p بلاک عناصر(Thep-Block Elements)
کیمسٹری میں تنوع p بلاک عناصر کی s–، d اور -f بلاک عناصر نیز خود اپنے بلاک کے عناصر کے ساتھ تعامل کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
مقاصد
اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
• گروپ 15، 16، 17 اور 18 کے عناصر کی کیمیا میں عمومی رجحانات کا بیان کرسکیں۔
• ڈائی نائٹروجن اور فاسفورس کی تیاری، خصوصیات اور استعمال کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ اہم مرکبات کے بارے میں بھی سیکھ سکیں۔
• ڈائی آکسیجن اور اوزون کی تیاری خصوصیات اور کچھ عام آکسائڈوں کی کیمسٹری کا بیان کرسکیں۔
• سلفر کے بہروپ اس کے اہم مرکبات کی کیمسٹری نیز اس کے آکسوایسڈوں کی ساخت کے بارے میں جان سکیں۔
• لورین اور کلورک ہائڈرو، ایسڈ کی تیاری خصوصیات اور استعمال کا بیان کرسکیں۔
• انٹرہیلوجن کی کیمیا اور ہیلوجن کے آکسی ایسڈوں کی ساخت کے بارے میں جان سکیں۔
• نوبل گیسوں کے استعمال کو شمار کرسکیں۔
• ہماری روز مرہ کی زندگی میں ان عناصر اور ان کے مرکبات کی اہمیت کا بیان کرسکیں۔
گیارہویں جماعت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ p بلاک عناصر کو دوری جدول کے 13 تا 18 گروپ میں رکھا گیا ہے۔ ان کا ویلنس شیل الیکٹرانی تشکل ns2np1–6ہے (He کو چھوڑ کر جس کا الیکٹرانی تشکل 1s2 ہے)۔ pبلاک عناصر کی خصوصیات دیگر عناصر کی طرح ایٹمی سائز، آیونائزیشن اینتھالپی،الیکٹران گین اینتھالپی اور برقی منفیت (Electronegativity) سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ دوسرے پیریڈ میں d الیکٹرانوں کی عدم موجودگی اور بھاری عناصر (تیسرے پیریڈ سے شروع ہو کر آگے تک) d اور / f اربٹل کی موجودگی عناصر کی خصوصیات پر بامعنی اثر ڈالتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دھات، دھات نما اور غیر دھات تینوں قسم کے سبھی عناصر کی موجودگی ان عناصر کی کیمسٹری میں تنوع کا سبب ہے۔
گیارہویں جماعت میں دوری جدول کے p بلاک کے گروپ 13 اور 14 کے عناصر کی کیمسٹری کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس اکائی میں اس کے بعد کے گروپوں کے عناصر کی کیمسٹری کا مطالعہ کریں گے۔
7.1 گروپ 15 کے عناصر (Group 15 Elements)
.گروپ 15 میں نائٹروجن، فاسفورس، آرسینک، اینٹی منی بسمتھ اور موسکوویم کو شامل کیا گیا ہے جیسے جیسے ہم گروپ میں نیچے جاتے ہیں غیر دھاتی خصوصیات، دھات نما (Metalloid) خصوصیات سے ہوتے ہوئے دھاتی خصوصیات کی طرف شفٹ ہوجاتی ہیں نائٹروجن اور فاسفورس غیر دھاتیں ہیں، آرسینک اور اینٹی فی دھات نما ہیں جبکہ بسمتھ اور موسکوویم ایک دھات ہے۔
7.1.1 وقوع (Occurrence)
کرہ بادہ کا %78حجم سالماتی نائٹروجن پر مشتمل ہے۔ قشر ارض میں یہ سوڈیم نائٹریٹ NaNO3 (جسے چلی سالٹ پیٹر کہتے ہیں) اور پوٹاشیم نائٹریٹ (انڈین سالٹ پیٹر) کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ یہ پودوں اور جانوروں میں پروٹین کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ فاسفورس ایپیٹائٹ فیملی
Ca9(PO4)6.CaX2(X=F,CI,یاOH)
کی معدنیات میں پایا جاتا ہے۔ (مثلاً فلواپیٹائٹ Ca9 (PO4)6. CaF2 )جوکہ فاسفیٹ چٹانوں کے اہم اجزا ہیں۔ فلسفورس حیوانی اور نباتاتی مادہ کا لازمی جزو ہے۔ یہ ہڈیوں اور جاندار خلیوں میں موجود ہوتا ہے۔ فاسفوپروٹین دودھ اور انڈوں میں پایا جاتا ہے۔ آرسینک اینٹی منی اور بسمتھ خاص طور سے سلفائڈ معدنیات کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ موسکوویم ایک مصنوعی تابکارعنصرہے۔
موسکوویم کی علامت Mcہے۔اس کا ایٹمی عدد -115ایٹمی کمیت1289اورالیکٹرانی تشکل
(Rn)sf4,6a10,552,7P3
ہے۔اس کی نصف زندگی بہت کم ہوتی ہے اورحصول بہت کم مقدار میں ہوتا ہے۔اس کی کیمسٹری کوقائم کرنا باقی ہے۔ اس گروپ کے عناصر موسکوویم کے علاوہ کی اہم ایٹمی اور طبیعی خصوصیات ان کے الیکٹرانی تشکل کے ساتھ جدول 7.1 میں دی گئی ہیں۔
جدول 7.1 گروپ 15 کے عناصر کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات
| خصوصیت |
N |
P |
As |
Sb |
Bi |
| ایٹمی عدد |
7 |
15 |
33 |
51
|
83 |
| ایٹمی کمیت / گرام فی مول |
14.01 |
30.97 |
74.92 |
121.75 |
208.98 |
| الیکٹرانی تشکل |
[He]2s22p3 |
[Ne]3s23p3 |
[Ar]3d104s24p3 |
[Kr]4d105s25p3 |
[Xe]4f145d106s26p3 |
| آیونائزیشن اینتھالیپی I |
1402 |
1012 |
947 |
834 |
703 |
| (DiH/(kJ mol–1) II |
2856 |
1903 |
1798 |
1595 |
1610 |
| III |
4577 |
2910 |
2736 |
2443 |
2466 |
| برقی منفیت |
3.0 |
2.1 |
2.0 |
1.9 |
1.9 |
| شریک گرفت نصف قطر pma |
70 |
110 |
121 |
141 |
148 |
| آینی نصف قطر/ pm |
171b |
212b |
222b |
76c |
103c |
| نقطہ گداخت/ K |
*63 |
317d |
1089e |
904 |
544 |
| نقطہ جوش / K |
*77.2 |
554d |
888f |
1860 |
1837 |
| کثافت / [g cm–3(298 K)] |
0.879g |
1.823 |
5.778h |
6.697 |
9.808 |
II Ea واحد بانڈ (عنصرE=)؛ b E3–؛ c E3+؛ d سفید فاسفورس؛ e 38.6 atmپر سلیٹی شکلa؛ f تصعیدی درجۂ حرارت؛ g 63Kپر؛ hسلیٹی شکل; *سالماتیN
7.1.2 الیکٹرانی تشکل (Electronic Configuration)
گروپ کی ایٹمی، طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کے رجحانات سے مندرجہ ذیل بحث کی گئی ہے۔
ان عناصر کا ویلنس شیکل الیکٹرانی تشکل ns2np3 ہے۔ ان عناصر میں s اربٹل مکمل بھرا ہوا ہے اور p اربٹل نصف بھرے ہوئے ہیں جو ان کے الیکٹرانی شیل کو مزید استحکام عطا کرتے ہیں۔
7.1.3 ایٹمی اور آینی نصف قطر (Atomic and Ionic Radii)
شریک گرفت اور آینی (ایک مخصوص حالت میں) نصف قطر میں اضافہ ہوتا ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر N سے اور P تک شریک گرفت نصف قطر میں قابل لحاظ اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم As سے Bi تک شریک گرفت نصف قطر میں معمولی اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسا بھاری عناصر میں مکمل بھرے ہوئے d اور /یا f اربٹل کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
7.1.4 آیونائزیشن اینتھالپی(Ionisation Enthalpy)
گروپ میں نیچے جانے پر ایٹمی سائز میں بتدریج اضافہ کی وجہ سے آیونائزیشن اینتھالپی میں کمی آتی ہے۔ زائد مستحکم نصف بھرے ہوئے p اربٹل الیکٹرانی تشکل اور کم سائز کی وجہ سے گروپ IS کے عناصر کی آیونائزیشن اینتھالپی نظیری پیریڈ میں گروپ 14 کے عناصر کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔ آیونائزیشن اینتھالپی کی بڑھتی ہوئی ترتیب اس طرح ہے۔
ΔiH1< ΔiH2<ΔiH3
(جدول 7.1)
7.1.5 برقی منفیت
(Electronegativity)
عام طور سے گروپ میں نیچے جانے پر ایٹمی سائز میں اضافے کے ساتھ برقی منفیت گھٹتی ہے۔ تاہم بھاری عناصر میں یہ کمی بہت زیادہ نہیں ہے۔
7.1.6 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)
اس گروپ کے سبھی عناصر کثیر ایٹمی ہیں۔ ڈائی نائٹروجن دو ایٹمی گیس ہے جبکہ باقی سبھی ٹھوس ہیں۔ گروپ میں نیچے کی طرف جانے پر دھاتی خصوصیت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ نائٹروجن اور فاسفورس غیر دھاتی ہیں۔ آرسینک اور اینٹی منی دھات نما (Metalloids) ہیں اوربسمتھ دھات ہے۔ ایسا آیونائزیشن اینتھالپی میں کمی اور ایٹمی سائز میں اضافہ کی وجہ سے ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر نقطہ جوش میں عام طور سے اضافہ ہوتا ہے لیکن نقطہ گداخت میں ارسینک تک تو اضافہ ہوتا ہے اور پھر بسمتھ تک اس میں کمی آتی جاتی ہے۔ نائٹروجن کے علاوہ سبھی عناصر بہروپیت ظاہر کرتے ہیں۔
7.1.7 کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)
تکسیدی حالتیں اور کیمیائی تعاملیت میں رجحانات:
ان عناصر کی عام تکسیدی حالتیں +3، –3 اور +5 ہیں۔ گروپ میں نیچے جانے پر –3 تکسیدی حالت کو ظاہر کرنے کا رجحان کم ہوتا جاتا ہے کیونکہ سائز اور دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ درحقیقت گروپ کا آخری رکن بسمتھ –3 تکسیدی حالت میں بہ مشکل ہی کوئی مرکب بناتا ہے۔ (Bi (Vکا صرف ایک مرکب BiF5 ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر 5+ تکسیدی حالت کے استحکام میں کمی اور3+تکسیدی حالت کے استحکام میں اضافہ (جامد حجتہ اثر کی وجہ سے) ہوتا ہے۔+5تکسیدی حالت کے علاوہ نائٹروجن جب آکسیجن سے تعامل کرتی ہے تو یہ +1، +2، +4 تکسیدی حالتوں کو بھی ظاہر کرتی ہے۔اگرچہ یہ ہیلو جن کے ساتھ+5تکسیدی حالت میں مرکبات نہیں بناتی کیوں کہ اس کے پاس dآربٹل نہیں ہوتے جس میں وہ دوسرے عناصر کے الیکٹرانوں کو رکھ کر گرفت بناسکے۔ فاسفورس بھی کچھ آکسو ایسڈوں میں +1 اور +4 تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتا ہے۔
نائٹروجن کے معاملے میں +1 سے +4 تک سبھی تکسیدی حالتیں القلمی تیزابی محلول میں غیرمتناسب کا رجحان ظاہر کرتی ہیں مثال کے طور پر
3HNO2 → HNO3 + H2O + 2NO
اسی طرح فاسفورس کے معاملے میں تقریباً سبھی ضمنی تکسیدی حالتیں اتھلی اور تیزابوں دونوں میں +5 یا +3 میں غیرمتناسب ہوجاتی ہیں۔ حالانکہ آرسینک اینٹی منی اور بسمتھ +3 تکسیدی حالت غیر متناسبیت کے ساتھ بہت زیادہ مستحکم ہوجاتی ہے۔
نائٹروجن کی زیادہ سے زیادہ ویلنسی 4 ہوسکتی ہے۔ کیونکہ صرف 4 اربٹل (ایک s اور تین p)ہی بندش کے لیے دستیاب ہیں۔ بھاری عناصر کے باہری شیل میں خالی d اربٹل ہوتے ہیں جو کہ بندش (Covalency) میں استعمال کیے جاسکتے ہیں اور اس طرح یہ اپنی شریک گرفت میں توسیع کر لیتے ہیں جیسا کہPF-6 ہیں۔
نائٹروجن کی غیر مربوط خصوصیات (Anomalous Properties of Nitrogen)
نائٹروجن اپنے چھوٹے سائز، زیادہ برقی منفیت، زیادہ آیونائزیشن اینتھالپی اور d اربٹل کی عدم دستیابی کی وجہ سے گروپ کے دیگر ممبران سے مختلف ہے۔ نائٹروجن میں اپنے ساتھ اور چھوٹے سائز نیز زیادہ برقی منفیت والے عناصر (جیسے C, O) کے ساتھ pp-pp کثیر بانڈ بنانے کی ایک انوکھی صلاحیت ہے۔ اس گروپ کے بھاری عناصر pp-pp بانڈ نہیں بناتے کیونکہ ان کے ایٹمی اربٹل اتنے بڑے اور منفوذ (Diffuse) ہوتے ہیں کہ وہ موثر اور لیپنگ نہیں کرسکتے۔ اس طرح نائٹروجن کا سالمہ دو ایٹمی ہوتا ہے جس میں دو ایٹموں کے درمیان تہرا بانڈ (ایکs اور دو p )ہوتا ہے۔ نتیجتاً اس کی بانڈ اینتھالپی (941.4kJmo-1)بہت زیادہ ہے۔ اس کے ف کے برعکس فاسفورس، آرسینک اور اینٹی منی واحد بانڈ بناتے ہیں جیسے کہ،
Sb-Sb,As-As,P-P
جبکہ بسمتھ عنصری حالت میں دھاتی بانڈ بناتا ہے۔ حالانکہ واحد N–N بانڈ واحد P–P بانڈ کے مقابلے میں کمزور ہوتا ہے کیونکہ غیر بندشی الیکٹرانوں کے بہت زیادہ انٹر الیکٹرانک دفع کی وجہ سے بانڈ کی لمبائی کم ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً نائٹروجن میں کیٹنیشن کارجحان کم ہوجاتا ہے۔ ایک اور عوامل جو نائٹروجن کی کیمسٹری کو متاثر کرتا ہے وہ ہے اس کی ویلنس شیکل میں d اربکل کی عدم موجودگی۔ اس کی ویلنسی 4 تک محدود رہنے کے علاوہ نائٹروجن dp–pp بانڈ نہیں بناسکتی جیسا کہ بھاری عناصر کرتے ہیں مثلاً مثلاً R3P = O یا R3P = CH2 (Rالقلمی گروپ) فاسفورس اور آرسینک عبوری عناصر کے ساتھ بھی dp–pp بانڈ بناسکتے ہیں جب ان کے مرکبات جیسے
As(C6H5)اورP(C2H5)3
لیگند کے طور پر کام کرتے ہیں۔
(i) ہائڈروجن کے تئیں تعاملیت :
گروپ 15 کے سبھی عناصر EH3 قسم کے ہائڈرائڈ بناتے ہیں جہاں E = N, P, As, Sbاور Bi ہے۔ ان ہائڈرائڈ کی کچھ خصوصیات جدول 7.2 میں دکھائی گئی ہیں۔ ہائڈرائڈ اپنی خصوصیات میں باقاعدہ (Gradation) ظاہر کرتے ہیں۔ ہائڈرائڈ کا استحکام NH3 سے BiH3 تک گھٹتا ہے۔ جس کا مشاہدہ ان کی بانڈ تحلیل اینتھالپی سے کیا جاسکتا ہے۔ نتیجتاً ہائڈرائڈوں کی تحویلی خصوصیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ واحدامونیا ایک معمولی تحویلی ایجنٹ ہے جبکہ BiH3 تمام ہائڈرائڈوں میں سب سے زیادہ طاقتور تحویلی ایجنٹ ہے۔ اساسیت میں بھی مندرجہ ذیل ترتیب کے مطابق کمی آتی ہے۔
NH3>PH3
>AsH3>SbH3>BiH3
:ٹائٹروجن کی چھوٹی جسامت اوراعلیٰ الیکٹرونیگیٹیوٹی کی وجہ سےNH3 ٹھوس اورررقیق حالتوں میں ہائیڈروجن گرفت دکھاتی ہے۔ا س کی وجہ سے اس کا نقطۂ گداخت اورنقطۂ ابالPH3 کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
جدول 7.2 گروپ 15کے عناصر کے ہائڈرائڈوں کی خصوصیت
| خصوصیت |
NH3 |
PH3 |
AsH3 |
SbH3 |
BiH3 |
| نقطہ گداخت / K |
195.2 |
139.5 |
156.7 |
185 |
– |
| نقطہ جوش / K |
238.5 |
185.5 |
210.6 |
254.6 |
290 |
| (E–H)فاصلہ / pm |
101.7 |
141.9 |
151.9 |
170.7 |
– |
| HEHزاویہ (°) |
107.8 |
93.6 |
91.8 |
91.3 |
– |
| Δf HΘ/kJ mol–1 |
46.1– |
13.4 |
66.4 |
145.1 |
278 |
| ΔdissHΘ(E–H)/kJ mol–1 |
389 |
322 |
297 |
255 |
– |
(ii) آکسیجن کے تئیں تعاملیت (Reactivity towards oxygen):
یہ سبھی عناصر دو قسم کے آکسائڈ بناتے ہیں E2O3اور E2O5۔اونچی تکسیدی حالت میں عنصر کا آکسائڈ کم تکسیدی حالت کے مقابلے زیادہ تیزابی ہوتا ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر ان کی تیزابی خصوصیت گھٹتی جاتی ہے۔ نائٹروجن اور فاسفورس کے E2O5 قسم کے آکسائڈ خالص تیزابی ہوتے ہیں آرسینک اور اینٹی منی کے ایمفوٹیرک اور بسمتھ کے آکسائڈ اساسی ہوتے ہیں۔
(iii) ہیلوجن کے تئیں تعاملیت (Reactivity towards halogens):
یہ عناصر تعامل کرکے دو قسم کے ہیلائڈ بناتے ہیں۔ EX3اور EX5۔اپنے ویلنس شیل میں dاربٹل کی عدم موجودگی کی وجہ سے نائیٹروجن پینٹاہیلائڈنہیں بناتی۔ ٹرائی ہیلائڈوں کے مقابلے پینٹاہیلائڈ زیادہ شریک گرفت ہوتے ہیں۔یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ پینٹا ہیلائڈ میں +5اورٹرائی ہیلائڈ میں +3 تکسیدی حالتیں ہوتی ہیں۔ چونکہ +5تکسیدی حالت میں عناصر کی تقطیبی قوت+3تکسیدی حالت کی بنسبت زیادہ ہوتی ہے لہٰذا شریک گرفت کی خصوصیت پینٹاہیلائڈمیں زیادہ ہوتی ہے۔ نائٹروجن کے علاوہ ان عناصر کے تمام ہیلائڈ مستحکم ہوتے ہیں۔ نائٹروجن میں صرف NF3 ہی مستحکم ہے۔ BiF3کے علاوہ ٹرائی ہیلائڈ بہت زیادہ شریک گرفت نوعیت کے ہیں۔
(iv) دھاتوں کے تئیں تعاملیت (Reactivity towards metals):
یہ سبھی عناصر دھاتوں کے ساتھ تعامل کرکے بائنری مرکبات بناتے ہیں اور +3 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتے ہیں مثلاً Ca3N2 (کیلشیم نائٹرائڈ) Ca3P2 (کیلشیم فاسفائڈ) Na3As(سوڈیم آرسینائڈ) Zn3Sb2(زنک اینٹی مونائڈ) اور Mg3Bi2 (میگنیشیم بسمتھائڈ)
مثال 7.1
حالانکہ نائٹروجن +5 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتی ہے لیکن یہ پینٹاہیلائڈ نہیں بناتی۔ وجہ بتائیے۔
حل
نائٹروجن (n = 2) میں صرف s اور p اربٹل ہوتے ہیں۔ اس کے پاس اپنے کوویلنس میں چار سے آگے توسیع کے لیے d اربٹل نہیں ہوتے۔ اسی لیے یہ پینٹاہیلائڈ نہیں بناتی۔
مثال 7.2
PH3 کا نقطہ جوش NH3 کے مقابلے کم ہے۔ کیوں؟
حل
NH3 کی طرح PH3 کے سالمات رقیق حالت میں ہائڈروجن بندش کے ذریعہ جڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے PH3 کا نقطہ جوش NH3 کے مقابلے کم ہوتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.1 ٹرائی ہیلائڈوں کے مقابلے P،As،SbاورB کیپینٹاہیلائڈ زیادہ شریک گرفت کیوں ہوتے ہیں؟
7.2 گروپ 15 عناصر کے تمام ہائڈرائڈوں میں BiH3 سب سے مضبوط تحویلی ایجنٹ ہے۔ کیوں؟
7.2 ڈائی نائٹروجن (Dinitrogen)
تیاری (Preparation)
ڈائی نائٹروجن کو تجارتی پیمانے پر ہوا کی اماعت (Liquifaction) اور کسری کشید (Fractional Distillation) سے تیار کیا جاتا ہے۔ رقیق ڈائی نائٹروجن (b.p. 77.2k) کی کشید پہلے ہوتی ہے جبکہ رقیق آکسیجن (p.p. 90k) کی کشید اس کے بعد ہوتی ہے۔
تجربہ گاہ میں ڈائی نائٹروجن کو بنانے کے لیے امونیم کلورائڈ کے آبی محلول کا سوڈیم نائٹریٹ کے ساتھ تعامل کرایا جاتا ہے۔
NH4CI(aq)+NaNO2(aq) N2(g)+2H2O(1)+NaC1(aq)
اس تعامل میں تھوڑی سی مقدار میں NO اور HNO3 بھی بنتے ہیں۔یہ ملاوٹیں گیس کو پٹاشیم ڈائی کرومیٹ پر مشتمل آبی سلفیورک ایسڈ میں سے گزار کر دور کی جاسکتی ہیں۔ اسے امونیم ڈائی کرومیٹ کی حرارتی تحلیل سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(NH4)2Cr2O7→Heat N2 + 4H2O + Cr2O3
بہت زیادہ خالص نائٹروجن کو سوڈیم یا بیریم ایزائڈ کی حرارتی تحلیل سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
Ba(N3)2 → Ba + 3N2
خصوصیات (Properties)
ڈائی نائٹروجن بے رنگ، بغیر بو، بے ذائقہ اور غیر سمی گیس ہے۔ اس کے دو مستحکم آئسوٹوپ ہیں N14 اور N15یہ پانی میں بہت کم حل پذیر ہے (273k اور Ibar دباؤ پر فی لیٹر پانی میں 23.2 cm3)اس کے نقطہ انجماد اور نقطہ جوش کم ہوتے ہیں (جدول 7.1)
کمرہ کے درجہ حرارت پر ڈائی نائٹروجن بہت زیادہ غیر عامل ہے کیونکہ N≡N بانڈ کی بانڈ اینتھالپی زیادہ ہوتی ہے۔ حالانکہ درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ تعاملیت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اونچے درجہ حرارت پر یہ کچ دھاتوں کے ساتھ تعامل کرکے آینی نائٹرائڈ بناتی ہے اور غیر دھاتوں کے ساتھ شریک گرفت نائٹرائڈ بناتی ہے۔ کچھ تعاملات ذیل میں دیے گئے ہیں۔
6Li+N2→Heat 2Li3N
3Mg+N2→Heat Mg3N2
یہ تقریباً 773 K پر وسیط کی موجودگی میں ہائڈروجن سے تعامل کرکے (ہیبرس پراسس) امونیابناتی ہے۔
N2(g)+3H2(g)⇔773K 2NH3(g): ΔfHΘ= -46.1kJmo1-1
صرف بہت زیادہ درجہ حرارت (تقریباٍ K 2000 پر) پر ڈائی نائٹروجن ڈائی آکسیجن سے تعامل کرکے نائٹرک آکسائڈ،NO بناتی ہے۔
N2+O2(g)⇔Heat 2NO(g)
استعمال: ڈائی نائٹروجن کا سب سے اہم استعمال امونیا بنانے میں اور نائٹروجن پر مشتمل دیگر صنعتی کیمیا بنانے میں کیا جاتا ہے۔ (مثلاً کیلشیم سائنمائڈ) جہاں غیر عامل کرہ باد کی ضرورت ہوتی ہے وہاں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ (مثلاً آئرن اور اسٹیل انڈسٹری میں، متعامل کیمکلس کے لیے غیر عامل میڈیم) رقیق ڈائی نائٹروجن کا استعمال حیاتیاتی اشیاء، غذائی مادے اور کرایوسرجری (Cryosurgery) میں ریفریجرنٹ کے طور پر کیا جاتا ہے۔
مثال 7.3
سوڈیم اینزائڈ کی حرارتی تحلیل کے لیے تعال لکھیے۔
حل
سوڈیم اینزائڈ کی حرارتی تحلیل کے نتیجے میں ڈائی نائٹروجن گیس پیدا ہوتی ہے۔
2NaN3→2Na+3N2
متن پر مبنی سوالات
7.3 کمرہ کے درجہ حرارت پر N2 کم تعامل پذیر کیوں ہے؟
تیاری (Preparation)
امونیا ہوا اور مٹی میں کم مقدار میں موجود ہوتی ہے جہاں یہ نائٹروجنی نامیاتی مادہ (مثلاً یوریا) کی تحلیل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
NH2CONH2+2H2O→(NH4)2CO3⇔2NH3+H2O+CO2
چھوٹے پیمانے پر امونیا کو امونیا نمک سے حاصل کیا جاتا ہے جو کہ کاسٹک سوڈا یا چونے کے ساتھ تعامل کرکے تحلیل ہوجاتا ہے۔
2NH4C1+Ca(OH)2→2NH3+2H2O+CaC12
(NH4)2SO4+2NaOH→2NH3+2H2O+Na2SO4
بڑے پیمانے پر امونیا کو ہیبرس پراسس کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔
Δf HΘ = – 46.1 kJ mol–1
;(N2(g) + 3H2(g) ® 2NH3(g
لے چیتلئرس اصول کے مطابق، امونیا کی تشکیل کے لیے اونچا دباؤ موافق ہوگا۔ 200 × 105 Pa(تقریباً 200 atm)، ~ 700 K کا درجہ حرارت نیز K2Oاور Al2O3 پر مشتمل آئرن آکسائڈ جیسے وسیط کا استعمال تاکہ توازن کی حالت کو حاصل کرنے کی شرح میں اضافہ ہوسکے، یہ کچھ ایسے حالات ہیں جو امونیا کی تیاری کے لیے موافق ہیں۔ امونیا کی تیاری سے متعلق فلوچارٹ شکل 7.1 میں دکھایا گیا ہے۔
خصوصیات (Properties)
امونیا ایک بے رنگ گیس ہے جس میں سے تیز بو آتی ہے۔ اس کے نقطہ انجماد اور نقطہ جوش بالترتیب 198.4 K اور 239.7 K ہیں۔ ٹھوس اور رقیق حالت میں یہ ہائڈروجن بانڈ سے منسلک ہوتی ہے جیسا کہ پانی میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش کی قدریں سالماتی کمیت کی بنیاد پر متوقع قدروں کے مقابلے زیادہ ہوتی ہیں۔ امونیا کا سالمہ ٹرائی گونل پیرا مڈل ہوتا ہے جس کی چوٹی پر نائٹروجن ایٹم ہے۔ اس میں الیکٹران کے تین بانڈ پیئر اور ایک لون پیئر ہوتا ہے جیسا کہ اس کی ساخت میں دکھایا گیا ہے۔
امونیا گیس پانی میں بہت زیادہ حل پذیر ہے۔ اس کا آبی محلول-OH آینوں کی تشکیل کی وجہ سے معمولی اساس ہوتا ہے۔
شکل 7.1 : امونیا کی تیاری کا فلوچارٹ
یہ تیزابوں کے امونیم نمک بناتی ہے مثلاً NH4Cl, (NH4)2 SO4وغیرہ۔ کمزور اساس کے طور پر یہ کئی دھاتوں کے ہائڈروکسائڈوں کی ان کے نمک محلولوں سے ترسیب کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر
2FeC13(aq) + 3NH4OH(aq) →Fe2O3.xH2O(s) + 3NH4C1 (aq)
(بھورا رسوب)
ZnSO4(aq) + 2NH4OH(aq)→Zn(OH)2(s)+(NH4)2SO4(aq)
(سفید رسوب)
امونیا سالمہ کے نائٹروجن ایٹم پر الیکٹرانوں کے لون پیئر کی موجودگی اسے لیوئس اساس بنا دیتی ہے۔ یہ ایک الیکٹران کا جوڑا دے کر دھاتی آینوں کے ساتھ بندش کرتی ہے۔ اور ایسے کمپلیکس مرکبات کی تشکل کرتی ہے جن کا استعمال +Cu2اور +Ag2 جیسے دھاتی آینوں کی شناس میں کیا جاتا ہے۔
(Cu2+ (aq) + 4 NH3(aq)⇔ [Cu(NH3)4]2+(aq
(گہرا نیلا) (نیلا)
(سفید ppt) (بے رنگ)
AgC1(s) + 2NH3 (aq)→ [Ag(NH3)2 ]C1(aq)
(بے رنگ) ( سفید ppt)
استعمال: امونیا کا استعمال متعدد نائٹروجنی فرٹیلائزر (امونیم نائٹریٹ، یوریا، امونیم فاسفیٹ اور امونیم سلفیٹ) بنانے میں اور کچھ غیر نامیاتی نائٹروجنی مرکبات جن میں سب سے زیادہ اہم نائٹرک ایسڈ ہے بنانے میں کیا جاتا ہے۔ رقیق امونیا کا استعمال ریفریجرینٹ کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔
مثال 7.4
NH3 لیوئس اساس کے طور پر کیوں کام کرتی ہے؟
حل
NH3 میں نائٹروجن ایٹم کے پاس الیکٹرانوں کا ایک لون پیئر ہوتا ہے جوکہ عطیہ کے لیے دستیاب رہتا ہے۔ اسی لیے یہ لیوئس اساس کے طور پر کام کرتی ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.4 امونیا کی پیداوار میں اضافہ کے لیے درکار حالات کو بیان کیجئے۔
7.5 امونیا+Cu2 کے محلول سے کس طرح تعامل کرتی ہے؟
7.4 نائٹروجن کے آکسائڈ (Oxides of Nitrogen)
نائٹروجن مختلف تکسیدی حالتوں میں متعدد آکسائڈ بناتی ہے۔ ان آکسائڈوں کے نام فارمولے، تیاری اور طبیعی حالت جدول 7.3 میں دی گئی ہے۔
جدول 7.3 نائٹروجن کے آکسائڈ
| نام |
فارمولہ |
نائٹروجن کی تکسیدی حالت
|
تیاری کے عام طریقے |
طبیعی حالت اور کیمیائی نوعیت |
ڈائی نائٹروجن آکسائڈ (نائٹروجن (I) آکسائڈ)
|
N2O |
1+ |
NH4NO3→N2O+2H2O |
بے رنگ گیس تعدیلی |
نائئٹروجن مونو آکسائڈ نائٹروجن (II) آکسائڈ)
|
NO |
2+ |
2NaNO2+2FeSO4+3H2SO4 →Fe2(SO4)3+2NaHSO4 +2H2O+2NO |
بے رنگ گیس تعدیلی |
ڈائی نائٹروجن ٹرائی آکسائڈ نائٹروجن (III) آکسائڈ)
|
N2O2 |
3+ |
2NO+N2O4→250K 2N2O3 |
نیلا ٹھوس تیزابی |
نائٹروجن ٹرائی آکسائڈ نائٹروجن (IV) آکسائڈ)
|
NO2 |
4+ |
2Pb(NO3)2→673 4NO2+2PbO
|
بھوری گیس تیزابی |
ڈائی نائٹروجن ٹیٹراء آکسائڈ نائٹروجن (IV) آکسائڈ)
|
N2O4 |
4+ |
2NO2→Cool/Heat N2O4 |
بے رنگ ٹھوس رقیق، تیزابی |
ڈائی نائٹروجن ٹیٹرآکسائڈ نائٹروجن (V) آکسائڈ)
|
N2O5 |
5+ |
4HNO3+P4O10
→4HPO3+2N2O5
|
بے رنگ ٹھوس تیزابی |
آکسائڈوں کی لیوئس ڈاٹ خاص گمک ساختیں اور بانڈ پیرا میٹر جدول 7.4 میں دیے گئے ہیں۔
جدول 7.4 نائٹروجن کے آکسائڈوں کی ساختیں
مثال 7.5
NO2 ڈائی میرائز (Dimerise) کیوں ہے؟
حل
NO2ویلنس الیکٹرانوں کی تعداد طاق ہے۔ یہ ایک طاق سالمہ کے جیسا طرز عمل ظاہر کرتا ہے۔ ڈائی میرائزیشن پر یہ مستحکم N2O4سالمہ میں تبدیل ہوجاتی ہے جس میں الیکٹرانوں کی تعداد جفت ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.6 N2O5 میں نائٹروجن کا کوویلنس کیا ہے؟
7.5 نائٹرک ایسڈ (Nitric Acid)
نائٹروجن H2N2O2(ہائپونائٹرس ایسڈ) HNO2 (نائٹرس ایسڈ)اور HNO3 نائٹرک نائٹرک ایسڈ جیسے آکسائڈ بناتی ہے۔ ان میں سے HNO3 سب سے زیادہ اہم ہے۔
تیاری
تجربہ گاہ میں نائٹرک ایسڈ کو گلاس ریٹارٹ (Glass retort) میں KNO3 یا NaNO3 کوسلفیورک ایسڈ کے ساتھ گرم کرکے بنایا جاتا ہے۔
NaNO3+H2SO4→NaHSO4+HNO3
بڑے پیمانے پر اسے اوسٹوالڈ پراسس (Ostwald's Process) کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کرہ باد کی آکسیجن کے ذریعہ NH3 کی وسطی تکسید پر مبنی ہے۔
4NH3(g)+5O2(g) →Pt/Rh gauge catalyst/500K.9bar←4NO(g)+6H2O(g)
اس طرح حاصل ہونے والا نائٹرک آکسائڈ آکسیجن کے ساتھ متحد ہوکر NO2دیتا ہے۔
2NO(g)+O2(g)↔2NO2(g)
اس طرح سے بننے والی نائٹروجن ڈائی آکسائڈ پانی میں حل ہو کر HNO3 بناتی ہے۔
3NO2(g)+H2O(1)→2HNO3(aq) +NO(g)
اس طرح حاصل ہونے والی NO کو ری سائیکل کیا جاتا ہے اور HNO3 کے آبی محلول کو کشید کی مدد سے کمیت کے اعتبار سے %68تک مرتکز کیا جاسکتا ہے۔ مرتکز H2SO4 کے ساتھ ڈی ہائڈریشن کے ذریعہ %98تک مرتکز کیا جاسکتا ہے۔
خصوصیات
یہ ایک بے رنگ رقیق ہے (f.p. 231.4 K اور b.p. 355.6 K)تجربہ گاہ میں بنائے گئے نائٹرک ایسڈ میں کمیت کے اعتبار سے HNO3 ~ 68% ہوتا ہے۔ اور اس کی نوعی کثافت(Specific Gravity) 1.504 ہے۔
گیسی حالت میں HNO3 کا سالمہ مسطح ہوتا ہے جس کی ساخت کو شکل میں دکھایا گیا ہے۔
آبی محلول میں نائٹرک ایسڈ طاقتور تیزاب کے جیسا طرز عمل ظاہر کرتا ہے نیز ہائڈرونیم اور نائٹریٹ آین بناتا ہے۔
HNO3(aq)+H2O(1)→H3O+(aq)+NO3_(aq)
مرتکز نائٹرک ایسڈ ایک طاقتور تکسیدی ایجنٹ ہے اور نویل دھاتوں جیسے سونا اور پلٹنم کو چھوڑ کر زیادہ تر دھاتوں سے تعامل کرتا ہے۔ تکسیدکے ماحصلات کا انحصار ایسڈ کے ارتکاز، درجہ حرارت اور تکسید ہونے والے مادے کی نوعیت پر ہوتا ہے۔
3Cu+8HNO3(dilute)→3Cu(NO3)2+2NO+4H2O
Cu+4HNO3(conc.)→Cu(NO3)2+2NO2+2H2O
زنک ڈائی لیوٹ نائٹرک ایسڈ کے ساتھ تعامل کرکے N2Oبناتا ہے اور مرتکز نائٹرک ایسڈ کے ساتھ تعامل کرکے NO2بناتا ہے۔
4Zn+10HNO3(dilute)→4Zn(No3)2+5H2O+N2O
Zn+4HNO3(conc.)→Zn(NO3)2+2H2O+2NO2
کچھ دھاتیں (مثلاً Cr، Al) مرتکز نائٹرک ایسڈ میں حل نہیں ہوئیں کیونکہ ان کی سطح پر آکسائڈ کی Passive پرت بن جاتی ہے۔
مرتکز نائٹرک ایسڈ غیر دھاتوں اور ان کے مرکبات کو بھی تکسید کرتا ہے۔ آیوڈین کی آیوڈک ایسڈ میں کاربن کی کابن ڈائی آکسائڈ میں سلفر کی H2SO4 میں اور فاسفورس کی فاسفورک ایسڈ میں تکسید ہوتی ہے۔
براؤن رنگ ٹیسٹ (Brown Ring Test): نائٹریٹ کے لیے جانا پہچانا براؤن رنگ ٹیسٹ Fe2+ آینوں کی اس صلاحیت پر مبنی ہے جس کے ذریعہ یہ نائٹریٹ کی نائٹرک آکسائڈ میں تحویل کر دیتے ہیں جو کہ Fe2+ سے تعامل کرکے بھورے رنگ کا کمپلیکس بناتا ہے۔ یہ ٹیسٹ عام طور سے نائٹریٹ آین کے آبی محلول میں ڈائی لیوٹ فیرس سلفیٹ ملا کر اور پھر اس کے بعد احتیاط کے ساتھ ٹیسٹ ٹیوب کی دیوار کے سہارے مرتکز H2SO4ملا کر انجام دیا جاتا ہے۔ محلول اور سلفیورک ایسڈ کی پرتوں کے انٹرفیس پر بھورے رنگ کے چھلے کا بننا محلول میں نائٹریٹ آینوں کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
(کتھی)
7.6فاسفورس کے بہروپ
(Phosphorus — Allotropic Forms)
استعمال: نائٹرک ایسڈ کا سب سے زیادہ استعمال فرٹیلائزروں کے لیے امونیم نائٹریٹ بنانے میں اور دھماکہ نیز پائروتکنیک (Pyrotechnics) میں دیگر نائٹریٹ بنانے میں کیا جاتا ہے اس کا استعمال نائٹروگلسرین ٹرائی نائٹروٹولوئین اور دیگر نامیاتی نائٹرومرکبات بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا اہم استعمال اسٹین لیس اسٹیل کی سطح کو صاف کرنے، دھاتوں پر نقاشی کرنے اور راکٹ ایندھنوں میں تکسید کے طور پر کیا جاتا ہے۔
(سوڈیم ہائپوفاسفیٹ)
سفید فاسفورس کم مستحکم ہے اور اس لیے عام حالات میں دیگر ٹھوس حالتوں کے مقابلے زیادہ تعامل پذیر ہے کیونکہ P4 سالمہ میں زاویائی تنائو ہے جہاں زاویے صرف °60 کے ہیں۔ یہ ہوا میں تیزی سے آگ پکڑ لیتا ہے اور P4O10کا سفید دھواں پیدا کرتا ہے۔
یہ مجرد ٹیٹراہیڈرل P4 سالمات پر مشتمل ہوتا ہے جیسا کہ شکل 7.2 میں دکھایا گیا ہے۔
سفید فاسفورس کو غیر عامل کرہ باد میں 573 K پر کئی دنوں تک گرم کرنے سے سرخ فاسفورس حاصل ہوتا ہے۔ جب سرخ فاسفورس کو اونچے دباؤ پر گرم کیا جاتا ہے تو سیاہ فاسفورس کی فیز کا ایک سلسلہ تشکیل پاتا ہے۔ سرخ فاسفورس میں لوہے جیسی سلیٹی چمک ہوتی ہے۔ اس میں کسی قسم کی کوئی بو نہیں ہوتی، یہ زہریلا نہیں ہے اور پانی نیز کاربن ڈائی سلفائڈ دونوں میں حل پذیر نہیں ہے۔ کیمیائی اعتبار سے سرخ فاسفورس سفید فاسفورس کے مقابلے کم تعامل پذیر ہے۔ یہ اندھیرے میں نہیں چمکتا۔
یہ پالیمیرک (Polymeric) ہے جس میں P4 ٹیٹراہیڈرازنجیریں ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں جیسا کہ شکل 7.3 میں دکھایا گیا ہے۔
سیاہ فاسفورس کی دو شکلیں ہیں -a بلیک فاسفورس اور -b بلیک فاسفورس۔ جب سرخ فاسفورس کو سیل بند ٹیوب میں 803 K پر گرم کیا جاتا ہے تو -aبلیک فاسفورس حاصل ہوتا ہے۔ اس کی ہوا میں تکسید ہوسکتی ہے اور اس کا کرسٹل مونو کلینک (Monoclinic) یا رہومیوہیڈرل (Rhombohedral) ہوتا ہے۔ یہ ہوا میں تکسید نہیں ہوتا -bبلیک فاسفورس اس وقت حاصل ہوتا ہے جب سفید فاسفورس کو اونچے دباؤ پر 473 K تک گرم کیا جاتا ہے۔ یہ 673 K تک ہوا میں نہیں جلتا۔
7.7 فاسفین (Phosphine)
تیاری
کیلشیم فاسفائڈکا پانی یا ڈائی لیوٹ ـHCl کے ساتھ تعامل کرکے فاسفین بناتا ہے۔
تجربہ گاہ میں اسے سفید فاسفورس کو مرتکز NaOH محلول کے ساتھ CO2 کے غیر حاصل کرہ باد میں گرم کرکے بنایا جاتا ہے۔
جب خالص شکل میں ہوتی ہے تو یہ اشتعال پذیر نہیں ہے لیکن P2H4 یاP4 بخارات کی موجودگی میں یہ اشتعال پذیر ہوجاتی ہے۔ ملاوٹوں کو دور کرکے خالص بنانے کے لیے اسے HI میں جذب کرایا جاتا ہے جس سے فاسفونیم آیوڈائڈ (PH4I) Phusphounium Iodide) بنتا ہے۔ جو کہ KOH سے تعامل کرکے فاسفین بناتا ہے۔
خصوصیات
یہ ایک بے رنگ گیس ہے جس میں سے سڑی ہوئی مچھلی جیسی بو آتی ہے۔ اور نہایت زہریلی ہے۔ یہ HNO3 ، Cl2 اور Br2 بخارات جیسے تکسیدی ایجنٹ کی معمولی سی مقدار کے ساتھ تعامل کرکے دھماکہ کر دیتی ہے۔
یہ پانی میں بہت زیادہ حل پذیر ہے۔ پانی میں PH3 کا محلول روشنی کی موجودگی میں تحلیل ہوکر سرخ فاسفورس اور H2 پیدا کرتا ہے۔ جب اسے کاپر سلفیٹ یا مرکیورک کلورائڈ کے محلول میں جذب کرایا جاتا ہے تو نظیری فاسفائڈ حاصل ہوتے ہیں۔
فاسفین کمزور قسم کا اساس ہے اور امونیا کی طرح تیزابوں سے تعامل کرکے فاسفونیم مرکبات بناتی ہے۔ مثلاً
استعمال: فاسفین کا از خود احتراق کا تکنیکی استعمال ہالمے سگنلوں (Holme's Signals) میں کیا جاتا ہے۔ کیلشیم کاربائڈ اور کیلشیم فاسفائڈ کے کنٹینر کو سمندر میں پھینکا جاتا ہے اور جب گیس خارج ہوکر جلتی ہے تو یہ سگنل کا کام کرتی ہے۔ اس کا استعمال اسموک اسکرین میں بھی کیا جاتا ہے۔
مثال 7.6
یہ کس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے کہ PH3 کی فطرت اساسی ہے۔
حل
PH3، HIجیسے تیزابوں سے تعامل کرکے PH4I بناتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی فطرت اساسی ہے۔
فاسفورس ایٹم پر اکیلے جوڑے کی موجودگی کی وجہ سے PH3مذکورہ بالا تعامل میں لیوئس اساس کے طور پر کام کرتی ہے۔
7.8 فاسفور س ہیلائڈ س (Phosphours Halides)
فاسفورس دو قسم کے ہیلائڈ یعنی
بناتا ہے۔
7.8.1 فاسفورس ٹرائی کلورائڈ(Phosphours Trichloride)
تیاری
اسے گرم سفید فاسفورس کے اوپر خشک کلورین گزار کر تیار کیا جاتا ہے۔
اسے تھایونل کلورائڈ اور سفید فاسفورس کے تعامل سے بھی بنایا جاتا ہے۔
خصوصیات
یہ بے رنگ چکنا رقیق ہے اور نمی کی موجودگی میں ہائڈرولائز ہوجاتا ہے۔
جیسے OH گروپ پر مشتمل نامیاتی مرکبات سے تعامل کرتا ہے۔
اس کی شکل پائرامڈل (Pyramidal) ہے جیسا کہ دکھایا گیا ہے، جس میں فاسفورس کی مخلوطیت sp3 ہے۔
7.8.2فاسفورس پینٹا کلورائڈ
(Phosphorus Pentachloride)
تیاری
فاسفورس پینٹا کلورائڈ کوبنانے کے لیے سفید فاسفورس کا زیادہ خشک کلورین کے ساتھ تعامل کرایا جاتاہے۔
اسے فاسفورس پر SO2Cl2کے عمل سے بھی بنایا جاتا ہے۔
خصوصیات
PCl5 ایک زردی مائل سفید پاؤڈر ہے اورمرطوب ہوا میں یہ ہائڈرولائز ہوکر POCl3 بناتا ہے آخیر میں فاسفورس ایسڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
گرم کرنے پر اس کی تصعید ہوجاتی ہے لیکن زیادہ گرم کرنے پر تحلیل ہوجاتا ہے۔
یہ OH گروپ پر مشتمل نامیاتی مرکبات سے تعامل کرکے انھیں کلورومشتق(Chloro Derivativies) میں تبدیل کردیتا ہے۔
باریک پاؤڈر کی شکل میں دھات جبPCl5کے ساتھ تعامل کرتی ہے تو نظیری کلورائڈ حاصل ہوتے ہیں۔
اس کا استعمال کچھ نامیاتی مرکبات کی تالیف میں کیا جاتا ہے جیسے C2H5Cl, CH3COCl۔
گیس اور رقیق حالتوں میں اس کی ساخت ٹرائی گونل بائی پیرامڈل ہوتی ہے جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ تین خط استوائی P-Cl بانڈ معادل ہوتے ہیں جبکہ دو محوری بانڈ خط استوائی بانڈ کے مقابلے زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ خط استوائی بانڈ پیئر کے مقابلے محوری بانڈ پیئر پر دفع کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
نمی کی موجودگی میں PCl3 دھواں کیوں بن جاتا ہے؟
PCl3 نمی کی موجودگی میں ہائڈرولائز ہوکر HCl کا دھواں بناتا ہے۔
مثال 7.8
PCl5 سالمہ میں کیا سبھی پانچویں بانڈ معادل ہیں؟ اپنے جواب کی حمایت میں جواز پیش کیجیے۔
حل
PCl5 کی ساخت ٹرائی گونل بائی پیرامڈل ہوتی ہے اور تینوں خط استوائی بانڈ معادل ہوتے ہیں جبکہ دو محوری بانڈ مختلف ہوتے ہیں اور خط استوائی بانڈ کے مقابلے زیادہ لمبے ہیں۔
متن پر مبنی سوالات
7.9 جب PCl5 کو گرم کیا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟
7.10 پانی کے ساتھ PCl5 کے تعامل کی متوازن مساوات لکھیے۔
7.9 فاسفورس کے آکسوایسڈ (Oxoacids of Phosphorus)
فاسفورس متعدد آکسوایسڈ بناتا ہے۔ فاسفورس کے اہم آکسو ایسڈوں کے فارمولے، بنانے کے طریقے اور ان کی ساخت میں کچھ مخصوص بانڈ کی موجودگی کو جدول 7.5 میں دیا گیا ہے۔
آکسوایسڈوں کی ترکیب H2O سالمات یا -O ایٹم کے حصول یا زیادہ کے اعتبار سے ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔
کچھ اہم آکسو ایسڈوں کی ساختیں ذیل میں دی گئی ہیں۔
آکسوایسڈوں میں فاسفورس دیگر ایٹموں کے ذریعہ ٹیٹراہیڈرل انداز میں جڑا ہوتا ہے۔ یہ سبھی ایسڈ ایک P = O اور کم از کم ایک P – OH بانڈ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ وہ آکسوایسڈ جن میں فاسفورس کی کمترین تکسیدی حالت (+5 سے کم) ہوتی ہے ان میں P = O اور P – OH بانڈ کے ساتھ ساتھ یا تو P–P (مثلاً H4P2O6 میں) یا P – H (مثلاًH3PO2 میں) بانڈ ہوتے ہیں لیکن دونوں ایک ساتھ نہیں۔ فاسفورس کی +3 تکسیدی حالت میں یہ ایسڈ بالائی اور زیریں تکسیدی حالتوں کے تئیں غیر تناسبیت کا رجحان رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر آرتھوفاسفورس ایسڈ (یا فاسفورس ایسڈ) گرم ہوکر غیر متناسبیت کے تحت آرتھو فاسفورک ایسڈ (یا فاسفورک ایسڈ) اور فاسفین بناتا ہے۔
جدول 7.5 فاسفورس کے آکسوایسڈ
* صرف پالیمرک شکل میں پایا جاتا ہے HPO(3)3 کے مخصوص بانڈ جدول میں دیے گئے ہیں۔
وہ ایسڈ جن میں P – H بانڈ ہوتے ہیں مضبوط تحویلی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں اس طرح ہائپو فاسفورس ایسڈ ایک بہتر تحویلی ایجنٹ ہے کیونکہ اس میں دو P – H بانڈ میں ہوتے ہیں مثلاً AgNO3 کی کی دھاتی سلور میں تحویل کرتا ہے۔
یہ P–H بانڈ H+ آین بنانے کے لیے آیونائز نہیں ہوتے اور اساسیت میں کوئی رول ادا نہیں کرتے۔ صرف وہ Hایٹم جو کہ آکسیجن کے ساتھ P–OH شکل میں منسلک رہتے ہیں آیونائز ہوتے ہیں اور اساسیت کا سبب ہوتے ہیں۔ اس طرح H3PO3 اور H3PO4 بالترتیب ڈائی بیسک اور ٹرائی بیسک ہیں کیونکہ H3PO3 کی ساخت میں دو P–OH بانڈ اور H3PO4 میں تین P–OH بانڈ ہوتے ہیں۔
مثال 7.9
H3PO2 کی ساخت کی بنیاد پر آپ اس کے تحویلی طرز عمل کو کس طرح واضح کرسکتے ہیں؟
حل
H3PO2 میں دو H ایٹم براہ راست P ایٹم سے منسلک رہتے ہیں جس کی وجہ سے ایسڈ تحویلی خصوصیت کا حامل بن جاتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.11 H3PO4 کی اساسیت کیا ہے؟
7.12 جب H3PO3 کو گرم کیا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟
7.10 گروپ 16 کے عناصر (Group 16 Elements)
آکسیجن، سلفر، سیلینیم، ٹیلوریم پولونیم اور لورموریم دوری جدول کے گروپ 16 کی تشکیل کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ گروپ کیلکوجن گروپ (Group of Calcogen) بھی کہلاتا ہے۔ یہ نام پیتل کے لیے یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے جو کہ سلفر اور کاپر کے ساتھ اس کے (Congeners) کے اتحاد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ زیادہ تر معدنیات آکسیجن یا سلفر پر مشتمل ہوتی ہیں اور اس گروپ کے دیگر ممبران بھی معدنیات میں کثرت سے موجود ہوتے ہیں۔
7.10.1 وقوع (Occurrence)
زمین پر سبھی عناصر میں آکسیجن سب سے زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہے۔ آکسیجن کمیت کے اعتبار سے زمین کا %46.6 حصہ تشکیل دیتی ہے۔ خشک ہوا میں حجم کے اعتبار سے %20.94 آکسیجن موجود ہوتی ہے۔
تاہم، قشر ارض میں سلفر کی موجودگی صرف %0.03-0.1 ہے۔ متحد حالت میں سلفر، سلفیٹ کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً جپسم CaSO4.2H2O،ایپسم نمک MgSO4.7H2O بیرائٹ BaSO4 اور سلفائڈ مثلاً گیلینا PbS، زنک بلینڈ ZnS، کاپر پائرائٹ CuFeS2 سیلفر کی کچھ مقدار ہائڈروجن سلفائڈ کی شکل میں آتش فشانوں میں پائی جاتی ہے۔ پروٹین، لہسن، پیاز، سرسوں، بال اور اون جیسے نامیاتی مادوں میں سلفر پایا جاتا ہے۔
سیلینیم اور ٹیلوریم بھی سلفائڈ کچ دھاتوں میں دھاتی سیلینائڈ اور ٹیلورائڈ کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ پولونیم قدرتی ماحول میں تھوریم اور یورنیم معدنیات کے زوال پذیر ماحصلات کے طور پر پایا جاتا ہے۔ یہ بہت کم مقدار میں تیارکیا جاتا ہے اوراس کی نصف زندگی بھی بہت کم ہوتی ہے۔ (ایک سیکنڈکا بھی بہت چھوٹا حصّہ)۔اس وجہ سے Luکی خصوصیات کا مطالعہ محدود ہوجاتاہے۔
اس کی علامت Lu،ایٹمی عدد116،ایٹمی کمیت292اورالیکٹرانی تشکل
ہے۔
لورموریم کے علاوہگروپ 16 کے عناصر اہم ایٹمی اور طبیعی خصوصیات الیکٹرانی تشکل کے ساتھ جدول 7.6 میں دی گئی ہیں۔ ان کی کچھ ایٹمی، طبیعی اور کیمیائی خصوصیات اور ان کے رجحانات ذیل میں مذکور ہیں۔
جدول7.6گروپ16کے عناصر کے کچھ طبیعی خصوصیات
aواحد بانڈ؛ b تقریبی قدر؛ cنقطہ گداخت پر؛ d رھومبک سلفر؛ e ہیکسا گونل سلیٹی؛ f مونو کلینک شکل ; 673 K;
* آکسیجن OF2اور O2F2آکسیجن فلورائڈوں میں بالترتیب +2اور+1تکسیدی حالت ظاہر کرتی ہے۔
7.10.2 الیکٹرانی تشکل
7.10.3 ایٹمی اور آینی نصف قطر
گروپ 16 عناصر کے بیرونی شیل میں چھ الیکٹران ہوتے ہیں اور ان کا عمومی الیکٹرانی تشکل ns2np4 ہوتا ہے۔
شیل کی تعداد میں اضافہ ہونے کی وجہ سے گروپ میں نیچے جانے پر ایٹمی اور آینی نصف قطر میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم آکسیجن کا سائز چھوٹا ہے جو کہ اس سے مستثنیٰ ہے۔
7.10.4 آیونائزیشن اینتھالپی
گروپ میں نیچے کی طرف آیونائزیشن اینتھالپی میں کمی آتی ہے۔ سائز میں اضافے کے سبب ایسا ہوتا ہے۔ تاہم اس گروپ کے عناصر کی آیونائزیشن اینتھالپی قدریں گروپ 15 کے نظیری پیریڈ میں عناصر کی آیونائزیشن اینتھالپی قدروں کے مقابلے کم ہوتی ہیں یہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ گروپ 15 کے عناصر میں زائد مستحکم نصف بھرے ہوئے p اربٹل والا الیکٹرانی تشکل ہے۔
7.10.5الیکٹران گین اینتھالپی
آکسیجن ایٹم کی جامع نوعیت کی وجہ سے اس کی الیکٹران گین اینتھالپی سلفر کے مقابلے کم ہے سلفر اور اس کے آگے پولونیم تک دوبارہ کم ہوتی جاتی ہے۔
7.10.6 برقی منفیت
فلورین کے بعد، تمام عناصر میں آکسیجن کی برقی منفیت کی قدر سب سے زیادہ ہے۔ گروپ کے اندر ایٹمی عدد میں اضافے کے ساتھ برقی منفیت میں کمی آتی ہے اس کی وجہ سے آکسیجن سے پولونیم کی طرف دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
مثال 7.10
گروپ 16 کے عناصر کی آیونائزیشن اینتھالپی عام طور سے گروپ 15 کے نظیری پیریڈ کے مقابلے کم ہے۔ کیوں؟
حل
گروپ 15 کے عناصر کا زائد مستحکم نصف بھرے ہوئے p اربٹل والا الیکٹرانی تفکل ہونے کی وجہ سے گروپ 16 کے عناصر کے مقابلے الیکٹران نکالنے کے لیے مزید توانائی درکار ہوتی ہے۔
7.10.7 طبیعی خصوصیات
گروپ 16 کے عناصر کی کچھ طبیعی خصوصیات جدول 7.6 میں دی گئی ہیں۔ آکسیجن اور سلفر غیر دھات ہیں۔ سیلینیم اور ٹیلیوریم دھات نما ہیں جبکہ پولونیم دھات ہے۔ پولونیم تابکار ہے اور اس کا وقفہ حیات مختصر13.8دن (13.8 days) ہے۔ یہ سبھی عناصر بہروپیت کا اظہار کرتے ہیں۔ گروپ میں نیچے جانے پر ایٹمی عدد کے اضافے کے ساتھ ساتھ نقطہ گداخت اور نقطہ جوش میں اضافہ ہوتا ہے۔ آکسیجن اور سلفر کے نقطہ جوش اور نقطہ گداخت میں بہت زیادہ فرق کی وضاحت ان کی ایٹومی سٹی (Atomicity) کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ آکسیجن کا سالمہ دو ایٹمی (O2) جبکہ سلفر کثیر ایٹمی (S8) سالمہ ہے۔
7.10.8 کیمیائی خصوصیات
گروپ 16 کے عناصر متعدد تکسیدی حالتیں ظاہر کرتے ہیں (جدول 7.6) گروپ میں نتیجے جانے پر +2 تکسیدی حالت کا استحکام کم ہوتا جاتا ہے۔ پولونیم بہ مشکل ہی -2 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ آکسیجن کی برقی منفیت بہت زیادہ ہے اس لیے صرف یہ ہی –2 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتی ہے سوائے OF2 کے جہاں اس کی تکسیدی حالت +2 ہے۔ گروپ کے دیگر عناصر +2، +4 اور +6 تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں لیکن +4 اور +6 عام ہیں۔ سلفر، سیلینیم اور ٹیلوریم عام طور سے آکسیجن کے ساتھ بننے والے مرکبات میں +4 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتے ہیں اور فلورمین کے ساتھ +6 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ گروپ میں نیچے جانے پر +6 تکسیدی حالت کا استحکام کم ہوتا جاتا ہے۔ اور +4 تکسیدی حالت کے استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ (جامع جفتہ اثر) +4 اور +6 تکسیدی حالتوں میں بندش خاص طور سے شریک گرفت ہوتی ہے۔
آکسیجن کا بے ربط طرز عمل (Anomalous behaviour of oxygen)
دوسرے پیریڈ میں p بلاک کے دیگر ممبران کی طرح آکسیجن کا بے ربط طرز عمل چھوٹے سائز اور زیادہ برقی منفیت کی وجہ ہے۔ چھوٹے سائز اور زیادہ برقی منفیت کے اثر کی ایک مثالH2Oمیں مضبوط ہائڈورجن بانڈ کی موجودگی ہے جو کہ H2Sمیں نہیں ہے۔
آکسیجن میں dاربٹل کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی کو ویلنسی چار تک ہی محدود رہتی ہے اور عملی طور پر دو سے زیادہ شاذو نادر ہی ہوتی ہے۔ گروپ کے دیگر عناصر کے معاملہ میں ویلنس شیل میں توسیع ہوسکتی ہے اور کو ویلنسی چار سے زیادہ ہوجاتی ہے۔
(i) ہائڈروجن کے ساتھ تعاملیت(Reetivity with Hydrogen):گروپ16کے تمام عناصرTe, H=Se,Po)H2Eقسم کے ہائڈرائڈ بناتے ہیں۔ ہائڈرائڈ کی کچھ خصوصیات جدول7.7میں دی گئی ہیں۔H2OسےH2Teتک ان کی تیزابی خصوصیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تیزابی خصوصیت میں اضافے کی وضاحت گروپ میں نیچے جانے پر بانڈ تحلیلی توانائی(H-E)میں کمی کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ H2O سے H2POتک ہائڈائڈ کے حرارتی استحکام میں بھی کمی آتی ہے۔ پانی کے علاوہ باقی تمام ہائڈرائڈ تحویلی خصوصیت کے حامل ہیں اور یہ خصوصیت H2sسےH2Teتک بڑھتی ہے۔
جدول 7.7 گروپ 16 کے عناصر کے ہائڈرائڈ کی خصوصیات
(ii) آکسیجن کے ساتھ تعاملیت (Reactivity with Oxygen): یہ سبھی عناصرEO2اورEO3قسم کے آکسائڈ بناتے ہیں جہاں E = S, Se, Te Poہے۔ اوزون(O3)اور سلفر ڈائی آکسائڈ(SO2) گیسیں ہیں جب کہ سیلینیم ڈائی آکسائڈ(SeO2)ٹھوس ہے۔ ڈائی آکسائڈ کی تحویلی خصوصیت SO2 سے Te2O2کی طرف کم ہوتی جاتی ہے۔SO2تحویلی ایجنٹ ہے جب کہ TeO2تکسیدی ایجنٹ ہے۔ EO2 قسم کے آکسائڈوں کے علاوہ سفلر سیلینیم اور ڈیلیوریمEO3قسم کے آکسائڈبھی بناتے ہیں مثلاً SO3، SeO3، 3 TeO۔دونوں قسم کے آکسائڈ کی تیزابی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
(iii) ہیلوجن سے تعاملیت (Reactivity towards the Halogens): گروپ16کے عناصرEX6، EX4اورEX2قسم کے متعدد ہیلائڈ بناتے ہیں جہاں Eگروپ کا عنصر ہے اور Xہیلوجن ہے۔ہیلائڈ کا استحکامF– > Cl– > Br– > I–ترتیب میں گھٹتا ہے۔ ہیکسا ہیلائڈوں میں صرف ہیکسا فلورائڈ ہی مستحکم ہیلائڈ ہیں۔ سبھی ہیکسا فلورائڈوں کی نوعیت گیسی ہے۔ ان کی ساخت آکٹا ہیڈرل ہے۔ سلفر ہیکسا فلورائڈSF6مستثنیٰ طور پر مستحکم ہے۔
ٹیٹرا فلورائڈوں میں SF4گیس ہے، SeF4رقیق ہے اورTeF4ٹھوس ہے ان فلورائڈوں میں SP3d ہائبریڈائزیشن ہے اور اس طرح ان کی ساخت ٹرائی گونل بائی پیرامڈل ہے جس میں ایک خط استوائی پوزیشن پر الیکٹرانوں کا لون پیٹر موجود ہوتا ہے۔ اس قسم کی جیومیٹری کوsee-sawجیومیٹری بھی کہاجاتا ہے۔
آگسیجن کے علاوہ سبھی عناصر ڈائی کلورائڈ اور ڈائی برومائڈ بناتے ہیں۔ یہ ڈائی ہیلائڈSp3ہائبریڈائزیشن سے بنتے ہیں اور اسی لیے ان کی ساخت ٹیٹرا ہیڈرل ہوتی ہے۔ مشہور ومعروف مونوہیلائڈوں کی نوعیت ڈائی میرک (Dimeric)ہوتی ہے۔ مثالیں ہیں:S2F2،S2Cl2،S2Br2،Se2 Cl2اورSe2 Br2۔ یہ ڈائی میرک ہیلائڈ غیر تناسبیت کو ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
مثال7.11
H2Teکے مقابلے میں H2Sکم تیزابی ہے، کیوں؟
حل
گروپ میں نیچے کی طرف بانڈ(E-H)تحلیلی توانائی میں کمی کی وجہ سے، تیزابی خصوصیت میں کمی آتی ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.13 سلفر کے اہم مآخذ کی فہرست بنائیے؟
7.14 گروپ16کے عناصر کے ہائڈرائڈوں کے حرارتی استحکام کی ترتیب لکھیے؟
7.15 H2Oرقیق اور H2Sگیس کیوں ہے؟
7.11 ڈائی آکسیجن (Dioxygen)
تیاری
تجربہ گاہ میں ڈائی آکسیجن کو مندرجہ ذیل طریقوں سے تیار کیا جاسکتا ہے۔
(i) کلوریٹ، نائٹریٹ اور پر مینگیٹ جیسے آکسیجن پر مشتمل چیزوں کو گرم کرکے
(ii) برقی کیمیائی سلسلہ کی نچلی دھاتوں اور کچھ دھاتوں کے اعلیٰ آکسائڈوں کی حرارتی تحلیل کے ذریعے۔
(iii) میگنیز ڈائی آکسائڈ اور دھاتی سفوف جیسے وسیط کے ذریعہ ہائڈروجن پر آکسائڈ تیزی کے ساتھ پانی اور ڈائی آکسیجن میں تحلیل ہوجاتی ہے۔
(iv) بڑے پیمانے پر اسے پانی یا ہوا سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ پانی کی برق پاشیدگی (Hydrolysis)کے نتیجے میں کیتھوڈ پر ہائڈروجن اور انیوڈ پرآکسیجن حاصل ہوتی ہے۔ صنعتی پیمانے پر ڈائی آکسیجن کو ہوا سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کے ابخرات کو علیحدہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد باقی ماندہ گیسوں کی اماعت کی جاتی ہے اور پھر کسری کشید کے ذریعہ ڈائی نائٹروجن اور ڈائی آکسیجن حاصل کی جاتی ہے۔
خصوصیات(Propeties)
ڈائی آکسیجن بے رنگ اور بغیر بو والی گیس ہے۔ پانی میں اس کی حل پذیری 293Kپر100cm3پانی میں 3.08cm3تک ہے جو کہ بحری اور آبی زندگی کی بقا کے لیے مناسب ہے۔ یہ90Kپر رقیق میں تبدیل ہوجاتی ہے اور55Kپر منجمد ہوجاتی ہے۔ اس کے تین مستحکم آئسو ٹوپ ہیں۔16O،17Oاور18O الیکٹرانوں کی طاق تعداد کے باوجود سالماتی آکسیجنO2پیرامقناطیسی ہے جو کہ اس کی یکتا خصوصیت ہے(کیمسٹری، کلاسXI، اکائی4ملاحظہ کیجیے)
چند دھاتوں (مثلاًAu،Pt) اور کچھ نوبل گیسوں کو چھوڑ کر ڈائی آکسیجن باقی تمام دھاتوں اورغیر دھاتوں سے تعامل کرتی ہے۔ دیگر دھاتوں کے ساتھ اس کا اتحاد بہت زیادہ حرارت زا(Exothermic)ہوتا ہے جو کہ تعامل کو برقرار رکھنے میں معاون ہے۔ تاہم تعامل کو شروع کرنے کے لیے کچھ بیرونی حرارت درکار ہوتی ہے کیونکہ آکسیجن۔آکسیجن دوہرے بانڈ کی بانڈ تحلیلی توانائی زیادہ((493.4KJmol-1) ہے۔
دھاتوں، غیر دھاتوں اور دیگر مرکبات کے ساتھ ڈائی آکسیجن کے تعاملات ذیل میں دیے گئے ہیں۔
کچھ مرکبات وسیطی اعتبار سے تکسید ہوجاتے ہیں۔ مثلاً
استعمال:تنفس اور احتراق جیسے عام عملوں میں اس کی اہمیت کے ساتھ ساتھ آکسیجن کا استعمال آکسی ایسٹیلن ویلڈنگ میں کئی دھاتوں بالخصوص اسٹیل بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں بہت زیادہ اونچائی پر پرواز کے دوران اور اونچے پہاڑوں پر آکسیجن کے سلینڈر کا بہت زیادہ استعمال ہے۔ ایندھنوں کا احتراق مثلاً رقیق آکسیجن میں ہائڈرازین کا احتراق راکٹوں کو دھکیلنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.16 مندرجہ ذیل میں سے کون آکسیجن سے براہ راست تعامل نہیں کرتا؟
Zn, Ti, Pt, Fe
7.17 مندرجہ ذیل تعاملات کو مکمل کیجیے۔
دیگر عناصر کے ساتھ آکسیجن کے بائنری Binary) (مرکبات آکسائڈ کہلاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہوا، آکسیجن دوری جدول کے زیادہ تر عناصر کے ساتھ تعامل کرکے آکسائڈ بناتی ہے۔ کئی معاملوں میں ایک عنصر دو یا دو سے زیادہ آکسائڈ بناتا ہے۔ آکسائڈوں کی نوعیت اور خصوصیات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔
7.12 سادہ آکسائڈ(Simple Oxides)
آکسائڈ سادہ(مثلاًMgO،Al2O3) یا مکسڈ(Mixed)(Fe3O4،Pb3O4) ہوسکتے ہیں۔ سادہ آکسائڈوں کی درجہ بندی ان کی تیزابی، اساسی یا ایمفوٹیر خصوصیت کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ وہ آکسائڈ جو پانی کے ساتھ تیزاب بناتاہے تیزابی آکسائڈ کہلاتا ہے مثلاًSO2،Cl2O7،CO2،N2O5۔ مثال کے طور پرSO2پانی کے ساتھ تعامل کرکے H2SO3بناتی ہے جو کہ ایک تیزاب ہے۔
عمومی قاعدے کے مطابق صرف غیر دھاتی آکسائڈ تیزابی ہوتے ہیں لیکن بہت زیادہ تکسیدی حالت میں کچھ دھاتوں کے آکسائڈ بھی تیزابی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ اساسی آکسائڈ (مثلاً Na2O، CaO، BaO)
عمومی طور پر دھاتی آکسائڈ اساسی ہوتے ہیں۔
کچھ دھاتی آکسائڈ دوہرے طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ تیزابی اور اساسی دونوں خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے آکسائڈ ایمفو ٹیرک آکسائڈ کہلاتے ہیں یہ تیزاب اور القلی دونوں سے تعامل کرتے ہیں۔ کچھ ایسے آکسائڈ بھی ہیں جو کہ نہ تو تیزابی ہیں اور نہ ہی اساسی۔ اس قسم کے آکسائڈ تعدیلی آکسائڈ کہلاتے ہیں۔ تعدیلی آکسائڈوں کی مثالیں ہیں CO،NOاورN2O۔Al2O3ایسڈ اور القلی دونوں سے تعامل کرتا ہے۔
7.13 اوزون(Ozone)
اوزون، آکسیجن کی بہروپی شکل ہے۔ یہ بہت زیادہ متعامل ہے اور سطح سمندر پر کرہ باد میں زیادہ عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ 20کلو میٹر کی اونچائی پریہ روشنی کی موجودگی میں کرہ باد کے آکسیجن سے بنتی ہے۔ یہ اوزون پرت سطح زمین کو الٹراوائلٹ(UV)کے بہت زیادہ ارتکاز سے محفوظ رکھتی ہے۔
تیاری
جب آکسیجن کی سست اور خشک دھار کو ایک خاموش برقی ڈسچارج سے گزارا جاتا ہے تو اوزن(%10)حاصل ہوتی ہے۔ ماحصل از ونائزڈ آکسیجن (Ozonised Oxygen)کہلاتا ہے۔
کیونکہ آکسیجن سے اوزون کی تشکیل ایک حرارت خور(Endothemic)عمل ہے لہٰذا اس کی تحلیل روکنے کے لیے اس کی تیاری میں خاموش برقی ڈسچارج کا استعمال ضروری ہے۔
اگر اوزون کا ارتکاز10فیصد سے زیادہ مطلوب ہے تو اوزونائز ر(Ozoniser)کی بیٹری کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور خالص اوزون(b-p 385K)رقیق آکسیجن میں رکھے ہوئے برتن میں متکثف کی جاسکتی ہے۔
خصوصیات
خالص اوزون ہلکے نیلے رنگ کی گیس، گہرے نیلے رنگ کا رقیق اور سیاہی مائل بنفشی ٹھوس ہے۔ اوزون کی ایک مخصوص بو ہوتی ہے اور کم ارتکاز میں نقصان دہ نہیں ہے۔ تاہم، اگر ارتکاز100ppmسے تجاوز کرجائے تو سانس لینے میں دقت محسوس ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے سردرد اور متلی ہونے لگتی ہے۔
آکسیجن کی متناسبیت میں اوزون حرحرکیاتی اعتبار سے غیر مستحکم ہے کیونکہ آکسیجن میں اس کی تحلیل کے نتیجے میں حرارت پیدا ہوتی ہے(DHمنفی ہے) اور انٹراپی(DSمثبت ہے)میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں اثرات ایک دوسرے کو قوت بہم پہنچاتے ہیں۔ نتیجتاً آکسیجن میں اس کی تبدیلی کے لیے منفی گیس توانائی میں بہت زیادہ تبدیلی آتی ہے۔
7.18.8کیمیائی خصوصیات
(Chemical Properties)
اس حالت میں جب یہ Nascent Oxygenکے ایٹم خارج کرتی ہے،(O3 → O2 + O)ایک طاقتور تکسیدی ایجنٹ کے طو رپر کام کرتی ہے۔ مثلاًیہ لیڈ سلفائڈ کی لیڈ سلفیٹ میں اور آیوڈائڈ کی آیوڈین میں تکسید کرتی ہے۔
جب اوزون بوریٹ بفر سے بفر شدہ پوٹاشیم آیوڈ ائڈ محلول(Ph9.2)کی وافر مقدار سے تعامل کرتی ہے تو آیوڈین خارج ہوتی ہے جس کی ٹائریشن سوڈیم تھایو سلفیٹ کے معیاری محلول کے تئیں کی جاسکتی ہے۔یہO3گیس کے تخمینہ کا مقداری طریقہ ہے۔
تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح نائٹروجن آکسائڈ(بالخصوص نائٹروجن مونوآکسائڈ)اوزون سے بہت تیزی سے تعامل کرتی ہے اور اس طرح اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ سپر سونک جیٹ طیاروں سے خارج ہونے والے نائٹروجن آکسائڈ بالائی کرہ باد میں اوزون کے ارتکاز کو کم کردے۔
اس اوزون پرت کو ایک اور خطرہ لاحق ہے جو کہ فری آن (Freon) کے استعمال کی وجہ سے ہے۔ فری آن کا استعمال ایروسول اسپرے اور ریفریجرینٹ میں کیا جاتا ہے۔
اوزون سالمہ میں دو آکسیجن۔ آکسیجن بانڈ کی لمبائیاں مماثل (128 pm) ہیں اور سالمہ زاویائی ہے جیسا کہ امید کی جاتی ہے۔ جس کا بانڈ زاویہ تقریباً 117° ہے۔ یہ دو خاص شکلوں کی گمک مخلوط (resonance Hybrid) ہے۔
استعمال: اس کا استعمال بطور جراثیم کش، مانع تعدیہ (Disinfectant) اور پانی کو اسٹیرلائز کرنے میں کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال تیلوں Ivory آٹا، اسٹارچ وغیرہ کی بلیچنگ میں کیا جاتا ہے۔ پوٹاشیم پرمینگنیٹ کی تیاری میں اس کا استعمال بطور تکسیدی ایجنٹ کیا جاتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.18 O3 ایک طاقتور تکسیدی ایجنٹ کیوں ہے؟
7.19 اوزون (O3) کا مقداری تخمینہ کس طرح کیا جاتا ہے؟
7.14 سلفر— بہروپی شکلیں
(Sulphur — Allotropic Forms)
سلفر کئی بہروپی شکلیں تشکیل دیتا ہے جن میں پیلا رہومبک (a-sulphur) اور مونو کلینک (b-sulphur) شکلیں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ رہومبک سلفر کمرہ کے درجہ حرارت پر مستحکم ہوتا ہے جو کہ 369 K پر گرم ہو کر مونوکلینک سلفر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
رہومبک سلفر(a-sulphur)
یہ بہروپ پیلے رنگ کا ہوتا ہے جس کا نقطہ گداخت 385.8 K اور نوعی کثافت 2.06 ہے۔ CS2 میں رول سلفر کے محلول کی تبخیر سے رہومبک سلفر کے کرسٹل بنائے جاتے ہیں۔ یہ پانی میں حل پذیر نہیں ہے لیکن بینزین، الکوحل اور ایتھر میں کچھ حد تک حل پذیر ہے۔ یہ CS2 میں آسانی سے گھل جاتا ہے۔
مونوکلینک سلفر (b-sulphur)
اس کا نقطہ گداخت 1393 K اور نوعی کثافت 1.98 ہے۔ یہ CS2 میں حل پذیر ہے۔ سلفر کی اس شکل کو ایک ڈش میں رہومبک سلفر کو گرم کرکے اور قشر بننے تک ٹھنڈا کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ قشر میں دوسوراخ بنائے جاتے ہیں اور باقی ماندہ محلول کو ان کے ذریعہ باہر نکال لیا جاتا ہے۔ قشر کو علیحدہ کرنے پر bسلفر کے سوئی نما کرسٹل حاصل ہوتے ہیں۔ یہ 369 K کے اوپر مستحکم ہے اور اس درجہ حرارت کے نیچے aسلفر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس aسلفر 369 K سے نیچے مستحکم ہے اور اس درجہ حرارت کے اوپر bسلفر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ 369 K پر دونوں شکلیں مستحکم ہیں۔ یہ درجہ حرارت عبوری درجہ حرارت کہلاتا ہے۔
شکل 7.5 : (a) رھومبک سلفر میں S6 چھلوں اور (b) S6 شکل کی ساختیں
رہومبک اور مونو کلینک دونوں قسم کے سلفر میں S8 سالمات ہوتے ہیں یہ S8 سالمات ایک دوسرے سے منسلک ہوکر مختلف کرسٹل ساختیں تشکیل دیتے ہیں۔ دونوں شکلوں میں S8 کے چھلے تاج کی شکل میں منسلک ہوتے ہیں۔ سالماتی ابعاد شکل 7.5(a) میں دیے گئے ہیں۔
گذشتہ دو دہائیوں میں ایک چھلہ میں 6-20 سلفر ایٹموں پر مشتمل سلفر کی کئی شکلیں تالیف کی گئی ہیں۔ Cyclo-S6 میں، چھلہ کرسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور سالماتی ابعاد شکل 7.5(b) میں دکھائے گئے ہیں۔ اونچے درجہ حرارت (~ 1000 K) پر S2 ایک dominant شکل ہے اور O2 کی طرح پیرا مقناطیسی (Paramagnetic) ہے۔
مثال 7.12
سلفر کی کون سی شکل پیرا مقناطیسی طرز عمل کو ظاہر کرتی ہے؟
حل
ابخراتی حالت میں سلفر جزوی طور پر S2 سالمہ کی شکل میں ہوتا ہے جس میں O2 کی طرح اینٹی بانڈنگ p اربٹل میں بغیر جوڑے کے الیکٹران ہوتے ہیں، اور یہ پیرا مقناطیسی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے۔
7.15 سلفر ڈائی آکسائڈ
(Sulphur Dioxide)
جب سلفر کو ہوا یا آکسیجن میں جلایا جاتا ہے تو تھوڑی سی (6-8%) سلفر ٹرائی آکسائڈ کے ساتھ سلفر ڈائی آکسائڈ حاصل ہوتی ہے۔
S(s) + O2(g) → SO2 (g)
تجربہ گاہ میں اسے سلفائٹ کا ڈائی لیوٹ سلفیورک ایسڈ سے تعامل کراکے تیزی سے بنایا جاسکتا ہے۔
SO32-(aq) + 2H+ (aq) → H2O(l) + SO2 (g)
صنعتی طور پر اسے سلفائڈ کچ دھاتوں کی روسٹنگ کے دوران ضمنی ماحصل کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔
خشک کرنے کے بعد اونچے دباؤ پر گیس کی اماعت کی جاتی ہے اور اسے اسٹیل کے سلنڈروں میں اسٹور کر لیا جاتا ہے۔
خصوصیات
سلفر ڈائی آکسائڈ بے رنگ گیس ہے جس میں تیز بو آتی ہے۔ یہ پانی میں بہت زیادہ حل پذیر ہے۔ یہ کمرہ کے درجہ حرارت پر 2 atm دباؤ پر رقیق میں تبدیل ہوجاتی ہے اور 263 K پر ابلنے لگتی ہے۔
سلفر ڈائی آکسائڈ کو جب پانی سے گزارا جاتا ہے تو یہ سلفیورس ایسڈ کا محلول بناتی ہے۔
یہ سوڈیم ہائڈروکسائڈ محلول سے تیزی کے ساتھ تعامل کرتی ہے اور سوڈیم سلفائٹ بناتی ہے جو کہ سلفر ڈائی آکسائڈ سے مزید تعامل کرکے سوڈیم ہائڈروجن سلفائٹ بناتا ہے۔
پانی اور القلیوں سے اس کے تعامل میں، سلفر ڈائی آکسائڈ کا طرز عمل کاربن ڈائی آکسائڈ کے مشابہ ہے۔
سلفر ڈائی آکسائڈ چارکول (جوکہ وسیط کے طور پر کام کرتا ہے) کی موجودگی میں کلورین سے تعامل کرکے سلفیورک کلورائڈ SO2Cl2 بناتی ہے۔ وینیڈیم (V) آکسائڈ وسیط کی موجودگی میں یہ آکسیجن کے ذریعہ سلفر ٹرائی آکسائڈ میں تکسید ہوجاتی ہے۔
مرطوب حالت میں سلفر ڈائی آکسائڈ تحویلی ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہے مثال کے طور پر یہ آئرن (III) آینوں کو آئرن (II) آینوں میں تبدیل کردیتی ہے اور تیزابی پوٹاشیم پرمینگنیٹ (VII)محلول کا رنگ اڑا دیتی ہے۔ موخرالذکر تعامل گیس کے لیے ایک مناسب ٹیسٹ ہے۔
SO2 کا سالمہ زاویائی ہوتا ہے۔ یہ دو مستند (Canonical) شکلوں کی گمک مخلوط ہے۔
استعمال :سلفر ڈائی آکسائڈ کا استعمال (i)پیٹرولیم اور چینی کی ریفائننگ میں کیا جاتا ہے۔ (ii) اون اور ریشم کی بلیچنگ میں کیا جاتا ہے۔ (iii) اینٹی کلور مانع تعدیہ اور تحفظی شے (Preservative) کے طور پر کیا جاتا ہے۔ سلفیورک ایسڈ، سوڈیم ہائڈروجن سلفائٹ اور کیلشیم ہائڈروجن سلفائٹ (صنعتی کیمیکل) کو سلفر ڈائی آکسائڈ سے بنایا جاتا ہے۔ رقیق SO2 کا استعمال متعدد نامیاتی اور غیر نامیاتی کیمیکل کو حل کرنے کے لیے محلل کے طور پر کیا جاتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.20 جب سلفر ڈائی آکسائڈ کو Fe(III) نمک کے آبی محلول سے گزارا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟
7.21 SO2 سالمہ میں بننے والے دو S – O بانڈ کی نوعیت پر تبصرہ کیجئے۔ کیا اس سالمہ میں دونوں بانڈ مساوی ہیں؟
7.22 SO2 کی موجودگی کی شناخت کس طرح کی جاتی ہے؟
7.16 سلفر کے آکسو ایسڈ
(Oxoacids of Sulphur)
سلفر متعدد آکسو ایسڈ بناتا ہے مثلاً

ان میں سے کچھ غیر مستحکم ہیں اور انھیں علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اپنے آبی محلول یا اپنے نمکوں کی شکل میں جانے جاتے ہیں۔ کچھ اہم آکسو ایسڈ کی ساختیں شکل 7.6 میں دکھائی گئی ہیں۔
7.17 سلفیورک ایسڈ
(Sulphuric Acid)
سلفیورک ایسڈ، دنیا میں صنعتی کیمیکلس میں سب سے اہم کیمیکل ہے۔
سلفیورک ایسڈ کو کانٹیکٹ پراسس (Contact Process) کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔ جوکہ تین مرحلوں میں مکمل ہوتا ہے۔
شکل 7.6 : سلفر کے کچھ اہم آکسوایسڈوں کی ساختیں
(i)
SO2 پیدا کرنے کے لیے سلفر یا سلفائڈ کچ دھاتوں کا ہوا میں احتراق
(ii)
V2O5 وسیط کی موجودگی میں آکسیجن کے ساتھ تعامل کراکر SO2 کی SO3 میں تبدیلی۔
(iii)
H2SO4 میں SO3 کا انجذاب جس سے اولیم (Oleum) یعنی H2S2O7 حاصل ہوتا ہے۔
سلفیورک ایسڈ بنانے کے لیے فلوڈائی گرام شکل 7.7 میں دکھایا گیا ہے۔ SO2 میں موجود گرد اور آرسینک مرکبات جیسی ملاوٹوں کو علیحدہ کرکے خالص بنایا جاتا ہے۔
H2SO4 کی تیاری میں کلیدی مرحلہ V2O5 وسیط کی موجودگی میں SO2 کی O2 کے ساتھ وسیطی تکسید ہے جس کے نتیجے میں SO3 حاصل ہوتی ہے۔
یہ تعامل حرارت زا، رجعتی اور فارورڈ تعامل سے حجم میں کمی آتی ہے۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے کم درجہ حرارت اور زیادہ دباؤ موافق حالات میں لیکن درجہ حرارت بہت کم نہیں ہونا چاہیے۔ نہیں تو تعامل بہت سست ہوجائے گا۔
شکل 7.7 : سلفیورک ایسڈ کی تیاری کا فلو ڈائی گرام
عملی طور پر پلانٹ کو 2 bar دباؤ اور 70 K درجہ حرارت پر جلایا جاتا ہے۔ کیٹلٹک کنورٹر سے حاصل ہونے والی SO3 گیس کو H2SO4 میں جذب کرایا جاتا ہے۔ جس سے اولیم حاصل ہوتا ہے۔ اولیم کو پانی سے ڈائی لیوٹ کرکے مطلوبہ ارتکاز کا H2SO4 حاصل ہوتا ہے۔ انڈسٹری میں دو مراحل بہ یک وقت بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ تاکہ پراسس کا تسلسل قائم رہے اور لاگت بھی کم آئے۔
SO3 + H2SO4 → H2S2O7
اولیم
کانٹیکٹ پراسس کے ذریعہ تیار کیا گیا سلفیورک ایسڈ %96-98تک خالص ہوتا ہے۔
خصوصیات
سلفیورک ایسڈ بے رنگ، کثیف، تیل جیسا رقیق ہے جس کی نوعی کثافت298K پر 1.84 ہے۔ ایسڈ 283K پر منجمد ہوجاتا ہے اور 611K پر ابلنے لگتا ہے۔ یہ پانی میں حل ہوکر بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتا ہے اس لیے مرتکز سلفیورک ایسڈ سے سلفیورک ایسڈ کا محلول بناتے وقت محتاط رہنا ضروری ہے۔ مرتکز ایسڈ کو پانی میں آہستہ آہستہ ملانا چاہیے اور مسلسل ہلاتے رہنا چاہیے۔
سلفیورک ایسڈ کے کیمیائی تعاملات مندرجہ ذیل خصوصیات کا نتیجہ ہیں۔
(a) کم طیران پذیری (b) مضبوط تیزابی خصوصیت (c) پانی کے تئیں بہت زیادہ افینٹی (d) تکسیدی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی اہلیت۔ آبی محلول میں سلفیورک ایسڈ دو مرحلوں میں آیونائز ہوجاتا ہے۔
Ka1کی بہت زیادہ (Ka1>10)کا مطلب ہے کہ H2SO4 کی H+اور HSO4 آینوں میں بہت زیادہ تحلیل ہوتی ہے۔ تحلیلی مستقلہ (ka) کی قدر جتنی زیادہ ہوگی ایسڈ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔
ایسڈ نمکوں کے دو سلسلے تشکیل دیتا ہے: نارمل سلفیٹ (جیسے سوڈیم سلفیٹ اور کاپر سلفیٹ) اور ایسڈ سلفیٹ (مثلاً سوڈیم ہائڈروجن سلفیٹ)
کم طیران پذیری کی وجہ سے سلفیورک ایسڈ کا استعمال کم طیران پذیر تیزابوں کو ان کے نظیری نمکوں سے بنانے میں کیا جاسکتا ہے۔
(دھات =M )
مرتکز سلفیورک ایسڈ ایک مضبوط ڈی ہائڈریٹنگ ایجنٹ ہے۔ متعدد مرطوب گیسوں کو خشک کرنے کے لیے انھیں سلفیورک ایسڈ سے گزارا جاتا ہے۔ اگرچہ گیسیں تیزاب سے تعامل نہیں کرتی ہیں سلفیورک ایسڈ نامیاتی مرکبات سے پانی کو ہٹا دیتا ہے، کاربوہائڈریٹ پر اس کا چارنگ ایکشن (Charring Action) اس بات کا ثبوت ہے۔
گرم مرتکز سلفیورک ایسڈ ایک معتدل قسم کا مضبوط تکسیدی ایجنٹ ہے اس لحاظ سے یہ فاسفورک اور نائٹرک ایسڈ کے درمیان میں ہے۔ دھات اور غیر دھات دونوں ہی مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ذریعہ تکسید ہوجاتی ہیں اور خود سلفیورک ایسڈ کی SO2 میں تحویل ہوجاتی ہے۔
استعمال: سلفیورک ایسڈ ایک نہایت اہم صنعتی کیمیکل ہے۔ کسی ملک کی صنعتی طاقت کا اندازہ اس ملک میں پیدا ہونے والے اور خرچ ہونے والے سلفیورک ایسڈ کی مقدار سے لگایا جاسکتا ہے۔ سینکڑوں قسم کے مرکبات بنانے میں اس کی ضرورت پڑتی ہے اور کئی صنعتی عملوں میں بھی سلفیورک ایسڈ کام میں لایا جاتا ہے۔ بڑی مقدار میں سلفیورک ایسڈ کا استعمال فرٹیلائزر (مثلاً امونیم سلفیٹ، سپر فاسفیٹ) بنانے میں کیا جاتا ہے۔ دیگر استعمال اس طرح ہیں: (a) پیٹرولیم ریفائننگ (b) رنگ، روغن اور رنگ بنانے والے ضمنی ماحصلات(c) ڈٹرجنٹ انڈسٹری (d) فلز کار عملوں (مثلاً ایمالنگ، برقی ملمع کاری (Electroplating) اور جست کاری (Galvanising) سے پہلے دھاتوں کی صفائی میں (e) اسٹوریج بیٹریاں بنانے میں (f) نائٹروسیلیولوزماحصلات بنانے میں اور (g) تجربہ گاہ میں ریجنٹ کے طور پر
متن پر مبنی سوالات
7.23 ایسے تین شعبوں کے نام بتائیے جہاں H2SO4 ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔
7.24 کائنیٹک پراسس کے ذریعہH2SO4کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے شرائط لکھیے۔
7.25
پانی میں H2SO4کے

لیےکیوں ہے؟
7.18 گروپ17کے عناصر
(Group17 Elements)
فلورین، کلورین، برومین، آیوڈین، ایسٹیٹائن اور ٹینیسائن (Tennessine)گروپ17کے عناصر ہیں انھیں مجموعی طور پر ہیلوجن(یونانی میں Heloکا مطلب ہے نمک اورGenesکا مطلب ہے پیدا ہونا یعنی سالٹ پروڈیوسر)۔ ہیلوجن بہت زیادہ تعامل پذیرغیر دھاتی عناصر ہیں۔ گروپ1اور2کے عناصر کی طرح گروپ17کے عناصرآپس میں بہت زیادہ یکسانیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اتنی زیادہ یکسانیت دوری جدول کے کسی اور گروپ کے عناصر میں نہیں پائی جاتی ہے۔ مزید یہ بھی کہ ان کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات میں باقاعدہ ترتیب (Regular Gradation)ہے۔ ایسٹیٹائن اور ٹینیسائن تابکار عناصر ہیں۔
7.18.1 وقوع (Occurrence)
فلورین اور کلورین کافی مقدار میں پائی جاتی ہیں جب کہ برومین اور آیوڈین کم مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ فلورین خاص طور سے غیر حل پذیر فلورائڈ(فلوسپار Caf2، کرایولائٹ،Na3alf6) اور فلورو پیٹائٹ3Ca3(PO4)2.CaF2)کی شکل میں پائی جاتی ہے یہ مٹی، دریا کے پانی، پودوں، جانوروں کی ہڈدیوں اور دانتوں میں بھی بہت تھوڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ سمندر کے پانی میں سوڈیم، پوٹاشیم، میگنیشم اور کیلشیم کے کلورائڈ برومائڈ اور آیوڈائڈ موجود ہوتے ہیں لیکن سب سے زیادہ سوڈیم کلورائڈ(کمیت کے اعتبار سے %25) پایا جاتا ہے۔ سمندر کی خشک تلچھٹ ان مرکبات پر مشتمل ہوتی ہے یعنی سوڈیم کلورائڈ اور کارنیلائٹKCl.MgCl2.6H2Oآبی زندگی کی کئی شکلوں کے نظاموں میں آیوڈین پایا جاتا ہے۔ مثلاً متعدد سمندری ویڈ%0.5آیوڈین پر مشتمل ہوتی ہیں اور چلی سالٹ پیٹر میں %0.2تک سوڈیم آیوڈیٹ پایا جاتا ہے۔
گروپ17کے عناصر ٹینیسائن کے علاوہ،کی اہم ایٹمی اور طبیعی خصوصیات کو ان کے الیکٹرانی شکل کے ساتھ جدول7.8میں دیا گیا ہے۔ٹینیسائن ایک مصنوعی تابکارعنصرہے۔اس کی علامت Tsہے۔ ایٹمی عدد117،ایٹمی کمیت294اور الیٹرانی تشکل
ہے۔اس عنصر کی بہت کم مقدارہی بنائی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ اس کی نصف زندگی بھی ملی سیکنڈ میں ہے اس وجہ سے اس کی کیمیائی خصوصیات ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔
ایٹمی، طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کے کچھ رجحانات ذیل میں مذکور ہیں۔
7.18.2 الیکٹرانی تشکل
ان سبھی عناصر کے بیرونی شیل میں سات الیکٹران ہوتے ہیں (ns2np5)اس طرح ان میں اپنے سے آگے والی نوبل گیس سے ایک الیکٹران کم ہے۔
7.18.3 ایٹمی اور آینی نصف قطر
از حد نیوکلیائی چارج کی وجہ سے اپنے متعلقہ پیریڈ میں ہیلوجن کے ایٹمی نصف قطر سب سے چھوٹے ہیں۔ دوسرے پیریڈ کے دیگر عناصر کی طرح فلورین کا ایٹمی نصف قطر نہایت چھوٹا ہے۔ کوانٹم شیل کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے فلورین سے آیوڈین تک ایٹمی اور آینی نصف قطر میں اضافہ ہوتا ہے۔
7.18.4آیونائزیشن اینتھالپی
ان میں الیکٹران کو کھونے کا رجحان بہت کم ہوتاہے۔ اس طرح ان کی آیونائزیشن اینتھالپی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر ایٹمی سائز میں اضافہ کی وجہ سے آیونائزیشن اینتھالپی میں کمی آتی جاتی ہے۔
7.18.5 الیکٹران گین اینتھالپی
نظیری ادوار(Periods)میں ہیلوجن کی منفی الیکٹران گین اینتھالپی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ان عناصر کے ایٹموں میں مسحتکم نوبل گیس میں الیکٹرانی تشکل کے مقابلے ایک الیکٹران کم ہوتا ہے۔ گروپ میں نیچے کی طرف عناصر کی الیکٹران گین اینتھالپی کم منفی ہوتی جاتی ہے۔ تاہم فلورین کی منفی الیکٹران گین اینتھالپی کلورین سے کم ہے۔ فلورین ایٹم کا سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ نتیجتاً فلورین کے نسبتاً چھوٹے 2pاربٹل میں بہت زیادہ انٹرالیکٹرانک ریلیژن ہوتا ہے اور اس طرح اندر آنے والے الیکٹران بہت زیادہ کشش محسوس نہیں کرتے۔
جدول7.8ہیلوجن کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات
7.18.6 برقی منفیت
ان کی برقی منفیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گروپ میں نیچے کی طرف برقی منفیت گھٹتی جاتی ہے۔ دوری جدول میں فلورین سب سے زیادہ برقی منفی عنصر ہے۔
ہیلوجن کی طبیعی خصوصیات میں ایک ہموار تغیر پایا جاتا ہے۔ فلورین اور کلوربن گیسیں ہیں، برومین رقیق ہے اور آیوڈین ٹھوس ہے۔ ایٹمی عدد میں اضافہ کے ساتھ ان کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش میں مستقل اضافہ ہوتا ہے۔ تمام ہیلو جن رنگین ہیں۔ مرئی خطہ میں اشعاع کے انجذاب کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بیرونی الیکٹران اونچی توانائی کے لیول مشتعل ہوجاتے ہیں۔ اشعاع کا مختلف کوانٹا جذب کرکے یہ مختلف رنگ ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر F2کا رنگ زرد، Cl2کا سبز مائل زرد،Br2کا سرخ اورI2کا رنگ بینگنی(بنفشی) ہوتا ہے۔فلورین اور کلورین پانی سے تعامل کرتے ہیں۔ برومین اور آیوڈین پانی میں بہت کم حل پذیر ہیں لیکن کلورو فارم، کاربن ٹیٹرا کلورائڈ، کاربن ڈائی سلفائڈ اور ہائڈروکاربن جیسے متعدد نامیاتی محللوں میں حل پذیر ہیں اور رنگین محلول بناتے ہیں۔
جدول7.8سے ہم ایک حیرت انگیز بے قاعدگی نوٹ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہCI2کے مقابلےF2کی تحلیل کی اینتھالپی کم ہے جب کہ کلورین سے آگے کی طرف X-Xبانڈ تحلیل اینتھالپی میں متوقع رجحان دیکھا جاسکتا ہے یعنیCl – Cl > Br – Br > I – Iسالمہ کے لون پیئر میں الیکٹران۔الیکٹران دفع نسبتاً زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ جہاں پرCI2کے مقابلے ایک دوسرے کے زیادہ نزدیک ہیں۔
مثال7.15
حالانکہ فلورین کی الیکٹران گین اینتھالپی کلورین کے مقابلے کم ہے مگر کلورین کے مقابلے فلورین ایک مضبوط تکسیدی ایجنٹ ہے۔ کیوں؟
حل
یہ اس وجہ سے ہے
(i) F-Fبانڈ کی کم تحلیل اینتھالپی(جدول7.8)
(ii) F-کی زیادہ ہائڈریشن اینتھالپی(جدول7.8)
7.18.8کیمیائی خصوصیات
(Chemical Properties)
تکسیدی حالتیں اور کیمیائی تعاملیت کے رجحانات
تمام ہیلوجن (-1)تکسیدی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم کلورین، برومین اور آیوڈین+1،+3،+5اور+7تکسیدی حالتوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں جیساکہ ذیل میں واضح کیا گیا ہے۔
کلورین، برومین اور آیوڈین کی اونچی تکسیدی حالتوں کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہیلوجن کم اور بہت زیادہ برقی منفی فلورین اور آکسیجن ایٹموں کے ساتھ متحد ہوتی ہیں مثلاً انٹر ہیلو جنوں میں، آکسائڈ اور آکسوائڈ میں 4+اور6+تکسیدی حالتیں کلورین اور برومین کے آکسائڈ اور آکسوائڈ میں پائی جاتی ہیں۔ فلورین ایٹم کے ویلنس شیل میں کوئی بھیdالیکٹران نہیں ہوتا اور اسی لیے اپنے آکٹیٹ میں توسیع نہیں کرسکتا۔ سب سے زیادہ برقی منفی ہونے کی وجہ سے یہ صرف-1تکسیدی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔
سبھی ہیلوجن بہت زیادہ تعامل پذیر ہیں۔ یہ دھات اور غیر دھات دونوں کے ساتھ تعامل کرکے ہیلائڈ بناتے ہیں۔ ہیلوجن کی تعاملیت گروپ میں نیچے کی طرف گھٹتی ہے۔
الیکٹرانوں کا بہت تیزی سے حصول کے پیچھے ہیلوجن کی مضبوط تکسیدی نوعیت کار فرما ہے۔ F2مضبوط ترین تکسیدی ہیلوجن ہے اور یہ دیگر ہیلائڈوں کی محلول ہیں اوریہاں تک کہ ٹھوس حالت میں تکسید کردیتی ہے۔ عمومی طورپر ایک ہیلوجن زیادہ ایٹمی عدد والے ہیلائڈ آینوں کی تکسید کرتاہے۔
آبی محلول میں ہیلوجن کی تکسیدی اہلیت گروپ میں نیچے جانے پر گھٹتی ہے جس کا ثبوت ان کے معیاری الیکٹروڈ مضمر ہیں (جدول7.8) جو کہ مندرجہ ذیل پیرامیٹر پر منحصر ہیں۔
ہیلوجنوں کی نسبتی تکسیدی پاور کی مزید وضاحت پانی کے ساتھ ان کے تعامل کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔ فلورین، پانی کی آکسیجن میں تکسید کرتی ہے۔ جب کہ کلورین اور برومین پانی سے تعامل کرکے نظیری ہائڈروفیلک اور ہائڈروفیلس ایسڈ بناتے ہیں۔ پانی کے ساتھ آیوڈین کا تعامل از خود نہیں ہے۔ درحقیقت، تیزابی میڈیم میں آکسیجن کے ذریعہI-کی تکسید ہوتی ہے جو کہ فلورین کے ساتھ ہونے والے تعامل کے ٹھیک برعکس ہے۔
فلورین کا بے ربط طرز عمل (Anomalous behavior of Fluorine)
دوری جدول کے دوسرے پیریڈ میں موجودpبلاک کے دیگر عناصر کی طرح فلورین کئی بے ربط خصوصیات کو ظاہر کرتی ہے۔ مثال کے طو رپر فلورین کی آیونائزیشن اینتھالپی، برقی منفیت، بانڈ تحلیل کی اینتھالپی اور الیکٹروڈ مضمرتوانائی دیگر ہیلوجن کے متوقع رجحانات کے مقابلے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ آینی اور شریک گرفت نصف قطر، نقطہ گداخت اور نقطہ جوش نیز الیکٹران گین اینتھالپی توقع سے کافی کم ہے۔ فلورین کے بے ربط طرز عمل کی وجہ اس کا چھوٹاسائز، بہت زیادہ برقی منفیت، کمF-Fبانڈ تحلیل اینتھالپی اور وینلس شیل میں dاربٹل کی عدم دستیابی ہے۔
فلورین کے زیادہ تر معاملات حرارت زاہیں (کیونکہ یہ دوسرے عناصر کے ساتھ چھوٹے اور مضبوط بانڈ بناتی ہے) یہ صرف ایک آکسو ایسڈ بناتی ہے جب کہ دیگر ہیلوجن متعدد آکسو ایسڈ بناتے ہیں۔ مضبوط ہائڈروجن بندش کی وجہ سے ہائڈروجن فلورائڈ رقیق(b.p. 293K)ہے۔ HFمیں ہائیڈروجن گرفت بنتی ہے کیوں کہ فلورین کی جسامت بہت چھوٹی اوربرقی منفیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔دیگر ہائڈروجن ہیلائڈ گیسیں جن کی جسامت بڑی اوربرق منفیت کم ہوتی ہے گیسیں ہیں۔
(i) ہائڈروجن کے تئیں تعاملیت: سبھی ہیلوجن ہائڈروجن سے تعامل کرکے ہائڈروجن ہیلائڈ بناتے ہیں لیکن ہائڈروجن کے تئیں افینٹی فلورین سے آیوڈین تک کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ پانی میں حل ہوکر ہائڈروہیلک ایسڈ بناتے ہیں۔ ہائڈروجن ہیلائڈوں کی کچھ خصوصیات جدول7.9میں دی گئی ہیں۔ ان تیزابوں کی تیزابی قوت کی متنوع ترتیب اس طرح ہے:H–F > H–Cl > H–Br > H–I. گروپ میں نیچے جانے پر ان ہیلائڈوں کے استحکام میں کمی آتی ہے کیونکہ بانڈ(H-X)تحلیل اینتھالپیH–F > H–Cl > H–Br > H–Iکی ترتیب میں گھٹتی ہے۔
جدول7.9ہائڈروجن ہیلائڈوں کی خصوصیات
(ii) آکسیجن کے تئیں تعاملیت: ہیلوجن، آکسیجن کے ساتھ متعدد آکسائڈ بناتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر غیر مستحکم ہیں۔ فلورین دو آکسائڈOF2اورO2F2بناتی ہے۔ تاہم صرفOF2ہی 298Kپر مستحکم ہے۔ یہ آکسائڈ لازمی طو رپر آکسیجن فلورائڈ ہیں کیونکہ فلورین کی برقی منفیت آکسیجن کے مقابلے زیادہ ہے۔دونوں ہی مضبوط فلوریٹنگ ایجنٹ ہیں۔O2F2، پلوٹو نیم کی PUF6میں تکسید کرتا ہے اور استعمال شدہ نیوکلیائی ایندھن سے PUF6کو علیحدہ کرنے کے لیے اس تعامل کا استعمال کیا جاتا ہے۔
کلورین، برومین اور آیوڈین آکسائڈ بناتے ہیں جن میں ان ہیلوجنوں کی تکسیدی حالتیں 1+سے 7+تک ہوتی ہیں حرکیاتی اور حرحرکیاتی عوامل مجموعی طور سے ہیلوجنوں کے ذریعہ بننے والے آکسائڈوں کے استحکام کی گھٹتی ہوئی ترتیب I > Cl > Brکی تعمیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔آیوڈین کے آکسائڈ کی اعلیٰ مستقلی کی وجہ آیوڈین اورآکسیجن کے درمیان بننے والی گرفت کی اعلیٰ تقطیبیت ہے۔ کلورین کے معاملے میں کلورین اورآکسیجن کے درمیان کثیرگرفت بنتے ہیں کیوں کہ اس کے پاس aآربٹل دستیاب ہیں۔ اس کی وجہ سے استحکام بڑھ جاتاہے۔ برومین میں دونوں خصوصیات کی کمی ہوتی ہے لہٰذا برومین کے آکسائڈ کا استحکام سب سے کم ہوتا ہے۔ ہیلوجن کے نسبتاً اونچے آکسائڈوں میں نچلے آکسائڈوں کے مقابلے زیادہ استحکام کارحجان ہوتا ہے۔
کلورین آکسائڈ
بہت زیادہ متعامل تکسیدی ایجنٹ ہیں اور دھماکہ کا رجحان ظاہر کرتے ہیں۔ CIO2کا استعمال کاغذ کی لگدی اور ٹیکسٹائل نیز واٹر ٹریٹمنٹ میں بلیچنگ ایجنٹ کے طو رپر کیا جاتا ہے۔
برومین آکسائڈ
کمترین مستحکم ہیلوجن آکسائڈ ہیں (وسطی قطار بے قاعدگی) اور صرف کم درجہئ حرارت پر ہی پائے جاتے ہیں یہ بہت مضبوط تکسیدی ایجنٹ ہیں۔
آیوڈائڈ آکسائڈ
غیر حل پذیر ٹھوس ہیں اور گرم کرنے پر تحلیل ہوجاتے ہیں۔I2O5بہت اچھا تکسیری ایجنٹ ہے اور اس کا استعمال کاربن مونو آکسائڈ کے تخمینہ میں کیا جاتا ہے۔
(iii) دھاتوں کے تئیں تعاملیت (Reactivity towards metals)ہیلوجن دھاتوں کے ساتھ تعامل کرکے دھاتی ہیلائڈ بناتے ہیں مثلاً برومین، میگنیشم کے ساتھ تعامل کرکے میگنیشم برومائڈ بناتی ہے۔
ہیلائڈوں کی آینی خصوصیت میں کمی کی ترتیب MCl > MBr > MF >ہے جہاں Mیک گرفت دھات ہے۔ اگر دھات ایک سے زیادہ تکسیدی حالتیں ظاہر کرتی ہے تو اونچی تکسیدی حالت میں ہیلائڈ کم تکسیدی حالت کے مقابلے زیادہ شریک گرفتے ہوتے ہیں۔ مثلاًSnCl4،PbCl4،SbCl5اورUF6 بالترتیب
کے مقابلے زیادہ شریک گرفت ہیں
(iv) ہیلوجنوں کی دیگر ہیلوجنوں کے تئیں تعاملیت (Reactivity of Halogens towards other Halogens) ہیلوجن، خود اپنے آپ سے تعامل کرکے متعدد مرکبات بناتے ہیں۔ جنھیں XX¢، XX3،
XX5¢
ہیلائڈوں کی آینی خصوصیت میں کمی کی ترتیب MCl > MBr > MF >ہے جہاں Mیک گرفت دھات ہے۔ اگر دھات ایک سے زیادہ تکسیدی حالتیں ظاہر کرتی ہے تو اونچی تکسیدی حالت میں ہیلائڈ کم تکسیدی حالت کے مقابلے زیادہ شریک گرفتے ہوتے ہیں۔ مثلاًSnCl4،PbCl4،SbCl5اورUF6 بالترتیب SnCl2،PbCl2،SbCl3اور UF4کے مقابلے زیادہ شریک گرفت ہیں
(iv) ہیلوجنوں کی دیگر ہیلوجنوں کے تئیں تعاملیت (Reactivity of Halogens towards other Halogens) ہیلوجن، خود اپنے آپ سے تعامل کرکے متعدد مرکبات بناتے ہیں۔ جنھیں XX¢، XX3،
XX5¢اورXX7¢قسم کے انٹرہیلوجن کہا جاتا ہے۔ جہاں Xبڑے سائز کا ہیلوجن ہے اور Xنسبتاً چھوٹے سائم کا ہیلوجن ہے۔
مثال7.16
فلورین صرف-1تکسیدی حالت کو ظاہر کرتی ہے جب کہ دیگر ہیلوجن+1،+3،+5+اور7+تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ تشریح کیجیے۔
حل
فلورین سب سے زیادہ برقی منفی عنصر ہے اور کوئی بھی مثبت تکسیدی حالت ظاہر نہیں کرسکتا ہے۔ دیگر ہیلوجنوں کے پاس dاربٹل موجود ہے اس لیے وہ اپنے آکٹیٹ میں توسیع کرسکتے ہیں اور +1،+3،+5+نیز +7تکسید حالتوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
متن پر مبنی سوالات
7.26 بانڈ تحلیلی اینتھالپی، الیکٹران گین اینتھالپی اور ہائڈریشن اینتھالپی جیسے پیرا میٹر کے مد نظرF2اورCI2کی تکسیدی طاقت کا موازنہ کیجیے:
7.27 فلورین کے بے ربط طرز عمل کو ظاہر کرنے کے لیے دومثالیں دیجیے۔
7.28 سمندر کچھ ہیلوجنوں کا اہم مآخذ ہے۔ تبصرہ کیجیے۔
کلورین کی کھوج1774میں شیلے(Scheele)کے ذریعہMnO2پرHcIکے عمل کے ذریعہ کی گئی۔1810میں ڈیوی نے اس کی ابتدائی نوعیت کا تعین کیا اور اس کے رنگ کی بنیاد پر اس کا نام کلورین تجویز کیا(یونانی میں Chlorosکا مطلب ہے سبز مائل زرد)
تیاری
اسے مندرجہ ذیل کسی بھی طریقے سے بنایا جاسکتا ہے۔
(i) مینگیز ڈائی آکسائڈ کو مرتکز ہائڈروکلورک ایسڈ کے ساتھ گرم کرکے
تاہم، HcIکی جگہ کھانے کا نمک اور مرتکزH2SO4کے آمیزہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(ii) پوٹا شیم پر مینگنیٹ پر HcIکے عمل سے
کلورین کی مینو فیکچرنگ(صنعتی طور پر تیاری)
(i) ڈیکن پراسس (Deacon's Process):723KپرCuCl2(وسیط) کی موجودگی میں کرہ باد کی آکسیجن کے ذریعہ ہائڈروجن کلورائڈ کی تکسید ہے۔
(ii) الیکٹرولائٹک پراسس(Elecrolytic Process): کلورین کو برائن (مرتکزNaCIمحلول) کر برق پاشیدگی(Electrolysis)کے ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ کلورین اینوڈ پر خارج ہوتی ہے۔ اسے کئی کیمیائی صنعتوں میں ضمنی ماحصل کے طور پر بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
خصوصیات
یہ سبز مائل زرد گیس ہے جس میں سے تیکھی بو آتی ہے۔ یہ ہوا سے2-5گنا بھاری ہے۔ اسے بآسانی سبز مائل زرد رقیق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جو کہ 239Kپر ابلتا ہے۔ یہ پانی میں حل پذیر ہے۔
کلورین متعدد دھاتوں اور غیر دھاتوں سے تعامل کرکے کلورائڈ بناتی ہے۔
یہ ہائڈروجن کے تئیں بہت زیادہ افینٹی رکھتی ہے۔ یہ ہائڈروجن پر مشتمل مرکبات سے تعامل کرکے HcIبناتی ہے۔
ٹھنڈے اور ڈائی لیوٹ القلیوں کے ساتھ کلورین، کلورائڈ اور ہائیو کلورائٹ کا آمیزہ بناتی ہے لیکن گرم اور مرتکز القلیوں کے ساتھ یہ کلورائڈ اور کلوریٹ بناتی ہے۔
(ٹھنڈا اور ڈائی لیوٹ)
(گرم اور مرتکز)
خشک بجھے چونے کے ساتھ یہ بلیچنگ پاؤڈر بناتی ہے۔
کلورین، ہائڈروکاربنوں کے ساتھ تعامل کرکے بدل ماحصلات(Substituition Product)بناتی ہے جو کہ ہائڈروکاربنوں سے سیر ہوتے ہیں اور غیر سیر شدہ ہائڈروکاربنوں کے ساتھ جمع ماحصلات(Addition Products)بنتے ہیں۔
کلورین پانی کو یوں ہی رکھا رہنے دیں تو HClاور HOCLبننے کی وجہ سے اس کا زرد رنگ غائب ہوجاتا ہے۔
اسی طرح بننے والا ہائپو کلورس ایسڈNascent (HOCL)آکسیجن فراہم کرتا ہے جو کہ کلورین کی بلیچنگ اور تکسیدی خصوصیات کے لیے ذمہ دار ہے۔
(i) کلورین فیرس کی فیرک میں، سلفائٹ کی سلفیٹ میں، سلفرڈائی آکسائڈ کی سلفیورک ایسڈ میں اور آیوڈین کی آیوڈک ایسڈ میں تکسید کرتی ہے۔
(ii) کلورین ایک طاقتور بلیچنگ ایجنٹ ہے، بلیچنگ ایکشن کا سبب تکسید ہے۔
یہ نمی کی موجودگی میں نباتاتی یا نامیاتی مادہ کو بلیچ کردیتی ہے۔ کلورین کا بلیچنگ اثر مستقل ہے۔
استعمال:اس کا استعمال(i)کاغذ کی لگدی(کاغذ اور رے رین بنانے کے لیے درکار) کی بلیچنگ میں، کپاس اور ٹیکسٹائل کی بلیچنگ میں (ii)گولڈ اور پلیٹنم کے استخراج میں (iii)رنگ، دوائیں اور CcI4،CHCI3،DDT، ریفریجرنیٹ وغیرہ جیسے نامیاتی مرکبات بنانے میں (iv)پینے کے پانی کو اسٹیریلائز کرنے (v)فاسفین(CoCI2)، آنسو گیس(CCI3NO2)،مسٹرڈ گیس (ClCH2CH2SCH2CH2Cl)جیسی زہریلی گیسوں کو بنانے میں کیا جاتا ہے۔
مثال7.17
کلورین اور گرم مرتکزNaOHکے درمیان ہونے والے تعامل کی متوازن کیمیائی مساوات لکھیے۔ کیا یہ تعامل ایک غیر متناسبیت تعامل ہے؟ جواز پیش کیجیے۔
جی ہاں، کلورین کی تکسیدی حالت صفر سے1-اور5+تک تبدیل ہوتی ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.29 CI2کے بلیچنگ ایکشن کی وجہ بتائیے
7.30 ایسی دو زہریلی گیسوں کے نام بتائیے جو کلورین سے تیار کی جاسکتی ہیں۔
7.20 ہائڈروجن کلورائڈ
(Hydrogen Chloride)
اس ایسڈ کو گلوبر(Glauber)نے 1648میں کھانے کے نمک کو مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ساتھ گرم کرکے بنایا تھا۔1810میں ڈیوی نے بتایاکہ ہائڈروجن اور کلورین کا مرکب ہے۔
تیاری(Preparation)
تجربہ گارہ میں اسے سوڈیم کلورائڈ کو مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ساتھ گرم کرکے بنایا جاتا ہے۔
HCI
گیس کو مرتکز سلفیورک ایسڈ سے گزار کر خشک کیا جاسکتا ہے۔
خصوصیات
یہ ایک بے رنگ اور تیکھی بو والی گیس ہے۔ اسے بآسانی بے رنگ رقیق(b.p.189K)میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور یہ سفید کرسٹلی ٹھوس(F.P.159K)میں منجمد کی جاسکتی ہے۔
یہ ایک آبی محلول ہے اور اسے ہائڈروکلورک ایسڈ کہتے ہیں۔ تحلیلی مستقلہ(Ka)کی بہت زیادہ قدر اس بات کو ظاہر
کرتی ہے کہ یہ پانی میں بہت مضبوط ایسڈ ہے۔یہNH3سے تعامل کرکے NH4CIکا سفید دھواں پیدا کرتاہے۔
جب تین حصے مرتکز HCIاور ایک حصہ مرتکزHNO3کی آمیزش کی جاتی ہے تو ایکوارجیا(Aqua Regia)حاصل ہوتا ہے جس کا استعمال سونا، پلیٹنم جیسی نوبل دھاتوں کو حل کرنے میں کیا جاتا ہے۔
ہائڈروکلورک ایسڈ، کمزور ایسڈوں کے نمکوں جیسے کہ کاربونیٹ، ہائڈروجن کاربونیٹ سلفائٹ وغیرہ کی تحلیل کردیتا ہے۔
استعمال: اس کا استعمال (i) کلورین، NH4Cl اور گلوکوز (مکاکے، اسٹارچ سے) بنانے میں کیا جاتا ہے (ii) ہڈیوں سے گلو (Glue) کے استخراج اور بون بلیک کی تخلیص میں کیا جاتا ہے۔ (iii)دواؤں میں اور تجربہ گاہ میں ریجنٹ کے طور پر کیا جاتا ہے۔
مثال 7.18
جب HCl باریک آئرن پائوڈر سے تعامل کرتا ہے تو یہ فیرس کلورائڈ بناتا ہے، فیرک کلورائڈ کیوں نہیں بناتا ہے؟
حل
لوہے کے ساتھ اس کے تعامل میں H2 پیدا ہوتی ہے۔
ہائڈروجن کا اخراج فیرک کلورائڈ کے بننے کو روک دیتا ہے۔
7.21 ہیلوجن کے آکسو ایسڈ
(Oxoacids of Halogens)
بہت زیادہ برقی منفیت اور چھوٹا سائز ہونے کی وجہ سے فلورین صرف ایک آکسو ایسڈ HOF بناتی ہے جسے فلورک (I) ایسڈ یا ہائپو فلورس ایسڈ کہتے ہیں۔ دیگر ہیلوجن متعدد آکسو ایسڈ بناتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو خالص حالت میں علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صرف آبی محلولوں اور اپنے نمکوں کی شکل میں ہی مستحکم ہوتے ہیں۔ ہیلوجنوں کے آکسوایسڈ جدول 7.10 میں دیے گئے ہیں اور ان کی ساختیں شکل 7.8 میں دی گئی ہیں۔
جدول 7.10 : ہیلوجنوں کے آکسوایسڈ
شکل 7.8 : کلورین کے آکسواایسڈوں کی ساختیں
7.22 انٹرہیلوجن مرکبات
(Interhalogen Compounds)
جب دو مختلف ہیلوجن ایک دوسرے سے تعامل کرتے ہیں تو انٹر ہیلوجن مرکبات بنتے ہیں۔ انھیں ایک عمومی ترکیب
تفویض کی جاسکتی ہے جہاں X بڑے سائز کا ہیلوجن ہے اور X چھوٹے سائز کا ہیلوجن ہے نیز X¢ کے مقابلے X زیادہ برقی مثبت ہے۔ جیسے جیسے X اور X¢ کے نصف قطر کے درمیان نسبت میں اضافہ ہوتا ہے فی سالمہ ایٹموں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح آیوڈین (VII) فلورائڈ میں ایٹموں کی تعداد سب سے زیادہ ہونی چاہیے کیونکہ I اور F کے نصف قطر کے درمیان نسبت سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ اسی لیے اس کا فارمولہ IF7 (ایٹموں کی سب سے زیادہ تعداد) ہے۔
تیاری(Preparation)
انٹر ہیلوجن مرکبات کو براہ راست اتحاد سے یا ہیلوجن اور کمتر انٹر ہیلوجن مرکبات کے درمیان تعامل سے بنایا جاتا
ہے۔ بننے والے ماحصلات کچھ مخصوص حالات پر منحصر ہوتے ہیں۔ مثلاً
خصوصیات
انٹر ہیلوجن مرکبات کی کچھ خصوصیات جدول 7.11 میں دی گئی ہیں۔
یہ سبھی شریک گرفت سالمات ہیں اور ڈایا مقناطیسی نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ طیران پذیر رقیق یا ٹھوس ہیں سوائے CIF کے جوکہ 298K پر گیس ہے۔ ان کی طبیعی خصوصیات اجزائے ترکیبی ہیلوجن کی خصوصیات کے درمیان میں ہیں
سوا ئے اس کے ان کے نقطہ جوش اور نقطہ گداخت کے جوکہ توقع سے تھوڑا زیادہ ہیں۔ان کے کیمیائی تعاملات کا موازنہ انفرادی ہیلوجن کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ عمومی طور پر انٹر ہیلوجن مرکبات ہیلوجن (فلورین کو چھوڑ کر) کے مقابلے زیادہ تعامل پذیر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹر ہیلوجن میں X–X' بانڈ ہیلوجن (F–Fبانڈ کو چھوڑ کر) میں X–X بانڈ کے مقابلے کمزور ہے۔ یہ ہائڈرولائز ہوکر ہیلائڈ آین بناتے ہیں جوکہ نسبتاً چھوٹے ہیلوجن سے حاصل ہوتے ہیں اور ہائپو فیلائٹ (جب XX') ہیلائٹ (جب XX'3) اور پرہیلیٹ (جب XX'7)این آین بناتے ہیں جوکہ نسبتاً بڑے ہیلوجن سے حاصل ہوتے ہیں۔
ان کی سالماتی ساخت بہت دلچسپ ہے جس کی وضاحت VSEPR نظریہ کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ (مثال 7.19) XX3 مرکبات مڑی ہوئی T شکل میں ہوتے ہیں۔ XX5 مرکبات اسکوائر پائرامڈل ہیں اور IF7 کی ساخت پینٹا گونل بائی پیرامڈل ہے (جدول 7.11)
مثال 7.19
VSEPR نظریہ کی بنیاد پر BrF3 کی سالماتی شکل سے بحث کیجیے۔
حل
مرکزی ایٹم Br کے ویلنس شیل میں 7الیکٹران ہیں۔ ان میں سے تین الیکٹران تین فلورین ایٹموں کے ساتھ الیکٹران پیئر بانڈ بناتے ہیں اور 4 الیکٹران باقی رہ جاتے ہیں۔ اس طرح تین بانڈ پیئر اور دولون پیئر ہیں۔ VSEPR نظریہ کے مطابق یہ ٹرائی گونل بائی پیرامڈل کے کونوں پر پوزیشن لیں گے۔ دو لون پیئر خط استوائی پوزیشن پر ہوں گے تاکہ لون پیئر لون پیئر اور بانڈ پیئر۔ لون پیئر دفعہ کم سے کم ہوسکے جو کہ بانڈ پیٹر بانڈ پیٹر دفع کے مقابلہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محوری فلورین ایٹم لون پیئر۔ لون پیئر دفع کو کم کر نے کے لیے خط استوائی فلورین کی جانب جھک جاتا ہے۔ شکل معمولی سے جھکے ہوئے T کی طرح ہوگی۔
استعمال: ان مرکبات کا استعمال غیر آبی محلولوں کے طور پر کیا جاسکتا ہے۔ انٹرہیلوجن مرکبات بہت مفید لفورینیٹنگ ایجنٹ ہیں۔ CIF3 اور BrF3 کااستعمال 235U کی افزونی میں UF6 بنانے میں کیا جاتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.31 I2 کے مقابلے ICI زیادہ تعامل پذیر کیوں ہے؟
7.23گروپ 18 کے عناصر
(Group 18 Elements)
گروپ 18 چھ عناصر پر مشتمل ہے۔ ہیلیم، نی آن، آرگن، کرپٹان، زینان ، ریڈان اور آگینیسین (Oganesseon)۔ یہ سبھی گیسیں ہیں اور کیمیائی اعتبار سے تعامل پذیر نہیں ہیں۔ یہ بہت کم مرکبات بناتے ہیں۔ اسی وجہ سے انھیں نوبل گیس کہا جاتا ہے۔
7.23.1 وقوع
(Occurrence)
ریڈان اورآگینیسین کے علاوہ باقی سبھی نوبل گیس کرہ باد میں پائی جاتی ہیں۔ خشک ہوا میں یہ حجم کے اعتبار سے ~1% ہوتی ہیں جس میں آرگن سب سے زیادہ ہے۔ ہیلیم اور بعض اوقات نی آن پچ بلینڈ، مونازائٹ، کلیوائٹ جیسی تابکار نژاد معدنیات میں پائی جاتی ہیں۔ ہیلیم کا اہم تجارتی مآخذ قدرتی گیس ہے۔ زینان اور ریڈان گروپ کے ایسے عناصر ہیں جو بہت ہی کم مقداجر میں پائے جاتے ہیں۔ ریڈان کو 226Ra کے روبہ تنزل ماحصل کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔
آگنیسین کی ایٹمی کمیت294اورالیکٹرانک تشکل
کی بہت کم مقدار کوہی تیار کیا گیا ہے۔ اس کی نصف زندگی0.7ملی سیکنڈہے لہٰذا اس کی کیمسٹری کے لیے صرف پیشین گوئیاں ہی کی گئی ہیں۔
مثال 7.20
گروپ18 کے عناصر نوبل گیسیس کیوںکہلاتی ہیں؟
حل
گروپ18 کے میں موجود عناصر کے ویلنس شیل اربٹل مکمل بھرے ہوئے ہیں اور اسی لیے مخصوص حالت میں ہی چند عناصرسےتعامل کرتے ہیں۔ لہٰذا اب انہیں نوبل گیس کہا جاتا ہے۔
گروپ18 کےعناصر آگنیسین کے علاوہ کی اہم ایٹمی اورطبیعی خصوصیات اور ان کے الیکٹرانی تشکل جدول 7.1میں دیے گئئے ہیں۔ گروپ کی ایٹمی، طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کے رجحانات پر یہاں بحث کی گئی ہے۔
جدول 7.12 : گروپ 18 کے عناصر کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات
7.23.2 الیکٹرانی تشکل
سبھی نوبل گیسوںکا عمومی الیکٹرانی تشکل ns2np6 ہے سوائے، ہیلیم کے جس کا الیکٹرانی تشکل 1S2 ہے (جدول 7.12)۔ نوبل گیسوں کی متعدد خصوصیات بشمول ان کی جامد نوعیت کا سبب ان کی بند شیل ساخت کو سمجھاجاتا ہے۔
7.23.3 آیونائزیشن اینتھالپی
مستحکم الیکٹرانی تشکل کی وجہ سے یہ گیسیں بہت زیادہ آیونائزیشن اینتھالپی ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم گروپ میں نیچے کی طرف ایٹمی سائز میں اضافہ ہونے پر یہ کم ہوتی جاتی ہے۔
7.23.4 ایٹمی نصف قطر
گروپ میں نیچے کی طرف ایٹمی عدد میں اضافہ کے ساتھ ایٹی نصف قطر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
7.23.5 الیکٹران گین اینتھالپی
کیونکہ نوبل گیسوں کا الیکٹرانی تشکل مستحکم ہے اس لیے ان میں الیکٹران کو حاصل کرنے کارجحان نہیں ہوتا لہٰذا ان کی الیکٹرانی گین اینتھالپی کی قدریں بہت زیادہ مثبت ہوتی ہیں۔
طبیعی خصوصیات(Physical Properties)
سبھی نوبل گیسیں ایک ایٹم ہیں۔ یہ بے رنگ، بغیر ذائقہ اور بغیر بو والی گیسیں ہیں۔ یہ پانی میں بہت کم حل پذیر ہیں۔ ان کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ ان عناصر میں بین ایٹمی باہمی عمل صرف ایک ہی قسم کا ہے اور وہ ہے کمزور انتشاری قوتیں۔ ہیلیم کا نقطہ جوش ابھی تک معلوم تراشا میں سب سے کم (4.2K) ہے۔ اس میں ایک غیر معمولی خصوصیت بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ ہیلیم تجربہ گاہ میں عام طور سے استعمال ہونے والے مادوں جیسے ربر، کانچ یا پلاسٹک سے ہو کر نفوذ کرجاتی ہے۔
مثال 7.21
نوبل گیسیوں کے نقطہ جوش بہت کم کیوں ہیں۔
حل
نوبل گیس ایک ایٹمی ہونے کی وجہ سے ان میں بین ایٹموں قوتیں نہیں ہوتیں سوائے کمزور انتشاری قوتوں کے لہٰذا بہت کم درجہ حرارت پر ہی ان کی اماعت ہوجاتی ہے۔ اس طرح ان کے نقطہ جوش کم ہیں۔
7.32 غوطہ خوری کے آلات میں ہیلیم کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
7.33 مندرجہ ذیل مساوات کو متوازن کیجئے۔XeF6 + H2O → XeO2F2 + HF
7.34 ریڈان کی کیمسٹری کا مطالعہ مشکل کیوں ہے؟
کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)
عام طور سے نوبل گیسیں بہت کم تعامل پذیریں۔ کیمیائی تعاملیت کے تئیں ان کا جمود (Inertness) مندرجہ ذیل وجوہات پر مبنی ہے۔
(i) ہیلیم کے علاوہ باقی تمام نوبل گیسوں کے ویلنس شیل میں مکمل بھرا ہوا ns2np6 الیکٹرانی تشکل ہے۔
(ii) ان کی آیونائٹزیشن اینتھالپی اور مثبت الیکٹران گین اینتھالپی بہت زیادہ ہے۔
جب سے نوبل گیسوں کی کھوج ہوئی ہے ان کی تعاملیت کی تفتیش وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہے۔ لیکن مرکبات بنانے کے لیے ان کا تعامل کرانے کی تمام کوششیں چند برسوں تک ناکام رہیں۔ مارچ 1962 میں نیل برٹیلٹ (Neil Bart lelt) جو اس وقت یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں تھے نوبل گیس کے تعامل کا مشاہدہ کیا۔ سب سے پہلے انھوں نے ایک سرخ رنگ کا مرکب تیار کیا جس کا فارمولا O2+PtF6– تھا۔ اس کے بعد اس نے مانا کہ سالماتی آکسیجن کی فرسٹ آیونائزیشن اینتھالپی (1175 kJmol–1) زینان کی فرسٹ آیونائزیشن اینتھالپی کے لگ بھگ مماثل تھی (1170 kJmol–1) اس نے Xe کے ساتھ اس قسم کے مرکبات بنانے کی کوشش کی اور ایک اور سرخ رنگ کا مرکب Xe+PtF6– بنانے میں کامیاب ہوگیا جسے زینان اور PtF6 کے درمیان تعامل سے بنایا گیاہے۔ اس کھوج کے بعد فلورین اور آکسیجن جیسے بہت زیادہ برقی منفی عناصر کے ساتھ زینان کے متعدد مرکبات کی تالیف کی گئی۔
کرپٹان کے مرکبات بہت تھوڑے ہی ہیں۔ صرف ڈائی فلورائڈ (KrF2) کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ ریڈان کے مرکبان علیحدہ نہیں کیے جاسکے لیکن صرف ریڈیو ٹریسر تکنیک کے ذریعہ ان کی شناس کی گئی (مثلاً RnF2 )Ne، Ar یا He کے حقیقی مرکبات ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔
(a) زینان۔ فلورین مرکبات (Xenon-fluorine compounds)
مناسب تجرباتی حالات کے تحت عناصر کے براہ راست تعامل سے زینان تین بائنری فلورائڈ Ze F2، Ze F4 اور Ze F6 بناتا ہے۔



ہے رنگ کرسٹلی ٹھوس ہیں اور 298 K پر ان کی بہت جلد تصعید ہوجاتی ہے۔ یہ طاقتور فلورینٹینگ ایجنٹ ہیں۔ یہ بہت تھوڑے سے پانی میں بھی ہائڈرولائز ہوجاتے ہیں مثال کے طور پر XeF2ہائڈرو لائز ہوکر Xe ، HF اور O2 بناتا ہے۔
زینان کے تینوں فلورائڈوں کی ساخت کوVSEPR تھیوری کی بنیاد پر اخذ کیا جاسکتا ہے اور انہیں شکل7.9 میں دکھایاگیا ہے۔
XeF2، XeF4 اور XeF6 ہے رنگ کرسٹلی ٹھوس ہیں اور 298 K پر ان کی بہت جلد تصعید ہوجاتی ہے۔ یہ طاقتور فلورینٹینگ ایجنٹ ہیں۔ یہ بہت تھوڑے سے پانی میں بھی ہائڈرولائز ہوجاتے ہیں مثال کے طور پر XeF2ہائڈرو لائز ہوکر Xe ، HF اور O2 بناتا ہے۔
زینان کے تینوں فلورائڈوں کی ساخت کو VSEPR تھیوری کی بنیاد پر اخذ کیا جاسکتا ہے اورانھیں شکل 7.9 میں دکھایا گیا ہے۔ XeF2 اور XeF4 کی ساخت بالترتیب خطی اور اسکواء پلینر ہے۔ XeF6 میں سات الیکٹران جوڑے (6 بندشی جوڑے اور ایک لون پیٹر)ہوتے ہیں اور اس طرح اس کی ساخت مسخ شدہ آکٹا ہیڈرل ہوگی جیسا کہ گیسی حالت میں تجرباتی طور پر دیکھا گیا ہے۔
زینان فلورائڈ، فلورائڈ آین حصول کار سے تعامل کرکے کیٹ آینی اسپیشیز بناتے ہیں اور فلورائڈ آین معطی سے تعامل کرکے فلورو این آین بناتے ہیں۔


(b) زینان۔ آکسیجن مرکبات

استعمال: ہیلیم ایک غیر احتراق پذیر اور ہلکی ہے۔ اس لیے اس کا استعمال موسمیاتی مشاہدات کے لیے غبارو ںمیں بھرنے کے لیے کیا جاتا ہے اس کا استعمال
Gas-Cooled نیو کلیائی ری ایکٹروں میں بھی کیا جاتا ہے۔ رفیق ایتھیم (b.p.4.2K) کا استعمال کم درجہ حرارت پر انجام دیے جانے والے تجربات میں کرایو جینک ایجنٹ کے طور پور کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال طاقتور سپرکنڈکٹنگ مقناطیسی تار کرنے اور انہیں برقرار رکھنے میں کیا جاتا ہے یہ مقناطیس طبی تشخیص میں استعمال ہونے والے جدیدNMR اسپیکٹر ومیٹر اور(Magnetic MRI Resonance Imaging نظاموں کا لازمی جزو ہی۔ اس کا استعمال غوطہ خوری کے جدید آلات میں آکسیجن کو ائی لیوٹ کرنے میں کیا جاتاہے کیونکہ یہ خون می بہت کم حل پذیر ہے۔
نی آن کا استعمال تشہیر کے لیے فلوریسنٹ بلبوں اور ڈسچارج ٹیوب میں کیا جاتا ہے۔ نی آن بلبوں کا استعمال بوٹینکل گارڈن اور سبز گھرو میں کیا جاتا ہے۔
آرگن کا استعال اونچے درجہ حرارت پر انجام دیے جانے والے فائز کاری عملوں میں جامد کردہ باد فراہم کرنے میں کیا جاتا ہے۔(دھات یا بھرتوں کی آرک ویلڈنگ) اسےبجلی کے بلبوں میں بھی بھراجاتا ہے۔ تجربہ گاہ میں اس کا استعمال ایسی اشیا کے استعمال میں کیا جاتا ہے جو کہ ہوا کے تئیں خاص ہوتی ہیں۔
زینان اور کرپٹان کا کوئی اہم استعمال نہیں ہے۔ ان کا استعمال خاص مقصد کے لیے بنائے گئے لائٹ بلبوں میں کیا جاتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
7.32 غوطہ خوری کے آلات میں ہیلیم کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
7.33 مندرجہ ذیل مساوات کو متوازن کیجئے۔XeF6 + H2O ® XeO2F2 + HF
7.34 ریڈان کی کیمسٹری کا مطالعہ مشکل کیوں ہے؟
خلاصہ
دوری جدول کے گروپ13 تاp 18بلاک عناصر پر مشتمل ہیں جن کا ویلنس شیل الیکٹرانی تشکلns2np1–6ہے۔ گروپ13اور14کا مطالعہ گیارہوین جماعت میں کیا گیا تھا۔ اس اکائی میں pبلاک کے باقی گروپوں میں بحث کی گئی۔
گروپ15پانچ عناصر پر مشتمل ہے جن کے نام ہیں N،P،As،Sbاور Biجن کا عمومی الیکٹرانی تشکلns2np3ہے۔چھوٹا سائز، خود اپنے اور آکسیجن یا کاربن جیسے بہت زیادہ برقی منفی ایٹموں کے ساتھpp–ppکثیر بانڈ کی تشکیل اور اپنے ویلنس شیل کی توسیع کے لیے dاربٹل کی عدم دستیابی کی وجہ سے نائٹروجن اس گروپ کے باقی عناصر سے مختلف ہے۔ گروپ15کے عناصر اپنی خصوصیات میں Gradationظاہر کرتے ہیں۔ یہ ہائڈروجن، آکسیجن اور ہیلوجن سے تعامل کرتے ہیں۔ یہ +3اور+5دوا ہم تکسیدی حالتوں میں ظاہر کرتے ہیں لیکن +3تکسیدی حالت، جامد جفتہ اثر کی وجہ سے بھاری عناصر کے موافق ہے۔
ڈائی نائٹروجن کو تجربہ گاہ میں اور صنعتی پیمانے پر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ مختلف تکسیدی حالتوں میں N2O، NO، N2O3، NO2، N2O4 اور N2O5 جیسے آکسائڈ بناتی ہے۔ یہ آکسائڈ کمک ساختوں کے حامل ہیں اور ان میں کثیر بانڈ پائے جاتے ہیں۔ امونیا کو بڑے پیمانے پر ہیرا پراسس کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔HNO3ایک اہم صنعتی کیمیکل ہے۔ یہ مضبوط مونو بیسک ایسڈ اور طاقتور تکسیدی ایجنٹ ہے۔ دھاتیں اور غیر دھاتیں مختلف حالات میں HNO3سے تعامل کرکے NOیا NO2بناتی ہیں۔
فاسفورس کی عنصری شکلP4ہے۔ یہ کئی بہروپی شکلوں (Allotropic Forms)میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہائڈرائڈ بناتا ہے جو کہ ایک زہریلی گیس ہے۔ یہ PX3اورPX5دو قسم کے ہیلائڈ PH3بناتا ہے۔PCI3کو سفید فاسفورس اور کلورین کے تعامل سے بنایا جاتا ہے جب کہ PCI5کو SO2CI2کے ساتھ فاسفورس کے تعامل سے بنایا جاتا ہے۔ فاسفورس متعدد آکسوایسڈ بناتا ہے۔P-Oگروپوں کی تعداد کی بنیاد پر ان کی اساسیت مختلف ہوتی ہے۔ وہ آکسو ایسڈ جن میں P-Hبانڈ ہوتے ہیں اچھے تحویلی ایجنٹ ہیں۔
گروپ16کے عناصر کا عمومی الیکٹرانی تشکلns2np4ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ تکسیدی حالت+6ظاہر کرتے ہیں۔ گروپ16کے عناصر کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات میں Gradationکا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ تجربہ گاہ میں ڈائی آکسیجن کوMnO2کی موجودگی میں KCIO3کو گرم کرکے بنایا جاتا ہے۔ یہ دھاتوں کے ساتھ کئی آکسائڈ بناتی ہے۔ آکسیجن کی بہروپی شکل O3ہے جو کہ بہت زیادہ تکسیدی ایجنٹ ہے۔ سلفر متعدد بہروپی شکلیں تشکل دیتا ہے۔ ان میں سے سلفر کی xاورBشکلیں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ سلفر، آکسیجن سے تعامل کرکے SO2اورSO3جیسے آکسائڈ بناتا ہے۔ SO2کو سلفر اور آسکیجن کے براہ راست اتحاد سے بنایا جاتا ہے۔SO2کا استعمالH2SO4بنانے میں کیا جاتا ہے۔سلفر متعدد آکسوایسڈ بناتا ہے جن میں سے H2SO4سب سے اہم ہے۔ اسے کانٹیکٹ پراسس کے ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ڈی ہائڈریٹنگ اور تکسیدی ایجنٹ ہے۔ اس کااستعمال کئی مرکبات بنانے میں کیا جاتا ہے۔
دوری جدول کا گروپF17،CI،CI،B،IاورAtجیسے عناصر پر مشتمل ہے۔ یہ عناصر انتہائی تعامل پذیر ہیں اور اسی لیے یہ صرف متحد حالت میں ہی پائے جاتے ہیں۔ ان عناصر کی مشترک تکسیدی حالت-1ہے۔ تاہم اونچی تکسیدی حالت+7بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ طبیعی اور کیمیائی خصوصیات میں باقاعدہGradationظاہر کرتے ہیں۔ یہ آکسائڈ، ہائڈروجن ہیلائڈ انٹرہیلوجن مرکبات اور آکسو ایسڈ بناتے ہیں۔ کلورین کوHCIاورKMnO4کے تعامل سے بآسانی بنایا جاسکتا ہے۔NaCIکو مرتکزH2SO4کے ساتھ گرم کرکے HCIبنایا جاتا ہے۔ ہیلوجن آپس میں تعامل کرکے انٹر، ہیلوجن مرکبات بناتے ہیں جو کہXX1nقسم کے ہوتے ہیں (n=1,3,5,7)جہاں X1،Xکے مقابلے ہلکا ہوتا ہے۔ ہیلوجن کے متعدد آکسو ایسڈ معلوم ہیں۔ ان آکسوایسڈوں کی ساخت میں ہیلوجن مرکزی ایٹم کی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ ہر ایک معاملے میں ایک OHبانڈ(X-OH)سے منسلک رہتا ہے۔ کچھ معاملوں میں X=Oبانڈ بھی پائے جاتے ہیں۔
دوری جدول کا گروپ18نوبل گیسوں پر مشتمل ہے۔ ان کا ویلنس شیل الیکٹرانی تشکلns2np6(ہیلیم کو چھوڑ کر جن کا تشکل152ہے)۔Rnکے علاوہ یہ سبھی گیسیں گرہ باد میں پائی جاتی ہیں Rnکو226Raکے روبہ تنزل ماحصل کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔
بیرونی شیل کا آکٹیٹ مکمل ہونے کی وجہ سے ان میں مرکبات بنانے کا رجحان بہت کم ہوتا ہے۔ مخصوص حالات کے تحت زینان کے فلورین اور آکسیجن کے ساتھ عمدہ خصوصیات کے حامل مرکبات بنائے جاسکتے ہیں۔ ان گیسوں کے متعدد استعمال ہیں۔ آرگن کا استعمال جامد کرہ باد فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ہیلیم کا استعمال موسمیاتی مشاہدات کے لیے کام میں آنے والے غباروں میں بھرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یانی آن کا استعمال ڈسچارج ٹیوب اور فلوریسنٹ بلبوں میں کیا جاتا ہے۔
مشقیں
7.1 گروپ 15کے عناصر کی عمومی خصوصیت پر ان کے الیکٹرانی تشکل، تکسیدی حالت ایٹمی سائز، آیونائزیشن اینتھالپی اور برقی منفیت کے حوالے سے بحث کیجیے؟
7.2 نائٹروجن کی تعاملیت فاسفورس سے مختلف کیوں ہے؟
7.3 گروپ15کے عناصر کی کیمیائی تعاملیت کے رجحانات پر بحث کیجیے۔
7.4 NH3ہائڈروجن بانڈ بناتی ہے جب کہ PH3نہیں بناتی۔ کیوں؟
7.5 تجربہ گاہ میں نائٹروجن کو کس طرح بنایا جاتا ہے؟ ملوث کیمیائی تعامل کی مساوات لکھیے۔
7.6 امونیا کو صنعتی پیمانے پر کس طرح بنایاجاتا ہے؟
7.7 وضاحت کیجیے کہ کاپر دھاتHNO3سے تعامل کرکے کس طرح مختلف ماحصلات بناتی ہے؟
7.8 NO2اورN2O5کی گمگ ساختیں بنائیے۔
7.9 HNHکی زوایہ قدرHPH،HAsHاورHSbHزاویو ں کے مقابلے زیادہ ہے۔ کیوں؟
(اشارہ:NH3میں sp3مخلوطیت نیز ہائڈروجن اور گروپ کے دیگر عناصر کے درمیان صرفS-Pبندش کی بنیاد پر واضح کیا جاسکتا ہے۔)
7.10 R3P=0کا وجود ہے جب کہ R3N=0(Rالکائل گروپ ہے)کا نہیں۔ کیوں؟
7.11 وضاحت کیجیے کہ NH3اساسی ہے جب کہ BH3بہت معمولی اساسی ہے۔
7.12 نائٹروجن دو ایٹمی سالمہ کی شکل میں پایا جاتا ہے اور فاسفورسp4کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ کیوں؟
7.13 سفید فاسفورس اور سرخ فاسفورس کی خصوصیات کے درمیان اہم فرق لکھیے۔
7.14 نائٹروجن، فاسفورس کے مقابلے کم کیٹنیشن خصوصیات کو ظاہر کرتی ہے۔
7.15 H3PO3کا غیر متناسبیت تعامل لکھیے۔
7.16 کیاPCI3تکسیدی ایجنٹ کے ساتھ ساتھ تحویلی ایجنٹ کے طور پربھی کام کرسکتا ہے؟
7.17 الیکٹرانی تشکل، تکسیدی حالت اور ہائڈرائڈوں کی تشکیل کے لحاظ سےO،S،Se،TeاورPoکو دوری جدول کے ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔ اس بیان کی حمایت میں دلائل دیجیے۔
7.18 ڈائی آکسیجن گیس کیوں ہے جب کہ سلفر ٹھوس ہے؟
7.19 O → O–اورO → O2–کی الیکٹران گین اینتھالپی کی قدریں بالترتیب –141اور702 kJ mol–1ہیں۔O-پر مشتمل نہ ہوکرO2-پر مشتمل بہت زیادہ تعداد میں آکسائڈوں کی تشکیل کی آپ کیا وجہ بتا سکتے ہیں؟
7.20 کون سے ایروسول اوزون کو پتلا کرتے ہیں؟
7.21 کانٹیکٹ پراسس کے ذریعہH2SO4بنانے کا طریقہ بیان کیجیے۔
7.22 SO2ہوا میں کس طرح آلودگی پھیلاتی ہے؟
7.23 ہیلوجن مضبوط تکسیدی ایجنٹ کیوں ہیں؟
7.24 واضح کیجیے کہ فلومین صرف آکسوایسڈ HoFہی کیو ں بناتی ہے؟
7.25 واضح کیجیے کہ تقریباً یکساں برقی منفیت کی حامل آکسیجن اور کلورین میں سے آکسیجن ہائڈروجن بانڈ بناتی ہے جب کہ کلورین نہیں۔ کیوں؟
7.26 CIO2کے دو استعمال لکھیے۔
7.27 ہیلوجن رنگین کیوں ہیں؟
7.28 F2اورCI2کے پانی کے ساتھ تعامل لکھیے۔
7.29 آپCI2کوHCIکوCI2کس طرح تیار کرسکتے ہیں؟ صرف تعاملات لکھیے۔
7.30 XeاورptF6کے درمیان تعامل کرانے کے لیے N.Bartletکو کس چیز نے تحریک دی۔
7.31 مندرجہ ذیل میں فاسفورس کی تکسیدی حالتیں کیا ہیں؟
7.32 مندرجہ ذیل کی متوازن مساواتیں لکھیے۔
(i) NaCIکوMnO2کی موجودگی میں سلفیورک ایسڈ کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے۔
(ii) پانی میں NaIکے محلول میں کلورین گیس کو گزارا جاتا ہے۔
7.33 زنیان کے کلورائڈXeF2،XeF4اورXeF6کس طرح حاصل کیے جاتے ہیں؟
7.34 CIOکس تعدیلی سالمہ کے آئسو الیکٹرانک ہے؟ کیا یہ سالمہ لیوئس اساس ہے؟
7.35 XeO3اورXeOF4کس طرح بنائے جاتے ہیں؟
7.36 مندرجہ ذیل کو ہر ایک سیٹ کی خصوصیت کے اعتبار سے ترتیب دیجیے۔
(i) -F2, Cl2, Br2, I2بڑھتی ہوئی بانڈ تحلیل اینتھالپی
(ii) HF, HCl, HBr, HI، بڑھتی ہوئی تیزابی طاقت
(ii) NH3, PH3, AsH3, SbH3, BiH3بڑھتی ہوئی اساسی طاقت
7.37 مندرجہ ذیل میں کس کا وجود نہیں ہے؟
(i) XeOF4 (ii) NeF2 (iii) XeF2 (iv) XeF6
7.38 اس نوبل گیس اسپیشز کا فارمولہ اور ساخت بیان کیجیے جو
(i) ICl4– (ii) IBr2– (iii) BrO3– کے ہم ساختی ہے۔
7.39 نوبل گیسوں کے ایٹمی سائز نسبتاً زیادہ کیوں ہوتے ہیں؟
7.40 نی آن اور آرگن گیسوں کے استعمال کی فہرست بنائیے۔
متن پر مبنی کچھ سوالوں کے جوابات
7.1 تکسیدی حالت جتنی زیادہ مثبت ہوگی، قوت تقطیب بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی نتیجتاً مرکزی ایٹم اور دوسرے ایٹم کے درمیان بننے والے بانڈ کی شریک گرفت خصوصیات میں اضافہ ہوگا۔
7.2 کیونکہ BH3، گروپ15کے ہائڈرائڈوں میں سب سے کم مستحکم ہے۔
7.3 مضبوطPp-Ppاوور لیپنگ کی وجہ سےN=Nتہرا بانڈ بنتا ہے۔
7.6 N2O5کی ساخت اس بات کا ثبوت ہے کہ نائٹروجن کی کو ویلنسی4ہے
7.7 دونوں میں sp3مخلوطیت ہے۔PH4+میں سبھی چاروں اربٹل بندش میں شامل ہیں جب کہ PH3میں pپر الیکٹرانوں کا ایک لون پیئر ہے۔ جو کہ PH3میں لون پیئر۔یانڈ پیئر دفع کے لیے ذمہ دار ہے او ربانڈ زاویہ109°28'سے کم ہوتا ہے۔
7.10 PCl5 + H2O → POCl3 + 2HCl
7.11 H3PO4کے سالمہ میں تینP-OHگروپ موجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کی اساسیت تین ہے۔
7.15 آکسیجن کا چھوٹا سائز اور بہت زیادہ برقی منفیت کی وجہ سے پانی کے سالمات، ہائڈروجن بندش سے بہت زیادہ وابستہ ہوتے ہیں۔ جو کہ اس کی رقیق حالت کی وجہ ہے۔
7.21 دونوں S-Oبانڈ شریک گرفت ہیں اور گمگ ساختوں کی وجہ سے مساوی طاقت رکھتے ہیں۔
7.25 H3O+اورHSO4-تک پہلی آیونائزیشن کی وجہ سےH2SO4پانی میں نہایت مضبوط تیزاب ہے۔ H3O+ اور SO42- تک HSO4- کا آیونائزیشن بہت کم ہے۔ اسی لیے
7.31 عمومی طور پر، انٹر ہیلوجن مرکباتX-X1بانڈ کے مقابلےX-Xبانڈ کے کمزور ہونے کی وجہ سے انٹر ہیلوجن مرکبات، ہیلوجن کے مقابلے زیادہ تعامل پذیرہوتے ہیں۔ اسی لیےI2کے مقابلےICIزیادہ تعامل پذیر ہے۔
7.34 ریڈان ایک تابکار عنصر ہے جس کی نصف عمر بہت مختصر ہے اسی لیےریڈان کی کیمسٹری کا مطالعہ ایک مشکل امر ہے۔