جدول 5.1 طبیعی التصاق اورکیمیائی التصاق کا موازنہ
طبیعی التصاق
|
کیمیائی التصاق
|
1۔ یہ وانڈروال قوتوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
2۔ اس کی فطرت Specific نہیں ہوتی۔
3۔ یہ رجعتی ہوتی ہے۔
4۔ اس کا انحصار گیس کی فطرت پر ہوتا ہے۔ زیادہ اماعت پذیر گیسیں بہت تیزی سے Adsorb ہو جاتی ہیں۔
5۔ طبیعی التصاق کی اینتھالپی بہت کم (20 – 40 kJ mol–1) ہوتی ہے۔
6۔ کم درجۂ حرارت طبیعی التصاق میں معاون ہوتا ہے۔ یہ درجۂ حرارت میں بڑھوتری کے ساتھ کم ہوجاتی ہے۔
7۔ یہ سطحی رقبہ پر منحصر ہوتی ہے سطحی رقبہ میں اضافہ ہونے پر طبیعی التصاق میں اضافہ ہوتا ہے۔
8۔ زیادہ ایکٹیویشن توانائی درکار ہوتی ہے۔
9۔ اس کے نتیجے میں اونچے دبائو پر ملتصق کی سطح پر کثیر سالماتی پرتیں تشکیل پاتی ہیں۔
|
1۔ یہ کیمیائی بانڈ کی تشکیل کی وجہ سے ہوتا ہے۔
2۔ یہ بہت زیادہ (Specific) نوعیت کا ہوتا ہے۔
3۔ یہ غیر رجعتی ہوتی ہے۔
4۔ یہ بھی گیس کی فطرت پر منحصر ہوتا ہے۔ وہ گیس جو کہ ملتصق کے ساتھ تعامل کرتی ہے کیمیائی التصاق کا اظہار کرتی ہے
5۔ کیمیائی التصاق کی اینتھالپی بہت زیادہ (80 – 240 kJ mol–1) ہوتی ہے۔
6۔ اونچا درجۂ حرارت کیمیائی التصاق میں معاون ہوتا ہے۔ درجۂ حرارت میں اضافہ ہونے پر کیمیائی التصاق میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
7۔ اس کا انحصار بھی سطحی رقبہ پر ہوتا ہے۔ سطحی رقبہ میں اضافہ ہونے پر کیمیائی التصاق میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
8۔ زیادہ ایکٹیویشن توانائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
9۔ اس کے نتیجے میں یک سالماتی پرت تشکیل پاتی ہے۔
|
5.1.4 التصاق آئسوتھرم
(Adsorption Isotherms)
مستقل درجہئ حرارت اور دباؤ پر ملتصق کے ذریعے Adsorb ہونے والی گیس کی مقدار کو ایک منحنی کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا یہ جسے التصاق آئسوتھرم کہتے ہیں۔
فراینڈلِک التصاق آئسوتھرم: فراینڈلِک نے 1990 میں ٹھوسملتصقکی اکائی کمیت کے ذریعہ ایک مستقل درجہئ حرارت پر Adsorb ہونے والی گیس کی مقدار اور دباؤ کے مابین ایک ایمپریکل تعلق پیش کیا۔ اس تعلق کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
(x/m)=k.p1/n (n>1)
(5.1)
شکل 5.1: التصاق آئسوتھرم
جہاں x ملتصق کی m کے ذریعہ دباؤ p پر Adsorb ہونے والی گیس کی کمیت ہے۔k اور n مستقلے ہیں جو کسی مستقل درجۂ حرارت پر ملتصق اور گیس کی فطرت پر منحصر ہوتے ہیں۔ تعلق کو عموماً ایک انحنا کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے جس میں ملتصق کے فی گرام کے ذریعہ Adsorb ہونے والی گیس کی کمیت کو دباؤ کے مقابل پلاٹ کیا جاتا ہے (شکل 5.1)۔ یہ خطوط انحنا ظاہر کرتے ہیں کہ مستقل دباؤ پر درجہئ حرارت میں اضافہ کرنے پر طبیعی التصاق میں کمی آتی ہے۔ اونچے درباؤ پر یہ خطوط انحنا ہمیشہ سیری (Saturation) کی طرف پیش رفت کرتے نظر آتے ہیں۔
مساوات (5.1) کا لوگارتم لینے پر
log(x/m)=logk+(1/n)log P
فراینڈلک آئسوتھرم کی معقولیت کی تصدیق
-yکوlog/xm
محور (طولی مختص) اور log P کو -x
x-کوlog P
محور (عرض مختص) پر پلاٹ کرکے کی جاسکتی ہے۔ اگر گراف مستقیم خط کی شکل میں ہے تو فراینڈلک آسوتھرم معقول (Valid) ہے نہیں تو یہ معقول نہیں ہے (شکل 5.2)۔ مستقیم خط کا سلوپ 
n/1
کی قدر فراہم کرتا ہے۔ -yمحور پر log k intercept کی قدر فراہم کرتا ہے۔
فراینڈلک آئسوتھرم التصاق کے طرز عمل کو تقریبی انداز (Approximate manner) میں واضح کرتا ہے۔ فیکٹر1/n
کی قدریں 0 اور 1 کے درمیان ہو سکتی ہیں (احتمالی رینج 0.1 تا 0.5) اس طرح مساوات (5.2) دباؤ کی محدود رینج تک ہی نافذ ہوتی ہے۔
x/m=مستقلہ,l/n=0
جب
، تو التصاق دباؤ سے مبرا ہوتی ہے۔
جب
n/m∝Pیعنیn/m=kP,l/n=l
تب التصاق دباؤ کے ساتھ براہ راست تبدیل ہوتی ہیں۔
دونوں ہی شرائط کی تجرباتی نتائج کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ تجرباتی آئسوتھرم ہمیشہ ہی اونچے دباؤ پر سیری کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ اسے فراینڈلک آئسوتھرم کے ذریعے نہیں سمجھایا جاسکتا۔ اس طرح یہ اونچے دباؤ پر ناکام ہو جاتا ہے۔
5.2.1 متجانس اور غیر متجانس کیٹلسس
(Homogeneous and Heterogeneous Catalysis)
ٹھوس محلولوں کے اندر گھلے ہوئے منحلوں کو بھی Adsorb کرتے ہیں۔ جب ایسیٹک ایسڈ کے آبی محلول کو چارکول کے ساتھ ہلایا جاتا ہے تو ایسڈ کا ایک حصہ چارکول کے ذریعہ Adsorb ہو جاتا ہے اور محلول میں ایسڈ کا ارتکاز کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے لٹمس کا محلول چارکول کے ساتھ ہلانے پر بے رنگ ہو جاتا ہے۔ جب Mg(OH)2 کو میگنیسان ریجنٹ (Magneson reagent) کی موجودگی میں ترسیب کی جاتی ہے تو یہ نیلارنگ حاصل کرلیتا ہے۔ یہ رنگ میگنیسان کی التصاق کی وجہ سے ہوتی ہے۔ محلول فیز سے التصاق کے معاملے میں مندرجہ ذیل مشاہدات کیے گئے ہیں۔
(i) درجۂ حرارت میں اضافہ ہونے پر التصاق کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔
(ii) ملتصق کے سطح رقبہ میں اضافہ ہونے پر التصاق کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔
(iii) التصاق کس حد تک ہوگی اس کا انحصار محلول میں محلل کے ارتکاز پر ہوتا ہے۔
(iv) التصاق کی مقدار کا انحصار ملتصق اور Adsorbate کی نوعیت پر ہوتا ہے۔
محلول سے التصاق کا بالکل ٹھیک ٹھیک میکانزم معلوم نہیں ہے۔ فرانیڈلک مساوات محلولوں سے التصاق کے طرز عمل کا اس فرق کے ساتھ تقریبی بیان کرتی ہے کہ دباؤ کی جگہ محلول کے ارتکاز پر غور کیا جاتا ہے۔ یعنی
r/m=kcl/n
(5.3)
(یہاں C توازنی ارتکاز ہے یعنی التصاق مکمل ہونے پر ارتکاز)
مندرجہ بالا مساوات کا لوگارتم لینے پر\
logr/m=logk+l/nlogC
(5.4)
logr/mاورlog C
کے درمیان گراف ایک مستقیم خط کی شکل میں حاصل ہوتا ہے جو کہ فراینڈلک آئسوتھرم کی معقولیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی جانچ تجرباتی طور پر ایسیٹک ایسڈ کے مختلف ارتکاز کے محلول لے کر کی جاسکتی ہے۔ محلولوں کے مساوی حجم کو چارکول کی مساوی مقدار کے ساتھ مختلف فلاسکوں میں ملایا جاتا ہے۔ التصاق کے بعد ہر ایک فلاسک میں آخری ارتکاز معلوم کیا جاتا ہے۔ ابتدائی اور آخری ارتکاز کا فرق x کی قدر فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ بالا مساوات کا استعمال کرتے وہئے فرانیڈلک آئسوتھرم کی معقولیت کو قائم کیا جاسکتا ہے۔
5.1.6 ا لتصاق کے استعمال
(Applications of Adsorption)
التصاق کے عمل کے کئی استعمال ہیں۔ کچھ اہم استعمال ذیل میں مذکور ہیں۔
(i) بہت زیادہ وکیوم پیدا کرنے کے لیے: وکیوم پمپ کے ذریعہ کسی برتن سے نکالی گئی ہوا کی بقیہ مقدار کو چارکول کے ذریعہ adsorb کرلیا جاتا ہے جس سے بہت زیادہ وکیوم پیدا ہو جاتا ہے۔
(ii) گیس ماسک (Gas masks): گیس ماسک (ایک ایسا آلہ جس میں ایکٹیویٹڈ چارکول یا ملتصقوں کا آمیزہ ہوتا ہے) کا استعمال کوئلہ کی کانوں میں سانس لیتے وقت زہریلی گیسوں کو Adsorb کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
(iii) رطوبت پر قابو (Control of humidity): نمی کو دور کرنے اور رطوبت کو کنٹرول کرنے کے لیے سلیکا جیل اور ایلیومینیم جیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(iv) محلولوں سے رنگین مادوں کو ہٹانا: حیوانی چارکول محلولوں کی رنگین ملاوٹوں کو Adsorb کرکے رنگ کو ہٹادیتا ہے۔
(v) غیر متجانس کیٹلسس (Heterogeneous catalysis): وسیط کی ٹھوس سطح پر متعاملوں کا Adsorption تعامل کی شرح میں اضافہ کردیتا ہے۔ صنفی اہمیت کی رو سے ایسے کئی گیسی تعاملات ہیں جن میں ٹھوس وسیط کا استعمال ہوتا ہے۔ لوہے کو وسیط کے طور پر استعمال کرکے امونیا کی تیاری کانٹسکٹ پراسس کے ذریعہ H2SO4 کی تیاری اور تیلوں کے ہائڈروجینیشن میں باریک پاؤڈر کی شکل میں نکل کا استعمال غیر متجانس کیٹلسس کی عمدہ مثالیں ہیں۔
(vi) جامد گیسوں کی علیحدگی (Separation of inert gases): چارکول کے ذریعہ گیسوں کی التصاق کی ڈگری میں فرق کی وجہ سے آمیزہ سے جامد گیسوں کو ناریل چارکول پر مختلف درجہئ حرارت پر Adsorb کرکے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔
(vii) بیماریوں کے علاج میں (In curing diseases): متعدد دوائیں جراثیموں پر Adsorb ہو کر انہیں ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
(viii) فراتھ فلوٹیشن پراسس (Froth floatation process): چیڑ کا تیل اور جھاگ بنانے والے ایجنٹ کا استعمال کرکے ایک ادنیٰ درجہ کی سلفائٹ کچ دھات کو سلیکا جیل اور دیگر ارضی مادوں سے علیحدہ کرکے مرتکز کیا جاتا ہے۔
(ix) التصاق انڈیکیٹر (Adsorption indicators): سلور ہیلائڈ جیسے کچھ رسوبوں کی سطحیں ایوسین فلوروسیس جیسے کچھ رنگوں کے التصاق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور آخری نقطہ پر صفاتی رنگ پیدا کرتی ہیں۔
(x) کرومیٹوگرافِک تجزیہ (Chromatographic analysis): التصاق پر مبنی کرومیٹوگرافک تجزیہ کے تجزیاتی اور صنعتی شعبوں میں متعدد استعمال ہیں۔
متن پر مبنی سوالات
5.1 پلیٹینم اور پلیڈیم جیسے مادے آبی محلولوں کی برق پاشیدگی (Electrolysis) میں کیوں استعمال کیے جاتے ہیں۔
5.2 درجہئ حرارت میں اضافہ ہونے پر طبیعی التصاق میں کمی کیوں آتی ہے؟
5.3 قلمی حالت (crystalline forms) کے مقابلے پاؤڈر کی شکل میں اشیا زیادہ مؤثر ملتصق کیو ں ہوتی ہیں؟
5.2 کیٹلسس (Catalysis)
پوٹاشیم کلوریٹ کو جب تیزی سے گرم کیا جاتا ہے تو یہ آہستہ آہستہ تحلیل ہو کر ڈائی آکسیجن دیتا ہے۔ تحلیل کا عمل 653 سے 873 K درجہئ حرارت کی رینج میں ہوتا ہے۔
2KClO3 ®→ 2KCl + 3O2
تاہم جب اس تعامل میں تھوڑا سا مینگنیز ڈائی آکسائڈ ملادیا جاتا ہے تو عمل تحلیل کم درجہئ حرارت کی رینج میں ہوتا ہے (473 - 633 K) اور تعامل کی شرح میں کافی اضافہ ہوجاتا ہے۔ ملائے گئے مینگنیز ڈائی آکسائڈ کی کمیت اور ترکیب میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی طرح کئی کیمیائی تعاملات کی شرح کو بیرونی اشیا کی موجودگی کی وجہ سے تبدیل کیا جاسکتاہے۔ کیمیائی تعامل کی شرح پر مختلف بیرونی مادوں کے اثر کا باقاعدہ مطالعہ برزیلیس نے 1835 میں کیا۔ اس نے اس قسم کے مادوں کے لیے وسیط (Catalyst) نام تجویز کیا۔
ایسی اشیا جو کیمیائی تعامل کی شرح کو تبدیل کر دیتے ہیں اور خود کیمیائی تعامل کے بعد کیمیائی اور مقداری اعتبار سے غیر تبدیل شدہ بہتی ہیں وسیط کہلاتی ہیں اور یہ مظہر کیٹلسس کہلاتا ہے۔ آپ سیکشن 4.5 میں وسیط اور ان کے افعال کا پہلے ہی مطالبہ کر چکے ہیں۔
پروموٹر اور زہر (Promoters and poisons)
پروموٹر وہ اشیا ہیں جو وسیط کے عمل میں تیزی لاتی ہیں جبکہ زہر وسیط کے عمل کو کم کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر امونیا بنانے کے لئے ہیبرس پراسس میں مولبڈینم آئرن (جو کہ ایک وسیط ہے) کے لیے پروموٹر کا کام کرتا ہے۔
N2(g)+3H2(g)→2NH3(g)
کیٹلسس کو موٹے طور پر دو زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
5.2.1 متجانس اور غیر متجانسکیٹلسس
Homogeneous and Heterogeneous catalysis)
(a) متجانس کیٹلسس (Homogeneous catalysis)
جب متعامل اور وسیط ایک ہی فیز میں ہوں (یعنی رقیق یا گیس) تو یہ عمل متجانس کیٹلسس کہلاتا ہے۔ متجانس کیٹلسس کی کچھ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
(i) لیڈ چیمبر پراسس میں وسیط کے طور پر نائٹروجن کے آکسائڈوں کی موجودگی میں آکسیجن کے ساتھ سلفرڈائی آکسائڈ کی سلفر میں تکسید
2SO2(g)+O2(g)→2SO3(g)
متعامل یعنی سلفرڈائی آکسائڈ اور آکسیجن اور وسیط یعنی نائٹرک آکسائڈ تمام کے تمام ایک ہی فیز میں ہیں۔
(ii) میتھائل ایسیٹیٹ ہائڈروکلورک ایسڈ کے H+ آینوں کے ذریعہ کیٹلائز ہوتا ہے۔
CH3COOCH3(1)+H2O(1)→CH3COOH(aq)+CH3OH(aq)
متعامل اور وسیط دونوں ایک ہی فیز میں ہیں۔
(iii) چینی کی آب پاشیدگی (Hydrolysis) سلفیورک ایسڈ کے H+آینوں کے ذریعہ کیٹلائز ہوتی ہے۔
C12H22O11(aq)+H2O(1)→C6H12O6(aq)+C6H12O6(aq)
متعامل اور وسیط دونوں ایک ہی فیز میں ہیں۔
(b) غیر متجانس کیٹلسس (Heterogeneous catalysis)
کیٹلسس کا وہ عمل جس میں متعامل اور وسیط مختلف فیز میں ہوں غیر متجانس کیٹلسس کہلاتا ہے۔ غیر متجانس کیٹلسس کی کچھ مثالیں ذیلمیں دی گئی ہیں۔
(i)
Ptکی موجودگی میں سلفرڈائی آکسائڈ کی سلفر ٹرائی آکسائڈ میں تکسید
2SO2(g)→2SO3(g)
متعامل گیسی حالت میں ہے جبکہ وسیط ٹھوس حالت میں ہے۔
(ii) ہیبرس پراسس میں باریک لوہے کی موجودگی میں امونیا بنانے کے لئے ڈائی نائٹروجن اور ڈائی ہائڈروجن کے درمیان اتحاد
N2(g)+3H2(g)→2NH3(g)
متعامل گیسی حالت میں ہے جبکہ وسیط ٹھوس حالت میں ہیں۔
(iii) اوسٹوالڈ پراسس میں پلیٹینم گیزکی موجودگی میں امونیا کی نائٹرک آکسائڈ میں تکسید
4NH3(g)+5O2(g)→4NO(g)+6H2O(g)
متعامل گیسی حالت میں ہے جبکہ وسیط ٹھوس حالت میں ہیں۔
(iv) باریک پاوڈر کی شکل میں نکل وسیط کی موجودگی میں ونسپتی پتلوں کا ہائڈروجنیشن
ونسپتی تیل(l)+H2(g)→ونسپتی گھی(s)
ایک متعامل رقیق حالت میں ہے دوسرا گیسی حالت میں ہے جبکہ وسیط ٹھوس حالت میں ہے۔
5.2.2 غیر متجانس کیٹلسس کا نظریہ التصاق
(Adsorption Theory of Heterogeneous Catalysis)
یہ نظریہ غیر متجانس کیٹلسس کے میکانزم کی تشریح کرتاہے۔ پرانا نظریہ جسے کیٹلسس کا نظریہ التصاق کہا جاتا ہے، کے مطابق گیسی حالت میں یا محلولوں میں متعامل وسیط کی سطح پر Adsorb کیے جاتے ہیں۔ سطح پر متعاملوں کے ارتکاز میں اضافہ تعامل کی شرح کو بڑھادیتا ہے۔ التصاق کیونکہ حرارت زا عمل ہے، التصاق کو حرارت شرح تعامل کو بڑھانے میں کام آتی ہے۔
وسیطی عمل (Catalytic Action) کو ضمنی مرکبات کی تشکیل کے ضمن میں بیان کیا جاسکتا ہے یعنی وہ نظریہ جس کا مطالعہ آپ سیکشن 4.5.1 میں پہلے ہی کر چکے ہیں۔
جدید نظریہ التصاق، ضمنی مرکبات کی تشکیل کا نظریہ اور التصاق کے قدیم نظریہ کی مجموعی شکل ہے۔ وسیطی عمل، وسیط کی سطح پر مرکوز ہوتا ہے۔ میکانزم میں مندرجہ ذیل اقدام شامل ہیں:
(i) وسیط کی سطح پر متعاملوں کا نفوذ
(ii) وسیط کی سطح پر متعاملوں کے سالمات کا Adsorption
(iii) ضمنی ماحصلات کی تشکیل کے ساتھ وسیط کی سطح پر کیمیائی تعامل کا ہونا۔
(iv) وسیط کی سطح سے تعامل ماحصلات کا (Desorption) اور اس کے بعد سطح کو اور زیادہ تعامل کے لیے فراہم کرانا۔
(v) وسیط کی سطح سے دور تعامل ماحصلات کا نفوذ bulk کے اندرونی حصہ کے برخلاف وسیط کی سطح پر آزاد گرفتیں ہوتی ہیں جو کہ کشش کی کیمیائی قوتوں کے لیے جگہ فراہم کراتی ہیں۔ جب کوئی گیس ایسی سطح کے تماس میں آتی ہے تو اس کے سالمات کمزور کیمیائی اتحاد کے ذریعے وہاں بندھ جاتے ہیں۔ اگر مختلف سالمات ساتھ ساتھ Adsorb ہوتے ہیں تو وہ ایک دوسرے سے تعامل کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں نئے سالمات بنتے ہیں۔ اس طرح بننے والے سالمات سطح کو نئے متعامل سالمات کے لیے چھوڑتے ہوئے تبخیر ہو جاتے ہیں۔
یہ نظریہ اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ تعامل کے آخیر میں وسیط کی کمیت اور کیمیائی ترکیب میں تبدیلی کیوں نہیں آتی اور بہت کم مقدار میں متاثر ہوتا ہے پھر بھی یہ پروموٹر اور زہر کے عمل کی تشریح نہیں کرتی۔
ٹھوس وسیط کی اہم خصوصیات (Important features of solid catalysts)
(a) ایکٹیوٹی (Activity)
ایک وسیط کی ایکٹیوٹی کا انحصار کافی حد تک کیمیائی التصاق پر ہوتا ہے۔ سرگرم ہونے کے لئے، متعامل کا وسیط پر مناسب مضبوطی کے ساتھ التصاق ہونا چاہیے۔ پھر بھی وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ Adsorb نہیں ہونے چاہئیں کہ وہ بے حرکت ہو جائیں اور متعاملوں کے لیے وسیط کی سطح پر کوئی جگہ خالی نہ رہ پائے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ہائڈروجنیشن تعاملات کے لئے کیٹلک ایکٹیویٹی دوری جدول میں گروپ 5 سے گروپ 11 تک برھتی ہے جن میں گروپ 7 سے 9 تک کے عناصر سب سے زیادہ ایکٹیوٹی ظاہر کرتے ہیں (کلاس XI، اکائی 3)۔
2H2(g)+O2(g)→2H2(1)
(b) انتخابیت (Selectivity)
کسی وسیط کی انتخابیت اس کی کسی تعامل کو سمت فراہم کرکے ایک مخصوص ماحصل بنانے کی صلاحیت ہے۔ مثال کے طور پر H2 اور CO سے شروع کرکے اور مختلف وسیط کا استعمال کرکے ہم مختلف ماحصلات حاصل کرسکتے ہیں۔
CO(g)+3H2(g)→CH4(g)+H2O(g)(i)
CO(g)+2H2(g)→CH3OH(g)(ii)
CO(g)+H2(g)→HCHO(g)(iii)
اس طرح یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ وسیط نوعیت کے اعتبار سے بہت زیادہ انتخابی ہوتے ہیں یعنی ایک دی ہوئی شے صرف ایک مخصوص تعامل کے لیے ہی وسیط کے طور پر کام کرتی ہے سبھی تعاملات کے لیے نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی شے اگر ایک تعامل میں وسیط کے طور پر کام کرتی ہے تو یہ دوسرے تعامل کو کیٹلائز کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔
5.2.3 زیولائٹوں کے ذریعہ شکل انتخابی کیٹلسس
(Shape-Selective Catalysis by Zeolites)
وہ وسیطی تعامل جو وسیط کے مسام کی ساخت نیز متعامل اور ماحصل کے سالمات کے سائز پر منحصر ہوتا ہے شکل انتخابی کیٹلسس (Shape-selective catalysis) کہلاتا ہے۔ زیولائٹ اچھے شکل انتخابی کیٹلسس ہیں کیونکہ ان کی ساخت شہد کی مکھیوں کے چھتہ جیسی ہوتی ہے۔ یہ سلیکیٹ کے سہ ابعادی نیٹ ورک والے خوردبینی مسام دار ایلیومینو سلیکیٹ ہیں جن میں ایلیومینیم کے ایٹموں کی جگہ کچھ سلیکان ایٹم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے Al–O–Si فریم ورک حاصل ہوتا ہے۔ زیولائٹ میں ہونے والے تعاملات ماحصلات اور متعاملوں کے سالمات کے شکل اور ا س کے سائز نیز زیولائٹ کے مسامات اور جوف (Cavities) پر منحصر ہوتے ہیں۔ یہ قدرتی ماحول میں پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی وسیطی انتخابیت کے لیے تالیف بھی کیے جاتے ہیں۔
زیولائٹوں کا بڑے پیمانے پر استعمال پیٹروکیمیکل انڈسٹری میں ہائڈروکاربن کی کریکنگ اور آئسومیرائزیشن میں وسیط کے طور پر کیا جاتا ہے۔ پیٹروکیمیکل انڈسٹری میں استعمال ہونے والا ایک اہم زیولائٹ وسیط ZSM – 5 ہے۔ یہ الکحل کو پہلے غیر آبی بناتا ہے جس سے ہائڈروکاربنوں کا آمیزہ بنتا ہے۔ اس طرح الکحل سیدھے ہی گیسولین (پیٹرول) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
5.2.4 انزائم کیٹلسس
(Enzyme Catalysis)
انزائم پیچیدہ نائٹروجنی نامیاتی مرکبات ہیں جو کہ زندہ پودوں اور جانوروں کے ذریعے پیدا کیے جاتے ہیں۔ دراصل یہ بہت زیادہ سالماتی کمیت والے پروٹین سالمات ہیں اور پانی کو لائڈی محلول بناتے ہیں۔ یہ بہت مؤثر وسیط (Catalyst) ہیں جو کہ خاص طور سے قدرتی عملوں سے وابسطہ متعدد تعاملات کو کیٹلائز کرتے ہیں۔ زندگی کے افعال کو برقرار رکھنے کے لیے پودوں اور جانوروں کے جسموں میں ہونے والے متعدد تعاملات انزائموں کے ذریعے کیٹلائز ہوتے ہیں۔ اسی لیے انزائموں کو حیاتیاتی کیمیائی وسیط (Biochemical catalyst) کہتے ہیں اور یہ مظہر حیاتیاتی کیمیائی کیٹلسس (Biochemical catalysis) کہلاتا ہے۔
کئی انزائم جاندار خلیوں سے خالص کرسٹلی حالت میں حاصل کیے گئے ہیں۔ تاہم سب سے پہلے انزائم کی تجربہ گاہ میں تالیف 1969 میں کی گئی تھی۔ انزائموں کے ذریع کیٹلائز ہونے والے تعاملات کی کچھ مثالیں ذیل میں دی گئی ہیں:
(i) گنے کی چینی کا Inversion: انورٹیز (Invertaze) انزائم گنے کی چینی کو گلوکوز اور فرکٹوز میں تبدیل کر دیتا ہے۔
C12H22O11(aq)+H2O(1)→C6H12O6(aq)+C6H12O6(aq)
فرکٹوز گلو کوز گنے کی چینی
(ii) گلوکوز کی ایتھائل الکحل میں تبدیلی: زائی میز (Zymase) انزائم گلوکوز کو ایتھائل الکحل اور کاربن ڈائی آکسائڈ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
C6H12O6(aq)→2C2H5OH(aq)+2CO2(g)
ایتھائل الکحل گلو کوز
(iii) اسٹارچ کی مالٹوز میں تبدیلی: ڈایسٹریز (Diastase) انزائم اسٹارچ کو مالٹوز میں تبدیل کردیتا ہے۔
2(C6H10O5)n(aq)+nH2(1)→nC12H22O11(aq)
starch Maltose
(iv) مالٹوز کی گلوکوز میں تبدیلی: مالٹیز انزائم مالٹوز کو گلوکوز میں تبدیل کر دیتا ہے۔
C12H22O11(aq)+H2O(1)→2C6H12O6(aq)
گلو کوز مالٹوز
(v) یوریا کی امونیا اور کاربن ڈائی آکسائڈ میں تحلیل: یوریئز (Urease) انزائم اس تحلیل کو کیٹلائز کرتا ہے۔
NH2CONH2(aq)+H2O(1)→2NH3(g)+CO2(g)
(vi) معدہ میں، پیپسن (Pepsis) انزائم پروٹین کو پیپٹائڈ میں تبدیل کردیتا ہے جبکہ آنتوں میں لبلبہ (Pancreas) سے آنے والا ٹرپسن (Trypsin) پروٹین کی ہائڈرولسس (Hydrolysis) کرکے امینوایسڈ میں تبدیل کردیتا ہے۔
(vii) دودھ کی دہی میں تبدیلی: یہ ایک انزائم تعامل ہے جو کہ دہی میں موجود لیکٹوبیسِلی (Lacto bacilli) انزائموں کے ذریعے ہوتا ہے۔
جدول 5.2 میں کچھ اہم انزائم تعاملات کا خلاصہ دیا گیا ہے۔
جدول 5.2 کچھ انزائم تعاملات
| انزائم |
مآخذ |
انزائم تعاملات |
انورٹیز زائی میز ڈائسیز مالٹیز یورئیز پیپسن |
ایسٹ ایسٹ مالٹ ایسٹ سویابین معدہ |
سکروز ← گلوکوز اور فرکٹوز گلوکوز ← ایٹھائلالکحل اور کاربن ڈائی ااکسائڈ اسٹارچ ← مالٹوز مالٹوز ← گلوکوز یوریا ← امونیا اور کاربن ڈائی آکسائڈ پروٹین ← امینوایسڈ |
انزائم کیٹلسس کی خصوصیات (Characteristics of enzyme catalysis)
انزائم کیٹلسس کارکردگی اور اونچے درجہ کی مخصوصیت کے معاملے میں یکتا ہے۔ انزائم وسیط مندرجہ ذیل خصوصیات کا اظہار کرتے ہیں۔
(i) بہت زیادہ کارگر (Most highly efficient): انزائم کا ایک سالمہ ایک منٹ میں متعامل کے 10 لاکھ سالمات کو تبدیل کر سکتا ہے۔
(ii) بہت زیادہ مخصوص فطرت (Highly specific nature): ہر ایک انزائم ایک دیے ہوئے تعامل کے لئے مخصوص ہوتا ہے یعنی ایک وسیط ایک سے زیادہ تعامل کو کیٹلائز نہیں کرسکتا۔ مثال کے طور پر یورئیز انزائم صرف یوریا کے ہائڈرولسس کو ہی کیٹلائز کرتا ہے۔ یہ کسی اور ایمائڈ (Amide) کے ہائڈرولسس کو کیٹلائز نہیں کرتا۔
(iii) معقول درجہئ حرارت پر بہت زیادہ سرگرم (Highly active under optimum temperature): ایک متعین درجہئ حرارت (جسے معقول درجۂ حرارت کہتے ہیں) پر انزائم تعامل کی شرح سب سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ معقول درجہئ حرارت کے کسی بھی طرف انزائم کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ انزائم سرگرمی کے لئے معقول درجۂ حرارت کی رینج 298-310 K ہوتی ہے۔ انسانی جسم کا درجۂ حرارت 310 K ہونے کی وجہ سے یہ انزائم کیٹلائز تعاملات کے لیے بہت مناسب ہے۔
(iv) معقول pH پر بہت زیادہ سرگرم (Highly active under optimum pH): ایک مخصوص pH (جسے معقول pH کہتے ہیں) پر انزائم کیٹلائز تعامل کی شرح سب سے زیادہ ہوتی ہے جوکہ pH قدر 5 تا 7 کے درمیان ہوتی ہے۔
(v) ایکٹیویٹر اور کوانزائموں کی موجودگی میں بڑھتی ہوئی سرگرمی: کچھ مخصوص مادوں (جنھیں کوانزائم کہتے ہیں) کی موجودگی میں انزائموں کی سرگرمی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب اینزائم کے ہمراہ ایک معمولی غیر پروٹین (وٹامن) موجود ہو تو وسیطی عمل میں قابل لحاظ حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔
ایکٹیویٹر عام طور سے دھاتی آین ہوتے ہیں جیسے+Na+, Mn2+, Co2+, Cu2+ وغیرہ۔ یہ دھاتی آین جب اینزائم سالمات سے کمزور بانڈ کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں تو ان کے وسیطی عمل میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ سوڈیم کلورائڈ یعنی+Na آینوں کی موجودگی میں ایمائلیز وسیطی اعتبار سے بہت سرگرم ہو جاتا ہے۔
(vi) مانع اور سُم کا اثر (Influence of inhibitors and poisons): عام وسیط کی طرح انزائم بھی کچھ مخصوص مادوں کی موجودگی میں Inhibit اور Poisoned ہو جاتے ہیں۔ Inhibitors اور Poisons انزائم کی سطح پر موجود سرگرم تفاعلی گروپ سے باہمی عمل کرکے انزائموں کے وسیطی عمل کو کم کردیتے ہیں یا مکمل طور پر تباہ کر دیتے ہیں۔ کئی دوائوں کے استعمال کا تعلق جسم میں Enzyme inhibitors کے طور پر ان کے عمل سے ہوتا ہے۔
انزائم کیٹلسس کا میکانزم (Mechanism of enzyme catalysis)
انزائموں کو لائڈی ذرات کی سطح پر متعدد جوف (Cavities) موجود ہوتی ہیں۔ یہ جوف مخصوص شکل والی ہوتی ہیں اور
-OH,-SH,-COOH,NH2
وغیرہ جیسے سرگرم گروپوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ دراصل انزائم ذرات کی سطح پر سرگرم مراکز ہیں۔ اس متعامل (Substrate) کے سالمات جس کی شکل تتمی ہوتی یہ، ان جوف میں اس طرح فِٹ ہو جاتے ہیں جس طرح تالے میں چابی فٹ ہو جاتی ہے۔ سرگرم گروپ کی موجودگی کی وجہ سے ایک ایکٹیویٹڈ کمپلیکس تشکیل پاتا ہے جو کہ تحلیل ہو کر ماحصلات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
شکل 5.4: انزائم کیٹلس تعامل کا میکانزم
اس طرح انزائم- کیٹلائز تعاملات کے بارے میں یہ مانا جاسکتا ہے کہ یہ دو مرحلوں میں مکمل ہوتے ہیں۔
مرحلہ 1: انزائم کی سبسٹریٹ (Substrate) سے بندش، جس کے نتیجے میں ایکٹیویٹڈ کمپلکس بنتے ہیں۔
E+S→ES⇔
مرحلہ 2: ایکٹیویٹڈ کمپلیکس کی تحلیل سے ماحصلات بنتے ہیں۔
ES∗→E+P
5.2.5 صنعت میں وسیط
(Catalysts in Industry)
جدول 5.3 میں کچھ اہم تکنیکی وسیطی عمل دیے گئے ہیں۔ اس سے صنعتوں میں وسیط کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
جدول 5.3 کچھ صنعتی وسیطی عمل
| عمل |
وسیط |
1 -امونیا کے لیے ہیہرس پراسس
N2(g)+3H2(g)→2NH3(g)
|
باریک پسا ہوا آئرن،پروموٹرکے طور پر مالبڈینم حالات 200barدباؤاور773-723kدرجۂ حرارت |
2-نائٹرک ایسڈ بنانے کت لیے اوسٹوالڈپراسس
4NH3(g)+5O2(g)→4NO(g)+6H2O(g)
2NO(g)+O2(g)→2NO2(g)
4NO2+@H2O(1)+O2(g)→4HNO3(aq)
|
پلیٹینائزڈایسپٹس درجۂ حرارت
573k
|
3-سلفیورک ایسڈبننے کے لیے کانٹیکٹ پراسس
2SO2(g)+O2(g)→2SO3(g)
SO3(g)+H2SO4(aq)→H2S2O7(1)
اولیم
H2S2O7(1)+H2O(1)→2H2SO4(aq)
|
پلیٹینائزڈایبیسٹس یا وینیڈیم پینٹا آکسائڈ(V2O5) درجۂ حرارت
673-723k
|
متن پر مبنی سوالات
5.4 ہیبرس پراسس میں امونیا بنانے کے دوران CO کو ہٹانا کیوں ضروری ہے؟
5.5 ایسٹرہائڈرولسس شروع میں سست اور کچھ دیر کے بعد تیز کیوں ہو جاتا ہے؟
5.6 کیٹلسس کے عمل میں Desorption کا کیا رول ہے؟
5.3 کولائڈ (Colloids)
ہم اکائی 2 میں مطالعہ کر چکے ہیں کہ محلول متجانس نظام ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب ریت کو پانی میں ملاتے ہیں تو معلق (Suspension) حاصل ہوتا ہے جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ جاتا ہے۔ معلق اور محلولوں کی دو انتہا کے درمیان ہم نظاموں کا ایک بڑا گروپ دیکھتے ہیں جنہیں کولائڈل (Colloidal)، ڈسپرژن (Dispersion) یا صرف کولائڈ (Colloids) کہتے ہیں۔
کولائڈ ایک غیر متجانس نظام ہوتا ہے جس میں ایک شے بہت باریک ذرات کی شکل میں دوسری شے (انتشاری میڈیم) میں منتشر (منتشر فیز) ہو جاتا ہے۔
محلول اور کولائڈ میں ضروری فرق ذرات کا سائز ہے۔ محلول میں اجزائے ترکیبی ذرات آین یا چھوٹے سالمات ہوتے ہیں جبکہ کولائڈ میں منتشر فیز ایک بڑے سالمہ (جیسے کہ پروٹین یا تالیفی پالیمر) یا کئی ایٹموں، آینوں یا سالمات کے مجموعہ پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ کولائڈل ذرات سادہ سالمات کے مقابلے بڑے ہوتے ہیں لیکن اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ معلق رہ سکیں۔ ان کا قطر
کی رینج میں ہوتاہے۔ کم سائز کی وجہ سے کولائڈل ذرات کافی اکائی کمیت سطحی رقبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ 1 سینٹی میٹر ضلع والے کعب پر غور کیجیے۔ اس کا کل سطحی رقبہ 6cm2 ہے۔ اگر اسے 1012 کعب میں مساوی طور پر تقسیم کیا جائے تو ان کعب کا سائز بڑے کولائڈ کے ذرات کے برابر ہوگا اور کل سطحی رقبہ 60,000 cm2 یا 6m2 ہوگا۔ یہ بہت زیادہ سطحی رقبہ کولائڈوں کو کچھ مخصوص صفات عطا کرتا ہے جن پر اس اکائی میں بحث ہے۔
5.4 کولائڈوں کی درجہ بندی
(Classification of Colloids)
کولائڈروں کی مندرجہ ذیل معیار کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔
(i) منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کی طبیعی حالت
(ii) منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کے درمیان باہمی عمل کی نوعیت
(iii) منتشر فیز کے ذرات کی قسم
5.4.1 منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کی طبیعی حالت کی بنیاد پر درجہ بندی
اس بنا پر کہ کیا منتشر فیز اور انتشاری میڈیم ٹھوس، رقیق یا گیس ہیں، آٹھ قسم کے کولائڈی نظام ممکن ہیں۔ ایک گیس کی دوسری گیس میں آمیزش سے متجانس آمیزہ حاصل ہوتا ہے اور اسی لیے یہ کولائڈی نظام نہیں ہے۔ مختلف اقسام کے کولائڈوں کی مثالیں ان کے مخصوص ناموں کے ساتھ جدول 5.4 میں دی گئی ہیں۔
جدول 5.4 کولائڈل نظاموں کی اقسام
| منتشر فیز |
انتشاری میڈیم |
کولائڈی کی قسم |
مثالیں |
ٹھوس ٹھوس ٹھوس رقیق رقیق رقیق گیس گیس
|
ٹھوس رقیق گیس ٹھوس رقیق گیس ٹھوس رقیق
|
ٹھوس سول سول ایروسول جیل املشن ایروسیل ٹھوس سول فوم
|
کچھ رنگین کانچ اور جواہرات روغن ، خلیائی سیال دھواں ، دھول پنیر ، مکھن ، جیلی دودھ ، بالوں کی کریم کہرا ،دھند،بادل ، حشرہ کش اسپرے جھانوا پتھر ،فوم، ربر جھاگ ، صابن کے جھاگ ، کریم
|
کئی جانی پہچانی تجارتی مصنوعات اور قدرتی اشیا کولائڈ ہیں۔ مثال کے طور پر پھینٹی گئی کریم ایک جھاگ ہے جو کہ رقیق میں منتشر گیس ہے۔ ہوائی جہازوں کی ایمرجنسی لینڈنگ کے وقت آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والی فوم بھی کولائڈی نظام ہیں۔ زیادہ تر حیاتیاتی سیال آبی سول (پانی میں منتشر ٹھوس) ہیں۔ ایک مخصوص خلیہ میں پروٹین اور نیوکلک ایسڈ کولائڈل سائز ذرات ہیں جو کہ آینوں اور چھوٹے سالمات کے آبی محلول میں منتشر ذرات ہیں۔
جدول 5.4 میں دیے گئے مختلف قسم کے کولائڈوں میں سے سب سے عام کولائڈ ہیں: سول (رقیق میں ٹھوس)، جیل (ٹھوس میں رقیق) اور ایملشن (رقیق میں رقیق)۔ حالانکہ موجودہ اکائی میں ہم صرف سول اور ایملشن پر ہی بحث کریں گے مزید اس میں یہ بھی اضافہ ہو سکتا ہے کہ اگر انتشاری میڈیم پانی ہے تو سول کو آبی سول (Aquasol) یا ہائڈروسول کہا جاتا ہے اور اگر انتشاری میڈیم الکوحل ہے تو اسے الکوسول (Alcosol) کہتے ہیں۔
5.4.2 منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کے درمیان باہمی عمل کی بنیاد پر درجہ بندی
منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کے درمیان باہمی عمل کی بنیاد پر کولائڈی سول کو دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی لیوفلک (Lyophlic) (محل پسند) اور لیوفوبک (Lyophobic) (محل گریز) اگر پانی انتشاری میڈیم ہے تو ہائڈروفلک اور ہائڈروفوبک اصطلاحات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(i) لیوفلک کولائڈ (Lyophilic colloids): لفظ لیوفلک کا مطلب ہے رقیق پسند۔ گوند، جلیٹن اسٹارچ، ربر جیسے مادوں کی مناسب رقیق (انتشاری میڈیم) میں آمیزش کرنے پر حاصل ہونے والے کولائڈل سول لیوفلک سول کہلاتے ہیں۔ ان سول کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اگر انتشاری میڈیم کو منتشر فیز (فرض کیجئے نیچز کے ذریعہ) سے علیحدہ کر دیا جائے تو سول کی صرف انتشاری میڈیم کے ساتھ دوبارہ آمیزش کرکے دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے ان سول کو رجعتی سول (Reversible Sol) بھی کہتے ہیں۔ مزید یہ ہے کہ یہ سول کافی مستحکم ہوتے ہیں اور جیسا کہ آگے مذکور ہے، ان کی بستگی (Coagulaton) آسان نہیں ہے۔
(ii) لیوفوبک کولائڈ (Lyophobic colloids): لفظ لیوفوبک کا مطلب ہے رقیق گریز۔ دھاتیں اور ان کے سلفائڈ وغیرہ جیسی اشیا کی جب انتشاری میڈیم میں آمیزش کی جاتی ہے تو کولائڈی سول نہیں بنتا۔ ان کے کولائڈی سول صرف مخصوص طریقوں (جن پر بعد میں بحث کی جائے گی) سے بنائے جاسکتے ہیں۔ اس قسم کے سول لیوفوبک سول کہلاتے ہیں۔ ایسے سول میں الیکٹرولائٹ کی تھوڑی سی مقدار ملاکر، گرم کرکے یا ہلاکر ان کی ترسیب (یا بستگی) کی جاسکتی ہے۔ اور اسی لیے یہ مستحکم نہیں ہوتے۔ مزید یہ کہ ایک مرتبہ ان کی ترسیب ہونے کے بعد یہ انتشاری میڈیم کی آزیزش کرنے پر دوبارہ کولائڈی سول نہیں بناتے۔ اس لیے انھیں غیر رجعتی سول (Irreversible sol) بھی کہتے ہیں۔ لیوفوبک سول کو محفوظ کرنے کے لئے اسٹیبلائزنگ ایجنٹ درکار ہوتے ہیں۔
5.4.3 منتشر فیز کے ذرات کی قسم کی بنیاد پر درجہ بندی کثیر سالماتی، کلاں سالماتی اور ایسوسی ایٹڈ کولائڈ
منتشر فیز کے ذرات کی قسم کی بنیاد پر کولائڈوں کی درجہ بندی کثیر سالماتی، کلاں سالماتی اور ایسوسی ایٹڈ کولائڈ کے تحت کی جاسکتی ہے۔
(i) کثیر سالماتی کولائڈ (Multimolecular colloids): تحلیل ہونے پر کسی شے کے بہت سے ایٹم یا چھوٹے سالمات ایک ساتھ جمع ہو کر ایسی اسپشیز کی تشکیل کرتے ہیں جس کا سائز کولائڈی رینج میں (قطر 1nm >) ہو تو اس قسم کی اسپشیز کثیر سالماتی کولائڈ کہلاتی ہے۔ مثال کے طور پر گولڈ سول میں متعدد ایٹموں پر مشتمل مختلف سائز والے ذرات ہوتے ہیں۔ سلفر سول میں ایک ہزار یا اس سے بھی زیادہ S8 سلفر سالمات موجود ہوتے ہیں۔
(ii) کلاں سالماتی کولائڈ (Macromolecular colloids): کلاں سالمات (اکائی 15) مناسب محللوں میں ایسے محلول بناتے ہیں جن میں کلاں سالمات کا سائز کولائڈی رینج میں ہو سکتا ہے۔ ایسے نظام کلاں سالماتی کولائڈ کہلاتے ہیں۔ یہ کولائڈ کا فی مستحکم ہوتے ہیں اور کئی معنیٰ میں حقیقی محلولوں کی طرح ہوتے ہیں۔ قدرتی طور پر پائے جانے والے کلاں سالماتی کولائڈوں کی مثالیں ہیں: اسٹارچ، سیلیولوز، پروٹین اور انزائم نیز انسان ساختہ کلاں سالمات ہیں پالی تھین، نائلون، پالی اسٹائرین، تالیفی ربر وغیرہ۔
(iii) ایسوسی ایٹڈ کولائڈ (مسیل) [Associated colloids (Micelles)]: کچھ اشیا ایسی ہیں جو کہ ارتکاز پر نارمل طاقتور الیکٹرولائٹ کی طرح کا طرز عمل ظاہر کرتے ہیں لیکن زیادہ ارتکاز پر ایگریگیٹڈ (Aggregated) ذرات کی تشکیل کی وجہ سے کولائڈوں جیسا طرز عمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ایگریگیٹڈ ذرات مسیل (Micelles) کہلاتے ہیں۔ انھیں ایسوسی ایٹڈ کولائڈ بھی کہتے ہیں۔ مسیل کی تشکیل ایک مخصوص درجہئ حرارت کے اوپر ہی ہوتی ہے جسے کرافٹ درجہئ حرارت (Tk) کہتے ہیں اور مخصوص ارتکاز سے اوپر یہ فاصل مسیل ارتکاز (CMC یعنی Critical micelle Coneertration) کہلاتا ہے۔ ڈائی لیوژن پر یہ کولائڈ انفرادی آینوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ سطحی سرگرم ایجنٹ مثلاً صابن اور تالیف ڈیٹرجنٹ اس زمرے میں آتے ہیں۔ صابن کے لیے
CMC کی قدر
10-3molL-1-10-4تا
ہے۔ یہ کولائڈ لیوفویک اور لیوفلک دونوں حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مسیل میں 100 یا اس سے بھی زیادہ سالمات ہوتے ہیں۔
مسیل کی تشکیل کا میکانزم (Mechanism of micelle formation)
آئیے صابن کے محلول کی مثال لیتے ہیں۔ صابن اونچے فیٹی ایسڈوں کے سوڈیم یا پوٹاشیم نمک ہیں۔ انہیں
RCOO-Na+
سے ظاہر کیا جاتا ہے (مثلاً سوڈیم اسٹریٹ
CH3(CH2)16COO-Na+
جو کہ زیادہ تر صابنوں کا اہم جزو ہے)۔
شکل 5.6: (a) صابن کے کم ارتکاز پر پانی کی سطح پر اسٹریٹ آینوں کی ترتیب
(b) صابن کے فاصل میسل ارتکاز پر پانی کے جسم میں اسٹریٹ آینوں کی ترتیب
جب صابن کو پانی میں گھولا جاتا ہے تو یہ– RCOO اور+Naآینوں میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ RCOO– آین دو حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں ایک لمبی ہائڈروکاربن زنجیر R (جسے غیر قطبی دم بھی کہتے ہیں) جو کہ ہائڈروفوبک (آب گریز) ہے اور ایک قطبی گروپ– COO
(جسے قطبی- آینی پیڈ بھی کہتے ہیں) جو کہ ہائڈروفلک (آپ پسند) ہوتاہے۔
–RCOO آین سطح پر اس طرح موجود رہتے ہیں کہ ان کا– COO
گروپ پانی میں اور ہائڈروکاربن زنجیر R اس سے دور سطح پر رہتی ہے۔ لیکن فاصل مسیل ارتکاز پر این آین محلول کی جسامت (Bulk) میں کھنچ جاتے ہیں اور ایک ساتھ کروی شکل میں اس طرح جمع ہو جاتے ہیں کہ ان کی ہائڈروکاربن زنجیریں مرکز کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور– COO
حصہ باہر کی طرف سطح پر رہتا ہے۔ اس طرح بننے والا ایگریگیٹ آینی مسیل (Ionic micelle) کہلاتا ہے۔ یہ مسیل اس قسم کے 100 آینوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح سوڈیم لارل سلفیٹ
CH3(CH2)11SO4-Na+
جیسے ڈٹرجنٹ کے معاملے میں قطبی گروپ SO4– ہے جو کہ ہائڈروکاربن زنجیر کے ہمراہ ہے۔ اس طرح، مسیل کی تشکیل کا میکانزم یہاں بھی صابن کی طرح ہی ہے۔
صابن کا عمل صفائی (Cleaning action of soaps)
یہ پہلے ہی بتایا جاچکا ہے کہ مسیل میں مرکزی کور کی طرح ایک ہائڈروفوبک ہائڈروکاربن ہوتا ہے۔ صابن کا عمل صفائی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ صابن کے سالمات تیل کی بوند کے چاروں طرف اس طرح مسیل بناتے ہیں کہ اسٹریٹ آین کاہائڈروفوبک حصہ تیل کی بوند میں ہوتا ہے اور ہائڈروفلک حصہ روئیں کی طرح گریس کی بوند سے باہر نکلارہتا ہے (شکل 5.7)۔ کیونکہ قطبی حصہ پانی کے ساتھ باہمی عمل کرسکتا ہے، اسٹریٹ آینوں سے گھری ہوئی تیل کی بوندیں پانی میں کھینچ لی جاتی ہے اور گندگی سطح سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔ اس طرح صابن ایملیفیکشین اور چربیوں نیز تیل کو صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ چھوٹی گولیوں کے چاروں طرف منفی چارج شدہ غلاف انھیں ایک ساتھ آنے اور ایگریگیٹ بنانے سے روکتا ہے۔
شکل 5.7: (a) کپڑوں پر گریس (b) گریس کے فطروں کے اطراف اسٹئریٹ آینوں کی ترتیب اور (c) اسٹئریٹ آینوں سے گھرے ہوئے گریس کے قطرے (میسل کی شکیل)
گریس کے فطروں کے اطراف اسٹئریٹ آینوں کی ترتیب اور (C)اسٹئریٹ آینوں سے گھرے ہوئے گریس کے قطرے (میسل کی شکیل )
کولائڈ بنانے کے کچھ اہم طریقے مندرجہ ذیل ہیں:
5.4.4کولائڈوں کی تیاری
(Preparation of Colloids)
(a) کیمیائی طریقے (Chemical methods)
کولائڈی محلول دوہری تحلیلی، تکسیدی، تحویل یا ہائڈرولسس کے ذریعہ سالمات کی تشکیل کرکے کیمیائی تعاملات کے ذریع تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ سالمات ایگریگیٹ ہو کر سول کی تشکیل کرتے ہیں۔
As2O3+3H2S→As2S3(sol)+3H2O
SO2+2H2S→3S(sol)+2H2O
2AuCl3+3 HCHO+3H2O→2Au(sol)+3HCOOH+6HCl
FeCl3+3H2O→Fe(OH)3(sol)+3HCl
(b) برقی تحلیل یا بریڈگ کا آرک طریقہ (Electrical disintegration or Bredig’s Arc method)
یہ طریقہ انتشار (Dispersion) اور تکثیف (Condensation) پر مشتمل ہے۔ سونا، چاندی، پلیٹینم وغیرہ جیسی دھاتوں کے سول اسی طریقے سے بنائے جاتے ہیں۔ اس طریقے سے انتشاری میڈیم میں ڈوبے دھاتی الیکٹروڈ کے درمیان ایک برقی آرک منسلک کیا جاتا ہے (شکل 5.8)۔ پیدا ہونے والی تیز گرمی دھات کو تبخیر کر دیتی ہے جو کہ تکثیف ہوکر کولائڈی سائز کے ذرات بناتی ہے۔
(c) پیپٹائزیشن (Peptization)
پیپٹائزیشن کی تعریف اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ کسی رسوب کو الیکٹرولائٹ کی تھوڑی سی مقدار میں انتشاری میڈیم کے ساتھ ہلاکر کولائڈی سول میں تبدیل کرنے کا طریقہ پیپٹینائزیشن کہلاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے استعمال ہونے والا الیکٹرولائٹ پیپٹائزنگ ایجنٹ کہلاتا ہے۔ اس طریقہ کا استعمال عام طور سے تازہ بنے رسوب کوکو لائڈی سول میں تبدیل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
پیپٹائزیشن کے دوران رسوب، الیکٹرولائٹ کے کسی ایک آین کو اس کی سطح پر جذب کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ سے رسوب پر مثبت یا منفی چارج پیدا ہوجاتا ہے جو کہ کولائڈی سائز کے چھوٹے ذرات میں ٹوٹ جاتا ہے۔آپ ٹھوس ذرّات پر چارج پیداہونے کے عمل اور ذرّات کے بکھراؤ کو سیکشن 5.4.6میں کولائڈل ذرّات پر چارج کے ذیلی عنوان کے تحت پڑھیں گے۔
5.4.5 کولائڈی محلولوں کی تخلیص
(Purification of Colloidal Solutions)
جب کولائڈی محلول کو بنایا جاتا ہے تو ان میں الیکٹرولائٹ کی کافی مقدار اور کچھ دوسری حل پذیر ملاوٹیں ہوتی ہیں۔ حالانکہ الیکٹرولائٹ کی معمولی سی مقدار کولائڈی محلول کے استحکام کے لیے ضروری یہ جبکہ زیادہ مقدار اسے بستہ کر دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان حل پذیرملاوٹوں کے ارتکاز کو مناسب حد تک کم کیا جائے۔ وہ عمل جس کے ذریعہ ملاوٹوں کو مناسب حد تک کم کیا جاتا ہے کولائڈی محلول کی تخلیص کہلاتا ہے۔ کولائڈی محلول کی تخلیص مندرجہ ذیل طریقوں سے کی جاتی ہے۔
(i) ڈائی لسس (Dialysis): ایک مناسب جھلی کی مدد سے نفوذ کے ذریعہ کولائڈی محلول سے حل پذیر اشیا کو علیحدہ کرنا ڈائی لسس کہلاتا ہے۔ کیونکہ حقیقی محلول کے ذرات (آین یا چھوٹے سالمات) حیوانی جھلی (بلیڈر)، پارچمنٹ کاغذ یا سیلفون شیٹ میں سے گزرسکتے ہیں لیکن کولائڈی ذرات نہیں لہٰذا ڈائی لسس کے لیے جھلی کااستعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے استعمال میں آنے والا آلہ ڈائی لیزر (Dialyser) کہلاتا ہے۔
کولائڈی محلول پر مشتمل ایک مناسب جھلی سے بنے تھیلے کو ایک برتن میں لٹکایا جاتا ہے جس میں سے ہو کر تازہ پانی مسلسل بہتا رہتا ہے (شکل 5.9)۔ سالمات اور آین جھلی میں سے نفوذ ہو کر پانی میں آجاتے ہیں اور خالص کولائڈی محلول پیچھے رہ جاتا ہے۔
(ii) الیکٹروڈائی لسس (Electro-dialysis): عام طور سے ڈائی لسس کا عمل بہت سست ہوتا ہے اگر غیر خالص کولائڈی محلول میں حل پذیر شے صرف الیکٹرولائٹ ہوتو اس کا برقی میدان لگا کر تیز کیا جاسکتاہے تب اسے الیکٹروڈائی لسس کا نام دیا جاتا ہے۔ کولائڈی محلول کو ایک مناسب جھلی کے بیگ میں رکھا جاتا ہے جبکہ خالص پانی کو باہر لیا جاتا ہے۔ الیکٹروڈ کو شکل 5.10 کے مطابق کمپارٹمنٹ میں لگادیا جاتا ہے۔ کولائڈی محلول میں موجود آین مخالف چارج والے الیکٹروڈ کی جانب حرکت کرتے ہیں۔
(iii) الٹرافلٹریشن (Ultrafiltration): الٹرافلٹریشن وہ عمل ہے جس میں محلل سے کولائڈی ذرات اور کولائڈ محلول میں موجود حل پذیر منحل کو ان مخصوص فلٹر کے ذریعہ علیحدہ کیا جاتا ہے جو کہ کولائڈی ذرات کے علاوہ باقی تمام اشیا کے لیے سرایت پذیر ہوتے ہیں۔ کولائڈی ذرات عام فلٹر پیپر سے گزرجاتے ہیں کیونکہ سامات کافی بڑے ہوتے ہیں۔ تاہم کولائڈی ذرات کو گزرنے سے روکنے کے لیے کولوڈین (Colloidion) محلول بسریز کرکے ان سالمات کے سائز کو چھوٹا کیا جاسکتا ہے۔ عام طور سے کولوڈین، الکحل اور ایتھر کے آمیزے میں نائٹروسیلیلوز کا %4محلول ہوتا ہے۔ الٹرافلٹر پیپر کو ایک کولوڈین محلول میں بھگوکر، فارملڈیہائڈ کی مدد سے سخت بناکر اور آخیر میں سکھا کر بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح الٹرافلٹر پیپر کے استعمال سے کولائڈی ذرات کو دیگر اشیا سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ الٹرافلٹریشن ایک سست عمل ہے۔ عمل کو تیز کرنے کے لیے دباؤ یا شکن (Suction) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ خالص کولائڈی محلول حاصل کرنے کے لیے الٹرافلٹر پیپر پر باقی ماندہ کولائڈی ذرات کو تازہ انتشاری میڈیم (محلل) کے ساتھ ہلایا جاتا ہے۔
5.4.6 کولائڈی محلول کی خصوصیات
(Properties of Colloidal Solutions)
کولائڈی محلولوں کی مختلف خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(i) مربوط خصوصیات (Colligative properties): کولائڈی ذرات نسبتاً بڑے ایگریگیٹ ہونے کی وجہ سے کولائڈی محلول میں، حقیقی محلول کے مقابلے ذرات کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اس لیے یکساں ارتکاز پر مربوط خصوصیات (ولوجی دباؤ، بخاراتی دباؤ میں تخفیف نقطہ انجماد میں کمی اور نقطہ جوش میں اضافہ) کی قدریں حقیقی محلولوں کے ذریعہ ظاہر کی گئی قدروں کے مقابلے کم آرڈر کی ہوتی ہیں۔
(ii) ٹنڈل اثر (Tyndall effect): اگر اندھیرے میں رکھے ہوئے ایک متجانس آمیزہ کا روشنی کی سمت میں مشاہدہ کیا جائے تو یہ واضح نظر آتا ہے اور اگر اس کا مشاہدہ روشنی کی سمت کے عمودی کیا جائے تو یہ مکمل طور سے گہرے رنگ کا (Dark) نظر آتا ہے۔ کولائڈی محلولوں کو اسی طرح دیکھنے پر یہ ترسیلی روشنی کے ذریعہ مناسب طور پر واضح یا نیم شفاف نظر آتے ہیں لیکن روشنی کے راستہ سے زاویہ قائمہ پر دیکھنے سے یہ کم سے زیادہ غیر شفافیت ظاہرکرتے ہیں۔ یعنی روشنی کا راستہ نیلے رنگ کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔ اس اثر کا سب سے پہلے فیراڈے نے مشاہدہ کیا تھا اور بعد میں اس کا تفصیلی مطالعہ ٹنڈل (Tyndall) کے ذریعہ کیا گیا۔ اسی لیے یہ ٹنڈل اثر (Tyndall effect) کہلاتا ہے۔ روشنی کا چمکدار مخروط ٹنڈل مخروط(Tyndallcone)کہلاتا ہے۔(شکل5.11) ٹنڈل اثر اس حقیقت کی وجہ سے ہوتا ہے کہ کولائڈی ذرات روشنی کو اسپیس میں سبھی سمتوں میں منتشر کر دیتے ہیں۔ روشنی کا یہ انتشار کولائڈی انتشار میں روشنی کے راستہ کو منور کر دیتا ہے۔
ٹنڈل اثر کو سنیماہال پکچر کے پروجیکشن کے دوران ہال میں موجود دھول اور دھوئیں کے ذرات کو روشنی کے انتشار کی وجہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹنڈل اثر کا مشاہدہ صرف اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے جب مندرجہ ذیل دونوں شرائط مطمئن ہو جائیں۔
(i) منتشر ہونے والے ذرات کا قطر استعمال ہونے والی روشنی کے طول موج سے بہت زیادہ کم نہیں ہونا چاہیے۔ اور
(ii) منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کے انعطافی اشاریوں کی وسعت میں بہت زیادہ فرق ہو۔
ٹنڈل اثر کا استعمال کولائڈی اور حقیقی محلولوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ 1903 میں Zsigmondy، نے ایک ایسا آلہ سیٹ اپ کرنے کے لیے ٹنڈل اثر کا استعمال کیا جسے الٹرامائکروسکوپ کہتے ہیں۔ کانچ کے برتن میں رکھے کولائڈی محلول پر روشنی کا بیم فوکس کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد روشنی کے فوکس کا مائکروسکوپ کی مدد سے روشنی سے 90° کے زاویہ پر مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ انفرادی کولائڈی ذرات چمکتے ہوئے ستاروں کی مانند نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر سیاہ نظر آتا ہے۔ الٹرامائکروسکوپ حقیقی کولائڈی ذرات کی نقش کشی نہیں کرتا ہے بلکہ ان کے ذریعہ منتشر ہونے والی روشنی کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اس طرح الٹرامائکروسکوپ ذرات کے سائز اور شکل کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کرتا۔
(iii) رنگ (Colour): کولائڈی محلول کا رنگ منتشر ذرات کے ذریعہ منتشر ہونے والی روشنی کے طول موج پر منحصر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ روشنی کے طول موج کا انحصار ذرات کے سائز اور ان کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ کولائڈی محلول کا رنگ آبزرور کے ذریعہ روشنی کامل کرنے کے طریقہ بھی منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دودھ اور پانی کا آمیزہ منعکس روشنی میں نیلا نظر آتا ہے جبکہ ترسیل شدہ روشنی میں دیکھنے پر یہ سرخ نظر آتا ہے۔ گولڈسول کا رنگ سرخ ہوتا ہے، جیسے جیسے ذرات کے سائز میں اضافہ ہوتاہے یہ بینگنی اور پھر نیلا اور آخیر میں سنہرا ہو جاتا ہے۔
(iv) براؤنی حرکت (Brownian movement): جب کولائڈی محلولوں کو طاقتور الٹرامائکروسکوپ کی مدد سے دیکھا جاتا ہے تو کولائڈی ذرات ایک مسلسل بے قاعدہ حرکت (Zigzag motion) کی حالت میں نظرآتے ہیں۔ اس حرکت کا سب سے پہلے برطانوی ماہر نباتیات رابرٹ براؤن نے مشاہدہ کیا تھا اسی لیے اسے براؤنی حرکت (شکل 5.12) کہا جاتا ہے۔ یہ حرکت کولائڈ کی نوعیت سے مبرا ہوتی ہے لیکن ذرات کے سائز اور محلول کی لزوجت پر منحصر ہوتی ہے۔ سائز جتنا چھوٹا اور لزوجت جتنی گرم ہوگی، حرکت اتنی ہی تیز ہوگی۔براؤنی حرکت کی تشریح انتشاری میڈیم کے سالمات کے کولائڈی ذرات سے غیر متوازن تصادم کی وجہ سے کی جاسکتی ہے۔ براؤنی حرکت جنبشی اثر رکھتی ہے جو کہ ذرات کو نیچے بیٹھنے دیتی ہے اور اس طرح کولائڈی سول کے استحکام کے لیے ذمہ دار ہے۔
(v) کولائڈی ذرات پر چارج (Charge on colloidal particles): کولائڈی ذرات پر ہمیشہ برقی چارج موجود ہوتا ہے۔ دیے گئے کولائڈی محلول میں سبھی ذرات پر اس چارج کی نوعیت یکساں ہوتی ہے جو کہ مثبت یا منفی ہو سکتی ہے۔ کچھ سول کی فہرست ان کے ذرات پر چارج کی نوعیت کے ہمراہ ذیل میں دی گئی ہے۔
| مثبت چارج شدہ سول |
منفی چارج شدہ سول |
ہائڈرینڈ دھاتی آکسائڈ مثلاََ
CrO3.xH2O,Al2O3.xH2O
اور
وٖغیرہFe2O3.xH2O
اساسی رنگ مثلاََمیتھائلین بلو سول
(ہیموگلوبن(خون
TiO2آکسائڈ مثلاََ
|
دھاتیں مثلاََکاپر ، سلور، گولڈ سول دھاتی سلفائڈ مثلاََCdS,Sb2S3,As2S3 سول تیزابی رنگ مثلاََایسوسین، کونگریڈسول اسٹارچ، گوند ، جلیٹن ، کلے ، چارکول سول |
کولائڈی ذرات پر مساوی اور یکساں چارجوں کی موجودگی کولائڈی محلولوں کے استحکام کے لیے خاص طور سے ذمہ دار ہے کیونکہ یکساں چارجوں کے درمیان دافع قوتیں انھیں ایک دوسرے کے نزدیک آنے پر ایک جگہ جمع ہونے سے روکتی ہیں۔
سول ذرات پر چارجوں کی موجودگی کی ایک یا زیادہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلاً دھاتوں کے برقی انتشار کے دوران سول ذرات کے ذریعہ الیکٹران کا مقید ہو جانا۔ محلول سے آینوں کا ترجیحی التصاق اور ریا برقی دوہری پرت کی تشکیل۔ سول ذرات پر آینوں کے ترجیحی التصاق(adsorption)کے سبب چارج کے پیداہونے کا بیان درج ذیل ہے۔
سول ذرات مثبت یا منفی آینوں کے ترجیحی التصاق کے ذریعہ مثبت یا منفی چارج حاصل کر لیتے ہیں۔ جب انتشاری میڈیم میں دویا زیادہ آین موجود ہوتے ہیں تو کولائڈی ذرات سے مشترک آین کا ترجیحی التصاق ہوتاہے۔ مندرجہ ذیل مثالوں سے اس کی تشریح کی جاسکتی ہے:
(a) جب بہت زیادہ ہلکے پوٹاشیم آیوڈائڈ محلول میں بہت زیادہ ہلکے سلور نائٹریٹ کی آمیزش کی جاتی ہے تو ترسیب شدہ سلور آیوڈائڈ انتشاری میڈیم سے آیوڈائڈ آینوں کا التصاق کرلیتا ہے اور منفی چارج شدہ کولائڈی محلول تشکیل پاتا ہے۔ تاہم اگر AgNO3 محلول میں KI محلول کی آمیزش کی جاتی ہے تو انتشاری میڈیم سے +Ag آینوں کے التصاق کی وجہ سے مثبت چارج شدہ سول حاصل ہوتا ہے۔
Agl/Ag+ Agl/l-
مثبت چارج شدہ منفی چارج شدہ
(b) اگر گرم پانی کی وافر مقدار میں FeCl3 کی آمیزش کی جاتی ہے تو Fe3+ آینوں کے التصاق کی وجہ سے مثبت چارج شدہ ہائڈرٹیڈ فیرک آکسائڈ کا سول حاصل ہوتا ہے۔ اگر NaOH محول میں فریک کلورائڈ کی آمیزش کی جاتی ہے تو OH– آینوں کے التصاق کی وجہ سے منفی چارج شدہ سول حاصل ہوتا ہے۔
ٖFe2O3.xH2O/Fe3+ Fe2O3.xH2O/OH-
منفی چارج شدہ مثبت چارج شدہ
جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، ترجیحی التصاق کے ذریعہ کولائڈی ذرات کی سطح پر مثبت یا منفی چارج آجانے کے بعد یہ پرت میڈیم میں سے کاؤنٹرآینوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور دوسری پرت تشکیل پاتی ہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
Agl/Ag+l- Agl/l-K+
کولائڈی ذرات کے چاروں طرف برعکس چارجوں کی دو پرتوں کا اتحاد ہیمیولٹز برقی دوہری پرت کہلاتا ہے۔ جدید نظریہ کے مطابق آینوں کی پہلی پرت سختی کے ساتھ بندھی رہتی ہے اور متعین پرت (Fixed layer) کہلاتی ہے جبکہ دوسری پرت متحرک ہوتی ہے اور منفوذ پرت (Diffused layer) کہلاتی ہے۔ تصویر5.13دوہری پرت کودکھاتی ہے۔ کیونکہ چارجوں کی علیحدگی (Potential)امکانی توانائی کا مقام ہے لہٰذا متعین اور منفوذ حصوں پر برعکس علامات والے چارجوں کی وجہ سے دوپرتوں کے درمیان امکانی توانائی کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح آلہ تکثیف میں امکانی توانائی کا فرق پیداہوتا ہے متعین پرت اور منفوذ پرت کے درمیان یہ امکانی توانائی کا فرق برق حرکی توانائی (Electrokinetic Potential) یا زیٹا امکانی توانائی (Zeta potential) کہلاتا ہے۔
اگر ناقابل حل شے (رسوب) کے دو ذرات میں دوپرتیں نہیں ہیں تو وہ اتنے قریب آسکتے ہیں کہ ان کو ون ڈروالزقوتیں ایک ساتھ کھینچ سکتی ہیں۔جب ذرات میں دوپرتیں ہوتی ہیں، جیسا کہ تصویر 5.13میں دکھایا گیا ہے تو مجموعی اثریہ ہوگا کہ ذرات ایک دوسرے کوعلیحدگی کے بڑے فاصلے پر دھکیل دیتے ہیں۔ یہ دفاعی عمل ان کے قریب آنے کوروک دیتا ہے۔ وہ منتشررہتے ہیں اورکولائیڈ مستحکم رہتا ہے۔
معلق لسونت (Sol)میں مزید الیکٹرلائٹ ملانے سے نفوذشدہ دوہری پرتوں کودبادیتی ہے اور زیٹا امکانی توانائی(Zeta Potential)کوکم کرتی ہے۔ یہ ایک بڑی حدتک ذرات کے درمیان برق سکونی دفع کوکم کردیتی ہے اورلسونت رسوب بن جاتے ہیں۔اسی وجہ سے لسونت (کولائڈ)خاص طورپر مخالف چارج والے آین کے تئیں حساس ہوتے ہیں۔
(vi) الیکٹروفورسیس (Electrophoresis): کولائڈی ذرات پر چارجوں کے وجود کی تصدیق الیکٹروفورسیس تجربہ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ کولائڈی محلول میں ڈوبی ہوئی دو پلیٹینم الیکٹروڈوں پر برقی مضمر لگایا جاتا ہے تو کولائڈی ذرات ایک یا دوسرے الیکٹروڈ کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ اطلاقی برقی مضمر کے تحت کولائڈی ذرات کی حرکت الیکٹروفورسیس کہلاتی ہے۔ مثبت چارج والے ذریت کیتھوڈ کی جانب حرکت کرتے ہیں جبکہ منفی چارج والے ذرات اینوڈ کی جانب حرکت کرتے ہیں۔ اسے مندرجہ ذیل تجرباتی سیٹ اپ کے ذریعہ دکھایا جاسکتا ہے (شکل5.13)۔
جب الیکٹروفورسیس بفی ذرات کی حرکت کو کچھ مناسب طریقوں کے ذریعہ روکا جاتا ہے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ انتشاری میڈیم برقی میدان کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ مظہر برقی ولوج (Electroosmosis) کہلاتا ہے۔
(vii) بستگی یا ترسیب (Coagulation or precipitation of the Sol) لیوفوبک سول کا استحکام کولائڈی ذرات پر چارجوں کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ اگر کسی طرح چارج ہٹادیا جائے تو ذرات ایک دوسرے کے نزدیک آجائیں گے اور ایگریگیٹ (یابستہ) تشکیل دے کر کشش ثقل کے باعث نیچے بیٹھ جائیں گے۔
کولائڈی ذرات کے نیچے بیٹھنے کا عمل سول کی بستگی یا ترسیب کہلاتا ہے۔
لیوفوبک سول کی بستگی کا عمل مندرجہ ذیل طریقوں سے بروئے کار لایا جاسکتا ہے:
(i) الیکٹروفورسیس کے ذریعہ (By electrophoresis): کولائڈی ذرات برعکس چارج والے الیکٹروڈ کی طرف حرکت کرتے ہیں اور ڈسچارج ہو جاتے ہیں اس طرح ان کی ترسیب ہو جاتی ہے۔
(ii) دوبرعکس چارج والے سول کی آمیزش کے ذریعہ: جب برعکس چارج والے سول کی تقریباً مساوی تناسب میں آمیزش کی جاتی ہے تو ان کے چارج تعدیل ہو جاتے ہیں اور ان کی مکمل طور سے یا جزوی طور پر ترسیب ہو جاتی ہے۔ ہائڈریٹڈ فیرک آکسائڈ (مثبت سول) اور آرسینیس سلفائڈ (منفی سول) کی آمیزش کے نتیجے میں ان کی ترسیب ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی بستگی باہمی بستگی (Mutual coagulation) کہلاتی ہے۔
(iii) ابال کر (By boiling): جب کسی سول کو ابالا جاتا ہے تو التصاق شدہ پرت میں انتشاری میڈیم کے سالمات کے ساتھ تصادم کی وجہ سے خلل پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ذرات پر چارج کم ہو جاتا ہے اور نتیجتاً یہ رسوب کی شکل میں نیچے بیٹھ جاتے ہیں۔
(iv) متواتر ڈائی لسس (By persistent dialysis): طویل ڈائی لسس کے نتیجے میں سول میں موجود الیکٹرولائٹ کے نشانا تقریباً مکمل طور سے ختم ہو جاتے ہیں اور کولائڈ غیر مستحکم ہو جاتا ہے اور بالآخر بستہ ہو جاتا ہے۔
(v) الیکٹرولائٹ ملاکر (By addition of electrolytes): جب الیکٹرولائٹ وافر مقدار میں ملایا جاتا ہے تو کولائڈی ذرات کی ترسیب ہو جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کولائڈی ذرات اپنے چارج کے مخالف چارج والے آینوں سے باہمی عمل کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے تعدیلی ہوتی ہے اور یہ بستگی کا سبب بن جاتی ہے۔ ذرات پر موجود چارج کی تعدیلی کے لئے ذمہ دار آین بستگی آین کہلاتے ہیں۔ ایک منفی آین مثبت چارج شدہ سول کی ترسیب کرتا ہے اور مثبت آین منفی چارج والے سول کی ترسیب کرتا ہے۔
یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ عموماً، ملائے جانے والے آین کی گرفت جتنی زیادہ ہوتی ہے اس کی ترسیب کرنے کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اسے ہارڈی شلز کلیہ (Hardy shulze rule) کہتے ہیں۔ منفی سول کی بستگی میں Flocculating power کی ترتیب ہے:
Al3+>Ba2+>Na+
اسی طرح مثبت سول کی بستگی میں Flocculating power کی ترتیب ہے:
[Fe(CN)6]4->PO43->SO42->Cl-
کسی الیکٹرولائٹ کا ملی مول فی لیٹر میں ارتکاز جو کسی سول کی دو گھنٹوں میں ترسیب کے لیے مطلوب ہے بستگی قدر کہلاتا ہے۔ مطلوبہ مقدار جتنی کم ہوگی آین کی بستگی کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
لیوفلک سول کی بستگی (Coagulation of lyophilic sols)
لیوفلک سول کے استحکام کے لئے دو عوامل ذمہ دار ہیں۔ یہ عوام ہیں، کولائڈی ذرات پر چارج اور ان کا سالویشن (Solvation)۔ جب ان دونوں عوامل کو ہٹادیا جاتاہے تو لیوفلک سول کی بستگی ہو جاتی ہے۔ ایسا (i) الیکٹرولائٹ ملاکر اور (ii) کوئلی مناسب محلل ملاکر کیا جاسکتا ہے۔ جب الکحل اور ایسی ٹون جیسے محلل کسی ہائڈروفلک سول میں ملائے جاتے ہیں تو منتشر فیز کا ڈی ہائڈریشن ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں الیکٹرولائٹ کی بہت تھوڑی مقدار سے بھی بستگی ہو جاتی ہے۔
کولائڈوں کی حفاظت (Protection of colloids)
لیوفلک سول، لیوفویک سول کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لیوفلک کولائڈ وسیع طور پر سالویشن کی صلاحیت رکھتے ہیں یعنی کولائڈی ذرات اس رقیق کے غلاف سے ڈھک جاتے ہیں جس میں یہ منتشر رہتے ہیں۔
لیوفلک کولائڈوں کی یکتا خصوصیت یہ ہے کہ یہ لیوفوبک کولائڈوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ایک لیوفلک سول کو لیوفوبک سول میں ملایا جاتا ہے تو لیوفلک ذڑات لیوفوبک ذرات کے چاروں طرف ایک پرت بنالیتے ہیں۔ اور اس طرح اس کی الیکٹرولائٹ سے حفاظت کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے استعمال کیے جانے والے لیوفلک کولائڈ حفاظتی کولائڈ کہلاتے ہیں۔
یہ رقیق - رقیق کو لائڈی نظام ہیں یعنی نہایت چھوٹے قطروں کا کسی دوسرے رقیق میں انتشار ہے۔ اگر دو قابل آمیزش یا جزوی قابل آمیزش رقیق کے آمیزہ کو ہلایا جاتا ہے تو ایک رقیق سے دوسرے رقیق میں معمولی انتشار حاصل ہوتا ہے جسے ایملشن کہتے ہیں عام طور سے دو رقیق اشیا میں سے ایک پانی ہوتاہے۔ دو قسم کے ایملشن ہیں۔
(i) پانی میں منتشر تیل (O/W type) اور
(ii) تیل میں منتشر پانی (W/O type)
پہلے نظام میں پانی انتشاری میڈیم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس قسم کے ایملشن کی مثالیں ہیں: دودھ اور وینیشنگ کریم۔ دودھ میں، رقیق چربی پانی میں منتشر ہوتی ہے۔ دوسرے نظام میں تیل انتشاری میڈیم کے طور پر کام
کرتا ہے۔ اس قسم کی عام مثالیں مکھن اور کریم ہیں۔
پانی میں تیل کا ایملشن غیر مستحکم ہوتا ہے اور بعض اوقات کچھ دیر کے لئے رکھنے پر یہ دو پرتوں میں علیحدہ ہو جاتا یہ۔ ایملشن کے استحکام کے لئے عام طور سے ایک تیسرا جزو ملایا جاتا ہے جسے ایملسیفائنگ ایجنٹ کہتے ہیں۔ ایملسیفائنگ ایجنٹ معلق ذرات اور میڈیم کے درمیان ایک بین سطحی فلم بنالیتا ہے۔ O/W ایملشن کے لیے اہم ایملیسیفائنگ ایجنٹ پروٹین، گوند، قدرتی اور تالیفی صابن وغیرہ ہیں اور W/O کے لیے فینٹی ایسڈوں کے بھاری دھاتی نمک اور لمبی زنجیر والے الکوحل، لیمپ بلیک وغیرہ۔
ایملشن کو انتشاری میڈیم کی کسی بھی مقدار کے ذریعہ ڈائی لیوٹ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف جب منتشر رقیق کی آمیزش کی جاتی ہے تو یہ ایک علیحدہ پرت بناتا ہے۔ایملشن میں قطرے عام طور سے منفی چارج والے ہوتے ہیں اور الیکٹرولائٹ کے ذریعہ ان کی ترسیب ہو جاتی ہے۔ ایملشن کو گرم کرنے، منجمد کرکے یا مرکز گریزی وغیرہ کے ذریعہ اجزائے ترکیبی رقیق میں توڑا جاسکتا ہے۔
5.6 ہمارے اطراف میں کولائڈ (Colloids Around Us)
روزمرہ کی زندگی میں ہم جن اشیا سے ہم کنار ہوتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کولائڈ ہیں۔ ہماری غذا، کپڑے جو ہم پہنتے ہیں، فرنیچر جو ہم استعمال کرتے ہیں گھر جس میں ہم رہتے ہیں، اخبار جسے ہم پڑھتے ہیں خاص طور سے کولائڈوں سے بنے ہیں۔
ذیل میں کچھ دلچسپ اور قابل ذکر کولائڈوں کی مثالیں دی گئی ہیں:
(i) آسمان کا نیلا رنگ (Blue colour of the sky): ہوا میں پانی کے ساتھ گرد کے معلق ذرات ہماری آنکھوں تک آنے والی روشنی کو منتشر کرتے ہیں اور آسمان ہمیں نیلا نظر آتا ہے۔
(ii) کہرا، دھند اور بارش (Fog, mist and rain): گرد کے ذرات پر مشتمل جب ہوا کی بہت زیادہ کمیت اپنے نقطہ شبنم (Dew point) سے نیچے ٹھنڈی ہوتی ہے تو ہوا کی نمی ان ذرات کے اوپر متکثف ہو جاتی ہے جس سے چھوٹی چھوٹی بوندیں بنتی ہیں۔ یہ بوندیں کولائڈ ی نوعیت کی ہونے کی وجہ سے ہوا میں دھند یا کہرے کی شکل میں تیرتی ہیں۔ بادل ہوا میں معلق پانی کی چھوٹی چھوٹی بوندوں والا ایروسول ہے۔ اوپری کرہ باد میں تکثف ہونے کی وجہ سے پانی کی کولائڈی بوندیں اور بڑی ہوتی جاتی ہیں جب تک کہ وہ بارش کی شکل میں نیچے نہ آجائیں۔ کبھی کبھی دوبرعکس چارج والے بادلوں کے ملنے سے بھی بارش ہوتی ہے۔
برق شدہ ریت کو پھینک کر یا بادلوں کے برعکس چارج والے سول کا ہیلی کاپٹر کی مدد سے اسپرے کرکے مصنوعی بارش ممکن ہے۔
(iii) غذائی اشیا (Food articles): دودھ، مکھن، حلوہ، آئس کریم، پھلوں کا رس وغیر یہ سبھی کسی نہ کسی شکل میں کولائڈ ہی ہیں۔
(iv) خون (Blood): یہ ایک ایلومینا ئڈ شے کا کولائڈی محلول ہے۔ پھٹکری اور فیرک کلورائڈ محلول کا خون کو بہنے سے روکنے کا عمل خون کی بستگی کے نتیجے میں بننے والا تھکا ہے جو خون کو مزید بہنے سے روک دیتا ہے۔
(v) مٹیاں (Soils): ذرخیزمٹیاں کولائڈی نوعیت کی ہوتی ہیں جن میں ہیومس حفاظتی کولائڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔
کولائڈی نوعیت ہونے کی وجہ سے مٹیاں نمی کو جذب کرتی ہیں اور مادوں کو مقوی بناتی ہیں۔
(vi) ڈیلٹا کی تشکیل (Formation of delta): دریا کا پانی مٹی کا کولائڈی محلول ہے۔ سمندر کے پانی میں متعدد الیکٹرولائٹ ہوتے ہیں۔ جب دریا کا پانی سمندر کے پانی میں ملتا ہے تو سمندر کے پانی میں موجود الیکٹرولائٹ مٹی کے کولائڈی محلول کی بستگی کر دیتے ہیں جو کہ ڈیلٹا کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے۔
کولائڈوں کے استعمال (Applications of colloids)
کولائڈوں کا استعمال صنعتوں میں بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ ذیل میں کچھ مثالیں دی گئی ہیں:
(i) دھوئیں کی برقی ترسیب: دھواں ہوا میں کاربن، آرسینک مرکبات، گرد وغیرہ ایسے ٹھوس ذرات کا کولائڈی محلول ہے۔ دھوئیں کو چمنی سے باہر نکلنے سے پہلے اس کے ذرات کے چارجوں کے برعکس چارج والی پلیٹوں کے چیمبر سے گزارا جاتا ہے۔ دھوئیں کے ذرات جب ان پلیٹوں کے تماس میں آتے ہیں تو اپنا چارج کھو دیتے ہیں اور ان کی ترسیب ہو جاتی ہے۔ اس طرح دھوئیں کے ذرات چیمبر کے فلورپر جمع ہو جاتے ہیں۔ ترسیب کار کاٹریل ترسیب کار (Cottrell precipitator) کہلاتا ہے (شکل 5.15)۔
(ii) پینے کے پانی کی تخلیص: قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والا پانی عام طور سے معلق ملاوٹوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس قسم کے پانی میں پھٹکری ملانے سے معلق ملاوٹیں بستہ ہو جاتی ہیں اور پانی پینے کے قابل ہو جاتا ہے۔
(iii) دوائیاں (Medicines): زیادہ تر دوائیں کولایئڈی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر آرجیرال (Argyrol) ایک سلور سول ہے جسے آنکھ کے لوشن کے طور پر استعمال میں لایا جاتا ہے۔ کالازار کے علاج میں کولائڈی اینٹیمنی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بین عضلاتی انجکشنوں میں کولائڈی گولڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ملک آف میگنیشیا جو کہ ایک انجکشن ہے معدے سے متعلق عارضوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کولائڈی دوائیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں کیونکہ ان کا سطحی رقبہ زیادہ ہوتاہے اور اس لیے بآسانی Assimilated ہو جاتی ہیں۔
(iv) چمڑہ کمانا (Tanning): جانوروں کی جلد نوعیت کے اعتبار سے کولائڈی ہوتی ہے۔ جب جلد کو، جو کہ مثبت چارج والے ذرات پر مشتمل ہے، ٹینن (Tannin) (جو کہ منفی چارج والے کولائڈی ذرات پر مشتمل ہوتا ہے) میں بھگویا جاتا ہے تو باہمی بستگی عمل میں آتی ہے۔ اس سے چرم سخت ہو جاتا ہے اس عمل کو ٹیننگ (چمڑہ کمانا) کہتے ہیں۔ ٹینن کی جگہ کرومیم نمک بھی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔
(v) صابن اور ڈٹرجنٹ کا عمل صفائی: اسے پہلے ہی سیکشن 5.4.3 میں بیان کیا جاچکا ہے۔
(vi) فوٹوگرافک پلیٹیں اور فلمیں: فوٹو گرافک پلیٹوں اور فلموں کو جلیٹن میں روشن کے تئیں حساس سلور برومائڈ کے ایملشن کی گلاس پلیٹوں یا سیلیولائڈ فلموں پر پرت چڑھاکر بنایا جاتا ہے۔
(vii) ربر کی صنعت: لیٹیکس (Latex) ربر کے ایسے ذرات کا کولائڈی محلول ہے جو کہ منفی چارج شدہ ہوتے ہیں۔ ربر کو لیٹیکس کی بستگی سے بنایا جاتا ہے۔
(viii) صنعتی مصنوعات: روغن، روشنائی، تالیفی پلاسٹک، ربر گریفائٹ مدہن، سیمنٹ وغیرہ یہ سب کولائڈی محلول ہیں۔
متن پر مبنی سوالات
5.7 ہارڈی شلز کلیہ میں آپ کس قسم کی ترمیم تجویزکریں گے؟
5.8 رسوب کا مقداری تخمینہ کرنے سے پہلے اسے پانی سے دھونا کیوں ضروری ہے؟
خلاصہ
التصاق کسی شے کے سالمات کی کشش کرکے کسی ٹھوس یا رقیق کی سطح پر برقرار رکھنے کا مظہر ہے جس کے نتیجے میں جسامت (Bulk) کے مقابلے سطح پر ارتکاز زیادہ ہوتا ہے۔ وہ شے جس کا التصاق ہوتا ہے ملتصق (Adsorbate)کہلاتی ہے اور وہ شے پر جس پر التصاق کا عمل واقع ہوتا ہے التصاق پذیر (Adsorbent)کہلاتی ہے۔ طبیعی التصاق میں ملتصق، التصاق پذیر شے سے مضبوط کیمیکل بانڈ کے ذریعہ بندھا ہوتا ہے۔ تقریباً تمام ٹھوس اشیا گیسوں کا التصاق کرتی ہیں۔ ٹھوس پر گیس کا التصاق کس حد تک ہوتا ہے اس کا انحصار گیس کی نوعیت ٹھوس کی نوعیت، ٹھوس کا سطحی رقبہ، گیس کا دباؤ اور گیس کے درجہئ حرارت پر ہوتا ہے۔ مستقل درجۂ حرارت پر التصاق کی وسعت(r/m)اور گیس کے دباؤمیں تعلق کو التصاق آئسو تھرم(Adsoraption Isothrem)کہتے ہیں۔
وسیط(Caltalyst)ایک ایسی شے ہے جو تعامل میں استعمال ہوئے بغیر کیمیائی تعامل کی شرح میں اضافہ کردیتی ہے۔ وسیط کے استعمال کا مظہر کیٹلسس(Catalysis)کہلاتا ہے۔ غیر متجانس کیٹلسس میں وسیط اور متعاملوں کی فیزیکساں ہوتی ہے۔
کولائڈی محلول، حقیقی محلول اور معلق کے درمیان انٹر میڈیٹ ہیں۔ دو فیز پر مشتمل ہوتاہے۔ انتشاری فیز اور منتشر فیز۔ کولائڈی نظاموں کی درجہ بندی تین طرح سے کی جاتی ہے جو کہ (i)منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کی طبیعی حالتوں (ii)منشتر فیزاور انتشاری میڈیم کے درمیان باہمی عمل کی نوعیت اور(iii)منشتر فیز کے ذرات کی نوعیت پر منحصر ہیں۔ کولائڈی نظام دلچسپ بصری، میکانیکی اور برقی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ عمل جس کے تحت مناسب الیکٹرو لائٹ ملانے پر سول میں کولائڈی ذرات غیر حل پذیر رسوب میں تبدیل ہوجاتے ہیں بستگی(coagulation)کہلاتا ہے۔ ایملشن(Emulsions)ایسے کولائڈی نظام ہیں جن میں منتشر فیز اور انتشاری میڈیم دونوں رقیق ہوتے ہیں۔ یہ (i)پانی میں تیل قسم کے اور (ii)تیل میں پانی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایملشن بنانے کا طریقہ ایملشن سازی(Emulsification)کہلاتا ہے۔ ایملشن کو مستحکم بنانے کے لیے اس میں ایملسیفائنگ ایجنٹ یا ایملسی فائر ملائے جاتے ہیں۔ صابن اور ڈٹر جنٹ کا استعمال ایملسی فائر کے طور پر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ کولائڈوں کے صنعتوں اور روز مرہ کی زندگی میں متعدد استعمال ہیں۔
مشقیں
5.1 التصاق(Adsorption)اور انجذاب(Absorption)اصطلاحات کے معنی میں فرق واضح کیجیے۔ ہر ایک کی ایک مثال دیجیے۔
5.2 طبیعی التصاق(Physisorption)اور کیمیائی التصاق(Chemisorption)کے درمیان کیا فرق ہے؟
5.3 وجہ بتائیے کہ باریک شے التصاق کے طو رپر زیادہ مؤثر کیوں ہوتی ہے؟
5.4 ٹھوس پر گیس کے التصاق کو متاثر کرنے والے عوامل کیا ہیں؟
5.5 التصاق آئسو تھرم کیا ہے؟ فراینڈلک التصاق آئسوتھرم کو بیان کیجیے۔
5.6 التصاق پذیر(Adsorbent)کے ایکٹیویشن سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اسے کس طرح حاصل کیا جاتاہے؟
5.7 غیر متجانس کیٹلسس میں التصاق کا کیا رول ہے؟
5.8 التصاق ہمیشہ حرارت زا کیوں ہوتا ہے؟
5.9 منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کی طبیعی حالتوں کی بنیاد پر کولائڈی محلولوں کی درجہ بندی کس طرح کی جاتی ہے؟
5.10 ٹھوس میں گیس کے التصاق پر دباؤ اور درجہئ حرارت کے اثر پر بحث کیجیے۔
5.11 لیوفلک(Lyophilic)اورلیو فو بک(Lyophobic)سول کیا ہیں؟ ہر ایک قسم کی ایک مثال دیجیے۔ ہائڈرو فوبک سول کی بستگی آسانی سے کیوں ہوجاتی ہے؟
5.12 کثیر سالماتی(Multimoleculor)اور کلاں سالماتی(Macromoleculor)کولائڈوں میں کیا فرق ہے؟ ہر ایک کی ایک ایک مثال پیش کیجیے۔ ایسوسی ایٹڈ ان دو قسم کے کولائڈوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
5.13 انزائم کیا ہیں؟ انزائم کیٹلسس کے میکانزم کو اختصار سے بیان کیجیے۔
5.14 مندرجہ ذیل کی بنیاد پر کولائڈوں کی درجہ بندی کس طرح کی جاتی ہے؟
(i) اجزا کی طبیعی حالتیں
(ii) انتشاری میڈیم کی نوعیت اور
(iii) منتشر فیز اور انتشاری میڈیم کے درمیان باہمی عمل
5.15 مندرجہ ذیل میں کیے جانے والے مشاہدہ کی تشریح کیجیے۔
(i) جب روشنی کا بیم کولائڈی سول سے ہوکر گزرتا ہے۔
(ii) جب الیکٹرو لائٹNaCIکو ہائڈرٹیڈ فیرک آکسائڈ سول میں ملایا جاتاہے
(iii) جب کولائڈی سول میں برقی روگزاری جاتی ہے۔
5.16 ایملشن کیا ہیں؟ان کی مختلف اقسام بتائیے۔ ہر ایک قسم کی ایک مثال پیش کیجیے۔
5.17 ڈی ملیفیکیشن کیا ہے؟ دو ڈی ملسی فائر(Demulsifiers)کے نام بتائیے۔
5.18 صابن کا عمل ایملسی فیکیشن اور مسیل(Micelle)کی تشکیل کی وجہ سے ہے۔ اپنی رائے پیش کیجیے۔
5.19 غیر متجانس کیٹلسس کی چار مثالیں دیجیے۔
5.20 وسیط کی سرگرمی(Activity)اور انتخابیت(Selectivity)سے آپ کی کیا مراد ہے؟
5.21 زیولائٹس کے ذریعہ کیٹلسس کی خصوصیات کا بیان کیجیے۔
5.22 انتخابی کیٹلسس کی کیا شکل ہے؟
5.23 مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تشریح کیجیے۔
(i) الیکٹروفوریسس(ii)بستگی(iii)(Coagulation) ڈائی لیسس (iv)ٹنڈل اثر
5.24 ایملشن کے چار استعمال لکھیے۔
5.25 مسیل(Micalles)کیا ہیں؟ مسیل سسٹم کی ایک مثال دیجیے۔
5.26 مناسب مثالوں کے ذریعہ مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تشریح کیجیے۔
(i) الکاسول (ii)ایروسول (iii)ہائڈروسول
5.27 ”کولائڈی کوئی شے نہیں ہے بلکہ شے کی ایک حالت ہے“ اس بیان پر اپنی رائے دیجیے۔