Skip to content
12-Keemiya I(Chemistry I)-001

یونٹ 3

 برقی کیمیا ( Electro Chemistry)

مقاصد

اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
برق کیمیائی سیل کو بیان کر سکیں گے اور گیلونیک سیل و الیکٹرولائٹک سیل کے درمیان فرق کر سکیں۔
گیلونیک سیل کے EMF کی تحسیب کے لیے نیرنسٹ مساوات (Nernst Equation) کا استعمال کر سکیں گے اور سیل کے معیاری مضمر (Standard Potential) کی تعریف کر سکیں۔
آینی (الیکٹرولائٹنگ) اور الیکٹرانک ابعالیت کے درمیان تفریق کرسکیں۔
آینی محلولوں کی مزاحمیت (r)، ایصالیت (k) اور مولر ایصالیت (Am) کی تعریف بیان کر سکیں۔
سیل کے معیاری مضمر، سیل تعامل کی گیز توانائی اور اس کے توازن کے مابین تعلق قائم کرسکیں۔
الیکٹرولائٹک محلولوں کی ایصالیت کی پیمائش کے طریقوں کا بیان کر سکیں گے اور ان کی مولر ایصالیت کی تحسیب کر سکیں۔
محلولوں کی ایصالیت اور مولر ایصالیت میں ارتکاز کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کا جواز پیش کر سکیں گے اور A0 (صفر ارتکاز یا لامتناہی ڈائی لیوشن پر) کی تعریف بیان کر سکیں۔
کولراؤش کلیہ (Kohlraueh Law) کا نظریہ پیش کر سکیں گے اور اس کے استعمال سیکھ سکیں۔
برق پاشیدگی (Electrolysis) کے مقداری پہلو کو سمجھ سکیں۔
کچھ پرائمری اور سیکنڈری بیٹریوں اور ایندھن سیلوں کی تشکیل کا بیان کر سکیں۔
برق کیمیائی عمل کے طور پر تاکل (Corrosien) کی تشریح کر سکیں۔

کیمیائی تعاملات کا استعمال برقی توانائی پیدا کرنے میں کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس برقی توانائی کا استعمال ان کیمیائی تعاملات کی انجام دہی کے لیے کیا جاسکتا ہے جو خود بخود نہیں ہوپاتے ہیں۔ 

برق کیمیا (Electrochemistry) ازخود کیمیائی تعاملات میں خارج ہونے والی توانائی سے بجلی پیدا کرنے اور برقی توانائی کے غیر ازخود کیمیائی تبدیلیوں میں استعمال کا مطالعہ ہے۔ یہ موضوع عملی اور اصولی اعتبار سے اہم ہے۔ بہت ساری دھاتیں سوڈیم ہائڈروکسائڈ، کلورین، فلورین اور دیگر بہت سی کیمیائی اشیا برق کیمیائی میں برق کیمیائی طریقوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ بیٹریاں اور ایندھن سیل کیمیائی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کر دیتے ہیں اور متعدد آلات میں بڑے پیمانے پر استعمال میں لائے جاتے ہیں برق کیمیائی تعاملات توانائی بخش ہوتے ہیں اور ان سے بہت معمولی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا برق کیمیا کا مطالعہ کئی نئی تکنیکوں کی تخلیق کے لیے اہم ہے جو کہ ماحول دوست ہوں۔ خلیہ سے ہو کر دماغ تک حساس سگنلوں کی ترسیل اور اس کے برخلاف بھی نیز خلیوں کے مابین ترسیل کا مبدا برق کیمیا ہے۔ اس لحاظ سے برق کیمیا ایک بہت وسیع اور بین الکلیات(Interdisciplinary) مضمون ہے۔ اس اکائی میں ہم اس کے کچھ اہم ابتدائی پہلوؤں پر غور کریں گے۔

3.1 برق کیمیائی سیل (Electrochemical Cells)


گیارہویں جماعت کی اکائی 8 میں ہم ڈینیل سیل (Daniell Cell) کی بناوٹ اور اس کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں مطالعہ کر چکے ہیں (شکل 3.1)۔
(Electrochemical Cells)
pic 02
الیکٹران بہاؤ
کاپر
کرنٹ 
زنک
سالٹ برج
شکل 3.1: ڈینیل سیل جس کے الیکٹروڈ زنک اور کاپر کے بنے ہیں الیکٹروڈوں کو متعلقہ نمکوں میں ڈبایا گیا ہے۔

یہ سیل ریڈاکس تعامل کے دوران خارج ہونے والی کیمیائی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ جب
 Zn2+ اور Cu2+
آینوں کا ارتکاز ایک اکائی
 (1 mol dm–3)
 ہوتا ہے تو اس کا برقی مضمر V 1.1 ہوتا ہے۔ اس قسم کا آلہ گیلونیک یا وولٹائیک سیل کہلاتا ہے۔
(3.1) Zn(s) + Cu2+(aq) →Zn2+(aq)+Cu(s)
اگر مخالف بیرونی مضمر(Potential) لگایا جائے ]شکل 3.2(a)[ اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ تعامل اس وقت تک جاری رہتا ہے۔ جب تک کہ مقابل وولٹیج کی قدر 1.1 V نہیں ہو جاتی ]شکل 3.2 (b)[، تب تعامل مکمل طور پر رک جاتا ہے اور سیل میں برقی رو نہیں بہتی۔ بیرونی مضمر میں مزید اضافہ تعامل کو دوبارہ لیکن مخالف سمت میں شروع کر دیتا ہے ]شکل 3.2 (c)[۔ اب یہ ایک الیکٹرولائٹک سیل کی طرح کام کرتا ہے جو ایک غیر ازخود کیمیائی تعامل کو برقی توانائی کے استعمال سے حاصل کرنے کا آلہ ہے۔ دونوں ہی قسم کے سیل بہت اہم ہیں اور ہم اگلے صفحات میں ان کی کچھ اہم خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔
pic 04
کیتھوڈ 
کرنٹ
سالٹ برج
اینوڈ
جب Eext = 1.1 V ہے 
(i) الیکٹران یا برقی رو کا بہاؤ نہیں ہوتا 
(ii) کوئی کیمیائی تعامل نہیں۔
 جب Eext > 1.1 تو 
(i) الیکٹران Cu سے Zn کی طرف بہنے لگتے ہیں اور کرنٹ Zn سے Cu کی طرف بہتا ہے۔ 
(ii) زنک الیکٹروڈ پر جمع ہوجاتا ہے اور کاپر کا پر الیکٹروڈ پر تحلیل ہوجاتا ہے۔ 
pic 05
اینوڈ
کرنٹ
کیتھوڈ
شکل 3.2: سیل مضمر کے مقابل جب بیرونی وولٹیج Eext لگایا جاتا ہے تو سیل کام کرنے لگتا ہے۔

جب Eext < 1.1 Vہے
(i)
Zn اینوڈ پر تحلیل ہوجاتا ہے اور کاپر کیتھوڈ پر جمع ہوجاتا ہے۔ 
(ii)  الیکٹران Zn چھڑ سے Cu چھڑ کی طرف بہنے لگتے ہیں اور اس طرح کرنٹ Cu سے Zn کی طرف بہتا ہے۔ 

* ارتکاز کے بجائے ایکٹیوٹی کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ ارتکاز کے سیدھے تناسب میں ہوتی ہے۔ ڈائی لیوٹ محلولوں میں، ہر ارتکاز کے مساوی ہونی چاہیے۔ آپ اس کا تفصیلی مطعالہ اعلیٰ جماعتوں میں کریں گے۔


3.2 گیلوینک سیل (Galvanic Cells)

جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے (کلاس XI، اکائی 8) گیلوینک سیل ایک برق کیمیائی سیل ہے جو کہ ازخود ریڈاکس تعامل کی کیمیائی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ اس آلے میں ازخود ریڈاکس تعامل کی گیس توانائی (Gibbs Energy) برقی کام میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کا استعمال موٹر، ہیٹر، پنکھا، گیزر جیسے برقی آلات کو چلانے میں کیا جاسکتا ہے۔
ڈینیل سیل، جیسا کہ پہلے مذکور ہوا، ایک ایسا سیل ہے جس میں مندرجہ ذیل ریڈاکس تعامل ہوتا ہے۔
(Zn(s)+Cu2+(aq)→Zn2+(aq)+Cu(s
یہ تعامل دو نصف تعاملات کا اتحاد ہے جن کا مجموعہ کرنے پر کل تعامل حاصل ہوتا ہے۔
                  Cu2++2e- →Cu(s)
    (حویلی نصف تعامل) (3.2)
                     Zn (s)→Zn2++2e-
 (تکسیدی نصف تعامل) (3.3)
یہ تعاملات ڈینیل سیل کے دو مختلف حصوں میں انجام پذیر ہوتے ہیں۔ تحویل نصف تعامل کاپر الیکٹروڈ پر ہوتا ہے جبکہ تکسیدی نصف تعامل زنک الیکٹروڈ پر ہوتا ہے۔ سیل کے یہ دونوں حصے نصف سیل یا ریڈاکس جفتے (Redox Couple) کہلاتے ہیں۔ کاپر الیکٹروڈ کو تحویلی نصف سیل اور زنک الیکٹروڈ کو تکسید ی نصف سیل کہا جاسکتا ہے۔
ہم مختلف نصف سیلوں کے اتحاد سے ڈینیل سیل کے پیٹرن پر بے شمار گیلونیک سیل بناسکتے ہیں۔ ہر ایک نصف سیل ایک دھاتی الیکٹروڈ پر مشتمل ہوتاہے جو کہ ایک الیکٹرولائٹ میں ڈوبی رہتی ہے۔ دونوں نصف سیل ایک وولٹ میٹر اور ایک سوئچ سے دھاتی تار کے ذریعے بیرونی طور پر منسلک رہتے ہیں۔ دونوں نصف سیلوں کے الیکٹرولائٹ اندرونی طور پر ایک سالٹ برج (Salt bridge) کے ذریعے منسلک رہتے ہیں جیسا کہ شکل 3.1 میں دکھایا گیا ہے۔ بعض اوقات دونوں الیکٹروڈ ایک ہی الیکٹرولائٹ محلول میں ڈوبے رہتے ہیں اور اس طرح کے معاملات میں ہمیں سالٹ برج کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہر ایک الیکٹروڈ - الیکٹرولائٹ انٹرفیس پر دھاتی آینوں میں محلول سے دھاتی الیکٹروڈ پر جمع ہونے کا رجحان ہوتا ہے تاکہ اس پر مثبت چارج پیدا ہو سکے۔ ٹھیک اسی وقت الیکٹروڈ کے دھاتی ایٹموں میں یہ رجحان ہوتا ہے کہ وہ آینوں کی شکل میں محلول میں چلے جاتے ہیں اور الیکٹروڈ پر اپنے پیچھے الیکٹران چھوڑ آتے ہیں جس کی وجہ سے اس الیکٹروڈ پر منفی چارج آجاتا ہے۔ توازن کی حالت میں چارجوں کی علیحدگی ہو جاتی ہے اور دونوں تعاملات کی نوعیت پر انحصار کرتے ہوئے الیکٹروڈ پر محلول کی نسبت میں منفی یا مثبت چارج ہو سکتا ہے۔ الیکٹروڈ اور محلول کے درمیان ایک مضمر فرق پیدا ہو جاتا ہے جسے الیکٹروڈ مضمر (Electrode potential) کہتے ہیں۔ جب نصف سیل میں ملوث تمام اسپشیز (Species) کا ارتکاز ایک اکائی ہو جاتاہے تو الیکٹروڈ مضمر کو معیاری الیکٹروڈ مضمر (Standard electrode potential) کہا جاتا ہے۔ IUPAC کے مطابق معیاری تحویلی مضمر کو اب معیاری الیکٹروڈ مضمر کہا جاتا ہے۔ گیلونیک سیل میں وہ نصف سیل جس میں تکسید کا عمل ہوتا ہے اسے اینوڈ (Anode) کہتے ہیں اور اس کا مضمر محلول کی نسبت سے منفی ہوتا ہے۔ دوسرا نصف سیل جس میں تحویل کا عمل ہوتا ہے اسے کیتھوڈ (Cathode) کہا جاتا ہے اور اس کا مضمر محلول کی نسبت سے مثبت ہوتا ہے۔ اس طرح دونوں الیکٹروڈ کے درمیان ایک مضمر فرق ہوتا ہے اور جیسے ہی سوئچ آن ہوتا ہے، الیکٹران منفی الیکٹروڈ سے مثبت الیکٹروڈ کی طرف بہنے لگتے ہیں۔ کرنٹ کے بہاؤ کی سمت الیکٹران کے بہاؤ کی سمت کے برعکس ہوتی ہے۔
گیلونیک سیل کے دونوں الیکٹروڈ کے درمیان مضمر فرق سیل مضمر (Cell potential) کہلاتا ہے اور اس کی پیمائش وولٹ میں کی جاتی ہے۔ سیل مضمر، کیتھوڈ اور اینوڈ کے الیکٹروڈ مضمر (تحویلی مضمر) کا فرق ہوتا ہے۔ اسے سیل کا برقی محرک قوت (Cell electromotive force) یعنی emf کہتے ہیں۔ جب کہ سیل میں کوئی کرنٹ نہیں بہتا۔ اب یہ قابل قبول کنونش ہے کہ ایک گیلونیک سیل کو ظاہر کرتے وقت ہم اینوڈ کو بائیں طرف اور کیتھوڈ کو دائیں طرف لکھتے ہیں۔ ایک گیلونیک سیل کو عام طور سے دھات اور الیکٹرولائٹ کے درمیان ایک عمودی لائن کھینچ کر اور دو الیکٹرو لائٹ کو اگر وہ سالٹ برج سے منسلک ہیں تو دو عمودی لائن کھینچ کر ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کنونشن کے تحت سیل کا emf مثبت ہوتا ہے اور اسے دائیں طرف کے نصف سیل کے مضمر میں سے بائیں طرف کے نصف سیل کے مضمر کو گھٹا کر ظاہر کیا جاتا ہے۔
Ecell=Eright -Eleft
اسے مندرجہ ذیل مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے:
سیل تعامل
(3.4)   Cu (s)2 Ag+{aq}→Cu2+(aq)+2Ag(s)      
نصف سیل تعامل 
2Ag+ (aq) + 2e-→2Ag (s)
کیتھوڈ (تحویل):   (3.5)
Cu(s) → Cu2+(aq) +2e-
اینوڈ (تکسید):         (3.6)
یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ (3.5) اور (3.6) کے حاصل جمع سیل میں ہونے والے کل تعامل (3.4) کو ظاہر کرتا ہے اور سلور الیکروڈ کیتھوڈ کی طرح اور کاپر الیکٹروڈ اینوڈ کی طرح کام کرتا ہے۔ سیل کو مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔
Cu(s)|Cu2+(aq)||Ag+(aq)|Ag(s)
اور ہمارے پاس ہے۔ 
 (3.7)  Ecell = Eright - Eleft =E ag+IAg - ECu2+ICu

  3.2.1 الیکٹروڈ مضمرکی پیمائش
 (Measurement of Electrode Potential)

نصف سیل کے مضمر کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ ہم صرف دونوں نصف سیلوں کے مضمر فرق کی پیمائش کر سکتے ہیں جو کہ سیل کا emf ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی مرضی سے ایک الیکٹروڈ (نصف سیل) کے مضمر کا انتخاب کرلیں تو اس کی نسبت سے دوسرے کا مضمر معلوم کیا جاسکتا ہے۔ کنونشن کے مطابق نصف سیل جسے معیاری ہائڈروجن الیکٹروڈ کہتے ہیں (شکل 3.3) اور جسے
 Pt(s) | H2(g) | H+(aq) 
سے ظاہر کیا جاتا ہے، کا مندرجہ ذیل تعامل کے نظیری سبھی درجہئ حرارت پر صفر مضمر تفویض کیا جاتا ہے۔
H+(aq) + e- →1/2H2(g)
معیاری ہائڈروجن الیکٹروڈ پلیٹینم الیکٹروڈ پر مشتمل ہوتا ہے جس پر پلیٹینم بیلک کا استر چڑھا ہوتا ہے۔ الیکٹروڈ تیزابی محلول میں ڈوبی رہتی ہے اور اس پر خالص ہائڈروجن گیس کے بلبلے گزارے جاتے ہیں۔ ہائڈروجن کی تکسیدی اور تحویلی دونوں شکلیں اکائی ارتکاز پر برقرار رکھی جاتی ہیں (شکل3.3)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہائڈروجن گیس کا دباؤ 1bar اور محلول میں ہائڈروجن آین کا ارتکاز اکائی مولر ہوتا ہے۔ 
pic 11
H2(g) at 1 bar
1.00 M H+
پلیٹنم کے ورق پر پائوڈر پلیٹنم کی پرت
شکل 3.3 : معیاری ہائڈروجن الیکٹروڈ

298K پر سیل کا emf، معیاری ہائڈروجن الیکٹروڈ || دوسرا نصف سیل جسے معیاری ہائڈروجن الیکٹروڈ کو اینوڈ (حوالہ جاتی نصف سیل) اور دوسرے نصف سیل کو کیتھوڈ لے کر بنایا گیا ہے، دوسرے نصف سیل کا تحویلی مضمر ہوتا ہے۔ اگر دائیں طرف کے نصف سیل میں اسپشیز کی تحویلی اور تکسیدی شکلوں کے ارتکاز اکائی ہوں تو سیل مضمر دیتے ہوئے نصف سیل کے معیاری الیکٹروڈ مضمرEΘRکےمساوی ہوتا ہے ۔ 
EΘ = EΘR - EΘL
کیونکہ معیاری ہائڈروجن الیکٹروڈ کا EΘLصفر ہوتا ہے۔
EΘ = EΘR - 0 = EΘR
سیل کا ناپا گیا emp ہے
Pt(s) | H2(g,1bar) | H+(aq.1M) || Cu2+(aq.1M) | Cu
کے emf کی پیمائش 0.34 V ہے جو کہ مندرجہ ذیل نصف سیل تعامل کا معیاری مضمر بھی ہے۔
Cu2+(aq 1 M)+2e-→Cu(s)
اسی طرح مندرجہ ذیل سیل 
Pt(s) | H2(g,1bar) | H+(aq.1M) || Zn2+(aq.1M) | Zn
کے emf کی پیمائش
 –0.76 V 
ہے جو کہ مندرجہ ذیل نصف سیل تعامل کے معیاری مضمر کے نظیری ہے۔
Cu2+(aq q M)+2e-→Cu(s)

پہلی حالت میں معیاری الیکٹروڈ مضمر کی مثبت قدر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ+Hآینوں کے مقابلے میں +Cu2آینوں کی تحویل آسانی سے ہو جاتی ہے اس کا معکوس عمل نہیں ہو سکتا ہے۔ یعنی مذکورہ بالا معیاری حالات میں ہائڈروجن آین Cu کی تکسید نہیں کر سکتے ہیں (یا متبادل طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہائڈروجن گیس کاپر آینوں کی تحویل کر سکتی ہے)۔ Cu، HCl میں نہیں گھلتا ہے۔ نائٹرک ایسڈ میں نائٹریٹ آینوں کے ذریعے اس کی تکسید ہوتی ہے نہ کہ ہائڈروجن آینوں کے ذریعے۔ دوسری حالت میں معیاری الیکٹروڈ مضمر کی منفی قدر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہائڈروجن آین زنک کی تکسید کر سکتے ہیں (یا زنک ہائڈروجن آینوں کی تحویل کر سکتا ہے)۔
اس کنونشن کے ضمن میں، شکل 3.1 میں ڈینیل سیل کے لیے نصف تعامل کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے۔ 
بایاں الیکٹروڈ:
Zn (s) → Zn2+ (aq 1 M) + 2e-
دایاں الیکٹروڈ:
Cu2+(aq 1 M) + 2e- →Cu(s)
سیل کا کل تعامل مذکورہ بالا دونوں تعاملات کا حاصل جمع ہوتا ہے اور ہمیں مندرجہ ذیل تعامل حاصل ہوتا ہے۔
Zn(s) + Cu2+(aq)→ Zn2+ (aq) + Cu (s)
سیل کا emf
EΘcell = EΘR - EΘL
= 0.34 V - (- 0.76) V = 1.10 V

بعض اوقات پلیٹینم اور سونا جیسی دھاتیں غیر عامل (Inert) الیکٹروڈ کی شکل میں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تعامل میں حصہ نہیں لیتی ہیں لیکن تکسیدی یا تحویلی تعاملات اور الیکٹرانوں کے ایصال کے لیے اپنی سطح فراہم کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل نصف سیلوں میں Pt کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ہائڈروجن الیکٹروڈ
Pt(s) | H2 (g) | H+ (aq)
نصف سیل تعامل کے ساتھ
H+(aq) +e- → 1/2 H2 (g)
برومین الیکٹروڈ
Pt(s) | Br2 (aq) | Br- (aq)
نصف سیل تعامل کے ساتھ
1/2 Br2(aq) +e- →Br-(aq)
معیاری الیکٹروڈ مضمر بہت اہم ہیں اور ہم ان سے متعدد اہم اطلاعات حاصل کرسکتے ہیں۔ چند نصف سیل تحویلی تعاملات کے لیے معیاری الیکٹروڈ مضمر جدول 3.1 میں دیے گئے ہیں۔ اگر کسی الیکٹروڈ کا معیاری الیکٹروڈ مضمر صفر سے زیادہ ہے تو اس کی تحویل شدہ شکل ہائڈروجن گیس کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر معیاری الیکٹروڈ مضمر منفی ہے تو اسپشیز کی تحویل شدہ شکل کے مقابلے میں ہائڈروجن گیس زیادہ مستحکم ہوگی۔ یہ دیکھا جاسکتاہے کہ فلورین کا معیاری الیکٹروڈ مضمر جدول میں سب سے زیادہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فلورین گیس (F2) میں، فلورائڈ آینوں میں تحویل ہونے کا رجحان سب سے زیادہ ہوتا ہے لہٰذا فلورین گیس سب سے طاقتور تکسیدی ایجنٹ ہے اور فلورائڈ آین کمزور ترین تحویلی ایجنٹ ہیں۔ لیتھیم کا الیکٹروڈ مضمر سب سے کم ہے اس کا مطلب ہے کہ لیتھیم آین کمزور ترین تکسیدی ایجنٹ ہیں جبکہ لیتھیم دھات آبی محلولوں میں سب سے طاقتور تحویلی ایجنٹ ہے۔ یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ہم جدول 3.1 میں اوپر سے نیچے کی طرف چلتے ہیں تو معیاری الیکٹروڈ مضمر کم ہوتا جاتا ہے اور اس کمی کے ساتھ تعامل کے بائیں طرف کی اسپشیز کی تکسیدی استطاعت میں کمی آتی ہے اور دائیں طرف کی اسپشیز کی تحویلی استطاعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ محلولوں کی pH حل پذیر حاصل ضرب، توازن مستقلہ اور دیگر حرحرکیاتی خصوصیات کے تعین نیز پوٹینشو میٹرک ٹائٹریشن (Potentio metric titration) میں برق کیمیائی سیلوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

متن پر مبنی سوالاتS

3.1 نظام Mg+ | Mg کے معیاری الیکٹروڈ مضمر کا تعین آپ کس طرح کریں گے؟
3.2 کیا آپ زنک کے برتن میں کاپر سلفیٹ کا محلول رکھ سکتے ہیں؟
3.3 معیاری الیکٹروڈ مضمر جدول کا معائنہ کیجیے اور کوئی ایسی تین اشیا کے نام بتائیے جو مناسب حالات میں فیرس آینوں کے تکسید کر سکتی ہیں۔

3.3 نیرنسٹ مساوات 

(Nernst Equation)

        گذشتہ سیکشن میں ہم نے جانا ہے کہ الیکٹروڈ تعامل میں ملوث تمام اسپشیز کا ارتکاز اکائی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ ہمیشہ درست ہو۔ نیرنسٹ نے دکھایا کہ الیکٹروڈ تعامل 
(Mn+(aq)+ne-→M(s
کے لیے معیاری ہائڈروجن الیکٹروڈ کی نسبت سے کسی بھی ارتکاز پر الیکٹرو ڈ مضمر مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جاسکتا ہے:
E(Mn+/M) =E(Mn+ /M) -RT/nF In (M)/(Mn+)
لیکن ٹھوس M کا ارتکاز اکائی لیا جاتا ہے، تب 
(3.8) E(Mn+/M) =E(Mn+ /M) -RT/nF In (M)/(Mn+)
E(Mn+/M)
کی تعریف پہلے ہی بیان کی جاچکی ہے۔ R گیس مستقلہ
(8.314 JK–1 mol–1)
ہے۔ F فیراڈ مستقلہ
 (96487 C mol–1)
 ہے۔ T کیلون میں درجہ حرارت ہے اور [+Mn] اسپیشیز +Mnکا ارتکاز ہے۔
ڈینٹل سیل میں،+Cu2اور +Zn2 آینوں کے کسی بھی ارتکاز کے لئے ہم لکھتے ہیں۔
کیتھوڈ کے لئے:
(3.9) E(Cu2+ / Cu) = E (Cu2+ / Cu) - RT/2F In 1/ (Cu2+ (aq)
اینوڈ کے لیے :
(3.10) E(Zn2+ /Zn) = E (Zn 2+ /Zn) - RT/2f In 1/(Zn2+(aq))
سیل مضمر،
Ecell = E (Cu2+ / Cu) - E (Zn2+ / Zn)
=EΘ(Cu2+ /Cu) -RT/2F In 1/ (Cu2+ (aq)) - E (Zn2+ / Zn) + RT/2F In 1/(Zn2+ (aq))
= E(Cu2+ /Cu)-(Zn2+ / Zn) RT/2F In 1/ (Cu2+ (aq)) In 1/(Zn2+ (aq))
(3.11) Ecell = Ecell - RT/2F In (Zn2+)/(Cu2+)

یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ
 E(cell)
 کا انحصار+Cu2 اور +Zn2دونوں آینوں پر ہوتا ہے۔ یہ +Cu2  آینوں کا ارتکاز بڑھانے پر بڑھتا ہے اور +Znآینوں کا ارتکاز بڑھانے پر گھٹتا ہے۔
مساوات (3.11) میں طبعی لوگارتم کو اساس 10 میں تبدیل کرنے پر اور R، F کی قدروں کو رکھنے پر اور T = 298 K پر یہ مساوات ہو جاتی ہے:
(3.12) Ecell = Ecell - 0.059/2 log (Zn2+)/(Cu2+)

ہمیں دونوں الیکٹروڈ کے لیے الیکٹرانوں کی یکساں تعداد (n) کا استعمال کرنا چاہئے اس طرح مندرجہ ذیل سیل 

جدول 3.1  298 K پر معیاری الیکٹروڈ مضمر

آینی آبی اسپیشیز کی شکل میں موجود ہیں اور پانی رقیق حالت میں ہے؛ ٹھوس اور گیس اشیا کو s اور g سے دکھایا گیا ہے۔


EΘ/V (تحویلی شکل → -ne + تکسیدی ) تعامل
2.87
1.81
1.78
1.51
1.40
1.36
1.33
1.23
1.23
1.09
0.97
0.92
0.80
0.77
0.68
0.54
0.52
0.34
0.22
0.10
0.00
-0.13
-0.14
-0.25
-0.44
-0.74
-0.76
-0.83
-1.66
-2.36
-2.71
-2.87
-2.93
-3.05
→2f-
→C02+
→2H2O
→Mn2+ + 4H2O
→Au(s)
→2Cl-
→2Cr3+ + 7H2O
→2H2O
→Mn2+ + 2H2O
→2Br-
→NO(g) + 2H2O
→Hg22+
→Ag(s)
→Fe2+
→H2O2
→2l-
→Cu(s)
→Cu(s)
→Ag(s) + Cl-
→Ag(s) + Br-
→H2(g)
→Pb(s)
→Sn(s)
→Ni(s)
→Fe(s)
→Cr(s)
→Zn(s)
→H2(g) + 2OH- (aq)
→Al(s)
→Mg(s)
→Na(s)
→Ca(s)
→K(s)
Li(s)

F2(g) +2e-
C03+ +e-
H2O2+ 2H+ + 2e-
MnO4- + 8H+ + 5e-
Au3+ 3e-
Cl2(g) 2e-
Cr2O72- + 14H+ + 6e-
O2 (g) + 4H+ + 4e-
MnO2(s) + 4H+ + 2e-
Br2 + 2e-
       No3- +4H+ 3e-
2Hg2+ + 2e-
Ag+ + 2e-
      F33+ + e-
O2(g) + 2H+ + 2e-
I2 + 2e-
Cu+ + e-
Cu2+ + 2e-
AgCl(s) + e-
  AgBr(s) + e-
2H+ + 2e-
Pb2+ +2e-
Sn2+ + 2e-
Ni2+ + 2e-
Fe2+ + 2e-
Cr3+ + 3e-
Zn2+ + 2e-
2H2O + 2e-
Al3+ + 3e-
Mg2+ + 2e-
Na+ +e-
Ca2+ +2e-
K+ + e-
Li+ + e-

تحویلی ایجنٹ کی گھٹتی ہوئی شدت
تکسیدی ایجنٹ کی بڑھتی ہوئی شدت
منفی EΘ کا مطلب ہے کہ ریڈاکس جفتہ H+/H2 جفتہ کے مقابلے طاقتور تحویلی ایجنٹ ہے۔
مثبت EΘ کا مطلب ہے کہ ریڈاکس جفتہ H+/H2 جفتہ کے مقابلے کمزور تحویلی ایجنٹ ہے۔
Ni(s) | Ni2+(aq) || Ag+(aq) | Ag
کے لیے سیل تعامل مندرجہ ذیل ہے۔
Ni(s) + 2Ag + (aq) → Ni 2+ (aq) +2Ag(s)
نیرنسٹ مساوات مندرجہ ذیل طریقے سے لکھی جاسکتی ہے:
E(cell) = E(cell) - RT /2F (Ni2+)/(Ag2+)
اور ایک عمومی برق کیمیائی تعامل
aA + bB →n- cC +dD
کے لیے نیرنسٹ مساوات کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے۔
E(cell) = E(cell) = E(cell) - RT/nF InQ
(3.13) =E(cell) -RT/nF In (C)c(D)d/(A)a(B)b 

مثال 3.1            اس سیل کو ظاہر کیجیے جس میں مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے:  
Mg(s) +2Ag+(0.001 M)→Mg2+(0.130 M) + 2Ag(s)
اگر E(cell) = 3.17 V ہے تو اس کا E(cell) معلوم کیجئے۔
حل :   سیل کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے
Mg/Mg2+(0.130 M) || Ag+(0.001 M ) |Ag
E(cell) = E(cell) - RT /2F in (Mg2+)/(Ag+)2
=3.17V - 0.059V/2 log 0.130/(0.0001)2
=3.17V - 0.12 V = 2.96 V

3.3.1 نیرنسٹ مساوات سے توازن مستقلہ 

(Equilibrium Constant from Nernst Equation)


اگر ڈینیل سیل (شکل 3.1) میں سرکٹ بند کر دیا جائے تو ہم نوٹ کرتے ہیں کہ مندرجہ ذیل تعامل 
(3.1) Zn(s) + Cu2+ (aq) →Zn2+ (aq) + Cu(s)
ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ+Zn2 آینوں کے ارتکاز میں اضافہ ہوتا جاتا ہے جبکہ+Cu2 آینوں کا ارتکاز کم ہو جاتا ہے۔ اس وقت وولٹ میٹر میں سیل کاوولٹیج گھٹتا جاتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد ہم دیکھیں گے کہ +Cu2 اور +Zn2  آینوں کے ارتکاز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اس وقت وولٹ میٹر کی ریڈنگ صفر ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توازن قائم ہو چکا ہے۔ اس صورت میں نیرنسٹ مساوات کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے:
E(cell) = 0 =E(cell) - 2.303RT/2F log(Zn2+) /(Cu2+)
or E(cell) = 2.303RT/2F log(Zn2+) /(Cu2+)
لیکن توازن کی حالت میں
(Zn2+) /(Cu2+)= Kc تعامل 3.1  کے لیے
اور T = 298 K پر مذکورہ بالا مساوات کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے
E(cell) =0.050 V/ 2 log Kc = 1.1 V (E(cell) =1.1 V) 
log Kc = (1.1 V x 2)/0.059 V = 37.288
Kc = 2 1037 at 298K
عمومی طور پر
(3.14) E(cell) = 2.303 RT/nF log Kc

اس طرح مساوات (3.14) اس سیل کے معیاری الیکٹروڈ مضمر اور توازن مستقلہ کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے جس میں یہ تعامل ہو رہا ہے۔ اس طرح تعامل کے لیے توازن مستقلہ کی تحسیب جسے کسی اور طریقے سے نہیں ناپا جاسکتا سیل کے نظیری -E قدر سے کی جاسکتی ہے۔
مثال 3.2        مندرجہ ذیل تعامل کے لیے توازن مستقلہ کی تحسیب کیجئے۔
Cu(s) + 2Ag+ (aq) → Cu2+ (aq) +2Ag(s)
E(cell) = 0.46 V
حل:
E(cell) = 0.059V/2 log Kc = 0.46 V
log Kc = 0.46 V x 2/ 0,059 V = 15.6
log Kc = 3.92 1015

3.3.2 برق کیمیائی سیل اور تعامل کی گبس توانائی 

(Electrochemical Cell and Gibbs Energy of the Reaction)

ایک سیکنڈ میں کیا گیا برقی کام گزرنے والے کل چارج اور برقی مضمر کے حاصل ضرب کے مساوی ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی گیلونیک سیل سے زیادہ سے زیادہ کام لینا چاہتے ہیں تو چارج کو رجعتی طریقے سے گزارنا ہوگا۔ گیلونیک سیل کے ذریعہ کیا گیا رجعتی کام (Reversible work) اس کی گبس توانائی میں ہونے والی کمی کے برابر ہوتا ہے۔ اگر E سیل کا emf ہے اور nF گزرنے والے چارج کی مقدار ہے نیز ΔrG تعامل کی گبس توانائی ہے تو
 (3.15) ΔrG = -nFE(cell)

یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ E(cell) ایک جامع پیرامیٹر ہے لیکن DrG ایک شدید حرحرکیاتی (Thermodynamic) خصوصیت ہے اور اس کی قدر n پر منحصر ہوتی ہے۔ اس طرح اگر ہم تعامل کو لکھتے ہیں:

(3.1) Zn(s) + Cu2+ (aq) →Zn2+ (aq) + Cu(s)
ΔrG = -nFE(cell)
لیکن جب ہم تعامل کو یوں لکھتے ہیں
2Zn(s) + Cu2+ (aq) →2Zn2+ (aq) + 2Cu(s)
ΔrG = -2nFE(cell)
اگر تعامل کرنے والی تمام اسپیشیز کا ارتکاز ایک اکائی ہے تب
E(cell) = E(cell)
اور ہم پاتے ہیں کہ 
(3.16) ΔrGΘ = -nFE(cell)
اس طرح
EΘ(cell)
کی پیمائش سے ہم ایک اہم حرحرکیاتی مقدار ΔrGΘ حاصل کرسکتے ہیں جسے تعامل کی معیاری گیس توانائی کہتے ہیں۔
ΔrGΘ = -nFE(cell)

مثال 3.3       ڈینیل سیل کا معیاری الیکٹروڈ مضمر 1.1 V ہے۔ تعامل کے لیے معیاری گیس توانائی کی تحسیب کیجئے۔
Zn(s) + Cu2+ (aq) →Zn2+ (aq) + Cu(s)

حل:
ΔrGΘ = -nFE(cell)
مندرجہ بالا مساوات میں n کی قدر 2 ہے
 F = 96487 C mol–1 اور E(cell) = 1.1 V 
لہٰذا
ΔrGΘ = –2 × 1.1 V × 96487 C mol–1
= –21227 J mol–1
= –21.227 kJ mol–1

متن پر مبنی سوالات

3.4 ہائڈروجن الیکٹروڈ کا مضمر معلوم کیجئے جو اسے محلول کے تماس میں ہے جس کا 10 pH ہے۔
3.5 اس سیل کا emf معلوم کیجئے جس میں مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے۔
Ni(s)+ 2Ag+(0.002 M) → Ni2+ (0.160 M) +2 Ag(s)

دیا ہوا ہے کہ E(cell) = 1.05 V
3.6 ایک سیل میں مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے:
2Fe3+(aq) +2l- (aq) →2Fe2+(aq) +I2(s)
 298K پر سیل کے لیے
EΘ(cell) = 0.236 V
سیل تعامل کی معیاری گیس توانائی اور توازن مستقلہ معلوم کیجیے۔

3.4 ایلکٹرولک محلولوں کی ایصالیت   (Conductance of Electrolytic Solutions)

الیکٹرولائٹک محلولوں میں برقی ایصالیت پر غور کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ اصطلاحات کی تعریف بیان کردی جائے۔ برقی مزاحمت کو علامت R سے ظاہر کیا جاتا ہے اور اس کی پیمائش اوم(Ω) میں کی جاتی ہے جو کہ SI اکائیوں میں(kg m2)/(s3 A2) کے مساوی ہے۔ اسے وہیٹ اسٹون برج (Wheatstone bridge) کی مدد سے ناپا جاسکتا ہے جس کا مطالعہ آپ فزکس میں کر چکے ہیں۔ کسی بھی شے کی برقی مزاحمت اس کی لمبائی l کے سیدھے تناسب میں ہوتی ہے اور اس کے کراس سیکشن کے رقبہ کے معکوس تناسب میں ہوتی ہے۔
(3.17) R∝I/A یا R = ρ I/A
تناسب کا مستقلہ ρ (یونانی، rho) مزاحمیت (Resistivity) کہلاتا ہے اس کی SI اکائی اوم میٹر (Ωm) ہے اور اس کا ذیلی صنف اوم سینٹی میٹر (Ω cm) بھی عام طور سے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ IUPAC نے اصطلاح مزاحمیت کو نوعی مزاحمیت (Specific resistance) پر فوقیت دی ہے لہٰذا باقی کتاب میں ہم مزاحمیت اصطلاح کا ہی استعمال کریں گے۔ طبیعی اعتبار سے کسی شے کی مزاحمیت وہ مزاحمت ہے جبکہ شے کی لمبائی 1 میٹر اور اس کے کراس سیکشن کا رقبہ ایک مربع میٹر ہے۔ یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ 
 1Ω cm = 0.01 Ω m یا Ω m = 100 Ω cm
مزاحمت R کا معکوس ایصالیت G کہلاتا ہے اور اس طرح 
(3.18) G=1/R = A/ρI = K A/l
ایصالیت کی SI اکائی سیمنس (Siemens) ہے جسے علامت 'S' سے ظاہر کیا جاتا ہے اور یہ ohm–1 (جسے mho بھی کہتے ہیں) کے مساوی ہوتی ہے۔ مزاحمیت کا معکوس ایصالیت کہلاتا ہے اور اسے علامت k (یونانی، Kappa) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ IUPAC نے اصطلاح ایصالیت کی نوعی ایصالیت پر فوقیت دی ہے۔ لہٰذا ہم آئندہ کتاب میں صرف ایصالیت اصطلاح کا ہی استعمال کریں گے۔ ایصالیت کی SI اکائیاں Sm–1 ہیں، لیکن عام طور سے k کو Sm–1 میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ Sm–1 میں کسی شے کی ایصالیت اس کی وہ موصلیت (Conductance) ہے جب اس کی لمبائی 1 میٹر اور کراس سیکشن کا رقبہ 1m2 ہو۔ یہ بھی نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ 1S m–1 = 100 Sm–1۔
جدول 3.2 سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ایصالیت کی قدر ایک وسیع رینج میں تبدیل ہوتی ہے اور اس کا انحصار شے کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ اس کا انحصار اس درجہئ حرارت اور دباؤ پر بھی ہوتا ہے جس پر پیمائش کی جاتی ہے۔ ایصالیت کی بنیاد پر مادوں کی درجہ بندی موصل (Conductor)، حاجز (Insulator) اور نیم موصل (Semiconductor) کے تحت کی گئی ہے۔ دھاتیں اور ان کی بھرت (Alloys) کی ایصالیت بہت زیادہ ہوتی ہے اور انہیں موصل کہاجاتاہے۔ کاربن بلیک اور گریفائٹ جیسی غیر دھاتیں اور کچھ نامیاتی پالیمر* بھی برقی موصل ہیں۔ کانچ، سیریمک جیسی اشیا کی ایصالیت بہت کم ہوتی ہے اس لیے انہیں حاجز کہا جاتا ہے۔ سلیکان، Doped silicon اور گیلیم آرسینائڈ جیسی اشیا کی ایصالیت موصل اور حاجز کے درمیان ہوتی ہے اور یہ نیم موصل کہلاتے ہیں اور اہم الیکٹرانک مادے ہیں۔ کچھ مادے سپر کنڈکٹر (Super Conductor) کہلاتے ہیں، تعریف کے مطابق ان کی مزاحمیت صفر ہوتی ہے۔ پہلے صرف دھاتیں اور ان کی بھرت ہی بہت کم درجہئ حرارت (0 سے 15 K) پر سپر کنڈکٹر کے طور پر جانی جاتی تھیں لیکن آج کل متعدد سپریمک مادے اور آمیزش آکسائڈ بھی دریافت ہو چکے ہیں جو 150 K کے اونچے درجہئ حرارت پر سپرکنڈکٹر ہوتے ہیں۔

جدول 3.2: 298.15 K پر کچھ منتخب مادوں کے لیے ایصالیت کی قدریں 


مادہ ایصالیت Sm–1  مادہ ایصالیت Sm–1 
موصل آبی محلول
سوڈیم 2.1103 خالص پانی
کاپر 5.9103 0.1 M HCl 3.5103
سلفر 6.2103 0.01 M KCl 3.91
گولڈ 4.5103 0.01 M NaCl 0.14
آئرن 1.0103 0.1 M HAc 0.12
گریفائٹ 1.210 0.01 M HAc 0.047
حاجز نیم موصل 0.016
کانچ 1.010–16 CuO 1.10–7
ٹیفلان 1.010–18 Si
Ge
1.510–2
2.0

دھاتوں میں برقی ایصالیت دھاتی یا الیکٹرانی ایصالیت کہلاتی ہے جو کہ الیکٹرانوں کی حرکت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ الیکٹرانی ایصالیت کا انحصار مندرجہ ذیل پر ہوتا ہے۔
(i) دھات کی نوعیت اور اس کی ساخت
(ii) فی ایٹم گرفت الیکٹرانوں کی تعداد
(iii) درجہئ حرارت (یہ درجہئ حرارت میں اضافہ کے ساتھ گھٹتی ہے)
جب الیکٹران ایک سرے سے داخل ہوتے ہیں اور دوسرے سرے سے گزر جاتے ہیں تو دھاتی موصل کی ترکیب میں تبدیلی نہیں آتی۔ نیم موصلوں میں ایصالیت کا میکانزم زیادہ پیچیدہ ہے۔
ہم پہلے ہی جانتے ہیں (جماعت XI، اکائی 7) کہ بہت زیادہ خالص پانی میں بھی ہائڈروجن اور ہائڈراکسل آینوں کی بہت قلیل مقدار
(~10–7 M)
 موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی ایصالیت بہت کم ہوتی ہے
 (3.5 × 10–5 S m–1

* 1977 میں MacDiarmid، Heeger اور Shirakawa نے دریافت کیا کہ جب ایسیٹلین گیس کو آیوڈین کے بخارات کی زد میں رکھا جاتا ہے تو اس کی پالیمر سازی کے نتیجے میں ایک پالیمر تشکیل پاتا ہے جسے پالی ایسیٹیلس کہتے ہیں۔ یہ دھاتی چمک اور ایصالیت جیسی خصوصیات جیسے دھاتی چمک اورموصلیت کو حاصل کرلیتا ہے۔ اس وقت سے متعدد نامیاتی ایصالی پالیمر بنائے جانے لگے جیسے کہ پالی اینیلین، پالی پائررول اور پالی تھایوفین۔ یہ نامیاتی پولیمر جن کی خصوصیات دھات جیسی ہوتی ہیں، مکمل طور پرکاربن، ہائڈروجن اور بعض اوقات نائٹروجن آکسیجن یا سلفرسے مل کر بنے ہونے کی وجہ سے عام دھاتوں کے مقابلے بہت زیادہ ہلکی ہوتی ہیں۔ اور کم وزنی بیٹریاں بنانے میں استعمال ہوسکتی ہیں۔اس کے علاوہ ان میں پولیمر جیسی میکنیکل خصوصیات  جیسے کہ لچک ہوتی ہے تاکہ ان سے نرانسسٹر جیسے الیکٹرانک آلات بنائے جاسکیں جوپلاسٹک شیٹ کی طرح موڑے جاسکتے ہیں۔ ایصالی پالیمر کی کھوج کے لیے MacDiarmid، Heeger  اور Shirakawa کو 2000 میں کیمسٹری کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔


جب پانی میں الیکٹرولائٹ ملائے جاتے ہیں تو وہ اپنے آین محلول کو فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی ایصالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ محلول میں آینوں کی موجودگی کی وجہ سے برقی ایصالیت الیکٹرولائٹک یا آینی ایصالیت کہلاتی ہے۔ الیکٹرولائٹک (آینی) ایصالیت کاانحصار مندرجہ ذیل پر ہوتا ہے۔
(i) ملائے گئے الیکٹرولائٹ کی فطرت
(ii) پیدا ہونے والے آینوں کا سائز اور ان کی تحلیل
(iii) محلل کی فطرت اور اس کی لزوجت (Viscosity) 
(iv) الیکٹرولائٹ کا ارتکاز
(v) درجہئ حرارت (درجہئ حرارت میں اضافہ کے ساتھ یہ بڑھتی ہے)

 3.4.1 آئنی محلولوں کی ایصالیت کی پیمائش 

(Measurement of the Conductivity of Ionic Solutions)


ہم جانتے ہیں کہ نامعلوم مزاحمت کو وہیٹ اسٹون برج کی مدد سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ پھر بھی ایک آینی محلول کی مزاحمت کی پیمائش میں ہمیں دو مسئلے درپیش ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ
 DC  (Direct Current) گزارنے پر محلول کی ترکیب تبدیل ہو جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ محلول کو ٹھوس موصل یا دھاتی تار جیسے برج سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے مسئلے کو پاور کے AC  (Alternating Current) مآخذ کا استعمال کرکے حل کیا جاتا ہے۔ دوسرے مسئلے کو ایک مخصوص ڈیزائن کیے ہوئے برتن (ایصالیت سیل) کا استعمال کرکے حل کیا جاتا ہے۔ یہ سیل کئی ڈیزائنوں میں دستیاب ہیں۔ ان میں سے دو سادہ ڈیزائن شکل 3.4 میں دکھائے گئے ہیں۔
pic 40

منسلک کرنے والے تار
 پلیٹینائزذ Pt  لیکٹروڈ

شکل 3.4: دو مختلف قسم کے ایصالی سیل

بنیادی طور پر یہ پلیٹینم کی دو الیکٹروڈوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن پر پلیٹینم بلیک کا لیپ چڑھا ہوتا ہے (مہین دھاتی Pt الیکٹروڈ پر برق کیمیائی طور پر چڑھایا جاتا ہے)۔ ان کے کراس سیکشن کا رقبہ 'A' ہوتا ہے اور یہ ایک دوسرے سے 'l' فاصلے پر ہوتے ہیں۔ اس طرح ان الیکٹروڈ کے درمیان کا محلول ایک 'l' لمبائی اور 'A' کراس سیکشن کے رقبہ والا کالم ہوتا ہے۔ محلول کے اس کالم کی مزاحمت کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
(3.17) R = ρ I/A =I/KA

مقدارl/A کو سیل مستقلہ کہتے ہیں اور اسے علامت G* سے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ الیکٹروڈوں کے درمیان کے فاصلے اور ان کے کراس سیکشن کے رقبے پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کے ابعاد length–1 ہے اور اگر l اور A معلوم ہے تو اس کی تحسیب کی جاسکتی ہے۔ l اور A کی پیمائش میں نہ صرف سہولت کا فقدان ہے بلکہ اس میں عدم یقینی بھی ہے۔ سیل مستقلہ کو عام طور سے پہلے سے معلوم ایصالیت والے محلول پر مشتمل سیل کی مزاحمت کی پیمائش کرکے معلوم کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم عام طور سے KCl محلول کا استعمال کرتے ہیں جس کی ایصالیت مختلف ارتکاز اور درجہئ ہائے حرارت پر بالکل صحیح صحیح معلوم ہے (جدول 3.3)۔ سیل مستقلہ G* کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
(3.18) G* = l/A = Rt

جدول 3.3 298.15 K پر KCl محلول کی ایصالیت اور مولر ایصالیت 

مولر ایصالیت ایصالیت مولاریت / ارتکاز
S m2 mol–1 S cm2 mol–1 S m–1 S cm–1 mol m–3 mol L–1
111.310–4 111.3 11.13 0.1113 1000 1.000
129.010–4 129.0 1.29 0.0129 100.0 0.100
141.010–4 141.0 0.141 0.00141 10.00 0.010

pic 44
شناس 
ایصالی سیل
شکل 3.5:کسی الیکٹرولائٹ کے محلول کی مزاحمت کی پیمائش کے لیے انتظام

ایک مرتبہ سیل مستقلہ معلوم ہونے پر ہم اس کا استعمال کسی بھی محلول کی مزاحمت یا ایصالیت کی پیمائش میں کر سکتے ہیں۔ مزاحمت کی پیمائش کا سیٹ اب شکل 3.5 میں دکھایا گیا ہے۔
اس میں دو مزاحمتیں R3 اور R4 ایک متغیر مزاحمت R1 اور نامعلوم مزاحمت R2 کا ایصالی سیل ہوتا ہے۔ وہیٹ اسٹون کا ایک اہتزاز کار O (ایک AC مآخذ جس کی سرعت 550 سے 5000 چکر فی سیکنڈ) سے سپلائی دی جاتی ہے۔ P ایک مناسب شناس (Detector) (ایک ہیڈفون یا کوئی اور الیکٹرانک آلہ) ہے اور جب شناس میں کوئی برقی رو نہیں بہتی ہے تو برج متوازن ہوتا ہے۔ ان حالات میں 
(3.19) نا معلوم مزاحمت R2 = R1 R4/ R3

آج کل سستے ایصالی میٹر دستیاب ہیں جو کہ ایصالی سیل میں محلول کی مزاحمیت یا ایصالیت کو سیدھے ہی پڑھ لیتے ہیں۔ سیل مستقلہ اور محلول کی مزاحمت معلوم ہونے پر محلول کی ایصالیت کا تعین مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعے کیا جاتاہے۔
(3.20) K= سیل مستقلہ/R = G*/R
کسی دیے ہوئے درجہئ حرارت پر اور ایک ہی محلل میں مختلف الیکٹرولائٹ کے محلول کی ایصالیت مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ہے ان آینوں کا سائز اور چارج جس میں الیکٹرولائٹ تحلیل ہوتے ہیں، آینوں کا ارتکاز اور مضمر ڈھلان (Potential gradient)۔ لہٰذا یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ طبعی اعتبار سے بامعنی مقدار کی تعریف بیان کی جائے جسے مولر ایصالیت (Molar conductivity) کہتے ہیں۔ اسے علامت m∧  (یونانی، Lambda)سے ظاہر کرتے ہیں۔ محلول کی ایصالیت سے اس کا تعلق مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
(3.21) مولر ایصالیت =∧m = K/C 
مندرجہ بالا مساوات میں، اگر k کو Sm–1 میں ظاہر کیا جائے اور ارتکاز c کو mol m–3 میں ظاہر کیا جائے تو m∧  کی اکائیاں S cm2 mol–1 ہوں گی۔ یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ 
(mol/L) مولاریت
 1 mol m–3 = 1000 (L/m3) ×
اور اسی طرح 
m (Sm2 mol-1) = K(S m-1)/1000 L m-3 x molarity (mol L-1

اگر ہم k کی اکائی S cm–1 لیں اور ارتکاز کی اکائی mol cm–3 لیں تو m∧  کی اکائی S cm2 mol–1  ہوگی۔ مندرجہ ذیل مساوات کی مدد سے اس کی تحسیب کی جاسکتی ہے۔
∧m (Sm2 mol-1) = K(S m-1)x1000 (cm3 / L)/ molarity (mol /L)
ادب میں دونوں طرح کی اکائیوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے سے ان کا تعلق مندرجہ ذیل ہے۔
 1 S m2 mol–1 = 104 S cm2 mol–1
یا
  1 S cm2 mol–1 = 10–4 S cm2 mol–1

مثال 3.4  
 0.1 mol L–1
ارتکاز والے KCl محلول سے بھرے ہوئے ایک ایصالیت سیل کی مزاحمت
 100 Ω
ہے۔اگر
 0.02 mol L–1
 ارتکاز کا KCl محلول بھرنے پر اس سیل کی مزاحمت
 520 Ω
ہو تو
 0.02 mol L–1
 ارتکاز والے KCl محلول کی ایصالیت اور مولر ایصالیت معلوم کیجئے۔
0.1 mol L–1
ارتکاز والے KCl محلول کی ایصالیت 1.29 S/m ہے۔

حل
سیل مستقلہ مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ دیا جاتا ہے:
Cell constant = G* = conductivity × resistance
= 1.29 S/m × 100 Ω = 129m–1 = 1.29 cm–1
0.02 mol–1 
پوٹاشیم کلورائڈ محلول کی ایصالیت=   سیل مستقلہ/ مزاحمت
G*/R = 129 m-1/520 Ω = 0.248 Sm-1
 = 0.2 mol L-1
ارتکاز
= 1000 x 0.02 mol m-3
= 20 mol m-3
= ∧m = K/C
مولرایصالیت
= 248x 10-3 Sm -1/20 mol m-3 = 124 x 10-4 S m 2 mol -1 
متبادل طور پر
k= 1.29 cm -1 / 520 Ω = 0.248 x10-2 S cm-1
m = k1000 cm3 L -1 molarity -1
= 0.248x10-2 S cm -1 x 1000 cm3 L-1/0.02 mol L -1
= 124 S cm2 mol -1

مثال 3.5  
 1 cm
قطر اور
50 cm
 لمبائی کے
 0.05 mol L–1
 والے NaOH محلول کی برقی مزاحمت
 5.55 × 103
 ہے۔ اس کی مزاحمیت، ایصالیت اور مولر ایصالیت معلوم کیجئے۔

حل 
A= π r2 == 3.14 x 0.52 cm2 = 0.785 cm2 = 0.785 x 10-4 m2
l = 50 cm = 0.5 m
R = ρl/A or ρ = RA/l = 55.5 x 103 Ω x 0.785 cm2/ 50 cm
= 87.135 Ω cm
 ایصالیت= K 1/ρ = (1/87.135) S cm-2
= 0.01148 S cm-1
 مولر ایصالیتAm = Kx 1000/c cm3 L-1
= 0.01148 S cm-1 x 1000 cm3 L-1/ 0.05 mol L-1
= 229.6 S cm2 mol L-1
اگر ہم cm کے بجائے m میں مختلف مقداروں کی قدریں معلوم کرنا چاہتے ہیں تو 
ρ = RA/l
=55.5 x 103 Ω x 0.785x10-4 m2/0.5 m = 87.135 10-2 Ω m 
=k = 1/ρ = 100/87.135 Ω m = 1/1485 m-1
m = k/c = 1.148 S m-1/50 mol m-3 = 229.610-4 s m4 mol-1
       

3.4.2 ارتکاز کے ساتھ ایصالیت اور مولر ایصالیت میں تبدیلی 

 (Variation of Conductivity and Molar Conductivity with Concentration)


الیکٹرولائٹ کے ارتکاز میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ایصالیت اور مولر ایصالیت دونوں میں تبدیلی آتی ہے۔ کمزور اور طاقتور دونوں قسم کے الیکٹرولائٹ کا ارتکاز کم ہونے پر ایصالیت میں ہمیشہ کمی آتی ہے۔ اس کی تشریح اس حقیقت کے ساتھ کی جاسکتی ہے کہ ڈائی لیوشن کی حالت میں برقی رو لے جانے والے آینوں کی تعداد فی اکائی حجم گھٹ جاتی ہے۔ کسی بھی ارتکاز پر کسی محلول کی ایصالیت اکائی حجم والے اس محلول کا Conductance ہے جو اکائی فاصلے پر واقع اور اکائی کراس سیکشن کے رقبہ والی پلیٹینم الیکٹروڈوں کے درمیان موجود ہے۔ یہ مندرجہ ذیل مساوات سے واضح ہے:
G = KA/l = K
 (A اور l دونوں کی قدر اکائی ہے اور اپنی مناسب اکائیوں m یا cm میں ہیں) 
دیے ہوئے ارتکاز پر ایک محلول کی مولر ایصالیت V حجم والے اس محلول کا Conductance ہے جس میں 1 مول الیکٹرولائٹ A رقبہ والی دو ایسی الیکٹروڈوں کے درمیان رکھا ہے جو ایک دوسرے سے اکائی فاصلے پر واقع ہیں۔ لہٰذا 
Am = KA/l = K
کیونکہ 1 = l اور ( 1 مول الیکٹرولائٹ کا حجم) A= V
(3.22) Am = kV
ارتکاز میں کمی کے ساتھ ساتھ مولر ایصالیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ 1 مول الیکٹرولائٹ والے محلول کا کل حجم بھی بڑھتا ہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ ڈائی لیوشن پر k میں کمی حجم میں اضافہ کی بھرپائی کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے۔ طبیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ دیے ہوئے ارتکاز پر Am کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ اس الیکٹرولائٹک محلول کا inductance ہے جو کہ ایصالیت سیل کے ایسے الیکٹروڈوں کے درمیان رکھا ہوا ہے جو ایک دوسرے سے اکائی فاصلے پر ہیں مگر ان کے کراس سیکشن کا رقبہ اتنا زیادہ ہے کہ اس میں ایک مول الیکٹرولائٹ کے محلول کا مناسب حجم آسکتا ہے۔ جب ارتکاز صفر ہو جاتا ہے تو مولر ایصالیت محدود مولر ایصالیت (Limting molar conductivity) کہلاتی ہے اور اسے Åmسے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ارتکاز کے ساتھ Am میں تبدیلی طاقتور اور کمزور الیکٹرولائٹ کے لیے علیحدہ علیحدہ ہوتی ہے (شکل 3.6)۔
pic 54
c1/2 / (mol/L)1/2
شکل 3.6: آبی محلولوں میں ایسیٹیک ایسڈ (کمزور الیکٹرولائٹ) اور پوٹاشیم کلورائڈ (الیکٹرولائٹ) کے لیے مولر ایصالیت قوی بالمقابل½C۔ 

طاقتور الیکٹرولائٹ (Strong Electrolytes)

طاقتور الیکٹرولائٹ کے لیے A ڈائی لیوشن کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور اسے مندرجہ ذیل مساوات کی مدد سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔
(3.23) Am = Aºm - A1/2c
یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر Am اور½Cکے درمیان گراف کھینچا جائے (شکل 3.12) تو ہمیںAºmکے مساوی intercept اور A– کے مساوی سلوپ کا مستقیم خط حاصل ہوتا ہے۔ دئے گئے محلل اور درجہئ حرارت پرمستقلہ 'A' کی قدر الیکٹرولائٹ کی قسم یعنی محلول میں الیکٹرولائٹ کی تحلیل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کیٹ آین اور این آین کے چارجوں پر منحصر ہوتی ہے۔ لہٰذا
 NaCl، CaCl2، MgSO4 
بالترتیب 1 – 1، 2 – 1 اور 2 – 2 الیکٹرولائٹ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک ہی قسم کے سبھی الیکٹرولائٹ کے لیے 'A' کی قدر یکساں ہوتی ہے۔

298 k پر مختلف ارتکاز پر KCl محلول کی مولر ایصالیت مندرجہ ذیل ہیں:
c/mol L–1    ∧m/S cm2 mol–1
148.61    0.000198
148.29 0.000309
147.81 0.000521
147.09 0.000989
دکھائیے کہ m∧  اور c1/2 کے درمیان کھینچا گیا گراف ایک سیدھی لائن ہے۔ KCl کے لیےAºm� اور A کی قدریں متعین کیجئے۔
ارتکاز کا جذرالمربع لینے پرہمیں حاصل ہوتا ہے۔
 حل
c1/2/(mol L–1 )1/2    ∧m/S cm2mol–1 
148.61 0.01407
148.29 0.01758
147.81 0.02283
147.09 0.03145
m∧
 (y-محور) اور
 c1/2
(x-محور) کا گراف شکل 3.7 میں دکھایا گیا ہے یہ دیکھا جاسکتا یہ کہ یہ تقریباً ایک سیدھی لائن ہے۔
 intercept  (c1/2 = 0) 
سے ہم پاتے ہیں کہ
m = 150.0 S cm2 mol-1 اور
A =  -slope = 87.46 S cm2 mol-1 / (mol / L-1)1/2

1

∧m (S cm2 mol -1
c½/(mol/L)½
شکل 3.7: ½c.کے بالمقابل   m∧ کا تنوع 

کولراؤش نے بہت سے طاقتور الیکٹرولائٹ کے لیےA°mکی قدروں کی جانچ کی اور کچھ باقاعدگیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس نے نوٹ کیا کہ الیکٹرولائٹ NaX اور KX کے لیےA°mمیں فرق تقریباً مستقل رہتا ہے۔ مثال کے طور پر 298K پر
∧ºm (KCl)-∧ºm (NaCl) = ∧ºm(KBr) - ∧ºm(Nabr) 
=∧ºm(Ki) -∧ºm(Nal)˜– 23.4 S cm2 mol-1
اور اس طرح یہ پایا گیا کہ 
∧ºm(Nabr) - ∧ºm (NaCl) = ∧ºm(KBr) - ∧ºm (KCl) ˜– 1.8 S cm2 mol-1
مذکورہ بالا مشاہدات کی بنیاد پر انھوں نے آینوں کی آمادانہ حجرت کے لیے کولراؤش کلیہ وضع کیا۔ اس کلیہ کے مطابق ایک الیکٹرولائٹ کی محدود مولر ایصالیت الیکٹرولائٹ کے کیٹ آین اور این آین کے ذاتی تعاون کے حاصل جمع کے طور پر ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اگر
λºcl- اور λºNa+
الترتیب سوڈیم اور کلورائڈ آینوں کی محدود مولر ایصالیت ہیں تو سوڈیم کلورائڈ کی محدود مولر ایصالیت کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے۔
(3.24) Δºm(NCl) = λºNa+ + λºCl-
عمومی طور پر، اگر ایک الیکٹرولائٹ تحلیل ہو کر V+ کیٹ آین اور V– این آین دیتا ہے تو اس کی محدود مولر ایصالیت کو مندرجہ ذیل مساوات سے ظاہر کرتے ہیں۔
(3.25) ∧ºm = V+λº++ V-λº-
یہاں
λº-اور λº+
 بالترتیب کیٹ آین اور این آین کی محدودی مولر ایصالیت ہیں۔ 298 K پر کچھ کیٹ آین اور این آینوں کے لیےA0ی قدریں جدول 3.4 میں دی گئی ہیں۔

جدول 3.4: 298 K پر پانی میں کچھ آینوں کی محدودی مولر ایصالیت


Ion λº/(S cm2 mol–1) Ion λº/(S cm2 mol–1)
H+ 349.6 OH 199.1
Na+ 50.1 Cl– 76.3
K+ 73.5 Br 78.1
Ca2+ 119.0 Br 40.9
Mg22+ 106.0 SO2-4 160.0

کمزور الیکٹرولائٹ

ایسیٹک ایسڈ جیسے کمزور الیکٹرولائٹ کا اونچے ارتکاز پر درجہئ تحلیل (Degree of dissociation) کم ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے الیکٹرولائٹ کی Am میں ڈائی لیوشن کے ساتھ تبدیلی درجہئ تحلیل میں اضافہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ نتیجتاً ایک مول الیکٹرولائٹ پر مشتمل محلول کے کل حجم میں آینوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ ان معاملات میں ڈائی لیوشن پر بالخصوص کم ارتکاز کے نزدیک m∧ میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے (شکل 3.12)۔ لہٰذا m∧کو m∧کے Extrapolation کے ذریعہ صفر ارتکاز تک حاصل نہیں کیاجاسکتا۔ لامتناہی ڈائی لیوشن (یعنی ارتکاز C → 0) پر الیکٹرولائٹ مکمل طور سے تحلیل ہو جاتا ہے (a = 1)۔ لیکن اتنے کم ارتکاز پر محلول کی ایصالیت بھی اتنی کم ہو جاتی ہے اس کی بالکل صحیح پیمائش نہیں کی جاسکتی، لہٰذا کمزور الیکٹرولائٹ کے لئے Aºmکو کولراؤش کے آینوں کے آزادانہ حجرت کے کلیہ کا استعمال کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے (مثال 3.8)۔ کسی بھی ارتکاز C پر اگر تحلیل کا درجہ a ہے تواسے ارتکاز C پر مولر ایصالیت Am اور محدودی مولر ایصالیتAºmکی نسبت کے قریب ترین مانا جاسکتا ہے۔ اس طرح
(3.26) a= Am/Aºm
لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسیٹک ایسڈ (کلاس XI اکائی 7 ) جیسے کمزور الیکٹرولائٹ کے لیے
Ka = ca2/(1-a) = cA2m/Aº2m (1-Am/Aºm = cA2m/Aºm(Aºm -Am)

کولراؤش کلیہ کے استعمال (Applications of Kohlraush Law)

آینوں کی آزادانہ حجرت سے متعلق کولراؤش کلیہ کا استعمال کرکے کسی بھی الیکٹرولائٹ کے لیے انفرادی آینوں کے 
Aºm سے λº
کی تحسیب ممکن ہے۔ اس کے علاوہ کمزور الیکٹرولائٹ جیسے ایسیٹک ایسڈ کے لیے اس کے تحلیلی مستقلہ (Dissociation constant) کا تعین بھی ممکن ہے اگر ہمیں دیے ہوئے ارتکاز
c پر Aºm اور Amمعلوم ہیں۔

جدول 3.4 میں دیے گئے اعداد و شمار کی مدد سے CaCl2 اور MgSO4 کے لیے Aºm�� کی تحسیب کیجیے۔
 حل 
کولرائوش کلیہ سے ہمیں معلوم ہے کہ
m(CaCl2) = λCa2+ 2λºCl = 119.0 S cm2 mol-1 + 2(76.3) S cm2 mol-1
= (119.0 + 152.6) S cm2 mol-1
=271.6 S cm2 mol-1
m (MgSO4) = λºMg2+ + λºSO2-4 = 106.6 S cm2 mol-1 + 160.0 S cm2 mol-1
= 266 S cm2 mol-1

مثال 3.8 

NaCl، HCl اور NaAc کے لیے Aºm��کی قدر میں بالترتیب 126.4، 425.9 اور
 91.0 S cm2 mol-1 
ہیں۔ HAc کے لیے Aº کی تحسیب کیجیے۔
حل
λºm(HAc) = λºH+ + λºAc- = λºH+ + λº Cl- + λº Ac- +λº Na+ -λºCl- -λºNa+
=Aºm(HCl) + Aºm(NaAc) - Aºm(NaCl)
= (425.9 + 91.0 - 126.4) S cm2 mol-1
= 390.5 S cm2 mol-1

مثال 3.9
 0.001028 mol L-1 
ایسیٹک ایسڈ کی ایصالیت
 4.95 10-5 S cm-1 
ہے۔ اگر ایسیٹک ایسڈ کے لیے Amº کی قدر 390.5
 S cm2 mol-1 
ہے تو اس کا تحلیلی مستقلہ معلوم کیجیے۔
 
حل
Am = K/c = 4.95x10-5 S cm-1/0.001028 mol L-1 x 1000 cm3/L = 48.15 S cm3 mol-1
a= K/c = 4.95 x10-5 S cm-1/0.001028 mol L-1 x 1000 cm3/L = 0.1233
k = ca2/(1-a) = 0.001028 mol L-1 x (0.1233)2/1 - 0.1233 = 1.78 10-5 mol L-1

متن پر مبنی سوالات

3.7 ڈائی لیوشن کے ساتھ محلول کی ایصالیت کیوں گھٹتی ہے؟
3.8 پانی کے لیے �m کی قدر معلوم کرنے کا طریقہ تجویز کیجیے۔
3.9
0.025 mol L–1
 میتھائک ایسڈ کی مولر ایصالیت
 461.1 S cm2 mol–1
 ہے۔ درجۂ تحلیل اور تحلیلی مستقلہ معلوم کیجیے۔ دیا ہے
 λº (H+)  349.6 S cm2 mol–1
λº (HCOO-= 54.6 S cm2 mol-1 اور �

3.5 الیکٹرولائٹک سیل اور الیکٹرولسس

(Electrolytic Cells and Electrolysis)


ایک الیکٹرولائٹک سیل میں کیمیائی تعامل کرانے کے لیے وولٹیج کا بیرونی ماخذ بروئے کارلایا جاتاہے۔ کیمیائی صنعتوں اور تجربہ گاہ میں برق کیمیائی عملوں کی بہت اہمیت ہے۔ ایک سادہ الیکٹرولائٹک سیل میں تانبہ کی دو پٹیاں (Strips) کاپر سلفیٹ کے آبی محلول میں ڈوبی رہتی ہیں۔ اگر دونوں الیکٹروڈوں پر DC وولٹیج لگایا جاتا ہے تو Cu2+ آین کیتھوڈ پر ڈسچارج ہو جاتے ہیں اور مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے۔
(3.28) Cu2+ (aq) + 2e- → Cu(s)
کاپر دھات کیتھوڈ پر جمع ہوجاتی ہے۔ اینوڈ پر مندرجہ ذیل تعامل کے نتیجے میں کاپر Cu2+ آینوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
(3.29) Cu (s)→Cu2+(s) + 2e- 

اس طرح کاپر اینوڈ پر حل (تکسید) ہو جاتا ہے اور کیتھوڈ پر جمع (تحویل)ہو جاتی ہے۔ یہ اس صنعتی عمل کی بنیاد ہے جس کے ذریعہ غیر خالص کاپر کو بہت زیادہ خالص کاپر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ غیر خالص کاپر کی اینوڈ بنائی جاتی ہے جو کہ کرنٹ گزارنے پر حل ہو جاتی ہے اور خالص کاپر کیتھوڈ پر جمع ہو جاتا ہے۔ Na، Mg، Al جیسی دھاتیں بڑے پیمانے پر ان کے متعلقہ کیٹ آینوں کے برقی کیمیائی پروڈکشن کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں کیونکہ اس مقصد کے لیے کوئی مناسب تحویلی ایجنٹ دستیاب نہیں ہے۔
سوڈیم اور میگنیشیم دھاتوں کو ان کے گداخت شدہ کلورائڈوں (Fused chlorides) کی برق پاشیدگی (Electrolysis) کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے اور ایلومینیم کو کرایولائٹ کی موجودگی میں ایلومینیم آکسائڈ کی برق پاشیدگی سے حاصل کیا جاتا ہے (کلس XII، اکائی 6)۔

الیکٹرولسس کا مقداری پہلو (Quantitative Aspects of Electrolysis)

مائکل فیراڈے وہ پہلا سائنس داں تھا جس نے الیکٹرولسس کے مقداری پہلو کا بیان کیا۔ فیراڈے نے اپنے نتائج کو 1833-34 میں شائع کیا جنھیں فیراڈے کے الیکٹرولسس کے کلیہ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) پہلا کلیہ: کرنٹ کے ذریعے کسی بھی الیکٹروڈ پر ہونے والے کیمیائی تعامل کی مقدار الیکٹرولائٹ (محلول یا گداخت) سے گزرنے والے کرنٹ کی مقدار کے سیدھے تناسب میں ہوتی ہے۔
(ii) دوسرا کلیہ: الیکٹرولائٹک محلول سے گزرنے والے کرنٹ کی یکساں مقدار کے نتیجے میں خارج ہونے والی مختلف اشیا کی مقداریں ان کے Chemical equivalent weights (دھات کی ایٹمی کمیت کو کیٹ آینوں کی تحویل کرنے والے الیکٹرانوں کی تعداد سے تقسیم کرنے پر) کے متناسب ہوتی ہے۔
فیراڈے کے دور میں مستقل کرنٹ کا ذریعہ دستیاب نہیں تھا۔ ایک عام طریقہ یہ تھا کہ ایک کولومیٹر (Coulometer) (ایک معیاری الیکٹرولائٹک سیل) کا استعمال کرکے جمع ہونے والی یا خرچ ہونے والی دھات (عام طور سے کاپر یا سلور) کی مقدار سے کرنٹ کی مقدارکا تعین کیا جاتا ہے۔ کولومیٹر حالانکہ اب متروک ہو چکے ہیں اور اب ہمارے پاس مستقل کرنٹ (I) کا ذریعہ موجود ہے۔ گزرنے والی بجلی کی مقدار مندرجہ ذیل تعلق کی مدد سے معلوم کی جاسکتی ہے:
Q = It
Q کو لمب میں ہے جبکہ I ایمپیر اور t سیکنڈ میں ہوں۔
تکسید یا تحویل کے لیے درکار بجلی (یا چارج) کی مقدار الیکٹروڈ تعامل کی تناسب پیمائی (Stoichometry) پر منحصر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل تعامل 
(3.30) Ag+(aq) + e- → Ag(s)

میں ایک ممول سلور آینوں کی تحویل کے لیے ایک مول الیکٹرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ایک الیکٹران پر
1.6021 × 10–19
چارج ہوتا ہے۔
لہٰذا، ایک مول الیکٹرانوں پر کل چارج ہوگا:
Na x 1.6021 x 10-19 C = 6.02 x 1023 mol-1 x 1.6021 x 10-19
C = 96487 C mol-1
بجلی کی یہ مقدار فیراڈے (Faraday) کہلاتی ہے اور اسے علامت F سے ظاہر کرتے ہیں۔ لگ بھگ تحسیب کے لیے ہم
I F ˜– 96500 C mol-1 
کا استعمال کرتے ہیں الیکٹروڈ تعاملات
(3.31) Mg2+(I) + 2e- → Mg(s)
(3.32) Al3+ (I) + 3e-  AI(s) 
کے لیے یہ واضح ہے کہ ایک مول +Mg2 اور+Al3کے لیے ہمیں بالترتیب 2 مول الیکٹران
(2F)،
3 مول الیکٹران (3F) درکار ہوں گے۔ الیکٹرولسس کے دوران الیکٹرولائٹک سیل میں گزرنے والا چارج کرنٹ (ایمپیر میں) اور وقت (سیکنڈ میں) کے حاصل ضرب کے برابر ہوتا ہے۔ صنعتی پیمانے پر دھاتوں کی پیداوار میں 50,000 ایمپیر تک کے کرنٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ0.518F فی سیکنڈ کے مساوی ہے۔

مثال 3.10

CuSO4 کے محلول کا 1.5 A کرنٹ کی مدد سے 10 منٹ تک الیکٹرولسس کیاگیا۔ کیتھوڈ پر جمع ہونے والے کاپر کی کمیت معلوم کیجئے۔

حل

t = 600 s  چارج   =  کرنٹ  ×  وقت  =  1.5 A × 600 S = 900 C

تعامل

(Cu²+(aq) + 2e– = Cu(s
کے مطابق 1 مول یا 63 گرام Cu کو جمع کرنے کے لیے ہمیں 2F یا 2 × 96487 درکار ہوں گے۔
900 C کے لیے جمع ہونے والے کاپر کی کمیت
= (63 g mol-1 x 900 C) / (2 c 964877 C mol-1 ) = 0.2938 g

الیکٹرولسس ماحصلات کا (Products of Electolysis)

الیکٹرولسس ماحصلات کا انحصار الیکٹروڈ کی قسم اور اس شے کی فطرت پر ہوتا ہے جس کا الیکٹرولسس کیا جاتا ہے۔ اگر الیکٹروڈ وغیرہ عامل (Inert) ہے (یعنی پلیٹینم یا گولڈ کی) تو یہ کیمیائی تعامل میں حصہ نہیں لیتی اور الیکٹرانو ں کے لیے صرف مآخذ یا سنک (Sink) کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کے برعکس اگر الیکٹروڈ تعامل پذیر ہے تو یہ الیکٹروڈ تعامل میں حصہ لیتی ہے۔ اس لیے الیکٹرولسس کے ماحصلات تعامل پذیر اور غیر عام الیکٹروڈ کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ الیکٹرولسس کے ماحصلات کا انحصار الیکٹرولائٹک سیل میں موجود تکسیدی اور تحویلی اور تحویلی اسپشیز اور ان کے معیاری الیکٹروڈ مضمر پر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ برقی کیمیائی عمل حالانکہ ممکن ہیں لیکن اتنے سست ہوتے ہیں کہ کم وولٹیج پر انجام پذیر ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے اور اضافی وولٹیج (Overpotential) درکار ہوتا ہے۔ جو کہ ان عملوں کے واقع ہوئے کو اور مشکل بنادیتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ہم پگھلے ہوئے NaCl کا استعمال کرتے ہیں تو الیکٹرولسس کے ماحصلات سوڈیم دھات اور Cl2 گیس ہوں گے۔ یہاں پر ہمارے پاس صرف ایک کیٹ آین (Na+) ہے جس کیتھوڈ پر تحویل ہو جاتی ہے
 (Na+ + e → Na)

 اور ایک این آین (Cl–) ہے جس کی اینوڈ پر تکسید ہو جاتی ہے 
(Cl →1/2 Cl2e-)
آبی سوڈیم کلورائڈ کے الیکٹرولسس کے دوران پیدا ہونے والے ماحصلات
NaOH, Cl2 اور H2 آین نیز محلل H2O
کے سالمات بھی موجود ہوتے ہیں۔
کیتھوڈ پر مندرجہ ذیل تحویل تعاملات کے مابین مسابقت ہوتی ہے:
NaH+ (aq) + e- → Na (s)  E(cell) = - 2.71 V
H+ (aq) + e- → 1/2 H2 (g) E(cell) - 0.00V
کیونکہ زیادہEΘ والے تعامل کو فوقیت حاصل ہے لہٰذا کیتھوڈ پر مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے۔
(3.33) H+ (aq) + e- → 1/2 H2 (g)
لیکن H2O کی تحلیل کے نتیجے میں
H+(aq)
 پیدا ہوتے ہیں۔
(3.34) H2O(1) → H+ (aq) + OH- (aq)

اس طرح کیتھوڈ پر ہونے والا نیٹ تعامل (3.33) اور (3.34) کے حاصل جمع کے طور پر لکھا جاسکتا ہے۔
(3.35) H2O(1)+ e-  → 1/2H2+ (g) + OH-
اینوڈ پر مندرجہ ذیل تکسیدی تعاملات ممکن ہیں۔
(3.36) Cl- (aq) →1/2 Cl2 (g) + e-  E(cell) = - 1.36 V
(3.37) 2H2 O(I) → O2 (g) + 4H+ (aq)   E(cell) = - 1.23 V
یہاں کم EΘ والے تعامل کو فوقیت حاصل ہے اس لیے پانی کی تکسید کو
 Cl(aq)
 پر سبق حاصل ہونی چاہیے۔ تاہم آکسیجن کے زائد مضمر (Overpotential) کی وجہ سے تعامل (3.36) کو سبقت حاصل ہے۔ اس طرح نیٹ تعامل مندرجہ ذیل ہوگا۔
NaCl(aq) H2O→ Na + (aq) + Cl-(aq)
کیتھوڈ : H2O(l) +e- →1/2 H2 (g) + OH- (aq)
اینوڈ : Cl-(aq)→1/2Cl2(g) +e-

نیٹ تعامل

NaCl(aq) + H2O(I) → Na+ (aq) + CH- (aq) +1/2H2(g) + 1/2Cl2 (g)

ارتکاز کے اثرات کی وجہ سے معیاری الیکٹروڈ مضمر کی جگہ نیر نسٹ مساوات (Eq 3.8) میں دیے گئے الیکٹروڈ مضمر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سلفیورک ایسڈ کے الیکٹرولسس کے دوران اینوڈ پر مندرجہ ذیل تعامل ممکن ہے۔
 (3.38) 2H2O(l) →O2(g) +4H+ (aq)+ 4e-  E(cell) = - 1.23 V
(3.39) 2SO2-4(aq)→S2O2-8(aq) + 2e-  E(cell) = - 1.96 V
ڈائی لیوٹ سلفیورک ایسڈ کے لیے تعامل (3.38) کو سبقت حاصل ہے لیکن H2SO4 کے اونچے ارتکاز پر تعامل (3.39) کو سبقت حاصل ہوگی۔

متن پر مبنی سوالات

3.10 اگر کسی دھاتی تار میں 0.5 ایمپیر کا کرنٹ 2 گھنٹے تک گزرتا ہے تو تار میں گزرنے والے الیکٹرانوں کی تعداد معلوم کیجیے؟
3.11 ان دھاتوں کی فہرست تجویز کیجیے جنہیں الیکٹرولائٹک طریقے سے حاصل کیا جاتا ہے۔
3.12 تعامل
Cr2O2-7 + 14H++6e- →Cr3+ +8H2O 
پر غور کیجیے۔
ایک مول
 Cr2O2-7
 کی تحویل کے لیے کتنی بجلی (کولمب میں) درکار ہوگی؟

3.6بیٹریاں(Batteries)

کوئی بھی بیٹری (دراصل اس میں ایک یا زیادہ سیل سلسلہ وار منسلک ہوتے ہیں) یا سیل جس کا استعمال ہم برقی توانائی کے مآخذ کے طور پر کرتے ہیں، بنیادی طور پر ایک گیلولیک سیل ہے جس میں ریڈاکس تعامل کی کیمیائی توانائی برقی توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بیٹری کے عملی استعمال کے لیے اسے ہلکا Compact ہونا چاہیے۔ نیز اسے استعمال کرتے وقت اس کے وولٹیج میں زیادہ تبدیلی نہیں آنی چاہئے۔ بیٹریاں عام طور سے دو قسم کی ہوتی ہیں۔

3.6.1 پرائمری بیٹریاں 

(Primary Bateries)

PH-24
شکل 3.8 :تجارتی خشک سیل زنک کے برتن میں گریفائٹ (کاربن) کیتھوڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ برتن اینوڈ کا کام کرتا ہے 


کاربن چھڑ(کیتھود)
زنک کی پیالی(اینوڈ)
MnO2 + carbon black + NH4Cl paste

پرائمری بیٹریوں میں تعامل صرف ایک مرتبہ ہوتا یہ اور کچھ وقت تک استعمال ہونے کے بعد بیٹری کام کرنا بند کردیتی ہے اور اسے دوبارہ استعمال میں نہیں لایا جاسکتا اس بیٹری کی سب سے عام مثال خشک سیل ہے (اس کے موجد کے نام پر اسے لیکانشے سیل کے نام سے جانا جاتا ہے) جس کا استعمال عام طور سے ٹرانسسٹر اور گھڑیوں میں کیا جاتا ہے۔ سیل ایک زنک کے برتن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ اینوڈ کی طرح کام کرتا ہے۔ کاربن گریفائڈ کی چھڑ جو کہ کاربن اور مینگنیزڈائی آکسائڈ کے پاؤڈر سے گھری رہتی ہے کیتھوڈ کے طور پر کام کرتی ہے (شکل 3.8)۔ الیکٹروڈوں کے درمیان کی جگہ میں امونیم کلورائڈ (NH4Cl) اور زنک کلورائڈ (ZnCl2) کا مرطوب پیسٹ بھرا رہتاہے۔ الیکٹروڈ تعاملات حالانکہ پیچیدہ ہیں لیکن تقریباً مندرجہ ذیل طریقے سے لکھے جاسکتے ہیں۔
اینوڈ : Zn(s) → Zn2+ + 2e-
 کیتھوڈ  : MnO2 + NH+4 = e- → MnO(OH) + NH3
PH-26
کل تعامل مندرجہ زیل ہے: 
اینوڈکیپ
اینوڈ
سیل کین
کیتھوڈ 
سیپر یٹر
گیس کٹ
شکل 3.9: مرکری سیل عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ reducing agent  اور oxidising agent مرکری (ii)آکسائڈ ہے۔

Zn(Hg) + HgO(s) ® ZnO(s) + Hg(l)
سیل کا مضمر تقریباً 1.35 V ہوتا ہے اور سیل کے کام کرنے کی پوری مدت میں مستقل رہتا ہے کیونکہ مکمل تعامل میں کوئی بھی آین محلول کی شکل میں نہیں ہے جس سے اس کا ارتکاز سیل کے کام کرنے کے دوران تبدیل ہوسکے۔

3.6.2 سیکنڈری بیٹریاں 

(Secondary Batteries)

سیکنڈری بیٹری کو استعمال کے بعد مخالف سمت میں کرنٹ گزار کر دوبارہ چارج کرکے پھر سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ ایک اچھا سیکنڈری سیل متعدد مرتبہ ڈسچارجنگ اور چارجنگ سائیکل سے گزرسکتا ہے۔ سب سے اہم سیکنڈری سیل لیڈ ذخیرہ بیٹری (Lead storage battery) ہے (شکل 3.10) جن کا استعمال عام طور سے آٹو موبائل اور انورٹر میں کیا جاتا ہے۔ یہ لیڈ اینوڈ اور لیڈ آکسائڈ (PbO2) سے بھرے ہوئے لیڈ گرڈ (Lead grid) کے کیتھوڈ پر مشتمل ہوتی ہے۔%38سلفیورک ایسڈ کا محلول الیکٹرولائٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ جب بیٹری استعمال میں ہوتی یہ تو مندرجہ ذیل تعاملات ہوتے ہیں۔

اینوڈ : Pb(s) + SO2-4 (aq) →PbSO4(s) - 2e

 کیتھوڈ :PbO2(s) + SO2-4 (aq) +4 H+(aq) + 2e- →PbSo4 (s) + 2H2O(l)

اس طرح کیتھوڈ اور اینوڈ تعاملات کو ملاکر مکمل سیل تعامل مندرجہ ذیل ہے:

Pb(s) + PbO2 (s) + 2H2SO4 (aq) →2PbSO4SO4(s) + 2H2O(l)

بیٹری کو چارج کرنے کے دوران تعامل الٹ جاتا ہے نیز اینوڈ اور کیتھوڈ بالترتیب Pb اور PbO2 میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
PH-32
کیتھوڈ
اینوڈ
منفی پلیٹس سیسہ کی گرد اسپنجی سیسہ پر ہیں
مثبت پلیٹس سیسہ کی گرڈ PbO2 سے پر ہیں
38٪ سلفیورک ایسڈ محلول
شکل 3.10:   لیڈ ذخیرہ بیٹری 

PH-33
مثبت پلیٹ
 سیپریٹر
منفی پلیٹ

شکل 3.11 : دوبارہ چارج ہوجانے والا نکل۔ کیڈمیم سیل جوکہ جیلی رول انتظام کے اندر ہے اور رطوب سوڈیم یا پوٹاشیم ہائڈروکسائڈ میں بھیگی ہوئی سطح  کے ذریعہ علیحدہ رہتی ہے۔

نکل - کیڈ میم سیل ایک اور اہم سیکنڈری سیل ہے (شکل 3.11)۔ جس کے کام کرنے کی مدت لیڈ ذخیرہ بیٹری کے مقابلے زیادہ ہے لیکن اسے بنانے میں خرچ زیادہ آتاہے۔ ہم سیل کے کام کرنے کے طریقے نیز چارجنگ اور ڈسچارجنگ کے دوران الیکٹروڈ تعاملات کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ ڈسچارج کے دوران کل تعامل مندرجہ ذیل ہے:
Cd(s) + 2Ni(OH)3(s) →CdO(s) + 2Ni(OH)2 (s) +H2 O(l)

3.7 ایندھن سیل

(Fuel Cells)

تھرمل پلانٹ سے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ بہت زیادہ کارگر نہیں ہے اور یہ آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس قسم کے پلانٹ میں فوسل ایندھنوں (کوئلہ، گیس یا تیل) کی کیمیائی توانائی (احتراق کی حرارت) کا استعمال پہلے پانی کو اونچے دبائو کی بھاپ میں تبدیل کرنے میں کیا جاتا ہے اور پھر اس کا استعمال ٹربائن کو گھما کر بجلی پیدا کرنے میں کیا جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ گیلونیک سیل کیمیائی توانائی کو سیدھے ہی برقی توانائی میں تبدیل کر دیتا ہے اور یہ زیادہ کارگر بھی ہے۔ اب ایسے سیل بنانا ممکن ہے جن میں متعاملوں (Reactants) کو مسلسل الیکٹروڈوں پر فراہم کراکر ماحصلات کو الیکٹرولائٹ کمپارٹمنٹ سے مسلسل طور پر ہٹایا جاتا ہے۔ ایسے گیلونیک سیل جن میں ہائڈروجن، میتھین، میتھنال وغیرہ ایندھنوں کی حرارت احتراق کو سیدھے ہی برقی توانائی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ایندھن سیل (Fuel cell) کہلاتے ہیں۔
PH-35
کیتھوڈ +
H2O
_اینوڈ
آبی لیکٹرولائٹ
O2
H2
شکل 3.12 : ایندھن سیل جوکہ H2 اور O2 کا استعمال کرکے بجلی پیدا کرتے ہیں

سب سے کامیاب ایندھن سیل میں ہائڈروجن اور آکسیجن کا استعمال کرکے پانی بنانے کے تعامل کا استعمال کیا جاتا ہے (شکل 3.12)۔ اس سیل کا استعمال اپولو اسپیس پروگرام میں برقی پاور فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس تعامل کے دوران پیدا ہونے والے پانی کے بخارات کی تکثیف کرکے اس کا استعمال خلائی مسافروں کے لیے پینے کے پانی کے طور پر کیا گیا۔ سیل میں ہائڈروجن اور آکسیجن گیسوں کو مسام دار کاربن الیکٹروڈوں سے ہو کر مرتکز آبی سوڈیم ہائڈروکسائڈ محلول میں گزارا جاتا ہے۔ الیکٹروڈ تعامل کی شرح میں اضافہ کرنے کے لیے پلیٹینم کا باریک پائوڈر یا پیلیڈیم دھات جیسے تماسی عاملوں (Catalysts) کو الیکٹروڈوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ الیکٹروڈ تعاملات ذیل میں دیے گئے ہیں:
کیتھوڈ  :O2 (g) +2H2O(l) + 4e- → 4OH-(aq)
اینوڈ : 
   2H2(g) +4 OH- (aq) →4H2O(l) + 4e-
کل تعامل مندرجہ ذیل ہے:
2H2(g) + O2(g)→2H2O(l)
جب تک متعامل کی سپلائی جاری رہتی ہے سیل مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ ایندھن سیل%70 کارکردگی کے ساتھ بجلی پیدا کرتے ہیں جبکہ تھرمل پلانٹ کی کارکردگی صرف %40 ہی ہوتی ہے۔ ایندھن سیلوں کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے الیکٹروڈ مادوں، بہتر تماسی عامل اور الیکٹرولائٹ کی ترقی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تجربہ کے طور پر ان کا استعمال آٹوموبائل میں کیا گیا ہے۔ ایندھن سیل آلودگی سے مبرا ہیں اور مستقبل میں ان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے کئی قسم کے ایندھن سیلوں کو بنا کر ان کا تجربہ کیا گیا ہے۔

3.8 تاکل (Corrosion)

تاکل کے دوران دھاتوں کی سطح پر آکسائڈ یا دھات کے کسی نمک کی پرت آہستہ آہستہ جمع ہوتی رہتی ہے۔ لوہے پر زنگ لگنا، چاندی کا سیاہ پڑجانا، تانبہ اور کانسہ پر ہرے رنگ کی پرت کا جمع ہونا تاکل کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ عمارتوں، پلوں، جہازوں اور دھاتوں سے بنی سبھی چیزوں بالخصوص لوہے سے بنی چیزوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ تاکل کی وجہ سے ہمیں ہر سال کروڑوں روپیہ کا نقصان ہوتا ہے۔
PH-38
تکسید
 Fe (s)Fe2+(aq)+2e
 تحویل
O2(g) + 4H + (aq) + 4e  2H2O(l)
 ماحولیاتی تکسید
 2Fe2+(aq) + 2H2O(l) + ½O2(g) Fe2O3(s) + 4H+(aq)
 شکل 3.13: کرہ باد میں لوہے میں تاکل
تاکل میں، دھات آکسیجن کو الیکٹران دے کر تکسید ہو جاتی ہے اور آکسائڈ بنتا ہے۔ لوہے پر زنگ پانی اور ہوا کی موجودگی میں لگتا ہے۔ تاکل کی کیمیا کافی پیچیدہ ہے لیکن اسے ایک برق کیمیائی عمل تصور کیا جاسکتا ہے۔ لوہے سے بنی چیز کو جب کسی مخصوص جگہ پر رکھا جاتا ہے تو تکسید کا عمل ہوتا ہے اور وہ جگہ اینوڈ کے وطر پر کام کرتی ہے۔ تعامل کو ہم مندرجہ ذیل طریقے سے لکھ سکتے ہیں:
اینوڈ     
2Fe(s)→ 2Fe2+ +4e E(Fe2+/Fe)= -0.44 V
اینوڈی جگہ پر خارج ہونے والے الیکٹران دھات بنے ہوئے دھات پر دوسری جگہ پہنچتے ہیں اور وہاں پر +H (جوکہ CO2 کے پانی میں گھلنے سے بنے H2CO3 سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہائڈروجن آین کرہ باد میں موجود دیگر تیزابی آکسائڈوں کے گھلنے سے بھی پانی میں دستیاب ہوجاتے ہیں) کی موجوگی میں آکسیجن کی تحویل ہوتی ہے۔ یہ جگہ کیتھوڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔
 :  کیتھوڈ  O2(g)+4H+(aq)+4e- → 2H2O(l) =1.23 V E H+ IO2IH2O  
کل تعامل مندرجہ ذیل ہے:
2Fe(s) + O2 (g) +4H+ (aq) →2Fe2+ (aq) +2H2O(l)-E(cell) = 1.67 V

فیرس آین کرہ باد کی آکسیجن کے ذریعے فیرک آینوں میں تکسید ہو جاتے ہیں جو کہ آبی فیرک آکسائڈ
(Fe2O3. x H2O
کی شکل میں زنگ کے طور پر نظر آتے ہیں اور مزید ہائڈروجن آین پیدا ہوتے ہیں۔
تاکل سے بچائو بہت زیادہ اہم ہے۔ اس سے نہ صرف روپیہ پیسے کی بچت ہوتی ہے بلکہ پلوں کے ٹوٹنے یا تاکل کی وجہ سے کسی اہم جزو کے کام نہ کرنے کی صورت میں ہونے والے حادثات کو روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تاکل کو روکنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دھاتی سطح کو کرہ باد کے رابطہ سے باز رکھا جائے۔ یہ کام دھاتی سطح پر روغن کرکے یا دیگر کیمیائی اشیا (جیسے بسفینال) کا لیپ کرکے کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دھاتی سطح کو ایسی دھاتوں (Sn, Zn) سے ڈھک دیا جاتا ہے جو کہ غیر عامل ہوں یا شے کی حفاظت کے لیے اس سے تعامل کرلیں۔ برق کیمیائی طریقے میں دیگر دھات (جیسے Mg، Zn وغیرہ) کا الیکٹروڈ فراہم کیا جاتا ہے جو خود تاکل کا شکار ہو کر شے کی حفاظت کرتا ہے۔

متن پر مبنی سوالات

3.13 ری چارجنگ کے دوران ملوث سبھی اشیا کا خاص طور سے ذکر کرتے ہوئے لیڈ ذخیرہ سیل کی ری چارجنگ کیمسٹری لکھیے۔
3.14 ہائڈروجن کے علاوہ دو ایسی اشیا کے نام بتائیے جن کا استعمال ایندھن سیلوں میں ایندھن کے طور پر کیا جاسکتا ہے۔
3.15 تشریح کیجیے کہ لوہے پر زنگ لگنا کس طرح ایک برق کیمیائی سیل کی تشکیل کرتاہے۔

ہائڈروجن معیشت (The Hydrogen Economy)

موجودہ دور میں ہماری معیشت کو چلانے والا توانائی کا اہم ذریعہ فوسل ایندھن ہیں جیسے کوئلہ، تیل اور گیس۔ جیسے جیسے سیارہ پر لوگ اپنے طرز زندگی میں سدھار لانا چاہتے ہیں ان کی توانائی کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوگا۔ دراصل توانائی کافی کس استعمال ترقی کی پیمائش تصور کیا جاتا ہے۔ بلاشک و شبہ یہ مانا جاتا ہے کہ توانائی کا استعمال پیداواری مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے اور اس کا زیاں نہیں ہوتا۔ہمیں پہلے ہی یہ معلوم ہے کہ فوسل ایندھنوں کے احتراق کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے اور سبزگھر اثر کا باعث بنتی ہے۔ اس کی وجہ سے سطح زمین کا درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ قطبی برف کے پگھلنے اور سمندر کی سطح میں اضافہ کا سبب ہے۔ اس کی وجہ سے ساحل کے نزدیک نچلے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے اور کچھ جزیرے جیسے مالدیپ کے تو مکمل طور پر ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ اس قسم کی آفت سے بچنے کے لیے ہمیں کاربن پر مشتمل ایندھنوں کے استعمال کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ ہائڈروجن اس کا مثالی متبادل ہے کیونکہ اس کے احتراق سے صرف پانی حاصل ہوتا ہے شمسی توانائی کا استعمال کرکے پانی سے ہائڈروجن کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ہائڈروجن کا استعمال ایک قابل تجدید اور غیر آلودہ توانائی کے ذریعہ کے طور پر کیا جاسکتا ہے۔ ہائڈروجن معیشت کا یہی تصور ہے۔ پانی کی برق پاشیدگی (Electrolysis) سے ہائڈروجن کی پیداوار اور ایندھن سیل میں ہائڈروجن کا احتراق دونوں ہی مستقبل میں اہم ہوں گے۔ یہ دونوں ہی تکنیکیں برقی کیمیائی اصولوں پر مبنی ہیں۔

خلاصہ

برق کیمیائی سیل میں دو دھاتی الیکٹروڈ ہوتے ہیں جو کہ ایک الیکٹرولائٹک محلول میں ڈوبے رہتے ہیں۔ اس طرح برق کیمیائی سیل کا اہم جزو آینی موصل یا الیکٹرولائٹ ہے۔ برق کیمیائی سیل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ گیلونیک سیل میں ازخود ریڈاکس تعامل کی کیمیائی توانائی برقی کام میں تبدیل ہوتی ہے جبکہ الیکٹرولائٹک سیل میں برقی توانائی کا استعمال غیر ازخود ریڈاکس تعامل کی انجام دہی کے لیے کیا جاتا ہے۔ کسی مناسب محلول میں ڈوبے ہوئے الیکٹروڈ کے معیاری الیکٹروڈ مضمر کی تعریف ہائڈروجن الیکٹروڈ کے معیاری الیکٹروڈ مضمر کو صفر مانتے ہوئے اس کی نسبت سے کی جاتی ہے۔ سیل کا معیاری مضمر کیتھوڈ اور اینوڈ کے معیاری مضمر کا فرق معلوم کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
E(cell) = E(cathode) - E(anode)



سیل کا معیاری مضمر سیل میں ہونے والے تعامل کی معیاری گبس توانائی
Δr G = - nFE (cell)
اور توازن مستقلہ ΔrG =- Rt Ink سے متعلق ہوتا ہے۔ الیکٹروڈ اور سیلوں کے مضمر کا ارتکاز پر انحصار نیرنسٹ مساوات کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے۔
ایک الیکٹرولائٹک محلول کی ایصالیت (Conductivity)، K کا انحصار الیکٹرولائٹ کے ارتکاز، محلل کی فطرت اور درجۂ حرارت پر ہوتا ہے۔ مولر ایصالیت (Molar conductivity)
m = k/c کی تعریف ∧m 
کے ذریعہ بیان کی جاتی ہے جہاں c ارتکازہے۔ ارتکاز میں کمی ہونے پر ایصالیت میں کمی آتی ہے لیکن مول ایصالیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ طاقتور الیکٹرولائٹ کے لیے اس میں ارتکاز میں کمی کے ساتھ آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ ڈائی لیوٹ محلولوں میں کمزور الیکٹرولائٹ کے لیے یہ اضافہ بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ کولرائوش نے پایا کہ کسی الیکٹرولائٹ کے لیے لامتناہی ڈائی لیوشن پر مولر ایصالیت ان آینوں کی مولر ایصالیت کے حاصل جمع کے مساوی ہوتی ہے جن آینوں میں یہ تحلیل ہوتا ہے۔ اسے آینوں کی آزادانہ حجرت کا کلیہ کہتے ہیں اور اس کے کئی استعمال ہیں۔ برق کیمیائی سیل میں محلول میں بجلی کا ایصال آینوں کے ذریعے ہوتا ہے لیکن آینوں کی تکسید اور تحویل الیکٹروڈوں پر ہوتی ہے۔ بیٹریاں اور ایندھن سیل (Fuel cell) گیلونیک سیل کی نہایت اہم شکلیں ہیں۔ دھاتوں میں تاکل لازمی طور سے ایک برق کیمیائی منظر ہے۔ برق کیمیائی اصول ہائڈروجن معیشت سے متعلق ہیں۔

مشقیں

3.1 مندرجہ ذیل دھاتوں کو اس ترتیب میں لکھیے جس میں وہ ایک دوسرے کو اپنے نمک محلولوں سے ہٹاتی ہیں:
Al, Cu, Fe, Mg, Zn
3.2 ذیل میں معیاری الیکٹروڈ مضمر دیے گئے ہیں:
K+/K = - 2.93 V, Ag+ / Ag = 0.80 V
Hg2+ / Hg = 0.79 V
Mg2+ / Mg = - 2/37 V, Cr3+ / Cr= - 0.74 V

ان دھاتوں کو ان کی تحویلی قوت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھیے۔
3.3 اس گیلونیک سیل کو بیان کیجیے جس میں مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے:
Zn(s)+ 2Ag+ (aq) → Zn2+ (aq) + 2Ag(s)
مزید یہ بھی دکھائیے کہ 
(i) کس الیکٹروڈ پر منفی چارج ہے؟ (ii) سیل میں کرنٹ لے جانے والے
(iii) ہر ایک کیتھوڈ برذاتی عمل
3.4  اس گیلونیک سیل کا معیاری سیل مضمر معلوم کیجیے جس میں مندرجہ ذیل تعاملات ہوتے ہیں:
2Cr(s) + 3Cd2+ (aq) →2Cr3+ (aq) +3Cd (i)
Fe2+ (aq) +Ag+ (aq) →Fe3+ (aq) + Ag(s) (ii)
تعاملات کے لیے
 ΔrGΘ
اور توازن مستقلہ معلوم کیجیے۔
3.5 298K پر مندرجہ ذیل سیلوں کے لیے emf اور نیرنسٹ تعامل کیجیے۔
Mg(s)|Mg2+(0.001M)||Cu2+(0.0001 M)|Cu(s) (i)
Fe(s)|Fe2+(0.001M)||H+(1M)|H2(g)(1bar)| Pt(s) (ii)
Sn(s)|Sn2+(0.050 M)||H+(0.020 M)|H2(g) (1 bar)|Pt(s) (iii)
Pt(s)|Br2(l)|Br–(0.010 M)||H+(0.030 M)| H2(g) (1 bar)|Pt(s). (iv)

3.6 گھڑیوں اور دیگر آلات میں استعمال ہونے والے بٹن سیلوں میں مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے۔
Zn(s)+ Ag2O (s)+ H2O(l) → Zn2+ (aq) + 2Ag(s) 2OH-(aq)
تعامل کے لیے 
 کا تعین کیجیے۔ ΔrGΘ
3.7 ایک الیکٹرولائٹ کے محلول کے لیے ایصالیت اور مولر ایصالیت کی تعریف بیان کیجئے ان میں ارتکاز کے ساتھ ہونے والی تبدیلی پر بحث کیجیے۔
3.8 298 K پر 0.20 M پوٹاشیم کلورائڈ محلول کی ایصالیت
0.0248 S cm-1 
ہے۔ اس کی مولر ایصالیت معلوم کیجیے۔
3.9 298K پر 0.001 M KCl پر مشتمل ایصالیت سیل کی مزاحمت Ω 1500  ہے۔ سیل مستقلہ کیا ہوگا اگر 0.001 M KCl محلول کی ایصالیت 298K پر  
0.146 × 16–3 S cm–1
 ہے۔ 
3.10 298K پر سوڈیم کلورائڈ کی ایصالیت کو مختلف ارتکاز پر متعین کیا گیا۔ نتائج ذیل میں دیے گئے ہیں:
0.100 0.050     0.20 0.010 0.001 M/ارتکاز
106.74 55.53 23.15 11.85 1.237 102k/Sm–1

سبھی ارتکاز کے لیے
 ∧m 
کی تحسیب کیجئے نیز
اور  ∧m
C1/2 
 
کے درمیان گراف کھینچئے۔ 
 ∧m 
 کی قدر بھی معلوم کیجئے۔
3.11
0.00241 M 
ایسیٹک ایسڈ کی ایصالیت
7.896x 10-5 S cm-1
ہے۔ اس کی مولر ایصالیت معلوم کیجئے۔ اگر ایسیٹک ایسڈ کے لیے
 ∧ºm
کی قدر
390.5 S cm2 md–1 
ہے تو اس کا تحلیلی مستقلہ معلوم کیجئے۔
3.12 مندرجہ ذیل تحویلی عملوں کے لیے کتنا چارج درکار ہوگا؟
(i) ایک مول +Al3کی Al میں 
(ii) ایک مول+Cu2کی Cu میں
(iii) ایک مول
MnO-4 کی M2+n
میں
3.13 مندرجہ ذیل ہر ایک کو حاصل کرنے کے لیے کتنے فیراڈے بجلی درکار ہوگی؟
(i) پگھلے ہوئے CaC12 سے 20 گرام Ca
(ii) پگھلے ہوئے A12O3 سے 4گرام Al
3.14 مندرجہ ذیل کی تکسید کے لیے کتنے کولمب بجلی درکار ہوگی؟
(i) ایک مول H2Oکی O2 میں
(ii) ایک مول FeO کی Fe2O3میں
3.15 Ni(NO3)2 کے محلول کو 5A کرنٹ کا استعمال کرکے 20 منٹ تک پلیٹینم الیکٹروڈوں کے درمیان الیکٹرولائز کیا گیا۔ کیتھوڈ پر جمع ہونے والے Ni کی کمیت معلوم کیجئے۔
3.16 تین الیکٹرولائٹک سیل A، B، C جو کہ بالترتیب
ZnSO4, AgNO3 اور CuSo4 
پر مشتمل ہیں سلسلہ وار منسلک کیے گئے ہیں۔ 1.5 ایمپیر کا ایک مستقل کرنٹ اس وقت تک گزارا جاتا ہے جب تک کہ سیل B کے کیتھوڈ پر 1.45 g چاندی جمع نہیں ہو جاتی۔ کرنٹ کتنی دیر تک گزارا گیا؟ کاپر اور زنک کی کتنی مقدار جمع ہوئی؟
3.17 جدول 3.1 دیے گئے معیاری الیکٹروڈ مضمر کا استعمال کرکے بتائیے کہ کیا مندرجہ ذیل تعاملات ممکن ہیں؟

Fe3+(aq) and I(aq)  (i)
Ag+ (aq) and Cu(s)  (ii)
Fe3+ (aq) and Br (aq)  (iii)
Ag(s) and Fe3+ (aq)  (iv)
Br2 (aq) and Fe2+ (aq).   (v)

3.18 مندرجہ ذیل ہر ایک میں الیکٹرولسس کے ماحصلات بتائیے۔
(i) سلور الیکٹروڈ کے ساتھAgNO3کا آبی محلول
(ii) پلیٹینم الیکٹروڈ کے ساتھ AgNO3کا آبی محلول
(iii) پلیٹینم الیکٹروڈ کے ساتھ H2SOکا ڈائی لیوٹ محلول
(iv) پلیٹینم الیکٹروڈ کے ساتھ CuC12کا آبی محلول

متن پر مبنی کچھ سوالوں کے جوابات

3.5 
E(cell) = 0.91 V
3.6
Kc = 9.62 x 10 7 , ΔrG = - 45.54 kJ mol-1
3.9
3.67 x 10-4 mol L-1 0. 114