Skip to content
12-Keemiya-II-001



اکائی 

10

ہیلوالکینس اور ہیلوایرنیس

(Haloalkanes and Haloarenes)


مقاصد

اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ 
l IUPAC نظام تسمیہ کے مطابق ہیلوالکینس اور ہیلو ایرینس کی ساختوں کی مدد سے ان کے نام بتا سکیں گے؛
  • ہیلوالکینس اور ہیلوایرینس کی تیاری میں ملوث تعاملات کا بیان کر سکیں گے اور ان کے ذریعہ انجام دیے جانے والے مختلف تعاملات کو سمجھ سکیں گے؛
  • ہیلوالکینس اور ہیلوایرینس کی ساختوں اور مختلف قسم کے تعاملات کے درمیان تعلق قائم کر سکیں گے؛
  • تعامل میکانزم کی تفہیم کے لیے اسٹیریوکیمسٹری (Stereo Chemistry)کو بحیثیت ایک اوزار استعمال کر سکیں گے؛
  • آرگینو میٹالک (Organo-metallic) مرکبات کے استعمال کی اہمیت کو سمجھ سکیں گے؛
  • پالی ہیلوجن (Polyhalogen)مرکبات کے ماحولیاتی اثرات پرروشنی ڈال سکیں گے۔


  • بیکٹیریا کے ذریعہ ہونے والی تحلیل کے تئیں مزاحمت کی وجہ سے ہیلوجن شدہ مرکبات ماحول میں لمبے عرصہ تک  قائم رہتے ہیں۔
    ایلیفیٹک یا ایرومیٹک ہائڈروکاربن میں ہائڈروجن ایٹم/ایٹموں کو ہیلوجن ایٹم/ ایٹموں سے بدلنے پر بالترتیب الکائل ہیلائڈ(ہیلوالکین) اور ایرائل ہیلائڈ (Haloarene) بنتے ہیں ۔ ہیلوالکینس میں الکائل گروپ کے sp3 مخلوط شدہ کاربن ایٹم سے ہیلوجن ایٹم منسلک ہوتا ہے جب کہ ہیلوایرینس میں ایرائل گروپ کے sp2 مخلوط شدہ کاربن ایٹم سے ہیلوجن ایٹم منسلک ہوتا ہے۔ ہیلوجن پر مشتمل کئی مرکبات قدرتی ماحول میں پائے جاتے ہیں اور ان میں سے کچھ طبی اعتبار سے مفید ہیں۔ مرکبات کے ان گروپوں کا صنعت اور روزمرہ کی زندگی میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ ان کا استعمال نسبتاً غیر قطبی مرکبات کے لیے محلل کے طور پر کیا جاتا ہے علاوہ ازیں ان کا استعمال متعدد نامیاتی مرکبات کی تالیف کے لیے ابتدائی مادوں کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کلوریمفینکال (Chloramphenicol) کلورین پر مشتمل اینٹی بایوٹک ہے جو کہ مٹی میں پائے جانے والے خرد عضویوں کے ذریعہ تیار کی جاتی ہے۔ اس کا استعمال ٹائفائڈ بخار کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ ہمارے جسم میں پیدا ہونے والا تھائراکسن ہارمون (Thyroxine hormone) آیوڈین پر مشتمل ہوتا ہے، اس ہارمون کی کمی سے گائٹر (Goiter) کی بیماری ہو جاتی ہے۔ کلوروکوئین (Chloroquine) جیسے تالیفی ہیلوجن مرکبات (Fluorinated Compound) کا استعمال ملیریا کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ ہیلوتھین (Halothane) کا استعمال سرجری کے دوران بیہوش کرنے میں کیا جاتا ہے۔ مکمل طور پر فلورینیٹڈ مرکبات سرجری کے دوران خون کے بدل کے طور پر استعمال کیے جانے کے لیے زیر غور ہیں۔
    اس اکائی میں آپ آرگینو ہیلوجن مرکبات کو تیار کرنے کے اہم طریقوں نیز ان کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔

    10.1 درجہ بندی (Classification)

    10.1.1 ہیلوجن ایٹموں کی تعداد کی بنیاد پر (On the Basis of Number of Halogen Atoms)

    ہیلوالکینس اور ہیلوایرینس کی درجہ بندی مندرجہ ذیل طریقہ سے کی جاسکتی ہے:
    ان کی درجہ بندی مونو، ڈائی یا پالی ہیلوجن (ٹرائی، ٹیٹرا وغیرہ) مرکبات کے تحت کی جاسکتی ہے جس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ آیا ان کی ساختوں میں ہیلوجن کا ایک ایٹم دو ایٹم یا زیادہ ایٹم موجود ہیں۔ مثال کے طور پر
    ch10-1
    CH2X
    CHX
    CH2X
    CH2X
    CH2X
    C2H5X

    ٹرائی ہیلوالکین،    ڈائی ہیلوالکین،   مونوہیلوالکین
    ٹرائی ہیلوایرین،   ڈائی ہیلوایرین،  مونوہیلوایرین
    مونو ہیلو مرکبات کی مزید درجہ بندی اس کاربن ایٹم کی مخلوطیت (Hybridisation) کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے جس سے ہیلوجن منسلک ہے جیسا کہ ذیل میں زیر بحث ہے۔

    10.1.2  sp3 C — X

     (X =F, Cl,Br,I) بانڈ پر مشتمل مرکبات

    اس کلاس کی مشمولات مندرجہ ذیل ہیں 

    (a) الکائل ہیلائڈ یا ہیلو الکینس (R—X)

    الکائل ہیلائڈ میں ہیلوجن ایٹم الکائل گروپ (R) سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ ایک ہم وصف سلسلہ تشکیل دیتے ہیں جسے CnH2n+1X سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ان کی مزید درجہ بندی پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری ہیلائڈ (Tertiary Halide) کے تحت کی جاسکتی ہے جو کہ اس کاربن ایٹم کی نوعیت پر مبنی ہے جس سے ہیلوجن منسلک ہے۔ اگرکسی الکائل ہیلائڈ کے ابتدائی(پرائمری)کاربن ایٹم کے ساتھ ہیلوجن جڑا ہے تو الکائل ہیلائڈ ابتدائی الکائل ہیلائڈیا1oالکائل ہیلائڈ کہلائے گا۔اسی طرح اگرہیلوجن ثانوی یا ثالثی (Secondary or Tertiary)کاربن ایٹم سے جڑا ہے تووہ ثانوی الکائل ہیلائڈ(یا2o)اورثالثی الکائل ہیلائڈ(یا3o)کہلائے گا۔
    ch10-2
                                     ٹرشری(3o)         سیکنڈری (2o)   پرائمری (1o)

    (b) ایلیلِک ہیلائڈ (Allylic halides)

    یہ ایسے مرکبات ہیں جن میں ہیلوجن ایٹم کاربن- کاربن ڈبل بانڈ (C = C) سے اگلے sp3 مخلوط شدہ کاربن ایٹم یعنی ایلیلک کاربن سے منسلک ہوتا ہے۔
    ch10-3
    ایلیلک کاربن
    ایلیلک کاربن

    (c) بینزائلک ہیلائڈ (Benzylic halides)

    یہ ایسے مرکبات ہیں جن میں ہیلوجن ایٹم ایرومیٹک رِنگ (Aromatic ring) سے اگلے sp3 مخلوط شدہ کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے۔
    ch10-4
    R'=CH3,R"=H(2o)
    R'=R"=CH3(3o)
    اس کلاس کے تحت مندرجہ ذیل مرکبات آتے ہیں:

    10.1.3 sp2 C—X بانڈ پر مشتمل مرکبات 

    (Compounds Containing sp2 C—X Bond)


    (a) ونائلک ہیلائڈ (Vinylic halides)

    یہ ایسے مرکبات ہیں جن میں ہیلوجن ایٹم کاربن - کاربن ڈبل بانڈ (C = C) کے sp2 مخلوط شدہ کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے۔
    ch10-5

    (b) ایرائل ہیلائڈ (Aryl halides)

    یہ ایسے مرکبات ہیں جن میں ہیلوجن ایٹم براہ راست ایرومیٹک رِنگ کے sp2 مخلوط کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے۔
    ch10-6

    10.2 تسمیہ  (Nomenclature)

    ہیلوجن پر مشتمل مرکبات کی درجہ بندی کے مطالعہ کے بعد آئیے سیکھیں کہ ان کے نام کس طرح رکھے جاتے ہیں۔ الکائل ہیلائڈ کے عام نام الکائل گروپ کے نام کے بعد ہیلائڈ کانام لگاکر اخذ کیا جاتا ہے۔ IUPAC نظام تسمیہ میں الکائل ہیلائڈوں کے نام ہیلوبدل ہائڈروکاربنوں کے طور پر رکھے جاتے ہیں۔بینز ین کے مونوہیلوجن عوضی مشتق کے
    kam

    عام نام : آئسو بیوٹائل کلورائڈ، آئسوپروپائل، n-پروپائل برومائڈ
    IUPACنام : 1-کلورو-2 میتھائل پروپین، 2-کلوروپروپین،  برومو پروپین
    عام نام : sym-ٹرائی برومو بینزین، m-ڈائی برومو بینزین، بروموبینزین
    IUPAC نام : 2-برومو پروپین، 1- کلورو-2،2- ڈائی میتھائل پروپین 
     

    (Substituted clerivatives)عام اور IUOACنام یکساں ہیں۔ڈائی ہیلوجن مشتقوں کے لیے عام نظام کے تحتch10-7 سابقوں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن IUPAC نظام کے تحت جیسا کہ آپXIجماعت کی اکائی 12میں پڑھ چکے ہیں، 1,2، 1,3 اور 1,4 اعداد کا استعمال کیا جاتا ہے۔
    ایک ہی قسم کے ہیلوجن پر مشتمل ڈائی ہیلوالکینس کے نام الکائلڈین (Alkylidene) یا الکائلین ڈائی ہیلائڈ (Alkylene dihalides) کے طور پر رکھے جاتے ہیں۔ یکساں ہیلوجن ایٹموں پر مشتمل ڈائی ہیلو مرکبات کی مزید درجہ بندی جیمنل (Geminal) ہیلائڈ یا جیم ہیلائڈ(ہیلوجن ایٹم سلسلے کے ایک ہی کاربن ایٹم پر موجود ہوتے ہیں) اور وسینل (Vicinal) ہیلائڈ (ہیلوجن ایٹم کسی بھی دو متصل کاربن ایٹموں پر موجود ہوتے ہیں) کے تحت کی جاسکتی ہے عام نظام تسمیہ کے تحت gem ڈائی ہیلائڈ کے نام الکائلیڈین ہیلائڈ کے طور پر اور vic ہیلائڈوں کے نام الکائلین ڈائی ہیلائڈ کے طور پر رکھے جاتے ہیں۔ IUPAC نظام میں انہیں ڈائی ہیلوالکینس (dihaloalkanes) کہا جاتا ہے۔
    ch10-8

    عام نام :  ایتھائلین ڈائی کلورائڈ(vic-ڈائی ہیلائڈ)،  ایتھائلین کلورائڈ(gem-ڈائی کلوروایتھین)
    IUPAC نام : 2،1- ڈائی کلوروایتھین ، 1،1- ڈائی کلورو ایتھین
    کچھ ہیلومرکبات کی عام مثالیں جدول 10.1 میں دی گئی ہیں۔
    جدول 10.1 کچھ ہیلائڈوں کے عام اور IUPAC نام

    ساخت عام نام  IUPAC نام
    res سیکنڈر بیوٹائل کلورائڈ
    نیوپینٹائلبرمائڈ
    ٹرشری بیوٹائل برومائڈ
    ونائل کلورائڈ
    ایلائل برومائڈ
    o-کلروٹولوئین


    بینزائل کلورائڈ

    میتھائلین کلورائڈ
    کلوروفارم
    بروموفارم
    کاربن ٹیٹراکلورائڈ

    n-پروپائل فلورائڈ

    2-کلوروبیوٹین
    1-برومو-2،2-ڈائی میتھائل پروپین
    2-برومو-2-میتھائل پروپین
    کلوروایتھین

    3-بروموپروپین

    1-کلورو-2-میتھائل بینزین

    2-کلوروٹولوئین
    کلوروفنائل میتھین
    ڈائی کلورو میتھین
    ٹرائی کلورو  میتھین
    ٹرائی برومو میتھین
    ٹیٹرا کلورومیتھین
    1-فلوروپروپین


    مثال 10.1

    ان سبھی آٹھ ساختی آئسومر کی ساختیں بنائیے جن کا سالماتی فارمولہ C5H11Br ہے۔ ہر ایک آئسو مر کا نام IUPAC نظام کے تحت لکھیے اور ان کی درجہ بندی پرائمری سیکنڈری یا ٹرشری برومائڈ کے تحت کیجیے۔

    حل

    ch10-10

    مثال 10.2

    مندرجہ ذیل کے IUPAC نام لکھیے۔
    ch10-11

    حل

    ch10-12



    متن پر مبنی سوال

    10.1 مندرجہ ذیل مرکبات کی ساختیں لکھیے۔
    (i) 2-Chloro-3-methylpentane
    (ii) 1-Chloro-4-ethylcyclohexane
    (iii) 4-tert. Butyl-3-iodoheptane
    (iv) 1,4-Dibromobut-2-ene
    (v) 1-Bromo-4-sec. butyl-2-methylbenzene.

    10.3 C-X بانڈ کی نوعیت (Nature of C-X Bond)

    ہیلو جن ایٹم کاربن کے مقابلے بہت زیادہ برقی منفی ہوتے ہیں اس لیے الکائل ہیلائڈ کا کاربن ہیلوجن بانڈ قطبی ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کاربن ایٹم تیز جزوی مثبت چارج آجاتا ہے جبکہ ہیلوجن پر جزوی منفی چارج آجاتا ہے۔
    ch10-13
    ہم دوری جدول میں جیسے جیسے نیچے کی طرف جاتے ہیں ہیلوجن ایٹموں کے سائز میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس طرح فلورین ایٹم سب سے چھوٹا ایٹم ہے اور آیوڈین سب سے بڑا ایٹم ہے۔ نتیجتاً C-F سے C-I کی طرف کاربن ہیلوجن بانڈ کی لمبائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ کچھ بانڈ لمبائیاں، بانڈ اینتھالپی اور ڈائی پول مومنٹ جدول 10.2 میں دیے گئے ہیں۔

    جدول 10.2 کاربن - ہیلوجن (C-X) بانڈ لمبائیاں، بانڈاینتھالپنی اور ڈائی پول مومنٹ

    بانڈ بانڈ کی لمبائی/pm C-Xبانڈ اینتھالیی/kJmo1-1 ڈائی بول مومنٹ/Debye
    CH3-F
    CH3-C1
    CH3-Br
    CH3-1
    139
    178
    193
    214
    452
    351
    293
    234
    1.847
    1.860
    1.830
    1.636

    10.4 ہیلوالکینس کے تیار کرنے کے طریقے (Methods of Preparation of  Haloalkanes)

    10.4.1 الکحل سے (From Alcohols)

    الکائل ہیلائڈوں کو بہترین طریقے سے الکحل سے تیار کیا جاتا ہے- الکحل آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں۔ مرتکز ہیلوجن ایسڈ، فاسفورس ہیلائڈ یا تھایونل کلورائڈ کے ساتھ تعامل میں الکحل کے ہائڈروکسل گروپ کو ہیلوجن سے بدل دیا جاتا ہے۔ تھایونل کلورائڈ کو اس لیے ترجیح دی جاتی ہے اس تعامل میں الکائل ہیلائڈ کے ساتھ SO2 اور HCl گیسیں بھی بنتی ہیں۔کیونکہ دیگر دو ماحصلات خارج ہو جانے والی گیسیں ہیں لہٰذا تعامل کے نتیجے میں خالص الکائل ہیلائڈ حاصل ہوتے ہیں۔ HCIکے ساتھ پرائمری اور سیکنڈری الکحل کے تعامل کے لیے ZnCl2 وسیط کی موجودگی درکار ہوتی ہے۔ ٹرشری الکحل کے ساتھ تعامل کو کمرہ کے درجۂ حرارت پر مرتکزHCl کے ساتھ ہلاکر انجام دیا جاتا ہے۔ الکائل برومائڈ بنانے کے لیے HBr(48%) کے ساتھ مستقل طور پرابالاجاتا ہے۔ الکحل کو% 95 فاسفورک ایسڈ 
    ch10-15
    میں سوڈیم یا پوٹاشیم آیوڈائڈ کے ساتھ گرم کرکے R-I کی بہتر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ دیے ہوئے ہیلوایسڈ کے ساتھ الکحل کی تعاملیت کی ترتیب °1 < °2< °3ہے۔فاسفورس ٹرائی برومائڈ اور ٹرائی آیوڈائڈ عام طور سے سرخ فاسفورس کے بالترتیب برومین اور آیوڈین کے ساتھ تعامل کے ذریعہ Insitu (تعاملی آمیزہ میں پیدا ہوتے ہیں) پیدا ہوتے ہیں۔ 
    الکائل کلورائڈ کو یا تو الکحل محلول سے خشک ہائڈروجن کلورائڈ گیس کو گزار کر بنایا جاتا ہے یا مرتکز آبی تیزاب میں الکحل کے محلول کو گرم کرکے بنایا جاتا ہے۔
    مذکورہ بالا طریقہ ایرائل ہیلائڈ بنانے کے لیے موزوں نہیں ہے کیونکہ فینال میں کاربن آکسیجن بانڈ جزوی ڈبل بانڈ خصوصیت کا حامل ہوتا ہے اور واحد بانڈ کے مقابلے زیادہ مضبوط ہونے کی وجہ سے اسے توڑپانا ذرا مشکل ہوجاتا ہے (اکائی 11، کلاس XI)۔

    10.4.2 ہائڈروکاربن سے (From Hydrocarbons)

    (I) آزاد ریڈیکل ہیلوجینیشن کے ذریعہ (By free radical halogenation)
    الکینس (Alkanes) کے آزاد ریڈیکل کلورنیشن یا برومینیشن سے آئسومیرک مونو اور پالی ہیلوالکینس کا کمپلیکس آمیزہ حاصل ہوتا ہے جسے خالص مرکبات کے طور پر علاحدہ کرپانا مشکل ہوتا ہے نتیجتاً کسی ایک مرکب کی پیداوار کم ہو جاتی ہے (اکائی 13، کلاس XI)۔
    ch10-16
    (II) الکینس کے ذریعہ (From Alkenes)
    (i) ہائڈروجن ہیلائڈ کی جمع (Addition of hydrogen halides): ہائڈروجن برومائڈ یا ہائڈروجن آیوڈائڈ کے ساتھ تعامل کے ذریعہ نظیری الکائل ہیلائڈ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
    ch10-17
    پروپین(Propene) سے دو ماحصلات تیار ہوتے ہیں تاہم مارکونی کوف کے کلیہ (Markovnikov's rule) کے مطابق صرف ایک ہی غالب رہتا ہے (اکائی 13، کلاس XI)۔
    ch10-18
    (ii) ہیلوجن کی جمع (Addition of halogens): تجربہ گاہ میں، CCl4 میں برومین کی الکین (Alkene) کے ساتھ جمع کے نتیجے میں برومین کے گاجری بھورے رنگ کا ڈسچارج، سالمہ میں دوہرے بانڈ کی موجودگی کی شناخت کے اہم طریقہ کی تشکیل کرتا ہے۔ جمع کے نتیجے میں vic-ڈائی برومائڈ کی تالیف ہوتی ہے جو کہ بے رنگ ہوتے ہیں (اکائی 13، کلاس XI)۔
    ch10-19
    ch10-20 مثال CH3)2CHCH2CH3 10.3)کے آزاد مونوکلورنیشن کے نتیجے میں بننے والے متوقع تمام ممکنہ مونوکلورو ساختی آئسو مر کی شناخت کیجیے۔
    حل  دیے ہوئے سالمہ میں چار مختلف قسم کے ہائڈروجن ایٹم ہیں۔ ان ہائڈروجن ایٹمون کو بدلنے پر مندرجہ ذیل مرکبات حاصل ہوتے ہیں۔
    (CH3)2CHCHC1CH3  (CH3)2CHCH2CH2C1
    CH3CH(CH2C1)CH2CH3  (CH3)2CC1CH2CH3

    10.4.3 ہیلوجن ایکسچینج (Halogen Exchange)

    الکائل آیوڈائڈ کو عام طور سے خشک ایسیٹون میں الکائل کلورائڈ / برومائڈ کے NaI کے ساتھ تعامل کے ذیعہ تیار کیا جاتا ہے۔ تعامل کو فنکیلسٹائن تعامل (Finkelstein reaction) کہا جاتا ہے۔
    ch10-21
    اس طرح حاصل ہونے والے NaCl یا NaBr کی خشک ایسیٹون میں ترسیب ہو جاتی ہے۔ یہ لے چیتلیئر اصول (Le Chatelier's principle) کے مطابق فارورڈ تعامل میں معاونت کرتاہے۔
    الکائل فلورائڈوں کی تالیف کا عمل ch10-22 جیسے دھاتی کلورائڈ کی موجودگی میں الکائل کلورائڈ/ برومائڈ کو گرم کرکے بہتر طریقے سے انجام دیا جاسکتا ہے۔ اس تعامل کو سوارٹس تعامل (Swarts Reaction) کہا جاتا ہے۔
    ch10-23

    10.5 ہیلوایرینس کی تیاری  (Preparation  of Haloarenes)

    (I)ہائیڈرو کاربن سے الیکٹروفلک بدل کے ذریعہ (From hydrocarbons by electrophilic substitution)
    ایرائل کلورائڈ یا برومائڈ کو آئرن یا آئرن (III) جیسے لیوئس ایسڈ وسیط کی موجودگی میں بالترتیب کلورین اور برومین کے ساتھ ایرینس (Arenes) الیکٹروفلک بدل کے ذریعہ آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے۔
    ch10-24


                            p-ہیلوٹولوئین     o-ہیلوٹولوئین

    (II) امین  سے سینڈمیئر کے تعامل کے ذریعہ (From amines Sandmeyer’s reaction)

    آبی معدنی تیزاب میں حل شدہ یا معلق پرائمری ایرومیٹک امین کا جب سوڈیم نائٹریٹ کے ساتھ تعامل ہوتا ہے تو ایک ڈائی ایزونیم (Diazonium) نمک حاصل ہوتا ہے (اکائی 13، کلاس XII)۔تازہ بنے ہوئے ڈائی ایزونیم نمک کے محلول میں کیوپرس کلورائڈ یا کیوپرس برومائڈ کی آمیزش کے نتیجے میں ڈائی ایزونیم گروپ –Cl یا –Br سے بدل جاتا ہے۔
    ch10-25

          ایرائل ہیلائڈX=C1,Br

    آیوڈین کے ذریعہ ڈائی ایزونیم گروپ کو بدلنے کے لیے کیوپرس ہیلائڈ کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ کام صرف ڈائی ایزونیم نمک کو پوٹاشیم آیوڈائڈ کے ساتھ ہلا کر انجام دیا جاتا ہے۔
    ch10-26
    ch10-27

    ch10-28

    10.6 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)

    الکائل ہیلائڈ خالص حالت میں بے رنگ ہوتے ہیں۔ تاہم برومائڈ اور آیوڈائڈ روشنی کی موجودگی میں رنگین ہو جاتے ہیں۔ متعدد طیران پذیر ہیلوجن مرکبات عمدہ خوشبو کے حامل ہیں۔
    نقطۂ گداخت اور نقطۂ جوش (Melting and boiling points)
    متھائل کلورائڈ، میتھائل برومائڈ، ایتھائل کلورائڈ اور کچھ کلوروفلورو میتھین (Chlorofluromethanes) کمرہ کے درجۂ حرارت پر گیسیں ہیں، ہائر ممبران رقیق یا ٹھوس ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے ہی مطالعہ کر چکے ہیں کہ نامیاتی ہیلوجن مرکبات کے سالمات قطبی ہوتے ہیں۔ مورث ہائڈرو کاربن کے مقابلے بہت زیادہ قطبیت اور سالماتی کمیت کی وجہ سے ہیلوجن مشتقوں میں بین سالماتی کشش کی قوتیں (ڈائی پول - ڈائی پول اور وانڈر والس) نسبتاً مضبوط ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے کلورائڈ، برومائڈ اور آیوڈائڈ کے نقطہ جوش ان کے مقابل سالماتی کمیت والے ہائڈروکاربنوں کے مقابلے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
    سالمہ کے سائز اور اس میں الیکٹرانوں کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا ہے قوت کشش زیادہ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ مختلف ہیلائڈوں کے نقطۂ جوش میں تنوع کے پیٹرن کو شکل 10.1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک ہی الکائل گروپ میں الکائل ہیلائڈوں کے نقطۂ جوش کی گھٹتی ہوئی ترتیب اس طرح ہے 
    RI > RBr > RCl > RF اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیلوجن ایٹم کے سائز اور کمیت میں اضافہ کے سبب وانڈروال قوتوں کی قدر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ch10-29
    شکل 10.1 کچھ الکائل ہیلائڈوں کے نقطہ جوش کا موازنہ 

    شاخوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ آئسو میرک ہیلوالکینس کے نقطۂ جوش کم ہوتے جاتے ہیں (اکائی 12، کلاس XI)۔ مثال کے طور پر -2برومو-2-میتھائل پروپین کا نقطۂ جوش تینوں آئسو مر میں سب سے کم ہے۔
    ch10-30
    آئسو میرک ڈائی ہیلوبینزین کے نقطۂ جوش کافی حد تک یکساں ہوتے ہیں۔ حالانکہ پیراآئسومر کا نقطۂ گداخت اپنے آرتھو اور میٹا آئسومر کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ ایسا پیراآئسومر کی سمٹری (Symmetry) کی وجہ سے ہے جو آرتھو اور میٹا آئسو مر کے مقابلے کرسٹل لیٹس میں بہتر طور پر فِٹ ہو جاتی ہے۔
    ch10-31

    کثافت (Density)

    ہائڈروکاربنوں کے برومو، آیوڈو اور پالی کلورو مشتق پانی کے مقابلے زیادہ بھاری ہوتے ہیں۔ کاربن ایٹموں، ہیلوجن ایٹموں کی تعداد نیز ہیلوجن ایٹموں کی ایٹمی کمیت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کثافت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے (جدول10.3)۔

    جدول 10.3 کچھ ہیلوالکینس کی کثافت


    مرکب کثافت (g/mL) مرکب کثافت (g/mL)
    n-C3H7C1

    N-C3H7Br

    n-C3H71
    0.89

    1.335

    1.747
    CH2C12
    CHC13
    CC14
     
    1.336

    1.489

    1.595

    حل پذیری (Solubility)

    ہیلوالکینس پانی میں بہت معمولی حل پذیر ہیں۔ ہیلوالکینس کو پانی میں حل کرنے کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے تاکہ ہیلو الکین سالمات کی قوت کشش پر قابو پایا جاسکے اور پانی کے سالمات کے درمیان ہائڈروجن بانڈ کو توڑا جاسکے۔ جب ہیلوالکینس اور پانی کے سالمات کے درمیان نئی کششی قوتیں قائم ہوتی ہیں تو کم توانائی خارج ہوتی ہے کیونکہ یہ پانی میں اصل ہائڈروجن بانڈ کی طرح قوی نہیں ہے۔ نتیجتاً پانی میں ہیلوالکینس کی حل پذیری کم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ہیلوالکینس نامیاتی محلل میں حل ہونے کا رجحان رکھتے ہیں کیونکہ ہیلوالکینس اور محلل سالمات کے درمیان نئی بین سالماتی کشش کی قوتیں تقریباً اسی قدر کی ہوتی ہیں جو قدر ٹوٹنے والے علاحدہ علاحدہ ہیلوالکین اور محلل سالمات کے درمیان ہوتی ہیں۔

    متن پر مبنی سوالات

    10.6 مندرجہ ذیل مرکبات کے ہر ایک سیٹ کو ان کے نقطۂ جوش کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھیے۔
    (i) برومیتھین (bromomethane)، بروموفارم، کلورومیتھین، ڈائی برومومیتھین (Dibromomethane)
    (ii) 1-کلوروپروپین (1-Chloropropane)، آئسو پروپائل کلورائڈ، 1-کلوروبیوٹین (1-Chlorobutane)

    10.7 کیمیائی تعاملات (Chemical Reactions)

    10.7.1 ہیلوالکینس کے تعاملات (Reactions of Haloalkanes)
    ہیلوالکینس کے تعاملات کو مندرجہ ذیل زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
    1. نیوکلیوفلک بدل (Nucleophilic substitution)
    2. اخراجی تعاملات (Elimination substitution)
    3. دھاتوں کے ساتھ تعامل (Reaction with metals)
    (i) نیوکلیوفلک بدل تعاملات (Nucleophilic substitution Reactions)
    آپ XIجماعت میں پڑھ چکے ہیں کہ نیوکلیوفائل میںالیکٹران وافرمقدار میں ہوتے ہیںلہٰذا وہ خامری معمولی(Substrate)سالمہ کے اس حصہ پر حملہ کرتے ہیں جس میں الیکٹرانوں کی کمی ہوتی ہے۔ ایسے تعاملات جن میں ایک نیوکلیوفائل سالمہ میں پہلے سے موجودنیوکلیوفائل کے ہٹاتا ہے وہ نیوکلیو فلک بدل تعاملات کہلاتے ہیں۔ ان تعاملات میںہیلوالکین خامری معمول ہوتے ہیں۔ ایک نیوکلیوفائل (Nuicleophile) اس ہیلوالکین (Substrate) کے ساتھ تعامل کرتا ہے جس میں ہیلوجن ایٹم سے منسلک کاربن ایٹم پر جزوی مثبت چارج ہوتا ہے۔ بدل تعامل (Substitution reaction) واقع ہوتا ہے اور ہیلو جن ایٹم (جسے Leaving group کہتے ہیں) ہیلائڈ آین کے طور پر علاحدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ بدل تعامل کی ابتدا نیوکلیوفائل کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے اسے نیوکلیوفلک بدل تعامل کہتے ہیں۔
    ch10-33
    یہ ان الکائل ہیلائڈوں کے نامیاتی تعاملات کا مفید ترین زمرہ ہے جن میں ہیلوجن sp3 مخلوط شدہ کاربن ایٹم سے منسلک ہوتی ہے۔ کچھ عام نیوکلیوفائل کے ساتھ ہیلوالکین کے تعامل کے نتیجے میں بننے والے ماحصلات جدول 10.4 میں دیے گئے ہیں۔

                               جدول 10.4 الکائل ہیلائڈ(R-X) کے نیو فلک بدل
                                                             R-X+Nu--R-Nu+-

    ریجنٹ نیوکلیو فائل R-Nu بدل ماحصل R-Nu اہم ماحصل کا زمرہ
    NaOH(KOH)
    H2O
    NaOR'
    NaI
    NH3
    R'NH2
    R'R"NH
    KCN

    AgCN

    KNO2
    AgNO2
    R'COOAg
    LiAIH4
    R-M+
    HO-
    H2O
    R'O-
    I-
    NH3
    R'NH2
    R'R"H
    C-=N:

    Ag-CN:

    O=N-O
    Ag-O-N=o
    R'COO-
    H
    R-
    ROH
    ROH
    ROR
    R-I
    RNH2
    'RNHR
    "RNR'R
    RCN

    RCN
    (آئسوسائنائڈ)
    R-O-N=O
    R-NO2
    R'COOR
    RH
    'RR
    الکحل
    الکحل
    ایتھر
    الکائل آیوڈائڈ
    پرائمری امین
    سیکنڈری امین
    ٹرشری امین
    نائٹرائل
    (سائنائڈ)
    ائسو ناٹرائل

    الکائل ناٹرائل
    نائٹروالکین
    ایسٹر
    ہائڈروکاربن
    الکین

    سائنائڈ اور نائٹرائٹ جیسے گروپ دو نیوکلیوفلک مراکز پر مشتمل ہوتے ہیں اور انہیں ایمبڈینٹ نیوکلیوفائل (Ambident nucleophiles) کہا جاتا ہے۔ درحقیقت سائنائڈ گروپ دو ساختوں کی مخلوط شکل ہے اور اسی لیے دو مختلف طریقوں سے نیوکلیوفائل کے طور پر کام کرتا ہے ch10-35 یعنی کاربن ایٹم کے ذریعہ منسلک ہو کر الکائل سائنائڈ بناتا ہے اورنائٹروجن ایٹم کے ذریعہ منسلک ہو کر آئسو سائنائڈ بناتا ہے۔ اسی طرح نائٹرائٹ آین بھی ایمبڈینٹ نیوکلیوفائل کو ظاہر کرتا ہے جو دو مختلف جگہوں پر منسلک ہوتا ہے [-O-N=O]۔ آکسیجن کے ذریعہ منسلک ہو کر الکائل نائٹرائٹ کی تشکیل کرتا ہے اور نائٹروجن ایٹم کے ذریعہ منسلک ہو کر نائٹرو الکینس بناتا ہے۔

    مثال 10.5

    ہیلوالکینس KCN سے تعامل کرکے اہم ماحصل کے طور پر الکائل سائنائڈ بناتے ہیں جبکہ AgCN خاص ماحصل کے طور پر آئسو سائنائڈ کی تشکیل کرتا ہے۔ تشریح کیجیے۔

    حل:

    KCN آینی ہوتا ہے اور محلول میں سائنائڈ آین فراہم کرتا ہے۔ حالانکہ کاربن اور نائٹروجن دونوں ہی میں ایٹم اس حالت میں ہوتے ہیں کہ الیکٹران کے جوڑوں کا عطیہ کر سکیں۔ حملہ خاص طور سے کاربن ایٹم کے ذریعہ سے ہوتا، نائٹروجن کے ذریعہ سے نہیں کیونکہ C-C بانڈ C-N بانڈ کے مقابلے زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ تاہم AgCN خاص طور سے شریک گرفت نوعیت کا حامل ہے اور نائٹروجن الیکٹران کے جوڑے کا عطیہ کرنے کے لیے آزاد ہے۔ جس سے خاص ماحصل آئسو سائنائڈ بنتا ہے۔

    میکانزم (Mechanism):یہ تعامل دو مختلف میکانزم کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے جنہیں ذیل میں بیان کیا جارہا ہے:

    (a) بدل نیوکلیوفلک بائی مالیکیولر (SN2)
    میتھنال (Methnol) اور کلورائڈ آین بنانے کے لیے CH3Cl اور ہائڈراکسائڈ آین کے درمیان ہونے والا تعامل سیکنڈ آرڈر حرکیات کا اتباع کرتا ہے۔ یعنی شرح کا انحصار دونوں متعاملوں کے ارتکاز پر ہوتا ہے۔
    ch10-37
     آپ گیارھویں جماعت میں سیکشن 12.3.2 میں مطالعہ کر چکے ہیں کہ ٹھوس لائن کا غذ سے باہر نکل رہے بانڈ کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈیش لائن کاغذ سے نیچے جارہے بانڈ کو ظاہر کرتی ہے اور مستقیم خط (سیدھی لائن) کاغذ کے مستوی میں بانڈ کا اظہار ہے۔
    اوپر دیے گئے تعامل کو ڈائی گرام بنا کر دکھایا جاسکتا ہے جیسا کہ شکل 10.2 میں دکھایا گیا ہے۔
    ch10-38
     
    شکل 10.2 سرخ بال آنے والے ہائڈراکسائد آینوں کو ظاہر کرتے ہیں اور سبز ڈاٹ باہر جانے والے ھیلائڈ آینوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

    1937 میں ایڈوارڈ ڈیویزہگس اور سر کرسٹوفر انگولڈ نے SN2 میکانزم کا میکانزم تجویز کیا۔
    یہ دو سالماتی نیوکلیوفلک بدل (SN2) تعامل کو ظاہر کرتا ہے۔ اندر آنے والا نیوکلیوفائل الکائل ہیلائڈ سے باہمی عمل کرکے کاربن ہیلائڈ بانڈ کو توڑ دیتا ہے اورایک نیا بانڈکاربن اورحملہ آورنیوکلیوفائل کے درمیان بنتاہے۔یہاں پرC-OبانڈCاورOHکے درمیان بنتاہے۔ یہ دونوں عمل ایک ہی مرحلہ میں یکے بعد دیگر انجام دیے جاتے ہیں اور کسی بھی انٹرمیڈیئیٹ کی تشکیل نہیں ہوتی ہے۔ جیسے جیسے تعامل آگے کی طرف بڑھتا ہے حملہ آور نیوکلیوفائل اور کاربن ایٹم کے درمیان بانڈ بننا شروع ہوتے ہیں تو کاربن ایٹم اور باہر نکلنے والے گروپ (Leaving group) کے درمیان بانڈ کمزور ہوجاتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے توخامری معمول کے کاربن-ہائیڈروجن کے تین بانڈ حملہ آور نیوکلیوفائل سے دورہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عبوری حالت میں تینوںC-Hبانڈ ایک ہی پلین میںہوتے ہیں اور حملہ آور اورباہرنکلنے والانیوکلیوفائل کاربن کے ساتھ جزوی طورپر جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔جیسے جیسے حملہ آور نیوکلیو فائل کاربن کے نزدیک آتا ہےC-Hبانڈ بھی اسی سمت میں آگے بڑھتا ہے۔یہاں تک کہ نیوکلیوفائل کاربن پرحملہ کرتا ہے اورباہرنکلنے والا گروپ کاربن کو چھوڑدیتاہے۔ نتیجہ کے طورپر تشکل الٹ جاتا ہے۔ کاربن ایٹم کا تشکل بالکل اسی طرح الٹ جاتا ہے جس طرح تیز ہوا کے نتیجے میں چھتری الٹ جاتی ہے۔ یہ عمل تشکل کی تبدیلی (Inversion of configuration) کہلاتا ہے۔ عبوری حالت میں کاربن ایٹم آنے والے نیوکلیوفائل اور جانے والے (Leaving group) کے ساتھ بندش کرلیتا ہے۔ اس طرح عبوری حالت میں کاربن ایٹم پانچ ایٹموں کے ساتھ بندش کرتا ہے ۔ اس طرح کی ساختیں غیر مستحکم ہوتی ہیں اور انھیں علاحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

    تشکل(Configuration)

    کاربن کے اطراف تفاعلی گروہ کی ترتیب کواس کا تشکل کہتے ہیں۔ نیچے دی گئی اشکال AاورBکوغورسے دیکھیے۔
    ch10-39
    یہ ایک ہی مرکب کی دوساختیں ہیں۔یہ کاربن سے تفاعلی گروہ کی مخصوص ترتیب میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ساخت (A)ساخت(B)کی آئینی عکس (Mirror Image)ہے۔ مہم کہتے ہیں کہ ساخت(A)میں کاربن کاتشکل ساخت(B)میں کاربن کے تشکل کاآئینی عکس ہے۔

    ھگس نے انگولڈ کے ماتحت کام کیا اور یونیورسٹی آف لندن سے D.Sc. کی ڈگری حاصل کی۔

    کیونکہ اس تعامل میں کاربن پر مشتمل لیونگ گروپ  (Leaving group) تک نیوکلیوفائل کی پہنچ ضروری ہے لہٰذا کاربن ایٹم کے اوپر یا اس کے نزدیک Bulky substituents کی موجودگی ڈرامائی طور پر امتناعی اثر کا مرتکب بن جاتی ہے۔ سادہ الکائل ہیلائڈوں میں سے میتھائل ہیلائڈ SN2 تعاملات میں بہت تیزی سے تعامل کرتا ہے کیونکہ اس میں صرف تین چھوٹے ہائڈروجن ایٹم ہوتے ہیں۔ ٹرشری ہیلائڈ سب سے کم تعامل پذیر ہیں کیونکہ جسیم گروپ نیوکلیوفائل کی پہنچ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس طرح تعاملیت کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے: 

                              ٹرشری ہیلائڈ < سیکنڈری ہیلائڈ <پرائمری ہیلائڈ
    ch10-40
            شکل 10.3 SN2 تعامل میں اسٹیئرک اثر CN2 تعامل کی نسبتی شرح قوسین میں دی گئی ہے۔

    (b) بدل نیوکلیوفلک یک سالماتی (SN1)

    SN1 تعاملات عام طور سے قطبی پروٹک محلول (مثلاً پانی، الکحل، ایسیٹک ایسڈ وغیرہ) میں انجام دیے جاتے ہیں۔ ٹرشری بیوٹائل برومائڈ اور ہائڈراکسائڈ آین کے درمیان ہونے والا تعامل جس کے نتیجے میں ٹرشری بیوٹائل الکحل بنتا ہے، فرسٹ آرڈر مرکبات کا اتباع کرتا ہے یعنی تعامل کی شرح کا انحصار صرف ایک متعامل کے ارتکاز پر ہوتا ہے جو کہ یہاں -tert بیوٹائل برومائڈ ہے۔
    ch10-41
    2-میتھائل پروپین -2-آل
    2-برومو-2- میتھائل پروپین

    یہ تعامل دو مرحلوں میں مکمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلہ میں C-Br بانڈ سست شکستگی سے ہو کر گزرتا ہے جس کے نتیجے میں کاربوکیٹ آین (Carbocat ion) اور برومائڈ آین بنتے ہیں۔ اس طرح بننے والے کاربوکیٹ آین دوسرے مرحلہ میں نیوکلیوفائل کے حملہ کی زد میں آتے ہیں اور بدل تعامل مکمل ہو جاتا ہے۔
    ch10-42
    پہلا مرحلہ سست ترین مرحلہ ہے اور رجعتی بھی ہے۔ اس مرحلہ میں C-Br بانڈ کا ٹوٹنا شامل ہے جس کے لیے درکار توانائی کو پروٹک محلل کے پروٹان کی ہیلائڈ آین کے ساتھ تحلیل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کیونکہ تعامل کی شرح کا انحصار سست ترین مرحلہ پر ہوتا ہے لہٰذا شرح تعامل الکائل ہیلائڈ کے ارتکاز پر منحصر ہوتی ہے ہائڈراکسائڈ آین کے ارتکاز پر نہیں۔ مزید یہ کہ کاربوکیٹ آین کا استحکام جتنا زیادہ ہوگا الکائل ہیلائڈ سے تشکیل میں اتنی ہی آسانی ہوگی اور تعامل کی شرح اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ یہ الکائل ہیلائڈ کے معاملے میں °3الکائل ہیلائڈ بہت تیزی سے SN1 تعامل کو انجام دیتا ہے کیونکہ °3 کاربوکیٹ آینوں کا استحکام بہت زیادہ ہوتا ہے۔ SN1 اور SN2 تعاملات کے تئیں الکائل ہیلائڈوں کی تعاملیت کا خلاصہ ہم مندرجہ ذیل طریقے سے کر سکتے ہیں:
    ch10-43
    ان وجوہات کی بنا پر ایلیلک (Allylic)اور بینزائلک ہیلائڈ SN1  تعامل کے تئیں بہت زیادہ تعاملیت کا اظہار کرتے ہیں (اکائی 12، کلاس XI)-
    دیے ہوئے الکائل گروپ کے لیے ہیلائڈ  R-X کی تعاملیت، دونوں میکانزم میں ایک ہی ترتیب کا اتباع کرتی ہے۔
    R-I>R-Br>R-CI>>R-F


    ch10-44
    ch10-45

    (c) نیوکلیوفلک بدل تعاملات کے اسٹیریوکیمکل پہلو:

    نیو کلیو فلک بدل تعاملات کے اسٹیریوکیمیکل پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ہمیں کچھ بنیادی کیمیکل اصولوں اور ترسیموں (Notations) کو سیکھنے کی ضرورت ہے (بصری مناظری سرگرمی، Chirality، استحضار، تقلیب، ریس خانہ ،مناظری ناگردانی، Racemisation)۔

    ولیم نِکول (1768-1851) نے پہلا ایسا پرزم تیار کیا جس سے مسطح تقطیب شدہ روشنی پیدا ہوئی۔

    (i) بصری سرگرمی(Optical Activity):  مسطح تقطیب شدہ روشنی کے پلین (جو عام روشنی کے نِکول پرزم سے گزرنے کے بعد پیدا ہوتی ہے) کو گھما دیتے ہیں جب وہ ان کے محلول سے ہو کر گزرتی ہے۔ اس قسم کے مرکبات بصری اعتبار سے سرگرم مرکبات کہلاتے ہیں۔ جس زاویہ سے مسطح تقطیب شدہ روشنی گھومتی ہے اس کی پیمائش تقطیب پیما (Polarimeter) کے ذریعہ کی جاتی ہے اگر مرکب مسطح تقطیب شدہ روشنی کو دائیں طرف یعنی گھڑی کی سمت میں (Clockwise) گھماتا ہے تو اسے ڈیکسٹروروٹیٹری (Dextrorotatory) (یونانی میں دائیں طرف گھمانے کے لیے) یا d-شکل کہتے ہیں اور اسے گردش کے درجہ (Degree of rotation) سے پہلے مثبت نشان (+) لگاکر ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگر روشنی بائیں طرف (Anticlockwse) گردش کرتی ہے تو مرکب کو لیووروٹیٹری (Laevorotatory)  یا  l-شکل کہا جاتا ہے اور گردش کے درجہ سے پہلے منفی نشان (–) لگا کر ظاہر کیا جاتا ہے۔ مرکب کے اس قسم کے مثبت (+) اور منفی (–) آئسومر بصری آئسومر کہلاتے ہیں اور یہ مظہر آپٹکل آئسو میرزم (Optical isomerism) کہلاتا ہے۔
    جیکب ہینڈریکس وانٹ ہاف (1852-1911) کو محلولوں پر ان کے کام کے لیے 1901 میں کیمیا کا پہلا نوبل انعام دیا گیا۔
    (ii) سالماتی غیر متشاکلت، چرالٹی اورعکاس سالمے (Molecular asymmetry, chirality and enantiomers) : لوئس پاشچر (1848) کا وہ مشاہدہ کہ کچھ مرکبات آئینہ شبیہ (Mirror image) کی شکل میں پائے جاتے ہیں، جدید اسٹیرویوکیمسٹری کی بنیاد بن گیا۔ اس نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ دونوں قسم کے کرسٹلوں کے آبی محلول بصری گردش (Optical rotation) کو ظاہر کرتے ہیں جس کی قدر مساوی ہوتی ہے (مساوی ارتکاز والے محلول کے لیے) لیکن سمت ایک دوسرے کے برعکس ہوتی ہے۔ اسے یقین تھا کہ بصری سرگرمی میں یہ فرق دونوں قسم کے کرسٹلوں کے سالموں میں ایٹموں کی سہ ابعادی ترتیب (Configurations) سے وابستہ ہے۔ ڈچ سائنس داں جے وانٹ ہاف اور فرانسیسی سائنس دان سی لے بیل نے اسی سال (1874) آزادانہ طور پر تجویز کیا کہ مرکزی کاربن کے اطراف چاروں گروپوں (گرفت) کی مکانی ترتیب ٹیٹراہیڈرل ہوتی ہے اور اگر اس کاربن سے منسلک سبھی Substituent مختلف ہیں توآئینہ شبیہوں کی غیر مسلّطیت (منطبقیت)کے ساتھ اس قسم کا کاربن غیر متشاکل کاربن یا اسٹیریوسینٹر (Steriocentre) کہلاتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والے سالمہ میں متشاکلت کا فقدان ہوگا اور اسے غیر متشاکل سالمہ کہتے ہیں۔ سالمہ کی غیر متشاکلت آئینہ شبیہوں کی غیر مسلّطیت (منطبقیت) کے ساتھ اس قسم کے نامیاتی مرکبات میں بصری سرگرمی کے لیے ذمہ دار ہے۔
    ch10-46
            شکل 10.4: چرال (Chiral)اور غیر چرال (Achiral) اشیا کی کچھ عام مثالیں
    چرالیٹی
    وہ اشیا جو اپنی آئینہ شبیہہ پر منطبق نہیں ہوتیں چرال (Chiral) کہلاتی ہیں
    غیر چرالی اشیا،قابل منطبق آئینہ شبیہ 
    چرال اشیا
    غیر منطبق آئینہ شبیہ

    روز مرہ کی کئی اشیا میں بھی متشاکلت اور غیر متشاکلت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ کرہ، کعب، مخروط یہ سبھی اپنی آئینہ شبیہ کے مماثل ہیں اور انھیں ان پر منطبق کیا جاسکتاہے۔ حالانکہ کئی اشیا اپنی آئینہ شبیہ پر منطبق نہیں ہو سکتیں مثال کے طور پر آپ کا بایاں ہاتھ اور دایاں ہاتھ ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن اگر آپ(اسی سطح میں حرکت دیتے ہوئے) اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے اوپر رکھیں تو یہ منطبق نہیں ہوتے۔ وہ اشیا جو اپنی آئینہ شبیہ پر منطبق نہیں ہو سکتیں (مثلاً ہاتھوں کا جوڑا) چرال (Chiral) کہلاتی ہیں اور یہ خصوصیت چرالیٹی (Chirality) کہلاتی ہے۔غیرچرال سالمے آپٹیکلی فعال ہوتے ہیں جبکہ وہ اشیا جو اپنی آئینہ شبیہ پر منطبق ہو سکتی ہیں غیر چرال (Achiral) کہلاتی ہے۔
    سالماتی چرالیٹی (Chirality) کے مذکورہ بالاٹیسٹ کا اطلاق نامیاتی سالمات پر ان کے ماڈل اور آئینہ شبیہ بناکر یا ان کی سہ ابعادی ساخت تشکیل دے کر اپنے ذہن میں منطبق کرکے کیا جاسکتا ہے۔ کچھ اور ممد (aids) بھی ہیں تاہم یہ چرال  (Chiral) سالمات کی شناخت میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔ اس قسم کی ایک ممد واحد غیر متشاکل کاربن ایٹم کی موجودگی ہے۔ آئیے دو سادہ سالمات propan-2-ol (شکل10.5)اور butan-2-ol (شکل10.6)اور ان کی آئینہ شبیہوں پر غور کرتے ہیں۔
    ch10-47
         شکل 10.5 : A,B کی آئینہ شبیہ ہے، B کو 180oگھمایا گیا ہے A,C پر منطبق ہے۔

    جیسا کہ آپ بہت صاف دیکھ رہے ہیں کہ Propan-2.0I(A)غیرمتشاکل کاربن ہے کیوں کہ چاروں گروپ جوٹیٹراہیڈرل کاربن سے جڑے ہوئے ہیں وہ مختلف نہیں ہیں۔ ہم اس سالمہ کی آئینہ شبیہ(B)کو°180پر گھماتے ہیں اور(C)کوحاصل کرتے ہیں اور پھر(ــC)کو(A)پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ شکلیں ایک دوسرے کومکمل طورپر ڈھک لیتی ہیں۔  اس طرح یہ ایک غیر چرال  (Achiral) سالمہ ہے۔
    ch10-48

    شکل 10.6 D,E کی آئینہ ہے، E کو 180o گھما کر F حاصل کیا گیا، F اپنی آئینہ شبیہ Dپرمنطبق نہیں ہے۔
     
    Butan-2-ol میں چاروں مختلف گروپ ٹیٹراہیڈرل کاربن سے منسلک ہیں لہٰذا اسے چرال (Chiral) تصور کیا جاسکتا ہے۔ چرال (Chiral) سالمات کی کچھ عام مثالیں ہیں: 2-کلوروبیوٹین (2-Chlorobutane)، 2,3-dihydroxypropanal، (OHC–CHOH–CH2OH) بروموکلورو- آیوڈومیتھین (BrClCHI)، 2-بروموپروپینوئک ایسڈ (H3C–CHBr–COOH) وغیرہ۔
    ch10-49
                                    شکل 10.5 : غیر چرال سالمہ اور اس کی آئینہ شبیہ

    غیر منطبق آئینہ شبیہہ کے طور پر ایک دوسرے سے متعلق اسٹیریوآئسومر انینشیومرز (Enantiomers) کہلاتے ہیں (شکل 10.5)۔شکل10.5میں AاورBاورشکل 10.6میں D اورE انینشیومرز ہیں۔
    انینشیومرز کی طبیعی خصوصیات جیسے نقطۂ گداخت، نقطۂ جوش، انعطافی اشاریہ (Refractive Index) وغیرہ یکساں ہوتی ہیں۔ یہ صرف مسطح تقطیب شدہ روشنی کی گردش کے معاملے میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگر ایک انینشیومرڈیکسٹروروٹیٹری (Dextro rotatory) ہے تو دوسرالیوروٹیٹری  (laevo rotatory) ہوگا۔
    بصری گردش (Optical rotation) کے نشان کا تعلق سالمہ کے مطلق تشکل سے نہیں ہوتا ہے۔
    مساوی تناسب میں دو انینشیو مرز کا آمیزہ صفر بصری گردش ظاہر کرتا ہے کیونکہ ایک آئسومر کی وجہ سے ہونے والی گردش دوسرے آئسو مر کی وجہ سے ہونے والی گردش سے منسوخ ہو جاتی ہے۔ اس قسم کا آمیزہ ریسیمک (Racemic) آمیزہ یا ریسیمک اصلاح  (Racemic modification) کہلاتا ہے۔ ریسیمک آمیزہ کو نام سے پہلے سابقہ dl یا (±) کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر (±) butan-2-ol۔ انینشیومر کی ریسیمک آمیزہ میں تبدیلی ریسیمائزیشن Racemisation کہلاتی ہے۔
    ch10-50
    مثال 10.8 :مندرجہ ذیل مرکبات کے ہر ایک جوڑے میں چرال (Chiral)اور غیر چرال (Achiral)سالمیات کی شناخت کیجیے۔ (Wedge اور Dash کا اظہار گیارہویں جماعت شکل 12.1کے مطابق ہے)۔

    (iii) استحضار (Retention): تشکل کی برقراری کیمیائی تعامل یا تبدیلی کے دوران ایک غیر متشاکل مرکز تک بانڈ کی مکانی ترتیب کی سالمیت کا تحفظ ہے۔ 
    عمومی طور پر، اگر تعامل کے دوران اسٹیریوسینٹر کا کوئی بھی بانڈ نہیں ٹوٹتا ہے تو ماحصل کا عمومی تشکل متعاملوں میں اسٹیریوسینٹر کے اطراف گروپوں کے تشکل جیسا ہی ہوگا۔ اس قسم کا  تعامل تشکل کو برقرار رکھنے والا تعامل کہلاتا ہے۔ ایک مثال پر غور کیجیے جس میں ch10-51 کو مرتکز ہائڈروکلورک ایسڈ کے ساتھ گرم کرکے تعامل انجام دیا جاتا ہے۔
    ch10-52
    یہ جاننا ضروری ہے کہ متعامل اور ماحصل میں غیرمتشکل مرکزپر تشکل یکساں ہوتا ہے لیکن ماحصل میں بصری گھماؤ کانشان تبدیل کردیا جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ غیرمتشکل مرکزپر دومختلف مرکب ایک جیسے تشکل کے ساتھ مختلف بصری گھماؤ رکھ سکتے ہیں۔ ایک ڈیکسٹرو روٹیٹری (بصری گھماؤ کا مثبت نشان)تودوسرا لیوروٹیٹری ہوسکتاہے۔(بصری گھماؤ کا منفی نشان)
    (iv) تقلیب، استحضار اورریسیمائزیشن  (Racemisation): غیر متشاکل کاربن ایٹم پر تعامل کے لیے تین نتائج ہیں جب غیرمتشاکل کاربن ایٹم سے براہِ راست جڑا ہوا بونڈ ٹوٹتا ہے۔مندرجہ ذیل تعامل میں Y کے ذریعہ گروپ X کے ہٹاؤ پر غور کیجیے۔
    ch10-53
    اگر حاصل ہونے والا مرکب صرف [A] ہے تو یہ عمل تشکل کی برقراری (Retention of configuration) کہلاتا ہے۔غورکیجیے کہ Aکا تشکل برقرارہے۔
    اگر حاصل ہونے والا مرکب صرف [B] ہے تو یہ عمل تشکل کی تقلیب (Inversion of configuration) کہلاتا ہے۔Bکا تشکل پلٹ گیا ہے۔
    اگر مذکورہ بالا دونوںAاورB کا 50 : 50 آمیزہ حاصل ہوتا ہے تو یہ عمل ریسیمائزیشن (Racemisation) کہلاتا ہے اور ماحصل بصری اعتبار سے غیر عامل (Inactive) ہوتا ہے یعنی ایک آئسو مر دوسرے کے مقابلے بصری روشنی کو مخالف سمت میں گھماتا ہے۔

    آئیے اب بصری اعتبار سے سرگرم الکائل ہیلائڈوں کی مثالیں لے کر SN1 اور SN2 میکانزم پر ازسرنو غور کرتے ہیں۔

    بصری اعتبار سے سر گرم الکائل ہیلائڈوں کے معاملے میں SN2 میکانزم کے نتیجے میں بننے والا ماحصل متعامل کے مقابلے تقلیبی تشکل کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیوکلیوفائل اپنے آپ کو اس مقام پر منسلک کرتا ہے جو اس مقام کے مقابل سمت میں ہوتا ہے جہاں ہیلوجن ایٹم موجود ہوتا ہے۔ جب  bromooctane ۔(–)-2 کا سوڈیم ہائڈراکسائڈ سے تعامل کرایا جاتا ہے تو octan-2-ol۔-(+) حاصل ہوتا ہے جس میں OH گروپ کا مقام برومائڈ کے مقام کے مقابل ہوتا ہے۔
    ch10-54
    اس طرح بصری اعتبار سے سرگرم ہیلائڈوں کے SN2 تعاملات تشکل کی تقلیب کے ذریعہ انجام پاتے ہیں۔
    بصری اعتبار سے سرگرم ہیلائڈوں کے SN1 تعاملات ریسیمائزیشن کے ذریعہ انجام پاتے ہیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوجاتا ہے؟ درحقیقت سست مرحلہ میں تشکیل پانے والا کاربوکیٹ آین sp2 مخلوط شدہ ہونے کی وجہ سے مسطح (Planer) ہوتا ہے -(Achiral) نیوکلیو فائل کا حملہ کاربوکیٹائن کی کسی بھی جانب سے ہوسکتا ہے نتیجتاً ماحصلات کا آمیزہ حاصل ہوتا ہے، ان میں سے ایک یکساں تشکل کا حامل ہوتا ہے (OH- اسی طرف منسلک ہوتا ہے جس طرف ہیلائڈ آئن منسلک ہوتا ہے) اور دوسرا ماحصل برعکس تشکل کا حامل ہوتا ہے۔ (OH- کی پوزیشن ہیلائڈ آین کے برعکس ہوتی ہے) اس کی وضاحت بصری اعتبار سے سرگرم 2-بروموبیوٹین کی برق پاشیدگی کے ذریعہ کی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں butan-2-ol-(±)حاصل ہوتا ہے۔
    ch10-55

    اخراجی تعاملات (Elimination reactions)

    جب ch10-56ہائڈروجن ایٹم والے ہیلوالکین کو پوٹاشیم ہائڈراکسائڈ کے الکحلی محلول کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے تو ch10-57 کاربن سے ہائڈروجن اور a-کاربن ایٹم سے ہیلوجن ایٹم کا اخراج ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ماحصل کے طور پر الکین (Alkene) حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اخراج میں ch10-56ہائڈروجن شامل ہے اس لیے اسے عام طور سے ch10-56اخراج کہتے ہیں۔
    ch10-58
    سالمہ میںa اور ch10-57کاربن کامقام وہ کاربن جس پر ہیلوجن ایٹم براہِ راست جڑتا ہےaکاربن کہلاتا ہے اوراس کے برابر والاکاربنch10-57 کاربن کہلاتا ہے۔
    ch10-59

    اگر ایک سے زیادہ ch10-57ہائڈروجن ایٹموں کی وجہ سے ایک سے زیادہ الکین (Alkene) کے بننے کا امکان ہے تو عام طور سے خاص ماحصل کے طور پر ایک الکین بنتی ہے۔ یہ اس پیٹرن کے حصہ کی تشکیل ہے جس کا مشاہدہ سب سے پہلے روسی کیمیا داں الکیزینڈر زیتیسو (Alexander Zaitsev) نے کیا تھا جس نے 1875 میں ایک کلیہ قائم کیا جس کا خلاصہ اس طرح ہے ’’ڈی ہائڈروہیلوجینیشن تعاملات میں، ترجیحی ماحصل وہ الکین ہوتی ہے جس میں ڈبل بانڈ والے کاربن ایٹموں سے منسلک ہونے والے الکائل گروپوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔‘‘ اس طرح 2-bromopentane سے خاص ماحصل کے طور پر pent-2-ene بنتا ہے۔
    ch10-60

    اخراج بالمقابل بدل (Elimination versus substitution)

    ایک کیمیائی تعامل مسابقت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی دوڑ ہے جو سب سے تیز دوڑنے والے کے ذریعہ کی جاتی ہے۔سالمات کا مجموعہ زیادہ تر اس کام کو کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے لیے آسان ہو۔a-ہائڈروجن ایٹموں والا الکائل ہیلائڈ جب ایک اساس (Base) یا نیوکلیوفائل سے تعامل کرتا ہے تو اس کے پاس دو مسابقتی راستے ہوتے ہیں۔ ایک راستہ ہے بدل (SN2 اور SN1) اور دوسرا اخراج۔ کون سا راستہ اختیار کیا جائے گا، اس کا انحصار الکائل ہیلائڈ کی نوعیت، اساس/نیوکلیوفائل کی قوت اور سائز تعامل کے حالات پر ہوتا ہے۔ اس طرح ایک جسیم نیوکلیوفائل اساس کے مترادف طرز عمل کو ترجیح دیتا ہے اور چہار گرفتی کاربن ایٹم کے نزدیک جانے کے بجائے ایک پروٹان کو نکال لیتا ہے (اسٹیئرک وجہ)۔ اسی طرح سے پرائمری الکائل ہیلائڈ SN2 تعامل کو ترجیح دیتا ہے۔ سیکنڈری الکائل ہیلائڈ SN2 کو ترجیح دے گا یا اخراج کو ترجیح دے گا، اس بات کا انحصار نیو کلیوفائل یا اساس کی استطاعت پر ہوگا اور ٹرشری الکائل ہیلائڈ SN1تعامل یا اخراج کو ترجیح دے گا۔ اس کا انحصارکاربوکیٹ تہیں کے استحکام یا الکین کے زیادہ بدل پر ہوگا۔
    ch10-61

                     بدل                                       اخراج

    دھاتوں کے ساتھ تعامل (Reaction with metals)

    زیادہ تر نامیاتی کلورائڈ، برومائڈ اور آیوڈائڈ کچھ مخصوص دھاتوں کے ساتھ تعامل کرکے کاربن-دھات بانڈ پر مشتمل مرکبات بناتے ہیں۔ اس قسم کے مرکبات نامیاتی- دھاتی مرکبات (Organo-metallic compounds) کہلاتے ہیں۔ نامیاتی دھاتی مرکبات کی ایک اہم جماعت الکائل میگنیشیم ہیلائڈ RMgX ہے جس کی کھوج 1900 میں وکٹرگرگنارڈ (Victor Grignard) نے کی تھی۔ اسے گرگنارڈ ریجنٹ (Grignard Reagents)کہا جاتا ہے۔ یہ ریجنٹ خشک ایتھر میں ہیلوالکین کے میگنیشیم دھات کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں تیار کیے جاتے ہیں۔
    ch10-62
    گرگنارڈ ریجنٹ میں، کاربن میگنیشیم بانڈ شریک گرفت لیکن بہت زیادہ قطبی نوعیت کا ہوتا ہے جس میں کاربن، الیکٹرانوں کو برقی مثبت میگنیشیم سے اپنی جانب کھینچتا ہے، میگنیشیم ہیلوجن بانڈ لازمی طور پر آینی ہوتا ہے۔
    ch10-63


    ch10-64
    وکٹر گرگنار ڈکی ایک کیمیاداں کے طور پرشروعات ایک عجیب انداز میں ہوئی۔ انھوں نے ریاضی میں ڈگری حاصل کی لیکن وہ اچانک کیمسٹری کی طرف مڑ گئے۔ یہ طبیعی کیمیا کا ریاضیاتی حلقہ نہیں تھا بلکہ نامیاتی کیمیا کا تھا۔ میتھائلیش کے عمل کے لیے ایک کا اگر وسیط کی کھوج کے دوران انھوں نے دیکھا کہ ڈائی ایتھال ایتھر میں زنگ کا استعمال اس مقصد کے لیے ہوتا ہے انھوں نے جاننا چاہا کہ کیا اس کی جگہ میگنیشیم ؍ایتھر کا اتحدا بھی کامیاب ہوسکتا ہے۔ گرگنارڈریجنٹ کو سب سے پہلے 1900میں پیش کیا گیا۔ گرگنارڈ نے اس کام کااستعمال 1901میں اپنی پی ایچ ڈی کے لیے کیا۔ 1910میں گرگنارڈ نینسی یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے ر فائز ہوئے 1912میں انھوں نے پال سا بیتے (Paul Sabaties) کے ساتھ مجموعی طو رپر کیمسٹری کا نوبل انعام حاصل کیا۰ پال سابیتے نے نکل کیٹلائز ہائڈوروجینیشن پر کام کیا تھا۔
    گرگنارڈریجنٹ بہت زیادہ تعامل پذیر ہوتے ہیں اور کسی بھی پروٹان مآخذ سے تعامل کرکے ہائڈرو کار بن بناتے ہیں۔ یہاں تک کہ پانی، الکحل، امین اتنے تیزابی ہیں کہ وہ انہیں نظیری ہائڈرو کاربنوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
    ch10-65
    اس لیے یہ ضروری ہے کہ گرگنارڈ ریجنٹ کو معمولی سی نمی سے بھی دوررکھنا چاہیے۔اس وجہ سے یہ تعامل خشک ایتھرمیں کیاجاتاہے۔ دوسری طرف اسے ہیلائڈوں کو ہائڈروکاربنوں میں تبدیل کرنے کا ایک طریقہ تصور کیا جاسکتا ہے۔

    ورٹز تعامل (Wurtz Reaction)

    الکائل ہیلائڈ خشک ایتھر میں سوڈیم سے تعامل کرکے ایسے ہائڈروکاربن بناتے ہیں جن میں کاربن ایٹموں کی تعداد ہیلائڈ میں موجود کاربن ایٹموں کی تعداد کا دوگنا ہوتی ہے۔ اس تعامل کو ورٹز تعامل کہتے ہیں (اکائی 13 کلاس XI)۔
    ch10-66

    10.7.2 ہیلوایرینس کے تعاملات (Reactions of Haloarenes)

    نیوکلیوفلک بدل (Nucleophilic substitution)

    ایرائل ہیلائڈ نیوکلیوفلک بدل تعاملات کے تئیں نہایت کم تعامل پذیر ہیں۔ اس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
    (i) گمک اثر (Resonance effect) : ہیلوایرینس میں ہیلوجن ایٹم پر الیکٹران کے جوڑے رنگ (حلقہ) کے ch10-68الیکٹرانوں کے ساتھ جفتہ کی شکل (Conjugation) میں ہوتے ہیں اور مندرجہ ذیل گمک ساختیں ممکن ہیں۔
    ch10-67
    ـC—Cl بانڈ گمک کی وجہ سے جزوی ڈبل بانڈ خصوصیت کو حاصل کرلیتا ہے۔ نتیجتاً ہیلوایرین میں بانڈ شکستگی ہیلوالکین کے مقابلے مشکل ہے اور اسی لیے یہ نیوکلیوفلک بدل تعاملات کے تئیں کم تعامل پذیر ہوتے ہیں۔
    (ii)۔ C—Xبانڈ  میں کاربن ایٹم کی مخلوطیت میں فرق: ہیلوالکین میں ہیلوجن سے منسلک کاربن ایٹم sp3 مخلوط شدہ ہوتا ہے جبکہ ہیلوایرین میں ہیلوجن سے منسلک کاربن ایٹم sp2 مخلوط شدہ ہوتا ہے۔
    ch10-69
    sp3-مخلوط شدہ کاربن
    sp2-مخلوط شدہ کاربن
    زیادہ s-خصوصیت کا حامل sp2 مخلوط شدہ کاربن زیادہ برقی منفی ہوتا ہے اور C—X بانڈ کے الیکٹران جوڑے کو کم s-خصوصیت والے ہیلوالکین میں sp3 مخلوط شدہ کاربن کے مقابلے زیادہ مضبوطی سے پکڑ کر رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ہیلوالکین میں C—Cl بانڈ لمبائی 177pm ہوتی ہے جبکہ ہیلوایرینس میں 169pm ہوتی ہے۔ کیونکہ بڑے بانڈ کے مقابلے چھوٹے بانڈ کو توڑنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ہیلو ایرینس، ہیلوالکینس کے مقابلے نیوکلیوفلک بدل تعامل کے تئیں کم تعامل پذیر ہوتے ہیں۔
    (iii) فِنائل کیٹ آین کا عدم استحکام (Instability of phenyl cation): ہیلوایرینس میں ازخود آیونائٹزیشن کے نتیجے میں بننے والا فِنائل کیٹ آین گمک کے ذریعہ مستحکم نہیں ہوگا اور اسی لیے SN1 میکانزم کو خارج کر دیا جاتا ہے۔
    (iv) ممکنہ دفع کی وجہ سے، الیکٹران سے بھر پور نیوکلیوفائل کے لیے الیکٹران سے بھرپور ایرینس تک پہنچنے کے لیے اس کا امکان بہت کم ہے۔

    ہائڈراکسل گروپ کے ذریعہ ہٹاؤ: (Replacement by hydroxyl group)

    کلوروبینزین کو 623K درجۂ حرارت اور 300 atm دباؤ پر آبی سوڈیم ہائڈراکسائڈ محلول میں گرم کرکے فینال (Phenol) میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
    ch10-70
    آرتھو اور پیرا مقامات پر الیکٹران کو باہر نکالنے والے گروپ (NO2–) کی موجودگی ہیلوایرینس کی تعاملیت میں اضافہ کر دیتی ہے۔
    ch10-71
    ch10-72

    جب (NO2–) گروپ آرتھواور پیرا مقامات پر متعارف ہوتا ہے تو اثر ہوتا ہے۔ حالانکہ میٹا پوزیشن پر ودڈراونگ گروپ (Withdrawing group) کی موجودگی کی وجہ سے ہیلوایرینس کی تعاملیت پر کسی قسم کے اثر کا مشاہدہ نہیں ہوتا۔ تعامل کا میکانزم ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
    ch10-73
    کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ NO2 صرف آرتھو اور پیراپوزیشن پر ہی اپنے اثر کو ظاہر کرتا ہے، میٹاپوزیشن پر نہیں، کیوں؟
    جیسا کہ دکھایا گیا ہے، آرتھو اور پیرا مقامات پر نائٹروگروپ کی موجودگی بینزین رِنگ سے الیکٹران کثافت کو کم کر دیتی ہے جس سے ہومیوایرینس پر میوکلیوفائل کا حملہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والا کاربو این آین کو گمک کے ذریعہ استحکام عطا کیا جاتا ہے۔ ہیلوجن بدل کے مقابلے میں آرتھو اور پیراپوزیشن پر منفی چارج کی موجودگی کو NO2 گروپ کے ذریعہ استحکام عطا کیا جاتا ہے جبکہ میٹا نائٹروبینزین کے مقابلے میں کسی بھی گمک ساخت میں NO2 گروپ والے کاربن پر منفی چارج موجود نہیں ہوتا۔ اسی لیے میٹا پوزیشن پر نائٹروگروپ کی موجودگی کو استحکام عطا نہیں کیا جاتا اور میٹا پوزیشن پر NO2 گروپ کی موجودگی کی وجہ سے تعاملیت پر کسی قسم کے اثر کا مشاہدہ نہیں ہوتا۔

    الیکٹروفلک بدل تعاملات (Electrophilic substitution reactions)

    ہیلوایرینس میں ہیلوجینیشن، نائٹریشن، سلفونیشن اور فریڈل کرافٹ تعاملات جیسے بینزین رنگ کے الیکٹروفلک تعاملات ہوتے ہیں۔ ہیلوجن ایٹم معمولی سا غیر سرگرم ہونے کے باوجود ch10-74ڈائریکٹنگ ہوتا ہے لہٰذا مزید بدل ہیلوجن ایٹم کی مناسبت میں آرتھو اور پیرا مقامات پر ہوتا ہے۔ ہیلوجن ایٹم کے ch10-74 ڈائرکٹنگ اثر کو ہم ہیلوبینزین کی مندرجہ ذیل گمک ساختوں پر غور کرکے سمجھ سکتے ہیں۔
    ch10-75

    گمک کی وجہ سے الیکٹران کثافت میں میٹا پوزیشنوں کے مقابلے آرتھو اور پیراپوزیشنوں پر زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ہیلوجن ایٹم میں اپنے I– اثر کی وجہ سے بینزین رنگ سے الیکٹرانوں کو نکالنے کا کچھ رجحان ہوتا ہے۔ نتیجتاً رِنگ، بینزین کے مقابلے کچھ غیر عامل (Deactivated) ہوجاتاہے اور اس طرح نیوکلیو فلک بدل تعاملات ہیلوایرینس میں آہستہ آہستہ واقع ہوتے ہیں اور بینزین کے مقابلے زیادہ شدید حالات درکار ہوتے ہیں۔
    ch10-76
    ch10-77
    ch10-78
    (i) ہیلو جینیشن
    2،1- ڈائی کلورو بینزین،  4،1- ڈائی کلورو بینزین (اکبر)
    (ii) ناءٹریشن 
    1- کلورو-4- نائٹروبینزین (اکبر)،  1-کلورو -2-نائٹروبینزین (اکبر)
    (iii) سلفونیشن 
    4-کلوروبینزین سلفونک ایسڈ (اکبر)،  2-کلورو بینزین سلفونک ایسڈ (اصغر)
    (iv) فریڈل کرافٹس تعامل 
    1-کلورو-4-میتھائل بینزین (اکبر)،  1-کلورو-2- میتھائل بینزین (اصغر)
    4-کلورو سیٹا فینون ،  2-کلورو سیٹا فینون (اصغر)


    مثال 10.9

    حالانکہ کلورین ایک EWG (Electron withdrawing group) ہے پھر بھی یہ الیکٹروفلک ایرومیٹک بدل تعاملات میں آرتھو-، پیرا ڈائریکٹنگ ہے۔ کیوں؟

    حل

    کلورین الیکٹرانوں کو امالی اثر کے ذریعہ (Withdraw) کرتی ہے اور گمک کے ذریعہ الیکٹرانوں کو خارج کرتی ہے۔ امالی اثر کے تحت کلورین الیکٹروفلک بدل تعامل کے دوران بننے والے انٹرمیڈئیٹ کاربو کیٹ آین کو غیر مستحکم بناتی ہے۔
    ch10-79
    امالی اثرانٹر میڈیئٹ کاربن کیٹ آین کو غیر مستحکم بناتا ہے۔
    آرتھو- پوزیشن پر حملہ
    (پیرا- پوزیشن پر حملہ)

    گمک اثر انٹرمیڈیٹ کاربن کیٹ آین کو استحکام عطا کرتا ہے۔
    گمک کے ذریعہ ہیلوجن کاربوکیٹ آین کو مستحکم بناتی ہے اور یہ اثر آرتھو اور پیراپوزیشنوں پر زیادہ ہوتا ہے۔ امالی اثر گمک کے مقابلے زیادہ قوی ہوتا ہے اور کل ملا کر Electron withdrawal کا سبب بنتا ہے اور اس طرح غیر عاملیت کا موجب ہے۔ گمک اثر آرتھو اور پیراپوزیشنوں پر حملہ کے لیے امالی اثر کی مخالفت کرتا ہے اور اس طرح غیر عاملیت کو آرتھو اور پیرا حملہ کے لیے کم کر دیتا ہے۔ اس طرح تعاملیت کو قوی امالی اثر کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے اور تشریق گمک کے ذریعہ کنٹرول کی جاتی ہے۔


    دھاتوں کے ساتھ تعامل (Reaction with metals)

    ورٹز فٹگ تعامل (Wurtz-Fittig reaction)

    الکائل ہیلائڈ اور ایرائل ہیلائڈ کا آمیزہ خشک ایتھر میں سوڈیم سے تعامل کرکے الکائل ایرین بناتا ہے۔ یہ تعامل ورٹزفٹگ (Wurtz-fittig) تعامل کہلاتا ہے۔
    ch10-80

    فٹگ تعامل (Fittig reaction)

    ایرائل ہیلائڈ خشک ایتھر میں سوڈیم سے تعامل کرکے مشابہ (Analogous) مرکبات بھی بناتا ہے جس میں دو ایرائل گروپ ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔ اسے فٹگ تعامل کہتے ہیں۔
    ch10-81
    ch10-82
    متن پر متنی سوالات-
    10.7 آپ مندرجہ ذیل جوڑوں میں سے کس الکائل ہیلائڈ سے SN2 میکانزم کے ذریعہ تیزی سے تعامل کرنے کی امید رکھتے ہیں؟
    10.8 ہیلو جن مرکبات کے مندرجہ ذیل جوڑوں میں کون سا مرکب تیزی سے SN1 تعامل کرتا ہے؟
    10.9 مندرجہ ذیل A,B,C,D,Eاور 'R کی شناخت کیجیے۔

    10.8 پالی ہیلوجن مرکبات (Polyhalogen Compounds)

    10.8.1 ڈائی کلورومیتھین (میتھائلین کلورائڈ)

    ایک سے زیادہ ہیلوجن ایٹموں پر مشتمل کاربن کے مرکبات عام طور سے پالی ہیلوجن مرکبات کہلاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے مرکبات صنعت اور زراعت میں کافی مفید ہیں۔ کچھ پالی ہیلوجن مرکبات اس سیکشن میں مذکور ہیں۔

    ڈائی کلورومیتھین کا سب سے زیادہ استعمال روغن ہٹانے کے لیے محلل کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایروسول پروپیلینٹ (Propellant) کے طور پر اور دوائیں بنانے میں پراسس محلل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال دھاتوں کو صاف کرنے اور چمکانے والے محلل کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔ میتھائلین کلورائڈ انسانوں میں مرکزی عصبی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہوا میں میتھائلین کلورائڈ کی زیادہ مقدار بیہوش، متلی اور ہاتھ پیروں کی انگلیوں کے سن پڑ جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ انسانوں میں اگر جِلد سیدھے ہی میتھائلین کلورائڈ کے رابطہ میں آجائے تو شدید جلن ہونے لگتی ہے اور جِلد میں معمولی سی سرخی آجاتی ہے۔ آنکھ کے براہ راست رابطہ کی وجہ سے کارنیا (Cornea) جل سکتا ہے۔

    10.8.2 ٹرائی کلورومیتھین (کلوروفارم)

    کیمیائی اعتبار سے کلوروفارم چربیوں، الکیلائڈ، آیوڈین اور دیگر اشیا کے لیے محلل کے طور پر کام کرتا ہے۔ آج کل کلوروفارم کا سب سے زیادہ استعمال فری آن ریفریجنٹ R-22 تیار کرنے میں کیا جاتا ہے۔ پہلے اس کا استعمال سرجری میں جنرل اینستھٹیک (General anaesthetic) کے طور پر کیا جاتا تھا لیکن اب اس کی جگہ کم زہریلے اور محفوظ اینیستھیٹک کا استعمال کیا جاتاہے۔ کلوروفارم کے بخارات کو سانس کے ذریعہ اندر لینے سے مرکزی عصبی نظام سست پڑ جاتا ہے۔ 900 ppm کلوروفارم کو سانس کے ذریعہ اندر لینے سے بیہوشی، تھکاوٹ اور سردرد ہونے لگتا ہے۔ بہت زیادہ کلوروفارم سے جگر (جہاں کلوروفارم کا فاسجین میں تحول ہو جاتا ہے) اور گردے خراب ہو سکتے ہیں۔ جب جِلد کو کلوروفارم میں ڈبایا جاتا ہے تو کچھ لوگ جِلد میں سوزش کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ روشنی کی موجودگی میں کلوروفارم ہوا کے ذریعہ آہستہ آہستہ بہت زیادہ زہریلی گیس کاربونل کلورائڈ میں تکسید ہو جاتا ہے۔ یہ گیس فاسجین (Phosgene) بھی کہلاتی ہے۔ لہٰذا اسے گہرے رنگ کی مکمل طور سے بھری ہوئی بندبوتلوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ ہوا باہر رہے۔

    rawa  

    10.8.3 ٹرائی آیوڈو میتھین (آیوڈ و فارم)

    اس کا استعمال پہلے اینٹی سیپٹک کے طور پر کیا جاتا تھا لیکن اینٹی سیپٹک خصوصیات کی وجہ آزاد آیوڈین کا خارج ہونا ہے ناکہ خود آیوڈو فارم۔ اس کی ناپسندیدہ بو کی وجہ سے اس کی جگہ آیوڈین پر مشتمل دیگر مرکبات نے لے لی۔

    10.8.4 ٹیٹراکلورومیتھین (کاربن ٹیٹرا کلورائڈ)

    ریفریجرینٹ اور ایروسول کین کے لیے پروپیلینٹ بنانے میں اسے بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔ اسے کلورو فلورو کاربن اور دیگر کیمیائی اشیا کی تالیف کے لیے فیڈ اسٹاک (Feedstock) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دوائیں بنانے اور عام محلل کے طور پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ 1960 کے وسط تک اس کا استعمال بڑے پیمانے پر صنعتوں میں گریس ہٹانے کے لیے اور گھروں میں دھبے ہٹانے کے لیے رقیق کے طور پر اور آگ بجھانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ ایسے کچھ ثبوت ملے ہیں کہ کاربن ٹیٹرا کلورائڈ انسانوں میں جگر کے کینسر کا سبب ہے۔ بیہوشی، ہلکا سردرد، متلی اور الٹی (قے) اس کے عام اثرات ہیں جن کی وجہ سے عصبی خلیے (Nerve cells) مستقل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں۔ کچھ شدید معاملوں میں یہ اثرات بہت تیزی سے حالت استعجاب، کوما، بیہوشی یا موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ CCl4 کے رابطہ میں آنے سے دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہو جاتی ہے یا رک سکتی ہے۔ کیمکل آنکھوں میں جلن پیدا کرسکتا ہے۔ جب کاربن ٹیٹرا کلورائڈ ہوا میں خارج ہو جاتا ہے تو یہ کرہ باد میں اوزون پرت کو پتلا کردیتا ہے۔ اوزون پرت کے پتلا ہو جانے کی وجہ سے انسان الٹراوائلٹ شعاعوں کی زد میں آسکتے ہیں جس کی وجہ سے جلد کا کینسر، آنکھوں کی بیماریاں اور عارضے لا حق ہوسکتے ہیں اور نظام مامون کے خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

    10.8.5 فری آنس (Freons)

    میتھین اور ایتھین کے کلوروفلورو کاربن مرکبات مجموعی طور پر فری آنس کہلاتے ہیں۔ یہ نہایت مستحکم، غیر تعامل پذیر، غیر سمی، غیر تاکلی اور آسانی سے رقیق میں تبدیل ہونے والی گیسیں ہیں۔ فری آن 12 (CCl2F2) سب سے عام فری آن ہے جو کہ صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔ اسے ٹیٹرا کلورومیتھین سے سوارٹ تعامل کے ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں عام طور سے ایروسول پروپیلینٹ، ریفیریجریشن اور ایئرکنڈیشننگ مقاصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ 1974 سے دنیا میں فری آن کی کل پیداوار 2 بلین پاؤنڈ سالانہ ہے۔ زیادہ تر فری آن، یہاں تک کہ جو ریفریجریشن میں استعمال کی جاتی ہے کرہ باد میں پہنچ جاتی ہے جہاں یہ بغیر تبدیل ہوئے اسٹریٹواسفیئر میں نفوذ کر جاتی ہے۔ اسٹریٹو اسفیئر میں فری آن ریڈیکل زنجیری تعامل کو شروع کر دیتی ہے جس سے قدرتی اوزون توازن بگڑ سکتا ہے (اکائی 14، کلاس XI)۔

    10.8.6 p, p' ڈائی کلوروڈائی فنائل ٹرائی کلوروایتھین (DDT)

    DDT ،پہلا کلورین شدہ نامیاتی حشرہ کش (Insecticide) 1873 میں تیار کیا گیا تھا۔ 1939 کے بعد ہی سوئٹزرلینڈ میں گیگی فارماسیوٹکل (Geigy pharmaceutical) کے پال میولر نے حشرہ کش کے طور پر DDT کی مؤثریت ایجاد کی۔ اس ایجاد کے لیے 1948 میں پال میولر کو طب اور عضویات کے لیے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ دنیا میں DDT کا بڑے پیمانے پر استعمال دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوا کیونکہ یہ ٹائفس (Typhus) کی حمال جوؤں اور ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے خلاف کافی مؤثر تھا۔ تاہم DDT کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے 1940 کے اواخر میں کچھ مسئلے پیدا ہونے لگے۔ حشرات کی کئی انواع نے DDT کے تئیں مزاحمت پیدا کرلی اور اس بات کی بھی کھوج ہوئی کہ یہ مچھلیوں کے لیے بہت زیادہ زہریلا ہے۔ DDT کے کیمیائی استحکام اور چربیوں کی حل پذیری نے مسئلہ کھڑا کر دیا۔ جانوروں میں DDT کا تحول بہت تیزی سے نہیں ہو پاتا اور یہ چربیلے بافتوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ اگر مستقل شرح سے ہوتا رہے توجانوروں میں DDT کی مقدار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ 1973 میں USA میں DDT پر پابندی عائد کردی گئی حالانکہ دنیا کے کئی حصوں میں اس کااستعمال آج بھی ہو رہا ہے۔
    ch10-84

    خلاصہ

    الکائل / ایرائل ہیلائڈوں کی درجہ بندی مونو، ڈائی یا پالی ہیلوجن (ٹرائی، ٹیٹرا وغیرہ) کے تحت کی جاسکتی ہے جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کی ساختوں میں آیا ہیلوجن کا ایک، دو یا زیادہ ایٹم موجود ہیں۔ کیونکہ ہیلوجن ایٹم کاربن کے مقابلے زیادہ برقی منفی ہے لہٰذا الکائل ہیلائڈ کے کاربن-ہیلوجن بانڈ کی تقطیب ہو جاتی ہے، کاربن ایٹم پر جزوی مثبت چارج آجاتاہے اور ہیلوجن ایٹم پر جزوی منفی چارج آجاتاہے۔
    الکائل ہیلائڈوں کو الکین کے آزاد ریڈیکل ہیلوجینیشن، الکین (Alkene) میں ہیلوجن ایسٹروں کی جمع، الکحلوں میں فاسفورس ہیلائڈ تھایونل کلورائڈ یا ہیلوجن ایسٹر کے استعمال سے OH گروپ کو ہیلوجن سے تبدیل کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ ایرائل ہیلائڈ ایرینس کے الیکٹروفلک بدل سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ہیلو جن ایکسچینج طریقہ فلورائڈ اور آیوڈائڈ بنانے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔
    نامیاتی ہیلوجن مرکبات کے نقطہ جوش نظیری ہائڈروکاربنوں کے مقابلے نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کے درمیان مضبوط ڈائی پول- ڈائی پول اور وانڈروالس کشش کی قوتیں ہوتی ہیں۔یہ پانی میں معمولی حل پذیر ہیں لیکن نامیاتی محلل میں مکمل طورپر حل پذیر ہوتے ہیں۔
    الکائل ہیلائڈوں میں کاربن ہیلوجن بانڈ کی قطبیت نیوکلیوفلک بدل، اخراج (Elimination) اور دھاتی ایٹموں سے تعامل کرکے نامیاتی دھاتی مرکبات بنانے کے لیے ذمہ دار ہے۔ نیوکلیوفلک بدل تعاملات کو ان کی حرکی خصوصیات کی بنیاد پر SN1 SN2 تعامل میکانزم کو سمجھنے کے لیے چیرالٹی (Chirality) اہم کردار کی حامل ہے۔ تشکل کی تقلیب چرال الکائل ہیلائڈوں کے SN2 تعاملات کی خصوصیت ہے، جبکہ ریسیمائزیشن SN1(Racemisation) تعاملات کی خصوصیت ہے۔
    ڈائی کلورومیتھین، کلوروفارم، آیوڈوفارم، کاربن ٹیٹراکلورائڈ، فری آن، DDT جیسے متعدد پالی ہیلوجن مرکبات کے کئی صنعتی استعمال ہیں۔ تاہم ان میں سے کئی مرکبات آسانی سے تحلیل نہیں کیے جاسکتے اور یہاں تک کہ اوزون پرت کو تباہ کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں، لہٰذا ماحول کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔


    مشق

    10.1 مندرجہ ذیل ہیلائڈوں کے نا م IUPAC نظام کے تحت لکھیے اور ان کی درجہ بندی الکائل، ایلائل، بینزائل، (پرائمری، سیکنڈریل، ٹرشری) و نائل اور ایرائل ہیلائڈوں کے تحت کیجیے۔
    (i) (CH3)2CHCH(Cl)CH3 (ii) CH3CH2CH(CH3)CH(C2H5)Cl
    (iii) CH3CH2C(CH3)2CH2I (iv) (CH3)3CCH2CH(Br)C6H5
    (v) CH3CH(CH3)CH(Br)CH3 (vi) CH3C(C2H5)2CH2Br
    (vii) CH3C(Cl)(C2H5)CH2CH3 (viii) CH3CH=C(Cl)CH2CH(CH3)2
    (ix) CH3CH=CHC(Br)(CH3)2 (x) p-ClC6H4CH2CH(CH3)2
    (xi) m-ClCH2C6H4CH2C(CH3)3 (xii) o-Br-C6H4CH(CH3)CH2CH3
    10.2 مندرجہ ذیل مرکبات کے IUPAC نام لکھیے:
    (i) CH3CH(Cl)CH(Br)CH3 (ii) CHF2CBrClF
    (iii) ClCH2C=CCH2Br (iv) (CCl3)3CCl
    (v) CH3C(p-ClC6H4)2CH(Br)CH3 (vi) (CH3)3CCH=CClC6H4I-p
    10.3 مندرجہ ذیل نامیاتی ہیلوجن مرکبات کی ساختیں لکھیے:
    (i)۔ 2-کلورو-3-میتھائل پینٹین (2-Chloro-3-methylpentane)
    (ii)۔ p-بروموکلوروبینزین (p-Bromochlorobenzene
    (iii)۔ 1-کلورو -4-ایتھائل سائکلو ہیکسین (1-Chloro-4-ethylcyclohexane)
    (vi)۔ 2-(2-کلوروفنائل) -1-آیوڈوآکٹین [2-(2-Chlorophenyl)-1-iodooctane]
    (v)۔ پرفلوروبینزین (Perfluorobenzene)
    (vi)۔ 4-ٹرٹ-سیکنڈری-3-آیوڈوہیپٹین(4-tert-Butyl-3-iodoheptane)
    (vii)۔ 1- برومو - 4- سیکنڈری - بیوٹائل - 2-میتھائل بینزین
     (1-Bromo-4-sec-butyl-2-methylbenzene)
    (viii)۔ 1 4- ڈائی برومو بیوٹ - 2-این
    (1,4-Dibromobut-2-ene)
    10.4 مندرجہ دیل میں سے کس کا ڈائی پول مومنٹ سب سے زیادہ ہے؟
    (i) CH2Cl2 (ii) CHCl3 (iii) CCl4
    10.5 ایک ہائڈروکاربن C5H10 اندھیرے میں کلورین کے ساتھ تعامل نہیں کرتا لیکن تیز سورج کی روشنی میں واحد مونو کلورومرکب C5H9Cl بناتا ہے۔ ہائڈروکاربن کی شناخت کیجیے۔
    10.6 اس مرکب کے آئسومر لکھیے جس کا فارمولہ C4H9Br ہے۔
    10.7 مندرجہ ذیل 1-آیوڈوبیوٹین بنانے کے لیے تعاملات لکھیے۔
    (i)۔ 1-بویٹنال (i)۔    1-کلوروبیوٹین (iii)    بیوٹ-1-این
    10.8 ایمبیڈینٹ نیوکلیوفائل کیا ہیں؟ مثال کے ذریعہ وضاحت کیجیے۔
    10.9 مندرجہ ذیل جوڑوں میں سے کون سا مرکب OH کے ساتھ تیزی سے SN2 تعامل انجام دے گا؟
    (i)    CH3Br  یا  CH3I (ii)    (CH3)3CCl  یا  CH3Cl
    10.10 ایتھنال میں سوڈیم ایتھوکسائڈ کے ساتھ مندرجہ ذیل ہیلائڈوں کے ڈی ہائڈروہیلوجینیشن کے نتیجے میں بننے والے تمام الکین (Alkene) کی پیشن گوئی کیجیے اور اہم الکین (Alkene) کی شناخت کیجیے۔
    (i)۔ 1- برومو- 1 میتھائل سائکلو ہیکسین (1-Bromo-1-methylcyclohexane)
    (ii)۔ 2-کلورو-2 میتھائل بیوٹین (2-Chloro-2-methylbutane)
    (iii)۔ 2، 2، 3-ٹرائی میتھائل-3- بروموپینٹین (2,2,3-Trimethyl-3-bromopentane)
    10.11 آپ مندرجہ ذیل تبدیلیاں کس طرح انجام دیں گے؟
    (i) ایتھنال کی بیوٹ- 1- آئن میں (Ethanol to but-1-yne)
    (ii) ایتھین کی بروموایتھین میں (Ethane to bromoethene)
    (iii) پروپین کی 1- نائٹروپروپین میں (Propene to 1-nitropropane)
    (iv) ٹولوئین کی بینزائل الکحل میں (Toluene to benzyl alcohol)
    (v) پروپین کی پروپائن میں (Propene to propyne)
    (vi) ایتھنال کی ایتھائل فلورائڈ میں (Ethanol to ethyl fluoride)
    (vii) برومومیتھین کی پروپینان میں (Bromomethane to propanone)
    (viii) بیوٹ - 1- این کی بیوٹ - 2- این میں (But-1-ene to but-2-ene)
    (ix)۔ 1- کلوروبیوٹین کی n- آکٹین میں (1-Chlorobutane to n-octane)
    (x) بینزین کی بائی فِنائل میں (Benzene to biphenyl)
    10.12 مندرجہ ذیل وجوہات کی تشریح کیجیے:
    (i) کلوروبینزین کا ڈائی پول مومنٹ سائکلو بیسکائل کلورائڈ سے کم ہے۔
    (ii) الکائل ہیلائڈ حالانکہ قطبی ہیں مگر پانی میں حل پذیر نہیں ہیں۔
    (iii) گرگنارڈریجنٹ کو نابیدہ حالات میں ہی تیار کیا جانا چاہیے۔
    10.13 فری آن 12، DDT، کاربن ٹیٹرا کلورائڈ اور آیوڈوفارم کے استعمال لکھیے۔
    10.14 مندرجہ دیل تعاملات میں اہم نامیاتی ماحصل کی ساخت لکھیے۔
    ch10-85
    ch10-86
    10.15 مندرجہ ذیل تعامل کا میکانزم لکھیے:
    ch10-87
    10.16 ہر ایک سیٹ کے مرکبات کو SN2 ہٹاؤ کے تئیں تعاملیت کی ترتیب میں لکھیے۔
    (i)۔ 2-برومو -2 میتھائل بیوٹین، 1 بروموپینٹین، 2- برومو پنٹین
    (ii)۔ 1- برومو-3-میتھائل بیوٹین، 2-برومو-2 میتھائل بیوٹین، 2- برومو-3- میتھائل بیوٹین
    (iii)۔ 1-بروموبیوٹین، 1 برومو-2، 2- ڈائی میتھائل پروپین، 1- برومو 2 میتھائل بیوٹین، 1- برومو-3-میتھائل بیوٹین
    10.17 C6H5CH2Cl اور C6H5CHClC6H5 میں سے کون آبی KOH کے ذریعہ آسانی سے ہائڈرو لائز (Hydrolise) ہو جائے گا؟
    10.18 p-ڈائی کلورو بینزین کا نقطۂ گداخت اور حل پذیری آرتھو اور آئسومر کے مقابلے زیادہ ہے۔ بحث کیجیے۔
    10.19 مندرجہ ذیل تبدیلیاں کس طرح انجام دی جاسکتی ہیں؟
    (i) پروپین کی پروپین -1- اول میں
    (ii) ایتھنال کی بیوٹ -1- این میں
    (iii)۔ -1بروموپروپین کی -2برومو پروپین میں
    (iv) ٹولوئین کی بینزائل الکحل میں
    (v) بینزین کی -4برومو نائٹروبینزین میں
    (vi) بینزائل الکحل کی -2 فنائل ایتھنائک ایسڈ میں
    (vii) ایتھنال کی پروپین نائٹرائل میں
    (viii) اینیلین کی کلوروبینزین میں
    (ix)۔ -2 کلوروبیوٹین کی3،-4 ڈائی میتھائل ہیکسین میں
    (x) ایتھائل کلورائڈ کی پروپینائک ایسڈ میں
    (xi) ایتھائل کلورائڈ کی پروپینائک ایسڈ میں
    (xii) بیوٹ -1- این کی -nبیوٹائل آیوڈائڈ میں
    (xiii)۔ -2کلوروپروپین کی-Iنائٹروفینال میں
    (xiv) آئسو پروپائل الکحل کی آیوڈوفارم میں
    (xv) کلوروبینزین کی -p نائٹروفینال میں
    (xvi)۔ -2بروموپروپین کی -1 بروموپروپین میں
    (xvii) کلوروایتھین کی بیوٹین میں
    (xviii) بینزین کی ڈائی فنائل میں
    (xix)۔ -tertبیوٹائل برومائڈ کی آئسو بیوٹائل برومائڈ
    (xx) اینیلین کی فنائل آئسو سوئنائڈ میں
    10.20 الکائل کلورائڈ آبی KOH سے تعامل کرکے الکحل بناتے ہیں لیکن الکحل KOH کی موجودگی میں اہم ماحصلات الکین (Alkenes) بنتے ہیں۔ وضاحت کیجیے۔
    10.21 پرائمری الکائل ہیلائڈ C4H6Br  (a)  الکحلی KOH سے تعامل کرکے مرکب (b) کا آئسو مر ہے۔ جب (a) سوڈیم دھات سے تعامل کرتا ہے تو مرکب (d) C8H18 حاصل ہوتا ہے جو اس مرکب سے مختلف ہے جو کہ n-بیوٹائل اور سوڈیم کے درمیان ہونے والے تعامل کے نتیجے میں بنتا ہے۔ (a) کا ساختی فارمولہ لکھیے اور سبھی تعاملات کی مساواتیں لکھیے۔
    10.22 کیا ہوتا ہے جب :
    (i)۔ n-بیوٹائل کلورائڈ الکحلی KOH سے تعامل کرتا ہے۔
    (ii) برومو بینزین خشک ایتھر کی موجودگی میں Mg سے تعامل کرتی ہے۔
    (iii) کلوروبینزین کی آب پاشیدگی (Hydrolysis) کی جاتی ہے۔
    (iv) ایتھائل کلورائڈ آبی KOH سے تعامل کرتا ہے۔
    (v) میتھائل برومائل خشک ایتھر کی موجودگی میں سوڈیم کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔
    (vi) میتھائل کلورائڈ KCN سے تعامل کرتا ہے۔

    متن پر مبنی سوالوں کے جواب

    ch10-8810.2 (i)   الکحل کی الکائل آیوڈائڈ میں تبدیلی کے

     دوران KI کے ساتھ H2SO4 کا استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ KI کو نظیری ایسڈ HI میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اور پھر اس کی I2 میں تکسید ہو جاتی ہے۔
    10.3 (i) ClCH2CH2CH2Cl (ii) ClCH2CHClCH3
    (iii) Cl2CH2CHCH3 (iv) CH3CCl2CH3
    10.4 (i) ch10-89سبھی ہائڈروجن ایٹم معادل ہیں اور کسی بھی ہائڈروجن کو ہٹانے سے ایک ہی ماحصل بنے گا۔
    (ii) ch10-90معادل ہائڈروجن ایٹموں کو a، b اور c گروپ میں رکھا گیا ہے معادل ہائڈروجن ایٹموں کو ہٹانے سے ایک ہی ماحصل بنے گا۔
    (iii) ch10-91اسی طرح معادل ہائڈروجن ایٹم a، b، c اور d سے ظاہر کیے گئے ہیں۔ لہٰذا چار آئسو میرک 
    ماحصلات ممکن ہیں۔
    ch10-92

    10.6 (i) کلورومیتھین، برومو ایتھین، ڈائی برومو میتھین، برومو فارم۔ سالماتی کمیت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ نقطۂ جوش میں 
    اضافہ ہوتا ہے۔
    10.7 (i)۔ CH3CH2CH2CH2Br پرائمری ہیلائڈ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی اسٹیرک رکاوٹ نہیں ہوگی۔
    (ii) ch10-93سیکنڈری ہیلائڈ، ٹرشری ہیلائڈ کے مقابلے زیادہ تیزی سے تعامل کرتے ہیں۔
    (iii) ch10-94ہیلائڈ گروپ کے نزدیک میتھائل گروپ کی موجودگی اسٹیرک رکاوٹ میں اضافہ کرتی ہے 
    اور شرح گھٹ جاتی ہے۔
    10.8 (i)۔ ch10-95 tert کاربوکیٹ آین کے زیادہ استحکام کی وجہ سے ٹرشری ہیلائڈ، سیکنڈری ہیلائڈ کے مقابلے زیادہ تیزی سے تعامل کرتے ہیں۔
    (ii) ch10-96پرائمری کاربوکیٹ آین کے مقابلے سیکنڈری کاربوکیٹ آین کے زیادہ استحکام کی وجہ سے۔
    ch10-97