8
d اور f بلاک عناصر
(The d-and f-Block Elements)
آئرن کاپر، سلور اور سونا اور عبوری دھاتوں میں سے ہیں جنھوں نے انسانی تہذیب کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ Th، Pa اور U جیسی اندرونی عبوری عناصر جدید دور میں نیوکلیائی توانائی کے بہترین مآخذہیں
مقاصد
اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
• دوری جدول میں dاور fعناصر کے مقام کے بارے میں سیکھ سکیں۔
• عبوری (d بلاک) اور اندرونی عبوری (fبلاک) عناصر کے الیکٹرانی تشکل کو سمجھ سکیں۔
• الیکٹروڈ مضمر قدروں کی شکل میں مختلف تکسیدی حالتوں کے نسبتی استحکام کی اہمیت سمجھ سکیں۔
• l K2Cr2O7 اور KMnO4 جیسے کچھ اہم مرکبات کی تیاری، خصوصیات، ساخت اور استعمال کا بیان کرسکیں۔
• d اور f بلاک عناصر کی عمومی خصوصیات اور ان میں عمومی افقی اور گروپ رجحانات کو سمجھ سکیں۔
• fبلاک عناصر کی خصوصیات کا بیان کرسکیں گے نیز لینتھینائڈ اور ایکٹینائڈ کا ان کے الیکٹرانی تشکل، تکسیدی حالتیں اور کیمیائی طرز عمل کی نسبت سے موازنہ کرسکیں۔
دوری جدول کا d بلاک گروپ 3 تا 12 کے عناصر پر مشتمل ہے جس میں چاروں طویل ادوار (periods) میں سے ہر ایک میں d ارٹبل بتدریج بھرے ہوتے ہیں۔f بلاک عناصر وہ عناصر ہیں جن میں 4f اور 5f ارٹبلبتدریج بھرے ہوئے ہیں۔ ان کو دوری جدول میں سب سے نیچے علیحدہ قطار میں رکھا گیا ہے۔عبوری دھاتیں اور اندرونی عبوری دھاتیں جیسے نام عموماً بالترتیب d اور f بلاک کے عناصر کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔عبوری دھاتوں کے خاص طور سے 4 سلسلے ہیں، 3d سلسلہ (Sc سے Znتک) 4d سلسلہ (Y سے cd تک) اور 5d سلسلہ (La سے اورHf Hg تک اور چوتھا 6d سلسلہ جو کہ Ac سے شروع ہوتا ہے اورعناصر Rtسے Cnتک۔
اندرونی عبوری دھاتوں کے دو سلسلے 4f Csسے LuاورTh 5f سے Ltتک بالترتیب لینتھینائڈ (lanthanoids) اور ایکٹینائڈ (actinoids) کہلاتے ہیں۔
ابتدا میں یہ نام عبوری دھاتیں اس حقیقت سے نکلا ہے کہ ان کی کیمیائی خصوصیات S۔بلاک اورPبلاک عناصر کے درمیان عبوری ہیں۔اب آئی یوپی اے سی(IUPAC)کے مطابق عبوری عناصر کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ جن عناصر کے تعدیل ایٹم یا آئن میں نامکمل d۔آربٹل ہوتے ہیں۔ گروپ 12 کے زنک، کیڈیم اور مرکزی اپنی مشرک تکسیدی حالتوں اور گرائونڈ اسٹیٹ میں مکمل d10 تشکل رکھتے ہیں اور اسی لیے انہیں عبوری دھاتیں تصور نہیں کیاجاتا۔ تاہم عبوری سلسلہ بالترتیب 3d،4dاور5d کے آخری تین ممبران ہونے کی وجہ سے ان کی کیمسٹری کا مطالعہ عبوری دھاتوں کی کیمسٹری کے ساتھ کیاجاتاہے۔ان کے ایٹموںمیں جزوی طور پر بھرے ہوئے d اور f ارٹبل کی موجودگی کی وجہ سے عبوری عناصر اور ان کے مرکبات کا مطالعہ غیرعبوری عناصر گروپ کے عناصر سے علیحدہ کیاجاتاہے۔ تاہم، گرفت کے عام نظریہ کا اطلاق جو کہ غیرعبوری گروپ عناصر پر ہوتا ہے عبوری عناصر پر بھی اس کا اطلاق کامیابی کے ساتھ ہوتا ہے۔
متعدد بیش قیمتی دھاتیں جیسے چاندی، سونا اور پلیٹنم نیز لوہا، کاپر اور ٹائٹینم جیسی صنعتی اہمیت کی حامل دھاتیں عبوری دھاتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس اکائی میں، ہم سب سے پہلے عبوری دھاتوں کے الیکٹرانی تشکل، وقوع اور عمومی خصوصیات کا ذکر کریں گے اور عبوری دھاتوں کی پہلی قطار (3d) کی خصوصیات میں رجحانات اور کچھ اہم مرکبات کی تیاری اور خصوصیات پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ اس کے بعد اندرونی عبوری دھاتوں کے کچھ عام پہلوئوں جیسے الیکٹرانی تشکل، تکسیدی حالتیں اور کیمیائی تعاملیت پر غور کیا جائے گا۔
8.1 دوری جدول میں مقام(Position n
the Periodic Table)
عبوری عناصر (dبلاک)(The Transition Elements (d-Block)
d بلاک دوری جدول کے ایک بڑے مڈل سیکشن پر مشتمل ہے جو کہ sاور 'pبلاک کے درمیان میں ہے۔ d بلاک کے عناصر کو ’عبوری‘ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ s اور 'bبلاک عناصر کے درمیان میں واقع ہیں۔ ان کے ایٹموں میں آخری سے پہلے انرجی لیول کے 4d ارٹبل میں الیکٹران حاصل کیے جاتے ہیں جس سے عبوری دھاتوں کی چار قطاریں تشکیل پاتی ہیں یعنی 3d ، 4d، 5d اور 6d۔ عبوری عناصر کے ان سلسلوں کو جدول 8.1 میں دکھایا گیاہے۔
8.2 d 'بلاک عناصر کا الیکٹرانی تشکل
(Electronic Configurations of the d-Block Elements)
عمومی طورپران عناصر کا طور پر الیکٹرانی تشکل
ہے۔ (n-1) اندرونی dارٹبل کو ظاہر کرتاہے جس میں 1 سے 10 تک الیکٹران ہوسکتے ہیں اور سب سے باہری ns ارٹبل میں ایک یا دو الیکٹران ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس تعمیم میں کچھ استشنیٰ بھی ہیں کیونکہ (n-1)d اور ns ارٹبل کی توانائی میں معمولی فرق ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ نصف اور مکمل بھرے ہوئے ارٹبل کے سیٹ نسبتاً زیادہ مستحکم ہیں۔ اس فیکٹر کے نتیجے کی عکاسی 3d سیریز میں Cr اور Cuکے الیکٹرانی تشکل میں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر Cr کے کیس پر غور کیجیے جس کا الیکٹرانی تشکل 3d4s2 کے بجائے 3d5s1 ہے، ارٹبل کے دو سیٹوں (3d اور 4s) کے درمیان توانائی فرق اتنا کم ہے کہ وہ الیکٹرانوں کو 3d ارٹبل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح Cu کے معاملے میں تشکل 3d104s1 ہے 3d94s2 نہیں۔ عبوری عناصر کا بیرونی الیکٹرانی تشکل جدول 8.1 میں دکھایا گیاہے۔
جدول8.1عبوری عناصر کا بیرونی الیکٹرانی تشکل(گرائونڈ اسٹیٹ)
| پہلی سیریز | ||||||||||
| z 4s 3d |
Sc 21 2 1 |
Ti 22 2 2 |
V 23 2 3 |
Cr 24 1 5 |
Mn 25 2 5 |
Fe 26 2 6 |
Co 27 2 7 |
Ni 28 2 8 |
Cu 29 1 10 |
Zn 30 2 10 |
| دوسری سیریز | ||||||||||
z 5s 4d |
Y 39 2 1 |
Zr 40 2 2 |
Nb 41 1 4 |
Mo 42 1 5 |
Tc 43 1 6 |
Ru 44 1 7 |
Rh 45 1 8 |
Pd 46 0 10 |
Ag 47 1 10 |
Cd 48 2 10 |
| تیسری سیریز | ||||||||||
z 6s 5d |
La 57 2 1 |
Hf 72 2 2 |
Ta 73 2 3 |
W 74 2 4 |
Re 75 2 5 |
Os 76 2 6 |
Ir 77 2 7 |
Pt 78 1 9 |
Au 79 1 10 |
Hg 80 2 10 |
| چوتھی سیریز | ||||||||||
| z 7s 6d |
Ac 89 2 1 |
Rf 104 2 2 |
Db 105 2 3 |
Sg 106 2 4 |
Bh 107 2 5 |
Hs 108 2 6 |
M6 109 2 7 |
Ds 110 2 8 |
Rg 111 1 10 |
Cn 112 2 10 |
عبوری عناصر کے d ارٹبل دیگر ارٹبل (sاور p) کے مقابلے میں ایٹم کی باہری سطح سے باہر نکلے ہوئے ہوتے ہیں اسی لیے یہ اطراف کے ایٹموں کے ذریعہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اپنے آس پاس کے ایٹموں کو متاثر کرتے ہیں۔
عبوری دھاتیں اور ان کے مرکبات وسطی خصوصیات اورپیرا مقناطیسی طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ان تمام خصوصیات سے اس اکائی میں بعد میں بحث کی گئی ہے۔
غیرعبوری گروپ عناصر کے مقابلے عبوری عناصر کی خصوصیات میں بہت زیادہ افقی یکسانیت موجود ہیں۔ تاہم گروپ میں کچھیکسانیت بھی پائی جاتی ہیں۔ ہم سب سے پہلے عام خصوصیات اور افقی قطاروں (بالخصوص 3d قطار) میں ان کے رجحانات کا مطالعہ کریں گے اور پھر کچھ گروپ خصوصیات پرغور کیا جائے گا۔
مثال 8.1
کسی بنیاد پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسکینڈیم (Z=21) ایک عبوری عنصر ہے۔ لیکن جستہ (Z=30) نہیں؟
حل
اسکینڈیم ایٹم کے معاملے میں اس کی گراؤنڈ اسٹیٹ (3d) میں 3d ارٹبل کے نامکمل بھرا ہونے کی وجہ سے، اسے عبوری عنصر تصور کیا جاتاہے۔ اس کے برعکس زنک ایٹم میں اس کی گراؤنڈ اسٹیٹ اور تکسیدی حالت دونوں میں d ارٹبل مکمل طور سے بھرا ہوا ہے (3d10)۔ اس لیے اسے عبوری عنصر تسلیم نہیں کیا جاتا۔
متن پر مبنی سوالات
8.1 سلور ایٹم میں اس کی گراؤ نڈ اسٹیٹ میں d ارٹبل مکمل طور سے بھرا ہوا ہے (4d10)۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ عبوری عنصر ہے؟
درج ذیل سیکشن میں ہم صرف پہلی عبوری قطار کے عناصر کی خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔
8.3 عبوری عناصر (dبلاک) کی عمومی خصوصیات
General Properties of the Transition Elemenst (d-Block)
8.3.1 (Physical Properties)
تقریباً تمام عبوری عناصر بہت زیادہ تنائو کی قوت (high tensile strength)، تار پذیری (lity Cluctitity))، ورق پذیری (malleability)، بہت زیادہ حرارتی اور برقی ایصالیت اور دھاتی چمک جیسی دھاتی خصوصیات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ با استشنیٰ زنک cd ،Zn، Hg اور عام درجۂ حرارت پر ایک یا زیادہ دھاتی ساخت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
| Sc | Ti | V | Cr | Mn | Fe | Co | Ni | Cu | Zn |
| hcp (bcc) |
hcp (bcc) |
bcc | bcc | X (bcc,ccp) |
bcc (hcp) |
ccp (hcp) |
ccp | ccp | X (hep) |
| Y | Zr | Nb | Mo | Te | Ru | Rh | Pd | Ag | Cd |
| hcp (bcc) |
hcp (bcc) |
bcc | bcc | hcp | hcp | hcp | ccp | ccp | X (hcp) |
| La | Hf | Ta | W | Re | Os | Ir | Pt | Au | Hg |
| hcp (ccp,bcc) |
hcp (bcc) |
bcc | bcc | hcp | hcp | ccp | ccp | ccp | X |
(bcc = body centred cubic; hcp = hexagonal close packed; ccp = cubic close packed; X = a typical metal structure).
عبوری دھاتیں (Zn، cd اور Hg استشنیٰ ہیں) بہت زیادہ سخت اور بہت کم طیران پذیر ہوتی ہیں۔ ان کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ شکل 8.1 میں 3d ، 4d اور 5d عبوری دھاتوں کے نقطہ گداخت دکھائے گئے ہیں۔ ان دھاتوں کے بہت زیادہ نقطہ گداخت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بین ایٹمی دھاتی بندش میں ns الیکٹرانوں کے علاوہ (n-1)d الیکٹرانوں کی بہت بڑی تعداد ملوث ہوتی ہے۔ کسی بھی قطار میں ان دھاتوں کے نقطہ گداخت میں اضافہ ہوتا ہے اور d5 پر یہ سب سے زیادہ ہوتاہے اور Mn اور Tc کی بے قاعدہ قدروں کو چھوڑ کر، اور ایٹمی عدد میں اضافہ کے ساتھ اس میں باقاعدہ کمی آتی ہے۔ ان کی ایٹومائزیشن اینتھالپی بہت زیادہ ہوتی ہیں جیسا کہ شکل 8.2 میں دھایا گیا ہے۔ ہر ایک سلسلہ کے درمیان maxima یہ ظاہر کرتا ہے کہ فی d ارٹبل ایک بغیر جوڑے کا الیکٹران خاص طور سے مضبوط بین ایٹمی باہمی عمل کے لیے موافق ہے۔ عمومی طور پر کہا جائے تو، گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی بندش اتنی ہی زیادہ مضبوط ہوگی۔ کیونکہ کسی دھات کے معیاری الیکٹروڈ مضمر کے تعین میں ایٹمومائزیشن کی اینتھالپی ایک اہم عوامل ہے اس لیے وہ دھاتیں جن کی ایٹمومائزیشن کی اینتھالپی بہت زیادہ (یعنی نقطہ جوش بہت زیادہ ہے) ہے اپنے تعاملات میںنو بل رجحان کا مظاہرہ کرتی ہیں۔(بعد میں الیکٹروڈ مضمر پر غور کیجیے)

شکل 8.1 : عبوری دھاتوں کے نقطہ گداخت کے رجحانات
ایٹمی عدد
ایک اور تعمیم جو کہ شکل 8.2 سے اخذ کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے اور تیسرے سلسلہ کی دھاتوں کی ایٹومائزیشن کی اینتھالپی پہلے سلسلہ کے نظیری عناصر کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ یہ کسی دھات کے بہت زیادہ سرعت پائے جانے کی وجہ متعین کرنے کے لیے بہت اہم عوامل ہے۔
شکل 8.2: عبوری عناصر کی ایٹو مائزیشن کی انتہالپی کے رجحانات

ایٹمی عدد
8.3.2 عبوری دھاتوں کے آینی اور ایٹمی سائز میں تغیر
(Variation in Atomic and Ionic Sizes of Transition Metals)
عمومی طور پر، ایک دیے ہوئے سلسلہ میں یکساں چارج والے آین ایٹمی عدد میں اضافہ کے ساتھ نصف قطر میں بتدریج کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مرتبہ جب نیا الیکٹران d ارٹبل میں داخل ہوتا ہے تو نیوکلیائی چارج میں ایک اکائی کا اضافہ ہوجاتاہے۔ یہ یاد کیا جاسکتا ہے کہ d الیکٹران کا شیلڈنگ اثر مؤثر انہیں ہوتا، اس لیے نیوکلیائی چارج اور سب سے باہر والے الیکٹران کے درمیان نتیجتاً ساکن برقی کشش (electrostatic attraction) میں اضافہ ہوتا ہے اور آینی نصف قطر کم ہوجاتاہے۔ بالکل یہی رجحان ایک دیے ہوئے سلسلہ کے ایٹمی نصف قطر میں بھی پایا جاتاہے۔ حالانکہ ایک ہی سلسلہ میں تغیر بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ایک دلچسپ نقطہ ابھر کر آتاہے جب ایک سلسلہ کے ایٹمی سائز کا موازنہ دوسرے سلسلہ کے نظیری عناصر سے کیا جاتاہے۔ شکل 8.3 میں خط انحتا عناصر کے پہلے سلسلہ (3d) سے دوسرے سلسلہ (4d) تک اضافہ کو ظاہر کرتاہے لیکن تیسرے سلسلہ (5d) کے نصف قطر مجازی طور پر دوسرے سلسلہ کے نظیری ممبران کے نصف قطر کے مساوی ہیں۔ یہ مظہر 4f ارٹبل کی مداخلت سے وابستہ ہے جو کہ عناصر کے 5d سلسلہ کے شروع ہونے سے پہلے بھرا جانا چاہیے 5d ارٹبل سے پہلے 4f ارٹبل کے بھرنے کی وجہ سے ایٹمی نصف قطر میں باقاعدہ کمی لینتھینائڈ انقیاض (Lanthanoid contration) کہلاتی ہے جو کہ ایٹمی عدد میں اضافہ ہونے کے ساتھ ایٹمی سائز میں متوقع اضافہ کی تلافی کرتاہے۔ لینتھینائڈ انقباض کا کل نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرا اور تیسرا d سلسلہ یکساں نصف قطر (مثلاً Zr 160 pm ، Hf 159 pm) نیز طبیعی اور کیمیائی خصوصیات میں یکسانیت کو ظاہر کرتے ہیں جو کہ عام فیملی تعلق کی بنیاد پر متوقع خصوصیات کے مقابلے کافی یکساں ہیں۔

شکل 8.3 : عبوری عناصر کے ایٹمی نصف فطر کے رجحانات
لینتھینائڈ اتفیاض کے لیے ذمہ دار فیکٹر کس قدر ایک عام عبوری سلسلہ میں کیے جانے والے مشاہدہ سے یکسانیت رکھتا ہے اور یکساں وجہ کا سبب ہے یعنی ارٹبل کے ایک ہی سیٹ میں ایک الیکٹران کی دوسرے الیکٹران کے ذریعے ناقص شیلڈنگ۔ تاہم 4f الیکٹران کی دوسرے الیکٹران کے ذریعہ شیلڈنگ d الیکٹران کی دوسرے الیکٹران کے ذریعہ شیلڈنگ کے مقابلے کم ہوتی ہے اور جیسے جیسے سلسلہ میں نیوکلیائی چارج بڑھتا جاتاہے پورے 4fn کے سائزمیں باقاعدہ کمی ہوتی جاتی ہے۔
دھاتی نصف قطر میں کمی ایٹمی کمیت میں اضافہ سے وابستہ ہے جس کی وجہ سے ان عناصر کی کثافت میں عمومی اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح ٹائیٹینم (Z-22) سے کاپر (Z-29) تک کثافت میں بامعنی اضافہ نوٹ کیا جاسکتاہے۔ (جدول 8.2)
جدول 8.2 : عبوری عناصر کے پہلے سلسلہ کے الیکٹرانی شکل اور کچھ دیگر خصوصیات
| Zn | Cu | Ni | Co | Fe | Mn | Cr | V | Ti | Sc | عنصر |
| 30 | 29 | 28 | 27 | 26 | 25 | 24 | 23 | 22 | 21 | ایٹمی عدد الیکٹرانی شکل |
| 3d104s2 | 3d104s1 | 3d84s2 | 3d74s2 | 3d64s2 | 3d54s2 | 3d54s1 | 3d34s2 | 3d24s2 | 3d14s2 | M |
| 3d104s1 | 3d10 | 3d84s1 | 3d74s1 | 3d64s1 | 3d54s1 | 3d5 | 3d34s1 | 3d24s1 | 3d14s1 | M+ |
| 3d10 | 3d9 | 3d8 | 3d7 | 3d6 | 3d5 | 3d4 | 3d3 | 3d2 | 3d1 | M2+ |
| - | - | 3d7 | 3d6 | 3d5 | 3d4 | 3d3 | 3d2 | 3d1 | (Ar) | M3+ |
| ΔaHθ/kJmo1-1ایٹومائزیشن کی اینتھالپی | ||||||||||
| 126 | 339 | 430 | 425 | 416 | 281 | 397 | 515 | 473 | 326 | |
| ΔiHθ/kJmo1-1آیونائزیشن اینتھالپی | ||||||||||
| 906 | 745 | 736 | 758 | 762 | 717 | 653 | 650 | 656 | 631 | I ΔtHθ |
| 1734 | 1958 | 1752 | 1644 | 1561 | 1509 | 1592 | 1414 | 1309 | 1235 | II ΔtHθ |
| 3829 | 3556 | 3402 | 3243 | 2962 | 3260 | 2990 | 2833 | 2657 | 2393 | III ΔtHθ |
| 137 | 128 | 125 | 125 | 126 | 137 | 129 | 135 | 147 | 164 | M دھاتی/آینی |
| 75 | 73 | 70 | 74 | 77 | 82 | 82 | 79 | - | - | M2+ pm /نصف قطر |
| - | - | 60 | 61 | 65 | 65 | 62 | 64 | 67 | 73 | M3+ |
| -0.76 | +0.34 | -0.25 | -0.28 | -0.44 | -1.18 | -0.90 | -1.18 | -1.63 | - | M2+/M معیاری الیکٹروڈ |
| - | - | - | +1.97 | +0.77 | +1.57 | -0.41 | -0.26 | -0.37 | - | M3+/M2+ Eθ/Vمضمر |
| 7.1 | 8.9 | 8.9 | 8.7 | 7.8 | 7.21 | 7.19 | 6.07 | 4.1 | 3.43 | gcm-3/کثافت |
مثال 8.2
عبوری دھاتیں بہت زیادہ ایٹومائزین کی اینتھالپی کیوں ظاہر کرتی ہیں؟
حل
ان کے ایٹموں میں بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی بہت بڑی تعداد کی وجہ سے ان میں بہت زیادہ بین ایٹمی باہمی عمل ہوتاہے اور ایٹموں کے درمیان بہت مضبوط بندش ہوتی ہے۔ نتیجتاً ایٹومائزیشن کی اینتھالپی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
متن پر مبنی سوالات
8.2 Z=21) Sc) سے لے کر Z=30) Zn) تک کے سلسلہ میں زنک کی ایٹومائزیشن کی اینتھالپی سب سے کم ہے یعنی128kJmo1-1کیوں؟
8.3.3 آیونائزیشن اینتھالپی
(Ionisation Enthalpies)
عبوری عناصر کے ہر ایک سلسلہ میں بائیں سے دائیں طرف آیونائزیشن اینتھالپی میں اضافہ ہوتاہے۔اندرونی dارٹبل کے بھرنے کے ساتھ نیوکلیائی چارج میں اضافہ ہونے کی وجہ سے جدول 8.2 میں پہلی قطار کے عناصر کی پہلی تین آیونائزیشن اینتھالپی دی ہوئی ہیں۔ ان قدروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان عناصر کی متواتر اینتھالپی میں اس طرح اضافہ نہیں ہوتا جیسا کہ غیر عبوری گروپ عناصر ظاہر کرتے ہیں۔عبوری عناصر کے سلسلے میں آیونائزیشن اینتھالپی میں تبدیلی بمقابلہ ایک پیریڈ میں غیرعبوری عناصر کے بہت کم ہوتی ہے۔ حالانکہ پہلی آیونائزیشن اینتھالپی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اسی قطار میں متواتر عناصر کی دوسری اور تیسری آیونائزیشن اینتھالپی میں یہ بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
3d سلسلے کی دھاتوں کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی میں بے قاعدہ رجحان، حالانکہ تھوڑا سا کیمیائی اہمیت کا حامل ہے، کی وجہ یہ ہے کہ ایک الیکٹران کی علیحدگی 4s اور 3d ارٹبل کی نسبتی توانائیوں کو تبدیل کردیتی ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ dبلاک کے عناصر آئن بناتے ہیں اور nsالیکٹران (h-1)dالیکٹرانوں سے پہلے نکلتے ہیں۔ 3dقطار میں جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ سیکنڈیم (Sc)سے زِنک (Zn)تک نیوکلیئرچارج بڑھ رہا ہے لیکن الیکٹران داخلی سب شیل یعنی 3dمیں داخل ہورہے ہیں۔ یہ 3dالیکٹران4sالیکٹرانوں کو نیوکلیئر چارج بڑھانے سے بچاتے ہیں۔ یہ اس سے زیادہ مؤثر ہے جہاں باہری شیل کے الیکٹران ایک دوسرے کوبچاتے ہیں۔ لہٰذا ایٹمی نصف قطر کم تیزی سے گھٹتا ہے۔ لہٰذا 3dقطار میں آیونائزیشن توانائی بہت کم بڑھتی ہے۔اس لیے دوہرے یا زیادہ چارج والے آئن کا الیکٹرانی تشکل dn ہے جس میں کوئی 4s الیکٹران نہیں ہے۔ مؤثر نیوکلیائی چارج میں اضافہ ہوتاہے اس لیے عام طور سے دوسری آیونائزیشن اینتھالپی میں متوقع اضافہ کا رجحان ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک dالیکٹران دوسرے dالیکٹران کو نیوکلیر چارج کے اثر سے نہیں بچاتا۔کیوں کہ dآربٹل Orientationمیں مختلف ہوتے ہیں۔
تاہم دوسری اورتیسری آیونائزیشن اینتھالپی کے لگاتاربڑھنے کی رفتار +Mn2اور+Fe3کی تشکیل کوروکتی ہے۔ دونوں میں آئن d5تشکل رکھتے ہیں۔ ایسی ہی رکاوٹ بعد کی عبوری سلسلے کو تقابلی عناصر کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔
dnالیکٹرانی تشکل کے لیے آیونائزیشن توانائی میں تغیرات کی وضاحت درج ذیل ہے۔
آیونائزیشن اینتھالپی کی قدر کے لیے تین اصطلاحات اس طرح ہیں۔ ہرالیکٹران کی نیوکلیس کی سمت کشش،الیکٹرانوں کے درمیان دفع(ہٹاؤ)اورباہمی تبادلے کی توانائی استحکام کی ذمہ دارہے۔باہمی تبادلے کی توانائی زوال پذیر آربٹل میں متوازی گھماؤوالے کل ممکنہ جوڑوں کی تعداد کی نسبت میں ہوتی ہے۔جب بہت سے الیکٹران زوال پذیرآربٹل کے ایک سیٹ میں ہوتے ہیں توکمترین توانائی کی سطح آربٹل کے تنہا قبضہ کی اعلیٰ ترین ممکنہ حد اورمتوازی گھماؤ کے مطابق ہوتی ہے۔(ہُنڈ کا کلیہ)
باہمی تبادلے کی توانائی کا نقصان استحکام کوبڑھاتا ہے۔ جب استحکام بڑھتا ہے توآیونائزیشن زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔d6تشکل میں باہمی تبادلے کی توانائی میں کوئی نقصان نہیں ہےMn+کاتشکل 3d5 451اور+Crکا تشکل 3d5ہے۔لہٰذا +Mnکی آیونائزیشن اینتھالپی+Crسے کم ہوگی۔ اسی طرح +Fe2کاتشکل 3d6ہے اورMn2کاتشکل 3d5ہے لہٰذا +FeM2کی آیونائزیشن اینتھالپی Mn2سے کم ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ Feکی تیسری آیونائزیشن اینتھالپیMnسے کم ہے۔
ان دھاتوں کی کمترین مشترک تکسیدی حالت +2 ہے۔ گیس ایٹموں سے M+2 آینوں کی تشکیل کے لیے ہر ایک عنصرکے لیے ایٹومائزیشن کی اینتھالپی کے ساتھ ساتھ پہلی اور دوسری آیونائزیشن اینتھالپی کا حاصل جمع درکار ہوتا ہے۔ مغلوب اصطلاح دوسری آیونائزیشن اینتھالپی ہے جو کہ Crاور Cu کے لیے غیر معمولی اونچی قدروں کو ظاہر کرتا ہے جہاں +Mآینوں کا d5 اور d10 تشکل ہے۔ Zn کی قدر نظیری طور پر کم ہے کیونکہ آیونائزیشن الیکٹران کے اخراج کے سبب سے ہے جو کہ مستحکم d10 تشکل کا سبب ہے۔ تیسری آیونائزیشن اینتھالپی میں رجحان 4s ارٹبل فیکٹر کے ذریعہ پیچیدہ (complicated) نہیں ہوتا اور عمومی بڑھتے ہوئے رجحان پر منطبق (+d5 (Mn2اور( +d10(Zn2آینوں سے ایک الیکٹران کو نکالنے میں زیادہ مشکل کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید کاپر، نکل اور زنک کی تیسری آیونائزیشن اینتھالپی کی اونچی قدریں ظاہر کرتی ہیں کہ ان عناصر کے لیے دو سے زیادہ تکسیدی حالتوں کو حاصل کرنا مشکل کیوں ہے۔
حالانکہ آیونائزیشن اینتھالپی تکسیدی حالتوں کے نسبتی استحکام کے متعلق کچھ رہنمائی فراہم کرتی ہے، یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے اور تعمیم کے لیے قابل ترمیم نہیں ہے۔
8.3.4 تکسیدی حالتیں
(Oxidation States)
عبوری عناصر کی اہم خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ان کی متعدد تکسیدی حالتیں ہیں جو یہ اپنے مرکبات میں ظاہر کرتی ہیں جدول 8.3 پہلی قطار کے عبوری عناصر کی عام تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتی ہے۔
جدول8.3: پہلی قطار کے عبوری عناصر کی تکسیدی حالتیں
(سب سے زیادہ عام تکسیدی حالتوں کو جلی اعداد سے دکھایا گیاہے۔)
| Zn | Cu | Ni | Co | Fe | Mn | Cr | V | Ti | Sc |
| +2 | +1 +2 |
+2 +3 +4 |
+2 +3 +4 |
+2 +3 +4 +6 |
+2 +3 +4 +5 +6 +7 |
+2 +3 +4 +5 +6 |
+2 +3 +4 +5 |
+2 +3 +4 |
+3 |
وہ عناصرجن کی تکسیدی حالتیں بہت زیادہ ہیں وہ یاتو سلسلہ کے درمیان میں ہیں یا اس کے نزدیک ہیں۔ مثال کے طور پر مینگینیز +2 سے لے کر +7 تک تمام تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتاہے۔ انتہائی سروں پر تکسیدی حالتوں کی کم تعداد یا تو بہت کم الیکٹرانوں کو lose کرنے یا ساجھا (Sc, Tt) کرنے یا بہت زیادہ d الیکٹرانوں (اسی لیے چند ارٹبل دستیاب رہتے ہیں جن میں الیکٹران دوسروں کے ساتھ ساجھا کرتے ہیں)۔ کو اونچی گرفت (Cu,Zn)کے لیے روکتی ہے۔ اس طرح سلسلہ میں سب سے پہلے اسکینڈیم (II)حجازی طور پر نامعلوم ہے، اور ٹاٹیٹینم (IV)، Tt(III) یا (Ti(IIکے مقابلے زیادہ مستحکم ہے۔ دوسرے سرے پر زنک کی صرف ایک تکسیدی حالت ہے جو کہ +2 ہے (کوئی d الیکٹران ملوث نہیں ہے) واجب استحکام کی زیادہ سے زیادہ تکسیدی حالتیں مینگنیز-(VIVO2(MnIVIO4,CrIVO42تک s اور dالیکٹرانوں کے حاصل جمع کے نظیری ہیں۔
مثال8.3as اس عبوری عنصر کا نام بتائیے جو کہ متغیر تکسیدی حالتوں کو ظاہر نہیں کرتا۔حلاسکینڈیم (Z=21) متغیر تکسیدی حالتوں کو ظاہر نہیں کرتا۔
متن پر مبنی سوالات
8.3 عبوری دھاتوں کے 3d سلسلہ میں سے کون سب سے زیادہ تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتاہے اور کیوں؟
8.3.5 M2+/M معیاری الیکٹروڈ مضمر میں رجحانات
(Trends in the M2+/M Standard
Electrode potentials)

شکل 8.4: Tiسے Znتک کے عناصر کے معیاری الیکٹروڈ مضمر کی تحسیب شدہ اور مشاہدہ کی گئی قدریں(M2+ → °M)
جدول 8.4 میں ٹھوس دھاتی آینوں کی محلول میں+M2آینوں میں تبدیلی سے متعلق حرارتی کیمیائی پیرامیٹر اور ان کے معیاری الیکٹروڈ مضمر دیے گئے ہیں۔Evکی مشاہدہ کی گئی قدر اور جدول 8.4 کے اعداد و شمار کا استعمال کرکے تحسیب کی گئی قدر کا موازنہ شکل 8.4 میں کیا گیا ہے۔
مثبت Ev والے Cu کا یکتا طرز عمل ایسڈوں سے H2 کے اخراج کی عدم صلاحیت کے لیے ذمہ دار ہے۔ صرف تکسیدی تیزاب (نائٹرک اور گرم مرتکرسلفیوک ایسڈ) Cu سے تعامل کرتا ہے۔ (CuCs کی Cu2+(aq) میں تبدیلی کے لیے بہت زیادہ توانائی اس کی ہائڈریشن اینتھالپی کے ذریعہ متوازن نہیں ہوتی۔ سلسلہ میں کم منفی Ev قدروں کی طرف عمومی رجحان پہلی اور دوسری آیونائزیشن اینتھالپی کے حاصل جمع میں اضافہ سے متعلق ہے۔ یہ جانتادلچسپ ہوگا کہ Mn، Ni اور Zn کے لیے Ev کی قدریں رجحان سے متوقع قدر کے مقابلے زیادہ منفی ہیں۔
مثال8.4
+Cr2تحویلی اور +Mn3تکسیدی کیوں ہے۔ جبکہ دونوں کا تشکل d4 ہے۔
حل
+Cr2 تحویلی ہے کیونکہ اس کا تشکل d4 سے d3 تک تبدیل ہوتا ہے۔ آخر الذکر میں نصف بھراہوا t2g لیول ہے۔ دیکھئے اکائی9)۔اس کے برعکس +Mn2سے +Mn3میں تبدیلی کا نتیجہ نصف بھرا ہوا (d5) تشکل ہے جو کہ اضافی استحکام کا حامل ہے۔
متن پر مبنی سوالات
8.4 کاپر کے لیے EΘ(M2+/M) کی قدر مثبت (0.34V+) ہے۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
(اشارہ: اونچی ΔaHΘ اور کم ΔhydHΘ پر غور کیجیے)
+M2میں نصف بھرے ہوئے d ذیلی شیل کا استحکام اور +Zn2 میں مکمل بھرا ہوا d10 تشکل ان کی EΘ قدروں سے متعلق ہے جبکہ Ni کے لیے EΘ کی قدر سب سے زیادہ منفی ΔhydHΘ سے متعلق ہے۔
شکل 8.5: آبی محلولوں میں پہلی قطار کے عبوری دھاتی آینوں کے رنگ۔ بائیں سے دائیں طرف
V4+,V3+,Mn2+,Fe3+,Co2+,Ni2+ Cu2+
جدول 8.4:پہلی قطار کے عبوری عناصر کے لیے حرارتی کیمیائی اعداد وشمار (1-kJ mo1)اور (M(IIکی Mمیں تحویل کے لیے معیاری الیکٹروڈ مضمر
| EΘ/V | ΔhydHv(M2+) | Δ1H2Θ | Δ1H1Θ | ΔaHΘ(M) | (M)عنصر |
| -1.63 -1.18 -0.90 -1.18 -0.44 -0.28 -0.25 0.34 -0.76 |
-1866 -1895 -1925 -1862 -1998 -2079 -2121 -2121 -2059 |
1309 1414 1592 1509 1561 1644 1752 1958 1734 |
656 650 653 717 762 758 736 745 906 |
469 515 398 279 418 427 431 339 130 |
Ti V Cr Mn Fe Co Ni Cu Zn |
8.3.6 +M3+/M2معیاری الیکٹروڈ مضمر میں رجحانات
(Trends in the M3+/M2+ Standard Electrode Potentials)
+Ev(m3+/M2) کی قدریں (جدول 8.2) متغیر رجحانات کو ظاہر کرتی ہیں۔ Sc کی کم قدر +Sc3کے استحکام کی عکاسی کرتی ہے جو کہ نوبل گیس تشکل رکھتا ہے۔ Zn کی سب سے زیادہ قدر Zn2+ کے مستحکم d10 تشکل سے ایک الیکٹران کو ہٹانے کی وجہ سے ہے۔ Mn کی نسبتاً زیادہ قدر ظاہر کرتی ہے کہ (Mn2+(d5) خاص طور سے مستحکم ہے، جبکہ Feکی نسبتاً کم قدر ظاہر کرتی ہے کہ Fe3+(d5)زیادہ مستحکم ہے۔
V کی نسبتاً کم قدر +V2 (نصف بھرا ہوا t2g لیول، اکائی9) کے استحکام سے وابستہ ہے۔
8.3.7 اونچی تکسیدی حالتوں کے استحکام میں رجحانات
(Trends in Stability of Higher Oxidation)
جدول8.5 میں عبوری دھاتوں کے 3d سلسلہ کے مستحکم ہیلائڈ دکھائے گئے ہیں۔سب سے بڑے تکسیدی اعداد TiX4 (ٹیٹراہیلائڈ)،VF5 اور CrF6) میں ہیں۔Mn کی +7 حالت سادہ ہیلائڈوں میں ظاہر نہیں ہوتی لیکن MnO3F معلوم ہے اور Mn کے آگے FeX3 اور CoF3 کے علاوہ کسی بھا دھات کا ٹرائی ہیلائڈ نہیں ہے۔ فلورین میں اونچی تکسیدی حالت کے استحکام کی صلاحیت یا تو انوچی لیٹس توانائی کی وجہ سے ہے جیسا کہ CoF3 کے معاملے میں ہے یا اونچے شہ یک گرفت مرکبات کے لیے اونچی بانڈ اینتھالپی کی و جہ سے ہے مثلاً VF5اور CrF6۔
حالانکہ VV صرف VF5 کے ذریعہ ہی ظاہر کی جاتی ہے، تاہم دیگر ہیلائڈ ہائڈرولسس کے نتیجے میں آکسوہیلائڈ، VOX3 بناتے ہیں۔ فلورائڈوں کی ایک اور خصوصیت کم تکسیدی حالتوں میں ان کا عدم استحکام ہے مثلاًVX2 (X=Cl, Br, I) اور CuX پر بھی اسی کا اطلاق ہوتا ہے۔
جدول 8.5: دھاتوں کے ہیلائڈوں کے فارمولے
| تکسیسدی عدد | |||||||||
| ZnX2 | CuX2II CuXIII |
NiX2 | CoF3 CoX2 |
FeXI2 FeX2 |
MnF4 MnF3 MnX2 |
CrF6 CrF5 CrX4 CrX3 CrX2 |
VF5 VXI4 VX3 VX2 |
TiX4 TiX3 TiX2III |
+ 6 + 5 + 4 + 3 + 2 + 1 |
Key: X = F → I; XI = F → Br; XII = F, CI; XIII = CI→ I
دوسری طرف تمامCu ہیلائڈ معلوم ہیں (آیوڈائڈ کو چھوڑ کر)۔ اس معاملے میں Cu2+، I-کی I2میں تکسید کرتا ہے۔
تاہم، متعدد کاپر (I) مرکبات آبی محلول میں غیر مستحکم ہیں
2Cu+ → Cu2+ + Cu
(Cu+(aqکے مقابلے (Cu2+(aq کا استحکام +Cu کے مقابلے (Cu2(aqکی زیادہ منفی ΔhydHΘ کی وجہ سے ہے جو کہ Cu کی دوسری آیونائزیشن اینتھالپی کے لیے تلافی سے کہیں زیادہ ہے۔
بہت زیادہ تکسیدی حالت کو آکسیجن کی صلاحیت آکسائڈوں میں ظاہر کی جاتی ہے۔ آکسائڈوں میں بہت اونچی تکسیدی حالت (جدول8.6) گروپ نمبر کے ساتھ منطبق ہے اور یہ Sc2O3سے Mn2O7 میں حاصل (attain) کی جاتی ہے۔ گروپ 7کے آگے Fe2O3 سے اوپر Fe کا اور کوئی اعلیٰ آکسائڈ معلوم نہیں ہے، حالانکہ القلی میڈیم میں فیریٹ -VI) (FeO4)2)بنتے ہیں لیکن وہ بہت جلد Fe2O3 اور O2 میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ آکسائڈ کے علاوہ آکسوکیٹ آین VV کو +VO2کے طور پر VIV کو +VO2کے طور پر اور TiIVکو +TiO2کے طور پر اسٹیبلائز کرتے ہیں۔ان اونچی تکسیدی حالتوں کو اسٹیبلائز کرنے کی آکسیجن کی صلاحیت فلورین سے زیادہ ہے۔
جدول 8.6: دھاتوں کے آکسائڈ
| 12 | 11 | 10 | 9 | 8 | گروپ 7 |
6 | 5 | 4 | 3 | تکسیدی عدد |
| Mn2O7 | +7 | |||||||||
| CrO3 | +6 | |||||||||
| V2O5 | +5 | |||||||||
| MnO2 | CrO2 | V2O4 | TiO2 | +4 | ||||||
| Fe2O3 | Mn2O3 | Cr2O3 | V2O3 | Ti4O3 | Sc2O3 | +3 | ||||
| Co3O4* | Fe3O4* | Mn3O4* | ||||||||
| ZnO | CuO | NiO | CoO | FeO | MnO | (CrO) | VO | TiO | +2 | |
| Cu2O | +1 |
اس طرح اعلیٰ Mn فلورائڈ MnF4 ہے جبکہ اعلیٰ آکسائڈ Mn2O7ہے۔ دھاتوں کے ساتھ کثیر بند بنانے کی آکسیجن کی صلاحیت اس کی برتری (superiority) کی تشریح کرتی ہے۔ شریک گرفت آکسائڈ Mn2O7 میں ہر ایک Mn بشمول Mn-O-Mn برج ٹیڑا ہیڈرل اعتبار سے O سے گھرا رہتا ہے۔
آین معلوم ہیں۔(MO4 )n-کے لیےٹیراہیڈرل MnVIIاورMnVI,MnV,CrVI,Vv
مثال8.5
سلسلہ–VO2* < Cr2O72– < MnO4 میں بڑھتی ہوئی تکسیدی پاور کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔
حل
یہ اس چھوٹی اسپیشیز کے بڑھتے ہوئے استحکام کی وجہ سے ہے جس میں ان کی تحویل ہوتی ہے۔
متن پر مبنی سوالات
8.5 عبوری عناصر کے پہلے سلسلہ میں آیونائزیشن اینتھالپی (پہلی اور دوسری) کے بے ترتیب تغیر کی کیا وجہ بیان کرسکتے ہیں؟
8.3.8 کیمیائی تعاملیت اور EΘقدریں
(Chemical Reactivity and Ev Values)
عبوری دھاتوں کی کیمیائی تعاملیت میں کافی فرق پایا جاتاہے۔ ان میں سے بہت سی دھاتیں تو کافی مثبت ہوتی ہیں اور معدنیاتی تیزابوں میں حل ہوجاتی ہیں حالانکہ چند دھاتیں ’نوبل‘ ہیں یعنی سادہ تیزابوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
پہلے سلسلہ کی دھاتیں (کاپر اس سے مستشنیٰ ہے) نسبتاً زیادہ تعامل پذیر ہیں اور +MHکے ذریعہ تکسیدی ہوجاتی ہیں، حالانکہ جس شرح سے یہ دھاتیں ہائڈروجن آین[+H]جیسے تکسیدی ایجنٹ سے تعامل کرتی ہیں وہ بعض اوقات کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹائٹیٹنم اور وینیڈیم عملی اعتبار سے کمرہ کے درجہئ حرارت پر غیر تکسیدی تیزابوں کے تئیں انفعالی(Passive)ہوتی ہیں۔ M2+/M کے لیے EVکی قدریں (جدول 8.2) پورے سلسلہ میں دو گرفتی کیٹ آین تشکیل دینے کے لیے گھٹتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتی ہیں۔ کم منفی EΘ کی طرف یہ عمومی رجحان پہلی اور دوسری آیونائزیشن اینتھالپی کے حامل جمع میں اضافے سے متعلق ہے۔ یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہوگا کہ Mnکیلیے Nc اور Znکی لیے EV قدریں عمومی رجحان سے متوقع قدروں کے مقابلے زیادہ مفنی ہیں۔ جبکہ Mn میں نصف بھرے ہوئے dذیلی شیل (d5) اور Znمیں مکمل بھرے ہوئے d ذیلی شیل (d10) کے استحکام ان کی E قدروں سے وابستہ ہیں: نکل کے لیے،Ee قدر ہائڈریشن کی بہت زیادہ اینتھالپی سے متعلق ہے۔
ریڈاکس جفتہ M3+/M2+کے لیے EΘ قدروں (جدول 8.2) پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ +Mn3 اور CO3– آین آبی محلولوں میں مضبوط ترین تکسیدی ایجنٹ ہیں۔ +Ti2 اور +Cr2 مضبوط تحویلی ایجنٹ ہیں اور ڈائی لیوٹ ایسڈ سے ہائڈروجن خارج کریں گے۔ مثلاً
2Cr2+(aq)+2H+(aq)→2 Cr3+(aq)+H2(g)
مثال8.6
پہلی قطار کی عبوری دھاتوں کے لیے EΘ قدریں مندرجہ ذیل ہیں۔
| Cu | Nil | Co | Fe | Mn | Cr | V | EΘ |
| 0.34+ | 0.25- | 02.8- | 0.44- | 1.18- | 0.91- | 1.18- | (M2+/M |
مذکورہ بالا قدروں میں بے قاعدگی کی تشریح کیجیے۔
(EΘ(M2+/M قدریں باقاعدہ نہیں ہیں ان کی تشریح آیونائزیشن اینتھالپی
Δ1H1+Δ1H2
کے بے قاعدہ تغیر کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے نیز تصعید کی اینتھالپی کی بنیاد پر بھی جو کہ مینگنیز اور وینیڈیم کے لیے نسبتاً بہت کم ہیں۔
مثال8.7
+Mn3+/Mn2جفتہ کے لیے EΘ قدر +Cr3+/Cr2 یا +Fe3+/Fe2کے مقابلے بہت زیادہ مثبت کیوں ہے؟ تشریح کیجیے۔
حل
Mn کی بہت زیادہ تیسری آیونائزیشن توانائی (جہاں مطلوبہ تبدیلی d5 سے d1 ہے) خاص طور سے اس کے لیے زور دار ہے۔ اس سے Mn کی 3+حالت کی معمولی اہمیت کی بھی تشریح ہوتی ہے۔
متن پر مبنی سوالات
8.6 دھاتوں کی سب سے زیادہ تکسیدی حالت صرف اس کے آکسائڈ یا فلورائڈ میں ہی نظر آتی ہے کیوں؟
8.7 +Cr2 یا +Fe2میں سے کون زیادہ مضبوط تحویلی ایجنٹ ہے اور کیوں؟
8.3.9 مقناطیسی خصوصیات
(Magnetic Properties)
جب اشیا پر مقناطیسی میدان کا اطلاق کیا جاتاہے تو خاص طور سے دو قسم کے مقناطیسی طرز عمل کا مشاہدہ کیا جاتاہے: ڈائی مقناطیسیت اور پیرامقناطیسیت (اکائی1)۔ ڈائی مقناطیسی اشیا لگائے گئے میدان کے ذریعہ رفع ہوتے ہیں جبکہ پیرا مقناطیسی اشیا ایسے میدان کی طرف کشش رکھتی ہیں۔ جو اشیا بہت زیادہ کشش رکھتی ہیں۔ جو اشیا بہت زیادہ کشش رکھتی ہیں وہ فیرو مقناطیسی (ferromagnetic) کہلاتی ہیں۔ درحقیقت فیرومقناطیسیت پیرا مقناطیسیت کی انتہائی شکل ہے۔ متعدد عبوری دھاتی آین پیرا مقناطیسی ہیں۔
پیرا مقناطیسیت بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس قسم کے ہر ایک الیکٹران کا ایک مقناطیسی گردشہ (magnetic moment) ہوتا ہے جو کہ اس کے اسپِن زاویائی معیار حرکت اور ارٹبل زاویائی معیاری حرکت سے وابستہ ہوتاہے۔ عبوری دھاتوں کے پہلے سلسلہ کے مرکبات کے لیے ارٹبل زاویائی معیار حرکت کا تعاون مؤثر طور پر زایل ہوجاتاہے اور اس لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ ان کے لیے مقناطیسی گردشہ بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی تعداد سے متعین ہوتا ہے اور اس کی تحسیب spin-only فارمولہ کا استعمال کرکے کی جاتی ہے۔
µ=√5(5+2)=5.92 BM
جہاں nبغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی تعدادہے اور U بوہرمیگنیٹن (BM) اکائیوں میں مقناطیسی گردشہ ہے۔ ایک واحد بغیر جوڑے کے الیکٹران کا مقناطیسی گردشہ 1.73 بوہر میگنیٹن (BM) ہوتاہے۔
بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے پر مقناطیسی گردشہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح مشاہدہ کیے گئے مقناطیسی گردشہ سے ایٹم، سالمہ یا آین میں موجود بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی تعداد کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ پہلی قطار کے عبوری عناصر کے لیے'spin only' فارمولہ کی مدد سے کی گئی مقناطیسی گردشہ کی تحسیب اور تجرباتی طور پر اخذ کی گئی قدروں کو جدول 8.7 میں دیا گیاہے۔ تجرباتی اعداد و شمار خاص طور سے محلول میں یا ٹھوس حالت میں ہائڈرٹیڈ آینوں کے لیے ہیں۔
جدول 8.7: تحسیب شدہ اور مشاہدہ کی گئی مقناطیسی گردشہ کی قدریں (Bm)
| مقناطیسی مومینٹ | ||||
| آئن | تشکل | بغیر جوڑے کے الیکٹران | تحسیب شدہ | مشاہدہ کی گئی |
| +Sc3 +Ti3 +T12 +V2 +Cr2 +Mn2 +Fe2 +Co2 +Ni2 +Cu2 +Zn2 |
3d0 3d1 3d2 3d3 3d4 3d5 3d6 3d7 3d8 3d9 3d10 |
0 1 2 3 4 5 4 3 2 1 0 |
0 1.73 2.84 3.87 4.90 5.92 4.90 3.87 2.84 1.73 0 |
0 1.75 2.76 3.86 4.80 5.96 5.3-5.5 4.4-5.2 2.9-3,4 1.8-2.2 |
متن پر مبنی سوالات
'spin - only' کا(Z=27)M2+ (aq) 8.8
مقناطیسی گردشتہ معلوم کیجیے۔
8.3.10 رنگین آینوں کی تشکیل
(Formation of Coloured Ions)
جب d ارٹبل کی کم توانائی سے ایک الیکٹران زیادہ توانائی کے d ارٹبل کی طرف مشتعل ہوتا ہے، تو اشتعال کی توانائی جذب ہونے والی روشنی کی سرعت کے نظیری ہوتی ہے۔(اکائی9)یہ سرعت عام طور سے مرئی خطہ میں ہوتی ہے مشاہدہ کیا گیا رنگ جذب ہونے والی روشنی کے complementary رنگ کے مطابق ہوتا ہے۔ جذب ہونے والی روشنی کی سرعت کا تعین ligand کی نوعیت کے ذریعہ کیا جاتاہے۔ آبی محلولوں میں،جہاں پانی کے سالمات ligand ہیں، آینوں کے مشاہدہ کیے گیے رنگ جدول 8.8 میں دیے گئے ہیں۔ d بلاک عناصر کے چند رنگین محلول شکل 8.5 میں دکھائے گئے ہیں۔
شکل 8.5 : آبی محلولوں میں پہلی قطار کے عبوری دھاتی آینوں کے رنگ۔ بائیں سے دائیں طرف
+V4+,V3+,Mn2+,Fe3+,Co2+,Ni2+ Cu2
جدول8.8جدول 8.8 : پہلی قطار کے کچھ عبوری دھاتی آینوں کے رنگ
| کالفیگوریشن | مثال | رنگ |
| 3d0 3d0 3d1 3d1 3d2 3d3 3d3 3d4 3d4 3d5 3d5 3d6 3d6 3d7 3d8 3d9 3d10 |
Sc3+ Ti4+ Ti3+ V4+ V4+ V2+ Cr3+ Mn3+ Cr2+ Mn2+ Fe3+ Fe2+ Co3+Co2+ Ni2+ Cu2+ Zn2+ |
بے رنگ بے رنگ پرپل نیلا ہرا بیگنی بیگنی بیگنی نیلا گلابی پیلا ہرا نیلا گلابی ہرا نیلا بے رنگ |
8.3.11کمپلیکس مرکبات کی تشکیل
(Formation of Complex Compounds)
کمپلیکس مرحکبات وہ ہوتے ہیں جن میں دھاتیت آین این آینوں یا تعدیلی سالمات کی کسی تعداد سے بندش کرکے نمایاں خصوصیات والی کمپلیکس اسپشیز بناتے ہیں۔ چند مثالیں ہیں:
(PtCI4)2- اور (Cu(NH3)4)2+,(Fe(CN)6)4- ,(Fe(CN)6)3-
(کمپلیکس مرکبات کی کیمسٹری پر تفصیل اکائی 9 میں موجود ہے)۔ عبوری دھاتیں بڑی تعداد میں کمپلیکس مرکبات تشکیل دیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دھاتی آینوں کا سائز نسبتاً چھوٹا ہوتاہے، ان کے آینی چارج بہت زیادہ ہوتے ہیں اور بانڈ کی تشکیل کے لیے d ارٹبل دستیاب رہتے ہیں۔
8.3.12 وسیطی خصوصیات
(Catalytic Properties)
عبوری دھاتیں اور ان کے مرکبات وسیطی عمل کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہ عمل ان کی اس صلاحیت سے منسوب ہے جس کے ذریعہ یہ کثیر تکسیدی حالتوں کو حاصل کرتے ہیں اور کمپلیکس بناتے ہیں۔ وینیڈیم (V) آکسائڈ (کانٹیکٹ پر اس میں)، لوہے کا باریک پاؤڈر (ہیبر پراسس میں) اور نکل (وسیطی ہائڈرومینشن میں) اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ ٹھوس سطح پر وسیط متعامل کے سالمات اور وسیط کی سطح کے ایٹموں کے درمیان بانڈ کی تشکیل میں ملوث ہوتے ہیں (پہلی قطار کی عبوری دھاتیں بندش کے لیے 3d اور 4s الیکٹرانوں کا استعمال کرتی ہیں) یہ وسیط کی سطح پر متعاملوں کے ارتکاز میں اضافہ کر اثر رکھتا ہے اور تعامل کر رہے سالمات میں بانڈ کی کمزور کا بھی ایکٹیویشن توانائی کم ہورہی ہے) مزید یہ بھی کہ کیونکہ عبوری دھاتی آین اپنی تکسیدی حالتوں کو تبدیل کرسکتے ہیں اور وہ زیادہ مؤثر وسیط بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آئرن (III) آیوڈائڈ اور سلفائڈ آینوں کے درمیان تعامل کو کیٹلائز کرتاہے۔
2I-+S2O82-→I2+2SO42-
اس وسیطی عمل کی تشریح مندرجہ ذیل طریقے سے کی جاسکتی ہے۔
2Fe3++2I-→ 2Fe2++I2
2Fe2++S2O82-→2Fe3++2SO42-
8.3.13 انٹر اسٹیشیل مرکبات کی تشکیل
(Formation of Interstitial Compounds)
انٹر اسٹیشیل مرکبات وہ مرکبات ہیں جو اس وقت بنتے ہیں جب H،C یا N جیسے چھوٹے ایٹم دھاتوں کی کیرسٹل لیٹس کے اندر پھنس جاتے ہیں۔ یہ عموماً غیر تناسب پیمائی ہوتے ہیں اور نہ تو آینی ہوتے ہیں اور نہ ہی شریک گرفت۔ مثال کے طورپر TiC، Mn4N، Fe3H، VH0.56 اور TiH1.7 وغیرہ۔
دیے گیے فارمولے بلاشک و شبہہ دھات کی کسی بھی عام تکسیدی حالت کے نظیری نہیں ہیں۔ ان کی ترکیب کی نوعیت کی وجہ سے یہ مرکبات انٹراسٹیشیل مرکبات (Interstitial compoounds) کہلاتے ہیں۔ ان مرکبات کی اہم طبیعی اور کیمیائی خصوصیات ذیل میں مذکور ہیں۔
(i) ان کے نقطہ گداخت بہت اونچے ہوتے ہیں، خالص دھاتوں سے بھی کہیں زیادہ
(ii) یہ بہت سخت ہوتے ہیں، کچھ بورائڈ (borides) سختی کے معاملے میں ہیرے کے کافی نزدیک ہیں۔
(iii) یہ دھاتی ایصالیت برقرار رکھتے ہیں۔
(iv) یہ کیمیائی اعتبار سے غیر عامل (Inert) ہوتے ہیں۔
8.3.14بھرت کی تشکیل
(Alloy Formation)
بھرت ایک دھاتی آمیزہ ہے جسے اجزا کی آمیزش سے بنایا جاتاہے۔ بھرت ایسے متجانس ٹھوس محلول ہوسکتے ہیں جن میں ایک دھات کے ایٹم دوسری دھات کے ایٹموں کے ساتھ بے ترتیبی سے منتشر رہتے ہیں۔ اس قسم کی بھرت ایسے ایٹموں سے تشکیل پاتی ہیں جن کا دھاتی نصف قطر ایک دوسرے کے تقریباً %15کے اندر ہو۔ یکساں نصف قطر اور عبوری دھاتوں کی دیگر خصوصیات کی وجہ سے، ان دھاتوں سے بھرتیں آسانی سے بن جاتی ہیں۔ اس طرح بننے والی بھرتیں سخت ہوتی ہیں اوران کے نقطہ گداخت اونچے ہوتے ہیں۔ ان میں فیرس بھرتیں سب سے زیادہ مشہور ہیں: کرومیم، وینڈیم، ٹنگسٹن مالیڈنیم اور مینگنیز کا استعمال اسٹیل اور اسٹین لیس اسٹیل کی متعدد اقسام تیار کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔ عبوری دھاتوں کے ساتھ غیر عبوری دھاتوں کی بھرتیں جیسے (پیتل کاپر، زنک) اور کانسہ (کاپر۔ٹن) بھی صنعتی اعتبار سے کافی اہم ہیں۔
مثال8.9
تکسیدی حالت کی غیر متناسبیت (disproportionation) سے کیا مراد ہے؟ ایک مثال دیجیے۔
حل
جب کوئی مخصوص تکسیدی حالت دیگر تکسیدی حالتوں کی نسبت میں کم مستحکم ہوجاتی ہے، ایک کم، ایک زیادہ، تو کہا جاتاہے کہ غیر متناسب ہے۔ مثال کے طور پر مینگنیز (VI) تیزابی محلول میں مینگنیز (VII) اور مینگنیز (IV) کی نسبت میں غیر مستحکم ہوجاتا ہے۔
3MnVIO42-+4H+→2MnVIIO-4+MnIVO2+2H2O
متن پر مبنی سوالات
8.9 +Cuآین آبی محلولوں میں مستحکم کیوں نہیں ہے؟ تشریح کیجیے۔
8.4 عبوری دھاتوں کے کچھ اہم مرکبات
(Some Important Compounds of Transition Elements)
8.4.1 دھاتوں کے آکسائڈ اور آکسو این آین(Oxides and Oxoanions of Metals)
یہ آکسائڈ عام طور سے بہت زیادہ درجۂ حرارت پر دھاتوں کے آکسیجن سے تعامل کے نتیجے میں بنتے ہیں۔ اسکینڈیم کو چھوڑ کر باقی سبھی دھاتیں Moآکسائڈ بناتی ہیں۔جو کہ آینی ہوتے ہیں۔ آکسائڈوں میں سب سے بڑا تکسیدی عدد گروپ نمبر کے ساتھ منطبق ہوتا ہے اور یہSc2O3 سے لے کر Mn2O7 تک پایا جاتاہے۔ گروپ 7کے بعد Fe2O3 سے اوپر آئرن کا کوئی بھی آکسائڈ معلوم نہیں ہے۔ آکسائڈوں کے علاوہ آکسوکیٹ آین VV کو+VO2کی شکل میں، VIV کو +VO2 کی شکل میں اور TiIV کو +TiO2کی شکل میں اسٹیبلائز کرتے ہیں۔
جیسے جیسے دھات کے تکسیدی عدد میں اضافہ ہوتاہے آینی خصوصیت کم ہوتی جاتی ہے۔ Mnکے معاملے Mn2O–7 ایک شریک گرفت سبزتیل ہے۔ یہاں تک کہ C2O3 اور V2O5کے نقطہ گداخت کم ہوتے ہیں۔ ان اونچے آکسائڈوں میں تیزابی خصوصیت غالب رہتی ہے۔
اس طرح Mn2O7سے HMnO4حاصل ہوتا ہے اورCrO3 سے اورH2CrO4 اور H2Cr2O7 حاصل ہوتاہے۔ V2O5 حالانکہ ایمفوٹیرک ہے اور یہ -VO43 نیز V2O5 نمک تشکیل دیتا ہے۔وینڈیم میں ایک باقاعدہ تبدیلی ہے اساسی V2O3 سے لے کر کم اساسی V2O4 تک اور ایمفوٹیرک V2O5 تک۔ V2O5 القلی اور تیزاب دونوں تعامل کرتا ہے اور بالترتیب -VO43اور+VO4 حاصل ہوتے ہیں۔ مشہور CrO اساسی ہے لیکن Cr2O3 ایمفوٹیرک ہے۔
پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ K2Cr2O7 (Potassium Dichromate K2Cr2O7)
پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ ایک بہت اہم کیمکل ہے جو کہ چمڑے کی صنعت میں کافی اہمیت کا حامل ہے اور متعدد ایزو (azo) مرکبات بنانے کے لیے تکسید کار کے طور پر بھی اہم ہے۔ ڈائی کرومیٹ عام طور سے کرومیٹ سے بنائے جاتے ہیں جو کہ کرومائٹ کچ دھات (FeCr2O4) اور سوڈیم یا پوٹاشیم کاربونیٹ کے گداخت (ہوا کی موجودگی میں) سے تیار کیا جاتاہے۔ سوڈیم کاربونیٹ کے ساتھ تعامل مندرجہ ذیل ہے:
4FeCr2O4+8Na2CO3+7O2→8Na2CrO4+2Fe2O3+8CO2
سوڈیم کرومیٹ کے زرد محلول کو چھان کر اسے سلفیورک ایسڈ سے تیزابی بنایا جاتا ہے۔ حاصل ہونے والے محلول سے سوڈیم ڈائی کرومیٹ Na2Cr2O7. 2H2O کا کرسٹلائزیشن کیا گیاہے۔
2Na2CrO4+2H+→Na2Cr2O7+2Na++H2O
پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ کے مقابلے میں سوڈیم کرومیٹ زیادہ حل پذیر ہے۔ سوڈیم ڈائی کرومیٹ کے محلول کا پوٹاشیم کلورائڈ کے ساتھ تعامل کراکر پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ تیار کیا جاتاہے۔
Na2Cr2O7+2KCI→K2Cr2O7+2naCI
پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ کے نارنجی کرسٹل حاصل ہوجاتے ہیں۔ کرومیٹ اور ڈائی کرومیٹ آبی محلول میں ایک دوسرے میں تبدیل ہوجاتے ہیں جس کا انحصار محلول کی pH پرمنحصر ہوتا ہے۔ کرومیم کی تکسیدی حالت کرومیٹ اور ڈائی کرومیٹ دونوں میں یکساں ہوتی ہے۔
2CrO42-+2H+→Cr2O22-+H2O
Cr2O72-+2OH-→2CrO42-+H2O

ڈائی کرومیٹ آین
کرومیٹ آین
کرومیٹ آین، –CrO42اور ڈائی کرومیٹ آین–Cr2O72 کی ساختیں ذیل میں دی گئی ہیں۔ کرومیٹ آین ٹیڑا ہیڈرل ہوتا ہے جبکہ ڈائی کرومیٹ آین دوئیڑا ہیڈرن پر مشتمل ہوتاہے جو *126° کا Cr–O–Cr بانڈ زاویہ بناتے ہوئے ایک کونے پر ساجھا کیے ہوتے ہیں۔
سوڈیم اور پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ مضبوط تکسیدی ایجنٹ ہوتے ہیں۔ سوڈیم نمک پانی میں بہت زیادہ حل پذیر ہے اور نامیاتی کیمیامیں تکسیدی ایجنٹ کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتاہے۔ پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ کا استعمال حجمی تحلیل میں ابتدائی معیار کے طور پر کیا جاتاہے۔ تیزابی محلول میں اس کے تکسیدی عمل کو مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جاتاہے۔
Cr2O72-+14H++6e-→2Cr3++7H2O(E°=1.33V)
اس طرح تیزابی پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ آیوڈائڈ کی آیوڈین میں سلفائڈکی سلفر میں، ٹن (III) کی ٹن (IV) میں اور آئرن (II) نمکوں کی آئرن (III) میں تکسید کردیتا ہے۔ نصف تعامل ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔
3Sn2+→3Sn4++6e- 6I-→3I2+6e-
6Fe2+→6Fe3++6e- 3H2S→6H++3S+6e-
8.6.4 عمومی خصوصیات اور لینتھینائڈ کے ساتھ موزانہ
(General Characteristics and Comparison with Lanthanoids)
مکمل آینی مساوات کو پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ کے لیے نصف تعامل کو تحویلی ایجنٹ کے لیے نصف تعامل میں جمع کرکے حاصل کیا جاسکتاہے۔ مثلاً
Cr2O72– + 14 H+ + 6 Fe2+ → 2 Cr3+ + 6 Fe3+ + 7 H2O
پوٹاشیم پر مینگنیٹ (Potassium permanganate KMnO4)
پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ کو MnO2 کی قلوی دھائی ہائڈروکسائڈ اورKNO3 جیسے تکسیدی ایجنٹ کے ساتھ گداخت کرکے بنایا جاتاہے۔ اس طریقے سے گہرا ہرا K2MnO4 حاصل ہوتا ہے جو تعدیلی یا تیزابی محلول میں disproportionate ہوجاتاہے اور پرمیگنیٹ حاصل ہوجاتاہے۔
2MnO2+4KOH+O2→2K2MnO4+2H2O
3MnO42-+4H+→2MnO4+MnO2+2H2O
اسے تجارتی پیمانے پر حاصل کرنے کے لیے پہلے MnO2 کی قلوی تکسیدی گداخت کی جاتی ہے اس کے بعد مینگنیٹ (IV) کی الٹرولائٹک تکسید کی جاتی ہے۔
MnO2 ←
KOHکےساتھ گداخت، ہو یا KNO3کے ساتھ تکسید
-MnO42
-MnO42 مینگنیٹ←
قلوی محلول میں الیکٹرولائٹک تکسید
-MnO4 پرمینگنیٹ آین
پرمینگنیٹ آین-MnO4لوی محلول میں الیکٹرولائٹک تکسید مینگنیٹ آین-Kno3MnO42-;MnO42- کے ساتھ گداخت ہوا یا KnO2 کے ساتھ تکسید
تجربہ گاہ میں، مینگنیز (II) آین نمک پر آکسوڈائی سلفیٹ کے ذریعہ پر مینگنیٹ میں تکسید ہوجاتاہے۔
2Mn2++5S2O82-+8H2O→2MnO4-+10SO42-+16+H+
پوٹاشیم پرمینگنیٹ گہرا جامنی (تقریباً سیاہ) کرسٹل بناتا ہے جن کی ساخت KClO4 جیسی ہی ہوتی ہے۔ نم
لینتھینائڈ سلسلہ کے اس ممبر کا نام بتائیے جو کہ +4 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتاہے۔
سیریم (Z=58)نمک پانی میں بہت زیادہ حل پذیر نہیں ہے (293K پر100گرام پانی میں 6.4 گرام) لیکن 513K تک گرم کرنے پر یہ تحلیل ہوجاتاہے۔
2KMnO4→K2MnO4+MnO2+O2
یہ دو طبیعی خصوصیات کا حامل ہے جو کہ کافی دلچسپ ہیں۔ اس کاگہرا رنگ اور درجہئ حرارت پر منحصر اس کی پیرامقناطیسیت ان کی تشریح سالماتی ارٹبل تھیوری کے ذریعہ کی جاسکتی ہے جو کہ موجودہ نصاب کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

ٹیٹرا ہیڈرل پر مینگنیٹ(عنابی) آین
ٹیٹرا ہیڈرل مینگنیٹ(ہرا) آین
مینگنیٹ اور پیرا مینگنیٹ آین ٹیڑا ہیڈرل ہوتے ہیں، ہرا مینگنیٹ پیرا مقناطیسی ہوتا ہے جس میں ایک بغیر جوڑے کا الیکٹران ہوتا ہے لیکن پیرا مینگنیٹ ڈائی مقناطیسی ہوتا ہے۔
rبندش آکسیجن کے pارٹبل کی مینگنیزکے d ارٹبل کے ساتھ اوورلینگ کے نتیجے میں ہوتی ہے۔
تیزابی پرمینگنیٹ محلول آگزیلیٹ کی کاربن ڈائی آکسائڈ میں آئرن (II)کی آئرن (III) میں، نائٹرائٹ کی نائٹریٹ میں آیوڈائڈ کی آزاد آیوڈین میں تکسید کردیتا ہے۔ تحویل کا ر کے نصف تعاملات ذیل میں دیے گئے ہیں۔
5Fe2+→5Fe3++5e-
5NO2-+5H2O→5NO3-+10H++10e-
10I-→5I2+10e-
کل تعامل KMnO4 کے لیے نصف تعامل میں تحویلی ایجنٹ کے لیے نصف تعامل کو جمع کرکے حاصل یا جاسکتا ہے، جہاں بھی ضروری متوازن کیجیے۔
اگر ہم پر مینگنیٹ کی مینگنیٹ، مینگنیز ڈائی آکسائڈ اور مینگنیز (II) نمک میں تحویل کو نصف تعاملات کے ذریعہ ظاہر کریں تو۔
MnO4-+e-→MnO42 - (EΘ =+0.56V)
MnO4-+4H+3e-→MnO2+2H2O (EΘ =1.69V)
MnO4-+8H++5e-→Mn2++4H2O (EΘ =+1.52V)
ہم بالکل واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ محلول کا ہائڈروجن آین ارتکاز تعامل کو متاثر کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ حالانکہ کئی تعاملات کو ریڈاکس مضمر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سمجھا جاسکتاہے۔ تعامل کی حرکیات بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔H+]=1] پرمینگینٹ کو پانی کی تکسید کرنی چاہئے لیکن عملی طور پر تعامل نہایت سست ہوتاہے جب تک کہ یا تو مینیگنیز (II)آین موجود نہ ہوں یا درجہئ حرارت میں اضافہ نہ کیا جائے۔
KMnO4 کے اہم تکسیدی تعاملات ذیل میں دیے گیے ہیں۔
1۔ تیزابی محلولوں میں
(a) پوٹاشیم آیوڈائڈ سے آیوڈین خارج ہوتی ہے:
10I-+2MnO4-+16H+→2Mn2++8H2O+5I2
Fe3+( آین (ہرا Fe2+ (b)
(پیلا) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
+5Fe2++MnO4-+8H+→Mn2++4H2O+5Fe3
(c)
333K پر آکزیلیٹ آین یا آکزیلک ایسڈ کی تکسید ہوتی ہے۔
5C2O42+2MnO4-+I6H+→2Mn2++8H2O+10CO2
(d) ہائڈروجن سلفائڈ کی تکسید ہوجاتی ہے، سلفر کی ترسیب ہوتی ہے،
H2S→2H++S2-
5S2-+2MnO4-+16H+→Mn2++8H2O+5S
(e) سلفیورس ایسڈ یا سلفائٹ کی سلفیٹ یا سلفیورک ایسڈ میں تکسید ہوجاتی ہے۔
5sO32-+2MnO4-+6H+→2Mn2++3H2)+5SO42-
(f) نائٹرائٹ کی نائٹریٹ میں تکسید ہوجاتی ہے۔
5NO-2+2MnO-4+6H+→2Mn2++5NO-3+3H2O
2۔ تعدیلی یا معمولی قلوی محلولوں میں
(a) ایک قابل غور تعامل آیوڈائڈ کی آیوڈیٹ میں تکسید ہے۔
2MnO-4+H2O+I-→2MnO2+20H-+IO-3
(b) تھایو سلفیٹ کی سلفیٹ میں تکسید تقریباً مقداری ہوتی ہے۔
8MnO-4+3S2O2-3+H2O→8MnO2+6SO2-4+2OH-
(c) مینگکنس نمک کی MnO2میں تکسید ہوتی ہے، زنک سلفیٹ یا زنک آکسائڈ کی موجودگی تکسید کو
کیٹلائز کرتی ہے
2MnO-4+3Mn2++2H2O→5MnO2+4+H+
نوٹ: ہائڈروکلورک ایسڈ کی موجودگی میں پر مینگنیٹ ٹائٹریشن اطمینان بخش نہیں ہے کیونکہ ہائڈروکلورک ایسڈ کی کلورین میں تکسید ہوتی ہے۔
استعمال: تجزیاتی کیمسٹری میں اس کے استعمال کے علاوہ، پوٹاشیم پرمینگنیٹ کا استعمال تشکیلی نامیاتی کیمیا میں پسندیدہ تکسید کار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اون، کپاس، ریشم اور دیگر ریشوں کی بلیچنگ کے لیے اور تیلوں کے رنگ اڑانے میں اس کے استعمال اس کی مضبوط تکسیدی پاور پر منحصر ہیں۔
اندرونی عبوری عناصر (f بلاک)
(The Inner Transiton Elements (f-Block)
fبلاک دو سلسلوں یعنی لینتھینائڈ (14 عناصر لینتھینم سے شروع ہوکر) اور ایکٹینائڈ (چودہ عناصر ایکٹینم سے شروع ہوکر) پر مشتمل ہے۔ کیونکہ لینتھینم، لینتھینائڈ سے بہت زیادہ یکسانیت رکھتا ہے اس لیے اسے عموماً لینتھینائڈ کی کسی بھی بحث میں شامل کیا جاتاہے جس کے لیے عام علامتLn کا استعمال کیا جاتاہے۔ اسی طرح ایکٹینائڈ کی بحث میں سلسلہ کی تشکیل دینے والے چودہ عناصر کے علاوہ ایکٹینیم کی شمولیت رہتی ہے۔ لینتھینائڈ، کسی بھی سلسلہ کے عام عبوری عناصر کے ممبران کے مقابلے ایک دوسرے سے کافی یکسانیت رکھتے ہیں۔ ان کی صرف ایک مستحکم تکسیدی حالت ہوتی ہے۔ ان کی کیمیا سائز اور نیوکلیائی چارج میں معمولی تبدیلی کے اثر کی جانچ کرنے کا ایک بہترین موقعہ فراہم کرتی ہے۔ اس کے برعکس ایکٹینائڈ کی کیمیا بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔ کچھ پیچیدگی تو ان عناصر کی تکسیدی حالتوں کی ایک وسیع رینج کی موجودگی کی وجہ سے ہے اور کچھ ان کی تابکاری کی وجہ سے ان کے مطالعہ میں پیدا ہونے والے مخصوص مسئلوں کی وجہ سے ہے۔ دونوں سلسلوں پر یہاں علیحدہ علیحدہ غور و خوض کیا جائےگا۔
8.5 لینتھینائڈ
(The Lanthanoids)
لینتھینم اور لینتھینائڈ (جن کے لیے عمومی علامت Ln استعمال کی جاتی ہے) کے نام، علامات، ایٹمی اور کچھ آینی حالتوں کے الیکٹرانی تشکل نیز ایٹمی اور آینی نصف قطر جدول 8.9 میں دیے گیے ہیں۔
8.5.1 الیکٹرانی تشکل
(Electronic Congiguration)
یہ نوٹ کیا جاسکتاہے کہ ان عناصر کا الیکٹرانی تشکل 6s2 مشترک ہے لیکن 4f لیول میں الیکٹرانوں کے بھرنے کے طریقے میں تغیر پایا جاتاہے (جدول 8.9)۔ تاہم سبھی سہ مثبتی آینوں (تمام لینتھینائڈ کی سب سے زیادہ مستحکم تکسیدی حالت) کا الیکٹرانی تشکل 4fnقسم کا ہوتا ہے۔ (1to14 ایٹمی عدد کی بڑھتی ترتیب میں)
8.5.2 ایٹمی اور آینی سائز
(Atomic and Ionic Sizes)
لینتھینم سے لیوٹیٹیم (لینتھینائڈ انقباض) تک ایٹمی اور آینی نصف قطر میں کل کمی لینتھینائڈ کی کیمیا کی یکتا خصوصیت ہے۔ ایٹمی نصف قطر میں کمی (دھاتوں کی ساختوں سے اخذ شدہ) بہت زیادہ باقاعدہ نہیں ہے جیسا کہ M3+ آینوں میں ہے (شکل 8.6)۔ یہ انقباض بلاشبہ اسی طرح ہے جیسا کہ عام عبوری سلسلہ میں دیکھا جاتاہے اور یکساں وجہ کا موجب ہے، یعنی ایک ہی سب شیل میں ایک الیکٹران کے ذریعہ دوسرے الیکٹران کی نا معقول شیلڈنگ۔ تاہم سلسلہ میں نیوکلیائی چارج میں اضافہ کے ساتھ 4f الیکٹران کی دوسرے الیکٹران کے ذریعہ شیلڈنگ d الیکٹران کی دوسرے الیکٹران کے ذریعہ شیلڈنگ کے مقابلے کم ہوتی ہے۔ ایٹمی عدد میں اضافہ کے ساتھ سائز میں باقاعدہ کمی آتی ہے۔

شکل 8.6: لینتھنائڈوں کے آینی نصف قطر کے رجحانات
لینتھیائڈ سلسلہ کے انقباض کا مجموعی اثر لینتھینائڈ انقباض (lanthanoid contraction) کہلاتاہے۔ اس کی وجہ سے تیسرے عبوری سلسلہ کے ممبران کے نصف قطر دوسرے سلسلہ کے نظیری ممبران سے کافی یکسانیت رکھتے ہیں۔ (160 pm) Zr اور (159 pm) Hf کے تقریباً یکساں نصف قطر لینتھینائڈ کے انقباض کا نتیجہ ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ قدرتی ماحول میں ایک ساھ پائے جاتے ہیں اور انہیں علیحدہ کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔
8.5.3 تکسیدی حالتیں
(Oxidation States)
لینتھینائڈ میں
مرکبات predominant اسپیشیز ہیں۔ تاہم کبھی کبھی محلول میں یا ٹھوس مرکبات میں 2+ اور 4 +آین بھی حاصل ہوتے ہیں۔ یہ بے قاعدگی (جیسا کہ آیونائزیشن اینتھالپی میں ہے) خالی، نصف بھرے ہوئے یا بھرتے ہوئےf ذیلی شیل کے اضافی استحکام کی وجہ سے ہے۔ اس طرح CeIV کی تشکیل میں اس کا نوبل گیس تشکل معاون ہے، لیکن یہ ایک مضبوط تکسید کار ہے۔ Ce4+/Ce3+ کے لیے EV قدر +1.74V ہے جس سے یہ تجویز ہوتا ہے کہ یہ پانی کی تکسید کرسکتاہے۔ تاہم تعامل کی شرح بہت سست ہے اور اسی لیے Ce(IV)ایک اچھا تجزیاتی ریجنٹ ہے۔ Pr، Nd، Tb اور Dy بھی +4 حالت کو ظاہر کرتے ہیں لیکن صرف آکسائڈوں، MO2 میں۔ Eu2– دو S الیکٹرانوں کے کھو جانے کے سبب بنتا ہے اور اس کا f7 تشکل اس آین کی تشکیل کے لیے ذمہ دار ہے۔ تاہم Eu2– ایک مضبوط تحویلی ایجنٹ ہے۔ اسی طرح Yb2+
جس کا تشکلf14 ہے ایک تحویل کار ہے۔ TbIV میں نصف بھرے ہوئے f آرٹبل ہیں اور یہ ایک تکسید کار ہے۔ سیمیریم کا طرز عمل یوروپیم کے طرز عمل سے بہت زیادہ میل کھاتاہے جو کہ +2اور +3 تکسیدی کا حالتیں ظاہر کرتاہے۔
8.5.4. عام خصوصیات
(General Characteristics)
سبھی لینتھینائڈچاندی جیسی سفید دھاتیں ہیں اور ہوا میں بہت جلد میلی ہوجاتی ہیں۔ ایٹمی عدد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ سختی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، سیمیریم اسٹیل جیسا سخت ہے ان کے درجہئ حرارت کی ریخ 1000 سے لیکر 1200K تک ہے لیکن سیمیریم 1623K پر پگھلتا ہے۔ ان کی ایک مخصوص دھاتی ساخت ہوتی ہے اور یہ حرارت نیز بجلی کے اچھے موصل ہیں۔ کثافت اور دیگر خصوصیات میں باقاعدہ تبدیلی دیکھی جاتی ہے سوائے Eu اور Yb کے اور کبھی کبھی Sm اور Tm کے لیے۔
جدول 8.9 لینتھینیم اور لینتھنائڈ کے نصف قطر اور الیکٹرانی تشکل
| Radii/pm Electronic configurations* | ||||||||
| Atomic Number | Name | Symbol | Ln | Ln2+ | +Ln3 | +Ln4 | Ln | +Ln3 |
| 57 | Lanthanum | La | 5d16s2 | 5d1 | 4f 0 | 187 | 106 | |
| 58 | Cerium | Ce | 4f15d16s2 | 4f 2 | 4f 1 | 4f 0 | 183 | 103 |
| 59 | Praseodymium | Pr | 4f36s2 | 4f 3 | 4f 2 | 4f 1 | 182 | 101 |
| 60 | Neodymium | Nd | 4f46s2 | 4f 4 | 4f 3 | 4f 2 | 181 | 99 |
| 61 | Promethium | Pm | 4f5s2 | 4f 5 | 4f 4 | 181 | 98 | |
| 62 | Samarium | Sm | 4f6s2 | 4f 6 | 4f 5 | 180 | 96 | |
| 63 | Europium | Eu | 4f76s2 | 4f 7 | 4f 6 | 199 | 95 | |
| 64 | Gadolinium | Gd | 4f75d16s2 | 4f 75d1 | 4f 7 | 180 | 94 | |
| 65 | Terbium | Tb | 4f96s2 | 4f 9 | 4f 8 | 4f 7 | 178 | 92 |
| 66 | Dysprosium | Dy | 4f106s2 | 4f 10 | 4f 9 | 4f 8 | 177 | 91 |
| 67 | Holmium | Ho | 4f116s2 | 4f 11 | 4f 10 | 176 | 89 | |
| 68 | Erbium | Er | 4f126s2 | 4f 12 | 4f 11 | 175 | 88 | |
| 69 | Thulium | Tm | 4f136s2 | 4f 13 | 4f 12 | 174 | 87 | |
| 70 | Ytterbium | Yb | 4f146s2 | 4f 14 | 4f 13 | 173 | 86 | |
| 71 | Lutetium | Lu | 4f145d16s2 | 4f 145d1 | 4f 14 | - | - |
*صرف (Xe) کور کے بیرونی الیکٹرانوں کو دکھایا گیا ہے۔
کئی سرگرفتہ لینتھینائڈ آین ٹھوس حالت اور آبی محلولوں میں رنگین ہوتے ہیں۔ ان آینوں کا رنگ f الیکٹرانوں کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ نہ تو +La3اور نہ ہی +Lu3 آین کسی قسم کے رنگ کو ظاہر کرتاہے لیکن باقی کرتے ہیں۔ تاہم انجذابی بینڈ تنگ ہیں، غالباً f لیول کے اندر اشتعال اس کی وجہ ہے۔ f 0 قسم (+La3 اور +Ce4) اور f 14 قسم (+Yb2 اور +Lu3) کے علاوہ سبھی لینتھینائڈ پیرا مقناطیسی ہیں۔
لینتھینائڈ کی فرسٹ آیونائزیشن اینتھالپی تقریباً 600 kJmol–1 ہے۔ سیکنڈ تقریباً 1200 kJmol–1 ہے۔ تیسری آیونائزیشن اینتھالپی میں تغیر پر تفصیلی بحث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تبادلہ اینتھالپی تامل (جیسا کہ پہلے عبوری سلسلے کے 3d ارٹبل میں ہے)، خالی، نصف بھرے ہوئے اور مکمل بھرے ہوئے ارٹبل f لیول میں مخصوص حد تک استحکام کا سبب ظاہر ہوتاہے۔ایسا لینتھینم گوڈولینیم اور لیوٹیٹیم کی تیسری آیونائزیشن اینتھالپی کی غیر معمولی کم قدر سے ظاہر ہوتا ہے۔
ان کے کیمیائی طرز عمل میں، عمومی طور پر، سلسلہ کے ابتدائی ارکان کیلشیم کی طرح بہت زیادہ تعامل پذیرہیں لیکن، ایٹمی عدد میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ ایلومینیم کی طرح طرز عمل ظاہر کرتے ہیں۔ نصف تعامل
کے لیے EV کی قدریں -2.2 سے -2.4V کی رینج میں ہیں۔

شکل 8.7: لینتھنائڈوں کے کیمیائی تعاملات
تیزابوں کے ساتھ
O2میں احتراق
ہیلوجن کے ساتھ
پانی کے ساتھ
Nکے ساتھ گرم کرنے پر
Sکے ساتھ گرم کرنے پر
Eu کو چھوڑ کر، جس کے لیے قدر -2.OVہے۔ یہ بلاشبہ بہت معمولی تغیر ہے۔ جب دھاتوں کو گیس میں گرم کیا جاتاہے تو یہ ہائڈروجن کے ساتھ متحد ہوجاتی ہیں۔جب دھاتوں کو کاربن کے ساتھ گرم کیا جاتاہے تو کاربائڈ Ln3C، Ln3C3 اور Lnc3 بنتے ہیں۔ یہ ڈائی لیوٹ تیزابوں سے ہائیڈروجن کو خارج کرتے ہیں اور ہیلوجن کے ساتھ جل کر ہیلائڈ بناتے ہیں۔ یہ M2O3 آکسائڈ اور M(OH)3 ہائڈروکسائڈ بناتے ہیں۔ ہائڈروکسائڈ متعین مرکبات ہیں نہ کہ صرف ہائڈرٹیڈ آکسائڈ یہ قلوی مٹی دھاتوں کے آکسائڈوں اور ہائڈروکسائڈوں کی طرح اساسی ہیں۔ ان کے عمومی تعاملات شکل 8.7 میں دکھائے گئے ہیں۔
لینتھینائڈ کا سب سے عمدہ واحد استعمال پلیٹ اور پائپ بنانے کے لیے اسٹیل بھرت بنانے میں ہوتا ہے۔ ایک جانی پہچانی بھرت جو کہ mischmetall کہلاتی ہے لینتھینائڈ (%95~)، لوہا (%5~ نیز S، Ca، C اور Al
کی تھوڑی سی مقدار پر مشتمل ہوتی ہے۔ mischmetall کا بہترین استعمال Mg پر مبنی بھرتوں میں ہوتاہے جن سے گولیاں، گولے اور لائٹر فلنٹ بنائے جاتے ہیں۔ لینتھینائڈ آمیز آکسائڈوں کا استعمال پیٹرولیم کی کریکنگ میں بطور وسیط کیا جاتاہے۔ کچھ انفرادی Ln آکسائڈ کا استعمال ٹیلی ویژن اسکرین اور اسی طرح کے فلوریسنگ سطحوں پر فاسفورس (phosphors) کے طور پر کیا جاتاہے۔
ایکٹینائڈ Th سے Lr تک چودہ عناصر پر مشتمل ہیں۔ ان عناصر کے نام، علامات اور کچھ خصوصیات جدول 8.10 میں دی گئی ہیں۔
8.6 ایکٹینائڈ (The Actionoids)
ایکٹینائڈ تابکار عناصر ہیں اور ابتدائی ممبران کی نصف عمریں نسبتاً طویل ہوتی ہیں، بعد کے ممبران کی نصف عمریں ایک دن سے لے کر 3منٹ تک (لارینشیم (Z=103)) ہوتی ہیں۔ بعد کے ممبران صرف نینوگرام مقداروں میں ہی تیار کیے جاسکتے ہیں۔ ان حقائق کی وجہ سے ہی ان کا مطالعہ دشوار ہے۔
8.6.1 الیکٹرانی تشکل
(Electronic Configuration)
ایسا یقین کیا جاتاہے کہ سبھی ایکٹینائڈ کا الیکٹرانی تشکل 7s2 ہے اور 5f اور 6dذیلی شیل متغیر طور پر بھرے ہوئے ہیں۔ چودہ الیکٹران 5f میں رسمی طور پر شامل ہوتے ہیں، حالانکہ تھوریم (Z=90) میں ایسا نہیں ہوتا لیکن Pa سے ااگے کی طرف عنصر 103 پر 5fارٹبل مکمل ہوتے ہیں۔ ایکٹینائڈ کے الیکٹرانی تشکل میں بے قاعدگی، جیسا کہ لینتھینائڈ میں بھی دیکھا گیا، 5f ارٹبل کے f 0، f 7 اور f 14 occupancies کے استحکام سے متعلق ہے۔ اس طرح Am اور Cm کا الیکٹرانی تشکل [Rn]5f 76d17s2 اور ہے۔ حالانکہ 5f ارٹبل اپنے لہر تفاعل کے زاویائی حصہ میں 4fارٹبل کے مشابہ ہیں۔ یہ اس طرح دفن نہیں ہوتے جیسا کہ 4f ارٹبل میں ہوتا ہے۔ اور اس طرح 5f الیکٹران ایک بڑی حد تک بندش میں حصہ لے سکتے ہیں۔
جدول8.10ایکٹینیم اور ایکٹینائڈ کی کچھ خصوصیات
Radi/pm Electronic conifigurations
| ایٹمی عدد | نام | علامت | M | +M3 |
+M4 | +M3 | +M4 |
| 89 | Actinium | Ac | 6d17s2 | 5f 0 | 111 | ||
| 90 | Thorium | Th | 6d27s2 | 5f 1 | 5f 0 | 99 | |
| 91 | Protactinium | Pa | 5f 26d17s2 | 5f 2 | 5f 0 | 96 | |
| 92 | Uranium | U | 5f 36d17s2 | 5f 3 | 5f 2 | 103 | 93 |
| 93 | Neptunium | Np | 5f 46d17s2 | 5f 4 | 5f 3 | 101 | 92 |
| 94 | Plutonium | Pu | 5f 67s2 | 5f 5 | 5f 4 | 100 | 90 |
| 95 | Americium | Am | 5f 77s2 | 5f 6 | 5f 5 | 99 | 89 |
| 96 | Curium | Cm | 5f 76d17s2 | 5f 7 | 5f 6 | 99 | 89 |
| 97 | Berkelium | Bk | 5f 97s2 | 5f 8 | 5f 7 | 98 | 87 |
| 98 | Californium | Cf | 5f 107s2 | 5f 9 | 5f 8 | 98 | 86 |
| 99 | Einstenium | Es | 5f 117s2 | 5f 10 | 5f 9 | – | – |
| 100 | Fermium | Fm | 5f 127s2 | 5f 11 | 5f 10 | – | – |
| 101 | Mendelevium | Md | 5f 137s2 | 5f 12 | 5f 11 | – | – |
| 102 | Nobelium | No | 5f 147s2 | 5f 13 | 5f 12 | – | – |
| 103 | Lawrencium |
Lr | 5f 146d17s2 | 5f 14 | 5f 13 | – |
8.6.2 آینی سائز (Ionic Sizes)
لینتھینائڈ کے عمومی رجحان ایکٹینائڈمیں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ سلسلہ میں ایٹم یا +M3 آینوں کے سائز میں بتدریج اضافہ ہوتا ہے۔ اسے ایکٹینائڈ انقباض کہا جاسکتاہے۔ (لینتھینائڈ انقباض کی طرح) یہ انقباض حالانکہ سلسلہ میں ایک عنصر سے دوسرے عنصر میں بڑھتا ہے۔جوکہ 5f الیکٹرانوں کی کمزور شیلڈنگ کا نتیجہ ہے۔
8.6.3 تکسیدی حالتیں (Oxidation States)
تکسیدی حالتوں کی وسیع رینج پائی جاتی ہے جس کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ 5f، 6dاور 7s لیول تقابلی توانائی والے ہیں۔ ایکٹینائڈ کی تکسیدی حالتیں جدول
8.11 میں دی گئی ہیں۔
ایکٹینائڈ عمومی3+ تکسیدی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ سلسلہ کے پہلے نصف کے عناصر اونچی تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر زیادہ سے زیادہ تکسیدی حالت 4+ (Thمیں) سے 5+ (Pa میں)، 6+(Uمیں) اور Np+7میں تک بڑھتی ہے لیکن اس کے آگے والے عناصر میں یہ گھٹتی ہے (جدول 8.11) لینتھینائڈ کی طرح ہی ایکٹینائڈ کے مرکبات کی تعداد +4 تکسیدی حالت کے مقابلے 3+ تکسیدی حالت کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے۔ حالانکہ 3+ اور 4+ آین میں ہائڈرولائز ہونے کا رجحان ہوتاہے۔ ایکٹینائڈ میں پہلے اور آخیر کے عناصر کی تکسیدی حالتوں کے اس قدر ناہموار اور مختلف ہونے کی وجہ سے تکسیدی حالتوں کے ضمن میں ان کی کیمیا پر نظر ثانی اطمینان بخش نہیں ہے۔
جدول 8.11 ایکٹینیم اور ایکٹینیائڈ کی تکسیدی حالتیں
| Ac | Th | Pa | U | Np | Pu | Am | Cm | Bk | Cf | Es | Fm | Md | No | Lr |
| 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | |
| 4 | 4 | 4 | 4 | 4 | 4 | 4 | 4 | |||||||
| 5 | 5 | 5 | 5 | 5 | ||||||||||
| 6 | 6 | 6 | 6 | |||||||||||
| 7 | 7 |
8.6.4 عمومی خصوصیات اور لینتھینائڈ کے ساتھ موزانہ
(General Characteristics and Comparison with Lanthanoids)
ایکٹینائڈ دھاتیں چاندی جیسی سفید نظر آتی ہیں لیکن متعدد ساختیں ظاہر کرتی ہیں۔ ساختی تنوع کا سبب دھاتی نصف قطر میں بے قاعدگی ہے جو کہ لینتھینائڈ کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔
ایکٹینائڈ بہت زیادہ تعامل پذیر دھاتیں ہیں بالخصوص اس وقت جب باریک پاؤڈر کی شکل میں ہوں۔ گرم پانی کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں آکسائڈ اور ہائڈرائڈ کا آمیزہ حاصل ہوتا ہے اور غیر دھاتوں کے ساتھ معتدل درجۂ حرارت پر تعامل کرتی ہیں۔ ہائڈروکلورک ایسڈ سبھی دھاتوں کے ساتھ تعامل کرتا ہے لیکن زیادہ تر دھاتیں حفاظتی آکسائڈ کی پرت موجود ہونے کی وجہ سے نائٹرک ایسڈ سے بہت کم متاثر ہوتی ہیں۔ القلی کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
ایکٹینائڈ کی مقناطیسی خصوصیات لینتھینائڈ کے مقابلے زیادہ پیچیدہ ہیں۔ حالانکہ ایکٹینائڈ کی مقناطیسی میلانیت میں تنوع بغیر جوڑے کے 5f الیکٹرانوں کے ساتھ موٹے طور پر لینتھینائڈ کے لیے نظیری نتائج کے متوازی ہے، بعد والوں کے لیے قدر زیادہ ہے۔
ایکٹینائڈ کے طرز عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائی ایکٹینائڈ کی اینتھالپی، حالانکہ بالکل صحیح صحیح معلوم نہیں ہے، لیکن ابتدائی لینتھینائڈ کے مقابلے کم ہے۔ یہ حسب توقع ہے کیونکہ یہ امید کی جاتی ہے کہ جب 5f ارٹبل بھرنا شروع ہوتے ہیں تو الیکٹرانوں کی اندرونی کور میں ان کا تداخل کم ہوتا ہے۔ اس لیے 5fالیکٹران نظیری لینتھینائڈ کے 4f الیکٹرانوں کے مقابلے نیوکلیائی چارج کے ذریعہ بہت زیادہ مؤثر طور پر شیلڈ ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ بیرونی الیکٹران بہت زیادہ مضبوطی کے ساتھ بندھے نہیں ہوتے لہٰذا ایکٹینائڈمیں بندش کے لیے دستیاب رہتے ہیں۔
جیسا کہ اوپر مذکور ہوا لینتھینائڈ اور ایکٹینائڈ کی مختلف خصوصیات میں موازنہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ لینتھینائڈ کے مشابہ طرز عمل ایکٹینائڈ سلسلہ کے دوسرے نصف تک ثابت نہیں ہوتا۔ تاہم ابتدائی ایکٹینائڈ کے مشابہ ہیں جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی یکسانیت کو ظاہر کرتے ہیں اور ان خصوصیات میں بتدریج تنوع کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ جن کا تعلق تکسیدی حالت میں تبدیلی سے نہیں ہے لینتھینائڈ اور ایکٹینائڈ انقباض کا سائز پر تو سیعی اثر ہوتا ہے اور اسی لیے عناصر کی خصوصیات ان کے نظیری ادوار میں فروغ پاتی ہیں۔ لینتھینائڈ انقباض بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ موجودہ دور میں ایکٹینائڈ کے عناصر کی کیمسٹری کا علم بہت کم ہے۔
مثال 8.10
لینتھینائڈ سلسلہ کے اس ممبر کا نام بتائیے جو کہ +4 تکسیدی حالت کو ظاہر کرتاہے۔
حل
سیریم (Z=58)
متن پر مبنی سوالات
8.10 ایکٹینائڈانقباض ایک عنصر سے دوسرے عنصر میں لینتھنائڈ کے مقابلے زیادہ ہے۔ کیوں؟
8.7 dاور fبلاک عناصر کے کچھ استعمال
(Some Applications of d-and f-Block Elements)
آئرین اور اسٹیل اہم ترین تعمیری مادے ہیں۔ ان کی پیداوار آئرن آکسائڈ سے ان کی تحصیل، ملاوٹوں کی علیحدگی اور کاربن کی آمیزش نیز Cr، Mnاور Niکی بھرت سازی پر مبنی ہے۔ کچھ مرکبات خاص مقاصد کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ جیس TiOپگمنٹ انڈسٹری کے لیے اور MnO2خشک بیڑی سیلوں میں استعمال کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ بیٹری انڈسٹری کو Znاور Ni/cd کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔گروپ 11کے عناصر آج بھی قیمتی ہیں کیونکہ یہ سکہ دھاتیں کہلاتے ہیں، حالانکہ Ag اور Au ذخیرہ اندوزی کی اشیا تک محدود ہیں اور عصری UK کاپر، سکے کاپر چڑھا ہوا اسٹیل ہے۔ ’سلور‘UK سکے Cu/Ni بھرت ہیں۔ کئی دھاتیں اور یا ان کے مرکبات کیمیائی صنعت میں لازمی وسیط کا درجہ رکھتے ہیں۔ سلفیورک ایسڈ کی تیاری میں V2O5،SO2 تکسید کو کیٹلائز کرتا ہے۔ Al(CH3)3 کے ساتھ Ticl4 زیگر وسیط Ziegler catalyst)کی بنیاد تشکیل دیتا ہے جو کہ پانی ایتھائلین (پالیتھین) بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ آئرن وسیط کا استعمال N2/H2 آمیزوں سے ہیبر پراسس میں امونیا کی تیاری میں کیا جاتاہے۔ نکل وسیط چربیوں کے ہائڈروجینیشن میں مدد کرتا ہے۔ واکر پراسس (Wacker process) میں اینتھائین کی اینتھنال میں تکسید PdCl2 کے ذریعہ کیٹلائز ہوتی ہے نکل کمپلیکس الکائنس اور بینزین جیسے دیگر نامیاتی مرکبات کی پالیمر سازی میں کافی اہم ہیں۔ فوٹو گرافک انڈسٹری AgBr کی ضیا حساس خصوصیت پر منحصر ہے۔
خلاصہ
dبلاک گروپ 3تا 12پر مشتمل ہے جو کہ دوری جدول کے وسیع درمیانی سیکشن کو گھیرے ہوئے ہے۔ عناصر میں اندرونی d ارٹبل بتدریج بھرے ہوتے ہیں۔f بلاک کو دوری جدول کے نیچے علیحدہ رکھا گیا ہے اور اس بلاک کے عناصر میں 4f اور 5f ارٹبل بتدریج بھرے جاتے ہیں۔
3d، 4d اور 5d ارٹبل کے بھرنے کے نظیری عبوری عناصر کے تین سلسلے وجود میں آتے ہیں۔ تمام عبوری عناصر نمایاں دھاتی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں مثلاً بہت زیادہ تناؤ کی قوت، تار پذیری، ورق پذیری، حرارتی اور برقی ایصالیت اور دھاتی خصوصیت وغیرہ۔ ان کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش بہت زیادہ ہیں جس کا سبب (n-1)d الیکٹرانوں کی شمولیت ہے جس کے نتیجے میں مضبوط بین ایٹمی بندش وجود میں آتی ہے۔ ان زیادہ تر خصوصیات میں maxima ہر سلسلہ کے وسط میں واقع ہوتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ فی dارٹبل ایک بغیر جوڑے کا الیکٹران خاص طور سے مضبوط بین ایٹمی باہمی عمل کے لیے موافق تشکل ہے۔
متواتر آیونائزیشن اینتھالپی میں ایٹمی عدد میں اضافے کے ساتھ اتنی تیزی سے اضافہ نہیں ہوتا جتنا کہ خاص گروپ عناصر میں ہوتا ہے۔ اس طرح (n-1)d ارٹبل سے الیکٹرانوں کی متغیر تعداد کا زیاں مستعدی کے ساتھ ناموافق نہیں ہے۔ عبوری عناصر کے طرز عمل میں (n-1)d الیکٹرانوں کی شمولیت ان عناصر میں نمایاں خصوصیات کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح متغیر تکسیدی حالتوں کے ساتھ ساتھ یہ پیرامقناطیسی طرز عمل، وسیطی خصوصیات، رنگین آینوں انٹراسٹیشیل اور کمپلیکس کی تشکیل کا رجحان ظاہر کرتے ہیں۔
عبوری عناصر بہت زیادہ متنوع کیمیائی طرز عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے تو اس قدر برقی مثبت ہوتے ہیں کہ معدنی تیزابوں میں حل ہوسکیں۔ حالانکہ چند عناصر نوبل ہیں۔ کاپر کو چھوڑ کر پہلے سلسلے کی سبھی دھاتیں نسبتاً متعامل ہیں۔
عبوری دھاتیں آکسیجن، نائٹروجن سلفر اور ہیلوجن جیسی متعدد غیر دھاتوں سے تعل مل کرکے بائزی مرکبات بناتی ہیں۔ پہلے سلسلہ کے عبوری دھاتی آکسائڈ عموماً اس وقت بنتے ہیں جب اونچے درجۂ حرارت پر دھاتیں آکسیجن کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔ یہ آکسائڈ تیزابوں اور اساسوں میں گھل کر آکسودھاتی نمک بناتے ہیں۔ یوٹاشیم ڈائی کرامیٹ اور پوٹاشیم پر مینگنیٹ عام مثالیں ہیں۔ پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ کو بنانے کے لیے ہوا کی موجودگی میں کرومائٹ کا القلی کے ساتھ گداخت کیا جاتاہے اور پھر اسے تیزابی بنایا جاتاہے۔ پوٹاشیم پر مینگنیٹ بنانے کے لیے پائرولوسائٹ (MnO2)کا استعمال کیا جاتاہے۔ ڈائی کرومیٹ اور مینگنیٹ آین دونوں ہی مضبوط تکسیدی ایجنٹ ہیں۔
اندرونی عبوری عناصر لینتھینائڈ اور ایکٹینائڈ دوری جدول کے fبلاک کی تشکیل کرتے ہیں۔ اندرونی ارٹبل 4F کے متواتر بھرے جانے کے ساتھ ساتھ سلسلہ (لینتھینائڈ اور ایکٹینائڈ) کے ایٹمی اور آینی سائز میں بتدریج کمی آجاتی ہے۔اس کا اثر آگے والی دھاتوں کی کیمیا پر خا ص طور سے پڑتا ہے۔ لینتھینیم اور تمام لینتھینائڈ ملائم سفید دھاتیں ہیں۔ یہ پانی سے بآسانی تعامل کرکے +3 آین کا محلول بناتی ہیں۔ پرنسپل تکسیدی حالت +3 ہے حالانکہ کبھی کبھی کچھ دھاتیں +4اور +2تکسیدی حالتوں کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ مختلف تکسیدی حالتوں میں پائے جانے کی صلاحیت کے پیش نظر ایکٹینائڈ کی کیمسٹری زیادہ پیچیدہ ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے ایکٹینائڈ عناصر تابکار ہیں جو کہ ان عناصر کے مطالعہ کو اور زیادہ مشکل بنا دیتے ہیں۔
dاورfعناصراوران کے مرکبات کے متعدد مفید استعمال ہیں۔ ان کے اہم استعمال متعدد قسم کے اسٹیل، بطور وسیط کمپلیکس، نامیابی تالیف وغیرہ میں ہیں۔
مشقیں
8.1 مندرجہ ذیل کے الیکٹرانی تشکل لکھیے۔
MN2+(Vii) Co2+(V) Cu+(iii) Cr3+(i)
Th4+(Viii) Lu2+(Vi) Ce4+(iV) Pm2+(ii)
8.2 +Mn2 مرکبات اپنی 3+ تکسیدی حالت کے تئیں +Fe2 کے مقابلے زیادہ مستحکم کیوں ہیں؟
8.3 مختصر طور پر تشریح کیجیے کہ ایٹمی عدد میں اضافہ کے ساتھ عبوری عناصر کی پہلی قطار کے نصف اوائل میں +2 حالت زیادہ مستحکم کس طری ہوجاتی ہے؟
8.4 عبوری عناصر کے پہلے سلسلہ میں الیکٹرانی تشکل تکسیدی حالتوں کے استحکام کو کس حد تک متعین کرتا ہے؟ اپنے جواب کی وضاحت مثالوں کے ذریعہ کیجیے۔
8.5 اس عبوری عناصر کی مستحکم تکسیدی حالت کیا ہوسکتی ہے جس کے ایٹموں کی گراؤنڈ اسٹیٹ میں dالیکٹران تشکل 3d3، 3d5، 3d8 اور 3d4 ہے؟
8.6 عبوری دھاتوں کے پہلے سلسلہ کے اس آکسودھاتی این آین کا نام بتائیے جس میں دھات کی تکسیدی حالت اس کے گروپ نمبر کے مساوی ہوتی ہے۔
8.7 لینتھینائڈ انقباض کیا ہے؟ لینتھینائڈ انقباض کے نتائج کا بیان کیجیے۔
8.8 عبوری عناصر کی خصوصیات کیا ہیں اور یہ عبوری عناصر کیوں کہلاتے ہیں؟ d بلاک کے کون سے عناصر عبوری عناصر نہیں کہلاتے ہیں؟
8.9 عبوری عناصر کا الیکٹران تشکل غیر عبوری عناصر سے کس طرح مختلف ہے۔
8.10 لینتھینائڈ کے ذریعہ ظاہر کی جانے والی مختلف تکسیدی حالتیں کیا ہیں؟
8.11 وجہ بتاتے ہوئے مندرجہ ذیل کی تشریح کیجیے۔
(i) عبوری دھاتیں اور ان کے بہت سے مرکبات پیرامقناطیسی طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
(ii) عبوری دھاتوں کے ٹیومائزیشن کی اینتھالپی بہت زیادہ ہیں؟
(iii) عبوری دھاتیں عموماً رنگین مرکبات بناتی ہیں۔
(iv) عبوری دھاتیں اور ان کے بہت سے مرکبات ایک اچھے وسیط کے طور پر کام کرتے ہیں۔
8.12 انٹراسٹیشیل مرکبات کیا ہیں؟ یہ مرکبات عبوری دھاتوں کے لیے کیوں جانے جاتے ہیں؟
8.13 عبوری دھاتوں کی تکسیدی حالتوں میں تغیر غیر عبوری دھاتوں سے مختلف کیوں ہے؟ مثالوں کی مدد سے واضح کیجیے۔
8.14 آئرن کرومائٹ کچ دھات سے پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ بنانے کا طریقہ بیان کیجیے۔ بڑھتی ہوئی pH کا پوٹاشیم ڈائی یکرومیٹ کے محلول پر کیا اثر ہوتا ہے؟
8.15 پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ کے تکسیدی عمل کا بیان کیجئے اور مندرجہ ذیل کے ساتھ اس کے تعامل کی مساوات لکھیے۔
( i )آیوڈائڈ ( ii )آئرن ( iii )محلول اور
H2S (iv)
8.16 پوٹاشیم پر مینگنیٹ کے بتانے کا طریقہ بیان کیجیے۔ تیزابی پرمینگنیک محلول۔
(i) آئرن II آین
اورSO2(ii)
(iii) آگزیلک ایسڈ کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔ تعاملات کی آینی مساواتیں لکھیے۔
M3+/ M2+اور M/M2+8.17
نظاموں کے لیے، کچھ دھاتوں کی EΘقدریں ذیل میں دی گئی ہیں۔ان اعداد و شمار کا استعمال کرکے مندرجہ ذیل پر اپنی رائے پیش کیجیے
(i)
+Cr3 اور+Mn3 +کے مقابلے میں +Fe3کا تیزابی محلول میں استحکام اور
(ii) وہ آسانی جس کے تحت کرومیم یا مینگیز دھات کے مقابلے لوہے کی تکسید ہوتی ہے۔
8.18 پیشین گوئی کیجئے کہ مندرجہ ذیل میں سے کون آبی محلول میں رنگین ہوگا؟
۔CO2+ اور Fe3+, Mn2+, Se3+, Cu+, V3+,Ti3+
ہر ایک کے لیے وجہ بتائیے۔
8.19 پہلے عبوری سلسلہ کے عناصر کے لیے 2+ تکسیدی حالت کے استحکام کا موازنہ کیجیے۔
8.20 مندرجہ ذیل کے حوالے سے ایکٹینائڈ کی کیمسٹری کا لینتھینائڈ کی کیمسٹری سے موازنہ کیجیے۔
(i) الیکٹران تشکل (iii) تکسیدی حالت
(ii) ایٹمی اور آینی سائز (iv) کیمیائی تعاملیت
8.21 آپ مندرجہ ذیل کی کیا وجہ بتائیں گے؟
d4(i)
اسپیشیز میں سے+Cr2 مضبوط تحویلی ایجنٹ ہے جبکہ مینگنیز (III)مضبوط تکسیدی ایجنٹ ہے۔
(ii) کوبالٹ (II) آبی محلول میں مستحکم ہے لیکن کمپلیکس ریجنٹ کی موجودگی میں بہ بآسانی تکسید ہوجاتاہے۔
(iii) آینوں میں d' تشکل بہت زیادہ غیر مستحکم ہے۔
8.22 غیر تناسب سے کیا مراد ہے؟ آبی محلول میں غیر تناسب تعاملات کی دو مثالیں پیش کیجیے۔
8.23 عبوری دھاتوں کے پہلے سلسلہ کی کون سی دھات زیادہ تکرار کے ساتھ1+تکسیدی حالت کو ظاہر کرتی ہے اور کیوں؟
8.24 مندرجہ ذیل گیسی آینوں میں بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی تعداد کا حساب لگائیے۔
+Mn3+، Cr3+، V3+، Ti3۔ ان میں سے کون آبی محلول میں سب سے زیادہ مستحکم ہے؟
8.25 عبوری دھاتوں کی کیمسٹری کی مندرجہ ذیل خصوصیات کے لیے مثالیں دیجیے اور وجہ بتائیے۔
(i) عبوری دھات کا کمترین آکسائڈ اساسی ہے۔ سب سے بڑا ایمفوٹیرٹ/تیزابی ہے۔
(ii) عبوری دھاتیں آکسائڈ اور فلورائڈ میں سب سے زیادہ تکسیدی حالت ظاہر کرتی ہیں۔
(iii) دھات کے آکسواین آینوں میں سب سے زیادہ تکسیدی حالت ظاہر ہوتی ہے۔
8.26 مندرجہ ذیل کی تیاری کے مراحل بیان کیجیے۔
(i) کرومائٹ کچ دھات سے (K2Cr2O7 (ii پائرولوسائٹ کچ دھات سے KMnO4
8.27 بھرت کیا ہیں؟ اس اہم بھرت کا نام بتائیے جو لینتھینائڈ دھاتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے استعمال بھی لکھیے۔
8.28 اندرونی عبوری عناصر کیاہیں؟ متعین کیجیے کہ مندرجہ ذیل میں سے کون سے ایٹمی اعداد اندرونی عبوری عناصر کے ایٹمی عدد میں: 29، 59، 74، 95، 102، 104
8.29 ایکٹینائڈ عناصر کی کیمسٹری اتنی آسان نہیں ہے جتنی کہ لینتھینائڈ کی ہے ان عناصر کی تکسیدی حالت کی مثالیں دے کر اس بیان کے لیے جواز پیش کیجیے۔
8.30 ایکٹینائڈ سلسلہ کا آخری عنصر کون سا ہے؟ اس عنصر کا الیکٹرانی تشکل لکھیے۔ اس عنصر کی ممکنہ تکسیدی حالت پر اپنی رائے پیش کیجیے۔
8.31 +Ce3 آین کا الیکٹرانی تشکل معلوم کرنے کے لیے ہنڈ کا قاعدہ استعمال کیجیے اور spin-only، فارمولہ کی بنیاد پر اس کے مقناطیس مومنٹ کا حساب لگائیے۔
8.32 لینتھائڈ سلسلہ کے ان ممبران کے نام بتائیے جو +4 تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں اور وہ جو +2 تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس قسم کے طرز عمل اور ان عناصر کے الیکٹرانی تشکل کے درمیان تعلق قائم کیجیے۔
8.33 مندرجہ ذیل حوالوں کے ساتھ ایکٹینائڈ کی کیمسٹری کا لینتھینائڈ کی کیمسٹری سے موازنہ کیجیے۔
(i) الیکٹرانی تشکل (ii) تکسیدی حالتیں اور (iii) کیمیائی تعاملیت
8.34 ان عناصر کے الیکٹرانی تشکل لکھئے جن کے ایٹمی عدد 61، 91، 101اور 109ہیں۔
8.35 عبوری دھاتوں کے پہلے سلسلہ کی عمومی خصوصیات کا موازنہ ان کے متعلقہ عمودی کالموں میں دوسرے اور تیسرے سلسلہ کی دھاتوں سے کیجئے۔ مندرجہ ذیل نکات پر مخصوص توجہ دیجیے۔
(i) الیکٹرانی تشکل (ii) تکسیدی حالتیں (iii) آیونائزیشن اینتھالپی اور (iv) ایٹمی سائز
8.36 مندرجہ ذیل ہر ایک آین میں 3d الیکٹرانوں کی تعداد لکھئے۔
Cu2+اورNi2+,CO2+,Fe3+,Mn2+,Cr3+,V2+,Ti2+
دکھائیے کہ ان ہائڈرٹیڈ آینوں کے ذریعہ گھریے گئے پانچ 3d ارٹبل کے بارے میں کیا امید کرتے ہیں۔
8.37 اس بیان پر اپنی رائے پیش کیجیے کہ پہلے عبوری سلسلہ کے عناصر بھاری عبوری عناصر کے مقابلے کئی مختلف
خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔
8.38 مندرجہ ذیل کمپلیکس اسپیشیز کے مقناطیسی مومنٹ کی قدروں سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے؟
مثال
K4(Mn(CN)6)
(Fe(H2O)6)2+
K2(MnC14)
مقناطیسی مومنٹ(Bm)
2-2
5-3
5-9
متن پر مبنی کچھ سوالوں کے جواب
8.1 چاندی+2(z=47) تکسیدی حالت کو ظاہر کرسکتی ہے۔ جب اس میں نامکمل بھرے ہوئے d ارٹبل (4d) ہوں گے، اس طرح یہ عبوری عنصر ہے۔
8.2 دھاتی بانڈ کی تشکیل میں، زنک کے معاملے میں 3d ارٹبل سے کوئی بھی الیکٹران شامل نہیں ہوتا، جبکہ 3d سلسلہ کی دیگر دھاتوں میں دھاتی بانڈ کی تشکیل میں dارٹبل کے الیکٹران ہمیشہ شامل رہتے ہیں۔
8.3 مینگنیز (Z=25) کیونکہ اس کے ایٹم میں بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی تعدا سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
8.5 آیونائزیشن اینتھالپی میں بے قاعدہ تغیر مختلف 3dتشکلات (مثلاً d10,d5,d0استشنیٰ طور پر مستحکم ہیں)کے استحکام کی متنوع ڈگری کا سبب ہے۔
8.6 کم سائز اور بہت زیادہ برقی منفیت کی وجہ سے آکسیجن یا فلورین دھات کو اس کی سب سے زیادہ تکسیدی حالت تک تکسید کرسکتی ہے۔
8.7 +Fe2+,Cr2کے مقابلے میں مضبوط تحویلی ایجنٹ ہے۔
وجہ:
Cr3+سےCr2+d4→d3
معاملے میں ہوتا ہے۔لیکن،
Fe3+سے Fe2+,d6→d5
کے معاملے میں ہوتا ہے۔
ایک میڈیم (مثلاً پانی) میں d3 بہ مقابلے d5زیادہ مستحکم ہے (دیکھیے CFSE)
8.9 Cuکی آبی محلول میں غیر متناسبت ہوتی ہے یعنی
2Cu+(aq)→Cu2+(aq)+Cu(s)
اس کے لیےE0 کی قدر موافق ہے۔
8.10 5fالیکٹرانوں کی نیوکلیائی چارج کے ذریعہ زیادہ مؤثر طور پر شیلڈنگ ہوجاتی ہے۔ بالفاظ دیگر سلسلہ میں 5f الیکٹران خود ایک عنصر سے دوسرے عنصر میں کمتر ور شیلڈنگ مہیا کرتے ہیں۔