Skip to content
Karobariuloom-I-007



باب 7



ہدایت کاری

(DIRECTING)






سیکھنے کے مقاصداس باب کے مطالعے کے بعد آپ:

•  کاروباری تنظیموں میں ہدایت کاری کے تصور اور اس کی اہمیت کی وضاحت کرسکیں گے؛

•  ہدایت کاری عمل کے رہنما اصولوں کو سمجھ سکیں گے؛

•  نگرانی اور اس کے معنی کی وضاحت کرسکیں گے؛

•  کاروباری مینجمنٹ میں ترغیب و تشویق کے معنی اور اس کی وضاحت کرسکیں گے؛

•  تنظیم میں ملازمین کی ترغیب کے تئیں ماسلو (Maslow)کے نظریہ، سلسلۂ ضرورت اور کسی تنظیم میں ملازمین کی ترغیب وتشویق کے حوالے سے اس نظریے کے اطلاق کی وضاحت کر سکیں گے؛

ان مالیاتی اور غیر مالیاتی ترغیبات کی وضاحت کرسکیں گے جن کے ذریعہ منیجر اپنے ملازمین میں تحریک و تشویق پیدا کرتے ہیں؛

مینجمنٹ میں قیادت اور اس کی اہمیت کے تصور کی وضاحت کرسکیں گے؛

اچھے قائد کی خوبیوں کو بیان کرسکیں گے؛

تنظیموں میں رسمی اور غیر رسمی ابلاغ کے بارے میں وضاحت کرسکیں گے؛ اور

تنظیموں میں موثر ابلاغ (Communication) کے تئیں مختلف رکاوٹوں کی شناخت اور ان رکاوٹوں پر قابو پانے کے اقدامات بیان کرسکیں گے۔



بنیادی سطح کی قیادت… فورڈ موٹر کمپنی

فورڈ نے ہمیشہ اہل منیجروں اور ٹیکنیشنوںکو راغب کیا اور ان کی نشوونما کی ہے لیکن ان میں جذبۂ عمل اور قیادت جیسی خصوصیات پیدا کرنے میں ناکام رہی۔ لہٰذا کار بنانے والوں کے کلچر میں تبدیلی کے لیے فورڈ نے بڑے پیمانے پر مینوفکچرنگ قائدین تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ فورڈ ’’جنگ جو قسم کے منیجروں‘‘ کی ایک فوج بنانا چاہتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے اندر پرانے نظریات کو بدل ڈالنے کی ہمت و مہارت ہو اور جو جوش و جذبات سے بھرپور تبدیلی میں یقین رکھتے ہوں۔ یہی بات تبدیلی پیدا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
فورڈ تقریباً 2,500 منیجروں کو اپنے لیڈرشپ ڈیولپمنٹ سنٹر میں اپنے کسی چار پروگراموں میں کسی ایک کے لیے بھیجے گی۔ یہ چار پروگرام ہیں:
کیپسٹون (چوٹی کا پتھر) تجربہ کار لیڈر چیلنج، فورڈ بزنس ایسوسی ایشن اور نیا بزنس لیڈر جس کے تحت نہ صرف ان میں ذہنی انقلاب پیدا کرنا اور ایک انقلابی زبان سے ان کو آشنا کرنا ہے بلکہ انقلاب پیدا کرنے کے لیے ان کو طور طریقے بھی بتانے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پوری دنیا میں سبھی 100,000 تنخواہ دار ملازمین کاسکیڈ (Cascades) میں شرکت کریں گے اور وہاں عملی مشق بہم پہنچاکر ٹیم پروجیکٹ کے ساتھ ٹھوس بنیادوں، پر باہمی رابطے پیداکریں گے۔
فورڈ کا خیال ہے کہ بنیادی سطح کی قیادت کامیاب کاروبار کی تخلیق کے لیے بہتر ذریعہ ہے۔
http://www.fastcompany.com /
online33/ford.html کے ایک آرٹیکل سے ماخوذ



تعارف

درج بالا معاملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سبھی منیجروں میں قیادت کی خوبیوں کاپیدا کرنا کتنا اہم ہے۔ کاروباری تنظیموں نے ہمیشہ اپنے منیجروں کو، جو دوسروں کی قیادت و رہنمائی کرنے کے اہل ہوتے ہیں، بھر پور اہمیت دی ہے۔ ایک منیجر کو قیادت کرنے، ماتحتوں کو ترغیب دینے، ان کا حوصلہ بڑھانے اور ان کے ساتھ ضرورت پڑنے پر رابطہ قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس باب میں ان طریقوں پر بحث کی گئی ہے جن کو مجموعی طور پر مینجمنٹ کا ہدایت کاری عمل کہا جاتاہے۔

معنی

عام مفہوم میں ہدایت کاری (Directing) کا مطلب ہدایات دینا اور ان لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے جو کام میں لگے ہوں۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہم مختلف حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ مثلاً ایک ہوٹل کا مالک ملازمین کو کسی تقریب کے انعقاد اور اس کی تکمیل کے لیے ہدایات دیتا ہے، یا ایک ٹیچر اپنے طلبا کو کام پورا کرنے کی ہدایت دیتا ہے یا پھر ایک فلم ڈائریکٹر اپنے فنکاروں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ کس طرح فلم میں اداکاری کریں وغیرہ۔ ان سبھی حالات میں ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ ہدایت کاری کچھ پہلے سے متعین مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انجام دی جاتی ہے۔

تنظیم کے مینجمنٹ کے حوالے سے ہدایت کاری کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے تنظیم میں لوگوں کو ہدایت دینے، رہنمائی کرنے، مشورے، ترغیب دینے اور قیادت کرنے کا عمل ہے۔

آپ یہاں مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ ہدایت کاری محض رابطہ رکھنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ بہت سے عناصر کا احاطہ کرتی ہے جیسے نگرانی، ترغیب و تحریک اور قیادت۔ یہ مینجمنٹ کا ایک کلیدی کام ہے جسے ہر منیجر انجام دیتا ہے۔ ہدایت کاری ایک مینجمنٹ پراسس (Managment Process) ہے جو کسی تنظیم میں شروع سے آخر تک جاری رہتا ہے۔

ہدایت کاری کی اہم خصوصیات پر ذیل میں بحث کی گئی ہے:

(i)  ہدایت کاری سے عمل (Action) کا آغاز ہوتا ہے : ہدایت کاری مینجمنٹ کا ایک کلیدی فنکشن ہے۔ ایک منیجر کو تنظیم میں اپنے فرائض ادا کرتے وقت منصوبہ بندی، اسٹاف (عملہ) مہیا کرنے اور کنٹرول کے ساتھ یہ کام انجام دینا ہوتا ہے جہاںتنظیم کے مختلف فنکشنوں سے کام کے لیے فضا تیار ہوتی ہے وہیں ہدایت کاری سے کام (Action)  شروع ہوتا ہے۔

(ii)  ہدایت کاری مینجمنٹ کی ہر سطح پر واقع ہوتی ہے: ہر منیجر خواہ اعلیٰ منتظم ہو یا نگراں ہدایت کا عمل انجام دیتا ہے۔ ہدایت کاری وہیں واقع ہوتی ہے جہاں برتراور  ماتحت کا رشتہ موجود ہوتا ہے۔

(iii)  ہدایت کاری ایک مسلسل عمل (Process) ہے: ہدایت کاری ایک مسلسل سرگرمی ہے۔ یہ تنظیم کی ساری مدت میں جاری رہتی ہے چاہے مینجمنٹ کسی کے ہاتھ میں بھی ہو۔ ہم انفوسس، ٹاٹا، BHEL، HLL جیسی تنظیموں میں اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ منیجر تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن ہدایت کاری کا عمل جاری رہتا ہے کیوں کہ بغیر ہدایت کے تنظیمی سرگرمیاں جاری نہیں رہ سکتیں۔

(iv)  ہدایت کاری اوپر سے نیچے کی طرف ہوتی ہے: ہدایت کاری اعلیٰ سطح سے شروع ہوتی ہے اور تنظیمی سلسلہ مراتب کے ذریعے نچلی سطح تک پہنچتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ہر منیجر اپنے قریبی ماتحت کو ہدایت دے سکتا ہے اور اپنے قریبی باس سے ہدایات حاصل کرسکتا ہے۔

ہدایت کاری کی اہمیت

ہدایت کاری کی اہمیت اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ تنظیم میں ہر کام کی شروعات صرف ہدایت کاری کے ذریعے ہوتی ہے۔ ہدایت کاری مشترک مقاصد کی حصول یابی کے لیے لوگوں کو مربوط اور ہم آہنگ کرتی ہے۔ ہدایت کاری کے ذریعے منیجر نہ صرف تنظیم میں لوگوں کو یہ بتاتا ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے، کب کرنا چاہیے اور کیسے کرنا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے اس کی ہدایات کو مناسب تناظر میں نافذ کیاگیا ہے یا نہیں۔ اکثر، یہ تنظیم کی موثر کار گزاری میں اہم بن جاتی ہے۔ جن نکات سے ہدایت کاری کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے ان کو ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔

(i)  مطلوبہ مقاصد کی حصول یابی کے تئیں ہدایت کاری سے کام کے شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے لیے اگر کوئی نگراں اپنے ماتحتوں کی رہنمائی کرتا ہے اور کسی کام کو انجام دینے میں ان  کے شکوک کو رفع کرتا ہے تو اس سے ان کوسونپے گئے کام کے نشانے حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

(ii)  ہدایت کاری تنظیم میں ملازمین کی کوششوں کو اس طرح مربوط کرتی ہے کہ ہر فرد کی کوشش تنظیم کی کارکردگی میں معاون بن جاتی ہے۔ اس طرح ہدایت کاری سے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ افراد تنظیمی مقاصدکے حصول کے لیے کام کررہے ہیں، مثال کے لیے منیجر جس کے اندر اچھی قائدانہ صلاحیتیں ہوں گی وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین کو مطمئن کرنے کی حیثیت میں ہوگا کہ انفرادی اور اجتماعی دونوں ہی قسم کی مساعی کا نتیجہ تنظیمی مقاصد کی حصول یابی ہوگا۔

(iii)  ہدایت کاری تحریک و ترغیب اور موثر قیادت فراہم کرکے ملازمین کو ان کی قوت و استعداد اور صلاحیتوں کابھر پور استعمال کرنے میں رہنمائی کرتی ہے۔ ایک اچھا قائد ہمیشہ اپنے ملازمین کی امکانی قوت کی شناخت کرسکتا ہے اور ان کی مخفی صلاحیت و استعداد ابھار کر اور ان کو تحریک دے کر بھر پور طریقے سے کام میں لاسکتا ہے۔

(iv)  تنظیم میں ضروری تبدیلیوں کو متعارف کرانے میں ہدایت کاری سے مدد ملتی ہے۔ عام طور پر تنظیم میں تبدیلیوں کے تئیں لوگوں کے اندر مزاحمت کرنے  کا میلان ہوتا ہے۔ ترغیب (Motivation) ترسیل (Communication)، مواصلات اور قیادت کے ذریعے موثر ہدایت کاری ایسی مزاحمت کو کم کرنے میں مددگار ہوتی ہے اور تنظیم میں تبدیلیوں کی شروعات کے لیے مطلوبہ تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ مثال کے لیے اگر کوئی منیجر کھاتہ داری کا ایک نیا نظام شروع کرنا چاہتا ہے تو اکاؤنٹ عملہ کی طرف سے اس شروعات کی مزاحمت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر منیجر مقصد کی وضاحت کرتا ہے، تربیت دیتا ہے اور اضافی انعامات دے کر ترغیب دیتا ہے تو ملازمین تبدیلی کو قبول کرسکتے ہیں اور منیجر کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔

(v)  موثر ہدایت کاری تنظیم میں استحکام اور تو ازن پیدا کرنے میں مددگار ہوتی ہے کیوں کہ یہ لوگوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیتی ہے اور مختلف گروپوں، سرگرمیوں اور شعبوں کے درمیان توازن رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

ہدایت کاری کے اصول

اچھی اور موثر ہدایت کاری چیلنج سے بھرپور ایک کام ہے کیوںکہ اس میں کافی پیچیدگیاں ہیں۔کسی منیجر کا سابقہ متنوع پس منظراور مختلف توقعات رکھنے والے لوگوں کے ساتھ پڑسکتا ہے۔ اس سے ہدایت کاری کا عمل پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ ہدایت کاری کے بعض رہنما اصول ہدایت کاری عمل میں مددگار ہوسکتے ہیں ان اصولوں کو مختصراً ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

(i)  افراد کا زیادہ سے زیادہ تعاون: اس اصول کا سارا زوراس بات پر ہے کہ ہدایت کاری کی تکنیکیں ہر فرد کی اس بات میں مدد کریں کہ وہ تنظیم کے اندر اپنی تمام قوتوں کا استعمال کرکے تنظیم کے مقاصد کے حصول میں معاون اور شریک ہوں۔ اس سے ملازمین کی غیر استعمال شدہ اور مخفی صلاحیتوں کو تنظیم کی بہبود کے لیے کام میں لایا جاسکتا ہے۔ مثال کے لیے، ایک اچھا ترغیبی منصوبہ جس میں مناسب مالی اور غیر مالی انعامات شامل ہوں،تنظیم کے لیے ملازمین کی زیادہ سے زیادہ کوششوں کو شامل کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے کیوںکہ وہ یہ محسوس کرسکتا ہے کہ اس کی کوششیں مناسب صلوں یا انعامات کی شکل میں نتیجہ خیز ہوسکتی ہیں۔

(ii)  مقاصد میں ہم آہنگی: اکثر ہم پاتے ہیں کہ ملازمین کے انفرادی مقاصد اور تنظیمی مقاصد کو ایک دوسرے سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے لیے ملازمین اپنی ذاتی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے پرکشش تنخواہ اور دیگر مالی فوائد کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ تنظیم ملازمین سے یہ توقع رکھ سکتی ہے کہ وہ متوقع منافع حاصل کرنے کے لیے وہ پیداواریت میں بہتری پیدا کریں گے۔ لیکن اچھی ہدایت کاری کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ملازمین کو یہ اطمینان دلائے کہ ملازمین کے صلے، انعامات اور کام کو انجام دینے کی کارکردگی ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

(iii)  وحدتِ احکامات : یہ اصول اس بات پر زور دیتا ہے کہ تنظیم کے کسی شخص کو صرف ایک اعلیٰ افسر سے ہدایت حاصل کرنا چاہیے۔ اگر ہدایات ایک سے زیادہ اعلیٰ افسر سے حاصل کی جاتی ہیں تو اس سے تنظیم میں غلط فہمی، تصادم اور بدنظمی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس اصول سے وابستگی موثر ہدایت کاری کو یقینی بناتی ہے۔

(iv)  ہدایت کاری تکنیک کی موزونیت: اس اصول کے مطابق لوگوں کو ہدایت دیتے وقت مناسب ترغیبی اورقائدانہ تکنیک کا استعمال ماتحت کی ضرورتوں، اہلیتوں، رویّوں اور حالات کے لحاظ سے دیگر متغیرات پر مبنی ہونا چاہیے۔ مثال کے لیے کچھ لوگوں کے لیے روپیہ پیسہ، ترغیب وتشویق کا بہترین ذریعہ ہوسکتا ہے اور ایسے ہی ترقی بھی ترغیب وتشویق کا بہترین وسیلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

(v)  مینجمنٹ کے احکام اور ہدایات کا ابلاغ (Managerial Communcation): تنظیم میں سبھی سطحوں پر موثر ابلاغ ہدایت کاری کو زیادہ موثر بناتا ہے۔ ہدایت کاری کے ذریعہ ماتحتوں کو پوری طرح سمجھانے میں واضح ہدایات کی ترسیل ہونی چاہیے۔ مناسب جوابی عمل کے ذریعے منیجروں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے ماتحت ان کی ہدایات کو واضح طور پر سمجھیں۔

(vi)  غیر رسمی تنظیموں سے استفادہ: منیجر کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہر رسمی تنظیم میں غیر رسمی گروپ یا تنظیمیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ منیجر کو موثر ہدایت کاری کے لیے ایسی تنظیموں کا پتہ لگا کر ان کا استعمال کرنا چاہیے۔

(vii)  قیادت: ماتحتوں کو ہدایت دیتے وقت، منیجروں کو اچھی قائدانہ صلاحیت کا استعمال کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے ان کے درمیان بے اطمینانی نہیں پیدا ہوتی اور ان پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

(viii)  ہدایات کے بعد نگرانی: محض حکم دینا کافی نہیں ہے۔ منیجروں کو اس پر نظر ثانی بھی کرنی ضروری ہے کہ آیا ہدایات پر عمل ہوا ہے یا نہیں نیز ان کے نفاذ میں کچھ مسائل یا مشکلات تو درپیش نہیں۔اگر ضروری ہو تو ہدایات میں موزوں ترمیم کرنی چاہیے۔

ہدایت کے عناصر (Elements of Direction)

ہدایت کاری کے عمل میں مقاصد حاصل کرنے کے لیے کسی تنظیم میں لوگوں کی رہنمائی، تربیت، تعلیم، ترغیب اور قیادت شامل ہے۔ درج ذیل مثالوں پر غور کیجیے (i) سپروائزر کسی کارکن کو ایک خراد کی مشین پر اس کے ذریعے انجام دیے جانے والے کاموں کی وضاحت کرتا ہے۔

(ii)  ایک کان کمپنی انجینئر کوئلے کی کان میں کام کرتے وقت اپنائی جانے والی حفاظتی و احتیاطی تدابیر کے بارے میں وضاحت کرتا ہے۔

(iii)  ایک منیجنگ ڈائریکٹر کمپنی کے منافع کو بڑھانے میں منیجروں کے اشتراک کے لیے ان کو منافع میں شریک کرنے کا اعلان کرتاہے۔

(iv)  ایک منیجر اپنے ملازمین کو کسی کام کو انجام دینے میں اولین رول ادا کرنے کے لیے جوش دلاتاہے۔

یہ سبھی مثالیں اور بہت سی دوسری سرگرمیاں ہدایت کاری سے متعلق ہیں اور انھیں موٹے طور پر چار زمروں میں بانٹا جاسکتاہے جو ہدایت کاری کے عناصر ہیں۔ یہ درج ذیل ہیں:

(i)  نگرانی

(ii)  تحریک و ترغیب

(iii)  قیادت

(iv)  ترسیل و ابلاغ

ہدایت کاری کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان عناصر پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

نگرانی (Supervision) 

نگرانی  کی اصطلاح کو دو طرح سے سمجھا جاسکتا ہے اولاً اسے ہدایت کاری کے ایک عنصر کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے اور دوسرے، اسے تنظیمی سلسلۂ مراتب (Hierachy)میں سپروائزوں کے ذریعے انجام دیے جانے والے کام (Function)کے طور پر سمجھا جاتاہے۔

نگرانی ہدایت کاری کا عنصر ہے اور تنظیم میں ہر منیجر اپنے ماتحتوں کی نگرانی رکھتا ہے۔ اس مفہوم میں نگرانی مطلوبہ مقاصد کی تکمیل کے کاموں کی ملازمین کی کوششوں اور دیگر وسائل کی رہنمائی کے لیے ایک عمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ماتحتوں کے کاموں کی نگرانی کرنا اور ان کو ہدایات دینا تاکہ حصول مقاصد کے لیے وسائل کو زیادہ سے زیادہ کام میں لایاجاسکے۔

دوسرے نگرانی کو سپروائزر کے ذریعے انجام دیے جانے والے کام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ دراصل کسی تنظیم کے سلسلۂ مراتب میں مینجمنٹ کی حیثیت کا دوسرا نام ہے اور اس کی حیثیت ورکرس سے بلند ہے۔سپروائزر کے کام اور کارکردگی کسی تنظیم میں نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیوں کہ وہ سیدھے طور پر ورکر سے جڑا ہوتا ہے جب کہ دیگر منیجروں کا نچلی سطح کے ورکروں سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوتا۔

نگرانی کی اہمیت

نگرانی کی اہمیت کو سپروائزر کے مختلف کرداروں کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کی وضاحت درج ذیل ہے۔

(i) سپروائزر روز مرہ کے رابطے قائم رکھتا ہے اور ورکر سے دوستانہ رشتے برقرار رکھتا ہے۔ ایک اچھا سپروائزر ورکرس کے لیے ایک رہنما، دوست اور فلسفی کے طور پر عمل کرتا ہے۔


ایک غیر مطمئن منیجر کی ہدایت کاری

 رشمی جوشی فائن پروڈکشن میں دس سال تک ضلع سیلز منیجر رہیں۔ انھیں ان کے ہم رتبہ اور سپروائزر ان کو ایک ایسی خاتون سمجھتے تھے جس نے محکمے کا بندوبست اچھے انداز میں کیا تھا۔ ہر ایک محسوس کرتا تھا کہ رشمی انتہائی بلند عزم وحوصلے کی مالک ہیں اور اعلیٰ سطح کے مینجمنٹ میں اپنی حیثیت تلاش کررہی ہیں۔ جب ان کے ایک سیلز نمائندے (Sales Representative)نے ایک اچھا کام کیا تو اس کا سہرا انھوں نے خود لینے کی کوشش کی۔ تاہم اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا تو وہ سوچتیں کہ یہ ان کی غلطی نہیں ہے۔ جب مارکیٹنگ منیجر سبک دوش ہوئے تو رشمی نے اس عہدے کے لیے درخواست دی۔کمپنی نے اس عہدے کی ذمہ داری اور اہمیت کو دیکھتے ہوئے کسی موزوں شخص کی تلاش کا فیصلہ کیا۔ جب اس تلاش کا کام مکمل ہوا تب کمپنی کے باہر سے ایک شخص کو اس عہدے پر تقرری کا فیصلہ کیا گیا۔ اعلیٰ مینجمنٹ کی رائے تھی کہ اگرچہ رشمی ایک اچھی سیلز منیجر ہیں لیکن ممکن ہے ان کے نئے ہمسرگروپوں کے ساتھ کام کرنے میں پریشانی ہو۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اگر انھوں نے دوسروں کے کام کا سہرا خود لینا شروع کردیا تو دیگر منیجر ان سے ناراض ہوجائیں گے اور نتیجے میں ان کی کارکردگی متاثر ہوگی۔

رشمی کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ کافی عرصے سے ایسے کام کی تلاش میں تھیں اور اپنی پوری توانائی اسے حاصل کرنے میں لگا رہی تھیں۔ وہ بہت مایوس ہو گئیں اور ان کا کام خراب ہونے لگا۔محکمہ اس کے باوجود چلتا رہا کیوںکہ محکمہ ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ محکمے کی وجہ سے تھیں۔ فیصلوں کی رفتار بالکل سست تھی، ان کی سیلز کی رپورٹوں میں بھی تاخیر ہونے لگی۔ اگرچہ ان کا سیلز اسٹاف اچھا کام کرتا رہا لیکن رشمی اس کا سہرا نہیں لے سکیں۔جب نئے مارکیٹنگ منیجر نے ذمہ داری سنبھالی تو ان کا پہلا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کسی طرح رشمی کو یہ ترغیب دی جائے کہ وہ کارکردگی کی اونچی سطح قائم رکھیں اس کام کے لیے ان کا حوصلہ بڑھایا جائے۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ رشمی کافی عرصے سے کمپنی میں کام کررہی ہیں اور واقعی بہتر کارکردگی کے لیے ان کو ترغیب دینے کے لیے کچھ کیا جانا چاہیے۔


(ii)  سپروائزر ورکر اور مینجمنٹ کے درمیان ایک کڑی ہے۔ وہ جہاں ایک طرف مینجمنٹ کے خیالات ورکرس تک پہنچاتا ہے وہیں دوسری طرف مینجمنٹ کو ورکرس کے مسائل سے آگاہ کرتا ہے۔ سپروائزروں کا کردار مینجمنٹ اور ورکرس/ ملازمین کے درمیان غلط فہمیوں اور تصادم سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔

(iii)  سپروائزر اپنے ماتحت ورکروں کے درمیان گروہی اتحاد برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ ورکرس کے داخلی اختلاف کا پتہ لگاتا ہے اور ان کے درمیانی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

(iv)  سپروائزر مقرر ہ نشانوں کے مطابق کام کی کارکردگی کو یقینی بناتاہے۔ وہ کام کی حصول یابی کی ذمے داری لیتا ہے اور اپنے ورکرس کو موثر طور پر تحریک و ترغیب دیتا ہے۔

(v)  سپروائزر ورکرس اور ملازمین کی دوران کار تربیت کرتا ہے۔ ایک ماہر اور واقف سپروائزر ورکرس کی ایک موثر ٹیم بنا سکتاہے۔

(vi)  نگراں قیادت تنظیم میں ورکرس پر اثر انداز ہونے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اچھی قائدانہ خوبیاں ورکرس میں بہت زیادہ حوصلہ پیدا کرتی ہیں۔

(vii)  ایک اچھا سپروائزر انجام دیے گیے کاموں کا تجزیہ کرتا ہے ، ورکرس کو بازرسی دیتا ہے اور مہارتوں کے فروغ دینے کے طریقے اور ذرائع کے بارے میں تجاویز پیش کرتاہے۔

تحریک و ترغیب (Motivation)

رشمی کا معاملہ مینجمنٹ کے کاموں کی ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے! یہ اشارہ ہمیشہ ممکن نہیں کہ اختیارات اور اقتدار کا استعمال کرکے ملازمین سے بہتر کام لیے جاسکیں۔ لوگ ایسا برتاو کیوں کرتے ہیں۔ کچھ لوگ صلاحیت ہونے کے باجودکیوں کام کرنا نہیں چاہتے؟ لوگوں کو موثر طور پر کام کرنے دینے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے۔ ان سوالوں کے جواب دینے کے لیے ایک منیجر کو لوگوں کے برتاو کے اسباب کی گہرائی سے جانچ کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک منیجر کا سامنا نہایت ذمہ دار اور سخت محنت کرنے والے اسٹاف سے بھی ہوسکتا ہے اور کاہل ، حیلے بہانے کرنے والے اور سست رفتار ورکرس سے بھی۔ وہ حیران ہوسکتا ہے کہ ان ورکرس کے ساتھ کیا کرے جو اپنی استعداد کے لحاظ سے کام نہیں کرنا چاہتے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے یہ ترغیب ہی ہے جس سے لوگ رضا کارانہ طور پر کام کرنے میں جوش محسوس کرتے ہیں۔

آئیے ترغیب کے بارے میں کچھ سمجھنے کی کوشش کریں:

ترغیب: ترغیب کا مطلب عمل یا حرکت کے لیے جوش پیدا کرنا یا کام کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ کاروبار کے سیاق و سباق میں اس کا مطلب ہے مخصوص تنظیمی مقاصد کے حصول کے لیے مطلوبہ انداز میں عمل کرنے کے لیے ماتحتوں کو آمادہ کرنا۔ ترغیب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں باہم مربوط تین اصطلاحات کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہ اصطلاحیں ہیں: داعیہ، تحریک اور ترغیبات (Motivators)۔

آئیے ان اصطلاحات کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔

(i)  داعیہ وجۂ ترغیب (Motive): داعیہ ایک باطنی حالت ہے جو مقاصد کے حصول کے لیے قوت پیدا کرتی ہے، فعال بناتی ہے، ان کو حرکت دیتی ہے اوران کو ہدایات دیتی ہے۔ محرکات افراد کی ضرورتوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر محرک ہو توفرد کے اندر اضطراب پیدا ہوتا ہے اس اضطراب کو کم کرنے کے لیے وہ کچھ عمل کرنے کو آمادہ ہوتا ہے۔ مثال کے لیے غذا کی ضرورت بھوک کے باعث ہوتی ہے۔ اس کے سبب ہی کوئی شخص غذا کی تلاش کرتا ہے۔ بھوک، پیاس، تحفظ، وابستگی، الحاق، تسکین، شناخت وغیرہ ایسے ہی کچھ دواعی (Motives)  ہیں۔

(ii)  ترغیب (Motivation) : تحریک مطلوبہ مقاصد کی تکمیل کے لیے لوگوں کو کام کرنے کے لیے ابھارنے اور ان کو ذہنی طور پر آمادہ کرنے کا عمل ہے تاکہ مطلوبہ مقاصد حاصل ہوں۔


تحریک کی تعریف

 تحریک کا مطلب مطلوبہ مقاصد کی تکمیل کے لیے لوگوں کو کام کے لیے ابھارنا ہے۔

ولیم جی اسکائوٹ 

تحریک سے مراد اس طریقے سے ہے جس میں انسانوں کے لگن ، جذبہ، محرکات، خواہشات، امنگوں، جدوجہد، ضروریات، رہنمائی اور برتاو کی وضاحت ہوتی ہے۔

                                                            یم سی فارلینڈ

تحریک ایک تنظیم میں فرد کی کام میں مشغولیت کی شروعات کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی پیچیدہ قوت ہے۔ تحریک کچھ ایسی چیز ہے جو کسی فرد کو فعال بنانے کے لیے متحرک کرتی ہے اور پہلے سے ہی شروع کیے گیے کام کے دوران اس کے کام کو جاری رکھتی ہے۔

                                                                                                    ڈیوبن

تحریک وہ عمل ہے جو کسی جسمانی یا نفسیاتی ضرورت یا کمی کے ساتھ شروع ہوتا ہے جس سے برتاو کو تحریک ملتی ہے، یہ ایسا محرک ہوتا ہے جس کے پیچھے حصول مقصد ہوتاہے۔

                                                                                                                   فریڈ لوتھن


(ii)  ترغیبات: ترغیبات وہ تکنیک ہے جو کسی تنظیم میں لوگوں کوترغیب دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ کسی تنظیم میں منیجر لوگوں کومتنوع ترغیبات جیسے بونس  ترقی، ستائش، اعتراف، ذمے داری وغیرہ کے ذریعے متاثر کرتا ہے تاکہ وہ اپنی بہتر سے بہتر خدمات دے سکیں۔

ترغیب یا تحریک کی خصوصیات: تحریک کی مختلف تعریفات اور اس کے بارے میں مختلف نظریات کے تجزیے سے درج ذیل خصوصیات کا پتہ چلتا ہے:

(i)  ترغیب ایک باطنی احساس ہے۔ انسانوں کی لگن، جذبہ، محرکات، خواہشات، عزم، اُمنگیں، جدوجہد یا ضروریات تحریک کا کام کرتی ہیں اور یہ سب باطنی چیزیں ہیں جو انسانی رویوں کو متاثرکرتی ہیں۔ مثلاً لوگوں کی خواہش ہوسکتی ہے کہ ان کے پاس موٹر سائیکل ہو، آرام دہ گھر ہو، سماج میں شہرت ہو، وغیرہ لیکن یہ تمام خواہشات کسی فرد کی باطنی خواہشات ہیں۔

(ii)  تحریک یا ترغیب ایک بامقصد رویے کی تخلیق کرتی ہے۔ مثال کے لیے کسی ملازم کو اس کی کارکردگی میں بہتری کے مقصد سے نوکری میں ترقی دی جاسکتی ہے۔ اگر ملازم ترقی میں دلچسپی رکھتا ہے تو اس سے کارکردگی میں بہتری کے لیے رویہ اپنانے میں مدد ملے گی۔

(iii)  ترغیب مثبت اور منفی دونوںہوسکتی ہے۔ مثبت ترغیب میں مثبت انعامات جیسے تنخواہ میں اضافہ، ترقی اور تعریف وتوصیف وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ منفی ترغیب میں منفی ذرائع جیسے سزا، تنخواہ میں اضافہ روکنا، دھمکی وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔ ان منفی تحریکات (Motivations) سے بھی کسی شخص کو مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے بہتر کام کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔

(iv)  ترغیب ایک پیچیدہ عمل ہے کیوں کہ افراد اپنی توقعات، تصورات میں معاملات میں یکساں نہیں ہوتے۔ ترغیب کی کوئی بھی قسم سبھی افراد پر یکساں کارگر نہیں ہوتی۔

عمل ترغیب (Motivation Process) : ترغیب کا عمل انسانی ضرورتوں پر مبنی ہے ۔ ترغیب کے عمل کی وضاحت کے لیے ایک آسان سا نمونہ یہاں پیش کیا جاتاہے۔

درج ذیل مثال انسانی ضرورتوں کی تسکین کے عمل کی وضاحت کرتی ہے۔

رامو بہت بھوکا ہے کیوںکہ اس نے صبح ناشتہ نہیں کیاہے۔ ایک بجے تک وہ بہت مضطرب ہوجاتا ہے اور ناشتے یا کھانے کے لیے ہوٹل کی تلاش میں سڑک پر چلنا شروع کردیتا ہے۔ 2 کلو میٹر چلنے کے بعداسے ایک ہوٹل مل جاتاہے جہاں روٹی اور دال 10 روپے کی مل رہی تھی۔ چوںکہ اس کی جیب میں صرف 15 روپے تھے اس لیے اس نے 10 روپے ادا کیے اور کھانے سے تسکین ہوگئی۔ کھانا کھانے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ اس نے توانائی دوبارہ حاصل کرلی ۔


wwwwwwww

ضرورت جس کی تسکین نہ ہوئی ہو

تناو

اندرونی دباو

سرگرداں رویہ

تسکین شدہ ضرورت

تناو میں کمی

ایسی ضرورت جس کی تسکین نہ ہو، تناو پیدا کرتی ہے اور یہ تناو اس کے طبعی میلانات کو برانگیختہ کرتا ہے۔ یہ اندرونی میلانات اس قسم کی ضرورتوں کی تسکین کے لیے، ایک سرگرداں رویّے کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایسی ضرورت کی تسکین ہوجاتی ہے توفرد کو تناو سے تسکین مل جاتی ہے۔

ترغیب کی اہمیت: ٹاٹا اسٹیل کی مثال میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح ہدایت کاری، ترغیب اور موثر قیادت نے کمپنی کو آگے بڑھایا۔ حتیٰ کہ کمپنی کے ترسیلی نظام نے مقاصد حاصل کرنے میں ملازمین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔


ٹاٹا اسٹیل میں ملازمین کو ترغیب

ٹاٹا اسٹیل کمپنی میں کچھ ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے ملازمین کو ترغیب (Motivation)  ملے اور افسران کے فیصلہ سازی عمل میں ان کی شرکت یقینی ہوجائے۔ پرسنل ڈیولپمینٹ پروگرام کے با ضابطہ سسٹم کے ذریعے ملازمین کی ٹریننگ کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور یہ بھی خیال رکھا گیا ہے کہ ان کی صلاحیتوں اور مہارتوں پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی کی جاتی رہے اور ان کی ترقی باری باری سے ہو۔ معاوضے کو کارکردگی سے جوڑ دیا جائے اور انعامات واعزازات کے نظام کو لاگو کیا جائے۔کالج مینجمنٹ سسٹم تحسین (Appraisal) سے جوڑ دیاجائے، کام کا معیار بڑھانے کے لیے ان کی بہتر رہنمائی کا بندوبست کیا جائے اور متواتر اصلاح کے پروگرامو ں پر عمل کیا جائے۔ ملازمین کے استفسارات اور ان کی پریشانیاں دور کرنے کے لیے قابلِ اعتبار اور شفاف نظام ترسیل بھی قائم کیا جائے۔ اس نظام ترسیل میں رسمی ترسیل اور آن لائن ترسیل دونوں شامل ہوں گی اور اس میں ویڈیو کانسفرنگ اور MD online  سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔ مینجمنٹ کے سینئر افسران کے ساتھ گفتگو، میٹنگیں، کانفرنسیں اور سیمینار بھی اس طریق کا حصہ ہوں گے۔ ان اقدامات کا مقصد ٹاٹا اسٹیل میں ایک ہم آہنگ اور مل جل کر کام کرنے والی ٹیم کی تشکیل کرنا ہے۔ اس سے ملازمین کو ترغیب ملے گی، کمپنی کا خواب پورا ہوگا اور مینجمنٹ پروگرام میں ساجھے داری کے احساس سے ملازمین اپنے کام کو تن دہی سے انجام دیں گے جس کے نتیجے میں کمپنی اپنے نشانے پورے کرسکے گی۔ ٹاٹا اسٹیل ایک ایسی کمپنی ہے جو ملازمین کو کام کرنے کے، آزادانہ مواقع فراہم کرتی ہے، ان کی قوت اختراع کو مہمیز کرنا چاہتی ہے چاہے ان کو اپنی کوششوں میں ناکامی ہی کیوں نہ ہو۔ 

ٹاٹا اسٹیل وہ کمپنی ہے جو سرگرمی کے ساتھ کام کرنے کی آزادی، اختراع پیدا کرنے اور جدت کی آزادی اور یہاں تک کہ ناکام ہونے کی بھی آزادی دیتی ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر، تیز، جدید اور قوی نمو پذیر راہ پر عمل پیرا ترقی پسند کمپنی ہے۔کمپنی مینوفیکچرنگ میں اپنی پیداواری سہولیات اور ٹکنالوجی کے معاملے میں ایک انقلابی تبدیلی کے دورسے گزری ہے۔ ان تبدیلیوں کا نتیجہ نوجوان کارکنان کے لیے نئے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے مواقع کی تخلیق اور انفارمیشن ٹکنالوجی نظاموں پر مبنی کارکردگی اورآٹومیشن کی اونچی سطح کی صورت میں نکلا ہے۔ان سب کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ کمپنی اسٹیل کی بہت کم لاگت پر پیداوار کرنے والوں کی ایک کمپنی بن گئی ہے اور یہ واحد ہندوستانی کمپنی ہے جو عالمی معیار کی اسٹیل بنانے والی اعلیٰ ترین کمپنی کے طور پر عالمی اسٹیل ڈائنامکس کے ذریعہ اپنی شناخت بنا چکی ہے۔ ٹاٹا اسٹیل کو امید ہے کہ اس کی قیادت نہ صرف مستحکم ہوگی بلکہ لیڈر شپ ڈیولپمنٹ نظام کو اپنا کر وہ اپنی قیادت کو مزید بہتر بنا سکے گی (چنانچہ کمپنی نے دوسری کمپنیوں کے لیے متعدد CEO تیار بھی کیے ہیں۔

http،http://www.tata.com/tatasteel/release/20030829.html


ترغیب کو اس لیے بھی اہم سمجھا جاتاہے کیوں کہ اس سے تنظیم میں انسانی وسائل کو شناخت ملنے اور ان کی ضرورتوں کی تکمیل میں میں مدد ملتی ہے اور اس لیے بھی ان کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بڑی تنظیم مختلف قسم کے ترغیبی پروگراموں کو فروغ دیتی ہے اور ان پروگراموں پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے۔ ترغیب کی اہمیت کو درج ذیل فوائد کے ذریعے واضح کیا جاسکتا ہے۔

(i)  ترغیب ملازمین اور تنظیم کی کارکردگی کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔ چوں کہ موزوں ترغیب ملازمین کی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہے اس لیے ملازمین اپنے کام میں بہتر کارکردگی کے لیے اپنی تمام توانائیوں کو وقف کرتے ہیں۔ ایک مطمئن ملازم ہمیشہ متوقع کارکردگی انجام دیتا ہے۔تنظیم میں اچھی ترغیب کارکردگی کی اعلیٰ ترین سطح حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے اورملازمین بھی اس کے بالعوض تنظیمی مقاصد کے لیے اپنی زیادہ سے زیادہ کوششوں کے ذریعے اشتراک کرتے ہیں۔

(ii)  ترغیب ملازمین کے منفی یا بے نیازانہ رویّوں کو مثبت رویوں میں تبدیل کردیتی ہے۔ اس طرح تنظیمی مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے لیے اگر کسی ملازم کو مناسب صلہ یا بدلہ نہ ملے تو وہ اپنی ذمہ داریوں اور اپنے کام کے تئیں غیر وفادارانہ یا منفی رویہ بھی اپنا سکتا ہے۔ اگر مناسب صلہ دیا جاتاہے اور سپروائزر ان کی مثبت حوصلہ افزائی اور اچھے کام کے لیے تعریف کرتا ہے تب ورکر دھیرے دھیرے کام کے تئیں مثبت رویوں کو فروغ دے سکتا ہے۔

(iii)  ترغیب ، ملازمت یا نوکری چھوڑنے والوں کی تعداد کم کرتی ہے اور اس طرح ان کی جگہ کی جانے والی نئی بھرتی اور تربیت کی لاگت کی بچت ہوتی ہے۔ ملازمین کے آنے اور الگ ہونے کی اونچی شرح کا خاص سبب ترغیب و تحریک کی کمی ہے۔ اگر منیجر ملازمین کی ترغیبی ضرورتوں کی شناخت کرتے ہیں اور موزوں ترغیبات فراہم کرتے ہوں تو ملازمین ہوسکتا ہے تنظیم چھوڑنے کے بارے میں کوئی خیال دل میں نہ لائیں۔ترک ملازمت کی اونچی شرح سے مینجمنٹ نئی بھرتی اور تربیت کے لیے مجبور ہوجاتا ہے جس سے کمپنی کو پیسہ، وقت اور کوشش زیادہ لگانی پڑتی ہے۔ ترغیب سے اس طرح کی لاگتوں میں بچت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے تنظیم میں باصلاحیت لوگوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

(iv)  ترغیب سے تنظیم میں غیر حاضری (absenteeism) کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ کام کرنے کے لیے نامناسب ماحول ، ناکافی صلے، تعریف وتوصیف اور انعام واعزاز کی کمی، سپروائزروں اور ہمسروں کے ساتھ خراب رشتے غیر حاضری کے کچھ اہم اور عام اسباب ہیں۔ بہتر ترغیبی نظام کے ذریعے یہ سبھی نقائص دور کیے جاسکتے ہیں۔ اگر ترغیب مناسب طور پر فراہم کی جائے تو کام خوشی و مسرت کا ذریعہ بن سکتا ہے اورکارکن باقاعدہ کام کے لیے باقاعدگی اور دلچسپی کے ساتھ تیار رہتے ہیں۔

(v)  مناسب ترغیبات کے ذریعہ منیجر کسی بھی نئے کام یا کسی بھی تبدیلی کو بغیر کسی مزاحمت کے شروع کرسکتے ہیں۔ عام حالات میں تنظیم کو کسی نئی تبدیلی کے لیے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ جاتاہے۔ اگر منیجر ملازمین کو قائل کرلیتا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے ملازمین کے لیے اضافی صلے ملیں گے تو وہ تبدیلی کو قبول کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

ماسلوکی پیش کردہ ترغیب کی ضرورت پر مبنی درجہ بندی: چوں کہ ترغیب انتہائی پیچیدہ ہے اس لیے بہت سے محققین نے متعدد پہلوؤں سے ترغیب کے بارے میں مطالعہ کیا اور بعض نظریات کو فروغ دیا۔ یہ نظریات ترغیب کے بارے میں شعوروادراک پیدا کرنے میں معاون ومددگار ہیں۔ ان میں سے ماسلو کے نظام ضرورت کے نظریۂ ترغیب کو سمجھنے کے لیے اساس سمجھا جاتاہے۔ آئیے اس کا تفصیلی جائزہ لیں۔ابراہم ماسلو ایک مشہور عالم نفسیات تھا۔ 1943 میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں اس نے نظریۂ ترغیب کے عناصر پر بحث کی ہے۔اس کا نظریہ انسانی ضرورتوں پر مبنی تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ ہر انسان کے اندرنظام ضرورت کے نظریے کو ترغیب کے پانچ ضرورتوں کا ایک سلسلہ وار نظام موجود ہے۔ یہ پانچ ضرورتیں یہ ہیں:

(i)  بنیادی نفسیاتی ضرورتیں: یہ ضرورتیں اس نظام مراتب میں کافی بنیادی ہوتی ہیں۔ یہ انسان کی ابتدائی ضرورتیں ہیں۔ بھوک، پیاس، رہائش، نیند اور جنسی عمل ان ضرورتوں کی کچھ مثالیں ہیں۔ تنظیمی سیاق و سباق میں بنیادی تنخواہ ان ضرورتوں کی تسکین وتکمیل میں مددگار ہوتی ہے۔

(ii)  سلامتی/ حفاظتی ضرورتیں: یہ ضرورتیں جسمانی اور جذباتی نقصان سے سلامتی اور تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ مثالیں: کام کا تحفظ، آمدنی کا مستحکم ہونا، پینشن منصوبے وغیرہ۔

(iii)  وابستہ ہونے/ متعلق ہونے کی ضروریات: ان ضرورتوں کا تعلق، قبولیت احساس وابستگی، محبت اور دوستی سے ہے۔

(iv)  خودی کی ضرورتیں: ان میں عزت نفس، خودارادیت، خودداری، اپنی حیثیت کا اعتراف اور توجہ شامل ہیں:

(v)  خودیا فتگی یا خودشناسی کی ضروریات: یہ اس نظام میں ضرورت کی سب سے اونچی سطح ہے۔ 

sssss

تنظیمی مثال

نشانوں کا حصول

ملازمت کا نام 

ساتھیون کے ساتھ خوشگوار تعلقات

پینشن پلان

بنیادی تنخواہ

خود یافتی یا خود شناسی کی ضروریات

وابستہ ہونے / متعلق ہونے کی ضروریات

سلامتی / حفاظتی ضرورتیں 

بنیادی نفسیاتی ضرورتیں

انفرادی مثال

اپنی حیثیت کا اعتراف

مقام / مرتبہ

دوستی

آمدنی کا استحکام

بھوک پیاس



یہ کسی شخص کا اپنی صلاحیت کے مطابق مقام ومرتبہ حاصل کرنے کا میلان ہے۔ ان ضرورتوں میں نشو ونما، آسودگی نفس اور مقاصد کا حصول شامل ہیں۔

ماسلو کا نظریہ درج ذیل مفروضات پر مبنی ہے:

(i) لوگوں کا رویہ ان کی ضرورتوں پر مبنی ہوتاہے۔ ان کی ضرورتوں کی تسکین ان کے رویّے پر اثر اندازہوتی ہے۔

(ii)     لوگوں کی ضرورتیں ایک سلسلہ وار نظام مدارج پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ نظام بنیادی ضرورتوں سے شروع ہوکر دیگر اونچی سطح تک کی ضرورتوں تک پہنچتا ہے۔

(iii)     جس ضرورت کی تکمیل ہوجاتی ہے پھر وہ کسی فرد کے لیے مزید ترغیب کا باعث نہیں ہوتی۔ پھر توصرف اونچے درجے کی ضرورت انھیں لُبھا سکتی ہے۔

(iv) کوئی شخص سلسلۂ مدارج کی اگلی اعلیٰ سطح کی جانب اُس وقت ہی بڑھتا ہے جبکہ اس کی کم تر ضرورت مطمئن ہو چکی ہوتی ہے۔

ماسلو کے نظریے کے مطابق ضرورتیں ہی ترغیب کی اساس بنتی ہیں۔ اس نظریے کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتاہے اور اس کی ستائش کی جاتی ہے۔ تاہم ضرورتوں کی اس درجہ بندی اور ضرورتوں کے اس سلسلۂ مدارج پر کچھ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ لیکن اس طرح کی تنقید کے باوجود یہ نظریہ اب بھی موزوں ہے کیوں  کہ اس سے قطع نظرکہ ضرورتوں کی درجہ بندی کیسے کی گئی ہے، یہ رویے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ یہ منیجروں کو یہ محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے کہ ملازم کی سطح ضرورت کی شناخت ہونی چاہیے تاکہ انھیں ترغیب فراہم کی جاسکے۔

مالی اور غیر مالی ترغیبات (Financial and Non-financial Incentives):

مالی اور غیر مالی ترغیبات (incentive) کا مطلب ان سبھی اقدامات سے ہے جن کا استعمال لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے کیا جاتاہے تاکہ ان کی کارکردگی میں بہتری پیدا ہوسکے۔ ترغیبات کو موٹے طور پر مالی اور غیر مالی میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ آئیے ان ترغیبات کو تفصیل سے سمجھیں۔

مالی ترغیبات: موجودہ معاشی نظام کے سیاق و سباق میں روز مرہ کی زندگی کی مادی ضروریات کی تکمیل کے علاوہ سماجی حیثیت اور اقتدار حاصل کرنے کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ چونکہ روپیے پیسے میں قوت خرید ہوتی ہے اس لیے یہ ہر فرد کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔

مالی ترغیبات سے مراد وہ ترغیبات ہیں جو براہ راست روپیے پیسے کی شکل میں ہوتی ہیں یا جو روپیے پیسہ کی اصطلاح میں ہوتی ہیں یا مالیاتی اصطلاح میں قابل پیمائش ہوتی ہیں اور بہتر کارکردگی کے لیے لوگوں کو تحریک دینے کے لیے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ مالی ترغیبات جو عام طور پر تنظیموں میں استعمال کی جاتی ہیں وہ درج ذیل ہے:

(i)  تنخواہ اور بھتے: ہر ملازم کے لیے تنخواہ بنیادی مالی ترغیب ہے۔ اس میں بنیادی تنخواہ ، مہنگائی بھتہ اور دیگر بھتے شامل ہیں۔ تنخواہ کے نظام میں ہر سال تنخواہ میں باقاعدہ اضافہ اور وقتا فوقتاًبھتوں میں اضافہ شامل ہے۔ کچھ کاروباری تنظیموں میں تنخواہوں میں اضافہ اور سالانہ اضافہ کارکردگی سے جڑا ہوتا ہے۔

(ii)  پیداواریت سے جڑی اجرتی ترغیبات : 

کچھ اجرتی ترغیبات کوخود اجرتوں کی ادائیگی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اجرتوں میں اضافے کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر پیداواریت سے جوڑنا ہوتا ہے۔


ابراہم ماسلو کا تعارف (1908 تا1970 )

ابراہم ایچ ماسلو 1908 میں بروکلین ، نیویارک میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے یونیورسٹی آف وِسکانسن میں انسان اور بندر وغیرہ جیسی چند جانوروں کے رویے (Behaviour) کا مطالعہ کیا اور 1934 میں نفسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

اپنے کیریر کی شروعات میں ، ماسلو کی توجہ ترغیب انسانی (Human Motivation) اور شخصیت کے مطالعے کی طرف مبذول ہوئی۔ اس میدان میں اس کی تخلیق نے سخت گیر کردار پسندوں (Behaviourist) کو مضطرب کردیا جن کی ترغیب اور شخصیت کے بارے میں توضیحات ماسلو کے مکمل شخص (Whole Person) کی توجیہ وتوضیح کرنے میں ناکام رہے۔ اس کی ضرورتوں کی درجہ بندی کا نظریہ خودشناس فرد (Self-actualized) کی شخصیت کی تشکیل کرتا ہے جو انسانی نفسیات کے لیے بنیاد تیارکرنے میں ایک مضبوط محرک تھا۔ ماسلو کو عصری نفسیات میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے ۔ ان کا کیر یر بہت شان دار رہا ہے۔ ۱۶ سال تک انھوں نے بروکلین کالج میں پڑھایا اور اس کے بعد انھوں نے برانڈ یز یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات کے چیرمین کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ 1968 میں انھیں امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کیا گیا۔ 1969 میں وہ بینلو پارک میں لاغلں فاونڈیشن کیلی فورنیا گئے۔ انھوں نے دو اہم کتابیں لکھیں ایک "Toward a pychology of Being" جو 1968 میں لکھی گئی اور دوسری Motivation and Personality جو 1970 میں لکھی گئی۔ ابراہم ماسلو کی موت 1970 میں دل کا دور پڑنے سے واقع ہوئی۔



(iii) بونس: بونس ایک ترغیب ہے جو ملازمین کو اجرتوں اور تنخواہ کے علاوہ دیا جاتا ہے۔

(iv) منافع میں شرکت:

 منافع میں شرکت کا مطلب ہے تنظیم کے منافعوں میں ملازمین کو حصہ فراہم کرنا ۔ منافع میں شرکت سے ملازمین کی کارکردگی میں بھی بہتری پیدا ہوتی ہے اور تنظیم میں ان کا تعاون اور دلچسپی بھی بڑھتی ہے۔ 

(v)  ساجھے داری /حصص:ان ترغیباتی اسکیموں میں کمپنی کے ذریعے ملازمین کو ایک متعین قیمت پر جو بازار کی قیمت کے مقابلے میں کم تر ہوتی ہے حصص (شیئر) کی پیش کش کی جاتی ہے۔کبھی کبھی مینجمنٹ نقد ترغیبات کے ساتھ ساتھ شیرز دے دیتا ہے۔ حصص کی تفویض ملازمین کے دل میں ملکیت کا احساس پیدا کرتی ہے اور تنظیم کے نمو کے لیے ایک ملازم کے اشتراک وتعاون کو ابھارتی ہے۔ انفوسس میں حصص کا متبادل مینجمنٹ کے معاوضے کے ایک جزو کے طور پر لاگو کیا گیا ہے۔ 

(vi)   ریٹایر منٹ کے فوائد: متعدد ریٹائر منٹ فوائد جیسے پرویڈ نٹ فنڈ، پنشن اور گریجومیٹی ریٹائر منٹ کے بعد ملازمین کو مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اور یہی چیزیں ملازمت کے دوران، ترغیبات کا بھی کام کرتی ہیں۔ 

(vii)  اتفاقی بھتے (Perquisites)بہت سی کمپنیوں میں اتفاقی بھتے دیے جاتے ہیں جیسے کارالائو نس، مکان کا کرایہ ، طبی مدد اور بچوں کے لیے تعلیم وغیرہ کی سہولیات جو تنخواہ کے علاوہ ہوتی ہیں۔ ان اقدامات سے ملازموں اور مینجروں کو ترغیب ملتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

غیر مالی ترغیبات (Non Financial Incention):

 صرف روپیے پیسے سے لوگوں کی ساری ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ تشویق وترغیب کے لیے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر مالی ترغیبات انھیں ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔ ممکن ہے کہ غیر مالی ترغیبات میں روپیے پیسے کا بھی کردار ہو تاہم غیر مالی ترغیبات کا مقصد نفسیاتی اور جذباتی ضرورتوں کی تکمیل اور تسکین بھی ضروری ہے۔ مثال کے لیے کوئی فرد تنظیم میں ترقی حاصل کرتا ہے۔ اس سے اسے نفسیاتی تسکین ملتی ہے کیوں کہ ترقی ، حیثیت میں اضافہ اختیار میں اضافہ اورملازمت میں چیلنج وغیرہ کا احساس بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر چہ ترقی میں زائد رقم کی ادائیگی شامل ہے لیکن غیرمالی پہلو مالی پہلوؤں پر بھاری پڑجاتا ہے۔

ذیل میں کچھ اہم غیر مالی ترغیبات پر بحث کی گئی ہے

(i)مرتبہ: تنظیمی سیاق وسباق میں مرتبہ  کا مطلب ہے کہ تنظیم میں مقام ومرتبہ ، ملازمت سے متعلق اختیار، ذمہ داری ،اعزاز واکرام، خدمات کا اعتراف اور عزت واحترام ایک ایسے شخص کو دیا گیا ہے جو منیجر کے عہدے پر فائز ہے۔ کسی بھی فرد کی سماجی، نفسیاتی اور جذباتی ضررتوں کی تسکین وتکمیل، اس عہدے اور ملازمت میں اس مقام ومرتبے سے ہوتی ہے جو اس کو وہاں حاصل ہوتے ہیں۔

(ii)تنظیمی ماحول (Orgnisational Climate): تنظیمی ماحول سے تنظیم کی خصوصیات کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک تنظیم کس طرح دوسری تنظیم سے ممتاز ہے۔ یہ خصوصیات تنظیم کے اندر افراد کے رویے پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان خصوصیات میں سے کچھ انفرادی ہیں: انفرادی خود اختیاری، صلہ رحمی، ملازمین کا خیال رکھنا، مفوضہ کام کا جوکھم وغیرہ۔ ان پہلوؤں کے بارے میں اگر مینجر مثبت اقدامات کرتے ہیں تو اس سے بہتر تنظیمی ماحول پیدا ہوتا ہے۔

(iii)  کیریر کی ترقی کے مواقع (Career Advancement Oppertunities): ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ تنظیم میں اس کو بلند مقام حاصل ہو۔ منیجروں کو یہ چاہیے کہ وہ ملازمین کے لیے ایسے مواقع فراہم کریں جن سے ان کی مہارتوں میں مزید بہتری پیدا ہو اور نتیجتاً اعلیٰ سطحوں کی ذمہ داریاں ان کو مل سکیں۔ مہارتوں کے فروغ کے لیے مناسب پروگراموں اور ترقی کی صحیح پالیسی اپنانے سے ملازموں کے اندر ترقی حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوگا۔ ترقی دراصل ایک طرح کا مقوی ٹانک ہے جس سے ملازمین میں اپنی بہتر کارکردگی دکھانے کا جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے۔

(iv)   کار منصبی کا تنوع (Job Enrichment): اس کا تعلق فرائض منصبی کو بہتر طریقے پر ڈیزائن کرنے سے ہے۔ اس میں کام کے تنوع کے ساتھ معلومات اور مہارتوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ اس سے ورکرس میں خود مختاری اور ذمے داری کا احساس پیدا ہوگا۔ اس سے ان کی شخصیت کو جلا ملے گی اور ان کو کام کے بارے میں ایک بامعنی تجربہ بھی حاصل ہوگا۔ اگر فرائض منصبی متنوع اوردلچسپ ہوں گے تو یہ خود ہی ترغیب وتشویق کا ذریعہ بن جائیں گے۔

(v)  ملازمین کی قدر شناسی (Employer Recognition Programmes): اکثر لوگوں کو اپنے کام کی قدر شناسی اور اظہار پسندیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اعتراف کا مطلب ہے ستائش یا اظہار پسندیدگی ۔ اگر ملازمین کے کاموں کی تعریف و توصیف کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ اوراچھا کام کرنے کی طرف رغبت وتحریک محسوس کرتے ہیں ۔ ملازمین کی ستائش کی کچھ مثالیں ہیں:

•  اچھی کارکردگی کے لیے ملازمین کو مبارک باد دینا۔

•  ملازمین کی کامیابیوں کے بارے میں کمپنی کے نوٹس بورڈ یا نیوز لیٹر میں اظہار ستائش

•  بہترین کارکردگی کے لیے انعام یا سند دینے کے سلسلے کا قیام 

•  بہتر کارکردگی کے لیے انعام یا سرٹیفکٹ عطاکرنا ملازمین کی خدمات کے اعتراف میں ٹی شرٹ وغیرہ جیسے تحائف تقسیم کرنا

•  قیمتی تجاویز پیش کرنے پر کسی ملازم کو انعام سے نوازنا

(vi)  ملازمت کا تحفظ (Job Security): ملازمین چاہتے ہیں کہ ان کی ملازمت کو تحفظ حاصل ہو۔ وہ اپنے مستقبل کی آمدنی اورنوکری کو قطعی مستحکم بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان پہلوؤں کے بارے میں فکر مندنہ ہوں اور اپنے کام کو پورے جوش کے ساتھ انجام دے سکیں۔ ہندوستان میں یہ پہلو اس لیے زیادہ اہم ہے کہ کام کے مواقع نا کافی ہیں اور امیدوار زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم نوکری کے تحفظ کا ایک منفی پہلو بھی ہے کہ جب لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی نوکری یا عہدے پر کوئی آنچ نہیں آئے گی تب وہ اپنی ذات میں مگن او رمطمئن ہوجاتے ہیں۔

(vii)   ملازمین کی شرکت (Employer Participation): اس کا مطلب ہے کہ ملازمین سے متعلق امور کے بارے میں فیصلہ سازی میں ان کو شامل کرنا۔ بہت سی کمپنیوں میں یہ پروگرام عملاً مشترکہ مینجمٹ کمیٹیوں ورک کمیٹیوں ، کینٹین کمیٹیوں وغیرہ کی شکل میں چل رہے ہیں۔

(viii)  ملازم کو با اختیار بنانا (Employer Empowerment): با اختیار بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ماتحتوں کو زیادہ خود مختاری اور اختیار دیا جائے۔ با اختیار بنانے سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے فرائض اہم ہیں۔ با اختیار ہونے کے احساس کا ایک مثبت اثر یہ ہوتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں جس سے ان کی کارکردگی زیادہ اور مزید بہتر ہوجاتی ہے۔

قیادت

جب ہم کسی تنظیم کی کامیابی کی کہانیوں کوسنتے ہیں تو ہمیں فوری ان کے قائدین کی یاد آجاتی ہے۔ کیا آپ بل گیٹس کے بغیر مائیکروسافٹ، امبانی بھائیوں کے بغیر ریلائنس انڈسٹریز، نارائین مورتی کے بغیر انفوسس ، جے ۔ آر ۔ڈی ٹاٹا کے بغیر ٹاٹا یا عظیم پریم جی کے بغیر وِپرو کاتصور کرسکتے ہیں ۔ آپ کہیں گے کہ ایسے عظیم قائدین کے بغیر کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی تنظیم کی کامیابی او ر بہتری کے لیے قائد ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

آئیے قیادت، اس کی اہمیت اور اچھے قائدین کی خوبیوں کے بارے میں جانیں۔ قیادت تنظیمی مقاصد کی حصول یابی کے تئیں رضاکارانہ طور پر لوگوں میں جدوجہد کا جذبہ پیدا کر کے ان کے برتاو پر اثر انداز ہونے کا عمل ہے۔تنظیمی مقاصد کے حصول کے لیے ماتحتوں کے ساتھ بہتر رشتوں کا قائم کرنا اور ان کا تعاون حاصل کرلینا ہی قیادت ہے۔ اس سے کسی فرد کی قائدانہ صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔

قیادت کی خصوصیات

درج بالا تعریف کے جائزے سے قیادت کی درج ذیل اہم خصوصیات کا پتہ چلتا ہے:

(i)  قیادت دوسروں پر اثر انداز ہونے کے لیے کسی فرد کی صلاحیت کا اظہار ہے ۔

(ii)  قیادت دوسروں کے برتاو میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

(iii)  قیادت قائدین اور پیروکاروں کے درمیان باہمی روابطہ کو ظاہر کرتی ہے۔


قیادت کی تعریفیں (Definitions of Leadership) 

قیادت اجتماعی مقاصد کی حصول یابی کے لیے جانے والی جدوجہد کے ذریعے عوام کو متاثر کرنے کی ایک سرگرمی ہے۔ 
جارج ٹِری 
قیادت لوگوں پر اثر انداز ہونے کا فن یا عمل ہے تاکہ وہ اجتماعی مقاصد کے حصول کے لیے رضا کارانہ اور پر جوش طور پر جدوجہد یا سخت محنت کریں گے۔
Haroldhoontz and Heinz Weihrich
قیادت بین شخصی رویوں (Interpersonal beaviours) کاایک مجموعہ ہے جو ملازمین پر اثرانداز ہونے کے لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ حصول مقاصد میں تعاون کریں۔
گلوئیک
قیادت ایک عمل (Process) بھی ہے اور ایک خاصیت (Property) بھی۔ قیادت کا عمل (Process) ایک غیر جابرانہ اثر ورسوخ کا استعمال ہے تاکہ ایک منظم گروپ کے افراد کی سرگرمیوں کی صحیح رہنمائی کی جاسکے اور مقاصد کے حصول کے لیے ان میں تال میل قائم کیا جاسکے۔ایک خاصیت (Property) کے طور پر قیادت ان محاسن (Qualties) یا خصوصیات کا مجموعہ ہے جو ان لوگوں سے منسوب ہے جو ایسے اثر ورسوخ کو کامیابی سے استعمال کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
گے اینڈ اسٹارک

موثر قیادت سے مراد کم سے کم لاگت پر مقاصد کو حاصل کرنا اور کام کو بروقت مکمل کرنا ہے۔


zzzzzz

قیادت کا استعمال تنظیم کے مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔  (iv)

قیادت ایک مسلسل عمل ہے۔  (v)

قائد کی اصطلاح قیادت سے لی گئی ہے۔ کوئی فرد جس میں قیادت کی صفات ہوں، اسے قائد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ قیادت پر بحث کرتے ہوئے قائد اور ماتحت (Follower) کے رشتے کو سمجھنا ضروری ہے۔کسی تنظیم کی کامیابی اکثر قائد سے منسوب کی جاتی ہے لیکن بہت سے ایسے عوامل جن کا تعلق ماتحتوں (Followers) سے ہے قیادت کو موثر بناتے ہیں۔ ان عوامل میں پیروکاروں کی مہارتیں، ان کا عمل، کام کے لیے ان کی لگن، ان کا جذبۂ تعاون اور اجتماعی جدوجہد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ماتحت قیادت کی قبولیت کے ذریعے کسی فرد کو ایک اچھا قائد بناتے ہیں۔ لہذا یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قائد اور ماتحت قائدانہ عمل میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

قیادت کی اہمیت: قیادت کسی تنظیم کی کامیابی میں ایک کلیدی عنصر ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اکثرکسی تنظیم کی کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق صرف قیادت کا ہوتا ہے۔ اس بات کو Stephen Covey نے، جو ایک مشہور ومعروف مینجمنٹ کنسلٹینٹ رہے ہیں، بہت اچھے انداز میں واضح کیا ہے کہ منیجر بہت اہم ہوتے ہیں لیکن کسی تنظیم کی دیر پا کامیابی کے لیے قائدین بڑی حیات بخش اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ قائد نہ صرف اپنے ماتحتوں کو تنظیم کے مقاصدکا پابند بنا لیتا ہے بلکہ ضروری وسائل بھی فراہم کرتا ہے۔ وہ مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنے ماتحتوں کی رہنمائی کرتا ہے اور ان کو ترغیب دیتاہے۔

قیادت کی اہمیت کو تنظیم کے درج ذیل فوائد سے سمجھا جاسکتا ہے۔

(i) قیادت لوگوں کے رویّوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور تنظیم کے فوائد کے لیے ان کی توانائیوں کا مثبت طور پر اشتراک حاصل کرتی ہے۔ اچھے قائدین ہمیشہ اپنے ما تحتوں کے ذریعے اچھے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ 

(ii)   ایک قائد اپنے ماتحتوں کے ساتھ ذاتی رشتے برقرار رکھتا ہے اور ان کی ضرورتوں کی تکمیل میں مددگار ہوتا ہے۔ وہ ضروری اعتماد ، حمایت اور حوصلہ افزائی فرا ہم کرتا ہے اور اسی بناپر کام کرنے کے ایک خوش گوار ماحول کی تخلیق کرتا ہے۔

(iii)   تنظیم میں مطلوبہ تبدیلیوں کو شروع کرنے کے معاملے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو پورے دل سے تبدیلیوں کو قبول کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ ان تبدیلیوں کی توضیح کرتا ہے اورلوگوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ اس طرح وہ تبدیلی کے تئیں مزاحمت کی مشکلات پر قابو پالیتا ہے اوربے اطمینانی یا بے چینی پیدا نہیں ہونے دیتا۔

(iv) ایک قائد ٹکرائو سے موثر طور پر نمٹتا ہے اور ٹکراو کے برے اثرات نہیں پیدا ہونے دیتا۔ ایک اچھا قائد ہمیشہ اپنے پیروکاروں کو اختلاف رائے کے اظہار کی اجازت دیتا ہے لیکن انھیں اس بات کی بھی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے اختلاف رائے کو مدلل طور پر اور مناسب انداز میں پیش کریں۔

(Leadership at Infosys) انفوسس میں قیادت

انفوسس کے سابق چیرمین، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تاریخی شخصیت ،ادارہ ساز، رہنمااور ہدایت کاری کی اہلیتوں کی اعلیٰ ترین مثال، این۔آر۔نارائین مورتی کے بارے میں جاننا دلچسپ اور حوصلہ افزا ہوگا۔
ریاست کرناٹک میں 20 اگست 1946 کو پیدا ہوئے مسٹر نرائن مورتی نے میسور یونیورسٹی سے 1967 میں B.E. ڈگری حاصل کی اور 1969 میں کانپور کی IIT سے ماسٹر ڈگری (M.Tech) حاصل کی۔ انھوں نے IIM، احمد آباد کے کمپیوٹر مرکز کے سربراہ کے طور پر اپنے کیریر کی شروعات کی۔
انھوں نے 1981میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک چھوٹی سافٹ ویئر کمپنی انفوسس کی شروعات کی اور اسے 2002 تک ایک عالمی انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنی میں بدل دیا۔ وہ دو دہوں تک کمپنی کے چیف صلاح کار، CEO رہے۔ اسی دوران انھوں نے کمپنی کو ناقابل تصور حد تک بلندیوں پر پہنچایا۔ 1981 میں کمپنی کا ایکویٹی کیپٹل (Equity Capital) 10,000 روپیے تھا۔ 2001 میں انفوسس کا مارکیٹ سرمایہ 11 بلین روپیے تک پہنچ گیا۔ انفوسس ہندوستان سے سافٹ ویئر برآمد کرنے والی بڑی کمپنی بن گئی۔ یہ پہلی کمپنی ہے جو 1999 میں Nasdaq اسٹاک مارکیٹ میں درج فہرست کی گئی۔
نارائین مورتی کو بہت سی باتوں کے لیے ایک اعلیٰ قائد کے طور پر یاد کیا جاتاہے۔ انھیں اپنے ٹیم کے ممبران، ایگزیکٹیوز اور ورکرس پر کافی بھروسہ تھا۔ انھوں نے کوچنگ اور ٹریننگ کے ذریعے قیادت کی خوبیوں کو پروان چڑھایا اور اسے فروغ دیا۔ انھوں نے 2001 کے اوائل میں انفوسس لیڈرشپ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا تاکہ انفوسس کے ہونہار لوگوں کو عالمی قائدانہ صلاحیت فراہم کی جاسکے
مسٹر مورتی نے بھروسہ کرکے اور ایک مثال قائم کرکے قیادت کی۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ایک سچا رہنما وہ ہوتا ہے جو خود اپنی مثال قائم کرکے اور قربانی پیش کرکے قیادت کی ذمہ داری نبھائے۔ انہوں نے انفوسس میں اس پر واقعتا عمل کیا اور اسے ثابت کر دکھایا۔
مسٹر مورتی ہمیشہ اپنی ٹیم کو ترغیب و تحریک دیا کرتے تھے۔ انھوں نے متعدد ترغیبی اسکیمیں شروع کیں جس میں انفوسس کے ایگزیکٹیو کے لیے انوکھی اسٹاک پسندی (Stock Option)  اسکیم بھی شامل ہے۔
نارائین مورتی مختلف صلاحیتوں میں بہت سے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ وابستہ تھے اورانھوں نے وسیع ترین سرگرمیوں کے تئیں اپنی خدمات کو وسعت دی۔ انھیں علمی، سماجی اور کاروباری کمیونٹی کے ذریعہ ایوارڈ اور اعزازات سے نوازا گیا۔ خود اپنے معیارات قائم کر کے انھوں نے 2002 میں انفوسس کی باگ ڈور اپنے دوست اور ساتھی فاؤنڈر نندن نیل کانی  کو سونپ دی۔ (Nandan Nilkani)

(v) قائد اپنے ماتحتوں کو تربیت دیتا ہے۔ ایک اچھا قائد ہمیشہ اپنا جانشین تیار کرتا ہے اور جانشینی کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ 

اچھے قائد کی خوبیاں
 ایک اچھے قائد میں کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟
 کیا سبھی اچھے قائدین میں مشترکہ خوبیاں ہوتی ہیں؟
اس طرح کی کتنی خوبیاں ایک کامیاب قائد میں ہونی چاہئیں۔ قیادت کا ایک نظریے کے مطابق ایک شخص کو کامیاب قائد بننے کے لیے بعض خوبیوں اور صفات کا حامل ہونا چاہیے۔ یہ باور کیا جاتاہے کہ قائدین کو بعض منفرد او صاف کی بنا پرغیر قائدین سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ اچھے قائدین کے اوصاف کی شناخت کچھ محققین نے کی ہے جنھیں باکس کے اندر دکھایا گیاہے۔


ccccc

(i) جسمانی خصوصیات: قد، وزن، صحت اور ظاہری شکل و صورت کسی فرد کی جسمانی شخصیت کا تعین کرتے ہیں۔ یہ مانا جاتاہے کہ اچھی جسمانی خصوصیات لوگوں کے لیے باعث کشش ہوتی ہیں۔ صحت اور قوتِ برداشت کسی قائد کو سخت محنت سے کام کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ ان سے لوگوں میں اسی رفتار عمل کے ساتھ کام کرنے کا جوش پیدا ہوتاہے۔

(ii)  علم: ایک اچھے قائد کو علم و لیاقت کا حامل ہونا چاہیے۔ صرف ایسے افراد ہی ماتحتوں کو صحیح طور پر ہدایات دے سکتے ہیں اور ان پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرسکتے ہیں۔ 

(iii)  سالمیت: ایک قائد میں دیانت اور ایمان داری خوب ہونی چاہیے اسے اخلاقیات اور قدروں کے لحاظ سے دوسروں کے لیے مثالی کردار بننا چاہیے۔ 

(iv)  پہل:ایک قائد میں جرأت اور پہل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ اسے اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے لیے مواقع پیدا ہوں بلکہ اسے مواقع خود پیدا کرنے چاہئیں اور ان کاستعمال تنظیم کے فائدے کے لیے کرنا چاہیے۔

(v)   ترسیلی مہارتیں (Communication Skills) : ایک قائد اور ترسیل و ابلاغ کا اچھا ماہر ہونا چاہیے۔ اس میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے خیالات و نظریات کی وضاحت کرسکے تاکہ اس کے نظریات لوگوں کی سمجھ میں آسکیں۔          وہ نہ صرف ایک اچھا بولنے والا ہو بلکہ اچھا سننے والا، استاد، صلاح کار اور ترغیب کار ہو۔

(vi)  ترغیبی مہارتیں: ایک قائد کو موثر ترغیب کار ہونا چاہیے۔ اسے لوگوں کی ضرورتوں کو سمجھنا چاہیے اور ان کی ضرورتوں کی تسکین وتکمیل کے ذریعے ترغیب دینا چاہیے۔ 

(vii) خود اعتمادی: ایک قائد زبردست خود اعتمادی کا حامل ہونا چاہیے۔ انتہائی مشکل حالات میں بھی اسے اعتماد نہیں کھونا چاہیے۔ درحقیقت اگر قائد میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے تو وہ اپنے ماتحتوں کو پُراعتماد نہیں بناسکتا۔


HCL ٹکنالوجیز میں قیادت اور ٹیم ورک

 ٹکنالوجی نے کسی حد تک مینجمنٹ کے تئیں اختراعی نظریہ اپنایا ہے جہاں گاہکوں کے مقابلے ملازمین کو اول درجہ حاصل ہے۔ یہاں ہر ملازم اپنے باس، باس کے باس اور کم سے کم کمپنی کے تین دیگر منیجروں کے ساتھ 1تا 5 کے پیمانے پر درجہ بندکیا جاتاہے۔ اس کے بعد نتائج آن لائن درج کردیے جاتے ہیں تاکہ ہر ایک دیکھ سکے۔
کمپنی محسوس کرتی ہے کہ مطمئن اورمحفوظ ملازمین گاہک کی کامیابی پر زیادہ بہتر طور پرتوجہ کرسکتے ہیں HCL نے ایک نئے مدبرانہ اتحاد کی تشکیل کی اور گاہکوں کے ساتھ شرکتی جوکھم کا ایک اختراعی انداز نظر اختیار کیا۔
بات یہ ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں نہ صرف مینوفیکچرنگ طریقوں، ٹکنالوجیوں اور پیداواری طور طریقوں میں نئے نئے انداز اختیار کرتی ہیں بلکہ ان کے قائدین اور مینجمنٹ ملازمین کی توانائی سے بھرپور تخلیقی ٹیموں کی تشکیل پر غوروفکر کے ساتھ ساتھ گاہک کی کامیابی پر بھی توجہ مبذول کرتے ہیں۔
Source: http://www.evolvingexcellence.com/blog/2006/04/the_future_of_m.html

(viii) قطعیت:قائد کو اپنے انتظام اور کام دونوں میں فیصلہ کن رخ اختیار کرنا چاہیے۔ ایک بار جب وہ کسی حقیقت کو تسلیم کرلے تو اسے اٹل ہونا چاہیے اور خیالات یا رائے کو بار بار نہیں تبدیل کرنا چاہیے۔

سماجی مہارتیں: ایک قائد کو اپنے ہمسروں اور ماتحتوں کے ساتھ میل جول اور دوستانہ روش رکھنے والا ہونا چاہیے۔ اسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے اور ان کے ساتھ اچھے انسانی رشتے برقرار رکھنے چاہیں۔

تاہم ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سبھی اچھے قائدین میں ضروری نہیں ہے کہ یہ سبھی خوبیاں موجود ہوں۔ درحقیقت یہ ممکن نہیں کہ کسی فرد میں یہ ساری خوبیاں موجود ہوں۔لیکن ان خوبیوں کو سمجھنے سے منیجروں کی تربیت ہوتی ہے اور شعوری کوششوں کے ذریعے انھیں حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

قیادت کا انداز

قیادت کے رویّے اور انداز کے متعلق بہت سے تصوّرات پائے جاتے ہیں۔تحقیقی مطالعوں سے ایسی کچھ تدابیر اور خصوصیات کا علم ہو پایا ہے جو ایک قائد میں ہونی ضروری ہیں۔ البتہ یہ کوئی حتمی خصوصیات نہیں ہیں کیوں کہ ممکن ہے کہ ان میں سے بہت سی خصوصیات بہت سے لوگوں میں ہو لیکن وہ قائدنہ ہوں ۔ 

قیادت کے انداز کی زمرہ بندی کئی طرح سے کی جا سکتی ہے۔ قائدانہ انداز کی سب سے مشہور زمرہ بندی اختیارات کے استعمال پر مبنی ہے۔ اختیارات کے استعمال کے مطابق قیادت کے تین بنیادی انداز پائے جاتے ہیں۔ 

(i)  آمرانہ (Autocratic)

(ii)  جمہوری  (Democratic)   اور 

(iii)  عدم مداخلت (Laissez-faire)


ترسیل کی تعریفیں (Difinations of Communications)

ترسیل سے مراد ایک شخص کے ذریعے مجموعی طور پر اس وقت کیے جانے والے تمام کام ہیں جب کہ وہ کسی دوسرے کے ذہن میں سمجھ کو تخلیق کرنا چاہتا ہے یہ بتانے، سننے اور سمجھنے کے باقائدہ اور مسلسل عمل پر مشتمل ہوتی ہے۔
                                                                                                                                                                      لوئیس ایلن (Louis Allen)
ترسیل، مرسل سے وصول کنندہ کو معلومات کا تبادلہ ہے جس کے ساتھ ہی وصول کنندہ کے ذریعہ معلومات کو سمجھ لیا جاتا ہے۔
ہیرالڈ کونٹس اور ہنیز ویرچ (Harold Koontz and Heniz Weihrich)
ترسیل ایک عمل ہے جس کے ذریعے لوگ ایک یکساں سمجھ پر پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کی تخلیق اور حصّہ داری کرتے ہیں۔
راجرس (Rogers)

موثر ترسیل مینجمنٹ سے متعلق کارکردگی بڑھادیتی ہے

mmmmm
ترسیلی گریپ وائن

(i)   آمرانہ یا اختیار پر مبنی قائد

ایک آمر قائد حکم دیتا ہے اور اپنے ماتحتوں سے امید کرتا ہے کہ وہ اس کے احکام بجا لائیں گے۔ اگر کوئی مینیجر اس انداز کو اپناتا ہو تو ترسیل یک طرفہ ہوگی کہ ماتحت مینیجر کے دیے ہوئے احکامات کے مطابق ہی کام کر رہے ہوں گے۔

یہ قائد کٹّر ہے یعنی اپنے آپ کو بدلتا نہیں اور اسے یہ بھی پسند نہیں کہ کوئی اس کی بات سے اختلاف کرے۔ اس کا برتاو اس قیاس پر مبنی ہے کہ سزا اور جزا دونوں کا فیصلہ صرف نتیجے پر منحصر کرتا ہے۔ اس طرح کا قائدانہ انداز کئی خاص قسم کی صورتِ حال میں پیداواریت کے حصول کے لیے مؤثر ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی فیکٹری میں ، جس میں کسی سپر وائزر کی ذمہ داری ہو وقت پر مال تیار کرانا اور مزدوروں کی جانب سے بننے والے مال کی تعداد کو یقینی بنانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے فوری فیصلہ سازی بھی خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ 

البتہ اس میں بھی مختلف قسم کے لوگ ہو سکتے ہیں ،ممکن ہے کہ وہ ہر ایک کی بات یا رائے سنتے ہوں، ماتحتوں کے خیالات پر غور کرتے ہوں اور ان کی تشویش پر دھیان دیتے ہوں لیکن ہر معاملے پر فیصلہ ان کا اپنا ہوتا ہو۔ 

(ii)   جمہوری قائد

جمہوری قائد عمل آوری کے منصوبے بنائے گا اور اپنے ماتحتوں کے صلاح و مشوروں سے فیصلے لے گا ۔ وہ فیصلہ سازی میں حصہ لینے کے لیے انہیں تحریک دے گا ۔ قیادت کا یہ انداز ان دنوں بہت عام ہے کیونکہ قائد بھی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر لوگوں کو اپنے مقاصد تعین کرنے کا موقع ملے تو وہ بہتر کارکردگی انجام دیتے ہیں۔ ایسے قائد دوسروں کے صلاح و مشورے کا احترام کرتے ہیں اور اپنے ماتحتوں اپنے فرائض کی انجام دہی میں تعاون مہیا کرتے ہیں ساتھ ہی تنظیمی مقاصد کی تکمیل بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ گروپ کے اندرون زیادہ قوتوں کا استعمال کرتے ہوئے اس پر زیادہ قابو رکھ پاتے ہیں۔


nnnn

کوڈ کشائی ( Decoding )

پیغام بندی ( Encoding )

وصول کنندہ ( Receiver )

میڈیا ( Media )

پیغام (  Meesage )

مرسل ( Sender )

شور ( Noise

فیڈبیک ( Feedback )

عدم مداخلت کا قائل قائد 

اس طرح کے قائد اپنے اختیارات کے استعمال میں قطعی یقین نہیں رکھتے جب تک کہ اس کی انتہائی ضرورت پیش نہ آجائے۔ ماتحتوں کو اپنے مقاصد وضع کرنے اور انہیں حاصل کرنے کا طریقۂ کار طے کرنے کی بے حد آزادی فراہم کرتا ہے اور انہیں تفویض کیے گئے ہدف کو مکمل کرنے کے لیے درکار معلومات مہیا کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ماتحت انجام دیے جانے والے کام کے تئیں اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں۔

صورتحال کے مطابق کوئی قائد ضرورت کے تحت مذکورہ انداز کے امتجاز کو چن سکتا ہے ۔یہاں تک کہ عدم مداخلت کا قائل قائد بھی ایسے ضابطے بنا سکتا ہے جن کی کام کے دوران پیروی کرنی ہے اور ایک جمہوری لیڈر ہنگامی صورتحال میں اپنے فیصلے لینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ 

ترسیل (Communication)

 ایک منیجر کی کامیابی میں ترسیل کا بہت اہم کردار ہے ۔ کسی منیجر کے پاس کتنا بھی پیشہ وارانہ علم اور دانائی موجود ہو وہ اس وقت بے اثر بن جاتاہے جب اپنے ماتحتوں کے ساتھ موثر طور پر ترسیل کرنے یا رابطہ رکھنے اور ان میں سمجھ پیدا کرنے کا اہل نہ ہو۔ کسی منیجر کی ہدایت کاری کی صلاحیتیں بطور خاص اس کی ترسیلی مہارتوں پر منحصر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم منیجروں اور ملازمین کی ترسیلی مہارتوں کو بہتر بنانے پر زور دیتی ہے۔

لفظ Communictation (ترسیل) لاطینی لفظ 'Communis' سے اخذ کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے مشترک یا عام (Common)۔ اسی بنا پر عام سوجھ بوجھ (Common understanding) پر دلالت کرتا ہے۔ ترسیل کی تعریف مختلف انداز میں کی جاتی ہے۔ عام طور پر اسے نظریات، خیالات، حقائق، احساسات وغیرہ کے تبادلے کے طور پر سمجھا جاتاہے جو لوگوں کے درمیان عام سوجھ بوجھ پیدا کرنے سے متعلق ہیں۔

مینجمنٹ کے ماہرین نے کچھ تعریفیں بیان کی ہیں جو باکس میں پیش کی گئی ہیں۔

درج بالا تعریفوں کے عمیق جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ ترسیل سے دو یا زیادہ افراد کے درمیان معلومات کے تبادلے تاکہ یہ افراد ایک مشترکہ فہم (Common Understanding) پر پہنچ سکیں۔

ترسیلی عمل کے عناصر

ترسیل کی تعریف ایک عمل (Process) کے طورپر لی گئی ہے۔ اس عمل میں ذریعہ، پیغام بندی (Encoding)، میڈیا/ چینل، وصول کنندہ، کو ڈکشائی (decoding)، شور اور فیڈبیک یا جوابی عمل شامل ہے۔اس عمل کو ذیل میں دیے گئے گراف میں سمجھایا گیاہے۔

ترسیلی عمل میں وہ عناصر شامل ہیں جن کی وضاحت درج ذیل ہے:

(i)  مرسل(Sender): مرسل کا مطلب وہ فرد ہے جو اپنے خیالات یا نظریات وصول کنندہ کو بھیجتا ہے۔ مرسل ترسیل کا وسیلہ ہے۔

(ii)  پیغام: یہ نظریات، احساسات، تجاویز، حکم وغیرہ کا وہ مواد ہے جس کے ترسیل کیے جانے کا ارادہ ہوتا ہے۔

(iii)  پیغام بندی: یہ کسی پیغام کو الفاظ تصاویر، اشارات (حرکات و سکنات) وغیرہ جیسی ترسیلی علامات میں منتقل کرنے کا عمل ہے۔

(iv)  میڈیا: یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعہ پیغام بند پیغام کو وصول کنندہ (Receiver)کے پاس بھیجا جاتاہے۔ چینل تحریری شکل ، آمنے سامنے، فون کال، انٹرنیٹ وغیرہ کی شکل میں ہوسکتا ہے۔

(v)  کوڈکشائی: یہ مرسل کی پیغام بند علامتوں کو منتقل کرنے کا عمل ہے۔

(vi)  وصول کنندہ: فرد جو مرسل کی ترسیل کو وصول کرتا ہے۔

(vii)  جوابی عمل(Feed back): اس میں وصول کنندہ کے وہ سبھی ایکشن شامل ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اس نے مرسل کے پیغام کو وصول کرلیا ہے اور سمجھ لیا ہے۔

(viii)  شور: شور کا مطلب ہے ترسیل میں کچھ خلل یا رکاوٹ۔ یہ رکاوٹ پیغام کے مرسل یا وصول کنندہ کے ساتھ واقع ہوسکتی ہے۔ شور کی کچھ مثالیں ہیں:

(a)   مبہم علامتیں جس سے پیغام بندی ناقص ہوجائے

(b)  کمزور ٹیلی فون کنکشن

(c)  غیر متوجہ یا غافل وصول کنندہ

(d)  ناقص کوڈ کشائی (پیغام کے لیے غلط معنی منسلک ہونا۔

(e)  ایسے نقصان دہ تعصبات جو سمجھنے میں رکاوٹ بنیں۔

(f)  ایسے حرکات و سکنات جو پیغام کو خراب کردیں۔

ترسیل کی اہمیت

ترسیل مینجمنٹ سرگرمیوں کا ایک نہایت بنیادی پہلو ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا کہ کوئی منیجر ترسیل کرنے، پڑھنے، لکھنے، سننے، رہنمائی کرنے، ہدایت دینے، منظوری دینے، سرزنش کرنے وغیرہ میں اپنا 90 فی صد وقت خرچ کرتا ہے۔

منیجر کی موثریت بڑی حد تک اپنے اعلیٰ افسروں، ماتحتوں، بینک کاروں، سپلائروں، یونین اور حکومتوں جیسی بیرونی ایجنسیوں کے ساتھ موثر طور پر ترسیل کرنے کی اس کی اہلیت پر منحصر ہے۔

امریکن مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے ایک سابق صدر نے ایک بار مشاہدہ کیا تھا کہ آج کل مینجمنٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ترسیل کا ہے۔ برنارڈ نے اسے کل اجتماعی سرگرمیوں کی بنیاد کہا ہے۔ ترسیل مینجمنٹ کے تمام کاموں کو خوش اسلوبی اور سہولت کے ساتھ انجام دینے میں معاون ہے۔ مینجمنٹ میں ترسیل کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل سے کیا جاسکتاہے:

(i)  ترسیل، تال میل کی اساس ہے: ترسیل کا کام تال میل قائم کرنا ہے۔ یہ مختلف شعبوں، سرگرمیوں اور افراد کے درمیان تال میل بناتی ہے۔ تال میل، تنظیمی مقاصد، مقاصد کے حصول کے طریقۂ کار اور مختلف افراد کے درمیان باہمی رشتوں وغیرہ کی وضاحت سے وجود میں آتا ہے۔

(ii)  ترسیل، کسی انٹرپرائز کے کام کو بہتر طور پر چلانے میں مددگار ہوتی ہے: ترسیل کسی کاروباری ادارے کے سازگار اور آزادانہ کام کو ممکن بناتی ہے۔ یہ صرف ترسیل ہی ہے جو کاروباری مہم کے کام کو سازگار بنانا ممکن کرتی ہے۔تنظیم کے تمام امور کی انجام دہی ترسیل پر منحصر ہے۔ منیجر کا کام یہ ہے کہ وہ تنظیم کے انسانی اور طبیعی عناصر کو ایک فعال اور مفید عملی اکائی میں تبدیل کردے تاکہ مشترکہ مقاصد حاصل ہوسکیں۔ یہ ترسیل ہی ہے جس سے انٹرپرائز کے کام خوش اسلوبی سے انجام پاجاتے ہیں۔ اول سے آخر تک کسی تنظیم کے وجود کی بنیاد ترسیل ہی ہے۔ جب ترسیل ختم ہوجاتی ہے تو تنظیم کی سرگرمی بھی ختم ہوجاتی ہے۔

(iii)  ترسیل، فیصلہ سازی کی اساس ہے: ترسیل فیصلہ سازی کے لیے ضروری معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں منیجروں کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ کوئی بامعنی فیصلہ کرسکیں۔ متعلقہ معلومات کی بنیاد پر کوئی شخص صحیح فیصلہ لے سکتا ہے۔

(iv)  ترسیل، مینجمنٹ کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے: مینجمنٹ کے جملہ کاموں کی تیزتر اور بہتر انجام دہی کے لیے، ترسیل بہت ضروری ہے۔ مینجمنٹ اہداف ومقاصد کی ترسیل کرتا ہے، ہدایات جاری کرتا ہے، لوگوں کو ذمے داریاں اور فرائض منصبی لوگوں کو سونپتا ہے اور ماتحتوں کے کاموں کی نگرانی کرتا ہے، ترسیل کا ان تمام کاموں کی انجام دہی میں اہم کردار ہے۔ یہ تنظیم کے تمام امور کی انجام دہی میں آسانیاں پیدا کرتی ہے اور تنظیمی کاموں کی کارکردگی کو بہتر اور موثر بناتی ہے۔

(v)  تعاون اور صنعتی امن کو فروغ دیتی ہے: ہر دور اندیش مینجمنٹ کا مقصد کاموں کی بہتر انجام دہی ہے۔ یہ صرف تبھی ممکن ہے جب فیکٹری میں صنعتی امن ہو اور مینجمنٹ اور ورکر کے درمیان باہمی تعاون ہو۔ دو طرفہ ترسیل مینجمنٹ اور ورکر کے درمیان تعاون اور حسن مفاہمت کو فروغ دیتی ہے۔

(vi)  موثر قیادت قائم کرتی ہے: ترسیل قیادت کی بنیاد ہے۔ موثر ترسیل ماتحتوں پر اثر انداز ہونے میں مددگار ہوتی ہے۔ لوگوں پر اثر انداز ہوتے وقت قائد کو اچھی ترسیلی مہارتوں کا حامل ہونا چاہیے۔

(vii) حوصلہ بڑھاتی ہے اور ترغیب و تحریک فراہم کرتی ہے: ترسیل کا ایک موثر نظام ماتحتوں کو ترغیب دینے، ان پر اثر انداز ہونے اور ان کو تسکین پہنچانے کا اہل بناناہے۔ اچھی ترسیل ورکرس کو کام کے مادی اور سماجی پہلو کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔یہ کسی صنعت میں اچھے انسانی رشتوں کو مزید بہتر بناتی ہے۔ ترسیل مینجمنٹ کی شرکتی اور جمہوری وضع کی بنیاد ہے۔ ترسیل ملازمین اور منیجروں کا حوصلہ بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔

رسمی اور غیر رسمی ترسیل (Formal and Infomal Communication) 

کسی تنظیم میں واقع ہونے والی ترسیل کو موٹے طور پر رسمی اور غیر رسمی ترسیل میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔

رسمی ترسیل

رسمی ترسیل کا بہائو تنظیم کے چارٹ میں وضع کیے گیے باضابطہ چینلوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ ترسیل ایک اعلیٰ عہدے دار اور ماتحت کے، ایک ماتحت اور اعلیٰ عہدے دار یا ایک ہی درجے کے ملازمین یا منیجروں کے درمیان واقع ہوسکتی ہے۔ ترسیل زبانی یا تحریری ہوسکتی ہے لیکن عام طور پر یہ دفتر میں درج کی جاتی ہے اور اسے فائل کیا جاتاہے۔

رسمی ترسیل کو مزید عمودی اور افقی میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔

ssssss

معکوس

آزاد بہاو

دائرہ

پہہیہ

زنجیر

ترسیلی نیٹ ورک


عمودی ترسیل کا بہائو رسمی چینلوں کے ذریعہ عمودی یعنی اوپر کی جانب یا نیچے کی جانب ہوتا ہے۔ اوپر کی جانب ترسیل ماتحت سے اعلیٰ عہدے دار کی طرف ہوتی ہے جب کہ نچلی جانب ترسیل اعلیٰ عہدے دار سے ماتحت کی طرف ہوتی ہے۔ اوپر کی جانب ترسیل کی مثالیں ہیں: چھٹی کی منظوری کے لیے درخواست، پروگریس رپورٹ جمع کرنا، مالی امداد کے لیے درخواست۔ اسی طرح نچلی جانب ترسیل کی مثالیں ہیں:

ملازمین کو میٹنگ کے لیے نوٹس بھیجنا، کسی مفوضہ کام کو پورا کرنے کے لیے ماتحتوں کو حکم دینا، اعلیٰ مینجمنٹ کے ذریعے وضع کیے گیے رہنما اصولوں کو ماتحتوں وغیرہ تک پہنچانا۔

افقی یا جانبی ترسیل (Horizental or Lateral Communication) تنظیم کے مختلف شعبوں کے درمیان واقع ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک پروڈکشن منیجر، مارکیٹنگ منیجر سے کسی پروڈکٹ کی نکاسی، اس کے ڈیزائن یا اس کے معیار وغیرہ کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے رابطہ قائم کرسکتا ہے۔

جس پیٹرن پر کسی تنظیم میں ترسیل کام کرتی ہے اسے عام طور پر ترسیلی نیٹ ورک کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ کسی ترسیلی نیٹ ورک کی مختلف اقسام ہو سکتی ہیں ۔ اوپر دی گئی شکل میں کچھ ترسیلی نیٹ ورک پیش کیے گئے ہیں جن پر ذیل میں بحث کی گئی ہے۔

 (i)  تنہا زنجیر: یہ نیٹ ورک سپروائزر اور اس کے ماتحتوں کے درمیان موجودہوتا ہے۔ چوں کہ کسی تنظیمی ساخت میں مختلف سطحیں موجود ہوتی ہیں اس لیے ترسیل تنہا زنجیر کے ذریعے پر اعلیٰ عہدے دار سے اپنے ماتحت کی طرف بہتی ہے۔

(ii)  پہیّہ: پہیہ نیٹ ورک میں سبھی ماتحت صرف ایک اعلیٰ عہدے دار کے ذریعہ ترسیل کرتے ہیں کیوںکہ وہ پہیے کے ایک دُھرے یا مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ ماتحتوں کو آپس میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

(iii)  دائری: دائری نیٹ ورک میں ترسیل ایک دائرے میں حرکت کرتی ہے۔ ہر شخص دو افراد کو ملاتے ہوئے اس کے ساتھ ترسیل کرسکتاہے۔ اس نیٹ ورک میں بہاو دھیما ہوتاہے۔

(iv)  آزاد بہاو (Free Flow): اس نیٹ ورک میں ہر شخص دوسروں کے ساتھ آزادانہ ترسیل کرسکتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ترسیل کا بہاو تیز ہوتاہے۔

(v)  معکوس V: اس نیٹ ورک میں ایک ماتحت کو اپنے قریبی باس کے ساتھ اور باس کے باس کے ساتھ بھی ترسیل کی اجازت ہوتی ہے۔ تاہم آخری صورت میں صرف مجوزہ ترسیل ہوسکتی ہے۔

غیر رسمی ترسیل

ترسیل کے رسمی خطوط کی پابندی کیے بغیر جو ترسیل ہوتی ہے اسے غیر رسمی ترسیل کہا جاسکتاہے۔ ترسیل کے نظام معلومات کو انگور کی بیل (grapevine)کے طور پر جانا جاتاہے کیوں کہ یہ پوری تنظیم میں اپنی شاخوں کے ساتھ حکام کی سطحوں سے قطع نظر ہر سمت میں پھیلتی ہے۔ 

غیر رسمی ترسیل ملازمین کے تبادلہ خیالات کی ضرورتوں کے سبب پیدا ہوتی ہے جو رسمی چینلوں کے ذریعے انجام نہیں دی جاسکتی۔ ورکرس کینٹین میں اپنے سپیریر کے برتائو کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں، کچھ افواہوں کے بارے میں بات کرتے ہیں مثلاً یہ کہ فلاں فلاں ملازم کا تبادلہ ہوسکتا ہے وغیرہ، غیر رسمی ترسیل کی یہ کچھ مثالیں ہیں۔ انگور کی بیل یعنی غیر رسمی ترسیل تیزی سے پھیلتی ہے اور کبھی کبھی اس میں تحریف ہوجاتی ہے ۔

اس طرح کی ترسیل کے ذریعے مخرج (Source) کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔ اس قسم کی ترسیل سے افواہیں بھی پیدا ہوتی ہیں جو مستند نہیں ہوتیں۔ افواہوں اور غیر رسمی بات چیت سے لوگوں کے رویّے متاثر ہوتے ہیں اور کبھی کبھی کام کے ماحول میں خلل انگیز ثابت ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی گریپ وائن چینل مددگار بھی ہوسکتے ہیں کیوں کہ یہ تیزی کے ساتھ معلومات پہنچاتے ہیں جو کبھی کبھی منیجر کے لیے مفید ہوتی ہے۔غیررسمی چینلوں کا استعمال منیجروں کے ذریعے ترسیل کرنے کے لیے کیا جاتاہے، اس طرح وہ اپنے ماتحتوں کے ردِ عمل کو جان سکتے ہیں۔ ذہین منیجروں کو غیر رسمی چینلوں کے مثبت پہلوؤں کا استعمال اور ترسیل کے اس چینل کے منفی پہلوؤں کو کم سے کم کرنا چاہیے۔

گریپ وائن ذرائع نیٹ ورک 

(Grapevine Network)

گریپ وائن ترسیل کے مختلف نیٹ ورک ہوسکتے ہیں۔ ان میں کچھ نیٹ ورک نیچے دی گئی شکل میں دکھائے گئے ہیں۔

تنہا لڑی دار نیٹ ورک (Single Trand Network) میں ہر شخص ایک معین ترتیب میں ایک دوسرے کے ساتھ ترسیل کرتا ہے۔ گپ شپ نٹ ورک (Gossip Network) میں ہر شخص ہر ایک کے ساتھ کسی موضوع گفتگو کو منتخب کیے بغیر ترسیل کرتا ہے۔ احتمالی نیٹ ورک (Probability Network) میں فرد دیگر فرد کے ساتھ یوں ہی (بے سوچے سمجھے) ترسیل کرتا ہے۔ کلسٹر میں فرد صرف ان چار قسم کے نیٹ ورک کے انھیں لوگوں کے ساتھ ترسیل کرتا ہے جن پر وہ بھروسہ کرتا ہے۔ کلسٹر تنظیم میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔

ترسیل میں رکاوٹیں

 عام طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ترسیل کے بگڑ جانے یا رکاوٹوں کے سبب منیجروں کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رکاوٹیں ترسیل کو روک سکتی ہیں۔ یا اس کے کچھ حصوں میں کتربیونت کرسکتی ہیں یا غلط فہمی پیدا ہونے کے سبب نا درست معنی نکالے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا منیجر کے لیے یہ اہم ہے کہ ایسی رکاوٹوں کی شناخت کرکے ان پر قابو پانے کے اقدامات کرے۔

تنظیم میں ان رکاوٹوں کو موٹے طور پر معنیاتی (Semantic) رکاوٹوں، نفسیاتی رکاوٹوں، تنظیمی رکاوٹوں اور ذاتی رکاوٹوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں ان پر مختصراً بحث کی گئی ہے۔

معنیاتی رکاوٹیں: معنیات لسانیات کی ایک شاخ ہے جس میں الفاظ اور جملوں کے معنی سے بحث کی جاتی ہے۔ معنیاتی رکاوٹیں الفاظ کی پیغام بندی (Encoding) اور پھر ان کی پیغام کشائی (Decoding) کے عمل میں پیدا ہونے والے مسائل اور رکاوٹوں سے متعلق ہیں۔ عام طور پر ایسی رکاوٹیں غلط الفاظ یا ناقص ترجمے، یامتضاد تشریحات وغیرہ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ ذیل میں ان پر بات کی گئی ہے۔

(i)  پیغامات کا نادرست اظہار: کبھی کبھی منیجر معنی مقصود اپنے ماتحتوں کو نہیں پہنچا پاتے۔ پیغامات کا غلط اظہار ناکافی ذخیرۂ الفاظ، الفاظ کے غلط استعمال، ضروری الفاظ کے حذف اور غیر ضروری الفاظ کے اضافے کے سبب ہوتا ہے۔

 (ii)  الفاظ کے مختلف معانی: ایک لفظ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ وصول کنندہ کو مرسل کے ذریعہ استعمال کیے گئے ایسے ہی معنی کو سمجھنا ہوتا ہے۔ مثال کے لیے ان تین جملوں پر غور کریں جہاں لفظ، قدر، کا استعمال کیا گیاہے۔

    (a)  اس انگوٹھی کی قدر کیا ہے؟(قیمت)

   (b)   میں اپنی دوستی کی قدر کرتا ہوں۔

   (c)   کمپیوٹر سیکھنے کی کیا قدر ہے؟

آپ پائیں گے کہ مختلف سیاق میں ’قدر‘ کے الگ الگ معنی ہیں۔ غلط تفہیم ترسیلی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

(iii)  ناقص ترجمے: کبھی کبھی ترسیل کو اصلاً ایک زبان (جیسے انگریزی) میں تیار کیا جاتا ہے جسے ورکرس کی اپنی زبان (جیسے ہندی) میں ترجمہ کیا جاتاہے۔ اگر مترجم دونوں زبانوں میں ماہر نہیں ہے تو ترسیل میں مختلف معنی پیدا ہوسکتے ہیں۔

(iv)  غیر واضح مفروضات: ترسیل کے مختلف مفروضات ہوسکتے ہیں جن کی مختلف تشریحات ہوسکتی ہیں۔ مثال کے لیے ایک باس اپنے ماتحت کو ہدایت دے سکتا ہے کہ ہمارے مہمان کا خیال رکھیں۔‘‘ باس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جب تک مہمان رہے ماتحت اس کی آمدورفت، غذااور رہائش وغیرہ کا خیال رکھے۔ ماتحت اس کی توضیح یہ کرسکتا ہے کہ مہمان کو پوری دیکھ بھال کے ساتھ ہوٹل لے جانا چاہیے۔ درحقیقت مہمان ان غیر واضح مفروضات کے سبب پریشانی میں پڑ سکتا ہے۔


nnnnn

کلٹر نیٹ ورک

امکانی نیٹ ورک

آزادانہ نیٹ ورک

واحد قائمہ نیٹ ورک

گروپ وائن ترسیلی نیٹ ورک


mmmmm

ترسیلی گروپ


(v)تکنیکی زبان: عام طور پر دیکھا گیا کہ ماہرین تکنیکی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ افراد جو متعلقہ میدان میں مہارت نہیں رکھتے کہ ایسے بہت سے الفاظ کے حقیقی معنی نہیں سمجھ پاتے۔

(vi)  جسمانی حرکات و سکنات کی کوڈ کشائی (Decoding): جسم کی ہر نقل و حرکت کچھ معنی کی ترسیل کرتی ہے۔ مرسل کی جسمانی نقل و حرکت اور اشارات پیغام کو پہنچانے میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جو کچھ زبان سے کہا گیا ہے اور جو کچھ جسمانی حرکات واشارات سے معلوم ہوا ہے ان سے معلوم ہوا ہے ان میں یکسانیت نہیں ہے تو پیغام کامطلب غلط بھی سمجھا جاتاہے۔

نفسیاتی رکاوٹیں (Psychological Barriers) : جذباتی یا نفسیاتی عوامل پیغام بھیجنے والوں کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مثال کے لیے ایک فکر مند شخص ٹھیک سے ترسیل نہیں کرسکتا اور ایک غصے میں مبتلا وصول کنندہ پیغام کے حقیقی معنی کو نہیں سمجھ سکتا۔ ترسیل کے مرسل اور وصول کنندہ دونوں کی ذہنی کیفیت موثر ترسیل میں ظاہر ہوجاتی ہے۔ کچھ نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔:

(i)  قبل از وقت معنی کا تعین: کبھی کبھی لوگ مرسل کے اپنے پیغام کو مکمل ہونے سے پہلے پیغام کے معنی کا اندازہ لگاتے ہیں۔ معنی کا اس طرح عاجلانہ تعین ترسیل کے خلاف میلان خاطر کے سبب ہوسکتا ہے۔

(ii)  توجہ کی کمی: وصول کنندہ کے غائب دماغ ہونا اور نتیجتاً پیغام کو ڈھنگ سے نہ سننا بھی ایک بہت بڑی نفسیاتی رکاوٹ ہے۔ مثال کے لیے ایک ملازم باس سے اپنے کچھ مسائل کا اظہار کرتا ہے ۔باس ایک فائل میں منہمک ہے۔ باس پیغام کو نہیں سمجھ پاتا اور ملازم مایوس ہوتا ہے۔

(iii)  ابلاغ کی کمی اور کمزور قوت حافظہ: جب ترسیل مختلف سطحوں کے ذریعے گزرتی ہے تو پیغام کا نتیجہ نادرست معلومات کی ترسیل ہوتا ہے۔ زبانی ترسیل میں ایسا زیادہ ہوسکتا ہے۔ کمزور قوتِ حافظہ ایک اور مسئلہ ہے۔ عام طور پر لوگ اگر غافل ہیں یا توجہ نہیں دے رہے ہیں یا دلچسپی نہیں لے رہے ہیں تو ایک لمبے عرصے تک معلومات کو یاد نہیں رکھ سکتے۔

(iv)  بے اعتمادی: مرسل اور وصول کنندہ کے درمیان بے اعتمادی بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ اگر فریقین ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے تب وہ اصل مفہوم میں ایک دوسرے کے پیغام کو نہیں سمجھ سکتے۔

تنظیمی رکاوٹیں (Organisational Barriers): تنظیم کی ساخت، حکام کے رشتے، قواعد و ضوابط سے متعلق عوام کبھی کبھی موثر ترسیل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان میں سے کچھ رکاوٹیں درج ذیل ہیں:

(i) تنظیمی پالیسی: اگر تنظیمی پالیسی صراحتاً یا کنایتہ ترسیل کے آزادانہ بہائو کے لیے معاون نہ ہو تو یہ ترسیل کی اثر انگیزی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مثال کے لیے کسی ایسی تنظیم میں جس کا مضبوط مرکزی نظام ہو، ممکن ہو لوگوں کو آزادانہ ترسیل کی آزادی حاصل ہو۔

(ii)  قواعد و ضوابط: سخت قواعدوضوابط اور بے تکا طریقۂ کار بھی ترسیل کے لیے رکاوٹ ہوتا ہے۔ اسی طرح مجوزہ چینل کے ذریعے ترسیل بھی تاخیر کا سبب بنتی ہے۔

(iii)  حیثیت: اعلیٰ عہدے دار کی حیثیت اس کے اور اس کے ماتحتوں کے درمیان نفسیاتی دوری پیدا کرسکتی ہے۔ عہدے کا احساس رکھنے والا منیجر اپنے ماتحتوں کو ان کے احساسات کے آزادانہ اظہار کی اجازت نہیں دے سکتا۔

(iv)  تنظیمی ساخت میں پیچیدگی: کسی تنظیم میں جہاں مینجمنٹ کی متعدد سطحیں ہوتی ہیں، ترسیل میں تاخیر ہوسکتی ہے کیوں کہ پیغامات کی چھان پھٹک کئی جگہ ہونے سے خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔

(v)  تنظیمی سہولیات: اگر صاف ستھری، واضح اور بروقت ترسیل کی سہولت نہیں فراہم کی گئی تو ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ بار بار میٹنگوں کا انعقاد، صندوق تجاویز اور صندوق شکایات کا اہتمام، سماجی وثقافتی اجتماع اور کام میں شفافیت پیدا کرنے جیسی سہولیات ترسیل کے آزادانہ بہاو کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ان سہولیات کی کمی کے سبب ترسیلی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ذاتی بندشیں (Personal Barriers): مرسل اور وصول کنندہ دونوں کے ذاتی عوامل موثر ترسیل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اعلیٰ عہدے داروں اور ماتحتوں کی کچھ ذاتی رکاوٹیں درج ذیل ہیں:

(i)  حکام کو چیلنج کا خوف:اگر کوئی اعلیٰ عہدے دار یہ سمجھتا ہے کہ فلاں ترسیل اس کے اقتدار پر خراب اثر ڈال سکتی ہے تو وہ اس ترسیل کو روک سکتا ہے۔

(ii)  اعلیٰ عہدے دار کا اپنے ماتحتوں پر بھروسہ نہ ہونا: اگر اعلیٰ عہدے دار کو اپنے ماتحتوں کی اہلیت پر اعتماد نہیں ہے تو وہ ان کی صلاح یا رائے نہیں حاصل کرنا چاہے گا۔

(iv)  ترسیل کی عدم دلچسپی:کبھی کبھی ماتحت اپنے اعلیٰ افسروں کے ساتھ ترسیل کے لیے آمادہ نہیں ہوپاتے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب انھیں لگتا ہے کہ اس سے ان کے مفادات پر خراب اثر پڑسکتا ہے۔

(v)  موزوں ترغیبات کی کمی: اگر ترسیل کے لیے کوئی ترغیب یا تحریک نہیں ہے تو ماتحت ترسیل کے لیے پہل نہیں کریں گے۔ مثال کے لیے اگر اچھی تجویز کے لیے کوئی صلہ یا ستائش نہیں ہے تو ماتحت مفید تجاویز دینے میں تامل کرسکتے ہیں۔

ترسیلی اثر انگیزی کو بہتر بنانا (Improving 

 (Communication Effectiveness)

موثر ترسیل میں رکاوٹیں سبھی تنظیموں میں کسی نہ کسی درجے میں موجود ہوتی ہیں۔جو تنظیمیں موثر ترسیل کو فروغ دینا چاہتی ہیں انھیں رکاوٹوں پر قابو پانے اور ترسیل کو موثر بنانے کے لیے موزوں اقدامات کرنے چاہئیں۔ ایسے ہی کچھ اقدامات درج ذیل ہیں:

(i)  ترسیل سے قبل نظریات کی وضاحت: جن مسائل کی ترسیل ماتحتوں کو کی جانی ہے وہ ہر لحاظ سے خود ایگزیکیٹو پر واضح ہونے ضروری ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پورے مسئلے کا گہرائی سے مطالعہ و تجزیہ کیا جائے اور اس طرح بیان کیا جائے کہ ماتحتوں تک بالکل واضح شکل میں بات پہنچے۔

(ii)  ترسیل وصول کنندہ کی ضرورتوں کے مطابق ہونی چاہیے: وصول کنندہ کے فہم وادراک کی سطح مرسل کے لیے بالکل واضح ہونی چاہیے۔ منیجر کو اپنے ماتحتوں کی تعلیم اور ان کے فہم وشعور کے مطابق ہی ترسیل کرنی چاہیے۔

(iii)  ترسیل کیے جانے سے پہلے دوسروں سے مشورہ: پیغام کی اصل ترسیل سے پہلے، یہ بہتر ہے کہ ترسیل کے لیے منصوبہ فروغ دینے میں دوسروں کو شامل کیا جائے۔ ماتحتوں کی شرکت اور قبولیت کے لیے ان کی آمادگی مددگار ہوسکتی ہے۔

(iv)  پیغام کی زبان، لہجے اور مواد کے بارے میں بیداری: پیغام کا مضمون، لب ولہجہ اور زبان موثر ترسیل کے اہم پہلو ہیں۔ زبان وصول کنندہ کے لیے قابل فہم ہونی چاہیے اور سننے والوں کے جذبات کو چوٹ پہنچانے والی نہیں ہونی چاہیے۔ پیغام ایسا ہونا چاہیے جو سننے والوں پر اثر کرے اور وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

(v)  بھیجا جانے والا مواد سامعین کے لیے مفید اور قدروقیمت کا حامل ہونا چاہیے: دوسروں کو پیغام دیتے وقت ان لوگوں کے مفادات اور ضرورتوں کو بھی جاننا ضروری ہے جن کو پیغام بھیجا جارہا ہے۔ اگر پیغام ایسے مفادات اور ضرورتوں سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر متعلق ہوں تو ترسیل یقینی طور پراچھے نتائج پیدا کرے گی۔

(vi)  مناسب جوابی عمل کو یقینی بنائیں (Ensune proper feed back) : ایک مرسل، بھیجے گئے پیغامات سے متعلق سوالات پوچھ کر، ترسیل کی کامیابی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ پیغام حاصل کرنے والے کی بھی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ بھیجے گئے پیغام پر اپنا بہتر ردّ عمل ظاہر کرے۔ پیغام پانے والے کی طرف سے ملنے والا جواب ترسیل کے بہتر عمل کا ضامن ہے۔

 (vii)  حال اور ساتھ ہی مستقبل کے لیے ترسیل: عام طور پر ترسیل کی ضرورت موجودہ ذمے داریوں کو پورا کرنے اور اپنے قول وقرار پر استقامت کے ساتھ کام کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ترسیل کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ کاروبار             کے اغراض ومقاصد کو فروغ حاصل ہو۔

(viii)  ترسیل کی تعقیب (Follow up): ماتحتوں کو دی گئی ہدایات کی با ضابطہ تعقیب اور اس کا پابندی سے جائزہ لینا چاہیے۔ ایسے اقدامات ہدایات کے اطلاق میں رکاوٹ کو دور کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

(ix)  اچھے سامعین بنیں: منیجر کو اچھا سامع ہونا چاہیے۔ صبر و تحمل کے ساتھ توجہ کے ساتھ بات سننے سے آدھے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ منیجروں کو اپنے ماتحتوں کی بات سننے میں بھی دلچسپی ظاہر کرنی چاہیے۔

کلیدی اصطلاحات

ہدایت کاری (Dierecting)                          • ترسیل (Communication) 
 نگرانی (Supervision)                              • پیغام بندی (Encoding)  محرکات (Motives)
پیغام کشائی (Decoding)                             • ترغیبات (Incentives/Motivators)
باز رسی/فیڈبیک (Feedback)                        • خود شناسی(Self-Actualization)  
معنیات (Semanticism)                           • خود پسندانہ ضروریات (Efoistic Needs)
رسمی ترسیل (Formal Communication)       قیادت (Leadership)
غیر رسمی ترسیل (Informal Communication) 
نظریۂ صفات (Trait Approach)                   • منافع میں شرکت (Profit sharing)
مساوی شرکت (Copartnership)                   • کوالٹی دائرے (Quality Circles)
اسٹاک آپشن (Stock Option)

خلاصہ 

ہدایت کاری مینجمنٹ سے متعلق ایک پیچیدہ عمل ہے جو ان سبھی سرگرمیوں پر مشتمل ہے جو ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے وضع کی گئی ہیںتاکہ وہ موثر طور پر کام کریں۔ اس میں نگرانی، تحریک، ترسیل اور قیادت شامل ہے۔ موثر ہدایت کاری کے رہنما اصول کی درجہ بندی دو طرح کے اصولوں میں کی گئی ہے یعنی ایک وہ اصول جو مقصدِ ہدایت کاری سے متعلق ہے اور دوسرا وہ جو عملِ ہدایت کاری سے متعلق ہے۔
نگرانی: یہ ہدایت کا ایک عنصر ہے۔ یہ ایک عمل (Process) بھی ہے اور نگراں کے ذریعے انجام دیے جانے والے فنکشن (Functions) بھی۔۔ نگرانی کا کام بہت اہم ہے کیوں کہ یہ کام کی نگرانی اور رہنمائی سے جڑی ہوئی ہے اور اس سے یہ بات بھی یقینی ہوجاتی ہے کہ ورکر اور ملازمین اپنے اہداف کی تکمیل میں مصروف ہیں۔
ترغیب: ترغیب تنظیم میں لوگوں کو کام کرنے اور مطلوبہ مقاصد کی تکمیل کے لیے ابھارتی ہے۔ یہ کسی فرد کا اندرونی احساس ہے اور اس کا نتیجہ براہِ راست مقصدی برتاو کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ترغیب بطور خاص افراد کی ضرورتوں پر مبنی ہے۔ اس سے تنظیم کے افراد اور گروپ کی بہتر کارکردگی میں مدد ملتی ہے۔
منیجر مالی اور غیر مالی دونوں طرح کی ترغیبات پیش کرتا ہے۔ مالی ترغیبات روپیے پیسے کی شکل میں ہوتی ہیں۔ تنخواہ، بونس، منافع میں شرکت، پینشن وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔غیر مالی ترغیبات سماجی اور نفسیاتی سکون کا سامان بہم پہنچاتی ہیں۔ ان میں مقام و منزلت، عہدے میں ترقی، عہدے کی ذمے داری، ملازمت میں بہتری، عہدے کا اعتراف، نوکری کا تحفظ، ملازم کی اہم امور میں شرکت، نمائندگی اور اختیارات وغیرہ شامل ہیں۔ ترغیب کا ایک اہم نظریہ ماسلوکا ضرورت کی درجہ بندی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق جو ترغیب فراہم کی جاتی ہے وہ نوعیت کے اعتبار سے سلسلۂ مدارج میں ہوتی ہے۔ اس سلسلہ مدارج کو نفسیاتی ضرورتوں، حفاظتی ضرورتوں، سماجی ضرورتوں، خود پسندانہ ضرورتوں اور خودشناسی کی ضرورتوں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔ اس میں یہ مانا جاتاہے کہ ضرورت کی تکمیل بہت کم ترغیب پیدا کرتی ہے اور صرف اعلیٰ سطح کی ضرورت کسی فرد کو متحرک کرسکتی ہے۔ یہ نظریہ آج بھی برمحل ہے کیوں کہ اس میں ان ضرورتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ترغیب کے لیے بنیاد ہیں۔
قیادت: کسی کاروباری ادارے کے عمل میں قیادت نہایت اہم عامل ہے۔ یہ وہ عمل کاری ہے جو اجتماعی مقاصد کے لیے لوگوں کو رضا کارانہ طور پر محنت اور جدوجہد کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔اچھے قائد کی خوبیوں کی تحقیق بہت سے ماہرین نے کی ہے ۔ اچھے قائد کی بعض خوبیوں میں ہمت، قوت ارادی، فیصلہ، علم ، دیانت داری، جسمانی توانائی ، سا لمیت، اخلاقی خوبیاں، منصفانہ خوبیاں، قوت حیات، قطعیت، سماجی مہارتیں وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن یہ سبھی خوبیاں ایک فرد میں موجودنہیں ہوسکتیں اور نہ ہی ہمیشہ اُس کی کامیابی میں مدد کرتی ہیں۔
ترسیل: افرادکے درمیان نظریات یا خیالات کے تبادلے اور تفہیم کا عمل ہے۔ ترسیلی عمل میں ذریعۂ عناصر، پیغام بندی، چینل، وصول کنندہ، پیغام کشائی اور جوابی عمل شامل ہے۔تنظیموں میں رسمی اور غیر رسمی ترسیل ساتھ ساتھ بھی ہوسکتی ہے۔ رسمی ترسیل میں تمام احکامات میمو، اپیلیں، نوٹ، سرکلر (گشتی چٹھی)، ایجنڈے، روداد وغیرہ شامل ہیں۔ رسمی ترسیل کے علاوہ غیر رسمی یاگریپ وائین ترسیل بھی ہوتی ہے۔غیر رسمی ترسیل عام طور پر افواہوں، کانا پھوسی وغیرہ کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ غیر دفتری، بے ساختہ، غیر اندراجی ہوتی ہیں اور بہت تیز پھیلتی ہیں اور عام طور پر مسخ شدہ شکل میں ہوتی ہیں۔ ایک منیجر کو غیر رسمی ترسیل کے ساتھ بھی تطابق کرنا سیکھنا چاہیے۔تنظیموں میں موثر ترسیلوں کے لیے متعدد رکاوٹیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے کچھ رکاوٹوں میں معنیاتی رکاوٹیں، تنظیمی رکاوٹیں، زبان سے متعلق رکاوٹیں، ترسیل سے متعلق رکاوٹیں، نفسیاتی رکاوٹیں اور ذاتی رکاوٹیں شامل ہیں۔ منیجر کو ان رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں اور تنظیم میں موثر ترسیل کو فروغ دینا چاہیے۔

مشق 

متبادل جواب والے سوالات

1۔  درج ذیل میں کون سا ہدایت کا عنصر نہیں ہے؟

    (a)  ترغیب                (b) ترسیل

   (c)   وفد                   (d) نگرانی

2۔  سلسلۂ مدارج میں ضرورتوں کی درجہ بندی کرنے والے نظریۂ ترغیب کو کس نے فروغ دیاہے؟

    (a)  فریڈ لوتھن         (b)  اسکاٹ

    (c)  ابراہم ماسلو        (d)  پیٹر ایف ڈرکر

3۔  درج ذیل میں کون سی مالی ترغیب ہے؟

    (a)  ترقی             (b) حصص سے متعلق ترغیب

   (c)  نوکری کا تحفظ    (d)  ملازم کی شرکت

4۔  درج ذیل میں کون سا ترسیلی عمل کا عنصر نہیں ہے؟

    (a)  پیغام کشائی      (b) ترسیل

    (c)  چینل           (d)  وصول کنندہ

5۔  گریپ وائن (انگور کی بیل) ہے۔

    (a) رسمی ترسیل

   (b)     ترسیل کے لیے رکاوٹ

   (c)     جانبی ترسیل

   (d)    غیر رسمی ترسیل

6۔  مقام ومنزلت (Status) رکاوٹوں کی درج ذیل قسموں میں سے کس کے تحت آتی ہے؟

    (a)  معنیاتی رکاوٹ          (b) تنظیمی رکاوٹ

    (c)  غیر معنیاتی رکاوٹ     (d)   نفسیاتی رکاوٹ

7۔  نارائین مورتی نے کس سافٹ ویئر کمپنی کو فروغ دیا تھا؟

    (a)  وِپرو          (b) انفوسس

   (c)  ستیم           (d)      ایچ۔ سی ایل

8۔  ابراہم ماسلو کی درجہ بندی کی ضرورت میں اعلیٰ سطح کی ضرورت کون سی ہے؟

    (a)   حفاظتی ضرورت

   (b)   ضرورت وابستگی

   (c)  خود شناسی کی ضرورت

   (d)  وقار حاصل کرنے کی ضرورت

9۔  پیغام کو ترسیلی علامات میں منتقل کرنے کے عمل کو جاناجاتاہے۔

    (a) میڈیا (b) پیغام بندی

   (c) جوابی عمل (d) پیغام کشائی

10۔  ترسیلی نیٹ ورک ہے جس میں ایک نگراں کے سبھی ماتحت صرف نگراں کے ذریعہ ترسیل کرتے ہیں :

   (a)  واحد زنجیر (b) معکوسV

   (c)  پہیہ          (d) آزادانہ بہائو

مختصر جوابی سوالات

1۔  قائد اور منیجروں کے درمیان امتیاز کیجیے۔

2۔  ترغیب کی تعریف کیجیے۔

3۔  غیر رسمی ترسیل کیا ہے؟

4۔  ترسیل کی معنیاتی رکاوٹیں کیا ہیں؟

5۔  سپروائزر کون ہوتا ہے؟

6۔  ہدایت کاری کے عناصر کیا ہیں؟

7۔  ترغیب کے عمل کی وضاحت کیجیے۔

8۔  گریپ وائین ترسیل کے مختلف نیٹ ورک کی وضاحت کیجیے۔

طویل جوابی سوالات

1۔  ہدایت کاری کے اصولوں کی وضاحت کیجیے۔

2۔  اچھے رہنما کی خوبیوں کی وضاحت کیجیے۔ کیا صرف خوبیاں ہی قیادت کی کامیابی کو یقینی بناسکتی ہیں؟

3۔  ماسلوکی ترغیب کی ضرورت کی درجہ بندی کے نظریے پر بحث کیجیے۔

4۔  موثر ترسیل کی عام رکاوٹیں کیا ہیں؟ ان پر قابو پانے کے لیے اقدامات تجویز کیجیے۔

5۔  کمپنی کے ملازمین کو فعال بنانے کے لیے مختلف مالی اور غیر مالی ترغیبات کی وضاحت کیجیے۔

اطلاقی نوعیت کے سوالات

1۔  ورکرس کو جب کوئی نیا کام دیا جاتاہے تو وہ اس کو کرنے میں ہمیشہ اپنی نا اہلیت دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کسی قسم کے کام کی ذمے داری لینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ مانگ میں اچانک اضافے کے سبب فرم زائد آرڈر کی تعمیل چاہتی ہے۔ سپروائزر کو اس صورت حال پر قابو پانا مشکل ہوجاتاہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سپروائزر کو طریقے بتائیے۔

2۔   ایک فیکٹری کے ورکرس اکثر پروڈکشن منیجروں کی رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پروڈکشن منیجر خود پر کافی بوجھ محسوس کرتا ہے۔ ان طریقوں کی صلاح دیجیے جس سے پروڈکشن منیجر کو راحت مل سکے۔

3۔  ایک تنظیم میں ملازمین ہمیشہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ دبائو میں ہیں۔ وہ کسی معاملے میں پہل بھی نہیں کر پاتے ااور منیجر کے سامنے اپنے مسائل کو ظاہر کرنے سے ڈرتے بھی ہیں۔ آپ کے خیال میں اس میں منیجر کی کیا غلطی ہے؟

4۔  ایک تنظیم میں ملازمین آزادانہ کام کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے سوالوں اور مسائل کے لیے کسی کے بھی پاس آزادانہ جاسکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب آپس میں بے تکلف ہوگئے اور دفتر میں نتیجتاً نااہلی کا مظاہرہ ہونے لگا۔ اس سے رازداری پر خراب اثر پڑا اور خفیہ معلومات افشا ہونے لگیں۔ آپ کے خیال میں منیجر کو ترسیل بہتر بنانے کے لیے کیا قدم اٹھانا چاہیے۔

پروجیکٹ  کا کام

پروجیکٹ ورک اوراسائن مینٹ (Project Work and Assignment)

1۔  استاد پانچ طلبا کا انتخاب کرکے ان کا ایک گروپ بنائے گا اور ان میں سے ایک طالب علم کو جج بنائے گا۔ گروپ کا ہر طالب علم کسی نہ کسی موضوع پر دس جملے لکھے گا۔ ہرطالب عِلم اس تقریر کو بغور سنے گا۔ آخر میں پانچوں تقریروں میں سے پانچ سوالات پوچھے گا۔ ہر صحیح سوال کے دو نمبر ہوں گے، اس مشق سے طلبا میں سننے کی صلاحیت کو فروغ ملے گا۔

2۔  اپنی کلاس کے ساتھیوں کے بارے میں ایک سروے کیجیے اور ان سے پوچھیے کہ درج ذیل کے بارے میں ان کے محرکات (Motives) کیا تھے:

   (i)  اسکول میں داخلہ لینا

  (ii)  مطالعہ کے کورس کا انتخاب کرنا

 (iii)  قلم کا کوئی برانڈ خریدنا

 (iv)  فلم دیکھنے جانا

 (v)  ٹی وی چینل کے پروگرام دیکھنا

مندرجہ بالا میں سے ہر ایک کے لیے زیادہ تر طلبا میں کون سی تحریک/ ترغیب مشترک تھی۔

3۔  ترسیل کی رکاوٹوں کی شناخت کیجیے۔

  (i) آپ اور آپ کے ٹیچر کے درمیان

 (ii)   آپ اور آپ کے دوست کے درمیان

 (iii)  آپ اور آپ کے بھائی بہن کے درمیان

ان رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کی تجویز پیش کیجیے۔ کیا یہ اسی طرح کے اقدمات ہیں جیسا کہ منیجروں کے ذریعہ انجام دیے جائیں گے؟

4۔  ایسے دس لوگوں سے ملاقات کیجیے جنھوں نے حال میں درج ذیل اشیاخریدی ہیں۔

  (i)   ڈیٹرجنٹ صابن

  (ii)  فیرنیس کریم

 (iii)  موٹر بائیک

معلوم کیجیے کہ ان اشیا کے خریدنے میں کیا محرکات تھے۔ ان محرکات کو اپنے کلاس روم میں پیش کیجیے۔

واقعاتی مسئلہ

Y لمیٹڈ ہندوستان میں بینک کا کام کرنے والی کمپنی ہے۔ وہ بیمے کے کاروبار میں سرمایہ لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حال ہی میں حکومت ہند نے نجی سیکٹر کو بھی بیمہ کاروبار میں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے۔ پہلے بیمہ کاروبار انجام دینے کا خصوصی اختیار صرف LICاور GIC کا تھا لیکن اب معیشت میں نرمی پیدا کرنے اور اس سے ان کو دیگر کمپنیوں کے ساتھ مسابقتی بنانے کے ساتھ انشورنس ریگولیٹری اور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ضوابط کے تحت بیمہ کاروبار شروع کرنے کا لائسنس دیاگیاہے۔

Yلمیٹڈ کا منصوبہ یہ ہے کہ اعلیٰ درجے کے ملازمین اور ایجنسیوں کی بھرتی کی جائے اور لائف اور نان لائف انشورنس کاروبار کے کافی بڑے حصے کو گرفت میں لینے کے لیے موثر ہدایت کاری پر عمل کیا جائے۔

سوالات

1۔  شناخت کیجیے کہ کمپنی اپنے ملازمین اور ایجنسیوں کی نگرانی کس طرح موثر طور پر کرسکتی ہے۔ موثر نگرانی سے کمپنی کیا فوائد حاصل کرے گی؟

2۔  کمپنی اپنے ملازمین اور ایجنٹوں کو فعال بنانے کے لیے الگ الگ ڈھنگ سے کیا کیا مالی اور غیر مالی ترغیبات دے سکتی ہے؟ اوران سے کمپنی کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟

3۔  کمپنی کس طرح یقینی بنا سکتی ہے کہ اعلیٰ ترغیب کی ضرورتیں یعنی ستائش اور خود یافتگی جس کی صراحت ابراہم ماسلو کے ذریعہ کی گئی ہے، پوری ہوسکتی ہے؟

4۔  کاروبارکی لائین میں قیادت کی ان خوبیوں کی شناخت کیجیے جو کمپنی کے منیجروں کے پاس ملازمین اور ایجنٹوں کو فعال بنانے کے لیے ضرور ہونی چاہئیں۔

5۔  رسمی ترسیلی نظام کا ایک ماڈل فراہم کیجیے جس کوکمپنی اپنا سکے۔ اس ماڈل میں رکاوٹوں کی شناخت کیجیے۔ انھیں کیسے دور کیا جاسکتاہے؟

6  سوال 5 کے جواب میں آپ نے جو ماڈل پیش کیا ہے اس میں غیر رسمی ترسیل کس طرح رسمی ترسیل کی تکمیل میں مدد کرتی ہے۔