کسی بھی کاروبار کے سامنے سرمایہ کاری کے لیے ہمیشہ ہی مختلف پر وجیکٹ موجود رہتے ہیں۔لیکن ضروری یہ ہے کہ ہر پروجیکٹ کی قدرو قیمت کی تشخیص ہوجائے اور ان پر وجیکٹوں سے ہونے والی رٹرنس(Returns) کا صحیح تجزیہ اور تحلیل کرنے کے بعد کسی پروجیکٹ کو قبول یا رد کیا جائے۔مان لیجیے کہ پروجیکٹ صرف ایک ہی ہے تو رٹرن کی شرح(Rate of Return)کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ دیکھا جائے کہ وہ قابلِ عمل ہے یا نہیں۔ یا یوں کہیے کہ سرمایہ کاری اور اس کی موازنہ پذیری کو اس قسم کی صنعتوں کے لیے تناسب میں دیکھا جائے۔اس لیے پروجیکٹ کی پائداری اور زندہ رہنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوگا۔ ذیل میں چند ایسے عوامل کاذکر ہے جو کیپٹل بجٹنگ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
(a) پروجیکٹ کا نقد بَہاؤ(Cash Flows of the Project) : جب کوئی کمپنی سرمایہ کاری کا ایسا فیصلہ لیتی ہے جس میں بڑی رقم لگانی پڑتی ہے تو کمپنی کو یہ امید تو ہوتی ہی ہے کہ اس سرمایہ کاری سے ایک مدت تک کچھ نہ کچھ نقدیوں کے بہاؤ(Cash Flows) ہوں گے۔ یہ نقد بہاؤ سرمایہ کاری کی مدت حیات میں مداخل ومخارج(Receipts and Payments)کی ایک سیریز کی شکل میں رونما ہوتے ہیں۔ کیپٹل بجٹنگ کے فیصلوں پر غوروفکر کرنے سے قبل نقد بہاؤ کی رقموں کا محتاط تجزیہ ضروری ہے۔
(b) رٹرن کی شرح(Rate of Return) :کسی پروجیکٹ کا سب سے اہم معیار اس کی رٹرن کی شرح ہوتی ہے۔ کسی منصوبہ کے متوقع عوائد (Return) اور اس میں پوشیدہ خطرات کی صحیح جانچ پر ہی اس حساب کی بنیاد ہے۔ فرض کیجیے A اور Bدو پروجیکٹ ہیں(جن میں یکساں خطرات پوشیدہ ہیں) اور دونوں کی شرح رٹرن بالترتیب 10 اور 12 فی صد ہے۔ ایسی صورت میں عام حالات کے اندر B پروجیکٹ کاانتخاب کیا جائے گا۔
(c) سرمایہ کاری کے کیا معیار ہونے چاہئیں (The investment criteria involved): کسی بھی پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ لیتے وقت، سرمایہ کاری کی رقم، سود کی شرح، نقد بہاؤ اور شرح رٹرن (Rate of Return)وغیرہ کے تخمینے ضرور ذہن میں رکھنے چا ہئیں۔ سرمایہ کاری کے پروجیکٹوں کی قدروقیمت جانچنے کے لیے مختلف تکنیک ہیں جن کو کیپٹل بجٹنگ تکنیک کہا جاتا ہے۔ کسی بھی پروجیکٹ کو منتخب کرنے سے پہلے ان تکنیکوں کا استعمال کیا جاتاہے۔
مالی فیصلے میں مختلف دستیاب ذرائع کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ شیئر ہولڈروں کے فنڈ اور قرض لیے ہوئے فنڈ کسی بھی کمپنی کے لیے فنڈس کے اہم ذرائع ہوتے ہیں۔شیئر ہولڈروں کے فنڈ کا مطلب ہے ایکویٹی کیپٹل اور اس سے حاصل ہونے والی ثابت یافتیں(Retained Earning) قرض لیے ہوئے فنڈز سے مراد وہ فائیننس ہے جو قرض ناموں اور قرض کی دوسری شکلوں سے جٹایا گیاہو۔ یہ طے کرنا فرم کا کام ہوتا ہے کہ وہ کس ذریعے سے کتنا فنڈ جٹائے۔ اس فیصلے میں فنڈس کی خصوصیات کا بھی خیال رکھنا ہوتاہے۔ ادھار لیے گئے فنڈس پر سود کی ادائیگی میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے کہ فرم کو نفع ہوا یا نہیں ہوا۔ اس طرح ادھار لیے گئے فنڈس کی ادائیگی ایک معینہ مدت میں کی جائے گی۔ عدم ادائیگی کے خطرہ کو مالی خطرہ (Financial Risk)کہا جاتا ہے اور یہ سمجھا جائے گا کہ فرم کے پاس ان معینہ ادائیگیوں کے لیے کافی شیئر ہولڈر نہیں ہیں۔ اس کے برخلاف شیئر ہولڈروں کی ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ کیپٹل یا رٹرن کی واپسی ادائیگی (Repayment) کریں گے۔ اسی لیے فرم کوچاہیے کہ وہ مالی فیصلے لیتے وقت ہوشیاری کے ساتھ ادھار اور ایکویٹی دونوں سے ہی استفادہ کرے۔ یہ مالی فیصلے ایکویٹی، ترجیحی شیئر کیپٹل اور ثابت یافتوں(Retained Earnings) کے بارے میں ہوسکتے ہیں۔
ہر قسم کے فائیننس کی لاگت کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ کچھ ذرائع دوسروں کے مقابلے میں سستے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً قرض کو تمام ذرائع میں سب سے سستا ماناگیا ہے اور پھر سو دپرٹیکس کی کٹوتی اسے اور سستا بناد یتی ہے۔فائیننس کی فراہمی کے ہر ذریعے سے وابستہ خطرہ بھی الگ الگ ہوتاہے۔ مثلاً ادھار کی صورت میں سود کی ادائیگی مدت پوری ہونے پر اصل زر (Principal amount)کی واپسی کے ساتھ ضروری ہے۔ ایکویٹی شیئرز کے معاملے میں کسی ڈیویڈینڈ کی ادائیگی کی پابندی نہیں ہوتی۔ اس طرح،ادھار فائیننسنگ میں کچھ نہ کچھ مالی خطرہ بھی ہوتا ہے۔ مجموعی مالی خطرہ، کل کیپٹل میں ادھار کے تناسب پر منحصر ہے۔ فنڈ اکھٹا کرنے کی کوششوں میں کچھ نہ کچھ لاگت آتی ہے۔ اس لاگت کو تغیر پذیر لاگت (Floatation Cost)کہتے ہیں۔ مختلف ذرائع کی قدرو قیمت جانچتے وقت اس لاگت کا بھی دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔ اس طرح مالی فیصلے کا تعلق اس بات سے ہے کہ کتنا فنڈ کس ذریعے سے جٹایا جائے۔ یہی فیصلہ اس با ت کو متعین کرے گا کہ کیپٹل کی مجموعی لاگت کیا ہوگی اور انٹر پرائز کا مالی خطرہ کتنا ہوگا۔
مالی فیصلوں کو متاثر کرنے والے عوامل (Factors Affecting Financing Decision)
مالی فیصلوں پر مختلف عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ عوامل حسب ذیل ہیں:
(a) لاگت: فنڈس کو مختلف ذرائع سے جٹانے کی لاگت بھی مختلف ہوتی ہے۔ایک باشعور اور زیرک مالی منیجر عام حالات میں ایسے ذریعے کا انتخاب کرتا ہے جو سب سے سستا ہو۔
(b) خطرہ(Risk): فنڈس کے مختلف ذرائع کا خطرہ بھی مختلف ہوتاہے۔
(c) تغیر پذیر لاگتیں(Floatation Costs): تغیر پذیر لاگت جتنی زیادہ ہوگی ذریعہ اتنا ہی کم قابلِ توجہ ہوگا۔
(d) کاروبار کے نقد بَہاؤ کی پوزیشن(Cash Flow Position of the Business) : نقد بہاؤ کی مضبوط پوزیشن ایکویٹی کے ذریعے فنڈ جٹانے کے مقابلے میں ادھار مال کاری(Debt financing) کو زیادہ پائدار اور قابل حیات بناسکتی ہے۔
(e) فکسڈ نافذ لاگتوں کی سطح: (Fixed :Operating Costs) اگر کسی کاروبار کی فکسڈ آپریٹنگ لاگتوں (جیسے بلڈنگ کا کرایہ، بیمہ کی قسط، تنخواہیں وغیرہ) کی سطح زیادہ ہے تو کمپنی کو نچلی فکسڈفائیننسنگ لاگتوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اسی لیے کم درجے کی ادھار فائیننسنگ بہتر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر فکسڈ آپریٹنگ لاگت کم ہوتی ہے تو ادھار فائیننسنگ کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
(f) کنٹرول سے متعلق امور(Control Considerations): زیادہ ایکویٹی کے ایشوز (Issues) سے کاروبار کے اوپر مینجمنٹ کا کنٹرول کم ہوسکتا ہے۔ادھار فائیننسنگ میں ایسا کوئی پہلو مضمر نہیں ہوتا جن کمپنیوں کو تحویل کا خطرہ لاحق ہوتا ہے وہ ایکویٹی کے بالمقابل ادھار کو ترجیح دیتی ہیں۔
(g کیپٹل مارکیٹ کی حالت(State of Capital Market): کیپٹل مارکیٹ کی صحت فنڈ کے ذریعے کے انتخاب کو متاثر کرسکتی ہے۔جس زمانے میں اسٹاک مارکیٹ میں اچھال ہوتاہے تو اکثر لوگ ایکویٹی میں سرمایہ کاری کے لیے تیار رہتے ہیں۔ بہر حال کیپٹل کی کساد بازاری میں ایکویٹی شیئر جاری کرنا ہر کمپنی کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔
کارپوریٹ انڈیا نے ڈویڈینڈ اور بونس کا اعلان کیا
کارپوریٹ انڈیا نے شیئر ہولڈروں کے لیے اپنی تجوری کا منہ کھول دیا ہے اور ان کو عارضی ڈویڈینڈ(Interim Dividend)او ر بونس شیئروں سے نواز نے کی پالیسی اپنائی ہے۔ کم از کم ساٹھ کمپنیوں نے عارضی بونس دینے کا اعلان کر دیا ہے یا جنوری کے پہلے تین ہفتوں میں ایسا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً بارہ کمپنیوں نے اسی مہینے جنوری 2006کے مقابلے تین گنابونس شیئر جاری کرنے کااعلان کیاہے۔
ایسے بہت سے کام ہیں جوایک کمپنی شیئر ہولڈروں کی قدرو قیمت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے کرسکتی ہے اور ان میں سب سے سادہ اور براہ راست شکل ڈویڈینڈ کی ہے۔ آئیڈیل طور پر کمپنیوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ شیئر ہولڈروں کے کل رٹرن (Returns) کی نقد ادائیگی اور اسٹاک کی قدر بڑھانے میں توازن قائم رکھیں۔
ڈویڈینڈ اور بونس کا یہ رحجان کمپنیوں کو ہونے والے اچھے منافعوں کے ساتھ ہی وجود میں آیا ہے۔ یہ دراصل شیئر ہولڈروں کو انعامات سے نوازنے کا ایک طریقہ ہے۔
بہت سی کمپنیوں نے اپنے شیئر ہولڈروں کے لیے بونس شیئروں کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ جن کمپنیوں نے پہلے ہی بونس شیئروں کا اعلان کیاہے یا بورڈ کی اگلی میٹنگ میں اس مسئلے کو اٹھانے کا وعدہ کیا ہے ان میں سے اکثر کمپنیاں چھوٹی یا درمیانی قسم کی ہیں۔
ماخذ : دی ایکونامک ٹائمز
ڈیویڈینڈ کافیصلہ(Dividend Decision)
تیسرا اہم فیصلہ جو ہر مالی منیجر کو لینا پڑتا ہے، ڈیویڈینڈ کی تقسیم سے تعلق رکھتاہے۔ڈیویڈینڈ منافع کا وہ حصہ ہے جس کو شیر ہولڈرس کے درمیان تقسیم کیاجاتا ہے۔فیصلہ یہ لینا ہوتا ہے کہ کمپنی نے جس نفع کو کمایا ہے (ٹیکس کی ادائیگی کے بعد) اس میں سے کتنا حصہ شیئر ہولڈرس کے درمیان تقسیم کیا جائے اور کتنا حصہ سرمایہ کاری کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کمپنی میں ہی باقی رکھا جائے۔ ڈیویڈینڈ چالو آمدنی کا اظہار ہے جب کہ ثابت یافتیں (Retained Earning) فرم کی آئندہ ہونے وا لی آمدنی کی صلاحیت میں اضافے کرتی ہیں۔ ثابت یافتیں(Retained Earning)کتنی ہیں۔ یہ بات بھی فرم کے مالی فیصلوں پراثر انداز ہوتی ہے۔ جب فرم کو ثابت یا فتوں کی دوبارہ سرمایہ کاری کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی ثابت یافتوں کی مقدار کمپنی میں موجود ہے تو ڈیویڈینڈ کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت شیئر ہولڈر کی دولت کو حد درجہ بڑھانے کے مجموعی مقصد کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔
ڈیویڈینڈ کے فیصلے کو متاثر کرنے والے عوامل
(Factors affecting Dividend Decision)
کمپنی نے جو منافع کمایا ہے اس میں سے کتنا منافع تقسیم کیا جائے اور کتنا منافع کاروبار میں باقی رکھاجائے اس فیصلے پر بہت سے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں، ان میں سے چنداہم عوامل پر ہم ذیل میں گفتگو کرتے ہیں۔
(a) یافتیں (Amount of Earning): چالو اور گزشتہ یافتوں (Earnings)میں سے ڈیویڈینڈ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اس لیے ڈیوڈینڈ کے بارے میں یافتوں (Earning)کی حیثیت بہت فیصلہ کن ہوتی ہے۔
(b) یافتوں کی پائداری(Stability of Earning): اگر دیگر امور بدستور ہیں تو وہ کمپنی ہی اونچے ڈیوڈینڈ کے اعلان کی اہل ہوگی جس کی یافتیں (Earnings) پائدارہوں گی۔اس کے برخلاف جس کمپنی کی یافتیں(Earnings)جتنی غیر مضبوط ہوں گی بظاہر امکان یہ ہے کہ اس کے ڈیویڈینڈ بھی اتنے ہی کم ہوں گے۔
(c) ڈیویڈینڈس کا استحکام (Stability ofDividends): دیکھا یہ جاتا ہے کہ عام طور پر کمپنیاں فی شیئر ڈیویڈینڈ کو مستحکم (Stabilize) کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔ ڈیویڈینڈ میں اضافہ عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب یہ بات یقین کی حدتک پہنچ جاتی ہے کہ موجودہ سا ل کی یافتوں ہی میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ آمدنی کے بالقوۃ امکانات میں بھی اضافہ ہواہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اگر یافتوں میں تبدیلی ہے یا پھر اس کی نوعیت عارضی ہے تو فی شیئر ڈیویڈینڈ کو بڑھایا نہیں جاتا۔
(d) نمو کے مواقع(Growth opportunities): جن کمپنیوں کو نمو کے مواقع حاصل ہوتے ہیں وہ اپنی یافتوں میں سے روپیے پیسے کو بچا کر باقی رکھتی ہیں تاکہ ضروری سرمایہ کاری کے لیے فائیننس فراہم کرسکیں۔ نمو والی کمپنیوں میں ڈیویڈینڈ غیر نمووالی کمپنیوں کے مقابلے کم ہوتے ہیں۔
(e) نقد بہاؤ کی پوزیشن (Cash Flow Position): ڈیویڈینڈس میں نقد کا بیرونی بہاؤ ہوتاہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک کمپنی نفع میں چل رہی ہو لیکن اس کا نقد کم ہو۔کمپنی میں نقد کی کافی موجودگی کمپنی کے ذریعے ڈیویڈینڈ کے اعلان کے واسطے ضروری ہے۔
(f) شیئر ہولڈرس کی ترجیحات (Share- holders Preference): ڈیویڈینڈ کا اعلان کرتے وقت، مینجمنٹ عام طور پر شیئر ہولڈروں کی ترجیحات کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ اگر شیئر ہولڈروں کی عام خواہش یہ ہوتی ہے کہ کچھ نہ کچھ رقم ڈیویڈینڈ کے طور پر ادا کی جائے تو کمپنیاں اسی طرح کا اعلان کر دیتی ہیں۔ایسے شیئر ہولڈر ہمیشہ ہی ہوتے ہیں جو اپنی سرمایہ کاری سے ہونے والی ایک باقاعدہ آمدنی پر منحصر ہوتے ہیں۔
(g) ٹیکس پالیسی(Taxation Policy): ڈیویڈینڈ کی ادائیگی اور یافتوں کو ثابت رکھنے کے درمیان انتخاب کی ایک حد ہوتی ہے اس انتخاب پر سرمایہ کے فوائد اور ڈیویڈینڈ کے ٹیکس ٹریٹمنٹ کا اثر پڑتا ہے۔ اگر ڈیویڈینڈ پر ٹیکس زیادہ ہے تو ڈیویڈینڈ کے ذریعے کم ادائیگی کرنا زیادہ اچھا ہوگا۔ اس کے بالمقابل اگر ٹیکس کی شرحیں نسبتاً کم ہیں تو زیادہ ڈیوڈینڈ کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ شیئر ہولڈروں کے ہاتھ میں ڈیویڈینڈ ٹیکس فری ہوتے ہیں لیکن کمپنیوں پر ڈیویڈینڈ کی تقسیم کا ٹیکس لگا دیاجاتا ہے۔ اس طرح موجودہ ٹیکس پالیسی کے تحت، شیئر ہولڈر زیادہ ڈیویڈینڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔
(h) اسٹاک مارکیٹ کا ردعمل(Stock Market Reaction): عام طور پر ڈیویڈینڈ میں اضافے کو سرمایہ کار خوش خبری سمجھتے ہیں اور اسی لیے شیئربازار کی قیمتوں کا ردّعمل بھی مثبت ہوتاہے۔ اسی طرح ڈیویڈینڈ میں کمی کا اثر اسٹاک مارکیٹ کی شیئر قیمتوں پر منفی ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں مینجمنٹ کوئی فیصلہ کرتے وقت ایکویٹی شیئر قیمت پر ڈیویڈینڈ پالیسی کے ممکنہ اثر کو ضرور ذہن میں رکھتا ہے۔
(i) کیپٹل مارکیٹ میں رسائی(Access to Capital Market): عام طور پر بڑی اور مشہور کمپنیوں کی رسائی کیپٹل مارکیٹ میں خوب ہوتی ہے اور اس لیے اپنی نشوونما کو فائیننس کرنے کے لیے ان کو برقرار یافتوں پر زیادہ انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ کمپنیاں، چھوٹی کمپنیوں کے مقابلے زیادہ ڈیویڈینڈ ادا کرسکتی ہیں کیونکہ بازار میں چھوٹی کمپنیوں کی رسائی نسبتاً کم ہوتی ہے۔
(j) قانونی پابندیاں(Legal constraints): کمپنی کی کچھ دفعات کے تحت ڈویڈینڈس کے طور پر کی جانے والی ادائیگیوں پر کچھ پابندیاں بھی ہیں۔ ڈویڈینڈس کا اعلان کرتے وقت ان پابندیوں کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔
(k) مستاجرانہ پابندیاں (Contractual constraints): کسی کمپنی کو قرض منظور کرتے وقت، قرض دینے والا، مستقبل میں ڈیویڈینڈ کی ادائیگی پر کچھ پابندیاں بھی عائد کرسکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا کمپنیوں کا کام ہے کہ اس سلسلے میں ڈیوڈینڈ سے معاہدۂ قرض کی خلاف ورزی نہ ہو۔
مالی منصوبہ بندی
(FINANCIAL PLANNING)
کسی تنظیم کے آئندہ کاموں کے بارے میں مالی دستاویز (Blueprint)کا تیار کرناہی مالی منصوبہ بندی ہے۔ مالی منصوبہ بندی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فنڈس بر وقت اور حسب ضرورت دستیاب ہوجائیں گے۔ اگر حسب ضرورت فنڈس مہیا نہیں ہوتے ہیں تو فرم نہ اپنی ذمے داریوں اور معاہدوں کو پورا کرپائے گی اور نہ اپنے منصوبوں کو انجام دے پائے گی۔ اس کے برخلاف، اگر فنڈس ضرورت سے زیادہ ہوئے تو اس سے غیر ضروری طور پر لاگت میں اضافہ ہوگا اور بے ضرورت فضول خرچی کو فروغ ملے گا۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مالی منصوبہ بندی نہ مالی مینجمنٹ کے مساوی ہے اور نہ اس کا متبادل۔ مالی مینجمنٹ کا مقصد بہترین سرمایہ کاری اور مالی متبادلوں کا انتخاب ہے اور اس کے لیے ان متبادلوں کی لاگتوں اور ان کے فوائد پر ہی توجہ دی جاتی ہے۔مالی مینجمنٹ کی غرض شیئر ہولڈروں کی دولت میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے بر خلاف مالی منصوبہ بندی کا مقصد یہ ہے کہ تنظیم کے تمام کام ٹھیک طور پر انجام پائیں جس کے لیے ضرورت اس بات کی ہوگی کہ مالی فیصلوں کی روشنی میں فنڈس کی ضرورتوں اور ان کی فراہمی پر بھر پور توجہ دی جائے۔ مثال کے لیے اگر کیپٹل بجٹنگ کا کوئی فیصلہ لیاگیا ہے تو سارے عملی امور یا آپریشن بڑے پیمانے پر ہوں گے نیز اخراجات اور ریونیوز کی رقم بھی بڑھ جائے گی۔ مالی منصوبہ بندی کاعمل ان تمام مدوں کی پیشین گوئی کا ہے جن میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ مالی منصوبہ بندی سے مینجمنٹ اس قابل ہوجاتا ہے کہ یہ پتا لگا سکے کہ کس وقت اور کتنے فنڈس کی ضرورت پڑے گی۔
فنڈس کی امکانی کمی اور زیادتی کے بارے میں بھی مالی منصوبہ بندی کے ذریعے پیشین گوئی کی جاسکتی ہے تاکہ ہر قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔اس طرح مالی منصوبہ بندی سے مندرجہ ذیل دو مقصد حاصل ہوتے ہیں۔
(a) جب کبھی ضرورت ہو تو فنڈس کی فراہمی کو یقینی بنانا: اس میں مختلف مقاصد جیسے طویل مدتی اثاثوں کی خریداری کا روبار کے روز مرہ کے اخراجات وغیرہ کی تکمیل کے لیے مطلوبہ فنڈس کا تخمینہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس میں یہ اندازہ کرنابھی شامل ہے کہ ان فنڈس کی ضرورت کب ہوسکتی ہے۔ مالی منصوبہ بندی میں ان فنڈس کے حصول کے لیے ممکنہ ذرائع کی بھی صراحت کی جاتی ہے۔
(b) یہ خیال بھی رکھنا کہ فرم غیر ضروری طور پر ذرائع کا استعمال نہیں کرتی: جس طرح ناکافی فنڈس ایک برائی ہے ایسے ہی فنڈس کی زیادتی بھی غلط ہے۔اچھی پلاننگ زائد پیسہ ہونے کی صورت میں اس کا بہتر سے بہتر استعمال بتائے گی تاکہ مالی ذرائع معطل نہ پڑیں اوران سے غیر ضروری طور پر لاگت میں اضافہ نہ ہو۔
اس طرح، مالی منصوبہ بندی فنڈس کی ضرورتوں اور ان کی فراہمی کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہے۔ کاروبار کے لیے فنڈس کی ضرورت کا تخمینہ لگانا اور ان فنڈس کے حصول کے لیے وسائل کی صراحت کرنا مالی منصوبہ بندی کا کام ہے۔ مالی منصوبہ بندی میں ایک دی گئی مدت کے لیے فنڈس کی ضرورت، اس کی سرمایہ کاری، فنڈس کا نمو اور ان کی کار کردگی سے بحث ہوتی ہے۔ مالی منصوبہ بندی میں طویل مدتی اور قلیل مدتی دونوں ہی منصوبہ بندی شامل ہیں۔ طویل مدتی پلاننگ کا تعلق طویل مدتی نمو اور سرمایہ کاری سے ہے۔اس کا سارا زور کیپٹل اخراجات کے پروگراموں پر ہوتاہے۔ قلیل مدتی پلاننگ قلیل مدتی منصوبے کے لیے ہوتی ہے جسے بجٹ کہا جاتا ہے۔
مالی منصوبہ بندی تین سے پانچ سال کے لیے کی جاتی ہے۔اس سے زیادہ مدت کے لیے یہ کام مشکل بھی ہوتا ہے اور مفید بھی کم ہوتاہے۔ ایک سال یا اس سے کم کی مدت کے لیے بنائے گئے پلان کو بجٹ کہا جاتا ہے۔ بجٹ وسیع ترمعنی میں مالی منصوبہ بندی ہی ہے۔بجٹ میں ایک سال یا اس سے کم مدت کے لیے تفصیلی لائحہ عمل شامل ہوتاہے۔مالی منصوبہ بندی کی شروعات عام طور پر بِکری(Sales)کے تخمینوں سے ہوتی ہے، مثلا ایک کمپنی اگلے پانچ سال کے لیے، ایک منصوبہ بنا رہی ہے۔ پہلے وہ یہ تخمینہ لگائے گی کہ اگلے پانچ برسوں میں کتنی فروخت ہوگی۔ فکسڈ کیپٹل اور ورکنگ کیپٹل میں سرمایہ کاری کے لیے فنڈس کی ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس فروخت پر مبنی مالی گوشواروں کو تیار کیاجائے گا۔پھر اسی مدت میں متوقع منافع کا تخمینہ لگایا جائے گا تاکہ یہ اندازہ ہوجائے کہ کتنے فنڈس کی تکمیل اندرونی ذرائع سے یعنی (ڈیویڈینڈس کی ادئیگی کے بعد) برقرار یافتوں سے ہوسکتی ہے۔اس کے نتیجے میں یہ تخمینہ بھی لگ جائے گا کہ بیرونی فنڈس کی کتنی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی نشان دہی ہو جائے گی کہ بیرونی فنڈس کی ضرورتیں کن وسائل سے پوری کی جاسکیں گی اور ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے کیش بجٹ بھی بنائے جاسکیں گے۔
اہمیت(IMPORTANCE)
مالی منصوبہ بندی کسی بھی کاروباری انٹرپرائز کی مجموعی منصوبہ بندی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا مقصد کمپنی کو اس لائق بنا دینا ہے کہ وہ فنڈس کی بروقت فراہمی کے معاملے میں غیر یقینی صورت حال سے نبردآزما ہوسکے اور تنظیم کو بہتر طور پر چلانے میں مددگار ہوسکے۔ مالی منصوبہ بندی کی اہمیت درج ذیل نکات کی بنیاد پر واضح کی جاسکتی ہے۔
ادھار میں کمی لانا (Cutting Back on Debt)
بہت کامیابی کے ساتھ چلنے والے کاروباروں کو بھی ادھار لینا ہوتا ہے لیکن کتنا ادھار ضروری اور کتنا بہت زیادہ ہے؟ یہ ہنر سیکھ لینا ہی ترقی کا ضامن ہے کہ ادھار کا لین دین اور ان کا استعمال کس طرح ہو۔
ادھار کی صحیح رقم کی بات کریں تو اس کا مطلب وہی فرق ہے جو زندگی کی بقا کے لیے جدو جہد کرنے والی کمپنی کے درمیان اور اس کمپنی کے درمیان ہے جو تغیر پذیر معاشی ماحول یا مارکیٹ ماحول سے خود کو ہم آہنگ کرلے۔ایسے بہت سے حالات ہیں جن کی وجہ سے ادھار لینے کی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ اصولی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جب آپ کو نقد کے بہاؤ کی حفاظت کرنی ہو یا نمو اور توسیع کو مالی سہارا دینا ہو تو ادھار لینا ہی دانائی کی بات ہے۔جب آپ نے ادھار کا سہارا لیا ہے تو پھر کاروبار میں نمو بھی آنا ضروری ہے۔بہت زیادہ ادھار آپ کے کاروبار کو لے کر ڈوب بھی سکتاہے۔ اس لیے سوال یہی ہے کہ کتنا ادھار مناسب ہے؟
ماہرین کے خیال میں اس کا جواب آپ کے نقد کے بہاؤ اور آپ کی صنعت کے محتاط تجزیہ میں پوشیدہ ہے۔ جو کاروبار نمو نہیں کرتا وہ مرجاتا ہے۔ کاروبار کی زندگی کے لیے نمو ضروری ہے بلکہ یوں کہیے کہ کاروبار کی مالی مشکلات اور پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی کاروبار کا نمو ضروری ہے۔ کاروبار کی بقا اور زندگی کے لیے کیپٹل کی کون سی ساخت آئیڈیل ہے؟ (آپ کی انڈسٹری میں) جتنی زیادہ طیران پذیری ہوگی اتنا ہی کم قرض آپ کو لینا ہوگا۔ اگریہ طیران پذیری کم ہوگی آپ اتنا ہی زیادہ قرض لے سکیں گے۔
اگرچہ بینک اور دوسرے مالی ادارے کبھی کاروباری اکائی کو قرض منظور کرنے سے پہلے ادھار۔ایکویٹی نسبت کے سلسلے میں اپنا اطمینان کرلیتے ہیں لیکن یہ مت مان لیجیے کہ قرض خواہ کی فنڈس بڑھانے کی خواہش اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ آپ کا کاروبار مضبوط ادھار کی پوزیشن میں ہے۔ کچھ مالی ادارے ادھار دینے میں بڑا جوش وخروش دکھاتے ہیں خاص طور پر ہونہار گراہکوں کو لبھانے کے لیے یا گراہکوں کو مستقل اسامی بنانے کے لیے۔ ایسا بھی ہے کہ بینکوں کی نظر کفالت پر زیادہ اور اس بات پر کم ہو کہ آیا کاروبار کی صحت قرض لینے کے متحمل بھی ہے یا نہیں۔
کریڈٹ کے ان تمام خطرات سے بچنے کے لیے آپ کو اپنے کاروبار کے تمام مالی حقائق پیش نظر رکھنے چاہئیں اور قرض لینے کے سلسلے میں صحیح فیصلے کرنے چاہئیں۔ بدقسمتی سے بہت سی تنظیمیں اس بات کی اہمیت کو نظر انداز کردیتی ہیں کہ کاروبار کو کامیابی سے چلانے کے لیے مالی تجزیے کتنے ضروری ہیں۔ ایسے مالکان بھی ہیں جو اپنے منشیوں سے مفصل مالی گوشوارے بنواتے ہیں لیکن ان میں موجود قیمتی معلومات سے صحیح استفادہ نہیں کرپاتے۔
(i) مالی منصوبہ بندی سے یہ اندازہ کرنے میں مدد ملے گی کہ مختلف کاروباری حالات کے تحت مستقبل میں کیا صورت حال پیش آئے گی۔ اس طرح فرم رونما ہونے والے واقعات سے بہتر طور پر عہدہ برآ ہوسکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آئندہ کے حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے خود کو بہتر طور پر تیار کرسکتی ہے۔ مان لیجیے، فروخت میں 20 فی صد نمو کا تخمینہ لگایا گیاہے لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ شرح نمو(Growth rate) دس(10) فی صد رہ جائے یا پھر 30فی صد تک بڑھ جائے۔ ان تینوں صورتوں میں خرچ کی بہت سی مدیں مختلف ہوں گی۔ ان تینوں صورتوں کی ایک دستاویز(Blue print)تیار کرکے مینجمنٹ یہ فیصلہ لے سکتا ہے کہ ہر ایک صورت میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔مختلف صورتوں میں حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل مالی منصوبوں کی تیاری کاروبار کو اچھے طریقے سے چلانے میں بہت مددگار ہوگی۔
(ii) مالی منصوبہ بندی سے کاروبار کو اتفاقی مشکلات اور اچانک رونما ہونے والے واقعات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے نیز کمپنی مستقبل کے لیے خود کو تیار کرلیتی ہے۔
(iii) اس سے مختلف کاروباری امور جیسے فروخت اور پیداوار وغیرہ کے درمیان تال میل پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے کیوں کہ یہ مالی منصوبہ بندی واضح پالیسی اور واضح طریقۂ کار فراہم کرتی ہے۔
(iv) مالی منصوبہ بندی کے تحت تیار کیے گئے تفصیلی عملی منصوبے، بربادی (wastage)، کوششوں کی تکرار اور پلاننگ کے خلا کو کم کرتے ہیں۔
(v) منصوبہ بندی حال کو مستقبل سے مربوط کرتی ہے۔
(vi) مالی منصوبہ بندی سرمایہ کاری اور مالی فیصلوں کے درمیان مسلسل طور پر ایک رابطے کا کام کرتی ہے۔
(vii) کاروبار کے مختلف حصوں کے تفصیلی مقاصد کی تکمیل کے لیے، مالی منصوبہ بندی حقیقی کارکردگی کی جانچ اور تشخیص کو آسان بنا دیتی ہے۔
کیپٹل ڈھانچہ
(CAPITAL STRUCTURE)
مالی مینجمنٹ کے تحت ایک اہم فیصلہ فنڈس مہیا کرانے کے لیے مختلف ذرائع کے استعمال کے مالی پیٹرن(Pattern)یا تناسب سے متعلق ہے۔ ملکیت کی بنیاد پر،کاروباری فائیننس کے ذرائع بڑے پیمانے پرروزمروں میں بانٹے جاسکتے ہیں۔ یہ دونوں زمرے ہیں مالکان کے فنڈس اور قرض لیے ہوئے فنڈس۔ مالکان کے فنڈس میں ایکویٹی شیئرکیپٹل، ترجیحی شیئر کیپٹل محفوظ(Reserves) اور سرپلس یا ثابت یافتیں (Retained Earnings)شامل ہیں۔ جو فنڈس قرض لیے گئے ہیں وہ مختلف شکلوں مثلاً لون(loan)، ڈبینچر اور پبلک ڈیپازٹ وغیرہ کی شکل میں ہوسکتے ہیں۔قرض بینکوں، مالی اداروں ڈبنچر ہولڈروں اور پبلک سے لیے جاسکتے ہیں۔
کیپٹل ڈھانچہ کا مطلب ہے مالکان اور قرض لیے گئے فنڈس کی مخلوط ترتیب۔ آئندہ متن میں ان کو ایکویٹی اور ڈیٹ (Equity and Debt) کہا جائے گا۔ اس کا حساب قرض۔
ایکویٹی نسبت یعنی

یا پھر مجموعی کیپٹل میں سے قرض کے تناسب یعنی

سے کیا جائے گا۔
فرم کے نقطہ نظر سے ادھار اور ایکویٹی اپنی لاگت اور پُرخطر ہونے کے معاملے میں بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ادھار کی لاگت فرم کے لیے ایکویٹی کی لاگت سے کم ہوتی ہے کیوں کہ ادھار دینے والے کا رسک ایکویٹی شیئر ہولڈر کے رسک کے مقابلے کم ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ادھار دینے والوں کو کیپٹل کی یقینی واپسی اور پس ادائیگی (Repayment)کا فائدہ ہوتا ہے اور اسی لیے ان کورٹرن(Return)کی کم شرح چاہیے۔اس کے علاوہ، ادھار پر ادا کیا گیا سود، ٹیکس کی شکل اس ذمہ داری میں سے کم کیا جاتا ہے جب کہ ڈیویڈینڈس کی ادائیگی، مابعد ٹیکس (After-Tax) منافعوں میں سے کی جاتی ہے۔ اس طرح ادھار کا بڑھا ہوا استعمال فرم کی کیپٹل کی مجموعی لاگت کو کم کرتاہے بشرطیکہ ایکویٹی کی لاگت غیر متاثر رہے۔ فی شیئر آمدنی پر قرض۔ ایکویٹی نسبت میں تبدیلی کے اثرات اسی باب میں بعد میں زیر بحث آئیں گے۔
مثال1
کمپنی x لمیٹڈ
کل استعمال شدہ فنڈز(Total Funds Used) شرح سود شرح ٹیکس سود اور ٹیکس سے پہلے یافتیں(EBIT) قرض (Debt) پہلی صورت دوسری صورت تیسری صورت |
30 لاکھ روپیے سالانہ10 فی صد 30 فی صد 4 لاکھ روپیے صفر 10 لاکھ روپیے 20 لاکھ روپیے
|
EBIT-EPS تجزیہ
EBIT(سود اور ٹیکس سے پہلے یافتیں) سود EBT (ٹیکسوں سے پہلے یافتیں) ٹیکس EAT (ٹیکسوں کے بعد یافتیں) 10روپیے کے شیئروں کی تعداد EPS (یافتیں فی شیئر)
|
پہلی صورت 4,00,000 صفر 4,00,000 1,20,000 2,80,000 3,00,000 0.93
|
دوسری صورت 4,00,000 1,00,000 3,00,000 90,000 2,10,000 2,00,000 1.05
|
تیسری صورت 4,00,000 2,00,000 2,00,000 60,000 1,40,000 1,00,000 1.40
|
قرض سستا ہوتا ہے لیکن اس میں کاروبار کے لیے خطرہ (Risk) زیادہ ہے کیوں کہ اس میں سود کی ادائیگی اور اصل زر (Principal)کی واپسی کاروبار کے لیے لازمی ہیں۔ ان دونوں ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کے نتیجے میں کاروبار دیوالیہ ہوسکتاہے۔ البتہ ایکویٹی کے معاملے میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے اور اس لیے کاروبار کے لیے اس کو بے خطر سمجھا جاتاہے۔ قرض کا زیادہ استعمال کاروبار کے قائم اخراجات کو بڑھاتا ہے۔نتیجہ کے طور پر، قرض کا بڑھا ہوا استعمال کاروبار کے مالی خطرے کو بڑھاتا ہے۔
مالی خطرہ یہ ہے کہ فرم ضروری ادائیگیوں کو انجام دینے میں نا کام رہے۔
اس طرح کسی کاروبار کا کیپٹل ڈھانچہ(Capital Structure)نفع بخشی اور مالی خطرہ دونوں پر اثر انداز ہوتاہے۔ جب debt اور ایکویٹی کے تناسب سے، ایکویٹی شیئر کی قدر(Value)میں اضافہ ہو تو کہا جائے گا کیپٹل ڈھانچہ مساعد اور پسندیدہ ہے۔بالفاظ دیگر، کیپٹل ڈھانچے سے متعلق تمام فیصلے ایسے ہوں جن کا سارا زور شیئر ہولڈروں کی دولت کے بڑھانے پر ہو۔
مجموعی کیپٹل میں ادھار کے تناسب کو مالی لیوریج (Financial leverage) بھی کہا جاتا ہے۔مالی لیوریج کی تحسیب حسب ذیل طریقے سے ہوتی ہے:

جب کہ Debt=DاورEquity=E
جب مالی لیوریج (leverage) بڑھتا ہے تو سستے قرض کے بڑھے ہوئے استعمال کی وجہ سے فنڈس کی لاگت گھٹتی ہے لیکن مالی خطرہ بڑھتا ہے۔کاروبار کی نفع بخشی پر مالی لیوریج کا مشاہدہEPS-EBITکے تجزیے سے کیا جاسکتا ہے (اس تجزیے کو ذیل میں دی گئی مثال میں دیکھیے)۔
اس میں تین صورتیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی صورت (بنالیور کا کاروبار) میں قرض (Debt) نہیں ہوتا۔ دوسری اور تیسری صورت میں بالترتیب 10لاکھ اور 20لاکھ کا قرض مان لیاگیا ہے۔ یہ تمام قرض 10 فی صد سالانہ کے حساب سے ہے۔
اگر کمپنی بغیر لیور کی ہے تو فی شیئر 0.93روپیے کماتی ہے۔10 لاکھ کے قرض پر اس کا 1.05 EPS روپیہ ہے۔مزید 2لاکھ کے قرض پر EPSبڑھ کر 1.40 روپیہ ہوجاتاہے۔ اونچے قرض کے ساتھ ساتھ EPS کیوں بڑھتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض کی لاگت اس رٹرن (Return) سے کم ہے جو کمپنی لگائے گئے فنڈس سے کما رہی ہے۔ کمپنی سرمایہ کاری پر ایک رٹرن (ROI) حاصل کر رہی ہے۔
کمپنی جو سود قرض فنڈس پر ادا کرہی ہے، یہ اس سے 10فی صد زیادہ ہے۔ قرض کے اونچے استعمال کے نتیجے میںRolاور قرض کی لاگت کے درمیان فرق EPs میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ مالی لیوریج کی پسندیدہ صورتِ حال ہے۔
ایسی صورتوں میں کمپنیاں اکثرEPSبڑھانے کے لیے مزید سستے قرض حاصل کرتی ہیں۔ اس طرز عمل کو ٹریڈنگ آن ایکویٹی(Trading on Equity)کہا جاتا ہے۔
مثال2
کمپنیyلمیٹڈ
سود اور ٹیکس سے پہلے یافتیں سود ٹیکس سے پہلے یافتیں ٹیکس ٹیکس کے بعدیافتیں 10روپیے کے شیئروں کی تعداد یافتیں فی شیئر
|
پہلی صورت 2,00,000 صفر 2,00,000 60,000 1,40,000 3,00,000 0.47
|
دوسری صورت 2,00,000 1,00,000 1,00,000 30,000 70,000 2,00,000 0.35
|
تیسری صورت 2,00,000 2,00,000 صفر صفر صفر 1,00,000 صفر
|
قائم مالی اخراجات (Fixed Financial Charges) جیسے سود وغیرہ کی موجودگی کی وجہ سے جو منافع ایکویٹی شیئر ہولڈر کماتے ہیں۔ اس میں اضافے کو ٹریڈنگ آن ایکویٹی کہا جاتاہے۔
اب کمپنی y کے مندرجہ ذیل مثال پر غور کیجیے۔ تمام تفصیلات وہی ہیں سوائے اس کے کہ کمپنی سود اور ٹیکسوں سے پہلے دو لا کھ روپیے کا منافع کماتی ہے۔
اس مثال میں کمپنی کا EPS قرض کے بڑھے ہوئے استعمال کی وجہ سے گررہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری رٹرن کی شرح(Rol) قرض کی لاگت سے کم ہے۔ کمپنی yکا Rol ہے:

یعنی 6.67 فی صد
جب کہ قرض پر شرح سود10% ہے۔ ایسی صورتوں میں قرض کا استعمال EPSکو گھٹا دیتا ہے۔ یہ غیر مساعد یا ناپسندیدہ مالی لیوریج کی صورت حال ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ٹریڈنگ آن ایکویٹی غیر دانش مندانہ اقدام ہوگا۔
کمپنی Xکے معاملے میں بھی ٹریڈنگ آن ایکویٹی کے بے محابا استعمال کی سفارش نہیں کی جاسکتی۔ادھار کا زیادہ استعمالEPSکو بڑھادیتا ہے لیکن جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا ہے اس سے مالی خطرہ بھی بڑھ جاتاہے۔بہتر بات یہ ہے کہ کمپنی ایسے رسک رٹرن امتزاج (Combination) کا انتخاب کرے جس سے شیئر ہولڈروں کی دولت حد درجے بڑھ جائے۔ قرض ایکویٹی مکس (Debt-Equity Mix) جس سے یہ صورت حاصل ہوتی ہے، پسندیدہ کیپٹل ڈھانچہ ہے۔
کیپٹل ڈھانچہ کے انتخاب کو متاثر کرنے والے عوامل
(Factors affecting the choice of capital structure)
کسی فرم کے کیپٹل ڈھانچہ کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت فنڈس کی مختلف قسموں کے باہمی تناسب کا تعین کرنا ضروری ہوتاہے۔ یہ چیز مختلف عوامل پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر ادھار باقاعدہ سروسنگ (Servicing) کا متقاضی ہے کسی کاروبار کے لیے سود کی ادائیگی اور زراصل (Principal) کی واپسی لازمی ہے۔ اس کے علاوہ، جو کمپنی قرض جٹانے کے لیے پلاننگ کررہی ہے اس کے پاس کافی نقد ہونا چاہیے
تاکہ وہ اونچے قرض کی وجہ سے بڑھے ہوئے بیرونی بہاؤ (increase out flows) کا مقابلہ کرسکے۔ جو عوامل کیپٹل ڈھانچہ کے انتخاب میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
1۔ نقد بہاؤ کی پوزیشن(Cash flow Position): ادھار کے جاری ہونے سے قبل مجوزہ نقد بہاؤ کے سائز پر غور کرنا ضروری ہے۔ نقد بہاؤ سے نہ صرف فکسڈ نقد ادائیگی کی ذمہ داریوں کی تکمیل ہونی چاہیے بلکہ یہ کافی مقدار میں موجود بھی ہونے چاہئیں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ کمپنی کی نقد ادائیگی کی ذمے داریوں میں مندرجہ ذیل مدیں شامل ہیں۔ (i) عام کاروباری کام کاج (ii) قائم اثاثوں کے لیے سرمایہ کاری اور (iii) ادھار سے متعلق ذمہ داریوں کی تکمیل یعنی سود کی ادائیگی اور زراصل کی واپسی۔
2۔ سود کوریج تناس(Interest Coverage Ratio): ICR یعنی سود کوریج تناسب یہ ہے کسی کمپنی کی EBIT کتنی بار سود کی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے اس کا حساب درج ذیل طریقے پر لگایا جاتاہے۔

تناسب (Ratio) جتنا زیادہ ہوگا کمپنی کی سودی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔ بہر حال یہ تناسب مکمل پیمانہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کمپنی کی EBITاونچی ہو لیکن نقد بیلنس کم ہو۔ سود کے علاوہ، مالی ذمہ داریوں کی دوبارہ ادائیگی(Repayment)بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔
3۔ قرض سروس کوریج تناسب (Debt Service Coverage Ratio : DSCR) ICR: میں جو کمیاں (Deficiencies) بیان ہوئیں،DSCRان سے بچاتی ہے۔نقد فائدے کا حصول قرض ادائیگی کے لیے نقد کی کل ضرورت اور ترجیحی پونجی کے حصے کے درمیان موازنہ کرکے کیا جاتاہے۔ اسے درج ذیل فارمولے سے حل کیا جاتاہے:
غیر نقدی اخراجات + سود + فرسودگی+ ٹیکس کے بعد نفغ دوبارہ ادا یگی کی ذمہ داری + سود + ترجیحی ڈویڈ ینڈ
ونچیDSCRنقد ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے کمپنی کی بہتر صلاحیت کا اظہار ہے اور اسی لیے کمپنی کے کیپٹل ڈھانچہ میں ادھار کے رکن کا اضافہ کرکے اس سے کمپنی کی بالقوۃ استعداد کا پتا چلتا ہے۔
4۔ سرمایہ کاری پر رٹرن (Return on investment: RoI) اگر کمپنی کی ROIاونچی ہے تو وہ اپنی ESPبڑھانے کے لیے ٹریڈنگ آن اکیوٹی کا انتخاب کرسکتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ادھار کو استعمال کرنے میں اس کی اہلیت زیادہ ہے۔ ہم پہلی مثال میں دیکھ آئے ہیں کہ فرم اپنیESPبڑھانے کے لیے مزید ادھار کا استعمال کرسکتی ہے۔بہر حال دوسری مثال میں، اونچے ادھار کا استعمال EPSکو گھٹا رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ فرم صرف 6.67 فی صد کا ROIکما رہی ہے جو اس کی ادھار کی لاگت سے کم ہے۔ پہلی مثال میں 13.33 ROI فی صد ہے اور ٹریڈنگ آن ایکویٹی نفع بخش ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ٹریڈ آن ایکویٹی کو استعمال کرنے کی کمپنی کی صلاحیت کو متعین کرنے میں ROIکی ایک اہم حیثیت ہے۔
5۔ ادھار کی لاگت(Cost of Debt): کم شرح پر ادھار لینے کی کسی کمپنی کی اہلیت اس کی زیادہ ادھار استعمال کرنے کی صلاحیت کو بڑھا دیتی ہے۔ اس طرح اگر ادھارکم شرح پر حاصل کیاگیا ہے تو مزید ادھار کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
6۔ ٹیکس کی شرح(Tax Rate): چوں کہ سود کل آمدنی میں سے کم کیاجانے والا خرچ ہے اس لیے ٹیکس کی شرح ادھار کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہم نے جو مثالیں دی ہیں ان میں کمپنیاں 10فی صد ٹیکس کی شرح سے ادھار لیتی ہیں۔اگر ٹیکس کی شرح30 فی صد ہو تو ٹیکس کاٹنے کے بعد سود لاگت صرف 7 فی صد ہے۔ اس طرح ٹیکس کی اونچی شرح ادھار کو نسبتاً سستا بنادیتی ہے اور ایکویٹی کے مقابلے اس کی کشش کو بڑھادیتی ہے۔
7۔ ایکویٹی کی لاگت(Cost of Equity): شیئر ہولڈرس کو ایکویٹی سے رٹرن کی ایک شرح کی امید ہوتی ہےجو خطرہ سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ جب کوئی کمپنی اپنا ادھار بڑھاتی ہے تو ایکویٹی ہولڈرس کے لیے مالی خطرہ بھی بڑھ جاتاہے۔ نتیجتاً رٹرن کی مطلوبہ شرح میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے کمپنی ادھار کو ایک حد سے آگے استعمال نہیں کرسکتی۔اگر ادھار اس حد سے زیادہ استعمال میں لایا جاتا ہے تو ایکویٹی کی لاگت تیزی سے اچھل جائے گی اور شیئر کی قیمت بڑھی ہوئیEPSکے باوجود گھٹ جائے گی۔ اس لیے شیئر ہولڈرس کی دولت کو ازحد بڑھانے کے لیے ادھار کو صرف ایک سطح تک ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
8۔ تغیر پذیری کی لاگت(Floatation Cost): وسائل جٹانے کے عمل میں بھی لاگت آتی ہے۔ ڈبینچروں اور شیئروں کے پبلک ایشو میں قابل لحاظ خرچ آتاہے۔ کسی مالی ادارے سے قرض(Loan)میں اتنی لاگت نہیں آتی۔ادھار اور ایکویٹی میں سے کسی ایک کے انتخاب میں لاگت بھی ایک اہم عامل ہے اور اس طرح ڈھانچہ پر بھی یہ چیز اثرانداز ہوتی ہے۔
9۔ خطرے کا پہلو(Risk Consideration): جیسا کہ اس سے قبل ہم نے گفتگو کی، ادھار کے استعمال سے کاروبار کا مالی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مالی خطرے سے وہ پوزیشن مراد ہے جب کوئی کمپنی اپنی فکسڈ مالی ذمے داری خاص طور پر سود کی ادائیگی، ترجیحی ڈیویڈینڈ اور واجبات کی دوبارہ ادائیگی (Repayment of obligations)کو انجام دینے کی اہل نہیں رہتی۔ مالی خطرے کے علاوہ ہر کاروبار کو کچھ عملی خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان عملی خطرات کو کاروباری خطرات (Business risks)بھی کہا جاتا ہے۔کاروباری خطرات کا انحصار فکسڈ آپریٹنگ لا گتوں پر ہوتاہے۔ اونچی فکسڈ آپریٹنگ لاگتوں کا نتیجہ اونچے کار وباری خطرات کی شکل میں یا اس کے برعکس نکلتا ہے۔مجموعی خطرہ(Total Risk): کاروباری خطرے اور مالی خطرے دونوں پر منحصر ہوتاہے۔ اگر کسی کاروباری فرم کا خطرہ کم ہے تو اس کی ادھار کو استعمال کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر صور ت حال اس کے برعکس ہے تو نتیجہ بھی اس کے برعکس ہوگا۔
10۔ لچک(Flexibility): اگر کوئی کمپنی اپنے ادھار کی صلاحیت کا بھر پور استعمال کرتی ہے تو وہ مزید ادھار جاری کرنے کی لچک کو کھو بیٹھتی ہے۔ لچک کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کمپنی ادھار لینے کی اپنی قوت کو برقرار رکھے تاکہ نادیدہ حالات کا مقابلہ کرسکے۔
11۔ کنٹرول(Control): ادھار کا مطلب عام حالات میں یہ نہیں لیا جاسکتا کہ یہ کنٹرول میں کمی کا موجب ہے۔ ایکویٹی کے پبلک اشو سے کمپنی میں مینجمنٹ کی
گرفت کم ہوسکتی ہے اور اس سے تحویل(Take over) کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔یہ چیز ادھار اور ایکویٹی کے درمیان انتخاب پر بھی اثر انداز ہوتی ہے خاص طور پر ان کمپنیوں میں جہاں مینجمنٹ کی موجودہ گرفت زیادہ مضبوط نہ ہو۔
12۔ ریگولیٹری فریم ورک(Regulatory Frame work): ہر کمپنی قانون کے تحت بنے ریگولیٹری فریم ورک کے اندر کام کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ڈبینچرز اور شیئر کے پبلک اشوSEBIکے رہنما اصولوں کے تحت آتے ہیں۔ بینکوں اور دوسرے مالی اداروں سے فنڈ کی فراہمی کے لیےدیگر اصول و ضوابط کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔ ان ضوابط کی رعایت اور کاغذی کاروائیوں کی تکمیل کا اثر فائیننس کے وسیلے کے انتخاب پر بھی پڑتا ہے۔
13۔ اسٹاک مارکیٹ کی حالتیں(Stock Market Conditions): اگر اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رحجان ہے تو ایکویٹی شیئرز آسانی سے بک جاتے ہیں اور قیمت بھی اونچی مل جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں کمپنیاں ایکویٹی کے استعمال کو ترجیح دیتی ہیں۔ البتہ جب اسٹاک مارکیٹ میں قیمتوں کے گرنے کا رحجان ہو تو کمپنی کے ایکویٹی کیپٹل کی فراہمی ذرا مشکل ہوجاتی ہے اور پھر اس کو ادھار کا سہارالینا پڑتاہے۔اس طرح اسٹاک مارکیٹ کے حالات اکثر ان دونوں (Debt & Equity) پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
14۔ دوسری کمپنیوں کا کیپٹل ڈھانچہ (Capital Structure of other Campanies): ایک ہی صنعت میں دوسری کمپنیوں کی ادھار۔ ایکویٹی کا تناسب کیپٹل ڈھانچے کی پلاننگ کے لیے بہت مفید رہنما اصول ثابت ہوتے ہیں۔ عام طور پر انڈسٹری کے قاعدے قانون (Norms) بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس بات کادھیان رکھنا بے حد ضروری ہے کہ کمپنی بے سوچے سمجھے ان قاعدے قانون کی پابندی نہ کرے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرم کاکاروباری خطرہ اونچا ہے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوگی کہ اسی جیسے مالی رسک کو بھی برداشت کرے۔ اس کو کم ادھار کاسہارا لیناہوگا۔ اس طرح مینجمنٹ کے لیے جاننا ضروری ہے کے انڈسٹری کے قاعدے قانون کیا ہیں، کیاوہ ان قاعدے قانون کی پابندی کررہا ہے یا ان سے انحراف کررہاہے۔ ان قاعدے قانون کی پابندی یا ان سے انحراف دونوں ہی صورتوں کے لیے کافی وجوہات کا ہونا ضروری ہے۔
قائم اور چالو سرمایہ (FIXED AND WORKING CAPITAL)
معنی (Meaning)
ہر کاروبار کو اپنے اثاثوں اور اپنی سرگرمیوں کو فا ئننس کرنے کے لیے فنڈس کی ضرورت ہوتی ہے۔ قائم اثاثوں(Fixed assets)اور چالو اثاثوں(Current assets)دونوں کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ قائم اثاثے وہ ہیں جو ایک سال سے زیادہ کاروبار میں باقی رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ اس سے زیادہ مدت کے لیے ہی باقی اور قائم رہتے ہیں۔پلانٹ، مشینری، فرنیچر، فکسچر، جائیداد، عمارتیں اور گاڑیاں وغیرہ قائم اثاثوں کی مثالیں ہیں۔
قائم اثاثوں میں سرمایہ کاری کا فیصلہ بہت احتیاط کے ساتھ کرنا جانی چاہیے کیوں کہ ان اثاثوں میں عام طور پر سرمایہ کاری کافی بڑے پیمانے پر کرنی پڑتی ہے۔ پھر یہ بھی اہم بات ہے کہ ان اثاثوں میں سرمایہ کاری قابل رجعت (Revocable) نہیں ہوتی اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ قائم اثاثوں میں سرمایہ کاری کرکے فیصلوں کو کیپٹل بجٹنگ فیصلے کہا جاتا ہے۔
چالو اثاثے وہ اثاثے ہیں جو کاروباری معمول (Routine) میں ایک سال کے اندر نقد یا نقد کے ہم قیمت (Cash Equivalent)میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ نقد کے ہم قیمت(Cash Equivalent)میں اسٹاک، قر ض دا ر اور قابل وصول بلوں کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
قائم سرمایہ کا مینجمنٹ
(Management of Fixed Capital)
طویل مدتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کو قائم کیپٹل کہاجاتا ہے۔ قائم سرمایہ کے مینجمنٹ میں فرم کے کیپٹل کا مختلف پروجیکٹوں یا ایسے اثاثوں کے لیے مختص کرنا شامل ہے جن کی نوعیت کاروبار کے لیے طویل مدتی ہو۔ ان فیصلوں کوسرمایہ کاری فیصلے یا کیپٹل بجٹنگ فیصلے کہا جاتا ہے اور یہ فیصلے مستقبل میں کاروبار کی نمو نفع بخشی اور خطرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ طویل مدتی اثاثے ایک سال سے زیادہ چلتے ہیں۔
سرمایہ کے طویل مدتی وسائل مثلاً ایکویٹی یا ترجیحی شیئرز، ڈبینچرز، طویل مدتی قرضوں اور کاروباری ثابت یافتوں کے ذریعے ہی قائم اثاثوں کی فائیننسنگ کرنی چاہیے۔ قائم اثاثوں کی فائیننسنگ قلیل مدتی وسائل سے نہیں کی جانی چاہیے۔
ان اثاثوں میں سرمایہ کاری ان اخراجات پر بھی مشتمل ہوتی ہے جو ان اثاثوں کے حصول توسیع، تجدید کاری اور ان کو بدلنے پر آتے ہیں۔ ان سرمایہ کاری فیصلوں میں، جائیداد عمارات،پلانٹ اور مشینری کی خریداری، نئی مصنوعات یا پیداواروں کا قیام یا پیداوار کی جدید تکنیکوں میں سرمایہ کاری وغیرہ شامل ہیں۔ اشتہارات،تحقیقات اوران ترقیاتی پروگراموں پر ہونے والے اخراجات جن کی فرم میں طویل مدتی اہمیت ہو سب کیپٹل بجٹنگ کے فیصلوں کی ہی مثالیں ہیں۔فکسڈ کیپٹل یاسرمایہ کاری کے مینجمنٹ کی یا کیپٹل بجٹنگ کے فیصلوں کی مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر بہت اہمیت ہے۔
(i) طویل مدتی نمو(Long term growth) : ان فیصلوں کا طویل مدتی نمو پر گہرا اثر پڑتاہے۔ طویل مدتی اثاثوں میں جن فنڈس کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے مستقبل میں ان سے بڑی آمدنیوں کی امید ہوتی ہے اور نتیجتاً کاروبار کے بہتر مستقبل کو اثر انداز کرتے ہیں۔
(ii) بہت زیادہ سرمائے کی شمولیت (Large amount of funds involved): ان فیصلوں کے نتیجے میں کیپٹل فنڈس کا بڑا حصہ طویل مدتی پروجیکٹوں میں بلاک ہو جاتا ہے۔اس لیے ان پروگراموں کی پلاننگ کافی تجزیہ و تحلیل کے بعد ہی کی جاتی ہے۔اس میں یہ فیصلے بھی لیے جاتے ہیں کہ فنڈس کہاں سے اور کس شرحِ سود پر حاصل کیے جائیں۔
(iii) خطرے کی شمولیت (Risk involved): فکسڈ کیپٹل میں بڑی بڑی رقوم کی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری طویل مدت کے دوران بحیثیت مجموعی، فرم کی آمدنیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی لیے سرمایہ کاری کے فیصلے جن میں فکسڈکیپٹل کے فیصلے بھی شامل ہوتے ہیں، فرم کے کاروباری خطرے پہلو پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
(iv) ناقابل رجعت فیصلے(Irreversible Decision): جب یہ فیصلے ایک مرتبہ لے لیے جاتے ہیں تو بغیر بھاری نقصان کے ان کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ بھاری سرمایہ کاری کرنے کے بعد کسی پروجیکٹ کو چھوڑنا فنڈ کی بربادی ہے اور اس لیے یہ بہت مہنگا سودا ہے۔ اس قسم کے فیصلے تمام تفصیلات کے محتاط تجزیہ کے بعد ہی لینے چاہئیں ورنہ اس کے الٹے مالی نتائج بہت بھاری پڑیں گے۔
قائم سرمائے کی ضرورتوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل
(Factors affecting the Requir- ements of Fixed Capital)
1۔ کاروبار کی نوعیت(Nature of Business): فکسڈ کیپٹل کی ضرورتوں پر کاروبار کی قسم کا بہت اثر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ٹریڈنگ کمپنی کو مینوفیکچرنگ تنظیم کے مقابلے قائم اثاثوں میں کم سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹریڈنگ کمپنی کو پلانٹ اور مشینری وغیرہ خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
2۔ کاروبار کا سائز(Scale of operations): ایک بڑی تنظیم بڑے پیمانے پر کام کرتی ہے اور اسی لیے اس کو زیادہ بڑے پلانٹ اور زیادہ جگہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس طرح چھوٹی تنظیم کے مقابلے قائم اثاثوں میں اس کی سرمایہ کاری بھی زیادہ ہوتی ہے۔
3۔ تکنیک کا انتخاب(Choice of Technique): کچھ تنظیمیں سرمایہ رخی(Capital intensive)ہوتی ہیں اور کچھ محنت رخی(Labour intensive)۔ سرمایہ رخی تنظیموں کو پلانٹ اور مشینری وغیرہ میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی ہوتی ہے کیوں کہ یہ ہاتھ کی محنت پر بھروسہ نہیں کرسکتیں۔ ایسی تنظیموں میں فکسڈکیپٹل کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بر خلاف محنت رخی تنظیموں میں قائم اثاثوں میں کم سرمایہ کاری سے کام چل جاتا ہے۔ اس لیے ان کو کم فکسڈ کیپٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔
4۔ ٹیکنالوجی کی جدید کاری (Technology Upgradation): کچھ صنعتوں میں اثاثے جلدی فرسودہ اور پرانے ہوجاتے ہیں اور ان کو جلدی جلدی بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس قسم کی صورتوں میں قائم اثاثوں کی اونچی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوسکتی ہے۔مثال کے طور پر کمپیوٹر جلدی فرسودہ اور ناکارہ ہوجاتے ہیں اور ان کو فرنیچر وغیرہ کے مقابلے بدلنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ایسی تنظیمیں جو جلدی فرسودہ ہونے والے اثاثوں کا استعمال کرتی ہیں ان کو ایسے اثاثوں کو خریداری کے لیے اونچے فکسڈ کیپٹل کو لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
5۔ نمو کے امکانات(Growth Prospects): کسی بھی تنظیم کی اونچی نمو کے لیے عام طور پر قائم اثاثوں میں اونچی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب اس قسم کی نمو متوقع ہو اس وقت بھی کاروبار، متوقع اونچی مانگ کو اور جلدی حاصل کرنے کے لیے،اونچی صلاحیت پیدا کرنے کی راہ اپناسکتا ہے۔ اس کے لیے قائم اثاثوں میں اونچی سرمایہ کاری اور نتیجتاً اونچے فکسڈ کیپٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔
6۔ تنوع (Diversification): مختلف اسباب کے پیش نظر، ایک فرم اپنی کاروباری سرگرمیوں اور اپنے کام کاج کو متنوع (Diversify) کرسکتی ہے۔اس تنوع سے فکسڈ کیپٹل کی ضرورتیں بڑھ جائیں گی۔ مثلاً ایک ٹیکسٹائل کمپنی، سمینٹ مینوفیکچرنگ پلانٹ لگا کر اپنی سرگرمیوں میں تنوع پیدا کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے فکسڈ کیپٹل میں اس کی سرمایہ کاری بڑھے گی۔
7۔ فائیننسنگ متبادل(Financing Alternative): ایک ترقی یافتہ فنانشیل مارکیٹ، قطعی خرید(Outright Purchase)کے متبادل کے طور پر لیز کی سہولیات مہیا کرسکتی ہے۔ جب کسی اثاثے کو لیز یعنی پٹے پر لیا جاتا ہے تو فرم لیز کرایہ(Lease rental)کو ادا کرتی ہے اور اس اثاثے کواستعمال کرتی ہے۔ایسا کرنے سے فرم خریداری کے لیے بھاری رقم کی ادائیگی سے بچ جاتی ہے۔ پٹے کی سہولیات کی فراہمی سے قائم اثاثوں میں فنڈس کی سرمایہ کاری کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔ اس طرح فکسڈ کیپٹل کی ضرورت بھی کم ہوجاتی ہے۔ کاروبار کے اونچے رسک والے معاملات میں یہ تدبیر خاص طور پر مناسب ہوتی ہے۔
8۔ ہم کاری کی سطح (level of collaboration): اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کاروباری تنظیمیں ایک دوسرے کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔مثلاً ایک بینک دوسرے بینک کا ATM استعمال کر سکتا ہے یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کچھ تنظیمیں کسی سہولت کو مشترکہ طور پر شروع کرتی ہیں۔ ایسا جب ہوتاہے کہ جب کوئی کاروباری تنظیم اس سہولت سے اپنے طور پر مکمل فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہ ہو۔اس طرح کی ہم کاری سے ہر ایک شریک تنظیم کے لیے قائم اثاثوں میں سرمایہ کاری کی سطح گھٹ جاتی ہے۔
چالو سرمایہ (WORKING CAPITAL)
قائم اثاثوں میں سرمایہ کاری کے علاوہ ہر کاروباری تنظیم کو چالواثاثوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے کاروبار کے روز مرہ کے کام کا ج میں سہولت ہوتی ہے۔ چالو اثاثے عام طور پر زیادہ سیال ہوتے ہیں لیکن قائم اثاثوں کے مقابلے کم منافع بخش ہوتے ہیں۔ سیالیت کی ترتیب کے لحاظ سے چالو اثاثوں کی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ نقد در دست/نقد دربینک
2۔ قابلِ فروخت سیکیوریٹیز(Marketable Securities)
3۔ قابلِ وصول بل(Bills Receivable)
4۔ قرض دار (Debtors)
5۔ تیار شدہ مال کا اسٹاک(Finished goods Inventory)
6۔ زیر تیاری مال (Work in Progress)
7۔ خام مال(Raw Material)
8۔ پیشگی اخراجات (Prepaid Expenses)
جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ یہ اثاثے ایک سال کی مدت کے اندر نقد یا نقد کے ہم قیمت (Equivalents) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سے کاروبار کی سیالیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ اثاثہ زیادہ سیال مانا جاتا ہے جو جلدی نقد میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اس کی قدر(Value)میں بھی کمی نہیں آتی۔ چالوں اثاثوں میں ناکام سرمایہ کاری سے تنظیم کو واجبات کی ادائیگی سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بہر حال ان اثاثوں سے رٹرن کم ہوتی ہے۔اسی لیے سیالیت اور نفع بخشی کے درمیان توازن ضروری ہے۔
چالو ذمے داریاں (Current Liabilities) وہ قابلِ ادائیگی واجبات (Payment obligations) ہیں جو واجب ہونے پر ایک سال کے اندر قابل ادا ہوتے ہیں۔ قابل ادابل (Bill Payable)، قرض خواہ (Creditors)، بقایا خرچے (Outstanding Expenses) اور گراہکوں سے حاصل پیشگی رقوم وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔
چالو اثاثوں کے کچھ حصوں میں قلیل مدتی ذرائع یعنی چالو ذمے داریوں کے ذریعے پیسہ لگایا جاتا ہے اور باقی طویل مدتی ذرائع سے لگایا جاتاہے جسے نیٹ ورکنگ کیپٹل کہا جاتا ہے۔ اس طرح NWC = CA – CL یعنی چالو اثاثے--- چالو ذمے داریاں۔ اس طرح نیٹ ورکنگ کیپٹل کو چالو ذمہ داریوں پر چالو اثاثوں کی زیادتی کہا جاسکتا ہے۔
چالو سرمایہ کی ضرورتوں کو متاثر کرنے والے عوامل
(Factors affecting the working Capital Requirements)
1۔ کاروبار کی نوعیت(Nature of Business): کاروبار کی بنیادی نوعیت مطلوبہ ورکنگ کیپٹل کی مقدار کو متاثر کرتی ہے۔مینوفیکچرنگ آرگنائزیشن کے مقابلے تجارتی تنظیم کو عام طور پر کم ورکنگ کیپٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ ایک تو ٹریڈنگ میں عام طور پر کوئی پروسیسنگ نہیں ہوتی اور دوسرے خام مال اور تیار شدہ مال کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ مال کے ملتے ہی فروخت شروع ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی تو مال ملنے سے پہلے ہی ایسا ہوجاتا ہے۔ مینوفیکچرنگ کاروبار میں خام مال کو تیار شدہ مال میں بدلنا ہوتا ہے۔ ما ل تیار ہونے کے بعد ہی فروخت ممکن ہوتی ہے۔ دوسرے عوامل وہی ہیں مثلاً یہ کہ ٹریڈنگ کاروبار میں کم ورکنگ کیپٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح سروس انڈسٹریز کو کوئی اسٹاک نہیں رکھنا پڑتا اور ان کا ورکنگ کیپٹل بھی کم ہوتا ہے۔
چالو سرمائے کی اہمیت
انڈونیشیا کی آٹومبیل بنانے والی اور چارملین امریکی ڈالر کی فروخت والی پی ٹی اسٹرانٹرنیشنل کے چیف فائینس افسر کا قول ہے ’’زبردست فروخت کے باعث ہمارے یہ اٹھارہ مہینے تو بہت ہی شاندار گزرے‘‘ انڈونیشیا ابھی ترقی کی راہ پر ہے اور نئی نسل پہلی گاڑی خریدنے کی شوقین ہے۔ کمپنی کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے ورکنگ کیپٹل مینجمنٹ کا بڑا دھیان رکھتی ہے۔ ہمارے پاس آٹھ سے انیس دن کا ورکنگ کیپٹل رہتا ہے اور اس کا انحصار کاروبار اور تجارتی وصولیابیوں پر ہوتا ہے۔ کمپنی کی مستقل نمو کو دیکھتے ہوئے یہ ورکنگ کیپٹل، مینجمنٹ کے قابل ہے۔ اس بات کا سبب اسٹاک(Inventory)ہے کہ کاروبار کی شرح سے ورکنگ کیپٹل کی توسیع نہیں ہوتی۔ منیجر کا کہنا ہے ’’نئی مصنوعات کے لیے مارکیٹ کا ردعمل بہت خوش آئند ہے اور پیشگی فروخت کی شرح بھی بہت اونچی ہے۔ ہمارے یہاں چار سے چھے مہینے تک کی ایڈوانس بکنگ رہتی ہے اور ان کی ادائیگیوں سے ہمارے کیش کی پوزیشن صحت مند رہتی ہے‘‘ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب کوئی آئٹم تیار ہوجاتا ہے تو وہ فوراً ڈیلروں کے یہاں پہنچ جاتاہے۔’’ہمارے اسٹاک کی لاگت بہت کم ہے اور مصنوعات کی نقل وحمل آسان ہے‘‘۔ ورکنگ کیپٹل کے مینجمنٹ میں بینکوں کا صحتمندرویہ ایک ایسا سبب ہے جس سے کاروبار کے نقد بہاؤ میں سدھار ہوا ہے۔ اچھا مینجمنٹ بینکنگ میں مقابلہ آرائی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے کمپنی روایتی ساہوکاروں اور سرکاری ملکیت والے ہندوستانی اداروں کو چھوڑ کر پرائیویٹ اور غیر ملکی اداروں کی طرف متوجہ ہوگئی ہے۔ ان بینکوں نے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ہے جس سے نقد بہاؤ میں ایسا نمایاں فرق آیا ہے جو پچھلے پانچ سالوں میں کبھی نظر نہیں آیا۔
http://www.cfoasia.com/archives/200503-02.htm
2۔ کار وبار کا پیمانہ (Scale of Operations): جن تنظیموں کے کام بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں یا جن کے کاموں میں تنوع ہوتاہے عام طور پر ان کے اسٹاک کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کے قرض دار بھی زیادہ ہوتے ہیں۔اس لیے چھوٹے پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں کو چلانے والی تنظیموں کے مقابلے بڑے پیمانے پر کاروبار کو چلانے والوں کو زیادہ ورکنگ کیپٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔
3۔ کاروباری دور(Business Cycle) : کاروباری ادوار(Business Cycles)کے مختلف مراحل کسی فرم کی ورکنگ کیپٹل کی ضرورتوں کو متاثرکرتے ہیں۔ جب بازار گرم ہوتاہے تو بِکری اور پیداوار دونوں بڑھ جاتی ہیں اور نتیجتاً زیادہ ورکنگ کیپٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب بازار میں گرواٹ ہوتی ہے تو بِکری اور پیداوار دونوں کم ہوجاتی ہیں اور نتیجتاً ورکنگ کیپٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔
4۔ موسمی عوامل(Seasonal Factors): کاروباروں پر موسموں کا اثر پڑتا ہے۔جب کاروبار اچھا چل رہا ہوتا ہے یا کاروبار کے اونچا چلنے کا موسم ہوتاہے اور کاروباری سرگرمی زوروں پر ہوتی ہے تو ورکنگ کیپٹل کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بر خلاف جس موسم میں کاروبار مندا رہتا ہے اس میں کا روباری سرگرمی کم ہوجاتی ہے اور اسی لیے ورکنگ کیپٹل کی ضرورت بھی کم ہوجاتی ہے۔
5۔ پیداواری دور(Production Cycle) : خام مال کی وصول یابی اور اس کو تیار مال میں بدلنے کے درمیان جو درکار مدت ہے اسے پیداواری دور کہا جاتا ہے۔ کچھ کاروباروں میں یہ پیداواری دور لمبا ہوتا ہے اور کچھ میں مختصر۔ پیداواری دور کا وقفہ اور اس کا طول خام مال اور اخراجات کے مطلوبہ فنڈس کی مقدار کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے ورکنگ کیپٹل کی ضرورت لمبے پروسیسنگ دوروالی فرموں میں زیادہ اور مختصر پروسیسنگ دوروالی فرموں میں کم ہوتی ہے۔
6۔ کریڈٹوں کی اجازت(Credit Allowed): مختلف فرمیں اپنے گا ہکوں کو مختلف شرائط والے کریڈٹوں کی اجازت دیتی ہیں۔ اس بات کا انحصار ایک توگراہکوں کی ساکھ اہلیت پر ہے اور دوسرے اس مقابلہ آرائی پر ہے جس کا کمپنی کو سامنا رہتاہے۔ایک نرم کریڈٹ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قرض داروں کی رقم بھی بڑھ جاتی ہے اور چالو سرمایے کی ضرورت بھی۔
7۔ ساکھ سے استفادہ(Credit Availed): جس طرح کمپنی اپنے گراہکوں کو کریڈٹ کی اجازت دیتی ہے اس طرح کمپنی اپنے سپلائروں سے کریڈٹ حاصل بھی کرتی ہے۔ کمپنی جس حدتک اپنی خریداری پر کریڈٹوں سے استفا دہ کرتی ہے ورکنگ کیپٹل کی ضرورت اتنی ہی گھٹ جاتی ہے۔
8۔ عملی قابلیت(Operating Efficiency): کمپنیاں اپنے کاموں کو اہلیت و قابلیت کے مختلف درجوں (Degrees) میں انجام دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک فرم جو خام مال کا مینجمنٹ بہت قابلیت کے سا تھ کرتی ہے ممکن ہے کم بیلنس کے ساتھ کام کو سنبھال سکے اور مینجمنٹ کرسکے۔ یہ بات اونچے اسٹاک والی ٹرن اوور تناسب کے معاملے میں خوب جھلکتی ہے۔ اسی طرح قرض داروں کی اچھی ٹرن اوور تناسب (Turnover ratio)بھی حاصل ہوسکتی ہے اور قابل وصول سے وابستہ رقم بھی کم ہوسکتی ہے۔ بِکری کی اچھی کوششوں سے تیار شدہ مال کے اسٹاک میں رہنے کا اوسط وقت کم ہوسکتا ہے۔ اس طرح مینجمنٹ سے خام مال، تیار مال اور قرض داروں کی سطح کم ہوسکتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کم ورکنگ کیپٹل بھی کافی ہوگا۔
9۔ خام مال کی فراہمی(Availability of Raw material): اگر خام مال، اور دیگر ضروری مواد آزادانہ اور مسلسل طور پر ملتے ہیں تو اسٹاک کی کم سطح بھی کافی ہوگی۔ اگر خام مال کی فراہمی کا ریکارڈ رکاوٹوں والا ہو تو پھر اسٹاک کی اونچی سطح کی ضرورت ہوگی۔اس کے علاوہ، خام مال کی وصولی اور آرڈر کی تکمیل کی درمیانی مدت بھی جسے Lead Time کہا جاتا ہے، بہت اہم ہے۔ لیڈ ٹائم(Lead Time)جتنا زیادہ ہوگا،مٹییریل کی اتنی ہی زیادہ مقدار اسٹور کرنی پڑے گی اور نتیجے میں ورکنگ کیپٹل کی اتنی ہی زیادہ مقدار مطلوب ہوگی۔
10۔ نمو کی توقعات(Growth Prospects) : اگر کسی کمپنی کی نمو کی توقعات زیادہ ہوں گی تو ورکنگ کیپٹل کی رقم بھی زیادہ ہوگی۔ اسی سے اونچی پیداوار اور بکری کی توقعات پوری ہوسکتی ہیں۔
11۔ مسابقت کی سطح(Level of Competition): مقابلہ آرائی کی اونچی سطح اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ تیار مال کا اسٹاک زیادہ ہو تاکہ گاہکوں کے آرڈروں کی تکمیل فوری ہوسکے۔ یہ ورکنگ کیپٹل کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔ مقابلہ سے کمپنی پر یہ بھی دباؤ ہوتا ہے کہ کمپنی کریڈٹ کی شرائط کو نرم کرے۔
12۔ افراط زر(Inflation): چڑھتی قیمتوں کے وقت پیداوار اوربِکری کا ایک مسلسل حجم برقرار رکھنے کے لیے زیادہ رقوم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس طرح کسی بھی کاروبار کی ورکنگ کیپٹل کی ضرورت افراط زر کی اونچی شرح کے سا تھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ افراط زر کی 5 فی صد کی شرح کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ورکنگ کیپٹل کا ہر جز اسی شرح سے بڑھ جائے گا۔حقیقی ضرورت(Actual requirement) مختلف اجزا ( جیسے خام مال، تیار مال اور مزدوری لاگت وغیرہ) کی قیمتوں میں تبدیلی کی شرحوں پر منحصر ہوتی ہے۔
کلیدی اصطلاحات
مالی بندوبست چالو سرمایہ دولت کو حد درجہ بڑھانا مالی منصوبہ بندی کیپٹل ڈھانچہ
|
Financial Managment Working Capital Wealth Maximisation Financial Planning Capital Structure
|
مالی فیصلہ ٹریڈنگ آن ایکویٹی ڈیویڈینڈ فیصلہ کیپٹل بجٹنگ سرمایہ کاری کا فیصلہ
|
Financing Decision Trading on Equity Dividend Decision Capital Budgeting Investment Decision
|
خلاصہ
کاروباری فائیننس (Business Finance): کاروباری سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے جس روپیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اسے کاروباری فائیننس کہا جاتاہے۔ کاروبار کی تقریباً سبھی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے فائیننس کی ضرورت ہوتی ہے۔کاروبار قائم کرنے کے لیے، اس کو چلانے کے لیے اس کی جدید کاری کے لیے، اس کو مزید پھیلانے کے لیے اور اس میں تنوع پیدا کرنے کے لیے روپیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مالی بندوبست (Financial Management): فائیننس کا بہتر سے بہتر حصول اور اس کا بہتر سے بہتر استعمال مالی بندوبست ہے، فائیننس کے بہتر سے بہتر حصول کے لیے اس کے مختلف دست یاب ذرائع کا پتہ لگایا جاتا ہے اور لاگتوں نیزوابستہ خطرا ت (associated Risks)سے ان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔
مقاصد اور مالی فیصلے (Objectives and Financial Decisions): مالی بندوبست کا اولین مقصد شیئر ہولڈروں کی دولت کوازحدبڑھانا ہے۔اسی کو ازحد دولت بڑھانے کا تصور(wealth Maximisation Concept)کہا جاتا ہے۔ کمپنی کے شیئروں کی قیمتیں تین بنیادی مالی فیصلوں سے مربوط ہوتی ہیں۔
مالی فیصلہ سازی تین بڑے فیصلوں سے وابستہ ہے، یہ تین بڑے فیصلے ہیں: سرمایہ کاری کا فیصلہ، فائیننسنگ کا فیصلہ اور ڈیونڈینڈ کا فیصلہ۔
مالی منصوبہ بندی اور اس کی اہمیت (Financial Planning and Importance) : مالی منصوبہ بندی بنیادی طور پر کسی تنظیم کے آئندہ کام کاج کی ایک مالی دستاویز(Financial Blue Print)ہوتی ہے۔ اس مالی منصوبہ بندی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ صحیح وقت پر حسب ضرورت فنڈس فراہم ہوں گے۔مالی منصوبہ بندی سے درج ذیل دومقاصد حاصل کیے جاتے ہیں:۔
(a) اس بات کو یقینی بنانا کہ جب ضرورت ہوگی فنڈس فراہم ہوجائیں گے۔
(b) اس بات پر نظر رکھنا کہ فرم غیر ضروری طور پر وسائل کا استعمال نہیں کر رہی ہے۔
مالی منصوبہ بندی کسی بھی کاروباری انٹرپرائز کی مجموعی پلاننگ کا ایک اہم حصہ ہے۔اس کا مقصد کمپنی کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ فنڈس کی بروقت فراہمی کے معاملے میں غیر یقینی صورت حال سے نمٹ سکے اور تنظیم کی بہتر کار کردگی میں مددگار ثابت ہو۔
کیپٹل ڈھانچہ اور عوامل (Capital Structure and Factors): مالی مینجمنٹ کے تحت جو فیصلے لیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک اہم فیصلے کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ فنڈس جٹانے کے لیے مختلف ذرائع کے استعمال میں کیا مالی پیٹرن یا تناسب اپنایا گیا ہے۔کاروباری فائیننس کے ذرائع کو ملکیت کی بنیاد پر دوبڑے زمروں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ یعنی ایک تو خود مالکان کے فنڈس اور دوسرے ادھار لیے گئے فنڈس۔کیپٹل ڈھانچہ(Capital Structure)اپنی دونوں (یعنی مالکان کے فنڈس اور ادھار لیے گئے فنڈس) کا مجموعہ ہے۔
کس فرم کے کیپٹل ڈھانچے کے بارے میں فیصلہ لیتے وقت، مختلف قسم کے فنڈس کے نسبتی تناسب کو دیکھنا ضروری ہے۔اس بات کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔ یہ عوامل ہیں : نقد بہاؤ کی پوزیشن، آئی سی آر یعنی سود کوریج تناسب (Interest coverage ratio)، DSCRیعنی ادھار سروس کوریج تناسب (Debt service Coverage Ratio)، ROI یعنی سرمایہ کاری پر رٹرن(Return on Investment)، ادھار کی لاگت (Cost of debt)، ٹیکس کی شرح، ایکویٹی کی لاگت، کاروبار کی تغیر پذیر لاگت(Floatation Costs)، خطرے کا پہلو(Risk Consideration)لچک، کنٹرول، ریگولیٹری فریم ورک، اسٹاک مارکیٹ کے حالات، اور دیگر کمپنیوں کے کیپٹل ڈھانچے۔
قائم اور چالو سرمایہ (Fixed and Working Capital): قائم سرمایے کا مطلب ہے طویل مدتی اثاثے۔ فکسڈ کیپٹل کے بندوبست کا تعلق مختلف پروجیکٹوں یا اثاثوں کے لیے طویل مدتی بنیاد پر کیپٹل مختص کرنے سے ہے۔ ان فیصلوں کو سرمایہ کاری فیصلے یا کیپٹل بجٹنگ فیصلے کہا جاتا ہے اور یہ فیصلے طویل مدتی بنیاد پر کاروبار کی نمو، نفع بخشی اور خطرے کو متاثر کرتے ہیں۔
قائم سرمایہ کی ضرورتوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل ہیں: کاروبار کی نوعیت، کاروباری سرگرمیوں کا پیمانہ، تکنیک کا انتخاب، ٹیکنالوجی کی جدید کاری، نمو کی توقعات، تنوع، فائیننسنگ کے متبادل اور ہم کاری کی سطح۔
قائم اثاثوں میں سرمایہ کاری کے علاوہ ہر کاروباری تنظیم کو چالو اثاثوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سرمایہ کاری سے کاروبار کا روز مرہ کا کام کاج آرام سے چلتا رہتا ہے۔چالو اثاثے عام طور پر زیادہ سیال ہوتے ہیں لیکن قائم اثاثوں کے مقابلے ان کی نفع بخشی کم ہوتی ہے۔
چالو سرمایے کی ضرورتوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل ہیں : کاروبار کی نوعیت، کاروباری سرگرمیوں کا پیمانہ، کاروباری دور (Cycle)، موسمی عامل، پیداواری دور، کریڈٹ کی اجازت، کریڈٹ سے استفادہ ، عملی قابلیت، خام مال کی فراہمی، نمو کی توقعات، مقابلہ آرائی اور افراطِ زرکی شرح۔
مشقیں
بہت مختصر جواب
1۔ ’سرمایہ ساخت‘سے کیامراد ہے؟
2۔ مالی منصوبہ بندی کے دومقاصد بتائیے؟
3۔ مالی انصرام کے تصورکانام بتائیے جومعین مالی فیسوں کی موجودگی کی وجہ سے ایکوٹی شیئرہولڈرس (ایکوٹی حصہ داروں) کو واپسی میں اضافہ کرتی ہے۔
4۔ امرت ایک ٹرانسپورٹ سروس چلاتاہے اورصنعتوں کویہ خدمت مہیاکرکے اچھے پیسے کماتاہے۔دلیل دے کر بتائیے کہ فرم کے مصروف سرمایہ(ورکنگ کیپٹل)کی ضرورت’کم‘ہوگی یا’زیادہ‘۔
5۔ رام ناتھ ٹیلی ویژن تیارکرکے فروخت کرتاہے۔ حال ہی میں اس نے ٹیلی ویژن کے پارٹ خریدنے اورپوراٹی وی تیار کرکے اس کونقدفروخت کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔کیا اس سے مصروف سرمایہ کی ضرورت پراثرپڑے گا۔مع دلیل جواب دیجیے۔
مختصر جواب
1۔ مالی جوکھم کیا ہے؟ یہ کیوں پیداہوتاہے؟
2۔ مصروف اثاثوں(ورکنگ ایسیٹ)کی تعریف کیجیے۔ ایسے اثاثوں کی چارمثالیں بھی دیجیے۔
3۔ مالی انصرام کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ اختصارکے ساتھ وضاحت کیجیے۔
4۔ مالی انصرام تین بڑے مالی فیصلوں پر مبنی ہے۔یہ تین بڑے فیصلے کیا ہیں؟
5۔ سنرائزرلمیٹیڈ کمپنی تیارشدہ کپڑوں کا کاروبارکرتی ہے۔ یہ کمپنی بین الاقوامی بازار میں بھی کاروبار بڑھانے کے لیے اپنے تجارتی مشاغل کوفروغ دینا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کمپنی کواپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے واسطے پرانی مشینوں کی جگہ نئی مشین خریدنے کے لیے اسّی لاکھ روپیے کی اضافی رقم چاہیے۔ کمپنی مطلوبہ پونجی جٹانے کے لیے ڈبینچرجاری کرنا چاہتی ہے۔ قرض(Debt)دس (10)فیصد کی تخمینی لاگت پرجاری کیا جاسکتاہے۔ کمپنی کی پچھلے سال کی 8EBITلاکھ اور کل سرمایہ کاری ایک کروڑتھی۔ بتائیے کہ ڈبینچرکااجراکیا کمپنی کا عقل مندانہ فیصلہ سمجھاجاسکتاہے۔ جواب مع دلیل لکھیے۔
جواب : نہیں، قرض کی لاگت (10فیصد) شرح سود سے زیادہ ہے (جوکہ 8فیصدہے)
6۔ مصروف سرمایہ کسی کاروبار کی منافع بخشی اورسیالیت دونوں کوکس طرح متاثرکرتاہے۔
7۔ اوَل لمیٹیڈ نامی کمپنی کینواس کے سامان اور کھیلوں کی برآمدکاکاروبارکرتی ہے۔ ماضی میں کمپنی کی کارکردگی توقعات پرپوری اتری ہے۔ بازار کی موجودہ مانگ کے مدنظر کمپنی نے چمڑے کے سامان کوبازارمیں اتارنے کا فیصلہ کیا۔اس کام کے لیے کمپنی کوخاص قسم کی مشینری درکارتھی جس کے لیے فائننس منیجرپربھونے کمپنی کے آئندہ کاموں کی روپ ریکھا تیارکی تاکہ فنڈ کی مطلوبہ رقم اور وقت کا تخمینہ لگایا جاسکے اوریہ یقینی بنایا جاسکے کہ بقدر کفایت رقوم وقت پرمہیا ہوسکیں۔پربھونے آئندہ سالوں میں منافع کے تخمینہ کے متعلق معلومات بھی اکٹھاکی۔ انھوں نے کاروبار کے داخلی ذرائع سے پونجی کی فراہمی کے بارے میں پختہ یقین کرلینے کے لیے یہ کام انجام دیاتھا۔ بقیہ فنڈ کے لیے وہ متبادل خارجی ذرائع کھوجنے کی کوشش کررہے ہیں۔
(a) مندرجہ بالا پیراگراف میں مذکور مالی تصور کی نشان دہی کیجیے اور ان مقاصد کوبھی بیان کیجیے جواس طرح نشان دہی شدہ مالی تصور کا استعمال کرکے حاصل ہوں گے۔ (مالی منصوبہ بندی)
(b)کمپنی کے ذریعہ ڈویڈہیڈ کی ادائیگی پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ اظہارخیال کیجیے۔
(قانونی اورٹھیکہ جاتی پابندیاں)
طویل جواب
1۔ مصروف سرمایہ کسے کہتے ہیں؟ مصروف سرمایہ کی ضرورت کے پانچ اہم فیصلہ کن عوامل (Determinents)کی وضاحت کیجیے۔
2۔ سرمایہ ساخت فیصلہ(Capital structure decision)لازمی طورپر جوکھم واپسی رشتہ کا انسب طریقہ ہے۔
3۔ ’’سرمایہ جاتی بجٹ فیصلہ کسی بھی کاروبار کی مالی قیمت کوبدل دینے کی اہلیت رکھتاہے‘‘۔
کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں؟ مدلل لکھییے
4۔ ڈویڈینڈفیصلے پراثراندازہونے والے عوامل کی وضاحت کیجیے۔
5۔ اصطلاح’’ایکویٹی پرتجارت‘‘ کی وضاحت کیجیے۔ اس کوکیوں، کہاں اورکیسے استعمال کیاجاتاہے۔
6۔ ایس لمیٹیڈ نامی کمپنی اپنے ہندوستانی پلانٹ میں اسپات تیارکرتی ہے۔ اس کمپنی کی پیداوار کی مانگ لوچدار ہے کیوں کہ اس کی معاشی نموتقریباً 8-7فیصد ہے اوراسپات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔بڑھتی ہوئی مانگ پرکمپنی نقدی کے لیے اسپات کا ایک اورکارخانہ لگانا چاہتی ہے۔ اندازہ ہے کہ نیا پلانٹ لگانے کے لیے تقریباً پانچ ہزار کروڑ روپیے اور اس کوشروع کرنے کے لیے مصروف سرمایہ کے طورپر تقریباً پانچ کروڑ روپیہ کی لاگت آئے گی۔
(a) اس کمپنی کے لیے مالی انتظام وانصرام کے کرداراورمقاصد کوبیان کیجیے۔
(b) اس کمپنی کے لیے مالی منصوبہ بندی کی اہمیت بیان کیجیے۔ وضاحت کے لیے ایک فرضی منصوبہ بھی بنائیے۔
(c) اس کمپنی کے لیے سرمایہ ساخت کو متاثرکرنے والے عوامل کی نشان دہی کیجیے۔
(d) اس بات کوذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ ایک بہت ہی سرمایہ مرکوزسیکٹرہے۔ بتائیے کہ قائم اور مصروف سرمایہ کومتاثرکرنے والے کون سے عوامل ہیں؟ جواب کے حق میں دلائل بھی دیجیے۔