باب 8
کنٹرول کرنا
(CONTROLLING)
سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعے کے بعد آپ:
• کنٹرول کرنے کے معنی کی وضاحت کرسکیں گے؛
• کنٹرول کرنے اہمیت بیان کرسکیں گے؛
• منصوبہ بندی اور کنٹرول کرنے کے درمیان رشتے کو بیان کرسکیں گے؛
• کنٹرول کرنے کے عمل میں اٹھائے گئے اقدامات کی وضاحت کرسکیں گے؛ اور
• کنٹرول کرنے کی تکنیکوں کو بیان کرسکیں گے۔
اسٹرلنگ کوریر (Sterling Courier) میں نقصان پر قابو
اسٹرلنگ کوریر سسٹم، ہنڈن، ورجینیا میں واقع ہے اور دن کے دن ڈیلیوری خدمات فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ اسٹرلنگ ڈیلیوری سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے سب کچھ کر سکتا ہے لیکن اپنے پارسلوں کے نقل و حمل کے لیے کمرشیل ایرلائنوں پر منحصر ہے اور کبھی کبھی مقررہ وقت پر وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام بھی رہتا ہے۔ اسٹرلنگ اپنے پارسلوں کی بار برداری کے لیے کمرشیل لائنوں پر منحصر ہے۔ عام طور پر تاخیر ایرلائنوں کے ٹریکنگ سسٹم (نقل و حرکت کا نگرانی نظام) میں پیکجوں کے گم ہونے کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے۔ اس طرح کے واقعات کا ظہوراسٹرلنگ کے کنٹرول سے باہر کی بات ہے۔ لیکن گاہکوں کے لحاظ سے یہ ناکامی اسٹرلنگ کا اپنا مسئلہ ہے۔ اس نقصان پر قابو پانے کے لیے جو اس تاخیر کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے، اسٹرلنگ کو کچھ اصلاحی اقدامات اٹھانے پڑے۔ مثال کے لیے 1990 کے آخر میں اور 1991 کے شروع میں کئی مہینوں تک اسٹرلنگ کے ذریعے ڈیلیور کیے جانے والے مال غائب ہوتے رہے۔ پیکیج بعد میں مل گئے لیکن گاہک کو پہلے ہی مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم چوں کہ پیکج آخر کار مل جایا کرتے تھے اس لیے نہ تو انشورنس پر کوئی ذمے داری عائد ہوتی تھی اور نہ ہی ایرلائنس پر ۔ صدر گلین اسموک کو فیصلہ یہ کرنا تھا کہ آیا گراہکوں کے نقصانات کی تلافی کی جائے یا ان سے جہاز سے بھیجے جانے کی اجرت نہ لی جائے۔ اسموک اس نتیجے پر پہنچے کہ وقت پر مہیا نہ کرنے کے سبب شپ منٹ کے لیے محض اجرت نہ لینا ناکافی عمل تھا لیکن 30 ہزار امریکی ڈالر کی ادائیگی ایک ایسی پانچ سالہ کمپنی کو جس کا سرمایہ کل پانچ ملین ڈالر تھا، بہت نقصان کا باعث بھی ہوتا۔ اسموک نے فیصلہ کیا کہ 30 ہزار امریکی ڈالر کی ادائیگی کر دی جائے۔ اس فیصلے سے گاہک باقی بنے رہے اور اسٹرلنگ کی ترقی بھی جاری رہی۔
ماخذ: اسٹونر، اے۔ ایف جیمس
آر۔ ایڈ ورڈ فری مین اینڈ ڈینیل
آر۔ گلبرٹ، جونیئر منیجمنٹ
پرینٹس ہال آف انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ، 1998
اسٹرلنگ کوریرکی مثال واضح طور پر ایک خراب کاروباری صورت حال پیش کرتی ہے جس پر ایک منیجر نے ذہانت کے ساتھ قابو پالیا۔ اس مثال سے بالکل واضح ہے کہ ایک منیجر کو کاروبار میں کسی بڑے نقصان کے واقع ہونے سے پہلے کچھ نوعیت کی کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مینجمٹ کے کنٹرول کرنے کا عمل یہاں ایک منیجر کے بچاو کا سبب بنا۔ کنٹرولنگ نہ صرف سرگرمیوں کی پیش رفت کو راہ پر لانے میں مدد کرتی ہے بلکہ یہ بھی یقینی بناتی ہے کہ یہ سرگرمیاں ان معیاروں کو بھی پورا کریں گی جو تنظیم کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پہلے سے طے کیے جاچکے اس طرح تنظیمی مقاصدکو حاصل کیا جاتاہے۔
کنٹرول کرنے کے معنی (Meaning of Controlling)
کنٹرولنگ منیجر کا ایک اہم کام ہے۔ ماتحتوں سے منصوبہ بند نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک منیجر کو ماتحتوں کی سرگرمیوں پر موثر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کنٹرولنگ کا مطلب اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی تنظیم میں سرگرمیاں منصوبے کے مطابق انجام دی گئی ہیں۔ کنٹرول کا عمل اس بات کو بھی یقینی بناتاہے کہ کسی تنظیم کے وسائل کا استعمال پہلے سے متعین مقاصد کے حصول کے لیے موثر طور پر اور خوش اسلوبی سے کیا جارہا ہے۔ اس طرح کنٹرول کا عمل منیجر کا مقصد خیز (Goal-orientd) عمل ہے۔
منیجر کی کنٹرولنگ ایک ہمہ گیر عمل ہے۔ یہ ہر منیجر کا بنیادی کام ہے۔ منیجروں کو ہر سطح پر خواہ وہ سب سے اعلیٰ ہو، درمیانی ہو یا نچلی ہو اپنے شعبوں کی سرگرمیوں پر کنٹرول قائم رکھنے کے لیے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید برآں تعلیمی اداروں، فوج، اسپتال اور کلب میں بھی کنٹرول کرنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا کہ کسی کاروباری تنظیم میں۔
یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ کنٹرولنگ مینجمنٹ کا آخری کام ہے۔ یہ ایک ایسا فنکشن ہے جو مینجمنٹ کی دَوری گردش (Cycle) کو واپس پلاننگ فنکشن تک پہنچا دیتی ہے۔ کنٹرول کرنے کے عمل سے پتہ چلتا ہے کہ اصل کارکردگی، معیاروں سے کس قدر انحراف کرتی ہے۔ ایسے انحرافات کے اسباب کا تجزیہ کیا جاتاہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ اسی کی بنیاد پر اصلاحی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔ یہ عمل شناخت شدہ مسائل کی روشنی میں مستقبل کے منصوبوں کو وضع کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس طرح مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی میں مددگار ہوتا ہے۔ اس طرح کنٹرول مینجمنٹ عمل کے صرف ایک دور (چکر) کو پورا کرتا ہے اور اگلے دور میں منصوبہ بندی کو بہتر بناتاہے۔
مینجمنٹ کنٹرول معیار کے مطابق کاموں کی تکمیل کی پیمائش کرتا ہے اور منصوبوں کے لحاظ سے مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے میں انحرافات کی اصلاح کرتا ہے۔
Koontz and O Donnel
کنٹرول کی اہمیت (Importance of Controlling)
کنٹرول مینجمنٹ کا ایک ناقابل انفکاک (Indisp- ensable Function)عمل ہے۔ بغیر کنٹرول کے بہتر منصوبے بے ترتیب ہوسکتے ہیں۔ کسی تنظیم میں ایک اچھا کنٹرولنگ درج ذیل طور پر کام کرتا ہے۔
(i) تنظیمی مقاصد کی تکمیل: کنٹرول کا عمل تنظیمی مقاصد کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کی پیمائش کرتا ہے اور یہی کنٹرول اگر انحرافات ہوں تو ان کو بھی اجاگر کرتا ہے اور اصلاحی کاروائیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔
اس طرح کنٹرول تنظیم کی رہنمائی کرتا ہے اور صحیح خطوط پر اسے قائم رکھتا ہے تاکہ تنظیمی مقاصد حاصل ہوں۔
(ii) معیاروں کی صحت و درستی کا فیصلہ: ایک اچھے نظامِ کنٹرول سے مینجمنٹ یہ تصدیق کر سکتا ہے کہ طے شدہ معیار درست اور با مقصد ہیں۔ ایک موثر نظام کنٹرول تنظیم میں واقع ہونے والی تبدیلیوں اور ماحول پر محتاط نگرانی رکھنے میں مددگار ہوتا ہے اور ایسی تبدیلیوں کی روشنی میں معیاروں کا جائزہ لینے اور اس پر نظرثانی کرنے میں مدد کرتا ہے۔
(iii) وسائل کا صحیح استعمال ، ایک منیجر وسائل کو ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر سرگرمی پہلے سے متعین معیاروں اور اقدار کے لحاظ سے انجام دی جاتی ہے جس سے یہ یقینی ہوتا ہے کہ وسائل کا استعمال نہایت موثر اور کارگر انداز میں کیا گیا ہے۔
(iv) ملازم کی بہترترغیب : ایک اچھا نظام کنٹرول یہ یقینی بناتا ہے کہ ملازمین پہلے ہی سے یہ بہتر طور پر جان لیں کہ ان سے کس کام کی توقع کی جارہی ہے اور کارکردگی کے معیار کیا ہیں جن کی بنیاد پر ان کے کام کی ستائش کی جائے گی۔ اس طرح یہ ان کو ترغیب دیتا ہے اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول
نیویارک شہر کی ایک درآمد برآمد کمپنی کے منیجروں کو شبہہ تھا کہ دو ملازمین اسے لوٹ رہے ہیں۔مے ووڈ ( نیو جرسی) کی کارپوریٹ ڈیفینس اسٹریئجیز (CDS) نے فرم کو صلاح دی کہ وہ ایک سافٹ ویَر پروگرام نصب کرے جو مشتبہ لوگوں کے کمپیوٹر کلیدوں (Keys) کے ہر ایک اسٹروک کو خفیہ طور پر لاگ کرے اور ایک اشاراتی زبان میں ای میل کے ذیعہ CDS کو مطلع کرے۔ تفتیش کنندگان نے انکشاف کیا کہ یہ دو ملازمین آرڈروں کو پراسیس کرکے کارپوریٹ کتابوں سے انھیں مٹا رہے تھے اور آمدنی جیب میں رکھتے تھے اور اس سے خوداپنی کمپنی بنارہے تھے۔ پروگرام کے ذریعے الکٹرونکس کے ایک بڑے شپ منٹ کو چرانے کے لیے دیر رات آفس واپس ہوتے ہوئے ان کا منصوبہ پکڑ لیا گیا۔ پولیس فرم کے گودام کی چھت کی کڑیوں میں چھپ گئی۔ جب مشتبہ افراد داخل ہوئے تو انھیں گرفتار کرلیا گیا۔ اس جوڑے پر پچھلے ڈھائی سال میں ایک 25 ملین ڈالر سالانہ آمدنی والی فرم سے تین ملین سے زیادہ ڈالر کے غبن کرنے کا الزام لگایا گیا۔
ماخذ: ہیلری ایگل ڈان، بوسن ای۔ جیکسن اور جان ڈبلو سلوکم جونیر، مینجمنٹ:
تھامسن 2002 باپ 19صفحہ 526
(v) نظم و ضبط کو یقینی بنانا: کنٹرول سے تنظیم میں نظم و ضبط کا ماحول بنتا ہے۔ اس سے ملازمین کی سرگرمیوں پر گہری نگرانی رکھ کر ان کی طرف سے غیر ایمان دارانہ رویّے کو کم سے کم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ باکس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح ایک درآمد و برآمد کرنے والی کمپنی اپنے نظام کنٹرول کے جزو کے طور پر کمپیوٹر کے ذریعے نگرانی کرکے بددیانت ملازمین کا پتہ لگانے میں کامیاب تھی۔
(vi) ایکشن میں تال میل کی سہولت: کنٹرول تنظیمی مقاصد کو حاصل کرنے میں سبھی سرگرمیوں اور کوششوں کو ایک جہت عطا کرتاہے۔ ہر محکمہ اور ملازم پیشگی طے شدہ معیاروں پر کام کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے کافی تال میل ہوتا ہے۔ اس سے یہ یقینی ہوجاتا ہے کہ مجموعی طور پر تنظیمی مقاصد کی بجا آوری ہورہی ہے۔
کنٹرول کی بندشیں (Limitations of Cntrolling)
اگرچہ کنٹرول مینجمنٹ کا ایک اہم کام ہے لیکن اس میں درج ذیل بندشیں بھی ہیں۔
(i) مقداری معیارطے کرنے میں دشواری: کنٹرول کا نظام اس وقت اپنی اثرانگیزی کھو دیتا ہے جب معیاروں کو مقداری اصطلاحات میں طے نہ کیا جاسکے۔ اس سے کارکردگی کی پیمائش اور معیاروں کے ساتھ ان کا موازنہ ایک مشکل کام بن جاتاہے۔ ملازم کی اخلاقی و نفسیاتی کیفیت، ملازمت کا سکون اور انسانی رویہ ایسے معاملے ہیں جہاں یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

(ii) بیرونی عوامل پر کم کنٹرول: عام طور پر کوئی کاروباری ادارہ بیرونی عوامل جیسے سرکاری پالیسیوں، تکنیکی تبدیلیوں، اورمسابقت وغیرہ پر کنٹرول نہیں کرسکتا۔
(iii) ملازمین کی طرف سے مزاحمت: کنٹرول کو اکثر ملازمین کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ وہ اسے اپنی آزادی پر ایک بندش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مثال کے لیے ملازمین 4 کلوز سرکٹ ٹیلیوزنوں (CCTVs) کی مدد سے سخت نگرانی کے تحت رکھے جانے پر اعتراض کریں گے۔
(iv) مہنگا معاملہ: کنٹرول ایک مہنگا معاملہ ہے کیوںکہ اس میں پیسے، وقت اور کوششیں زیادہ لگتی ہیں۔ ایک چھوٹا کاروباری ادارہ اتنا مہنگا نظام کنٹرول نہیں نصب کرسکتا۔ اس میں ہونے والے اخراجات کا جواز نہیں پیش کیا جاسکتا۔ منیجروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ نظام کنٹرول کی تنصیب اور اس کے چلانے کی لاگتیں اس کے فوائد کے مقابلے زیادہ ہوں۔
FedEx میں کنٹرول سسٹم کے موضوع پر باکس میں FedEx
FedEx میں نظام کنٹرول
FedEx اپنے آٹھ امریکی اور سات بین الاقوامی مراکز سے 18بلین امریکی ڈالر کا ڈیلیوری نظام چلاتاہے۔ یہ 630 سے زیادہ ہوائی جہازوں، 42,500 گاڑیوں اور 44,000 ڈیلیوری کے مقامات کے ذریعے اپنا عمل انجام دیتا ہے۔ یہ 200 سے زیادہ ملکوں میں گاہکوں کے تین ملین، سے زیادہ ایکسپریس پیکجوںکو ڈیلیور کرتا ہے۔ پچھلے دہے میں FedEx کے بڑھے ہوئے منافع کی کلید موثر کنٹرول ہی تھا۔
اس نظام کنٹرول کی اہم بات وہ اہلیت تھی جس کا اظہار پارسلوں کے وصول کرنے، جہاز کے ذریعے بھیجنے اور ڈیلیوری تک کے تمام مرحلوں پر نگرانی رکھنے میں ہوا۔ مزید برآں FedEx کا نظام کنٹرول یہ شناخت کرنے میں بھی مدد کرتا ہے کہ کون سے گاہکوں سے بہت زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے اور کون سے بالآخر کمپنی کے لیے مہنگے پڑ جاتے ہیں۔
FedEx ان کھاتوں کو بند کردیتا ہے جو کام کرنے میں نفع بخش نہیں ہیں مثلاً وہ جو چھوٹے اور کافی بکھر ہوئے مقامات میں واقع ہوں۔
انٹرنیٹ کی مدد سے FedExp نئے گاہکوں کو مطلوبہ اہم معلومات فراہم کر کے اپنی طرف کھینچ سکتی ہے اور ان کو مستقل گاہک بنا سکتی ہے۔ گاہک انٹرنیٹ پر لاگ آن کرسکتے ہیں اور اپنے پیکجوں کی پیش رفت کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ اپنے گاہکوں کو پارسل کی پیش رفت اورلاگتوں کے بارے میں وقت پر معلومات مہیا کرکے FedExp نے اپنے گاہکوں کے حلقے کو وسیع کرلیاہے۔ 2.5 ملین سے زیادہ گاہک الٹرانک طور پر FedEx سے جڑے ہوئے ہیں۔
ماخذ: ہیل ریگل ڈان، سوسان ای۔ جیکس اور جان ڈبلیو۔
ملاکم جونیئر Management: A Competancy based Approach
Thompson 2002
کے ذریعے استعمال کیے گئے نظام کنٹرول کا خاکہ پیش کیا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ منافع کو بڑھانے میں یہ نظام کس طرح مفیدو مددگار ہے۔
منصوبہ بندی اور کنٹرول کرنے کے درمیان رشتہ
منصوبہ بندی اور کنٹرول مینجمنٹ کے لاینفک عمل ہیں۔ کنٹرول کا نظام مخصوص معیاروں کے وجود کی لازمی شرائط ہیں۔ کارکردگی کی منصوبہ بندی ان معیاروں کو طے کرتی ہے جو کنٹرولنگ کی اساس ہیں۔ جب کوئی منصوبہ لاگو ہوتا ہے تو پیش رفت کی نگرانی، اس کے نتائج کی جانچ اس میں راہ پاجانے والے انحرافات کا پتا لگانے کے لیے کنٹرولنگ کا عمل ضروری ہے۔ کنٹرولنگ سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ واقعات آیا منصوبے کے مطابق انجام پارہے ہیں یا نہیں۔ اس طرح کنٹرولنگ کے بغیر پلاننگ بے معنی ہے۔ اسی طرح منصوبہ بندی کے بغیر کنٹرول کرنے کا بھی کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اگر معیاروں کو پہلے سے نہیں مرتب کیا گیا ہے تو منیجر کچھ نہیں کنٹرول کرسکتا، جب کوئی منصوبہ نہیں ہے تو کنٹرول کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
منصوبہ بندی واضح طور پر کنٹرول کرنے کی اولین شرط ہے۔ یہ سوچنا بالکل بے وقوفی ہوگی کہ کنٹرول کے عمل کو بغیر منصوبے کے انجام دیا جاسکتاہے۔منصوبہ بندی کے بغیر، مطلوبہ کارکردگی کا بھی کوئی معین مفہوم نہیں ہوتا جب کہ کنٹرولنگ میں واقعات کو منصوبوں کے مطابق بنائے جانے پر زور دیا جاتا ہے۔
منصوبہ بندی بنیادی طور پر ایک ذہنی عمل ہے جس میں غوروفکر، تفصیل اور تجزیہ شامل ہیں تاکہ مقاصد کے حصول کے لیے مناسب لائحہ عمل تیار اور پیش کیا جاسکے۔اس کے برخلاف کنٹرولنگ کا کام یہ نگرانی کرنا ہے کہ آیا فیصلے مطلوبہ عمل میں منتقل ہوئے یا نہیں۔ اس طرح منصوبہ ایک ایسا عمل ہے جس کو لاگو کیا جاتا ہے جب کہ کنٹرولنگ کے ذریعہ اس منصوبے کی قدر افزائی (Evluation) کی جاتی ہے۔
اکثر کہا جاتاہے کہ منصوبہ بندی آگے کی طرف دیکھتی ہے جب کہ کنٹرولنگ پیچھے کی طرف دیکھتی ہے۔ تاہم یہ بیان صرف جزوی طور پر صحیح ہے۔ منصوبے مستقبل کے لیے تیار کیے جاتے ہیں اور مستقبل میں پیش آنے والی صورتِ حال کے بارے میں پیشین گوئیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا منصوبہ بندی میں آگے کی طرف دیکھنا شامل ہے اور اسے پیش بینی کا عمل (Forward looking function) کہا جاتاہے۔ اس کے برعکس کنٹرولنگ معیاروں سے انحراف کو معلوم کرنے کے لیے پچھلی سرگرمیوں کے تحلیل وتجزیے کا عمل ہے۔ اس مفہوم میں اسے پیچھے کی طرف دیکھنے والا عمل کہا جاتا ہے۔ بہرحال یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ پچھلے تجربات منصوبہ بندی کی رہنمائی کرتے ہیں اور کنٹرولنگ کے اصلاحی عمل سے مستقبل کی کارکردگی میں سدھار ہوتا ہے۔
اس طرح منصوبہ بندی اور کنٹرولنگ کا ایک دوسرے سے رشتہ ہے اور درج ذیل معنی میں ایک دوسرے کو تقویت بھی پہنچاتے ہیں۔
1۔ حقائق پر مبنی منصوبہ بندی سے کنٹرول کرنے کا عمل آسان اور موثر بن جاتاہے۔
2۔ کنٹرول ماضی کے تجربات سے حاصل شدہ معلومات کو فراہم کر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کو بہتر بناتاہے۔
کنٹرول کا عمل (Controlling Process)
کنٹرول ایک منظم عمل ہے جس میں درج ذریل اقدامات شامل ہیں:
1۔ کارکردگی کے معیاروں کو مرتب کرنا
2۔ حقیقی کارکردگی کی جانچ کرنا
3۔ حقیقی کارکردگی کا معیاروں سے موازنہ
4۔ انحرافات کا تجزیہ کرنا
5۔ اصلاحی قدم اٹھانا
پہلا قدم: کارکردگی کے معیاروں کو مرتب کرنا: پہلا قدم کارکردگی کے معیاروں کو مرتب کرنا۔ معیارات وہ کسوٹی ہیں جن کے ذریعے حقیقی کارکردگی کی جانچ کی جاسکے گی۔ اس طرح معیار وہ نقطے ہیں جہاں سے جانچ شروع کی جا سکتی ہے۔
معیار کیفیتی (Qualitiative) بھی ہوسکتے ہیں اور کمیّتی بھی۔مثلاً لاگت کتنی آئے گی، ریوینو کتنا حاصل ہوگا، کتنا مال بنے گا اور کتنا فروخت ہوگا،کس کام کے انجام دینے میں وقت کتنا لگے گا یہ سب امور کمیّتی معیاروں سے متعلق ہیں۔ ساکھ میں بہتری اور ملازمین کے لیے ترغیبات میں سدھار وغیرہ کمیتی معیاروں سے متعلق امور ہیں۔ اگلے صفحے پر دی گئی جدول سے کاروبار کے مختلف شعبوں میں کارکردگی کی جانچ کے لیے استعمال کیے جانے والے معیاروں کی جھلک ملتی ہے۔
معیاروں کو طے کرتے وقت منیجر کو چاہیے کہ وہ معیاروں کو کمیتی کے اعتبار سے طے کرے کیوںکہ اس سے حقیقی کارکردگی کے ساتھ ان کے موازنے میں آسانی ہوگی۔مثلاً ایک ہزار کی تعداد میں تیار شدہ مال کے اندر جو 10 آئٹم خراب نکلتے تھے اب چار مہینوں کے اندر ان کی تعداد 10 سے گھٹ کر 5 رہ گئی۔ بہر حال کیفیتی معیار (Qulitative Standards) طے کرتے وقت کوشش اس بات کی ہونی چاہیے کہ ان کی جانچ آسان ہو۔مثال کے لیے فاسٹ فوڈکے سلسلے میں (جہاں سیلف سروس ہوتی ہے) گاہک کی بہتر طور پر تسکین کے لیے جو معیار طے کیے جائیں ان میں یہ دیکھا جائے کہ ایک گاہک کو میز کے لیے کتنی دیر کا انتظار کرنا پڑا، کتنی دیر میں اس نے آرڈر پلیس کیا اور آرڈر کی تکمیل کتنے وقت میں ہوئی۔
یہ اہم ہے کہ معیاروں میں اتنی لچک ہو کہ ضرورت پڑنے پر ان میں ترمیم کی جا سکے۔ اندرونی اور بیرونی کاروباری ماحول میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کے سبب معیاروں میں کچھ ترمیم کی ضرورت پڑسکتی ہے جو کہ بدلتے کاروباری ماحول میں حقیقت پسندانہ ہو۔
دوسرا قدم: حقیقی کارکردگی کی جانچ: جب کارکردگی کے معیارطے ہوجاتے ہیں تو اگلا قدم حقیقی کارکردگی کی جانچ ہے۔ کارکردگی کی جانچ مفروضی اور معتبر انداز میں کی جانی چاہیے۔ کارکردگی کی جانچ کے لیے متعدد تکنیکیں ہیں۔ اس میں ذاتی مشاہدہ، نمونے کی جانچ، کارکردگی رپورٹ وغیرہ شامل ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو کارکردگی کی پیمائش اسی اکائی میں ہونی چاہیے جس میں معیار طے کیے گئے ہیں کیوں کہ اس سے ان کا موازنہ آسان ہوجاتاہے۔
یہ عام طور پر مانا جاتاہے کہ جانچ کام کے پورا ہونے پر کی جانی چاہیے تاہم جہاں کہیں ممکن ہو کام کی پیمائش کارکردگی کے دوران کی جانی چاہیے۔ مثال کے لیے اسیم بلنگ
کارکرکردگی کی جانچ کے لیے عملی شعبوں میں استعمال کیے جانے والے معیار
| پیداوار | مارکیٹنگ | عملہ انتظامیہ | مالیات اور حساب داری |
| کمیت ( Quantity ) | فروخت کا حجم | لیبر رشتے | کیپٹل اخراجات |
| کیفیت ( Quality ) | فروخت کت اخراجات | لیبر ٹرن اوور | فہرست |
| لاگت | تشہیری اخراجات | لیبر غیر ضروری | کیپٹل کا بہاو |
| انفرادی کام | فرد | سیالیت ( Liquidity ) | |
| کارکردگی | سیلزمین |
(Assembling) کے کام میں تمام پرزوں کی اسمبل کرنے سے پہلے جانچ کی جانی چاہیے۔ اس طرح پلانٹ کو مینوفیکچرنگ میں حفاظت کی غرض سے ہوا میں گیس کے ذرات کی سطح کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے۔
کسی ملازم کی کارکردگی جانچنے کے لیے اس کے باس کے ذریعے تیار کی گئی رپورٹ ضروری ہے۔ کسی کمپنی کی کارکردگی جانچنے کے لیے چند تناسبوں (Ratios) مثلاً مجموعی منافع کا تناسب (Gross Profit Ratio)، خالص منافع کا تناسب (Net Profit Ratio) وغیرہ کا وقتاً فوقتاً حساب کرنا ہوتاہے۔ بعض شعبوں جیسے مارکیٹنگ میں فروخت کی گئی اکائیوں کی تعداد اوربازار کے شیئر میں اضافے وغیرہ پر غور کر کے جانچ کی جاسکتی ہے۔ جب کہ پیداوار کی کاکردگی پیمائش تیار کیے گئے مال کی تعداد اور بیچ میں ناقص مال کی تعداد کا شمار کرنے کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ چھوٹی تنظیموں میں تیار کیے گئے ہر مال کی جانچ یہ یقینی بنانے کے لیے کی جاسکتی ہے کہ آیا پروڈکٹ صراحت کردہ پیش کوالٹی کی تفصیل کے مطابق ہے یا نہیں۔ بہرحال، یہ چیز بڑی تنظیم میں ممکن نہیں ہے۔ اس طرح بڑی تنظیموں میں کوالٹی کے لیے مال کی جانچ یوں ہی اتفاقی طور پر (Randomly) کی جاتی ہے۔ اسے نمونے کی جانچ کے طور پر جانا جاتاہے۔
تیسرا قدم: حقیقی کارکردگی کا معیاروں سے موازنہ کرنا: اس اقدام میں حقیقی کارکردگی کا معیاروں سے موازنہ شامل ہے۔ اس تقابل سے پتہ چلے گا کہ حقیقی اور مطلوبہ نتائج کے درمیان انحراف کیا ہے۔ جب معیار کمیتی (Quantitative) اصطلاح میں مرتب ہوتے ہیں تو موازنہ کرنا آسان ہوتاہے۔ مثال کے لیے ایک ورکر کی کارکردگی کو ایک ہفتے کے دوران تیار کی گئی اکائیوں اور اس ہفتے میں مطلوبہ اکائیوں کی معیاری پیداوار کے مقابلے میں جانچا جاسکتا ہے۔
چوتھا قدم: انحرافات کا تجزیہ : کارکردگی میں کچھ انحرافات سبھی سرگرمیوں میں متوقع ہوتے ہیں۔ لہٰذا، انحرافات کی قابل قبول حد کو متعین کرنا بہت اہم ہے۔ مزید برآں کاروبار کے کلیدی شعبوں میں انحرافات پر بعض غیر اہم شعبوں میں ہونے والے انحرافات کی نسبت زیادہ فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں منیجر کوفیصلہ کن پوائنٹ (Critical Point Control) اور استثنائی مینجمنٹ (Managment by Exception) کے اصولوں کا استعمال کرنا چاہیے۔
1۔ فیصلہ کن پوائنٹ کنٹرول: کسی تنظیم میں ہر سرگرمی پر نگرانی رکھنا نہ تو کفایتی ہے اور نہ آسان۔ اس لیے کنٹرول کے لیے پوری توجہ ایسے شعبوں پر دی جانی چاہیے جن سے کلیدی نتیجے حاصل کیے جاتے ہیں Key result areas یہ شعبے KRAs یعنی کسی تنظیم کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ یہ KRAs نہایت اہم و نازک نقاط ہوتے ہیں۔ اگر ان فیصلہ کن نقاط پر کوئی چیز غلط واقع ہورہی ہو تو پوری تنظیم کو نقصان ہوتا ہے۔ مثال کے لیے ایک مینوفیکچرنگ تنظیم میں مزدوری لاگت میں 5 فی صد کا اضافہ ڈاک کی اجرتوں میں 15 فی صد اضافے کی نسبت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
2۔استثنائی مینجمنٹ: استثنائی مینجمنٹ کو استثنائی کنٹرول بھی کہا جاتاہے۔ یہ مینجمنٹ کنٹرول کا ایک اہم اصول ہے جو اس عقیدے پر مبنی ہے کہ ہر چیز پر کنٹرول کا نتیجہ اس چیز کے کنٹرول کے نہ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس طرح صرف اہم انحرافات جو جائز حدود سے باہر ہوں وہی مینجمنٹ کے غور کے لیے پیش کیے جانے چاہئیں۔ اس طرح اگر ایک مینوفیکچرنگ تنظیم اور مزدوری لاگت میں 2 فی صد اضافہ انحراف کی ایک قابل قبول حد کے تحت آتاہے تو صرف 2 فی صد سے زیادہ مزدوری لاگت میں اضافے کو ہی مینجمنٹ کے نوٹس میں لانا چاہیے۔ ہاں اگر انحراف، معیاری حدود سے زیادہ بڑا ہو (مان لیجیے 5 فی صد یہ اضافہ ہو) توایسی صورت میں مینجمنٹ کو ترجیحی بنیاد پراور فوری طو رپر اقدامات کرنے لازم ہیں۔ نیچے باکس میں ’’حساس نقطۂ کنٹرول اور استثنائی مینجمنٹ‘‘کے فوائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
انحرافات کی شناخت کے بعد ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ مینجمنٹ اپنی توجہ پورے طورپر مبذول کرے اور انحرافات کا تجزیہ کرے تاکہ اسباب کا پتہ لگ سکے۔انحرافات پیدا ہونے کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں۔ یہ غیر حقیقی معیار،ناقص پراسیس، ناکافی وسائل، ساختی نقائص تنظیمی بندشیں اورایسے ماحولیاتی عوامل ہوسکتے ہیں جو تنظیم کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔
انحرافات کے اصل اسباب کی شناخت ضروری ہے اس کے بغیر مناسب اصلاحی کاروائی ممکن نہیں ہو گی۔ انحرافات اور ان کے اسباب کی رپورٹ کی جاتی ہے اورمناسب سطح پر اصلاحی کارروائی کی جاتی ہے۔
پانچواں قدم: اصلاحی کارروائی : کنٹرول کرنے کے عمل میں آخری قدم اصلاحی کارروائی کرنا ہے۔ اگر انحرافات قابل قبول حد میں ہیں تو کسی اصلاحی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم جب انحرافات خاص طورپر اہم شعبوں میں قابل قبول حد سے باہر ہوں تو اس پر انتظامیہ کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انحرافات دوبارہ نہ پیدا ہوں اور معیاروں کی پابندی ہوسکے۔
استثنائی مینجمنٹ اور فیصلہ کن پوائنٹ کنٹرول اصولوں کے فوائد
جب منیجرفیصلہ کن نقاط (Critical Point) کو طے کرلیتا ہے اور ان نمایاں انحرافات پر اپنی توجہ مبذول کرتا ہے جو قابل قبول حد کو پار کرجاتے ہیں تو درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
1۔ اس سے منیجروں کے وقت اور کوششوں کی بچت ہوتی ہے کیوںکہ وہ کو صرف نمایاں انحرافات پر توجہ دیتے ہیں۔
2۔ ایسا کرنے سے مینجمنٹ کی توجہ اہم شعبوں پر ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مینجمنٹ کی صلاحیتوں کا بہتر استعمال ہوا ہے۔
3۔ معمول کے مسائل ماتحتوں پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔استثنائی مینجمنٹ کے ذریعے حکام کے کام کی تفویض میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور ملازمین کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
4۔ اس سے ان نازک اور حساس مسائل کی شناخت ہوجاتی ہے جن کی ضرورت بروقت صحیح راستے پر تنظیم کو برقرار رکھنے میں ہوتی ہے۔
اگر پیداواری نشانے پورے نہ ہورہے ہوں تو اصلاحی کارروائی میں ملازمین کی تربیت بھی شامل ہے۔ اس طرح اگر ایک اہم پروجیکٹ شیڈول کے پیچھے چل رہاہو تو اصلاحی کارروائی میں ورکرس کی تعداد میں اضافہ نئے سازوسامان کی فراہمی اور اوور ٹائم کام کی اجازت شامل ہے۔ اگر انحراف کو انتظامی عمل کے ذریعے درست نہیں کیا جاسکتا تو معیاروں میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ نیچے جدول میں انحرافات کے کچھ اسباب اور متعلقہ اصلاحی عمل بیان کیے گئے ہیں جو ایک منیجر انجام دے سکتاہے۔

کاروائی کا اصلاحی منصوبہ:
انحرافات کا تجزیہ
اصلاحی عمل کی کچھ مثالیں
| انحراف کے اسباب | کیے جانے والے اصلاحی عمل |
| 1- ناقص مواد | موجودہ مشین کی مرمت یا اگر اسے مرمت نہیں کیا جا سکتا تو مشینیں بدل دیں |
| 2- ناقص مشینری | استعمال کیے جانے والےمال کی کوالٹی کی تبدیلی |
| 3- متروک مشینری | موجودہ مشین کو تکنیکی طور پر بہتر بنانا |
| 4- ناقص عمل | موجودہ عمل میں ترمیم |
| 5- کام کے لیے خراب اور ناقص ماحول | کام کے لیے مادی ماحول کو بہتر بنانا |
باکس میں دی گئی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ساکو ڈیفینس (Saco Defence) بحرانی صورت حال پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوا۔
مینجمنٹ کنٹرول کی تکنیکیں
مینجمنٹ کے کنٹرول کی مختلف تکنیکوں کو دووسیع زمروں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔: روایتی تکنیکیں اور جدید تکنیکیں۔
روایتی تکنیکیں (Traditional Techniques)
روایتی تکنیکیں وہ ہیں جن کا استعمال کمپنیاں ایک لمبے عرصے سے کرتی آرہی ہیں۔تاہم، یہ تکنیکیں متروک نہیں ہوئی ہیں اور کمپنیاں ان کو اب بھی استعمال کرتی ہیں۔ ان میں درج ذیل امور شامل ہیں۔
(a) ذاتی مشاہدہ
(b) شماریاتی رپورٹیں
(c) ہم سطح تجزیہ (Breakeven Analysis)
(d) مالی کنٹرول (Budgetary Controll)
جدید تکنیکیں
کنٹرول کرنے کی جدید تکنیکیں وہ ہیں جو ابھی حال کی ہیں اور مینجمنٹ سے متعلق ادب میں نسبتاً نئی ہیں۔ یہ تکنیکیں ان طریقوں، جن سے کسی تنظیم کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے، کے مختلف پہلوؤں پر تازہ اور نئی فکر فراہم کرتی ہیں۔ ان میں درج ذیل امور شامل ہیں:
(a) سرمایہ کاری پر حاصل (Return on Investment)
(b) تجزیہ نسبت (Ratio Analysis)
(c) جواب دہ حساب داری (Responsibility Accounting)
(d) مینجمنٹ آڈٹ (PERT اور CPM)
(f) مینجمنٹ کا نظام معلومات (Managment Information System)
ساکو ڈیفینس نے صورت حال پر کس طرح کنٹرول کیا ؟
ساکو ڈیفینس میں کوالٹی کی خرابی کے سبب بحران پیدا ہوگیا تھا۔ حکومت نے اسے بند کردیاتھا کیوں کہ یہ کوالٹی کے معیار نہیں پورے کر رہی تھی۔ ساکو نے ایک TQMپروگرام تیار کیا جس سے کوالٹی بحال ہو گئی، پیداوار بڑھی اور لاگتوں میں کمی آئی۔ ساکو Maine میں واقع 178 سال پرانی ڈیفینس کمپنی تھی جو امریکی بحریہ کے کوالٹی معیاروں کی تعمیل کرنے میں ناکام تھی۔ اگرچہ ساکو کے ہتھیاروں نے بہتر کام کیا لیکن حکومت نے کمپنی کی کوالٹی اور پالیسیوں پر سوال اٹھایا۔ مثال کے لیے اگر کسی ملازم نے اسیمبلنگ (Assembeling) کا کام ختم ہوتے وقت پایا کہ ایک بولٹ خراب ہے تو اس بولٹ کو بدل دیا ہوگا لیکن مسئلے کو درج نہیں کیا۔ ایک ناقص بولٹ کی موجودگی کا مطلب تھا کہ اس سپلائر یا گروپ کے ذریعے بھیجے گئے مال کے دوسرے بولٹ بھی خراب ہوسکتے تھے لیکن ان کا پتا نہیں لگایا گیا۔ دوبارہ چیک کیے بغیر میٹریل کا مسئلہ جوں کا توں ہی رہا۔ان مسائل کے حل کے لیے ساکو ڈیفینس میں ایک تنظیمی انقلاب آیاجس کے بنیادی عناصر تھے: (1) ملازمین کو ذمہ دار اور جواب دہ بنا کر ان کو زیادہ با اختیار بنانا جس میں مسائل کو درست کرنے کے لیے پیداوار کو روکنے کا اختیار بھی شامل تھا۔ (2) ورک سیل کی تشکیل کرنا یعنی کمپنی کے اندر چھوٹے کاروبار جو محدود نگرانی کے ساتھ اپنے پیداوار کا بندوبست کرسکیں۔ (3) ورکرس کی تعداد 760 سے کم کرکے تقریباً 450 کرنا اور مینجمنٹ کی متعدد سطحوں کو ختم کرنا۔ مزید برآں کمپنی میں جاری اصلاح میں دوری وقت اور پیداوار لاگت کو کم کرنے سے لے کر مہارتی یکجہتی کے پروگرام نافذ کرنا تک شامل تھا۔ پیداواریت بڑھ گئی، ٹرن اوور کم ہوا اور کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اپنے بین الاقوامی کاروبار کو پھیلائے۔
ماخذStoner, A.F. James, R. Edward Freeman and Danier RJr., . Gilber,
Managment Prentice- Hall of India- Pt. Hd. 1998
(Ref. Joyce E. Santara, A Quality Programme Transforms Saco Defencse, Personnel
Journal, May 1993)
روایتی تکنیکیں (Traditional Techniques)
ذاتی مشاہدہ
کنٹرول کا یہ نہایت روایتی طریقہ ہے۔ ذاتی مشاہدے سے منیجر کوبراہ راست معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس سے ملازمین پر بہتر کارکردگی کے لیے نفسیاتی دباو پیدا ہوتا ہے کیوںکہ وہ اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ذاتی طور پر ان کے کام کی دیکھ بھال اور مشاہدہ کیا جارہا ہے۔ تاہم یہ بہت دقت طلب عمل ہے اور ہر طرح کے کام میں موثر طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
شماریاتی رپورٹیں
اوسط، فی صد، تناسب، ہم رشتگی (Co-relation) وغیرہ کی شکل میں شماریاتی تجزیہ مختلف شعبوں میں تنظیم کی کارکردگی کے بارے میں منیجروں کو مفید معلومات فراہم کرتاہے۔ ایسی معلومات جب چارٹ، گراف، جداول وغیرہ کی شکل میں پیش کی جاتی ہیں تو اس بنا پر منیجر اسے زیادہ آسانی سے پڑھ سکتے ہیں اوراسی لیے پچھلی مدتوں میں کی گئی کارکردگی اور نقطہ حوالہ (Benchmarks) کے ساتھ کی گئی کارکردگی کے درمیان موازنہ کی گنجائش ہوتی ہے۔

ہم سطح چارٹ ( Breakeven Chart )
محصول
کل لاگت
نفع
متغیر لاگت
قائم لاگت
ہم سطح نقطہ
انسان
لاگت اور محصول ( روپیے لاکھ )
ہم سطح تجزیہ
ہم سطح تجزیہ ایک تکنیک ہے جس کا استعمال منیجروں کے ذریعے لاگتوں، حجم اور منافع کے درمیان رشتوں کے مطالعے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سرگرمی کی مختلف سطحوں پر متوقع نفع اور نقصانات کو متعین کرتاہے۔ فروخت کا حجم جس پر نہ کوئی منافع ہو نہ نقصان اسے بلانفع و نقصان نقطے (یا ہم سطح نقطہ ) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ منیجروں کے لیے مفید تکنیک ہے کیوںکہ اس سے سرگرمیوں کی مختلف سطح پر منافع کا تخمینہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔
شکل 1 میں ایک فرم کا ہم سطح چارٹ دکھایا گیا ہے۔ ہم سطح نقطے کا تعین کل ریوینو اور کل لاگت کے خطوط منحنی کے تقاطع (Intelsection)کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ شکل میں دکھایا گیا ہے کہ فرم 50,000 اکائیوں کی پیداوار (Out Put) ماحصل پر ہم سطح ہوگی۔ اس نقطے پر نہ منافع ہے اور نہ نقصان ہے۔ فرم کا منافع ا س نقطے سے باہر ہی شروع ہوگا۔
ہم سطح نقطے کی تحسیب درج ذیل فارمولے کی مدد سے کی جاسکتی ہے۔
ہم سطح سے = طے شدہ لاگتیں
——————————————
فی اکائی قیمت فروخت
فی اکائی متغیر لاگت
ہم سطح تجزیہ کسی فرم کو متغیر (Variable) لاگتوں پر گہرائی سے نظر رکھنے میں مدد گارہے اور سرگرمی کی اس سطح کو متعین کرتا ہے جس پر فرم اپنے منافع کے ہدف کو پاسکتے ہیں۔
بجٹ کی قسمیں
• فروخت بجٹ (Sales Budget) :یہ قیمت (Value) اور مقدار (Quantity) دونوں ہی اعتبار سے کسی تنظیم کی متوقع فروخت کا گوشوارہ ہے۔
• پیداوار بجٹ (Production Budget) : بجٹ کی مدت میں کسی تنظیم کے پیداواری منصوبوں کا گوشوارہ ہے۔
• سامان کا بجٹ (Material Budget) : پیداوار کے لیے مطلوبہ سامان کی تخمینی مقدار اور لاگت کاگوشوارہ۔
• نقد بجٹ: بجٹ کی مدت کے دوران متوقع نقد کا اندرونی اور بیرونی بہاو۔
• کیپٹل بجٹ: نئی فیکٹری یا بڑے ساز و سامان جیسے طویل مدتی اثاثوں پرتخمینی اخراجات۔
• تحقیق اور ترقیاتی بجٹ (Research and Development Budget) : پیداوار اور عمل (Process) کی ترقی یا بہتری کے لیے تخمینی اخراجات۔
مالی کنٹرول(Budgetary Control)
مالی کنٹرول، مینجمنٹ کے کنٹرول کی ایک تکنیک ہے جس میں سبھی کاموں (Options) کی منصوبہ بندی بجٹوں کی شکل میں پیشگی طور پر کی جاتی ہے اور حقیقی نتائج کا موازنہ مالی معیاروں سے کیا جاتاہے۔ اس موازنہ سے ان تمام ضروری کارروائیوں (Actions) کا انکشاف ہے جن سے تنظیمی مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے۔
مستقبل کی ایک طے شدہ مدت میں دیے گئے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مقداری بیان (Quantitative Statment) ہے۔ یہ وہ بیان ہے جو اس مخصوص مدت کے لیے پالیسی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ وقت اور مقدار دونوں ہی کے معاملے میں پیشین گوئیوں کی اَشکال پر مشتمل ہوتا ہے۔باکس میں کسی تنظیم کے ذریعے استعمال کیے گئے بجٹوں کی نہایت عام اقسام کو ظاہر کیا گیاہے۔
بجٹ بنانے کے عمل سے درج ذیل فوائد ہیں۔
1۔ بجٹ بنانے سے وہ خصوصی نشانے پورے ہوتے ہیں جن کی تکمیل ایک معینہ مدت میں ہوتی ہے۔ اس طرح بجٹ تنظیم کے مقاصد کے حصول میں مدد گار ہوتاہے۔
2۔ بجٹ ۔ ان ملازمین کے لیے تحریک و ترغیب کا ذریعہ ہے جو یہ جانتے ہیں کہ ان کی کارکردگی کا معیاروں سے موازنہ کیا جائے گا۔ اس طرح ان کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔
3۔ بجٹ بنانے سے وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ کیوں کہ بجٹ کے ذریعے وسائل کو مختلف شعبوں کی ضروریات کے لحاظ سے مختص کردیا جاتا ہے۔
4۔ کسی تنظیم کے مختلف شعبوں کے درمیان تال میل کے لیے اور ان کے درمیان باہمی انحصار کو نمایاں کرنے کے لیے بھی بجٹ کاری کا استعمال کیا جاتا ہے۔مثال کے لیے فروخت کے بجٹ کو پیداوارکے پروگراموں اور شیڈول کے جانے بغیر نہیں تیار کیا جاسکتا۔
5۔ ان امور میں جو نمایاں طور پر مالی معیاروں سے انحراف کرتے ہیں، بجٹ سے استثنائی مینجمنٹ کو مدد ملتی ہے۔
تاہم بجٹ کاری کی آفرینی اس بات پر منحصر ہے کہ کس طرح اس کے ذریعے مستقبل کے بارے میں بالکل درست طور پر تخمینہ لگایا جاتاہے۔ بجٹ لچک دارتیار کیے جانے چاہئیں جنھیں اس وقت بھی بااختیار بنایا جاسکتا ہے جب مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی مختلف ہوں۔ خاص طور پر ماحولیاتی قوتوں کے ہوتے ہوئے منیجروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بجٹ کاری کو ایک مقصد کے طور پر نہیں بلکہ تنظیمی مقاصد کے حصول کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
جدید تکنیکیں
سرمایہ کاری پر حاصل
(Return on Investment; ROI)
سرمایہ کاری پر حاصل (ROI) ایک مفید تکنیک ہے جو اس جانچ کے لیے بنیادی معیار فراہم کرتی ہے کہ آیا لگائے گئے سرمایے کا استعمال حاصل کی گئی معقول مقدار پیدا کرنے کے لیے موثر طور پر کیا جارہا ہے یا نہیں۔ ROI کا استعمال کسی تنظیم کی یا اس کے انفرادی شعبوں یا ڈویزنوں کی مجموعی کارکردگی کی پیمائش کے لیے کیا جاسکتا ہے ۔ درج ذیل طریقے پر اس کا حساب لگایا جاسکتاہے۔
فروخت X خالص آمدنی = Rol
————————————————
کل سرمایہ کاری فروخت
ٹیکس کے پہلے یا بعد میں خالص آمدنی کو موازنے کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے۔ کل سرمایہ کاری کاروبار میںرواں اور سرمایہ کاری کے لیے قائم کیپٹل دونوں پر مشتمل ہے۔ اس تکنیک کے مطابق فروخت کے حجم کوتناسب کے ساتھ کل سرمایہ کاری کے مقابلے بڑھانے یا فروخت کے حجم میں کوئی کمی کرنے سے RoI کیے بغیر کل سرمایے میں کمی کرنے سے RoI میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
RoI سے مختلف شعبوں کی کارکردگی کی جانچ اور موازنے کے لیے اعلیٰ مینجمنٹ کو کنٹرول کا موثر ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ اس سے شعبہ جاتی منیجروں کو یہ پتا چل جاتا ہے کہ RoI پر کیا چیز برے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
تجزیہ تناسب (Ratio Analysis)
تجزیہ تناسب سے مراد مالی گوشواروں کا تجزیہ ہے جو تناسبوں (Ratios) کی تحسیب (Computation) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر تنظیموں کے ذریعے استعمال کیے جانے والے تناسبوں کو درج ذیل زمروں میں درجہ بند کیا جاسکتاہے۔
(1) سیالیت کا تناسب (Liquidity Ratios): سیالیت کی تناسبوں کا شمار کاروبار کی قلیل مدتی زر داری (Solvency) متعین کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔ نقد فنڈس کی حالیہ حیثیت کا تجزیہ اپنے اسٹیک ہولڈرس Stake holder) کو واجب رقم کی ادائیگی کے لیے کاروبار کی اہلیت کا تعین کرتا ہے۔
(2) زرداری تناسب (Solvency Ratios): وہ تناسب ہیں جن کا حساب کاروبار کی طویل مدتی زرداری (Slovency) کے لیے کیا جاتاہے۔ اس طرح یہ تناسب (Rotios) کسی کاروبار کی مقروضیت کو درست رکھنے کی صلاحیت کو طے کرتی ہیں۔
3۔ نفع کا تناسب : ان تناسبوں کا حساب کاروبار کی نفع انگیز حیثیت کا تجزیہ کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔ اس طرح کے تناسب میں فروخت، فنڈیا لگی پونجی کے حوالے سے منافعوں کا تجزیہ شامل ہے۔
4۔ کل فروخت کا تناسب (ٹرن اوور تناسب): کل فروخت تناسب کا حساب عمل کی کارکردگی کے لیے متعین کے لیے کیا جاتاہے جو وسائل کے موثر استفادے پر مبنی ہے۔ اونچی فروخت کا مطلب ہے وسائل کا زیادہ بہتر طور پر استعمال۔ جدول میں منیجروں کے ذریعے عموماً استعمال کی جانے والی کچھ تناسبوں کی مثالیں دی گئی ہیں۔
عام طور پر استعمال کیے جانے والے تناسبوں کی مثالیں
| تناسب کی قسم | مثالیں |
| سیالیت | موجودہ تناسب فوری تناسب |
| زرداری ( Solvency ) | قرض ۔ ۱ کیوٹی تناسب مالکانہ تناسب سود تناسب |
| نفع انگیزی | کل منافع خالص منافع تناسب لگائے گئے سرمایہ پر حاصل |
| کل فروخت | مال نامہ کل فروخت تناسب ( Inventory Turnover Ratio ) اسٹاک کل فروخت تناسب ( Stock Turnover rtio ) مقروض کل فروخت تناسب ( Debtors Turnover Ratio ) |
جواب دہ حساب داری
(Responsibility Accounting)
جواب دہ حساب داری، حساب داری کا ایک نظام ہے جس میں کسی تنظیم کے مختلف سیکشن، ڈویژن اورشعبے ’’جواب دہ مراکز‘‘ کے طور پر قائم کیے جاتے ہیں۔ مرکز کا سربراہ اپنے مرکز کے لیے مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ذمے دار ہوتاہے۔
جواب دہ مراکز درج ذیل قسم کے ہوسکتے ہیں:
1۔ لاگت مرکز: لاگت یا اخراجات کا مرکزکسی تنظیم کا ایک حصہ ہے جس میں منیجر مرکز میں واقع ہونے والے خرچ کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں نہ کہ آمدنی کے لیے۔ مثال کے لیے ایک مینوفیکچرنگ تنظیم میں پیداوار ی شعبہ ایک لاگت مرکز ہے۔
2۔ ریوینو مرکز: ریونیو مرکز کسی تنظیم کا وہ حصہ ہے جو بنیادی طور پر ریوینو پیدا کرنے کے لیے ذمے دار ہے۔ مثال کے لیے کسی تنظیم کے مارکیٹنگ شعبے کو ایک ریوینو مرکز کے طور پر درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔
3۔ منافع مرکز(Profit Centre): منافع مرکز کسی تنظیم کا وہ حصہ ہے جس کا منیجر ریوینوز اور لاگتوں دونوں کے لیے ذمے دار ہوتا ہے۔ مثال کے لیے، اگر مرمت اور رکھ رکھاو شعبے کو یہ اجازت ہوکہ وہ دوسرے پیداواری شعبوں کو اپنی خدمات فراہم کرنے کے عوض بل بھیج سکے تو اس مرمت اور رکھ رکھائو کے شعبے کو بھی ’’منافع مرکز‘‘ مانا جائے گا۔
4۔ سرمایہ کاری مرکز: ایک سرمایہ کاری مرکزنہ صرف منافع کے لیے ذمے دار ہوتا ہے بلکہ اثاثوں کی شکل میں مرکز میں کی گئی سرمایہ کاریوں کے لیے بھی ذمے دار ہوتا ہے۔ ہر مرکز میں کی گئی سرمایہ کاری کی تشخیص الگ الگ کی جاتی ہے اور سرمایہ کاری پر حاصل (Return) کا استعمال مرکز میں کارکردگی کا فیصلہ کرنے کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔
مینجمنٹ آڈٹ (Managment Audit)
مینجمنٹ آڈٹ سے مراد کسی تنظیم کی مجموعی کارکردگی کی منظم تشخیص سے ہے۔ اس کا مقصد مینجمنٹ کی اہلیت اور موثریت (Effectivment) کا جائزہ لینا اور مستقبل میں اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ مینجمنٹ موثریت کی کارکردگی کے نقائص کی شناخت کرنے میں مددگار ہے۔ اس طرح مینجمنٹ کے طریقۂ عمل کی تعریف کسی تنظیم کے مینجمنٹ کے عمل، کارکردگی اورموثریت کے طور پر کی جاسکتی ہے۔
مینجمنٹ آڈٹ کے اہم فوائد درج ذیل ہیں:
1۔ مینجمنٹ آڈٹ، مینجمنٹ کی کارکردگی میں موجود اور بالقوہ نقائص کا پتہ لگانے میں مدد کرتا ہے۔
2۔ مینجمنٹ کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کے ذریعے تنظیم کے کنٹرول سسٹم کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
3۔ یہ مختلف شعبوں کے طریقِ کار میں تال میل کو بہتر بناتا ہے جس سے یہ شعبے تنظیمی مقاصد کی حصول یابی کے لیے مل جل کر موثر طور پر کام کرتے ہیں۔
4۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی روشنی میں یہ مینجمنٹ موجودہ پالیسیوں اور حکمت عملیوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق بنانے میں معاون ہے۔
مینجمنٹ آڈٹ کی انجام دہی میں کبھی کبھی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوںکہ مینجمنٹ آڈٹ کی کوئی معیاری تکنیکیں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ مینجمنٹ آڈٹ کسی قانون کے تحت لازمی نہیں ہے۔ تاہم روشن خیال منیجر، تنظیم کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اس کی افادیت کو سمجھتے ہیں۔
PERT اور CPM
پی ای آر ٹی PERT یعنی پروگرام کی جانچ اور اس پر نظر ثانی کی تکنیک (Programme Evaluation and Review Technique) اور سی پی ایم (CPM) یعنی کریٹیکل پا تھ میتھڈ (Critical path Method) ایک اہم نیٹ ورک کی تکنیکیں ہیں جو منصوبہ بندی اور کنٹرولنگ میں مفید ہیں۔ خاص طورپر یہ تکنیکیں ان زمان بند (Time Bound) پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی ، خاکہ سازی اور ان کے نفاذ میں مفید ہیں جن کی انجام دہی میں مختلف النوع قسم کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔یہ تکنیکیں ایسی سرگرمیوں کا خاکہ بھی تیار کرتی ہیں اور ان کے لیے وسائل بھی مختص کرتی ہیں۔ اور ان کا مقصد مقررہ وقت پرشیڈول اورطے شدہ لاگتوں کی ساخت میں پروجکٹوں کی تکمیل ہے۔
PERT یا اور CPM کے استعمال میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں۔
1۔ پروجیکٹ واضح طورپر الگ الگ سرگرمیوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ان سرگرمیوں کو پھر ایک منطقی ترتیب میں منظم کیا جاتا ہے۔
2۔ پروجیکٹ کی سرگرمیوں کی ترتیب اور انھیں اول وآخر دکھانے کے لیے ایک نیٹ ورک ڈائیگرام تیار کیا جاتا ہے۔
3۔ وقت کا تخمینہ ہر سرگرمی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔PERT میں وقت کے تین تخمینے تیار کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا رجائیت پسندانہ (قلیل ترین رجائیت)، دوسرا قنوطیت پسندانہ (طویل ترین) اور تیسرا عقلیت پسندانہ۔ CPM میں صرف ایک تخمینے کا اندازہ لگایا جاتاہے۔ مزید برآں CPM میں پروجیکٹ کی تکمیل کی لاگت کا اندازہ بھی لگائے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
4۔ نیٹ ورک میں سب سے طویل راہ کی شناخت نہایت اہم طریق (Critical Path)کے طور پر کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ ان سرگرمیوں کی ترتیب کو پیش کرتا ہے جو پروجیکٹ کی وقت پر تکمیل کے لیے اہم ہیں اور جس میں پورے پروجیکٹ کی تعمیل میں کسی بھی تاخیر کے گنجائش نہیں ہوتی۔
5۔ اگر ضروری ہو تو منصوبے میں ترمیم کی جائے تاکہ پروجیکٹ کی وقت پر تکمیل ہو اور اس پر عمل درآمد کنٹرول میں رہیں۔
PERT اور CPM کا بڑے پیمانے پر استعمال جہاز سازی، تعمیراتی پروجیکٹوں، ایرکرافٹ مینوفکچرنگ وغیرہ جیسے شعبوں میں ہوتا ہے۔
مینجمنٹ اطلاعاتی نظام
مینجمنٹ اطلاعاتی نظام (MIS) کمپیوٹر پر مبنی اطلاعاتی نظام ہے جو مینجمنٹ کی موثر فیصلہ سازی میں معلومات بھی فراہم کرتا ہے اور معاونت بھی کرتا ہے۔ ایک فیصلہ کرنے والے کو درست اور بروقت معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ MIS تنظیم میں منیجروں کو منظم طور پر پراسس کیے ہوئے جامع ڈیتا کی تخلیق کے ذریعے مطلوبہ معلومات فراہم کرتا ہے۔ MIS منیجروں کے لیے ایک اہم ترسیلی ذریعہ ہے۔ MIS ایک اہم کنٹرول تکنیک کا کام انجام دیتا ہے۔ یہ صحیح وقت پر منیجروں کو ڈیٹا اور معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ معیاروں سے انحراف کے معاملے میں وہ مناسب اصلاحی عمل انجام دے سکیں۔
MIS سے منیجروں کو درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
1۔ مینجمنٹ کی مختلف سطحوں اور تنظیم کے مختلف شعبوں کے درمیان معلومات کو اکٹھا کرنے، ان کو استعمال کرنے اور ان کو دوسروں تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔
2۔ اس سے ہر سطح پر منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور کنٹرولنگ میں مدد ملتی ہے۔
3۔ یہ معلومات کی کوالٹی میں سدھار لاتا ہے اور یہی معلومات منیجر کے کام آتی ہیں۔
4۔ MIS کے ذریعے معلومات کی فراہمی اور اس سے استفادہ کرنے میں وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوتی ہے۔
5۔ یہ منیجروں کا معلومات پر بوجھ کم کرتا ہے کیوں کہ صرف متعلقہ معلومات ہی مینجروں کو فراہم کی جاتی ہیں۔
کلیدی اصطلاحات
کنٹرولنگ (Controlling) • حساس نقطۂ کنٹرول (Critical Point Control)
استثنائی مینجمنٹ (Managment by Excaption)
ہم سطح تجزیہ (Breakeven Analysis) • مالی کنٹرول (Budgetary Control)
سرمایہ کاری پر حاصل (Return on Investment) • تناسبی تجزیہ (Ratio Analysis)
جواب دہ ذمے داری (Responsibility Accounting)
مینجمنٹ آڈٹ (Managment Audit) • پی ای آر ٹی اور سی پی ایم (PERT & CPM)
مینجمنٹ (Managment) • اطلاعاتی نظام (Information System)
خلاصہ
• کنٹرولنگ سے یہ بات یقینی ہوجاتی ہے کہ حقیقی سرگرمیاں منصوبہ بند سرگرمیوں کے مطابق ہیں۔
• مینجمنٹ کے کنٹرول کی اہمیت یہی ہے کہ اس سے مقاصد کی تکمیل میں مدد ملتی ہے۔ کنٹرولنگ معیاروں کی صحت کا پتہ لگانے، وسائل کی موثر افادیت کو یقینی بنانے، ملازمین کا حوصلہ بڑھانے ، تنظیم میں نظم و ضبط کا ماحول پیدا کرنے اور مختلف سرگرمیوں میں تال میل پیدا کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔اس طرح وہ اہداف کی تکمیل کے لیے ایک ہی سمت میں مل جل کر کام کرتے ہیں۔
• کنٹرولنگ کی کچھ بندشیں (Limitations) بھی ہیں۔ کسی بھی تنظیم کا بیرونی عوامل پر کوئی قابو نہیں ہوتا۔تنظیم کے کنٹرول سسٹم کو اپنے ملازمین کی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔کبھی کبھی کنٹرول کاری مہنگا معاملہ بن جاتی ہے خاص طور پر چھوٹی تنظیموں کے معاملے میں۔ مزید برآں کہ مینجمنٹ کے لیے ہمیشہ یہ بات ممکن نہیں ہوتی کہ وہ کارکردگی کے ایسے مقداری معیار (Quantitative Standards) طے کردے جو موجودنہ ہوں تو کنٹرولنگ ہی بے اثر ہوجائے۔
• کنٹرول میں کارکردگی کے معیارطے کرنا، حقیقی کارکردگی کی جانچ کرنا، حقیقی کارکردگی کا معیاروں کے ساتھ موازنہ کرنا، انحرافات کا تجزیہ کرنا اور پھراصلاحی عمل انجام دینا شامل ہے۔
• منصوبہ بندی اور کنٹرولنگ مینجمنٹ کے لاینفک عمل ہیں۔ منصوبہ بندی سے مینجمنٹ کے کام کی ابتدا ہوتی ہے۔ اور کنٹرول کاری اس عمل (Process) کو مکمل کرتی ہے۔ منصوبے کنٹرول کی بنیاد ہیں اور بغیر کنٹرول کے اچھے منصوبے بھی گمراہ ہوسکتے ہیں۔
• ذاتی مشاہدہ، شماریاتی رپورٹیں، ہم سطح تجزیہ اور مالی کنٹرول مینجمنٹ کے کنٹرول کی روایتی تکنیکیں ہیں۔
• سرمایہ پر حاصل، تناسبی تجزیہ، جواب دہ حساب داری، مینجمنٹ آڈٹ، PERT ، CPM اور مینجمنٹ اطلاعاتی نظام مینجمنٹ کنٹرول کی جدید تکنیکیں ہیں۔
مشق
متبادل جواب والے سوالات
درج ذیل کے لیے صحیح جواب کا انتخاب کریں
1۔ موثر کنٹرول سسٹم مددگار ہے۔
(a) تنظیمی مقاصد کی تکمیل کرنے میں
(b) ملازم کا حوصلہ بڑھانے میں
(c) معیاروں کی صحت کا پتا لگانے میں
(d) ان سبھی میں
2۔ تنظیم کا کنٹرولنگ فنکشن ہے:
(a) آگے نظر رکھنا
(b) پیچھے نظر رکھنا
(c) آگے اور پیچھے دونوں پر نظر دوڑانا
(d) ان میں سے کوئی نہیں
3۔ مینجمنٹ آڈٹ ایک تکنیک ہے جومندرجہ ذیل میں سے کس کارکردگی پر نظر رکھتی ہے۔
(a) کمپنی
(b) کمپنی کے مینجمنٹ
(c) شیئر ہولڈر
(d) گاہک
4۔ مالی کنٹرول میں… کی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے
(a) ٹریننگ شیڈول
(b) بجٹ
(c) نیٹ ورک ڈائیگرام
(d) جواب دہی مراکز
5۔ درج ذیل میں مطلوبہ نتائج کی بحالی کے لیے کون سا قابلِ اطلاق نہیں ہے۔
(a) سرمایہ کاری مرکز
(b) اینڈوسینٹروک مرکز (Andocentric Centre)
(c) نفع مرکز
(d) لاگت مرکز
مختصر جوابی سوالات
1۔ کنٹرول کے معنی کی وضاحت کیجیے۔
2۔ منصوبہ بندی آگے کی طرف نظر دوڑاتی ہے اور کنٹرولنگ پیچھے کی طرف نظر دوڑاتی ہے، تبصرہ کیجیے
3۔ ہر چیز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کا نتیجہ کچھ کنٹرول نہ کرنے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
4۔ مینجمنٹ کنٹرول کی ایک تکنیک کے طور پر مالی کنٹرول پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔
5۔ وضاحت کیجیے کہ مینجمنٹ آڈٹ کس طرح کنٹرولنگ کی موثر تکنیک ہے۔
طویل جوابی سوالات
1۔ کنٹرول کے عمل میں شامل مختلف اقدامات کی وضاحت کیجیے۔
2۔ مینجریل کنٹرول کی تکنیکوں کی وضاحت کیجیے۔
3۔ کسی تنظیم میں کنٹرولنگ کی اہمیت کی وضاحت کیجیے۔ ایک موثر کنٹرول سسٹم کے نفاذ میں تنظیم کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
4۔ منصوبہ بندی اور کنٹرولنگ کے درمیان رشتوں پر بحث کیجیے۔
اطلاقی قسم کے سوالات
ذیل میں کچھ ایسے رویّے (Behaviours) دیے گئے ہیں جو آپ اور دیگر ملازمین نوکری کے دوران اپناتے ہیں۔ بتائیے کہ مینجمنٹ بہتر کنٹرول رکھنے کے لیے ان میں سے ہر رویّے پر کیا طریقے اختیار کرسکتا ہے۔
1۔ کارکردگی کی جانب دارانہ جانچ
2۔ ذاتی استعمال کے لیے کمپنی کی رسد کا استعمال کرنا
3۔ کسی شخص سے یہ کہنا کہ وہ کمپنی کے قواعد کی خلاف ورزی کرے۔
4۔ جب کوئی بیمار ہوتو ایک دن کی چھٹی آفس سے طلب کرنا
5۔ وفاداری نبھانے کے لیے باس کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا
6۔ کسی اور کے کام کا سہرا اپنے سر لینا
7۔ خلاف ورزی نظر آنے پر اس کی رپورٹ کرنا
8۔ کوالٹی رپورٹوں میں جعل سازی کرنا
9۔ کسی کام کو انجام دینے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگانا۔
10۔ ورکرس سے مشورہ کرکے معیارطے کرنا۔
آپ یہ بھی تجویز کریں کہ مینجمنٹ کس طرح غیر مطلوبہ رویّوں پر قابو پاسکتا ہے۔
واقعاتی مسئلہ
ایک کمپنی 'M' لمیٹڈ گھریلو ہندوستانی بازار اور برآمد کے لیے موبائل بنارہی ہے۔ بازار میں اس کے مال کی اچھی کھپت بھی تھی اور گاہکوں میں بھی اس کے مال کی ساکھ تھی۔ لیکن حال ہی میں اس کو کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیوں کہ فروخت اور گاہک کی تسلی دونوں لحاظ سے اس کے نشانے پورے نہیں ہورہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں موبائل بازار کافی تیزی سے بڑھا ہے اور بہتر ٹکنالوجی اور مناسب قیمتوں کے ساتھ نئے کاروباری میدان میں آگئے ہیں۔ اس کے سبب کمپنی کے لیے مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ وہ اب منصوبہ بنا رہی ہے کہ اپنے کنٹرول کاری نظام کو از سرنو درست کیا جائے اور درپیش مسئلے کی اصلاح کے لیے دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں۔
سوالات
1۔ کمپنی کے ان فوائد کی شناخت کیجیے جو ایک اچھے کنٹرول سسٹم سے حاصل ہوں گے۔
2۔ یہ یقینی بنانے کے لییے کہ کاروباری منصوبے لاگو ہورہے ہیں اور کاروباری نشانے بھی پورے ہورہے ہیں کوئی کمپنی اپنی منصوبہ بندی کو کن خطوط پر کنٹرول کے ساتھ وابستہ کرے۔
3۔ کنٹرول کے عمل میں ان اقدامات کو بیان کیجیے جو کمپنی کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے اٹھانے چاہئیں۔
4۔ کنٹرول کی کون سی تکنیکوں کو کمپنی استعمال کرسکتی ہے؟
سبھی جوابات میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کمپنی کا کاروبار کس سیکٹر میں ہے۔