Skip to content
Karobariuloom-II-002


باب 10

فنانشیل بازار

(FINANCIAL MARKET)


2

سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ :
× فنانشیل بازار کے مفہوم کی وضاحت کرسکیں گے؛
× بازار زر (Money Market) کی تشریح کرسکیں گے اور اس کی دستاویزات کی بھی وضاحت کرسکیں گے؛
× پونجی بازار کی نوعیت اور اس کی اہم اقسام بیان کرسکیں گے؛
× بازار زر، اورپونجی بازار میں امتیاز کرسکیں گے؛
× اسٹاک ایکسچینج کا مطلب بتا سکیں گے اور یہ بھی بتا سکیں گے کہ اس کے کام کیا کیا ہیں؛
× NSEI اورOTCEI کے کاموں کی وضاحت کرسکیں گے؛ اور
× سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے SEBI  کے کردار کی وضاحت کرسکیں گے۔

سینسکس(SENSEX) - بمبئی شیئر

بازار کاحساس اشاریہ 

آپ نے پچھلے کچھ دنوں یا ہفتوں میں بارہا اخبارات کی شاہ سرخیوں میں SENSEX کے بارے میں سنایا پڑھا ہوگا۔یہ اشاریہ نیچے اوپر ہوتا رہتاہے اور کاروبار نیز معاشی خبروں کا اہم حصہ لگتا ہے۔ آپ کو خودحیرت ہوگی کہ یہ حساس اشاریہ یا SENSEXہے کیا۔ یہ سن سیکس، BSEکاپیمائشی اشاریہ (Bench mark Index)ہے۔ چوں کہ SENSEX ہندوستان کی سیکنڈری مارکیٹ کا ایک ممتاز ایکسچینج رہا ہے اس لیے بازار کے اتار چڑھاؤ کو بنانے والا اہم ذریعہ رہا ہے۔ ایک اشاریہ کا سب سے اہم کام ایک ہی ہوتا ہے۔یعنی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اظہار۔ اس طرح اسٹاک انڈیکس شیئرز کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو بتاتا ہے جب کہ بانڈ انڈیکس قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے طریقے کو بتاتا ہے۔ اگر SENSEXچڑھتا ہے تواس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بازار اچھا ہے۔ چوں کہ مانا یہ جاتا ہے کہ شیئرز وہی کچھ ظاہر کرتے ہیں جو کمپنی مستقبل میں کمانے کی توقع کرتی ہے اس لیے چڑھتااشاریہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو کمپنیوں سے بہتر کمائی کی امید ہے۔یہ اشاریہ ہندوستانی معیشت کی حالت کی پیمائش کرتا ہے۔ اگر ہندوستانی کمپنیوں سے بہتر کی توقع ہے تو ہندوستانی معیشت کو بھی کچھ بہتر ہی کرنا ہوگا۔

Sensex کو 1986 میں بہت زیادہ فعال ٹریڈنگ اسٹاکوں میں سے30اسٹاک سے شروع کیاگیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ BSEکے پونجی بازار کا نصف حصہ ہیں اور معیشت کے 13 سیکٹروں کی نمائندگی کرتے ہیں نیز یہ اپنی اپنی صنعتوں میں رہنما کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔

تعارف (INTRODUCTION) 

یہ تو آپ سبھی جانتے ہیں کہ جب کوئی انٹریپرینیور (Entrepreneur) کسی کاروبار کو شروع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کو مالیہ (Finance)  کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے دونوں قسم کے فائیننس کی ضرورت ہوتی ہے۔ چالو پونجی سے وہ کچے مال اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی وغیرہ کرتا ہے اور قائم اثاثوں سے مشینری اور بلڈنگ وغیرہ خریدتا ہے یا پھر کمپنی کی پیداوری صلاحیت بڑھانے جیسے توسیعی پروگراموں میں اس مالیہ کو لگاتا ہے۔ مندرجہ بالا بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کمپنیوں کو پونجی بازار سے رقم اکٹھا کرنے کی ضرورت کیسے پڑتی ہے۔آئیڈیا سیلولر کرکو ہندوستانی پونجی بازار میں داخل ہونے کی ضرورت اپنی توسیعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیش آئی۔ اس باب میں آپ Private Placement Initial Public Offer اور پونجی بازار جیسے تصورات کا مطالعہ کریں گے۔ ان کے بارے میں آپ آئیڈیا سیلولر کی درج بالا مثال میں پہلے ہی جان چکے ہیں۔کوئی بھی کاروبار فنانشیل بازار کے ذریعے مختلف ذرائع اور مختلف طریقوں کو اپنا کر ان فنڈس کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ اس باب میں آپ کو اس میکانزم سے واقفیت ہوجائے گی جس کا استعمال کرکے کاروباری تنظیم اپنی طویل مدتی اور قلیل مدتی ضروریات کی تکمیل کے لیے فائیننس کو حرکت پذیر (Mobilized)بنا سکتی ہے۔ اس باب میں آپ کو مختلف فنانشیل بازاروں کے لیے کام کرنے والے مختلف اداروں کے نظام اور ان کے قواعد وضوابط کا بھی علم ہوگا۔

فنانشیل بازار کا تصور (CONCEPT OF 

FINANCIAL MARKET)

کاروبار معاشی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔ اس نظام میں دو خاص زمرے ہوتے ہیں۔ ایک گھریلو جو فنڈس کی بچت کرتا ہے اور دوسرا کاروباری فرمیں جو ان فنڈس کی سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ فنانشیل بازار بچت کاروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان فنڈس کو حرکت پذیر(Mobilized) بنا کر ان دونوں کو جوڑنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ عمل انجام دے کر فنانشیل بازار ایک اختصاصی کام (Allocative Function) انجام دیتا ہے یعنی یہ کہ سرمایہ کاروں کے لیے دست یاب فنڈس کو ان کے سب سے زیادہ پیداواری مواقع میں مختص کرتا ہے۔ جب یہ اختصاصی عمل بخوبی انجام پاتا ہے تو دو نتیجے برآمد ہوتے ہیں:
اہل خانہ کو ملنے والی رٹرن کی شرح اونچی ہوتی ہے۔
معیشت کے لیے جن کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے،ان فرموں کو قلیل وسائل مختص کیے جاتے ہیں۔

3
کاروبادی فرمیں     بینک       اہل خانہ
سرمایہ کار     فنانشیل بازار      بچت کار
ایسے دومتبادل میکانزم ہیں جن کے ذریعے فنڈس کا اختصاص کیا جاتا ہے: بینکوں کے ذریعے یا فنانشیل بازاروں کے ذریعے۔ اہل خانہ (House Holds)  اپنی بچتوں کو بینکوں میں جمع کر سکتے ہیں اور پھر بینک بدلے میں یہ فنڈس قرض کی شکل میں کاروباری فرموں کو دے دیتے ہیں۔ متبادل طور پر اہل خانہ ان کار وباری فرموں کے شیئر اور قرض نامہ خرید سکتے ہیں جو فنانشیل بازاروں کا استعمال کرکے شیئر اور قرض نامہ کی پیش کش کرتی ہیں۔ فنڈز کے اختصاص کا یہ عمل فنانشیل ثالث گری(Financial Intermediation)کہلاتا ہے۔ اس فنانشیل نظام میں، بینک اور فنانشیل بازار ایک دوسرے کے حریف ثالث (Competing Intermediaries) ہوتے ہیں جو اہل خانہ کو اس بات کے انتخاب کا موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی بچت کہاں لگانا چاہتے ہیں۔
فنانشیل بازار، فنانشیل اثاثوں کی تخلیق اورتبادلے (Exchange) کا بازار ہوتا ہے۔ جہاں کہیں فنانشیل لین دین ہوتا ہے وہاں فنانشیل بازار بھی ہوتے ہیں۔ فنانشیل لین دین فنانشیل اثاثوں کی تخلیق کی شکل میں ہوسکتا ہے۔ مثلاً بینک کے ذریعے شیئروں اور قرض ناموں کے ابتدائی ایشو یا فرم کے ذریعے ایکویٹی شیئروں، قرض ناموں اور بانڈوں جیسے فنانشیل اثاثوں کی خرید وفروخت۔
4
کاروباری فرمیں     فنانشیل بازار     بینک      خانگی بچت کار
شکل: فنانشیل نظام

فنانشیل بازار کے کام(FUNCTIONS OF FINANCIAL MARKET)

فنانشیل بازار کسی معیشت کے اندر قلیل وسائل کو مختص کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ اس کے لیے وہ چار اہم کام انجام دیتے ہیں۔
بچتوں کو حرکت پذیر (Mobilized) بنانا اور ان کو زیادہ سے زیادہ پیداواری استفادے کے لیے چینلائز کرنا: ایک فنانشیل بازار، بچت کاروں سے سرمایہ کاروں تک بچتوں کی منتقلی کو آسان بناتا ہے۔ یہ بچت کاروں کو سرمایہ کاری میں تنوع اورانتخاب کا موقع دیتی ہے یعنی بچت کار اپنی پسند کا سرمایہ کار منتخب کرسکتا ہے اور اس طرح اس سے زائد فنڈس (Surplus Funds) کو زیادہ سے زیادہ پیداواری استعمال میں لگانے کا موقع ملتا ہے۔
قیمت کی تلاش میں مدد (Facilitating Price Discovery) : آپ جانتے ہی ہیں کہ مانگ اور رسد (Demand & Supply) کی قوتیں بازار کے اندر کسی سامان یا سروس کی قیمت متعین کرنے میں مدد گار ہوتی ہیں۔ فنانشیل بازار میں اہل خانہ فنڈس کے سپلائر ہوتے ہیں اور کاروباری فرمیں مانگ کی نمائندگی کرتی ہیں۔دونوں کے درمیان تعامل (Interaction)  اس فنانشیل اثاثے کی قیمت طے کرنے میں مدد گار ہوتا ہے جس کا اس بازار میں بیوپار کیا جاتا ہے۔
فنانشیل اثاثوں کو سیال بنانا(Providing liqui- dity to Financial assets) : فنانشیل بازار فنانشیل اثاثوں کی خرید اور فروخت کو آسان بناتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ فنانشیل اثاثوں کو سیال بناتے ہیں تاکہ ان کو حسب ضرورت آسانی سے نقد میں تبدیل کیاجاسکے۔ اثاثہ داران (Asset Holders) حسب منشا اپنے فنانشیل اثاثوں کو، فنانشیل بازار کے میکانزم کے ذریعے سے فروخت کرسکتے ہیں۔
4۔   لین دین کی لاگت کو گھٹانا (Reducing the Cost of Transaction) :  فنانشیل بازار ان تحفظات (Securities) کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتے ہیں جن کا بازار میں بیوپار ہورہا ہے۔ اس سے وقت، محنت کوشش اور پیسے کی بچت ہوتی ہے کیوں کہ اگر یہ فنانشیل بازار نہ ہوں تو فنانشیل اثاثوں کے خریدار اور بیچنے والے دونوں ہی کو ایک دوسرے کو ڈھونڈنا اوران سے رابطہ کرنا مشکل ہوجائے۔ اس طرح فنانشیل بازار ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم ہے جہاں خریدار اور بیچنے والے دونوں ہی اپنی انفرادی ضروریات کی تکمیل کے لیے باہم مل سکتے ہیں۔
فنانشیل بازاروں کو ان فنانشیل دستاویزات (Instruments)  کی بلوغت (Maturity) کی بنیاد پر زمرہ بند کیاجاتا ہے جن کی ان بازاروں میں خریدوفروخت کی جاتی ہے۔ وہ مالی دستاویزات جن کی مدت بلوغت ایک سال سے کم ہے ان کی خریدوفروخت بازار زر (Money Market) میں ہوتی ہے جب کہ ان مالی دستاویزات کی خریدوفروخت، جن کی مدت بلوغت ایک سال سے زیادہ ہوتی ہے، پونجی بازا ر میں ہوتی ہے۔

بازار زر (MONEY MARKET)

بازار زر قلیل مدتی فنڈس کا بازار ہے جہاں ایسے مانیٹری (Monetary) اثاثوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے جن کی مدت بلوغت ایک سال یا اس سے کم ہوتی ہے۔ یہ اثاثے روپیے پیسوں کے قریبی بدل (Close substitute) ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا بازار ہے جہاں کم جوکھم والی غیرضمانتی اور اونچی سیاست والی قلیل مدتی ادھار کی دستاویزات جاری ہوتی ہیں اور جن کی ہر روز گرم بازاری کے سا تھ خریدو فروخت ہوتی ہے۔ اس سے نقد کی عارضی کمی کو پورا کرنے اور ذمے داریوں کو نپٹانے کے لیے قلیل مدتی فنڈس جٹانے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح یہ رٹرن کمانے کے مقصد سے بڑھے ہوئے فنڈس کے عارضی پھیلاؤ کے لیے بھی سود مند ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI)تمام کمرشیل بینک غیر بینکنگ فائیننس کمپنیاں،ریاستی حکومتیں، بڑے کارپوریٹ گھرانے اور میوچول فنڈس (Mutual Funds) اس بازار کے اہم شرکاہیں۔

بازار زر کی مالی دستاویزات (MONEY MARKET INSTRUMENTS)

1۔  ٹریثرری بل (Treasury Bill) : ٹریثری بل بنیادی طور پر حکومت ہند کے ذریعے دیے جانے والے قلیل مدتی قرض کی دستاویز ہے جس کی مدت بلوغت ایک سال سے کم ہوتی ہے۔ ان ٹریثری بلوں کو زیرو کوپن بانڈس (Zero Coupon Bonds) بھی کہتے ہیں جنھیں حکومت ہند کی طرف سے ریزرو بینک آف انڈیا جاری کرتا ہے اور اس کا مقصد قلیل مدتی ضرورتوں کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ ٹریثری بل، تمسکات (Promissory notes) کی شکل میں جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ سیال ہوتے ہیں،ان سے حاصل ہونے والا فائدہ یقینی ہوتا ہے اور ان میں عدم ادائیگی کا جوکھم بھی ناقابل اعتنا (Negligible) ہوتا ہے۔ یہ ٹریثری نوٹ اپنی قیمت عرفی (Face-value) سے کم پر جاری کیے جاتے ہیں لیکن ان کی نقد میں ادائیگی قیمت عرفی ( یعنی ٹریثری بل پر لکھی ہوئی قیمت) کے مساوی ہوتی ہے۔ ان ٹریثرری بلوں کی اجرائی قیمت اور ا ن کی ادائیگی قیمت کا فرق ان پر وصول ہونے والا سود ہے جس کو چھوٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ٹریثری بل کم از کم 25,000 روپیے یا اس کے اضعاف (Multiples) میں دست یاب ہوتے ہیں۔

فنانشیل بازاروں کی زمرہ بندی 

فنانشیل بازار

5
بازار زر        پونجی بازار
سیکنڈری بازار    پرائمری بازار
قرض    ایکویٹی        قرض ایکویٹی     

مثال:۔ فرض کیجیے ایک سرمایہ کار 91 دن کا ایک ٹریثرری بل 96,000 روپئے میں خریدتا ہے جس کی مدت تک اپنے پاس روک کر سرمایہ کار 1,00,000 روپیے حاصل کرتا ہے۔ جو رقم مدت پوری ہونے پر حاصل ہوئی اور جو رقم بل کو خرید پر صرف ہوئی ان کا فرق 4,000 روپیے ہے۔ یہ دراصل وہ سود (Interest) ہے جو سرمایہ کار نے حاصل کیا۔
2۔  کاروباری دستاویز (Commercial Paper): کاروباری دستاویز ایک قلیل مدتی غیر ضمانتی پرامیسوری نوٹ ہوتا ہے جو تصدیق ظہری (Endorsement) کے ذریعے قابلِ انتقال (Transferrable) اور قابلِ خریدو فروخت (Negotiable) ہے اور جس کی طے شدہ مدت بلوغت کے بعد تحویل (سپردگی) ہوتی ہے۔ ان کو بڑی اور لائق اعتبار کمپنیاں مارکیٹ شرحوں کے مقابلے سود کی کم شرحوں پر قلیل مدتی فنڈس جٹانے کے لیے جاری کرتی ہیں۔ ان کی مدت بلوغت 15 دن سے لے کر ایک سال تک کی ہوتی ہے۔کمرشیل پیپر کا ا جرا ان بڑی کمپنیوں کے لیے بینک سے ادھار لینے کا ایک متبادل ہے جن کو مالی ا عتبار سے عام طور پر مضبوط مانا جاتا ہے۔ اس کو چھوٹ پر فروخت کیا جاتا ہے اور ان کی ادائیگی مساوی قیمت پر ہوتی ہے۔ کمرشیل پیپروں کا حقیقی مقصد قلیل مدتی موسمی اور چالو پونجی کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر کمپنیاں اس دستاویز کو برج فائنینسنگ (Bridge Financing) جیسے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
مثال: مان لیجیے ایک کمپنی کو کچھ مشینری خریدنے کے لیے قلیل مدتی فائنینس کی ضرورت ہے۔ پونجی بازار میں طویل مدتی فنڈس جٹانے کے لیے کمپنی کو فلوٹیشن (Floatation) لاگتیں اٹھانی پڑیں گی۔ (دلالی (Brokerage)، کمیشن، درخواست فارموں کی چھپائی اور اشتہارات وغیرہ کسی ایشو کی فلوٹیشن سے وابستہ لاگتیں ہیں)۔ کمرشیل پیپر کے ذریعہ جو فنڈس اکٹھے کیے جاتے ہیں ان کا استعمال فلوٹیشن لاگت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسی کو برج فائیننسنگBridge) (Financing کہاجاتا ہے۔
زرعندالطلب (Call Money): زرعندالطلب وہ قلیل مدتی فائنینس ہے جس کی واپس ادائیگی عندالطلب (on Demand) کی جاتی ہے۔ اس کی مدت بلوغت ایک سے پندرہ دن تک ہوتی ہے اور اس کا استعمال انٹربینک لین دین کے لیے کیا جاتا ہے۔ کمرشیل بینک ایک حد اقل نقد بیلنس (Minimum Cash Balance)کو بنائے رکھتے ہیں۔ اسی کم سے کم نقد بیلنس کو کیش ریزرو ریشو(Cash Reserve Ratio) کہا جاتا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیاوقتاً فوقتاً کیش ریزرو ریشیو کو بدلتا رہتا ہے۔ بدلے میں اس سے کمرشیل بینکوں کے ذریعے دی جانے والی دست یاب فنڈس کی رقم متاثر ہوتی ہے۔ زرعندالطلب ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے بینک ایک دوسرے سے قرض لیتے ہیں تاکہ وہ اپنے کیش ریزرو ریشیو کو بنائے رکھیں۔ زر عندالطلب پر ادا کیے گئے سود کی شرح کو شرح عندالطلب (Call rate) کہا جاتا ہے۔ یہ بہت طیران پذیر (Volatille) شرح ہے جو ہر روز بدلتی ہے اور کبھی کبھی تو گھنٹوں کے حساب سے بدل جاتی ہے۔ زرعندالطلب (Call rates) میں اور کمرشیل پیپر نیز بچت سرٹی فکیٹ جیسے قلیل مدتی منی مارکیٹ مالی دستاویزوں (Instruments) کے درمیان معکوس رشتہ (Inverse relationship) ہوتا ہے۔ زرعندالطلب کی شرحوں میں اضافے سے فائیننس کے دیگر ذرائع مثلا کمرشیل اور بچت سرٹی فیکٹ مقابلتاً سستے ہوجاتے ہیں کیوں کہ بینک انھیں ذرائع سے فنڈس جٹاتے ہیں۔
4۔  بچت سرٹی فکیٹ: سی ڈی یعنی بچت سرٹی فکیٹ غیر ضمانتی (Unsecured)، قابلِ خریدو فروخت اور قلیل مدتی دستاویزات ہوتی ہیں جو بیرر (Bearer) کی شکل میں 
ہوتی ہیں اور جن کو کمرشیل بینک اور مالی ترقیاتی ادارے (Development Financial Institutions) جاری کرتے ہیں۔ یہ سرٹی فکیٹ افراد، کارپوریشنوں اور کمپنیوں کو سیالیت کے مشکل زمانے میں ا س وقت جاری کیے جاتے ہیں جب بینکوں کی بچت در کم اور قرض کے لیے مانگ زیادہ ہو۔ ان سرٹیفیکٹس سے مختصر مدتوں کے لیے بڑی بڑی زری رقمیں  (Large amounts of money) حرکت پذیر(Mobilized) ہو جاتی ہیں۔
5۔  کمرشیل بل (Commercial Bill) : کمرشیل بل، بل آف ایکسچینج ہوتا ہے جسے کاروبار کی چالو پونجی کی ضروریات کو فائیننس کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ یہ ایک قلیل مدتی،قابلِ خریدو فروخت اور خود سیال(Self liquidating) دستاویز ہے جسے فرم کی ادھار بکری کو فائنینس کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب مال ادھارفروخت کیا جاتا ہے تو اب یہ خریدار کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں کسی معینہ تاریخ تک خرید کردہ مال کی ادائیگی کرے۔ بیچنے والا طے شدہ تاریخ تک انتظار کرتا ہے یا بل آف ایکسچینج کا استعمال کرتا ہے۔ مال بیچنے والا (Drawer) ایک بل کاٹ دیتا ہے اور خریدار (Drawee) اس کو قبول کرتا ہے۔ بل کو قبول کرلینے پر ، بل ایک قابلِ بازار (Marketable) دستاویز بن جاتا ہے اور اس کو ٹریڈ بل کہا جاتا ہے۔ اگر بیچنے والے کو بل کی مدت کی بلوغت سے پہلے فنڈس کی ضرورت ہوتی ہے تو بَٹا کٹا کر (Discounted) یہ بل لیے جاسکتے ہیں۔ جب ٹریڈ بل کو کوئی کمرشیل بینک قبول کرلیتا ہے تو اس کو کمرشیل بل کہا جاتا ہے۔

پونجی بازار  (CAPITAL MARKET)

پونجی بازار کا لفظ ان سہولیات اور ان ادارہ جاتی انتظامات (Intitutional arrangements) کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کے ذریعے قرض اور ایکویٹی دونوں ہی طویل مدتی فنڈس کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور ان کی سرمایہ کاری بھی کی جاتی ہے۔ پونجی بازار میں کئی ایسے چینل ہیں جن کے ذریعے کمیونٹی کی بچتیں صنعتی اور کمرشیل انٹرپرائزز کے لیے اور عام طور پر پبلک کے لیے بھی دست یاب ہوتی ہیں۔ پونجی بازار ان بچتوں کو ا ن کے سب سے زیادہ پیداواری استعمال میں لگا دیتا ہے جس سے معیشت کی نشوونما اور ترقی ہوتی ہے۔ ترقیاتی بینک، کمرشیل بینک اور شیئربازار یا اسٹاک ایکسچینج پونجی بازار کے تحت آتے ہیں۔
ایک آئیڈیل پونجی بازار وہ ہوتا ہے جہاں مناسب لاگت پر فائیننس دست یاب ہو۔ ایک اچھے چلنے والے پونجی بازار کی موجودگی معاشی ترقی کے عمل میں مفید ہوتی ہے۔ حقیقت میں فنانشیل نظام کی ترقی کو معاشی نمو (Economic growth) کی لازمی شرط سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ مالی ادارے کافی ترقی یافتہ ہوں اور بازار کے کام کاج آزاد، منصفانہ مسابقتی (Competitive) اور شفاف ہوں۔ پونجی بازار ایسا ہو جس سے صحیح معلومات دست یاب ہو، جس سے لین دین کی لاگت کم ہو اور پونجی زیادہ پیداواری انٹرپرائز میں لگ سکے۔
پونجی بازار دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے پرائمری بازار اور سکینڈری بازار۔

پونجی بازار اوربازارزر کے درمیان امتیاز

(Distinction between Capital Market and Money Market)

دونوں بازاروں کے درمیان اہم امتیازی نکات حسب ذیل ہیں:
(i) شرکا: مالی ادارے، بینک، کمپنیاں، غیرملکی سرمایہ کار اورپبلک میں سے ہی عام خوردہ سرمایہ کار بازارزر کے شرکا ہوتے ہیں۔ریزروبینک آف انڈیا(آربی آئی)، بینک ، مالی ادارے اورفائننس کمپنیاں جیسے ادارہ جاتی شرکا(Institutional Participants)ہی کم وبیش بازار میں شریک ہوتے ہیں ۔اگرچہ انفرادی سرمایہ کاروں ثانوی بازارزرمیں لین دین کرنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن وہ عام طورپر ایسا نہیں کرتے۔
(ii) دستاویزات: ایکویٹی شیئرز،ڈبنچر، بانڈس اورترجیحی شیئرز ہی وہ اہم دستاویزات ہیں جن کی پونجی بازار میں تجارت ہوتی ہے۔ مختصر مدتی قرض دستاویزات جیسے ٹی-بل(T-Bills)بل رپورٹس، کمرشیل پیپر اور ڈیپازٹ کے سرٹی فیکٹ وہ اہم دستاویزات ہیں جن کی تجارت بازار زرمیں ہوتی ہے۔
(iii) سرمایہ کاری کے مصارف: پونجی بازاریعنی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے کا لازمی طورپر یہ مطلب نہیں کہ اس میں مالی مصارف زیادہ ہوں گے۔ سیکیورٹیز کی اکائیوں کی قدر عمومی طورپر کم ہوجیسے Rs10،Rs100ہوتی ہے اوراسی طرح شیئرزکی کم سے کم تجارتی لاٹ کا معاملہ بھی ہے جسے 5،50، 100(اور اسی طرح آگے بھی )کم رکھاجاتاہے۔اس سے چھوٹی بچتوں والے افراد کو ان سیکیورٹیز کی خریداری میں مدد ملتی ہے۔ بازار زرمیں چونکہ دستاویزات کافی مہنگی ہوتی ہیں اس لیے ان کے لین دین میں زیادہ زرکی ضرورت ہوتی ہے۔
(iv) مدت: پونجی بازارمیں درمیانی اورطویل مدتی سیکیورٹیز کی تجارت ہوتی ہے۔جیسے ایکویٹی شیئرز اورڈبنچرس بازارزرکی دستاویزات کی زیادہ سے زیادہ مدت ایک سال ہوتی ہے۔ یہ فقط ایک دن کے لیے بھی ایشو کیے جاسکتے ہیں۔
(v) سیالیت(liquidity): پونجی بازارکی سیکیورٹیز کو سیال سرمایہ کاری سمجھا جاتاہے کیوں کہ ان کی خریدوفروخت اسٹاک ایکسچینج سے ہوتی ہے۔ بہرحال، ہوسکتاہے کہ ایک شیئر کی فوری طورپر تجارت نہ ہوسکے یعنی یہ ممکن ہے کہ اس کا آسانی کوئی خریدارہو۔ اس کے برخلاف بازارزر دستاویزات کی سیالیت بہت زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ اس کام کے لیے ایک رسمی انتظام موجودہے۔بازارزر کی دستاویزات کی فوری خریدوفروخت کے خصوصی مقصد کے لیے (Discount Finance House of India) DFHIقائم کیا جاچکا ہے۔
(vi) تحفظ (Sefty): پونجی بازار کی دستاویزات میں زیادہ جوکھم ہیں۔یہ جوکھم یا خطرات منافع اور اصل رقم کی واپسی دونوں کوہوسکتے ہیں۔ ایشوکرنے والی کمپنیاں اپنے منصوبوں کوانجام نہیں دے پاتیں اور پروموٹربھی سرمایہ کاروں کودھوکہ دے سکتے ہیں لیکن اس کے برخلاف بازار زرزیادہ محفوظ ہے اوراس میں دکھو کا جوکھم یا خطرہ کم سے کم ہے۔ ایسا دراصل سرمایہ کاری کی مدت کے مختصر ہونے اورایشوکرنے والوں کی مالی مضبوطی کی وجہ سے ہوتاہے جو کہ بنیادی طورپر حکومت، بینک اور بڑے پیمانے کی کمپنیاں ہی ہوتی ہیں۔
(vii) متوقع منافع، پونجی بازاروں میں سرمایہ کاری سے سرمایہ کاروں کو بازارزر کے مقابلہ زیادہ منافع ہوتا ہے۔ اگرسیکیورٹیز لمبی مدت کے لیے روک لی جائیں یا فروخت نہ کی جائیں توآمدنی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ پہلی بات تویہ ہے کہ ایکویٹی شیئر میں زیادہ پونجی کمانے کی بڑی گنجائش ہے۔ دوسرے یہ کہ طویل مدت میں زیادہ ڈیویڈینڈ اورزیادہ بونس والے ایشوز کے ذریعے کمپنی خوشحالی شیئر ہولڈروں کی حصے داری سے بڑھ جاتی ہے۔

پرائمری بازار

(PRIMARY MARKET)

پرائمری بازار کو نئے ایشوز کا بازار (New issues market) بھی کہا جاتا ہے۔ اس بازار میں ان نئی سیکیوریٹیز (Securities) کالین دین ہوتا ہے جو پہلی بار ایشو کی جاتی ہیں۔ بچت کاروں سے ان جرائت کاروں کی طرف جو پہلی بار جاری ہونے والی سیکیوریٹیز (securities)سے نئے انٹر پرائز قائم کرنا چاہتے ہیں یا موجودہ انٹرپرائز کی توسیع کرنا چاہتے ہیں، قابل سرمایہ کاری بچتوں کی منتقلی پرائمری بازار کے اہم کام ہیں۔ بینک، مالی ادارے، بیمہ کمپنیاں، میچول فنڈس اور افراد پونجی بازار کے سرمایہ کار ہیں۔کوئی بھی کمپنی پرائمری بازار کے ذریعے ایکوئٹی شئیرز، ترجیحی شیئرز، ڈبینچر، قرض اور بچتوں کی شکل میں پونجی جٹا سکتی ہے۔ ان جٹائے گئے فنڈس کو کمپنی نئے پروجیکٹ شروع کرنے کے لیے، کاروبار کی توسیع اور تنوع کے لیے،موجودہ پروجیکٹیوں کی جدید کاری کے لیے، کمپنی کا کسی دوسری کمپنی میں ادغام کے لیے یا کسی کمپنی کو تحویل میں لینے کے لیے کرسکتی ہے۔

رواں یا فلوٹیشن کے طریقے

 (Methods of Floatation)

پرائمری بازار میں نئے ایشوز کے رواں کے کئی طریقے ہیں۔

1۔  پیش کش بذریعہ پراسپیکٹس (Offer Through Prospectus):  پرائمری بازار میں پبلک کمپنیوں کے ذریعے فنڈس جٹانے کا سب سے مقبول طریقہ ’’پیش کش بذریعہ پراسپیکٹس‘‘ہے۔ اس کے مطابق پراسپیکٹس جاری کرکے پبلک سے مالی تعاون (Subscription) کی درخواست کی جاتی ہے۔ پراسپیکٹس میں پونجی جٹانے کے لیے سرمایہ کاروں سے براہ راست اپیل کی جاتی ہے۔ اس کے لیے اخبارات اوررسائل میں اشتہارات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ ایشو بیمہ شدہ بھی ہوسکتے ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ کم ا ز کم ایک اسٹاک ایکسچینج (Stock Exchange) میں درج شدہ (Listed) ہو۔ پراسپیکٹس کا مضمون کمپنی ایکٹ کی وفعات اور SEBI کے اصول وضوابط نیز سرمایہ کار کے لیے بنائے گئے رہنما اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
پیش کش برائے فروخت  (Offer for sale): اس طریقے کے تحت سیکیوریٹیز(Securities) کو براہ راست پبلک کے لیے ایشو نہیں کیا جاتا بلکہ اسٹاک دلالوں جیسے بچولیوں کے ذریعے ان کو فروخت کرایا جاتاہے۔ ایسی صورت میں کمپنی سیکیوریٹیز(Securities) کو طے کی گئی قیمت پر دلالوں کو یک مشت رقم دلاتی ہے اور پھر یہ دلال ان کو سرمایہ کار پبلک کے ہاتھوں فروخت کردیتے ہیں۔
پرائیویٹ پلیسمنٹ (Private Placement): پرائیویٹ پلیسمنٹ کمپنی کے ذریعے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (Institutional Investors) اور کچھ چند افراد کو سیکیوریٹیز (Securities) کا الاٹ مینٹ ہے۔ اس سے پبلک ایشوز کے بالمقابل فنڈس تیزی سے اکٹھا ہوجاتے ہیں۔ بہت سے لازمی اور غیر لازمی اخراجات کی بنا پر پرائمری بازارا تک دسترس بہت مہنگی پڑتی ہے۔اسی لیے کچھ کمپنیاں پبلک ایشو کو برداشت نہیں کر پاتیں اور پبلک پلیسمنٹ کو انتخاب کرتی ہیں۔
رائٹ ایشو (Rights Issue): یہ موجودہ شیئر ہولڈروں کے لیے ایک مراعات (Privilage) ہوتی ہے کہ وہ کمپنی کی شرائط کے مطابق شیئرز کے نئے ایشو میں مالی تعاون دے سکیں۔ شیئر ہولڈروں کو یہ حق دیاجاتا ہے کہ وہ اپنے موجودہ شیئرز کی تعداد کے تناسب سے نئے شیئر خرید سکیں۔
ای۔آئی پی او (E-IPOs): کوئی بھی کمپنی جو شیئر بازار کے آن لائن سسٹم کے ذریعے پبلک پونجی ایشو جاری کرنا چاہتی ہے اسے شیر بازار سے ایک معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کو الیکٹرانک اینشیل پبلک آفر یا Electronic Initial Public offers (E-IPOs) کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت درخواستیں قبول کرنے کے لیے SEBI میں رجسٹرڈ شدہ دلالوں کا تقرر اور کمپنی کا تقررکرنا پڑتا ہے۔ ایشو کے لیے ایشو کرنے والی کمپنی کو ایک رجسٹرار کا تقرر کرنا چاہیے جو ایکسچینج کے ساتھ الیکٹرانک رابطہ رکھتا ہو۔ ایشو جاری کرنے والی کمپنی کسی بھی ایکسچینج میں اپنی سیکیوریٹیز کی فہرست کے لیے درخواست دے سکتی ہے البتہ ایکسچینج اس ایکسچینج سے مختلف ہونا چاہیے جس کے ذریعے اس نے اپنی سیکیوریٹیز کی پیش کش کی ہے۔ ہیڈ منیجر ان تمام بچولیوں کی سرگرمیوں میں تال میل رکھتا ہے جو اس ایشو سے متعلق ہیں۔

سکینڈری بازار

 (SECONDARY MARKET)

سیکنڈری بازار کو شیئر بازار یا اسٹاک ایکسچینج بھی کہا جاتا ہے۔ یہ موجودہ سیکیوریٹیز کی خریدو فروخت کا بازار ہے۔ یہ بازار موجودہ سرمایہ کاروں کو اپنا سرمایہ ہٹانے اور نئے سرمایہ کاروں کو بازار میں داخل ہونے میں مدد کرتا ہے۔ یہ موجودہ سیکیوریٹیز کو سیالیت اور بازاریت (Marketability) بخشتا ہے۔ یہ نیاسرمایہ لگانے اور لگے ہوئے سرمایہ کو ہٹا کر زیادہ پیداواری سرمایہ کاریوں میں فنڈس لگا کے معاشی نمو میں مددگار ہوتا ہے۔ SEBI کے مجوزہ قانونی ڈھانچے کے اندر، سیکیوریٹیز کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، ان کو چکایا جاتا ہے اور ان کا تصفیہ (Settle)کیاجاتا ہے۔ اب ا نفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ٹریڈنگ (خریدو فروخت) کو ملک کے ہر حصے کے ٹریڈنگ ٹر منلوں سے جوڑ دیا ہے اور قابل دسترس بنا دیا ہے۔ ملک میں پرائمری بازار کی نشوونما کے ساتھ ساتھ، پچھلے دس سال میں سکینڈری بازار نے بھی نمایاں ترقی کی ہے۔
6
پرائمری اورسیکنڈری بازار-ایک موازنہ
(PRIMARY AND SECONDARY MARKETS—A COMPARISON)
پرائمری بازار(نیوایشومارکیٹ) سیکنڈری بازار(اسٹاک ایکسچینج)
(i)    نئی کمپنیاں سیکیورٹیزخریدتی ہیں یا موجودہ کمپنیاں سرمایہ کاروں کونئے ایشوزجاری کرتی ہیں۔
(ii)    کمپنیاں براہ راست( یا کسی بچولیے کے ذریعے) سرمایہ کاروں کو سیکیورٹیز فروخت کرتی ہیں۔
(iii)   فنڈس کا بہائو بچت کاروں سے سرمایہ کاروں کی طرف ہوتاہے یعنی پرائمری بازار براہ راست پونجی کی تشکیل (Formation) کوپروموٹ کرتاہے۔
(iv)    پرائمری بازارمیں صرف سیکیورٹیزکی خریداری ہوتی ہے یہاں سیکیورٹیز فروخت نہیں کی جاسکتیں۔
(v)    کمپنی کا مینجمنٹ قیمتیں طے بھی کرتا ہے اور فیصلے بھی لیتاہے۔
(vi)   اس میں کوئی جغرافیائی مقام طے نہیں ہوتا۔
(i) صرف موجودہ شیئرزکی خریدوفروخت ہوتی ہے۔
(ii)  موجودہ سیکیورٹیز کا تبادلہ سرمایہ کاروں کے درمیان ہوجاتاہے۔اس میں کمپنیوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
(iii)   شیئرزکی سیالیت بڑھتی ہے۔ سیکنڈری بازار براہ راست پونجی کی تشکیل کوبڑھاوادیتاہے۔
(iv)   اسٹاک ایکسچینج پرسیکیورٹیزکی خریدوفروخت دونوں ہوسکتی ہیں۔
(v)    سیکیورٹیز کی مانگ اور تدارک (Supply and Demand)سے قیمتیں طے ہوتی ہیں۔
(vi)    ایسا صرف طے شدہ مقامات پر ہی ہوتاہے۔

پونجی بازار اور بازار زر میں امتیاز 

(Distinction Between Capital Market and Money Market)

بازار زر اور پونجی بازار دونوں ایسے مرکز ہیں جو فنڈس سپلائی کرنے والوں سے فنڈس استعمال کرنے والوں تک فنڈس کو منتقل کرنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ البتہ ان کے درمیان فرق فنڈس کے انتقال کو متاثر کرنے کے لیے تخلیق کیے گئے مالی اثاثوں کی مدت بلوغت سے متعلق ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل مذکور ہوا، بازار زرقلیل مدتی فنڈس جٹاتا ہے جب کہ پونجی بازار درمیانی اور طویل مدتی فنڈس جٹاتاہے۔ قلیل مدتی فنڈس کے معاملے میں مدت کا طول ایک سال یا اس سے کم ہوتا ہے۔

شیئر بازار یا اسٹاک ایکسچینج

 (STOCK EXCHANGE)

اسٹاک ایکسچینج ایک ایساادارہ ہے جو موجودہ سیکیورٹیز  کی خریدو فروخت کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ بازار کے روپ میں، اسٹاک ایکسچینج کسی سیکیورٹی (شیئر، ڈبینچر وغیرہ) کے روپیے پیسے میں تبادل (Exchange) یا پھر اس کے برعکس تبادل کی سہولیات مہیا کرتاہے۔ 
اسٹاک ایکسچینج کمپنیوں کو مالیہ (Finance) فراہم کرتے ہیں، سرمایہ کاروں کو سیالیت دیتے ہیں، ان کی سرمایہ کاری کو محفوظ بناتے ہیں اور انفرادی کمپنیوں کی قرض کی لیاقت (Credit worthiness) میں اضافہ کرتے ہیں۔


ہندوستان میں اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ

ہندوستان میں شیئر بازار کی تاریخ اٹھارھویں صدی کے اواخر میں شروع ہوئی جب طویل مدتی قابل خریدو فروخت (Negotiable) سیکیوریٹیز کو پہلی بار جاری کیاگیا تھا۔ 1850 میں پہلی بار کمپنی ایکٹ لایا گیا جس کے تحت کارپوریٹ سیکیورٹیز میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی اور محدود ذمے داریوں کی خصوصیت بھی آئی۔ ہندوستان میں پہلا شیئر بازار ممبئی میں نیٹوشیئر اینڈ اسٹاک بروکرس ایسوسی ایشن کے روپ میں قائم ہوا۔آج اسے بمبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسی کی تقلید میں احمد آباد میں (1894)کولکاتا میں (1908) اور مدراس میں (1937)ایکسچینجوں کا فروغ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ا سٹاک ایکسچینجز پہلی بار تجارت اور کامرس کے بڑے مراکز میں قائم ہوئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل تک ہندوستان کا سیکنڈری بازار علاقائی ایکسچینجز پر مشتمل تھا جن میں BSE سر فہرست تھا۔ 1991 کی اصلاحات کے بعد، ہندوستانی سکینڈری بازار نے ایک سہ سطحی شکل حاصل کرلی جس میں مندرجہ ذیل ایکسچینج شامل تھے۔

• علاقائی اسٹاک ایکسچینج

• نیشنل اسٹاک ایکسچینج (NSE)

•  اوور دی کاؤنٹر ایکسچینج آف انڈیا (Over the Counter Exchange of India)


اسٹاک ایکسچینج کا مفہوم (Meaning of Stock Exchange)

سیکیوریٹیز کانٹریکٹس (ریگولیشن) ایکٹ (Securities Contracts (Regulation) Act 1956) کے مطابق، اسٹاک ایکسچینج کا مطلب ہے کاروبار میں سیکیورٹیز کی خریدو فروخت یالین دین میں مدد، یا ضابطگی یا کنٹرول کے لیے افراد کی کسی جماعت یا تنظیم کی تشکیل کرنا چاہے یہ جماعت ان کارپوریٹڈ (Incorported) ہو یا نہ ہو۔

اسٹاک ایکسچینج کے کام(Functions of a Stock Exchange)

اسٹاک ایکسچینج کا بہت اہم کام نئے ایشوز کے لیے ایک مساعد ماحول کی تخلیق ہے تاکہ ایک فعال اور روبہ ترقی پرائمری بازار وجود میں آسکے۔ اگر موجودہ سیکیوریٹیز کا سکینڈری بازار فعال اور صحت مند ہوگا تو اس سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت ماحول پیدا ہوسکے گا۔ ایک اسٹاک ایکسچینج کے کچھ اہم کام یہ ہیں۔
1۔ موجودہ سیکیورٹیز کو سیالیت اور بازاریت مہیا کرنا (Providing Liquidity and Marketabi- lity to Existing Securities): اسٹاک ایکسچینج کا سب سے بنیادی کام ایک مسلسل بازار (Continuous market) کی تخلیق کرنا ہے جہاں سیکوریٹز کو بیچا اور خریدا جاسکے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو یہ موقع ملے گا کہ وہ سرمایہ ہٹا بھی سکیں اور نیا سرمایہ لگا بھی سکیں گے۔ اس سے بازار میں پہلے سے موجود سیکیوریٹز کی سیالیت اور بازاریت کو فروغ ہوگا۔
7

ممبئی اسٹاک ایکسچینج

2۔  سیکیوریٹز کی قیمتیں (Pricing of Securities): کسی شیئر بازار میں شیئروں کی قیمتوں کا تعین مانگ اور سپلائی کی قوتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج مسلسل تعیین قدر  (Constant valuation)کا ایک ایسا میکانزم ہے جس کے ذریعے سیکیورٹیز کی قیمتوں کا تعین ہوتا ہے۔اس قسم کے تعین قدر سے بازار میں خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو ہی اہم اور فوری معلومات مل جاتی ہیں۔
3۔  محفوظ لین دین (Safety of Transaction): اسٹاک ایکسچینج کی ممبر شپ میں بڑی باقاعدگی اور باضابطگی ہوتی ہے۔ اس کے تجارتی معاملات بہت جانے بوجھے اور موجودہ قانونی ڈھانچے کے مطابق طے شدہ ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کرنے والی پبلک کے ساتھ بازارمیں غیر جانبدار رویہ اپنایا جاتاہے اور اس کے ساتھ تجارتی معاملات کو تحفظ حاصل ہوتاہے۔
4۔  معاشی  نمو  میں  تعاون  (Contributes to Economic Growth): اسٹاک ایکسچینج ایک ایسا بازار ہوتا ہے جہاں موجودہ سیکیورٹیز (Securities)کو دوبارہ فروخت کیا جاتا ہے یا ان کی تجارت کی جاتی ہے۔ سرمایہ لگانے یا سرمایہ ہٹالینے (Disinvestment) کے اس عمل میں بچتوں کو سب سے زیادہ پیداوار ی سرمایہ کاری طریقوں میں لگایا جاتا ہے۔ اس سے پونجی کی تشکیل ہوتی ہے اور معاشی نمو حاصل ہوتی ہے۔
5۔ ایکویٹی کے طریق کا پھیلاؤ (Spreading of Equity cult) : شیئر بازار نئے ایشوز کو ضابطے میں لاکے لین دین کے بہتر مواقع فراہم کرکے اور سرمایہ کاری کے بارے میں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے موثر اقدامات کرکے ایک اہم کردار نبھا سکتا ہے۔
6۔ سٹہ بازی کے لیے مواقع فراہم کرانا (Providing Scope for Speculation) :شیئر بازار قانونی ضابطوں کے تحت اور قانونی پابندیوں کے ساتھ سٹے بازی کے مواقع فراہم کرتاہے ۔عام طور پر یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ صحت مند سٹہ بازی ایک خاص حد تک ضروری ہے اس سے شیئر بازار میں سیالیت آتی ہے اور قیمتوں میں تسلسل برقرار رہتا ہے۔

ٹریڈنگ اور نپٹارا(TRADING AND SETTLEMENT PROCEDURE)

اب سیکیوریٹیز کی تجارت ایک آن لائن، کمپیوٹرائزڈ اور الیکٹرانک طریق تجارت کے ذریعے انجام پا رہی ہے۔ اب تمام حصص اور تمسکات (Shares and debentures) کی خرید وفرخت ایک کمپیوٹر ٹرمنل کے ذریعے ہوتا ہے۔
ایک وقت وہ تھا جب کھلے نیلامی سسٹم میں تمسکات کو اسٹاک ایکسچینج کے آنگن میں بیچا اور خریدا جاتا تھا۔ اس نیلامی نظام میں پروکروں یا دلالوں کے درمیان سودے ہوتے، قیمتوں کا بلند آواز میں اعلان کیا جاتا اور شیئروں کو اونچی بولی لگانے والے کے نام بیچ دیا جاتا۔ لیکن اب تو تقریباً سبھی ایکسچینج الیکٹرانک ہوچکے ہیں اور اب ساری تجارت بروکر کے دفتر میں بیٹھ کر کمپیوٹر ٹرمنل کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ اصل کمپیوٹر سسٹم اسٹاک ایکسچینج میں ہوتا ہے اور اس کے بہت سے ٹرمنل سارے ملک میں پھیلے ہوتے ہیں۔ سیکیوریٹیز کی ٹریڈنگ ان بروکروں کے ذریعے ہوتی ہے جو اسٹاک ایکسچینج کے رکن یاممبر ہوتے ہیں۔ اس طرح ٹریڈنگ اسٹاک مارکیٹ کے آنگن سے بروکر کے دفتر پہنچ چکی ہے۔
ہر بروکر کسی کمپیوٹر ٹرمنل کا استعمال کرتا ہے اور یہ کمپیوٹر ٹرمنل اصل اسٹاک ایکسچینج سے جڑا ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کے اسکرین کے ذریعے ہونے والی اس تجارت میں کوئی بھی ممبر سائٹ کو لاگ آن کرسکتا ہے اور اپنی پسند (کمپنی، ممبر وغیرہ) کے شیئروں کی خریدوفروخت کے بارے میں جملہ معلومات اور قیمت وغیرہ کمپیوٹر میں فیڈ کرسکتا ہے۔ کمپیوٹر کے سافٹ ویئر کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ جب کسی جوابی پارٹی کی طرف سے میل کھانے والا آرڈر مل جاتا ہے توسودا انجام پذیر ہوجاتا ہے۔ یہ سارا سودا کمپیوٹر کے اسکرین پر انجام پاتا ہے اور اس میں دونوں پارٹیاں ہر وقت یعنی اس وقت بھی جب کو ئی سودا انجام پارہا ہے اور خود اسٹاک ایکسچینج کے کاروباری اوقات میں بھی شیئرز کی اترتی چڑھتی قیمتوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ بروکر آفس کا کمپیوٹر سب سے اونچی بولی اور سب سے اچھی قیمت کے آرڈروں کا لگاتار ملان کرتا رہتا ہے۔ وہ آرڈر جن کاموزوں جوڑ نہیں ملتا وہ اسکرین پر رہتے ہیں اور بقیہ دن کے دوران ملان (Matching)کے لیے کھلے رہتے ہیں۔
الیکٹرونک ٹریڈنگ سسٹم یا اسکرین پر مبنی ٹریڈنگ کے کچھ خاص فوائد ہیں:
اس میں شفافیت کا یقین رہتا ہے کیونکہ اس ٹریڈنگ میں حصہ لینے والے سبھی لوگ تمام سیکیوریٹیز کی بازار قیمتوں کو کاروبار کے دوران براہ راست دیکھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ کاروبار کے حقیقی وقت میں پوری مارکیٹ کو دیکھ سکتے ہیں۔
اس سے دوسروں تک پہنچنے والی اطلاعات کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے اور اس طرح قیمتوں کو کارگر طریقے سے متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کمپیوٹر قیمتوں کے بارے میں معلومات کو بھی اپنی اسکرین پر دکھاتا ہے اور پونجی بازار کی ان تبدیلیوں کو بھی دکھاتا ہے جو شیئروں کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔
8
الیکٹرانک تجارتی نظام
کمپیوٹر ٹریڈنگ میں چونکہ وقت اور لاگت کی بچت ہوتی ہے اور غلطیوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے اس لیے اس کے تمام معاملات اورلین دین کی شفافیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
سارے ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملکوں کے وہ لوگ بھی جو اسٹاک مارکیٹ میں شرکت کرنا چاہیں، بروکرو یا ممبروں کے ذریعے ایک دوسرے کو جانے بغیر بھی سیکیوریٹز کی خرید وفروخت کرسکتے ہیں یعنی یہ لوگ بروکر کے دفتر میں بیٹھ سکتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ کمپیوٹر میں لاگ آن کرکے سیکیوریٹیز کی خریدوفروخت کرسکتے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت لوگوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرسکتی ہے۔ اس طرح بازار کی سیالیت کو بھی فروغ ملتا ہے۔
چونکہ ٹریڈنگ کے تمام مراکز پر ایک ہی مدت میں کاروبار کا لین دین ہوجاتا ہے اس لیے لوگوں کو ایک واحد ٹریڈنگ پلیٹ فارم دستیاب ہوجاتا ہے۔ یوں کہیے کہ تمام ملک میں پھیلے ٹریڈنگ کے مرکز کمپیوٹر کے ذریعے ایک واحد ٹریڈنگ پلیٹ فارم یعنی اسٹاک ایکسچینج سے جڑ جاتے ہیں۔
 اب کمپیوٹر کی اسکرین یا آن لائن ٹریڈنگ ایک ایسا اکلوتا طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ شیئرز کی خرید وفرخت کرسکتے ہیں شیئرز کو آپ کاغذی (فزیکل) شکل میں بھی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور ایک الیکٹرونک بک کے اندراج کی شکل میں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور اسی شکل میں ان کو ٹرانسفر بھی کراسکتے ہیں۔الیکٹرونک بک میں اندراج کو ڈی میٹ (Demeteialised)شکل کہا جاتا ہے۔

ٹریڈنگ اور پنٹارے کی کارروائی کے مراحل

(Steps in the Trading and Settlement Procedure)

2003کے بعد سے ٹریڈنگ سے متعلق تمام امور کا نپٹارا ٹریڈنگ کی تاریخ سے دو دن کے اندر یعنی T+2 بنیاد پر کرنا لازمی ہے۔ ان اصطلاحات سے قبل سیکیوریٹیز کی جو خریدو فروخت ہوتی تھی اس میں اسٹاک ایکسچینج کے تمام معاملات کا نپٹارا ہفتہ واری یا پندرہ روزہ نپٹارا دور (Settlement Cycle) کے حساب سے ہوتا تھا۔ یہ نپٹارا سیکیوریٹیز کی سپردگی کی صورت میں یا پھر نقد ادائیگی کی شکل میں ہوتاتھا۔ یہ سسٹم ایک لمے عرصے تک جاری رہا۔ اس سے ایکسچینج پر ٹریڈنگ کے حجم میں اضافہ بھی ہوا اور سیالیت میں کمی آئی۔ لیکن چونکہ ٹریڈر س کے معاملات کا نپٹارا طے شدہ تاریخوں پر ہوتا تھا اس لیے اس سسٹم سے سٹہ بازی کو بڑھاوا ملتا اور بروکرس کی ٹریڈنگ اور ادائیگی میں غفلت کی وجہ سے شیئرز کی قیمتیں گرنے اور چڑھنے لگتیں۔ پھر2002میں ایک نیاسسٹم یعنی رولنگ سیٹل مینٹ (Rolling Settlement)شروع ہوا تاکہ ٹریڈ جب بھی عملی شکل اختیار کرے تو چند روز کے بعد ہی نپٹارا بھی ہوجائے 2003کے بعد تمام شیئرز ایک T+2کی بنیاد پر رولنگ سیٹل منٹ (Rolling (Settlement کے تحت آگئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سیکیوریٹیز کے تمام لین دین کا نپٹارا ٹریڈ کی تاریخ کے بعد دو دن کے اندر ہونا ضروری ہوگیا۔ چونکہ رولنگ سیٹل مینٹ میں شیئرز کی حرکت تیز ہوتی ہے اس لیے شیئرز کے الیکٹرونک فنڈ ٹرانسفر کو موثر طور پر عمل میں لانے اور اس طرح ان کے الیکٹرونک بک میں اندراج کی ضرورت ہوتی ہے۔

پروجیکٹ ورک

بمبئی اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ www.bseindia.comکا مطالعہ کیجیے اور جو معلومات مفید ہیں ان کو ایک مرتب شکل دیجیے۔ پھر کلاس میں اس پر بحث کیجیے اور پتہ لگائیے کہ یہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے سلسلے میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہے۔ اپنے استاد کی مدد سے اپنی کی ہوئی تحقیقات پر ایک رپورٹ تیار کیجیے۔

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کی ضابطہ بندی کرنے میں SEBI کے رول پر ایک رپورٹ تیار کیجیے۔آپ یہ ساری معلومات SEBI کی ویب سائٹ www.sebi.govt.in پر حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟


سیکیوریٹز کی خرید وفروخت کی کمپیوٹر اسکرین کے ٹریڈنگ کے درج ذیل مرحلے ہوتے ہیں:۔
اگر کوئی سرمایہ کار (Investor)کسی سیکیورٹی کو بیچنا یا خریدنا چاہے تو اسے سب سے پہلے کسی رجسٹرڈ بروکر یا سب بروکر سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ایک معاہدہ طے کرنا ہوتا ہے۔ سیکیوریٹیز کے بیچنے یا خریدنے کے لیے آرڈر دینے سے قبل سرمایہ کار کو ایک بروکر گراہک معاہدہ پر اور ایسے ہی ایک رجسٹریشن فارم پر دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کو کچھ مزید معلومات اور تفصیلات بھی فراہم کرنی ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں:
PAN CARD  (یہ لازمی ہے)
تاریخ پیدائش اور پتہ
تعلیمی لیاقت اور پیشہ
•  قومیت اور سکونت (ہندوستان/این آرآئی)
•  بینک کھاتہ کی تفصیلات
•  ڈیپازیٹری کے کھاتے کے بارے میں تفصیلات
•  کسی ایسے بروکر کا نام جس کے یہاں بھی رجسٹریشن کر ایا گیا ہے۔
•  گراہک رجسٹریشن فارم میں گراہک کا کوڈ نمبر
اب بروکر سرمایہ کار کے نام سے ٹریڈنگ کھاتہ کھول دیتا ہے۔
2۔  ڈی میٹ شکل (Demate form) میں سیکیوریٹیز رکھے یا ٹرانسفر کرنے کے لیے ڈیپاریٹری پارٹی سی پینٹ (Depository Participant) کے ساتھ ایک ڈی میٹ کھاتہ یا بینی فیشیل اونر کھاتہ (Beneficial Owner Account)کھولنا ہوتا ہے۔ سرمایہ کار کو سیکیوریٹیز مارکیٹ میں نقد لین دین کے لیے بھی ایک بینک کھاتہ کھولنا ہوتا ہے۔
16
17

ان تمام باتوں کے بعد سرمایہ کار شیئرز کی خریدوفروخت کے لیے بروکر کے پاس اپنے آرڈر بک کراسکتا ہے۔ اس کے لیے اس کو شیئرز کی تعداد اور ان قیمتوں کی واضح تفصیل دینی ہوتی ہے جن پر شیئرز خریدے یا بیچے جاسکیں۔ پھر بروکر معاہدے کو اعلیٰ دستیاب قیمت پر آگے بڑھاتاہے۔بروکر آرڈرکی توثیق (Confirmation)کی ایک سلپ بھی سرمایہ کار کو دیتا ہے۔
اس کے بعدبروکر آن لائن جاتا ہے اور اصل اسٹاک ایکسچینج سے رابطہ کرکے شیئرز اور ان کی اعلیٰ دستیاب قیمتوں کا ملان کرتا ہے۔
اگر بیان کردہ قیمت پر شیئرز کی خرید وفروخت ہوسکتی ہے تو بروکر کے کمپیوٹر ٹرمنل کو مطلع کر دیاجاتاہے اورآرڈر الیکٹرونک طور پر انجام پذیر ہوجاتاہے اور پھر بروکر ٹریڈ کی ایک توثیقی سلپ (Confirmation Slip)سرمایہ کار کو جاری کردیتا ہے۔
 ٹریڈ کے انجام پذیر ہونے کے بعد 24گھنٹے کے اندر اندر بروکر ایک کانٹریکٹ نوٹ جاری کرتا ہے۔ اس نوٹ میں خریدے یا فروخت کیے گئے شیئرز کی تعداد،قیمت، معاہدے کی تاریخ اور وقت اور بروکرج چارجز (Brokerage Charges)وغیرہ کی تفصیلات ہوتی ہیں۔ یہ کانٹریکٹ نوٹ ایک اہم دستاویز ہوتی ہے کیونکہ یہ قانونی طور پر قابل نفاذ ہوتا ہے اور سرمایہ دار اور بروکر کے درمیان تمام دعوے اور نزاع اسی سے طے ہوتے ہیں۔اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایک یونیک آرڈر کوڈ نمبر(Unique order code  number)لین دین کے ہر معاملہ میں تفویض کیا جاتا ہے جو کانٹریکٹ نوٹ کی پشت پر چھپا ہوتا ہے۔
اب سرمایہ کار فروخت کردہ شیئرز کی سپردگی یا خرید کردہ شیئرز کی نقد ادائیگی کرتا ہے۔ یہ کام کانٹریکٹ نوٹ کی وصولی کے فوراً بعد یا اس دن سے قبل کیا جاتا ہے جب بروکر ایکسچینج کو شیئرز کی سپردگی یا ادائیگی کرے۔ اس کو پے ان ڈے (Pay in Day)کہا جاتا ہے۔
نقد کی ادائیگی یا سیکیوریٹیز کی سپردگی پے ان ڈے پرہوتی ہے جو T+2والے دن سے پہلے ہوتا ہے کیونکہ T+2والے دن توسارا معاہدہ مکمل اور فیصل ہو جاتا ہے۔ سیٹل مینٹ سائیکل(Settlement Cycle) تویکم اپریل 2003سے ایک رولنگ سیٹل مینٹ بنیاد پر T+2والے دن مکمل ہوجاتا ہے۔
9۔  T+2والے دن ایکسچینج شیئرز کی سپردگی یا ادائیگی دوسرے بروکر کو کردیتا ہے پے آؤٹ ڈے(Pay out Day) کہاجاتا ہے۔ پے آؤٹ ڈے کے 24گھنٹے کے اندر بروکر کے لیے ضروری ہے کہ اس کو سرمایہ کار کو ادائیگی کردے کیونکہ وہ ایکسچینج سے ادائیگی پہلے ہی وصول کرچکا ہوتا ہے۔
10۔ بروکر براہ راست سرمایہ کار کے ڈیمیٹ کھاتے سے، ڈی میٹ شکل میں شیئرز کی سپردگی کرسکتا ہے۔ سرمایہ کارکو اپنے ڈی میٹ کی تفصیلات اپنے ڈیپازیٹری پارٹی سی پینٹ(Depository Participant)کو دینی ہوتی ہیں اور یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ وہ سیکیوریٹیز کی براہ راست سپردگی اپنے بینی فیشیل اونر (Beneficial Owner)کھاتے میں کرلے۔

پروجیکٹ ورک

1۔   بمبئی اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ www.bseindia.comکا مطالعہ کیجیے اور جو معلومات مفید ہیں ان کو ایک مرتب شکل دیجیے۔ پھر کلاس میں اس پر بحث کیجیے اور پتہ لگائیے کہ یہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے سلسلے میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہے۔ اپنے استاد کی مدد سے اپنی کی ہوئی تحقیقات پر ایک رپورٹ تیار کیجیے۔
ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کی ضابطہ بندی کرنے میں SEBI کے رول پر ایک رپورٹ تیار کیجیے۔آپ یہ ساری معلومات SEBI کی ویب سائٹ www.sebi.govt.in پر حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟

ڈی میٹ کاری اور ڈیپازیٹریز  (Dematerialisation and Depositories)

تمام سیکیوریٹیز کی تجارت کمپیوٹر ٹرمنلوں کے ذریعے ہوتی ہے اور چونکہ تمام سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہیں۔ اس لیے سیکیوریٹیز کی فروخت کا نپٹاراایک الیکٹرونک اندراج بک(Electronic book entry)کی شکل میں کیا جاتا ہے۔ ایسا خاص طورپر شیئرز سرٹیفیکٹ اور ڈیبنچروں کی چوری، جعلی ٹرانسفر، ٹرانسفر میں تاخیر یاان کی کاغذی کاروائی میں تاخیر جیسی مشکلات سے نجات پانے کے لیے کیا جاتا ہے جو شیئرز وغیرہ کے ظاہری (فزیکل) شکل میں ہونے کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہیں۔
ڈی میٹ شکل میں سرمایہ کارکے پاس جو سیکیوریٹیز کاغذی یا فزیکل شکل میں ہوتی ہیں وہ کالعدم ہوجاتی ہیں اور سرمایہ کار کو ایک الیکٹرونک اندراج یا الیکٹرونک نمبر تفویض کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ اس کو کھاتہ میں ایک الیکڑونک بیلنس کی حیثیت سے اپنے پاس رکھ سکے۔ الیکٹرونک شکل میں سیکیوریٹیز کو اپنے پاس رکھنے کا عمل ڈیمیٹ کاری (Dematerialisation) کہلاتا ہے۔ اس کے لیے سرمایہ کار کو کسی بھی تنظیم (Orgaination)کے ساتھ کھاتہ کھولنا پڑتا ہے جسے ڈیپازیٹری (Depository)کہا جاتا ہے۔ اب در حقیقت تمام ابتدائی پبلک آفرسIPOS (Initial Public Offercs) ڈیمیٹ شکل میں ہی جاری ہوتی ہیں اور 99% سے زیادہ فروخت کا نپٹارا ڈیمٹ شکل میں سپردگی کے ذریعے ہوتا ہے۔
SEB یعنی سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے یہ لازمی کردیا ہے کہ کچھ منتخب سیکیوریٹیز کی نپٹارے کی تمام کارروائیاں ڈیمیٹ شکل میں دی جارہی ہوں۔ ڈیمیٹ شکل میں شیئرز رکھنا بہت آسان ہوتا ہے اور اس کی شکل بالکل ایک بینک کے کھاتے کی سی ہوتی ہے۔
 فزیکل شیئرز کو الیکٹرونک شکل میں اور الیکٹرونک شیئرز کو فزیکل سرٹی فیکٹس میں بدلا جاسکتا ہے۔ ڈی میٹ سسٹم سے شیئرز کو کسی دوسرے کھاتے میں بالکل نقد کی طرح ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے اور تمام ٹریڈ کا نپٹارا شیئرز کے ایک واحد کھاتے کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ان ڈیمیٹ سیکیوریٹیز کو قرض وغیرہ لینے کے لیے رہن بھی رکھا جاسکتا ہے۔ ان شیئرز سرٹی فیکٹوں کے کھوئے جانے یا چوری ہو جانے یا ان میں دھوکہ دھڑی ہونے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ یہ بروکر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ کار کے کھاتے میں شیئرز کی صحیح تعداد کریڈٹ کرائے۔

ڈی میٹ سسٹم کا طریق کار(Working of the Demat System) 

ایک ڈیپازیٹری پارٹی سپینٹ (DP)کی نشاندہی ضروری ہے۔ ڈی پی (DP)بینک یا بروکر کوئی بھی ہوسکتاہے۔ کوئی فنانشیل سروسز کمپنی بھی ڈی پی (DP) ہوسکتی ہے۔
کھاتہ کھولنے کا فارم اور ضروری دستاویزی ثبوت (پین کارڈ کی تفصیلات، فوٹو، پاوراف اٹارنی) کو مکمل کرنا ضروری ہے۔
ڈی میٹ کی درخواست فارم کے ساتھ ظاہری سرٹی فیکٹ، ڈی پی (DP)کو دینا ضروری ہے۔
اگر کسی پبلک افر کے شیئرز کے لیے درخواست دینی ہے تو ڈی پی اور ڈی میٹ کھاتے کی تفصیل دینی ہوگی اور الاٹ ہونے پر شیئرز خود بخود ڈی میٹ کھاتے میں کریڈٹ ہوجائیں گے۔
اگر شیئرز کسی بروکر کے ذریعے فروخت کیے جاتے ہیں تو ڈی پی کویہ ہدایت بھی دی جائے گی کہ وہ شیئرز کی تعداد کو کھاتے سے ڈیبٹ کرے۔
اب بروکر اپنے ڈی پی کو یہ ہدایت دے گاکہ وہ شیئرز اسٹاک ایکسچینج کو سپرد کردے۔
اب بروکر ادائیگی وصول کرے گا اور فروخت کردہ شیئرز کی ادائیگی متعلقہ شخص کو کرے گا۔
یہ تمام لین دین دو دن کے اندر مکمل کر لیے جائیں گے یعنی شیئرز کی سپردگی اور خریدار سے حاصل ہونے والی ادائیگی T+2  بنیاد پر نپٹارا مدت میں کی جائے گی۔

ڈیپازیٹری  (Depository)

جس طرح بینک اپنے گراہکوں کے روپے پیسے کو اپنی محفوظ نگہداشت میں رکھتا ہے، اسی طرح ڈپازیٹری بھی ایک بینک کی طرح ہے جو سیکوریٹیز کو سرمایہ کار کی طرف سے ایک الیکٹرونک فارم میں رکھتا ہے۔ ڈیپازیٹری میں ایک سیکیوریٹیز کھاتہ کھولا جاتا ہے، اس میں تمام شیئرز جمع یا ڈیپازٹ کیے جاسکتے ہیں، ان کو واپس لیا جاسکتا ہے اور کسی بھی وقت فروخت کیا جاسکتا ہے اور ایسے ہی سرمایہ کار کی طرف سے شیئرز کی سپردگی یا ان کی وصولی کی ہدایت بھی دی جاسکتی ہے۔ یہ الیکٹرونک اسٹوریج سسٹم سے ماخوذ ایک ٹیکنالوجی ہے، اس میں شیئرز کے سرٹی فیکٹ، ان کے ٹرانسفر یا فارم وغیرہ سے متعلق کوئی کاغذی کارروائی (Paper Work)نہیں ہوتی۔ سرمایہ کار کے تمام لین دین کا نپٹارا بہت تیزی اور درستگی کے ساتھ انجام پاتا ہے اور تمام سیکیوریٹیز ایک بک اندراج طریقہ (Book intry Mode)پر درج کرائی جاتی ہیں۔
ہندوستان میں دو ڈیپازیٹری ہیں۔ نیشنل سیکیوریٹیز ڈیپازیٹریز لمیٹیڈ (NSDL)سب سے پہلی اور سب سے بڑی ڈیپازیٹری ہے جو آج بھی ہندوستان میں چلتی ہے، اس کو IDBI، UTI اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج کی ایک مشترکہ تجارتی مہم کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔
سینٹرل ڈیپازیٹری سروسز لمیٹیڈ (CDSL)کامرس کے کام کاج کا دسرا ڈیپازیٹری ہے جسے بمبئی اسٹاک ایکسچینج اور بنک آف انڈیا نے مشترکہ طورپر فروغ دیا ہے۔ قومی سطح کے یہ دونوں ڈیپازیٹری کچھ بچولیوں (Intelmediaries)کے ذریعے چلتے ہیں جو ڈیپازیٹری سے الیکٹرونک طور پر جڑے ہوئے ہیں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ اتصالی نقطوں (Contact Points)کا کام کرتے ہیں۔ یہ بچولیے ڈیپازیٹری پارٹی سی پینٹ(Depository Participant DP)کہلاتے ہیں۔
DP یا ڈیپازیٹری پارٹی سی پینٹ کا کام سرمایہ کار اور ڈیپازیٹری  CSDL)یا (NSDL کے درمیان ایک بچولیے کا ہوتا ہے جو ڈی میٹ شکل والے شیئرز کے کھاتوں کو قائم اور چالو رکھنے کا مجاز ہوتا ہے۔ مالی ادارے،بینک، کلیئرنگ کارپوریشن، اسٹاک بروکر اور نان بینکنگ مالی کارپوریشن DP بننے کی مجاز ہیں۔ اگر کوئی سرمایہ کار سیکیوریٹیز کو بروکر، بینک یا نان بینکنگ فنانس کارپوریشن کے ذریعے بیچتا یا خریدتا ہے تو یہ ادارے DPکے طور پر سرمایہ کار کے لیے کام کرتے ہیں اور ضابطے کی ساری کارروائیوں کو پورا کرتے ہیں۔

ہندوستان کا نیشنل اسٹاک ایکسچینج

(NATIONAL STOCK EXCHANGE OF INDIA (NSE)

نیشنل اسٹاک ایکسچینج تازہ ترین، جدید ترین اور ٹیکنالوجی سے چلنے والا ایکسچینج ہے۔ اس کی تشکیل 1992 میں ہوئی اور 1993میں اسٹاک ایکسچینج کوحیثیت سے اس کو تسلیم کر لیا گیا۔ اس کی شروعات 1994 میں تھوک قرض بازار کے ایک حصے (Wholesale Debt Market Segment) کی تجارت سے ہوئی تھی۔ بعد میں یہاں نومبر 1994 میں پونجی بازار کاسگمینٹ (Segment) بھی شروع ہوگیا اور یہ ایکوٹیز کے لیے ایک کاروباری منچ بن گیا اور پھر جون 2000 میں مختلف فروعی دستاویزات (Derivative instruments) کے لیے آئندہ کا اور اختیاری سگمینٹ بن گیا۔ NSE نے تمام ملک میں مکمل طور پر خودکار اسکرین پر مبنی ٹریڈنگ سسٹم اختیار کررکھاہے۔
NSEکو ممتاز مالی اداروں، بینکوں، بیمہ کمپنیوں اور دیگرمالی بچولیوں نے قائم کیا تھا۔ اب ایسے پیشہ ور اس کا مینجمنٹ چلاتے اور اس کی دیکھ بھا ل کرتے ہیں جو بلاواسطہ یا بالواسطہ ایکسچینج میں تجارت نہیں کرتے۔ یہاں خریدو فروخت کے تمام حقوق ان ٹریڈنگ ممبران کے ہیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ ایکسچینج پر تجارت نہیں کرتے ہیں۔ ٹریڈنگ کے حقوق ان ٹریڈنگ ممبران کو حاصل ہوتے ہیں جو اپنی سروسز سرمایہ کاروں کو پیش کرتے ہیں۔NSEکا بورڈفروغ دہندہ اداروں (Promotor Institutions) کے سینئر ایگزیکٹوز (Senior Executives) اور ممتاز پیشہ وران پر مشتمل ہے۔ اس بورڈ میں ٹریڈنگ ممبران کی کوئی نمائندگی نہیں ہوتی۔

این ایس ای کے مقاصد

(OBJECTIVES OF NSE)

NSE مندرجہ ذیل مقاصد کو ذہن میں رکھ کر قائم کیاگیا تھا:
ہر قسم کی سیکیورٹیز کے لیے ملک گیرسطح پر تجارت کی سہولت قائم کرنا۔

شیئربازار کا اشاریہ(Stock Market Index)

شیئر بازار کا اشاریہ،بازار کے مزاج کاپیمانہ ہے۔ یہ اسٹاک (شیئروں) کے ایک سیٹ کے واسطے سے کل ملا کر بازار کے اتارچڑھاؤ کو ناپتا ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ بازار کے نمائندہ اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں۔ یہ اشاریہ بازار کا رخ بتاتا ہے اور اسٹاک قیمتوں میں روزمرہ کے اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک مثالی اشاریہ وہ ہوتاہے جو بازار کاصحیح حال بتانے کے لیے سیکیورٹیز کی قیمتوں میںتبدیلیوں کو اور خاص شیئروں کی قیمتوں میں ہل چل کو بھی ظاہر کرے۔ ہندوستانی بازاروں میں ممبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE)، سینسیکس(SENSEX)، NSEاورNIFTY اہم اشاریہ ہیں۔ دنیا کے شیئر بازاروں کے کچھ اہم اشاریے اس طرح ہیں۔

• امریکامیں Dow Jones Industrieal Average سب سے قدیم نرخ بند شیئر بازار اشاریوں میں سے ہے۔

•  NASDAQکا جامع اشاریہNASDAQ شیئربازار میں فہرست شدہ شیئروں کی قیمتوں کی تشخیص کا کیپٹلائزیشن بازار ہے۔

• S and P 500 اشاریہ امریکا میں 500بڑی تجارتی کمپنیوں کااشاریہ ہے۔ S and P 500 کو امریکی شیئر بازار کا نائب سمجھا جاتاہے۔

• FT SE 100 لندن شیئر بازار میں فہرست شدہ مکمل بازار قیمت والی100بڑی کمپنیوں پرمشتمل ہے۔ FTSF100 یوروپی بازار ایک ایسا اشاریہ ہے جسے سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔


b۔ تمام ملک میں ابلاغ کے ایک مناسب جال کے ذریعے تمام سرمایہ کاروں تک دسترس کو یقینی بنانا۔
الیکٹرانک تجارتی نظام کا استعمال کرکے ایک غیرجانبدار، اہل اور شفاف سیکیورٹیز بازار مہیا کرانا۔
تصفیہ کے مختصر ادوار (Shorter Settlement Cycles) اور بک انٹری تصفیہ کے قابل بنانا۔
بین الاقوامی معیاروں کو اپنانا اور بین الاقوامی بلندیوں کو چھونا۔
دس سال کی مدت کے اندر ہی، NSE نے ان مقاصد کو حاصل کر لیا جن کے لیے اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستانی پونجی بازار کے ٹرانسفارمیشن تبدیلی کاایک اہم عامل (Agent) رہا ہے۔ NSE نے پونجی بازار کو سرمایہ داروں کے دروازوں تک پہنچا دیا ہے۔ اس نے ٹیکنالوجی پر قبضہ کرکے ملک میں کم لاگت پر سروسز کو تمام سرمایہ کاروں تک پہنچا دیا ہے۔ NSE قوی سطح پر ایک اسکرین پر مبنی خودکار تجارتی نظام فراہم کر رہا ہے جس میں اعلیٰ درجے کی شفافیت ہے اور جو جغرافیائی حد بندیوں سے آزاد تمام سرمایہ کاروں کے لیے مساوی طور سے قابل دسترس ہے۔

این ایس ای کے بازار سیگمینٹ (MARKET SEGMENT OF NSE) 

ایکسچینج مندرجہ ذیل دو حصوں (Segments) میں ٹریڈنگ مہیا کراتا ہے۔
(i) ہول سیل قرض مارکیٹ سگمینٹ (Whole Sale Debt Market Segment)یہ سگمینٹ مختلف النوع قائم آمدنی سیکیورٹیز (Fixed income securities)کو ٹریڈنگ کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ ان قائم آمدنی سیکیورٹیز میں۔ مرکزی حکومت کی سیکیورٹیز، ٹریزری بل، ریاستی ترقیاتی قرض، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگس (Undertaking) کے ذریعہ جاری کردہ بانڈس، فلوئٹنگ ریٹ بانڈس، زیروکوپن بانڈس،انڈیکس بانڈس، کمرشیل پیپر، بچت سرٹی فکیٹ، کارپوریٹ ڈبنچر اور میچول فنڈس شامل ہیں۔
(ii) پونجی بازار سگمینٹ: NSE کا پونجی بازار سگمینٹ ایکویٹی، ترجیح (Preference)ڈبینچر ایکسچینج بیوپار فنڈس اور خوردہ سرکاری سیکیورٹیز کے لیے اہل اور شفاف منچ فراہم کرتا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی چند مشترک اصطلاحات

آپ شیئر مارکیٹ کے بارے میں اخبارات یارسائل میں ان الفاظ اور اصطلاحات کو اکثر و بیشتر پڑھتے ہیں:

بورسز (Bourses): بورسزاسٹاک مارکیٹ کے لیے استعمال ہونے والا ایک دوسرالفظ ہے۔

بُل اور بئیرز(Bulls and Bears) :ان الفاظ سے جانور مراد نہیں ہیں بلکہ یہ سرمایہ کاروں کے بازار اتار چڑھاؤ کی علامت ہیں۔ Bullish Phase سے امید افزا حالات (بازار میں اچھال) کی طرف اشارہ ہے جب کہ Bearish Phase سے اسٹاک مارکیٹ میں نا امیدی کے حالات (گراوٹ) کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔

بدلہ Badla: یہ ادائیگی بڑھانے کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا خاص طور پر BSE میں ہوتا ہے۔ اس سہولت کے تحت یہ اجازت ہوتی ہے کہ کسی لین دین کی تحویل یا ادائیگی (Delivery or Payment) کو نپٹارے کی ایک مدت سے دوسری مدت تک ملتوی کردیا جائے۔

اوڈ لاٹ ٹریڈنگ (Odd lot Trading) :100شیئروں یا اس سے کم کے اضعاف (Multiples)میں ٹریڈنگ ۔

پینی اسٹاکس (Penny Stocks): یہ وہ سیکیورٹیز ہوتی ہیں جن کی اسٹاک ایکسچینج میں کوئی قیمت نہیں ہوتی البتہ ان کا کاروبار سٹے بازی میں اپنی ساجھے داری نبھاتا ہے۔


بامبے اسٹاک ایکسچینج لمیٹیڈ

(BSE (BOMBAY STOCK EXCHANGE LTD

BSEلمیٹیڈ ( جو اس سے قبل بمبئی اسٹاک ایکسچینج کے نام سے جانا جاتا تھا) 1975میں قائم ہوا تھا اور ایشیا کا پہلا اسٹاک ایکسچینج تھا۔ اس کو سیکیوریٹیز کانٹریکٹ (ریگولیشن) ایکٹ 1956کے تحت تسلیم کیا گیا تھا۔ اس ایکسچینج نے سرمایہ اکھٹا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرکے کارپوریٹ سیکٹر کی نشوونما میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس کو BSEلمیٹیڈ کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن یہ 1975میں فیسٹو شیر اسٹاک بروکرز ایسوسی ایشن (Nation share stock Brokers Association)کے طور پر قائم ہوا تھا۔ سیکیوریٹیز مارکیٹ کی باقاعدہ نشو ونما کو یقینی بنانے کے لیے  BSEلمیٹیڈ کے اصول وضوابط کا ایک سیٹ اس کے واقعی قوانین وضع ہونے سے قبل ہی موجود تھا۔ جیسا کہ اس سے قبل مذکور ہوا۔ مختلف افراد کو (جو بروکر نہ ہوں) ممبر یا شیئر ہولڈ کے طور پر ساتھ لے کر ایک کارپوریٹ ادارے کی حیثیت سے اسٹاک ایکسچینج کا قیام ہوسکتا۔ BSE ایسا ہی ایک ایکسچینج ہے جو ایک کارپوریٹ حیثیت رکھتا ہے اور جس کی ایک وسیع شیئرہولڈر اساس ہے، اس کے درج ذیل مقاصد ہیں:
(a) ایکوٹی، قرض دستاویزات (Debt instruments)  ماخوذات (Derivations) اور میوچول فنڈس کی ٹریڈنگ کے لیے ایک کارگر اور شفاف بازار کی فراہمی۔
(b) چھوٹے اور درمیانی کاروباوں کے لیے ایکویٹز کے ایک ٹریڈنگ پلیٹ فارم کی فراہمی۔
(c) ایک فعال ٹریڈنگ کو یقینی بنانا اور ایک الیکٹرونک طور پر چلائے جانے والے ایکسچینج کے ذریعے بازارکی سالمیت کی حفاظت کرنا۔
(d)      سرمایہ بازار کے شرکا(Capital market participants)کے لیے دیگر خدمات (جیسے جوکھم بندو بست(Risk Mauapement، ادائیگی، نپٹارا، مارکیٹ اعداد وشمار اور تعلیم) کی فراہمی۔
(e) بین الاقوامی معیاروں سے مطابقت قومی پیمانے پر اپنی ممتاز حیثیت کے ساتھ ساتھ BSEکے گراہک تمام دنیا میں موجود ہیں تمام بازاروں میں اپنی فکری اختراعات اور مسابقت میں اس کا نام ہے اس نے ایک کیپیٹل مارکیٹ انسٹی ٹیوٹ قائم کر رکھا ہے جسے BSEانسٹی ٹیوٹ لمیٹیڈ کہا جاتا ہے جو اسٹاک بروکروں کے یہاں روزگار حاصل کرنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں کو فنانشیل بازاروں کی تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت دیتا ہے۔ اس ایکسچینج میں ملک اور بیرون ملک کی تقریباً پانچ ہزار کمپنیاں درج فہرست ہیں اور یہ ہندوستان میں سب سے بڑی کیٹلائزیشن مارکیٹ ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈآف انڈیا (SECURITIES AND EXCHANGE BOARD OF INDIA (SEBI)

سیکیورٹیز بازار کی باقاعدہ اورصحت مند نشوونما اورسرمایہ کاروں کے لیے حکومت نے 12اپریل 1988کوSEBIقائم کیاگیا تھا جس کی حیثیت ایک عارض انتظامی باڈی کی تھی۔ یہ حکومت ہند کی وزارت خزانہ کے انتظامی کنٹرول کے تحت اپنے فرائض انجام دیتی تھی۔ SEBIکو30جنوری 1992میں ایک اوڈیننس (صدارتی فرمان)کے تحت قانونی درجہ حاصل ہوا۔ بعد میں اس صدارتی فرمان(آرڈی نینس)کی جگہ پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ نے لے لی جس کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈین ایکٹ1992کے نام سے جاناجاتاہے۔

سیبی کے قیام کے اسباب (Reasons for the Establishment of SEBI)

پونجی بازار میں 1980 کی دہائی میں ایک زبردست اضافہ ہوا جس کا اہم سبب عوام کی شرکت تھی۔ سرمایہ کاروں کی مسلسل اور تیزی سے بڑھتی تعداد اور بازار کے کیپٹلائزیشن کی وجہ سے کمپینوں ، دلالوں،مرچنٹ بینکروں،سرمایہ کاری مشیروں (Consultants) اور سیکیوریٹیز بازار کے دوسرے متعلقہ لوگوں میں مختلف قسم کی بدعنوانیاں پیدا ہو گئیں۔ خود ساختہ مرچنٹ بینکر غیر سرکاری نجی مرچنٹ بینکر، قیمتوں کی مصنوعی زیادتی،نئے ایشوز پر غیر ضروری پریمیم اور کمپنی قانون کی دفعات کی خلاف ورزی، شیئر بازاروں کے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی، ضرورتوں کی زمرہ بندی اور شیئروں کی تحویل میں تاجروغیرہ ان بدعنوانیوں کی نمایاں مثالیں تھی۔ان بدعنوانیوں اور کاروبار کے غلط طور طریقوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کھودیا اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔ سرمایہ کاروں کی مشکلات دور کرنے میں حکومت بھی بے بس ہو گئی اور اسٹاک ایکسچینج بھی۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ موجودہ قوانین میں مناسب سزاؤں کا بندوبست نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے ایک الگ ریگولیٹری باڈی قائم کرنے کا فیصلہ کیا اس کو ’’سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا‘‘کہتے ہیں۔

سیبی کا مقصد اوراس کا کردار

(Purpose and Role of SEBI)

SEBI کامقصد ایک ایساماحول پیدا کرنا ہے جس میں سیکیوریٹیز بازاروں کے ذریعے وسائل کا اختصاص اوران کی بہترحرکت پذیری آسان ہو جائے۔ اس کا ایک اہم مقصد مسابقت اور جدت واختراع کو بڑھاوا دیناہے۔ اصول وضوابط،ادارے اور ان کے باہمی روابط، دستاویزات (Instruments)، افعال، انفرا اسٹرکچر اور پالیسی ڈھانچہ وغیرہ سبھی چیزیں اس میں شامل ہیں۔

اس ماحول کا مطلب یہ ہے کہ بازار کی تشکیل دینے والے تینوں گروپوں (یعنی سیکیورٹیز جاری کرنے والی کمپنیوں سرمایہ کاروں اور بچولیوں) کی ضرورت پوری ہو۔
• سیکیورٹیز جاری کرنے والوں (کمپنیوں) کے لیے اس کا مقصد ایسا بازار مہیا کراناہے جہاں وہ اعتماد کے ساتھ آسان اور شائستہ انداز میں اپنی ضرورت کے لیے مالیہ (Finance) جٹا سکیں۔
• سرمایہ کاروں کے لیے اس کا کام یہ ہے کہ ان کے حقوق اور ان کے مفادات کاتحفظ کرے۔ یہ کام ان کو مسلسل معتبر اور حسبِ ضرورت معلومات فراہم کرکے ہوسکتا ہے۔
• بچولیوں کے لیے اس کاکام یہ ہے کہ ایک مسابقتی، پیشہ ورانہ اور وسیع بازار مہیا کرے جس میں حسبِ ضرورت اور مناسب بنیادی ڈھانچہ موجود ہوتاکہ وہ سرمایہ کاروں اور سیکیورٹیز جاری کرنے والوں کو بہتر خدمات فراہم کرسکیں۔

سیبی کے مقاصد (Objective of SEBI)

کل ملا کر SEBI کا مقصد سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور سیکیورٹیز بازار کو فروغ دینا اور اس کو باضابطہ بنانا ہے۔ اس بات کی مندرجہ ذیل طریقوں سے وضاحت کی جاسکتی ہے۔
شیئر بازار اور سیکورٹیز کی صنعت کو با ضابطہ بنانا تاکہ ان کے کام کاج منظم طور پر انجام پا سکیں۔
سرمایہ کاروں کے حقوق اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنا، خاص طور پر انفرادی سرمایہ کاروں کے مفادات کاتحفظ کرنا،ان کی رہنمائی کرنا اور ان کو ضروری معلومات اور تعلیم سے آراستہ کرنا۔
3۔     کاروبار کی بد عنوانیوں کو روکنا اور خود ضابطگی اور قانونی باضابطگی کے درمیان ایک توازن حاصل کرنا۔
دلالوں اور مرچنٹ بینکروں جیسے بچولیوں میںمسابقت پیدا کرنے کے لیے، ان میں پیشہ ورانہ مہارت کو فروغ دینے کے لیے اور ان کے کام کاج میں شفافیت لانے کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق (Code of conduct) ترتیب دینا۔

سیبی کے کام (Functions of SEBI)

 ہندوستان میں سیکیورٹیز بازار کی ابھرتی ہوئی فطرت کو ذہن میں رکھتے ہوئے SEBI کے دو اہم کام ہیں — سیکیورٹیز بازار کی باضابطگی اور ان کی ترقی۔

 ضابطہ جاتی کام (Regulatory Fucntions)

1۔  دلالوں، ذیلی دلالوں اور بازار کے دیگر کھلاڑیوں کا رجسٹریشن
باہمی فنڈس (Mutual Funds) اور مجموعی سرمایہ کاری کی اسکیموں کا رجسٹریشن۔
3۔  اسٹاک بینکروں،پورٹ فولیو ایکسچینجزاورمرچنٹ بینکروں کی با ضابطگی۔
4۔  دھوکہ بازی اور کاروبار کے ناجائز طریقوں کی روک تھام۔
5۔  اندرونی کاروبار اور قبضہ جمانے والی بولیوں کو کنٹرول کرنا اور ایسے غلط کاموں پر جرمانے عائد کرنا۔
شیئر بازاروں اور بچولیوں کا آڈٹ کرا کے، معائنہ کراکے اور انکوائری وغیرہ کرا کے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنا۔
ایکٹ کے مفاد اور اس کے مقاصد سے باہر انجام دی جانے والی سرگرمیوں پر جرمانہ یافیس وغیرہ لگانا۔
حکومت ہند کے ذریعے سونپے گئے سیکیورٹیز کانٹریکٹ (ریگولیشن) ایکٹ 1956 کے تحت اختیارات کو استعمال کرنا۔

ترقیاتی کام (Development Function)

1۔   سرمایہ کار کی ایجوکیشن۔
بچولیوں کی تربیت۔
3۔   سبھی ایس آر او (SROs) کے لیے ضابطۂ اخلَاق اور کام کاج کے صحیح اور جائز طریقوں کو فروغ دینا۔
بازار کے تمام شرکا کے لیے مفید معلومات اور تحقیقات کی طباعت واشاعت ۔

محافظتی فرائض(کام)(Protective Functions)

دھوکہ بازی اور ناجائز تجارتی سرگرمیوں جیسے گمراہ کرنے والے بیانات دینا، چالبازیاں کرنا اورقیمتوں میں ہیراپھیری کرنا وغیرہ کو ممنوع قراردینا۔
داخلی یا اندرونی لوگوں کو تجارت سے روکنا اورایسے کاموں کے لیے ان پر جرمانے عائد کرنا۔
سرمایہ کاروں کے تحفظ کے اقدامات کرنا۔
4۔   سیکیورٹیزبازارمیں صحیح کام کاج اورضابطۂ اخلاق کو فروغ دینا۔

سیبی کا تنظیمی ڈھانچہ(The Organisation 

 Structure of SEBI)

چوں کہ SEBI ایک قانونی تنظیم (Statutory Body) ہے اس لیے اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اس کی ہر سرگرمی زیادہ محتاط، نزدیک اورمربوط توجہ کی متقاضی ہے تاکہ اس سے SEBI کے مقاصد حاصل ہوسکیں۔ چنانچہ اس کے ڈھانچے میں اصلاح کی گئی اور اس کی وسیع تر شکل اس کے تمام شعبوں میں تال میل قائم کرنے کے لیے اس کو اور بہتر اور معقول بنایا گیاہے۔اس کی تمام سرگرمیوں کو پانچ عملی شعبوں میں بانٹ دیاگیا ہے۔ ہر شعبے کا سربراہ ایک ایکزیکیوٹوڈائریکٹر ہے۔ اس کاہیڈ آفس ممبئی میں ہے لیکن اس کے علاقائی آفس کولکاتہ، چنئی اور دہلی میں ہیں۔یہ علاقائی آفس سرمایہ کاروں کی شکایات سنتے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں کمپنیوں، بچولیوں اور شیئر بازاروں کے ساتھ ان سرمایہ کاروں کے تعلقات کی نگرانی کرتے ہیں۔
SEBI نے دوایڈ وائزری کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں۔یہ ہیں پرائمری مارکیٹ ایڈ وائزری کمیٹی اور سیکنڈری مارکیٹایڈوائزری کمیٹی۔ ان کمیٹیوں میں بازار کے کھلاڑی، پونجی بازار کی اہم شخصیتیں اور SEBI کے ذریعہ منظور شدہ سرمایہ کاروں کی تنظیمیں شامل ہوتی ہیں۔
یہ سب SEBI کی پالیسیوں کو ضروری مادخل (input) فراہم کرتے ہیں۔
ان دونوں کمیٹیوں کے مقاصد حسب ذیل ہیں۔
(a) بچولیوں کو باضابطہ بنانے سے متعلق امور پر SEBI کو مشورہ دینا تاکہ پرائمری بازار میں سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی ہوسکے۔
(b)  ہندوستان میں پرائمری بازار کی ترقی سے متعلق امور پر SEBI کو مشورے دینا۔
(c)  کمپنیوں کو غیر پسندیدہ قرار دینے سے متعلق ضرورتوں کے بارے میں SEBI کو مشورے دینا۔
(d)  پرائمری بازار میں شفافیت اور سادگی پسندی کو متعارف کرانے اور اس مقصد کے لیے قانونی ڈھانچے میں تبدیلیاں لانے کی غرض سے مشورے دینا۔
(e)  ملک میں سیکنڈری بازار کی باضابطگی اور اس کی ترقی سے متعلق امور میں بورڈ کو مشورہ دینا۔
بہر حال نوعیت کے اعتبار سے ان کمیٹیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور SEBI ان مشوروں پر عمل کرنے کی پابند بھی نہیں ہے۔ یہ کمیٹیاں SEBI کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں جو وہ بازار کے فروغ اور قواعد و ضوابط سے متعلق مختلف امور میں بازار سے Feed back حاصل کرنے کے لیے انجام دیتی رہی ہے۔

کلیدی اصطلاحات

فنانشیل بازار
ٹریثرری بل
بچت سرٹیفیکیٹ
پرائمری بازار 
اسٹاک ایکسچینج 
ایس ای بی آئی، این ایس ای
تجارتی بل
Financial Market
Treasury Bill
Certificate of Deposit
Primary Market
Stock Exchange
SEBI, NSE
Commercial Bill
بازار زر
تجارتی دستاویز
بازار
سیکنڈری بازار
او ٹی سی ای آئی 
کال منی
میوچول فنڈ سرمایہ
Money Market
Commercial Paper
Market
Secondary Bazar
OTCEI
Call Money
Mutual Fund Capital
 
    خلاصہ
فنانشیل بازار(Financial Market): فنانشیل اثاثوں کی تخلیق اور ان کے خلاصہ ایکسچینج کا بازار ہے۔ یہ بازار بچتوں کو بہترین پیداواری استعمال کے لیے حرکت پذیر بناتا ہے اور ان کو صحیح طریقوں سے استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ بازار فنانشیل اثاثوں کو سیالیت مہیا کرانے اور قیمت کھوجنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
بازار زر (Money Market) :قلیل مدتی فنڈس کا بازار ہے۔ اس میں ایسے زری اثاثوں (Monetory assets) کا لین دین ہوتا ہے جن کی مدت بلوغت ایک سال سے کم ہوتی ہے۔ بازار زر کی دستاویزات (Instruments of money market) میں ٹریثرری بل، کمرشیل پیپر، کال منی (Call Money)آر ای پی او (REPOs)، بچت سرٹی فکیٹ،کمرشیل بل، ساجھے داری سرٹی فکیٹ اور بازار زر ہو جو فنڈس وغیرہ شامل ہیں۔
پونجی بازار (Capital Market) : وہ جگہ ہے جہاں حکومت اور کارپوریٹ انڈر ٹیکنگس کے ذریعے طویل مدتی فنڈس کو حرکت پذیر (Mobelized) بنایا جاتا ہے۔پونجی کو پرائمری بازار اور سکینڈری بازار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پرائمری بازار میں ایسی نئی سیکیورٹیز کا کاروبار ہوتا ہے جو اس سے قبل پبلک کے لیے کاروبار نہیں تھے جب کہ سکینڈری بازار وہ جگہ ہے جہاں موجودہ سیکیورٹیز خریدی اور فروخت کی جاتی ہیں۔
شیئر بازار (Stock Exchanges) : ایسی تنظیمیں ہیں جو موجود سیکیورٹیز کی خریدو فروخت کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کراتی ہیں۔ یہ سیکیورٹیز کو ایک مسلسل بازار مہیا کرتے ہیں، قیمت کی کھوج میں مددکرتے ہیں، شیئروں کی ملکیت کو وسیع تر بناتے ہیں اور سٹہ بازی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
ہندوستان کا نیشنل اسٹاک ایکسچینج سب سے تازہ، جدید ترین اور جدید ٹیکنالوجی سے چلنے والا ایکسچینج ہے اور اس کی تشکیل 1992 میں ہوئی تھی۔OTCEIکی تشکیل 1992میں ہوئی تھی۔ یہ تین کروڑ یا اس سے کم پونجی کی چھوٹی کمپنیوں کو فہرست بندی کی سہولت مہیا کراتا ہے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) : 1988 میں قائم ہوا اور 1992 کے ایک ایکٹ کے تحت اس کو قانونی درجہ حاصل ہوا۔SEBI کی تشکیل سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ اور سیکیورٹیز بازار کو باضابطہ بنانے اور اس کو ترقی دینے کے لیے کی گئی تھی۔

مشقیں

بہت مختصر جواب

1۔   ٹریژری بل(خزانہ بل) کیاہوتاہے؟
2۔   نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے حصول کے نام بتائیے
3۔   دو وجہیں بتائیے کہ اسٹاک بازار میں سرمایہ کاری کرنے والے ایک محفوظ اور منصفانہ سودے کی کیوں امید کر سکتے ہیں؟
(سودو کی حفاظت ۔اسٹاک ایکسچینج کے کام)
4۔ اس بہرہ یاب مالک کھاتہ(Baneficiary owner account) کا مشترک نام کیا ہے جسے سرمایہ کار وثیقوں (سیکیوریٹیز)کی تجارت کے لیے کھولتے ہیں۔
موکل (client)کے رجسٹریشن فام کے بھرتے وقت سرمایہ کے ذریعے دلال(Broker)کو دی جانے والی تفصیلات بتائیے۔

 مختصر جواب

1۔  مالی بازار کے کام بتائیے۔
2۔  ’’زر بازار(Money Market)لازمی طورپر مدتی فنڈ کا بازار ہوتا ہے۔‘‘وضاحت کیجیے۔
 سرمایہ بازار اور زر بازار کے درمیان کیا فرق ہے؟
4۔   اسٹاک ایکسچینج کے کام بتائیے۔
5۔  سیبی (SEBI)کے کیا مقاصد کیا ہیں؟
6۔  نیشنل اسٹاک ایکسچینج (NSE)کا مقصد کیا ہے؟
7۔  وثیقوں (سیکیورٹیز) کی تجارت کے عمل میں تیار کی جانے والی دستاویز کا نام بتائیے جو قانونی طورپر قابل نفاذ ہوتی ہے نیز سرمایہ کار اور بروکر کے درمیان دعووں اور نزاعات کو حل کرنے میں معاون ہے۔

طویل جواب

1۔  زر بازار کی مختلف دستاویزوں کی وضاحت کیجیے۔
2۔  ہندوستان میں سرمایہ بازار میں کی جانے والی حالیہ اصلاحات کی وضاحت کیجیے۔
3۔ سیبی (SEBI) کے مقاصداور کام تبائیے۔
4۔  ہندوستان کی سب سے بڑی داخلی سرمایہ کار لائف انشورنس کمپنی آف انڈیا ہندوستان ایروناگس کی چار ہزار دو سو کروڑ روپیہ کی ابتدائی پبلک پیش کش کے 70 فیصد کی رکنیت لے کر ایک بار پھر سرکار کے بچاؤ میں آئی ہے۔
(a) مندرجہ بالا معاملے میں کون سا بازار منعکس ہو رہا ہے؟
(b)  مذکورہ بیان شدہ بازار میں فلوٹیشن کے کون سے طریقے کو اجاگر کیا گیا ہے؟(پرائمربازار)
(c)   فلوٹیشن کے دو دیگر طریقوں کی وضاحت کیجیے۔(پرائیویٹ نوکری، پراسپیکٹس کے ذریعے فروخت کرنے کی پیش کش)
5۔   للتا اپنے دلال کشوندر کے ذریعے اکبر انٹرپرائزز کے شیئر خریدنا چاہتی ہے۔ ہنڈی بازار (سیکیورٹیز مارکیٹ) میں نقد معاملات کے لیے اس کا کھاتہ بھی کھلا ہوا ہے اور ڈی میٹ کھاتہ (Demat account)بھی۔ اس صورت میں سیکورٹیز کی خرید وفروخت کے لیے اسکرین پر مبنی تجارت میں مزید اقدامات کون سے ہوں گے۔