یونٹ 2
محلول (Solutions)
مقاصد
اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
• مختلف قسم کے محلولوں کی تشکیل کو بیان کرسکیں؛
• محلوں کے ارتکاز کو مختلف اکائیوں میں ظاہر کرسکیں؛
• ہیزی اور راؤلٹ کے کلیہ کو بیان کرسکیں؛
• مثالی اور غیر مثالی محلولوں کے درمیان فرق کرسکیں؛
• حقیقی محلولوں کے راؤلٹ کے کلیہ سے انحراف کو بیان کرسکیں؛
• محلولوں کی مربوط خصوصیات کی تشریح کرسکیں اور ان خصوصیات کو منحل کی مولر کمیتو ں سے ہم آہنگ کرسکیں؛
• محلولوں میں کچھ منحلوں کی غیر مربوط خصوصیات کی تشریح کرسکیں۔
جسم میں تقریباً سبھی اعمال کسی نہ کسی کسی رقیق محلول میں ہی انجام پذیر ہوتے ہیں۔
عام زندگی میں ہمارا واسطہ خالص اشیاء سے کبھی کبھار ہی پڑتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر اشیاء ایسے آمیزہ کی شکل میں ہوتی ہیں جو دو یا دو سے زیادہ خالص اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ زندگی میں ان کی افادیت اور اہمیت ان کی ترکیب پر منحصر ہوتی ہے۔ مثلاً پیتل (تانبہ اور جستہ کا آمیزہ) کی خصوصیات جرمن سلور (کاپر، زنک اور نکل کا آمیزہ) یا کانسہ (تانبہ اور ٹِن کا آمیزہ) کی خصوصیات سے بالکل مختلف ہوتی ہیں، پانی میں فلورائڈ آینوں کا (ppm: part per million)I ppmدانتوں کو خراب ہونے سے روکتا ہے جب کہ 1.5 ppmکی وجہ سے دانتو ں پر داغ دھبے پڑ جاتے ہیں۔فلورائڈ آینوں کا بہت زیادہ ارتکاز زہریلا ہوسکتا ہے (مثلاً سوڈیم فلورائڈ کا استعمال چوہے مار زہر کے طور پر کیا جاتا ہے) وریدوں کے اندر لگائے جانے والے انجکشن کو ایسے پانی میں حل کیا جاتا ہے جس میں نمک ایک مخصوص آینی ارتکاز پر گھلے ہوتے ہیں تاکہ وہ خون کے پلازمہ سے میل کھا سکیں وغیرہ وغیرہ۔
اس اکائی میں، ہم زیادہ تر رقیق محلول اور ان کی تشکیل پرہی غوروخوض کریں گے۔ اس کے بعد محلولوں کی مربوط خصوصیات اور بخاراتی دباؤ جیسی خصوصیات کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ابتداء میں ہم محلولوں کی اقسام پر غور کریں گے اور پھر ان مختلف متبادل پر غورکریں گے جن میں، رقیق محلول میں منحل کے ارتکاز کو ظاہر کیا جاتا ہے۔
2.1 محلولوں کی اقسام (Types of Solutions)
محلول دو یا دو سے زیادہ اجزا کا متجانس (homogeneous)آمیزہ ہے۔ متجانس آمیزہ سے ہماری مراد ہے کہ اس کی ترکیب اور خصوصیات پورے آمیزہ میں یکساں ہوتی ہیں۔ عموماً، وہ جزو جو زیادہ مقدار میں موجود ہے محلل (Solvent)کہلاتا ہے۔ محلل اس طبیعی حالت کا تعین کرتا ہے جس میں وہ محلول موجود ہے۔ محلول میں محلل کے علاوہ موجود ایک یا زیادہ اجزا منحل (Solutes)کہلاتے ہیں۔ اس اکائی میں ہم صرف بائنری محلول(یعنی دو اجزا پر مشتمل محلول) پر ہی غور کریں گے۔ یہاں ہر ایک جزو ٹھوس، رقیق یا گیس کی حالت میں ہوسکتا ہے۔ جدول2.1میں ان کا خلاصہ کیا گیا ہے۔
جدول 2.1 محلولوں کی اقسام
| عام مثالیں |
محلل |
منحل |
محلول کی قسم
|
آکسیجن اور نائٹروجن گیس کا آمیزہ
نائٹروجن گیس میں کلورو فارم کی آمیزش
نائٹروجن گیس میں نوسادر
پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن
پانی میں گھلا ہوا ایتھنال
پانی میں گھلا ہوا گلوکوز
پیلیڈیم میں ہائڈروجن کا محلول
سوڈیم اور مرکری کا ملغم
سونے میں گھلا ہوا تانبہ
|
گیس گیس گیس رقیق رقیق رقیق ٹھوس ٹھوس ٹھوس
|
گیس رقیق ٹھوس گیس رقیق ٹھوس گیس رقیق ٹھوس
|
گیس محلول
رقیق محلول
ٹھوس محلول
|
2.2 محلولوں کے ارتکاز کا اظہار
Expressing Concentration of Solutions
محلول کی ترکیب کو اس کے ارتکاز کا اظہار کرکے بیان کیا جاسکتا ہے۔ موخرالذکر کو یاتو کیفیتی (Qualitatively)یا مقداری (Quantitatively) اعتبار سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کیفیتی اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ محلول ہلکا (ڈائی لیوٹ) (یعنی منحل کی نسبتاً بہت کم مقدار) ہے یا مرتکز (یعنی منحل کی نسبتاً بہت زیادہ مقدار) ہے۔ لیکن حقیقی زندگی میں اس قسم کے بیانات سے بہت زیادہ ابہام پیدا ہوتا ہے اور اس لیے محلول کا مقداری بیان درکار ہے۔ ایسے کئی طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم محلول کے ارتکاز کو مقداری اعتبار سے بیان کرسکتے ہیں۔
(i) کمیت فیصدی (w/w): محلول کے کسی جزو کی کمیت فیصدی کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ:
جزو کی کمیت%
محلول میں جزو کی کمیت/محلول کی کل کمیتx
100=
(2.1)
مثال کے طور پراگر کسی محلول کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ کمیت کے اعتبار سے پانی میں %10گلوکوز ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 90گرام پانی میں 10گرام گلوکوز گھولا گیا ہے نتیجتاً 100گرام محلول حاصل ہوتا ہے۔ عام طور سے انڈسٹریل کیمکل ایپلیکیشن میں ارتکاز کو بیان کرنے کے لیے کمیت فیصدی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر صنعتی بلیچنگ محلول پانی میں سوڈیم ہائپو کلو رائٹ(Sodium Hypochlorite) کی 3.62کمیت فیصدی پر مشتمل ہوتا ہے۔
(ii) حجم فیصدی (v/v): حجم فیصدی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ
جزو کا حجم/محلول کا کل حجم x
100 = جزو کی حجم فیصدی
(2.2)
مثال کے طور پر پانی میں %10ایتھنال محلول کا مطلب یہ ہے کہ پانی میں 10 mlایتھنال اس طرح گھولا گیا ہے کہ محلول کا کل حجم100 mlہے۔ رقیق اشیاء پر مشتمل محلول عام طور سے اس اکائی میں ظاہر کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک %35ایتھائلین گلائی کول(جو کہ ایک مانع منجمد ہے) کا (v/v)محلول کار کے انجن کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ارتکاز پر مانع منجمد (Antifreeze)پانی کے نقطہ انجماد (Freezing Point)کو
(-17.6°C)255.4K
تک کم کردیتا ہے۔
(iii) کمیت بٹا حجم فیصدی (w/v): ایک اور اکائی جس کا استعمال عام طور سے میڈیسن اور فارمیسی میں کیا جاتاہے کمیت بٹا حجم فیصدی ہے۔ یہ
100 ml
محلول میں گھلے ہوئے منحل کی کمیت ہے۔
(iv) پارٹ پر ملین (Parts per Million):جب کوئی منحل بہت قلیل مقدار میں موجود ہو تو اسے پارٹ پر ملین (ppm)میں ظاہر کرنا آسان رہتا ہے۔ اس کی تعریف اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ:
پارٹ میں ملین =
جزو کے حصوں کی تعداد/محلول کے تمام اجزاء کے حصوں کی کل تعداد x
106=
(2.3)
فیصدی کے معاملے کی طرح ہی پارٹ پر ملین میں ارتکاز کو کمیت ضرب کمیت، حجم ضرب حجم اور کمیت ضرب حجم کے طور پر بھی ظاہر کیاجاسکتا ہے۔ ایک لیٹر سمندر کے پانی میں (جس کا وزن 1030 gگرام ہوتا ہے)3-610گرام گھلی ہوئی آکسیجن (O2)ہوتی ہے۔ اس قلیل ارتکاز5.8g فی
106g (5.8ppm)
سمندر کے پانی کے طور پر بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔کرہ بادیاپانی میں آلودگی کے ارتکاز کو عموماً µg ml–1 یا ppmمیں ظاہر کیا جاتا ہے۔
(v) مول کسر (Mole Fraction): مول کسر کے لیے عام طور سے استعمال ہونے والی علامت×ہے اور×کے دائیں طرف استعمال کی جانے والی زیرنوشت(Subscript)جزو کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ
جزو کے مولوں کی تعداد=
؎جزو کی مول کسر /تمام اجزا کے مولوں کی کل تعداد (2.4)
مثال کے طور پر ایک بائنری آمیزے میں، اگرAاورBکے مولوں کی تعداد بالترتیب nAاورnBہے تو Aکی مول کسر مندرجہ ذیل ہوگی:
xA =nA/nA+nB
(2.5)
وہ محلول جس میں اجزاء کی تعداد i ہے، ہمارے پاس ہے
Xi ni/n1+n2+.........+ni =ni/∑ni
(2.6)
یہ دکھایا جاسکتا ہے کہ کسی دیے ہوئے محلول میں تمام مول کسروں کا حاصل جمع ایک اکائی (Unity)ہوتا ہے۔ یعنی
x1+x2+..........................+ xi = 1
(2.7)
مول کسر اکائی محلول کی کچھ طبیعی خصوصیات کے مابین تعلق قائم کرنے میں بہت مفید ہے،مثلاً محلول کے ارتکاز اوربخاراتی دباؤ کے مابین تعلق قائم کرنے کے لیے اور گیسی آمیزوں سے متعلق تحسیبات کو بیان کرنے میں خاص طور سے مفید ہے۔
مثال 2.1 کمیت کے اعتبار سے C2H6O2 کے % 20پر مشتمل محلول میں ایتھائلین گلائکول (C2H6O2) مول کسرکا حساب لگائیے۔
حل مان لیجیے ہمارے پاس100گرام محلول ہے (محلول کی کسی بھی مقدار کو لے کر شروع کرسکتے ہیں کیونکہ یکساں نتائج حاصل ہوں گے)محلول میں g 20 ایتھائلین گلائی کول اور 80 gپانی ہوگا۔
C2H6O2 =12x2 +1 x + 16 x 2 = 62 g mol -1
کی مولر کمیت
C2H6O2=20 g/ 62 g mol -1 = 0.322 mol
کے مولوں کی تعداد
=80 g / 18 g mol -1=4.444mol
پانی کے مولوں کی تعداد
Xglycol= C2H6O2 کے مول/H2O کے مول + C2H6O2 کے مول
= 0.322 mol / 0.322mol + 4.444 mol
Xwater = 4..444 mol / 0.322 mol + 4.444 mol = 0.932
پانی کی مول کسر اس طرح بھی معلوم کی جا سکتی ہے :
1-0.068=0.932
(vi) مولاریت (Molarity): مولاریت (M)کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک لیٹر یا ایک معکب ڈیسی میٹر)محلول میں حل شدہ منحل کے مولوں کی تعداد ہوتی ہے۔
منحل کے مولوں کی تعداد / لیٹر میں محول کا حجم = مولاریت (2.8)
مثال کے طور پر NaOHکے
0.25 mol L–
(یا0.25M) محلول کا مطلب ہے کہ ایک لیٹر (یا ایک مکعب ڈیسی میٹر) میں NaOHکے0.25مول گھلے ہوئے ہیں۔
مثال 2.2 450 mlمحلول میں 5گرامNaOHپر مشتمل محلول کی مولاریت معلوم کیجیے:
حل
NaOH= 5g / 40 g mol -1 = 0.125 mol کے مولوں کی تعداد
450 mL/1000mL L-1
= لیٹر میں محلول کا حجم
مساوات(2.8)کا استعمال کرکے۔
= 0.125 mol x 1000 mL L-1/ 450 mL= 0.278 M
= 0.278 mol L -1
=0.278 mol dm -3
(vii) مولالیت: مولالیت(m)کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ محلل کے ایک کلو گرام (kg)میں منحل کے مولوں کی تعداد ہے۔
منحل کے مولوں کی تعداد / محلل کی کمیت کلوگرام میں = مولالیت (2.9)
مثال کے طور پر، KCLکے
1.00 mol kg–1
(یا1.00m) محلول کا مطلب ہے کہ KCLکا ایک مول(74.5 g)ایک کلو گرام پانی میں گھولا گیا ہے۔ محلول کے ارتکاز کو ظاہر کرنے کے ہر ایک طریقہ میں کچھ اچھائیاں اور کچھ خامیاں ہیں۔ کمیت فیصدی، ppm، مول کسر اور مولالیت درجہئ حرارت سے مبرّا ہیں جب کہ مولاریت درجہئ حرارت کا تفاعل ہے۔ کیونکہ حجم، درجہئ حرارت پر منحصر ہوتا ہے جب کہ کمیت نہیں۔
مثال 2.3
75گرام بینزین میں2.5gایتھنائک ایسڈ (CH3COOH)کی مولاریت معلوم کیجیے۔
C2H4O2=12 × 2 + 1 × 4 + 16 × 2 = 60 g mol–1کی مولر کمیت
C2H4O2=2.5 g / 60 g mol -1 = 0.0417 mol
کے مولوں کی تعداد
=75 g/1000 g kg–1 =75×10-3 kg
بینزین کی کمیت (کلو گرام میں)
0.0417 mol x 1000 g kg -1 / 75 g =
C2H4O2 کے مولوں کی تعداد/ بینزین کی کمیت کلوگرام مین
=0.556 mol kg -1
متن پر مبنی سوالات
2.1 بینزین (C6H6) اور کاربن ٹیٹرا کلورائڈ (CCl4) کی کمیت فیصدی معلوم کیجئے اگر 22گرام بینزین کو 122گرام کاربن ٹیٹرا کلورائڈ میں گھولا گیا ہے۔
2.2 کمیت کے اعتبار سے کاربن ٹیٹراکلورائڈ کے %30 محلول میں بینزین کی مول کسر معلوم کیجئے۔
2.3 مندرجہ ذیل محلولوں میں ہر ایک کی مولاریت معلوم کیجئے۔
(a)
4.3 لیٹر محلول میں 30 گرام
(CO(NO3)26H2O) (b)
0.5 MH2HO4
کے 30 mL کو 500 mL تک ڈائی لیوٹ کیا گیا ہے۔
2.4 0.25 molal آبی محلول کے 2.5 کلو گرام حاصل کرنے کے لیے درکار یوریا (NH2CONH2) کی کمیت معلوم کیجئے۔
2.5 KI کی (a) مولالیت (b) مولاریت (c) مول کسر معلوم کیجئے اگرآبی KI کے
(Mass by Mass) 20%
کی کثافت
1.202 gmL–1
ہے۔
2.3 حل پذیری
(Solubility)
کسی شے کی حل پذیری اس شے کی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار ہے جو کہ محلل کی کسی مخصوص مقدار میں حل ہوسکتی ہے۔ یہ منحل اور محلل کی فطرت نیز درجہ حرارت اور دباؤ پر منحصر ہوتی ہے آئیے کسی ٹھوس یا گیس کے رقیق میں محللول پر ان عوامل کے اثرات پر غور کرتے ہیں۔
2.3.1 رقیق میں ٹھوس کی حل پذیری
(Solubility of a Solid in Liquid)
ایک دیے ہوئے رقیق میں ہر ایک شے حل نہیں ہوپاتی ہے۔ سوڈیم کلورائڈ اور چینی پانی میں تیزی سے گھل جاتے ہیں جبکہ نیپتھلین (Naphthalene) اور اینتراسین (Antrhacene) پانی میں حل نہیں ہوپاتے۔ اس کے برعکس نیپتھلین اور اینتھراسین بینزین میں تیزی سے حل ہو جاتے ہیں جبکہ سوڈیم کلورائڈ اور چینی حل نہیں ہوپاتی۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ قطبی منحل قطبی محلل میں حل پذیر ہیں جبکہ غیر قطبی منحل غیر قطبی محلل میں حل پذیر ہیں۔ اگر عمومی طور پر کہا جائے تو، ایک منحل کسی محلل میں حل پذیر ہے اگر دونوں میں سالمات کے درمیان بین سالماتی باہمی تعامل یکساں ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ (Like Dissolves Likes)۔
جب ایک ٹھوس منحل کو محلل میں شامل کیا جاتا ہے تو کچھ منحل حل ہو جاتا اور محلول میں اس کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔ اس عمل کو تحلیل (Dissolution) کہتے ہیں۔ منحل کے کچھ ذرات محلول میں ٹھوس منحل کے ٹھوس ذرات سے ٹکراتے ہیں اور محلول سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل قلماؤ یا کرسٹلائزیشن (Crystallisation)کہلاتا ہے۔ ایک ایسی حالت پیدا ہو جاتی ہے جہاں دونوں عمل یکساں شرح سے واقع ہونے لگتے ہیں۔ ان حالات کے تحت محلول میں جانے والے منحل کے ذرات کی تعداد محلول سے علیحدہ ہونے والے منحل کے ذرات کی تعداد مساوی ہو جاتی ہے اور ایک حرکی توازن کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔
محلول ⇔محلل+ منحل (2.10)
اس اسٹیج پر دی ہوئی شرائط کے تحت یعنی درجہ حرارت اور دباؤ پر محلول میں منحل کا ارتکاز مستقل رہتا ہے۔ جب گیسیں رقیق محلل میں حل ہوتی ہیں تو بھی یہ عمل واقع ہوتا ہے۔ ایسے محلول جن میں اسی درجہ حرارت اور دباؤ پرمنحل کی مزید مقدار نہیں گھولی جاسکتی ہے سیر شدہ محلول (Saturated Solution) کہلاتے ہیں۔ ایک غیر سیر شدہ محلول (Unsaturated Solution) وہ محلول ہے جس میں اسی درجہ حرارت اور دباؤ پر منحل کی مزید مقدار حل ہوسکتی ہے۔ وہ محلول جو کہ حرکی توازن کی حالت میں ہے اور جس میں غیر حل شدہ منحل موجود ہے سیر شدہ محلول ہے اور محلل کی دی ہوئی مقدار میں گھلے ہوئے محلول کی زیادہ سے زیادہ مقدار پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس طرح اس قسم کے محلول میں منحل کا ارتکاز ہی اس کی حل پذیری ہے۔
اس سے پہلے ہم مشاہدہ کر چکے ہیں کہ ایک شے کی دوسری شے میں حل پذیری اشیا کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ ان تغیرات کے علاوہ دو اور پیرامیٹر یعنی درجہ حرارت اور دباؤ بھی اس واقعہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
درجہ حرارت کا اثر (Effect of Temperature)
رقیق میں ٹھوس کی حل پذیری درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے خاطر خواہ متاثر ہوتی ہے۔ اس توازن پر غور کیجیے جسے مساوات 2.10 سے ظاہر کیا گیا ہے۔ حرکی توازن کی وجہ سے اسے لے شیتلیئر اصول (Le Cheteliers Principle) کا اتباع کرنا چاہیے۔ عمومی شکل میں اگر ایک لگ بھگ سیر شدہ محلول میں تحلیل کا عمل حرارت خوار (Endothermic)
(Δsol H > 0)
ہے تو حل پذیری میں درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اضافہ ہونا چاہیے اور اگر یہ عمل حرارت زا (Exothermic)
(Δsol H < 0)
ہے تو حل پذیر کم ہوجانی چاہیے۔ ان رجحانات کا مشاہدہ تجرباتی طور پر بھی کیا جاتا ہے۔
دباؤ کا اثر (Effect of Pressure)
رقیق میں ٹھوس کی حل پذیری پر دباؤ کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹھوس اور رقیق اشیا کو زیادہ دبایا نہیں جاسکتا اور عملی طور پر دباؤ میں تبدیلی آنے پر غیر متاثر رہتے ہیں۔
2.3.2 رقیق میں گیس کی حل پذیری
Solubility of a Gas in a Liquid
متعدد گیسیں پانی میں گھل جاتی ہیں۔ آکسیجن کی بہت کم مقدار ہی پانی میں گھل پاتی ہے۔ پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن کی وجہ سے ہی آبی زندگی برقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس ہائڈروجن کلورائڈ گیس (HCl) پانی میں بہت زیادہ حل پذیر ہے۔ رقیق میں گیسوں کی حل پذیری درجہ حرارت اور دباؤ سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ دباؤ میں اضافہ ہونے پر گیسوں کی حل پذیری میں اضافہ ہوتا ہے۔ کسی محلل میں گیس کے محلول کے لیے ایک نظام پر غور کیجیے جیسا کہ شکل2.1(a) میں دکھایا گیا ہے۔
شکل 2.1: گیس کی حل پذیری پر دبائو کا اثر۔ حل شدہ گیس کا ارتکاز محلول کے اوپر پڑنے والے دبائو کے متناسب ہے۔
نچلا حصہ محلول ہے اور بالائی حصہ دباؤ p اور درجہ حرارت T پر گیسی نظام ہے۔ فرض کیجیے کہ یہ نظام حرکی توازن کی حالت میں ہے یعنی ان حالات میں محلول فیز میں داخل ہونے والے اور باہر نکلنے والے گیسی ذرات کی شرح یکساں ہے۔ اب گیس کو ایک چھوٹے حجم میں دباتے ہوئے محلول فیز کے دباؤ میں اضافہ کیجیے۔ ]شکل 2.1(b)[ ایسا کرنے سے محلول کے اوپر فی اکائی حجم میں گیسی ذرات کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ محلول میں داخل ہونے کے لیے گیسی ذرات کے محلول کی سطح سے ٹکرانے کی شرح میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ گیس کی حل پذیری میں نئے توازن کی حالت کو پہنچنے تک اضافہ ہوتا رہے گا نتیجتاً محلول کے اوپر گیس کے دباؤ میں اضافہ ہوگا اور اس طرح حل پذیری میں اضافہ ہو جائے گا۔
HCI کا جزوی دباؤ / Torr
سائکلوہیکسین میں HCI کے محلول میں اس کی مول کسر
شکل 2.2: .2936Kپر سائیکلو، ہیکسین میں HCIگیس کی حل پذیری کے تجرباتی نتائج خط کا اسلوپ ہیزی کلیہ کا مستقلہ یعنیKHہے۔
ہینری (Henry) وہ پہلا شخص تھا جس نے دباؤ اور محلل میں گیس کی حل پذیری کے درمیان مقداری تعلق کو پیش کیا جسے ہینری کا کلیہ (Henry's Law) کہا جاتا ہے۔ اس کلیے کے مطابق مستقل درجہ حرارت پر رقیق میں گیس کی حل پذیری رقیق یا محلول کی سطح پر موجود گیس کے جزوی دباؤ کے سیدھے تناسب میں ہوتی ہے۔ ہینری کے زمانے میں ہی ڈالٹن نے بھی آزادانہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رقیق محلول میں گیس کی حل پذیری گیس کے جزوی دباؤ (Partial Pressure) کا تفاعل ہوتی ہے۔ اگر ہم حل پذیری کی پیمائش کے طور پر محلول میں گیس کی مول کسر کا استعمال کرتے ہیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ محلول میں گیس کی مول کسر محلول کے اوپر گیس کے جزوی دباؤ کے متناسب ہوتی ہے۔ ہینری کے کلیہ کی سب سے زیادہ استعمال میں آنے والے شکل کے مطابق بخاراتی فیز (p) میں گیس کا جزوی دباؤ محلول میں گیس کی مول کسر (x) کے متناسب ہوتا ہے۔ اور اسے مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
p = KHX (2.11)
یہاں KH ہینری کے کلیہ کا مستقلہ ہے۔ اگر ہم گیس کے جزوی دباؤ اور محلول میں گیس کی مول کسر کے مابین گراف کھینچیں تو ہمیں شکل 2.2 میں دکھایا گیا گراف حاصل ہوگا۔
یکساں درجہ حرارت پر مختلف گیسوں کے لیے KH کی قدر مختلف ہوتی ہے۔ (جدول 2.2)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ KH گیس کی نوعیت کا تفاعل ہے۔ مساوات (2.11) سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دیے ہوئے دباؤ پر KH کی قدر جتنی زیادہ ہوگی رقیق میں گیس کی حل پذیری اتنی ہی کم ہوگی۔ جدول 2.2 سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ N2 اور O2 دونوں کی KH میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ درجہ حرارت میں کمی واقع ہونے پر گیس کی حل پذیری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے آبی انواع گرم پانی کے مقابلے ٹھنڈے پانی میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہیں۔
جدول 2.2 پانی میں کچھ چنندہ گیسوں کے لیے ہینری کے لیے کلیہ مستقبلہ کی قدریں
| گیس |
درجہ حرارت/ K |
KH/kbar |
گیس |
درجہ حرارت/ K
|
KH/kbar |
| He |
293 |
144.97 |
آرگن |
298 |
40.3 |
| H2 |
293 |
69.16 |
آرگن |
298 |
1.67 |
| N2 |
293 |
76.48 |
CO2 |
298 |
1.83 × 10–5 |
| N2 |
303 |
88.84 |
فارملڈیہائڈ |
298 |
0.413 |
| O2 |
293 |
34.86 |
میتھین |
298 |
0.611 |
| O2 |
303 |
46.82 |
وینائل کلورائڈ |
298 |
|
مثال 2.4 اگر 293k پر پانی سے N2گیس گذاری جائے تو 1 لیٹر پانی میں N2 گیس کے کتنے ملی مول گھلے ہوئے ہوں گے۔ فرض کیجئے کہ N2 کے ذریعہ ڈالا گیا جزوی دباؤ 0.987bar ہے۔ 293k پر N2 کے لیے ہینری کے کلیہ کا مستقلہ 76.48 kbar ہے۔
حل گیس کی حل پذیری آبی محلول میں مول کسر سے تعلق رکھتی ہے۔ محلول میں گیس کی مول کسر ہینری کے کلیہ کا استعمال کرکے معلوم کی جاتی ہے۔ اس طرح
x(نائٹروجن) = P/ KH = 0.987 bar / 76.480 bar = 1.29 x 10-5
کیونکہ 1 لیٹر پانی میں اس کے55.5 مول ہوتے ہیں اس لیے اگر n محلول میں N2 کے مولوں کی تعداد کو ظاہر کرنا ہے تو
x (نائٹروجن) = n mol / n mol + 55.5 mol = n / 5.5 129x10-5
(نسب نما میں n کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ >> 55.5 ہوتا ہے۔ )
اس طرح
n = 1.29 x 10-5 x 55.5 mol = 7.16 x 10-4 mol
= 7.16 x 10-4 mol x 1000 mmol / 1mol = 0.716 mmol
انڈسٹری میں ہینری کے کلیہ کے کئی استعمال ہیں اور یہ کچھ حیاتیاتی اعمال کی تشریح بھی کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ ذیل میں مذکور ہیں۔
• سافٹ ڈرنک اور سوڈا واٹر میں CO2کی حل پذیری میں اضافہ کرنے کے لیے بوتل کو اونچے دباؤ پر سیل کیا جاتا ہے۔
• اسکیوباغوطہ خوروں کو پانی کے اندر اونچے دباؤ پر سانس لینے کے دوران پانی میں گھلی ہوئی گیسوں کے بہت زیادہ ارتکاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بڑھا ہوا دباؤ خون میں کرہ باد کی گیسوں کی حل پذیری میں اضافہ کر دیتا ہے۔ جب غوطہ خور سطح کی طرف آتے ہیں تو دباؤ کم ہوتا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے گھلی ہوئی گیس خارج ہونے لگتی ہے اور خون میں نائٹروجن کے بلبلے بننے لگتے ہیں۔ اس صورت میں کیپلری بلاک ہو جاتی ہیں اور ایک طبی حالت پیدا ہو جاتی ہے جسے بینڈس (Bends) کہتے ہیں جوکہ تکلیف دہ اور زندگی کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔ خون میں نائٹروجن کے بہت زیادہ ارتکاز کی وجہ سے پیدا ہونے والے زہریلے اثرات اور بینڈس سے بچنے کے لیے اسکیوباغوطہ خوروں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے ٹینکوں میں ہوا اور ہیلیم کا آمیزہ بھرا ہوتا ہے۔ (% 11.7ہیلیم، % 56.2نائٹروجن اور % 32.1آکسیجن)
• بہت زیادہ اونچائی پر آکسیجن کا جزوی دباؤ سطح زمین کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے پہاڑوں پر چڑھنے والے افراد (Climbers) اور زیادہ اونچائی پر رہنے والے لوگوں کے خون بافتوں میں آکسیجن کا ارتکاز کم ہو جاتا ہے۔ خون میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے پہاڑوں پر چڑھنے والے افراد کمزور ہو جاتے ہیں اور واضح طور پر سوچنے کے قابل نہیں رہ پاتے یہ ایک ایسی حالت کی علامات ہیں جسے Anoxia کہا جاتا ہے۔
درجہئ حرارت کا اثر(Effect of Temperature)
رقیق میں گیسوں کی حل پذیری درجہئ حرارت بڑھنے پر گھٹتی ہے۔ جب گیس حل ہوتی ہے تواس کے سالمے رقیق فیزمیں موجودہوتے ہیں اور حل پذیری کے عمل کو تکثیف کے عمل کے مساوی سمجھا جاسکتا ہے اوراس عمل میں حرارت خارج ہوتی ہے۔ پچھلے حصّہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حل پذیری کے عمل میں حرکی توازن شامل ہوتا ہے لہٰذا ہمیں لی چاٹلیٹر اصول کوماننا چاہیے۔ حل پذیری ایک حرارت زاعمل ہے، حل پذیری درجہئ حرارت بڑھنے پر گھٹنی چاہیے۔
متن پر مبنی سوالات
2.6 H2S ایک زہریلی گیس ہے اور اس میں سڑے ہوئے انڈے جیسی بو آتی ہے۔ اس گیس کا استعمال کیفیتی تجزیہ (Qualitative Analysis) میں کیا جاتا ہے۔ اگر STP پر پانی میں H2S کی حل پذیری 0.195m ہے تو ہینری کے کلیہ کا مستقلہ معلوم کیجیے۔
2.7 298K پر پانی میں CO2 کے لیے ہینری کے کلیہ کا مستقلہ
1.67 × 108 Pa
ہے۔ 500mL سوڈاواٹر میں CO2 کی مقدار معلوم کیجیے جبکہ اسے 298K پر CO2 2.5 atm دباؤ پر سیل کیا جاتا ہے۔
2.4 رقیق محلولوں کا بخاراتی دباؤ
(Vapour Pressure of Liquid Solution)
رقیق محلول اس وقت تشکیل پاتے ہیں جب محلل رقیق ہوتا ہے۔ مخل ٹھوس رقیق یا گیس ہوسکتا ہے۔ رقیق میں گیسوں کے محلولوں پر سیکشن 2.3.2 میں پہلے ہی بحث ہوچکی ہے۔ اس سیکشن میں ہم رقیق میں ٹھوس یا رقیق کے محلولوں پر بحث کریں گے۔ اس قسم کے محلولوں میں ایک یا زیادہ طیران پذیر اجزا ہوتے ہیں۔ عام طور سے رقیق محلل (Solvent) طیران پذیر (Volatile) ہوتا ہے۔ مخل(Solute) طیران پذیر ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ ہم صرف بائنری محلولوں کی خصوصیات سے بحث کریں گے یعنی وہ محلول جو دو اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں جیسے (i) رقیق میں رقیق اور (ii) رقیق میں ٹھوس کا محلول۔
آئیے دو طیران پذیر رقیق اشیا کے بائنری محلول پر غور کرتے ہیں اور دونوں اجزاء کو 1 اور 2 سے ظاہر کرتے ہیں۔ جب انھیں ایک بند برتن میں لیا جاتا ہے تو دونوں اجزاء کی تبخیر (Evaporation) ہونے لگتی ہے اور رقیق فیز و بخاراتی فیز کے درمیان ایک توازن قائم ہوجائے گا۔ مان لیجیے اس حالت میں کل بخاراتی دباؤ ptotal ہے نیز p1 اور p2 بالترتیب اجزا 1اور 2 کے جزوی بخاراتی دباؤ ہیں۔ یہ جزوی بخاراتی دباؤ بالترتیب اجزا 1اور 2کی مول کسروں x1اور x2 سے متعلق ہیں۔
فرانسیسی کیمیا داں فرانکوئس مارٹے راؤلٹ (1886) نے ان کے درمیان مقداری تعلق کو بتایا۔ اس تعلق کو راؤلٹ کا کلیہ (Raoult's Law) کہا جاتا ہے۔ اس کلیہ کے مطابق طیران پذیر رقیق اشیا کے محلول کے لیے محلول میں ہر ایک جزو کا جزوی بخاراتی دباؤ اس کی مول کسر کے سیدھے تناسب میں ہوتا ہے۔
اس طرح، جزو 1 کے لیے
P1 ∝X1
اور
p1 = p1ºx1
(2.12)
جہاں °Piیکساں درجہ حرارت پر خالص جزو 1 کا بخاراتی دباؤ ہے۔ اسی طرح جزو 2 کے لیے
(2.13) p2 = p2ºx2
جہاںP°2خالص جزو 2 کے بخاراتی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈالٹن کے جزوی دباؤ کے کلیہ کے مطابق برتن میں محلول فیز پر کل دباؤ (ptotal) محلول کے اجزا کے جزوی دباؤ کے حاصل جمع کے مساوی ہوتا ہے۔ اسے مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاتا ہے:
(ptotal =p1 + p2 (2.14
p1اور p2کی قدروں کو رکھنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
Ptotal = x1p1º + x2p2º
(2.15) =(1-x2)p1º +x2p2º
(2.16) = P1º +(P2º-P1ºX2
مساوات (2.16) سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔
(i) محلول کے اوپر کل بخاراتی دباؤ کسی بھی ایک جزو کی مول کسر سے متعلق ہوتا ہے۔
(ii) محلول کے اوپر کل بخاراتی دباؤ جزو 2کی مول کسر کے ساتھ خطی اعتبار سے تبدیل ہوتا ہے۔
(iii) خالص اجزا 1 اور 2کے بخاراتی دباؤ پر انحصار کرتے ہوئے محلول کا کل بخاراتی دباؤ جزو 1 کی مول کسر میں کمی کے ساتھ ساتھ گھٹتا ہے یا بڑھتا ہے۔
بخاراتی دباؤ
مول کسر
شکل 2.3: درجہ حرارت پر ایک مثالی محلول کے مول کسر اور بخاراتی دباؤ کا گراف ڈیش لائینسIاورIIاجزا کے جزوی دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں (گراف سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ (p1اورP2) بالترتیب r1 اور r2 کے سیدھے تناسب میں ہیں۔ کل بخاراتی دباؤ شکل میں خطIIIکے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔
محلول کے لیے p1اور p2کا مول کسور x1اور x2 کے ساتھ خطی گراف حاصل ہوتا ہے جیسا کہ شکل 2.3 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ خطوط (I اور II) بالترتیب ان نقاط سے ہوکر گزرتے ہیں جو کہ x1اور x2 اکائی کے برابر ہیں۔ اسی طرح ptotal اور x2کے درمیان بننے والے گراف (خط III) بھی خطی ہے (شکل 2.3) ptotal کی کم سے کم قدرp°1ہے اور زیادہ سے زیادہ قدر p°2ہے، یہ مانتے ہوئے کہ جزو 1 جزو 2کے مقابلے کم طیران پذیر ہے یعنی
p1º<p2º
محلول کے ساتھ توازن کی حالت میں بخاراتی فیز کی ترکیب کا تعین اجزا کے جزوی دباؤ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگر بخاراتی فیز میں اجزا 1اور 2 کی مول کسریں بالترتیب y1اور y2ہیں تو ڈالٹن کے جزوی دباؤ کے کلیہ کا استعمال کرتے ہوئے۔
(2.17) P1= y1 Ptotal
(2.18) P2 = y1 Ptotal
عمومی شکل میں
(2.19) P1 = y1 Ptotal
مثال 2.5
298K پر کلوروفارم (CHCl3) اور ڈائی کلورومیتھین (CH2Cl2)کے بخاراتی دباؤ بالترتیب
20 mm Hg
اور
415 mm Hg
ہیں۔
(i)
25.5 گرام CHCl3 اور 40 گرام CH2Cl2 کی 298K پر آمیزش کرکے بنائے گئے محلول کا بخاراتی دباؤ معلوم کیجئے۔
(ii) بخاراتی فیز میں ہر ایک جزو کی مول کسریں۔
حل
(i)
CH2Cl2 = 12 × 1 + 1 × 2 + 35.5 × 2 = 85 g mol–1 کی مولر کمیت
CHCl3 = 12 × 1 + 1 × 1 + 35.5 × 3 = 119.5 g mol–1 کی مولر کمیت
CH2Cl2 = 40g/85 g mol -1 = 0.47 mol کے مولوں کی تعداد
CHCl3 = 25.5g/119.5 g mol -1 =0.213mol کے مولوں کی تعداد
=0.47 +0.213 = 0.213mol
مولوں کی کل تعداد
XCH2Cl2 = 0.47 mol / 0.683 mol = 0.688
XCHCl2 =1.00 - 0.688 = 0.312
مساوات (2.16) کا استعمال کرتے ہوئے۔
Ptotal = P1º +(P2º-P1º)x2 = 200 +(415-200)x0.688
=200+147.9=347.9 mm Hg
(ii) تعلق y1 = p1/Ptotal (2.19) کا استعمال کر کے ہم گیس فیز (y1) میں اجزا کی مول کسر معلوم کر سکتے ہیں۔
PCH2Cl2 = 0.688 x 415 mm Hg = 285.5 mm Hg
PCHCl3 = 0.312 x 200 mm Hg = 62.4 mm Hg
YCH2Cl2 = 285.5 x mm Hg / 347.9 mm Hg = 0.82
YCHCl3 = 62.4 xmm Hg/ 347.9 mm Hg = 0.18
نوٹ : کیونکہ CHCl3 کے مقابلے میں CH2Cl3 زیادہ طیران پذیر ہے
(PºCHCl3 = 200 mm Hg اور PºCH2Cl2 = 415 mm Hg)
اور CH2Cl2 میں تجارتی فیز بھی زیادہ وافر (Richer)ہے( YCH2Cl2 = 0.82 اور YCHCl3 = 0.18 ) اور اس طرح یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ توازن کی حالت میں، اس جزو کی بخاراتی فیز ہمیشہ وافر ہوگی جو کہ زیادہ طیران پذیر ہے۔
2.4.2 راؤلٹ کا کلیہ ہینری کے کلیہ کے ایک مخصوص کیس کے طورپر
Raoult’s Law as a special case of Henry’s Law
راؤلٹ کے کلیہ کے مطابق کسی دیے ہوئے محلول میں طیران پذیر جزو کا بخاراتی دباؤ P= Xi Piºسے ظاہر کیا جاتا ہے۔ رقیق میں گیس کے محلول میں ایک جزو اتنا طیران پذیر ہوتا ہے کہ یہ گیس حالت میں ہوتا ہے اور ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ اس کی حل پذیری کو ہینری کے کلیہ کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جس کے مطابق
p = KH x
اگرہم راؤلٹ کے کلیہ اور ہینری کے کلیہ کی مساوات کا موازنہ کریں تو یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ گیس یا طیران پذیر جزو کا جزوی بخاراتی دباؤ محلول میں اس کی مول کسر کے سیدھے تناسب میں ہوتا ہے۔ صرف تناسبت کا مستقلہ KH، p1º سے مختلف ہوتا ہے۔ اس طرح راؤلٹ کا کلیہ، ہینری کے کلیہ کا ایک مخصوص کیس بن جاتا ہے جس میں KH، p1º کے مساوی ہوجاتا ہے۔
2.4.3 رقیق میں ٹھوس کے محلول کا بخاراتی دباؤ
Vapour Pressure of Solutions of Solids in Liquids
محلولوں کی ایک اور اہم جماعت ہے جس میں محلول، رقیق میں ٹھوس کے گھلنے سے بنتا ہے۔ مثال کے طور پر آیوڈین اور پانی میں سوڈیم کلورائڈ، گلوکوز، یوریا اور چینی نیز کاربن ڈائی سلفائڈ میں حل کیا گیا سلفر ان محلولوں کی چند طبیعی خصوصیات خالص محلل سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بخاراتی دباؤ ہم گیارھویں جماعت میں اکائی 5 میں مطالعہ کر چکے ہیں کہ رقیق اشیا ایک دیے ہوئے درجہئ حرارت پر تبخیر ہو جاتی ہیں اور توازن کے حالات میں رقیق فیز پر رقیق کے بخارات کے ذریعہ ڈالا گیا دباؤ بخاراتی دباؤ کہلاتا ہے۔ (شکل 2.4(b))خالص رقیق میں مکمل سطح رقیق کے سالمات سے گھر جاتی ہے۔ اگر دیے ہوئے محلول کے محلل میں غیر طیران پذیر مخل ملایا جاتا ہے (شکل 2.4(b)) تو محلول کا بخاراتی دباؤ تنہا محلل کی وجہ سے ہوگا۔ایک دیے ہوئے درجہ حرارت پر محلول کا یہ بخاراتی دباؤ اسی درجہ حرارت پر خالص ایک محلل کے بخاراتی دباؤ سے کم ہوتا ہے۔ محلول میں، سطح منحل اور محلل دونوں کے سالمات پر مشتمل ہوتی ہے اس کی وجہ سے محلل کے سالمات کے ذریعہ گھیری گئی سطح کی کسرکم ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً سطح سے باہر آنے والے محلل کے سالمات نظیری طور پر کم ہوجاتے ہیں۔ اس طرح بخاراتی دباؤ بھی کم ہوجاتا ہے۔
1 مول محلل
1 مول منحل
خالص محلل
شکل 2.4 : محلل میں منحل کی موجودگی کی وجہ سے محلل کے بخاراتی دبائو میں کمی (a)محلل کی سطح سے اس کے سالمات کی تبخیر کوسے ظاہر کیا گیا ہے(b)محلول میں منحل کے ذرات کو سے ظاہر کیا گیا ہے اور یہ سطحی رقبہ کے حصہ کو گھیرتے ہیں۔
محلل کے بخاراتی دباؤ میں کمی محلول میں موجود غیر طیران پذیر منحل کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک کلوگرام پانی میں 1.0mol سکروز ملانے پر پانی کے بخاراتی دباؤ میں ہونے والی کمی اسی درجہ حرارت پر پانی کی اتنی ہی مقدار میں 1.0 mol یوریا ملانے پر پیدا ہونے والے بخارتی دباؤ کے تقریباً برابر ہوتی ہے۔
عمومی طور پر اگر کہا جائے تو راؤلٹ کے کلیہ کے مطابق، کسی بھی محلول کے لیے محلول میں ہر ایک جزو کا جزوی بخاراتی دباؤ اس کی مول کسر کے سیدھے تناسب میں ہوتا ہے۔
خالص محلل کا بخاراتی دباؤ
بحارائی دباؤ
محلل کی مول کسر
شکل 2.5 اگر تمام ارتکاز کے لیے محلول راؤلٹ کے کلیہ کا اتباع کرتا ہے تو اس کا بخاراتی دباؤ صفر سے خالص محلل کے بخاراتی دباؤ تک خطی اعتبار سے تبدیل ہوگا
آئییےایک بائنری محلول میں، محلل کو 1 سے اورمنحل کو 2 سے ظاہر کرتے ہیں۔ جب منحل غیر طیران پذیر ہے۔ تو صرف محلل کے سالمات ہی بخاراتی فیز میں موجود ہوں گے اور بخاراتی دباؤ میں تعاون کریں گے۔ مان لیجیے p1º محلل کا بخاراتی دباؤ ہے، x1º مول کسر ہے، p10 خالص حالت میں اس کا بخاراتی دباؤ ہے تو راؤلٹ کے کلیہ کے مطابق
p1 ∝ x1
اور p1 = x1 p1º
(2.20)
تناسبیت کا مستقلہ خالص محلل کے بخاراتی دباؤ p1º کے مساوی ہے محلل کے بخاراتی دباؤ اور مول کسر کے درمیان کھینچا گیا گراف خطی ہے (شکل 2.5)۔
2.5 مثالی اور غیر مثالی محلول
(Ideal and Non-ideal Solution)
راؤلٹ کے کلیہ کی بنیاد پر رقیق۔ رقیق محلولوں کی درجہ بندی مثالی اور غیر مثالی محلولوں کے تحت کی جاسکتی ہے۔
ایسے محلول جو ارتکاز کی مکمل رینج میں راؤلٹ کے کلیہ کا اتباع کرتے ہیں مثالی محلول (Ideal Solution) کہلاتے ہیں۔ مثالی محلولوں کی دو اہم خصوصیات ہوتی ہیں محلول بنانے کے لیے خالص اجزا کی آمیزش کی اینتھالپی صفر ہوتی ہے اور آمیزش کا حجم بھی صفر ہوتا ہے۔ یعنی
Δmix V = O ΔmixH= O
(2.21)
2.5.1 مثالی محلول
اس کا مطلب ہے کہ جب اجزا کی آمیزش کی جاتی ہے تو حرارت نہ تو خارج ہوتی ہے اور نہ ہی جذب ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ محلول کا حجم دونوں اجزا کے حجموں کے حاصل جمع کے مساوی ہوتا ہے۔ سالماتی سطح پر محلولوں کا مثالی طرز عمل کی وضاحت دو اجزا A اور B پر غور کرکے کی جاسکتی ہے۔ خالص اجزا میں سالمات کے درمیان کشش باہمی عمل A-A اور B-B قسم کے ہوں گے جبکہ بائنری محلول میں ان دونوں باہمی عملوں کے ساتھ ساتھ A-B قسم کے باہمی عمل بھی موجود ہوں گے۔ A-A اور B-B کے درمیان اگر سالمات کے مابین قوت کشش A-B کے درمیان کی قوت کشش کے تقریباً مساوی ہے تو اس کے نتیجہ میں مثالی محلول حاصل ہوگا۔ مکمل مثالی محلول شاذونادر ہی ہوتے ہیں لیکن کچھ محلول کا طرز عمل تقریباً مثالی ہوتا ہے۔ n-hexane اور n-heptane کا محلول، bromoethane اور chloroethane کا محلول بینزین اور ٹولٹین (Tolune) کا محلول اسی قسم کے محلولوں کی مثالیں ہیں۔
2.5.2 غیر مثالی محلول
جب کوئی محلول ارتکاز کی مکمل رینج میں راؤلٹ کے کلیہ کا اتباع نہیں کرتا تو وہ غیر مثالی محلول کہلاتا ہے۔ اس قسم کے محلول کا بخاراتی دباؤ اس بخاراتی دباؤ سے یا تو کم ہوگا یا زیادہ ہوگا جس کی پیشین گوئی راؤلٹ کے کلیہ (مساوات 2.16) کے ذریعہ کی گئی ہے۔ اگر یہ زیادہ ہے تو محلول راؤلٹ کے کلیہ سے مثبت انحراف (Positive Deviation) کا اظہار کرتا ہے۔ اگر یہ کم ہے تو منفی انحراف کا اظہار کرے گا۔اس قسم کے محلولوں کے لیے مول کسر کے طور پر بخاراتی دباؤ کا گراف شکل 2.6 میں دکھایا گیا ہے۔
ان انحراف کی وجہ سالماتی سطح پر باہمی عمل کی نوعیت ہے راؤلٹ کے کلیہ سے مثبت انحراف کے معاملہ میں A-Bباہمی عمل A-A یا B-B باہمی عمل کے مقابلے کمزور ہوتے ہیں یعنی اس معاملے میں منحل محلل کے سالمات کے درمیان کشش کی قوتیں منحل منحل اور محلل محلل سالمات کے درمیان کی قوتوں کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہیں۔
محلول کا بخاراتی دباؤ
بخاراتی دباؤ
محلول کا بخاراتی دباؤ
بخاراتی دباؤ
مول کسر
مول کسر
شکل 2.6
دواجزائی نظام کے بخاراتی دباؤ تفاعل کے طورپر (a)محلول جو کہ راؤلٹ کے کلیہ سے مثبت انحراف کو ظاہر کرتا ہے(b)محلول جو کہ راؤلٹ کے کلیہ سے منفی انحراف ظاہر کرتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اس قسم کے محلولوں میں A (یا B) کے سالمات خالص حالت کے مقابلے آسانی سے بھاگ نکلتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بخاراتی دباؤ میں اضافہ ہوگا جوکہ مثبت انحراف کا سبب بنے گا۔ ایتھنال اور ایسیٹون کا آمیزہ اسی قسم کے طرزِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ خالص ایتھنال میں سالمات کے درمیان ہائڈروجن بانڈ (Hydrogen Bond) ہوتے ہیں۔ ایسیٹون ملانے پر اس کے سالمات میزبان سالمات کے درمیان آجاتے ہیں اور ان کے درمیان کے کچھ ہائڈروجن بند توڑ دیتے ہیں۔ باہمی عمل کے کمزور ہونے کی وجہ سے محلول راؤلٹ کے کلیہ سے مثبت انحراف کو ظاہر کرے گا۔ ]شکل[2.6(a) ایسیٹون میں کاربن ڈائی سلفائڈ ملانے پر بننے والے محلول میں منحل محلل سالمات کے درمیان دو قطبی (Dipolar) باہمی عمل متعلقہ مخل۔ مخل سالمات اور محلل۔ محلل سالمات کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں۔ یہ محلول ہمیشہ مثبت انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔
راؤلٹ کے کلیہ سے منفی انحراف کے معاملے میں A-A اور B-B کے درمیان بین سالماتی قوت کشش A-B کے مقابلے کمزور ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے بخاراتی دباؤ کم ہو جاتا ہے جو کہ منفی انحراف کا سبب بنتا ہے۔ اس قسم کی مثال فینال اور اینیلین کا آمیزہ ہے۔ اس کیس میں فینالک پروٹان اور اور اینیلین کے نائٹروجن ایٹم پر لون پیئر (Lone pair) کے درمیان متعلقہ بین سالماتی ہائڈروجن بندش اسی قسم کے سالمات کے درمیان متعلقہ بین سالماتی ہائڈروجن بندش کے مقابلے میں مضبوط ہوتی ہے۔ اسی طرح، کلوروفارم اور ایسیٹون کا آمیزہ اسی قسم کا محلول ہے جو کہ راؤلٹ کے کلیہ سے منفی انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ کلوروفارم کا سالمہ ایسیٹون کے سالمہ کے ساتھ ہائڈروجن بانڈ بنانے کے اہل ہوتا ہے جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔
اس کی وجہ سے ہر ایک جزو کے سالمات کے فرارہونے کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔نتیجہ کے طورپر بخاراتی دباؤ میں کمی واقع ہوتی ہے جوکہ راؤلٹ کے کلیہ سے منفی انحراف کا سبب بنتا ہے۔
]شکل [2.6(b)
کچھ رقیق اشیا کی آمیزش کے نتیجے میں ایزیوٹراپس (Azeotropes) حاصل ہوتے ہیں جوکہ بائنری آمیزے ہیں۔ رقیق اور بخاراتی فیز میں ان کی ترکیب یکساں رہتی ہے اور یہ ایک مستقل درجہ حرارت پر ابلتے ہیں۔ اس قسم کے معاملوں میں اجزا کو کسری کشید (Fractional Distillation) کے ذریعہ علیحدہ کرپانا ممکن نہیں ہے۔ ایزیوٹراپس دو قسم کے ہیں جو کہ کمترین جوش ایزیوٹراپ (Minimum Boiling Azeotrope) اور ازحد جوش ایزیو ٹراپ (Maximum Boiling Azeotrope) کہلاتے ہیں۔ وہ محلول جو راؤلٹ کے کلیہ سے بہت زیادہ مثبت انحراف کو ظاہر کرتے ہیں وہ ایک مخصوص ترکیب پر کمترین جوش ایزیو ٹراپ تشکیل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایتھنال اور پانی کے آمیزہ (چینی کی تخمیر سے حاصل ہوتا ہے) کی کسری کشید کے نتیجے میں ایک محلول حاصل ہوتا ہے جو کہ حجم کے اعتبار سے 95% ایتھنال پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ ترکیب جسے ایزیوٹراپ ترکیب کہتے ہیں، حاصل ہوجاتی ہے تو رقیق اور بخارات کی ترکیب یکساں ہوجاتی ہے اور مزید علیحدگی نہیں ہوپاتی۔
ایسے محلول جو کہ راؤلٹ کے کلیہ سے بہت زیادہ منفی انحراف کا اظہار کرتے ہیں وہ ایک مخصوص ترکیب پر ازحد جوش ایزیوٹراپ تشکیل دیتے ہیں۔ نائٹرک ایسڈ اور پانی کا آمیزہ اسی قسم کے ایزیوٹراپ کی مثال ہے۔ اس ایزیوٹراپ کی تقریباً ترکیب ہے: کمیت کے اعتبار سے 68% نائٹرک ایسڈ اور 32% پانی نیز نقطہ جوش 393K ۔
متن پر مبنی سوالات
2.8 350K پر خالص رقیق A اور B کے بخاراتی دباؤ بالترتیب 450 اور
700 mmHg
ہیں رقیق آمیزہ کی ترکیب معلوم کیجیے اگر کل بخاراتی دباؤ
600 mm Hg
ہے۔ بخاراتی فیز کی ترکیب معلوم کیجیے
2.6 مربوط خصوصیات اور مولر کمیت کا تعین
Collegative Properties and Determination of Molar Mass
ہم سیکشن 2.4.3 میں مطالعہ کر چکے ہیں کہ جب طیران پذیر محلل میں غیر طیران پذیر مخل شامل کر دیا جاتا ہے تو محلول کا بخاراتی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ محلولوں کی ایسی کئی خصوصیات ہیں جو کہ بخاراتی دباؤ کے کم ہونے سے وابستہ ہیں۔ یہ خصوصیات ہیں: (1) محلل کے بخاراتی دباؤ میں نسبتی کمی۔ (2) محلل کے نقطہ انجماد میں انخفاض(Depression) (3) محلل کے نقطہ جوش میں اضافہ (4) محلول کا ولوجی دباؤ (Osmotic Pressure) یہ سبھی خصوصیات منحل کے ذرات پر منحصر ہوتی ہیں ان کی نوعیت کے بلا لحاظ جوکہ محلول میں موجود کل ذرات سے متعلق ہیں۔ اس قسم کی خصوصیات مربوط خصویات (Colliative Properties) کہلاتی ہیں۔ (Colligative لاطینی زبان سے اخذ ہے CO کے معنی ہیں ساتھ ساتھ (Together) Ligare کے معنی میں جڑنا (To bind))مندرجہ ذیل سیکشن میں ہم ان خصوصیات پر ایک ایک کرکے بحث کریں گے۔
2.6.1 بخاراتی دباؤ میں نسبتی تخفیف
(Relative Lowering of Vapour Pressure)
ہم سیکشن 2.4.3 میں مطالعہ کر چکے ہیں کہ محلول میں محلل کا بخاراتی دباؤ خالص محلل سے کم ہوتا ہے۔ راؤلٹ نے یہ متعین کیا کہ بخاراتی دباؤ میں کمی صرف منحل کے ذرات کے ارتکاز پر منحصر ہوتی ہے اور یہ ان کی شناخت سے مبرا ہے۔ سیکشن 2.4.3 میں دی گئی مساوات (2.20) محلول کے بخاراتی دباؤ، مول کسر اورمنحل کے بخاراتی دباؤ کے درمیان تعلق قائم کرتی ہے۔ یعنی
(2.22) P1= x1 Piº
منحل کے بخاراتی دبائو میں کمی (Δp1) ذیل میں دی گئی ہے۔
(2.23) ΔP1 =P1º-P1º=P1º-P1ºx1
=P1º(1-x1)
یہ جانتے ہوئے کہ x2 = 1–x1 ، مساوات (2.23) مندرجہ ذیل ہوجاتی ہے۔
(2.24) ΔP1 =x2P1º
متعدد غیر طیران پذیر مخلوں پر مشتمل محلول میں بخاراتی دباؤ میں کمی کا انحصار مختلف منحلوں کی مول کسر کے حاصل جمع پر ہوتا ہے۔
مساوات (2.24) کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے۔
(2.25) Δp1/p1º=p1º-p1/p1º=x2
مساوات کے بائیں جانب کی عبارت جیسا کہ پہلے مذکور ہوا بخاراتی دباؤ میں نسبتی تخفیف کہلاتی ہے اور یہ مخل کی مول کسر کے مساوی ہوتی ہے۔ مذکورہ بالا مساوات کو یوں لکھا جاسکتا ہے:
(2.26) p1º-p1/p1º=n2/n1+n2 (x2 = n2/ n1+n2)کیونکہ
یہاں n1 اور n2 محلول میں موجود بالترتیب محلل اور منحل کے مولوں کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ڈائی لیوٹ محلولوں کے لیے n2 << n1، اس طرح نسب نما میں n2کو نظر انداز کرنے پر ہمارے پاس ہے۔
(2.27) p1º-p1/p1º= n2/n1
(2.28) p1º-p1/p1º= w2xM1/M2xw1
یہاں w1اور w2بالترتیب محلل اورمنحل کی کمیتیں ہیں نیز M1اورM2مولر کمیتیں ہیں۔
اگر دیگر مقداریں معلوم ہیں تو اس مساوات (2.28) کا استعمال کرکے منحل کی مولر کمیت M2معلوم کی جاسکتی ہے۔
مثال 2.6 ایک مخصوص درجہ حرارت پر بینزین کا بخاراتی دباؤ 0.850bar ہے۔ ایک غیر طیران پذیر، غیر الیکٹرولائٹ ٹھوس جس کا وزن 0.5g ہے جب 39.0g بینزین (مولر کمیت 78 گرام فی مول)میں ملایا جاتا ہے تو محلول کا بخاراتی دباؤ 0.845 bar ہو جاتا ہے۔ ٹھوس شے کی مولر کمیت معلوم کیجیے۔
حل
معلوم مقداریں مندرجہ ذیل ہے۔
p1º=0.850 bar; p=0.845 bar; M2=78 gmol-1;w2=0.5g; w2=0.5;
ان مقدروں کو مساوات 2.28 میں رکھنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
0.850 bar - 0.845 bar/ 0.850 bar = 0.5gx 78 g mol-/M2x39g
Therefore, M2 = 170 g mol–1
2.6.2 نقطہ جوش میں اضافہ (Elevation of Boiling Point)
ہم جماعت XI میں اکائی 5 میں پڑھ چکے ہیں کہ رقیق شے کا بخاراتی دباؤ درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے۔ یہ رقیق اس وقت ابلنے لگتا ہے جب اس کا بخاراتی دباؤ کرہ باد کے دباؤ (Atmospheric Pressure) کے مساوی ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر پانی
(100°C) 373.15K
پر ابلتا ہے کیونکہ اس درجہ حرارت پر پانی کا بخاراتی دباؤ
(1 atm) 1.013 bar ہوتا ہے۔ گذشتہ سیکشن میں ہم یہ بھی سیکھ چکے ہیں کہ محلل کا بخاراتی دباؤ غیر طیران پذیر منحلکی موجودگی میں کم ہو جاتا ہے۔ درجہ حرارت کے تفاعل کے طور پر خالص محلل اور محلول کے بخاراتی دباؤ میں تغیر کو شکل 2.7 میں ظاہر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سکروز کے آبی محلول کا بخاراتی دباؤ 373.15k 1.013bar پر
سے کم ہے۔ اس محلول کو ابالنے کے لیے اس کے بخاراتی دباؤ کو
1.013bar تک بڑھانا ہوگا۔ اس کے لیے محلول کے درجہ حرارت کو خالص محلل (پانی) کے نقطہ جوش سے زیادہ کرنا ہوگا۔ اس طرح محلول کا نقطہ جوش اس خالص محلل کے نقطہ جوسے زیادہ ہوتا ہے جس میں محلول بنایا گیا ہے جیسا کہ شکل 2.7 میں دکھایا گیا ہے۔ بخاراتی دباؤ میں تخفیف کی طرح ہی نقطہ جوش میں اضافہ کا انحصار بھی منحل کے سالمات کی فطرت کے مقابلے ان کی تعداد پر ہوتا ہے۔ 1000g پانی میں 1 مول کاسکروز کا محلول 1atm دباؤ پر 373.52k پر ملتا ہے۔
محلول محلل کا نقطہ جوش
بخاراتی دباؤ
درجہ حرارت
شکل 2.7: محلول کے لیے بخاراتی دباؤ کا خط انحنا خالص پانی کے انحنا سے نیچے آتا ہے۔ ڈائیگرام سے ظاہر ہوتا ہے کہ Dtbمحلول میں محلل کے نقطہ جوش میں اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔
مان لیجئے°Tbخالص محلل کا نقطہ جوش ہے اور Tb محلول کا نقطہ جوش ہے۔ نقطہ جوش میں بڑھوتری
ΔTb=Tb-Tbº
ہے جسے نقطہ جوش میں اضافہ کہا جاتا ہے۔
تجربات یہ دکھاتے ہیں کہ ڈائی لیوٹ محلولوں کے لیے نقطہ جوش میں اضافہ (Tb∇)محلول میں منحلکے مولل ارتکاز (Molal Concentration) کے سیدھے تناسب میں ہوتی ہے۔ اس طرح
(2.29) ΔTb ∝ m
(2.30) ΔTb = Kb m
یہاں (Molatity) 1 کلو گرام محلل میں گھلے ہوئے منحل کے مولوں کی تعداد ہے اور تناسبیت کا مستقلہ Kb نقطہ جوش میں اضافہ کا مستقلہ یا مولل اضافہ کا مستقلہ (Ebullioscopic Constant) کہلاتا ہے۔ Kb کی اکائی
K kg mol–1
ہے۔ کچھ عام محلولوں کے لیے Kb کی قدریں جدول 2.3 میں دی گئی ہیں۔ اگر M2 مولر کمیت والے w2 گرام مخل کو w1 گرام محلل میں گھولا گیا ہے تو محلول کی Molality یعنی m کو مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
(2.31) m = w2/M2/w1/1000 = 1000xw2/M2 x w1
Molality کی قدر کو مساوات (2.30) میں رکھنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
(2.32) ΔTb = Kb x 1000 x w2 / M2 x w1
(2.33) M2 = 1000 x w2 x kb / ΔTb x w1
اس طرح M2،مخل کی مولر کمیت کا تعین کرنے کے لیے محلل کی معلوم کمیت میں منحل کی معلوم کمیت لی جاتی ہے اور اس معلوم محلل کے لیے ΔTbکا تعین تجرباتی طور پر کیا جاتا ہے جس کی Tbکی قدر معلوم ہے۔
مثال 2.7 ایک کڑھائی میں 1kg پانی میں، 18g گلوکوز، C6H12O6 گھولا گیا ہے۔1.013 bar دباؤ پر کس درجہ حرارت پر پانی ابلنے لگے گا؟ پانی کے لیے Kb کی قدر 0.52 K kg mol–1 ہے۔
حل 18g/180g mol–1 = 0.1 mol = گلوکوز کے مولوں کی تعداد
1kg = محلل کے کلوگرام
0.1 mol kg–1
= گلوکوز محلول کی مولالیت
پانی کے لیے، نقطہ جوش میں تبدیلی
ΔTb=Kb x m = 0.52K Kg mol-1 x 0.1 mol Kg-1 = 0.052K
کیونکہ پانی 1.013bar دباؤ پر 373.15k پر ابلتا ہے۔ لہٰدا محلول کا نقطہ جوش ہوگا
373.15 + 0.052 = 373.202K
مثال 2.8
بینزین کا نقطہ جوش 353.23K ہے۔ جب 90 گرام بینزین میں 1.80 گرام غیر طیران پذیر مخل گھولا جاتا ہے تو نقطہ جوش 354.11K تک بڑھ جاتا ہے۔ منحل کی مولر کمیت معلوم کیجئے۔ بینزین کے لیے Kb کی قدر
2.53 K kg mol–1
ہے۔
حل نقطہ جوش میں اضافہ (ΔTb)مندرجہ ذیل ہے۔
354.11K-353.23K=0.88K
ان قدروں کو عبارت (2.33) میں رکھنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
M2 = 2,53K kg mol-1 x 1.8g x 1000g Kg-1/0.88K x 90g
اس طرح، مخل کی مولر کمیت
M2 = 58g mol–1
2.6.32 نقطہ انجماد میں تخفیف Depression of Freezing Point)
محلول کے بخاراتی دباؤ میں ہونے والی تخفیف خالص محلل شکل 2.8 کے مقابلے نقطہ انجماد میں تخفیف کا باعث ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی شہ کے نقطہ انجماد پر ٹھوس فیز، رقیق فیز کے ساتھ توازن کی حالت میں ہوتی ہے۔ اس طرح کسی شے کے نقطہ انجماد کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ وہ درجہ حرارت ہے جس پر رقیق فیز میں شے کا بخاراتی دباؤ ٹھوس فیز میں اس کے بخاراتی دباؤ کے مساوی ہوتا ہے۔ ایک محلول اس وقت منجمد ہو جاتا ہے جب اس کا بخاراتی دباؤ خالص ٹھوس محلل کے بخاراتی دباؤ کے برابر ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ شکل 2.8 سے واضح ہے۔
رقیق محلل
محلول
منجمد محلل
درجہ حرارت/K
بخاراتی دباؤ
شکل 2.8: محلول میں محلل کے نقطہ انجماد میں کمی یعنیΔtfکو ظاہر کیا گیاہے۔
راؤلٹ کے کلیہ کے مطابق جب کسی غیر طیران پذیر ٹھوس کو محلل میں ملایا جاتا ہے تو اس کا بخاراتی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ اور اب یہ کم درجہ حرارت پر ٹھوس محلل کے بخاراتی دباؤ کے مساوی ہوجاتا ہے۔ اس طرح محلل کا نقطہ انجماد کم ہوجاتا ہے۔
مان لیجیے Tf 0 خالص محلل کا نقطہ انجماد ہے اور جب اس میں ایک غیر طیران پذیر مخل ملا دیا جاتا ہے تو اس کا نقطہ انجماد Tf ہے۔ نقطہ انجماد میں کمی حسب ذیل ہوگی۔
ΔTf = Tfº - Tf جسے نقطہ انجماد میں تخفیف کہتے ہیں۔
نقطہ جوش میں اضافہ کی طرح ہی، ڈائی لیوٹ محلول (مثالی محلول) کے لیے نقطہ انجماد میں تخفیف (ΔTf) بھی محلول molality یعنی m کے سیدھے تناسب میں ہوتی ہے۔ اس طرح
ΔTf ∝ m
(2.34) ΔTf = Kfm یا
تناسبیت کا مستقلہ Kf جو کہ محلل کی فطرت پر منحصر ہوتا ہے۔ نقطہ انجماد میں تخفیف کا مستقلہ یا مولل تخفیف کا مستقلہ (Cryoscopic Constant) کہلاتا ہے Kf کی اکائی K kg mol–1 ہے۔ کچھ عام محللوں کے لیےKf کی قدریں جدول 2.3 میں دی گئی ہیں۔
اگر M2 مولر کمیت والا w2 گرام منحل جو کہ w1گرام محلل میں موجود ہے اور محلل کے نقطہ انجماد میں تخفیف ΔTfہے تو منحل کی Molatity مساوات (2.31) کے ذریعہ ظاہر کی جاتی ہے۔
(2.35) m = w2/M2/w1/1000
Molality کی اس قدر کو مساوات (2.34) میں رکھنے پر
ΔTf Kf x w2 / M2/ w1/1000
(2.35) ΔTf Kf x w2 x 1000/ M2 x w1
(2.36) M2 Kf x w2 x 1000 / ΔTf x w1
اس طرح منحل کی مولر کمیت کا تعین کرنے کے لیے ہمیں w1، w2، ΔT1جیسی مقداریں معلوم ہونی چاہئیں اسی کے ساتھ ساتھ مولل نقطہ انجماد میں تخفیف کا مستقلہ بھی معلوم ہونا چاہیے۔
Kf اور Kb جن کا انحصار محلل کی نوعیت پر ہوتا ہے، کی قدریں مندرجہ ذیل تعلق کی مدد سے معلوم کی جاسکتی ہے۔
(2.37) Kf = R x M1 Tf2 / 1000 x Δfus H
(2.38) Kb = R x M1 Tb2 / 1000 x Δvab H
یہاں علامات R اور M1 بالترتیب گیس مستقلہ اور محلل کی مولر کمیت کو ظاہر کرتی ہیں اور Tf اور Tb بالترتیب خالص محلل کے نقطہ انجماد اور نقطہ جوش (کیلون میں) میں مزید یہ کہ
Δfus H اور Δvab H
بالترتیب محلل کی گداخت (Fusion) اور تبخیر کی اینتھالپی ہیں۔
جدول 2.3 کچھ محلولوں کے لیے مولل نقطہ جوش میں اضافہ کا مستقلہ اور نقطہ انجماد میں تخفیف کا مستقلہ
| محلل |
b.p./K |
Kb/K kg mol-1 |
f.p./K |
Kf/K Kg mol-1 |
| پانی |
373.15 |
0.52 |
273.0 |
1.86 |
| ایتھنال |
351.5 |
1.20 |
155.7 |
1.99 |
| سائکلوہیکسین |
353.74 |
2.79 |
279.55 |
20.00 |
| بینزین |
353.3 |
2.53 |
278.6 |
5.12 |
| کلوروفارم |
334.4 |
3.63 |
209.6 |
4.79 |
| کاربن ٹیٹرا کلورائڈ |
350.0 |
5.03 |
250.5 |
31.8 |
| کاربن ڈائی سلفائڈ |
319.4 |
2.34 |
164.2 |
3.83 |
| ڈائی ایتھائل ایتھر |
307.8 |
2.02 |
156.9 |
1.79 |
| ایسٹک ایسڈ |
391.1 |
2.93 |
290.0 |
3.90 |
مثال 2.9 45گرام ایتھائلین گلائکول (C2H6O2) کی 600گرام پانی میں آمیزش کی گئی ہے۔ (a) نقطہ انجماد میں تخفیف اور (b)محلول کا نقطہ انجماد معلوم کیجیے۔
حل نقطہ انجماد میں تخفیف کا تعلق molality سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ایتھائلین گلائکول کی نسبت سے محلول کی
molality مندرجہ ذیل ہے=� ایتھائلین گلائکول کے مول/ پانی کی کمیت کلوگرام میں
45g/ 62g mol -1= 0.73 mol = ایتھائلین گلائکول کے مولوں کی تعداد
600g/ 1000g kg-1 = 0.6kg = پانی کی کمیت کلوگرام میں
0.73mol /0.60 =1.2mol kg-1 � = ایتھائلین گلائکول کی molality
لہٰذا نقطہ انجماد میں تخفیف
ΔTf= 1.86K kg mol -1 x 1.2 mol kg-1 = 2.21K
273.15K - 2.2K = 270.95K = آبی محلول کا نقطہ انجماد
مثال 2.10 50g بینزین میں 1.00 گرام غیر الیکٹولائٹ منحل گھولنے پر بینزین کے نقطہ انجماد میں 0.40K کی کمی ہوجاتی ہے۔ بینزین کا نقطہ انجماد میں تخفیف کا مستقلہ
5.12 K kg mol–1
ہے۔ منحل کی مولر کمیت معلوم کیجئے۔
حل مساوات (2.36)میں ملوث مختلف ارکان کی قدروں کو رکھنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے
M2 = 5.12 K kg mol -1 x 1.00 g x 1000 g kg-1 / 0.40 x 50 g = 256 g mol-1
اس طرح، منحل کی مولرکمیت=256g mol-1
2.6.4 ولوج اور ولوجی دباؤ
(Osmosis and Osmotic Pressure)
ایسے کئی مظاہر ہیں جن کا ہم نے اپنے گھر یا قدرتی ماحول میں مشاہدہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر کچے آم جب برائن (نمکین پانی) میں رکھے جاتے ہیں تو یہ سکڑ جاتے ہیں، مرجھائے ہوئے پھول جب تازہ پانی میں رکھے جاتے ہیں تو ان میں تازگی آجاتی ہے۔ دموی خلیے(Blood Cells)جب نمکین پانی میں ڈبائے جاتے ہیں تو یہ پچک جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم ان عملو ں پر غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ یہ کہ یہ سبھی اشیاء جھلیّوں سے گھری ہوئی ہیں۔ ان جھلیّوں کا مآخذ حیوانی یا نباتاتی ہوسکتا ہے اور یہ قدرتی طور پر پائی جاتی ہیں جیسے سور کا مثانہ یا پرچمنٹ (Parchment)یا تالیفی ہوسکتی ہیں جیسے سیلوفین (Cellophane)یہ جھلیاں ایک مسلسل شیٹ یا فلم کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔ حالانکہ یہ ذیلی خوردبینی سوراخ یا مساوات کے جال پر مشتمل ہوتی ہیں۔ پانی جیسے محلل کے چھوٹے سالمات ان سوراخوں سے ہوکر گزر جاتے ہیں لیکن منحل جیسے بڑے سالمات ان سے ہوکر نہیں گزر پاتے۔ ایسی خصوصیات والی جھلیاں نیم سرائیت پذیر (Semipermeable Membranes)کہلاتی ہیں۔

محلل
محلول
نیم سرائیٹ پذیر جھلی
شکل: 2.9 محلل کے ولوج کی وجہ سے تھل فنل میں محلول سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ مانتے ہوئے کہ صرف محلل کے سالمات ہی ان نیم سرائیت پذیر جھلیوں سے ہوکر گزرتے ہیں۔ اگر اس جھلی کو محلل اور محلول کے درمیان میں رکھ دیا جائے جیسا کہ شکل2.9میں دکھایا گیا ہے تو محلل کے سالمات جھلی سے ہوکر خالص محلل سے محلول کی طرف بہنے لگیں گے۔محلل کے بہاؤ کا یہ عمل ولوج(Osmosis)کہلاتا ہے توازن کی حالت کو پہنچنے تک یہ بہاؤ جاری رہتا ہے۔ محلل کی طرف سے نیم سرائیت پذیر جھلی سے ہوتے ہوئے محلول کی طرف محلل کے بہاؤ کو ر وکا جاسکتا ہے اگر محلول پر کچھ اضافی دباؤ ڈال دیا جائے۔
محلل
SPM
محلول
شکل: 2.10 ولوجی دباؤ کے مساوی اضافی دباؤ کو محلول کی جانب لگانا چاہیے تاکہ ولوج کے عمل کو روکا جاسکے
یہ دباؤ جو کہ محلل کے بہاؤ کو صرف روک دیتا ہے محلول کا ولوجی دباؤ (Osmotic Pressure)کہلاتا ہے۔ ڈائی لیوٹ محلول سے مرتکز محلول کی طرف نیم سرائیت پذیر جھلی سے ہوکر محلل کا بہاؤ آسموس کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ محلل کے سالمات ہمیشہ ہی محلول کے کم ارتکاز سے زیادہ ارتکاز کی طرف بہتے ہیں۔ ولوجی دباؤ کا انحصار محلول کے ارتکاز پر ہوتا ہے۔
محلول کا ولوجی دباؤ وہ اضافی دباؤ ہے جسے محلول پر آسموسس کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یعنی نیم سرائیت پذیر جھلّی سے ہوکر محلول میں جانے والے محلل کے سالمات کو روکنے کے لیے۔ اسے شکل2.10میں دکھایا گیا ہے۔ ولوجی دباؤایک مربوط خصوصیت ہے کیونکہ یہ منحل کے سالمات کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے ان کی شناخت پر نہیں۔ ڈائی لیوٹ محلولوں کے لیے، تجرباتی طو رپر یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی دیے ہوئے درجہئ حرارتTپر ولوجی دباؤ مولایت Cکے متناسب ہوتا ہے۔ لہٰذا
(2.39) π=C R T
یہاں π ولوجی دبائو اور Rگیس مستقلہ ہے۔
(2.40) π=(n2/V)RT
یہاںVمحلول کا حجم (لیٹر میں) ہے جس میں منحل کے n2سالمات ہیں۔ اگر محلول میں M2مولر کمیت والا w2گرام منحل موجود ہے۔ تبn2 = w2/M2 اور ہم لکھ سکتے ہیں کہ
(2.41) πV= W2 RT/ M2
(2.42) M2 = w2 RT / π V
اس طرح،T، w2، π اورVجیسی مقداروں کے معلوم ہونے پر ہم منحل کی مولر کمیت معلوم کرسکتے ہیں۔ولوجی دباؤ کی پیمائش، منحل کی مولر کمیت معلوم کرنے کا ایک او رطریقہ فراہم کرتی ہے۔ یہ طریقہ پروٹین، پالیمر اور دیگر کلاں سالمات (Macromolecules)کی مولر کمیت کا تعین کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دلوجی دباؤ کا طریقہ دیگر طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے کیونکہ دباؤ کی پیمائش کمرہ کے درجہئ حرارت پر ہوتی ہے اورمولالیت) (molalityکے بجائے محلول کی مولاریت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر مربوط خصوصیات کے مقابلے میں اس کی قدرت بہت زیادہ ڈائی لیوٹ محلولوں کے لیے بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ منحل کی مولر کمیت کا تعین کرنے کے لیے ولوجی دباؤ کی تکنیک خاص طور سے حیاتیاتی سالمات کے لیے زیادہ مفید ہے کیونکہ یہ سالمات عام طور سے اونچے درجہئ حرارت پر مستحکم نہیں ہوتے اور پالیمر کی حل پذیری بہت کم ہوتی ہے۔ایسے محلول جن کا ولوجی دباؤ کسی دیے ہوئے درجہئ حرارت پر یکساں ہوتا ہے آئسو ٹونک محلول(Isotonic Sulutions)کہلاتے ہیں۔ جب اس قسم کے محلول ایک دوسرے سے نیم سرائیت پذیر جھلی کے ذریعے علیحدہ ہوتے ہیں تو ان کے درمیان آسموسس کا عمل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر دموی خلیہ کے اندر موجود سیال سے وابستہ ولوجی دباؤ%0.9(حجم/کمیت) سوڈیم کلورائڈ محلول کے برابر ہوتا ہے جسے نارمل نمکین محلول کہتے ہیں اور اسے وریدوں میں انجیکٹ کرنا محفوظ رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم خلیوں کو ایسے محلول میں رکھ دیں جس میں%0.9( حجم/کمیت) سے زیادہ کا سوڈیم کلورائڈ موجود ہے تو پانی خلیوں سے باہر آنے لگے گا اور خلیے سکڑ جائیں گے۔ اس قسم کا محلول ہائپر ٹونک(Hypertonic)کہلاتا ہے۔ اگر نک کا ارتکاز %0.9 (حجم /کمیت) سے کم ہے تو محلول ہائیپو ٹونک (Hypotonic) کہلاتا ہے۔ اس صورت میں پانی خلیہ کے اندر پہنچنے لگے گا اگر انہیں اس محلول میں رکھ دیا جائے۔ اور یہ خلیے پھول جائیں گے۔
مثال 2.11 پروٹین کے ایک آبی محلول کے
200 cm3
میں 1.26g پروٹین ہے۔ اس محلول کا ولوجی دباؤ 300K پر
2.57×10-3bar
ہے۔ پروٹین کی مولر کمیت معلوم کیجیے۔
حل معلوم مقدار یں مندرجہ ذیل ہیں
π = 2.57 x 10-3 bar
V= 200 cm3 = 0.200 litre
T = 300 K
R = 0.083 L bar mol -1 K-1
ان قدروں کو مساوات(2.42)میں رکھنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے
M2= 1.26g x 0.083 L bar K-1 mol -1 x 300 K/ 2.57 x 10-3 bar x 0.200 L = 61.022 g mol -1
اس سیکشن کی ابتداء میں جن مظاہر کا ذکر کیا گیا ان کی تشریح آسموسس کی بنیادپر کی جاسکتی ہے۔ کچے آم کو نمک کے مرتکز محلول میں رکھنے پر یہ آسموسس کی وجہ سے پانی کو ضائع کردیتا ہے اور سکڑ جاتا ہے۔ مرجھائے ہوئے پھول جب تازے پانی میں رکھے جاتے ہیں تو ان میں تازگی آجاتی ہے۔ گاجر کرہ باد میں پانی ضائع کرکے جب مرجھا جاتی ہے تو اسے دوبارہ توانا کرنے کے لیے پانی میں رکھتے ہیں۔ پانی آسموسس کے نتیجے میں گاجر کے اندر پہنچنے لگے گا۔ دموی خلیوں کو اگر %0.9(حجم/کمیت) سے کم نمک والے پانی میں رکھا جاتا ہے تو آسموسس کی وجہ سے پانی ضائع ہونے کے نتیجے میں خلیے تباہ ہوجاتے ہیں جو لوگ زیادہ نمک یا نمکین غذا کا استعمال کرتے ہیں تو آسموسس کی وجہ سے بافتوں اور خلیوں کے درمیان کی جگہوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے سوجن آجاتی ہے جسے ایڈیما(Edema)کہتے ہیں۔ مٹی سے پودوں کی جڑوں میں پانی کی حرکت اور پھر پودے کے بالائی حصے میں پانی کی حرکت جزوی طور پر آسموسس کے نتیجے میں ہوتی ہے۔نمک لگاکر گوشت کو محفوظ کرنا یا چینی کے محلول میں پھلوں کو محفوظ رکھنے کے طریقے میں نمک یا چینی بیکٹریا کے عمل کو روک دیتے ہیں۔ آسموسس کے عمل کے نتیجے میں نمک لگے ہوئے گوشت یا چینی کے محلول میں رکھے ہوئے پھلوں میں بیکٹریا کے خلیے سے پانی باہر آجاتا ہے اور یہ مرجاتا ہے۔
2.6.5 رجعتی ولوج اور پانی کی تخلیص (Reverse Osmosis and Water Purification)
آسموسس کی سمت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اگر محلول پر لگایا گیا دباؤ ولوجی دباؤ سے زیادہ ہے۔ اس صورت میں خالص محلل نیم سرائیت پذیر جھلی سے ہوتے ہوئے محلول سے باہر آجاتا ہے۔ یہ عمل رجعتی ولوج (Reverse Osmosis)کہلاتا ہے اور اس کی عملی طو رپر بڑی افادیت ہے۔ رجعتی ولوج کا استعمال سمندری پانی کے کھاری پن کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا سیٹ اپ شکل 2.11میں دکھایا گیا ہے۔ جب ولوجی دباؤ سے زیادہ کا دباؤ لگایا جاتا ہے تو خالص پانی نیم سرائیت پذیر جھلی سے ہوکر سمندر کے پانی سے باہر آجاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف قسم کی پالیمر جھلیاں دستیاب ہیں۔
پسٹن
p< دباؤ
نمکین پانی
تازہ پانی
پانی کی نکاسی
SPM
شکل 2.11: رجعتی ولوج اس وقت ہوتا ہے جب محلول پر لگنے والا دباؤ ولوجی دباؤ سے زیادہ ہوتا ہے۔
رجعتی ولوج کے لیے بہت زیادہ دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک کارگر مساماتی جھلی سیلیولوز ایسیٹیٹ کی بنی ہوتی ہے جسے ایک مناسب سہارے کی مدد سے رکھا جاتا ہے۔ سیلیولوز ایسیٹیٹ سے پانی سرائیت کرجاتا ہے لیکن سمندر کے پانی میں موجود ملاوٹیں اور آین اس سے ہوکر نہیں گزر پاتے۔ آج کل کئی ممالک پینے کے پانی کی اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سمندر کے پانی کے کھاری پن کو دور کرنے والے پلانٹ کا استعمال کرتے ہیں۔
متن پر مبنی سوالات
2.9 298Kپر خالص پانی کا بخاراتی دباؤ
23.8 mm Hg
ہے۔ 850g پانی میں 50g یوریا (NH2CONH2)ملایا گیا ہے۔ اس محلول کے لیے پانی کا بخاداتی دباؤ اور اس کی نسبتی تخفیف معلوم کیجیے۔
2.10 750mm Hgپر پانی کا نقطہ جوش
99.63°Cہے۔500g پانی میں کتنا سکروز ملایا جائے تاکہ یہ
100ºC
پر ابلنے لگے۔
2.11 75gایسیٹیک ایسڈ میں کتنا ایسکاربک ایسڈ (وٹامنC،(C6H8O6گھولاجائے تاکہ اس کا نقطہ گداخت
1.5°Cکم ہوجائے۔
-Kf=3.9K kf mol-1
2.12 اس محلول کا ولوجی دباؤ پاسکل میں معلوم کیجیے جسے
37°Cپر450mlپانی میں 185.000مولر کمیت کے 1.0gپالیمر کو گھول کر بنایا گیا ہے۔
2.7 بے قاعدہ مولر کمیت (Abnormal molar mass)
ہم جانتے ہیں کہ جب آینی مرکبات کو پانی میں گھولا جاتا ہے تو یہ کیٹ آین(مثبیرہ) (Cations)اور این آین (منفیرہ)(Anion)میں تحلیل ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ایک مول
KCL(74.5g)
کو پانی میں گھولتے ہیں تو ہم یہ امیدکرتے ہیں کہ محلول میں +Kاور –Clکاایک ایک مول خارج ہوگا۔اگر ایسا ہوتا ہے تو محلول میں ذرات کے دو مول ہوں گے۔ اگر ہم آینوں کے درمیان کی قوت کشش کو نظر انداز کردیں تو غالباً ایک کلو گرام پانی میں ایک مول KCl نقطہ جوش میں
20×.52K
یعنی1.04Kکا اضافہ کردے گا۔ اب اگر ہمیں تحلیل کی ڈگری کا علم نہیں ہے تو ہم یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ 2مول ذرات کی کمیت 74.5gاور ایک مولKclکی کمیت37.25gہوگی۔ اس سے اس قاعدے کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ جب منحل آینوں میں تحلیل ہوتا ہے تو تجربہ طور پر متعین کی گئی مولر کمیت کی قدر ہمیشہ حقیقی قدر سے کم ہوتی ہے۔
ایتھنائک ایسڈ ایسئک ایئر کے سالمات ہائڈروجن بندش کی وجہ سے بینزین میں ڈائی میرائز (Dimerise) ہوجاتے ہیں۔ یہ ان محللوں میں عام طور سے ہوتا ہے جن کا ڈائی الیکٹرک مستقلہ(Dielectirc Constant)کم ہوتا ہے۔ اس صورت میں ذرات کی تعداد ڈائی میرائزیشن کی وجہ سے کم ہوجاتی ہے۔ سالمات کا اتحاد ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
یہاں بلا شک وشبہ یہ بیان کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایتھنائک ایسڈ کے سبھی سالمات بینزین کے ساتھ متحد ہوتے ہیں تو ایتھنائک ایسڈکے لیے ΔTb یا ΔTf کی قدر عام قدر سے آدھی ہوگی۔ اس ΔTbیا ΔTf کی بنیاد پر تحسیب کی گئی مولر کمیت توقع سے دوگنی ہوگی۔ اس قسم کی مولر کمیت جو کہ عام قدر سے یا تو کم ہے یا پھر زیادہ، بے قاعدہ مولر کمیت(Abnormal Molar Mass)کہلاتی ہے۔
1880میں وانٹ ہاف(Van't Hoff)نے ایک فیکٹرiکو متعارف کرایا جسے وانٹ ہاف فیکٹر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فیکٹر کی تعریف یوں بیان کی جاسکتی ہے کہ:
i= نارمل مولر کمیت/ بےقاعہ مولر کمیت
=مشاہد کی گئی مربوط خصوصیت/ تحسیب شدہ مربوط خصوصیت
i= اتحاد/تحلیل کے بعد ذرات کے مولوں کی کل تعداد/ اتحاد/تحلیل سے پہلے ذرات کے مولوں کی تعداد
یہاں Abnormalمولر کمیت تجرباتی طور پر متعین کی گئی مولر کمیت ہے اور تحسیب شدہ مربوط خصوصیات کاتعین یہ مان کر کیا جاتا ہے کہ غیر طیران پذیر منحل نہ تو اتحاد کرتا ہے اور نہ ہی تحلیل ہوتا ہے۔ اتحاد کے معاملے میں iکی قدر اکائی سے کم ہوتی ہے جب کہ تحلیل کے معاملے میں یہ اکائی سے زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر KClکے آبی محلول کے لیے iکی قدر2کے آس پاس ہوتی ہے جب کہ بینزین میں ایتھنائک ایسڈ کے لیے یہ تقریباً 0.5ہوتی ہے۔
وانٹ ہاف فیکٹر کی شمولیت سے مربوط خصوصیات کے لیے ترمیم شدہ مساواتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
محلل کے بخاراتی دباؤ میں نسبتی تخفیف
P1º = P1/P1º = i n2/n1
نقطہ جوش میں اضافہ i Kb m = ΔTb
نقطہ انجماد میں تخفیف iKfm =ΔTf
محلول کا ولوجی دباؤ i n2 RT / V = π
جدول2.4میں کئی طاقتور الیکٹرولائٹ کے لیے فیکٹرiکی قدریں دی ہوئی ہیں۔ Nacl, KCl اور MgSO4 کے لیے iکی قدر2تک پہنچتی ہے کیونکہ محلول زیادہ ڈائی لیوٹ ہے۔ جیسا کہ امید کی جاتی ہے کہ K2SO4کے لیےiکی قدر3کے آس پاس ہے۔
جدولMgSO4, KCl, NaCl:2.4اورK2SO4کے لیے مختلف ارتکاز پر وانٹ ہاف فیکٹرiکی قدریں
| نمک |
i کی قدریں |
i کی قدریں |
i کی قدریں |
منحل کی مکمل تحلیک کے لیے وانٹ ہاف فیکٹر i |
|
0.1m |
0.01m |
0.001m |
|
| NaCl |
1.87 |
1.94 |
1.97 |
2.00 |
| KCl |
1.85 |
1.94 |
1.98 |
2.00 |
| MgSO4 |
1.21 |
1.53 |
1.82 |
2.00 |
| K2SO4 |
2.32 |
2.70 |
2.84 |
3.00 |
* نامکمل تحلیل کے لیے i کی قدروں کو ظاہر کرتا ہے۔
مثال 2.12 25gبینزین میں گھلاہوا2gبیروئک ایسڈ(C6H5 COOH)نقطہ انجماد میں تخفیف کو ظاہر کرتا ہے جو کہ 1.62Kکے مساوی ہے۔ بینزین کے لیےmolalتخفیفی مستقلہ
4.9K kg mol–1
ہے۔ ایسڈ کی تحلیل کی فیصد معلوم کیجیے اگر یہ محلول میں Dimerکی تشکیل کرتا ہے۔
حل
دی ہوئی مقداریں ہیں:
ΔTf = 1.62 k w1 = 25 g ; Kf = 4.9 K kg mol -1 ; w2 = 2 g
مساوات (2.36) میں ان قدروں کو رکھنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
M2 4.9 K kg mol-1 x 2 g x 1000 g kg -1/ 25 g x 1.62 K= 241.98 g mol-1
اس طرح بینزین میں بینزوئک ایسڈ کی تجرباتی مولر کمیت
= 241.98 g mol-1
اب ایسڈ کے لیے مندرجہ ذیل توازن پر غور کیجیے
2C6H5COOH↔ (2C6H5COOH)2
اگر xمنحل کی تحلیل کے درجۂ کو ظاہر کرتا ہے تو ہمارے پاس بغیر تحلیل ہوئے بینزوئک ایسڈ کے
(1-x)
مول ہوں گے اور توازن کی حالت میں بینزوئک ایسڈ کے اتحادی مول x/2� ہوں گے۔
لہٰذا توازن کی حالت میں ذرات کے مولوں کی کل تعداد ہے
1 - x x/2 = 1 - x/2
اس طرح توازن کی حالت میں ذرات کے مولوں کی کل تعداد وانٹ ہاف فیکٹرiکے مساوی ہوتا ہے۔ لیکن
i= Normal molar mass/ Abnormal molar mass
= 122gmol-1/241.98gmol-1
x/2=1-122/241.98=1-0.504=0.496 یا
x=2 x 0.496 = 0.992 یا
اس طرح بینزین میں بینزوئک ایسڈ کے اتحاد کا درجہ %99.2ہے۔
مثال 2.13 0.6mlایسیٹیک ایسڈ(CH3COOH)کی کثافت
1.06gml-1
ہے۔ اسے 1لیٹر پانی میں گھولا گیا ہے۔ اس کثافت پر نقطہ انجماد میں تخفیف
0.0205°C
نوٹ کی گئی۔ وانٹ ہاف فیکٹر اور ایسڈ کا تحلیلی مستقلہ معلوم کیجیے۔
حل
ایسیٹیک ایسڈ کے مولوں کی تعداد
= 0.6ml x 1.06gml-1/60gmol-1
=0.106 mol = n
Molality = 0.0106mol/1000ml x lg mL-1 = 0.0106molkg-1
ؐمساوات (2.35) کا استعمال
ΔTf = 1.86K Kg mol-1 x 0.01mol kg-1 = 0.0197 K
=1.041 = 0.0205K/0.0197K = مشاہدہ کیا گیا نقطہ انجماد/تحسیب شدہ نقطہ انجماد= (i) وانٹ ہاف فیکٹر
ایسٹیک ایسڈ ایک کمزورالیکٹرو لائٹ ہے اور یہ دو آینوں میں تحلیل ہوجائے گا:ایسٹیٹ اور ہائڈروجن آین ایسٹیک ایسڈ کافی سالمہ اگر ایسٹیک ایسڈ کی تحلیل کا درجہxہے تب ہمارے پاس ایسیٹیک ایسڈ کے غیر اتحادی مولوں کی تعداد
n(1-x)،
CH3COO-
کے nxمول اور +Hآینوں کے مولوں کی تعدادnxہوگی۔
CH3COOH⇔ H+ CH3COO-
n mol O O
n(1-x) nx mol nx mol
اس طرح ذرات کے مولوں کی کل تعداد
n(1 -x+x+x) = n (1 +x)
i = n(1+x)/n = 1+x = 1.041
اس طرح ایسیٹیک ایسڈ کی تحلیل کا درجہ
x = 1.041 - 1.000 = 0.041
(CH3COOH) = n (1 - x) = 0.0106 (1 - 0.014) تب
(CH3COO-) = nx = 0.0106 x 0.041 (H+) = nx = 0.0106 x 0.041
Ka = (CH3COO-)(H+)/(CH3COOH) = 0.0106x0.0041x0.0106,0.041/0.0106 (1.00 - 0.041
= 1.86 x 10-5
خلاصہ
محلول دو یا دو سے زیادہ اشیاء کا متجانس آمیزہ ہے۔ محلولوں کی درجہ بندی ٹھوس، رقیق اور گیس محلول کے تحت کی جاتی ہے۔ محلول کے ارتکاز کو مول کسر(Mole Fraciton)، مولاریت(Molarity)،Molalityاور فیصدی میں ظاہر کیا جاتا ہے رقیق میں گیس کی تحلیل ہیزی کے کلیہ(Henry's Law)کے مطابق ہوتی ہے۔ اس کلیہ کے مطابق کسی دیے ہوئے درجہ حرارت پر رقیق میں گیس کی حل پذیری گیس کے جزوی دباؤ(Partical Pressure)کے سیدھے تناسب میں ہوتی ہے۔ محلول میں غیر طیران پذیر(Non-Volatile)منحل کی موجودگی کی وجہ سے محلل(Solvent)کا بخاراتی دباؤ(Vapour Pressure)کم ہوجاتا ہے اور بخاراتی دباؤ میں یہ تخفیف راؤلٹ کے کلیہ کے مطابق ہوتی ہے۔ اس کلیہ کا بیان ہے کہ محلول کے اوپر محلل کے بخاراتی دباؤ میں نسبتی تخفیف محلول میں موجود غیر طیران پذیر منحل کی مول کسر کے مساوی ہوتی ہے۔ تاہم بائنری رقیق محلول میں، اگر محلول کے دونوں اجزا طیران پذیر ہیں تو راؤلٹ کے کلیہ کی دوسری شکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاضیاتی طور پر راؤلٹ کے کلیہ کی اس شکل کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ

وہ محلول جو ارتکاز کی مکمل رینج میں راؤلٹ کے کلیہ کا اتباع کرتے ہیں مثالی محلول(Ideal Solution)کہلاتے ہیں۔ راؤلٹ کے کلیہ سے دو طرح کے انحراف کا مشاہدہ کیا گیا ہے جنھیں مثبت اور منفی انحراف کہتے ہیں۔ راؤلٹ کے کلیہ سے بہت زیادہ انحراف کے نتیجے میں اینریو ٹراپس (azeotropes) حاصل ہوتے ہیں۔
محلولوں کی وہ خصوصیات جو کہ منحل کے ذرات کی تعداد پر منحصر ہوتی ہیں اور ان کی کیمیائی شناخت سے مبرا ہوتی ہیں مربوط خصوصیات(Colligative Properties)کہلاتی ہیں۔ یہ خصوصیات ہیں: بخاراتی دباؤ میں تخفیف، نقطہ جوش میں اضافہ، نقطہ انجماد اور ولوجی دباؤ(Osmotic Pressure)میں تخفیف۔ آسموسس کے عمل کو رجعتی بنایا جاسکتا ہے اگر محلول پر اس کے ولوجی دباؤ سے زیادہ کا دباؤ لگا دیا جائے۔ مربوط خصوصیات کا استعمال منحلوں کی مولر کمیت کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ وہ منحل جو کہ محلول میں تحلیل ہوجاتے ہیں ان کی مولر کمیت حقیقی مولر کمیت سے کم ہوتی ہے اور وہ منحل جو محلول میں متحد ہوتے ہیں وہ حقیقی مولر کمیت سے زیادہ مولر کمیت کا اظہار کرتے ہیں۔
مقداری اعتبار سے، جس حد تک منحل متحد یا تحلیل ہوتا ہے اسے وانٹ ہاف فیکٹرiسے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کی تعریف نارمل مولر کمیت کی تجرباتی طور پر متعین کی گئی مولر کمیت سے نسبت یا مشاہدہ کی گئی مربوط خصوصیت کی تحسیب شدہ مربوط خصوصیت سے نسبت کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔
مشقیں
2.1 اصطلاح محلول کی تعریف بیان کیجیے۔ محلول کی کتنی قسمیں ہیں۔ ہر ایک قسم کے بارے میں مختصراً بیان کیجیے۔ مثال بھی دیجیے۔
2.2 فرض کیجیے کہ ایک ٹھوس محلول کو دو اشیا سے بنایاگیا ہے جس میں سے ایک شے کے ذرات بہت بڑے ہیں اور دوسرے شے کے ذرات بہت چھوٹے ہیں۔ یہ کس قسم کا محلول ہوسکتاہے؟
2.3 مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تعریف بیان کیجیے۔
(i) مول کسر (ii) مولالیت (iii) مولاریت (iv) کمیت فیصدی
2.4 تجربہ گاہ میں استعمال کے لییمرتکزنائٹرک ایسڈ آبی محلول میں کمیت کے اعتبار سے %68نائٹرک ایسڈ ہے۔ ایسڈ کے اس قسم کے نمونے کی مولاریت کیا ہوگی اگر محلول کی کثافت
1.504 g mL-1
ہے۔
2.5 پانی میں گلوکوز کا محلول
10%w/w
ہے۔ محلول میں ہر ایک جزو کی Molalityاور مول کسر معلوم کیجیے۔ اگر محلول کی کثافت 1.2gmL–1ہے تو محلول کی مولاریت معلوم کیجیے۔
2.6 Na2CO3اورNaHCO3کے 1گرام آمیزہ سے مکمل طو رپر تعامل کرنے کے لیے
0.1 M HCI
کے کتنے mLدرکار ہوں گے۔ آمیزہ کے دونوں اجزاء کی مولاریت مساوی ہے۔
2.7 ایک محلول کمیت کے اعتبار سے%25محلول کے 300g اور%40محلول کے 400گرام کی آمیزش کر کے بنایا گیا ہے۔ بننے والے محلول کی کمیت فیصدی معلوم کیجیے۔
2.8 ایک مانع منجمد محلول222.6گرام ایتھائلین گلائکول(C2H6O2)اور200گرام پانی سے بنایا گیا ہے۔ محلول کی Molalityمعلوم کیجیے۔ اگر محلول کی کثافت1.072gmL-1ہے تو محلول کی مولاریت معلوم کیجیے۔
2.9 پانی کے ایک سمپل میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں کلوروفارمCH3Cl3)کی ملاوٹ ہے جو کہ سرطان کا باعث (Carcinogen)ہے۔ ملاوٹ کی سطح15ppm(کمیت کے اعتبار سے) ہے۔
(i) اسے کمیت کے اعتبار سے فیصدی میں ظاہر کیجیے۔
(ii) پانی کے سیمپل میں کلوروفارم کیMolalityمعلوم کیجیے۔
2.10 پانی اور الکحل کے محلول میں سالماتی باہمی عمل(Moleculer Inter action)کا کیا رول ہے؟
2.11 جب درجہئ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے تو گیسوں کے رقیق میں گھلنے کا رجحان ہمیشہ کم کیوں ہوجاتا ہے؟
2.12 ہنیری کا کلیہ بیان کیجیے اور اس کے کچھ اہم استعمال بھی لکھیے۔
2.13
6.56×10-3g
ایتھین پر مشتمل محلول پر ایتھین کا جزوی دباؤIbarہے۔ اگر محلول میں
5.00×10-2
ایتھین ہے تو گیس کا جزوی دباؤ کیا ہوگا؟
2.14 راؤلٹ کے کلیہ سے مثبت انحراف اور منفی انحراف سے کیا مراد ہے اور علامتΔmixHراؤلٹ کے کلیہ سے مثبت اور منفی انحراف سے کس طرح متعلق ہے؟
2.15 2%غیر طیران پذیر منحل کاآبی محلول محلل کے نارمل نقطہ جوش پر1.004barدباؤڈالتا ہے۔ منحل کی مولر کمیت معلوم کیجیے۔
2.16 Heptane اور Octane ایک مثالی محلول کی تشکیل کرتے ہیں 373Kپر دونوں رقیق اجزا کے بخاراتی دباؤ بالترتیب 105.2kpa اور 46.8kpa ہے۔ 26.0g ہیپٹین اور 35g آکٹین کے آمیزہ کا بخاراتی دباؤ کیا ہوگا؟
2.17 300k پر پانی کا بخاراتی دباؤ 12.3kpa ہے۔ غیر طیران پذیر منحل والے 1 مولل محلول کا بخاراتی دباؤ معلوم کیجیے۔
2.18 اس غیر طیران پذیر منحل (مولر کمیت 40gmol–1)کی کمیت معلوم کیجیے جسے 114 g آکٹین میں گھولنے پر اس کا بخاراتی دباؤ % 80تک کم ہوجائے۔
2.19 ایک محلول قطعی طور پر 90g پانی میں 30g غیر طیران پذیر منحل پر مشتمل ہے اس کا بخاراتی دباؤ 298K پر 2.8kpa ہے۔ مزید یہ کہ اس میں 18g پانی مالانے پر اس کا بخاراتی دباؤ 298k پر 2.9kpa ہوجاتا ہے۔ معلوم کیجیے۔
(i) منحل کی مولر کمیت ii) 298k) پر پانی کا بخاراتی دباؤ
2.20 پانی میں چینی % 5محلول (کمیت کے اعتبار سے) کا نقطہ انجماد 271Kہے۔ پانی % 5گلوکوز کا نقطہ انجماد معلوم کیجیے اگر خالص پانی کا نقطہ انجماد 273.15k ہے۔
2.21 دو عناصر A اور B مرکبات تشکیل دیتے ہیں جن کے فارمولے AB2 اور AB4 ہیں۔ جب 20g بینزین (C6H6) میں گھولا جاتا ہے تو AB2کا 1g نقطہ انجماد 2.3K کم کر دیتا ہے۔ جبکہ AB4 کا 1.0g نقطہ انجماد کو 1.3K کم کر دیتا ہے۔ بینزین کے لیے مولر تخفیفی مستقلہ
5.1k Kg mol–1
ہے۔ A اور B کی ایٹمی کمیتیں معلوم کیجیے۔
2.22 300K پر، 1لیٹر محلول میں 36g گلوکوز موجود ہے۔ محلول کا ولوجی دباؤ اس درجہ حرارت پر 1.52bar ہے۔ اس کا ارتکاز کیا ہوگا؟
2.23 مندرجہ ذیل جوڑوں میں اہم ترین بین سالماتی کشش باہمی عمل تجویز کیجیے۔
(i)
nہیکسین اور n- آکٹین
(ii)
I2 اور CCl4
(iii)
NaClO4 اور پانی
(iv) میتھنال اور ایسیٹون
(v) ایسیٹونائٹرائل (CH3CN)اور ایسیٹون (C3H6O)
2.24 مخل محلل باہمی عمل کی بنیاد پر مندرجہ ذیل کو n آکٹین میں حل پذیری کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھیے اور تشریح کیجئے۔ سائیکلوہیکسین CH3CN, CH3OH, KCl
2.25 مندرجہ ذیل میں سے ان مرکبات کی شناخت کیجیے جو پانی میں غیر حل پذیر ہیں، جزوی طور پر حل پذیر ہیں اور بہت زیادہ حل پذیر ہیں۔
(i) فینال (ii) ٹولوئین (iii) فارمک ایسڈ
(iv) ایتھائلین گلائکول (v) کلوروفارم (vi) پینٹانول (Pentanol)
2.26 ایک جھیل کے پانی کی کثافت 1.25gmL–1 ہے اور اس میں فی کلوگرام پانی 92 گرام +Naآئینوں پر مشتمل ہے۔ جھیل میں +Na آینوں کی molality معلوم کیجیے۔
2.27 اگر CuS کا حل پذیر خاص ضرب
(Solublity Product) 6 × 10–16
ہے تو آبی محلول میں CuS کی زیادہ سے زیادہ مولاریت معلوم کیجیے۔
2.28 ایسیٹونائٹرائل (CH3CN)میں ایسپرن (C9H8O4)کی کمیت فیصدی معلوم کیجئے۔ جب 450 گرام CH3CNمیں 6.5 گرام C9H8O4کھولا گیا ہے۔
2.29 نیلورفین (C19H21NO3)جوکہ مارفین کی طرح ہی ہے اس کا استعمال منشیات کا استعمال کرنے والے افراد میں منشیات کا استعمال نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والی علامات سے لڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ عام طور سے نیلورفین کی 1.5mg خوراک ہی دی جاتی ہے۔ مذکورہ بالا خوراک کے لیے درکار
1.5 × 10–3m
آبی محلول کی کمیت معلوم کیجیے۔
2.30 میتھنال میں 0.15M کا 250ML محلول بنانے کے لیے درکار بینٹروئک ایسڈ (C6H5COOH)کی مقدار معلوم کیجیے۔
2.31 پانی کے نقطہ انجماد میں تخفیف کا مشاہدہ اسی مقدار کے ایسیٹک ایسڈ، ٹرائی کلوراایسٹک ایسڈ کے لیے کیا گیا جس کی بڑھتی ہوئی ترتیب وہی ہے جیسا کہ اوپر دیا گیا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
2.32 پانی کے نقطہ انجماد میں تخفیف معلوم کیجیے جب CH3CH2CHClCOOH کے 10گرام کو 250 گرام پانی میں ملایا جاتا ہے۔
Kf = 1.86 K kg mol–1، Ka = 1.4 × 10–3
2.33 19.5 گرام CH2FCOOHکو 500 گرام پانی میں گھولا گیا ہے۔ پانی کے نقطہ انجماد میں تخفیف
1.0°C نوٹ کی گئی۔ فلورواسیٹیک ایسڈ کے لیے وانٹ ہاف فیکٹر اور تحلیلی مستقلہ معلوم کیجیے۔
2.34 293K پر پانی کا بخاراتی دباؤ
17.535 mm Hg
ہے۔ جب 450g پانی میں 25gگلوکوز گھولا جاتا ہے تو 293K پر پانی کا بخاراتی دباؤ معلوم کیجیے۔
2.35 298K پر بینزین میں میتھین کی molality کے لیے ہینری کے کلیہ کا مستقلہ
4.27×105mmHg
ہے۔
760 mmHg
کے تحت 298K پر بینزین میں میتھین کی حل پذیر کا حساب لگائیے۔
2.36 100 گرام رقیق A(مولر کمیت 140g mol–1)کو 1000 گرام رقیق B (مولر کمیت 80g mol–1) میں گھولا گیا ہے۔ خالص رقیق Bکا بخاراتی دباؤ 500 Torr ہے۔ خالص رقیق A کا بخاراتی دباؤ اور محلول میں اس کا بخاراتی دباؤ معلوم کیجیے اگر محلول کا کل بخاراتی دباؤ 475 Torr ہے۔
328Kپر خاصل ایسٹیون اور کلورو فارم کے بخاراتی دباؤ بالترتیب
74.8 mm Hg
اور
632.8 mm Hg
ہیں۔ فرض کیجیے کہ یہ ترکیب کی مکمل رینج میں مثالی محلول بناتے ہیں ایسی ٹون کے تفاعل کے طو رپرpchlorofrom, plotoاورpacetoneکا گراف بنائیے۔ مختلف ترکیبوں کے لیے مشاہدہ کیے گیے تجرباتی اعداد وشمار درج ذیل ہیں۔
| 100x xacetone |
0 |
11.8 |
23.4 |
36.0 |
50.8 |
58.2 |
64.5 |
72.1 |
| pacetone /mm Hg |
0 |
54.9 |
110.1 |
202.4 |
322.7 |
405.9 |
454.1 |
521.1 |
| pchloroform /mm Hg |
632.8 |
548.1 |
469.4 |
359.7 |
257.7 |
193.6 |
161.2 |
120.7 |
اس اعداد وشمار کو بھی اسی گراف پیپر سپر پلاٹ کیجیے۔ ظاہر کیجیے کہ یہ مثالی محلول سے مثبت انحراف ہے یا منفی انحراف۔
2.38 بینزین اور ٹولوٹین ترکیب کی مکمل رینج میں ایک مثالی محلول بناتی ہیں۔ 300 K پر خالص بینزین اور ٹولوین کے بخاراتی دباؤ بالترتیب
50.71 mm Hg
اور
32.06 mm Hg
ہیں۔ بخاراتی فیز میں بینزین کی مول کسر معلوم کیجیے اگر 80g بینزین کو 100g ٹولوین میں ملایا جاتا ہے۔
2.39 ہوا متعدد گیسوں کا آمیزہ ہے۔ ہوا کے اہم اجزا آکسیجن اور نائٹروجن ہیں جو 98K پر حجم کے اعتبار سے تقریباً % 20سے % 79تک ہیں۔ 10atm دباؤ پر پانی ہوا کے ساتھ توازنی حالت میں ہے۔ 298K پر اگر آکسیجن اور نائٹروجن کے لیے ہینری کے کلیہ کے مستقلے بالترتیب
3.30 × 107 mm
اور
6.5 × 107 mm
ہوں تو پانی میں ان گیسوں کی ترکیب کا حساب لگائیے۔
2.40 2.5 لیٹر پانی میں حل شدہ
(i = 2.47) CaCl2
کی مقدار کا تعین کیجیے
27°C پر ولوجی دباؤ 0.75atm ہے۔
2.41 25°C پر 2 لیٹر پانی میں 25 ملی گرام K2SO4 کو گھول کر محلول بنایا گیا ہے۔ اس محلول کا ولوجی دباؤ معلوم کیجیے۔ فرض کیجیے کہ یہ مکمل طور پر تحلیل ہوجاتا ہے۔
متن پر مبنی کچھ سوالوں کے جوابات
2.1 C6H6 = 15.28%, CCl4 = 84.72%
2.2
0.459, 0.541
2.3
0.024 M, 0.03 M
2.4 36.946g
2.5
1.5 mol kg–1, 1.45 mol L–1 0.0263
2.9
23.4 mm Hg
2.10 121.67g
2.11 5.077g
2.12 30.96Pa