Skip to content
Karobariuloom-II-003


باب 11

مارکیٹنگ

(MARKETING)

10

سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ:
× مارکیٹنگ کے معنی ومفہوم کی وضاحت کرسکیں گے؛
× مارکیٹنگ اور ’بیچنے‘ کے درمیان فرق کرسکیں گے؛
× مارکیٹنگ کے اہم کام بتاسکیں گے؛
× کسی فرم کی معیشت کے فروغ میں مارکیٹنگ کا کیا رول ہوتا ہے، سماج اور صارفین کے لیے اس کی وضاحت کرسکیں گے؛
× مخلوط مارکیٹنگ کے عناصر کی وضاحت کرسکیں گے؛
 × مصنوعات یا پیداوار کی مختلف زمروں میں درجہ بندی کرسکیں گے؛
× کسی شے  کی قیمتوں پراثرانداز کرنے والے عوامل کا تجزیہ کرسکیں گے؛
× تقسیم(Distribution)کے مختلف ذرائع کو بتا سکیں گے؛ اور
× کاروبار کی توسیع وترویج کے اہم ذرائع مثلاً اشتہارات، شخصی فروخت (Personal Selling)، سیلز پروموشن اور پبلیسٹی وغیرہ کی وضاحت کرسکیں گے۔


کمپنیاں اپنا کا روبار کہاں کرتی ہیں؟

بازاروں میں یا سماج میں؟

یہ ایک متفقہ حقیقت ہے کہ کمپنیوں کی بقا صرف صارفین پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ حکومت، مذہبی رہنما، سماجی کارکن غیرحکومتی تنظیموں(NGOs)اور میڈیا وغیرہ سبھی وابستہ افراد اور اداروں پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی لیے سماج کے ان تمام گروپوں کی تسلی اور تشفی بھی بے حد ضروری ہے کیوں کہ یہ اپنی زبان کی طاقت سے برانڈ کی اہمیت اور قدروقیمت میں اضافہ کردیتے ہیں۔

سماجی سروکار سے برانڈ کی قوت وطاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔جو کارپوریٹ سماجی اقدار کو بھرپوراہمیت دیتے ہیں وہ طاقت ور برانڈ کو فروغ دینے میں خوب کا میاب ہوتے ہیں اور نتیجتاً ان کے اور صارفین کے درمیان بہت مضبوط رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ کارپوریٹ کے سماجی انصاف کے شعبے میں دو وسیع زمرے آتے ہیں۔بچوں کا تغذیہ، بچوں کی صحت، بوڑھوں کے لیے آشرم، بھوک کا استحصال اور فطری آفات سے متاثرہ افراد کی مدد وغیرہ جیسے امور، جن کا تعلق انسانی ہمدردی سے ہے اور اسی وجہ سے فوری توجہ کے مستحق ہیں، پہلے زمرے میں آتے ہیں۔ 

وہ امور جن کا تعلق سماج کو خوش حال اور طویل مدّت تک رہنے کے قابل جگہ بنانے سے ہے، دوسرے زمرے میں آتے ہیں۔ صحت کے بارے میں بیداری، تعلیمی بیداری، ماحول کا تحفظ، عورتوں کا ملازمتوں میں حصہ، ان کے سیاسی، سماج اور قانونی حقوق، مذہب، نسل، فرقہ، ذات اور صنف وغیرہ کی بنیاد پر غیر منصفانہ بھید بھاؤ کی روک تھام، نوکریوں کے ذریعے غریبی کا استحصال۔ثقافت، اقدار اور اخلاق کا تحفظ وغیرہ امور اسی دوسرے زمرے میں آتے ہیں۔
پراکٹر اور گیمبل(P&G)کا فلسفہ یہ ہے کہ کمپنی عالمی طور پر ماحول سے متعلق پروگرام کو انجام دے۔ پی اینڈجی دنیا بھر میں وہ پہلی کمپنی ہے جس نے ماحول پر مصرفی اشیا کے اثرات کا جائزہ لیا ہے اور ارتکازی پروڈکٹس(Concentrated Products)، پلاسٹک کی ریسائیکل شدہ بوتلوں اور دوبارہ قابلِ استعمال پیکیجز (Packages) کو انڈسٹری کے لیے متعارف کرایا ہے۔ پی اینڈ جی اس ترقیاتی عمل کو بنا ئے رکھنے میں مسلسل تعاون دے رہا ہے اور اپنی خدمات نیز اپنی پروڈکٹس سے ماحولیات اور سماجی مسائل کے حل کرنے میں کوشاں ہے۔



اپنی روز مرہ کی زندگی کے کسی بھی دن کا ہم جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ صبح سویرے سے رات کو سوتے وقت تک ہم اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت سی مختلف چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ناشتے کو لیجیے۔ ناشتے میں ہم ڈبل روٹی، مکھن، دودھ اور چاول وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی بھوک کو رفع کرتے ہیں۔ پھر ہم بس، آٹو بائیسایکل وغیرہ کا استعمال کرکے اسکول، دفتر یا کام کی جگہ جاتے ہیں، کتابیں، رسالے اور اخبار پڑھتے ہیں ان سے ہمیں تازہ ترین معلومات حاصل ہوتی ہیں اور دنیا سے باخبر رہتے ہیں، ہم کمپیوٹر، فون، ٹی وی اور تفریح طبع نیز رسل وسائل کے دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سی چیزیں مثلاً تحائف، جوتے، کپڑے اور فیرنیچر وغیرہ بازار سے خریدتے ہیں اور اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔
ان مصنوعات کو کون بناتا ہے اور کیوں بناتا ہے؟ ان مصنوعات کو مختلف کمپنیاں بناتی ہیں اور ان کی مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ’ہندوستان لیور‘ نامی کمپنی لائف بوائے صابن، کلوزاپ ٹوتھ پیسٹ، سرف ڈٹرجنٹ پاؤڈر بناتی ہے۔ 
پراکٹر اینڈ گیمبل ایریل ڈٹرجنٹ پاؤڈر بناتی ہے، ڈیری ملک چاکلیٹ نیسلے کمپنی بناتی ہے،ایٹلس سائیکل کمپنی ایٹلس سائیکل بناتی ہے ۔کوالٹی والز کوالٹی آئس کریم بناتی ہے اور ایسے ایل جی الیکٹرانکس ایل جی ٹیلی وژن بناتی ہے۔ یہ فرمیں پارکیٹرس کہلاتی ہیں اور اپنی مصنوعات کی مانگ بڑھانے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرتی ہیں اور گراہکوں کی ضروریات اور حاجات پوری کرکے منافع کماتی ہیں چونکہ ان مصنوعات سے لوگوں کی حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ اس لیے لوگ ان کو خریدتے ہیں، صنعت کاروں اور صارفین کے درمیان سامان اور خدمات کے تبادل میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیےوخت کار مختلف کام انجام دیتے ہیں۔ انھیں کاموں کو مارکیٹنگ کہا جاتا ہے۔ 
مارکیٹنگ کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے کچھ سوالوں کے جواب ضروری ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ لفظ’’مارکیٹ‘‘ سے کیا مطلب ہے؟ مارکیٹنگ کس چیز کی جاسکتی ہے؟ کیا جن چیزوں کی مارکیٹنگ ہوتی ہے وہ پیداوار ہیں یا سروسز ہیں یا کچھ اور ؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ فروخت کار کون ہے اور مارکیٹنگ مینجمنٹ کیا ہے۔ اگلے حصّوں میں ان نکات کو بحث کرنے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔

’کاروبار کوئی مالی سائنس نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ٹریڈنگ، اور خریدوفروخت سے ہے۔ کاروبار کا مطلب ہے کسی اتنے اچھے پروڈکٹ یا اتنی اچھی سروس کی تخلیق جس کو خریدنے کے لیے لوگ پیسے ادا کرسکیں۔‘‘

انٹاراڈک  

’’مارکیٹنگ سیکھنے میں ایک دن لگتا ہے۔ بدقسمتی سے اس میں مہارت حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے۔

فلپ کوٹلر 

مارکیٹ کیاہے؟

(UNDERSTANDING MARKET)

روایتی مفہوم میں مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں خریدنے اور بیچنے والے تجارتی لین دین کے لیے اکھٹا ہوتے ہیں اور سامان اور خدمات کا تبادلہ کرتے ہیں۔روز مرہ کی بول چال میں یہ اصطلاح آج بھی اسی مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ اس اصطلاح کو دیگر طریقوں سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کاٹن مارکیٹ، سونا مارکیٹ یا شیئر مارکیٹ۔ ایسی مثالوں میں مارکیٹ کا تعلق پروڈکٹ سے ہے۔ اس لیے یہ سب’پروڈکٹ مارکیٹ‘ کہلاتی ہیں۔ قومی اوربین الاقوامی مارکیٹوں کو جغرافیائی مارکیٹ کہا جاتا ہے۔اس لفظ کا ایک استعمال خریداروں کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے مثلاً صارف مارکیٹ اور صنعتی مارکیٹ اور اس کے علاوہ سامان تجارت کی مقدار کے لحاظ سے بھی اس اصطلاح کا استعمال ہوتا ہے مثلاً ہم کہتے ہیں تھوک مارکیٹ یا خوردہ مارکیٹ۔
لیکن مارکیٹنگ کے جدید مفہوم میں، لفظ مارکیٹ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ مارکیٹ سے مراد ہے کسی پروڈکٹ یا خدمت کے بالفعل یا بالقوۃ خریدار(Actual and Potential Buyers)۔ مثال کے طور پر جب ایک ڈیزائنر ایک نیا لباس ڈیزائن کرتا ہے اور اس کو فروخت کرنا چاہتا ہے تو وہ تمام لوگ جو اس کو خریدنا چاہتے ہیں اور اس کی کچھ نہ کچھ قیمت لگاتے ہیں ان کو اس لباس کی مارکیٹ کہا جائے گا۔اسی طرح پنکھوں، موٹر سائیکلوں، بجلی کے بلبوں اور شیمپوؤں کی مارکیٹ سے مطلب ان مصنوعات کے بالفعل اور بالقوۃ (Actual and Potential)خریدار ہیں۔

مختلف لوگوں نے مارکیٹنگ کی اصطلاح کی وضاحت مختلف طریقوں پر کی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مارکیٹنگ شاپنگ ایک ہی بات ہے۔ جب ہم کسی سامان یا کسی سروس کی شاپنگ کے لیے جاتے ہیں تو وہ اس کو مارکیٹنگ کا ہی نام دیتے ہیں۔ کچھ لوگ جومارکیٹنگ اورفروخت کرنے یا بیچنے میں فرق نہیں کرپاتے ان کا خیال ہے کہ مار کیٹنگ کی سرگرمی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ سامان یا سروس تیارہوجاتی ہے۔ کچھ لوگ اس کو کسی پروڈکٹ سوداگری (Merchandising) یاڈیزائننگ سے تعبیرکرتے ہیں۔ یہ سارے بیانات جزوی طورپر صحیح ہوسکتے ہیں لیکن درحقیقت مارکیٹنگ ایک ذرابڑا باوسیع تصورہے۔ ہم اسی پر تھوڑی گفتگوکریں گے۔
روایتی طور پر کہاجاتا ہے کہ مارکیٹنگ کچھ افعال اور سرگرمیوں کا نام ہے۔ اس لحاظ سے مارکیٹنگ ان تجارتی سرگرمیوں کی انجام دہی کا نام ہے جن کے نتیجے میں اشیا اور خدمات صنعت کار سے صارفین کے پاس پہنچتی ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ اکثر مینوفیکچرنگ کرنے والی کمپنیاں سامان کو خود اپنے مصرف کے لیے نہیں بناتیں بلکہ دوسروں کے استعمال یا مصرف کے لیے بناتی ہیں۔اس طرح سامان کو صنعت کار سے صارفین تک پہنچانے کے لیے مختلف سرگرمیوں (مثلاً سامان کی ڈیزائننگ یا مرکنڈائزنگ، ڈبہ بندی، اس کو گوداموں میں رکھنا، اس کا نقل و حمل کرنا، اس پر ٹھپہ لگانا، بیچنا، اس کے لیے اشتہارات دینا اور قیمت وغیرہ طے کرنا) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان تمام سرگرمیوں کو مارکیٹنگ سرگرمیاں کہاجاتا ہے۔
اس طرح ڈیزائن کرنا، بیچنا اور شاپنگ کرنا ان بہت سی سرگرمیوں کا ایک حصہ ہیں جو فرم انجام دیتی ہے۔ ان ہی سب سرگرمیوں کو مجموعی طور پرمارکیٹنگ کہتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ مارکیٹنگ سے مراد صرف وہ سرگرمیاں ہیں جو سامان تیا ر ہوجانے کے بعد شروع ہوتی ہیں۔ دراصل مارکیٹنگ میں وہ بہت سی سرگرمیاں بھی شامل ہیں جو کسی سامان کے تیار ہوجانے سے پہلے یا سامان کے فروخت ہو جانے کے بعد بھی جاری رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر گراہکوں کی ضرورتوں کی نشان دہی سامان یا مصنوعات وغیرہ کی تیاری کی جان کاری اچھی ڈبہ بندی (Packaging) کی ڈیزائننگ اور مصنوعات کو ایک اچھا سا نام دینے کا عمل یہ سب ایسے مرحلے ہیں جو سامان کی بالفعل پیداوار سے قبل ہی انجام دیے جاتے ہیں۔ اس طرح گراہک سے بہتر رشتے باقی رکھنے کے لیے اور کسی پیداوار کو دوبارہ بیچنے کے لیے بھی مارکیٹنگ کا عمل سامان کی فروخت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
جدید زمانے میں اب سارا زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ مارکیٹنگ دراصل ایک سماجی عمل (Social Process) ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے لوگ سامان یا سروسز کو روپیے پیسے یا ان کی ہم قیمت کسی دستاویز کے بدلے خریدتے یا تبادلہ کرتے ہیں۔ مارکیٹنگ کے سماجی پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے فلپ کوٹلر(Phillip Kotler)نے اس کی تعریف اس طرح کی ہے،’’یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے افراد اور گروپ اپنی مطلوبہ اور پسند یدہ چیز کی آزادی کے ساتھ قیمت لگا کر اور دوسروں کے ساتھ سامان اور خدمات کا تبادلہ کرکے حاصل کرتے ہیں‘‘۔
اس طرح یہ ایک ایسا سماجی عمل ہے جس کے ذریعے لوگ باہمی گفتگو کرکے ایک مخصوص سرگرمی (مثلاً کسی سامان یا خدمت کو خریدنے ) کو انجام دینے کے لیے ایک دوسرے کو آمادہ کرتے ہیں، مجبور نہیں کرتے۔ اس تعریف کے محتاط تجزیے سے مارکیٹنگ کی مندرجہ ذیل خصوصیات کا پتہ چلتا ہے۔
1۔ ضرورت اور چاہت (Need and Want) : مارکیٹنگ کے عمل سے افراد اور گروپوں کو ان اشیا کے حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے جن کی ان کو ضرورت ہے۔ لوگوں کو مارکیٹنگ کے عمل میں مصروف رکھنے کا اصلی سبب ان کی ضروریات کی تکمیل ہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مارکیٹنگ کے عمل کا مرکزِ توجہ افراد اور تنظیموں کی احتیاجات اور ضرورتوں کی تکمیل ہے۔
ضرورت ایک ایسی حالت ہے جس میں کسی چیز سے محروم ہونے یا کسی چیز کے اپنے پاس ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اگر ضرورت کی تکمیل نہیں ہوتی تو انسان نا خوش اور بے چین سار ہتا ہے۔ مثال کے طور پر بھوک لگنے پر ہم کو ایک طرح سے بے چینی سی ہوتی ہے اور ہماری نظر ان چیزوں کی طرف ہوتی ہے جن سے ہماری بھوک مٹ سکتی ہے یا جن سے ہماری ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔
بنی نوع انسان کے لیے ضرورتیں بنیادی ہوتی ہیں اور ان کا تعلق کسی خاص پیداوار مصنوعات یا سامان سے نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف پسند یا چاہتیں وہ ہیں جن کو ہمارا کلچر طے کرتا ہے اور جن سے ہماری پسند یا چاہت کی بالقوۃ تکمیل ہوتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ مختلف عوامل جیسے کلچر، شخصیت اور مذہب وغیرہ انسان کی چاہتوں کی تشکیل کرتے ہیں۔مثال کے طور پر غذا کی بنیادی ضرورت کی تکمیل، اگر وہ شخص جنوبی ہندوستان کا رہنے والا ہے تو ڈوسا اور چاول سے اور شمالی ہند کا رہنے والا ہے تو سبزی اور چپاتی سے ہوسکتی ہے۔ غذا بنیادی ضرورت ہوئی لیکن ڈوسا چاول یا سبزی اور چپاتی کا تعلق پسند یا چاہت(Want) سے ہے۔
تنظیم کے اندر ایک فروخت کار (Marketer) کی ذمے داری یہ ہوتی ہے کہ وہ گراہکوں کی ضروریات کی شناخت اور نشان دہی کرے اور ایسی مصنوعات اور خدمات فراہم کرے جن سے ضرورتوں کی تکمیل ہو۔
2۔ مارکیٹ پیش کش کی تخلیق(Creating of Market Offering): تنظیم کے فروخت کار کا کام یہ ہے کہ وہ مارکیٹ پیش کش (Market offer)کی تخلیق کرے۔ مارکیٹ پیش کش کا مطلب ہے کسی سامان یا خدمت کی مکمل پیش کش جس میں اس پیش کش کا سائز، معیار، ذوق، قیمت، ملنے کی جگہ وغیرہ سبھی کی تفصیل ہو۔ مان لیجیے یہ پیش کش ایک موبائل فون کی ہے جس کے میموری، ٹی وی، انٹرنیٹ اور کیمرے وغیرہ کی سہولیات کے اعتبار سے چار مختلف ماڈل ہیں۔ مثال کے طور پر قیمت بھی ماڈل کے اعتبار سے (5,000 سے 20,000 روپیے کے درمیان) دی گئی ہے اور ملک کے تمام بڑے شہروں میں فرم کی اپنی ہی دکانوں پر دست یاب ہے۔ ایک اچھی مارکیٹ پیش کش وہ ہے جو بالقوۃ خریداروں (Potential Buyers)کی ضروریات اور ترجیحات کے تجزیے کے بعد ہی تیار کی گئی ہو۔
3۔  گراہک کے لیے پروڈکٹ کی قیمت(Customer Value): مارکیٹنگ کے عمل سے خریداروں اور بیچنے والوں کے درمیان، سامان اور خدمات کا تبادلہ آسان ہوجاتا ہے۔ بہر حال خریدار، کسی سامان یا سروس کو خریدنے کا فیصلہ اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ ان کی ضروریات کی تکمیل کے لحاظ سے اس سامان یا خدمت کی کیاقدر ہے اور اسی طرح لاگت کے اعتبار سے اس کی کیا قیمت ہے۔ کوئی بھی پروڈکٹ اسی وقت خریدا جائے گا جب وہ دیے گئے پیسوں کے مقابل میں قیمت بھی رکھتی ہو اور سود مند بھی ہو۔ اس لیے فروخت کار کا کام یہ ہے کہ وہ پیداوار کی قدر میں اضافہ کرے تاکہ گراہک بازار میں موجود دیگر کمپنیوں کی پیداوار کے مقابلے اس کو ترجیح دیں اور اس کو خریدنے کا فیصلہ کریں۔
4۔ تبادل کا میکانزم(Exchange Machanism): مارکیٹنگ کاعمل تبادل کے میکانزم پر کام کرتا ہے۔ تمام افراد (بائع اور مشتری دونوں)اپنی حاجت اور اپنی چاہت کی چیزوں کو عمل تبادل کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر مارکیٹنگ کے عمل میں سامان اور خدمات کا تبادلہ روپیے پیسے سے یاپھر کسی ایسی چیز سے ہوتا ہے جس کو لوگ قیمتی سمجھتے ہوں۔
تبادل سے مراد وہ عمل ہے جس کے ذریعے دو یا دو سے زیادہ پارٹیاں اپنی مطلوبہ پیداوار یا خدمت کو کسی سے حاصل کرنے کے لیے اکھٹا ہوتی ہیں اور بدلے میں کچھ پیش کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک بھوکا شخص کسی ایسے شخص سے روپیے پیسے یا کوئی اور سامان یا خدمت غذائی اشیا کے بدلے میں دے کر خریدنا چاہتا ہے جو اس سامان یا خدمت کی پیش کش قبول کرنے کو تیار ہے۔
جدید دنیا میں، سامان مختلف جگہوں پر تیار یا پیدا کیا جاتا ہے اور مختلف بچولیوں (Middlemen)کے ذریعے دنیا کے بڑے حصے میں تقسیم کردیا جاتا ہے جہاں تقسیم کی مختلف سطحوں پر تبادلے کا عمل انجام پاتاہے۔ اس طرح تبادلہ مارکیٹنگ کا خلاصہ اور اصل ہے۔کسی بھی تبادل کے لیے درج ذیل شرائط پوری ہونی ضروری ہیں:
(i)  کم از کم دو فریقوں (یعنی بائع اور مشتری) کا ہونا۔
(ii) ہر فریق اس قابل ہو کہ دوسرے کو کچھ نہ کچھ قیمت کی پیش کش کرسکے۔ مثلاً، خریدار روپیے پیسے دیتا ہے اور بیچنے والا سامان یا خدمت ۔
(iii) ہر فریق اس قابل ہو کہ خدمت یا سروس کی ترسیل اور تحویل کا عمل انجام دے سکے۔ اگر بیچے اور خریدنے والوں کے درمیان ترسیل نہیں ہے اور وہ کسی قیمت کے بدلے سامان یا خدمت کی تحویل (Deliver) نہیں کرسکتے تو تبادل نہیں ہو پائے گا۔
(iv) ہر فریق کو ایک دوسرے کی پیش کش قبول کرنے یا مسترد کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
(v) تمام فریق ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کے لیے تیار ہونے چاہئیں۔ اس طرح قبول کرنے یا رد کرنے کا عمل فریقین کی مرضی پر منحصر ہونا چاہیے اور ان پر کوئی جبر نہیں ہونا چاہیے۔
درج بالا امور تبادل کے انجام پذیر ہونے کے لیے لازمی ہیں۔ تبادل حقیقت میں واقع ہوا یا نہیں، اس کا انحصار دونوں پارٹیوں کے عمل تبادل کی موزونیت (Suitability) پر ہے چاہے اس تبادل سے فریقین خوش دل ہوں یا بددل۔
ایک اور اہم نکتہ یہ بھی یاد رکھنے کا ہے کہ مارکیٹنگ صرف ایک کاروباری مظہرہی نہیں ہے اور نہ ہی یہ کاروباری تنظیموں تک محدود ہے۔ مارکیٹنگ سرگرمیاں، غیر منفعتی تنظیموں (جیسے اسپتال، اسکول، اسپورٹس کلب نیز مذہبی سماجی تنظیموں) کے سلسلے میں بھی مساوی طور پر با معنی ہیں۔ ان تنظیموں کو بھی مارکیٹنگ کے ذریعے مقاصد کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ تنظیموں کے مقاصد کو آپ خاندانی منصوبہ بندی کے پیغام کو عام کرنے، عوام کے اندر خواندگی کے معیار کو بلند کرنے اور بیماروں کو علاج و معالجے کی سہولیات بہم پہنچانے کی مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔
11
کن چیزوں کی مارکیٹنگ کی جاسکتی ہے

ڈی وی ڈی پلئیر، موٹر سائیکل، آئی پوڈ، موبائل، جوتے، ٹی وی، فرج وغیرہ
انشورینس، حفظانِ صحت، کاروباری آؤٹ سورسنگ، سیکیوریٹی، آسان بل سروس، فنانشیل سروسز (سرمایہ کاری)، کمپوٹر ایجوکیشن، آن لائن تجارت 
پولیوکاٹیکہ، ہیلپ ایج (Helpage)، فیملی پلاننگ، خون کا عطیہ (ریڈ کراس) اور فلیگ ڈے (فرقہ وارانہ یک جہتی کے لیے نیشنل فائونڈیشن) پر روپیے پیسوں کا عطیہ وغیرہ
مخصوص عہدوں کے امیدواروں کے انتخاب کے لیے۔
شہر محبت آگرہ، جھیلوں کا شہر اودے پور، باغات کا شہر میسور،جب اڑیسہ میں تقریبات ہوں تو بھگوان بھی اس میں شرکت کرتے ہیں۔
کھیل کود کی تقریبات (مثلاً اولمپکس، کرکٹ سیریز) دیوالی میلہ، فیشن شو، میوزک پروگرام، فلم فیسٹیول، ہاتھیوں کی دوڑ (کیرالاٹورز) وغیرہ۔
یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں و غیرہ کے ذریعہ پروڈکشن کی پیکیجنگ اور معلومات کی تقسیم، مارکیٹ انفارمیشن کے طور پر انفارمیشن کی فراہمی (مارکیٹ ریسرچ ایجنسیاں) اطلاعاتی تکنیک۔
:
:
:
:
:
:
:
 ظاہری سامان
خدمات
نظریات
اشخاص
مقام
تقریبات
معلومات

کن چیزوں کی مارکیٹنگ کی جاسکتی ہے؟(WHAT CAN BE MARKETED)

یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ مارکیٹنگ کن کن چیزوں کی ہوسکتی ہے۔ مارکیٹنگ کی جانے والی چیز کوئی پروڈکٹ ہوتی ہے یا سروس ہوتی ہے یا کوئی اور چیز۔ آئیے پہلے یہ سمجھیں کہ ایک پروڈکٹ ہے کیا؟ ایک پروڈکٹ افادیتوں کا مجموعہ (Bundle of utilities)  یا  ذریعۂ تکمیل وتسکین (Source of satisfaction) ہے۔ ان افادیتوں سے انسانی حاجتیں اور چاہتیں دونوں پوری ہوتی ہیں۔ صرف ظاہری اشیا جیسے موٹر سائیکل، بسکٹ، بلب اور پینسل وغیرہ ہی پروڈکٹ نہیں ہوتیں بلکہ پروڈکٹ کا مفہوم ان جگہوں آئیڈیوں (ideas)اور سروسز جیسی دیگر قدر والی اشیا (Things of value) پر بھی مشتمل ہے جن کو استعمال کرنے کے لیے بالقوۃ خریداروں، (Potential Buyers) کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔مارکیٹنگ لٹریچر کے اندر ہر اس چیز کو جو خریدار کے لیے کوئی قدر(Value)رکھتی ہے، پروڈکٹ کہا جاسکتا ہے۔ یہ چیز جسمانی (tangible)بھی ہوسکتی ہے یعنی اس کو چھوا یا دیکھا بھی جاسکتا ہے (مثلاً پینسل، موٹر سائیکل وغیرہ) اور غیر جسمانی (Intengible) بھی جیسے ڈاکٹروں، وکیلوں اور ہوائی کمپنیوں وغیرہ کی خدمات۔ ظاہری اور جسمانی چیزوں کے علاوہ جن چیزوں کی مارکیٹنگ ہوسکتی ہے ان میں کوئی سروس یا کوئی شخص (مثلاً سیاسی پارٹیاں کسی خاص امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کریں) یا کوئی آئیڈیا (مثلاً ریڈ کر اس خون کے عطیے کی اپیل کرے) یا کوئی جگہ (جیسے کیرالاٹورزم لوگوں سے کہے کہ صحت بنانے کے لیے کیرالا آئیں) وغیرہ سبھی شامل ہوسکتی ہیں۔ اس طرح ہر وہ چیز جو کسی دوسرے کے لیے کوئی قدروقیمت(Value)رکھتی ہے اس کی مارکیٹنگ کی جاسکتی ہے۔ یہ کوئی ظاہری چیز بھی ہوسکتی ہے، سروس بھی ہوسکتی ہے، کوئی شحص، جگہ، آئیڈیا، تقریب(Event)، تنظیم، تجربہ یا جائیداد(دیکھیے باکس) ٰوغیرہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
فروخت کار (Marketer)کون ہے؟: فروخت کار وہ شخص ہے جو تبادل کے عمل میں زیادہ فعال طور پر کام کرے۔ عام طور پر یہ شخص فروخت کنندہ(Seller)ہوتا ہے جو عمل تبادل میں زیادہ تن دہی سے کام کرتا ہے کیوں کہ وہ خریداروں کی بالقوۃ ضروریات کا تجزیہ کرتا ہے، مارکیٹ میں قابلِ پیش کش اشیا کو فروغ دیتا ہے اور پروڈکٹ خریدنے کے لیے گراہکوں کو آمادہ کرتا ہے۔ بہر حال ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں کہ تبادل کے عمل میں خریدار کا کردار زیادہ فعال ہو۔ سپلائی کم ہونے کی صورت میں ایک خریدار فروخت کنندہ کو اس بات پر آمادہ کرسکتا ہے کہ وہ پروڈکٹ کو اسی کے ہاتھ بیچے۔اس قسم کی صورت حال دفاعی سودوں میں ہوسکتی ہے یا ایسی صورت بھی ہوسکتی ہے جب کسی ملک نے نیوکلیئر پلانٹ لگایا ہو اور اس کو نیوکلیئر ایندھن یا ’بھاری پانی‘ (Heavy Water)کی ضرورت ہو۔ایسی صورت حال میں اس بات کی ضرورت ہوگی کہ خریدار سپلائر کو اطمینان دلائے کہ اس کے ہاتھوں خریدی جانے والی سپلائی کا استعمال پر امن مقاصد کے لیے ہوگا۔ ایسے معاملے میں خریدار کو فروخت کار کی حیثیت سے جانا جائے گا۔ بہر حال ہر وہ شخص جو تبادل کے عمل میں فعال کردار ادا کرے گا وہی فروخت کار ہوگا۔

بازار کا بندوبست  (MARKETING MANAGEMENT)

مارکیٹنگ مینجمنٹ کا مطلب ہے مارکیٹنگ کے کاموں کا مینجمنٹ دوسرے لفظوں میں مارکیٹ سے مراد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، تنظیم، ہدایت کاری اور کنٹرول ہے جن سے پیداوار اور خدمات کے صنعت کاروں اور صارفین یا استفادہ کرنے والوں کے درمیان اشیا یا خدمات کے تبادل میں سہولت پیدا ہو۔
اس طرح نشانہ بازاروں میں تبادل کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہی مارکیٹنگ مینجمنٹ کی توجہ کا مرکز ہے۔ مینجمنٹ کے تناظر میں امریکن مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے مارکیٹنگ کی تعریف اس طرح کی ہے کہ یہ کسی تصور کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد ہے نیز نظریات، سامان اور خدمت کی قیمت شناسی ان کے فروغ اور ان کی تقسیم کا بھی عمل ہے تاکہ افراد اور تنظیموں کے مقاصد کی تکمیل کے لیے تیاریوں کو وجود میں لایا جاسکے۔ اس طرح فلپ کوٹلرنے کہا کہ مارکیٹنگ مینجمنٹ میں بازاروں کا انتخاب کرنا، صارفین کی نشان دہی کرنا ان کو گراہک بنائے رکھنا اور گراہکوں کی تعداد میں اضافہ کرنا وغیرہ شامل ہے۔ اور یہ عام گراہکوں کی پسند کے مطابق بہتر اقدار کی تخلیق، تحویل اورترسیل کے ذریعے ممکن ہے۔
مارکیٹنگ مینجمنٹ کی تعریف کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ کے مینجمنٹ میں مندرجہ ذیل امور شامل ہیں۔
(i) سب سے پہلی چیز ’نشانہ بازار‘(Target market) ہے۔ مثلاًایک مینوفیکچرر کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے ریڈی میڈکپڑے بنائے گا۔
(ii) منتخبہ نشانہ بازار(Traget market)کے سلسلے میں مینجمنٹ کے عمل کا مرکز توجہ گراہکوں کی نشان دہی کرنا، ان کو آئندہ گراہک بنائے رکھنا اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فروخت کار کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی پیداوار کے لیے مانگ (Demand) پیدا کرے تاکہ نشانہ خریدار(Target Customers) پیداوار کو خریدیں، وہ خریداروں کو اپنی پیداوار سے مطمئن بھی رکھے اور زیادہ گراہکوں کو پیداوار کے استعمال کے لیے راغب بھی کرسکے تاکہ فرم کو فروغ حاصل ہو۔
(iii) مقصد کے حصول کا میکانزم گراہکوں کے لیے اعلیٰ اقدار کی تخلیق ان کے فروغ اور ترسیل کے ذریعے انجام پذیر ہوتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مارکیٹنگ منیجر کا پہلا کام اعلیٰ اقدار کی تخلیق ہے تاکہ گراہک پیداوار اور خدمات کی طرف راغب ہوں اور وہ اس کی ترسیل بالقوۃ خریداروں تک کریں اور ان کو یہ پیداوار خریدنے کے لیے رغبت دلائیں۔
مارکیٹنگ سرگرمیوں کا تجزیہ، ان کی منصوبہ بندی، مارکیٹنگ منصوبوں پر عمل در آمد اور کنٹرول میکانزم کو لاگو کرنا جیسے مختلف کام مارکیٹنگ مینجمنٹ میں شامل ہیں۔ یہ مختلف کام اس ڈھنگ سے انجام دینے ہیں کہ تنظیم کے مقاصد کم سے کم لاگت پر حاصل ہو جائیں۔
مارکیٹنگ مینجمنٹ کا تعلق مانگ پیدا کرنے سے ہے۔ ایسے حالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ منیجر ’مانگ‘ کو محدود رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مثلاً صورت حال یہ ہو کہ مانگ بہت بڑھ جائے یعنی مانگ اتنی ہوجائے کہ کمپنی اس کو سنبھال نہ سکے یا کمپنی اتنی زیادہ مانگ کے انتظام میں دلچسپی نہ رکھتی ہو۔ اس کی مثال وہ صورت حال ہے جو ہمارے ملک میں ہی بیسویں صدی کی آخری دہائی کے ابتدائی سالوں میں لبرلائزیشن اور گلوبلائزیشن کی پالیسی کو اختیار کرنے سے پہلے اکثر کنزیومر پروڈکٹس کی تھی چاہے وہ آٹوموبائل کا معاملہ ہو یا الیکٹرانک سامان کا معاملہ ہویا پھر کسی اور پائدار پروڈکٹ کا معاملہ ہو۔ایسی تمام صورتوں میں مارکیٹنگ منیجرکا کام یہ ہے کہ وہ عارضی طور پر مانگ کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرے۔ ایسا قیمتیں بڑھا کر بھی ہوسکتا ہے اور پروموشن پر خرچ بڑھا کر بھی۔ اس طرح اگر مانگ بے قاعدہ ہے جیسا کہ پنکھوں اور گرم کپڑوں وغیرہ کے معاملے میں موسمی پیداوار کے ساتھ ہوتا ہے تو فروخت کار کا کام یہ ہوگا کہ وہ ایسے طریقے اپنائے جس سے مانگ کا ٹائم پیڑن بدل جائے مثلاً خریداروں کے لیے قلیل مدتی ترغیبات وغیرہ۔ اس طرح ایک مارکیٹنگ مینیجر کا کام صرف یہی نہیں ہے کہ وہ مانگ پیدا کرے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ حالات کے تحت مانگ کا موثر طور پر مینجمنٹ بھی کرے۔

مارکیٹنگ مینجمنٹ کے فلسفے(MARKETING MANAGEMENT PHILOSOPHIES)

نشانہ بازاروں سے تبادل کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ تنظیم کی مساعی کے لیے کون سے تصورات یا کون سے فلسفے رہنما ہوں۔ کیوںکہ اس فلسفے یا تصور سے یہ طے ہوگا کہ تنظیمی مقاصد کے حصول کے لیے کن عوامل پر زور دیا جائے گا یا کن عوامل کو اہمیت دی جائے گی۔ مثلاً یہ کہ کیا کسی تنظیم کی مارکیٹنگ پیداوار کی تکنیکوں پر زور دے گی یا گراہک کی ضرورتوں پرزور دے گی یا سماجی اہمیت کے امور پر اپنی توجہ مبذول کرے گی۔
مارکیٹنگ کے فلسفے یا اس کے تصور کا ارتقا ایک لمبے عرصے میں ہوا۔ ہم اس پرذیل میں گفتگو کریں گے۔

پروڈکشن کا تصور (Production Concept)

صنعتی انقلاب کے ابتدائی دنوں میں صنعتی اشیا کی مانگ نے زور پکڑا لیکن اس وقت صنعتی اشیا بنانے والے کم تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مانگ، سپلائی کے مقابلے میں بڑھ گئی۔ فروخت کا کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ جو بھی سامان بناتا تھا وہ اس کو فروخت بھی کرسکتا تھا۔ کاروبار کی توجہ کا مرکز اشیا کی پیداوار تھی۔ اس وقت تو یہ بات یقین کی حدتک تھی کہ زیادہ منافع کمانے کے لیے بڑے پیمانے پر پیداوار کو بڑھایا جائے اور پیداوار کی اوسط لاگت کو کم کیا جائے۔ یہ بھی مان لیاگیا تھا کہ صارفین وہ سامان یا وہ اشیا پسند کرتے ہیں جو قابل برداشت قیمت پر اور بڑے پیمانے پر دستیاب ہوں۔ اسی طرح اشیا کی قیمت کا قابل برداشت ہونا اور ان اشیا کا ہر جگہ قابل دستیاب ہونا فرم کی کامیابی کی کنجی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ زیادہ زور اس بات پر دیاجاتا تھا کہ فرم کی پیداوار کو بہتر اور تقسیم کر مؤثر بنایا جائے۔

پروڈکٹ کا تصور(Product Concept)

ابتدائی زمانے میں پیداوار کی صلاحیت پر زور ہونے کے نتیجے میں ایک زمانے تک سپلائی کی پوزیشن میں اضافہ ہوا۔ لیکن پروڈکٹ فراہم ہو اور سستی بھی ہو اس سے بِکری میں اضافہ ضروری نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے فرم کی نمو اور فرم کی بقا کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ اس طرح پروڈکٹس کی سپلائی میں اضافے سے گراہک پروڈکٹس کی اچھی کوالٹی، اچھی کارکردگی اور اچھی خصوصیات کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمپنیوں نے تعداد اور مقدار (quantity) کے بجائے پروڈکٹس کے معیار پر زیادہ زور دینا شروع کیا۔ کاروباری تنظیموں کی توجہ اب پروڈکٹس میں مسلسل سدھار لانے اور ان میں خصوصیات پیدا کرنے کی طرف ہوگئی۔ اس طرح اس پروڈکٹ رخی نئے تصور کے تحت پروڈکٹس میں سدھار فرم کے منافع کو از حد بڑھانے (Maximization) کی کنجی بن گئی۔

فروخت کرنے کا تصور (Selling Concept)

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ کے ماحول میں مزید تبدیلیاں آئیں۔کاروبار کا پیمانہ بڑا ہوا تو سامان کی سپلائی میں مزید سدھار ہوا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فروخت کرنے والوں کے درمیان مقابلہ آرائی بڑھ گئی۔ چوں کہ بہت سے فروخت کنند گان کوالٹی پروڈکٹس بیچنے لگے۔ اس لیے اب پروڈکٹس کی کوالٹی اور ان کی بآسانی دست یابی کمپنیوں کی نمو اور ان کی بقا کی ضمانت نہ رہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں اس بات کی بڑی اہمیت ہوگئی کہ گراہکوں کو اپنے پروڈکٹس خریدنے کے لیے راغب کیا جائے۔ اب کاروبار کا فلسفہ بدل گیا اور یہ مان لیاگیاکہ جب تک گراہکوں کو راغب نہ کیا جائے اور پروڈکٹس خریدنے کے لیے لبھایا نہ جائے وہ خریدیں گے نہیں یا پھر کم خریدیں گے۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا کہ کمپنیاں جارحانہ فروخت (Agressive sellings)اور فروغ انگیز (Promotional) کوششیں کریں تاکہ گراہک ان ہی کی پراڈکٹس خریدیں۔ ترویجی فروغ انگیز تکنیک جیسے اشتہار، شخصی فروخت اور سیلز پروموشن کو پروڈکٹس بیچنے کے لیے ضروری خیال کیا جانے لگا۔ اس طرح کاروباری فرموں کی توجہ جارحانہ فروخت کے ذریعے پروڈکٹس کی بکری بڑھانے کی طرف ہوگئی اور پروڈکٹس خریدنے کے لیے گراہکوں اور خریداروں کو لبھایا جانے لگا۔ اہمیت اس بات کی ہوگئی کہ کسی بھی ذریعے سے بکری بڑھے۔ یہ بات تسلیم کرلی گئی کہ خریداروں میں رغبت پیدا کی جائے لیکن یہ بات بھلادی گئی کہ کسی بھی چیز کے مقابلے گراہک کی تسلی وتسکین زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

مارکیٹنگ کا تصور (Marketing Concept)

مارکیٹنگ رخی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ گراہک کی تسلی پر توجہ دی جائے کیوںکہ یہی چیز مارکیٹ میں کسی بھی تنظیم کی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ بات فرض کرلی گئی ہے کہ کوئی تنظیم اپنے بالقوۃ اور بالفعل گراہکوں کی نشان دہی کرکے اور موثر طور پر ان کے لیے سامان تسلی فراہم کرکے اپنے مقصد کو حاصل کرسکتی ہے اور وہ مقصد ہے منافع کو ازحد بڑھانا (Maximization)۔ کسی بھی فرم میں فیصلے گراہکوں کو پیش نظر رکھ کر ہی کیے جاتے ہیں، دوسرے لفظوں میں کسی بھی تنظیم کے اندر تمام فیصلوں کا مرکزی نکتہ گراہک کی تسلی ہے۔ مثلاً کون سی پروڈکٹ تیار کرنی ہے۔ اس کی کیاکیا خصوصیات ہوں گی، اس کی قیمت کیاہوگی اور وہ کہاں کہاں دست یاب ہوں گی۔ ان سب کا انحصار گراہکوں کی چاہت یا پسند پر ہوگا۔مان لیجیے اگر گراہک ڈبل دروازے کے فریج چاہتے ہیں یا اس میں واٹر کو لر کا الگ سے بندوبست چاہتے ہیں تو تنظیم کو انھیں خصوصیات والا فریج تیار کرنا ہوگا اور قیمت بھی اسی سطح پر رکھنی ہوگی جو گراہک اداکرنا چاہتے ہوں۔ اگر مارکیٹنگ کے بارے میں فیصلے انھیں امور کو ذہن میں رکھ کر لیے جائیں توکسی پروڈکٹ کی فروخت کوئی مسئلہ نہیں بنے گا۔ کسی فرم کا بنیادی رول ضرورت کی نشان دہی کرنا اور اس کو پورا کرنا ہے۔ اس تصور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اشتہاری سروسز کی پروڈکٹس کوالٹی، پیکنگ اور برانڈ نام کی وجہ سے نہیں خریدی جاتیں بلکہ اس لیے خریدی جاتی ہیں کہ ان سے گراہکوں کی مخصوص ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ کسی تنظیم کی کامیابی کی پہلی شرط گراہک کی ضرورت کو سمجھنا اور پھر ان کی تکمیل کرنا ہے۔
مختصر طور پر کہا جاسکتا ہے کہ مارکیٹنگ کا تصور درج ذیل ستونوں پر مبنی ہے۔
(i) مارکیٹ یا صارف (جن کو مارکیٹنگ کی کوششوں کے نشانے (Target) کے طور پر چنا گیا ہے) کی نشان دہی کرنا۔
(ii) نشانہ بازار، میں گراہکوں کی حاجتوں اور چاہتوں کو سمجھنا۔
(iii) نشانہ بازار کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے پیداوار یا خدمات کا فروغ۔
(iv) دیگر مقابلہ آرائی کرنے والوں کے مقابلے میں بہتر طور پر نشانہ بازار کی ضرورتوں کو پورا کرنا۔
(v) ان تمام چیزوں کو نفع کے لیے انجام دینا۔
اس طرح مارکیٹنگ کے تصور کا مرکز گراہک کی ضرورتیں ہیں اور گراہک کی ضرورتوں کی تکمیل فرم کے اس مقصد کا ذریعہ ہے کہ منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ مارکیٹنگ کا مقصد گراہک کے لیے مدد میں اضافہ کرکے منافع کمانا ہے۔

مارکیٹنگ کا سماجی تصور(The Social Marketing Concept)

اگر ہم سماجی مسائل جیسے ماحولیاتی آلودگی، شجر ریزی، وسائل کی کمی، آبادی میں زبر دست اضافہ اور افراط زر کے چیلنجوں پر نظر رکھیں تو گزشتہ صفحات میں بیان شدہ مارکیٹنگ کا تصور ناکافی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ جو سرگرمیاں انسانی ضرورتوں کو تو پورا کرتی ہوں لیکن سماج کے مفادات کے منافی ہوں تو ہم ان کو درست قرار نہیں دے سکتے۔ کاروبار کی توجہ صرف صارفین کی ضرورتوں سے وابستہ ہو یہ دراصل کوتاہ نظری کے مترادف ہے۔ کاروبار کے لیے سماجی بہبود سے وابستہ طویل مدتی امور کو بھی دھیان میں رکھنا ہوگا۔
سماجی مارکیٹنگ کے نظریے میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ کسی بھی تنظیم کا کام یہ ہے کہ وہ نشانہ بازار کی ضرورتوں کوپورا کرے اور ضرورتوں کی یہ تکمیل اس طریقے پر ہو کہ صارفین اور سماج دونوں کی طول مدتی فلاح بہبود کا خیال رکھا جائے۔ مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سماجی مارکیٹنگ کا تصور، مارکیٹنگ تصور کی ایک توسیع ہے کیوں کہ اس میں سماج کی طویل مدتی فلاح و بہبود کو اہمیت دی گئی ہے۔گراہکوں کی ضروریات کی تکمیل وتسکین کے ساتھ ساتھ اس میں مارکیٹنگ کے سماجی، اخلاقی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر بھی اہمیت دی گئی ہے۔ دراصل بہت سے ایسے امور ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
12

مارکیٹنگ مینجمنٹ کے فلسفوں میں اختلافات

فلسفے؍بنیادیں پروڈکشن کا تصور پروڈکٹ کا تصور فروخت کا تصور مارکیٹنگ کا تصور سماجی تصور
1۔ شروعاتی نقطہ فیکٹری فیکڑی فیکٹری مارکیٹ مارکیٹ، سوسائٹی
2۔ اصل مرکز توجہ پروڈکٹ کی مقدار کوالٹی، کارکردگی پروڈکٹ کی خصوصیات موجودہ پروڈکٹ
گراہک کی ضرورتیں
گراہک کی ضرورتیں اور سوسائٹی کی بھلائی
3۔ ذرائع  پروڈکٹ کی دست یابی اورقابلِ برداشت قیمت پروڈکٹ میں سدھار فروخت اور پروموشن متحدہ مارکیٹنگ متحدہ مارکیٹنگ
4۔ مقاصد پروڈکشن کے حجم کے ذریعے منافع پروڈکٹ کی کوالٹی کے ذریعے منافع فروخت کے حجم کے ذریعے منافع گراہک کی تسلی کے ذریعے منافع گراہک کی تسلی اور سماجی بہبود کے ذریعے منافع

مارکیٹنگ کے کام (FUNCTIONS OF MARKETING)

صنعت کار اور صا رفین کے درمیان اشیا یا خدمات کا تبادل مارکیٹنگ ہے تاکہ گراہکوں کی ضروریات کی زیادہ زیادہ تکمیل ہوسکے۔ اگر ہم مینجمنٹ کے کاموں کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو اس میں مختلف سرگرمیاں شامل ہیں جنھیں ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
مارکیٹ سے متعلق اطلاعات کو اکھٹا کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا : فروخت کار کے کاموں میں سے ایک اہم کام بازار سے متعلق معلومات اکٹھا کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہے۔ گراہکوں کی ضروریات کی نشان دہی کرنا اور پروڈکٹس نیز سروسز کی کامیاب مارکیٹنگ کے لیے فیصلے لینا بہت ضروری ہے۔ دست یاب مواقع،امکانی خطرات اور تنظیم کی کمزوریوں اور خوبیوں کا تجزیہ کرنا اور یہ فیصلہ کرنا کہ کون کون سے مواقع کو بہترین طریقے پر استعمال کیا جاسکتا ہے، بہت ـضروری ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں تیز شرحِ نمو کی پیشین گوئی کی جاتی ہے۔ ایسا انٹرنیٹ کے استعمال، موبائل بازار اور دیگر شعبوں میں ہوتا ہے۔ تنظیم ان میں سے کس شعبے کا انتخاب کرکے اس میں کار وبار شروع کرے۔ اس کے لیے ضرورت یہ ہوتی ہے کہ خود تنظیم کی کمزوریوں اور اس کی طاقتوں کا محتاط تجزیہ کیا جائے۔ اس کام کے لیے مارکیٹ تجزیہ کی مدد درکار ہوتی ہے۔
کمپیوٹروں کے بازار میں آنے سے اب مارکیٹ انفارمیشن کو اکھٹا کرنے میں ایک نیا رحجان آچکا ہے۔ اب بیشتر کمپنیاں انٹرنیٹ پر براہِ راست بات چیت کی سائٹ کھولتی ہیں اور کاروباری سلسلے کے اہم فیصلے لینے سے پہلے خود گراہکوں کے خیالات اور ان کی آرا معلوم کر لیتی ہیں۔(گلوبل برانڈ کے بارے میں درج ذیل باکس ملاحظہ کیجیے) ہندی کا ایک مشہور ٹی وی نیوز چینل(SMSکے ذریعے) ناظرین کی پسند ناپسند معلوم کرلیتا ہے اور ان ہی کی بنیاد پر نشر کیے جانے والے دن بھر کے چار پانچ اہم آئٹموں میں سے کسی ایک کو خاص اوقات میں نشر کیا جاتا ہے تاکہ ناظرین اپنی پسند کے پروگرام کو سن سکیں۔
مارکیٹنگ کی منصوبہ بندی   (Marketing Planning): فروخت کار کے لیے کام کا دوسرا اہم شعبہ مارکیٹنگ منصوبوں کا ارتقا ہے تاکہ تنظیم کے مقاصد حاصل ہوسکیں۔ مثال کے طور پر ایک رنگین ٹی وی کا فروخت کار جو ملک کے مارکیٹ شیئر کے دس فی صد کا حصے دار ہے اپنے مارکیٹ شیئر کو اگلے تین سال میں بیس فی صد تک بڑھانے کا خواہش مند ہے۔ اس کو ایک ایسا مکمل منصوبہ تیار کرنا ہوگا جو پروڈکشن میں اضافے اور پروڈکٹس کے فروغ وغیرہ کے ساتھ سا تھ دیگر اہم پہلوؤں پر مشتمل ہو نیز اس کو ان مقاصد کے حصول کے لیے خصوصی لائحہ عمل بھی تیار کرنا ہوگا۔
پیداوار کی تشکیل اور ترویج و اشاعت(Product Designing and Development):
 ایک اہم مارکیٹنگ سرگرمی یا فیصلہ سازی کے شعبے کا تعلق پروڈکٹ کی ڈیزائنگ اور اس کے ڈویلپمینٹ سے ہے۔ ڈیزائننگ ہی اس کو صارفین کے لیے جاذب نظر اور دلکش بناتی ہے۔ پروڈکٹ کا اچھا ڈیزائن اس کی کار کردگی کو بہتر اور مارکیٹ میں مقابلہ کے قابل بناسکتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم کوئی پروڈکٹ (مثلاً موٹر بائک) خریدنا چاہتے ہیں تو ہم نہ صرف اس کی خصوصیات (مثلاً لاگت، اوسط میل (Milage)وغیرہ کو دیکھتے ہیں بلکہ اس کے ڈیزائن کے پہلوؤں) (مثلاً شکل، اسٹائل وغیرہ) کو بھی دیکھتے ہیں۔
معیار بندی اور درجہ بندی(Standardisation and Grading):
 معیار بندی کا مطلب ہے پہلے سے طے شدہ تصریحات(Specifications)کے مطابق مال تیار کرنا۔ اس سے تیار شدہ مال میں یکسانیت اور استحکام باقی رہتا ہے۔ معیار بندی کے نتیجے میں خریداروں کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ خریدی جانے والی اشیا کو معیار، قیمت اور ڈبہ بندی کے طے شدہ معیاروں کے مطابق ہی ہوں گی اور نتیجتاً اس سے یہ ضرورت باقی نہیں رہتی کہ پروڈکٹس کا معائنہ، جانچ اور قدروقیمت وغیرہ متعین کی جائے۔
گریڈنگ، پروڈکٹس کی چند اہم خصوصیات جیسے معیار، سائز وغیرہ کی بنیاد پر مختلف زمروں میں اس کی تقسیم کا عمل ہے۔  گریڈنگ خاص طور پر ان پروڈکٹس کے لیے ضروری ہے جو معیاروں کی طے شدہ تصریحات کے مطابق تیار نہیں کی جاتیں۔ مثال کے لیے زراعتی پروڈکٹس جیسے گیہوں یا سنتروں وغیرہ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ گریڈنگ سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ فلاں پروڈکٹ کی کوالٹی کیا ہے اور اس طرح اچھی کوالٹی کے سامان کی بہتر قیمت وصول کی جاسکتی ہے۔
ڈبہ سازی اور لیبل سازی(Packaging and Labelling) :
 پیکیجنگ کا مطلب ہے پروڈکٹس کے پیکجوں کا ڈیزائن تیار کرنا اور ایسے ہی لیبل سازی کا مطلب ہے پیکجوں کے اوپر لگائے جانے والے لیبلوں کا ڈیزائن تیار کرنا۔ لیبل سادے ٹیگ(tags)بھی ہوسکتے ہیں اور پیچیدہ گرافکس بھی۔ اس دور کی مارکیٹنگ میں ڈبہ سازی اور لیبل سازی بہت اہم ہوگئی ہیں اور ان کو مارکیٹنگ کا ستون کہا جانے لگا ہے۔ ڈبہ سازی(Packaging)کی اہمیت صرف یہی نہیں ہے کہ اس سے پروڈکٹ کی حفاظت ہوتی ہے بلکہ یہ پروڈکٹ کے فروغ(Promotion)کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خریدار پروڈکٹ کی کوالٹی کو بھی ڈبہ بندی سے جانچتا اور آنکتا ہے۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ بہت سے کامیاب برانڈ جیسے لیز(Lays)کا انکل چپس، پوٹپٹو ویفرس، کلینک پلس شمپو اور کو لگیٹ ٹوتھ پیسٹ وغیرہ کو کامیاب بنانے میں پیکیجنگ کا بہت اہم رول ہے۔
مارکہ سازی (Branding): اکثر اشیا نے سرف  کی مارکیٹنگ کے شعبے میں بہت اہم فیصلہ یہ کیا ہے کہ آیا کسی پروڈکٹ کو اس کے نوعی نام(Generic name)سے (مثلاً پنکھا، قلم وغیرہ) بیچا جائے یا اس کو کسی برانڈ نام (جیسے پولرفین یا روٹو میک پین) سے بیچا جائے۔ برانڈ نام سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی پروڈکٹ اپنے اندر ایک امتیاز پیدا کرلیتی ہے یعنی دوسری کمپنیوں کی پروڈکٹس کے مقابلے اس میں ایک امتیاز ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گراہک کی وفاداری بھی حاصل ہوتی ہے اور بکری یا فروخت کو فروغ ہوتا ہے۔ برانڈنگ کے سلسلے میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی ہوتاہے کہ کیا ہر پروڈکٹ کو الگ نام دیاجائے یا کمپنی کے تمام پروڈکٹس کو ایک ہی برانڈ نام دیا جائے۔مثلاً فلپس بلب، فلپس ٹیوب، فلپس ٹی وی یا ویڈیو کون واشنگ مشین، ٹی وی اور ریفریجریٹر وغیرہ۔ کسی بھی پروڈکٹ کی کامیابی میں برانڈ کا انتخاب بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
7۔ گراہک حمایتی خدمات(Customer Support Services): 
مارکیٹنگ مینجمینٹ کا ایک بہت اہم کام یہ ہے کہ وہ گراہک حمایتی خدمات کو ترقی دے۔ گراہک حمایتی خدمات میں مختلف خدمات مثلاً مابعد فروخت خدمات (After sales services) گراہکوں کی شکایات کا نپٹارا، اختلافی امور کا تصفیہ، کریڈٹ خدمات کا حصول، رکھ رکھاؤ خدمات، تکنیکی خدمات اور کنزیومر انفارمیشن وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام خدمات کا مقصد یہ ہے کہ گراہکوں کو انتہا درجے کا اطمینان اورتسلی بہم پہنچائی جائے جو آج کے زمانے میں ایک کامیاب مارکیٹنگ کی کنجی ہے۔ اچھی گراہک حمایتی خدمات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتاہے کہ گراہک دوبارہ اسی مال کو خریدتا ہے اوراس سے برانڈ کے لیے گراہکوں کی وفاداری میں اضافہ ہوتاہے۔
8۔ پروڈکٹس کی قیمتوں کا تعین(Pricing of Products): کسی پروڈکٹ کی قیمت سے مراد وہ رقم ہوتی ہے جو گراہک اس پروڈکٹ کوحاصل کرنے کے لیے اداکرتا ہے۔ قیمت بہت اہم عامل ہے جو بازار میں کسی پروڈکٹ کی کامیابی یا ناکامی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کسی پروڈکٹ یا خدمت کی مانگ کا تعلق اس کی قیمت سے ہوتا ہے۔عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ قیمت جتنی کم ہوتی ہے، پروڈکٹ کی مانگ اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر قیمت زیادہ ہو تو مانگ کم ہوتی ہے۔ فروخت کار (Marekters) کا کام یہ ہے کہ وہ قیمت کو متعین کرنے والے عوامل کا مناسب طور پر تجزیہ کریں اور اس سلسلے میں بہت محتاط فیصلے کریں۔قیمت متعین کرنے کے مقاصد، قیمت متعین کرنے کی حکمت عملی، قیمتوں کا تعین اور قیمتوں میں تبدیلی اس سلسلے میں اہم عوامل ہیں۔
9۔ فروغ (Promotion): پیداوار اور خدمات کے فروغ میں فرم کی پیداوار اور ان پیداوار کی خصوصیات کے بارے میں معلومات کو گراہکوں تک پہنچانا اور ان کو ان پیداوار کے خریدنے کے لیے آمادہ اور راغب کرنا بہت اہمیت کے حامل امور ہیں۔پروڈکٹس کے فروغ کے چار اہم طریقے ہیں اور وہ ہیں اشتہارات، شخصی فروخت، پبلیسٹی اور سیلز پروموشن۔ پیداوار اور خدمات کے فروغ کے لیے جو چند اہم فیصلے ایک فروخت کار کو لینے ہوتے ہیں ان میں پروموشن بجٹ اور پروموشن مکس بہت اہم ہیں۔
10۔ طبیعی تقسیم (Physical Distribution): اشیا اور خدمات کی مارکیٹنگ میں ایک بہت اہم کام طبیعی تقسیم کا مینجمنٹ ہے۔ اس طبیعی تقسیم کے تحت دو بہت اہم فیصلے لینے ہوتے ہیں۔ (a) ایک فیصلہ تو تقسیم کے بارے میں لینا ہوتا ہے یعنی یوں کہیے کہ یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ کے عمل میں بچولیے کون ہوں گے (مثلاً تھوک فروش اور خوردہ فروش وغیرہ) (b) دوسرا فیصلہ پروڈکشن کے مقام سے اس مقام تک جہاں گراہک چاہتا ہے پروڈکٹ کی نقل وحرکت کے بارے میں لینا ہوتا ہے۔ اس طبیعی تقسیم کے تحت جو اہم شعبے آتے ہیں ان میں اسٹاک کا مینجمنٹ، اسٹوریج، وئرہاؤسنگ اور سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت شامل ہیں۔
11۔ نقل و حمل (Transportation): نقل وحمل میں سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ طبیعی منتقلی شامل ہے۔ چوں کہ عام طور پر سامان خاص طور پر اشیائے صرف کے استعمال کرنے والے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں اور اس مقام سے دور دراز فاصلوں پر ہوتے ہیں جہاں کوئی پیداوار تیا ر ہوتی ہے۔ اس لیے اس سامان کو وہاں تک لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر چائے آسام میں پیدا ہوتی ہے۔ اسے نہ صرف پورے صوبے میں بھیجنا ہوتا ہے بلکہ ان تمام دور دراز جگہوں پر بھی لے جانا یا منتقل کرنا ہوتا ہے جہاں جہاں وہ استعمال ہوتی ہے مثلاً، تامل ناڈو، پنجاب، جموں کشمیر، ہریانہ اور راجستھان وغیرہ۔
ایک مارکیٹنگ فرم کو مختلف عوامل جیسے پروڈکٹ کی نوعیت، اس کی لاگت اور نشانہ بازار کے محل وقوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے نقل و حمل کی ضرورتوں کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے اور پھر نقل و حمل کے طریقے اور دیگر امور کے بارے میں فیصلہ لینا ہوتاہے۔
12۔  اسٹوریج یا وئر ہاؤسنگ(Storage Ware- housing):  عام طور پر سامان کی تیاری، فراہمی اور اس کی بِکری یا استعمال کے درمیان وقت کا فاصلہ ہوتاہے۔ اس کی وجہ ایک تو پروڈکٹس کی بے قاعدہ مانگ ہوسکتی ہے جیسے کہ گرم کپڑوں یا برساتی(Rain Coat)وغیرہ کے معاملے میں ہوتا ہے یا پھر اس کی وجہ بے قاعدہ سپلائی بھی ہوسکتی ہے۔ایسا اکثر ان پروڈکٹس کے بارے میں ہوتاہے جو موسموں کے حساب سے پیدا یا تیار ہوتی ہیں۔ مثلاً زراعتی پروڈکٹس جیسے گنا، چاول، گیہوں کپاس وغیرہ۔ بازار میں پروڈکٹس کی سپلائی کو باقاعدہ رکھنے کے لیے ان کے مناسب اسٹوریج کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مال کے کافی اسٹاک کو اسٹور کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ناگزیر حالات میں تحویل (Delivery) میں تاخیر نہ ہو نیز اچانک اضافی مانگ پوری کی جاسکے۔ مارکیٹنگ کے عمل میں اسٹوریج کے کام کو مختلف ایجنسیاں (جیسے مینوفیکچرر، تھوک بیوپاری اور خوردہ فروش) انجام دے سکتی ہیں۔

مارکیٹنگ مکس (MARKETING MIX)

مارکیٹنگ مکس مختلف عوامل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان عوامل کو چار زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ زمرے مارکیٹنگ کے چار پی (Ps)کہلاتے ہیں جو اس طرح: (i)پروڈکٹ (ii)پرائس یعنی قیمت(iii)پلیس(Place)یعنی جگہ اور پروموشن یعنی ترویج واشاعت۔
پروڈکٹ(Product): پروڈکٹ سے مراد کوئی اشیا، خدمات یاکوئی بھی ایسی چیز جس کی کوئی قدر ہو اور جسے تبادل کے لیے بازار میں پیش کش کے طور پر لایا جاسکے۔ مثال  کے طور پر ہندوستان یونی لیور کمپنی مختلف قسم کے کنزیومر پروڈکٹس پیش کرتی ہے مثلاً حمام کا سامان( کلوزاپ، ٹوتھ پیسٹ، لائف بوائے صابن وغیرہ)، ڈیٹرجینٹ پاوڈر(سرف، وہیل) اور غذائی اشیا (ریفائینڈ وناسپتی تیل) وغیرہ۔ ایسے ٹاٹا کمپنی بھی ٹاٹا اسٹیل، ٹرک، نمک اور بہت سی دیگر اشیا پیش کرتی ہے۔ LGالیکٹرانکس، ٹیلی ویژن، ریفریجریٹر اور کمپیوٹر کے رنگین مانیٹر وغیرہ کی پیش کش کرتی ہیں۔اَمُل(Amul)بہت سی غذائی اشیا (جیسے دودھ، گھی، مکھن، پنیر اور چاکلیٹ وغیرہ) کی پیش کش کرتاہے۔

13

مارکیٹنگ مکس

پیداوار  (Product)
پروڈکٹ مکس
پروڈکٹ کی کوالٹی
نیا پروڈکٹ
ڈیزائن اور ڈویلپمینٹ
پیکیجنگ
لیبل سازی
مارکہ سازی
جگہ (Place)
چینل کی حکمت عملی
چینل کا انتخاب
چینل کا جھگڑا
چینل کا تعاون
فزیکل تقسیم

قیمت (Price)
قیمت کی سطح
تخمینی نفع
قیمت کی پالیسی
قیمت کی حکمت عملی
قیمت کی تبدیلی


ترویج وفروغ (Promotion)
پروموشن مکس
اشتہارات
شخصی فروخت
سیلز کی ترویج
شہرت
عوامی روابط

پروڈکٹ کا تصور صرف مادی اشیا سے نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں میں بیان ہوا بلکہ پروڈکٹ کا تعلق ان فوائد سے بھی ہے جن کو کمپنی گراہکوں کے نقطۂ نظر سے بھی پیش کرتی ہے۔ (مثال کے طور پر توٹھ پیسٹ دانتوں کو سفید کرنے اور مسوڑھوں کو مضبوط کرنے کے لیے خریدا جاتا ہے۔) یا جو خدمات کمپنی پیش کرتی ہے وہ بھی پروڈکٹ کے تصور میں ہی شامل ہیں۔ یہ بعد از فروخت خدمات(After sale services) بھی ہوسکتی ہیں یا شکایات کا تصیفہ اورفالتو پرزوں کی فراہمی وغیرہ سبھی کچھ ہوسکتی ہیں۔ آٹوموبائل اور ریفریجریٹر وغیرہ جسے پائدار کنزیوم سامان کی مارکیٹنگ میں تو یہ پہلو بہت ہی اہم ہیں۔ پروڈکٹس کی خصوصیات، کوالٹی، ڈبہ بندی، لیبل سازی اور مارکہ سازی وغیرہ کاتعلق پروڈکٹس کے اہم فیصلوں سے ہے۔
قیمت(Price): قیمت وہ رقم ہے جو گراہک کو پروڈکٹ حاصل کرنے کے لیے ادا کرنی پڑتی ہے۔ اکثر پروڈکٹس کے معاملے میں قیمتیں مانگ کو متاثر کرتی ہیں۔ فروخت کار کا کام یہی نہیں ہے کہ وہ تعین قیمت کے مقاصد  طے کرے بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ان عوامل کا تجزیہ کرے جو قیمتوں کو طے کرتے ہیں اور فرم کی قیمتوں کو معین کرتے ہیں۔ قیمتوں کے بارے میں فیصلے لیتے وقت گراہکوں وغیرہ کو دی جانے والی رعایتوں کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے تاکہ گراہک یہ محسوس کریں کہ پروڈکٹ کی قیمت اس کی قدر (value)سے ہم آہنگ ہے۔
جگہ (Place): جگہ یا طبیعی تقسیم میں وہ سرگرمیاں شامل ہیں جن سے پروڈکٹس کمپنی کے نشانہ گراہکوں کو دست یاب ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں، ڈیلروں یا بچولیوں(Inter mediaries)کا انتخاب جن سے پروڈکٹس گراہکوں تک پہنچتی ہیں اور ان کے مفادات کا تحفظ وغیرہ رعایتیں دے کر باترویحی مقابلہ آرائی وغیرہ فیصلہ سازی کے اہم شعبے ہیں۔فیصلہ سازی کے دوسرے اہم اسٹاک، اسٹوریج، وئرہاوسنگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سامان کی نقل و حمل وغیرہ ہیں۔
پروڈکٹس کی ترویج (Promotion) : پیداوار اور خدمات کی ترویج ان سرگرہوں پر مشتمل ہے جن سے پروڈکٹس کی خصوصیات، خوبیاں اور اس کی دست یابی کی تفصیلات گراہکوں تک پہنچتی ہیں اور جوگراہکوں کو سامان خریدنے کے لیے متوجہ اور راغب کرتی ہیں۔ اکثر مارکیٹنگ تنظیمیں مختلف قسم کی کوششیں ترویج کے لیے انجام دیتی رہتی ہیں اور وہ اس کام پر خاصی رقم بھی خرچ کرتی ہیں۔ اس کام کے لیے وہ مختلف ذرائع مثلاً شخصی فروخت اور سیلز پروموشن تکینکوں (جیسے قیمتوں میں رعایت اور فری سیمپل وغیرہ) کو اپناتی ہیں۔ اوپر جن شعبوں کی صراحت کی گئی ہے ان میں بہت سے فیصلے لینے ہوتے ہیں۔ مثال کے لیے، اشتہارات کے سلسلے میں یہ بہت ضروری ہے کہ اشتہار کے مضمون کے بارے میں بھی فیصلہ لیا جائے اور یہ بھی فی صد لیا جائے کہ اشتہار کا ذریعہ کیا ہوگا ، اخبارات، رسالے الیکٹرانک میڈیا وغیرہ۔
مارکیٹ پیش کش کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ یہ سارے اجزا کس طرح باہم متحد ہوتے ہیں اور کس طرح گراہکوں کے لیے اعلا درجے کی اقدار کی تخلیق کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان سے بکری اور منافع کے مقاصد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرم بکری کا ضروری حجم ایسی لاگت پر حاصل کرنا پسند کرے گی جس سے نفع کی مطلوبہ سطح حاصل ہوجائے۔ لیکن ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے فرم بہت سے متبادل مکس اختیار کرسکتی ہے۔ ایسے میں فرم کے سامنے مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دیے گئے مقاصد حاصل کرنے کے لیے عناصر کا سب سے موثر امتراج کیا ہوگا۔

پروڈکٹ(PRODUCT) 

گراہک کے نقطۂ نظر سے کوئی پروڈکٹ مفید اشیا کا صرف ایک مجموعہ ہوتی ہے جو اس سے خریدی جاتی ہے اس میں ضروتوں کی تکمیل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ خریدار کسی پروڈکٹ یا سروس کو اس فائدے یا اس خدمت کے لیے خریدتا ہے جو وہ پروڈکٹ پہنچاتی ہے۔تین قسم کے فائدے ہیں جو ایک گراہک کسی پروڈکٹ کو خرید کر حاصل کرسکتا ہے (1)ایک عملی فائدے (ii)دوسرے نفسیاتی فائدے اور (iii)تیسرے سماجی فائدے۔ مثال کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ موٹر بائک خرید نقل و حمل کا عملاً فائدہ ہوتاہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے احساسِ عزت وافتخار کی بھی تسکین ہوتی ہے اور سماجی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سماج اس کو قبولیت کا شرف بھی بخشتا ہے۔ اس طرح کسی پروڈکٹ کی منصوبہ بندی کرتے وقت ان تمام پہلوؤں پر نظر ہونی چاہیے۔
گراہکوں کی وجہ سے ہی کمپنیاں اپنی موجودہ پروڈکٹس کی پیش رفت پر نظر ثانی کرتی رہتی ہیں اور نئے نئے شعبوں میں مواقع سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں رہتی ہیں( پیپسی کمپنی پر باکس دیکھیے)۔
14
پروڈکٹس
انڈسٹیریل پروڈکٹس کنزیومر پروڈکٹس
شاپنگ کوشش شامل ہے پائدار بنیاد
خصوصی پروڈکٹس شاپنگ پروڈکٹس سہولتی پروڈکٹس خدمات پائدار غیر پائدار


پروڈکٹ کی زمرہ بندی    (CLASSI- FICATION OF PRODUCT)

پروڈکٹ کو وسیع پیمانے پر دو زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے (i)کنزیومر پروڈکٹس اور(ii) صنعتی پروڈکٹس۔ کنزیومر پروڈکٹس کی مزید تقسیم مندرجہ ذیل گروپوں میں کی جاسکتی ہے۔

کنزیومرپروڈکٹس

(CONSUMER PRODUCTS)

جن پروڈکٹس کو صارفین اپنی شخصی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خریدتے ہیں ان کو کنزیومر پروڈکٹس کہا جاتا ہے۔مثال کے طور پر صابن، خوردنی تیل، اشیائے خوردنی، کپڑے، ٹوتھ پیسٹ، پنکھے وغیرہ کنزیومر پروڈکٹس ہیں کیوں کہ ان کو ہم اپنے ذاتی استعمال کے لیے خریدتے ہیں کسی تجارت وغیرہ کے لیے نہیں خریدتے۔
ان کنزیومر پروڈکٹس کو دو اہم عوامل کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ عوامل ہیں(i) شاپنگ میں شامل کوششوں کی توسیع (ii)اور پروڈکٹ کی پائداری۔ ان امور کی ذیل میں وضاحت کی گئی ہے۔

سہولتی پروڈکٹس (Convenience products):
جو کنزیومر پروڈکٹس بار بار اور فوری طور پر خریدے جاتے ہیں یعنی جن کی خریداری میں کم سے کم وقت اور کوشش کا استعمال ہوتاہے ان کو سہولتی پروڈکٹس (Convenience Product) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سگریٹ، آئس کریم، دوائیں، اخبارات، اسٹیشنری، ٹوتھ پیسٹ وغیرہ’’ سہولتی اشیا ہیں‘‘۔ ان پروڈکٹس کی’’اکائی قدر‘‘(Unit value)کم ہوتی ہے اور یہ تھوڑی مقدار میں خریدی جاتی ہیں۔
15
سہولتی پروڈکٹس

شاپنگ پروڈکٹس (Shopping Products):
وہ کنزیومر اشیا جن کو خریدنے کے لیے خریدار کافی وقت خرچ کرتے ہیں، شاپنگ پروڈکٹس کہلاتی ہیں۔ مثلاً اس کی کوالٹی، قیمت اور اسٹائل وغیرہ کا مختلف دکانوں پر جاکے موازنہ کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمارے لیے کون سی چیز بہتر ہے تب جاکر اس کو خریدتے ہیں، شاپنگ پروڈکٹس کی مثال کے لیے آپ کپڑے، جوتے، زیورات، فرنیچر، ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ کو ذہن میں رکھ سکتے ہیں۔
16

شاپنگ پروڈکٹس

مخصوص پروڈکٹس(Speciality Product):
وہ کنزیومر اشیا جن میں کچھ خاص باتیں یا خصوصیات پائی جاتی ہیں مخصوص پروڈکٹس کہلاتی ہیں یہ کسی برانڈ کی اعلیٰ ترین پروڈکٹس ہوتی ہیں جن کے خریداروں کی تعداد بھی مخصوص ہوتی ہے۔ گراہک اس قسم کی پروڈکٹس کو خریدنے کے لیے کافی وقت اور محنت لگاتے ہیں۔مثال کے طور پر آرٹ ورک یا پرانی چیزوں کے کلیکشن کا معاملہ ہے۔لوگ اس کے لیے وقت بھی خرچ کرتے ہیں اور ان کے لیے دور دراز کا سفر بھی کرتے ہیں۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کسی خاص ہیر کٹنگ سیلون میں، کسی خاص ریسٹوراں میں یا کسی خاص ٹیلرکے یہاں جاتے ہیں۔ اس قسم کی پروڈکٹس کی مانگ نسبتاً لوچ نہیں ہوتی یعنی اگر قیمتیں بڑھ بھی جاتی ہیں تو مانگ میں کمی نہیں آتی۔

پروڈکٹس کی پائداری

پائداری کی اساس پر کنزیومر اشیا کو تین زمروں میں تقسیم کیاگیا ہے: پائدار، غیر پائدار اورخدمات۔

غیر پائدار پروڈکٹس : وہ مصرفی اشیا(Consumer products)جو عام طور پر ایک بار یا چند بار استعمال کرنے سے ختم ہوجاتی ہیں ان کو غیر پائدار پیداوار کہا جاتا ہے۔ مثلاً ہم ٹوتھ پیسٹ، ڈٹرجینٹ، نہانے کا صابن اور اسٹیشنری وغیرہ خریدتے ہیں۔ مارکیٹنگ کے نقطۂ نظر سے ان پروڈکٹس کا تخمینی منافع بہت کم ہوتاہے اس لیے ان کی دست یابی اور فراہمی زیادہ جگہوں پر ہونی چاہیے اور ان کی پبلیسٹی بھی زیادہ ہونی چاہیے۔
2۔ پائدار پروڈکٹس: وہ قابل لمس پروڈکٹس جن کا استعمال لمبے عرصے تک اور مسلسل ہوسکتاہے جیسے ریڈیو، ریفریجریٹر، بائیسکل اور سلائی مشین وغیرہ پائدار پروڈکٹس کہلاتی ہیں۔ عام طور پر پائدار پروڈکٹس کا استعمال لمبی مدت تک ہوسکتا ہے، ان کا فی اکائی تخمینی منافع بھی زیادہ ہوتاہے۔ ان کی فروخت میں شخصی کوششوں کو بھی خاصا دخل ہوتا ہے اور گارنٹی اور مابعد فروخت خدمات بھی ضروری ہوتی ہیں۔
17
مخصوص پروڈکٹس

3۔ خدمات (Services): پائدار اور غیر پائدار پروڈکٹس اس مفہوم میں قابلِ لمس(Tangible)ہوتی ہیں کہ ان کا جسمانی وجود ہوتاہے، ان کو دیکھا بھی جاسکتا ہے اور چھوا بھی جاسکتا ہے۔ لیکن خدمات کا ناقابلِ لمس(Intangible) ہوتی ہیں، خدمات کا مطلب وہ سرگرمیاں فوائد یا تشفیات (Satisfactions) ہیں جو فروخت کی جاتی ہیں مثلاً ڈرائی کلیننگ، گھڑیوں کی مرمت، بالوں کی کٹوائی، یوسٹل خدمات، ڈاکٹروں، وکیلوں اور ماہرین تعمیرات وغیرہ کی خدمات سب اس ذیل میں آتی ہیں۔

صنعتی پروڈکٹس

(INDUSTRIAL PRODCUTS)

جو پروڈکٹس دوسری چیزوں کی پیداوار یا تیاری میں ان پُٹ(inputs)کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہیں، ان کوصنعتی پروڈکٹس کہا جاتا ہے۔ خام مال، انجن لُبریکینٹ (Lubricants) مشینیں اور کل پرزے صنعتی پروڈکٹس کی مثالیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں صنعتی پروڈکٹس غیر شخصی ہوتی ہیں اور دوسری چیزوں کی پیداوار کے لیے ان کا استعمال تجارتی ہوتاہے۔
صنعتی پروڈکٹس کا بازار مینوفیکچررس، ٹرانسپورٹ ایجنسیوں،بینکوں انشورنس کمپنیوں اور رفاہ عامہ(Public Utilities) پر مشتمل ہوتا ہے۔

زمرہ بندی (Classification)

صنعتی سامان کو مندرجہ ذیل اہم زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(i)   میٹیریل اور پرزے(Materials and Parts): اس میں وہ اشیا شامل ہیں جو مکمل طور پر مینوفیکچر پروڈکٹس کے تحت آتی ہیں۔ یہ پروڈکٹس دوقسم کی ہوتی ہیں(a)خام میٹیریل: اس میں زراعتی پروڈکٹس مثلاً کپاس، گنا، لہسن اور قدرتی پروڈکٹس جیسے معدنیات (خام پیٹرولیم،کچی دھات) مچھلیاں اور جنگلی لکٹری شامل ہے(b)اس میں تیارشدہ میٹیریل اور پرزے شامل ہیں۔ میٹیریل اور پرزوں کو پھر دو زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک ترکیبی مواد جیسے گلاس، لوہا اور پلاسٹک اور دوسرے ترکیبی حصّے جیسے ٹائر، بجلی کے بلب، اسیٹرنگ اور بیٹری۔
18
صنعتی سامان
سپلائی اور کاروباری سروسز کیپٹل آئیٹم میٹریل اور پرزے
آپریٹنگ سپلائی رکھ رکھاؤ مرمتی آئی ٹم کل پرزے تنصیبات تیار شدہ میٹیریل اور پرزے خام مواد
ترکیبی حصے ترکیبی مواد قدرتی پیداوار زراعتی پیداوار

صنعتی اشیا کی زمرہ بندی 

(ii) کیپٹل آئی ٹم(Capital items): ان  میں وہ اشیا شامل ہیں جن کا استعمال تیار شدہ پروڈکٹس میں ہوتا ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔(a) تنصیبات (Instalations)  جیسے الیویٹرس (Elevators)، مین فریم کمپیوٹرس اور (b) دستی اوزار، پرسنل کمپیوٹر، فیکس مشین وغیرہ۔
(iii) سپلائیز اور کاروباری خدمات: یہ تھوڑے وقت تک باقی رہنے والے سامان اور خدمات ہیں جن کا استعمال تیارشدہ مال کے فروغ اور بندوبست میں کیا جاتا ہے۔ اس میں(a)پینٹ اور کیلوں جیسے آئٹموںکا رکھ رکھاؤ اور مرمت (b) لبریکینٹ (Lubricants) کمپیوٹر اسٹیشنری اور لکھائی کا کاغذ وغیرہ جیسی چیزوں کی سپلائی شامل ہے۔ 

مارکہ (BRANDING)

مارکہ کسی پروڈکٹ کے ان سب سے اہم شعبوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں فروخت کار کو فیصلے لینے ہوتے ہیں۔اس کو یہ فیصلہ لینا ہوگا کہ آیا فرم کی پروڈکٹس کو کسی برانڈنام سے بازار میں لایا جائے گا یا ایک اس نوعی نام سے۔ نوعی نام سے مطلب پروڈکٹس کے عا م نام سے ہے۔ مثال کے طور پر کتاب، گھڑی، ٹائر،کیمرا اور نہانے کا صابن وغیرہ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کیمرا ایک ایسا لینس ہے جو ہر طرف سے پلاسٹک یا اسٹیل سے گھرا ہوتاہے اور اس کے علاوہ اس کی کچھ اور خصوصیات مثلاً فلیش گن وغیرہ بھی ہوتی ہیں۔ اسی طرح کتاب کا غذ کے ان اوراق کا مجموعہ ہے جو ایک بندھی ہوئی شکل میں ہوتے ہیں اور جن پر کسی بھی موضوع کے بارے میں مفید معلومات چھپی ہوتی ہے۔ اس طرح وہ عام پروڈکٹس جن میں یہ خصوصیات ہوں گی ان کو ایک نوعی نام کتاب یا کیمرے کا دیا جاسکتا ہے۔
اگر پروڈکٹس نوعی نام (generic name)سے بیچے جاتے تو فروخت کار کے لیے یہ بہت مشکل کام ہوگا کہ وہ اپنی پروڈکٹس کو دوسری کمپنیوں کی پروڈکٹس سے ممتاز کرسکے۔اسی لیے اکثر فروخت کار اپنی پروڈکٹس کو خود اپنا نام دیتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنی پروڈکٹس اور دوسری کمپنیوں کے پروڈکٹس میں امتیاز اور فرق کرسکتے ہیں۔ کسی پروڈکٹ کو کوئی نام، نشان یا علامت وغیرہ خریدنے کا عمل ہی برانڈنگ کہلاتاہے۔ برانڈنگ سے متعلق مختلف شرائط حسب ذیل ہیں۔

1۔ برانڈ(Brand): برانڈ کسی ایک فروخت کنندہ یا فروخت کنندگان کے گروپ کی پروڈکٹس، سامان یا سروسز کو دیا جانے والا مخصوص نام، نشان، علامت ڈیزائن یا ان کا مجموعہ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ پروڈکٹس، سامان یا سروسز کمپنیوں کی پروڈکٹس سے ممتاز ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر باٹا، لائف بوائے، ڈنلپ، ہاٹ شاٹ اور پار کر وغیرہ عام برانڈس ہیں۔ برانڈ ایک جامع اصطلاح ہے جس کے دو ارکان ہیں۔ ایک برانڈ نام اور دوسرے برانڈ مارک۔
2۔ برانڈ نام: کسی برانڈ کا وہ حصہ جس کو زبان سے بولا یا ادا کیا جاسکے برانڈ نام کہلاتاہے بالفاظ دیگر برانڈ نام کسی برانڈ کا زبانی رکن (Verbal Component)ہے۔ مثال کے طور پر ایشین پینٹس، سفولا، میگی، لائف بوائے، ڈنلپ اور انکل چپس برانڈ نام ہیں۔ 
3۔ برانڈ مارک: کسی برانڈ کا وہ حصہ جس کو شناخت کیا جاسکتا ہے لیکن جس کو زبان سے بولا نہیں جاسکتا، برا نڈ مارک کہلاتاہے۔ اس کی شکل ایک علامت کی بھی ہوسکتی ہے اور ڈیزائن کی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ مختلف رنگوں کی کوئی ممتاز شکل بھی ہوسکتی ہے یا حروف بھی ہوسکتے ہیں۔

برانڈس اور برانڈنگ کے تناظر

برانڈنگ، صارف کے لیے ایک کارپوریٹ برانڈ کی شناخت کی تخلیق اور اس برانڈ کی شناخت کو صارفین کے ذہنوںمیں مرتسم کردیتا ہے۔اس کے لیے برانڈ کی صحیح حیثیت اور اس کے مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔

آج برانڈ ایک ایسا وجود (پروڈکٹ، سروس، کمپنی، شخص، ٹیکنالوجی وغیرہ) ہے جو قدر کے تبادل کی راہیں ہموار کرتاہے۔یہ تبادل مالک بازار کی خواہش اور اس قیمت کے درمیان ہوتا ہے جو وہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوا ہے کہ آپ کی برانڈ بنیادی طور پر ان باتوں سے تشکیل نہیں ہوتی جس کو کمپنی اپنے بارے میں کہتی رہتی ہے بلکہ ان باتوں سے تشکیل پاتی ہے جو کمپنی کرتی ہے۔

جیف بیزوس    

پروڈکٹ فیکٹری میں تیار ہوتی ہے۔ برانڈ وہ چیز ہے جو گراہک کے ذریعے خریدی جاتی ہے۔ پروڈکٹ کی نقل دوسرا مد مقابل کرسکتا ہے، برانڈ انوکھی چیز ہوتی ہے۔ کوئی پروڈکٹ تیزی سے ازکار رفتہ ہو سکتی ہے لیکن اچھی برانڈ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

اسٹیفن کنگ    

آپ کے برانڈ کی طاقت اس کے غلبہ میں پوشیدہ ہے۔ کسی ایک مارکیٹ پر پچاس فی صد قبضہ پانچ مارکٹوں کے10فی صد سے بہتر ہے۔

ال رئیس    

آپ کے برانڈ کی شبیہ بنیادی طور پر ایک جذباتی عامل ہوتی ہے۔ عقل کے مقابلے جذبات ہمیشہ ہی لوگوں کو متاثر کرنے میں زیادہ اہمیت کے حامل رہے ہیں لیکن پھر بھی لوگ اپنی پسند اور اپنے انتخاب کو عقلیت پسند بنانا چاہتے ہیں۔

ڈریئٹن برڈ     

ماخذ : اِفیکٹواکزیکیوٹو 2006  سے




4۔ ٹریڈ مارک:  جس برانڈ کے کسی حصے کو قانونی تحفظ حاصل ہوتاہے اس کو ٹریڈ مارک کہا جاتاہے۔ یہ تحفظ اس بات کا ہوتاہے کہ اس کو کوئی دوسری فرم استعمال نہ کرسکے۔ اس طرح جو فرم اپنے برانڈ کو رجسٹرڈ کرالیتی ہے وہ اس کے استعمال کے خصوصی حقوق حاصل کرلیتی ہے اور ایسی صورت میں ملک کے اندر کوئی بھی دوسری فرم اس نام یا برانڈ کو استعمال نہیں کرسکتی۔
اگرچہ برانڈنگ سے لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے یعنی ڈبہ سازی، لیبلنگ، قانونی تحفظ اور پروموشن وغیرہ سے لاگت بڑھ جاتی ہے لیکن اس سے بیچنے والے اور صارف دونوں کو ہی کچھ فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

ایک اچھے برانڈ نام کی خصوصیات (Characteristics of Good Brand Name)

ایک صحیح اور اچھا برانڈ نام منتخب کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے۔ اس فیصلے میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ جب کوئی نام انتخاب کرلیا جاتاہے اور اس نام کے ساتھ پروڈکٹ بازار میں اتاری جاتی ہے تو برانڈ کو بدلنا سخت مشکل ہوتاہے۔ اس لیے شروع میں صحیح نا م کا انتخاب بہت اہم فیصلہ ہے۔ کسی برانڈ نام کو منتخب کر تے وقت مندرجہ ذیل امور کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
(i) برانڈ نام مختصر اور آسان ہو تاکہ اس کا تلفظ اور اس کی شناخت آسان ہو اور وہ آسانی سے یاد بھی رہ سکے۔ مثال کے طور پر پونڈس، وی آئی پی، رِن، وِم وغیرہ۔
(ii)       برانڈ نام سے پروڈکٹس کے معیار اور فوائد کا بھی اظہار ہو یہ اور بھی اچھا ہوگا کہ اس سے پروڈکٹ کا استعمال اور کام بھی معلوم ہوجائے۔
(iii)      برانڈ نام ممتاز بھی ہونا چاہیے۔
(iv)      برانڈ نام پیکیجنگ اور لیبلنگ کی ضرورتوں سے نیز مختلف ایڈورٹائزنگ میڈیا اور مختلف زبانوں سے ہم آہنگ ہو۔
(v)        برانڈ نام میں ہمہ جہت ہونا چاہیے تاکہ اس میں نئی پروڈکٹس بھی شامل کی جاسکیں۔
(vi)       برانڈ نام ایسا ہو کہ اس کو رجسٹرڈ کرایا جاسکے اور اس کو قانونی تحفظ دلایا جاسکے۔
(vii) منتخب نام ایسا ہو کہ اس میں باقی اور برقرار رہنے کی صلاحیت ہویعنی وہ ایسا ہو کہ وقت کے ساتھ پرانا اور ازکار رفتہ نہ ہوجائے۔

ڈبّہ سازی یا پیکیجنگ (PACKAGING)

موجودہ عہد میں جن تبدیلیوں نے کاروبار کی دنیا کو بڑے پیمانے پر متاثر کیاہے ان میں پیکیجنگ کی بہت اہمیت ہے۔ جن چیزوں کو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کو ڈبہ بند کیا جاسکتا ہے آج ان کی بہت کا میابی کے ساتھ پیکیجنگ کی جارہی ہے۔ دالیں، دودھ، گھی،نمک، کولڈ ڈرنکس وغیرہ سامنے کی مثالیں ہیں۔ ڈبہ سازی کا مطلب اور کسی پروڈکٹ کے لیے ڈبہ اور کاغذ بنانے، ڈیزائننگ کرنے کی تیاری کو ہم ڈبہ سازی (Packaging) کہتے ہیں۔ پروڈکٹس خاص طور پر کنزیومر غیر پائدار پروڈکٹس کی مارکیٹنگ کی کامیابی یا ناکامی کے لیے ڈبّہ سازی کا بہت اہم کردار ہوتاہے۔مثال کے طور پر میگی نوڈلس، انکل چپس اور کریکس میٹھے  بسکٹ جیسی پروڈکٹس کی کامیابی میں بھی اس کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

ڈبہ بندی کی سطحیں 

(Levels of Packaging)

ڈبہ بندی کی تین مختلف سطحیں ہو سکتی ہیں۔ یہ مندرجہ ذیل ہیں:

ابتدائی پیکج(Primary Package): یہ کسی پروڈکٹ کا فوری پیکج ہوتاہے۔ کچھ صورتوں میں پرائمری پیکج اس وقت برقرار رکھا جاتاہے جب تک صارف اس کو استعمال نہ کرے (مثال کے طور پرموزوں کے پلاسٹک پیکٹ وغیرہ)۔ کچھ دیگر معاملات میں یہ پیکٹ اس وقت تک استعمال میں رہتے ہیں جب تک وہ پروڈکٹس چلتی ہیں (مثلاً ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب اور ماچس باکس وغیرہ)

2۔ ثانوی پیکیجنگ  (Secondory Packaging): 

یہ کسی پروڈکٹ کے تحفظ کا اضافی پیکج ہے اور یہ اس وقت تک رہتاہے جب تک استعمال شروع نہ ہوجائے۔ مثال کے طورپر شیونگ کریم کی ٹیوب کارڈ بورڈ کے ایک ڈبے میں آتی ہے۔ جب صارف کریم کا استعمال شروع کردیتا ہے تو ٹیوب کو تو محفوظ رکھتا ہے البتہ کارڈ بورڈ ڈبے کو ضائع کردیتاہے۔

19
پیکیجنگ کی سطحیں
3۔ نقل و حمل کے لیے پیکیجنگ(Transportation Packaging):
اس سے مراد اسٹوریج، شناخت اور ٹرانپورٹیشن کے لیے پیکیجنگ کے ضروری اجزا (Components) کااضافہ ہے۔ مثال کے طور پر ٹوتھ پیسٹ کا مینوفیکچرر اپنی اشیا کو خوردہ فروشوں تک ایسے مضبوط باکسوں میں بھیجے گا جن میں 10،20یا100یونٹ سماسکیں اور محفوظ رہیں۔ 

پیکیجنگ کی اہمیت(Importance of Packaging)

درج ذیل وجوہات کی بنا پر اشیا اور خدمات کی مارکیٹنگ میں پیکیجنگ (Packaging) کی بڑی اہمیت ہے۔ 

(i) صحت اور حفظان صحت کے بلند ہوتے معیار: چوں کہ ملک میں معیار زندگی بڑھ رہا ہے اس لیے لوگ پیک شدہ مال خریدتے ہیں کیوں کہ پیک شدہ مال میں ملاوٹ کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
(ii) سیلف سروس نکاس(Self-Service outlets):
 آج کل خوردہ اشیا کے نکاس کے سیلف سروس مرکز خاص طور پر بڑے شہروں میں بہت مقبول ہیں۔ اس کی وجہ سے شخصی فروخت کے روایتی طریقے کی جگہ پیکنگ نے لے لی ہے۔
(iii) جدت پسندی: (Innovation) پیکنگ کے شعبے میں اب جو جدتیں پیدا ہوئی ہیں انھوں نے ملک میں مارکیٹنگ کے منظر نامے کو ہی بدل دیا ہے۔ اب ایسے میٹیریل کے پیک تیار کرلیے گئے ہیں جن میں دودھ چار پانچ دن تک فریج کے بغیر بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔ اسی طرح دواسازی اور کولڈڈرنکس وغیرہ کے شعبوں میں پیکیجنگ کے معاملے میں نئی نئی اختراعیں سامنے آتی ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایسی پروڈکٹس کی مارکیٹنگ میں بڑی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔
(iv) پروڈکٹ کی شناخت : پروڈکٹس کو ایک امتیازی حیثیت دینے میں (Packaging)بہت اہم ذریعہ ہے۔ کسی پروڈکٹ کی کوالٹی کے بارے میں صارفین کی رائے بنانے میں رنگ، سائز، اور میٹیریل نمایاں کردار ادار کرتے ہیں۔ مثلاً پروڈکٹ جیسے پینٹ، سر میں لگانے کا تیل وغیرہ کی پیکنگ کو دیکھ کرہی اس کی کوالٹی کے بارے میں کافی اندازہ لگایا جاتاہے۔

پیکیجنگ (ڈبہ سازی) کے کام

(Functions of Packaging)

جیسا کہ اوپر بتایا گیاہے کہ اشیا کی مارکیٹنگ میں، پیکیجنگ کے کئی اہم کام ہیں۔ اس کے کچھ اہم کام حسب ذیل ہیں:
(i) پروڈکٹ کی پہچان :پیکیجنگ سے پروڈکٹس کی شناخت میں بڑی مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر لال رنگ والے کولگیٹ یا پونڈس کریم کی شیشی اپنی پیکنگ کی وجہ سے آسانی سے پہچانی جاسکتی ہیں۔
(ii) پروڈکٹ کا تحفظ : پیکیجنگ سے پروڈکٹ خراب ہونے، ٹوٹتے پھوٹنے، رساؤ، چوری، نقصان اور موسم کے اثرات سے محفوظ رہتی ہے۔ پروڈکٹ کے اسٹور کرنے، تقسیم کرنے یا اس کے نقل و حمل کرنے میں اس قسم کے تحفظ کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔
(iii) پروڈکٹ کے استعمال میں سہولت : پیکج کی شکل اور سائز ایسی ہونی چاہیے کہ پیکٹ کو کھولنا، اٹھانا، رکھنا اور اس کو استعمال کرنا صارفین کو مشکل نہ ہو۔ کاسمیٹکس، دوائیں اور ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوبیں اس کی اچھی مثالیں ہیں۔
(iv) پروڈکٹ کا پروموشن:پیکیجنگ کا استعمال پروڈکٹ کو فروغ (Promotion) دینے کے لیے بھی کیا جاتاہے۔ رنگوں کا خوب صورت امتزاج اور اچھافوٹو وغیرہ خریداری کے وقت لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کا اچھا ذریعہ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو اشتہارات سے بھی زیادہ ان کی اہمیت ہوجاتی ہے۔ سیلف سروس والے اسٹورس میں،پیکیجنگ کا رول اور بھی زیادہ اہم ہوتاہے۔

لیبلنگ(Labelling)

سامان کی مارکیٹنگ کے سلسلے میں ایک بہت سادہ سا نظر آنے والا لیکن اہم کام اس لیبل کی ڈیزائننگ ہے جسے پیکج پر چسپاں کیا جاتاہے۔ لیبل مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک سادہ سی چِٹ (tag) بھی ہوسکتی ہے جیسی اکثر مقامی اور غیر برانڈ شدہ اشیا مثلاً چینی، گیہوں، اور دالوں وغیرہ پر ہوتی ہے جس سے قیمت اور کوالٹی کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوجاتی ہیں اور پیچیدہ قسم کے گرافکس بھی ہوسکتے ہیں جو خود پیکج پر کا حصہ ہوتے ہیں۔ آپ نے بہت سی برانڈ شدہ اشیا پر اس قسم کے گرافکس دیکھے ہوں گے۔لیبل کسی پروڈکٹ، اس کے اندر سامان اور اس اس کے طریقۂ استعمال کے بارے میں تفصیلی معلومات بہم پہنچانے میں بہت مفید ہوتے ہیں۔لیبل سے کیا کام لیے جاتے ہیں ان کا مختصر تذکرہ حسب ذیل ہے۔
1۔ پروڈکٹ کا تعارف اور اس کے بارے میں معلومات  آپ بہت سی چیزیں اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ ان کے لیبلوں کو دیکھیے۔مقامی چائے کمپنی کے لیبل پر لکھا ہے ’’موہنی چائے کمپنی۔ ایک ISO9001:200C کی مصدقہ کمپنی‘‘ گرمی دانوں سے بچنے کے لیے ایک برانڈ شدہ پاوڈر پر لکھا ہے کہ یہ گرمی دانوں سے نجات دلاتا ہے، بیکٹیریا کو مارتا ہے اور انفیکشن کو ختم کرتاہے۔ اس میں کچھ احتیاط بھی دی گئی ہیں مثلاً یہ کہ کٹے ہوئے مقامات یا زخموں پر اس کو نہ لگایا جائے۔فاسٹ فوڈ کے پیکیجوں پر لکھا ہوتا ہے۔ تیار ڈوسا، تیار اڈلی یا تیار نوڈلز وغیرہ۔ اس میں ان اشیا کے تیار کرنے کی ترکیب بھی لکھی ہوتی ہے۔ ٹوتھ پیسٹوں پر دانتوں اور مسوڑھوں سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے بھی پروڈکٹ کے فائدے دیے ہوتے ہیں۔ ناریل کے تیل کے پیک پر لکھا ہوتا ہے کہ اس خالص ناریل کے تیل میں حنا، آملہ، لیمو شامل ہیں اور یہ سب چیزیں بالوں کے لیے خاص طور پر مفید ہیں۔ اس طرح لیبلوں کا سب سے اہم کام پروڈکٹ کا تعارف، اس کے استعمال کا طریقہ، فائدے اور استعمال کرتے وقت احتیاطوں کا بیان ہوتاہے۔
2۔ پروڈکٹ یا برانڈ کی پہچان: لیبلوں کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ ان سے کسی پروڈکٹ یا برانڈ کی پہچان ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی پروڈکٹ جیسے  بسکٹ یا آلو کے چپس وغیرہ کا برانڈ نام جو پیکج کے اوپر چھپا ہو اس سے آپ کے پسندیدہ برانڈ کی شناخت ہوجائے گی اور آپ اپنی پسند کی برانڈ کو دوسری کمپنیوں کے مال سے الگ طور پر پہچان لیں گے۔ اس کے علاوہ لیبلوں سے کچھ مزید معلومات بھی حاصل ہوسکتی ہیں، مثلاً یہ کہ آپ کو مینو فیکچر ر کا نام اور پتہ، خریدی جانے والی پروڈکٹ کا وزن، مینوفیکچرنگ کی تاریخ، کم سے کم خوردہ قیمت اور بیچ نمبر وغیرہ کا پتا چل جائے گا۔
پروڈکٹس کی درجہ بندی  (Grading of Products): لیبلوں کا ایک اور اہم کا م یہ ہے کہ ان کی مدد سے پروڈکٹس کی مختلف زمروں میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔کبھی کبھی فروخت کار کسی پروڈکٹ کی کوالٹی یا دیگر خصوصیات کے اظہار کے لیے اس کو الگ الگ گریڈ دیتے ہیں۔مثال کے طور پر ہیئرکنڈیشنر کی ایک مشہور برانڈ مختلف قسم کے بالوں کے لیے مختلف اقسام میں آتی ہے۔ مثلاً نارمل بالوں کے لیے یا پھر دوسرے قسم کے بالوں کے لیے الگ الگ قسم کا ہیئرکنڈیشنر ہے یا مختلف قسم کی چائے ریڈلیبل، پیلے لیبل اور گرین لیبل کے تحت بازار میں دست یاب ہوتی ہے۔

پروڈکٹس کے فروغ میں مدد (Help in Promotion of Products):

 لیبل سے پروڈکٹ کے فروغ میں بھی مدد ملتی ہے۔ ایک اچھے طریقے سے ڈیزائن کیاہوا لیبل لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس پروڈکٹ کے خریدے جانے کا سبب بنتا ہے۔ ایسے بہت سے لیبل ہم دیکھتے ہیں جن سے پروڈکٹ کو فروغ ملتاہے۔ مثلاً مشہور آملہ ہیرٔآیل کے پیک پر لکھا ہوتا ہے ’’بالوں میں دم لائف میں فن‘‘ یا مثلاً کپڑے دھونے کے پاؤڈر کے برانڈ پیک پر لکھا ہوتاہے۔ ’’آپ کے کپڑوں کو خوشنما رکھے اور مشین کو نیا‘‘ کمپنیاں پروڈکٹ کے فروغ کے لیے جو اسکیمیں شروع کرتی ہیں ان میں بھی لیبلوں کا بڑا اہم کردار ہوتاہے۔ مثال کے طور پر ایک شیونگ کریم کے پیک پر لکھا ہوتاہے۔ ’’40 فی صد مزید مفت‘‘ یا ٹوتھ پیسٹ کے پیک پر لکھا ہوتاہے کہ ’’اندر ٹوتھ برش مفت‘‘ یا ’’15روپیے بچائیے۔‘‘

قانون کی مطلوبہ معلومات کی فراہمی: لیبلنگ کا ایک اور اہم کام قانون کی مطلوب معلومات کا فراہم کرنا ہے۔ڈبہ بند کھانے کے پیکٹ /اس میں شامل اشیا کی فہرست درج ہونی چاہیے ساتھ ہی سبزی یاغیرسبزی (ویج،نان ویج)ہونے کا اعلان بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ بنانے اور پیک کرنے کی تاریخ بھی درج ہونی چاہیے۔ اسی قسم کی معلومات پر وسیس شدہ غذائی اشیا ادویہ اور تمباکو والی پروڈکٹس پر دی ہوئی ہوتی ہے۔ آلودگی پھیلانے والے یا زہریلے میٹیریلوں پر مناسب وارننگ لیبل پر چھپی ہونی چاہئیں۔
اس طرح لیبلوں کے کئی اہم کام ہوتے ہیں جن کا اہم مقصد ایک تو با لقوہ خریداروں تک اپنی بات پہنچانی ہے اور دوسرے پروڈکٹس کی بِکری کو بڑھا وا دینا ہے۔

قیمت (PRICING) 

جب کوئی پروڈکٹ خریدی جاتی ہے تو اس کے عوض کچھ رقم ادا کی جاتی ہے۔ یہی رقم وہ کُل قدر ہے جس کا صارفین پروڈکٹ سے استفادے یا استعمال کے عوض تبادلہ کرتے ہیں۔ قدروں کے اس کل (Sum of the Values) کو پروڈکٹ کی قیمت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ سروسز کے کرائیے، انشورینس کی قسط، طبی مشورے کے بدلے ڈاکٹر کی فیس وغیرہ جیسی سروسز کے عوض جو رقم ادا کی جاتی ہے وہ بھی قیمت ہے۔ اس طرح قیمت کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ وہ رقم ہے جو کسی پروڈکٹ خدمت کی خریداری کے حوالے سے خریدار ادا کرتاہے (یابیچنے والا وصول کرتاہے۔)
کسی فرم کے ذریعے اشیا یا خدمات کی مارکیٹنگ میں قیمت کا بہت اہم مقام ہے۔ قیمت کی چِٹ کے بغیر یا پھر کم از کم قیمت کے بارے میں کسی رہنما اصول کی پیروی کے بغیر کسی بھی پروڈکٹ کو بازار میں نہیں اتارا جاسکتا۔ قیمت کو دراصل کسی پروڈکٹ کی مانگ کے ریگولیٹر کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔ عام طور پر اگر کسی شے کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو اس کی مانگ میں کمی آجاتی ہے اور اگر قیمت کم ہوجاتی ہے تو صورتِ حال اس کے برعکس بھی ہوتی ہے۔
قیمت کو مسابقت(Competition)کا ایک موثر ہتھیار سمجھاجاتا ہے۔ مکمل مسابقت کی صورت میں اکثر فرمیں اسی ایک عمل کی بنیاد پر ایک دوسرے پرسبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی تنہا اور سب سے اہم عامل ہے جو کسی فرم کے منافعوں اور ریونیو کو متاثر کرتاہے۔ اس طرح اکثر مارکیٹنگ فر میں اپنی پیداوار اور خدمات کی قیمتوں کے تعین کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔

قیمتوں کے تعین میں اثرانداز ہونے والے عوامل:

کسی پروڈکٹ کی قیمت کے تعین میں بہت سے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ذیل میں کچھ اہم عوامل پر بحث کی گئی ہے۔
پروڈکٹ کی لاگت (Product Cost) : سب سے اہم عامل جو کسی پروڈکٹ یا سروس کی قیمت پر اثرانداز ہوتاہے وہ ہے لاگت۔ لاگت میں کسی پروڈکٹ کی تیاری، تقسیم اور اس کی فروخت سبھی شامل ہیں۔ لاگت ہی ایک ایسا عامل ہے جو کسی پروڈکٹ کی کم سے کم قیمت کو متعین کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ پروڈکٹ کم سے کم کتنی قیمت پر فروخت کی جائے۔ عام طور پر تمام مارکیٹنگ فر میں اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ قیمت کم از کم مستقبل میں تو ساری لاگتوں پر حاوی ہو۔ اس کے علاوہ فرموں کا مقصد تو یہ ہوتاہے کہ لاگتوں سے ہٹ کے نفع بھی حاصل ہو۔ کچھ حالات میں ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی نئی پروڈکٹ کو بازار میں اتارتے وقت یا کسی نئی منڈی میں اترتے وقت پروڈکٹ کو ایسی قیمت پرفروخت کرنا پڑے جو سب لاگتوں پر حاوی ہو۔ لیکن لمبی مدت میں،کوئی بھی فرم اس وقت تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی جب تک کہ کم از کم ساری لاگتیں وصول نہ ہوں۔
وسیع پیمانے پر دیکھیں تو تین قسم کی لاگتیں ہوسکتی ہیں۔ وہ یہ ہیں: قائم لاگتیں(Fixed Costs)متغیر لاگتیں (Variable Costs) اور نیم متغیرلاگتیں(Semi variable costs)۔ قائم لاگتیں وہ لاگتیں ہیں جو فرم کی سرگرمیوں کی کسی بھی سطح پر بدلتی نہیں ہیں یعنی فرم کی پروڈکشن یا فرم کی بِکری ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر بلڈنگ کا کرایہ، سیلز منیجر کی تنخواہ ایک ہی رہے گی چاہے ہفتے کی پروڈکشن1000یونٹ ہو یا 10یونٹ۔
جو لاگتیں فرم کی سرگرمیوں کی سطح کے براہِ راست تناسب میں گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں ان کو متغیر لاگتیں کہا جاتاہے۔ مثال کے طور پر خام مال، لیبر اور بجلی وغیرہ کا تیار مال کی مقدار سے براہِ راست تعلق ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کرسی کی تیاری میں استعمال ہونے والی لکڑی کی لاگت100روپیے ہے تو اس کی کرسیوں کی لاگت1000 روپیے ہوگی۔ ظاہر بات ہے کہ اگر کوئی کرسی تیار نہیں ہوئی ہے تو لکڑی کی کوئی لاگت بھی نہیں ہوگی۔
نیم متغیر وہ لاگتیں ہیں جو فرم کی سرگرمیوں کی سطح سے بدلتی ہیں لیکن اس کے براہِ راست تناسب میں نہیں بدلتیں۔ مثال کے طور پر سیلزمین کے معاوضے میں ایک متعینہ دس ہزار روپیہ کی تنخواہ شامل ہے اور دوسرے اس میں بِکری پر 5فی صد کمیشن بھی شامل ہے۔ بِکری کے حجم میں اضافے کے ساتھ ہی ساتھ معاوضہ بھی بڑھے گا لیکن یہ بِکری کے حجم میں تبدیلی کے براہِ راست تناسب میں نہیں بڑھے گا۔
کسی سرگرمی کی خصوصی سطح کے لیے مجموعی لاگتیں، قائم، متغیر اور نیم متغیر لاگتوں کے مجموعے کا حاصل ہوتی ہیں۔ سرگرمی کا مطلب ہم بِکری کا حجم یا تیار مال کی مقدار لے سکتے ہیں۔
افادیت اور مانگ(The utility and the Demand):
 ایک طرف تو پروڈکٹ کی لاگتیں کم سے کم قیمت کا تعین کرتی ہیں تو دوسری طرف پروڈکٹ کی افادیت اور اس کے خریداروں کی شدید مانگ قیمت کی ایسی اوپری حد کا تعین کرتے ہیں جس کو خریدار ادا کر نے کے لیے تیار ہوگا۔ دراصل قیمت سے فروخت کنندہ اور خریدار دونوں کے مفادات کا اظہار ہونا چاہیے۔ خریدار اسی حدتک قیمت دے سکتا ہے جس حدتک پروڈکٹ کی افادیت اداکی گئی قیمت کے ہم پلہ ہوگی۔ بہر حال بیچنے والے کی کوشش یہ ہوگی کہ قیمت سے کم از کم تمام لاگتیں وصول ہوجائیں۔ مانگ کے اصول کے مطابق صارفین عام طور پر اونچی قیمت کے مقابلے کم قیمت پر زیادہ مال (اکائیاں) خریدتے ہیں۔
پروڈکٹ کی قیمت اس کی مانگ کی لچک (Elasticity) سے متاثر ہوتی ہے۔ اگر قیمت میں تھوڑی تبدیلی سے بھی مانگ میں زیادہ اضافہ ہوجائے توکہا جائے گا کہ مانگ میں لچک ہے۔ یہاں تعداد کے لحاظ سے،قیمت کی لچک اکائی سے زیادہ ہے۔مانگ کے غیر لچک دار ہونے کی صورت میں کل ریونیو اس وقت بڑھ جاتاہے جب قیمت بڑھتی ہے اور اس وقت گھٹ جاتاہے جب قیمت گھٹتی ہے۔ اگر کسی پروڈکٹ کی مانگ میں لچک نہیں ہے تو فرم بہتر طور پر اونچی قیمتیں طے کرسکتی ہے۔
بازارمیں مسابقت کی حد(Extent of Competition in the market) :
 نچلی حد اور اوپری حد کے درمیان قیمت کہاں متعین ہوگی؟ اس کا فیصلہ مسابقت (Competition) کی نوعیت اور اس کے درجے پر منحصر ہے۔اگر مسابقت کم ہے تو قیمت اوپری حدتک پہنچ سکتی ہے لیکن آزاد مسابقت کی ضرورت میں قیمت نچلی سطح تک بھی آسکتی ہے۔
کسی پروڈکٹ کی قیمت متعین کرنے سے پہلے حریف کمپنیوں کی قیمتوں اور ان کے ردعمل کو پیشگی طور پر ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ صرف قیمت ہی نہیں بلکہ قیمت کے تعین سے پہلے مسابقتی پروڈکٹس کی کوالٹی اور ان کی خصوصیات کا بھی احتیاط سے تجزیہ ضروری ہے۔
حکومت اور قانونی ضابطے(Govt. and legal Regulations):
 قیمت متعین کرنے کے شعبے میں حکومت عوامی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے غیر منصفانہ طور طریقوں کے خلاف اشیا کی قیمتوں میں مداخلت بھی کرسکتی ہے اور اس کے لیے ضابطے بھی بنا سکتی ہے۔ حکومت کسی بھی شے کو لازمی شی قرار دے سکتی ہے اور اس کی قیمت کو ضابطے کے تحت لاسکتی ہے۔ مثال کے طورپر کسی کمپنی نے ایک دوا تیا ر کی جس کی 10گولیوں کے ایک پتے (Strip) کی لاگت 20روپیے ہے۔ جس کمپنی نے یہ دوا بنائی ہے اس کی اس دوا پر اجارہ داری ہے۔اب خریدار منہ مانگے دام ادا کرنے کو تیار ہے۔ مثال کے طور پر 200 روپیہ فی اسٹرپ۔ کسی دوسری حریف کمپنی کی عدم موجودگی میں کمپنی زیادہ سے زیادہ یعنی 200روپیہ رقم وصول کرنا چاہے گی اور اس قیمت کو باضابطہ بنانا چاہے گی۔ ایسی صورتوں میں عام طور پر حکومت فرم کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ اتنی اونچی قیمت چارج کرے۔ اس طرح حکومت دوا کی قیمت کے معاملے میں مداخلت کرکے اس کو طے کرے گی۔ حکومت ایسا قدم اس دوا کو لازمی شے قرار دے کر اٹھاسکتی ہے اور اس کی قیمت کو ضابطے کے تحت لاسکتی ہے۔
قیمت طے کرنے کے مقاصد: کسی پروڈکٹ یا سروس کی قیمت طے کرنے میں جو عوامل اثرانداز ہوتے ہیں ان میں ایک اہم عامل قیمت طے کرنے کے مقاصد ہیں۔عام طور پر اس کا جو مقصد بیان کیا جاتا ہے وہ ہے زیادہ سے زیادہ منافع بڑھانا۔ لیکن ایک چھوٹی مدت میں منافع کو بڑھانے اور ایک بڑی مدت میں منافع کو بڑھانے میں بھی فرق ہے۔ اگر کوئی فرم یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ ایک مختصر مدت میں منافع کو بڑھائے گی تو اسے اپنی پروڈکٹس کی قیمتیں زیادہ چارج کرنی ہوں گی لیکن اگر وہ بڑی مدت میں اپنے منافع میں اضافہ چاہتی ہے تو اس کوفی اکائی قیمت کم رکھنی ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ کے بڑے حصے پر قبضہ کرکے اور بِکری بڑھا کر زیادہ نفع کما سکے۔
منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے علاوہ، قیمتوں کے مقاصد میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں:
(a)  بازار کی قیادت کا حصول(Obtaining Market Share leadership) : اگر کوئی فرم بازار کا بڑا حصہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو اپنی پروڈکٹس کی قیمتوں کی سطح کم رکھنی ہوگی تاکہ لوگوں کی بڑی تعداد پروڈکٹ کی طرف مائل ہو۔
(b)  مسابقت کے بازار میں بقا(Surviving in a competitive market): اگر کوئی فرم بازار میں شدید مقابلے کی وجہ سے یا کسی حریف کمپنی کی زیادہ اچھی پروڈکٹ کی وجہ سے اپنی بقاکے لیے مشکلات سے دو چار ہے تو اپنی پروڈکٹ کی پیداوار کو روک سکتی ہے یا پھر اپنے اسٹاک کو ختم کرنے کے لیے اپنی پروڈکٹ کی ترویج اور اس کی فروغ کے لیے مسابقتی مہم چلا سکتی ہے۔
(c)   پروڈکٹ کی کوالٹی کے معاملہ میں قیادت کا حصول (Attaining  Product  Quality Leadership): اس معاملے میں اونچی کوالٹی اور تحقیقات وترقی کی اونچی لاگت کو برقرار رکھنے کے لیے قیمتیں اونچی رکھی جاتی ہیں۔
اس طرح کسی فرم کی پروڈکٹ یا اس کی سروس کی قیمت کے تعین میں اس کے مقاصد کا اہم کرادار ہوتاہے۔
استعمال کیے گئے مارکیٹنگ کے طریقے (Marketing Methods Used):
 قیمتوں کے تعین کے عمل میں مارکیٹنگ کے کچھ دیگر عناصر بھی اثرانداز ہوتے ہیں یہ عناصر نظام تقسیم (Distribution system)، ملازم رکھے گئے سیلزمین کی کوالٹی، اشتہارات کی تعداد اور ان کی کوالٹی، بِکری کو بڑھاوا دینے والی کوششیں، پیکیجنگ کی کوالٹی، پروڈکٹ کی امتیازی خصوصیت، کریڈٹ کی سہولت اور مہیا کرائی جانے والی سروسز وغیرہ ہیں۔مثال کے طور پر اگر کوئی کمپنی مفت ہوم ڈلیوری کی سہولت دیتی ہے تو اس کی قیمتوں کے تعین میں کچھ لچک ہوگی۔ اس طرح مذکورہ عناصر میں سے کسی عنصر کو غیر معمولی سہولت دیتی ہے تو اس سے کمپنی کو پروڈکٹس کی قیمتوں کے تعین میں مسابقتی آزادی حاصل ہوتی ہے۔

بالواسطہ چینل(Indirect Channels) 

جب کوئی مینوفیکچرر سامان کو تیاری کے مقام سے استعمال کے مقام تک پہنچانے کے لیے ایک یا زیادہ بچولیوں کی خدمات حاصل کرتا ہے تو تقسیم کے اس نیٹ ورک کو بالواسطہ چینل کہا جاتا ہے۔ اس بالواسطہ چینل کی مندرجہ ذیل شکلیں ہوسکتی ہیں۔
مینوفیکچرر۔ خوردہ فروش۔ صارف(یک سطحی چینل): اس صورت میں صرف ایک بچولیا یعنی خوردہ فروش مینوفیکچرر اور صارف کے درمیان ہوتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سامان مینوفیکچرسے خوردہ فروش کو پہنچتا ہے اور وہ اس سامان کو اصل صارفین کے ہاتھ فروخت کرتاہے۔ مثال کے طور پر ماروتی ادیوگ اپنی وین اور اپنی کاریں کمپنی کے منظور شدہ خوردہ فروشوں کے ذریعے فروخت کرتاہے۔ تقسیمی نیٹ ورک کے اس ٹائپ میں مینوفیکچرر ایک بڑے علاقے کا احاطہ کر لیتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ چینلز پر اس کا کنٹرول بھی باقی رہتاہے۔
مینوفیکچرر، تھوک فروش۔ خوردہ فروش۔ صارف دوسطحی چینل: صابن، تیل، کپڑے، چاول، چینی اور دالوں جیسی اکثر مصرفی اشیا کے لیے عام طور پر اسی طریقۂ تقسیم کا استعمال ہوتاہے۔ اس چینل میں مینوفیکچرر اور صارف کے درمیان تھوک فروش اور خوردہ فر وش رابطے کا کام کرتے ہیں۔ ان دو بچولیوں کے ذریعے مینوفیکچرر اپنی پروڈکٹ کے لیے بڑے علاقوں کا احاطہ کر سکتاہے۔
22
چینلوں کی اقسام
(i)براہ راست چینل(سطح سفر)
مینو فیکچرر صاف
بالواسطہ چینل
(ii)دو سطحی چینل     مینوفیکچرر
تھوک فروش خوردہ فروش        صارف
(iii) دو سطحی چینل    مینوفیکچرر      تھوک فروش تھوک فروش خوردہ فروش صارف
(iv) سہ سطحی چینل     مینوفیکچرر       ایجنٹ 
تھوک فروش خوردہ فروش صارف

مینوفیکچرر ۔ کارندہ ۔ تھوک فروش ۔ خوردہ فروش ۔ صارف، سہ سطحی چینل: اس صورت میں مینوفیکچرر اپنے کارندوں یادلالوں کا استعمال کرتے ہیں جو تھوک فروشوں اور خوردہ فروشوں سے مینوفیکچررس کو جوڑتے ہیں۔اس طرح کے نظام میں ایک مزید سطح کا اضافہ ہوجاتاہے۔ایسا خاص طور پراس وقت کیاجاتا ہے جب مینوفیکچرر کی پروڈکٹ لائن مختصر ہوتی ہے اور اس کو ایک بہت بڑے علاقے کا احاطہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ ہر بڑے علاقے میں ایک کارندہ مقرر کردیا جاتاہے جو تھوک بیوپاریوں سے رابطہ قائم کرتاہے۔

چینلوں کے انتخاب پر اثر انداز ہونے والے عوامل

مارکیٹنگ کا ایک اہم فیصلہ یہ ہوتاہے کہ تقسم کے مناسب چینل کا انتخاب کیا جائے۔ یہی فیصلہ تنظیم کی کار کردگی کو متاثر کرتاہے۔ کوئی تنظیم براہِ راست مارکیٹنگ چینل کا انتخاب کرسکتی ہے اور طویل چینلوں کا بھی جس میں کئی بچولیے ہوتے ہیں لیکن یہ فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ چینل کا انتخاب جن مختلف عوامل پر منحصر ہوتاہے ذیل میں ان پر بحث کی گئی ہے۔
پروڈکٹ سے وابستہ عوامل: چینلوں کے سلسلے میں فیصلہ کرتے وقت جو اہم امور یا پہلو پیش نظر رہنے چاہئیں وہ حسب ذیل ہیں: آیا پروڈکٹ صنعتی ہے یا مصرفی۔ کیا وہ فناپذیر (Perishable) ہے یا غیر فنا پذیر، پروڈکٹ کی فی اکائی قدر کیاہے اور اس کی پیچیدگی کا درجہ(Degree of Complexity)کیا ہے۔
صنعتی اشیا عام طور پر تکنیکی ہوتی ہیں جو فرمائش پر بنائی جاتی ہیں اور مہنگی بھی ہوتی ہیں۔ ان کو خریدنے والے بھی کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں۔ ان صنعتی اشیا کے لیے مختصر چینل کی ضرورت ہوتی ہے یعنی یا تو براہِ راست چینل یا پھر کم سے کم چند بچولیے۔
اس کے بر خلاف مصرفی اشیا، جو عام طور پر معیاری، کم مہنگی، کم سائز والی اور غیر تکنیکی ہوتی ہیں اور بہت زیادہ خریدی جاتی ہیں، کی تقسیم چینلوں کے ایسے طویل نیٹ ورک سے اچھے طور پر ہوسکتی ہے جن میں بہت سے بچولیے ہوں۔ فناپذیراشیا مثلاً پھل، سبزیاں اور دودھ سے بنی اشیا کو مختصر چینلوں کے ذریعے بہتر طور پر فروخت کیا جاسکتا ہے جب کہ غیر فنا پذیر اشیا جیسے صابن، ٹوتھ پیسٹ، بالوں میں لگانے کا تیل، خوردنی تیل، چائے اور کپڑے وغیرہ کو دور دراز علاقوں میں پھیلے صارفین تک طویل چینلوں کے ذریعے تقسیم کرنا بہتر ہوتا ہے۔
اگر کسی پروڈکٹ کی اکائی قدر کم ہے، (جیسا کہ اکثر سہولتی اشیا کے معاملے میں ہوتاہے) تو طویل چینلوں کو ترجیح دی جاتی ہے جب کہ پیچیدہ پروڈکٹ میں جن میں تکنیکی تفصیلات کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ اکثر صنعتی اشیا اور انجینئرنگ پروڈکٹ کے معاملے میں ہوتا ہے، مختصر چینلوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن اگر پروڈکٹ غیر پیچیدہ ہے تو اس کو ایسے طویل چینلوں سے فروخت کیاجائے گا جس میں زیادہ بچولیے ہوں۔
کمپنی کی خصوصیات (Company Characteristics) : کمپنی کی ان اہم خصوصیات میں جو تقسیم کے چینلوں کے انتخاب پر اثر انداز ہوتی ہیں ایک تو کمپنی کی مالی توانائی ہے اور دوسرے کنٹرول کا وہ درجہ ہے جس کو کمپنی دیگر چینل ممبروں پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔فروخت براہِ راست ہو تو اس کے لیے قائم اثاثوں میں (مثلاً اپنی خوردہ دکانیں کھولنے کے لیے یا بڑی تعداد میں ملازمین کی بھرتی کرنے کے لیے)بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالواسطہ فروخت کے لیے ان امور میں زیادہ فنڈس لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کمپنی کے پاس رقم زیادہ ہیں تو وہ براہِ راست تقسیم کا چینل اختیار کرسکتی ہے اور اگر رقم دستیاب نہیں ہے تو کمپنی بالواسطہ طریقے کو اپنائے گی۔
اسی طرح اگر مینجمنٹ چینل ممبروں پر زیادہ کنٹرول چاہتا ہے تو مختصر چینل استعمال کرنے ہوں گے لیکن اگر مینجمنٹ بچولیے پر اپنا زیادہ کنٹرول نہیں چاہتا تو وہ طویل یا لمبے چینلوں کاانتخاب کرسکتا ہے۔
مسابقتی عوامل(Competitive factors): چینل کے انتخاب پر ایک اور عامل بھی اثر انداز ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسی انڈسٹری میں حریف کمپنیوں نے کن چینلوں کا انتخاب کیاہے۔ اگر حریف کمپنیوں نے غسل اور سنگھار کے سامان مثلاً بالوں کے تیل کی بِکری کے لیے دواؤں کی دکانوں کا انتخاب کیاہے تو دوسری فرم بھی اسی چینل کا انتخاب کرنا پسند کرتی ہے۔ کچھ صورتوں میں ایسا بھی ہوتاہے کہ کچھ صنعت کار ان چینلوں سے گریز چاہتے ہیں جن کو دوسری حریف کمپنیوں نے چن رکھا ہے۔ مثال کے طور پر دوسری کاسمیٹکس تیار کرنے والی کمپنیوں نے اپنے سامان کی بکری کے لیے بڑے بڑے خوردہ فروش اسٹورس کا انتخاب کیا ہے تو یہ کمپنی دروازے دروازے بکری کا راستہ بھی اپنا سکتی ہے۔ اس کمپنی کو یہ طے کرنا ہے کہ آیا دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں شریک ہونا ہے یا پھر کوئی مختلف راستہ اپنانا ہے۔ عالمی مارکیٹ کے تغیر پذیر ماحول میں نئے نئے چینلوں کے لیے بھی راستہ کھلا ہے۔
4۔  مارکیٹ کے عوامل (Market Factors): مارکیٹ کا سائز، بالقوۃ خریداروں کا جغرافیائی ارتکاز(Geographical Concentration) اور سامان کی خریدی جانے والی مقدار مارکیٹ سے وابستہ وہ اہم عوامل ہیں جو تقسیم کے چینلوں کی پسند پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں جب کہ خریداروں کی تعداد کم ہو تو (جیسا کہ صنعتی اشیا کے معاملے میں ہوتا ہے) مختصر چینلوں کو اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر خریداروں کی تعداد زیادہ ہے تو لمبے چینلوں کو اختیار کیا جاتا ہے جیسا کہ سہولتی اشیا جیسے کولڈڈرنکس وغیرہ کے معاملے میں ہوتاہے۔ لمبے چینلوں میں بچولیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
اگر خریداروں کا ارتکاز کسی چھوٹی جگہ پر ہے تو مختصر چینل کو اپنانا ہوگا لیکن اگر خریدار دور دراز علاقوں میں پھیلے ہوئے ہوں تو لمبے چینلوں کا انتخاب کیا جاتاہے۔ اسی طرح اگر آرڈر کا سائز چھوٹا ہے ( جیسا کہ اکثر مصرفی اشیا میں ہوتاہے) توبچولیوں کی زیادہ تعداد کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن اگر آرڈر کا سائز بڑا ہے تو براہِ راست چینلوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
5۔  ماحولیاتی عوامل (Environmental Factors): دوسرے اہم عوامل جو تقسیم کے چینلوں کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں ان میں ماحولیاتی عوامل جیسے اقتصادی حالت اور قانونی پابندیاں بھی شامل ہیں۔مندی معیشت میں فروخت کار، تقسیم کے مختصر چینلوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اس طرح سامان کو کفایت شعاری سے تقسیم کردیتے ہیں۔

فزیکل تقسیم

(Physical Distribution)

مارکیٹنگ مکس کا چوتھا اہم عنصر پروڈکٹس اور خدمات کی فزیکل تقسیم ہے۔ جب ایک مرتبہ سامان کی مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ اور برانڈنگ ہوجاتی ہے، قیمت کا تعین ہوجاتا ہے اور سامان کی ترویج کے لیے اقدامات کرلیے جاتے ہیں تو اب اس سامان کوصحیح مقام پر، صحیح مقدار میں اور صحیح وقت پر گراہک تک پہنچ جانا چاہیے۔ مثال کے لیے ایک شخص جو کسی پروڈکٹ کی کوالٹی سے مطمئن ہو جاتا ہے (مثلاً ڈٹرجینٹ پاوڈر) وہ پھر اسی کو خریدنا چاہتا ہے۔ وہ کسی خوردہ فروش کی دکان پر جاتا ہے اور اس سے وہی پروڈکٹ مانگتا ہے۔ اگر وہ پروڈکٹ اس دکان پر دست یاب نہیں ہے تو پھر دوسری دست یاب برانڈ خرید لیتا ہے۔ اس طرح ایک یقینی بِکری ہاتھ سے نکل جاتی ہے کیوں کہ سامان ہی اس دکان پر دست یاب نہیں ہے جہاں سے وہ خریدنا چاہتا ہے۔ اب یہ فروخت کار کی سب سے اہم ذمے داری ہے کہ وہ سامان طبیعی طور پر اس جگہ دست یاب کرائے جہاں گراہک خریدنا چاہتا ہے۔ سامان کے تیار ہونے کی جگہ سے سامان کی تقسیم کی جگہ تک اس کی نقل وحرکت فزیکل تقسیم (Distribution) کہلاتی ہے جو مارکیٹنگ مکس کا بہت اہم عنصر ہے۔
فزیکل تقسیم سامان کے تیار ہونے کی جگہ سے گراہکوں تک پہنچنے کی نقل وحرکت میں ہونے والی تمام سرگرمیوں پر محیط ہے۔ ٹرانسپورٹیشن، وئر ہاؤسنگ(Ware housing)، مٹیریل کا رکھ رکھاؤ اور اس کی دیکھ بھال اور اسٹاک کنٹرول وغیرہ تمام سرگرمیاں فزیکل تقسیم کے ذیل میں آتی ہیں۔ یہ ساری سرگرمیاں فزیکل تقسیم کے اہم ارکان (Componets) ہیں۔

طبیعی تقسیم کے ارکان  (Compnents of Physical  Distribution)

طبیعی تقسیم کے اہم ارکان کی تشریح ذیل میں کی گئی ہے:

18

کنزیومر پروڈکٹ کی تقسیم کے چینل

آرڈر کی تعمیل (Order Processing): خریدار اور بیچنے والے کے درمیانی رشتوں میں سب سے پہلا قدم آرڈر دینا (Placement of order) ہوتا ہے۔ پروڈکٹس، چینلوں کے ذریعے مینوفیکچرر سے گراہک کی طرف چلتی ہیں لیکن آرڈر یافرمائشیں اس کے برخلاف چلتی ہیں یعنی یہ آرڈر گراہک سے مینوفیکچرر کی طرف کوچلتے ہیں۔ ایک اچھی طبیعی تقسیم کے نظام میں آرڈر کی تعمیل بہت تیزی اور صحت کے ساتھ انجام پاتی ہے۔ اگر یہ نظام اچھا نہیں ہے توسامان گراہک تک تاخیر سے پہنچے گا یا اس کی مقدار اور اس کی دیگرشرائط پوری نہ ہوں گی۔ اس سے گراہک میں عدم اطمینان پیدا ہوگا جس سے کاروبار کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے اور اس کی ساکھ بھی گرسکتی ہے۔
نقل و حمل (Transportation) :سامان اور خام مال کو تیاری کی جگہ سے بِکری کی جگہ تک لے جانا ہے۔ یہ سامان کی طبیعی تقسیم کا ایک اہم عنصر ہے۔یہ اس لیے اہم ہے کہ جب تک سامان طبیعی طور پر دست یاب نہ کرایا جائے گا اس وقت تک بِکری مکمل نہیں ہوسکتی۔
وئر ہاؤسنگ(Warehousing): وئرہاؤسنگ میں پروڈکٹس کو ذخیرہ کرنا اور چھانٹ کر اس کا الگ الگ اسٹاک کرنا  شامل ہے تاکہ ان پروڈکٹس کی ہر وقت افادیت یقینی بن جائے۔ وئرہاؤسنگ کی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد سامان کو ترتیب سے رکھنا اور اس کو اسٹور کرنے کی سہولتیں مہیا کرنا ہے۔ وئرہاؤسنگ کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ کسی پروڈکٹ کی تیاری اور اس کے استعمال کے بیچ وقت کا فرق ہوتاہے۔ فرم کی بہتر کار کردگی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ویر ہاؤس کہاں وا قع ہے اور سامان کی تحویل کہاں دینی ہے۔
عام طور پر کسی فرم کے وئر ہاؤسوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی مختلف مقامات کے گراہکوں کو سامان کی فراہمی میں اتنا ہی کم وقت لگے گا۔ لیکن اس صورت میں لاگت زیادہ آئے گی۔ صورت حال اگر اس کے برعکس ہوتی ہے تو لاگت کم آئے گی۔ اس طرح فرم کو وئرہاؤسنگ کی لاگت اور گراہک کو مہیا کی جانے والی سروس کی سطح کے درمیان ایک توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔
جن پروڈکٹس کو لمبی مدت تک رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے (جیسے زراعتی) اشیا ان کے وئر ہائس پروڈکٹس کی جگہ کے قریب ہونے چاہئیں۔ اس سے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گئی۔ اس کے برخلاف بڑی اور بھاری اشیا جن کو ڈھونا اور لادنا مشکل ہے (جیسے مشینری، آٹو موبائل وغیرہ) اور ایسے ہی فناپذیر اشیا (بیکری، گوشت، سبزیاں) ایسی جگہ پر رکھی جاتی ہیں جہاں سے با زار قریب ہوتا ہے۔
انوینٹری کنٹرول(Inventory Control): انوینٹری سےمتعلق فیصلوں اور وئر ہاؤسنگ سے متعلق فیصلوں میں قریبی رشتہ ہے۔ انوینٹری سے متعلق فیصلے بہت سے مینوفیکچررس کے لیے کامیابی کی کنجی ہے۔ خاص طور پر اس صورت حال میں جہاں فی اکائی لاگت اونچی ہو۔انوینٹری کی سطح جتنی اونچی ہوگی، گراہکوں کے لیے سروس اتنی ہی اچھی ہوگی لیکن انوینٹری رکھنے کی لاگت بھی اونچی ہوگی کیوں کہ ایسی صورت میں کافی پونجی اسٹاک میں بھی پھنس جائے گی۔ اس لیے لاگت اور گراہک کی تسلی دونوں کے درمیان ایک توازن ضروری ہے۔

ہندوستان میں زبانی اظہار کا کوئی ثانی نہیں

ہندوستان میں خریدار کی پسند کو جو چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ اس کے دوستوں اور شنا ساؤں کی رائے اور ان کی باتیں ہیں۔ اگرچہ کا ر اور موبائل فون کی خریداری اور ہوم لون وغیرہ جیسے اہم معاملات میں ہندوستان کے صارفین کی ا کثریت اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی رائے اور خریدی جانے والی اشیا کے بارے میں ان کی باتوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ترقی یافتہ ملکوں میں کہانی دوسری ہے۔ آپ آٹو موبائل کا معاملہ لے لیجیے۔ امریکا کناڈا اور جاپان وغیرہ جیسے بازاروں میں لوگ آٹو موبائل کمپنیوں کے رسمی اشتہارات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہندوستان، ملیشیا اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں میں یہ پڑوسی اور دوست ہوتے ہیں جو آپ کی رائے کسی نہ کسی طرف جھکا دیتے ہیں۔ آسائشی اشیا (Luxury goods)میں ہندوستانی لوگوں کی نفسیات ہمیشہ مختلف رہی ہے۔ کار کی خریداری ایک خاندان یا پورے گھر کا فیصلہ ہوتاہے اسی لیے یہ بالکل فطری امرہے کہ گھر کے لوگ اسی پروڈکٹ کے استعمال کرنے وا لوں سے اس موضوع پر معلومات حاصل کرتے ہیں‘‘ یہ بیان Balendran کا ہے جو جزل موٹرس انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں۔

آج جب ساری دنیا میں انٹرنیٹ اور موبائل مارکیٹنگ کی طرف لوگ دیوانہ وار دوڑ رہے ہیں یہ بات بڑی دلچسپی کی ہے کہ ہندوستان میں لوگ سبھی رسمی اشتہار بازی اور زبانی باتوں کی طرف دوڑ رہے ہیں اور یہ چیزیں ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مغرب کے برخلاف ہندوستانی سماج کا تانا بانا قریبی روابط سے بنا ہے اور لوگ اپنے دوستوں، عزیزوں اور علاقے کی ممتاز شخصیتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی پسندیدہ سپراسٹارنے کوئی بات کہی ہے یا کسی قریبی شخص نے کوئی رائے دی ہے تو لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔


فروغ (PROMOTION) 

یہ ممکن ہے کہ کوئی کمپنی اچھی کوالٹی کی پروڈکٹس تیار کررہی ہو، قیمتیں بھی مناسب ہوں اور فروخت یا دست یابی کے مقامات بھی ایسے ہوں جہاں سے گراہک سہولت کے ساتھ خرید سکیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود وہ پروڈکٹ بازار میں اچھی نہ چل رہی ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مارکیٹ کے سا تھ ترسیل کا ایک مناسب رابطہ قائم کیا جائے کیوں کہ ہوسکتا ہے گراہکوں کو پروڈکٹ کے بارے میں علم ہی نہ ہو اور نہ یہ پتہ ہو کہ ان کی ضروریات اس پروڈکٹ سے پوری ہوں گی اور یہ ان کی من پسند پروڈکٹ ہے۔ گراہکوں کو پروڈکٹ کے فوائد اور اس کی افادیت کا یقین کرانا ضروری ہے۔
پروموشن سے مراد ترسیل (Communication) ہے۔ اس ابلاغ کا ایک مقصد تو پروڈکٹ کے بارے میں بالقوۃ گراہکوں کو مطلع کرنا ہے اور دوسرے ان کو پروڈکٹ خریدنے کے لیے آمادہ اور راغب کرنا ہے۔ بالفاظ دیگر، پروموشن، مارکیٹنگ مکس کا ایک اہم عنصر ہے۔ جس کے ذریعے فروخت کار ترسیل کے مختلف طریقے استعمال کرتاہے تاکہ بازار میں اشیا اور خدمات کے تبادلے کو فروغ حاصل ہو۔

پروموشن مکس(PROMOTION MIX)

ترسیل کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوئی تنظیم جن پروموشنل ذرائع کا استعمال کرتی ہے ان کے متحدہ مجموعے کو پروموشن مکس کہا جاتا ہے۔ پروڈکٹس کے بارے میں گراہکوں کو مطلع کرنے او ران کو خریداری کے لیے آمادہ کرنے کے واسطے فروخت کار ترسیل کے مختلف طریقے اور ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ (i) اشتہارات، (ii) شخصی فروخت، (iii) سیلزپروموشن اور شہرت وغیرہ ترسیل کے مختلف طریقے ہیں۔ ان طریقوں کو پروموشن مکس کے عناصر بھی کہا جاتا ہے اور پروموشن کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اس کے مختلف متحدہ مجموعوں (Combinations) کو استعمال میں لایا جاتاہے۔ مثال کے طور پر، مصرفی اشیا تیار کرنے والی کمپنیاں ماس میڈیا کے ذریعے اشتہارات پر زیادہ زور دیتی ہیں جب کہ صنعتی سامان بنانے والی کمپنیاں شخصی فروخت پر زیادہ توجہ مبذول کرتی ہیں۔کمپنیاں ان عناصر کے کس متحدہ مجموعے (Combination)کا استعمال کرتی ہیں اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔مارکیٹ کی نوعیت، پروموشن بجٹ اور پروموشن کے مقاصد وغیرہ اس کے اہم عوامل ہیں۔ آئیے ان عناصر کا پتا ذرا تفصیل سے لگاتے ہیں۔

اشتہارات (ADVERTISING)

ہم ہر روز سینکڑوں اشتہارات دیکھتے ہیں جن میں ہمیں مختلف اشیا (مثلاً صابن، ڈٹرجینٹ پاؤڈر، سافٹ ڈرنکس) اور خدمات (جیسے ہوٹل، انشورینس پالیسیاں) وغیرہ کے بارے میں پتہ چلتارہتا ہے۔
اشتہارات غالباً پروموشن کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ یا طریقہ ہے۔ یہ ترسیل کی غیر شخصی شکل ہے جس کے ذریعے فروخت کار اشیا یا خدمات کو فروغ دینے کے لیے ایک قیمت بھی ادا کرتے ہیں۔اخبارات، رسائل، ٹیلی وژن اور ریڈیو اشتہارات کے اہم ذرائع ہیں۔ اشتہارات کی نمایاں اور ممتاز خصوصیات حسب ذیل ہیں:
23
گراہک                                                                                               فروخت کار
شخصی فروخت اشتہارات
سیلزپروموشن عوامی تعلقات
پروموشن مکس
مارکیٹنگ کی ترسیل

(i)     ادا شدہ شکل(Paid Form): اشتہار، ترسیل کی ایک ادا شدہ شکل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ توقعات کے ساتھ مشتہر ترسیل کی لاگت کو برداشت کرتا ہے۔
(ii)  غیر شخصی نوعیت(Impersonality):مشتہر اور توقع کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ یا تعلق نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ پروموشن کا غیر شخصی طریقہ ہے۔ یہ مونولاگ کی تخلیق کرتا ہے، ڈائیلاگ کی نہیں۔
(iii) جانا پہچانا مشتہر(Identified Sponsor): اشتہار کسی معلوم فرد واحد یا کمپنی کے ذریعے دیا جاتا ہے جو اشتہار دینے کے لیے عمل بھی کرتا ہے اور اس کی قیمت بھی ادا کرتاہے۔

اشتہارات کے فوائد (Merits of Advertising)

ترسیل کے ایک میڈیم کی حیثیت سے اشتہارات کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں:
(i) عام رسائی(Mass Reach):اشتہارات ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے دوردراز علاقوں میں پھیلے بڑی تعداد میں لوگوں تک رسائی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک نیشنل روز نامہ میں دیاگیا اشتہار اس کے لاکھوں خریداروں تک پہنچ سکتاہے۔
(ii) صارفین کے اعتماد اور ان کی تسلی میں اضافہ (Enhancing Customer Satisfaction and Confidence) : اشتہارات سے بالقوۃ خریداروں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور پروڈکٹ کی کوالٹی کے بارے میں ان کو یقین اور اطمینان ہوتا ہے اور اس طرح ان کی تسلی اور تشفی کا سامان بہم پہنچتا ہے۔
(iii) اظہار کی تاثیر(Expressiveness): آرٹ، کمپیوٹر ڈیزائننگ اور گرافکس کی ترقی سے اشتہارات، ترسیل کا ایک موثر اور طاقت ور ذریعہ بن گئے ہیں۔ اب کمپیوٹر کے ذریعے خصوصی اثرات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ حتیّٰ کہ سادہ پروڈکٹس اور سادہ پیغامات بھی جاذب نظر بن جاتے ہیں۔
(iv) کفایت(Economy): اشتہارات ابلاغ کا بہت کفایتی طریقہ ہے اگر یہ بڑے پیمانہ پر لوگوں تک پہنچنا ہو۔ اشتہارات کی دور دراز اور بڑے پیمانے پر رسائی کی وجہ سے ان کی مجموعی لاگت ابلاغ کے مختلف اور رابطوں پر تقسیم کردی جائے تو فی اکائی لاگت کم آتی ہے۔

اشتہارات پر اعتراضات (OBJECTION  STO ADVERTISING)

اگرچہ اشتہارات اشیا اور خدمات کے پروموشن کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا وسیلہ ہے لیکن اس وسیلے پر تنقید بھی کافی ہوتی ہے۔ اشتہارات کے مخالفین کا کہنا یہ ہے کہ اشتہارات پر آنے والا خرچ سماجی فضول خرچی ہے کیوں کہ اس سے لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، لوگوں کی ضروریات بڑھتی ہیں اور سماجی اقدار کی جڑیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ بہر حال، اشتہارات کے حامی یہ کہتے ہیں کہ اشتہارات بہت افادیت کے حامل ہیں کیوں کہ ان سے پروڈکٹس تک لوگوں کی رسائی ہوتی ہے۔ پروڈکٹس کی فی اکائی لاگت گھٹتی ہے اور معیشت میں نشوونما ہوتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اشتہارات کے خلاف تنقید کا تجزیہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ یہ تنقید کس حدتک حق بجانب ہے۔ذیل میں ہم اسی موضوع پر مزید گفتگو کرتے ہیں۔
1۔ لاگت میں اضافہ(Adds to Cost): مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ اشتہارات سے غیر ضروری طور پر پروڈکٹ کی لاگت بڑھتی ہے جس کا لامحالہ اثر خریدار کی جیب پر پڑتا ہے کیوں کہ لاگت بڑھتی ہے تو قیمت بھی بڑھتی ہے۔مثال کے طور پر چند سیکنڈ کے لیے ٹی وی پر اشتہار کی لاگت کئی لاکھ آتی ہے۔اسی طرح پرنٹ میڈیا۔اخبار یا رسالے وغیرہ میں اشتہارات پر کافی لاگت آتی ہے اور اس پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ جو رقم اشتہارات پر خرچ ہوتی ہے اس سے بہر حال لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور لاگت میں اضافہ پروڈکٹ کی قیمت کے تعین میں ایک اہم عامل ہوتاہے۔
یہ تو سچ ہے کہ اشتہارات سے کافی لاگت آتی ہے لیکن اس سے پروڈکٹ کی مانگ بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اس سے بالقوۃ خریداروں کو اس پروڈکٹ کی دست یابی اور اس کی خصوصیات کے بارے میں علم ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس پروڈکٹ کو خریدنے کے لیے آمادہ اور راغب ہوتے ہیں۔ بڑھی ہوئی مانگ کے نتیجے میں پروڈکشن بڑھتی ہے اور بالآخرمعیشت کی نمو میں اضافہ ہوتاہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پروڈکشن کی فی اکائی لاگت گھٹ جاتی ہے کیوں کہ مجموعی لاگت اکائیوں کی زیادہ تعداد پر تقسیم ہوجاتی ہے۔ اس طرح اشتہارات پر آنے والے خرچ سے مجموعی لاگت میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن فی اکائی لاگت میں کمی آتی ہے جس سے درحقیقت صارف کا بوجھ گھٹتا ہے، بڑھتا نہیں ہے۔
2۔ سماجی اقدار کو نقصان پہنچتا ہے (Undermines Social Values): اشتہارات کے بارے میں دوسری بڑی تنقید یہ ہے کہ اس سے سماجی قدروں کو نقصان پہنچتا ہے اور مادیت کو فروغ ہوتاہے۔ لوگوں کو نئی نئی چیزوں کا علم ہوتا ہے تو ان میں اپنی موجودہ حالت سے بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے۔ کچھ اشتہارات ایسا نیا طرزِ زندگی دکھاتے ہیں جس کو سماج منظور نہیں کرتا۔
یہ تنقید ساری کی ساری سچ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اشتہارات لوگوں کو نئی پروڈکٹس کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ پروڈکٹس، موجودہ پروڈکٹس کی بہتر اور ترقی یافتہ شکلیں ہوتی ہیں۔ اگرخریدار ان سے واقف نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہتر پروڈکٹس کا استعما ل نہیں کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اشتہار کا کام اطلاع دینا ہے، خریدنے یا نہ خریدنے کا آخری فیصلہ خریدار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ،اشتہار میں دی گئی پروڈکٹ سے وہ مطمئن ہوں گے یا اس سے ان کی ضرورتیں پوری ہوں گی تو وہ اس کو آئندہ بھی خریدیں گے۔ اس کے علاوہ وہ نئے پروڈکٹس کو خریدنے کے لیے سخت محنت بھی کریں گے۔
خریدار تذبذب میں ہوتا ہے (Confuses the Buyers) : اشتہارات کے خلاف ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ اتنی بہت سی پروڈکٹس کا اشتہار آتا ہے جن کے دعوے بھی یکساں ہوتے ہیں۔ ایسے میں خریدار حیران ہوتا ہے کہ آخر کس کی بات سچ ہے اور کس پر اعتبار کیا جائے۔ مثال کے طور پر ڈٹرجینٹ پاؤڈر کے مختلف حریف برانڈ داغ دھبے دھونے اور چمک دار سفیدی لانے کے دعوے کرتے ہیں یا اسی طرح مختلف برانڈ کے ٹوتھ پیسٹ دانتوں کو چمک دار بنانے اور منہ میں تازگی لانے کا دعوی کرتے ہیں اور خریدار حیران ہوتا ہے کہ کس برانڈ کو خریدا جائے۔
اشتہارات کے حامی بہر حال یہ کہتے ہیں کہ تمام انسان عقل رکھتے ہیں اور وہ مختلف عوامل جیسے قیمت، اسٹائل اور سائز وغیرہ کی بنیاد پر کسی بھی پروڈکٹ کے خریدنے کے بارے میں صحیح فیصلہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح کسی پروڈکٹ کو خریدنے سے پہلے جو معلومات اشتہارات میں فراہم کی گئی ہیں اور جو دیگر ذرائع سے حاصل کی گئی ہے ان سب کا تجزیہ کرکے خریدنے کے بارے میں صحیح فیصلہ لیا جائے۔ ہاں، اس تنقید کو بالکل ہی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
4۔ اس سے گھٹیا مال کی بکری کو بڑھاوا ملتا ہے (Encourages Sale of Inferior Products):
 اشتہارات اچھّے اور خراب مال میں امتیاز نہیں کرتے اور اکثر لوگوں کو گھٹیا مال خریدنے پر راغب کرتے ہیں۔ دراصل مال کا بڑھیا گھٹیا ہو نا اس کی کوالٹی سے وابستہ ہوتاہے۔ کوالٹی ایک اضافی تصور (Relative Concept) ہے۔ کوالٹی کی مطلوبہ سطح نشانہ صارفین کی ترجیحات اور ان کی معاشی حیثیت پرمنحصر ہوتی ہے۔ اشتہارات ایک دی گئی کوالٹی کا سامان بیچتے ہیں۔ اب خریداروں کو تو وہی سامان خریدنا ہے جو ان کی ضروریات کے لیے مناسب ہوگا۔ البتہ اشتہارات میں کسی مال کے بارے میں جھوٹے دعوے یا بیانات نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی فرم ایسے جھوٹے دعوے کرتی ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیے۔

شخصی فروخت

(PERSONAL SELLING)

شخصی فروخت میں بِکری میں اضافے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ بالقوۃ صارفین سے گفتگو کی شکل میں پیغام کو زبانی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ابلاغ کی شخصی شکل ہے۔ کمپنیاں متوقع خریداروں سے رابطے کے لیے سیلزمین کو مقرر کرتی ہیں اور پروڈکٹ کے بارے میں بیداری پیدا کرتی ہیں اور بِکری بڑھانے کی غرض سے پروڈکٹ کی ترجیحات کو فروغ دیتی ہیں۔

شخصی فروخت کی خصوصیات

(Features of Personal Selling)

(i) شخصی شکل: شخصی فروخت میں براہِ راست اور آمنے سامنے گفتگو ہوتی ہے جس میں خریدنے والا اور بیچنے والا دونوں شریک ہوتے ہیں۔
(ii) رشتے کا ڈیولپمنٹ: شخصی فروخت میں سیلز مین کا گراہکوں کے ساتھ شخصی رشتہ استوار ہوتا ہے۔ یہ رشتہ بکری میں اضافہ کے معاملے میں اہم ہوتاہے۔


شخصی فروخت کی خوبیاں

 (Merits of Personal Selling) 

(i) لچک(Flexibility) : شخصی فروخت میں لچک بہت ہوتی ہے۔ اس میں سیلز کی پیش کش کو انفرادی گراہکوں کی خصوصی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔
(ii) براہِ راست باز رسی(Direct Feed back): چوں کہ شخصی فروخت میں براہِ راست یا آمنے سامنے ابلاغ ہوتاہے اس لیے گراہک سے باز رسی بھی براہِ راست ہوتی ہے اور اس طرح پیش کش کو متوقع خریداروں کی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔
(iii) کم سے کم بربادی(Minimum Wastage): شخصی فروخت میں محنت اور کوششوں کی بربادی کم سے کم ہوتی ہے کیوں کہ کمپنی کوئی رابطہ قائم کرنے سے پہلے ہی متوقع گراہکوں کا فیصلہ کرسکتی ہے۔


شخصی فروخت

’’اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ’ فروخت کرنا‘ بھی ایسا ہی ہے جیسے ’گفتگوکرنا‘ لیکن بہت کامیاب سیلزمین سمجھتے ہیں کہ ان کے کام کا سب سے اہم حصہ ’’ سننا‘‘ہے۔

(رائے بارٹل)   

’’آپ بِکری کو ختم نہیں کرتے، اگر آپ ایک طویل مدتی کا میاب انٹر پرائز کی تعمیر چاہتے ہیں تو آپ کو ایک رشتہ استوار کرنا ہے۔‘‘

(پیٹریسیا فرپ)   

شخصی فروخت کا کردار(ROLE OF PERSONAL SELLING)

اشیا اور خدمات کی مارکیٹنگ میں شخصی فروخت کی بہت اہمیت ہے۔ بیوپاریوں، گراہکوں اور سماج کے لیے شخصی فروخت کی اہمیت کو حسب ذیل طریقے پر بیان کیا جاسکتا ہے۔

بیوپاریوں کے لیے اہمیت(Importance to Businessmen)

شخصی فروخت فرم کی پروڈکٹس کا مانگ بڑھانے اور اس کی بِکری میں اضافہ کرنے کا ایک طاقت ور وسیلہ ہے۔کاروباری تنظیموں کے لیے فروخت کی اہمیت کی ذیل میں وضاحت کی جاتی ہے:
(i) پروموشن کا موثر وسیلہ:(Effective Promotional tool): شخصی فروخت پروموشن کا موثر وسیلہ ہے۔اس سے متوقع خریداروں کو پروڈکٹ کی خوبیوں کے بار ے میں بتا کر ان کو متاثر کیا جاسکتا ہے اور اس طرح بِکری میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
(ii) لچکدار وسیلہ(Flexible Tool): اشتہارات اور سیلز پرموشن جیسے وسیلوں کے مقابلے شخصی فروخت زیادہ لچک دار وسیلہ ہے۔ اس کی مدد سے بیوپاری، مختلف حالات میں اپنے فیصلے لے سکتے ہیں اور اپنی پیش کشوں میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔
(iii) اس سے کوششوں کی بربادی میں کمی آتی ہے (Minimises wastage of Efforts) : پروموشن کے دیگر وسیلوں کے مقابلے میں، شخصی فروخت کے اندر کوششوں کی بربادی کا امکان کم سے کم ہوتا ہے۔ اس سے بیوپاریوں کو زیادہ کوششیں نہیں کرنی پڑتیں۔
(iv) صارف کی توجہ(Consumer attention): شخصی فروخت سے اس بات کا پتہ بھی چل جاتا ہے کہ آیا پروڈکٹ کے تئیں صارفین کی توجہ اور دلچسپی کم تو نہیں ہوئی ہے۔ اس سے کاروبار کرنے والوں کو بکری کی کامیاب تکمیل میں مدد ملتی ہے۔
(v) پائدار رشتے(Lasting Relationship): شخصی فروخت سے سیلز مین اور صارفین کے درمیان مضبوط اور پائدار رشتے استوار ہوتے ہیں اور یہ ایسی چیز ہے جو کاروباری مقاصد کے حصول کے لیے بہت اہم ہے۔
(vi) شخصی واسطہ(Personal Rapport): گراہکوں کے ساتھ شخصی واسطے کے ارتقا سے کسی بھی کاروباری تنظیم کی مقابلہ جاتی طاقت میں اضافہ ہو تا ہے۔
(vii) تعارفی مرحلے کاکردار(Role of Introduction stage) : شخصی فروخت کا کسی بھی نئی پروڈکٹ کے تعارفی مرحلے میں بے انتہا اہم کردار ہے کیوں کہ شخصی فروخت کے ذریعے گراہک پروڈکٹ کی خوبیوں سے واقف ہوجاتے ہیں۔
(viii) گراہکوں کے سا تھ رابطہ (Link with customers) : سیلز مین مندرجہ ذیل تین مختلف اور اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تشفی کردار(Persuasive role)، سروس رول اور اطلاعاتی (Informative) رول اور اس طرح کسی کاروباری فرم کو گراہکوں سے جوڑدیتے ہیں۔

صارفین کے تئیں اہمیت (Importance to  Customers)

ناخواندہ اور دیہات کے خریداروں کے لیے شخصی فروخت اور بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ کسی پروڈکٹ کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کا ان کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا۔
شخصی فروخت کے ذریعے گراہکوں کو مندرجہ ذیل طریقوں سے فائدے پہنچتے ہیں:
(i) ضرورتوں کی نشان دہی میں مدد:(Help in identifying needs): شخصی فروخت سے گراہکوں کی حاجتوں اور چاہتوں کی نشان دہی بھی ہوتی ہے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان ضرورتوں کی تکمیل کس طرح ہوسکتی ہے۔
(ii) بازار کے بارے میں تازہ ترین معلومات (Latest Market Information) : اس سے گراہکوں کو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، پروڈکٹ کی فراہمی اور نئی پروڈکٹس کی بازار میں آمد وغیرہ جیسی معلومات حاصل ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں گراہک بہتر طور پر خریداری کے فیصلے کرسکتے ہیں۔
(iii)   ماہرانہ مشورہ(Expert Advice): گراہک مختلف اشیا اور خدمات خریدنے کے معاملے میں ماہرانہ مشورے حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے ان کو خریداری کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔
(iv)  گراہکوں کی ترغیبInduces Customers: اس سے گراہک پروڈکٹ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ شخصی فروخت سے گراہکوں کو ان نئی پروڈکٹس کے خریدنے میں دلچسپی اور رغبت پیدا ہوتی ہے جن سے ان کی ضروریات کی تکمیل ہوجائے۔ اس سے ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

سماج کے لیے اہمیت

(Importance to Society)

سماج کی معاشی ترقی میں شخصی فروخت کا بہت تخلیقی کردار ہے۔ سماج کے لیے شخصی فروخت کے مزید خصوصی فوائد حسب ذیل ہیں:
(i)  تازہ ترین مانگوں کی تبدیلی:شخصی فروخت سے نئی نئی مانگیں مؤثر مانگوں (Effective demands) میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اسی عمل (Cycles)کے ذریعے سماج میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مزید نوکریاں ملنے کے امکانات بڑھتے ہیں،آمدنی بڑھتی ہے اور نئی پیداوار اور خدمات بازار میں آتی ہیں۔ اس طرح شخصی فروخت سے معاشی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔
(ii) نوکری کے مواقع(Employmant Opportunities):شخصی فروخت سے بے روزگار نوجوانوں کو روز گار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں اور آمدنی میں بھی زبردست اضافہ ہوتاہے۔
(iii)  مستقبل کی ترقی کے مواقع (Career Opportunities): چوں کہ شخصی فروخت سے مردوں اور عورتوں کو اچھی نوکری کے بہت سے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحفظ، عزت، زندگی میں تنوع اور آزادی نفس حاصل ہوتی ہے اس لیے یہ ان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔
(iv) سیلز مین کی حرکت پذیری(Mobility of Sales People): سیلز مین کی ہر طرف حرکت پذیری زیادہ ہوتی ہے۔اس سے ملک میں سفر اور سیاحت کو فروغ حاصل ہوتاہے۔
(v) پروڈکٹ کا معیار (Product Standardi- sation):شخصی فروخت سے ایک متنوع اور رنگارنگ سماج میں، مصرفی پیٹرن  (Consumption Pattern) کی ایک وحدت وجود میں آتی ہے اور پروڈکٹ کا معیار بھی بڑھتا ہے۔

سیلز پروموشن  (SALES   ROMOTION)

سیلز پروموشن سے قلیل مدتی ترغیبات مراد ہیں۔ ان ترغیبات کا مقصد خریداروں کو اس بات کی ترغیب  یا شوق دلانا ہے کہ وہ کسی پروڈکٹ یا سروس کو فوراً خرید لیں۔ اشتہارات، شخصی فروخت اورتشہیر(Publicity) کے علاوہ ترویج وفروغ کی وہ تمام کوششیں سیلز پروموشن میں شامل ہیں جو کمپنی بِکری کو بڑھاوادینے کے لیے کام میں لاتی ہے۔ نقد چھوٹ یا رعایت(Cash Discount)، بِکری کے لیے مقابلے، مفت تحفے اور مفت نمونوں کی تقسیم وغیرہ جیسی سرگرمیاں سیلز پروموشن کا ہی حصہ ہیں۔سیلز پروموشن کے طریقے عام طور پر دیگر پروموشنل کوششوں(جیسے اشتہارات اورشخصی فروخت) کے سہارے کے طور پر ہی شروع کیے جاتے ہیں۔
کمپنیاں خصوصی طور پر تیار کیے گئے سیلز پروموشن کے وسیلوں کو گراہکوں کو لبھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں (مثلاً مفت سیمپل، قیمتوں میں چھوٹ اور مقابلے وغیرہ جیسے وسیلے) کبھی تاجروں اور بچولیوں کو رغبت دلانے کے لیے (مثلاً کوآپریٹو اشتہارات، ڈیلر ڈسکا ؤنٹ، ڈیلروں کے لیے ترغیبات اور مقابلے وغیرہ) اور کبھی سیلز مین کو لبھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں (جیسے بونس، سیلز مین مقابلے اور اس کے علاوہ خصوصی تحائف وغیرہ)۔ سیلز پروموشن میں صرف وہ سرگرمیاں شامل ہیں جن کا استعمال فرم کی بِکری میں اضافہ کرنے کی غرض سے قلیل مدتی ترغیبات کے طور پر کیا جاتاہے۔

سیلز پروموشن کے فائدے (Merits of Sales Promotion)

(i) توجہ کی قدر(Attention Value): سیلز پروموشن کی سرگرمیاں لوگوں کی توجہ پروڈکٹ کی طرف مبذول کرتی ہیں۔ یہ عمل ترغیبات کے استعمال کے ذریعے ہوتاہے۔
(ii) نئی پروڈکٹس کو شروع کرنے میں سودمند (Useful in New Product Launch): سیلز پروموشن کے وسیلے کسی بھی نئی پروڈکٹ کو بازار میں پہلی مرتبہ تعارف کرانے کے لیے بہت موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس سے گراہکوں کے خریداری رویّے میں تبدیلی آتی ہے اور وہ نئی پروڈکٹس کو استعمال کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
(iii) تمام پروموشنل کوششوں میں ہم آہنگی (Synergy in total Promotional Efforts): سیلز پرموشن کی سرگرمیوں کو شخصی فروخت اور اشتہاراتی کوششوں کی مدد کے طور پر استعمال کیا جاتاہے اور ان سرگرمیوں سے کسی بھی فرم کی پروموشنل کوششوں کی موثر یت(Effectiveness)میں اضافہ ہوجاتاہے۔

سیلز پروموشن کی خامیاں (Limitations of Sales Promotion)

(i)  اس سے بحران کا اظہار ہوتاہے(Reflects Crisis): اگر کوئی فرم بار بار سیلز پروموشن کا سہارا لیتی ہے تو اس سے اس بات کا تاثر ملتا ہے کہ فرم اپنی سیلز کا مینجمنٹ نہیں کرسکتی یا پھر یہ کہ اس کی پروڈکٹ کا کوئی اٹھانے والا ہی نہیں ہے۔
(ii)       اس سے پروڈکٹ کی شبیہ خراب ہوتی ہے (Spoils Product's Image): سیلز پروموشن کے وسیلوں کا استعمال پروڈکٹ کی شبیہ کو متاثر کرتاہے۔ خریدار یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ پروڈکٹ کی کوالٹی اچھی نہیں ہے یا یہ کہ اس کی جو قیمت رکھی گئی ہے وہی مناسب نہیں ہے۔

سیلز پروموشن کی عام طور پر استعمال ہونے والی سرگرمیاں

(Commonly used Sales Promotion Activities)

 رعایت (Rebate): پروڈکٹس کی قیمتوں میں خصوصی رعایت دینا تاکہ بڑھا ہوا اسٹاک بک جائے۔مثلاً کاروں کا ایک مینوفیکچرر کاروں کے کسی خاص برانڈ کو ایک محدود مدت کے لیے 10,000 روپیے کی خصوصی رعایت پر بیچ دیتا ہے۔
 چھوٹ(Discount): اس کا مطلب ہے کسی پروڈکٹ کو درج فہرست قیمت سے کم پرفروخت کرنا۔ مثال کے طور پر کسی جوتا کمپنی کی 50 فی صد چھوٹ کی پیش کش یاشرٹ بیچنے والے کی 50+40 فی صد چھوٹ کی پیش کش۔
واپسی قیمت(Refunds): خریداری کا کوئی ثبوت پیش کرنے پر گراہک کو ادا کردہ قیمت کا کچھ حصہ واپس کردینا۔ مثلاًخالی پیکٹ یا اوپری کاغذ (Wrepper) وغیرہ واپس کرنے پر)۔ اس کا استعمال غذائی اشیا بنانے والی کمپنیاں کرتی ہیں تاکہ ان کی بکری میں اضافہ ہو۔
پروڈکٹ کے ساتھ دوسری پروڈکٹس یا تحائف کا جوڑ(Products Combinations): کسی پروڈکٹ کے ساتھ دوسری پروڈکٹس کو تحائف کے طور پر جوڑ دیا جاتا ہے مثلاً گیہوں کے آٹے کے بیگ کے ساتھ 1/2 کلو چاول مفت، یا ڈجی کیم (Digicam) کے سا تھKB 128میموری کارڈ فری‘یا25+کا ٹی-وی خریدیے اور ایک ویکوم کلینر مفت حاصل کیجیے یاایک کلو ڈٹرجینٹ کے ساتھ100گرام چٹنی کی بوتل مفت حاصل کیجیے وغیرہ۔
مقدار کا تحفہ(Quantity gift): عام طور پر فروخت کار کا سمیٹکس یا نہانے دھونے سے متعلق اشیا میں پروڈکٹ کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیونگ کریم کے پیک میں 40 فی صد کا اضافہ یا ہوٹلوں کے اندر دو رات اور تین دن کے پیکج میں ایک رات کا اضافی قیام صرف500روپے یا دوشرٹ خریدنے پر ایک شرٹ مفت کی پیشکش۔
25
سیلز پروموشن
  فوری قرعہ اندازی کے ذریعے تحائف: مثال کے طور پر ٹی وی کی خریداری پر کارڈ کھرچیے(Scratch card)یا پٹاخہ چھوڑیے اور فوراً ایک ریفریجریٹر، کار، ٹی شرٹ، یا کمپیوٹر وغیرہ انعام میں پائیے جیسی اسکیمیں۔
7۔    لکی ڈرا (Lucky Draw) : مثال کے طور پر نہانے کے صابن پر ڈرا کے ذریعے سونے کے سکے جیتیے یا دیے گئے پیٹرول پمپ سے پیٹرول کی مخصوص مقدار خریدنے پرلکی ڈرا کے ذریعے مفت پیڑول حاصل کیجیے یا بنیان اور انڈرویئر وغیرہ خریدنے پر لکی ڈرا کے ذریعے کا ر وغیرہ جیتنے کی پیش کش۔
8۔   قابلِ استعمال فوائد(Usable Benefit): تین ہزار روپیے کی قیمت کا سامان خریدئیے اور تین ہزار روپیہ کی مالیت کا ایک ہالی ڈے پیکج مفت حاصل کیجیے یا  ایک ہزار روپے اور زیادہ کے قیمتی لباس خریدنے پر، لوازمات(Accessories)کے لیے رعایتی کوپن حاصل کرنے کی پیش کش وغیرہ۔
9۔   صفر فی صد کی شرح پر مکمل فائننس: پائدار مصرفی اشیا جیسے الیکٹرانک کا سامان اور آٹو موبائل وغیرہ کے بہت سے فروخت کار آسان فائننسنگ اسکیمیں بھی پیش کرتے ہیں۔ مثلاً 24 آسان قسطوں کی اسکیم (8اپ فرنٹ اور 16پوسٹ ڈیٹیڈ چیکس کے ذریعے)۔ بہرحال ایسی اسکیمیوں کے معاملے میں فائل چارجیز (Charges) کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے یہ چارج کبھی کبھی صرف پیشگی وصول شدہ سود ہی ہوتا ہے۔
10۔  سیمپلنگ(Sampling): ڈٹرجینٹ پاؤڈر یا ٹوتھ پیسٹ وغیرہ کی کسی نئی برانڈ کو بازار میں اتارتے وقت بالقوۃ خریداروں کو ان اشیا کے فری سیمپل کی پیش کش۔
11۔  مقابلے(Contest): ایسی مقابلہ جاتی تقریبات یا ایسے پروگراموں کا انعقاد جس میں فیصلہ مہارت (Skills)سے یاقسمت(Luck)سے ہو، مثلاً کوئز وغیرہ کو حل کرنا۔

روابط عامہ (Public Relations)

کسی تنظیم کے بارے میں رائے عامہ کو ہمورار کرنا بہت اہم کام ہے اور یہ کام مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ گراہکوں، مال سپلائی کرنے والوں اور تمام دیگر معاملات طے کرنے والوں کے ساتھ ابلاغ وترسیل موثر طور پر انجام پائے کیونکہ در اصل یہی لوگ نہ صرف بِکری بلکہ منافع میں اضافہ کرنے کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے علاوہ جو کسی کاروباری تنظیم یا اس کی پروڈکٹس کے براہ راست تعلق میں آتے ہیں، عوام وخواص میں ایسے دیگر افراد بھی ہوتے ہیں جن کی رائے اور جن کی آواز بھی مساوی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اس لیے مسلسل طور پر رائے عامہ کو ہموار رکھنا اور لوگوں کے ساتھ کمپنی کے روابط کو بنائے رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔ یہ کہنا بے جا ہوگا کہ خود کمپنی کی شبیہ کو بہتر بنانے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے اور ایسے ہی عوام کی نظروں میں کمپنی کی تمام مصنوعات کو مقبول بنانے کے لیے مختلف النوع پروگرام یا منصوبے تیار کرنے بہت ضروری ہیں۔
کسی بھی کاروبار کا تعلق سماج کے مختلف گروہوں اور طبقوں سے ہوتا ہے جن میں مال سپلائی کرنے والے، کاروبار کے منافع میں حصہ دار، بچولیے، چلت پھرت کرنے والے اور اہتمام وانصرام وغیرہ سے وابستہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی کمپنی ایک ایسے ماحول میں زندہ رہنا چاہتی ہے جہاں بازار میں مسابقت اور رقابتی دوڑزیادہ ہو تو درمیانی لوگوں یا بچولیوں کی ضرورت اور ان کی مدد ناگزیر ہوگی۔ ایسے ہی یہ بھی ضروری ہے کہ صارفین کے فعال گروہوں کی تسلی وتشفی کا سامان بھی فراہم کیا جائے کیونکہ یہ لوگ براہ راست صارفین پر یہ دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ فلاں فلاں مصنوعات کا استعمال نہ کریں یا پھر قانونی پا بندیوں کا سہارا لے کر کمپنی کی مصنوعات کی بِکری پر پابندیاں عائد کرادیں۔ اسی لیے اکثر تنظیموں میں چاہے وہ کاروباری ہوں یا غیر کاروباری آج کل عوامی رابطہ کو بہتر بنانے کا ایک جداگانہ شعبہ قائم رہتا ہے۔ یہ ادارے عوامی افکار وآرا کو متاثراور ہموار رکھنے کے لیے رائے عامہ کی باہری ایجنسیوں سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔
اسی قسم کے شعبوں کا خاص کام کاروبار کے بارے میں معلومات کی نشر واشاعت اور خیر خواہی کے جذبے کی تعمیر ہے۔ عام لوگوں کی سوچ اور ان کی رائے کی باقاعدہ پاسداری کے لیے ٹھوس اقدمات کیے جاتے ہیں اور رائے عامہ کو مثبت طور سے ہموار رکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جب کمپنی کی پیداوار یا اس کی مصنوعات کے بارے میں کوئی منفی تاثر قائم ہوجائے تو ایسے اقدامات کی خاص طور پر اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کے اندر کمپنی کی شبیہ کو بہتر بنانے کے لیے ایمرجنسی سطح پر قدم اٹھانے پڑتے ہیں اور کمپنی کی سابقہ اور اس کی شبیہ کو جو بالفعل یا بالقوہ نقصان پہنچ سکتا ہے اس کی تلافی کے لیے غیر معمولی کوششیں درکار ہوتی ہیں۔
رابطہ عامہ کے یہ شعبے کمپنی کے ارباب اہتمام کو یہ بھی رائے دیتے ہیں کہ عوامی شبیہ کو سدھارنے کے لیے فلاں فلاں پروگرام سودمند ہوسکتے ہیں اور فلاں فلاں اقدامات سے کمپنی منفی پروپیگنڈے کے اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہے۔

عوامی رابطوں کاکردار(Role of Public Relations)

عوامی رابطوں کے کردار پر ان اعمال واقدامات کے حوالے سے ہی گفتگو کی جاتی ہے جن کا یہ شعبے سہارا لیتے ہیں۔ عوامی رابطے خود مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے ہاتھوں میں ایک اہم ہتھیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ہتھیار کا استعمال کاروبار کی توسیع وترقی میں انتہائی سود ہوتاہے۔ رابطۂ عامہ کے شعبہ کے پانچ اہم کام ہوتے ہیں۔
1۔تشہیر (PUBLICITY):  پبلیسٹی اس مفہوم میں اشتہارات جیسی ہی ہے کہ وہ بھی ابلاغ کا ایک غیر شخصی ذریعہ ہے۔ لیکن اشتہارات کے بر خلاف، پبلیسٹی ابلاغ کا ایسا ذریعہ ہے جس کی قیمت ادا نہیں کی جاتی یعنی یہ ایک Non-Paidشکل ہوتی ہے۔ عام طور پر پبلیسٹی اس وقت ہوتی ہے جب میڈیا میں کسی پروڈکٹ یاسروس کے بارے میں کوئی پسندیدہ یا مفید مطلب بات شائع ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی مینوفیکچرر ایک ایسا کار انجن بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو پٹرول کے بجائے پانی سے چلتا ہو اور یہ خبرٹی وی، ریڈیو یا اخبار میں خبر کے طور پر آجائے تو یہ پبلیسٹی کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگی۔ اطلاع کی نشر و اشاعت سے کار کے مینوفیکچرر کو فائدہ ہوگا اور کیوں کہ اس کامیابی پرمیڈیا میں خبر آنے پر کوئی لاگت بھی نہیں آتی ہے اس لیے اس کو پبلیسٹی کہا جائے گا۔اس طرح پبلیسٹی کے دو اہم ارکان(Components) ہیں:
(i) پبلیسٹی ابلاغ کی غیر ادائیگی (Non-Paid) شکل ہے۔ پبلیسٹی میں فرم کو براہِ راست کوئی اخراجات برداشت نہیں کرنے پڑتے۔
(ii) پبلیسٹی میں پیغام خبر کے طور پر ہوتا ہے اور اس میں ابلاغ کے لیے کوئی جانا پہچانا مشتہر نہیں ہوتا۔
چوں کہ پبلیسٹی میں اطلاع آزاد ذریعے سے شائع ہوتی ہے مثلاً پریس میں ایک خبر یا کسی خاص بات کے طور پر چھپتی ہے اسی لیے اس کے پیغام کو زیادہ اعتبار حاصل ہوتا ہے۔
2۔نشر واشاعت:تنظیم کے بارے میں معلومات مثبت انداز میں پریس کے ذریعہ عام آدمی تک پہنچانا ضروری ہے۔ خبروں کی ترتیب وتدوین کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے اور کسی صورت حال کو اخبار یا کسی دیگر میڈیا کے لیے قابل قبول اور قابل اشاعت بنانا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ عوامی رابطوں کا شعبہ میڈیا سے رابطہ قائم رکھتا ہے اور کمپنی کے بارے میں صحیح حقائق اور سچی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ صورت دیگر اگر خبریں کسی اور ذریعے سے اخبارات یا کسی اور میڈیا میں پہنچیں گی تو ان کی شکل وصورت مسخ ہوسکتی ہے۔
3۔مصنوعات کی تشہیر: ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ نئی مصنوعات کی تشہیر پر خصوصی توجہ دی جائے اور کمپنی اس کے لیے خصوصی پروگراموں کی سر پرستی کرے ۔شعبۂ رابطہ عامہ مختلف قسم کی تقریبات کا اہتمام کرسکتی ہے اور کمپنی کھیل کود اور دیگر ثقافتی پروگرام جیسے نیوز کانفرنس سمینار اور نمائش وغیرہ کا بندوبست کرکے اپنی مصنوعات کی طرف لوگوں کی توجہ منعطف کرسکتی ہے۔
4۔ابلاغ وترسیل: کسی تنظیم کی شبیہ عوام اور کمپنی کے ملازمین کے ساتھ ابلاغ وترسیل کے ذریعے بھی بہتر بنائی جاسکتی ہے یہ کام اخباری مراسلات، سالانہ رپورٹوں، بروشروں، مقالوں اور دیگر سمعی وبصری مواد کے ذریعے انجام دیا جاسکتا ہے۔ کمپنیاں اپنے بازاری نشانوں تک پہنچنے اور ان کو متاثر کرنے کے لیے ان سب چیزوں پر بھروسہ کرسکتی ہیں۔ تجارتی انجمنوں کے جلسوں یا تجارتی نمائشوں میں کمپنی کے افسران کی تقریروں سے بھی کمپنی کی شبیہ بہترہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹی وی چینلوں کے ساتھ انٹرویو اور میڈیا کے ذریعے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات سے بھی عوامی رائے اور عوامی رابطوں کو برقرار رکھنے اور ان کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
5۔مشورہ اور رہنمائی : روابط عامہ کا شعبہ ایسے امور میں ارباب اہتمام کو مشورے دے سکتا ہے جن کا تعلق عوام سے ہو یا جن میں کمپنی کوئی اہم فیصلہ لینا چاہتی ہو۔ کمپنی ماحولیات، جنگلاتی زندگی، حقوق اطفال اور تعلیم وغیرہ جیسے اہم معاملات میں اپنا روپیہ اور وقت خرچ کرکے خیر سگالی کے جذبات کو فروغ دے سکتی ہے۔ ایسی موضوعاتی سرگرمیوں سے رابطہ عامہ کے فروغ اور جذبہ خیر سگالی کی تعمیر میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اچھے عوامی رابطوں کو قائم اور برقرار رکھ کر مارکیٹنگ کے مقاصد کو بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(a)بیدار پیدا کرنا: روابط عامہ کا شعبہ میڈیا میں کہانیوں کے ذریعے اپنی مصنوعات کی تشہیر کرسکتا ہے اور انکو مقبول بنا سکتا ہے۔ اس سے مصنوعات کے بازار میں پہنچنے یا میڈیا میں اس کی تشہیر سے قبل ہی لوگوں کے اندر خریداری کا جوش پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے بالقوہ صارفین کے اندر ایک خوشگوار تاثر پیدا ہوگا۔
(b)اعتبار کا قائم ہونا: اگر میڈیا میں کچھ مصنوعات کے بارے میں کوئی خبر آتی ہے چاہے وہ میڈیا اخبار ہو یا کوئی دیگر الیکٹرانک وسیلہ ہو تو اس سے ہمیشہ لوگوں میں مصنوعات کے بارے میں ایک قسم کی معتبریت پیدا ہوتی ہے اور اخبار میں شائع مواد کی وجہ سے لوگوں میں یقین پیدا ہوجاتا ہے۔
(C)مصنوعات کی سپلائی کرنے والوں کو حوصلہ اور ترغیب ملتی ہے: مال سپلائی کرنے والوں کے لیے خوردہ فروشوں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے اور اگر خوردہ فروشوں نے ان مصنوعات کے بارے ان کے بازار میں پہنچنے سے قبل ہی سن رکھا ہے تو ان کو مطمئن کرنے اور ان کو اعتماد میں لینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ تھوک اور خوردہ فروش یہ محسوس کرتے ہیں کہ مصنوعات آخری صارف کے ہاتھ بیچنا آسان ہے۔
(d)مصنوعات کو فروغ یا ان کو بڑھاوا دینے کی لاگت میں کمی: بہتر عوامی رابطوں کی برقراری کی لاگت ایڈوٹائزنگ کی لاگت سے کم ہوتی ہے۔ اگرچہ میڈیا کو اس بات کے لیے مطمئن کرنے میں ہنرمندی اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کس کمپنی یا اس کی مصنوعات کو اپنے اخبار میں مناسب اور بھرپور جگہ دیں۔
26
اشتہارات اور شخصی فروخت کے مابین اہم امتیازات درج ذیل ہیں
اشتہارات اور شخصی فروخت کے درمیان امتیازات
نمبر شمار        اشتہارات شخصی فروخت
1۔ اشتہارات ابلاغ کی ایک غیر ِشخصی شکل ہے۔ شخصی فروخت ابلاغ کی ایک شخصی شکل ہے۔
2۔ اشتہارات سے معیاربند(Standardised)پیغامات کی ترسیل ہوتی ہے یعنی کسی بھی مارکیٹ میں ایک ہی پیغام تمام گراہکوں کو جاتاہے۔ شخصی فروخت میں سیلز سے متعلق گفتگو میں شخصی پس منظر اور شخصی ضروریات کا خیال رکھاجاتا ہے۔
3۔ چوں کہ اشتہار میں پیغام خریدار کی ضرورتوں کے مطابق نہیں ڈھالا جاتا اس لیے یہ غیر لچک دار ہوتا ہے۔ شخصی فروخت بہت زیادہ لچک دار ہوتی ہے کیوںکہ اس کا پیغام خریدار کی ضرورت کے مطابق مرتب کیا جاتا ہے۔
4۔اشتہارات عام لوگوں تک پہنچتے ہیں اور ان کی رسائی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد تک ہوتی ہے۔ لاگت اور وقت کے لحاظ سے اس میں لوگوں کی ایک محدود تعداد سے رابطہ ممکن ہے۔
5۔ اشتہارات میں فی کس لاگت بہت کم ہوتی ہے۔ شخصی فروخت میں فی کس لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
6۔ اشتہارات مختصر مدت میں بازار پرچھاجاتے ہیں۔ شخصی فروخت میں سیلز مین سے کام لیا جاتا ہے جن کی رسائی بہر حال محدود ہوتی ہے۔
7۔ اشتہارات کے لیے ماس میڈیا جیسے ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور رسائل وغیرہ کا استعمال ہوتاہے۔ شخصی فروخت میں سیلز اسٹاف کا استعمال ہوتا ہے جن کی پہنچ محدود ہوتی ہے۔
8۔ اشتہارات میں براہِ راست بازرسی (feedback) نہیں ہوتی۔ مارکیٹنگ کے میدان میں تحقیقاتی کا وشیں گراہکوں تک پہنچنی چاہئیں تاکہ اشتہارات کے بارے میں ان کا ردعمل معلوم ہوسکے۔ شخصی فروخت میں براہِ راست اور فوری بازرسی ممکن ہوتی ہے۔ سیلز مین فوری طور پر گراہکوں کے ردعمل کے بارے میں جان سکتے ہیں۔
9۔ کسی فرم کی پروڈکٹس کے تئیں گراہکوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے اشتہارات بہت مفید ہوتے ہیں۔ فیصلہ لینے کے مرحلے پر شخصی فروخت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
10۔ بالقوۃ گراہک تعدادمیں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان کو متاثر کرنے میں اشتہارات کا بہت اہم کر دار ہوتاہے۔ صنعتی خریداروں یا بچولیوں کے ہاتھوں (جیسے ڈیلر اور خوردہ فروش جن کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے) کسی پروڈکٹ کو فروخت کرنے میں شخصی فروخت بہت مفید ہوتی ہے۔


کلیدی اصطلاحات
مارکیٹنگ Marketing شہرت Publicity
مارکیٹنگ مینجمنٹ Marketing Managements برانڈ Brand
تقسیم کے چینلز Channesls of Distribution برانڈ مارک Brand Mark
مصرفی اشیا Consumer products لیبلنگ Labelling
پروموشن مکس Promotion Mix مارکیٹ پیش کش Marketing offering
شاپنگ پروڈکٹ Shopping Product مارکیٹنگ مکس Marketing Mix
پروموشن Promotion فزیکل تقسیم Physical Distribution
یا ترویج وفروغ صنعتی پروڈکٹ Industrial Product
سہولتی شے/پروڈکٹ Convenience Product اشتہارات Advertising
شخصی فروخت Personal Selling خصوصی پروڈکٹ Speciality Product
نوعی نام Generic Name سیلز پروموشن Sales Promotion
برانڈ نام Brand Name ٹریڈ مارک Trade Mark
مارکیٹ پیکیجنگ Market Packaging

خلاصہ

روایتی مفہوم میں مارکیٹ کی اصطلاح کا مطلب وہ جگہ ہے جہاں فروخت کار اور خریدار (Sellers and buyers)کسی ایسے معاملے یا سودے کو انجام دینے کے لیے یکجا ہوتے ہیں جس میں اشیا اور خدمات کا تبادلہ شامل ہو۔ لیکن مارکیٹنگ کے جدید مفہوم میں اس سے کسی پروڈکٹ یا سروس کے بالفعل اور بالقوۃ خریداروں کا ایک سیٹ مراد ہوتاہے۔
مارکیٹنگ: لفظ مارکیٹنگ کو ان کا روباری سرگرمیوں کی انجام دہی بتایا جاتا ہے جو اشیا اور خدمات کے بہاؤ کی رہنمائی پروڈیوسر سے کنزیومر کی طرف کرتی ہیں۔ مارکیٹنگ صرف ایسی سرگرمی نہیں ہے جو مال کی تیاری کے بعد عمل میں آتی ہے۔ اس میں وہ سرگرمیاں بھی شامل ہیں جو سامان کے تیار ہونے سے پہلے بھی انجام پاتی ہیں اور سامان کے فروخت ہونے کے بعد بھی جاری رہتی ہیں۔
مارکیٹنگ کے کا م:بازار کے بارے میں معلومات اکھٹا کرنا، ان کا تجزیہ کرنا، مارکیٹنگ کی پلاننگ، پروڈکٹ کی ڈیزائننگ، اس کا ڈویلپمینٹ، اس کی معیار بندی، درجہ بندی، پیکیجنگ، لیبلنگ، برانڈنگ، گراہک کے لیے امدادی خدمات، پروڈکٹس کی قیمتوں کا تعین، ان کی ترویج و فروغ، طبیعی تقسیم، نقل و حمل، اسٹوریج اور وئرہاؤسنگ وغیرہ مارکیٹنگ کے اہم کام ہیں۔
مارکیٹنگ کا کردار : مارکیٹنگ کی اہمیت جان کر ہی، کوئی تنظیم چاہے وہ منفعتی ہو یا غیر منفعتی اپنے اغراض ومقاصد کو موثر طور پر حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹنگ ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی بہت معاون و مددگار ہوتی ہے اور اس سے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے۔
مارکیٹنگ مکس: مارکیٹنگ مکس، مارکیٹنگ وسیلوں (Tools)کا ایک سیٹ ہے جن کو فرم نشانہ بازار(Target Market)میں اپنے مارکیٹنگ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔متغیرات(Variables)یا مارکیٹنگ مکس کے عناصر کی درجہ بندی چار زمروں(Categories)میں کی گئی ہے جو مار کیٹنگ کے چار'P'کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ چار'p'سے مراد ہیں پروڈکٹ، پرائس (قیمت)پلیس(place)اور پروموشن۔ ان ہی چار عناصر کے اتحاد یا امتزاج سے کسی پیش کش کی تخلیق ہوتی ہے۔
پروڈکٹ: عام زبان میں، پروڈکٹ کا لفظ کسی سامان یا مال کی جسمانی اور قابل لمس صفات کی طرف اشارہ کرتاہے۔ مارکیٹنگ میں پروڈکٹ قابل لمس اور غیر قابل لمس صفات(Tangible & intangiable attributes) کا آمیزہ ہے جن کا گراہکوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے کسی قدر کے عوض تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔پروڈکٹ کوئی بھی ایسی چیز ہوسکتی ہے جس کی حاجتوں اور چا ہتوں کی تکمیل کے لیے بازار میں پیش کش کی جاسکتی ہو۔ پروڈکٹس کی بڑے پیمانے پر دو زمروں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ایک صنعتی اشیا(Industrial Products)اور دوسرے مصرفی اشیا(Consumer Products)۔ وہ اشیا جن کو استعمال کرنے والے (یا صارف) اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے خریدتے ہیں ان کو مصرفی اشیا کہا جاتاہے۔ شاپنگ کاوشوں(Shopping efforts)کی بنیاد پر، پروڈکٹس کو درج ذیل تین زمروں( سہولتی پروڈکٹس شاپنگ پروڈکٹس اور خصوصی پروڈکٹس) میں بانٹا گیاہے۔ مصرفی اشیا کی پائداری کی بنیاد پر ان کو مزید پائدار، غیر پائدار اور خدمات میں تقسیم کیاگیاہے۔ جن سرگرمیوں، فوائد اور سامانِ تسلی وتشفی — جیسے ڈرائی کلیننگ، گھڑی کی مرمت اور ہیرکٹنگ وغیرہ  — کو بیچا جاتا ہے، انھیں خدمات کہا جاتا ہے۔
صنعتی پروڈکٹس وہ پروڈکٹس ہیں جن کو دوسری پروڈکٹس کے تیار کرنے میں اِن پُٹ(Input)کے طور پر استعمال کیاجاتاہے۔ یہ پروڈکٹس تین قسم کی ہوسکتی ہیں (i)میٹیریل اور کل پرزے(ii)کیپٹل آئٹم اور(iii)سپلائیز اور کاروباری خدمات۔
پیکیجنگ: کسی پروڈکٹ کے لفافے، پیکٹ، ڈبے اور ریپر(Wrapper)وغیرہ کی ڈیزائننگ اور تیاری کو پیکیجنگ کہا جاتاہے۔ پیکیجنگ کی تین مختلف سطحیں ہیں۔یعنی پرائمری سطح، ثانوی سطح اور ٹرانسپورٹ سطح۔ سامان کی مارکیٹنگ میں پیکیجنگ کے بہت سے کام ہیں۔ پروڈکٹ کی شناخت، اس کا تحفظ، اس کے استعمال کی سہولیات فراہم کرنا اور سامان یا خدمات کا فروغ وغیرہ پیکیجنگ کے اہم کام ہیں۔
لیبلنگ: سامان کی مارکیٹنگ کے سلسلے میں ایک بظاہر سادہ لیکن بہت اہم کام اس لیبل کی ڈیزائننگ ہے جو پیکج پر لگایا جاتا ہے۔یہ لیبل ایک سادی سی چٹ بھی ہوسکتی ہے جسے پروڈکٹ پر لگادیا جاتا ہے اور ایک ایسی پیچیدہ گرافکس بھی ہوسکتی ہے جو خودپیکج کا حصہ ہو۔ لیبلوں کے اہم کام درج ذیل ہیں۔ (i) پروڈکٹ کے بارے میں لیبل سے خود وضاحت ہوجاتی ہے۔ (ii) اس سے پروڈکٹ کی شناخت ہوتی ہے اور برانڈ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ (iii) پروڈکٹ کو مختلف درجوں میں بانٹنے میں، لیبل سے سہولت ہوتی ہے نیز اس سے پروڈکٹ کی ترویج اور اس کے فروغ میں بھی مدد ملتی ہے۔
قیمت: قیمت وہ رقم ہے جو کسی سامان یا خدمات کی خریداری سے متعلق خریدار ادا کرتا ہے اور بیچنے والا وصول کرتاہے۔ عام طور پر اگر کسی پروڈکٹ کی قیمت زیادہ ہوتی ہے تو اس کی مانگ کم ہوجاتی ہے اور اگر قیمت کم ہوتی ہے تو مانگ بڑھ جاتی ہے۔ قیمتوں کو مقابلہ آرائی کا بہت موثر ذریعہ مانا جاتاہے۔ یہی سب سے اہم اور تنہا عامل ہے جو کسی فرم کے ریوینو اور منافعوں پر اثر انداز ہوتاہے۔ قیمتوں کے تعین پر اثر انداز ہونے والے عوامل مندرجہ ذیل ہیں:(i) پروڈکٹ کی لاگت(ii)افادیت اور مانگ (iii)مقابلہ آرائی(iv)حکومت اور قانونی ضابطے(v)اور استعمال کیے جانے والے مارکیٹنگ کے طور طریقے۔
فزیکل تقسیم: طبیعی تقسیم سے متعلق دو اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ ایک کا تعلق سا مان کی طبیعی نقل وحرکت سے ہے اور دوسرے کا تعلق چینلز(Channels)سے ہے۔
فزیکل تقسیم کا پھیلاؤ: ان تمام سرگرمیوں پر مشتمل ہے جو مینوفیکچرر سے گراہک تک سامان کی نقل وحرکت میں پیش آتی ہیں۔(i) آرڈر کی تعمیل (ii)نقل وحمل(iii)ویئرہاؤسنگ(iv)اور اسٹاک کنٹرول (فوری طور پر موجودہ اسٹاک) طبیعی تقسیم کے اہم ارکان ہیں۔
پروموشن: پروموشن کا مطلب، پروڈکٹ سے متعلق بالقوۃ خریداروں کو مطلع کرنے اور ان کو خریداری کے لیے آمادہ کرنے کے دوہرے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ابلاغ کا استعمال کرناہے۔ پروموشن مِکس کے چار اہم ذرائع (Tools) یا عناصر ہیں۔ یہ عناصر ہیں (i)اشتہارات(ii) شخصی فروخت(iii)سیلز پروموشن اور (iv) پبلیسٹی۔ پروموشن کا مقصد حاصل کرنے کے لیے یہ وسیلے مختلف اتحاد اور جوڑوں (Combination)میں استعمال ہوتے ہیں۔
اشتہارات: اشتہارات، پروموشن کا سب سے عام استعمال ہونے والا وسیلہ ہے، جس کی ادائیگی مارکیٹر(مشتہرین) کرتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی سامان یا خدمت کو فروغ دیاجائے۔ ابلاغ کے ذریعے کے طور پر اشتہارات کی درج ذیل خوبیاں ہیں:
(i)عام آدمی تک رسائی(ii)گراہک کی تسلی اور اس کے اطمینان کو بڑھانا(iii)قوتِ اظہار(Expressiveness)اور (iv)کفایت(Economy) 
اشتہارات کی خامیاں حسب ذیل ہیں (i)کم طاقت ور (less forceful) ہونا (ii)بے لچک ہونا(iv)کم موثر ہونا۔
اشتہارات کے بارے میں جو سب سے زیادہ عام اعتراضات ہیں وہ یہ ہیں(i)کہ اس سے لاگت میں اضافہ ہوتا ہے(ii)سماجی اقدار کو نقصان پہنچتا ہے(iii)گراہک کا دماغ منتشر ہوتا ہے اور(v)اس سے کمتر درجے کی پروڈکٹ کو بڑھاوا ملتاہے۔ اشتہارات کے بارے میں جواعتراضات ہیں وہ مکمل طور پر حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔ اسی لیے اشتہارات کو مارکیٹنگ کا لازمی کام سمجھا جاتاہے۔
شخصی فروخت: شخصی فروخت میں پیغام کا زبانی اظہار ہوتاہے۔یہ اظہار ایک یا زیادہ متوقع گراہکوں کے ساتھ بات چیت یامکالمے کی شکل میں ہوتا ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ بکری میں اضافہ ہو۔ کاروباری لوگوں اور سماج کے لیے شخصی فروخت کا بہت اہم کردار ہے۔
سیلز پروموشن:سیلز پروموشن کا مطلب ہے ایسی قلیل مدتی ترغیبات جن کو اس لیے تیار کیاجاتا ہے کہ خریدار کسی پروڈکٹ یا خدمت کو فوری طور پر خریدنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ اس میں اشتہارات، شخصی فروخت اور پبلیسٹی کے علاوہ ایسی پروموشنل کاوشیں بھی شامل ہوتی ہیں جو کمپنی بِکری کے بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ رعایتیں، چھوٹ، واپسی قیمت، پروڈکٹ کے ساتھ تحائف۔ مقدار میں زیادتی، فوری قرعہ اندازی، لکی ڈرا، قابل استعمال فائدے(Useable Benefits)زیرو فی صد شرح پر مکمل فائننسنگ، سیمپل اور مقابلے وغیرہ سیلز پروموشن کی عام طور پر استعمال کی جانے والی سرگرمیاں ہیں۔
پبلیسٹی اس مفہوم میں اشتہارات کے مشابہ ہوتی ہے کہ یہ ابلاغ کی ایک غیر شخصی شکل ہے۔ بہر حال، اشتہارات کے برخلاف یہ ابلاغ کی ایک غیر ادائیگی شدہ شکل ہے۔ پبلیسٹی میں اطلاع آزاد ذرائع سے شائع ہوتی ہے۔ بہر حال پبلیسٹی کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ پروموشن کے ایک میڈیم کی حیثیت سے یہ مارکیٹنگ فرم کے کنٹرول میں نہیں ہوتی۔
عوامی رابطہ: تمام بہی خواہوں کی نگاہ میں تنظیموں کا تصور ان کے انتظام سے متعلق ہے۔ اس کے پانچ اجزا ہیں۔ تشہیر، نشرو اشاعت، مصنوعات کی تشہیر، ابلاغ و ترسیل، مشوری اور رہنمائی۔

مشقیں

بہت مختصر جواب

(1) اشیا اور خدمات کے مارکیٹرس کے لیے برانڈنگ کے دو فائدے بیان کیجیے۔
(2) الگ الگ قیمتوں کے تعین میں برانڈنگ کیسے مدد کرتی ہے؟
(3) مارکیٹنگ کا سماجی تصور کیا ہے؟
(4)      کنزیومر اشیا کی پیکیجنگ کے فائدے لکھیے۔
(5) پچھلے کچھ مہینوں میں آپ نے یا آپ کی فیملی نے شاپنگ کرکے جو اشیا خریدی ہیں ان میں سے کوئی سی پانچ لکھیے۔
(6) رنگین ٹی وی کا ایک مارکیٹر جس کے پاس ملک کی موجودہ مارکیٹ کا 20 فیصد حصہ ہے اس بات کا خواہش مند ہے کہ اگلےتین سالوں میں اپنے مارکیٹ شیئر کو 50 فیصد کر لے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس نے ایک عملی منصوبہ تیار کیاہے۔اوپر مذکورہ مارکیٹنگ کے کام کا نام بتائیے۔(مارکیٹنگ منصوبہ بندی)

 مختصر جواب

(1)   مارکیٹنگ کیاہے؟ اشیا اور خدمات کے مبادلہ کے عمل میںیہ کیا کام کرتی ہے؟ وضاحت کیجیے۔
(2) مارکیٹنگ کے پروڈکٹ تصور اور پروڈکشن تصور کے درمیان فرق واضح کیجیے۔
(3)      پروڈکٹ افادیتوں (utilities)کا مجموعہ ہوتی ہے۔وضاحت کیجیے۔
(4)     صنعتی مصنوعات (پروڈکٹس) کیا ہوتی ہیں؟یہ صارف مصنوعات (کنزیومر پروڈکٹس)سے کس طرح مختلف ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
(5)       سہولیاتی پروڈکٹ اور شاپنگ پروڈکٹس کے درمیان کیا فرق بتائیے۔
(6)      مصنوعات(پروڈکٹس)کی مارکیٹنگ میں لیبلنگ کے کاموں کی وضاحت کیجیے۔
(7) صارفی غیر پائدار مصنوعات کی تقسیم میں بچولیوں کا کردار بیان کیجیے۔
(8) طبعی(فزیکل)تقسیم کے اجزائے ترکیبی بتائیے۔ 
(9)      ایڈورٹائزنگ کی تعریف بیان کیجیے۔اس کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟۔
(10     پرموشن مکس کے ایک عنصر کی حیثیت سے سیلزپرموشن کے کردار پر گفتگو کیجیے۔
(11) ایک اہم ٹورسٹ مقام پر واقع ایک برے ہوٹل کے مارکیٹنگ منیجر کی حیثیت سے آپ کو کن سماجی سروکاروں کا سامنا ہوگا اور آپ ان سروکاروں سے عہدہ برآہونے کے لیے کیا قدم اٹھائیں گے؟
(12) ایک غذائی پروڈکٹ پیکیج پر عام طور پر کیا جانکاری دی جاتی ہے۔اپنی پسندکی کسی ایک غذائی پروڈکٹ کا لیبل تیار کیجیے۔
(13) موٹر سائیکل کے نئے برانڈ کی مارکیٹنگ کرنے والی فرم کے منیجر کی حیثیت سے آپ صارف پائدار پروڈکٹس کے خریداروں کے لیے کون سی صارف مرکوز خدمات کا منصوبہ بنائیں گے؟

طویل جواب

(1) مارکیٹنگ تصور کیا ہے؟اس سے اشیا اور خدمات کی موثر مارکیٹنگ میں کیا مدد ملتی ہے؟
(2)    ’’مارکیٹنگ مکس‘‘کیا ہے؟اس کے اہم عناصرکیا ہیں؟وضاحت کیجیے۔
(3)    مصنوعات کی تفریق پیدا کرنے میں برانڈنگ کس طرح مدد گار ہے؟کیا اس سے اشیا اور خدمات کی مارکیٹنگ میں مدد ملتی ہے؟
(4)    کسی شے یا خدمت کی قیمت کے تعین کو متاثر کرنے والے عوامل کون سے ہیں ؟
(5)    تقسیم کے چینلوں سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟یہ اشیا اور خدمات کی تقسیم میں کیا کام انجام دیتے ہیں؟
(6)    مصنوعات(Products)کی فزیکل تقسیم میں پیش آنے والی بڑی سرگرمیاں کون سی ہیں؟
(7)    اشتہارات یا ایڈورٹائزنگ پر ہونے والا خرچ ایک سماجی اتلاف(waste)ہے۔کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
(8)    ایڈورٹائزنگ اور شخصی فروخت کے درمیان فرق واضح کیجیے۔
(9)    تقسیم کے چینلوں کے انتخاب کو طے کرنے والے عوامل کی وضاحت کیجیے۔
پروجیکٹ کام
ایک نئے پروڈکٹ کے لانچ کی شناخت کریں۔ اپنی مصنوعات کے لیے ککمنہ صارفین کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک پروجیکٹ فائل تیار کریں: 
(a) اپنے پروڈکٹ کو مشتہر کریں
     (b) پریس ریلیز لکھیں
    (c) عوامی رابطہ بنائے رکھنے کے لیے اپنے پروڈکٹ کی تشہیر کریں۔