ٹھوس حالت (The Solid State)
مقاصد
اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
• ٹھوس حالت کی عام خصوصیات بیان کرسکیں گے
• نقلمی (Amorphous) اور قلمی حالتوں کے درمیان امتیاز کرسکیں گے
• بندشی قوتوں کی نوعیت کی بنیاد پر قلمی (Crystalline) ٹھوسوں کی درجہ بندی کرسکیں گے
• قلم جالی (Crystal Lattice) اور یونٹ سیل کی تعریف بیان کرسکیں گے
• ذرات کی نزدیک پیکنگ کی وضاحت کرسکیں گے
• مختلف قسم کے خلاؤں (Voides) اور نزدیکی طور پر پیک شدہ ڈھانچوں (Close Packed Structures) کی وضاحت کرسکیں گے
• مختلف قسم کے مکعبی یونٹ سیلوں کی پیکنگ لیاقت (Packing efficiency) کی تحسیب کرسکیں گے
•کسی شے(Substance) کی کثافت کا اس کے یونٹ سیل کی خصوصیات کے ساتھ رشتہ بیان کرسکیں گے
• کسی ٹھوس میں پائی جانے والی کمیوں (Imprefections) اور خصوصیات پر ان کے اثرات کو بیان کرسکیں گے
• ٹھوسوں کی مقناطیسی اور برقی خاصیتوں اور ان کی ساختوں کے رشتے کو بیان کرسکیں گے۔
اونچے درجہ حرارت والے سپر کنڈکٹر،حیات دوست پلاسٹک، سلیکان چپس وغیرہ جیسی اکثر ٹھوس اشیا مستقبل میں سائنس کی ترقی اور توسیع میں اہم رول ادا کریں گی۔
اس سے قبل ہم جو کچھ مطالعہ کرچکے ہیں اس کے مطابق رقیق (Liquids)اور گیسوں کو سیال (Fluids)کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں بہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ مائع اور گیس دونوں حالتوں میں جو سیالیّت (Fluidity)ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سالمات (Molecules)ادھر ادھر گھومنے میں آزاد ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف، ٹھوسوں میں ترکیبی ذرات کی پوزیشن معین یا فکسڈ (Fixed)ہوتی ہے اور وہ صرف اپنی وسطی (Mean) پوزیشنوں کے گرد ہی اہتراز کرسکتے ہیں۔ اس بات سے ہمیں ٹھوسوں کی سختی (Rigidity)معلوم ہوجاتی ہے۔یہ خاصتیں ان ٹھوسوں کی ترکیبی ذرات کی نوعیت اور ان کے ذرات کے درمیان عامل بندشی قوتوں پر منحصر ہوتی ہیں۔ خاصیتوں اور ساخت کے درمیان ہم رشتگی، ایسے نئے ٹھوس میٹریل کی کھوج میں مدد کرتی ہے جن میں مطلوب خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طورپر کاربن نینوٹیوب نئے مادّے ہیں جن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ایسے مادّے فراہم کرسکیں جن کی قوت اسٹیل سے زیادہ ہو، جو المونیم سے ہلکی ہوں اور جن کی ایصالی قوت تانبہ سے زیادہ ہو۔ ایسی اشیا سائنس اورمعاشرے کے مستقبل کے فروغ میں توصیحی(توضیحی)کردار اداکرسکتے ہیں۔ کچھ دوسری چیزیں جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں اہم کردار ادا کریں گی ان میں اونچے درجہ کی حرارت والے سپر کنڈ کٹروں (Superconductors)، مقناطیسی میٹریل پیکنگ کے لیے حیاتیاتی طور پر تنزل پذیر پولیمرس (Biodegradable Polymers) اور سرجیکل امپلانٹس (Surgical Implants)کے لیے حیاتیاتی طور پر مطیع ٹھوسوں (Biocompliant Solids)کا نام لیا جاسکتا ہے۔لہٰذا اس حالت کا مطالعہ جدید تناظر میں زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔
اس اکائی میں ہم ذرات کی مختلف امکانی ترتیبوں پر گفتگو کریں گے۔ مختلف قسم کی ساختیں اپنی ترتیبوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہم اس بات کا بھی پتہ لگائیں گے کہ ساختی کمیوں (Structural Imperfections)کے سبب یا پھر بہت معمولی مقدار میں ملاوٹ کی موجودگی کی وجہ سے عام طور پر چھوٹے قلموں (Crystal)یہ ان کی خاصیتوں میں ترمیم ہوجاتی ہے۔
1۔1 ٹھوس حالت کی عمومی خصوصیات
(General Characteristics Of Solid State)
گیارہویں کلاس میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ کوئی بھی مادّہ تین حالتوں میں پایا جاسکتا ہے یعنی ٹھوس، مائع یا گیس کی حالت میں۔ دئیے گئے کسی خاص دباؤ اور خاص درجہئ حرارت کی صورت، کسی شے (Substance) کی ان میں سے کون سی حالت سب سے زیادہ قائم (Stable)ہوتی ہوگی اس کا انحصارمخالف عوامل (Opposing Factors) کے مجموعی اثر(Net Effect)پر ہے۔ یہ بین سالماتی قوتیں ہیں جن میں سالمات (یا ایٹموں یا آئینوں) کو ایک دوسرے سے قریب رکھنے کا رجحان ہوتا ہے اور حرارتی توانائی جن میں ان (سالمات) کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کا رحجان ہوتا ہے کیونکہ یہ توانائی ان سالمات کو تیز تر کردیتی ہے۔ بہت کم درجہئ حرارت پر، حرارتی توانائی کم ہوتی ہے اور بین سالماتی قوتیں ان کو اتنا قریب لے آتی ہیں کہ وہ دوسرے سے چپٹ جاتے ہیں اور مقرر حالتوں (Fixed Positions)پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ یہ اب بھی اپنی وسطی (Mean) حالت پر اہتزاز کرسکتے ہیں اور جب کہ شے(Substance)ٹھوس حالت میں باقی رہ سکتی ہے۔ ٹھوس حالت میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں:
(i) ان کی ایک طے شدہ کمیت ہوتی ہے، حجم ہوتا ہے اور شکل ہوتی ہے۔
(ii) بین سالماتی فاصلے کم ہوتے ہیں۔
(iii) بین سالماتی قوتیں شدید ہوتی ہیں۔
(iv) ان کے ترکیبی ذرات (ایٹم، سالمے یا آین) کی پوزیشنیں مقرر ہوتی ہیں اور وہ اپنے وسطی مقامات پر اہتزاز کرسکتے ہیں۔
(v) وہ داب ناپذیر (Incompressible) اور سخت (Rigid)ہوتے ہیں۔
1.2نقلمی اور قلمی ٹھوس
(Amorphous and Crystalline Solids)
ٹھوسوں کے ترکیبی ذرات کی ترتیب میں جو الحام پایا جاتا ہے اس کی نوعیت کی بنا پر ہی ان کی درجہ بندی قلمی اور نقلمی میں کی گئی ہے۔ ایک قلمی ٹھوس عام طورپر چھوٹے قلموں (Crystals)کی بڑی تعدادپر مشتمل ہوتا ہے اور ان میں سے ہرقلم کی ایک متعین اور مخصوص جیومیٹریائی(Geometrical) شکل ہوتی ہے۔ ایک قلم کے اندر ترکیبی ذرات(ایٹم، سالمات یا آین) کی ترتیب ایک نظام کے تحت ہوتی ہے۔ اوریہ سہ ابعاد میں دہرائے جاتے ہیں اگرہم قلم کے ایک حصّہ میں اس ترتیب کا مطالعہ کریں تو ہم کسی بھی ذرّہ کے مقام کی، قلم کے کسی دوسرے حصّہ میں بے کم وکاست پیشین گوئی کرسکتے ہیں۔خواہ وہ مشاہدہ کرنے والی جگہ سے کتنی ہی دوری پر کیوں نہ ہو۔ اس طرح قلم اور اس کے وسیع نظام کا مطلب یہ ہوتاہے کہ ذرات کی ترتیب میں ایک مقررہ نمونہ(Regular Pattern)پایا جاتاہے اور تمام قلم پر دوری کے اعتبار سے اس کی تکرار ہوتی رہتی ہے۔
شکل 1.1(a) شکل کوارٹرز اور (b) کوارٹز گلاس کی دو بعدی ساخت
سوڈیم کلورائڈ اور کوارٹز قلمی ٹھوس کی خصوصی مثالیں ہیں۔شیشہ،ربر اوربہت سے پلاسٹک قلم نہیں بناتے جب ان کے رقیقوں کو ٹھنڈا کرکے ٹھوس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ان کونقلمی(Amorphouse)ٹھوس کہا جاتا ہے۔ایک نقلمی ٹھوس بے قاعدہ (Irregular)شکل کے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایسے کسی ٹھوس میں، ترکیبی ذرات (ایٹم، سالمات یا آین) کی ترتیب کا نظام (Order) بہت محدود پیمانے پر ہوتا ہے۔ اس قسم کی کسی ترتیب میں ایک باقاعدہ (Regular)اور دوری طور پر تکراری ترتیب (Pattern)کی صرف مختصر فاصلوں پر ہی نظرآتی ہے۔باقاعدہ ترتیب بکھرے ہوئے یا منتشر ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ترتیب غیر منظم (Disordered)ہوتی ہے، کوارٹز (قلمی) اور کوارٹز گلاس (نقلمی) کی بناوٹ کو بالترتیب شکل1.1(a) اور (b) میں دکھایا گیا ہے۔ دونوں کے ڈھانچے یکساں ہیں لیکن نقلمی کوارٹز گلاس کے معاملے میں کوئی بڑے پیمانے کا نظام نہیں ہے۔ نقلمی ٹھوسوں کاڈھانچہ مائعات کے ڈھانچہ جیسا ہے۔ ترکیبی ذرات کی ترتیب میں اختلافات کی بنا پر، ان دونوں قسم کی ٹھوسوں کی خاصیتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔
قلمی ٹھوسوں کا نقطہئ گداخت بہت تیز (Sharp)ہوتاہے۔ ایک مخصوص درجہئ حرارت پر یہ یکایک پگھل جاتے ہیں اور رقیق میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے برخلاف نقلمی ٹھوس درجہئ حرارت کے ایک سلسلے (Range)پر نرم ہوجاتے ہیں اورپگھل کربہنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کو مختلف شکلوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ نقلمی ٹھوس کی ساختی خصوصیات رقیق جیسی ہی ہوتی ہیں اور اسی لیے ہم انھیں آسانی کے ساتھ بہت گاڑھے/نیم سیال سمجھ سکتے ہیں اوریہ کسی درجہئ حرارت پر پہنچ کر قلمی بنسکتے ہیں۔ قدیم تہذیبوں کی کانچ کی بنی ہوئی کچھ ایسی اشیاء دستیاب ہوئی ہیں جن کی ظاہری شکل قلماؤ کی وجہ سے دودھیا (Milky)لگتی ہے۔ مائعات (Liquids)کی طرح نقلمی ٹھوسوں میں بہنے کا رجحان ہوتا ہے۔ اگر چہ یہ بہاؤ کا رجحان بہت سست رفتار ہوتا ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی ان کو نقلی ٹھوس (Pseudo Solids) یا اعلیٰ سرد مائعات (Super Cooled Liquids)بھی کہا جاتا ہے۔
شکل 1.2 قلموں میں اختلاف اطراف (Anistoropy)مختلف جہات میں ذرات کی مختلف ترتیب کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
نقلمی ٹھوس اپنی فطرت میں ہم طرف(Isotropic) ہوتے ہیں۔ان کی خصوصیات جیسے کہ میکانی قوت، انعطاف نما (Refrective Index) اور موصلیت (Conductivity)وغیرہ ہرسمت میں یکساں ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں لمبی رینج (Long Range) کاکوئی سلسلہ نہیں ہوتا اور تمام اطراف، جہات میں ذرات کی ترتیب باقاعدہ نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا کل ترتیب ہرسمت سے معاول (Equivalent) ہوجاتی ہے۔اسی لیے، کسی بھی طبعی خاصیت کی قدر (Value of Propety) ہر جہت میں یکساں ہوتی ہے۔
جدول -1.1قلمی اور نقلمی ٹھوسوں کے درمیان امتیازات
| نقلمی ٹھوس |
قلمی ٹھوس |
خاصیت |
بے قاعدہ شکل درجہ حرارت کی ایک رینج پر بتدریج نرم ہوجاتا ہے جب کسی تیز دھار دار آلے سے کاٹا جائے تو دوٹکڑوں میںقطع ہوجاتے ہیں لیکن سطحیں بے قاعدہ (Irregular) ہوتی ہیں ان کے گداخت کی اینتھالپی متعین نہیں ہوتی اپنی فطرت میں ہم طرف ہوتے ہیں نقلی (Pseudo)ٹھوس یا اعلیٰ سرد مائعات صرف مختصر رینج کا نظام
|
متعین خصوص ہند کی شکل ایک تیز اور مخصوص درجۂ حرارت پر پگھل جاتا ہے جب کسی تیز دھار دار آلہ سے قطع کیا جائے تو وہ دو ٹکڑوں میںکٹ جاتے ہیں اور نئی پیدا ہونے والی سطحیں ہموار اور چکنی ہوتی ہیں ان کے گداخت کے لیے اینتھالپی متعین اور مخصوص ہوتی ہے یہ اپنی فطرت میں مختلف الاطراف ہوتے ہیں اصلی ٹھوس (True Solids) لمبی رینج کا نظام
|
شکل نقطۂ گداخت شکستگی(Cleavage)کی خاصیت گداخت کی اینتھالپی (Heat of fusion) مختلف الاطرافی (Anisotrorpy) فطرت ترکیبی ذرات میں نظام ترتیب
|
قلمی ٹھوس اپنی فطرت میں مختلف الاطراف (Anisotropic)ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انہی قلموں میں مختلف جہات کے ساتھ ان کو نا پا جاتا ہے تو ان کے طبعی خواص جیسے برقی مزاحمت یا انعطاف نما (Refractive Index)مختلف قدروں (Values) کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسا مختلف جہتوں میں ذرات کی مختلف ترتیب (Arrangement)کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس بات کو شکل1.2میں دکھا گیا ہے۔یہ شکل دوقسم کے ایٹموں کے دوابعادی ترتیب کو ظاہرکرتی ہے۔ میکانیکی خصوصیات جیسے کہ شیرنگ اسٹریس (shearing stres)کے تئیں مزاحمت دوسمتوں میں بہت مختلف ہوسکتی ہیں جوشکل میں دکھائی گئی ہیں۔CDسمت میں بناوٹ کا نقص قطار کے ایٹموں کوہٹادیتا ہے جس میں دومختلف قسم کے ایٹم ہوتے ہیں۔ جبکہ ABسمت میں قطار میں ایک ہی قسم کے ایٹم ہوتے ہیں۔ اس فرق کا جدول 1.1میں خلاصہ کیا گیا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
1.1 ٹھوس، سخت (Rigid)کیو ں ہوتے ہیں؟
1.2 ٹھوسوں کا ایک متعین حجم کیو ں ہوتا ہے؟
1.3 درج ذیل کی قلمی اور نقلمی ٹھوسوں میں درجہ بندی کیجیے: پولی یوریتھین (Polyurethane)، نفتالین (Naphthalene)، بینزوئک ایسڈ (Benzoic Acid)، ٹیفلون (Teflon)، پوٹا شیم نائٹریٹ، سیلوفین (Cellophane)، پالی ونائل، کلورائڈ، فائبر گلاس، کاپر۔
1.4 کسی ٹھوس کے تمام اطراف میں ایک ہی قدر حاصل کرنے کے لیے اس کے انعطاف نما کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اس ٹھوس کی نوعیت پر تبصرہ کیجیے۔ کیا یہ شکستگی (Cleavage) کی خصوصیت کو ظاہر کرے گا؟
قلمی اورنقلمی ٹھوس مادّوں کے علاوہ کچھ ایسے ٹھوس بھی ہوتے ہیں جوبظاہرنقلمی نظرآتے ہیں لیکن ان کی ساخت خورد قلمیں ہوتی ہیں۔ ان کو کثیر قلمی ٹھوس کہاجاتا ہے۔ دھاتیں عام طورپر کثیرقلمی حالتوں میں پائی جاتی ہیں۔ منفرد قلمیں بے ترتیب رخ پر تعین ہوتی ہیں لہٰذا ایک دھاتی نمونہ ہم رخی(Isotropic)نظرآسکتا ہے اگرچہ ایک منفرد قلم غیرہم رخی(Anisotropic)ہوتی ہے۔
نقلمی ٹھوس مفید اشیا (Materials)ہیں۔ کانچ، ربر اورپلاسٹک کا استعمال آج ہماری روز مرہ کی زندگی میں بہت بڑھ چکا ہے۔ سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کے لیے نقلمی سلی کون ایک بہترین اور دستیاب فوٹو وولٹائی (Photovoltaic)شے ہے۔
1.3 قلمی ٹھوسوں کی درجہ بندی
(Classification of Crystalline Solids)
سیکشن1.2میں ہم نے نقلمی اشیاء (Substance)کے بارے میں پڑھا کہ ان کا نظام مختصر رینج کا ہوتا ہے۔ ٹھوس اشیاء (Solid Substances)اپنی فطرت میں اکثر قلمی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر تمام دھاتی عناصر جیسے لوہا، کاپر اور سلور اور اسی طرح غیر دھاتی عناصر جیسے سلفر، فاسفورس اور ایوڈین نیز مرکبات جیسے سوڈیم کلورائڈ، زنک سلفائڈ اور نفتالین (Naphthalane)َؓقلمی ٹھوس بناتے ہیں۔
قلمی دھاتوں کی درجہ بندی مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ یہ طریقہ ہمارے مقصد پرمنحصر ہوتا ہے یہاں ہم ٹھوس اشیا کو ان بین سالماتی (Intermolecular Process)قوتوں کی نوعیت کی بنیاد پر درجہ بندکریں گے۔ یا ان گرفتوں پرجوتشکیلی ذرات کوباندھ کر رکھتے ہیں۔ یہ ہوتے ہیں -(i)ونڈروال قوتیں؛(ii)آینی گرفت؛(iii)ہم شرکتی گرفت؛(iv)دھاتی گرفت۔اس بنیاد پر ٹھوس چار زمروں یعنی سالماتی، آیونک،ملزاتی (Metallic)اور شریک گرفت (Covalent) میں کی جاتی ہے۔ اب ہم ان زمروں (Categories)کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔
1.3.1سالماتی ٹھوس
(Molecular Solids)
سالمات، سالماتی ٹھوسوں کے ترکیبی ذرات ہوتے ہیں۔ ان کی ذیلی درجہ بندی درج ذیل زمروں میں کی جاتی ہے۔
(i) غیر قطبی سالماتی ٹھوس (Non Polar Molecular Solides): یہ ٹھوس یا تو ایٹموں جیسے ارگن اورہیلیم پرمشتمل ہوتے ہیں یا ان سالمات پرمشتمل ہوتے جن کی تشکیل غیر قطبی شریک گرفتی بندشوں سے ہیں جیسےH2, CI2,اورI2۔ ان ٹھوسوں میں، کمزور انتشاری قوتیں (Dispersion Forces) یا لندن قوتیں،جن کے بارے میں آپ کلاسXIمیں پڑھ چکے ہیں، ایٹموں اورسالمات کو باندھے رکھتی ہیں۔ یہ ٹھوس نرم ہوتے ہیں اور غیر موصل ہوتے ہیں ان کا نقطہئ گداخت کم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر کمرے کے درجہئ حرارت اور دباؤ پر مائع یا گیسی حالت میں ہوتے ہیں۔
(ii) قطبی سالماتی ٹھوس: HC1, SO2وغیرہ جیسی اشیاء (Substances)کے سالمات کی تشکیل قطبی شریک گرفتی بندشوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ ان ٹھوسوں میں سالمات نسبتاً طاقتور(Dipole-dipole) تعاملوں سے بندھے رہتے ہیں یہ ٹھوس نرم اور غیر موصل ہوتے ہیں ان کا نقطہئ گداخت غیر قطبی سالماتی ٹھوسوں کے مقابلے اونچاہوتا ہے پھر بھی ان میں سے اکثر کمرے کے درجہ حرارت اور دباؤ پر گیسی یا مائع حالت میں ہوتے ہیں۔ٹھوسSO2اورٹھوسNH3اسی قسم کے ٹھوسوں کی مثالیں ہیں۔
(iii) ہائڈورجن سے بندھے سالماتی ٹھوس: اس قسم کے ٹھوسوں کے سالمات، Hاور F،Oیا Nایٹموں کے درمیان قطبی شریک گرفتی بندشوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مضبوط ہائیڈروجن بندش، H2O(برف) جیسے ٹھوسوں کے سالمات کو باندھے رکھتی ہے…… یہ غیر موصل ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ کمرے کے درجہئ حرارت اور دباؤ پرطیران پذیر (Volatile)مائع یا نرم ٹھوس ہوتے ہیں۔
1.3.2 آئینی ٹھوس
(Ionic Solids)
آین، آیونک ٹھوسوں کے ترکیبی ذرات ہوتے ہیں۔ یہ ٹھوس، کیٹانیوں اور اینانیوں کی تین ابعادی ترتیبوں سے تشکیل پانے میں جو مضبوط کولمبی (الیکٹرواسٹیٹک۔(برقی سکونی)) قوتوں سے بندھے ہوتے ہیں۔ یہ ٹھوس اپنی فطرت میں سخت اور پھوٹک (Brittle)ہوتے ہیں۔ ان کا نقطہئ گداخت اور نقطہئ جوش (Boiling Point)اونچا ہوتا ہے۔ چونکہ آین ادھر اُدھر حرکت میں آزاد نہیں ہوتے اس لیے وہ ٹھوس حالت میں برقی حاجز(Electrical Insulator)ہوتے ہیں۔ بہر حال، پگھلی ہوئی حالت میں یا پانی میں حل شدہ حالت میں، آین ادھر ادھر حرکت کرنے میں آزاد ہوتے ہیں اور پھر وہ برقی موصل بھی ہوتے ہیں۔
1.3.3 دھاتی ٹھوس (Metallic Solids)
دھاتیں،بے شمار آزادالیکٹرونوں سے گھرے اور باہم بندھے مثبت آینوں کی منظم مجموعہ(Orderly Collection) ہوتی ہیں۔یہ الیکٹرون متحرک (Moblile)ہوتے ہیں اور تمام قلم پر واضح طور پر پھیلے ہوتے ہیں۔ ہر دھاتی ایٹم، متحرک الیکٹرونوں کے اس سمندر میں ایک یا ایک سے زیادہ الیکٹرونوں کا اضافہ کردیتا ہے۔ یہی آزاد اورمتحرک الیکٹرون، دھاتوں کی اونچی، برقی اور حرارتی (Thermal) موصلیت (Conducitvity) کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ جب کسی برقی فیلڈ کااستعمال کیا جاتا ہے تو یہ الیکٹرون مثبت آینوں کے تمام نیٹ ورک میں بہنے لگتے ہیں۔ اسی طرح جب دھات کے کسی حصے کو حرارت پہنچائی جاتی ہے تو آزاد الیکٹرونوں کے ذریعہ حرارتی توانائی یکساں طور پر ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔ دھاتوں کی ایک اور خصوصیت کچھ حالات میں ان کی چمک اوررنگ الگ ہوتا ہے۔ایسا ان کے اندر موجود الیکٹرونوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دھاتیں اونچے پیمانے پر متروق اور تمدد پذیر (Malleable and Ductile) ہوتی ہیں۔
1.3.4 شریک گرفتی یا نیٹ ورک ٹھوس
(Covalent or Network solids)
غیر دھاتی قلمی ٹھوس پورے قلم پر ہمسایہ ایٹموں کے درمیان شریک گرفتی بندشوں کی تشکیل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ان کو ”عظیم سالمات“(Giant Molecules)بھی کہا جاتا ہے۔ شریک گرفتی بندشیں مضبوط ہوتی ہیں اور اپنی فطرت ”جہت نما“ (Directional)ہوتی ہیں اسی لیے ایٹم اپنی اپنی پوزیشنوں پر مضبوطی سے بندھے ہوتے ہیں۔ ایسے ٹھوس بہت سخت اور پھوٹک ہوتے ہیں۔ ان کے نقطہئ گداخت بہت اونچے ہوتے ہیں اور وہ پگھلنے سے تحلیل بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ حاجز ہوتے ہیں اور بجلی کا ایصال نہیں کرتے۔ ڈائمنڈ (شکل1.3) اور سلیکون کاربائڈ ایسے ٹھوسوں کی مخصوص مثالیں ہیں۔ جس کے بارے میں درجہ نہم میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں۔ گریفائٹ یہ بھی قلموں کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے لیکن یہ نرم ہوتا ہے اور بجلی کا موصل ہے۔ اس کے ممتاز خواص اس کی مخصوص ساخت کی وجہ سے ہی ہیں۔ شکل(1.4) کاربن کے ایٹموں کی ترتیب مختلف پرتوں میں ہوتی ہے اور ہر ایٹم ہر پرت میں اپنے تین پڑوسی ایٹموں کے ساتھ شریک گرفتی طورپر بندھا ہوتا ہے۔ ہرایٹم کا چوتھا گرفتی الیکٹرون مختلف پرتوں کے درمیان موجود ہوتا ہے اور ادھر ادھر حرکت کرنے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔ ان آزاد الیکٹرونوں کی وجہ سے گریفائٹ بجلی کا ایک اچھا موصل ہوتا ہے۔ مختلف پرتیں ایک دوسرے پر پھسل سکتی ہیں (Slide)۔ اس کی وجہ سے گریفائٹ ایک نرم ٹھوس اور ایک اچھا ٹھوس مدہن(Solid Lubricant)ہوتا ہے۔

شکل 1.3: ڈائمنڈ کی نیٹ ورک ساخت شکل 1.4: گریفائٹ کی ساخت
چاروں طرح کے ٹھوسوں کی مختلف خاصیتیں جدول1.2میں دی گئی ہیں
جدول 1.2 ٹھوسوں کی مختلف اقسام
| ٹھوس کی قسم |
ترکیبی ذرات |
بندشی کششی قوتیں |
مثالیں |
طبیعی فطرت |
برقی موصلیت |
نقطۂ گداخت |
(i) غیر قطبی
(ii) قطبی (iii)ہائڈروجن بندش
2۔ آینی ٹھوس
3۔دھاتی ٹھوس
4. شریگ گرفتی یا نیٹ ورک ٹھوس |
سالمات
ڈائی پول۔
ہائڈروجن بند
آین
ڈی لوکلائزڈ الیکٹرونوں کے سمندر میں مثبت آین
ایٹم
|
انتشار یا لندن قوتیں
ڈائی پول تعامل
(برف)H2O
کولمبی یا الیکٹرواسٹیٹک
دھاتی بندش
شریک گرفتی بندش
|
Ar, CCl4, H2, l2, CO2
HCl, SO2
سخت
NaCl, MgO, ZnS, CaF2
Fe, Cu, Ag, Mg
(کوارٹز) SiO2, SiC, C (ڈائمنڈ)AIN (گریفائٹ)C
|
نرم
نرم
حاجز
سخت لیکن پھوٹک
سخت لیکن متروق اور تمدد پذیر سخت نرم
|
حاجز
حاجز
کم
سخت حالت میں حاجز لیکن پگھلی ہوئی حالت
ٹھوس اور پگھلی ہوئی حالت موصول(استثنا)
|
بہت کم
کم
اونچا
خاصا اونچا بہت اونچا
|
متن پر مبنی سوالات
1.5 درج ذیل ٹھوسوں کی مختلف زمروں میں درجہ بندی ان کے اندر کار فرما بین سالماتی قوتوں کی بنیاد پر کیجیے۔
پوٹا شیم سلفیٹ، ٹن، بینزین، یوریا، امونیا، پانی، زنک، سلفائڈ، گریفائٹ، روبی ڈیم،آرگن، سلی کون کار بائڈ۔
1.6 ٹھوس A، ٹھوس اور پگھلی ہوئی دونوں حالتوں میں بہت سخت برقی موصل ہے اور بہت ہی اونچے درجہئ حرارت پر پگھلتا ہے۔ یہ کس قسم کا ٹھوس ہے؟
1.7 آیونک ٹھوس پگھلی ہوئی حالت میں برق کا ایصال کرتے ہیں لیکن ٹھوس حالت میں نہیں کرتے۔ وضاحت کیجیے۔
1.8 کس ٹائپ کے ٹھوس برقی موصل، متروق اور تمدد پذیر ہوتے ہیں؟
1.4 قلم کی جالیاں اور یونٹ سیلز
(Crystal Lattices and Unit Cells)
آپ نے نوٹس کیا ہوگا کہ جب فرش پر ٹائلز لگاتے ہیں تو وہ ایک تکراری نمونہ بناتے ہیں۔ اگرزمین پر ٹائلز سیٹ کرنے کے بعد ہم ہرایک ٹائل کے ایک ہی مقام پر ایک نقطہ لگادیں (مثال کے طورپر ٹائل کے مرکزپر) اورٹائلز کونظرانداز کرتے ہوئے صرف نقطوں کودیکھیں تو ہمیں نقطوں کا ایک سیٹ نظرآئے گا۔ نقطوں کا یہ سیٹ ایک مچان ہے جس پر ٹائلز کورکھ کرنمونے کوبنایاگیا ہے۔ نقطوں کا یہ سیٹ ایک خلائی جالی ہے جس پر ساختی اکائیوں (ٹائلز)کورکھ کرذوابعادی نمونہ بنایاگیا ہے۔ساختی اکائی کو بنیاد یا حاشیہ (موٹِف Motif) کہتے ہیں۔جب حاشیہ کوخلائی جالی میں نقطوں کے اوپررکھاجاتا ہے تونمونہ تیارہوتاہے۔قلمی ساخت میں حاشیہ ایک سالمہ، ایک ایٹم یا آین ہوتاہے۔ خلائی جالی جوقلمی جالی بھی کہلاتی ہے نقطوں کا نمونہ ہے جو حاشیہ کے مقام کو ظاہرکرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں قلمی ساخت کے لیے خلائی جالی ایک مجرد حاشیہ ہے۔ جب ہم خلائی جالی کے نقطوں پرحاشیوں کومماثل طریقہ سے رکھتے ہیں تو ہمیں قلم حاصل ہوتی ہے۔ تصویر 1.5میں ایک حاشیہ دکھایاگیا ہے ایک ذوابعادی جالی اورایک مفروضہ ذوابعادی قلمی ساخت جس کوذوابعادی جالی پر حاشیوں کورکھ کر حاصل کیاگیا ہے۔

جالی کا نقطہ
(a)قلم کی ساخت بنانے والے موٹِف (حاشیہ)
(b) خلائی جالی یا قلم جالی
جالی کا نقطہ
جالی کا نقطہ
(c)قلمی ساخت کا ذوابعادی مفروضہ
شکل 1.5: (a)موٹِف(حاشیہ)(b)خلائی جالی(c)قلمی ساخت کا ذوابعادی مفروضہ
جالی کے نقطوں کی مخصوص ترتیب سے مختلف قسم کی جالیاں بنتی ہیں۔شکل 1.6میں دومختلف قسم کی جالیوں میں نقطوں کی ترتیب دکھائی گئی ہے۔
شکل1.11: ذومختلف جالیوں میں نقطوں کی ترتیب
قلمی ٹھوس میں خلائی جالی سہ ابعادی ہوتی ہے۔ قلمی ٹھوس ساختی حاشیوں کوجالی نقطوں سے وابستہ کرکے حاصل ہوتے ہیں۔ہرایک تکراری بنیاد یا حاشیہ کی ساخت ایک جیسی ہوتی ہے اوران کا مخصوص ماحول ہوتا ہے جیسا کہ قلم میں دوسرے کا ہوتا ہے۔ ہرحاشیہ کا ماحول پورےقلم میں یکساں ہوتا ہے سوائے سطح کے۔
قلمی جالی کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
(a) جالی کا ہرنقطہ یا قلم نقطہ کہلاتی ہے۔
(b) قلم جالی میں ہرنقطہ ایک جزوی ذرہ کو ظاہرکرتا ہے جوایک ایٹم، سالمہ(ایٹموں کا گروہ)یا آئن ہوسکتاہے۔
(c) جالی کے نقطوں کوسیدھی لائنوں سے جوڑکر جالی کی جیومیٹری بنائی جاتی ہے۔
ہمیں قلم کومکمل طورپر بیان کرنے کے لیے قلم کی خلائی جالی کے محض چھوٹے سے حصّہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چھوٹا سا حصّہ اکائی خلیہ(Unit cell)کہلاتاہے۔اکائی سیل کومختلف طریقوں سے چناجاسکتا ہے۔عام طورپر اس خلیہ کوچناجاتا ہے جس کی عمودی سطحوں کی لمبائی سب سے کم ہو اور سہ ابعادمیں اکائی خلیہ کے انتقال/منتقلی سے ہم پوری قلم تیارکرسکتے ہیں۔ شکل1.7میں پوری قلم کی ساخت تیارکرنے کے لیے ذوابعادجالی کے اکائی خلیوں کی حرکت دکھائی گئی ہے۔اکائی خلیوں کی وضع ایسی ہے کہ وہ بغیر خلیوں کے درمیان جگہ چھوڑے ہوئے جالی کی پوری جگہ کو پُر کردیں گے۔
اکائی خلیہ
شکل1.7: تیروں کی سمت میں مربع کو منتقل کرکے ایک مفروضہ ذوابعادی قلمی ساخت کی تیاری
ذوابعاد میں ایک متوازی الضلاع کو جس کے رخ کی لمبائی ’a‘اور’b‘ہے اوران کے درمیان کا زاویہ Yہے،کو ایک اکائی خلیہ کے طورپر چناگیا۔ ذوابعادی میں ممکنہ اکائی خلیہ شکل1.8میں دکھائے گئے ہیں۔
جالی نقطہ
جالی نقطہ
اکائی خلیہ
شکل1.8: ذوابعادمیں ممکنہ اکائی خلیے
شکل 1.9: تین ابعادی مکعبی جالی اور اس کا یونٹ سیل
شکل 1.10 : ایک یونٹ سیل کے پیرامیٹرس کی وضاحت
سہ ابعاد قلم جالی اوراس کے اکائی خلیہ شکل1.9 میں دکھائے گئے ہیں۔
ایک سہ ابعاد قلمی ساخت میں ایک یونٹ سیل کی خصوصیات یہ ہیں:
(i) اس کے ابعاد اس کے تینوں کناروں یعنیa,bاور cہیں۔ یہ کنارے آپس میں عمودی ہوبھی سکتے ہیں اور نہیں بھی ہوسکتے ہیں۔
(ii) کناروں کے بیچ زاویے،a(bاورc) کے درمیان)b(aاورCکے درمیان) اورy(aاورbکے درمیان)۔ اس طرح ایک یونٹ کے چھ پیرا میٹرc,b,a b,اور yہوتے ہیں۔ ایک مخصوص یونٹ سیل کے یہ پیرا میٹر شکل 1.10میں دکھائے گئے ہیں۔
1.4.1 ابتدائی اور وسطی یونٹ سیل
(Primitive and Centerd Unit cells)
یونٹ سیلز کو موٹے طورپر دوزمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ابتدائی اور وسطی یونٹ سیلز میں۔
(a) ابتدائی یونٹ سیلز
جب ترکیبی ذرات ایک یونٹ سیل کی صرف کارنر پوزیشن پر ہوں تو اسے ابتدائی یونٹ سیل (Primitive Unit Cell)کہا جاتاہے۔
(b) وسطی یونٹ سیلز(Centred Unit Cells)
جب ایک یا ایک سے زیادہ ترکیبی ذرات کسی یونٹ سیل میں کارنروں کے علاوہ دوسری جگہوں پر موجود ہوں تو اس کو وسطی یونٹ سیل کہا جاتا ہے۔ وسطی یونٹ سیل تین ٹائپ کے ہوتے ہیں۔
(i) جسم۔ وسطی یونٹ سیلز(Body-Centred Unit Celles): ایسے یونٹ سیل میں ایک ترکیبی ذرّہ (ایٹم، سالمہ یا آین) جو اس کی باڈی سینٹر پر ہوتا ہے اور یہ ان کے علاوہ ہوتا ہے اس کے کارنروں پر ہوتے ہیں۔
(ii) رخ مرکزی یونٹ سیلز(Face-Centred Unit Cells): ایسے یونٹ سیل میں ایک ترکیبی ذرّہ ہر چہرہ کے وسط میں ہوتا ہے اور جو ان کے علاوہ ہوتا ہے جو کارنروں پر ہوتے ہیں۔
(ii) ختم۔ وسطی یونٹ سیلز (End- Centred Unit Cells): ایسے یونٹ سیل میں ایک ترکیبی ذرہ کسی بھی دو مخالف چہروں کے وسط میں موجود ہوتا ہے اور یہ ان کے علاوہ ہوتا ہے جو اس کے کارنروں پر ہوتے ہیں۔
مختلف قسم کے قلموں کے معائنہ سے اس نتیجہ پر پہنچاگیا کہ یہ تمام سات منضبط شکلوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بنیادی منضبط شکلیں سات قلمی نظام کہلاتی ہیں۔ دیا ہوا قلم کس نظام سے تعلق رکھتا ہے یہ اس کے دورخوں کے درمیان زاویوں کوناپ کرکیا جاسکتا ہے اوریہ طے کرنا کہ اس کی ہیئت کی نمایاں خصوصیات کومتعارف کرنے کے لیے کتنے محوروں کی ضرورت ہوگی۔
آرتھورومبک
ٹرائ گونل
کمعبی
ٹرائی کلینک
رومبوہیڈرل
ہیکسا گونل
مونو کلینک
شکل1.11: سات قلمی نظاموں کودکھاتا ہے
ایک فرانسیسی ریاضی داں برویز(Bravais)نے بتایا کہ سہ ابعادی جالیاں صرف14ہوسکتی ہیں ان کوبرویزجالیاں کہاجاتا ہے۔ان جالیوں کے اکائی خلیوں کودرج ذیل باکس میں دکھایاگیا ہے۔جن وسطی یونٹ سیلز کی یہ تشکیل کرتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کی خصوصیات کو جدول1.3میں بیان کیا گیا ہے۔
جدول 1.3 سات ابتدائی یونٹ سیلز اور وسطی یونٹ سیلز کی حیثیت سے ان کے ممکنہ تغیرات (Variations)
| نظام قلم |
ممکنہ تغیرات |
محوری فاصلے یکناری |
محوری زاویے |
مثالیں |
| مکعبی |
ابتدائی جسم۔وسطی چہرہ ۔ وسطی
|
a = b = c |
α = β = ϒ = 90° |
NacI, Zinc blend, Cu |
| چوگوشی |
ابتدائی جسم۔وسطی |
a = b≠c |
α = β = ϒ = 90° |
سفید ٹن، سلفر، SnO2، TiO2، CaSO4 |
| آرتھو رومبک |
ابتدائی جسم۔وسطی چہرہ۔وسطی ختم۔وسطی
|
a≠ b ≠ c |
α = β = ϒ = 90° |
رومبک سلفر KNO3، BaSO4
|
| شش گوشی |
ابتدائی |
a = b ≠ c |
α = β = 90° ϒ = 120° |
گریفائٹ ZnO، CdS
|
| رومبو ہیڈرل یاٹرائی گونل |
ابتدائی |
a = b = c |
α = β = ϒ ≠ 90° |
کیلسائٹ (CaCO3) (HgS (Cinnabar
|
یک رخی (Monoclinic) |
ابتدائی ختم۔وسطی
|
a≠ b ≠ c |
α = ϒ = 90° β ≠ 120°
|
مونو کلنک سلفر 10H2O،Na2SO4
|
| سہ رخی (Triclinic) |
ابتدائی |
a≠ b ≠ c |
α ≠ β ≠ ϒ ≠ 90° |
K2Cr2،5H2O، CuSO4، H3BO3 |
بریویز جالیوں کے چودہ طرح کے یونٹ سیلز Unit Cells of 14 Types of Bravais Lattices
رخ۔مرکزی
جسم۔مرکزی
ابتدائی
تین مکعبی لیٹس کے اکائی خلیے:سبھی اضلاع کی لمبائی یکساں ہے۔ رخوں کے درمیان کے زاسیے °90 کے ہیں
جسم ۔مرکزی
ابتدائی
دوٹیٹرا گونل جالیوں کے اکائی خلیے: ایک ضلع لمبائی کے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہے۔ رخوں کے درمیان دونوں زاویے °90کے ہیں۔
رخ۔مرکزی
جسم۔مرکزی
ختم۔وسطی
ابتدائی
چار آرتھورومبک لیٹس کے اکائی خلیے : غیر مساوی اضلاح، رخوں کے درمیان کے زاویے °90 کے ہیں۔
ختم۔وسطی
ابتدائی
90° سے زیادہ
90° سےکم
رومبو ہیڈرل لیٹس کا اکائی خلیہ: سبھی اضلاع کی لمبائیاں مساوی ہیں۔ دونوں رخوں کے زاویے °90 سے کم ہیں۔
ہیکساگونل لیٹس کا اکائی خلیہ : دونوں اضلاع ایک ضلع کی لمبائی دوسرے سے مختلف ہے۔ دونوں رخوں کے زاویے°90 کے ہیں۔
ٹرائی کلینک لیکٹس کا اکائی خلیہ:a،b،c اضلاع غیرمساوی ہیںA،BاورCغیرمساوی زاویے ہیں کوئی بھی °90 کے برابر نہیں ہے۔
1.5 ایک یونٹ سیل میں ایٹموں کی تعداد
(Number of Atoms in Unit Cell)
ہم جانتے ہیں کہ ایک قلم کی جالی بہت سے یونٹ سیلز سے بنتی ہے اور جالی کے ہر نقطہ پر کسی ترکیبی ذرے (ایٹم، سالمہ یا آین) کا قبضہ ہوتا ہے۔ اب ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ ہر ذرے کا کون سا حصہ کسی مخصوص یونٹ سیل سے متعلق ہوتا ہے۔
ہم مکعبی یونٹ سیلز کے تینوں قسموں کا تذکرہ کریں گے اور بات کو سادہ طور پر بیان کرنے کے لیے یہ مان کرچلیں گے کہ ترکیبی ذرہ ایک ایٹم معلوم ہوتا ہے۔
1.5.1 ابتدائی مکعبی یونٹ سیل ( Primitive Cubic Unit Cell)
شکل 1.12: ایک سادہ مکعبی یونٹ سیل میں ہرکارنر ایٹم8یونٹ سیلز میں بٹا ہوتا ہے
شکل 1.13:ایک ابتدائی مکعبی یونٹ سیل(A Primitive Cubic Unit Cell)(a)کھلی ساخت (b)جگہ پُر کرنے والی ساخت (c)کسی یونٹ سیل سے تعلق رکھنے والے ایٹموں کے حقیقی حصے
ابتدائی مکعبی یونٹ سیل کے ایٹم صرف کارنر پر ہوتے ہیں۔ کارنر کا ہر ایٹم آٹھ ہمسایہ یونٹ سیلز کے درمیان بٹا ہوتا ہے (دیکھیے شکل 1.12)۔ اس میں سے چار یونٹ سیل اسی پرت میں اور چار یونٹ سیل اوپری (یا نچلی) پرت کے ہوتے ہیں۔ اس طرح صرف1/8ایٹم، سالمہ یا آین) حقیقت میں کسی مخصوص یونٹ سیل سے متعلق ہوتا ہے۔ شکل1.13میں ایک ابتدائی مکعبی یونٹ سیل کو تین مختلف طریقوں سے دکھایا گیا ہے۔ شکل1.13(a)کا ہر گولا صرف ذرے کے اس مرکزکو دکھاتا ہے جس پر وہ قابض ہے اور اس کے حقیقی سائز کو نہیں دکھلاتا۔ ایسی ساختوں (Structures)کو کھلی ساختیں (Open Structures)کہتے ہیں۔ ذرات کی ترتیب کو کھلی ساختوں میں سمجھنا آسان ہے۔ شکل1.13(b)میں یونٹ سیل کی جگہ کو پر کرنے والی ساخت اور ذرے کے حقیقی سائز کو دکھایا گیا ہے۔ شکل1.13(c)میں مکعبی یونٹ سیل میں موجود مختلف ایٹموں کے حقیقی حصوں کو دکھایا گیا ہے۔
مجموعی طور پر کیونکہ ہر مکعبی یونٹ سیل کے کارنر پر آٹھ ایٹم ہوتے ہیں اس لیے اک یونٹ سیل میں ایٹموں کی تعداد
8x1/8=1
ایٹم ہوتی ہے۔
1.5.2 -جسم مرکزی مکعبی یونٹ سیل
(Body Centred Cubic Unit Cell )
ایک جسم۔ مرکزی مکعبی (bcc)یونٹ سیل کے ہر کارنر پر ایک ایٹم اور اس کے جسمی مرکز (Body Centred)پر ایک ایٹم ہوتا ہے۔شکل 1.14 میں (a)کھلی ساخت (b)جگہ پر کرنے والا ماڈل اور(c)یونٹ سیل کو ایٹموں کے ان حصوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے جو اس یونٹ سیل سے حقیقت میں تعلق رکھتے ہیں۔یہ بات دیکھی جاسکتی ہے کہ ہر جسمی مرکز پر
شکل 1.14: ایک جسم —مرکزی مکعبی یونٹ سیل (a)کھلی ساخت(b)جگہ پُر کرنے والی ساخت (c)ایٹموں کے حقیقی حصے جو ایک یونٹ سیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایٹم مکمل طورپر اسی یونٹ سیل سے متعلق ہوتا ہے جس میں وہ موجود ہے۔ اس طرح ایک جسم مرکزی مکعبی (bcc)یونٹ سیل ہیں:
(i)
8 کارنر1/8 فی کارنر ایٹم = 8x1/8
= 1 ایٹم
(ii) ایک جسم مرکزی ایٹم = 1 1
= 1 ایٹم
اس لیے فی یونٹ سیل ایٹموں کی مجموعی تعداد = 2 ایٹم
1.5.3 رخ —مرکزی مکعبی یونٹ سیل
( Face - Centered Cubic Unit Cell)
ایک رخ مرکزی (fcc)یونٹ سیل ان ایٹمو ں پر مشتمل ہوتا ہے جومکعب کے تمام چہروں کے مرکز اور کارنروں پر ہوتے ہیں۔ شکل 1.15میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چہرہ۔ مرکز (Face-centre) پر واقع ہر ایٹم دو ہمسایہ یونٹ سیلز کے درمیان بٹا ہوتا ہے اور ہر ایٹم ایک یونٹ سیل سے متعلق ہوتا ہے۔ شکل (a)1.16کھلی ساخت (b)جگہ پُر کرنے والا ماڈل اور (c)یونٹ سیل اور ایٹموں کے ان حصوں کو دکھاتی ہے جو حقیقت میں اس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح ایک رخ۔مرکزی مکعبی (fcc)یونٹ سیل میں:
(i)
8 کارنر ایٹم 1/8 ایٹم یونٹ سیل= 8x1/8
= 1 ایٹم
(ii)
6 کا رخ۔ مرکزی ایٹم 1/2 ایٹم فی یونٹ سیل= 6x1/2
= 3 ایٹم
∴ فی یونٹ سیل ایٹموں کی مجموعی تعداد
= 4 ایٹم
شکل1.15:یونٹ سیل کے رخ۔ مرکز پر ایک ایٹم دو یونٹ سیلزمیں بٹا ہوتاہے۔
شکل1.16: ایک جسم- مرکزی مکعبی یونٹ سیل (a) کھلی ساخت (b) جگہ پر کرنے والی ساخت (c) ایک یونٹ سیل سے تعلق رکھنے والے ایٹموں کی حقیقی حصہ
متن پر مبنی سوالات
1.9 ’جالی کے نقطے‘ کی اہمیت بتائیے۔
1.10 ایک یونٹ سیل کے مخصوص پیرا میٹرس کو بتائیے۔
1.11 مندرجہ ذیل کے درمیان فرق واضح کیجیے:
(i) شش گوشی اور یک رخی (Mono Clinic)یونٹ سیلز
(ii) چہرہ۔ مرکزی اور ختم۔مرکزی (End-centred)یونٹ سیلز
1.12 واضح کیجیے کہ (a)ایک مکعبی یونٹ سیل کے جسم۔مرکز پر اور (b)کارنر پر واقع ایک ایٹم کا کتنا حصہ اپنے ہمسایہ یونٹ سیل کا حصہ ہوتا ہے۔
1.6 قریب قریب بندھی ہوئی ساختیں
(Close Packed Structures)
ٹھوسوں میں، ترکیبی ذرات بہت قریب قریب بندھے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان خالی جگہ کم ترین ہوتی ہے۔ ہم ترکیبی ذرات کو یکساں سخت گولے (Indentical Hard Spheres)کہہ سکتے ہیں اور تین اقداموں میں تین ابعادی ساخت بنا سکتے ہیں۔
(a) ایک بُعد میں قریب قریب پیکنگ
ایک یک بُعدی قریب قریب پیکنگ ساخت میں، گولوں کو ترتیب دینے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ اور وہ طریقہ ان کو ایک ہی قطار میں اس طرح ترتیب دینے کا ہے اس طرح کہ وہ ایک دوسرے کو چھوتے رہیں۔ (شکل1.17)
اس ترتیب میں، ہر گولا اپنے دوپڑوسیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ کسی ذرے کے قریب ترین ہمسایوں کی تعدادکو کو آرڈی نیشن نمبر (Co ordination Number)کہا جاتا ہے۔اس طرح، ایک یک بُعدی قریب قریب بندھی ترتیب میں، کوآرڈی نیشن نمبر2ہوتا ہے۔
شکل1.17: ایک بُعد میں گولوں کی قریب قریب پیکنگ
(b) دو ابعاد میں قریب قریب پیکنگ(Close Packing in Two Dimensions)
دوابعادی قریب قریب پیکنگ والی ساخت کو قریب قریب پیک شدہ گولوں کی قطاروں میں رکھ کربنایا جاسکتا ہے۔ یہ کام دوطریقوں سے کیا جاسکتا ہے۔
(i) دوسری قطار کو پہلی قطار سے مس کر کے اس طرح رکھا جائے کہ دوسری قطار کے گولے ٹھیک پہلی قطار کے گولوں کے اوپر ہوں۔ دونوں قطاروں کے گولے عمودی اور افقی دونوں طریقوں سے قطار میں ہوں۔ اگر ہم پہلی قطار کو”Aٹائپ قطار“ کہیں تو دوسری قطار بھی بالکل پہلی قطار کی طرح ہوگی اور وہ بھی ”Aٹائپ“ ہوگی۔ اس طرح ہم ترتیب کی AAAٹائپ قطاروں کو حاصل کرنے کے لیے اور قطاریں بڑھا سکتے ہیں۔دیکھیے شکلa)1.18)
شکل1.18: (a)مربع نما قریبی پیکنگ (b)دو ابعادمیں گولوں کی شش گوشی قریبی پیکنگ۔
اس ترتیب میں ہر گولا اپنے چار پڑوسیوں کے تماس میں ہے۔ اس طرح دو ابعادی ہم ربط عدد 4(Coordination Number)ہوتا ہے۔ پھر اگر ان چاروں قریبی ہمسایوں کے مرکز جڑے ہوں تو ایک مربع بن جاتا ہے۔ اسی لیے اس پیکنگ کو دو ابعادی مربع نما قریبی پیکنگ کہا جاتا ہے۔
(ii) دوسری قطار کو پہلی قطار کے اوپر ایک لغزیدہ) Staggared (طریقے سے اس طرح رکھنا چاہیے تاکہ اس کے گولے پہلی قطار کے جوف (Depression) میں فٹ ہوجائیں۔ اگر پہلی قطار میں گولوں کی ترتیب کو A ٹائپ کیا جائے تو دوسری قطار میں یہ ترتیب مختلف ہوگی اور اس کو B ٹائپ کہا جائے گا۔ اور جب تیسری قطار کو دوسری قطار کی ہمسائیگی میں ایک (Staggered) طریقہ پر رکھا جائے گا تو اس کے گولے پہلی پرت کے گولوں کی قطار میں ہوں گے اس طرح یہ پرت بھی A ٹائپ کی ہوگی۔ پھر اس طرح رکھی گئی چوتھی قطار کے گولے بھی دوسری قطار کے گولوں کی قطار (B ٹائپ) میں ہوں گے۔ اس طریقے پر یہ ترتیب ABAB ٹائپ کی ہوگی۔ اس طرح میں آزاد جگہ کم ہوگی اور مربع نما قریبی پیکنگ کی بہ نسبت یہ پیکنگ زیادہ کارآمد (Efficient) ہوگی۔ ہر گولا اپنے پڑوسیوں میں سے چھ پڑوسیوں کے قاس میں ہوگا۔ اور دوالعبادی کو آرڈی نیشن نمبر 6 ہوگا۔ ان 6 گولوں کے مرکز ایک باقاعدہ شش گوشی کے کارنر ہوں گے۔ (شکل 1.18(b)) اس پیکنگ کو دوابعادی شش گوشی قریبی پیکنگ کہا جاتا ہے۔ دیکھے شکل (1.18(b)) دیکھے پہلی شکل میں کچھ جگہیں خالی ہیں اور خالی جگہیں شکل میں مستطیل نما ہیں۔مستطیل نما خالی جگہیں دو منتقف ٹائپ کی ہیں۔ مستطیلوں کی اوپری پرت (Apex) اوپر کی طرف اور نچلی پرت نیچے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
(c) تین ابعاد میں قریبی پیکنگ (Close Packing in Three Dimension)
تمام حقیقی ساختیں تین ابعادی ساختیں ہوتی ہیں۔ ان ابعادی پرتوں کو ایک دوسرے پر رکھنے سے یہ ساختیں حاصل ہوتی ہیں۔ پچھلے سیکشن میں ہم نے دو ابعادی قریبی پیکنگ پر بحث کی ہے۔ یہ دوابعادی قریبی پیکنگ دو ٹائپ کی تھی ایک مربع نما اور دوسری شش گوشی قریبی پیکنگ۔اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تین ابعادی قریبی پیکنگ کے کون سے ٹائپ ان سے حاصل ہوسکتے ہیں۔
(i) دوابعادی مربع نما قریبی پیکنگ والی پرتوں سے تین ابعادی قریبی پیکنگ: جب ہم دوسری قریبی پیکنگ والی مربع نما پرت کو پہلی کے اوپر رکھتے ہیں تو ہم اس اصول کی تقلید کرتے ہیں جس کی تقلید اس وقت کی جاتی ہے جب ایک قطار کو دوسری قطار کے متصل (Adjacent) رکھا جاتا ہے۔ دوسری پرت، پہلی پرت کے اوپر اس طرح رکھی جاتی ہے کہ اوپری پرت کے گولے پہلی پرت کے گولوں کے اوپر ہوتے ہیں۔ اس ترتیب میں دونوں پرتوں کے گولے مکمل طریقے سے افقی طور پر قطاروں میں ہوتے ہیں اور عمودی طور پر بھی (دیکھئے شکل 1.19) اسی طرح ہم ایک کے اوپر ایک اور پرتیں بھی رکھ سکتے ہیں۔ اگر پہلی پرت کے گولوں کی ترتیب A ٹائپ کہلاتی ہے تو تمام پرتوں کی ترتیب اسی طرح ہوگی اس طرح کا پیٹرن ٹائپ AAA ہوگا۔ اور اس طرح جو جالی بنے گی وہ سادہ مکعبی جالی ہوگی اور اس کااکائی خلیہابتدائی مکعبی اکائی خلیہ (دیکھئے شکل 1.19)
شکل 1.19: AAA ترتیب کے ذریعہ بنائی گئی سادہ مکعبی جالی۔
(ii) دو ابعادی شش گوشی قریبی پیکنگ والی پرتوں سے تین ابعادی قریبی پیکنگ: تین ابعادی قریبی پیکنگ والی ساخت، پرتوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر بنائی جاسکتی ہے۔
(a) پہلی پرت پر دوسری پرت رکھ کر
ہم ایک دو ابعادی شش گوشی قریبی پیکنگ والی پرت A کو لیتے ہیں اور اس کے اوپر ایسی ہی ایک اور پرت اس طرح رکھتے ہیں کہ دوسری پرت کے گولے پہلی پرت کے جوف (Depression) میں رکھے جائیں۔ کیونکہ دونوں پرتوں کے گولے مختلف قطاروں میں ہیں اس لیے ہم دوسری پرت کو B کہیں گے۔ شکل 1.20 کو دیکھیے کہ پہلی پرت کے تمام مستطیل نما خلا (Voids) دوسری پرت کے گولوں سے ڈھکے ہوئے ہیں اس سے مختلف پرتیں پیدا ہوتی ہیں۔ جب کبھی دوسری پرت کا گولا پہلی پرت کے خلا کے اوپر ہوتا ہے (یا اس کے برعکس ہوتا ہے) تو ایک چوپہلو خلا بن جاتا ہے۔

شکل 1.20 : قریبی پیکنگ والے گولوں کی دوپرتیں اور ان میں پیدا شدہ خلا (ہشت پہلو)
O = Octahedral (چوپہلو)T = Tetrahedral
ان خلاؤں کو چوپہلو خلا کہا جاتا ہے کیونکہ ایسا چوپہلو خلا اس وقت بنتا ہے جب ان چاروں گولوں کے مرکز مل جائیں۔ شکل 1.20 میں ان کو T سے دکھایا گیا ہے۔ ایسا ہی ایک خلا جدا گانہ طریقے سے شکل 1.21 میں دکھایا گیا ہے۔
ٹیٹرا ہیڈرل ہول
ٹیٹرا ہیڈرل ہول
ٹیٹرا ہیڈرن
آکٹان ہیڈرل ہول
آکٹا ہیڈرل ہول
آکٹا ہیڈرن
شکل 1.21: چوپہلو اور ہشت پہلو خلائیں۔ (a) اوپر سے منظر (b) تڑقے ہوئے پہلو کا منظر اور (c) خلا کی جیومیٹریکل شکل۔
دوسری جگہوں پر دوسری پرت کے مستطیل نما خلا پہلی پرست کے مستطیل نما خلا کے اوپر ہیں اور ان کی مستطیل نما شکلیں ایک دوسرے پر چڑھتی نہیں ہیں۔ ان میں سے ایک خلا مستطیل نما کی اوپری پرت (Apex) ہوتی ہے جو اوپر کی طرف اشارہ کرتی ہے جبکہ دوسری نیچے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان خلاؤں کو شکل 1.20 میں 'O' کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ایسے خلا چھ گولوں سے گھرے ہوتے ہیں اور ان کو ہشت پہلو (Octohedral Voids) کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک خلا شکل 1.21 میں جدا طور پر دکھایا گیا ہے۔ ان دونوں ٹائپ کے خلاؤں کی تعداد قریبی پیک شدہ گولوں کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔
فرض کیجیے قریبی پیک شدہ گولوں کی تعداد N ہے، تو
ہشت پہلو خلاؤں کی بننے والی تعداد = N
بننے والی چوپہلو خلاؤں کی تعداد ہوگی = 2N
(b) دوسری پرت پر تیسری پرت رکھنا
(Placing third Layer over the Second Layer)
جب تیسری پرت دوسری پرت پر رکھی جاتی ہے تو دو باتیں ممکن ہوتی ہیں۔
(i) چوپہلو خلاؤں کا ڈھک جانا۔ دوسری پرت کو چوضلعی خلا تیسری پرت کے گولوں سے ڈھکے ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں تیسری پرت کے گولے ٹھیک پہلی پرت کے گولوں کی قطار میں ہیں۔ اس طرح گولوں کے پیٹرن (Pattern) کی تکرار متبادل پرتوں (Alternate Layers) میں ہوتی ہے۔ اس پیٹرن کو اکثر ABAB لکھا جاتا ہے۔ اس ساخت کو شش گولی قریبی پیک شدہ (hcp) ساخت کہا جاتا ہے۔ (شکل 1.22) ایٹموں کی اس قسم کی ترتیب میگنیشیم اور زنک جیسی بہت سی دھاتوں میں پائی جاتی ہے۔
مکعبی
ہیکسا گونل
مکعبی قریبی پیکنگ
ہیکسا گونل پیکنگ
شکل 1.22 (a) شش گوشی مکعبی قریبی پیکنگ(hcp) کا ترقیرہ منظر (Exploded View) جو گولوں کی پرتوں کے تلا اوپر ہونے کو دکھاتا ہے۔
شکل 1.23: (a) ہشت پہلو خلا کے ڈھکا ہونے کی صورت میں پرتوں کی…… ABC ABC ترتیب
(b) اس ترتیب سے تشکیل شدہ ساخت کا حصہ جس کے نتیجے میں مکعبی قریبی پیکنگ والی (CCP) یا چہرہ مرکزی مکعبی (FCC) ساخت بنتی ہے۔
(ii) ہشت پہلو خلاؤں کا ڈھکا ہونا (Covering Octahedral Voids) تیسری پرت کو دوسری پرت پر اس طرح رکھا جاسکتا ہے کہ اس کے گولے ہشت پہلو خلاؤں کو ڈھک لیں۔ جب تیسری پرت کو دوسری پرت پر اس طرح رکھا جائے گا تو تیسری پرت کے گولے نہ تو پہلی پرت کی قطار میں ہوں گے اور نہ ہی دوسری پرت کی قطار میں۔ اس ترتیب کو C ٹائپ کہا جاتا ہے۔ ہاں جب چوتھی پرت رکھی جائے گی تب گولے پہلی پرت کے گولوں کی قطار میں ہوں گے۔ (دیکھئے شکل 1.22 اور شکل 1.23) پرتوں کے اس پیٹرن (Pattern) کو ……ABC ABC لکھا جاتا ہے۔ اس ساخت کو مکعبی قریب پیکنگ (CCP) یا چہرہ مرکزی مکعبی (FCC) ساخت کہا جاتا ہے۔ کاپر اور سلور جیسی دھاتیں اس طریقے پر قلماؤ ہوتی ہیں۔
لیکن قریبی پیکنگ کے یہ ٹائپ اونچے درجے کے کارگر (Efficient) ہوتے ہیں اور قلمکی 74% جگہ کو بھرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں ایک گولا بارہ گولوں کے تماس (Contact) میں ہوتا ہے۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک ساخت میں کوآرڈی نیشن نمبر (Coordination Number) 12 ہوتا ہے۔
1.6.1 کسی مرکب کا فارمولا اور بھرے ہوئے خلاؤں کی تعداد
(Formula of a Compound and Number of Voids Filled)
اس سیکشن میں اس سے قبل ہم نے یہ سیکھا ہے کہ جب ذرات کی پیکنگ قریب ہوئی ہے اور نتیجتاً ان کی ساخت CCP یا hcp ہوتی ہے تو دو قسم کے خلا پیدا ہوتے ہیں۔ اس صورت میں جب کہ جالی میں موجود ہشت پہلو خلاؤں کی تعداد قریبی پیکنگ والے ذرات کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے، تو پیدا شدہ چوپہلو خلاؤں کی تعداد دوگنی ہوتی ہے۔ ایونک ٹھوسوں میں بڑے آین (عام طور پر این آئن) قریبی پیکنگ والی ساخت کی تشکیل کرتے ہیں اور چھوٹے آئن (عام طور پر کیٹائن)خلاؤں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اگر موخرالذکر آین بہت چھوٹے ہیں تو چوپہلو خلاؤں کی جگہ گھر جاتی ہے اور اگر ذرا بڑے ہیں تو ہشت پہلو خلاؤں کی جگہ گھر جاتی ہے۔ کسی مرکب (Compound) میں ان ہشت پہلو یا چوپہلو خلاؤں کا حصہ جن کی جگہ گھر جاتی ہے، کمپاؤنڈ کے کیمیائی فارمولے پر منحصر ہے۔ اس بات کو مندرجہ ذیل مثالوں سے سمجھاجاسکتا ہے۔
مثال 1.1 دو عناصر X اور Y سے کسی مرکب کی تشکیل ہوتی ہے۔ عنصر Y اور کے ایٹم (این آئن کے روپ میں) CCP بناتے ہیں اور عنصر X کے ایٹم (کیٹائن کے روپ) ہشت پہلو خلاؤں کی جگہ گھیرتے ہیں۔ بتائیے کمپاؤنڈ کا فارمولہ کیا ہے؟
حل : خالی CCP کی تشکیل عنصر Y سے ہوتی ہے۔ پیدا شدہ ہشت پہلو خلاؤں کی تعداد اس میں موجود Y ایٹموں کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے۔ چونکہ عنصر X کے ایٹم ہشت پہلو خلاؤں کی جگہ گھیرلیتے ہیں اس طرح ان کی تعداد بھی عنصر Y کے ایٹموں کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے۔ اس طرح عناصر X اور Y کے ایٹم مساوی تعداد میں یا 1:1 نسبت میں موجود ہوتے ہیں۔ اس سے کمپاؤنڈ کا فارمولا XY ہے۔
مثال 1.2 عنصر B کے ایٹم hcp جالی بناتے ہیں اور عنصر A کے ایٹم چو پہلو خلاؤں کا 2/3حصہ گھیرلیتے ہیں۔ عناصر A اور B کے ذریعہ تشکیل شدہ کمپاؤنڈ کا فارمولا ہے؟
حل : تشکیل شدہ چوپہلو خلاؤں کی تعداد عنصر B کے ایٹموں کی تعداد کے دوگنے کے برابر ہوگی اور عنصر A کے ایٹم ان کے 2/3تہائی حصے کو گھیر لیں گے۔ ا س طرح عناصر A اور B کی تعداد کی نسبت 2(2/3):1 یا 4:3 ہوگی اور کمپاؤنڈ کا فارمولاA4 B3 ہوگا۔
چوپہلو اور ہشت پہلو خلاؤں کا معلوم کرنا: (Locating Tetrahedral and Octahedral Voids)
ہم یہ جانتے ہیں کہ قریبی پیکنگ والی ساختوں کے خلا چوپہلویا ہشت پہلو ہوتے ہیں۔ ہم CCP (یا FCC) ساخت کو لیتے ہیں اور اس میں ان خلاؤں کا پتہ لگاتے ہیں۔
(a) چوپہلو خلاؤں کا پتہ لگانا۔
ہم CCP یا FCC جالی کے ایک یونٹ سیل پر غور کرتے ہیں (دیکھئے شکل (a))یہ یونٹ سیل آٹھ چھوٹے مکعبوں میں منقسم ہے۔
ہر چھوٹے مکعب کے ایٹم متبادل کارنروں (Alternate Corners) پر ہیں (دیکھئے شکل (a)) ہر چھوٹے مکعب میں چار ایٹم ہیں۔ جب یہ ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں تو ایک باقاعدہ چوپہلو (Tetra hedron) بناتے ہیں۔ اس طرح ہر چھوٹے مکعب میں ایک چوپہلو خلا ہوتا ہے اور مجموعی طور پر آٹھ چوپہلو خلا ہوتے ہیں۔ CCP ساخت کے ہر یونٹ سیل میں آٹھوں چھوٹے مکعبوں کا ایک خلا ہوتا ہے۔ اس طرح چوپہلو خلاؤں کی تعداد ایٹموں کی تعداد کا دوگنا ہوتی ہے۔
شکل 1: (a)
CCP ساخت ہر یونٹ سیل میں آٹھ چوپہلو خلا (b) ایک چوپہلو خلا جیومیٹری دکھاتا ہے۔
(b) ہشت پہلو خلاؤں کا پتہ لگانا۔
ہم CCP یا FCC جالی کے ایک یونٹ سیل پر پھر غور کرتے ہیں (دیکھئے شکل 2(a)) مکعب C کے جسمی مرکز (Body Centre) کی جگہ بھری ہوئی نہیں ہے لیکن رُخ مرکزوں (Face Centres) پر وہ چھ ایٹموں سے گھرا ہوا ہے۔ اگر یہ رُخ مرکز (Face Centres) متصل ہوجائیں تو ایک ہشت پہلو بن جاتا ہے۔ اس طرح مکعب کے جسمی مرکز (Body Centre) پر اس یونٹ سیل کا ایک ہشت پہلو خلا ہوگا۔جسمی مرکز کے علاوہ ہر تمام بارہ کناروں کے مرکز پر ایک ہشت پہلو خلا ہوگا۔ (دیکھئے شکل 2(b)) یہ چھ ایٹموں سے گھرا ہوگا۔ ان میں تین کا تعلق اس یونٹ سیل سے ہوگا (2 کارنروں پر اور ایک رُخ مرکز پر) اور تین کا تعلق پڑوسی یونٹ سیلوں سے ہوگا۔ چونکہ ہر مکعب کا کنارہ چار پڑوسی یونٹ سیلوں کے درمیان بٹا ہوتا ہے اس لیے ہشت پہلو خلا بھی اس پر واقع ہوگا۔ ہر خلا کا صرف 1/4 چوتھا حصہ ایک مخصوص یونٹ سیل سے تعلق رکھتا ہے۔
شکل 2: CCP یا شکل FCC جالی کے ایک یونٹ سیل ہشت پہلو خلاؤں کا وقوع (a) مکعب کے جسمی مرکز (Body Centre) اور (b) ہر کنارے کے مرکز پر (یہاں صرف ایک خلا دکھایا گیا ہے)
اس طرح ہر مکعبی قریبی پیک شدہ ساخت ہیں:
مکعب کے جسمی مرکز پر ہشت پہلو خلا = 1
ہر کنارے پر واقع چار یونٹ سیلوں میں بٹے12 ہشت پہلو خلا
12x1/4=3
∴ ہشت پہلو خلاؤں کی کل تعداد = 4
ہم جانتے ہیں کہ CCP ساخت میں ہر یونٹ سیل کے 4 ایٹم ہوتے ہیں اس طرح ہشت پہلو خلاؤں کی تعداد اس تعداد کے مساوی ہوتی ہے۔
1.7 پیکنگ کارکردگی
(Packing Efficiency)
تشکیلی ذرات (ایٹم سالمات یا آین) کسی بھی طور پر پیک ہوں وہاں خلاؤں کی شکل میں کچھ نہ کچھ خالی جگہ (Free Space) ہمیشہ ہوگی۔ پیکنگ کارکردگی کے ذرات کے ذریعے بھری جانے والی مجموعی جگہ کا فیصد ہوتا ہے۔ اب ہم مختلف قسم کی ساختوں میں پیکنگ کارکردگی (Efficiency) کی تحسیب کرتے ہیں۔
1.7.1 cpc اور hcp ساختوں میں پیکنگ کارکردگی
دونوں ٹائپ کی قریبی پیکنگ( ccpاورhcp)مساوی طور پر کارگر(Efficient)ہوتی ہے۔ پہلے ہم ccpساخت میں پیکنگ کی کارکردگی کا حساب لگاتے ہیں۔شکل1.24میں یونٹ سیل کے کنارے کے لمبائی مان لیجیے'a'ہے اور b=Face Diagonal Ac
AC2 = b2 = BC2 + AB2
= a2 + a2 = 2a2 or
b=√2a
اگر گولے کا قطرrہے تو ہمیں علم ہوجاتا ہے
b=4r=√2a
a=4r/√2=2√2r یا
ہم اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں
r=a/2√2
ہم جانتے ہیں کہ ccpساخت میں ہر یونٹ سیل کے موثر طور پر چار گولے ہوتے ہیں چاروں گولوں کا مجموعی حجم
4x(4/3)πr3
a3or (2√2r)3 = اور مکعب کا حجم
اس لیے
% (100 x یونٹ سیل میں کوجود چاروں گولوں کے ذریعہ گھیرا گیا حجم/یونٹ سیل کا کل حجم ) = پیکنگ کارکردگی
=4x(4/3)πr3x100/2√2r3
=(16/3)πr3x100/16√2r3%= 74%
ٓ
شکل1.24: مکعبی وضاحت کے خیال سے قریبی پیکنگ کی دوسری اطراف گولوں کے ساتھ نہیں دی گئی ہیں۔
1.7.2 جسم مرکزی مکعبی ساختوں میں پیکنگ کی کارکردگی
(Efficiency of Packing in Body-Centred Cubic Structures)
شکل1.25سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مرکز پر ایٹم ان دونوں دوسرے ایٹموں سے ملا ہوا رہتا ہے جن کی ترتیب وتری (Digonal)ہوتی ہے۔
In Δ EFD,
b2 =a2 + a2= 2a2
b=√2a
اب Δ AFD میں
c2 = a2+b2 = a2+2a2=3a2
c=√3a
شکل1.25: جسم مرکزی مکعبی یونٹ سیل(گولے مع وِتر)(Digonal Body)کے ٹھوس حدوں (Solid Boundaries)کے ساتھ دکھائے گئے ہیں)
جسمی وتر
4r,C(Body Diagonal)
کے مساوی ہے جب کہrگولے (ایٹم) کا قطر ہے کیونکہ تینوں گولے وِتر کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو چھوتے ہیں۔
اس لیے
ہم اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں
r=√3/4a
اس ٹائپ کی ساخت میں ایٹموں کی کل تعداد 2 ہوتی ہے اور ان کا حجم
2x(4/3)πr3
مکعب a3 کا حجم
(4/√3)3
یا
a3=(4/√3)3
کے مساوی ہوگا
اس لیے
% (100 x یونٹ سیل میں موجود چاروں گولوں کے ذریعہ گھیرا گیا حجم/یونٹ سیل کا کل حجم ) = پیکنگ کارکردگی
=2x(4/3)πr3x100/((4/√3)r)3
=(8/3)πr3x100/64/(3√3)r3%=68%
1.7.3 سادہ مکعبی جالی میں پیکنگ کی کارکردگی
(Packing Efficiecy in Simple Cubic Lattice)
ایک سادی مکعبی جالی میں ایٹم صرف مکعب کے کارنروں پر واقع ہوتے ہیں اور ذرات کنارے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو چھوتے ہیں۔ (شکل1.26)) اس طرح کنارے کی لمبائی یا مکعب کی سائڈ'a'اور ہر ذرے کا قطرrاس طرح مربوط ہوتے ہیں
a=2r
a3=(2r)3=8r3 یونٹ سیل کا حجم
چونکہ ایک سادا یونٹ سیل میں صرف1ایٹم ہوتا ہے
مقبوضہ(Occupied)جگہ کا حجم=4/3πr3
∴ پیکنگ کارکردگی=
100٪×مکعبی سیل کاحجم /ایک ایٹم کا حجم =
=4/3πr3/8r3x100=π/6x100
=52.36%=52.4%
شکل1.26: سادا مکعبی یونٹ سیل۔ گولے مکعب کے تمام کنارے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے تماس میں ہیں
اس طرح ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ccpاورhcpساختوں کی پیکنگ کارکردگی زیادہ سے زیادہ ہوتی ہے۔
1.8تحسیب جس میں یونٹ سیل ابعاد شامل ہیں
(Calculations Involving Unit Cell Dimensions)
یونٹ سیل ابعاد سے، یونٹ سیل کے حجم کی تحسیب(Calculation)ممکن ہے۔ اگر دھات کی کثافت معلوم ہے تو ہم یونٹ سیل میں ایٹموں کی کمیت کی تحسیب کرسکتے ہیں۔ ایک تنہا ایٹم کی کمیت کے تعین سے ہمیں ایووگیڈرو مستقل(Avogadro Constant)کے تعین کا ٹھیک ٹھیک طریقہ معلوم ہوسکتا ہے۔ فرض کرلیجیے ایک معکبی قلم کے یونٹ سیل کے کنارے کے لمبائی(Edge Length)جسے ایکسرے انکسار (X-ray Diffraction) کے ذریعہ متعین کیا گیا aہے، ٹھوس شے(Substance)کی کثافتdہے اور مولر ماسm (Molar Mass)ہے۔ ایک مکعبی قلم کے معاملے میں:
ایک یونٹ سیل کا حجم=a3
یونٹ سیل کی کمیت = ہر ایٹم کی کمیت xکمیت میں ایٹموں کی تعداد
z × m =
یہاں zایک یونٹ سیل میں موجود ایٹموں کی تعداد ہے اورmایک تنہا ایٹم کی کمیت ہے۔
یونٹ سیل میں موجود ایک ایٹم کی کمیت:
m=M/NA(M is molar mass)
اس لیے
یونٹ سیل کی کمیت/یونٹ سیل کا حجم=یونٹ سیل کی کثافت
=z.m/a3=z.M/a3.NA or d=zM/a3NA
یاد رکھیے کہ یونٹ سیل کی کثافت وہی ہے جوشے کثافت ہے۔ ٹھوس کی کثافت کو دوسرے طریقوں سے معلوم کیا جاتا ہے۔ پانچ پیرا میٹروں (d، z M، a اور NA) میں سے اگر کوئی سے چار معلوم ہیں تو ہم پانچویں کومعلوم کرسکتے ہیں۔
مثال 1.1 ایک عنصر کی ساخت
bcc(جسم مرکزی مکعبی) ہے
جس میں 288 pm سیل کی کگر(Cell Edge)ہے۔ عنصر کی کثافت7.2g/cm3ہے عنصر کے 208 gمیں کتنے ایٹم موجود ہیں۔
حل
یونٹ سیل کا حجم
(288 pm)3=
=(28810-12m)=(28810-10 cm)3
=2.3910-23 cm3
28.88 cm3= 208g/7.2 g cm-3= کمیت/کثافت= عنصر کے 208g کا حجم
اس حجم میں یونٹ سیلوں کی تعداد
28.88 cm3/2.39x10-23 cm3/unit cell=12.08x1023 unit Cells
کیونکہ ہر bcc مکعبی یونٹ سیل میں 2ایٹم شامل ہوتے ہیں اس لیے208 gمیں
ایٹموں کی کل تعداد2
2 (atoms/unit cell) 12.08 1023 unit cells ==24.161023 atoms.
مثال 1.4
ایکسرے انکسار(X-ray diffraciton)کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کاپر ایک FCCیونٹ سیل میں قلماؤ ہوتا ہے جس کا سیل کگر
3.60810-8 cm (Cell Edge)
کا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے تجربہ میں کاپر کی کثافت کا تعین8.92 g/cm3ہوتا ہے۔ کاپر کیایٹمی کمیت کی معلوم کیجیے۔
مثال
fccجالی کی صورت میں فی یونٹ سیل، ایٹموں کی تعداد
z = 4 atom
اس لیے
M=dNAa3/z
=8.92g cm-3 x6.022x1023 atoms mol-1x(3.608x10-8 cm)3/4 atoms
=63.1 g/mol
63.14 =کاپرکی ایٹمی کمیت
مثال 1.5 سلورccpجالی بناتی ہے اور اس کے قلموں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کے یونٹ سیل کے کنارے کی لمبائی 408.6 pm(Edge Length)ہے سلور کی کثافت معلوم کیجیے (ایٹمی کمیت=107.94)
حل چونکہ جالیCCPہے، فی یونٹ سیل سلور ایٹموں کی تعداد ہے=z = 4
چاندی کی مولر کمیت =
107.910-3 kg mol-1=107.9g mol-1
یونٹ سیل کی کناری لمبائی =a=408.6 pm=408.610-12m
d=z.M/z3.NA کثافت
=4x(107.9x10-3 kg mol-1)/(408.6x10-12m)3(6.022x1023 mol-1=10.5103 kg m -3
=10.5 g cm-3
1.9.1نقطی نقائص کی قسمیں
(Types of Point Defects)
نقطی نقائص کی زمرہ بندی تین قسموں میں کی جاسکتی ہے:(i) تناسب پیمائی نقائص(Stoichiometric Defects) (ii) ملاوٹی نقائص(Impurity Defects) (iii) غیرتناسب پیمائی نقائص (Non-Stoichiomentrec Defects)
(a) تناسب پیمائی نقائص(Stoichiometric Defects)
یہ وہ نقطی نقائص ہیں جو ٹھوسوں کی تناسب پیمائی (Stoichiomentry)میں خلل نہیں ڈالتے۔ ان کو ذاتی (Intrinsic)یا حرکیاتی(Thermodynamic Defect)نقائص بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر دوقسم کے ہوتے ہیں یعنی ایک خلائی نقائص(Vacancy Defects)اور دوسرے شگافی نقائص(Interstitial Defects)
(i) خلائی نقص(Vacancy Defect): جب جالی کے کچھ مقامات خالی ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ کرسٹل میں خلائی نقص(Vacany Defect)ہے۔(دیکھیے شکل1.27) اس کے نتیجے میں شے (Substance) کی کثافت میں کمی ہوتی ہے۔ یہ نقص(Defect)اس وقت بھی رونما ہوجاتا ہے جب ایک شے (Substance)کوگرم کیا جاتا ہے۔
شکل 1.27: خلائی نقائص شکل 1.28: شگافی نقائص
(ii) شگافی نقص(Interstital Defect) جب کچھ ترکیبی ذرات (ایٹم یا سالمے) کسی شگافی جگہ کو گھیر لیتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ کرسٹل میں شگافی نقص ہے (دیکھیے شکل1.28) یہ نقص شے کی کثافت کو بڑھا دیتا ہے۔
خلائی اور شگافی نقائص کو جن کی اوپر تشریح کی گئی ہے غیر آیونک ٹھوسوں کے ذریعے دکھایا جاسکتا ہے۔ آیونک ٹھوس برقی تعدیلیت (Electrical Neutrality) کو ہمیشہ برقرار رکھتے ہیں۔ سادہ خلائی اور شگافی نقائص سے زیادہ ایونک ٹھوس ان نقائص کو Frenkelاور Schottkyنقائص کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
(iii) فرینکل نقص(Frenkel Defect): آیونک ٹھوس اس طرح کے نقص (Defect) کو ظاہر کرتے ہیں۔ زیادہ چھوٹا آین(عام طور پر کیٹاین) اپنی عام جگہ(Normal Site)سے ہٹ کر شگافی جگہ(Interstitial Site) لے لیتا ہے(دیکھیے شکل1.29) اس طرح یہ اپنے اصلی محل وقوع پر خلائی نقص اور اپنے نئے محل وقوع پر شگافی نقص (Interstitial Defect) پیدا کرتا ہے۔
فرینکل نقص کو خلاع قلمی(Dislocation Defect)بھی کہتے ہیں۔ یہ نقص، ٹھوس کی کثافت کوتبدیل نہیں کرتا۔ فرینکل نقص آیونک شے کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے جس میں آینوں کے سائز میں زیادہ فرق ہوتا ہے۔ مثلاً ZnS, AgC1, AgBrاورAg1جو z2+اورAg+ آینوں کے چھوٹے سائزوں کی وجہ سے ہوتاہے۔
(iv) شاٹ کی نقص(Schottky Defect): یہ بنیادی طور پر آیونک ٹھوسوں میں ایک خلائی نقص ہے۔ برقی تعدیلیت (Electrical Neutrality)کو برقرار رکھنے کے لیے مفقود کیٹانیوں (Missing Cations)اور اینانیوں کی تعداد برابر ہوتی ہے۔ (شکل1.30)
شکل 1.29: فرینکل نقائص شکل 1.30: شاٹکی نقائص
سارے خلائی نقص(Simple Vacancy Defect)کی طرح شاٹکی نقص (Shottky Defect) بھی شے (Substance) کی کثافت کو گھٹا دیتا ہے۔ آیونک ٹھوسوں میں ایسے نقائص کا نمبر بہت اہم ہے۔ مثال کے طور پر NaC1کمرے کے درجہ حرارت پرتقریباً106شاٹکی جوڑے (Schottky Pairs)فی مربع cm(Cm3)ہوتے ہیں۔1cm3میں تقریباً1022 آئن ہوتے ہیں۔ اس طرح فی1016آینوں میں ایک شاٹکی نقص ہوتا ہے۔ شاٹکی نقص ان ایونک اشیا (Substance)میں ظاہر ہوتا ہے جن میں کیٹاین اور ایناین تقریباً یکساں سائز کے ہوتے ہیں۔ مثلاًAgBr،NaC1, KC1اور CsC1اوریہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ AgBrدونوں کا اظہار کرتا ہے یعنی فرینکل نقص کا بھی اورشاٹکی نقص کا بھی۔
شکل1.31: Naکو+Sr2سے عوض کرکے NaC1میں کیٹاین خلا۔(Cation Vacancy)کا تعارف:
(b) ملاوٹی نقائص(Impurity Defects)
اگرپگھلا ہواNaC1جس میں SrC12کی تھوڑی تعداد شامل ہو کرسٹلائزڈ ہوتا ہے،+Naآینوں کی کچھ جگہیں+Sr2کے ذریعے گھر جاتی ہیں۔(دیکھیے شکل1.31) ہر+Sr2دو+Naکی جگہ لیتا ہے۔ یہ ایک آین کی توجگہ لے لیتا ہے اور دوسری جگہ خالی رہتی ہے۔ اس طرح جو کیٹاینک (Cationic)خالی جگہیں پیدا ہوتی ہیں ان کا نمبر+Sr2آینوں کے نمبر کے برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح کی ایک دوسری مثال CdC12 اور AgC1 کا ٹھوس محلول ہے۔
(c) غیرتناسبی نقائص) (Non-Stoichiometric Defects
اب تک جن نقائص کا ذکر ہوا وہ قلمی اشیا(Substace)کی تناسب پیمائی(Stoichiometry)میں خلل نہیں ڈالتے۔بہر حال بہت سے ایسے غیر تناسب (Non-Stoichiometric)غیر نامیاتی (Inorganic)ٹھوس معلوم ہیں جن کے ترکیبی عناصراپنی کرسٹل ساختوں میں نقائص کی وجہ سے غیر تناسب نسبت میں ہوتے ہیں۔ یہ نقائص دو ٹائپ کے ہوتے ہیں:ایک کثیر دھاتی نقص(Metal Excess Defect)اور دوسرا قلیل دھاتی نقص(Metal Deficiency Defect)
شکل1.32: ایک کرسٹل میں ایف سینٹر (F-Centre)
(i) کثیر دھاتی نقص(Metal Excess Defect)
l اینایونک خلاؤں (Anionic Vacanci)کی وجہ سے کثیر دھاتی نقص:NaCIاور KCIجیسے القلی ہیلائڈ اس ٹائپ کے نقص(Defect)کا اظہار کرتے ہیں۔ جب NaC1کے کرسٹل سوڈیم ویپر(Vapour)کی فضا میں گرم کیے جاتے ہیں تو سوڈیم ایٹم کرسٹل کی سطح(Surface)پر اکھٹے ہوجاتے ہیں۔C1آین کرسٹل کی سطح پر نفوذ کرتے ہیں اور Naایٹموں سے متحد ہوکر NaC1بناتے ہیں۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب سوڈیم ایٹم+Naآین بنانے کے لیے الیکٹرون ضائع کرتے ہیں۔ اخراج شدہ الیکٹرون کرسٹل میں نفوذ کرتے ہیں اور اینایونک جگہوں کو گھیر لیتے ہیں۔ (دیکھیے شکل1.32) نتیجے کے طور پر اب کرسٹل میں سوڈیم کی کثرت ہوجاتی ہے۔اینا یونک جگہیں (Anionic Sites)جنھیں غیر جوڑی دار(Unpaired)الیکٹرون گھیر لیتے ہیں ایف سینٹر(F-Centre)کہلاتی ہیں۔یہ لفظF-Centreجرمن لفظ Farbenzenter سے بنایا گیا ہے جس کے معنی کلر سینٹر (Colour
Centre) یہ NaC1کے کرسٹلوں کو پیلا رنگ دے دیتے ہیں۔ یہ رنگ، ان الیکٹرونوں کی برانگیختگی کا نتیجہ ہوتا ہے جو کرسٹلوں پر پڑنے والی مرئی روشنی سے توانائی جذب(Absorb)کرلیتے ہیں۔ اسی طرح لیتیم(Lithium)کی کثرات LiC1کرسٹلوں کو گلابی(Pink)بنادیتی ہے اور پوٹا شیم کی کثرت سے KC1کرسٹل بنفشی(Violet)یا ارغوانی(Lilac)بن جاتا ہے۔
l شگافی جگہوں (Interstitial Sites)پر ایکسٹرا کیٹاینوں کی موجودگی کی وجہ سے کثیر دھاتی نقص: کمرے کے درجہ حرارت پر زنک آکسائیڈ کا رنگ سفید ہوتاہے۔ گرم کرنے پر یہ آکسیجن کھوبیٹھتا ہے او رپیلا پڑجاتا ہے۔
ZnO→heating Zn2++1/2 O2 +2e-
اب کرسٹل میں زنک کی زیادتی ہوجاتی ہے اور فارمولاZn1+xOبن جاتا ہے۔ +Zn2آینوں کی زیادتی شگافی جگہوں (Interstitial Sites)کی طرف بڑھتی ہے اور الیکٹرون ہمسایہ شگافی جگہوں کی طرف بڑھتے ہیں۔
(ii) قلیل دھاتی نقص(Metal Deficiency Defect)
بہت سے ایسے ٹھوس ہیں جن کو تناسب پیما ساخت(Stoichiometric Composition)میں تیار کرنا مشکل ہے اور جن میں اسٹوئی شیو میٹری پروپورشن کے مقابلے دھات کی مقدار کم ہوتی ہے۔FeOاس ٹائپ کی اہم مثال ہے جو اکثرFe0.95Oکمپوزیشن کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ اس کی رینجFe0.93O سےFe0.96Oتک ہوسکتی ہے۔FeOکے کرسٹلوں میں کچھ+Fe2کیٹاین مفقود (Missing)ہوتے ہیں اور مثبت چارج کی کمی کو+ Fe3آینوں کی مطلوبہ تعداد کی موجودگی سے پورا کیا جاتا ہے۔
1.10 برقی خواص
(Electrical Properties)
ٹھوس برقی موصلیت(Electrical Conductivities)کی حیرت انگیز رینج کا اظہار کرتے ہیں جو -20-10سے 107ohm-1m-1تک27سے زیادہ درجوں پرمربوط ہے۔ موصلیت کے اعتبار سے ٹھوسوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(i) موصل(Conductors):۔ وہ ٹھوس جن کی موصلیت کی رینج104سے
107 ohm–1m–1
تک ہے موصل کہلاتے ہیں۔ جن دھاتوں کی موصلیت (Conductivities)
107 ohm–1 m–1
درجہ کی ہے وہ اچھی موصل(Good Conductor)کہلاتی ہیں۔
(ii) حاجز(Insulators):۔ یہ وہ ٹھوس ہیں جن کی موصلیت بہت پست یعنی20-10سے
10-10 ohm-1m-1
درجے کے درمیان ہے۔
(iii) نیم موصل(Semi Conductors): یہ وہ ٹھوس ہیں جن کی موصلیت درمیانی رینج (Intermidate Range)
10-6
سے
104 ohm–1 m–1
کی ہے۔
1.10.1 دھاتوں میں ایصال برق
ایک موصل(Conductor)الیکٹرونوں یا آینو ں کی حرکت (Movement)کے وسیلے سے برق کا ایصال (Conduction) کرتا ہے۔ دھاتی موصل پہلی کٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں اور برق پانے (Electrolytes) دوسری سے۔
دھاتیں برق کا ایصال کرتی ہیں چاہے یہ دھاتیں ٹھوس حالت میں ہوں یا پگھلی ہوئی حالت میں دھاتوں کی موصلیت، فی ایٹم موجود گرفتی الیکٹرونوں (Valence Electrons)کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔ دھاتی ایٹموں کی ایٹمی آربٹل(Orbitals)سالماتی آربٹل(Orbitals)بناتے ہیں جو توانائی میں ایک دوسرے سے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ ان کی ایک پٹی(Band)بن جاتی ہے۔ اگر یہ پٹی جزوی طور پر بھری ہو یا اونچی توانائی کے ساتھ خالی ایصالی پٹی (Unoccupied Conduction Band)پر چڑھی ہوئی ہو تو اس وقت الیکٹرون ایک برقی فیلڈ کے تحت آسانی کے ساتھ بہہ سکتے ہیں اور تب دھات موصلیت کا اظہار کرتی ہے(شکل1.33(a))
اگر بھری ہوئی گرفتی پٹی(Valence Band)اور قریبی اونچی خالی پٹی (ایصالی پٹی) کے درمیان خلیج(Gap)زیادہ ہے تو الیکٹرون وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور نتیجتاً ایسی شے (Substance)کی موصلیت بہت کم ہوتی ہے اور اس کا عمل ایک حاجز(Insulator)کا ہوتا ہے۔ (دیکھیے شکل1.33(b))
1.10.2 نیم موصلوں میں ایصال برق
(Conduction of Electricity in Semiconductors)
نیم موصلوں میں گرفتی پٹی اور ایصالی پٹی کے درمیان خلیج (Gap)کم ہوتاہے(شکل1.33(c)) اس طرح کچھ الیکٹرون ایصالی پٹی تک پہنچ جاتے ہیں اور موصلیت کا اظہار کرتے ہیں۔ نیم موصلوں کی برقی موصلیت درجہئ حرارت میں اضافہ کے ساتھ بڑھتی ہے کیونکہ ایسی صورت میں زیادہ الیکٹرون ایصالی پٹی تک پہنچ پاتے ہیں۔ سلی کون اور جرمینیم جیسی اشیا اس طرح کے رویوّں (Behaviours)کا اظہار کرتی ہیں اور ایسی اشیا(Substance)کو ذاتی نیم موصل(Intrinsic Semiconductors)کہا جاتا ہے۔
ایسے ہم ذاتی نیم موصلوں کی موصلیت پریکٹیکل استعمال کے لیے بہت ہی کم ہوتی ہے۔ موزوں ملاوٹوں کی مناسب مقدار کا اضافہ کرکے ان کی موصلیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس عمل کو ڈوپنگ(Doping)کہا جاتا ہے۔ ڈوپنگDopingکا عمل کسی بھی ایسی ملاوٹی چیز(Impurity)کی آمیزش سے انجام پاسکتا ہے جو الیکٹرونوں سے مالا مال ہو یا جس میں الیکٹرونوں کی کمی ہو(ذاتی نیم موصل سلی کون یا جرمینیم کا موازنہ کیجیے) یہ ملاوٹیس ان میں الیکٹرانک نقائص کو داخل کردیتی ہیں۔
خالی پٹی
کم توانائی فصل
ایصال پٹی
خالی پٹی
زیادہ توانائی فصل
بھری ہوئی پٹی
اوور لیپنگ پٹی
توانائی
جزوی بھری ہوئی پٹی
(c)نیم موصل
(b)حاجر
(a)دھات
شکل 1.33 امتیاز مابین(a)دھات(b)حاجزاور(c)نیم موصل۔ ان میں سے ہرایک صورت میں، بنا شیڈ کا حصہ ایصالی پٹی کا اظہار ہے۔
(a) الیکٹرون سے مالا مال ملاوٹیں (Electron-rich Impurities)
سلی کون اور جرمینیم کا تعلق دوری جدول کے گروپ14سے ہے اور ان میں سے ہر ایک کے چار، گرفتی الیکٹرون ہیں۔ ان کے کرسٹلوں میں، ہر ایٹم اپنے ہمسایوں کے ساتھ چار شریک گرفتی پٹی(Covalent Band)بناتا ہے۔ (دیکھیے شکل(a)1.34)
جب گروپ 15کے عنصر جیسےpیا Asکے ساتھ جس میں پانچ گرفتی الیکٹرون ہوتے ہیں، اس کی ڈوپنگ کی جاتی ہے تو یہ سلی کون یا جرمینیم کے کرسٹل میں جالی کی کچھ جگہوں کو گھیر لیتے ہیں۔(دیکھیے شکل(b)1.34)پانچ میں سے چار الیکٹرون کا استعمال، چار ہمسایہ سلی کون ایٹموں کے ساتھ چار شریک گرفتی بندوں کی تشکیل کے لیے کیا جاتا ہے۔ پانچواں الیکٹرون ایکسٹرا ہوتا ہے اور غیر مقامی ساختہ(Delocalized)ہوجاتا ہے۔ یہ ڈی لوکلائزڈ (Delocalized) الیکٹرون ڈوپنگ شدہ سلی کویا جرمینیم کی موصلیت کو بڑھادیتے ہیں۔ موصلیت میں یہ اضافہ منفی طور پر چارج شدہ الیکٹرون کی وجہ سے ہوتا ہے اس لیے الیکٹرون سے مالا مال ملاوٹ کے ساتھ ڈوپنگ شدہ سلی کون کوn-typeنیم موصل کہا جاتا ہے۔
(b) کم الیکٹرون والی ملاوٹیں (Electorn-Deficient Impurities)
سلی کون یا جرمینیم کی ڈوپنگ گروپ13کے عنصر جیسےA1, Bیا Gaسے بھی کی جاسکتی ہے جو صرف تین گرفتی الیکٹرونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ جگہ جہاں چوتھا گرفتی الیکٹرون مفقود (Missing)ہوتا ہے اس کو الیکٹرون ہول(Electron Hole)یا الیکٹرون خلا(Electron Vacancy)کہا جاتا ہے۔ (دیکھیے شکل(c)1.34) کوئی الیکٹرون ہمسایہ ایٹم سے آسکتا ہے اور الیکٹرون ہول (Hole)کو پر کرسکتا ہے لیکن اس طرح ڈوپنگ کرنے میں یہ، ایک الیکٹرون ہول کو اپنی اوریجنل پوزیشن پر چھوڑے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یوں لگے گا گویا الیکٹرون ہول اس الیکٹرون کی مخالف سمت میں آگے بڑھ گیا ہے جس نے اس کی جگہ بھری تھی۔ برقی فیلڈ کے اثر کے تحت، الیکٹرون، الیکٹرونک ہولز (Holes) کے وسیلے سے مثبت طور پر چارج شدہ پلیٹ کی طرف بڑھتے ہیں لیکن لگے گا یوں گویا الیکٹرون ہول مثبت طور پر چارج ہیں اور منفی طورپر چارج شدہ پلیٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس قسم کے نیم موصل pٹائپ، نیم موصل کہلاتے ہیں۔

(c)مثبت ہول(کوئی الیکٹرانک نہیں) p-type
(b)موبائل الیکٹران n-type
(a)سلیکان ایٹم کامل کرسٹل
شکل 1.34: گروپ13اورگروپ14کے عناصر کی ڈوپنگ کے ذریعہ-nٹائپ اور-pٹائپ نیم موصلوں کی تخلیق۔
n ٹائپ اورp ٹائپ نیم موصلو ں کے استعمال (Applications of n-type and p-type semiconductors)
n ٹائپ اور p ٹائپ نیم موصلوں کے مختلف اتحاد(Combinations)الیکٹرونک کل پرزے بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔n 'Diode ٹائپ اورp ٹائپ نیم موصلوں کا ایک اتحاد ہے جس کا استعمال ایکRectifierکی شکل میں کیا جاتا ہے۔ ایک ٹائپ کے نیم موصل کی پرت کو دوسرے ٹائپ کے نیم موصل کی دوپرتوں کے درمیان رکھ کر ٹرانسسٹر بنائے جاتے ہیں۔ npnاورpnpٹائپ کے ٹرانسسٹروں کا استعمال ریڈیو یا آڈیو سگنلوں کی کھوج کرنے یا ان کو بڑھانے (Amplify)کے لیے کیاجاتاہے۔ شمسی سیل(Solar Cell)ایک کارگر Photo-Diode ہے جس کا استعمال نوری توانائی(Light Energy)کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔
جرمینیم اور سلی کون گروپ14کے عناصر ہیں اور اسی وجہ سے چار کی گرفت ان کی خصوصیت ہے اور وہ چار بند(Bonds)بناتے ہیں جیسے کہ ڈائمنڈ میں۔ ٹھوس حالت والی اشیا کی بہت سی قسمیں چار کے اوسط گرفت کی تحریک کے لیے گروپ13اور15یا گروپ12اور16کے اتحاد سے تیار کی جاتی ہیں۔جیسا کہ GeاورSiمیں ہے۔ گروپ13-15خصوصی مرکباتInSb،AlPاور GaAsہیں۔ گیلیم آرسینائڈ(GaAs)نیم موصلوں کی کارکردگی بہت تیز ہوتی ہے اور انھوں نے نیم موصلوں کی ڈیزائن اورطریق کار میں انقلاب پیدا کردیا ہے۔ZnS،CdS،CdSeاورHgTe، گروپ12-16کے مرکبات کی مثالیں ہیں۔ ان مرکبات (Compounds) میں بند کامل طور پر شریگ گرفتی نہیں ہوتے اور آیونک کردار دونوں عناصر کی برقی منفیوں (Electronegativities)پر منحصرہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عبوری دھاتی اکسائڈ(Transition Metal Oxides)، برقی خواص میں نمایاں اختلافات کا اظہار کرتے ہیں۔TiO،CrO2اورReO3دھات جیسارویہ(Behaviour)ظاہر کرتے ہیں (Rhenium Oxide)، ReO3، اپنی موصلیت اور ظاہری شکل میں دھاتی کاپرکی طرح ہوتا ہے۔ کچھ اور آکسائڈ جیسےVO،VO2،VO3اورTiO3دھات یا ایک حاجز کے خواص کا اظہار کرتے ہیں جس کا انحصار درجہئ حرارت پر ہے۔
1.11 مقناطیسی خصوصیات
(Magnetic Propeties)
ہر شے سے کچھ مقناطیسی خواص وابستہ ہوتے ہیں۔ ان خواص کا منبع الیکٹرون میں موجود ہوتا ہے۔ ایٹم کا ہر الیکٹرون ایک چھوٹے سے مقناطیس کی طرح اپنے رویے کا اظہار کرتا ہے۔ اس کا مقناطیسی معیار اثر(Magnetic) Moment)دو ٹائپ کی حرکتوں سے وجود میں آتا ہے(i)ایک نیو کلیس کے چاروں طرف اربٹل حرکت سے اور (ii)دوسرے اس کے اپنی دھری کے چار وں طرف گردش سے(دیکھیے شکل1.35) الیکٹرون کو جو ایک چارج شدہ ذرہ ہوتا ہے اوران حرکتوں (Motions)کے زیر اثر ہوتا ہے، کرنٹ کا سب سے چھوٹا حلقہ(Loop)سمجھاجاسکتاہے جو ایک مقناطیسی معیار اثر کا مالک ہوتا ہے۔ اس طرح ہر الیکٹرون کا ایک مستقل چکر اور ایک آربٹل مقناطیسی معیار اثر ہوگاجواس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مقناطیسی معیار اثر کی ضخامت(Magnitiude)بہت چھوٹی ہوتی ہے اور اس کو جس یونٹ میں ناپا جاتا ہے اسےBohr LiB Magnetonکہا جاتا ہے۔ یہ
9.2710-24 Am2
کے مساوی ہوتا ہے۔
(a) مقناطیسی مومنٹ
الیکٹران
ایٹمک سالمات
(b) مقناطیسی مومنٹ
الیکٹران
شکل1.35: اس مقناطیسی معیاری اثر کا اظہار جو وابستہ ہے
(a)کسی آربٹنگ الیکٹرون سے اور(b)گردشی الیکٹرون سے
مقناطیسی خواص کی بنیاد پر۔ اشیا(Substance)کی پانچ زمروں میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے:
(i) پیرا میگنیٹک(ii)ڈایا میگینٹیک (iii)فیرو میگنیٹک (iv)اینٹی فیرومیگنیٹک اور(v)فیری میگنیٹک
(i) پیرا میگنیٹک: پیرا میگنیٹک اشیا کی میگنیٹک فیلڈ میں کشش بہت کمزورہوتی ہے۔ کسی میگنیٹک فیلڈ میں ان کا مقناؤ(Magnetication)اسی سمت میں ہوتا ہے۔ یہ میگنیٹک فیلڈ کی عدم موجودگی میں اپنی مقناطیسیت(Magnetsim)کھو بیٹھتی ہیں۔ پیرا میگینٹزم۔ایک یا زیادہ غیر جوڑی دار الیکٹرونوں (Unpaired Electrons)کی وجہ سے ہوتا ہے جن کو میگنیٹک فیلڈ کے ذریعے کھینچا جاتا ہے۔
O2،Cu2+،Fe3+اورCr3+
اس قسم کی اشیاء(Substaces)کی ہی کچھ مثالیں ہیں۔
(ii) ڈایا میگنیٹزم: ڈایا میگنیٹِک اشیا کسی میگنیٹک فیلڈ کے ذریعے بہت کمزور طور پر دفع کی جاتی ہیں۔
H2O،NaC1اورC6H6
ایسی ہی اشیا کی مثالیں ہیں۔ ایک مقناطیسی میدان میں ان کی مخالف سمت میں بہت کمزور طریقے پر مقناؤ ہوتا ہے۔ڈایا میگنیٹزم کا اظہار ان اشیا کے ذریعے ہوتا ہے جن میں الیکٹرون جوڑے دار(Paired)ہوتے ہیں اور وہاں غیر جوڑے دار الیکٹرون نہیں ہوتے۔ الیکٹرون کی جوڑے داری (Pairing) اپنے مقناطیسی معیاری اثرات کو مسترد کردیتی ہے اور وہ اپنے مقناطیسی کردار کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔
(iii) فیرو میگنیٹزم:کچھ اشیا جیسے لوہا، کوبالٹ، نکل، کَیڈولینیم اورCrO2کی مقناطیسی میدان کے ذریعے بہت شدید کشش ہوتی ہے۔ ایسی اشیا کو فیرو میگنیٹک اشیا(Ferromagnetic Substances)کہتے ہیں۔ شدید کشش کے علاوہ، ان اشیاء کا مستقل طور پر مقناؤ کیا جاسکتا ہے۔ ٹھوس حالت میں فیرو میگنیٹک اشیاء کے دھاتی آینوں کی باہم گروپنگ چھوٹے چھوٹے خطّوں /علاقوں (regions)میں کی جاتی ہے۔ ان علاقوں کو قلمرو(غیرمخلوط مقناطیسی علاقہ) (Domains)کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہر قلمرو(domain)ایک چھوٹے مقناطیس کی طرح عمل کرتی ہے۔ ایک فیرومیگنیٹک شے کے غیر مقناؤ شدہ(Unmgnatized)ٹکڑے میں غیرمخلوط مقناطیسی علاقوں (Domains)کی تشریق(Orientation) اٹکل پچھو ہوتی ہے اور ان کے مقناطیسی معیاری میدان میں رکھا جاتا ہے تو تمام قلمروؤں کی تشریق (Orientation)مقناطیسی میدان کی سمت میں ہوجاتی ہے۔(شکل(a)1.36) اور ایک شدید مقناطیسی اثر پیدا ہوتا ہے۔قلمروؤں کی یہ نظم وترتیب اس وقت بھی باقی رہتی ہے جب مقناطیسی میدان ختم ہوجاتا ہے اور فیرو میگنیٹک شے مستقل میگنیٹ بن جاتی ہے۔
(iv) اینٹی فیرومیگنیٹزم: MnOجیسی اشیاء(Substances)کی جو اینٹی فیرومیگنیٹزم کا اظہار کرتی ہیں قلمرو ساخت(Domain Structure)ایسی ہی ہوتی ہے جیسی فیرومیگنیٹک اشیاء کی لیکن ان قلمرو (Domains)کی تشریق مخالف سمت میں ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے مقناطیسی معیار اثر کو ختم کردیتی ہیں۔ (شکل(b)1.36)
(v) فیری میگنیٹزم: فیری میگنٹیزم کامشاہدہ اس وقت ہوتا ہے جب شے میں قلمروؤں (Domains) کے مقناطیسی مومنٹ (Moments)متوازی اور مخالف متوازی سمتوں میں غیر مساوی تعداد میں قطار بند ہوتے ہیں۔ (شکل(c)1.36)۔ فیرو میگنیٹک اشیاء کے مقابلے، یہ مقناطیسی میدان کے ذریعے بہت کمزور طریقے پر کھینچتے ہیں۔(Magnetite)Fe3 O4اور فیری ٹائٹ(Ferritites)جیسےMgFe2O4اورMg Fe2 O4ایسی ہی اشیاء کی مثالیں ہیں۔ گرم کرنے پر یہ اشیاء فیری میگنیٹزم کو کھودیتی ہیں اور پیرا میگنیٹک ہوجاتی ہیں۔
شکل 1.36: (a)فیرو میگنیٹک (b)اینٹی فیرومیگنیٹک اور(c)فیری میگنیٹک میں مقناطیسی معیارات کی قیاسی قطار بندی(Schematic Alignment)
متن پر مبنی سوالات
1.18 جب ایک ٹھوس کو گرم کیا جاتاہے تو کون سا نقص(Defect)پیدا ہوجاتا ہے؟ اس سے کون سی طبعی خاصیت(Property)متاثر ہوتی ہے اور کس طریقے سے ہوتی ہے؟
1.19 ZnSاورAgBrکس ٹائپ کے تناسب پیما(Stoichiometric)نقص کا اظہار کرتے ہیں؟
1.20 جب کسی ایونک ٹھوس میں اونچی گرفت کے کیٹاین کا اضافہ ایک ملاوٹ کے روپ میں کردیا جاتا ہے تو اس میں کس طرح خلاؤں (Vacancies) کوداخل(Introduce)کیا جاتا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
1.21 آیونک ٹھوس جو کثیر دھاتی نقص(Metal Excess Defect)کی وجہ سے این آیونک خلا(Vacancy)رکھتے ہیں، رنگ بناتے ہیں مناسب مثال کی مدد سے وضاحت کیجیے۔
1.22 گروپ14کا عنصرکسی مناسب ملاوٹ کی ڈوپنگ کے ذریعےnٹائپ کے نیم موصل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ ملاوٹ کس گروپ سے متعلق ہونی چاہیے؟
1.23 کس قسم کی اشیاء(Substaces)بہتر اور مستقل میگنیٹس —فیرومیگنیٹک یا فیری میگنیٹک—بناتے ہیں مدلل لکھیے۔
خلاصہ
ٹھوس مستقل کمیت، حجم اور شکل رکھتے ہیں۔ ایساان کے ترکیبی ذرات کی مقررہ(Fixed)پوزیشن اور ان کے درمیان، مختصر فاصلوں اور شدید تعاملوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نقلمی یعنی امورفس(Amorphous)ٹھوسوں میں، ترکیبی ذرات کی ترتیب میں صرف مختصر رینج کا نظام(short range order)ہوتا ہے اور نتیجے میں ان کا رویہ اعلی سرد مائع(Supre Cooled Liquids)کا ہوتا ہے نیز ان کا نقطہ گداخت……(Sharp)نہیں ہوتا اور وہ اپنی فطرت میں ہم طرف(Iso tropic)ہوتے ہیں۔ قلمی ٹھوسوں کے ترکیبی ذرات کی ترتیب میں ایک لمبی رینج کا نظام(Long range order)ہوتا ہے۔ ان کا نقطہئ گداخت بہت زیادہ (Sharp)ہوتا ہے اور وہ اپنی فطرت میں غیر ہم طرف(Aniso tropic) ہوتے ہیں نیز ان کے ذرات مخصوص شکل والے ہوتے ہیں۔ قلمی ٹھوسوں کے خواص، ان کی ترکیبی ذرات کے مابین تعاملات کی نوعیت پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ چار زمروں میں درجہ بند کیے جاسکتے ہیں یعنی، سالماتی(Molecular)، آیونک،(Ionic)، دھاتی اور شریک گرفتی(Covalent)ٹھوس، خواص کے اعتبار سے ان کے درمیان بہت اختلافات ہیں۔
قلمی ٹھوسوں میں ترکیبی ذرات ایک باقاعدہ نمونے(Pattern)پر مرتب ہوتے ہیں اور یہ نمونہ(Pattern)تمام قلم(Crystal)میں چلتا ہے یہ ترتیب اکثر نقطوں کی تین ابعادی قطار کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جس کو قلمی جالی(Crystal Lattice)کہا جاتا ہے۔ جالی کا ہر نقطہ کسیخلا(Space)میں ایک ذرہ کے وقوع(Location)کو بتاتا ہے۔ مجموعی طور پر چودہ مختلف قسم کی جالیاں ممکن ہیں جنھیں (Bravice Lattices)کہا جاتا ہے۔ ہر جالی اس کے خصوصی حصے(Charcteristic Portion)کی تکرار سے بنایاجاسکتا ہے جسے یونٹ سیل کہتے ہیں۔ ایک یونٹ سیل کی خصوصیت اس کی حاشیائی لمبائیاں (Edge Length)اور ان حاشیوں کے درمیان تین زاویے ہیں۔ یونٹ سیل یا تو ابتدائی(Primitive)ہوں گے جن کے ذرات صرف ان کی کارنر پوزیشنوں پر ہوتے ہیں یا پھر مرکزیCentredہوں گے۔ مرکزی یونٹ سیل اپنے جسمی مرکز(Body Centre)پر، ہررُخ کے مرکز(Face Centred)پر یا دو متضاد رُخوں کے مرکز(End Centred)پر اضافی ذرات کے حامل ہوتے ہیں۔ ابتدائی(Primitive)یونٹ سیل سات طرح کے ہوتے ہیں۔ مرکزی(Centred)یونٹ سیل کے حساب سے، یونٹ سیلز کی کل تعدادسات قسم کی بنیادی اکائی سیل ہیں۔ مرکزی یونٹ کو اگر شامل کر لیا جائے تو کل ملا کر چودہ قسم کی یونٹ سیل ہیں جس کے نتیجے میں چودہBreavais Latticesبنتے ہیں۔
ذرات کی کلوز پیکنگ کے نتیجے میں دو بہت زیادہ کارگر لیٹس حاصل ہوتے ہیں یعنی (Hexagonal Closed Pakced)hcpاور (Cubic Colsed Packed)ccpآخر الذکر(Face Centrel Cubic)fccلیٹس بھی کہلاتی ہے۔ ان دونوں قسم کی پیکنگ میں 74%جگہ بھری رہتی ہے۔ باقی جگہ دو قسم کے وائڈ(Voids)کی شکل میں موجود ہوتی ہے جنھیں آکٹا ہیڈرل وائڈ(Octa hedral Voids)اور ٹیٹرا ہیڈرل وائڈ(Tetra hedral Voids)کہتے ہیں۔ دیگر قسم کی پیکنگ کلوز پیکنگ نہیں ہیں اور ان میں ذرات کی پیکنگ زیادہ کار گر نہیں ہوتی ہے جب کہ (Body Centrel Cubic)bccلیٹس میں 68%جگہ پر ہوتی ہے۔ سادہ مکعبی لیٹس میں صرف52.4%جگہ پر ہی ہوتی ہے۔
ٹھوس اشیاء کی ساخت کامل نہیں ہوتی۔ ان میں کئی قسم کے نقص(defects)پائے جاتے ہیں۔ نقطہ نقص(Point defect)اور خطی نقص(Line Defect)عام قسم کے نقص ہیں۔ نقطہ نقص تین قسم کے ہوتے ہیں۔ تناسب پیمائی نقص(Stoichiometric Defect)، ملاوٹ کا نقص(Impurity Defect)اور غیر تناسب پیمائی نقص۔ ویکنسی نقص اور انٹر اسٹیشل نقص، تناسب پیمائی نقطہ نقص کی دو بنیادی قسمیں ہیں۔ آینی ٹھوس اشیاء میں یہ نقص فرینکل(Frenkal)اور شاٹ کی نقص(Shottky Defect)کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ ملاوٹ کے نقص کرسٹل میں موجود دو ملاوٹوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ آینی ٹھوس اشیاء میں جب ملاوٹ کا ویلنس خاص مرکب کے ویلنس سے مختلف ہوتا ہے تو کچھ ویکنسی پیدا ہوجاتی ہیں غیر تناسب پیمائی نقص دھاتوں کی زیادتی(Metalexcess)یا دھاتوں کی کمی(Metal Deficient)قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ملاوٹوں کی تحسیب شدہ مقدار کو کچھ نیم موصلوں میں ملا دیا جاتا ہے جس سے ان کی برقی خصوصیات تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس قسم کے مادوں کا استعمال الیکٹرانک صنعت میں بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ ٹھوس اشیاء کئی قسم کی مقناطیسی خصوصیات کو ظاہر کرتی ہیں مثلاً پیرا مقناطیسیت، ڈایا مقناطیسیت، فیر ومقناطیسی، اینٹی فیرو مقناطیسی اور فیری مقناطیسی ان خصوصیات کا استعمال سمعی بصری اور دیگر ریکارڈنگ کے آلات میں کیا جاتا ہے۔ یہ سبھی خصوصیات ان کے الیکٹران تشکل یا ساختوں سے مربوط ہیں۔
مشقیں
1.1 اصطلاح غیرقلمی(Amorphous)کی تعریف بیان کیجیے۔غیر قلمی ٹھوس اشیا کی چند مثالیں پیش کیجیے۔
1.2 کس وجہ سے کانچ، کوارٹز جیسے ٹھوس کے مقابلے مختلف ہوتا ہے؟ کن حالات میں کوارٹز کو کانچ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
1.3 مندرجہ ذیل ٹھوس اشیاء کی درجہ بندی آینی، دھاتی، سالماتی، نیٹ ورک (شریک گرفت) یا امارفس کے تحت کیجیے۔
(i) ٹیٹرا فاسفورس ڈیک آکسائڈ
(CP4O10)
(ii) امونیم فاسفیٹ
(NH4)3PO4
(iii)
SiC
(iv)
I2
(v)
P4
(vi) پلاسٹک
(vii)گریفائٹ
(viii) پیتل
(ix)
Rb
(x)
LiBr
(xi)
Si
1.4 (i) اصطلاح کوآرڈینینشن نمبر، سے کیا مراد ہے؟
(ii) مندرجہ ذیل میں ایٹموں کا کوآرڈینیشن نمبر کیا ہوگا۔
(a)
ccpساخت میں
(b)
bccساخت میں
1.5 آپ کسی نامعلوم دھات کی ایٹمی کمیت کا تعین کس طرح کریں گے اگر آپ کو اس کی کثافت اور یونٹ سیل کی جسامت معلوم ہے؟ تشریح کیجیے۔
1.6 کسی کرسٹل کے استحکام کی عکاسی اس کے نقطہ گداخت کی قدر سے ہوتی ہے۔ اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔ ٹھوس پانی، ایتھائل الکوحل، ڈائی ایتھائل ایتھر اور میتھین کے نقطہ گداخت جمع کیجیے۔ ان سالمات کے درمیان بین سالماتی قوتوں کے بارے میں آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟
1.7 مندرجہ ذیل اصطلاحات کے جوڑوں کے درمیان آپ کس طرح فرق کریں گے؟
(i)
hcpاورccp
(ii) قلمی جالی(کرسٹل لیٹس) اور یونٹ سیل
(iii) چوسطحی خلا اورہشت سطحی خلا
1.8 مندرجہ ذیل ہر ایک لیٹس کی یونٹ سیل میں کتنے لیٹس پوائنٹ ہوتے ہیں؟
(i) رخ مرکزی مکعبی(fcc)
(ii) رخ مرکزی ٹیٹرا گونل(fct)
(iii) جسم مرکزی
1.9 تشریح کیجیے۔
(i) دھاتی اور آینی کرسٹلوں میں یکسانیت اور فرق کی بنیاد۔
(ii) آینی ٹھوس سخت اور پھوٹک ہوتے ہیں۔
1.10 مندرجہ ذیل کے لیے دھاتی کرسٹل کے معاملے میں پیکنگ کی کارکردگی کی تحسیب کیجیے۔
(i) سادہ مکعبی
(ii) جسم مرکزی مکعبی
(iii) رخ مرکزی مکعبی(فرض کیجیے کہ ایٹم ایک دوسرے کو مس کررہے ہیں)
1.11 سلورfccلیٹس میں کرسٹلائز ہوجاتی ہے۔ اگر سیل کے کنارے کی لمبائی
4.07 10-8
اور کثافت10.5g cm-3ہو تو سلور کی ایٹمی کمیت معلوم کیجیے۔
1.12 ایک معکبی ٹھوسpاورQدو عناصر سے بنا ہے۔Qکے ایٹم کعب کے کونوں پر ہیں اور pکے اندر ایٹم مرکز میں ہیں۔ مرکب کا فارمولہ کیا ہوگا؟ pاورQکا کوآرڈینیشن نمبر کیا ہوگا؟
1.13 نیوبیم جسم مرکزی مکعبی ساخت میں کرسٹلائز ہوتا ہے۔ اگر کثافت
8.55 g cm-3
ہو تو نیو بیم کا ایٹمی نصف قطر معلوم کیجیے۔ اس کی ایٹمی کمیت93Uہے۔
1.14 اگر آکٹا ہیڈرل وائڈ کا نصف قطر اور کلوز پیکنگ میں ایٹموں کی نصف قطرRہے توrاورRکے درمیان تعلق واضح کیجیے۔
1.15 کاپرfccلیٹس میں کرسٹلائز ہوتا ہے جس کے کنارے کی لمبائی
3.61 10-8 cm
ہے۔ دکھائیے کہ تحسیب شدہ کثافت، پیمائش کی گئی قدر کے مطابق ہے۔
1.16 تجزیہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ نکل آکسائڈ کا فارمولہNi00.98O1.00ہے۔ نکل کا کتنا حصہ+Ni2اور کتنا حصہ+Ni3آینوں کی شکل میں ہے؟
1.17 نیم موصل(Semi Condutor)کیا ہے؟ نیم موصلوں کی دو خاص قسمیں بیان کیجیے اور ان کے ایصال میکانزم کا موازنہ کیجیے۔
1.18 غیر تناسب پیمائی کیو پر س آکسائڈ،CU2Oکو تجربہ گاہ میں تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس آکسائڈ میں، کاپر کی آکسیجن سے نسبت2:1سے تھوڑا کم ہے۔ کیا آپ اس حقیقت کی وجہ بتا سکتے ہیں کہ یہ شے-pقسم کی نیم موصل ہے۔
1.19 فیرک آکسائڈ آینوں کی hcpترتیب میں کرسٹلائز ہوتا ہے جس میں تین میں سے دو آکٹا ہیڈرل سوراخ فیرک آینوں کے ذریعہ گھیر لیے جاتے ہیں۔ فیرک آکسائڈ کا فارمولہ معلوم کیجیے۔
1.20 مندرجہ ذیل میں ہر ایک کی درجہ بندی pقسم یاnقسم کے نیم موصل کے تحت کیجیے۔
(i)
Geمیں Inکی آمیزش
(ii)
Bمیں Siکی آمیزش
1.21 گولڈ (ایٹمی نصف قطر
0.144 nm=)
رخ مرکزی یونٹ سیل میں کرسٹلائز ہوتا ہے۔ سیل کے ایک ضلع کی لمبائی کیا ہوگی؟
1.22 بینڈ تھیوری کے مطابق مندرجہ ذیل میں فر ق بتائیے۔
(i) موصل اور حاجز
(ii) موصل اور نیم موصل
1.23 مندرجہ ذیل اصطلاحات کی وضاحت مع مثال کیجیے۔
(i) شاٹ کی نقص(ii)فرینکل نقص (iii)انٹراسٹیشل اور
(iv)
Fمرکزی
1.24 ایلیو مینیمccpساخت میں کرسٹلائز ہوتا ہے۔ اس کا دھاتی نصف قطر125 pmہے۔
(i) یونٹ سیل کے ضلع کی لمبائی کیا ہوگی؟
(ii) ایلیو مینیم کے
1.00 cm3
میں کتنی یونٹ سیل ہوں گی؟
1.25 اگرNaCIکی SrCI2کے
10-3mol%
میں ڈوپنگ کی جائے تو کیٹ آین ویکنسی کا ارتکاز کیا ہوگا؟
1.26 مندرجہ ذیل کی وضاحت مع مثالوں کے کیجیے۔
(i) فیرو مقناطیسیت
(ii) پیرا مقناطیسیت
(iii)فیری مقناطیسیت
(iv) اینٹی فیرو مقناطیسیت
(v)
12-16اور13-15گروپ مرکبات
متن پر مبنی کچھ سوالوں کے جوابات
1.14 4
1.15 وائڈ کی کل تعداد
9.033 1023
ٹیٹرا ہیڈرل وائڈ کی تعداد
6.022 1023
1.16 M2N3
1.18 ccp