Skip to content
Karobariuloom-II-004

باب 12

صارفین کا تحفظ

(CONSUMER PROTECTION)

28

سیکھنے کے مقاصد

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے :
صارفین کے تحفظ کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کرسکیں؛
ہندوستان میں صارفین کے حقوق کو بیان کرسکیں؛
صارفین کے تحفظ کے قانون 2019کے مطابق قانونی فریم ورک کی وضاحت کرسکیں؛
صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے صارفین کی تنظیموں کے کردار کی ستائش کرسکیں۔


کنزیومر فورم صارفین کے مسائل کو نظر انداز کرنے پر SBI پر جرمانہ عائد کر سکتا ہے

اگر آج آپ کو اے ٹی ایم سے پیسے نہیں مل پاتے تو اس کو سروس کی کمی تصورکیا جائے گا اور کنزیومر فورم صارف کے مسائل کی طرف سے چشم پوشی پر SBI پر جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔اب اگر آپ کو اے ٹی ایم سے پیسے نہیں ملتے تو اس کو بینک کی طرف سے حاصل ہونے والی خدمات کی کمی تصور کیا جائے گا جس کے لیے بینک قصوروار گردانا جائے گا ۔ایک ایسے ہی معاملے میں کنزیومر فورم نے بینک سروس میں کوتاہی خیال کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا پر 2,500 روپیہ کا جرمانہ عائد کردیا۔بینک کے افسران اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اے ٹی ایم میں کسی قسم کی سروس کی کمی کی بناپر بینک پر جرمانہ لگانا ممکن ہے۔یہ ممکن ہے کہ یہ اس قسم کا پہلا ہی قضیہ ہو۔وکیل راجیو اگروال25,26 اور 30اپریل2017کو ایس بی آئی کے اے ٹیم ایم سے پیسے نکالنے کے لیے۔ 21مئی 2017 کو انھوں نے کنزیومر فورم میں ایک مقدمہ دائر کیا ۔

فورم کے سامنے بینک نے عجیب دلیل دی۔ بینک نے فورم سے کہا کہ اگرچہ اے ٹی ایم انٹرنیٹ کے رابطے سے چلتا ہے اور جس وقت کوئی یوزر اے ٹی ایم استعمال کرتا ہے تو اس وقت وہ براہِ راست ہمارا موکل نہیں ہوتا۔اس لیے اگر اے ٹی ایم سے روپیہ نہیں نکلتا تو اس میں سروس کی کوئی کمی یا کوتاہی نہیں ہے۔

اس پر کنزیومر فورم نے کہا کہ بینک ہرسال گراہک سے اے ٹی ایم کی فیس لیتا ہے اور اس لیے اس دلیل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ بینک کا گراہک نہیں ہے۔ فورم نے بینک کی دلیل کو قطعاً خارج کر دیا۔عرضی گزارنے پیسے نکالتے وقت کے فوٹو اور ویڈیو ریکارڈنگ کو فورم کے سامنے بطورثبوت پیش کیا۔فورم نے تسلیم کیا کہ صارفین مختلف اوقات میں پیسے نکالنے اے ٹی ایم جاتے ہیں اور ہربار’’کیش نہیں ہے‘‘ کا پیغام سروس میں کوتاہی ہے۔

فورم نے عرضی کو قبول کر لیا۔فریقین کی دلیلوں کے سننے کے بعد فورم نے حکم دیا کہ اگر بینک گراہک کو اے ٹی ایم کی خدمات مہیا نہیں کراتا ہے تو اس کو سروس میں کوتاہی تصورکیا جائے گا ۔صارفین کی فورم نے بینک پر 2500 روپیے کا جرمانہ عائد کیا جس میں شکایت کنندہ کو ذہنی اذیت پہنچانے کے لیے معاوضہ کے طور پر 1500 روپیے اور اس کے اے ٹی ایم میں کیش کی عدم دستیابی کو بینک خدمات میں کوتاہی قرار دیتے ہوئے عدالتی خرچ کے ہرجانے طور پر 1000 روپیے کی رقم کی ادائیگی شامل ہے۔
ذریعہ:Source:http://dailypost.in/news/consumer-forum-fines-sbi-ignoring-customers/,2017.


مذکورہ بالا معاملہ اس طرح کے بہت سے معاملات میں سے ایک ہے جن میں صارفین کو کسی پروڈکٹ یا سروس کی خرید، استعمال اور مصرف میں دقتوں یا مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس
 مقدمے سے صارفین کی فلاح وبہبود کے لیے ایک مناسب قانونی تحفظ مہیا کرانے کی ضرورت کا اظہار ہوتا ہے تاکہ فروخت کنندہ کی طرف سے مختلف قسم کی زیادتیوں کا سدّباب ہوسکے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر صارفین کے تحفظ کا کافی بندوبست نہ ہوتو ان کا کیا حال ہوگا۔ کیا آج کی کاروباری دنیا میں صارفین کے مفادات سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے۔ صارفین کے تحفظ کا شعبہ آج تحقیقات کا اہم موضوع بن چکا ہے اور اس کی اہمیت صارف اور کاروبار دونوں کے لیے ہی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔

تعارف(INTRODUCTION)

ہم میں سے ہرایک کسی نہ کسی صورت میں ایک صارف ہے۔ یہ بات ہمارے لیے اہم ہے کہ ہمیں مارکیٹ میں دستیاب اشیا اورخدمات کے بارے میں ایک باخبر اور مطلع صارف ہونا چاہیے۔ مذکورہ بالا معاملہ ایسے بہت سے مسائل میں سے صرف ایک مثال ہے جن میں صارفین کو اشیا اور خدمات کی خریداری، استعمال اور مصرف میں دقتوں یا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ البتہ معدود چند صارفین ہی ایسے ہیں جو اپنے ان حقوق سے واقف ہیں جو انھیں صارفین کے تحفظ کے قانون2019کے ذریعے تفویض کیے گئے ہیں۔ صارفین کے تحفظ کا قانون 2019نے اس سے قبل کے قانون1980 کی جگہ لی ہے جس کا مقصد صارفین کے مسائل کوحل کرنے میں اس کے دائرہ کار کووسعت دینا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر صارفین کے تحفظ کا متناسب بندوبست نہ ہوتو ان کا کیا حال ہوگا؟ بڑھتی ہوئی مسابقت کے اس دور میں اوراپنی بکری اور مارکیٹ شیئر میں اضافہ کرنے کے لیے مینوفیکچررس، فروخت کنندگان اور خدمات فراہم کرنے والے، ناقص اور غیرمحفوظ، ملاوٹ، جھوٹی اورگمراہ کن ایڈورٹائزنگ، ذخیرہ اندوزی، کالا بازاری وغیرہ جیسے غلط، استحصالی اورغیرمناسب تجارتی طریقہ کاراستعمال کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کوغیرمحفوظ مصنوعات کے باعث خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ملاوٹی خوراکی مصنوعات سے ان کی صحت خراب ہونے کا اندیشہ ہے، گمراہ کن تشہیر یا نقلی مصنوعات کی فروخت کی وجہ سے انھیں دھوکہ دیا جاسکتاہے، جب فروخت کنندگان زیادہ قیمت پرفروخت کرنے ،ذخیرہ اندوزی کرنے یا کالابازاری کرکے کاروبار کرتے ہیں تو انھیں مال کی زیادہ قیمت بھی چکانی پڑسکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے نتیجے میں صارفین غیرمحفوظ ہوجاتے ہیں، انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکے بازی کی جارہی ہے اورانھیں بہت سے خطرات اورصحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
کیا کاروباری صارفین کے مفادات کو نظر انداز کرسکتے ہیں؟ مارکیٹ قوتیں تبدیل ہوچکی ہیں جو بیچنے والے کی مارکیٹ یعنیcaveat emptorکی اس سے قبل کی رسائی سے، جس کا مطلب ہے ’’خریدار ہوشیار‘‘،اب صارفین کی مارکیٹ بن گئی ہے یعنی caveat venditorجس کے معنی ہیں’’بیچنے والے ہوشیار‘‘۔ آزاد معیشت کے بازارمیں صارف ایک’’بادشاہ‘‘کی حیثیت رکھتاہے۔ لہٰذا صارفین کا تحفظ، صارفین اورکاروبار،دونوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔صارفین کے تحفظ کے قانون2019کے تحت، حکومت ہندنے صارفین کے مفادات کی حفاظت کرنے کے لیے قانونی تحفظ تفویض کیا ہے۔

صارفین کے تحفظ کی اہمیت 

(IMPORTANCE OF CONSUMER PROTECTION)

صارفین کے تحفظ کاتصور صارفین کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ تاجروں کوصارفین کے خلاف غیراخلاقی اورغلط طریقے استعمال کرنے سے روکنے کے اقدامات فراہم کرتا ہے نیزدرج ذیل سے تعلق رکھنے والی ان کی شکایات کا آسان ازالہ فراہم کرتاہے:

ملاوٹی اشیاء کی فروخت جیسے کہ فروخت کی جانے والی مصنوعات میں غیرمعیاری مادے شامل کرنا۔

جعلی اشیاء کی فروخت جیسے کہ اصل مصنوعات کی بجائے کم اقداری مصنوعات فروخت کرنا۔

غیرمعیاری اشیاء کی فروخت جیسے کہ ایسی اشیاء کی فروخت کرنا جومطلوبہ کوالٹی معیارات کے مطابق نہ ہو۔

جعلی اشیاء کی فروخت

خراب اوزان اورناپ تول کا استعمال جس کے باعث اشیاء کم تولی جاتی ہیں۔

کالابازاری اورذخیرہ اندوزی جو مصنوعات کی قلت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی قیمت میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔

کسی چیز کی زیادہ قیمت وصول کرنا یعنی کسی اشیاء کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت سے زیادہ پیسے لینا۔

نقص زدہ اشیاء کی سپلائی کرنا۔

ایسی تشہیر کرنا جو گمراہ کن ہو یعنی ایسے ایڈورٹائزمنٹس جن میں کسی مصنوعات یا سروس کو اعلیٰ ترین کوالٹی، گریڈ یا معیاری دکھایا جائے حالانکہ وہ حقیقتاً ایسی نہ ہوں۔

10۔ کم معیاری خدمات کی فراہمی یعنی خدمات کی فراہمی طے شدہ شرائط کے مقابلہ میں کم ترہوں۔

یہی وجوہات ہیں جن کے باعث ہمیں ایک مطلع صارف کے طورپر بیدارہونا پڑے گا اور اپنے آپ کو مختلف طرح کے استحصال سے محفوظ رکھنا ہوگا نیز اورہمیں اس طرح کے عوامل کے بارے میں شکایت درج کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔صارفین کے تحفظ کا ایک وسیع دائرہ ہے۔ اس میں صارفین کونہ صرف ان کے حقوق اورذمہ داریوں سے روشناس کرانا شامل ہے بلکہ یہ انھیں اپنی شکایات کا ازالہ حاصل کرنے میں بھی مدد فراہم کرتاہے۔اس میں صارفین کے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک عدالتی طریقہ کار کی فروخت ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ صارفین اپنے مفادات کے تحفظ اوران کے فروغ کے لیے یکجا ہوں اور خود صارفین کی انجمن تشکیل دیں۔

صارف کے تحفظ کی ضرورت

صارف کے تحفظ کی ضرورت ،صارفین کو نقصان یا چوٹ یا دیگر عام حادثات سے بچانے اور درج ذیل کو یقینی بنانے کی ضرورت سے ظاہر ہوتی ہے۔ 
کسی صارف کاجسمانی تحفظ 
مکمل معلومات کی دستیابی
مناسب قیمتوں پر اشیا کا معیار اور مقدار دستیاب کرانے کے لیے مقرر کردہ سماجی ذمہ داری۔
صارف کی تسلی 
سماجی انصاف اور ٹرسٹی شپ
کاروباروں کا قائم رکھنا اور ترقی

صارفین کے نقطۂ نظر سے (From Consumers' Point of View)

صارفین کے تحفظ کی اہمیت کو خود ان ہی کے نقطۂ نظر سے سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل نکات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

(i)صارفین کی لاعلمی (Consumer' Ignorance) : صارفین میں اپنے حقوق اورسہولتوں کے بارے میں وسیع تر بے خبری کے مدنظر یہ لازم ہے کہ انھیں ان کے بارے میں جانکاری فراہم کی جائے تاکہ صارفین آگاہی کوحاصل کیا جاسکے۔

(ii)غیرمنظم صارفین (Unorganized Consumers) : 

ضرورت اس بات کی ہے کہ صارفین تنظیموں کی شکل میں منظم ہوں تاکہ وہ تنظیمیں ان کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ چوں کہ ہمارے ہندوستان میں ایسی تنظیمیں نہیں ہیں جو اس جہت میں کام کررہی ہوں اس لیے جب تک ایسی تنظیمیں وجود میں نہ آئیں اور اتنی طاقت ور نہ بن جائیں کہ وہ صارفین کے حقوق اور ان کے مفادات کی حفاظت کرسکیں اس وقت تک صارفین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔

(iii) صارفین کا بڑے پیمانے پر استحصال (Wide- Spread Exploitation of Consumers): 

مختلف ناجائز اور من مانے طریقوں جیسے ملاوٹ، جھوٹے اور گمراہ کن اشتہارات، ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری وغیرہ سے صارفین کا استحصال ہوسکتا ہے اور ان کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اسی لیے بیچنے والوں کی ایسی بے ایمانی اور استحصال کے خلاف صارفین کا تحفظ ضروری ہے۔

کاروبار کے نقطۂ نظر سے (From the 

Point of View of Business)

خود کاروبار کو بھی یہی چاہیے کہ وہ صارفین کے تحفظ پر زور دے اور بہتر طور پر ان کو اطمینان فراہم کرے۔ یہ بات مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر بہت اہم ہے۔
(i) کاروبار کا طویل مدتی مفاد (Long-term Interest of Business) : باشعور بیوپاری سمجھتے ہیں کہ صارفین کو مطمئن کرنا خود ان کے مفادات میں ہے۔ اگر گراہک مطمئن ہوں گے تو ان کا مال بازار میں بار بار بکے گا، یہ گراہک کاروبار کے لیے باز رسی (Feed back) کا کام کریں گے اور اس طرح کاروبار کے گراہکوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے خود کاروبار کو یہ چاہیے کہ وہ گراہکوں کو مطمئن کرکے اپنے طویل مدتی منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔
20
کولڈ ڈرنک میں گندگئی پائے جانے پر معاوضہ

(ii) کاروبار سماج کے وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے (Business Uses Society's  Resources): کاروباری تنظیمیں ان وسائل کو استعمال کرتی ہیں جن پر سماج کا حق ہے۔ اس لیے ان تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی اشیا اور خدمات مہیا کریں جو مفاد عامہ سے ہم آہنگ ہوں اور عوام کے اس اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں جو عوام ان تنظیموں کے تئیں رکھتے ہیں۔
(iii) سماجی ذمہ داری (Social Responsibility): کاروبار کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف مفادات رکھنے والے سماجی گروہوں کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھائے۔ کاروباری تنظیمیں گراہکوں کے ہاتھ سامان فروخت کرکے یاان کو خدمات فراہم کرکے روپیہ کماتی ہیں۔ اس طرح گراہک بھی کاروبار کے مفادات کے خیرخواہ (Stake holders) گروہوں میں سے ایک گروہ ہیں اور اسی لیے ان کے مفادات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔
(iv) اخلاقی ذمہ داری(Moral Justification): کاروبار کی یہ بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کے مفادات کا دھیان رکھے اور ان کو ہر قسم کے استحصال اور نقصان سے بچائے۔ اس طرح کاروبار کو گھٹیا اور خراب مال کی سپلائی، ملاوٹ، جھوٹے اور گمراہ کن اشتہارات، ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری جیسے ناجائز طور طریقوں سے اپنے گراہکوں کو بچانا چاہیے۔
(v) حکومت کی مداخلت(Government  Intervention) : اگر کوئی کاروباری تنظیم اس قسم کی تجارتی استحصال کرنے والی حرکتوں میں ملوث ہوتی ہے تو اس سے حکومت کو مداخلت یا اس کے خلاف ایکشن لینے کاموقع ہاتھ آتا ہے جس سے کمپنی کی شبیہ خراب ہوگی اور کاروبار کو دھچکا پہنچے گا۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ کاروباری تنظیمیں خود رضاکارانہ طور پر ایسے کام کریں جن سے گراہکوں کے مفادات کا تحفظ اور ان کی ضروریات کی تکمیل ہو۔
صارفین کو قانونی تحفظ
21
استحصال اور بدعنوانیوں کے خلاف

صارفین کو قانونی تحفظ
(The 2019 Consumer Protection Act)
صارفین کے تحفظ کا قانون2019-، صارفین کی شکایات کا تیزتر اور بلاخرچ ازالہ کرکے صارفین کے مفادات کا تحفظ کرتاہے اور انھیں فروغ دیتاہے۔یہ پورے ہندوستان کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ تمام قسم کے کاروباروں کے لیے نافذ العمل ہے یا چاہے وہ مینوفیکچرس ہو یا کوئی تاجر اور چاہے وہ اشیاء کی فراہمی یا خدمات فراہم کرنے والا کاروبار ہو۔ اس میں ای -کامرس کی فرمیں بھی شامل ہیں۔ یہ قانون صارفین کو بااختیار بنانے اور ان کے مفادات کو تحفظ کرانے کی مدنظر صارفین کوبہت سے حقوق عطا کرتاہے۔

صارف کون ہے ؟ (?Who is a Consumer) 

عام طور پر صارف اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اشیا کا استعمال یا ان کا تصرف کرتا ہے یا کوئی خدمت حاصل کرتا ہے۔صارفین کے تحفظ کے قانون 2019 کے تحت، ایک صارف وہ شخص ہے جو کوئی اشیا خریدتا ہے یا اس کے عوض کوئی خدمت حاصل کرتا ہے، جس کی ادائیگی کی گئی ہو یا اس کی ادائیگی کا وعدہ کیا گیا ہو یا جزوی طورپر ادائیگی کی گئی ہو یاجزوی طورپر ادائیگی کا وعدہ کیا گیا ہو یا کسی ایسی اسکیم کے تحت ہو جس میں ادائیگی نہ کرنے پر پابندی ہو۔اس میں اس طرح کی اشیا کا کوئی استعمال کرنے والا یا خدمات سے استفادہ کرنے والا شامل ہے بشرطیکہ اس کے لیے خریدار کی منظوری ہونی چاہیے۔اس کا اطلاق آف لائن اور آن لائن،دونوںطرح کے لین دین پر ہوتا ہے جو کسی الیکٹرونک ذرائع یا ٹیلی شاپنگ یا براہ راست فروخت کرنے یا کثیر سطحی مارکیٹنگ کے ذریعے کی گئی ہو۔ البتہ، کوئی بھی شخص جو دوبارہ فروخت کرنے یا کاروباری مقاصد کے لیے اشیا حاصل کرتا ہے یا خدمات سے استفادہ کرتا ہے تو اسے صارف نہیں سمجھاجائے گا اور وہ صارفین کے تحفظ کے قانون 2019 کااطلاق نہیں کر پائے گا۔

صارفین کے حقوق (CONSUMER RIGHTS)


صارفین کے تحفظ کا قانون2019-،صارفین کو چھ حقوق عطا کرتا ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل حقوق ہیں:
1۔ حفاظت کا حق(Right to Safety): صارفین کو ان اشیا اور خدمات کے خلاف حفاظت کا حق حاصل ہے جو ان کی زندگی یا صحت کے لیے خطرہ ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طورپر بجلی کا ایسا غیر معیاری سامان جو حفاظتی معیاروں کے مطابق نہ ہو اور جس سے زندگی یا صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہو۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ صارفین اس بات سے باخبر ہوں کہ انھیں صرف ایسا سامان خریدنا ہے جس پر ISI مارک موجود ہو کیوںکہ یہ مارک ہی اس بات کی علامت اور گارنٹی ہے کہ سامان طے شدہ معیاروں کے مطابق ہے ۔
2۔ معلومات کا حق (Right to be Informed): ایک صارف کو اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ اس کو کسی بھی ایسی شے کے بارے میں جسے وہ خریدنا چاہتا ہے مکمل جانکاری ہو۔ مثال کے طورپر اس کے اجزائے ترکیبی، مینوفیکچرنگ کی تاریخ، قیمت، مقدار اور استعمال کے طریقے وغیرہ کے بارے میں معلومات سبھی چیزیں اس حق کے تحت آتی ہیں۔اسی لیے ہندوستان کے قانون کے تحت مینوفیکچرر کے لیے ضروری ہے کہ وہ پروڈکٹ کے لیبل اور پیکج پر یہ ساری معلومات صارفین کو مہیا کرائیں۔
3۔ پسند کرنے کا حق(Right to be Assured) : 
ایک صارف کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ مسابقتی قیمت پر مختلف اور متنوع اشیا میں سے اپنی پسند کی چیز خریدے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فروخت کار، مختلف قسم کی کوالٹی، قیمت، برانڈ اور سائز کی متنوع اشیابازار میں لائیں اور صارفین کو یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ ان میں سے اپنی پسند کی چیزیں خریدیں۔
4۔ شکایت کرنے کا حق  (Right to be heard): صارف کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اگر اس کو کسی سامان یا خدمت کے بارے میں کوئی شکایت ہے یا وہ اس سے غیرمطمئن ہے تو اس کے خلاف شکایت درج کراسکے اور اس کی شکایت کی سنوائی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی ہوشیار کاروباری اکائیوں نے صارفین کی شکایات سننے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے صارفین کی خدمات اور شکایت کے ازالے کے لیے اپنے میل قائم کیے ہیں۔ صارفین کی بہت سی تنظیمیں بھی اس سمت میں کام کررہی ہیں اور صارفین کو اپنی شکایات کے ازالے میں مدد کررہی ہیں۔
5۔ تلافی پانے کا حق  (Right to seek Redressal): اگر پروڈکٹ کسی صارف کی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس سے نجات پالے۔ اس سلسلے میں قانون تحفظ صارفین2019 نے کئی امدادی متبادل تجویز کیے ہیں جن میں پروڈکٹ کا بدلا جانا، اس میں جو کمی ہے اس کو دور کرنا اور صارف کو ہونے والے نقصان یا زخموں کا معاوضہ وغیرہ شامل ہیں۔
6۔ تعلیم صارفین کا حق (Right to Consumer Education) : ایک صارف کو معلومات حاصل کرنے اور تمام عمر ایک باخبر صارف رہنے کا حق حاصل ہے۔ اس کو اپنے حقوق اور ان سہولتوں سے واقف رہنے کا حق ہے جو پروڈکٹ یا سروس میں خرابی یا کمی کی بنیاد پر اس کو حاصل ہیں۔ بہت سی کنزیومر تنظیمیں اور کچھ کاروباری اکائیاں اس سلسلے میں صارفین کو علم دینے اورباخبر رکھنے کے لیے عملی طورپر کوششیں کررہی ہیں۔
شرائط  اورتعریف  (Terms and Definitions)
شکایت:  راحت حاصل کرنے کے لیے شکایت کنندہ کی جانب سے تحریری طورپر داخل کردہ الزام۔ ان میں ممنوعہ تجارتی عوامل، اشیا میں نقص یا فراہم کردہ خدمات میں کوتاہی، زیادہ قیمت حاصل کرنا یا ایسی اشیا یا خدمت کی پیشکش کرنا جو زندگی اور تحفظ کے لیے نقصان دہ ہو،شامل ہیں۔
شکایت کنندہ:   یعنی ایک یا ایک سے ز یادہ صارفین، یا صارفین کی کوئی رضاکار ایسوسی ایشن،مرکزی یا ریاستی سرکار یا مرکزی اتھارٹی یا کوئی قانونی وارث یا قانونی نمائندہ یا کوئی والدین یا نابالغ کی صورت میں کوئی قانونی نمائندہ۔
نقلی یا جعلی اشیاء:  ایسی اشیاء جن کے اصلی ہونے کا جھوٹا دعوی کیا جائے۔
خلاف قاعدہ تجارتی عوامل:   ایسا تجارتی عمل جو کسی اشیا یا خدمت کی فروخت استعمال یا فراہمی کے لیے کیا جائے اور جو اس کی کوالٹی ،معیار،تعداد، بناوٹ یا تیاری، طرز اور ماڈل کی جھوٹی نمائندگی کرتاہے۔
ممنوعہ تجارتی عوامل: ایسا تجارتی عمل جو اشیا اور خدمات سے تعلق رکھنے والی مارکیٹ میں اس طریقے سے قیمت میں توڑجوڑکرکے یا ان کی فراہمی کی دستیابی پراثرڈالے کہ اس کے نتیجے میں صارف کو غیرمنصفانہ قیمت ادا کرنی پڑے۔
نقص: اشیا یا کسی مصنوعات سے تعلق رکھنے والا کوئی نقص، عدم تکمیل، غیرپائیدار یا غیرمناسب کوالٹی، کارکردگی کی نوعیت اورطریقے میں کمی ہونا۔
کمی: کسی خدمت سے تعلق رکھنے والا کوئی نقص، عدم تکمیل، غیرپائیدار یا غیرمناسب کوالٹی اور کارکردگی کونوعیت اورطریقے میں کمی ہونا اور اس میں ایسی لاپرواہی یا بھول چوک یا کمیشن یا متعلقہ معلومات کی پردہ داری شامل ہیں،جن سے صارفین کو نقصان یا زک پہنچتی ہو۔
جسمانی ضرر:  کسی شخص کو جسمانی، ذہنی یا املاکی اعتبارسے ہونے والا غیرقانونی ضرر۔
مصنوعات :  ایسی کوئی بھی چیزیا اشیا یا مادّے یا خام مال یا گیس بردار، محلول یا ٹھوس شکل والی فطری قدروالی اشیا جنھیں یکجا یا ایک عنصر کے طورپر فراہم کرنے کے لیے تیاریا مینوفیکچر کیاگیا ہو۔ اس میں انسانی خلیے،خون، خون کی مصنوعات اور اعضاء شامل نہیں ہیں۔
10۔ مصنوعات فروخت کنندہ:  کاروبار کرنے کے ضمن میں درآمدات،فروخت، تقسیم، لیز پردینے، تنصیب کرنے،تیارکرنے، لیبلس، مارکیٹس،مرمت کرنے، دیکھ ریکھ کرنے یا اسی طرح کے امور انجام دینے والا کوئی شخص جو مصنوعات کوکمرشل استعمال کے لیے بازارمیں لانے میں ملوث ہو یا کوئی خدمت فراہم کرنے والا۔
11۔ مصنوعات کے تئیں جواب دہی: کسی مصنوعات کے مینوفیکچرریا کسی مصنوعات یا کسی خدمت کے فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نقص والی مصنوعات کی تیاری یا اسے فروخت کرنے یا خدمات میں کوتاہی کے باعث صارف کو ہونے والے نقصان کے لیے معاوضہ ادا کرے گا۔

صارفین کی ذمہ داریاں(CONSUMER RESPONSIBILITIES)

صارفین کے تحفظ کے قانون نے فروخت کرنے والوں کی ہرقسم کی بے ایمانی، استحصال اورغیرقانونی، ممنوعہ تجارتی عوامل کے خلاف جدوجہد کرنے کا اختیار عطاکیاہے۔صارفین کے حقوق، صارفین کے تحفظ کا مقصد حاصل کرنے میں اپنے طورپر مؤثر نہیں ہوسکتے۔یہ مقاصد بھی اسی صورت میں حاصل کیے جاسکتے ہیں اور اسی صورت میں مؤثر ہوسکتے ہیں جب صارفین بھی خود اپنی ذمہ داریوں کوسمجھیں۔
اشیا یا خدمات کو خریدتے وقت یا اس کو استعمال کرتے وقت صارفین کو درج ذیل ذمے داریوں کا احساس رہنا چاہیے۔
(i) بازار میں دست یاب مختلف قسم کی اشیا یا خدمات کے بارے میں باخبر رہنا چاہیے تاکہ خریداری کے وقت صحیح فیصلہ لیا جاسکے۔
(ii) سامان ہمیشہ معیاری خریدنا چاہیے کیوںکہ معیاری سامان سے ہی کوالٹی مل سکتی ہے۔ بجلی کے معیاری سامان کے لیے ISI مارک کو، غذائی اشیا کے لیے FPOکو اور زیورات کے لیے ہال مارک (Hallmark) وغیرہ کو ضرور دیکھ لینا چاہیے۔
(iii) اشیا یا خدمات سے جڑے خطروں کے بارے میں بھی محتاط رہنا چاہیے۔ مینوفیکچرر کی ہدایات پر دھیان دیجیے اور سامان کو حفاظت کے ساتھ استعمال کیجیے۔
(iv) لیبلوں کو غور سے پڑھیے۔ اس سے آپ کو قیمت، وزن، مینوفیکچرنگ کی تاریخ اور مدت نیز استعمال ختم ہونے کی تاریخ کا علم ہوگا۔
(v) آپ کے ساتھ صحیح برتائو ہو، اس کے لیے آپ اپنا مضبوط تعارف کرائیں۔
(vi) اپنے معاملات میں ایمان داری برتیے۔ صرف قانونی سامان ہی کا انتخاب کیجیے اور غلط طریقوں جیسے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ وغیرہ جیسی بدعنوانیوں سے بچیے۔
(vii) اشیا اور خدمات کی خریداری پر کیش میمو حاصل کیجیے۔ کیش میمو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ آپ نے فلاں سامان فلاں اسٹور سے خریدا۔
(viii) آپ نے جو سامان خریدا یا جو خدمت حاصل کی اس کی کوالٹی میں اگر کوئی خرابی ہے تو مناسب کنزیومر فورم میں شکایت درج کیجیے۔ اگر سامان کم قیمت کا ہے تب بھی شکایت ضرور کیجیے۔
(ix)     کنزیومر سوسائٹی بنائیے۔ یہ سوسائٹی صارفین کو باخبر اور باعلم رکھنے میں پیش پیش رہے گی اور ان کے مفادات کی نگرانی کرے گی۔
(x) ماحول اور ماحولیات کا خیال رکھیے۔ چیزوں کو برباد مت کیجیے، گندگی مت پھیلائیے۔
حقوق اور ذمے داریوں کے بارے میں صارفین کی بیداری، تحفظ حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس مقصد کو دوسرے طریقوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

22

جاگوگراہک جاگو

اپنے حقوق جانئے
صارفین کے حقوق
تحفظ کا حق
باخبر رہنے کا حق
شکایت کرنے کا حق
پسندکرنے کا حق
تلافی پانے کا حق
صارفین کی تعلیم کا حق
اپنے حقوق پرزوردیں
تلافی حاصل کریں
میں ایک اسمارٹ صارف ہوں
اورآپ؟
مختلف قسم کی اشیا میں کوالٹی کے اظہار کی علامتیں

صارفین کے تحفظ کے طریقے اور ذرائع

(WAYS AND MEANS OF CONSUMER PROTECTION)

اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں صارفین کی بیداری صرف ایک طریقہ ہے جس سے صارفین کے تحفظ کے مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے اوربھی مختلف طریقے ہیں جن سے اس مقصد کوحاصل کیا جاسکتاہے۔
1۔کاروبار کے اپنے ضابطے (Self Regulation by Business)  : ترقی یافتہ کاروباری فرمیں یہ بات سمجھتی ہیں کہ صارفین کی بہتر خدمت خود ان کے طویل مدتی مفادات میں ہے۔ جو فرمیں اپنی سماجی ذمے داریوں کو سمجھتی ہیں وہ صارفین کے ساتھ اپنے معاملات میں اخلاقی معیاروں اور ایمان داری کو اپناتی ہیں۔ بہت سی فرموں نے اپنے صارفین کے مسائل اور ان کی شکایات دور کرنے کے لیے شکایت سیل اور گراہک سروس سینٹر قائم کیے ہیں۔
2۔ کاروباری انجمنیں (Business Association): ٹریڈ، کامرس اور کاروبار کی بہت سی انجمنوں جیسے FICCI (فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس آف انڈیا) اور سی آئی آئی (کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز) نے خود اپنے ضابطۂاخلاق(Code of Conduct) بنائے ہیں۔ یہ ضابطے ان انجمنوں کے ممبران کے لیے رہنما اصولوں کا کام کرتے ہیں اور انھیں کے مطابق وہ گراہکوں سے معاملات طے کرتے ہیں۔
3۔ صارف کی بیداری (Consumer Awarenes): اگر صارفین اپنے حقوق اور ان سہولتوں سے باخبر ہوں گے جو قانون نے انھیں دے رکھی ہیں تو وہ ہرقسم کی تجارتی بدعنوانی، بے ایمانی اور استحصال کے خلاف آواز اٹھا سکیں گے۔ اس کے علاوہ اگر صارفین کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور اور احساس ہوگا تو وہ اپنے مفادات کی بھی حفاظت کرسکیں گے۔
4۔ صارفین کی تنظیمیں (Consumer Organi- sations) : صارفین کو ان کے حقوق کے بارے میں اور ان کو تحفظ عطا کرنے کے بارے میں، باخبر اور بیدار کرنے میں صارفین کی تنظیموں کا بہت اہم کردار ہے۔ یہ تنظیمیں کاروباری فرموں کو اس بات پر مجبور کردیتی ہیں کہ وہ صارفین کا استحصال نہ کریں اور بدعنوانیوں سے بچیں۔
5۔ حکومت (Government) : ہندوستان میں قانونی دائرکارایسے مختلف قوانین کا احاطہ کرتاہے جوصارفین کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ان ضابطوں میں سے انتہائی اہم ضابط صارفین کے تحفظ کا قانون2019ہے۔ یہ قانون صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی،غلط تجارتی عوامل اور جھوٹے اورگمراہ کن اشتہارسے متعلق معاملات سے نپٹنے کے لیے ایک مرکزی اتھارٹی فراہم کرتاہے جو صارفین کے حقائق کے تئیں متعصبانہ ہیں۔یہ صارفین کے تحفظ کی مرکزی اتھارٹی (CCPA)کے نام سے موسوم ہے۔ یہ صارفین کی شکایات کے ازالہ کے لیے ضلعی،ریاستی اور قومی سطحوں پر ایک سہ سطحی مشینری ہے۔
32

صارفین کی بیداری

قانون تحفظ صارفین کے تحت انسدادی ایجنسیاں (REDRESSAL AGENCIES UNDER THE CONSUMER PROTECTION ACT  2019)

صارفین کی شکایات کے انسداد کے لیے، قانون تحفظ صارفین 2019 ،ضلع، ریاست اور ملک گیر سطح پر ایک سہ سطحی مشینری فراہم کرتا ہے۔جو ان ناموں سے جانے جاتے ہیں: صارفین کے جھگڑوں کے انسداد کا ضلع فورم (District Consumer Disputes Redressal Forum) صارفین کے جھگڑوں کے انسداد کا ریاستی کمیشن (State Consumer Disputes Redressal Commission) اور اسی طرح صارفین کے جھگڑوں کے انسداد کا قومی کمیشن (National Consumer Disputes Redressal Commission) انھیں مختصراً بالترتیب ضلع کمیشن اور قومی کمیشن کا نام دیا گیا ہے۔قومی کمیشن کا قیام مرکزی حکومت کرے گی جب کہ ریاستی کمیشن کا ریاستی حکومت اور ضلعی فورم کا قیام ضلعی سطح پر ہوگا۔ 
آئیے اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سہ سطحی مشینری کے ذریعہ صارفین کی شکایتوں کا ازالہ کس طرح کیا جاتاہے:
1۔  ضلعی کمیشن(District Commission):ضلعی کمیشن کا دائرۂ اختیار ان شکایات کا احاطہ کرتاہے جن میں اشیا یا خدمات کے لیے ادا کردہ زیرغور لائے جانے والی رقم کی قدر ایک کروڑ روپے سے زیادہ نہ ہو۔پہلی ہی سماعت پر یا اس کے بعد، کسی مرحلے پر ضلعی کمیشن کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ کسی ثالث کے ذریعے فریقین کومنظورکوئی سمجھوتہ کرنے کی گنجائش موجودہے تو کمیشن انھیں تنازعے کے حل کے لیے اپنی رضامندی فراہم کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت دے سکتاہے۔ اگر فریقین ثالثی کے ذریعہ سمجھوتے پر رضامندہوجاتے ہیں اور اس ضمن میں تحریر فراہم کرتے ہیں تو کمیشن اس معاملے کے لیے ثالثی کی سفارش کرتاہے اوراس میں ثالثی سے متعلق قانونی گنجائش کا اطلاق کیاجاتاہے۔ البتہ ثالثی کے ذریعہ سمجھوتہ ہونے میں ناکامی کی صورت میں ’کمیشن‘ شکایت پرکارروائی کرتاہے۔اگرشکایت اشیاء میں اس طرح کا نقص ہونے کا الزام لگایاگیا ہے جن کا پتہ اشیاء کے باقاعدہ تجزیہ یا ٹیسٹ کے بغیرتعین نہیں کیا جاسکتا تو کمیشن،اشیاء کا نمونہ حاصل کرتا ہے، اسے سیل کرتاہے اوراسے باقاعدہ تجزیہ کے لیے مناسب اتھارٹی کو بھیجنے کا حکم دیتاہے۔ خدمات کے ضمن میں تنازعہ کو ان ثبوتوں کی بنیاد پر حل کیا جاتا ہے جوشکایت کنندہ کمیشن کے سامنے پیش کرتا ہے۔کمیشن تنازع کوحل کرنے کے لیے اس ضمن میں خدمت فراہم کرنے والے سے کسی بھی طرح کی مطلوب معلوماتی دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔
2۔ ریاستی کمیشن(State Commission): اس کا قیام متعلقہ ریاستی سرکارکرتی ہے اور یہ عام طورپر ریاست کی راجدھانی میں کام کرتا ہے۔ ریاستی کمیشن کے دائرۂ کار میں ان شکایات کی سماعت کرنا ہے جن میں اشیاء یا خدمات کے لیے ادا کردہ زیرغورلائے جانے والی رقم کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہولیکن دس کروڑ روپے سے زیادہ تجاوز نہ کرے۔ اگر فریقین میں سے کوئی فریق ریاستی کمیشن کے فیصلے سے مطمئن نہ ہوتو وہ اس فیصلے کے اجراء کے تیس دن کے اندر کی مدت میںاس فیصلے کے خلاف قومی کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔
قومی کمیشن(National Commission):  قومی کمیشن،ملک بھر میں علاقائی قانونی دائرئہ اختیار رکھتا ہے کمیشن کو ان شکایتوں کی سماعت کرنے کا دائرئہ اختیار ہے۔جن میں اشیا یا خدمات کے لیے ادا کردہ رقم دس کروڑ روپے سے زیادہ ہو۔اگر فریقین میں سے کوئی ایک قومی کمیشن کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوتا تو وہ اس فیصلے کے اجرا سے تیس دن کی مدت کے اندر ہندوستان کے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے۔

دستیاب سہولتیں  (Relief Available)

اگر شکایت کے درست اور جائز ہونے پر کنزیومر کورٹ مطمئن ہو تو وہ مخالف فریق کے لیے درج ذیل میں سے ایک یا زیادہ ہدایات دے سکتا ہے:
(i) سامان کا نقص یا سروس کی کمی کو دور کرنے کے لیے۔
(ii) ناقص مال کو ایسے نئے سامان سے بدلنے کے لیے جس میں کوئی نقص نہ ہو۔
(iii) مال کی ادا شدہ قیمت کو واپس کرنے کے لیے یا سروس کے لیے ادا شدہ رقم کو واپس کرنے کے لیے ۔

صارف ثالثی سیل کا قیام
صارفین کے تحفظ کے قانون 2019 کے چیپٹر’ V‘ میں تنازعات کے حل کے لیے ایک ثالثی کے عمل کی گنجائش رکھی گئی ہے جو تین سطحوں پر کام کرے گی۔ قومی، ریاستی اور ضلعی یہ تینوں سطحیں ،متعلقہ کمیشنوں سے منسلک ہوںگی۔قانون 2019 میں یہ ایک نئی گنجائش ہے جو متعلقہ کمیشنوں کے ذریعے تیز رفتار اور فوری حل کو یقینی بنانے کا ایک متبادل طریقۂ کار ہے۔

(iv) فریق مخالف کی بے توجہی یا غفلت کی وجہ سے صارف کو جو نقصان ہوئے ہیں یا جو زخم پہنچے ہیں ان کی تلافی کے لیے معقول معاوضہ کی ادائیگی کرنے کے لیے۔
(v) حالات کے مطابق سزا کے طورپر نقصانات کی ادائیگی کے لیے۔
(vi) غیر منصفانہ اور پابندی والی تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اور مستقبل میں ان کو نہ دہرانے کے لیے ۔
(vii) صحت کے لیے خطرناک اشیافروخت نہ کرنے کے لیے۔
(viii) بِکری کے لیے رکھی گئی مضر صحت اور خطرناک اشیا کو واپس لینے کے لیے۔
(ix) صحت کے لیے خطرناک اشیا کی مینوفیکچرنگ روکنے کے لیے اور نقصان دہ خدمات مہیا نہ کرانے کے لیے۔
(x) مصنوعات کی ذمہ داری کی کارروائی کے تحت صارف کو ہونے والے کسی طرح کے نقصان یا چوٹ لگنے کے لیے معاوضـہ اور فروخت کے لیے پیش کی جانے والی ضرر رساں مصنوعات کو واپس لینا اور فروخت نہ کرنا ۔ البتہ ضلعی کمیشن ،ریاستی کمیشن اور قومی کمیشن کا ہر ایک فیصلہ حتمی سمجھاجائے گا بشرطیکہ تنازعہ میں ملوث فریقین میں سے کوئی اس طرح کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہ کرتا ہو۔

کنزیومر تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں کا کردار

(ROLE OF CONSUMER ORGANISATIONS AND NGOs)

ہندوستان میں کئی کنزیومر تنظیمیں اور غیر سرکاری تنظیمیں  (NGOs) صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے قائم ہیں۔یہ تنظیمیں ان کے مفادات کو فروغ دیتی ہیں۔  کنزیومر تنظیمیں اور غیر سرکاری تنظیمیں، صارفین کے مفادات کے تحفظ اور ان کے فروغ کے لیے مختلف کام انجام دیتی ہیں۔ ان کے کچھ کام اس طرح ہیں۔
(i) تربیتی پروگرام ترتیب دے کر اور سیمینار اور ورکشاپ وغیرہ منعقد کراکے عام پبلک کو حقوق صارفین کے بارے میں تعلیم وتربیت دی جائے۔
(ii) صارفین کے مسائل، قانونی رپورٹنگ، دستیاب سہولتوں اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں معلومات مہیا کرنے کے لیے اشاعتی مواد فراہم کرنا۔
(iii)   مسابقتی برانڈوں کی کوالٹی کی نسبتی جانچ کے لیے تسلیم شدہ تجربہ گاہوں میں مصرفی اشیا کی جانچ کرانا اور صارفین کے مفاد میں ان کے نتائج کو شائع کرنا۔
(iv)  بے ایمان، استحصال کرنے والے اور بد عنوان بیوپاریوں کی مخالفت کرنے اور ان کے خلاف عملی قدم اٹھانے  کے لیے صارفین کو آمادہ کرنا۔
(v) قانونی مشورہ اور مدد دے کر صارفین کو اس بات کے لیے آمادہ کرنا کہ وہ ہر قسم کی بدعنوانی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔
(vi)   صارفین کی طرف سے مناسب کنزیومر عدالتوں میں شکایات درج کرانا۔
(vii)   کنزیومرعدالتوں میں کسی شخص واحد کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے مفاد میں مقدمہ دائرکرنے کی پہل کرنا۔
کلیدی اصطلاحات
تحفظ صارفین Consumer Protection شکایت کا انسداد Redressal of grievance
حقوق صارف Consumer Rights    ثالثی     Mediation
صارف کی ذمہ داریاں Consumer Responsibilities

خلاصہ 

تحفظ صارفین کی اہمیت (Importance of Consumer Protection): صارفین کے نقطۂ نظر سے، تحفظ صارفین اس لیے اہم ہے کہ وہ ان پڑھ اور بے خبر ہیں، غیر منظم ہیں اور بیوپاری ان کا استحصال کرسکتے ہیں۔ صارفین کا تحفظ کاروبار کے لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ(i)یہ کاروبار کے طویل مدتی مفاد میں ہے (ii) کاروبار سماج کے وسائل کو استعمال کرتا ہے (iii) یہ کاروبار کی ایک سماجی ذمہ داری ہے (iv)اس تحفظ کا ایک اخلاقی جواز(Moral Justification) بھی ہے (v) اور اس سے کاروبار کے کام کاج میں حکومت کی مداخلت سے نجات ملتی ہے۔

صارفین کے حقوق (Consumer Rights): ایکٹ برائے تحفظ صارفین 2019نے، صارفین کو چھے حقوق عطا کیے ہیں۔ یہ حقوق حسب ذیل ہیں: (i)حفاظت کا حق(Safety Right) (ii) جانکاری کا حق (iii) پسند کا حق  (iv) سماعت کا حق  (Right to be Heard)  (v) ازالۂ شکایت کا حق  (vi) صارف کی تعلیم کا حق

صارف کی ذمے داریاں (Consumer Responsibilities): ان حقوق کے استعمال اور ان سے استفادے کے ساتھ ساتھ ایک صارف کو سامان خریدنے، استعمال کرنے یا خرچ کرتے وقت اپنی ذمے داریوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

 تحفظ صارفین کے طریقے اور ذرائع (Ways and Means of Consumer Protection): ایسے مختلف طریقے ہیں جن سے صارفین کے مفادات کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ ان طریقوں کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے (i)کاروبار کے ذریعے ضابطہ بندی (Self Regulation by Business)  (ii)  کاروباری انجمنیں(iii) صارفین کی بیداری (iv) صارفین کی تنظیمیں اور (v) حکومت 

ایکٹ برائے تحفظ صارفین کے تحت انسدادی ایجنسیاں(Redressal Agencies under the Consumer Protection Act): قانون تحفظ صارفین 2019کے تحت ضلع، ریاست اور ملک گیر سطح پر ایک سہ سطحی مشینری ازالۂ شکایات کے لیے قائم کی جائے گی۔ ان کو ڈسٹرکٹ فورم، ریاستی کمیشن اور قومی کمیشن کہا جاتا ہے۔ صارفین کی مجاز عدالتیں، سامان کے نقص کو دور کرنے، ناقص مال کو بدلنے ، مال کی قیمت واپس کرنے اور صارف کو ہوئے نقصانات کے لیے معاوضے کی ادائیگی وغیرہ کا حکم دے سکتی ہیں ۔

صارفین کی تنظیمیں اور غیر سرکاری تنظیمیں(Consumer Organisationion and NGOs): ہندوستان میں مختلف صارف تنظیمیں اور غیر سرکاری تنظیمیں ہیں جو صارفین کے مفادات کے تحفظ میں اہم کردار نبھاتی ہیں۔

مشقیں

بہت مختصر جواب 

(1) صارف کے کس حق کے تحت کوئی تجارتی کمپنی کنزیومر شکایتی سیل قائم کرتی ہے؟

(2) زراعتی پروڈکٹس کوالٹی کی تصدیق کے لیے کون سی علامت استعمال کی جاتی ہے؟

(3) ریاستی کمیشن میں دائر کیے جا سکنے والے مقدموں کا دائرہ اختیار کیا ہے؟

(4) CPAکے تحت صارفین کو حاصل ہونے والی دو رعایتیں بتائیے۔

(5) پروڈکٹ مکس کے اس جزو ترکیبی کا نام بتائیے جو صارفین کی اطلاع کے حق کو استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے۔

مختصر جواب

(1) ’صارفین کے حقوق اکیلے اہم نہیں ہیں بلکہ صارفین کی ذمہ داریاں بھی یکساں اہمیت کی حامل ہیں‘؛ وضاحت کریں۔

(2) FSSAI(فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھارٹی آف انڈیا)نے ہوٹلوں اور دیگر ایسی ہی دکانوں کے لیے یہ تجویز پیش کی ہے کہ وہ تمام کھانوں اور پکوانوں میں استعمال کیے جانے والے تیل/چکنائی کی تفصیل اپنے مینو پر بیان کریںاور اس تجویز میں صارف کے جس حق کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے اس کا نام بھی بتایا جائے اور اس کی وضاحت بھی کی جائے ۔

(3) CPA کے مطابق صارف کون ہے؟

(4) کسی شکایت کو درج کرانے کے لیے مصنوعات کا خریدار،مصنوعات کا صارف اور شکایت کنندہ کا ایک ہی شخص ہونا ضروری ہے۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟ توجیہ بیان کریں۔

(5) مصنوعات کی ذمہ داری کا کیا مطلب ہے؟ یہ صارف کو کس طرح راحت حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے؟

طویل جواب

(1) کسی کاروبار کے نقطۂ نظر سے کسی صارف کے تحفظ کی اہمیت کی وضاحت کیجیے۔

(2) صارف کے حقوق اورفرائض (ـذمہ داریوں )کی وضاحت کیجیے۔

(3) کچھ ایسے طریقے بتائیے جن کے ذریعے صارف کے تحفظ کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہو۔

(4) تحفظ صارف ایکٹ 1986 کے تحت صارفین کو حاصل چارہ جوئی کے میکنزم کی وضاحت کیجیے۔

(5) صارفین کے مفادات کے فروغ اور تحفظ کے لیے صارف تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs)کے کردار کو بیان کیجیے۔

(6) مسز ماتھرنے جنوری2018 میں اپنی جیکٹ ایک لانڈری شاپ کو بھیجی۔یہ جیکٹ4500 روپیے میں خریدی گئی تھی۔اس سے پہلے انھوں نے یہ جیکٹ ڈرائی کلینگ کے لیے شاین ڈرائی کلینرس کو دی تھی اور انھوں نے بہت اچھی ڈرائی کلینگ  کی تھی۔بہرحال اس مرتبہ جب جیکٹ ڈرائی کلین کے بعد واپس آئی تو انھوں نے اس سفید دھبوں کے نشان دیکھے۔ انھوں نے ڈرائی کلینر کو اس کی اطلاع دی جواب میں مسز ماتھر کو ایک لیٹر ملا جس میں لکھا تھا کہ جیکٹ میں دھبے ڈرائی کلین کے بعد نمودار ہوئے۔انھوں نے کئی مرتبہ ڈرائی کلینر سے رابطہ قائم کیا اور دھبوں کے لیے ہر جانے کی درخواست کی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔کنزیومر کورٹ کی مداخلت پر شائن ڈرائی کلینرس جیکٹ کے دھبوں پر مسز ماتھر کو 2500 روپیے دینے پر راضی ہو گئے۔

(a) پہلی بار میںمسز ماتھر نے اپنے کس حق کا استعمال کیا؟

(b) اس حق کی وضاحت کیجیے جس کے تحت مسز ماتھر کو ہر جانا حاصل کرنے میں مدد ملی؟

(c) مندرجہ بالا صورت میں مسز ماتھر نے کون سی صارف ذمہ داری کو پورا کیا؟

(d) صارفین کی ایسی دودیگرذمے داریوں کوبتائیے۔

پروجیکٹ کا کام

(1) اپنی بستی میں کسی صارف تنظیم سے رابطہ قائم کیجیے اور ایسے مختلف کاموں کی فہرست بنائیے جو یہ تنظیم انجام دیتی ہے؟

(2) صارفین کے مقدمات اور ان سے متعلق عدالتی فیصلوں کے بارے میں کچھ اخبارات کے تراشے اکٹھا کیجیے۔