے اور انھیں اپنے استعمال میں لانے سے ہوتا ہے۔ آج عملہ کاری مختلف قسم کے ملازمین پر مشتمل ہوسکتی ہے اس میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے، کنسلٹینٹ اور کانٹریکٹ وغیرہ پر کام کرنے والے ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔ عملہ کاری کسی تنظیم کے ذریعے رکھے گئے ملازمین کے ہر فرد کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ کیوںکہ یہ فرد ہی ہے جو بالآخر کام کوانجام دینے والا ہے۔
عملہ کاری کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیمی ڈھانچہ / ساخت میں اسامیوں کو بھرنے اور بھرے رکھنے کا انتظامی کام ہے ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے عملے کی ضرورت کی نشان دہی کی جاتی ہے اس کے بعد تنظیمی ڈھانچہ میں تشکیل کیے گئے منصبوں کو پُر کرنے کے لیے عملے کی تقرری، انتخاب، ترقی ان کے کام کی جانچ اور فروغ کا کام کیا جاتا ہے۔
ایک نئے کاروباری ادارے میں عملہ کاری کا عمل منصوبہ بندی اور تنظیمی کاموں کے بعد کیا جاتا ہے۔ یہ طے ہونے کے بعد کہ کیا کرنا ہے، کیسے کرناہے نیز تنظیمی ساخت کے تعین کے بعد مینجمنٹ اپنے کاروباری ادارے کی مختلف سطحوں پر انسانی وسائل کو جاننے کے قابل ہوتا ہے۔ جب منتخب کیے جانے والے لوگوں کی تعداد اور ان کے کام کی نوعیت طے ہوجاتی ہے تو مینجمنٹ افراد کی تقرری، ان کے انتخاب اور ان کی تربیت سے متعلق امورکو انجام دینا شروع کرتاہے تاکہ وہ اپنے کاروباری ادارے کی ضروریات پوری کر سکے۔ کسی موجودہ کاروباری ادارے میں عملہ کاری ایک مسلسل عمل ہے کیوںکہ نئے کام پیدا کیے جاسکتے ہیں اور کچھ موجودہ ملازمین تنظیم چھوڑ کر جا بھی سکتے ہیں۔
عملہ کاری کی اہمیت
(Importance of Staffing)
کسی تنظیم میں، کاموں کو انجام دینے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مینجمنٹ کی عملہ کاری کا عمل اس ضرورت کو پورا کرتا ہے اور صحیح کام کے لیے صحیح لوگوں کو مہیا کراتا ہے۔ بنیادی طور پر عملہ کاری تنظیمی ساخت کی خالی جگہوں کو پر کرتی ہے۔انسانی وسائل کسی بھی کاروبار کی بنیاد ہوتے ہیں۔صحیح لوگ آپ کے کاروبار کو بلندی تک لے جاتے ہیں، آپ کی مدد کر سکتے ہیں اور غلط قسم کے لوگ آپ کے کاروبار کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں۔ لہٰذا عملہ کاری تنظیمی کار کردگی کا نہایت بنیادی اور حساس امرہے۔ عملہ کاری نے آج بڑی اہمیت حاصل کرلی ہے کیوںکہ یہ دور ٹیکنالوجی، صنعت و حرفت کی تیز تر ترقی کا ہے اور روز بروز تنظیم کا سائز بڑھ رہا ہے اور انسانی رویّے بھی پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔ انسانی وسائل کسی بھی تنظیم کا اہم ترین حصہ ہوتے ہیں۔ کسی تنظیم کی اپنے ہدف کے حصول کی صلاحیت اس کے انسانی وسائل کی قابلیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لیے عملہ کاری مینجمنٹ کا نہایت اہم کام ہے۔ کوئی بھی تنظیم اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ تنظیم میں خالی اسامیوں کو صحیح قسم کے لوگوں سے پُر نہ کرسکے اور انھیں قائم نہ رکھ سکے۔
مناسب اورموزوں عملہ کاری تنظیم کے لیے درجہ ذیل فوائد کو یقینی بناتی ہے:
(i) مختلف کاموں کے لیے اہل و باصلاحیت لوگوں کی دریافت کرتی ہے اور انھیں حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔
(ii) صحیح کام پر صحیح شخص کی تقرری کے ذریعے کار کردگی کو بہتر بناتی ہے۔
(iii) مینیجر حضرات کے لیے تواتر ومسلسل منصوبہ بندی کے ذریعے کاروباری ادارے کی بقا اور ترقی کو یقینی بناتی ہے۔
(iv) انسانی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال میں مدد کرتی ہے۔ ملازمین کی بھیڑ لگ جائے تو وسائل سے صحیح استفادہ ممکن نہیں اس کے علاوہ اس سے لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ قبل ازوقت عملے کی کمی سے متعلق نشان دہی کرکے یہ کام میں رکاوٹ کو ختم کرتی ہے۔
(v) ملازمین کے اخلاق کو بہتر بناتی ہے اور اس بات کی نگہداشت کرتی ہے کہ ملازمین کو فرائض منصبی کی انجام دہی کے بعد اطمینان اور تسکین حاصل ہو کیوں کہ انھیں ان کی خدمات کا منصفانہ صلہ ملنا چاہیے۔
تمام تنظیموں کوچاہیے کہ وہ عملہ کاری کے عمل کو موثر طور پر انجام دیں۔ اگر صحیح طور پر کام کرنے والے ملازمین موجود نہ ہوں تو اس سے خام مال، وقت اور توانائی ضائع ہوگی۔ اس کا نتیجہ پیداوار کے کم ہونے اور مصنوعات کے خراب معیار کی شکل میں نمودار ہوگا۔ کاروباری ادارہ اپنی مصنوعات کو منافع بخش قیمت کے فروخت کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ صحیح قسم کے لوگ صحیح تعداد میں اور صحیح وقت پر موجود ہوں۔ انھیں مناسب تربیت دی جائے تاکہ کم سے کم چیز ضائع ہو۔ انھیں زیادہ سے زیادہ پروڈکشن پیش کرنے کے لیے بھی لازمی طور پر ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں مناسب وضروری حد تک مراعات بھی دی جانی چاہئیں۔
عملہ کاری انسانی وسائل کے مینجمنٹ کے ایک کے طور پر (Staffing as Part of Human Resource Management)
عملہ کاری ایک ایسا کام ہے جو تمام منیجر وں کو انجام دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بالکل علاحدہ اور خصوصی نوعیت کا کام ہے اور اس کے لیے انسانی روابط کے بہت سے پہلوؤں کو ذہن میں رکھنا پڑتا ہے۔ یہ منیجر وں کا کارمنصبی ہے کہ وہ اپنی تنظیم میں اسامیوں کو پُر کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ تمام جگہوں پر با صلاحیت لوگ ہی کام کرتے رہیں گے۔ عملہ کاری تنظیم کاری سے بہت قریبی تعلق رکھتی ہے کیوں کہ تنظیمی ساخت اور منصوبوں کے طے ہو جانے کے بعد لوگوں کو ان جگہوں اور عہدوں پر کام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نتیجتاً ان کی تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے نیز انھیں تنظیم کے ہدف و مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کے لیے فعال بھی بنانا پڑتا ہے۔ پس عملہ کاری کومینجمنٹ میں بہت اہم کام سمجھا جاتا ہے۔
عملہ کاری کا عمل مینجمنٹ کے انسانی عنصر سے متعلق ہے۔ کسی تنظیم کے انسانوںکو منظم کرنا ایک اہم ترین کام ہے کیوں کہ کسی تنظیم کی کارکردگی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کام کتنی عمدگی سے انجام دیا گیا ہے۔ کسی تنظیم کی کامیابی اس کے مقاصد کے حصول میں بڑی حد تک اس کے انسانی وسائل کی اہلیت، تحریک پذیری اور کار کردگی پر منحصر ہوتی ہے۔
یہ تمام مینجروں کی ذمے داری ہے کہ وہ ان تمام لوگوں سے براہ راست رابطہ کریں جن کو تنظیم کے لیے چنا جاتا ہے اور جو آئندہ تنظیم کے لیے کام کریں گے۔ جب مینیجر، عملہ کاری کاکام انجام دیتا ہے تو اس کا رول قدرے محدود ہو جاتا ہے۔ صحیح منصب ،صحیح شخص کو رکھنا، تنظیم کے لیے نئے ملازمین کی بھرتی کرنا ان کی تربیت کرنا، ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا، ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینا، ان کے اخلاق و کردار کو قائم رکھنا اور ان کی صحت و جسمانی احوال کی حفاظت کرنا وغیرہ منیجروں کی چند ذمے داریاں ہیں۔ چھوٹی تنظیموں میں مینجر ملازمین کی تنخواہوں، ان کی فلاح و بہبود اور کام کی صورت حال سے متعلق تمام فرئض خود ہی انجام دیتے ہیں۔
لیکن جیسے جیسے تنظیمیں بڑھتی ہیں اور ان کا دائرہ بڑھتا ہے اور ان میں ملازم رکھے گئے لوگوں کی تعداد بڑھتی ہے تو ایک علاحدہ شعبۂ، جسے انسانی وسائل کا شعبہ کہا جاتا ہے، تشکیل دیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو منظم کرنے کی مہارت حاصل ہوتی ہے۔ انسانی وسائل کا مینجمنٹ ایک خصوصی میدان ہے جس میں بہت سے لوگوں کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ شعبۂ انسانی وسائل کے ماہرین کی تعداد اور اس شعبے کا سائز کاروبار کے سائز کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔ ایک بڑی کمپنی میں انسانی وسائل کا شعبہ بذاتِ خود ہرکام کے لیے ماہرین رکھتا ہے۔
انسانی وسائل کے مینجمنٹ میں بہت سی خصوصی سرگرمیاں اور فرائض شامل ہوتے ہیں جنھیں خود انسانی وسائل کا یہ مینجمنٹ انجام دیتا ہے۔ یہ فرائض ہیں:
• تقرری یعنی یا با صلاحیت لوگوں کی تلاش۔
• منصبی کاموں کا تجزیہ، کاموں کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی تاکہ ادارے کے تمام کاموں کی تفصیلات تیار کی جاسکیں۔
• معاوضوں اور ترغیبات کے پروگراموں کو ترتیب دینا۔
• موثر کارکردگی اور عہدے کی ترقی کے لیے ملازمین کی تربیت و ترقی۔
• مزدوروں کے تعلقات کو اور یونین مینجمنٹ روابط کو قائم رکھنا۔
• پریشانیوں اورشکایات کو دورکرنا۔
• ملازمین کی فلاح و بہبودکا بندوبست کرنا اور ان کو سماجی تحفظ فراہم کرنا۔
• قانونی مقدمات میںکمپنی کا دفاع کرنا اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنا۔
انسانی وسائل کے مینجمنٹ کا ارتقا
(Evolution of Human Resource Management)
انسانی وسائل کے مینجمنٹ نے مزدوروں کی فلاح و بہبود اور عملہ کاری مینجمنٹ کے روایتی نظریے کی جگہ لے لی ہے۔ انسانی وسائل کے مینجمنٹ کی موجودہ شکل متعدد باہمی مربوط ترقیات سے وجود میں آئی ہے جس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی صنعتی انقلاب کی۔تجارتی یونینوں کی تحریک کے آغاز نے ایک ایسے فرد کی ضرورت کو محسوس کیا جو مالکوں اور کارکنوں کے مابین ایک موثر رابطے کا کام انجام دے سکے۔ اس طرح ایک لیبرویلفیئر افسر کا نظریہ وجود میں آیا۔ اس کا رول محض ملازمین کی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں تک محدود تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ لیبر ویلفیئر افسر کو ملازموں اور مالکوں دونوں نے ہی ناپسندیدہ سمجھا۔
فیکٹری نظام کے آغاز کے ساتھ ہزاروں لوگوں نے ایک ہی چھت کے نیچے ملازمین کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔ تنظیم کے لیے لوگوں کی فراہمی کا کام ایک شخص کے سپرد کیا گیا، جسے بعد میں بھرتی، انتخاب اورملازم رکھنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ اس کے بعد اول تو پرسنل آفیسر (Personel Officer) کا عہدہ قائم ہوا اور پھر پرسنل منیجر کا۔
انسانی روابط کا نظریہ انسانی عوامل کو کسی تنظیم کی کامیابی کا اہم ترین ذریعہ تسلیم کرتا ہے۔ٹیکنولوجی کی بدلتی صورت حال اور ترقیات کی وجہ سے نئی مہارتوں کے فروغ اور ملازمین کی تربیت کی ضرورت پیش آئی۔ انسان کو ایک اہم وسیلے کے طور پر تسلیم کیا گیا جس کی بہتر سے بہتر تربیت کی جاسکتی ہے۔ کام کے دائرۂ کار میں اضافے کی وجہ سے ہی منیجر برائے انسانی وسائل نے پرسنل منیجر کی جگہ لی۔
آپ نے غور کیا ہی ہوگا کہ یہ تما م پہلو انڈسٹری میں انسانی عنصر (Human Element) سے وابستہ ہیں اور کسی انٹر پرائز کے میکانکی رخ سے نمایاں طو رپر ممتاز ہیں۔ اس طرح عملہ کاری انسانی وسائل کی مینجمنٹ کا ایک جزو لاینفک ہے کیوں کہ یہ لوگوں کے ساتھ کام کے رشتوں کی دریافت، ان کی قدروقیمت کی نشان دہی اور ان کے ساتھ رشتوں کے قائم کرنے کا ایک با مقصد عمل ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عملہ کاری مینجمنٹ کا ایک عمل بھی ہے جیسے منصوبہ بندی،تنظیم کاری، ہدایت کاری اور کنٹرول اوراس کے ساتھ ساتھ مینجمنٹ کانمایاں عملی میدان بھی جیسے مارکیٹنگ مینجمنٹ اور مالیاتی مینجمنٹ۔ اس طرح عملہ کاری ایک خط بھی ہے اور اسٹاف کی سرگرمی بھی یعنی یہ منیجر کا ایک بنیادی کام بھی ہے اور مشاورتی رول بھی جو انسانی وسائل کے شعبے کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔
عملہ کاری کا عمل (Staffing Process)
جیسا کہ اب آپ واقف ہیں کہ مینجمنٹ کے عمل (Process) میں عملے کا بنیادی تعلق اس بات سے ہے کہ کسی تنظیم میں ملازمین اور کارکنان کی جتنی اسامیاں ہیں ان کو بر وقت پُر کیا جائے۔ ملازمین کی ضرورت ضمنی طور پر بھی پیدا ہو سکتی ہے جیسا کہ کسی نئے کاروبار کی شروعات کی صورت میں یا موجودہ کاروبار کی توسیع کے موقع پر یا یہ کہ ضروریات اس وقت پیدا ہو سکتی ہیں جب کہ کچھ لوگ چھوڑ رہے ہوں، ملازمت سے سبکدوش ہورہے ہوں یا ان کا کسی دوسری جگہ تبادلہ کر دیا گیا ہو یا پھر ان کی منصبی ترقی ہو گئی ہو یا وہ اپنی نوکری سے الگ کردیے گئے ہوں۔ کسی بھی صورت میں صحیح کام کے لیے صحیح شخص کی ضرورت کے لیے کسی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔جس طرح یہ قول کہ ہر جگہ پانی ہے مگر پینے کے لیے ایک قطرہ نہیں، اس حقیقت کی صراحت کرتاہے کہ زمین کے 2/3 حصہ پر پانی ہونے کے باوجود، پینے کے لائق پانی نایاب وکم یاب ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ عملہ کاری ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک تو اس بات کا ادراک شامل ہے کہ کیسے اور کتنے ملازمین کی تنظیم کی ضرورت ہے اور دوسرے یہ کہ یہ ضرورت کہاں سے پوری ہوگی خود تنظیم کے اندر سے یا تنظیم کے باہر سے۔ اور یہ جو کہا گیا کہ صحیح و مناسب شخص نایاب و کم یاب ہے۔ اس کے لیے منصبی کام کو مارکیٹ اور تنظیم کو لوگوں کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ ان حالات میں جہاں ایک خالی اسامی کے لیے کئی سو درخواستیں آجائیں وہاں صحیح شخص کا انتخاب ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئے تقرر کیے گئے لوگوں کو واضح و متعین تربیت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ تنظیم میں انھیں جو کچھ کرنا ہے اس سے واقف کرایا جاسکے۔ اور اس صورت میں جب کہ صرف تعلیمی لیاقتوں اورطبعی میلانات و رجحانات کی بنیاد پر ان کی بھرتی کرلی جائے سیکھنے کے طبیعی میدان کی بنیاد پر، انھیں خصوصی مہارتوں میں پھر بھی تربیت کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی کاروبار کے باہری وسیلے (Business Process Outsourcing) BPO,کی اکائی کے ذریعے اپنی بہترین صلاحیتوں اور انگریزی بولنے میں اچھی استعداد کے باوصف منتخب کیا جاتا ہے تو اسے متعلقہ کاروباری عملوں میں اصل منصبی مقام سے پہلے تربیت حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔ ٹیلیفون پر بات چیت کے آداب کو سمجھنا ہوگا، نیزایک مخصوص لب و لہجے کو اختیار کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔ تربیت اور تنظیم میں کام کے دوران ملازمین کی کارکردگی اور رویے سے ہی ان کے بارے میں پہلا تاثر قائم ہوتاہے۔ یہاں تک کہ منصبی کام پر بھی ملازمین کو اپنے علم، واقفیت اور مہارتوں کو بتدریج بڑھانے اور زیادہ بڑی ذمے داریوں کے لیے تیار ہونے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے عملے کی تربیت اور ڈیولپمنٹ عملہ کاری کے عمل کا دوسرا اہم پہلو ہے۔
مذکورہ بالا مرحلوں کے مختصر بیان سے جو کچھ برآمد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ:
(i) انسانی قوت کار کی ضرورت کا اندازہ لگانا (Estimating the Manpower Requirements) : آپ واقف ہیں کہ کسی تنظیمی ساخت کی تشکیل کرتے وقت ہم فیصلوں اور فیصلہ سازی کی سطحوں،سرگرمیوں نیز ان کے درمیان تعلقات کے تجزیے کو اس نقطۂ نظر کے ساتھ زیر غور رکھتے ہیں کہ ساخت کی افقی و عمودی جہات کو قائم کیا جاسکے۔ اس طرح مختلف کاموں کی اسامیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر ایک کام کی انجام دہی کے لیے ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس تعلیمی صلاحیت بھی ہو، فنی مہارت بھی اور سابقہ تجربہ بھی۔ اس لیے انسانی قوت کارکے تقاضوں کو سمجھنا نہ صرف یہ جاننے کا معاملہ ہے کہ ہم کو کتنے لوگوں کی ضرورت ہے بلکہ یہ بھی کہ کس قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہ مان لیا گیا ہے کہ ہمیں خواتین، پس ماندہ طبقوں اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد (جیسے جسمانی طور پر معذور، بینائی و سماعت سے محروم) کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اپنی تنظیم میں انھیں ذمہ دارانہ منصب پر فائز کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں سمجھا جائے اور اگر ضروری ہو تو اس کے مطابق انسانی قوت کار کو کم کردیا جائے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہمیں انسانی قوتِ کار میں ایسی رنگا رنگی کی حوصلہ افزائی کیوں کرنی چاہیے؟
انسانی قوت کار کی ضرورتوں کو سمجھنے کے لیے ایک طرف تو کام کی مقدار (Work load) کے تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے تو دوسری طرف قوتِ کار کے تجزیہ کی۔ کام کی مقدار کے تجزیے سے مختلف کاموں کی کارکردگی کے لیے اور تنظیمی مقاصد کے حصول کے لیے اس کے وسائل کی تعداد اور اقسام کے تعین میں مدد ملتی ہے۔ قوت کار کے تجزیے سے موجود وسائل کی تعداد اوران کے ٹائپ کا پتہ لگے گا۔ اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ کیا عملہ کی کمی ہے، زیادتی ہے یا عملہ پورا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ عملے کی کمی اور زیادتی دونوںہی صورتیں اچھی نہیں ہوتیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ دراصل ان دونوں ہی صورتوں میں عملہ کاری کا عمل باقی رہے گا۔ مان لیجیے کہ کسی جگہ عملہ زیادہ ہے تو ملازمین کو وہاں سے ہٹانے یا ٹرانسفر کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ عملہ کی کمی کی صورت میں بھرتی کا عمل پھر جاری رہے گا۔ بہر حال اس سے پہلے کہ کچھ کیا جائے، یہ ضروری ہے کہ مختلف کاموں کی تفصیلات میں انسانی قوت کار کو اور اس کی اسامیوں کے مطلوبہ خاکے کو سمجھ لیا جائے۔ اسامیوں کے مطلوبہ خاکے سے مراد تعلیمی لیاقت، تجربہ، شخصیتی خصوصیات وغیرہ وغیرہ۔ یہ معلومات موثر و ماہر ملازمین کی تلاش کی بنیاد ہیں۔
(ii) تقرّری (Recruitmen) : تقرّری کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ امکانی ملازمین کی تلاش کا عمل ہے اور انھیں تنظیم میں متعلقہ کاموں کے لیے درخواست دینے کی طرف راغب کرنا ہے اور امیدواروں کی درکار اہلیت کا اشتہار میں ’خالی اسامیاں‘ عنون سے دیا جاسکتا ہے۔ اشتہار فیکٹری/ دفتر کے دروازے یا کسی بھی جگہ پر چسپاں یا نمایاں کیا جاسکتا ہے۔ یہ پرنٹ میڈیا میں بھی شائع ہو سکتا ہے یا پھر الیکٹرانک میڈیا میں بھی دکھایا جاسکتا ہے۔ اس عمل سے با صلاحیت اور اہل امیدواروں کی تلاش بھی ممکن ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ با صلاحیت امیدواروں کے وسائل کا تعین کیا جاسکے۔ و اقعتا کسی فرم میں تقرری کے مواقع بڑی تعداد میں ہوتے ہیں جن کا ذکر بعد میں کیا جائے گا جب ہم تقرری کے مختلف وسائل کے بارے میں بات کریں گے۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ متعلقہ کاموں کے امکانی امیداواروں کی تلاش کر لی جائے اور بھرتی کے اندرونی اور بیرونی دونوں ہی وسائل کو دریافت کرلیا جائے۔ اندرونی وسائل کو ایک محدود حد تک استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ نئی مہارتوں اور صلاحیتوں اور وسیع تر انتخاب کے لیے بیرونی وسائل کو استعمال کیا جاتا ہے۔
(iii) انتخاب (Selection): منصبی کام کے امکانی امیدواروں کی جماعت میں سے چُننے کا عمل انتخاب کہلاتا ہے، جو تقرری کے مرحلے پر کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انتہائی مخصوص قسم کے منصبی کاموں کی صورت میں بھی جہاں انتخاب کرنا مشکل ہوتا ہے،سخت انتخابی عمل کے دو اہم مقاصد ہوتے ہیں: (i) یہ یقین دلانا ہے کہ تنظیم موجود لوگوں میں سے بہتر شخص کا انتخاب کرے گی اور (ii) منتخب شدہ لوگوں کی عزتِ نفس اوران کے وقار میں بھی اضافہ کرے گی اور امیدواروں کو یہ بھی بتائے گی کہ تنظیم میں کام کتنی سنجیدگی سے انجام دیا جاتا ہے۔ اس سخت قسم کے طریقۂ انتخاب میں امتحانات اور انٹرویو وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں جن کی تفصیلات آگے آئیں گی۔ وہ اُمیدوار جو امتحان (Test) اور انٹرویو کی منزل سے کامیابی کے ساتھ گزرجاتے ہیں، انھیں ملازمت کے معاہدہ کی پیش کش کی جاتی ہے۔ یہ پیش کش ایک تحریری دستاویز کی شکل میں ہوتی ہے جس میں ملازمت کی پیش کش، شرائط و ضوابط اور ملازمت میں شامل ہونے کی تاریخ درج ہوتی ہے۔

زیادہ عملہ کاری گپ شپ زیادہ، کام کم
(iv) تعیناتی اور اورینٹیشن (Placement & Orientatin) : کسی تنظیم میں کام شروع کرنے کا مطلب ہے وہاں کے ماحول میں ملازم کی سماجی ہم آہنگی ہے۔ ملازم کو کمپنی، کمپنی کے اعلیٰ عہدے داروں، ماتحتوں اور رفقائے کارکے بارے میں مختصراً بتایا جاتا ہے۔ اسے کام کی جگہ دکھائی جاتی ہے اور اس منصبی کام کی ذمے داری سپرد کی جاتی ہے جس کے لیے اس کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ واقفیت شناسی کا یہ عمل بہت نازک ہوتا ہے اور اس سے اس کی آئندہ کی مدّتِ ملازمت اور کارکردگی دونوں پر دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح آغاز کار (Orientation) کا مطلب ہے منتخب ملازم کو دوسرے ملازمین سے متعارف کرانا اور اس کو تنظیم کے اصول وقواعد اور اس کی پالیسیوں سے روشناس کرانا۔ تعیناتی (Placement) سے مراد ہے کہ ملازم کو جس منصب (Post) کے لیے منتخب کیا گیا ہے اس حیثیت پر اس کوفائز کرنا ہے۔
(v) تربیت اور ڈیولپمنٹ (Traning & Development): لوگ جو کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ محض ایک کام (Job) نہیں بلکہ ایک ذریعۂ معاش (Career) ہوتا ہے۔ ہرشخص کو بلندی تک پہنچنے کے لیے مواقع ضرور ملنے چاہئیں۔ اس طرح کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ملازمین کو سیکھنے کی سہولیات بہم پہنچائی جائیں۔تنظیموں کے یا تو اپنے تربیتی مراکز ہوتے ہیں یا پھر تربیتی اداروں سے الحاق ہوتا ہے تاکہ ان کے ملازمین کی مسلسل تعلیم و تربیت ہوتی رہے۔ تنظیموں کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر ملازمین کی حرکت پذیری (Motivation)زیادہ ہو تو ان کی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔ وہ زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس طرح وہ تنظیم کی موثریت اور اہلیت کے لیے زیادہ بہتر خدمات انجام دیتے ہیں۔ اپنے ممبران کے ذریعۂ معاش کی ترقی کے لیے مواقع فراہم کرکے تنظیمیں نہ صرف ملازمین کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں بلکہ جو لوگ تنظیم سے وابستہ ہوجاتے ہیں وہ پھر تنظیم میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔
جیسا کہ پہلے ذکر آیا زیادہ تر تنظیموں میں انسانی وسائل کا ایک علاحدہ محکمہ ہوتا ہے جو عملہ کاری کے کام کو انجام دیتا ہے لیکن چھوٹی تنظیموں میں انتظامیہ کے تمام کاموں کو انجام دینے کا کام مینیجر ہی کرتا ہے خواہ وہ منصوبہ بندی ہو، انتظام کرنا ہو ، عملہ کاری ہو،ہدایت کاری ہو یا پھر کنٹرول کرنا ۔ اس طرح عملہ کاری کے عمل میں تین مزید سطحیں شامل ہو جاتی ہیں۔
(VI) کارکردگی کی ستائش
(Performance Appraisal)
تربیت کی ایک مدّت گزارنے کے بعد اور ملازمت میں کچھ وقت کام کر لینے کے بعد اس بات کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ تمام تنظیمیں اپنے ملازمین کی کارکردگی کے جائزے کے لیے کسی نہ کسی رسمی یاغیر رسمی وسیلے کا استعمال کرتی ہیں۔ کارکردگی کی ستائش کا مطلب ہے کہ ملازم کی پہلے سے طے شدہ معیارات کے مطابق موجودہ اور /یاسابقہ کارکردگی کا جائزہ لینا ۔ ملازم سے توقع کی جاتی ہے کہ اسے معیارات کا علم ہو گا اور اس کے بڑے افسران اسے اس کی کارکردگی پر بازرسی مہیا کرائیں گے۔ کارکردگی کی ستائش کے عمل میں اس لیے ملازمت کا تعین کرنا ،کارکردگی کا جائزہ لینا اور بازرسی مہیا کرنا شامل ہوتا ہے۔
بی پی او (بزنیس پراسیس آؤٹ سورسنگ) اکائیوں کے منیجر
(Managers in Business Process Outsourcing (BPO) Units)
BPO مینجیر کو ایک ایسے شخص کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جو سیکڑوں ایسے نئے پیشہ وروں (Professionals) کا نگراں ہے جن کے سروں پر ہیڈ فون ہیں اور جو فنی مہارات کے ساتھ مصروف کار ہیں اوراس منیجر کا بڑا چیلنج یہ ہے کہ اپنے پرجوش ملازمین کو دوسری کمپنیوں میں جانے سے روکے۔
ایک نئی صنعت، ناتجربہ کار ہے، ایک نئی قوت کار اور سخت نوعیت کے خدماتی سطح کے انتظامات ہیں اور اسی طرح کے دیگر بہت سے اُمور۔ BPO مینجیر کے کام کے لیے ان یکساں اہمیت کے پہلوؤں کی تفہیم یہ ظاہر کرنے میں مدد کرے گی کہ کاروباری ادارے کی سرپرستی سب سے زیادہ چیلنج والے کاموں میں سے ایک ہے۔
جو اپنے اچھے مستقبل کی شروعات جلدی کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے BPO ایک سیڑھی اور وقتی انتظام ہے۔ لیکن BPO انڈسٹری نہ صرف چھوٹے کاموں کے لیے بلکہ درمیانی اور اعلیٰ سطح کے افسران کے لیے بھی اچھے مواقع اور ماحول فراہم کرتی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں۔ BPO ماحول میں، منیجر ایک مرکزی کردار نبھاتا ہے اور وہ گاہک اور ڈیلیوری ٹیم کے مابین ایک نازک کڑی ہے۔ گاہک کے کاروبار کو اولیت دینا کامیابی کی بنیاد ہے۔
صنعت میں بہت سے BPO مینجر مواصلات، بیمہ، بینکنگ، اسپتال، علاج و معالجہ، خوردہ فروش اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ان مختلف النوع شعبوں سے ماہر اور ہنر مند اور با صلاحیت لوگوں کو چھانٹ لینا اورBPO آؤٹ سورسنگ انڈسٹری کی ضروریات سے ہم آہنگ کرکے ایک انوکھا نظام قائم کرنا اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔ اس میں کام کے دوران کام کی پیچیدگیوں اور تقاضوں کو سمجھ لینا ہی سب سے اہم چیز ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود کہ BPO کمپنیاں داخلے کی سطح پر ہی جامع تر بیتی پروگرام وضع کرتی ہیں،لیکن مینجروں کو اپنے پیشہ ورانہ تجربات کو استعمال میں لانا پڑتا ہے اور اس علم کو BPO کے ماحول میں برتنا پڑتا ہے۔
ماخذ: دی اکونومکس ٹائمز، نومبر 06
(VII) ترقی اور کیرئیر کی منصوبہ بندی (Promotion and Career Plannig)
سبھی تنظیموں کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے کیرئیر سے متعلق معاملات اور ترقی کے امکانات پر خاطر خواہ توجہ کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مینیجر ایسی سرگرمیاں وضع کریں جن میں ملازمین کے طویل مدتی مفادات ہی کارفرما ہوں۔ وہ اپنے ملازمین کو ترقی کرنے کی ترغیب دیں اور ان کی تمام صلاحیتوں سے پوری طرح واقف ہوں۔ لوگوں کے کیرئیر کے لیے ترقی ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں زیادہ ذمہ داری والے عہدوں پر فائز کیا جانا چاہئے اور اس کا عام مطلب زیادہ تنخواہ،زیادہ ذمہ داری اور کام سے زیادہ اطمینان ہوتا ہے۔
(VIII) معاوضہ یا صلہ (Compensation)
تمام تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے تنخواہوں کے منصوبے تیار کریں۔ کام کی نوعیت کے اعتبار سے تنخواہوں کے الگ الگ منصوبے تیار کرنے کے مختلف طریقہ کار ہیں۔ بنیادی طور پر کا م کی قیمت کا تعین کیا جانا چاہیے۔ اس لیے معاوضے یا صلے کا مطلب ہے ملازمین کو دئیے جانے والی تنخواہ یا صلے کی تمام قسمیں۔ ممکن ہے یہ براہِ راست مالی ادائیگی یعنی تنخواہوں،ترغیبات،تفویضات اور بونس کی صورت میں ہو یا بالواسطہ ادائیگیوں کی صورت میں جیسے آجر نے انشورینس یا چھٹیوں کے لیے ادائیگی کر دی ۔
براہِ راست مالی ادائیگیاں دو قسم کی ہوتی ہیں: اوقات پر مبنی یا کاکردگی پر مبنی ۔ اوقات پر مبنی منصوبے کا مطلب ہے کہ تنخواہ یا اجرت ،روزانہ یا ہفتے واریا ماہانہ یا سالانہ ادا کی جائے گی ۔ کارکردگی پر مبنی ادائیگی کا مطلب ہے کہ تنخواہ یا اجرت کام کی نوعیت کے مطابق ادا کی جائے گی ۔ مثال کے طور پر ایک کارکن کو اس کے بنائے ہوئے یونٹوں کی تعداد کے مطابق ادائی کی جا سکتی ہے۔ مختلف ترغیباتی منصوبوں کے تحت معاوضوں کا حساب کتاب کرنے کے کئی طریقہ کار رائج ہیں تاکہ کارکردگی کا صلہ دیا جا سکے۔ مختلف تنخواہوں کے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں جو کہ اعلیٰ کارکردگی کے لیے اوقات پر مبنی ادائیگی کے ساتھ ترغیبات کے امتزاج کی شکل میں ہو سکتے ہیں۔ اوقات پر مبنی تنخواہ یا اجرت نیز کارکردگی پر مبنی مالیاتی ترغیبات اور بونس اور ملازمین کے فوائد کے لیے مختلف منصوبے وضع کیے جا سکتے ہیں۔

امیدوار ( شخص )
تنظیم ( منصبی کام )
تقرری ( نشان دہی اور ترغیب کاری )
انتخاب ( قدر و قیمت کا تعین، جانچ اور آخری فیصلہ )
تربیت ( معلومات اور فنی مہارتون کا فروغ )
عملہ کاری کے پہلو
اس کے علاوہ ایسے کچھ دیگر عوامل بھی ہیں جو تنخواہ کے کسی منصوبے کو وضع کرنے پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسے مزدوروں کے قوانین ،مرکزی ،کمپنی کی پالیسی اور حصہ داری وغیرہ ۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عمل کے طور پر عملہ کاری میں تحصیل کرنا ،برقرار رکھنا ،نشو و نما کرنا ، کارکردگی کی ستائش کرنا، ترقی دینا اور معاوضہ دینا ،کسی تنظیم کا انتہائی اہم وسیلہ ہوتے ہیں اور یہی انسانی اثاثہ ہے۔
اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ لیبر مارکیٹ میں مخصوص مہارتوں کی رسد اور مانگ جیسے کئی عوامل ہیں جن میں بے روزگاری کی شرح ،لیبر مارکیٹ کی شرائط ،قانونی اور سیاسی امور ،کمپنی کی شبیہ ، پالیسی ،انسانی وسائل کی منصوبہ بندی پر آئی لاگت ، تکنیکی ترقی اور عام اقتصادی ماحول وغیرہ کی بھرتی، انتخاب اور تربیت کے طریقہ کار پر اثر انداز ہوں گے۔
تقرری یا بھرتی (Recruitment)
تقرری یا بھرتی سے مراد ہے کسی منصبی کام کے لیے ممکنہ امیدواروں کی تلاش کا عمل۔ اس کی یہ تعریف بھی کی گئی ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں امیدواروں کی تلاش کی جاتی ہے اور انھیں کسی تنظیم میں منصبی کاموں کے لیے درخواست دینے کے لیے آمادہ و راغب کیا جاتا ہے۔
اشتہار بھرتی عمل کا ایک حصہ ہے اور اسے مختلف ذرائع سے انجام دیا جاسکتا ہے جیسے اخبارات کے ذریعے۔خاص طور پر ایسے اخبارات جن میں نوکریوں کے لیے اشتہارات کے مخصوص کالم ہوتے ہیں یا پیشہ ورانہ اشاعتوں کے ذریعے، یا کسی ملازمتی مرکز کے ذریعے یا کیمپس میں انٹرویو وغیرہ کے ذریعے۔
تقرری کے ذرائع (Sources of Recruitment)
تقرری کا مقصد باصلاحیت اہل اور تعلیم یافتہ لوگوںکو ملازمت کے لے راغب کرنا ہے۔ اس میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ تنظیم کو کتنے افراد کی ضرورت ہے اور کتنے لوگوں کو نوکری دینی ہے۔ اس عمل میں پہلا قدم تو افراد کی نشان دہی ہے اور پھر ان کو نوکری کے لیے درخواست دینے پر آمادہ کرنا شامل ہے۔ یہ عمل موجودمنصبی کام کے لیے لوگوں کو تلاش کرتا ہے اور انھیں تنظیم میں منصبی کام کے لیے درخواست دینے پر راغب کرتا ہے۔ تنظیم میں خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لیے افراد کے انتخاب سے پہلے ضرورتوں کا اندازہ لگانا بہت اہم ہے۔ ضرورت کا مطلب ہے کہ امیدواروں کو درخواست دینے کے لیے متوجہ اور راغب کیا جائے۔تقرری کے عمل میں درج ذیل سرگرمیاں شامل ہیں (a) لیبر سپلائی (Labour supply) کے مختلف ذرائع کی نشان دہی، (b) امیدواروں کی اہلیت اور صلاحیت (Vailidity)کی جانچ، (c) مناسب ترین ذرائع کا انتخاب اور (d) خالی اسامیوں کے لیے خواہش مند امیدواروں سے درخواستیں طلب کرنا۔
ضروری جگہوں کو تنظیم کے اندر سے یا پھر باہر سے پُر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح تقرری کے دو ذرائع ہیں: اندرونی اور بیرونی۔
اندرونی ذرائع (Internal Sources)
اندرونی تقرّری کے دو اہم ذرائع ہیں ۔ یہ دو ذرائع ہیں تبادلہ (Transfer) اور ترقی (Promotion)۔ ذیل میں ان کی تفصیل دی گئی ہے:
(i) تبادلے (Transfers) :
اندرونی ذرائع میں تبادلوں سے مراد ہے کسی ملازم کو اس کے ایک منصبی کام سے کسی دوسرے منصبی کام میں، کسی ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں یا کسی ایک معیّنہ شفٹ سے دوسری شفٹ میں تبادلہ کرنا۔ یہ تبادلے ملازم کی ذمے داریوں اور منصب و عہدے میںکسی مستقل تبدیلی کے بغیرہیں۔ یہ تبدیلیاں فرائض اور ذمے داریوں میں ہوسکتی ہیں اور کام کرنے کے ماحول میں بھی۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ اس سے تنخواہ پر بھی اثر پڑے۔ ان شعبوں میں جہاں عملہ ضرورت سے زیادہ ہے تبادلے کا عمل ملازمین کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے کا ایک اچھاذریعہ ہوتا ہے۔ یہ عملی طور پر ملازمین کی ایک افقی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ کسی ایک برانچ میں عملے کی قابل لحاظ کمی کو کسی دوسری برانچ یا شعبے سے تبادلے کے ذریعے پُر کیا جاسکتا ہے۔ تبادلوں کے ذریعے ملازمین کی برطرفی سے بھی بچا جا سکتا ہے نیز اس طریقے سے ان کے انفرادی مسائل و شکایات کو دور کرنے میں مددبھی ملتی ہے۔ تبادلے کے وقت یہ بات ضروری ہے کہ تبادلہ کیے جانے والے ملازم اس لائق ہوں کہ وہ دوسری تبدیل شدہ جگہ پر اپنا کام انجام دے سکیں۔ ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے بھی تبادلوں کے عمل کو اختیار کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ مختلف قسم کے منصبی کاموں کو سیکھ سکیں۔
(ii) ترقی (Promotion):
کاروباری ادارے عام طور پر یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ ملازمین کو چھوٹے منصبی کاموں کی جگہ زیادہ اونچے کاموں پر ترقی دے دی جائے۔ انھیں زیادہ ذمے داری سپرد کی جائے اور انھیں زیادہ سہولیات بہم پہنچائی جائیں۔ ان کے مقام و مرتبہ اور تنخواہ میں اضافہ کیا جائے، عہدوںکی ترقی ملازمین کی عمودی تبدیلی ہے۔ اس سے ملازمین پر گہرا نفسیاتی رد عمل رونما ہوتا ہے کیوںکہ کسی بلند تر سطح پر ترقی سے تنظیم میں نچلی سطحوں پر ترقیات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اندرونی ذرائع کی خوبیاں (Merits of Internal Sources)
تنظیم کے اندر ہی سے اونچے عہدوں کی خالی اسامیوں کو پر کرکے یا یوں کہیے اندرونی تبادلوں کے ذریعے خالی اسامیوں کو پُر کیاجاسکتا ہے اس طریقۂ کار کے درجہ ذیل فوائد ہیں:
(i) ملازمین بہترکارکردگی کے لیے راغب کیاجاتا ہے۔ ایک اونچے عہدے پر کسی ملازم کو ترقی دینے سے نچلی سطح پر ترقیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس سے ملازمین کو علم و واقفیت اور مشق ومہارت حاصل کرکے اپنی کارکردگی کو زیادہ بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔ ملازمین اپنے قول و قرار کے مطابق وفاداری کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اپنے منصبی کاموں سے مطمئن رہتے ہیں۔ترقیوں کے مواقع سے کاروباری ادارے میں پُرسکون ماحول رہتا ہے۔
(ii) اندرونی قرری کے انتخاب اور تعیناتی کا عمل بھی سادہ اور آسان ہوجاتا ہے۔ امیدوار جو کسی کاروباری ادارے میں پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کی جانچ زیادہ موثر وصحیح اور کفایتی طور پر کی جاسکتی ہے۔ یہ تقرری کاایک زیادہ معتبر راستہ ہے کیوں کہ تنظیم امیدواروں سے پہلے سے ہی واقف ہوتی ہے۔
(iii) تبادلہ لازمین کی تربیت کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو انھیں بہتر طور پرمنصبی کاموں کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ نیز یہ بھی کہ تنظیم کے اندر ہی اندر تقرری سے لوگوں کو تربیت کی ضرورت نہیں پڑتی۔
(iv) تبادلے کے ذریعے کسی شعبے کے زائد عملے کو دوسرے شعبوں میں بھیجا جاسکتا ہے جہاں کام کرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔
(v) اندرونی طورپر خالی اسامیوں کو پُر کرنا بیرونی ذرائع کے بالمقابل سستا اور آسان ہوتاہے۔ بہ نسبت اندرونی ذرائع سے امیدواروں کی تقرری کی جانے سے۔
اندرونی ذرائع کی خامیاں (Limitations of Internal Sources)
تقرری (Recruitment) کے اندرونی ذرائع کے استعمال کرنے کی خامیاں درج ذیل ہیں:
(i) جب خالی اسامیاں اندرونی ترقیوں (Promotions) کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں تو نئی نئی صلاحیتوں کے حصول کا دائرہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اندرونی تقرری پر مکمل اعتماد تنظیم میں نیا خون داخل ہونے اور نیا جوش اور ولولہ پیدا ہونے کا عمل رک سکتا ہے۔
(ii) ایک معینہ مدت کے اندر ترقی کا تعین ہونے کی بنا پر ملازمین کے کا ہل اور بے عمل ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔
(iii) ایک نیا کاروباری ادارہ تقرری کے اندرونی ذرائع کا استعمال نہیں کر سکتا۔
(iv) ملازمین کے مابین جذبۂ مسابقت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور
(v) ملازمین کے لگاتار تبادلے تنظیم کی پیداواری صلاحیت کو کم کر سکتے ہیں۔
بیرونی ذرائع (External Sources)
چونکہ تمام خالی اسامیوں کو اندرونی ذرائع سے پُر نہیں کیا جاسکتا اس لیے بیرون ذرائع کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے۔ موجودہ عملہ ناکافی ہو سکتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ وہ پُر کی جانے والی خالی اسامیوں کے لیے اس عملے میں اہل اور با صلاحیت افراد نہ ملیں ۔ بیرونی تقرری وسیع تر انتخاب کے مواقع فراہم کرتی ہے اور تنظیم میں نئے خون کو دعوت دیتی ہے۔ تقرری کے بالعموم مستعمل ذرائع ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
(i) براہ راست تقرّری (Direct Recruitment) :
براہ راست تقرری کے تحت کسی کاروباری ادارے کے نوٹس بورڈ پر ایک نوٹس چسپاں کر دیا جاتا ہے جس میں اسامیوں کی تفصیلات درج ہوتی ہیں نوکری کے خواہش مندافراد ایک متعینہ تاریخ پر تنظیم کی عمارت کے باہر مجتمع ہوتے ہیں اور برموقع انتخاب کردیا جاتا ہے۔ براہِ راست تقرری کا طریقہ عام طور پر روزمرہ کے غیر فنّی یا نیم فنّی کاموں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے کارکن کیژول (Casual) یا بدلی کارکن کہلاتے ہیں اور انھیں روزانہ مزدوری کی بنیاد پر اجرت دی جاتی ہے۔ تقرری کا یہ طریقہ انتہائی سستا ہے کیوں کہ اس میں خالی اسامیوں کے لیے اشتہاری لاگت شامل نہیں ہوتی۔ یہ طریقۂ کار اس صورت میں مناسب رہتا ہے جب کام کی زیادتی ہو یا پھر جب کچھ مستقل کارکن غیر حاضر ہوں۔
(ii) اتفاقی عملہ (Casual Callers) :
بہت سی معروف کاروباری تنظیمیں اپنے دفاتر میں اتفاقی امیدواروں کے متعلق معلومات بھی رکھتی ہیں۔ اس قسم کے کام کے متلاشی افراد انسانی وسائل کا بہترین ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ اس قسم کی ایک فہرست تیار کی جاسکتی ہے اور خالی اسامیوں کو حسب ضرورت پُر کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کی بھرتی کی خوبی یہ ہے کہ اس سے دیگر ذرائع کی بہ نسبت انسانی وسائل کی بھرتی میں لاگت کم آتی ہے۔
(iii) اشتہار دینا (Advertisement) :
اخبارات یا تجارتی اور پیشہ ورانہ رسائل میں اشتہار دینے کا طریقہ بالعموم اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب بڑے پیمانے پر انتخاب کی ضرورت ہو۔ صنعت اور کامرس کے اعلیٰ عہدوں پر تقرری اسی طریقے سے کی جاتی ہے۔ خالی اسامیوں کے لیے اشتہار دینے کا فائدہ یہ ہے کہ تنظیم اور عہدوں کے بارے میں زیادہ تر اطلاعات کو اشتہار میں دیا جاسکتا ہے۔ اشتہارات کے ذریعے مینجمنٹ کو انتخاب کے لیے بہت سے امیدوار مل جاتے ہیں۔ اشتہارات مشہور و معروف اخبارات میں دیے جاتے ہیں۔ اس کا نقص یہ ہے کہ اشتہار کے جواب میں امیدواروں کا سیلاب امڈ پڑتا ہے اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ناموزوں امیدواروں کی بھیڑ اکھٹی ہو جاتی ہے۔
(iv) دفتر روزگار (Employment exchange)
حکومت کے ذریعے قائم شدہ روزگار دفتروں کو غیر فنّی و فنّی کاموں کے لیے بھرتی کا ایک اچھا ذریعہ خیال کیا گیا ہے۔ کچھ حالات میں روزگار دفتر میں خالی اسامیوں کی اطلاع دینا قانوناً لازمی ہوتا ہے۔ اس لیے روزگار دفتر عملے کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں اس طور پر کہ یہ نوکریوں کے متلاشی افراد لوگوں اور مالکان کے درمیان ایک کڑی کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ روزگار دفتر کے ریکارڈ اندراجات اکثر تازہ ترین نہیں ہوتے اور ان کے ذریعے جن امیدواروں کا نام دیا جاتا ہے وہ ضروری نہیں ہے کہ مناسب و موزوں بھی ہوں۔
(v) تعیناتی ایجنسیاں اور مینجمنٹ صلاح کار (Placement Agencies ManagemenConsultants):
تکنیکی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں نجی ایجنسیاں اور پیشہ ورانہ ادارے قابل قدر خدمات انجام دیتے ہیں۔تعیناتی ایجنسیاں عملے کی طلب و رسد کی فراہمی میں قومی سطح پر خدمات انجام دیتی ہیں۔یہ ایجنسیاں امیدواروں کی بڑی تعداد کی لازمی تفصیلات (Biodata) کو یکجا کرتی ہیں اور اپنے گاہکوں کو مناسب و موزوں ناموں کی سفارش کرتی ہیں۔ اس قسم کی ایجنسیاں اپنی خدمات کے لیے کچھ فیس چارج کرتی ہیں اور اس صورت میں مفید ہوتی ہیں جہاں کہ وسیع طور پر کانٹ چھانٹ ممکن ہے۔ یہ پیشہ ور بھرتی کرنے والے (Recruiters) بڑی بڑی سہولتوں اور رعایتوں کی پیش کش کر کے دوسری کمپنیوں کے اعلیٰ عہدے داروں کو بھی لبھا لیتے ہیں۔
مینجمنٹ صلاح کار فرمیں تکنیکی، پیشہ ورانہ اور مینجمنٹ کو امور سے متعلق عملے کو تقرر کرنے میں تنظیموں کی مدد کرتی ہیں۔ یہ فرمیں وسطی سطح اور اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ عہدے داروں کی تعیناتی میں خصوصی مہارت رکھتی ہیں۔ ان فرموں کے پاس با صلاحیت ہنر مند اور اہل افراد کی تمام تفصیلات ڈیٹا بینک میں محفوظ ہوتی ہیں۔ نیز یہ اپنے گاہکوں کی طرف سے نوکریوں کے لیے اشتہار بھی دیتی ہیں تاکہ صحیح و مناسب عملے کی تقرری ہو سکے۔

کیمپس بھرتی
(vi) کیمپس بھرتی (Campus Recruitment):
ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے انسٹی ٹیوٹ اور کالج تکنیکی، پیشہ ورانہ اور مینجمنٹ سے متعلق بھرتیوں کے لیے اب کافی پسند کیے جاتے ہیں۔ بہت سی بڑی بڑی تنظیمیں مختلف اسامیوں کی بھرتی کے لیے اس قسم کی یونیورسٹیوں، ووکیشنل اسکولوں اور مینجمنٹ اسکولوں سے رابطہ رکھتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے ذریعے بھرتی اب ایک عام رواج بن چکا ہے۔ اس کو کیمپس بھرتی (Campus Recruitment) کہا جاتا ہے۔
(vii) ملازمین کی سفارش (Recommendations of Employees):
موجودہ ملازمین یا امیدواروں کے دوست اور رشتے دار بھی، کار آمد افراد کی بھرتی کا اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسے امیدوار اچھے ملازم ہوسکتے ہیں، کیوں کہ ان کے بارے میں کافی معلومات دستیاب ہوجاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر ایک ابتدائی اسکریننگ کرلی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ موجودہ ملازمین افراداور کمپنی دونوں سے تعلق بھی رکھتے ہیں اور دونوں ہی کو مطمئن بھی کرنا چاہتے ہیں۔
(viii) مزدوروں کے ٹھیکے دار (Labour Cont- ractors) :
مزدوروں کے ٹھیکے دار مزدوروں سے قریبی رابطہ رکھتے ہیں اور وہ مختصر اطلاع (Short Notice) پر غیر فنی کارکنوں کی مطلوبہ تعداد کو فراہم کرسکتے ہیں۔ کارکنوں کی بھرتی ان ٹھیکے داروں کے ذریعے کی جاتی ہے جو بذات خود تنظیم کے ملازمین ہوتے ہیں۔ اس نظام کے نقائص یہ ہیں کہ اگر ٹھیکے دار بذاتِ خود تنظیم کو چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس کے ذریعے رکھے گئے تمام کارکن مقدمہ کر سکتے ہیں ۔
(ix) ٹیلی ویژن پر اشتہار دینا (Advertising on Television) :
ٹیلی ویژن پر خالی اسامیوںکی نشر و اشاعت نے آج کل بہت اہمیت حاصل کرلی ہے۔نوکریوں کے بارے میں مفصل معلومات ، ضروری شرائط اور مطلوبہ کوائف تنظیم کے تعارف کے ساتھ ٹی وی پر نشر کیے جاتے ہیں۔
(x) ویب اشاعت (Web Publishing) :
انٹرنیٹ موجودہ دور میں بھرتی کا ایک عام ذریعہ بن چکا ہے۔ مختلف ویب سائٹس (Websites)کی تشکیل کی گئی ہے۔ یہ ویب سائٹس نوکریوں کے خواہش مند افراد اور مختلف کمپنیوں میں خالی جگہوں پر بھرتی کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ واقعتا ویب سائٹس جیسے www.naukri.com، www.jobstreet.com وغیرہ بہت عام ہوگئی ہیں۔ خواہش مند افراد اور تنظیمیں ان ویب سائٹس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
بیرونی ذرائع کی خوبیاں (Merits of External Sources):
بھرتی کے بیرونی ذرائع کے استعمال سے درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
(i) باصلاحیت عملہ (Qualified Personnel): بھرتی کے بیرونی ذرائع کے ذریعے مینجمنٹ باصلاحیت اور تربیت یافتہ لوگوں کو تنظیم میں خالی اسامیوں کے لیے درخواست دینے کے لیے راغب کیا جاسکتا ہے۔
(ii) پسند کے زیادہ مواقع (Wider Choice) :
جب خالی اسامیوں کے لیے کھلے طور پر اشتہار دیا جاتا ہے تو تنظیم سے باہر کے امیدواروں کی بڑی تعداد درخواست دیتی ہے۔مینجمنٹ کو ملازمت کے لیے لوگوں کے انتخاب کا وسیع تر اختیار ہوتا ہے۔
(iii) نئے اور ہونہار افراد (Fresh Talent) :
یہ ممکن ہے کہ موجودہ ملازمین کی تعداد ناکافی ہو یا وہ اپنے کام کو انجام دینے کے اہل ہوں۔ ایسی صورت میں بیرونی ذرائع سے بھرتی ہوگی تو اہل افراد کے انتخاب کا زبردست موقع مل سکتا ہے۔ اور اس طرح تنظیم میں نیا خون اور نیا جوش وخروش پیدا ہوسکتا ہے لیکن بہر حال اس عمل میں پیسہ اور وقت دونوں ہی زیادہ لگیں گے۔
(iv) مسابقتی جذبہ (Competitive Spirit) :
اگر کوئی کمپنی بیرونی ذرائع سے باصلاحیت اسٹاف کا انتخاب کرتی ہے تو موجودہ عملہ کو باہر کے لوگوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ وہ بہتر کارکردگی کے مظاہرے کے لیے زیادہ محنت کریں گے۔
بیرونی ذرائع کی خامیاں (Limitations of External Sources)
1۔ موجودہ اسٹاف میں بے اطمینانی (Dissatisfaction among existing staff):
بیرونی تقرری کے نظام سے موجودہ ملازمین کے مابین بے اطمینانی او راحساس کمتری کو بڑھاوا ملتا ہے۔ وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ ان کے عہدے کی ترقی کے مواقع کم ہو جائیں گے۔
2۔ لمبا عمل (Lengthy Process) :
بیرونی ذرائع سے تقرری کے عمل میں طویل وقت لگتا ہے۔ کاروبار کو خالی اسامیوں کے لیے اعلان کرنا پڑتا ہے اور انتخاب کے عمل کو انجام دینے کے لیے درخواستوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
3۔ مہنگا عمل(Costly Process):
بیرونی ذرائع سے ملازمین کی بھرتی بہت مہنگی پڑتی ہے۔ اشتہار دینے اور خالی اسامیوں کے لیے درخواستوں کے لیے اشتہاردینے سے لے کر درخواستوں پر عمل کرنے تک میں وافر رقم خرچ کرنی ہوتی ہے۔
IT فرمیں ملازمین کے حوالوں پر انحصار کرتی ہیں — القا ملازمت کی شرح کو بہتر بناتی ہیں
(IIT Firms Depend upon Employee Referrals- Im proves Retention Rate )
بہت سی آئی ٹی (IT) کمپنیوں کے ملازمین نے آئی پوڈ، ایشیا بھر کی سیر و سیاحت (IPods) موٹر بائکس، حتی کی ماروتی کار تک جیت لی ہے۔ ساتھیوں یا ملازمین کے حوالوں سے جو بھرتی ہوتی ہے اس میں آج کل بڑا ضافہ ہورہا ہے اور حوالہ دینے والوں کو بھی انعامات اور بونس وغیرہ سے نوازا جاتا ہے۔
اس طرح کی بھرتی سے نہ صرف کمپنی کو باصلاحیت اور اہل لوگ ملتے ہیں بلکہ قابل لحاظ حد تک لاگت بھی کم آتی ہے۔کنسلٹینٹ کے ذریعے بھرتی ہوتی ہے تو اس میں 25 فی صد زیادہ خرچ آتا ہے۔ پچھلے دوسال کے اندر حوالہ جاتی بھرتی کے لیے ترغیبات میں 20 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔کمپنیوں نے سمجھ لیا کہ وہ اس نظام کے تحت تقرری لاگت کو 50 فی صد تک کم کرسکیں گی۔
2.4 بلین ڈالر والے جونی پرنیٹ ورکس میں اس سال جو 290 ملازموں کی تقرری ہوئی ان میں 50 فی صد اس حوالہ جاتی طریقے سے ہوئے۔
ریفرل بونس (Referral Bonus) سے کمپنی کو ہم خیال لوگوں کے ملنے میں سہولت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں القا ملازمت (Retention) کی شرح بڑھتی ہے یہی خیال جونی پر انڈیا کے منیجنگ ڈائرکٹر کا ہے۔ مالی فائدوں کے علاوہ کامیاب بھرتی کرانے والے افراد کو موٹر بائک اور فلیٹ اسکرین ٹی وی وغیرہ ہر تین ماہ میں ملتے رہتے ہیں۔
اس ریفرل سسٹم سے نوکریوں کے بازار میں خطرات کم ہوجاتے ہیں۔ نوکری کے پہلے ہی دن، ملازموں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ نئے اور با صلاحیت دوستوں کی فہرست پیش کریں۔
کم لاگتوں کے علاوہ، ایسی حوالہ جاتی بھرتی سے نئے ملازمین کی مہارت کا ثبوت بھی مل جاتا ہے۔ ایک نامعلوم شخص کے بالمقابل ایک حوالہ جاتی شخص زیادہ معتبر خیال کیا جاتا ہے۔ کیوںکہ اس صورت میں ملازمین بھی کسی حد تک اپنی ذمہ داری کے حصہ دار ہوتے ہیں۔
ماخذ اکونومک ٹائمز، 10 دسمبر 2006
انتخاب (Selection)
انتخاب ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی ملازمت کے لیے خواہش مند امیدواروں کی بڑی تعداد میں سے بہترین شخص کی نشان دہی اور انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پیش نظر امیدواروں کو ملازمت سے متعلق امتحانات اور انٹرویو کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہر مرحلے پر بہت سے امیدوار خارج ہوتے رہتے ہیں اور بہت کم اگلے مرحلے تک پہنچ پاتے ہیں یہاں تک کہ صحیح شخص تک رسائی ہو۔ یہ عمل امیدواروں کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ملازمت کی پیش کش، اوراس کی منظوری نیز امیدواروں کے شریک ملازمت ہونے تک جاری رہتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انتخاب کا عمل مینجمنٹ کے دیگر فیصلوں کی طرح امیداوروں کی مؤثر کارکردگی سے متعلق فیصلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ انتخابی عمل کی اثر پذیری کی اصل اور بالآخر جانچ تو اسی وقت ہوتی ہے جب منتخب شخص اپنے منصبی کام کی عملی شکل میں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے ۔
انتخاب کا عمل (Process of Selection)
انتخاب کے عمل میں اہم اقدام درج ذیل ہیں:
(i) ابتدائی جانچ پڑتال (Preliminary Screening): ابتدائی جانچ پڑتال کے ذریعے منیجر کم صلاحیت اور نا اہل امیدواروں کی جانچ پڑتال کر ان معلومات کی بنیاد پر چھانٹ دیتے ہیں جو درخواست میں دی گئی ہوں۔ پھر انٹرویو میں نا اہلیت کی ان بنیادوں پر چھانٹ دیا جاتا ہے جو درخواست میں مذکور نہیں ہوتیں۔
(ii) انتخابی جانچ (Selection Tests): ملازمتی امتحان (Employment Test) ایک ایسا میکانزم ہے (یا تو کاغذ اور پینسل ٹیسٹ یا کوئی مشق) جس سے افراد کی مختلف خصوصیات کو جانچا جاتا ہے۔ ان خصوصیات کا تعلق افراد کے رویوں، رجحانات اور میلانات سے ہے، دستی کاری گری سے لے کر شخصیت کا ارتقا اور ذہانت وغیرہ سبھی چیزیں ان خصوصیات کے دائرے میں آتی ہیں۔
سخت مقابلے اور باصلاحیت افراد کی اہمیت نے کمپنیوں کو 15سے 20 فی صد تک تنخواہیں بڑھانے پر مجبور کیا
(Intense Competition, Talent Crunch Push Companies to Hand Out 15-20% Pay Hikes)
ہندوستانی ملازمین کو اتنے اچھے مواقع کبھی نہیں ملے۔ سخت مقابلہ اور فرسودگی کی سطحوں کا بڑھنا کمپنیوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ لازماً 15-20 فی صد تک تنخواہوں میں وسط مدتی اضافے کو اپنی کمپنی کی پالیسی کا حصہ بنائیں ۔
ریلائنس انڈسٹریز، میریکو اور ڈابر نے حالیہ ماہ میں بہترین کارکردگی انجام دینے والے حضرات کو قبل از وقت ترقی کے علاوہ 15 سے 20 فی صد تک تنخواہ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ یہ اضافہ پچھلے سال کے 15-20 فی صد اضافے سے الگ ہے جب کہ India Inc شدت کے ساتھ کوشاں ہے کہ صلاحیتوں پر پھر سے قبضہ جمالیا جائے بالخصوص مواصلات (Telecom)، IT، BPO اور Relail میں۔
ابھرتے سیکٹر جیسے BPO، مواصلات اور Retail میں بڑے پیمانے پر بھرتی کے سبب طلب ورسد کا توازن چر مرا گیا ہے اور وسط مدتی اضافے 40 فی صد تک پہنچ گئے ہیں۔ IT میں فرسودگی کی اوسط شرح 18 فی صد سے 22 فی صد تک پہنچ گئی اور BPOs میں 46 فی صد سے 50فی صد تک۔ مینوفیکچرنگ کے سیکٹر میں صلاحیتوں کا خروج (Exodus) اوسطاً 8 سے 12 فی صد تک ہے۔
متعدد کارپوریٹ اعلیٰ عہدے داروں کو وسائل انسانی کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایک مختصر مدتی ردعمل ہے، مگر ہمیں مارکیٹ کے منظر نامے پر مثبت رد عمل کا اظہار کرنا ہوتا ہے اور اپنے ملازمین کو ہر حال میں اپنے ساتھ رکھنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے ملازم کو کھوتا ہے تو کسی نئے شخص کو اس کی جگہ پر لانے کے لیے اور مہارتوں کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ جو ایک کمپنی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ڈابر انڈیا کے ماہر انسانی وسائل کا کہنا ہے کہ ملازوں کے چلے جانے پر نئے ملازمین کی بھرتی سے کنسلٹینٹ کے بے وجہ خرچ کا بوجھ بھی بڑھتا ہے۔
کمپنی ان لوگوں کی تلاش میں ہے جنھیں چھوڑنے پر اُکسایا جاسکے اور پھر وہ کمپنی خود اس قسم کی صلاحیتوں کو قائم رکھے اور اپنے یہاں برقرار رکھ سکے جس کے لیے وہ تربیت اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے، اور ایک سال کے بانڈ پرچھ مہینے کی مدت کے لیے ان کو بیرونی ملکوں تک میں بھیجتی ہے۔
ماخذ: اکونومک ٹائمز یکم دسمبر 2006ء
کچھ تعریفیں (Some Definitions)
کسی تنظیم کے اندر یا پھر اس کے باہر، فی الحال خالی جگہوں کے لیے یا آئندہ خالی ہونے والی جگہوں کے لیے امیدواروں میں سے موزوں ترین افراد کے چننے کے عمل کو انتخاب (Selection) کہا جاتا ہے۔
ڈیل یوڈر (Dale Youder)
انتخاب مینجمنٹ کی فیصلہ سازی کا عمل ہے جو پیشگی طور پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس کام کے لیے کس امیدوار کو منتخب کیا جائے جو اس کے لیے موزوں اور مناسب ہو۔
ڈیوڈاینڈ روبینز (David and Robbins)
انتخاب امیدواروں کے درمیان امتیاز کیے جانے کا عمل ہے۔ ان کی نشان دہی کرنے اور اجرت پر رکھنے کے لیے کہ وہ ایک منصب کار میں کامیابی کے بڑے قرینے کے ساتھ شریک ہو۔
اسٹون (Stone)
ملازمین کے انتخاب کے لیے کیے جانے والے اہم ٹیسٹ
(Important Tests Used for Selection of Employees):
(a) انٹیلی جنس ٹیسٹ (Intelligence Tests):یہ مختلف ٹیسٹوں میں ایک اہم نفسیاتی جانچ (Test) ہے جو اس لیے استعمال میں لایا جاتا ہے کہ کسی فرد کی ذہنی صلاحیت (Intellignce Quotient) کی جانچ ہو سکے۔ یہ کسی شخص کے سیکھنے کی صلاحیت یا فیصلہ سازی و منصفانہ مزاج کی عکاسی کرنے والا عمل ہے۔
(b) فطری رجحان کا ٹیسٹ (Aptitude Test) :یہ افراد کی اس صلاحیت کے ٹیسٹ کرنے کا پیمانہ ہے جس کے ذریعے ان کی نئی مہارتوں اور فنون کے سیکھنے کی جانچ کی جاتی ہے۔ یہ کسی شخص کے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی استعداد کی نشان دہی کرتا ہے اس قسم کے ٹیسٹ مستقبل میں کسی شخص کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں۔
(c) شخصیت کا ٹیسٹ (Personality Tests):شخصیت کی جانچ سے کسی شخص کے جذبات اس کے ردّ عمل، ذہنی پختگی اور اقداری نظام کے بارے میں اشارات معلوم ہوتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ شخصیت کی مجموعی چھان بین کرتے ہیں اس لیے، ان کو تیار کرنا ایک دشوار کام ہے۔
(d) تجارتی ٹیسٹ (Trade Test): یہ ٹیسٹ فرد کی موجودہ فنی مہارتوں کو ٹیسٹ کرتے ہیں۔ ان ٹیسٹوں سے پیشوں یا تکنیکی تربیت کی معلومات، مہارت اور اہلیت کی جانچ کی جاتی ہے۔فطری رجحان پر مبنی ٹیسٹ اور تجارت سے متعلق ٹیسٹ میں یہ فرق ہے کہ اوّل الذکر سے فنی مہارتوں کے حاصل کرنے کی صلاحیت کی جانچ ہوتی ہے اور موخر الذکرسے ان فنّی مہارتوں کو جو فی نفسہٖ اس میں موجود ہیں۔
(e) دلچسپیوں کی جانچ (Interest Tests) : ہر فرد کے پاس کسی ایک کام کے مقابلے کسی دوسرے کام کی پسندیدگی کا جواز یا احساس ہوتا ہے۔ دلچسپیوں سے متعلق ٹیسٹ کسی شخص کی دلچسپیوں نیز ان دلچسپیوں میں اس کی عملی کارکردگی کو جاننے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
(iii) ملازمت سے متعلق انٹرویو (Employment Interview) : انٹرویو ایک رسمی، نہایت گہری گفت و شنید یا بات چیت ہے جسے کام کے تئیں امیدوار کی مناسبت و موزونیت کو جانچنے کے لیے لیا جاتا ہے۔ انٹرویو لینے والے کا رول اطلاع حاصل کرنا اور انٹرویو دینے والے کا اس کے مطابق جواب دینا اور اطلاعات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ موجودہ دور میں انٹرویو دینے والا بھی انٹرویو لینے والے سے اطلاعات حاصل کرتا ہے۔
(iv) حوالے اور پس منظری جانچ (Reference and Background Checks) : بہت سے مالکان امیدواروں کے بارے میں اطلاعات کی تصدیق کرنے اور مزید اطلاعات حاصل کرنے کے مقصد سے امیدواروں سے حوالوں کے نام، پتے اور ان کے ٹیلی فون نمبر لیتے ہیں۔ سابقہ ملازمت کے مالکان، جان پہچان کےلوگ، واقف کار، اساتذہ اور یونیورسٹی کے پروفیسر حضرات ریفری ہوسکتے ہیں۔
(v) انتخابی فیصلہ (Selection Decision) : آخری فیصلہ امیدواروں کے ٹیسٹ پاس کرنے، انٹرویو دینے اور حوالوں کی جانچ کے بعد ہی کرنا پڑتا ہے۔ متعلقہ مینجر کے خیالات کو آخری انتخاب میں عام طور پر بہت اہمیت دی جاتی ہے کیوں کہ وہی تن تنہا نئے ملازم کی کارکردگی کے لیے ذمے دار ہوتا ہے۔
(vi) طبّی جانچ (Medical Examination): انتخابی فیصلے کے بعد اور منصبی کام کی پیش کش سے قبل، امیدوار کو طبّی جانچ (Medical fitness test) سےگزرنا پڑتا ہے۔ امیدوار کو منصبی کام کی پیش کش طبی معائنے طبی صحت مندی کے اعلان کے بعد ہی کی جائے گی۔
(vii) منصبی کام کی پیش کش (Job Offer) : انتخابی عمل کا اگلا قدم یہ ہے کہ ان امیدواروں کا تقرر کیا جائے جنھوں نے پچھلے تمام مراحل کو طے کرلیا اور ہر منزل سے کامیابی سے گزرے اور ہر منزل کو پُر کر لیا۔ منصبی کام کی پیش کش ایک تقرری نامہ کے ذریعے کی جاتی ہے اور امیدوار کی منظوری سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس خط میں عام طور پر ایک متعین تاریخ درج ہوتی ہے کہ تقرر کردہ شخص کو بالآخر اس تاریخ تک لازمی طور پر اپنی ڈیوٹی پر آنا ہے اور باضابطہ طور پر اپنی آمد کی اطلاع دینی ہے۔ ملازم کو ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے لیے خاطر خواہ وقت دیا جانا چاہیے۔

(viii) ملازمت کا معاہدہ (Contract of Employment) : منصبی کام کی پیش کش کے بعد اور امیدوار کے اسے قبول کر لینے کے بعد آجر (Employer) اور ملازم کے ذریعے کچھ دستاویزات بھی تیار کی جاتی ہیں۔ اس قسم کی دستاویزات میں سے ایک تصدیق نامہ (Attestation form) ہے۔ اس فارم میں امیدوار کے بارے میں نہایت اہم واضح تفصیلات درج ہوتی ہیں جن کی تصدیق و توثیق کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے ان تفصیلات کی گواہی (Attestation) لی جاتی ہے۔ تصدیق نامہ مستقبل میں بطور حوالہ کے لیے ایک مدلل ریکارڈ ہوتا ہے۔ ملازمت کے لیے معاہدہ تیار کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بنیادی اطلاعات جو ملازمت کے تحریری معاہدے میں شامل ہونی چاہئیں وہ فرائض منصبی کی سطح کے مطابق بدلتی رہتی ہیں لیکن درج ذیل چیک لسٹ میں مثال کے لیے کچھ کی سرخیاں دی گئی ہیں: منصبی کام کا عنوان (Job title)، فرائض (Duties) ذمے داریاں (Responsibilities)، تاریخ ،جس سے ، باقاعدہ ملازمت کا آغاز ہوتا ہے، سروس کو شمار کرنے کی بنیاد، تنخواہ کی شرح، تعطیلات کے اصول و ضوابط، بیماری، پریشانیاں اور ان کا حل، تادیبی اقدامات، نوکری سے متعلق اصول و ضوابط، ملازمت سے برطرفی وغیرہ۔
تربیت اور ترقی
(Training and Development)
کسی نے بالکل صحیح کہا ہے:
’’اگر آپ ایک سال کا کوئی منصوبہ بنانا چاہتے ہیں تو بیج بوئیے
صحیح یا غلط انتخابی فیصلے کسی تنظیم کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایک لمحے کے لیے خیال کیجیے کہ کسی انتخابی فیصلے سے متعلق چار ممکنہ نتائج نکل سکتے ہیں!ایک امیدوار کے بارے میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ وہ صحیح امیدوار ہے۔ پھر وہ امیدوارعملی طور پر بھی ایک کامیاب امیدوار ہی ثابت ہوا۔ یہ بالکل صحیح فیصلہ تھا۔ دوسری صورت میں فیصلہ یہ لیا گیا کہ امیدوار ناکام ہے اور پھر عملاً بھی وہ ناکام امیداور ہی ثابت ہوا۔ پہلی صورت میں ہم نے بالکل صحیح ایک امیدوار کو قبول کیا اور دوسری صورت میں بالکل صحیح طور پر ہم نے امیدوار کو مسترد کردیا۔ مشکل جب پیدا ہوتی ہے جب اپنے امیدواروں کو ہم مسترد کردیتے ہیں۔ جن کو اگر نوکری کا موقع دیا جاتا تو وہ کامیاب امیدوار ہوتے۔ (یہ مسترد کرنا غلطی ہے) یا ایسے امیدواروں کو منتخب کرلیا جن کی کارکردگی بہت معمولی ہے (یہ انتخاب کی غلطی ہے) آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ غلطیاں اہمیت کی حامل نہیں ہیں؟ اور کیا یہ غلطیاں تنظیم کے لیے مہنگی نہیں پڑیں؟
اگر آپ 10 سال کے لیے کوئی منصوبہ بنانا چاہتے ہیں تو پودے لگائیے اور
اگر آپ عمر بھر کے لیے کوئی منصوبہ بنانا چاہتے ہیں تو لوگوں کی نشوونما کیجیے۔‘‘
تربیت اور نشوونما ایک ایسی کوشش ہے جو موجودہ یا آئندہ ملازم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے دی جاتی ہے اس طرح ایک ملازم سیکھ کر اپنی عملی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے۔ اس طرح کی تربیت میں اس کے علم اور ہنر مندی میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے اور اس کے رجحانات اور میلانات میں بھی تبدیلی پیدا کی جاتی ہے۔
تربیت اور ترقی کی ضرورت (Need of Training and Development)
جب منصبی کام سادہ اور آسان تھے، ان کا سیکھنا آسان تھا اور ٹیکنالوجی کی تبدیلی کا معمولی اثر ہوتا تھا تو اس وقت ملازمین کو اضافی تربیت کی یا ان کی فنّی مہارتوں کو بدلنے کی ضرورت بہت ہی کم پڑتی تھی۔ لیکن گزشتہ چوتھائی صدی کے دوران رونما ہونے والی تیز ترتبدیلیوں نے ہماری پیچیدہ سوسائٹی میں تنظیموں کے لیے اپنی مصنوعات کی از سر نوتشکیل (Readapt) اور فراہم کی گئی خدمات کے لیے بہت دبائو پیدا کر دیا ہے۔ نیز یہ بھی کہ وہ طریق کار جس کے تحت وہ اپنی مصنوعات اور خدمات کو پیش کر رہی ہیں یا جس قسم کے منصبی کام درکار ہیں اور جس قسم کی فنی مہارتیں ان کاموں کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں ان سب کے بارے میں ازسرِنو غور کیا جائے۔ اس طرح جیسے جیسے منصبی کام پیچیدہ تر ہو گئے ہیں ویسے ویسے ملازمین کی تربیت کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔تربیت اور نشوونما تنظیم اور فرد دونوں کے لیے یکساں طور پر معاون و مددگار ہوتی ہیں۔
تنظیم کے لیے فوائد (Benefits to the Organisation)
کسی تنظیم کے لیے تربیت اور نشوونما کے فوائد درج ذیل ہیں:
(i) تربیت ایک باضابطہ سیکھنے کا عمل ہے۔ یہ ایسے الل ٹپ کام کرنے اور آزمائشیں (Trials) کرنے سے کہیں بہتر ہوتی ہے جن سے کوششوں اور مال و متاع دونوں کازیاں ہوتا ہے۔
(ii) یہ ملازم کی پیداواری صلاحیت کو بڑھاتی ہے کمیت و کیفیت (Quantity & Quality) دونوں اعتبار سے منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔
(iii) تربیت سے آنے والے مینیجر کو بہت مدد ملتی ہے اور وہ ہنگامی حالات میں اپنی ذمے داریاں انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔
(iv) تربیت ملازم کے حوصلے کو بڑھاتی ہے اور اس کی غیر حاضری اور بار بار جگہ بدلنے کے رویّے کو کم کرتی ہے۔
(v) تیزی سے تغیر پذیر ٹیکنالوجیکل معاشی ماحول میں یہ موثر اور سود مند اقدامات اٹھانے میں مدد کرتی ہے۔
ملازم کے لیے فوائد (Benifits to the Employee)
تربیت اور نشوونما کی سرگرمی ملازم کے لیے درج ذیل فوائد رکھتی ہے:
(i) فنی مہارتوں اور علم و واقفیت کو بہتر بناتی ہے کیوں کہ یہ فرد کے بہتر ذریعۂ معاش کی رہنمائی کرتی ہے۔
(ii) فرد کی اضافی کارکردگی اسے اور زیادہ کمانے میں مددگار ہوتی ہے۔
(iii) تربیت ملازم کو اور زیادہ ماہر و مؤثر بناتی ہے تاکہ وہ میکانکی دشواریوں سے اچھے طریقے سے عہدہ برآ ہوسکے۔ اس طرح حادثوں کے پیش آنے کے امکانات کم ہوجا تے ہیں۔
(iv) تربیت ملازمین کے اطمینان اوراخلاق کو بڑھاتی ہے۔
تربیت، ترقی اور تعلیم (Training, Development and Education)
’’تربیت‘‘ کی اصطلاح اس عمل کی نشان دہی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کے ذریعے ملازمین کے رویوں، فنّی مہارتوں اور صلاحیتوں میں ان کے مخصوص منصبی کاموں کی انجام دہی کے لئے، اضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن نشوونما کی اصطلاح کا مطلب ہے فرد کی بحیثیت مجموعی ترقی۔ تربیت ایک مختصر مدتی عمل ہے لیکن نشوونما ایک مسلسل عمل ہے نیز یہ کہ نشوونما میں تربیت بھی شامل ہوتی ہے۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تربیت، تعلیم اور نشوونما امتیازی اصطلاحات ہیں اگرچہ یہ کسی حد تک ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرلی جاتی ہیں۔
تربیت (Traning): یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ملازمین کی موزونیِ طبع، فطری میلان، فنّی مہارتوں اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ نئی فنّی مہارتوں کے سیکھنے اورپھر ان مہارتوں کے اطلاق کا عمل ہے۔ اس سے ملازمین کے موجودہ کام کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے نیز ان سے اگر کوئی اور کام لیا جائے تو اس کے لیے بھی تربیت ان کو تیار کرتی ہے۔
تعلیم (Education) : تعلیم ملازمین کے علم ومعلومات اور ان کی تفہیم میں اضافے کا عمل ہے۔ یہ علم کی تفہیم اور تشریح و توضیح ہے۔ یہ قطعی جوابات فراہم نہیں کرتی بلکہ منطقی اور عقلیت پسندانہ ذہن سازی کرتی ہے جو متعلقہ متغیرات (Variables) کے درمیان رشتوں میں امتیاز کرسکتا ہے اور اس طرح کسی مظہر (phenomemon) کا ادراک کرسکتا ہے۔تعلیم ذہن اور کردار کی خوبیاں عطا کرتی ہے اور بنیادی اصولوں کی تفہیم پیدا کرتی ہے اور تجزیہ، توضیح و تشریح اور معروضیت کو فروغ دیتی ہے۔ دائرہ کار کے اعتبار سے تعلیم تربیت کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہے۔ تربیت کا تعلق فرد کے اغراص کے مقابلے تنظیمی اغراض سے زیادہ ہے۔
ترقی (Development) : نشوونما سے مراد ہے سیکھنے کے وہ مواقع جو ملازمین کی نشوونما میں معاونت کے لیے وضع کیے گئے ہوں۔ یہ نہ صرف ان سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کسی عہدے دار کی اصلاح و بہتری کے لیے ہوتی ہیں بلکہ ان سرگرمیوں پر بھی جو شخصیت کی نشوونما اور اس کے فروغ میں مدد گار ہوتی ہیں اور جو افراد کی بردباری و پختگی اور ان کی خصوصی صلاحیتوں میں جان ڈالنے اور انھیں ترقی دینے میں بھی مدد کرتی ہیں تاکہ وہ نہ صرف اچھے ملازمین بن سکیں بلکہ وہ اچھے مرد اور عورت بھی بن جائیں۔
تربیت اور نشوونما کے شعبے کا تعلق تنظیم کے اندر بہتر کارکردگی کے مقصد سے آموزش (سیکھنے) کو ڈیزائن کرنے اور اس کو عمل میں لانے سے ہے۔ کچھ تنظیموںمیں ’’تربیت اور نشوونما‘‘ کے بجائے آموزش ونشوونما (Learning and Development) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تاکہ فرد اور تنظیم کے لیے سیکھنے کی اہمیت پر زیادہ زور دیا جاسکے۔ دوسری تنظیموں میں انسانی وسائل کی نشوونما (Human Resource Development) کی اصطلاح رائج ہے۔
تربیت کے طریقے (Training Methods)
تربیت کے متعدد طریقے ہیں۔ انھیں وسیع طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ دورانِ سروس اوردوسرا سروس سے الگ طریقہ۔ دورانِ سروس طریقوں سے مراد ہے وہ طریقے جنھیں کام کے مقام پر لاگو کیا جاتا ہے جب کہ ملازم واقعتا کام کر رہا ہو۔ کام سے الگ (Off the Job) طریقے کام کے مقام سے دور استعمال کیے جاتے ہیں۔ اوّل الذّکر کا مطلب ہے کرتے وقت سیکھنا جبکہ موخّر الذکر کا مطلب ہے کرنے سے پہلے سیکھنا۔
تربیت اور ترقی کا فرق (Difference Between Training and Development)
| تربیت ( Training ) | ترقی ( Development ) |
| یہ علم، معلومات اور فّنی مہارتوں میں اضافے کا عمل | یہ سیکھنے اور ترقی کرنے کا عمل ہے |
| یہ ملازم کو بہتر منصبی کام کرنے کے قابل بناتی ہے | یہ ملازم کو مجموعی نشوونما کے قابل بناتی ہے |
| یہ منصبی کام پر مبنی عمل ہے | یہ ذریعئہ معاش پر مبنی ہے |
منصبی کام پر طریقے (On the Job Methods)
(i) کار آموزی یا نو آموزی پروگرام (Apprenticeship Programmes) : کار آموزی پروگرام میں زیر تربیت لوگوں کو ایک بڑے کارکن (Master Worker) کی رہنمائی میں رکھتے ہیں۔ یہ پروگرام انھیں اعلیٰ درجے کی فنّی مہارتوں کے حصول کے لیے وضع کیا جاتا ہے، جو لوگ ہنر مندانہ کاموں کی تلا ش میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر نل ساز (پلمبرز)، بجلی کا کام کرنے والے، یا لوہار وغیرہ ان کو اکثر اوقات کار آموزی تربیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ زیر تربیت کارآموز وہ لوگ ہیں جو ایک تجربہ کار گائیڈ یا مربی کے ساتھ ایک مجوزہ وقت تک کام کرتے ہیں۔ زیر تربیت لوگوں کو یکساں مدت کے لیے تربیت دی جاتی ہے جس میں تیزرفتار اور سست دونوں ہی ساتھ ساتھ رہتے اور سیکھتے ہیں۔ سست رفتار سے سیکھنے والوں کو مزید تربیت کی ضرورت بھی ہوسکتی ہے۔
(ii) کوچنگ (Coaching) : اس طریقے میں ایک برتر شخص، زیر تربیت شخص (Trainer) کو کوچنگ کے لیے گائڈ کرتا اور پڑھاتا ہے۔کوچ یا کونسلر مشترکہ طور پر کچھ تسلیم شدہ مقاصد کو پیش نظررکھتا ہے، کونسلنگ کرتا ہے کہ یہ مقاصد کس طرح حاصل کیے جاسکتے ہیں اور وہی زیر تربیت افراد کی پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیتا رہتا ہے، نیز ان کے رویّوں اور کارکردگی میں مطلوب تبدیلیوں کا مشورہ دیتا ہے۔ نو آموز اعلیٰ مینجر کے ساتھ براہ راست کام کرتا ہے اورسینئر مینجر کو نو آموز کی کوچنگ کی ذمہ داری دیتا ہے۔ روایتی طور پر تربیت خواہ کی تربیت اعلیٰ مینجر کو بدلنے کے لیے اور اس کی کچھ ذمے داریوں سے راحت دلانے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس سے تربیت خواہ کو منصبی کام کے سیکھنے کا بھی خاطر خواہ موقع حاصل ہوتا ہے۔
(iii) داخل تربیت (Internship Training) یہ تربیت کا ایک مشترکہ پروگرام ہے جس میں تعلیمی ادارے اور کاروباری فرمیں تعاون کرتی ہیں۔ منتخب امیدوار مقرّرہ مدت تک تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ وہ کسی فیکٹری یا آفس میں بھی کام کرتے ہیں تاکہ عملی واقفیت اور ہنر مندیوں کو حاصل کر سکیں۔
NTBSC (ڈبّہ والا) میں اسٹاف کی تربیت [Training of Staff at NTBSC (Dabbawalas)]
گنگا رام تالیکر اور رگھوناتھ میڈگے نے جوروایتی کرتا پاجامے میں ملبوس اور گاندھی ٹوپی لگائے ہوئے تھے پورے ملک سے آئے ہوئے انسانی وسائل کے منیجروں کو مبہوت کردیا۔
احمد آبادمینجمنٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقد ہونے والے ’’انسانی وسائل کے فروغ‘‘ کے موضوع پر مشہور ومعروف کمپنیوں کے انسانی وسائل کے منیجروں نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کو بہت سراہا گیا لیکن یہ NTBSC ٹرسٹ کے ڈبہ والاتھے جنھوں نے پورے مجمعے کادل جیت لیا۔ انھوں نے یہ کرشمہ اپنے Lap Top سے دکھایا۔
سلسلۂ رسد مینجمنٹ سے تنظیمی ساخت تک، کمپیوٹر اسکرین پر دکھائی جانے والی ہر سلائیڈ سے ناظرین کو یہ بصیرت حاصل ہوئی کہ NTBSC 115 سالوں سے کس طرح اپنی تنظیم کو کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے۔
یہ سب کچھ 16ملین میں صرف ایک غلطی کی شرح سے99.9999%کے چھ سِگما کے ساتھ بغیر کسی ٹیکنالوجی کے سہارے، معیاری قیمت پر اور بغیر کسی ہڑتال کے ہوا۔ مزید یہ کہ NTBSC میں صفر فرسودگی شرح سے یہ سب کچھ حاصل کیا۔ ملازمت سے وابستہ 5000 لوگوں میں سے 3500 سے زیادہ ناخواندہ ہیں ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ 6 سگما کا مفہوم کیا ہے؟
لیکن ہم صارفین کے اطمینان میں یقین رکھتے ہیں ان دونوں نے ٹائم مینجمنٹ، گاہک کی بھلائی اور تنظیم وتربیت کے اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
’’ہمارے تجربہ کار ممبر تربیت دیتے ہیں۔ ان کے لیے کوڈ کو جاننا بہت اہم ہے کیوںکہ بہت سے نئے لوگوں میں جو ہمارے پاس آتے ہیں ناخواندہ ہیں۔ ہم ان کے لیے تربیتی پروگرام وضع کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس قدر کم غلطی کی شرح کو قائم رکھنے کے قابل ہو سکے‘‘۔
ماخذ، دی اکونومک ٹائمز : 15 نومبر 2006
(iv) کام کو منتقل کرتے رہنا (Job Rotation) اس قسم کی تربیت میں تربیت خواہ کی ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں یا کسی ایک کام سے دوسرے کام میں منتقلی ہے۔ اس سے تربیت خواہ کاروبار کے تمام حصوں کی وسیع تر تفہیم کا اہل ہوتا ہے نیز یہ بھی کہ تنظیم بحیثیت مجموعی کس طرح کام کرتی ہے۔ تربیت خواہ کاروباری اداروں کے شعبوں میں مکمل طور پر شریک ہوتا ہے نیز اسے اپنے فطری رجحان ومیلان اور صلاحیت کو جانچنے کا موقع بھی حاصل ہوتا ہے۔ کام کے باری باری کرنے (Job Rotation) سے تربیت خواہوں کو دوسرے ملازمین کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا موقع بھی ملتا ہے اور اس سے شعبوں کے درمیان مستقبل میں تعاون کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ جب ملازمین کی اس طریقے سے تربیت کی جاتی ہے تو تنظیم کی ترقیوں، تبادلوں یا باہمی ردو بدل میں آسانی ہوتی ہے۔
منصبی کام سے الگ طریقے
(Off the Job Methods)
(i) کلاس روم لیکچرس / کانفرنس (Class Room Lectures/Conferences) : لیکچر یا کانفرنس کا طریقہ خصوصی اطلاعات اصول و ضوابط، طریق کار یا طریقۂ عمل وغیرہ کو پہنچانے کے لیے خاص طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔استحضار (Retention) میں اضافے اور مشکل باتوںکو واضح کرنے کے لیے سمعی و بصری آلات کا استعمال یا کسی کام کو کرکے دکھانا اکثر کسی رسمی کلاس روم کی تعلیم کو زیادہ دلچسپ بناسکتا ہے ۔
(ii) فلمیں (Films) : یہ اطلاعات فراہم کر سکتی ہیں اور ان ہنر مندیوں کا واضح و صریح طور پر مظاہرہ کر سکتی ہیں جنھیں دوسری تکنیکوں کے ذریعے پیش کیا جانا آسان نہیں ہوتا۔
(iii) صورتِ حال کا مطالعہ (Case Study) : تنظیموں کے حقیقی تجربات سے وابستہ کیسوں سے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے جن سے منیجروں کو دوچار ہونا پڑتا ہے۔ تر بیت خواہ مسائل کا تعین کرنے، اس بات کا تجزیہ کرنے، متبادل حل نکالنے، مناسب ترین حل کا انتخاب کرنے اور اس کو لاگو کرنے کے لیے معاملات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
(iv) کمپیوٹر ماڈلنگ (Computer Modelling) : کمپیوٹر ماڈلنگ، کمپیوٹر پروگرامنگ کے ذریعے کام کے ماحول کو سازگار بناتی ہے تاکہ منصبی کام کے کچھ حقائق کی نقل کی جائے اور نقصان یا زیادہ لاگتوں کے بغیر سیکھنے کا عمل وقوع پذیر ہوجائے۔ اگر حقیقی زندگی میں کوئی ایسی صورت حال رونما ہوتی تو سخت نقصان ہوتا۔
(v) دہلیزی تربیت (Vestibule Training) ملازمین تو ان آلات سے سیکھتے ہیں جن سے ان کو کام کرنے کے دوران سابقہ پڑتا ہے لیکن تربیت کام کی جگہ یا کارگاہ سے الگ انجام پذیر ہوتی ہے۔ حقیقی کام کا ماحول ایک کلاس روم میں پیدا کیا جاتا ہے اور ملازمین اسی سازوسامان، فائلوں اور اوزار و آلات کو استعمال کرتے ہیں۔ ایسا عام طور پر اس وقت کیاجاتا ہے جب ملازمین کو ترقی یافتہ (Sophisticated) مشینیں اور آلات کو کام میں لانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
(vi) پروگرامڈ انسٹرکشن Programmed Instruction) : اس طریقے میں کچھ مخصوص مہارتوں یا معلومات کا پہلے سے انتظام شدہ اور مجوزہ حصول شامل ہوتا ہے۔ اطلاعات کو با معنی اکائیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ان اکائیوں کو باقاعدہ طور پر منظم کیا جاتا ہے تاکہ ایک منطقی اور سلسلہ وار تربیتی پیکج کی تشکیل ہو یعنی سادہ سے پیچیدہ کی طرف معلومات تربیت خواہ کو سوال جواب کے ذریعے یا خالی جگہوں کو پُر کرکے ان اکائیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔