Skip to content
12-Keemiya I(Chemistry I)-001

6

عناصر کی علیحدگی کے طریقے اور عام اصول 

(General Principles and Processes of Isolation of Elements)

حرحرکیات اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ استخراج کے عمل میں دھاتی آکسائڈ کی دھات میں تحویل کے لیے مخصوص تحویلی عناصر اور کم سے کم مخصوص درجہ حرارت کیوں مناسب ہے۔

مقاصد

اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
•   معدنیات، کچ دھات، ارتکاز، Benefaction، تکلیس(Calcination)، روسٹنگ، تخلیص وغیرہ اصطلاحات کی تشریح کر سکیں۔
•   استخراج کے عملوں پر تکسید اور تحویل کے اصولوں کے اطلاق کو سمجھ سکیں۔
     l Al، Cu، Zn اور Fe کے اصول استخراج پر گبس توانائی اور اینٹراپی جیسے حرحرکیاتی تصورات کا اطلاق کر سکیں۔
•    اس بات کی تشریح کر سکیں کہ Cu2O جیسے کچھ مخصوص آکسائڈوں کی تحویل Fe2O3 کے مقابلے زیادہ آسان کیوں ہوتی ہے۔
•   اس بات کی تشریح کر سکیں کہ مخصوص درجہئ حرارت پر CO ایک مساعد تحویلی ایجنٹ کیوں ہے جبکہ دیگر معاملات میں کوک بہتر تحویلی ایجنٹ ہے۔
اس بات کی تشریح کر سکیں کہ تحویلی مقاصد کے لیے مخصوص تحویلی ایجنٹ کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے۔

قدیم زمانے سے تہذیب کی تاریخ مختلف طریقوں پردھاتوں کے استعمال سے وابستہ رہی ہے۔ قدیم انسانی تہذیبوں میں تومختلف ادوار کے نام بھی دھاتوں کے نام پررکھے گئے ہیں۔دھاتوں کے استخراج کے فن سے انسان کودھاتیں بھی ملیں اورپھران سے انسانی سماج میں مختلف تبدیلیاں بھی آئیں۔ دھاتوں سے انسان کو اوزار،ہتھیار، زیورات اور برتن وغیرہ ہی نہیں ملے بلکہ ان سے ہماری تمدنی زندگی بھی مالا مال ہوئی۔ سونا،چاندی، تانبہ، سیسہ،ٹن، لوہا اور پارہ کو’سات قدیمی دھاتیں‘کہاجاتاہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد اگرچہ جدید قلزیات کوبڑافروغ ملا ہے لیکن یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ قلزیات سے متعلق بہت سے تصورات کی جڑیں ان قدیم اعمال ورسوم سے جڑی ہیں جن کا تعلق زمانہ ماقبل صنعتی انقلاب سے ہے۔سات ہزارسال سے بھی پہلے ہندوستان میں قلزاتی ہنروں اور مہارتوں کی روایت بہت شاندار رہی ہے۔
آثارقدیمہ کی کھدائی اورادبی شہادتیں سے بھی پہلے ہندوستانی قلزیات کی تاریخ کے دواہم ماخذ رہے ہیں۔ اس برصغیر میں دھات کا پہلا ثبوت بلوچستان میں واقع میرگڑھ میں ملتا ہے جہاں تقریباً چھ ہزارسال قبل مسیح کا ایک مہرہ دستیاب ہواہے۔ اس کے متعلق خیال ہے کہ یہ خام تانبہ ہے جس کا کچ دھات سے استخراج نہیں ہواہے۔ راجستھان میں کھیتری مقام پرمعدنی گڑھوں سے حاصل مِسی کچ دھات(Copper ore)کے نمونوں اور ہریانہ میں میتھاتھل نیزگجرات،راجستھان،مدھیہ پردیش اورمہاراشٹر میں واقع آٹھ دیگرمقامات پردستیاب ہڑپا تہذیب کی نمائندہ دستی کاری گری سے حاصل تانبہ کے نمونوں پرکیے گئے طیف سنجی(Spectrmetric)مطالعہ سے ثابت ہوتاہے کہ ہندی برصغیر میں تانبہ صاف کرنے کے فن کی تاریخ مِس حجری(Chalcolithic)تمدنوں جتنی پرانی ہے۔غالباً اس حجری تانبہ کی بنی اشیا دیسی طورپر ہی بنی ہوتی تھیں۔ ان اشیا کوبنانے کے واسطے استخراج کے لیے کچ دھات اراولی پہاڑیوں میں جمع کا لکاپی رائٹ (Chalcopyrite)کچ دھات سے حاصل کی جاتی تھی۔ پچھلی صدی میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے کاپرپلیٹوں سے حاصل قدیم متون کو اورچٹانی کتبات کومدون اورمرتب کرکے شائع کررہا ہے۔ ان کاپرپلیٹوں (تامرپتروں)پرشاہی دستاویزات اور دیگرریکارڈ کندہ ہوتے تھے۔ سب سے قدیم تامپرپترمیں موریہ عہد کی ایک دستاویز ہے جس میں قحط سے متعلق رفاہی کوششوں کابیان ہے۔ یہ ہندوستان میں ماقبل اشوک چندنادربرہمی کتبوں میں سے ایک ہے۔
ہڑپا کے لوگ سونے چاندی کے ساتھ سونے چاندی سے مرکب بھرت(Electrum)کا بھی استعمال کرتے تھے۔ مختلف قسموں کے زیورات جیسے لٹکن، چوڑیاں، مالائیں اورچھلے وغیرہ سیرامک یا کانسہ کے برتنوں میں ملے ہیں۔ سونے چاندی کے قدیم زیورات سندھوگھاٹی کے علاقوں (جیسے موہن جوداڑو)سے ملے ہیں۔(یہ تین ہزارسال قبل مسیح کے ہیں)۔یہ نئی دہلی میں نیشنل میوزیم میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ہندوستان کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دنیا میں سونے کی سب سے گہری اور قدیم کانیں پائی جاتی ہیں جوکرناٹک کے مسکی علاقہ میں ہیں۔کاربن ڈیٹنگ سے ان کا زمانہ پہلے ماقبل مسیح ہزارہ کا درمیانی حصہ طے ہوتاہے۔
رگ وید کی مناجاتوں میں ہندوستان کے اندر آبی بہاؤ سے تشکیل شدہ تہ نشین سونے سے متعلق بالواسطہ حوالے ملتے ہیں۔ قدیم زمانے میں دریائے سندھ سونے کا ایک اہم ماخذتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید ادوار میں بھی دریائے سندھ میں آبی بہاؤ سے تشکیل یافتہ سونے کے تہ نشین ذخائرکاپتہ چلاہے۔اگرچہ ویدک متون میں سونے کے تصفیہ کے بارے میں شہادت دستیاب ہے لیکن کوٹلیہ کی ارتھ شاستر میں کانوں اورمعادن کے بشمول سونے، چاندی، تانبہ،سیہ،ٹن اورلوہے کی کچ دھاتوں کے بارے میں موجود کیمیائی اعمال کی کافی تفصیل سے معلومات دستیاب ہے۔ارتھ شاستر تیسری یا چوتھی صدی قبل مسیح کی تصنیف ہے۔کوٹلیہ نے سونے کی ایک قسم کا تذکرہ کیا ہے جسے رس ودھا (Rasvidha)کہا جاتاتھا جس کا وقوع طبعی طورپر سونے کے محلول میں ہوتاہے۔ کالی داس نے بھی ایسے محلولوں کا تذکرہ کیاہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ لوگ ان محلولوں کی کیوں کر شناخت کرتے تھے۔
دیسی سونے کے رنگ مختلف ہوتے تھے اور اس کا انحصار سونے میں موجود ملاوٹ کی نوعیت اورمقدار پرہوتاتھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مقامی یا دیسی سونے کے مختلف رنگ سونے کے تصفیہ(Refining)کے فروغ کا اہم سبب رہے ہوں۔
وادی گنگا کے مرکزی حصوں اور وندھیا کی پہاڑیوں میں حال ہی میں ہوئی کھدائی سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں ممکنہ طورپر 1800قبل مسیح میں بھی لوہا پیداہوتاتھا۔ ریاست اترپردیش کے محکمہ آثارقدیمہ کے ذریعے حال ہی میں کی گئی کھدائی کے دوران لوہے کی بھٹیاں، دستی کاری گری سے بنی اشیا، دھونکنیاں یا پھنکیاں اور دھاتی میل کی برتیں پائی گئی ہیں۔ریڈیو کاربن ڈبنگ سے ان کا زمانہ 1800قبل مسیح سے 100عیسوی تک کاطے ہوتاہے۔ کھدائی کے نتائج ظاہرکرتے ہیں کہ لوہے کوپگھلانے اورلوہے سے مختلف اشیا بنانے کا علم مشرقی وندھیا میں ایک جانی پہچانی بات تھی اور یہ کم ازکم دوسرے قبل مسیح ہزارہ کی ابتداسے ہی گنگا کے مرکزی میدانوں میں استعمال ہوتاتھا۔لوہے سے بنی یادگاری اشیا کی مقداراور اقسام اورایسے ہی تکنیکی کامیابیوں کی سطح ظاہرکرتی ہے کہ لوہے سے اشیا بنانے کا کام اس سے بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ اس بات کی بھی شہادت موجود ہے کہ ملک کے دیگرحصوں میں بھی لوہے کا ابتدا میں استعمال ہوتاتھا جس سے یہ ثابت ہوجاتاہے کہ لوہے کے استعمال کے فروغ میں ہندوستان درحقیقت ایک آزاد مرکزکی حیثیت کاحامل تھا۔
لوہے کوپگھلانا اوراس کواستعمال کرنا خاص طورپر جنوبی ہندوستان کے عظیم حجری تمدنوں میں شروع ہوچکا تھا۔ معلوم یہ ہوتاہے کہ کوٹے ہوئے لوہے سے چیزوں کی ڈھلائی کاکام ہندوستان میں پہلے عیسوی ہزارے میں ہی اپنی بلندیوں پر پہنچ گیا تھا۔ یونانی بیانات سے ہندوستان میں گلانے کے عمل سے فولاد کی مینو فیکچرنگ کا پتہ چلتاہے۔ اس عمل میں لوہا، چارکول اور شیشہ کوگلاکر آمیزہ بنایاجاتا،اس کواس وقت تک گرم کیا جاتا جب تک کہ پگھل نہ جائے اور کاربن کوجذب نہ کرلے۔ اعلیٰ معیارکا اسٹیل بنانے میں ہندوستان ایک بڑے موجدکی حیثیت رکھتاہے۔ ہندوستان فولاد کو”مشرق کا حیرت انگیزمٹیریل“کہاجاتاہے۔ کوئنٹس کرٹی اس(Quintus Curtius)جوایک رومی مؤرخ ہے، بیان کرتا ہے کہ ٹکسلا کے پورس(326ق م)نے سکندر اعظم کوجوتحفہ دیاتھا وہ تقریباً ڈھائی ٹن وٹز اسٹیل(Wootz Steel)تھا۔ وٹز اسٹیل اصلاً لوہا ہوتاہے جس میں کاربن کا تناسب بہت زیادہ (1.0-1.9%)ہوتاہے۔ Wootz دراصل اُکّو(Ukku)کی انگریزی شکل ہے جس کا استعمال کرناٹک اورآندھراپردیش میں اسٹیل کے لیے کیا جاتا ہے۔ادبی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی ووٹز اسٹیل برصغیرکے جنوبی حصے سے یوروپ، چین اورعرب دنیا کوبرآمدکیاجاتاتھا۔ یہ مشرق وسطی میں بہت اہمیت کاحامل تھا۔ وہاں اس کانام دمشقی فولاد تھا۔ مائیکل فراڈے نے لوہے کو بشمول نفیس دھاتوں (Noble-metals)کے کچھ دیگر دھاتوں کے ساتھ ملا کر اس اسٹیل کی نقل بنانے کی بھی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہ ہوا۔

جب تارکول کااستعمال کرکے لوہے کی کچ دھات کوٹھوس حالت میں تحویل کیا جاتا، تو لوہے کے مسام داربلاک بن جاتے ہیں۔اس بے تحویل شدہ لوہے کے بلاکوں کواسپنجی(مسام دار)لوہے کے بلاک(Sponge Iron Blocks)بھی کہاجاتاہے۔اس مٹیریل کوبھٹی میں گرم کرکے اوراس طرح مساموں کودورکرنے کے بعد اس سے کوئی بھی چیزبنائی جاسکتی ہے۔اس طرح جولوہا حاصل ہوتا ہے اسے پیٹاہوالوہا(Wrought Iron)کہاجاتاہے۔قدیم ہندوستان میں تیارکردہ دنیا بھرمیں مشہورلوہے کے ستون ایسے ہی پیٹے ہوئے لوہے کی حیرت انگیزمثال ہے۔ دہلی میں یہ ستون موجودہ حالت میں پانچویں صدی عیسوی میں نصب کیاگیا تھا۔ اس ستون پرکندہ سنسکرت کتبے سے معلوم ہوتاہے کہ اس ستون کوگپت عہد میں کہیں اورسے لایاگیاتھا۔لوہے کے علاوہ اس ستون کے پیٹے ہوئے لوہے میں موجوداجزا کاامتزاج ہے۔
0.15% C
اور
0.05%Si,0.05%Mn،0.25%P،0.005%Ni،0.03%Cu0.02%N ،
PH-64PH-63
اس ستون کاسب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں فرسودگی کی کوئی علامت نہیں ہے جبکہ یہ تقریباً 1,600 سال سے بالکل کھلی فضا میں ہے۔
لوہے کے میل سے حاصل چارکول کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے میگھالیہ کی کھاسی پہاڑیوں میں مسلسل پگھلاؤ کی شہادت ملتی ہے۔ میل کی پرت جس سے 353قبل مسیح سے 128عیسوی تک کا زمانہ کا اظہارہوتا ہے،بتاتی ہے کہ کھاسی پہاڑیوں کا علاقہ تمام شمال مشرقی ہندوستان میں لوہے کے پگھلاؤ کا سب سے قدیم علاقہ ہے۔لوہے کی کچ دھات کی پچھلی کھدائی اورلوہے کی مینوفیکچرنگ کے باقیات آج بھی کھاسی پہاڑیوں میں نظرآجاتے ہیں۔ برطانوی ماہرین طبیعیات جنھوں نے انیسویں صدی کے اوائل میں میگھالیہ کا دورہ کیا تھا، بتاتے ہیں کہ کھاسی پہاڑیوں کے اوپری حصوں میں لوہے کی صنعت فروغ پاچکی تھی۔
راجستھان کے زوارمیں چھٹی صدی یا پانچویں صدی قبل مسیح سے کانوں میں زنک کی پیداوار کے آثاری ثبوت ملتے ہیں۔ زنک کی تقطیرمیں مہارت کے لیے ہندوستان کا پہلا نمبرہے۔ چونکہ زنک کا نقطہئ ابال کم ہوتا ہے اس لیے جب کچ دھات پگھلتی ہے توزنک میں ابخرات بننا(Vapourisation)شروع ہوجاتا ہے جب تقطیر کی ترقی یافتہdownwardتکنیک کے ذریعہ ابخرات(Vapours)کوکسی نچلے کنٹینر(Container)میں کثیف کرلیاجاتا ہے تواس وقت خالص زنک حاصل ہوتاہے،اس تکنیک کااستعمال پارے کے لیے بھی کیا جاتاہے۔ہندوستانی ماہرین قلزیات اس تکنیک کے ماہرہیں۔یہ بات چودھویں صدی کے سنسکرت ستون میں بیان کی گئی ہے۔
ہندوستانیوں کوپارے کا علم تھا۔ہندوستانی اس کوادویاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ کان کنی اور قلزیات کی ترقی برطانوی نوآبادیاتی دورمیں انحطاط پذیرہوگئی۔ انیسویں صدی کے آتے آتے راجستھان کی آباد کانیں غیرآبادہوگئیں اورتقریباً معدوم سی ہوگئیں۔1947میں جب ہندوستان آزادہواتواس وقت سائنس سے متعلق یوروپی لٹریچر آہستہ آہستہ اس ملک میں آنے لگا۔ اس طرح آزادی کے بعد کے زمانے میں ہندوستان کی حکومت نے سائنس اورٹیکنالوجی کے مختلف انسٹی ٹیوٹ قائم کرکے قوم کی ترقی کے عمل کو شروع کردیا۔اگلے ابواب میں عناصر کے استخراج کے جدید طریقوں کے بارے میں سیکھیں گے۔

6.1 دھاتوں کا وقوع  (Occurrence of Metals)

کاربن سلفر، نوبل گیسیں اور سونا جیسے کچھ عناصر قشرارض میں آزاد حالت میں پائے جاتے ہیں جبکہ دیگر عناصر متحد حالت میں پائے جاتے ہیں۔مختلف عناصر مختلف مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ سبھی دھاتوں میں ایلیومینم سب سے زیادہ مقدار میں پائی جانے والی دھات ہے۔ یہ قشرارض میں سب سے زیادہ پایا جانے والا تیسرا عنصر ہے (وزن کے اعتبار سے تقریباً 8.3 %)۔ یہ کئی آتشی معدنیات (جن میں ابرق اور چکنی مٹی بھی شامل ہے) کا اہم ترین جزو ہے۔ کئی جواہرات (Gem stone Al2O3 کی غیر خالص شکل ہے اور Cr (روبی میں) سے Co (سیفائر میں) تک ملاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔ یہ متعدد مرکبات کی تشکیل کرتا ہے جن کے مختلف استعمال کی وجہ سے یہ بہت اہم عنصر ہے۔ یہ حیاتیاتی نظاموں کے لازمی عناصر میں سے ایک ہے۔
کسی مخصوص دھات کو حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے ہم ان معدنیات کو تلاش کرتے ہیں جو کہ قشرارض میں قدرتی طور پر پائے جانے والی کیمیائی اشیا ہیں اور کان کنی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ متعدد معدنیات (جن میں دھات موجود ہوسکتی ہے) میں سے صرف چند معدنیات ہی ایسی ہیں جو کہ Viable ہیں اور اس دھات کے مآخذ کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ایسی معدنیات کچ دھاتیں (Ores) کہلاتی ہیں۔ 

ایلیومینیم، لوہا، تانبہ اور زنک کی اہم کچ دھاتیں جدول 6.1 میں دی گئی ہیں۔

جدول 6.1 کچھ اہم دھاتوں کی کچ دھاتیں 

دھات کچ دھات ترکیب
ایلیومینیم 


آئرن



کاپر



زنک


باکسائٹ

کیلونائٹ (مٹی کی ایک قسم)
ہیمیٹائٹ
میگنیٹائٹ
سیڈیرائٹ
آئرن پائرائیٹ
کاپر پائرائٹ
میلیکائٹ
کوپرائٹ
کاپر گلانس
زنک بلینڈ یا اسفیلیرائٹ
کیلیمائن
زنک سائٹ
A1Ox(OH)3-2x
[where 0 < x < 1]
(A12(OH)SiO5]
FeO3
Fe3 O4
FeCo3
CuFeS2
CuCO3. Cu(OH)2
Cu2O
Cu2S
ZnS
ZnCO3
ZnO

 متحدہ شکل سے عنصر شے استخراج اور علیحدگی میں کئی کیمیائی اصول ملوث ہیں۔ ایک مخصوص عنصر کئی مرکبات کی شکل میں موجود ہو سکتا ہے اور مرکبات سے عناصر کی علیحدگی کا عمل ایسا ہونا چاہیے کہ یہ کیمیائی اعتبار سے آسان اور صنعتی اعتبار سے نمو پذیر (Viable) ہو۔
استخراج کے مقصد سے ایلیومینیم کے لیے باکسائٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ لوہے کے استخراج کے لیے عام طور سے ان آکسائڈ کی کچ دھاتوں کو لیا جاتا ہے جو کہ وافر مقدار میں ہیں اور آلودگی پھیلانے والی گیسوں (جیسے SO2 جو کہ آئرن پائرائٹ کے معاملہ میں خارج ہوتی ہے) کو خارج نہیں کرتیں۔ تانبہ اور زنک کے لیے جدول 6.1 میں درج شدہ کسی بھی کچ دھات کا اس کی دستیابی اور متعلقہ فیکٹر کی بنیاد پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔اتفاق سے ہی کوئی کچ دھات ایسی ہوتی ہے جس میں صرف مطلوبہ شے ہی موجود ہو۔ عام طور سے یہ کچ دھاتیں غیر مطلوب مادوں اور مٹی پر مشتمل ہوتی ہیں یہ غیر مطلوبہ مادے گینگ (Gangue) کہلاتے ہیں۔ کچ دھاتوں سے دھاتوں کے استخراج اور علیحدگی میں مندرجہ ذیل اہم اقدامات بروئے کار لائے جاتے ہیں۔
•   کچ دھات کا ارتکاز
•   مرتکز کچ دھات سے دھات کی علیحدگی، اور
•    دھات کی تخلیص

کسی دھات کو اس کی کچ دھاتوں سے علیحدہ کرنے کے لیے بروئے کار لائے جانے والا مکمل سائنس اور تکنیکی عمل فلز کاری (Metallurgy) کہلاتا ہے۔ ان اصولوں میں داری حرکیات اور برقی کیمیائی پہلوشامل ہیں جوارتکازی کچ دھات کودھات میں تحویل کے مؤثر طریقے ہیں۔

6.2کچ دھاتوں کا ارتکاز(Concentration of Ores)

کچ دھات سے غیر ضروری مادوں (مثلاً ریت، چکنی مٹی وغیرہ) کو علیحدہ کرنا ارتکاز (Concentration) کہلاتا ہے۔ کچ دھات کے ارتکاز میں کئی اقدامات شامل ہیں اور ان اقدامات کا انتخاب کچ دھات میں موجود دھات کے مرکبات اور گینگ کی طبیعی خصوصیات میں فرق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ دھات کی قسم، سہولیات کی دستیابی اور ماحولیاتی عوامل بھی خاطر ملحوظ رہتے ہیں۔ کچ دھات کے ارتکاز کے کچھ اہم طریقے ذیل میں بیان کیے جارہے ہیں۔

6.2.1 ہائڈرولک واشنگ (Hydraulic Washing)

یہ طریقہ گینگ کے ذرات اور کچ دھات کی ثقل کے درمیان نوعی فرق پر مبنی ہے۔ اس طرح یہ ایک ثقلی علیحدگی کا ایک طریقہ ہے۔ اس قسم کے عمل میں پاوڈر کچ دھات کو اوپر کی جانب پانی کی تیز دھار سے دھویا جاتا ہے۔ ہلکے گینگ کے ذرات بہہ جاتے ہیں اور بھاری کچ دھات پیچھے رہ جاتی ہے۔

6.2.2 مقناطیسی علیحدگی 

(Magnetic Separation)

یہ طریقہ کچ دھاتی اجزا کی مقناطیسی خصوصیات میں فرق پر مبنی ہے۔ اگر کچ دھات یا گینگ (ان دونوں میں سے کوئی بھی) مقناطیسی میدان کے تئیں کشش کی صلاحیت رکھتا ہے تب اس قسم کی علیحدگی بروئے کار لائی جاتی ہے۔مثال کے طور پر لوہے کی کچ دھات مقناطیس کی سمت کشش رکھتی ہے لہٰذا غیرمقناطیسی ملائوٹوں کو مقناطیسی علیحدگی کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً لوہے کی کچ دھات کو پاؤڈر کی شکل میں مقناطیسی رولر کے اوپر سے گزرنے والی
کنوئیربیلٹ پر ڈالا جاتا ہے (شکل 6.1)۔مقناطیسی مادّہ بیلٹ کی طرف کھینچتاہے اور بیلٹ کے قریب ہی جمع ہوجاتا ہے۔

باریک پسی ہوئی کچ دھات
مقناطیسی رولر
مقناچیسی ذرات
غیر مقناطیسی ذرات
PH-66
شکل 6.1 :  مقناطیسی علیحدگی

6.2.3 فراتھ فلوٹیشن(جھاگ تیرانے) کا طریقہ

(Froth Floatation Method)

یہ طریقہ سلفائڈ کچ دھاتوں سے گینگ کو علیحدہ کرنے میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طریقے سے پاوڈر کچ دھات کو پانی میں معلق کیا جاتا ہے۔ اس میں کلکٹر اور فراتھ اسٹیبلائزر شامل کیے جاتے ہیں۔ کلکٹر (جیسے چیڑ کا تیل، فیٹی ایسڈ، رینتھیٹس وغیرہ) معدنی ذرات کے نہ بھیگنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں اور فراتھ اسٹیبلائزر (مثلاً کریسول اور اینیلین) فراتھ کو اسٹیبلائز کرتے ہیں۔

گھومنے والا پیڈل
ہوا
معدنی جھاگ
تیل کچ دھات کی گندگی
پیڈل ہوا کے ذریعہ لگدی کو گھماتا ہے۔
معدنی ذرات سے منسلک ہوا کے بلبلہ کی وسیع شکل
2
شکل 6.2: فراتھ فلوٹیشن کا طریقہ

معدنی ذرات تیل سے بھیگ جاتے ہیں جبکہ گینگ کے ذرات پانی سے بھیگ جاتے ہیں۔ ایک گردش پیڈل آمیزہ کو گھماتا ہے جو اس میں ہوا پھونکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جھاگ (Froth) بنتے ہیں جو کہ معدنی ذرات کو اوپر کی طرف لے جاتے ہیں۔ جھاگ ہلکے ہوتے ہیں اور ہٹالیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اسے سکھایا جاتا ہے۔

بعض اوقات دو سلفائڈ کچ دھاتوں کو پانی اور تیل کے تناسب کو Adjust کرکے یا مسکن (Depressants) کا استعمال کرکے علیحدہ کرنا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر ZnS اور PbS پر مشتمل کچ دھات کے معاملے میں NaCN کو بطور مسکن استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ZnS کو جھاگوں کے ساتھ آنے سے روکتا ہے لیکن PbS کو جھاگوں کے ساتھ آنے دیتا ہے۔

اختراعی دھوبن

کوئی بھی شخص کمال کرسکتا ہے اگر وہ سائنسی مزاج کا حامل ہے اور مشاہدات پر غوروخوض کرتاہے۔ ایک دھوبن بھی اختراعی ذہن کی مالکن تھی۔ کان کنی کا کام کرنے والے افراد کے کپڑے دھونے کے دوران اس نے دیکھا کہ ریت اور اسی طرح کی دوسری گندگی کپڑے دھونے کے بعد ٹب میں نیچے بیٹھ جاتی ہیں۔ اس میں خاص بات کیا تھی، کاپر کے مرکبات جو کہ کانوں سے کپڑوں پر لگ جاتے تھے وہ صابن کے جھاگوں کے ساتھ چپک کر بالائی سطح پر آجاتے تھے۔ محترمہ کیری ایورسن جو کہ ایک کیمسٹ تھیں وہ بھی اس کے گاہکوں میں شامل تھیں۔ دھوبن نے اپنے تجربہ کو محترمہ ایورسن کے سامنے بیان کیا۔ محترمہ ایورسن نے سوچا کہ اس تجربہ کا استعمال بڑے پیمانے پر چٹانی اور زمینی مادوں سے تانبہ کے مرکبات کو علیحدہ کرنے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے ایک کھوج کا جنم ہوا۔ اس زمانے میں کاپر کے استخراج کے لیے صرف وہی کچ دھاتیں استعمال میں لائی جاتی تھیں جن میں دھات کی مقدار بہت زیادہ ہوتی تھی۔ فراتھ فلوٹیشن کے طریقہ کی ایجاد نے کم درجہ کی کچھ دھاتوں سے بھی تانبہ کی کان کنی کو مفید بنادیا۔ تانبہ کی عالمی پیداوار میں اضافہ ہوگیا اور دھات سستی ہوگئی۔

6.2.4    لیچنگ(تقطیر) (Leaching)

تقطیر یا نتھارنے کا عمل اس وقت بروئے کار لایا جاتا ہے جب کچ دھات کسی مناسب محلل میں حل پذیر ہو۔ مندرجہ ذیل مثالوں سے اس عمل کی وضاحت ہو جاتی ہے۔
(a)    باکسائٹ سے ایلیومیناکی لیچنگ (Leaching of alumina from bauxite)
باکسائٹایلیومینیم کی اہم کچ دھات ہے، اس میں SiO2 آئرن آکسائڈ اور ٹائیٹینم آکسائڈ (TiO2) کی ملاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔ ارتکاز کا عمل 35 – 36 bar دباؤ اور 473 – 523 K درجۂ حرارت پر مرتکز NaOH محلول کے ساتھ پاوڈر کچ دھات کو گرم کرکے انجام دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو انہضام(digestion) کہاجاتا ہے۔ اس طریقے میں Al2O3 کو سوڈیم ایلیومنیٹ کی شکل میں نکالاجاتا ہے اورملاوٹ SiO2 بھی حل ہوجاتی ہے اور سوڈیم سلیکیٹ بناتی ہے اورباقی ملا وٹیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
 (6.1)
(A12O3(s) +2NaOH(aq) + 3H2O(1) → 2Na[A1 (OH)4](aq    

محلول میں موجود سوڈیم ایلیومنیٹ کو CO2 گزار کرتعدیل کیا جاتا ہے اور آبی Al2O3 کی ترسیب کی جاتی ہے۔ اس اسٹیج پر بہت کم مقدار میں تازہ بنائے گئے آبی Al2O3 کے سیمپل کو ملایا جاتا ہے اس عمل کو سیڈنگ (Seeding)کہتے ہیں، جس سے ترسیب کی امالیت ہوتی ہے۔
(6.2)
(2Na [A1(OH)4](aq) + CO4(g)→A12O3.xH2O(s) + 2NaHCO3(aq

سوڈیم سلیکیٹ محلول میں ہی رہتا ہے اور آبی ایلیومینا کو چھان لیا جاتا ہے، سکھایا جاتا ہے اور گرم کیا جاتا ہے جس سے خالص Al2O3 حاصل ہوتا ہے۔
(6.3)
(A12O3.xH2O(s) -------1470 K → A12O3 (s) + xH2O(g

PH-70
(b) دیگر مثالیں (Other examples)
سونے اور چاندی کی فلزکاری میں متعلقہ دھاتوں کی لیچنگ ہوا (O2 کے لیے) کی موجودگی میں NaCN یا KCN کے ڈائی لیوٹ محلول سے کی جاتی ہے جس سے دھات کو بدل کے ذریعہ بعد میں حاصل کیا جاتا ہے۔
شکل 6.4: گبس توانائی (DVG)اورTکے درمیان گراف (Schematic) جو کہ آکسائڈوں کی تشکیل کو ظاہر کرتا ہے (النگھم ڈائی گرام)
(6.4)
(4M(s) + 8CN-(aq) + 2H2O(aq) + O2(g)→ 4[M(CN)2]-(aq) + 4OH-(aq
(M = Ag Au)
(6.5)
(2M(CN)2]-(aq) + Zn(s)→[Zn(CN)4]2-(aq) + 2M(s

متن پر مبنی سوالات

6.1 جدول 6.1 میں درج شدہ کون سی کچ دھاتوں کو مقناطیسی علیحدگی کے طریقے سے مرتکز کیا جاسکتا ہے؟
6.2   ایلیومینیم کے استخراج میں لیچنگ کی کیا اہمیت ہے؟

6.3 مرتکز کچ دھات سے خام دھات کا استخراج 

(Extraction of Crude Metal from Concentrated Ore)

مرتکز کچ دھات سے دھات کو نکالنے کے لیے کچ دھات کو قابل تحویل شکل میں تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عام طور سے سلفائڈ کچ دھات کو تحویل سے پہلے آکسائڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ آکسائڈوں کی تحویل زیادہ آسان ہوتی ہے  اس طرح مرتکز کچ دھات سے دھاتوں کی علیحدگی کے دو اہم مراحل ہیں یعنی 
(a)   آکسائڈ میں تبدیلی اور
(b)   آکسائڈ کی دھات میں تحویل
(a)   آکسائڈ میں تبدیلی (Conversion to oxide)
(i)   تکلیس (Calcination):  تکلیس میں کچ دھات کو گرم کیا جاتا ہے جس سے طیران پذیر مادہ خارج ہوتا ہے اور دھاتی آکسائڈ باقی رہ جاتا ہے۔

(6.6)
        (Fe2O3.xH2O(s) --- ∆ → Fe2O3(s) + xH2O(g
(6.7)
        (ZnCO3(s) --- ∆→ZnO(s) + CO2(g
(6.8)
(CaCO3.MgCO3(s) -- ∆ → CaO(s) + MgO(s) + 2CO2(g

(ii)   روسٹنگ (Roasting):  کچ دھات کو بھٹی میں دھات کے نقطہ گداخت سے کم درجۂ حرارت پر ہوا کی مسلسل سپلائی میں گرم کیا جاتا ہے سلفائڈ کچ دھات سے متعلق کچھ تعاملات ذیل میں دیے گئے ہیں۔
(6.9)
           2ZnS + 3O2 + 2ZnO + 2SO2
(6.10)
           2PbS + 3Q2 →2PbO + 2SO2
(6.11)
      2Cu2S + 3O2 →2Cu2O + 2SO2

کاپر کی سلفائڈ کچ دھات کو ریور بیرلیٹری نفی (Reverberatry furnace) میںگرم یاجاتا ہے شکل6.3۔ اگر کچ دھات آئرن پر مشتمل ہے تو گرم کرنے سے پہلے اس میں سلیکا کی آمیزش کی جاتی ہے۔ آئرن آکسائڈ، آئرن سلیکیٹ کے میل (Slag) کی شکل میں علیحدہ ہو جاتا ہے۔ تانبہ کاپر میٹ (Copper matte) کی شکل میں پیدا ہوتا ہے جس میں Cu2S اور FeS موجود ہوتا ہے۔
(6.12)
      FeO + SiO2 → FeSiO3
(سلیگ)
SO2 کا استعمال H2SO4 بنانے میں کر لیا جاتا ہے۔

چارج ہوپر
ٹائی راڈ
ہینگر
چارج ہوپر
ہوا اور تیل
میگنیسائٹ
فرنینس چارج
سلیکا
3
شکل 6.3 : جدید ریو ربیریٹری بھٹی کا سیکشن

(b)   آکسائڈوں کی دھات میں تحویل (Reduction of oxide to the metal)

دھاتی آکسائڈوں کی تحلیل میں انہیں کچھ دیگر اشیا کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے۔ یہ اشیا تحویلی ایجنٹ (C یا CO یا دیگر دھاتیں) کے طور پر کام کرتی ہیں۔ تحویلی ایجنٹ(مثلاً کاربن) دھاتی آکسائڈ کی آکسیجن کے ساتھ متحد ہو جاتے ہیں۔
(6.13)
MxOy +  yC → xM + y CO
کچھ دھاتی آکسائڈ بآسانی تحویل ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ آکسائڈوں کی تحویل  بہت مشکل سے ہوتی ہے (تحویل کا مطلب ہے دھات کے آئن میں الیکٹرانوں کا بڑھنا)۔ ہر ایک تحویل میں گرم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

6.4   فلزکاری کے حرحرکیاتی اصول 

(Thermodynamic Principles of Metallurgy)

حرکیات کے کچھ بنیادی اصول فلزاتی تبدیلیوں (Metallurgical transformation) کے نظریہ کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ اس صورت میں گبس توانائی سب سے اہم اصطلاح ہے۔ حرارتی تحویل (Thermal reduction) کے لیے مطلوب درجۂ حرارت کے تغیر کو سمجھنے کے لیے اور اس بات کی پیشین گوئی کرنے کے لیے کہ کون سا عنصر ایک دیے ہوئے دھاتی آکسائڈ (MxOy) کے لیے بطور تحویلی ایجنٹ مناسب رہے گا، گیس توانائی کی تشریح کی جاتی ہے۔حرارتی تحویل کی ممکنات کا معیاریہ ہے کہ کسی دیے گئے درجہئ حرارت پرتعامل کی گبس توانائی منفی ہو۔

ایک مخصوص درجۂ حرارت پر کسی بھی عمل کے لیے گبس توانائی میں تبدیلی ΔG  مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ بیان کی جاتی ہے۔
(6.14)
G = ∆H - T∆ S∆
جہاں ΔH، اینتھالپی کی تبدیلی ہے اور ΔSعمل میں اینٹراپی تبدیلی ہے۔
جب مساوات 6.14 میں ΔG  منفی ہے تو صرف اسی صورت میں تعامل آگے بڑھے گا۔ΔG درج ذیل حالات میں ہی منفی ہوگا اگر ΔSمثبت ہے، درجۂ حرارت (T) میں اضافہ ہونے پر TΔS کی قدر میں اضافہ ہوگا اس طرح کہ ΔH < TΔS اور تب ΔG  درجہ حرارت بڑھانے پرمنفی ہو جائے گا۔

2۔    اگر دو تعاملات کی جفتگی کے نتیجے میں پورے تعامل میں DGکی قدر منفی ہے تو اختتامی تعامل ممکن ہوگا۔ آکسائڈوں کی تشکیل کے لیے اس طرح کی جفتگی گبس توانائی (DG) اور T گراف سے بآسانی سمجھی جاسکتی ہے (شکل 6.4)۔ گبس توانائی کے گرافی اظہار کا استعمال سب سے پہلے H.J.T. Ellingham) کے ذریعہ کیا گیا۔ یہ آکسائڈوں کی تحویل میں تحویلی ایجنٹ کے انتخاب میں ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اسے النگھم ڈائیگرام کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ڈائیگرام ایک کچ دھات کی حرارتی تحویل کے امکان کے بارے میں پیشین گوئی کرنے میں مدد کرتا ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تحویل کے دوران، دھاتی آکسائڈ تحلیل ہو جاتا ہے اورتحویلی ایجنٹ آکسیجن کو ہٹا دیتا ہے۔ تحویلی ایجنٹ کا رول یہ ہے کہ یہ DG کی منفی قدر فراہم کرتا ہے اور اتنا زیادہ ہے کہ دو تعاملات کے DG کا حاصل جمع یعنی تحویلی ایجنٹ کی تکسید اور دھاتی آکسائڈ کی تحویل منفی کر دیتا ہے۔
(6.15)
[(MxO(s) → xM () + 1/2O2(g) [∆1Gθ (MxO,M
اگر تحویل کاربن کے ذریعہ ہوتی ہے تو تحویلی ایجنٹ کی تکسید (یعنی C )وہاں ہوگا۔
(6.16)
[(C(s) + 1/2 O2(g) → CO2(g)     [∆Gv (c.co

اگر کاربن لیا جاتاہے تو عنصر کاربن کی CO2 میں مکمل تکسیدبھی ہو سکتی ہے۔
(6.17)
[(1/2C(s)+1/2O2(g)1/2CO2(g)[1/2∆G(c,co2
تعاملات 6.15اور6.16کوجوڑنے پر ہمیں حامل ہوگا
(6.18)
(MxO(s) + C(s) → xM(s or 1) + CO(g

تعامل6.15اور6.17کوملانے پر ہمیں ملتا ہے

PH-82
درجہ حرارت →

شکل 6.4: گبس توانائی (DVG)اورTکے درمیان گراف (Schematic) جو کہ آکسائڈوں کی تشکیل کو ظاہر کرتا ہے (النگھم ڈائی گرام)

(6.19)

(MxO(s) + 12C(g) →xM(s or 1) + 1/2 CO2(g

اسی طرح کاربن مونوآکسائڈایک تحویلی ایجنٹ ہے۔تعامل 6.15اور درج ذیل تعامل 6.20کو جوڑنا لازمی ہے۔
(6.20)
[(CO(g) + 1/2 O2(g) → CO(g) [∆G (co,co2
مکمل تعامل اس طرح ہوگا
(6.21)
(MxO(s) + CO(g) → xM(s or 1) + CO2(g

النگھم ڈائیگرام (Ellingham Diagram)

(a) عناصر کے آکسائڈوں کی تشکیل کے لیے النگھم ڈائیگرام عام طور سے DfGV اور T کے مابین گراف پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی مندرجہ ذیل تعامل کے لیے،

PH-86

اس تعامل میں آکسائڈ کے بننے میں گیس استعمال ہورہی ہے اس وجہ سے سالماتی بے ترتیبی جس کی وجہ سے ΔS  کی مقدار منفی ہوجاتی ہے جو مساوات 6.14 میں دوسرے رکن کی علامت کو تبدیل کر دیتی ہے اوروہ مثبت ہوجاتی ہے اس وجہ سے سالماتی بے ترتیبی گھٹتی ہے۔نتیجتاً درجۂ حرارت میں اضافہ ہونے کے باوجود بھیΔGاونچائی کی طرف شفٹ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں (MxO(sکی تشکیل کے لیے اوپر دکھائے گئے زیادہ تر تعاملات کے منحنی کا سلوپ مثبت (+) ہوتا ہے۔ 

(b) پلاٹ مستقیم خط کی شکل میں حاصل ہوتا ہے سوائے اس وقت کے جب فیز میں کچھ تبدیلی آتی ہے (ٹھوس رقیق یا رقیق  گیس)۔ جس درجۂ حرارت پر تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اسے سلوپ میں مثبت سمت کی طرف اضافہ کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔مثلاًZn,ZnO کے پلاٹ میں منحنی میں بے ربط تبدیلی پگھلاؤ کوظاہرکرتی ہے شکل( 6.4)۔
(c)  جب درجۂ حرارت بڑھایا جاتا ہے، منحنی میں ایک مقام آتا ہے جب ΔTG0=O لائن کو پارکرلیتا ہے۔ اس درجۂ حرارت سے نیچے آکسائڈ بننے کے لیےΔTG0 منفی ہوجاتا ہے لہٰذاMxO مستقل ہوتا ہے۔اس درجۂ حرارت کے اوپر آکسائڈ کی آزادتوانائی مثبت ہوتی ہے۔آکسائڈ MxO خود بخود تحلیل ہوجاتاہے۔
(d)  اس قسم کے ڈائیگرام سلفائڈ اور ہیلائڈ کے لئے بھی بنائے جاتے ہیں اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ MxS کی تحویل کیوں مشکل ہے۔ 

النگھم ڈائی گرام کی حدود (Limitations of Ellingham Diagram)

1   گراف محض یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی تعامل ممکن ہے یا نہیں یعنی تحویل ایجنٹ کے ساتھ تحویل کا رجحان ظاہر کرتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ صرف حرحرکیاتی تصور پر مبنی ہے۔ یہ تحویلی عملوں کی حرکیات (Kinetics) کے بارے میں کچھ وضاحت نہیںکرتا کہ کتنی تیزی سے ہوگی؟ حالانکہ یہ اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ جب ہرایک اسپشیز ٹھوس حالت میں ہوتی ہیں اور جب کچ دھات پگھلتی ہے تب تیزی سے کس طرح ہوتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ کسی بھی کیمیائی تعامل کے لیے ΔH  (اینتھالپی میں تبدیلی) اور ΔS (اینٹراپی میں تبدیلی) کی قدر درجۂ حرارت میں تبدیلی کے ساتھ تقریباً مستقل رہتا ہے۔ لہٰذا مساوات( 6.14) میں صرف مغلوب متغیر ہی T بن جاتا ہے۔ تاہم،ΔSمرکب کی طبیعی حالت پر زیادہ منحصر ہوتا ہے۔ کیونکہ اینٹراپی نظام کی بے ترتیبی پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے اگر مرکب پگھلتا ہے (ٹھوس  رقیق) یا تبخیر ہوتا ہے (رقیق گیس) تو اس میں اضافہ ہوگا کیونکہ ٹھوس سے رقیق یا رقیق سے گیس فیز میں تبدیلی ہونے پر سالماتی بے قاعدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

2۔  ΔTGΘ کی تشریح K (ΔTGΘ = – RT lnK) پر مبنی ہے۔ لہٰذا یہ مانا جاتا ہے کہ متعامل اور ماحصلات توازن میں ہیں۔
MxO + Ared → xM + Ared O
PH-87
یہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا کیونکہ متعامل/ماحصل ٹھوس ہو سکتے ہیں۔تجارتی اعمال میں متعامل اور ماحصل بہت کم عرصے کے لیے ایک دوسرے کے تعلق میں ہوتے ہیں۔


یہ تعاملات 6.18اور6.21 دھاتی آکسائڈ کی حقیقی تحویل کو ظاہر کرتے ہیں۔ MxO جس کو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عمومی طور پر ان تعاملات میں Δr GΘ کی قدر کو تقابلی آکسائڈ کی Δr GΘ قدروں کو کیا جاسکتا ہے۔
6.7 تخلیص
جیساکہ ہم دیکھ چکے ہیں، گرم کرنے کا عمل (یعنی T میں اضافہ) Δr G کی منفی قدر کا مساعد ہے۔ لہٰذا درجہئ حرارت کا انتخاب اس طرح کیا جاتا ہے کہ دو متحدہ ریڈاکس عملوں میں Δr G کا حاصل جمع منفی ہو۔ Δr GΘ اور T کے مابین گراف(النگھم شکل 6.4) میں دو منحنیوں کے نقطہ تقاطع کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے۔ یعنیMxO کا بننااور تحویلی شے آکسائڈ کا بننا اس نقطہ کے بعد متحدہ عملوں جن میں MxO کی تحویل بھی شامل ہے Δr GΘ کی قدر زیادہ منفی ہو جاتی ہے۔ اس کے نقطہ کے بعد Δr GΘکی قدروں میں فرق یہ متعین کرتا ہے کہ بالائی خط کی دھاتوں کے آکسائڈوں کی تحویل زیریں خط کے ذریعے ظاہر کیے گئے عناصر کے ذریعہ ممکن ہے یا نہیں۔ اگر فرق زیادہ ہے تو تحویل آسانی سے ہوگی۔

مثال 6.1 ایسی حالت تجویز کیجئے جس میں میگنیشیم ایلیومینا کی تحویل کر سکے۔

حل  دو تعامل ہیں:
(a)
2Mg + O2 → 2MgO  (b)  4/3 A1 + O2 → 2/3 A12O3

Al2O3 اور MgO منحنیوں (ڈائیگرام 6.4 میں "A" سے ظاہر کیا گیا ہے) کے نقطہ تقاطع پر مندرجہ ذیل تعامل کے لیے ΔG  صفر ہو جاتا ہے۔
2/3A12O3 + 2Mg → 2MgO + 4/3 A1

مثال 6.2

میگنیشیم دھات حالانکہ حرحرکیاتی اعتبار سے ممکن ہے لیکن عملی طور پر ایلیومینیم کی فلزکاری میں ایلیومینا کی تحویل کے لیے میگنیشیم دھات کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ کیوں؟

حل

Al2O3 اور MgO منحنیوں کے نقطہ تقاطع سے اوپر درجۂ حرارت پر میگنیشیم، ایلیومینا کی تحویل کرسکتا ہے۔ لیکن مطلوبہ درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہوگا کہ پراسس کفایتی نہیں ہوگا اور تکنیکی اعتبار سے مشکل ہوگا۔

مثال 6.2

اگر دھات تحویل کے درجۂ حرارت پر رقیق حالت میں بنی ہے تو دھاتی آکسائڈ کی تحویل آسان ہے۔ کیوں؟

حل

 دھات رقیق حالت میں ہے تو اینٹراپی ٹھوس حالت کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے۔ عمل تحویل کے لیے اینٹراپی تبدیلی (ΔS) کی قدر مثبت سائڈ پر زیادہ ہوتی ہے جبکہ دھات رقیق حالت میں ہو اور دھاتی آکسائڈ جس کی تحویل ہو رہی ہو وہ ٹھوس حالت میں ہو۔ اس طرح ΔGΘکی قدر منفی سائڈ پر زیادہ ہو جاتی ہے اور تحویل آسانی سے ہو جاتی ہے۔


6.4.1 استعمال  (Applications)

(a) لوہے کا اس کے آکسائڈوں سے اخراج (Extraction of iron from its oxides)
لوہے کی آکسائڈ کچ دھاتوں (Fe2O3,Fe3O4) کو تکلیس / روسٹنگ کیا جاتا ہے۔ مرتکز کرنے کے بعد پانی کو علیحدہ کرنے کے لیے، کاربونیٹ کی تحلیل اور سلفائڈوں کی تکسید کے لیے، اس کے بعد اس میں چونے کا پتھر اور کوک ملاکر بلاسٹ بھٹی (Blast Furnace) میں اوپر سے ڈال دیا جاتا ہے۔ یہاں آکسائڈ کی دھات میں تحویل ہو جاتی ہے۔
بلاسٹ بھٹی میں، آئرن آکسائڈ کی تحویل مختلف درجۂ حرارت کی رینج میں ہوتی ہے بھٹی کی تلی سے گرم ہوا کا جھونکا دیا جاتا ہے جس سے کوک گرم ہو کر بھٹی کی تلی میں 2200 K درجہئ حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس عمل کے لیے درکار زیادہ حرارت جلتے ہوئے کوک کے ذریعہ سپلائی کی جاتی ہے۔ CO اور حرارت بھٹی کے بالائی حصہ کی طرف پہنچتے ہیں۔ بالائی حصہ میں درجہئ حرارت کم ہو جاتا ہے اور اوپر کی طرف سے آرہے آئرن آکسائڈ (Fe3O4 اور Fe2O3) کی مرحلہ وار FeO میں تحویل ہو جاتی ہے۔ ان تعاملات کا خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے:

کچ دھات،چونے کا پتھر اور
خارج ہونے والی گیسیں(CO,CO2)
k500 - 800k  پر
3Fe2 O3 + CO → 2Fe3O4 + CO2
                          آئرن کچ دھات
Fe3O4 + CO → 3FeO + CO2
CaCO3 → CaO + CO2
(چونا پتھر)
CaCO3 → CaO + CO2
(سلیگ)
FeO + CO →Fe + CO2
C + CO2 → 2CO
کوک
C + O2 → CO2
FeO + C →Fe + CO
آکسیجن اور ہوا کا بلاسٹ

PH-90
شکل 6.5 : بلاسٹ بھٹی

PH-91 (بلاسٹ بھٹی میں کم درجۂ حرارت کی رینج) پر،Fe2O3پہلےFe3O4 میں تحویل ہوتا ہے اس کے بعدFeO3 میں تحویل ہوجاتی ہے۔
(6.22)
3Fe2O3 + CO →2Fe3O4 + CO2
(6.23)
Fe3O4 + 4CO → 3Fe + 4CO2
(6.24)
Fe2O3 + CO → 2FeO + CO2
چونا پتھر بھی CaO میں تحلیل ہو جاتا ہے جو کہ کچ دھات کی سلیکیٹ ملاوٹوں کو سلیگ (Slag) کی شکل میں علیحدہ کردیتا ہے۔ سلیگ پگھلی ہوئی حالت میں ہوتا ہے اور آئرن سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔
شکل 6.8: زون ریفائننگ

 900-1500K(بلاسٹ بھٹی میں زیادہ درجہئ حرارت کی رینج) پر
(6.25)
C+  CO2 →2CO
(6.26)
FeO + CO →Fe + CO2  
حرحرکیات یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے کہ کوک آکسائڈ کی تحویل کس طرح کرتا ہے اور اس بھٹی کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے وابستہ ایک اہم تحویلی تعامل6.27 ذیل میں دیا گیا ہے۔
  (6.27)
(FeO(s) + C(s) → Fe(s/1) + CO (g

اس تعامل کو دوسادہ تعاملات کے جوڑے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس میں تعامل مکمل ہوا ہے۔ ایک تعامل میں تو FeO کی تحویل ہوتی ہے اور دوسرے میں کاربن کی CO میں تکسید ہوتی ہے۔
(6.28)
[(FeO(s) → Fe(s) + 1/2O2(g)  [∆G(FeO,Fe
(6.30)
[(C(s) + 1/2 O2(g) CO(g)  [∆G(c,co
جب دونوں تعامل ہوتے ہیں تو مساوات (6.27) حاصل ہوتی ہے اور نیٹ گبس توانائی تبدیلی مندرجہ ذیل ہوجاتی ہے۔
(6.30)
TGΘ (c,co) + ∆TGΘ(Feo,Fe) = ∆rG∆Θ
فطری بات ہے کہ منتج تعامل (Resultant reaction) اسی وقت ہوگا جب مساوات 6.30 دائیں طرف منفی ہو۔ ΔG Θ اور T کے مابین گراف جو کہ تعامل 6.28 کو ظاہر کرتا ہے، گراف اوپر کی طرف جاتا ہے اور C  CO کی تبدیلی کو ظاہر کرنے والا گراف (C, CO) نیچے کی طرف جاتا ہے وہ ایک دوسرے کو 1073Kپرکاٹتے ہیں۔ 1073K(تقریباً) سے زیادہ درجۂ حرارت پر C, CO لائن Fe, FeO لائن [ΔG(C, CO) < ΔG(Fe, FeO)کے نیچے آجاتی ہے۔ لہٰذا، اوپر درجہئ حرارت 900-1500Kکی رینج میں کوک FeO کی تحویل کرتا ہے اور خود CO میں تکسید ہو جاتا ہے۔ آئیے ہم اسے شکل6.5کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ 
1400ºC)1673K)
پر تعامل
Fe→ Fe + O2
کے لیے
TG ∆      
کی قدر 341KJmol-1+ہوگی۔ اور تعامل2C+02→2CO کے لیے Δ2G- -44kJmol-1 ہوگی۔ اگرہم پورے مکمل تعامل(6.27)کے لیے یہ قیمت-53KJ mog-ہوگی۔لہٰذا(6.27) ممکن ہوجائے گا۔اسی طرح CO کے ذریعہ نسبتاً کم درجۂ حرارت پر Fe3O4 اور Fe2O3 کی تحویل کی وضاحت شکل  میں CO, CO2 منحنی اور ان کے منحنیوں کے نقطہ تقاطع سے نیچے رہنے کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔(شکل6.6)
PH-100
شکل 6.6:  گیس توانائی بمقابلہ Tپلاٹ کا آئرن کے آکسائڈاورکاربن کی تشکیل کاگراف(النگھم شکل)

بلاسٹ بھٹی سے حاصل ہونے والا لوہا %4کاربن اور دیگر کئی ملاوٹوں (مثلاً Mn،Si،P،S) پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ بہت کم مقدار میں ہوتی ہیں۔ اسے پگ آئرن (Pig iron) کہتے ہیں۔ اسے مختلف شکلوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ڈھلواں لوہا (Cast iron)، پگ آئرن سے مختلف ہوتا ہے۔ اسے پگ آئرن کو پرانے لوہے اور کوک کے ساتھ گرم ہوا کے بلاسٹ سے پگھلاکر بنایا جاتا ہے۔ اس میں بہت کم مقدار میں کاربن ہوتا ہے (تقریباً %3) اور یہ بہت زیادہ سخت اور پھوٹک (Brittle) ہوتا ہے۔

مزید تعاملات (Further Reductions)
پٹواں لوہا (Wrought Iron) صنعتی لوہے کی خالص ترین شکل ہے اور اسے ریوربیریٹری بھٹی جس میں ہیمیٹائٹ کا اسر ہوتا ہے) لوہے میں موجود ملاوٹوں کی تکسید کے ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ہیمیٹائٹ کاربن کی کاربن مونوآکسائڈ میں تکسید کر دیتا ہے۔
(6.31)
Fe2O3 + 3 C → 2 Fe + 3 CO

چوناپتھر فلکس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سلیکان اور فاسفورس کی تکسید ہو جاتی ہے اور یہ سلیگ کی شکل میں نکل جاتے ہیں۔ رولر کے ذریعہ سلیگ کو ہٹاتے ہوئے دھات کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔

(b)   کیوپرس آکسائڈ (Copper (I) oxide) سے کاپر کا استخراج

[Extraction of copper from cuprous oxide [copper(I) oxide]
آکسائڈوں کی تشکیل کے لیے DrGΘ vs T گراف (شکل 6.4) میں Cu2O لائن تقریباً سب سے اوپر ہے۔ لہٰذا، کاپر کی کچ دھاتوں کو کوک (C, CO اور C, CO2 دونوں لائنیں گراف میں خاص طور پر
500-600K 
کے بعد بہت نیچے ہیں) کے ساتھ گرم کرکے سیدھے ہی دھات میں تحویل کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ زیادہ تر کچ دھاتیں سلفائڈ کی شکل میں ہیں اور کچھ میں لوہا موجود ہوتا ہے۔ سلفائڈ کچ دھاتوں کی روسٹنگ / اسمیلٹنگ کی جاتی ہے اور آکسائڈوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
(6.32)
2Cu2S + 3O2 → 2Cu2O + 2SO2
اب کوک کا استعمال کرکے آکسائڈ کی دھاتیں کاپر میں آسانی سے تحویل کی جاسکتی ہیں۔
(6.33)
Cu2O + C →2 Cu + CO

حقیقی عمل میں، کچ دھات میں سلیکا ملا کر اسے ریوربیریٹری بھٹی میں گرم کیا جاتا ہے۔ بھٹی میں، آئرن آکسائڈ، آئرن سلیکیٹ کی شکل میں سلیگ کے طور پر نکل جاتا ہے اور کاپر، کاپر میٹ (Copper matte) کی شکل میں حاصل ہوتا ہے۔ اس میں Cu2S اور FeS موجود ہوتے ہیں۔
(3.34)
FeO + SiO2 → FeSiO3
(سلیگ)
کاپر میٹ کو سلیکا استر والے کنورٹر میں چارج کیا جاتا ہے۔ باقی ماندہ  Cu2S / Cu2O اور FeO،FeS2 کو دھاتی کاپر میں تبدیل کرنے کے لیے کچھ سلیکا بھی ملائی جاتی ہے اور گرم ہوا کا جھونکا بھی دیا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل تعاملات واقع ہوتے ہیں۔
(6.35)
2FeS + 3O2 → 2FeO + 2SO2
(6.36)
FeO + SiO2 → FeSiO3
(6.37)
2Cu2S + 3O2 → 2Cu2O + 2SO2
(6.38)
2Cu2O + Cu2S → 6Cu + SO2

حاصل ہونے والے ٹھوس کاپر میں پھپھولے (Blister) نظر آتے ہیں جو کہ SO2 کے خارج ہونے کی وجہ سے بنتے ہیں اور اسی لیے اسے پھپھولے دار تانبہ کہتے ہیں۔

(c)   زنک آکسائڈ سے زنک کا استخراج   (Extraction of zinc from zinc oxide)

زنک آکسائڈ کی تحویل کوک کا استعمال کرکے کی جاتی ہے۔ زنک کے معاملے میں درجۂ حرارت کاپر کے کیس کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ گرم کرنے کے مقصد سے آکسائڈ میں کوک اور چکنی مٹی (Clay) ملاکر Brickettes بنالیے جاتے ہیں۔
      ZnO + C--------coke,673K → Zn + CO
PH-108
دھات کو کشید کرکے اور تیزی سے ٹھنڈا کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔

متن پر مبنی سوالات

6.3 تعامل

(Cr2 O3 + 2 A1 → A12 O3 + 2 Cr     (∆GΘ = - 421 kJ

حرحرکیاتی اعتبار سے ممکن ہے جیسا کہ گبس توانائی قدر ظاہر ہے۔ یہ کمرہ کے درجۂ حرارت پر کیوں ممکن نہیں ہے؟
6.4   کیا یہ سچ ہے کہ کچھ مخصوص حالات میں MiS2، Mg کی تحویل کر سکتا ہے اور Mg، Siکی تحویل کر سکتا ہے۔

6.5   فلز کاری کے برق کیمیائی اصول 

(Electrochemical Principles of Metallurgy)

ہم دیکھ چکے ہیں کہ فلز کاری پر حرحرکیاتی اصولوں کا اطلاق کس طرح ہوتا ہے۔ اسی طرح کے اصول محلول یا پگھلی ہوئی حالت میں دھاتی آینوں کی تحویل میں مؤثر ہیں۔ یہاں ان کی تحویل الیکٹرولسس یا کچھ تحویلی عنصر ملاکر کی جاتی ہے۔
پگھلے ہوئے دھاتی نمک کی تحویل کے لیے الیکٹرولسس کا عمل بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اس قسم کے طریقے برق کیمیائی اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں جنہیں مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ سمجھاجاسکتا ہے۔
(6.40)
GΘ = - nEΘ F∆

یہاں n الیکٹرانوں کی تعداد ہے اور EΘ نظام میں بننے والے ریڈاکس کپل کا الیکٹروڈ مضمر ہے۔ زیادہ تعامل پذیر دھات کے لیے الیکٹروڈ مضمر کی قدر زیادہ منفی ہوتی ہے لہٰذ ان کی تحویل ایک مشکل امر ہے۔ اگر مساوات 6.42 میں دو EΘ قدروں کا فرق مثبت EΘ اور اس کے نتیجے میں منفی ΔGΘکے نظیری ہے تو کم تعامل پذیر دھات محلول سے باہر آجائے گی اور زیادہ تعامل پذیر دھات محلول میں چلی جائے گی۔ مثلاً 
(6.41)
(Cu2+ (aq) + Fe(s) → Cu(s) + Fe2+ (aq

سادہ الیکٹرولسس میں، +Mn آین منفی الیکٹروڈ (کیتھوڈ) پر ڈسچارج ہو جاتے ہیں اور وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ حاصل ہونے والی دھات کی تعاملیت پر غور کرنے کے دوران احتیاط سے کام لیا جاتا ہے اور مناسب مادوں کو الیکٹروڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی پگھلی ہوئی کمیت کو زیادہ ایصالی بنانے کے لیے فلکس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ایلیومینیم(Aluminium)
ایلیومینیم کی فلز کاری میں تخلیص شدہ Al2O3 کی Na3AlF6 یا CaF2 کے ساتھ آمیزش کی جاتی ہے۔ Na3AlF6 یا CaF2 آمیزہ کا نقطہ گداخت کم کر دیتے ہیں اور اسے موصل بنادیتے ہیں۔ پگھلے ہوئے میٹرکس کا الیکٹرولسس کیا جاتا ہے۔ اسٹیلکابرتن جس میں کاربن کی تہہ لگی ہوتی ہے کیتھوڈ کا کام کرتا ہے اور گریفائٹ کا اینوڈ استعمال کیا جاتا ہے۔ دھات میں تحویل کے لیے یہاں گریفائٹ اینوڈ کارگر ہے۔ کل تعامل مندرجہ ذیل ہے:
(6.42)
2A12O3 + 3C → 4A1 + 3CO2
تانبہ کیمپ 
کاربن اینوڈ
اسٹیل کے برتن پر کاربن
کی تہہ (کیتھوڈ)
ایلیومینیم کی نکاسی
لوہا
پگھلا ہوا ایلیومینیم
PH-113
شکل 6.7:   ایلیو مینیم کے استخراج کے لیے الیکٹرو لائٹک سیل

الیکٹرولسس کا یہ عمل عام طور سے Hall-Heroult پراسس کہلاتا ہے۔ 
پگھلی ہوئی شے کا الیکٹرولسس ایک الیکٹرولائٹک سیل میں کیا جاتا ہے جس میں کاربن الیکٹروڈوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اینوڈ پر خارج ہونے والی آکسیجن اینوڈ کے کاربن سے تعامل کرکے CO اور CO2 بناتی ہے۔ اس طرح سے ہر ایک کلوگرام ایلیومینیم پیدا کرنے کے دوران 0.5 کلوگرام کاربن اینوڈ جل کر ختم ہو جاتی ہے۔ الیکٹرولائٹک تعاملات مندرجہ ذیل ہیں:
(6.43)
(A13+ (melt) + 3e‾ → A1(1  : کیتھوڈ
(6.44)
‾C(s) + O2- (melt) → CO(g) 2e : اینوڈ
(6.45)
‾C(s) + 2O2- (melt) → CO2 (g) + 4e

نچلے درجہ کی کچ دھاتوں اور کباڑ سے کاپر کا استخراج (Copper from Low Grade Ores and Scraps)
نچلے درجہ کی کچ دھاتوں سے کاپر کو ہائڈروفلزکاری کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ بیکٹریا یا تیزاب کا استعمال کرکے اس کی لیچنگ کی جاتی ہے۔ +Cu2 پر مشتمل محلول کا بے کار لوہے یا H2 سے تعامل کرایا جاتا ہے (مساوات 6.40؛ 6.46)۔
(6.46)
(Cu2+ (aq) + H2(g) → Cu(s) + 2H+ (aq

مثال 6.4
کسی جگہ پر کمترین درجہ کی کاپر کچ دھات اور زنک نیز لوہے کا کباڑ دستیاب ہے۔ لیچنگ کی گئی کاپر کچ دھات کی تحویل کے لیے کون سے دو اسکریپ مناسب رہیں گے اور کیوں؟
حل
زنک کیونکہ برق کیمیائی سلسلہ میں لوہے سے اوپر ہے (زنک زیادہ تعامل پذیر دھات ہے) اس لیے اگر زنک اسکریپ کا استعمال کیا جاتا ہے تو تحویل کا عمل تیزی سے ہوگا۔ لیکن زنک، لوہے کے مقابلے مہنگا ہے اس لیے آئرن اسکریپ کے استعمال کی صلاح دی جاتی ہے اور یہ مفید رہے گا۔

6.6 تکسید تحویل (Oxidation Reduction)


تحویل کے علاوہ، استخراج کے کچھ عمل تکسید پر مبنی ہیں خاص طور سے غیر دھاتوں کے لیے۔ تکسید پر مبنی استخراج کی سب سے عام مثال ہے برائن (سمندر کے پانی میں نمک کی شکل میں کلورین وافر مقدار میں موجودہے) سے کلورین کا استخراج۔
(6.47)
(2C1- (aq) + 2H2O(1) → 2OH (aq) + H2(g) + C12(g

اس تعامل کے لئے ΔGΘ کی قدر +422 kJ ہے۔ جب اسے EV میں تبدیل کیا جاتا ہے (ΔGΘ  = –nEΘF کا استعمال کرکے) تو ہمیں EΘ = –2.2Θ حاصل ہوتا ہے۔ فطری بات ہے اس کے لیے 2.2 V سے زیادہ بیرونی emf درکار ہوگا۔ لیکن الیکٹرولسس کے لیے اضافی مضمر توانائی درکار ہوگی تاکہ کچھ دیگر مزاحمتی تعاملات پر قابو پایا جاسکے۔اکائی 3سیکشن 3.5.1 اس طرح Cl2 کو الیکٹرولسس کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے اس دوران H2 اور آبی NaOH ضمنی ماحصلات کے طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ پگھلے ہوئے NaCl کا بھی الیکٹرولسس کیا جاتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں Na دھات حاصل ہوتی ہے NaOH نہیں۔
جیسا کہ پہلے مطالعہ کیا گیا ہے، گولڈ اور سلور کے استخراج میں دھات کی CN– کے ساتھ لیچنگ کرائی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک تکسیدی تعامل ہے PH-117۔ دھات کو بعد میں ہٹاؤ کے طریقہ سے حاصل کرلیا جاتا ہے۔
(6.48)
→ (4Au(s) + 8CN- (aq) + 2H2O(aq) + O2(g
(4Au (CN)2]- (aq) + 4OII(aq
(6.49)
(2Au (CN)2]- (aq) + Zn(s) + 2Au(s) + [Zn (CN)4]2-(aq

اس تعامل میں زنک تحویلی ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔

6.7   تخلیص (Refining)

دھات کا استخراج کسی بھی طریقہ سے کیا جائے پھر بھی اس میں تھوڑی بہت ملاوٹیں ضرور موجود ہوتی ہیں۔ بہت زیادہ خالص دھات حاصل کرنے کے لیے متعدد تکنیکیں استعمال میں لائی جاتی ہیں جو کہ دھات اور ملاوٹ کی خصوصیات میں فرق پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تکنیکیں ذیل میں دی گئی ہیں۔
(a)   کشید                                        (b)   اماعت
(c)   برقی تخلیص                                 (d)   زون ریفائننگ
(e)   بخارات ہئیت تخلیص(ویپرفیز ریفائننگ)       (f)   کرومیٹوگرافک طریقے
  ان کی تفصیل ذیل میں پیش ہے:
(a) کشید (Distillation)
یہ طریقہ مرکری اور زنک جیسی کم نقطہ جوش والی دھاتوں کے لیے زیادہ مفید ہے۔ غیر خالص دھات کی تبخیر کرکے خالص دھات کو کشیدہ) (distillate کی شکل میں حاصل کیا جاتا ہے۔
(b)   اماعت (Liquation)
اس طریقے سے ٹِن جیسی کم نقطہ گداخت والی دھات کو ایک ڈھلواں سطح پر بہایا جاتا ہے۔ اس طرح سے یہ زیادہ نقطہ گداخت والی ملاوٹوں سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
(c)    برقی تخلیص (Electrolytic refining)
اس طریقے سے غیر خالص دھات کو اینوڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی دھات کی خالص شکل کا استعمال کیتھوڈ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ انہیں ایک مناسب الیکٹرولائٹک باتھ میں رکھا جاتا ہے جس میں اس دھات کا 
نمک موجود ہوتا ہے۔ زیادہ اساسی دھات محلول میں ہی رہ جاتی ہے اور کم اساسی دھات اینوڈ مڈ (Anode mud) کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس عمل کی تشریح الیکٹروڈ مضمرتوانائی، زائد مضمرتوانائی اور گبس توانائی کے تصور کا استعمال کرکے کی جاسکتی ہے جن پر آپ پچھلے سیکشنوں میں غور کر چکے ہیں۔ تعاملات اس طرح ہیں:
-M →MT+ + ne    : اینوڈ
(6.50)
Mr+ + ne- →M    : کیتھوڈ

کاپر کی تخلیص الیکٹرولائٹک عمل کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ غیر خالص دھات کا استعمال بطور اینوڈ کیا جاتا ہے خالص دھات کی اسٹرپ کیتھوڈ کے طور پر استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ الیکٹرولائٹ کاپر سلفیٹ کا تیزابی محلول ہوتا ہے اور الیکٹرولسس کا حتمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کاپر خالص شکل میں اینوڈ سے کیتھوڈ پر منتقل ہو جاتا ہے۔
-Cu →Cu2++2e    :  اینوڈ
(6.51)
Cun + +2e- →Cu  :  کیتھوڈ

پھپھولے دار تانبہ میں موجود ملاوٹیں اینوڈ مڈ کی طرح جمع ہو جاتی ہیں جن میں اینٹی منی، سیلینیم، سلور، گولڈ اور پلیٹینم ہوتی ہیں۔ ان عناصر کے حصول سے تخلیص کا خرچ نکل آتا ہے۔
زنک کی تخلیص بھی اسی طریقے سے کی جاتی ہے۔
(d) زون ریفائننگ (Zone refining)
یہ طریقہ اس اصول پر مبنی ہے کہ ملاوٹیں دھات کی ٹھوس حالت کے مقابلے پگھلی ہوئی حالت میں زیادہ حل پذیر ہوتی ہیں۔ غیر خالص دھات کی چھڑ کے ایک سرے پر ایک موبائل ہیٹر نصب کر دیا جاتا ہے (شکل 6.8)۔ پگھلا ہوا زون ہیٹر کے ساتھ ساتھ حرکت کرتا ہے۔ جیسے جیسے ہیٹر آگے کی طرف بڑھتا ہے پگھلی ہوئی دھات سے خالص دھات کرسٹلائز ہو جاتی ہے اور ملاوٹیں متصل پگھلے ہوئے زون میں چلی جاتی ہیں جوہیڑ کی حرکت سے پیداہوئی ہے۔ اس عمل کو متعدد مرتبہ دوہرایا جاتا ہے اور ہیٹر کو باربار ایک ہی سمت میں حرکت دی جاتی ہے۔ ملاوٹیں ایک سرے پر جمع ہو جاتی ہیں۔ اس سرے کو کاٹ کر علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ نیم موصل تیار کرنے اور جرمینیم، سلیکان، بوراں، گیلیم اور انڈیم جیسی بہت زیادہ خالص دھاتوں کو حاصل کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔

نوبل گیس پر مشتمل کرہ باد
متحرک امالی کوئل
دھاتی چھڑ
پگھلا ہوا خطہ
1
شکل 6.8 : زون ریفائننگ

(e)   ویپرفیز ریفائننگ (Vapour phase refining)
   اس طریقے میں، دھات کو طیران پذیر مرکب میں تبدیل کیا جاتا ہے اور دوسری جگہ جمع کرلیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی تحلیل کرکے خالص دھات حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے لیے درج ذیل کی ضرورت ہوتی ہے۔
(i)   دھات میں کسی دستیاب ریجنٹ کے ساتھ مل کر طیران پذیر مرکب بنانے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
(ii)   طیران پذیر مرکب ایسا ہونا چاہیے کہ بآسانی تحلیل ہوسکے۔ اس سے دھات کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔
مندرجہ ذیل مثالوں سے اس تکنیک کی وضاحت ہو جاتی ہے:
  نکل کی تخلیص کے لیے مانڈ پراسس (Mond Process for Refining Nickel): اس عمل میں نکل کو کاربن مونو آکسائڈ کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے جس سے طیران پذیر کمپلیکس یعنی نکل ٹیٹرا کاربونل حاصل ہوتا ہے۔ یہ کمپلیکس کوزیادہ درجہئ حرارت پر تحلیل ہوکر خالص دھات دیتا ہے۔
(6.52)
Ni + 4CO ---------450 470K Ni (CO)4
Ni (CO)4 ------330 350K → Ni + 4CO
زرکونیم اور ٹائیٹینیم کی تخلیص کے لیے وان آرکل کا طریقہ (van Arkel Method for Refining Zirconium or Titanium):  Zr اور Ti جیسی دھاتوں میں ملاوٹوں کی شکل میں موجود تمام آکسیجن اور نائٹروجن کو علیحدہ کرنے کے لیے یہ طریقہ بہت مفید ہے۔ خام دھات کو آیوڈین پر مشتمل ایک وکیوم شدہ برتن میں گرم کیا جاتا ہے۔ دھاتی آیوڈائڈ بہت زیادہ شریک گرفت ہونے کی وجہ سے طیران پذیر ہو جاتا ہے۔
(6.54)
Zr + 212 → ZrI4

دھاتی آیوڈائڈ کوٹنگسٹن فلامینٹ پر تحلیل کیا جاتا ہے جو کہ بجلی کے ذریعہ 1800 K پر گرم ہوتا ہے۔ اس طرح خالص دھات فلامینٹ پر جمع ہو جاتی ہے۔
(6.55)
ZrI4 → Zr + 212

(f) کرومیٹوگرافک طریقے (Chromatographic methods)

آپ گیارھویں جماعت کے اکائی 12میں اشیا کی تزکیہ کی کرومیٹوگرافی تکنیک کے بارے میں معلومات حاصل کرچکے ہیں۔
یہ کالم کرومیٹوگرافی کی ایسے عناصر کی تخلیص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ بہت کم مقدار میں دستیاب ہیں تیز ملاوٹوں کی کیمیائی خصوصیات اور تخلیص کیے جانے والے عنصر کی کیمیائی خصوصیات میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ 

6.8 ایلیومینیم، کاپر، زنک اور آئرن کے استعمال

(Uses of Aluminium, Copper, Zinc and Iron)

ایلیومینیم کی پنیوں کا استعمال غذائی اشیا کے ریپر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ دھات کے باریک پاؤڈر کا استعمال روغن اورریزش Lacquers میں کیا جاتا ہے۔ بہت زیادہ تعامل پذیر ہونے کی وجہ سے ایلیومینیم کا استعمال کرومیم اور مینگنیز کو ان کے آکسائڈوں سے حاصل کرنے میں کیا جاتا ہے۔ ایلیومینیم کا استعمال کرومیم اور مینگنیز کو ان کے آکسائڈوں سے حاصل کرنے میں کیا جاتا ہے۔ ایلیومینیم کے تاروں کا استعمال بجلی کے موصل کے طور پر کیا جاتا ہے۔ایلیومینیم پر مشتمل بھرتیں ہلکی ہونے کی وجہ سے کافی کارآمد ہوتی ہیں۔
تانبہ کا استعمال برقی صنعت میں کام آنے والے تار بنانے نیز پانی اور اسٹیم پائپ بنانے میں کیا جاتاہے۔ اس کا استعمال کئی بھرتیں بنانے میں کیا جاتا ہے جو کہ خود دھات کے مقابلے کافی مضبوط ہوتی ہیں۔ مثلاً پیتل (زنک کے ساتھ)، کانسہ (ٹن کے ساتھ) اور سکہ بھرت (نکل کے ساتھ)۔
زنک کا استعمال لوہے کو جستانے (Galvanisation) میں کیا جاتا ہے۔ اسے بڑی مقدار میں کئی بھرتوں کے جزو ترکیبی کی شکل میں بیٹریوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً پیتل PH-126 اور جرمن 
سلور PH-125۔ زنک ڈسٹ کا استعمال رنگ اور روغن بنانے میں تحویلی ایجنٹ کے طور پر کیا جاتا ہے۔
ڈھلواں لوہا، جو کہ لوہے کی اہم ترین شکل ہے، اسٹوو، ریلوے سلیپر، گٹرپائپ، کھلونے وغیرہ بنانے میں استعمال کی جاتی ہے۔اس کا استعمال پٹواں لوہا اور اسٹیل بنانے میں بھی کیا جاتا ہے۔ پٹواں لوہے کا استعمال لنگر، تار، بولٹ، زنجیریں اور زراعتی سازوسامان بنانے میں کیا جاتاہے۔ اسٹیل کے کئی استعمال ہیں۔ لوہے میں دیگر دھاتوں کی آمیزش کرکے اسٹیل حاصل کیا جاتا ہے۔ نکل اسٹیل کا استعمال کیبل، آٹو موبائل ہوائی جہاز کے حصے، پنڈولم، پیمائشی فیتے بنانے میں کیا جاتا ہے۔ کروم اسٹیل کا استعمال کٹائی کے اوزار اور کرشنگ مشینیں بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اسٹین لیس اسٹیل کا استعمال سائکلیں، آٹوموبائل، برتن، پین وغیرہ بنانے میں کیا جاتا ہے۔

خلاصہ

اگرچہ جدید فلزکاری صنعتی انقلاب کے بعد بہت تیزی سے آگے بڑھی ہے، فلزکاری میں بہت سی جدید اصطلاحات (تصورات) کی جڑیں صنعتی انقلاب سے پہلے کے زمانے میں ہیں۔ تقریباً 7000سال پہلے ہندوستان میں قدیم ہندوستان کے فلزکاروں کی اہم شراکت رہی ہے جسے فلزکاری کی عالمی تاریخ میں مقام ملنا چاہیے۔ زنک اور اعلیٰ کاربن اسٹیل کے معاملے میں قدیم ہندوستان نے جدید فلزکاری کی ترقی میں بنیادفراہم کرنے میں اہم کرداراداکیا ہے جس کی وجہ سے فلزکاری کے مطالعے کی شروعات ہوئی جو صنعتی انقلاب کا سبب بنی۔
دھاتیں کئی مقاصد کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ان معدنیات سے ان کے استخراج کی ضرورت پیش آتی ہے جس میں یہ پائی جاتی ہیں اور جن سے ان کا استخراج تجارتی اعتبار سے آسان ہو۔ یہ معدنیات کچ دھاتیں کہلاتی ہیں۔ کچ دھاتوں میں کئی ملاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔ ایک مخصوص حد تک ان ملاوٹوں کو ارتکاز کے مرحلہ میں دور کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مرتکز کچ دھات کو کیمیائی عملوں سے گزارا جاتا ہے جس کے نتیجے میں دھات حاصل ہوتی ہے۔ عام طور سے دھاتی مرکبات (آکسائڈ، سلفائڈ) کی دھات میں تحویل ہو جاتی ہے۔ کاربن، CO اور یہاں تک کہ کچھ دھاتیں بھی تحویلی ایجنٹ کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ تحویل کے عمل میں حرحرکیاتی اور برق کیمیائی تصوارت بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ دھاتی آکسائڈ تحویلی ایجنٹ کے ساتھ تعامل کرتے ہیں؛ دھاتی آکسائڈ کی دھات میں تحویل ہو جاتی ہے اور تحویلی ایجنٹ کی تکسید ہو جاتی ہے۔ دونوں تعاملات میں نیٹ گبس توانائی کی تبدیلی منفی ہوتی ہے جو کہ درجہئ حرارت بڑھانے پر اور زیادہ منفی ہو جاتی ہے۔ ٹھوس سے رقیق یا گیس سے طبیعی حالت کی تبدیلی اور گیسی حالتوں کی تشکیل پورے نظام کے لیے گبس توانائی میں تخفیف کے لیے ذمہ دار ہے۔ مختلف درجہئ حرارت پر اس قسم کے تکسیدی/ تحویلی تعاملات کے لیے اس تصور کو گراف کی شکل میں ΔGΘ vs T کے پلاٹ (ایلنگھم ڈائی گرام) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ الیکٹروڈ مضمر کا تصور ان دھاتوں کی علیحدگی کے لئے مفید ہے جہاں دو ریڈاکس جفتوں کا حاصل جمع مثبت ہو تاکہ گبس توانائی کی تبدیلی منفی ہو جائے۔ عام طریقوں سے حاصل کی گئی دھاتوں میں ابھی بھی معمولی ملاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔ خالص دھات حاصل کرنے کے لیے تخلیص کا عمل درکار ہوتا ہے۔ تخلیص کا عمل ملاوٹوں اور دھات کی خصوصیات میں فرق پر منحصر ہوتا ہے۔ ایلیومینیم کا استخراج عام طور سے باکسائٹ کچ دھات کی NaOH سے لیچنگ کے ذریعہ عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس طرح جو سوڈیم ایلیومنیٹ حاصل ہوتاہے اس کی تعدیلی کے نتیجے میں ہائڈرٹیڈ آکسائڈ حاصل ہوتا ہے جس میں فلکس کے طور پر کرایولائٹ ملاکر الیکٹرولائز کیا جاتا ہے۔ لوہے کا استخراج اس کی آکسائڈ کچ دھات کی بلاسٹ بھٹی میں تحویل کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ تانبہ کا استخراج ریوربیریٹری بھٹی میں اسمیلٹنگ اور گرم کرکے کیا جاتا ہے۔ زنک آکسائڈ سے زنک کا استخراج کوک کا استعمال کرکے کیا جاتا ہے۔ دھات کی تخلیص کے لیے کئی عمل بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ دھاتو ں کا عام طورسے استعمال بڑے پیمانے پرکیا جاتا ہے اور مختلف صنعتوں کی ترقی میں ان کا اہم تعاون ہے۔


کچھ دھاتوں کے وقوع اور استخراج کا خلاصہ مندرجہ ذیل جدول میں پیش کیا گیا ہے

دھات وقوع استخراج کے عام طریقے ریمارک
ایلیومینیم 1۔ باکسائڈ 
A12O3.xH2O
2۔ کرایولائٹ
Na3A1F6 
پگھل ہوئے
 Na3A1F6
 میں حل شدہ
A12O3    
کا الیکٹرولسس
اتخراج کے لیے بجلی کا یاک اچھا ماخذ درکار ہوتا ہے۔
آئرن 1۔ ہیمٹیائٹ 
Fe2O3
2۔ میگنیٹائٹ
Fe3O4
CO
اور کوک کے ساتھ بلاسٹ بھٹی میں آکسائڈ کی تحویل
 2170k درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔
تانبہ 1۔ کاپر پائرائٹ
CuFeS2
2۔ کاپر گلاس
CuS2
3۔میلیکائٹ
CuCO3Cu(OH)2
4۔ کیوپرائٹ
Cu2O
سلفائٹ کی جزوی روسٹنگ اور تحویل ایک مخصوص ڈیزائن کے کنورٹر میں یہ ازخود تحویل ہوتا ہے۔تحویل کا عمل آسانی سے ہوتا ہے۔کم درجہ کی کچ دھاتوں کی فلزکاری میں سلفیورک ایسڈ لیچنگ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
جستہ 1۔ زنک بلینڈ یاسفلیرائٹ
ZnS
2۔ کیلیمائنZnCO3
3۔ زنسائٹZnO
روسٹنگ اور اس کے بعد کوک کے ساتھ تحویل دھات کی کسری کشید کے ذریعہ تخلیص کا جا سکتی ہے۔



مشقیں 

6.1   کاپر کا استخراج ہائڈرولفزکاری کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے لیکن زنک کا نہیں تشریح کیجیے۔
6.2   فراتھ فلوٹیشن کے طریقے میں مسکن (Depressant) کا کیا رول ہے؟
6.3   تحویل کے ذریعہ آکسائڈ کچ دھات کے مقابلے پائرائٹ کچ دھات سے کاپر کا استخراج ایک مشکل کام کیوں ہے؟
6.4   تشریح کیجیے: (i) زون ریفائننگ (ii) کالم کرومیٹوگرافی
6.5   673 K پر C اور CO میں سے کون بہتر تحویلی ایجنٹ ہے؟
6.6   کاپر کی الیکٹرولائٹک تخلیص میں اینوڈ مڈ میں موجود عام عناصر کے نام بتائیے۔یہ کیوں موجود ہوتے ہیں؟
6.7   لوہے کے استخراج کے دوران بلاسٹ بھٹی کے مختلف خطوں میں ہونے والے تعاملات لکھیے۔
6.8   زنک بلینڈ سے زنک کے استخراج میں ملوث کیمیائی تعاملات لکھیے۔
6.9   کاپر کی فلزکاری میں سلیکا کا رول بیان کیجیے۔
6.10   اگرکوئی شے کم ترمقدارمیں حاصل ہوتو تخلیص کی کون سی تکنیک زیادہ کارگرہوگی؟
6.11   اگرکسی شے میں موجودملاوٹوں کے عناصر شے سے ملتے جلتے ہوں توآپ تخلیص کے لیے کون سا طریقہ تجویزکریں گے؟
6.12   نکل کی ریفائننگ کا طریقہ بیان کیجیے۔
6.13   سلیکا پر مشتمل باکسائٹ کچ دھات میں آپ ایلیومینا سے سلیکا کو کس طرح علیحدہ کر سکتے ہیں؟ مساوات لکھیے اگر کوئی ہے۔
6.14   مثالیں دیتے ہوئے روسٹنگ اور تکلیس، کے درمیان فرق واضح کیجیے۔
6.15   ڈھلواں لوہا (Cast iron) پگ آئرن (Pig iron) سے کس طرح مختلف ہے؟
6.16   معدنیات اور ’کچ دھات‘ کے درمیان فرق کیجیے۔
6.17   سلیکا کے استروالے کنورٹر میں سلیکا میٹ کیوں رکھا جاتا ہے؟
6.18   ایلیومینیم کی فلز کاری میں کرایولائٹ کیا رول ہے؟
6.19   کم درجہ کی کاپر کچ دھاتوں کے معاملے میں لیچنگ کس طرح کی جاتی ہے؟
6.20  CO کا استعمال کرکے تحویل کے ذریعہ زنک آکسائڈ سے زنک کا استخراج کیوں نہیں کیا جاتا؟
6.21   Cr2O3 کی تشکیل کے لیے ΔfGΘ کی قدر –540 kJ mol–1 ہے اور Al2O3 کے لیے –827 kJ mol–1 ہے۔ کیا Al کے ساتھ Cr2O3 کی تحویل ممکن ہے؟
6.22   ZnO کے لیے C اور CO میں کون بہتر تحویلی ایجنٹ ہے؟
6.23   کسی مخصوص معاملے میں تحویلی ایجنٹ کا انتخاب حرحرکیاتی فیکٹر پر منحصر ہوتا ہے۔آپ اس بیان سے کہاں تک متفق ہیں؟ اپنی رائے کی حمایت میں دو مثالیں پیش کیجیے۔
6.24   اس عمل کا نام بتائیے جس ے ذریعہ کلورین کو ضمنی ماحصل کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر NaCl کے آبی محلول کا الیکٹرولسس کرایا جائے تو کیا ہوگا؟
6.25   ایلیومینیم کی برق فلز کاری میں گریفائٹ کا کیا رول ہے؟
6.26   مندرجہ دیل طریقوں سے دھاتوں کی تخلیص کے اصولوں کو بیان کیجیے:
     (i)   زون ریفائننگ
    (ii)    الیکٹرولائٹک ریفائننگ
   (iii)   ویپر فیز ریفائننگ
6.27   ان حالات کا بیان کیجئے جن کے تحت MgO کی تحویل Al کے ذریعہ ممکن ہے۔
                 [اشارہ: متن پر مبنی سوال 6.4 ملاحظہ کیجیے]

متن پر مبنی کچھ سوالوں کے جوابات

6.1   وہ دھاتیں جن میں کوئی ایک جزو (چاہے وہ ملاوٹ ہو یا خود وہ کچ دھات ہو) مقناطیسی ہے مرتکز کی جاسکتی ہیں مثلاً لوہے پر مشتمل کچ دھاتیں (ہیمیٹائٹ، میگنیٹائٹ، سیڈسیرائٹ اور آئرن پائرائٹ)۔
6.2   لیچنگ ایک اہم عمل ہے کیونکہ یہ باکسائٹ کچ دھات سے Fe2O3، SiO2 جیسی ملاوٹوں کو علیحدہ کرنے میں معاون ہے۔
6.3 ایکٹیویشن انرجی کی ایک مخصوص مقدار ان تعاملات کے لیے بھی ضروری ہے جو حرحرکیاتی اعتبار سے ممکن ہیں۔ لہٰذا گرم کرنے کا عمل درکار ہے۔
6.4   جی ہاں، 1350°C سے نیچے Mg، Al2O3 کی تحویل کر سکتا ہے اور 1350°C سے اوپر Al، MgO کی تحویل کر سکتا ہے۔ یہ ΔGΘ vs T پلاٹ سے اخذ کیا جاسکتا ہے (شکل 6.4)۔