اکائی
11
الکحل، فینالس اور ایتھرس
(Alcohols, Phenols and Ethers)
مقاصد
اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہl IUPAC نظام تسمیہ کے تحت الکحل، فینالس اور ایتھرسوں کے نام بتا سکیں گے؛
- الکین (Alkene) ، الڈیہائڈ (Aldehyde)، کیٹونس اور کاربوکسلک ایسڈ سے الکحل کی تیاری میں ملوث تعاملات سے بحث کر سکیں گے؛
- (i) ہیلو ایرینس (ii) بینزین سلفونک ایسڈ (iii) ڈائی ایزونیم نمکوں اور (iv) کیومین سے فینالس کی تیاری میں ملوث تعاملات سے بحث کر سکیں گے؛
- الکحل اور (ii) الکائل ہیلائڈوں نیز سوڈیم ایلکوکسائڈ/ ایرائل آکسائڈوں سے ایتھرس کی تیاری میں ملوث تعاملات سے بحث کر سکیں گے؛
- الکحل، فینالس اور ایتھرس کی طبیعی خصوصیات اور ان کی ساختوں کے درمیان تعلق قائم کر سکیں گے؛
- تفاعلی گروپ (Functional group) کی بنیاد پر تینوں زمروں کے مرکبات کے کیمیائی تعاملات سے بحث کر سکیں گے؛
ڈٹرجینٹ، اینٹی سیپٹک اور خوشبوئیں (Fragrances) بنانے کے لیے بالترتیب الکحل فینالس اور ایتھرس بنیادی مرکبات ہیں۔
آپ مطالعہ کر چکے ہیں کہ کسی ہائڈروکاربن ایٹم / ایٹموں کو کسی دوسرے ایٹم یا ایٹموں کے گروپ سے بدلنے پر ایک نئے مرکب کی تشکیل ہوتی ہے جس کی خصوصیات اور استعمال مختلف ہوتے ہیں۔ جب کسی ایلیفیٹک اور ایرومیٹک ہائڈروکاربن کے ہائڈروجن ایٹم کو OH- گروپ سے بدل دیا جاتا ہے تو بالترتیب الکحل (alcohol) اور فینالس حاصل ہوتے ہیں۔ مرکبات کے ان زمروں کا صنعت اور روز مرہ کی زندگی میں کافی استعمال ہے۔ مثال کے طور پر کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ لکڑی کے فرنیچر کی پالش میں استعمال ہونے والا عام اسپرٹ خاص طور سے ہائڈراکسل گروپ ایتھنال پر مشتمل مرکب ہے۔ چینی جو ہم کھاتے ہیں، کپڑے بنانے میں استعمال ہونے والی کپاس، کاغذ جس پر ہم لکھتے ہیں یہ سبھی OH- گروپ پر مشتمل مرکبات ہیں۔ ذرا کاغذ کے بغیر دنیا کا تصور کیجیے، نوٹ بک، کتابیں، اخبار، کرنسی نوٹ، چیک، سر ٹیفکیٹ وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ خوبصورت فوٹوگراف اور دل چسپ کہانیوں سے مزین رسالے یہ سب ہماری زندگی میں نہیں ہوتے۔ یہ حقیقت میں ایک بالکل مختلف دنیا ہوتی۔
الکحل، ایلیفیٹک سسٹم (CH3OH) کے کاربن ایٹم / ایٹموں سے براہ راست منسلک ایک یا زیادہ ہائڈراکسل گروپ پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ فینالس ایرومیٹک سسٹم (C6H5OH) کے کاربن ایٹم / ایٹموں سے براہ راست منسلک OH- گروپوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
ہائڈروکاربن کے ہائڈروجن ایٹم کو کسی ایلکو کسی(Alkoxy) یا ایریل آکسی (Aryloxy) گروپ (R-O/Ar-O) سے بدلنے پر مرکبات کا ایک اور زمرہ وجود میں آتا ہے جسے ایتھرس (Ethers) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر CH3OH3 (ڈائی میتھائل ایتھرس)۔ آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ایتھرس کو مرکب کے طور پر الکحل یا فینالس کے ہائڈراکسل گروپ کے ہائڈروجن ایٹم کو الکائل یا ایرائل گروپ سے تبدیل کرکے بنایا جاتا ہے۔
اس اکائی میں ہم مرکبات کے تین زمروں کی کیمسٹری پر بحث کریں گے جن کے نام ہیں : الکحل، فینالس اور ایتھرس۔
11.1 درجہ بندی (Classification)
11.1.1 مونو، ڈائی، ٹرائی یا پالی ہائڈرک الکحلس (Mono, Di, Tri or Polyhydric alcohols)
مرکبات کی درجہ بندی سے ان کا مطالعہ باقاعدہ اور آسان ہو جاتا ہے لہٰذا آئیے پہلے یہ سیکھیں کہ الکحل، فینالس اور ایتھرس کی درجہ بندی کس طرح کی جاتی ہے؟
الکحل کی درجہ بندی مونو، ڈائی، ٹرائی یا پالی ہائڈرک مرکبات کے طور پر کی جاسکتی ہے جس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آیا ان کی ساختوں میں بالترتیب ایک، دو، تین یا کثیر ہائڈراکسل گروپ موجود ہیں جیسا کہ ذیل میں دیا گیا ہے:

ٹرائی ہائڈرک ڈائی ہائڈرک مونو ہائڈرک
مونو ہائڈرک الکحل کی مزید درجہ بندی اس کاربن کی مخلوطیت کے مطابق کی جاسکتی ہے جس سے ہائڈراکسل گروپ منسلک ہے۔
(i)
بانڈ پر مشتمل مرکبات : الکحل کے اس زمرے میں OH گروپ الکائل گروپ کے sp3 مخلوط شدہ کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے۔ ان کی مزید درجہ بندی ذیل میں دی جارہی ہے۔
پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری الکحل: ان تینوں قسم کے الکحل میں OHگروپ بالترتیب پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے۔ جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے:
پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری الکحل: ان تینوں قسم کے الکحل میں OHگروپ بالترتیب پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے۔ جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے:

ایلیلک الکحل : ان الکحل میں OH گروپ کاربن - کاربن ڈبل بانڈ سے اگلے sp3 مخلوط شدہ کاربن ایٹم یعنی ایلیلک کاربن سے منسلک ہوتا ہے۔ مثلاً

بینزائلک الکحل : ان الکحل میں OH گروپ ایرومیٹک رنگ سے اگلے sp3 مخلوط شدہ کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر

ایلیلک اور بینزائلک الکحل پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری ہو سکتے ہیں۔
(ii)
بانڈ پر مشتمل مرکبات: ان الکحل میں OH گروپ کاربن - کاربن ڈبل بانڈ یعنی ونائل کاربن یا ایرائل کاربن سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ الکحل ونائلک الکحل بھی کہلاتے ہیں۔
11.1.2 فنولس— مونو، ڈائی اورٹرائی ہائڈرک فنولس (Phenols— Mono, Diand trihydric phenols)
ونائلک الکحل: CH2 = CH – OHبانڈ پر مشتمل مرکبات: ان الکحل میں OH گروپ کاربن - کاربن ڈبل بانڈ یعنی ونائل کاربن یا ایرائل کاربن سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ الکحل ونائلک الکحل بھی کہلاتے ہیں۔
ونائلک الکحل: CH2=CH-OH

11.1.3 ایتھرس (Ethers)
ایتھرس کی درجہ بندی سادہ (Simple) اور متشاکل (Symmetrical) کے طور پر کی جاتی ہے اگر آکسیجن سے منسلک الکائل یا ایرائل گروپ یکساں ہیں۔ اگر دونوں گروپ مختلف ہیں تو یہ مکسڈ (Mixed) یا غیر متشاکل (unsymmetrical) کہلاتے ہے۔ C2H5OC2H5 ایک متشاکل ایتھرس ہے جبکہ C2H5OC6H5 غیر متشاکل ایتھرس ہیں۔

11.2تسمیہ (Nomenclature)
(a) الکحلس (Alcohals): الکحل کے عام نام کو الکائل گروپ کے عام نام میں الکحل جوڑ کر اخذ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر CH3OH میتھائل الکحل ہے۔
IUPAC نظام کے مطابق (اکائی 12، کلاس XI) الکحل کا نام اس الکین (Alkane) کے حرف 'e' کو 'ol' سےبدل کر دیا جاتا ہے جس سے الکحل مشتق ہے۔ Substituents کی پوزیشن کو عدد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے لمبی کاربن زنجیر (Parent chain) کی نمبر سازی اس طرف سے کی جاتی ہے جس طرف سے ہائڈراکسل گروپ نزدیک ہوتا ہے۔ OH گروپ اور دیگر Substituent ان کاربن ایٹموں کے نمبر سے ظاہر کیے جاتے ہیں جن سے یہ منسلک ہیں۔ پالی ہائڈرک الکحل کا نام لکھتے وقت الکین (Alkane) کے حرف 'e' کو برقرار رکھتے ہیں اور 'ol' جوڑ دیتے ہیں OH گروپوں کا نمبر ضربی سابقہ ڈائی (di)، ٹرائی (tri) وغیرہ کو 'ol' سے پہلے لگاکرظاہرکیاجاتاہے۔ OH گروپوں کی پوزیشن کو مناسب 'locants' کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً HO–CH2–CH2–OH کا نام Ethane - 1, 2 - diol ہے۔ جدول 11.1 میں کچھ الکحل کے عام نام اور IUPAC نام دیے گئے ہیں۔
جدول 11.1 کچھ الکحل کے عام اور IUPAC نام
| مرکبات | عام نام | IUPAC نام |
![]() |
میتھائل الکحل n- پروپائل الکحل آئسو پروپائل الکحل n-بیوٹائل الکحل سیکنڈری بیوٹائل الکحل آئسو بیوٹائل الکحل ٹرشری بیوٹائل الکحل ایتھائلین گلائکول گلسرال |
میتھانل پروپین-1-آل پروپین-2-آل بیوٹین-1-آل بیوٹین-2-آل 2-میتھائل پروپین-1-آل 2-میتھائل پروپین-2-آل ایتھین 1,2-ڈائی آل پروپین- 3,2,1-ٹرائی آل |
سائکلک الکحل کے نام سابقہ سائکلو (Cyclo) لگا کر رکھے جاتے ہیں اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ OH— گروپ C–1 کاربن سے منسلک ہے۔

(b) فینالس (Phenols): بینزین کے سادہ ترین ہائڈراکسی مشتق فینالس ہیں۔ یہ اس کا عام نام ہے اور قابل قبول IUPAC نام بھی ہے۔ فینالس کی ساخت میں بینزین رِنگ ہوتا ہے اس لیے اس کے بدل مرکبات کے عام ناموں میں اصطلاحات آرتھول
اور پیرا
کا عام طور سے استعمال کیا جاتا ہے۔
عام نامIUPAC نام

عام نام IUPAC نام
(c) ایتھرس (Ethers) : ایتھرس کے عام نام علاحدہ علاحدہ لکھے ہوئے الکائل ایرائل گروپوں سے اخذ کیے جاتے ہیں جنھیں انگریزی کے حرف تہجی کے لحاظ سے لکھا جاتا ہے اور آخیر میں 'ether' جوڑ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر CH3OC2H5 ایتھائل میتھائل ایتھرس ہے۔
جدول 11.2 کچھ ایتھرس کے عام اور IUPAC نام
| مرکب | عام نام | IUPACنام |
![]() ![]() |
ڈائی میتھائل ایتھر ڈائی ایتھائل ایتھر میتھائل n-پروپائل ایتھر میتھائل فینائل ایتھر( اینی سول) ایتھائیل فنائل ایتھر(فینٹول) ہیپٹائل فنائل ایتھر میتھائل آئسو پروپائل ایتھر فینائل آئسو پینٹائل ایتھر |
میتھاکسی میتھین ایتھاکسی ایتھین 1-میتھاکسی پروپین میتھاکسی بینزین(اینی سول) ایتھاکسی بینزین 1-فیناکسی ہیپٹین 2-میتھاکسی پروپین 3-میتھائل بیوٹاکسی بینزین 2,1-ڈائی میتھاکسی ایتھین 2-ایتھاکسی- 1,1-ڈائی میتھائل سائکلو ہیکسین |
اگر دونوں الکائل گروپ یکساں ہیں تو الکائل گروپ سے پہلے سابقہ ڈائی (di) جوڑ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر C2H5OC2H5 ڈائی ایتھائل ایتھرس ہے۔
IUPAC نظام تسمیہ کے مطابق ایتھرس ایسے ہائڈروکاربن مشتق ہیں جن میں ہائڈروجن ایٹم کو –OR– یا –OAr— گروپ سے بدل دیا جاتا ہے۔ جہاں R اور Ar بالترتیب الکائل اور ایرائل گروپوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ بڑے R گروپ کو پدری ہائڈروکاربن کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔ کچھ ایتھرس کے نام جدول 11.2 میں دیے گئے ہیں۔


11.3 تفاعلی گروپوں کی ساختیں (Structures of Functional Groups)
الکحل میں OH گروپ کی آکسیجن کاربن کے ساتھ سگما (s) بانڈ کے ذریعہ منسلک رہتی ہے یہ بانڈ، کاربن کے sp3 مخلوط شدہ اربٹل اور آکسیجن کے sp3 مخلوط شدہ اربٹل کے انطباق کے نتیجے میں بنتا ہے۔ میتھنال، فینالس اور میتھاکسی میتھین کے ساختی پہلوئوں کو شکل 11.1 میں دکھایا گیا ہے۔

شکل 11.1:میتھنال،فینالس اور میتھاکسی میتھین کی ساختیں
الکحل میں بانڈ زاویہ
ٹیٹرا ہیڈرل زاویہ (109-28') سے تھوڑا سا کم ہوتا ہے۔ آکسیجن کے بغیرساجھے کے الیکٹران جوڑوںکے درمیان دافع (Repulsion) اس کا سبب ہے۔ فینالس میں OHگروپ ایرومیٹک رِنگ کے sp2 مخلوط شدہ کاربن سے منسلک ہوتا ہے۔ فینالس میں کاربن- آکسیجن بانڈ کی لمبائی (136 pm) میتھنال کے مقابلے تھوڑی سی کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ہے (i) ایرومیٹک رنگ کے ساتھ آکسیجن کے بغیر ساجھے کے الیکٹران جوڑوں کی جفتہ سازی کی وجہ سے جزوی ڈبل بانڈ خصوصیت (سیکشن 11.4.4) اور (ii) اس کاربن کی sp2 مخلوط شدہ حالت جس سے آکسیجن منسلک ہے۔
ایتھرس میں آکسیجن پر چار الیکٹران جوڑے یعنی دو بانڈ جوڑے اور دو لون جوڑے تقریباً ٹیٹرا ہیڈرل ترتیب میں ہوتے ہیں۔ بانڈ زاویہ دو جسیم (–R) گروپوں کے درمیان دافع باہمی عمل کی وجہ سے ٹیٹرا ہیڈرل زاویہ سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے۔ C–O بانڈ لمبائی (141 pm) الکحل کے تقریباً برابر ہوتی ہے۔
11.4 الکحل اور فینالس (Alcohols and Phenols)
11.4.1 الکحل کی تیاری
الکحل مندرجہ ذیل طریقوں سے تیار کیے جاتے ہیں:
.I الیکنس سے(From alkenes)
(i) ایسڈ کیٹلائزڈ ہائڈریشن کے ذریعے : وسیط کے طور پر تیزاب کی موجوگی میں الکینس (Alkenes) پانی سے تعامل کرکے الکحل بناتے ہیں۔ غیر متشاکل الکینس کے معاملے میں جمع تعامل مارکونی کوف قاعدہ کے مطابق ہوتا ہے (اکائی 13، کلاس XI)۔

میکانزم (Mechanism)
تعامل کا میکانزم مندرجہ ذیل مراحل پر مشتمل ہے:

ہائڈروبوریشن تکسید کو سب سے پہلے 1959 میں HC برائون نے پیش کیا۔ بورون پر مشتمل نامیاتی مرکبات کے مطالعہ کے لیے انہیں G.Wittig کے ساتھ مشترکہ طور پر کیمسٹری کے 1979 کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
(ii) ہائڈروبوریشن - تکسید کے ذریعے : ڈائی بورین BH3)2) الکینس (Alkenes) کے ساتھ تعامل کرکے جمعی ماحصل کے طور پر ٹرائی الکائل بورین بناتی ہے۔ آبی سوڈیم ہائڈراکسائڈ کی موجودگی میں ہائڈروجن پر آکسائڈ کے ذریعہ اس کی الکحل میں تکسید ہو جاتی ہے۔

ڈبل بانڈ سے بورین کی جمع اس انداز سے ہوتی ہے کہ بوران ایٹم سب سے زیادہ ہائڈروجن ایٹموں والے sp2 کاربن سے منسلک ہو جاتی ہے۔ بننے والا الکحل اس طرح نظر آتا ہے کہ جیسے اسے مارکونی کوف کے قاعدہ کے برخلاف الکین (Alkene) کے ساتھ پانی کی جمع کے ذریعہ بنایا گیا ہو۔ اس تعامل میں الکحل کی اچھی پیداوار ہوتی ہے۔
2۔ کاربونل مرکبات سے (From carbonyl compounds) :
(i) الڈیہائڈ اور کیٹون کی تحویل کے ذریعہ : الڈیہائڈ اور کیٹون وسیط کی موجودگی میں ہائڈروجن کی جمع کے ذریعہ نظیری الکحل میں تحویل ہو جاتے ہیں۔ (وسیطی ہائڈروجینیشن)۔ عام طور سے استعمال میں آنے والے وسیط پلیٹینم، پیلیڈیم یا نکل جیسی دھاتیں ہیں جو باریک پائوڈر کی شکل میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اسے الڈیہائڈ یا کیٹون کا سوڈیم بوروہائڈرائڈ (NaBH4) یا لیتھیم ایلیومینیم ہائڈرائڈ (LiALH4) سے تعامل کرکے بھی بنایا جاتا ہے۔ الڈیہائڈ پرائمری الکحل بناتے ہیں اور کیٹون سیکنڈری الکحل بناتے ہیں۔

تیر کے نشان کے ہمراہ ریجنٹ کے سامنے لکھے ہوئے اعداد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دوسرا ریجنٹ اسی وقت ملایا جاتا ہے جب پہلے ریجنٹ کے ساتھ تعامل مکمل ہو جاتا ہے۔
(ii) کاربوکسلک ایسڈ اور ایسٹر کی تحویل کے ذریعہ : لیتھیم ایلیومینیم ہائڈرائڈ (جو کہ ایک قوی تحویلی ایجنٹ ہے) کے ذریعہ کاربوکسلک ایسٹر کی تحویل کے نتیجے میں پرائمری الکحل کی اچھی پیداوار ہوتی ہے۔

تاہم LiAlH4 ایک مہنگا ریجنٹ ہے اور اسی لیے اس کا استعمال صرف مخصوص قسم کے کیمیکل کو بنانے میں کیا جاتا ہے۔ صنعتی پیمانے پر ایسڈوں کی الکحل میں تحویل کے لیے پہلے ایسڈوں کو ایسٹر میں تبدیل کیا جاتا ہے (سیکشن 11.4.4) اس کے بعد ہائڈروجن کے استعمال سے وسیط کی موجودگی میں ان کی تحویل کی جاتی ہے (وسیطی ہائڈروجنیشن)

3۔ گرگنارڈریجنٹ سے (From Grignard reagents)
گرگنارڈ ریجنٹ (اکائی 10، کلاس XII) کے الڈیہائڈ اور کیٹون کے ساتھ تعامل کے ذریعہ الکحل تیار کیے جاتے ہیں۔
تعامل کے پہلے مرحلہ میں گرگنارڈ ریجنٹ کاربونل گروپ کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے اور جمعی ماحصل (Adduct) بنتا ہے۔ جمعی ماحصل کی آب پاشیدگی (Hydrolysis) سے الکحل حاصل ہوتا ہے۔

گرگنارڈ ریجنٹ کے ساتھ میتھنل کے تعامل سے پرائمری الکحل حاصل ہوتاہے۔ دوسرے الڈیہائڈ کے ساتھ سیکنڈری الکحل اور کیٹون کے ساتھ ٹرشری الکحل حاصل ہوتا ہے۔

11.4.2 فینالس کی تیاری (Preparation of Phenols)
آپ نوٹ کریں گے کہ تعامل میں میتھنل کے ساتھ پرائمری الکحل، دوسرے الڈیہائڈ کے ساتھ سیکنڈری الکحل اور کیٹون کے ساتھ ٹرشری الکحل بنتا ہے۔
فینالس جسے کاربولک ایسڈ بھی کہا جاتا ہے، سب سے پہلے انیسویں صدی کے اوائل میں کول ٹار سے حاصل کیا گیا تھا۔ آج کل فینالس کو صنعتی پیمانے پر تالیف کیا جاتا ہے۔ تجربہ گاہ میں فینالس کو مندرجہ ذیل کسی بھی طریقے کے ذریعہ بینزین مشتقوں سے تیار کیا جاتاہے۔
1۔ ہیلو ایرینس (Haloarenes) سے :
320 atm دبائو اور 623 K درجۂ حرارت پر کلوروبینزین کا NaOH کے ساتھ گداخت کیا جاتاہے۔ اس طرح حاصل ہونے والے سوڈیم فینو آکسائڈ کی تیزاب کاری (Acidification) سے فینالس حاصل ہوتا ہے (اکائی 10، کلاس XII)۔

2۔ بینزین سلفونک ایسڈ (Benzenesulphonic Acid) سے :
بینزین کو اولیم کے ساتھ سلفونیٹڈ کیا جاتا ہے اور اس طرح حاصل ہونے والے بینزین سلفونک ایسڈ کو پگھلے ہوئے سوڈیم ہائڈراکسائڈ کے ساتھ گرم کرکے سوڈیم فینو آکسائڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

3۔ ڈائی ایزونیم نمک (Diazonium salts) سے :
ایرومیٹک پرائمری امین کو نائٹرس میں ایسڈ (NaNO2 + HCl) کے ساتھ 273 - 278 K پر گرم کرکے ڈائی ایزونیم نمک بنایا جاتا ہے۔ ڈائی ایزونیم نمکوں کو پانی کے ساتھ گرم کرکے یا ڈائی لیوٹ ایسڈوں کے ساتھ تعامل کراکر فینالس میں ان کی آب پاشیدگی کی جاتی ہے۔

پوری دنیا میں فینالس کو زیادہ تر کیومین سے تیار کیا جاتا ہے۔
4۔ کیومین (Cumene) سے :
فینالس کو ہائڈروکاربن، کیومین (Cumene) سے تیار کیا جاتا ہے۔ ہوا کی موجودگی میں کیومین (Isopropylbenzene) کی کیومین ہائڈروپر آکسائڈ میں تکسید کی جاتی ہے۔ ڈائی لیوٹ ایسڈ کے ساتھ اس کے تعامل سے فینالس اور ایسیٹون حاصل ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے ایسیٹون کو اس تعامل کے ضمنی ماحصل کے طور پر بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔


11.4.3 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)
الکحل اور فینالس دو حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایک حصہ الکائل / ایرائل گروپ ہوتا ہے اور دوسرا ہائڈراکسل گروپ ۔ الکحل اور فینال کی خصوصیات خاص طور سے ہائڈراکسل گروپ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ الکائل اور ایرائل گروپ کی نوعیت ان خصوصیات میں ترمیم کا باعث ہوتی ہے۔
نقطۂ جوش (Boiling Points)
کاربن ایٹموں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ الکحل اور فینالس کے نقطۂ جوش میں اضافہ ہوتا جاتا ہے (وانڈر وال قوتوں میں اضافہ) الکحل کا نقطۂ جوش کاربن زنجیر میں شاخوں کا اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جاتا ہے (کیونکہ سطحی رقبہ کم ہونے کے ساتھ ساتھ وانڈروال قوتیں کم ہوتی جاتی ہیں)۔
الکحل اور فینالس میں OH گروپ بین سالماتی ہائڈروجن بندش میں ملوث ہوتا ہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہوگا کہ الکحل اور فینالس کے نقطۂ جوش قابل موازنہ سالماتی کمیت والے ہائڈروکاربن، ایتھرس، ہیلوالکینس (Haloalkanes) اور ہیلو ایرینس جیسے مرکبات کے دیگر زمروں کے مقابلے زیادہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایتھنال اور پروپین (Propane) کی سالماتی کمیتیں قابل موازنہ ہیں۔ مگر ان کے نقطۂ جوش میں کافی فرق ہے۔ میتھاکسی میتھین کا نقطۂ جوش ان دونوں کے نقطۂ جوش کے درمیان میں ہے۔

الکحل میں بین سالماتی ہائڈروجن بندش کی موجودگی کی وجہ سے ان کے نقطۂ جوش بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ بندش ایتھرس اور ہائڈروکاربنوں میں موجود نہیں ہوتی۔
حل پذیری (Solubility) :
الکحل اور فینالس پانی میں اس لیے حل پذیر ہیں کیونکہ ان میں پانی کے سالمات کے ساتھ ہائڈروجن بانڈ بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔ الکائل (ہائڈروفوبک) گروپ کے سائز میں اضافہ کے ساتھ ساتھ حل پذیری کم ہوتی جاتی ہے۔ کم سالماتی کمیت والے کئی الکحل پانی میں تمام تناسبات میں حل پذیر ہیں۔

الکحل ہمہ گیر (Versatile) مرکبات ہیں۔ یہ نیوکلیوفائل اور الیکٹرو فائل دونوں کی طرح تعامل کرتے ہیں۔ جب الکحل نیوکلیوفائل کی طرح تعامل کرتے ہیں تو O-H کے درمیان بانڈ ٹوٹ جاتا ہے۔
مثال 11.3
مندرجہ ذیل مرکبات کو ان کے نقطۂ جوش کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھیے:
(a) پینٹین -1 - آل، بیوٹین -1- آل، بیوٹن -2- آل، ایتھنال، پروپین -1- آل، میتھنال۔
(b) پینٹین - 1- آل، n- بیوٹین، پینٹانل، ایتھاکسی ایتھین۔
حل
(a) میتھنال، ایتھنال، پروپین -1- آل، بیوٹن- 2- آل، بیوٹن -1- آل، پینٹین -1- آل۔
(b) n-بیوٹین، ایتھاکسی ایتھین، پینٹانل اور پینٹین -1- آل۔
11.4.4 کیمیائی تعاملات (Chemical Reactions)
الکحل ہمہ گیر (Versatile) مرکبات ہیں۔ یہ نیوکلیوفائل اور الیکٹرو فائل دونوں کی طرح تعامل کرتے ہیں۔ جب الکحل نیوکلیوفائل کی طرح تعامل کرتے ہیں تو O-H کے درمیان بانڈ ٹوٹ جاتا ہے۔

(ii) جب یہ الیکٹروفائل کے طور پر تعامل کرتے ہیں تو C–O کے درمیان کا بانڈ ٹوٹتا ہے۔ پروٹونیٹڈالکحل اسی طریقے سے تعامل کرتے ہیں۔

O–H اور C–O بانڈ شکستگی کی بنیاد پر الکحل اور فینالس کے تعاملات کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(a) O–H بانڈ شکستگی سے وابستہ تعاملات
1۔ الکحل اور فینالس کی تیزابیت
(i) دھاتوں کے ساتھ تعامل: الکحل اور فینالس سوڈیم، پوٹاشیم اور ایلیومینیم جیسی تعامل پذیری دھاتوں سے تعامل کرکے نظیری الکوکسائڈ / فیناکسائڈ اور ہائڈروجن بناتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ فینالس آبی سوڈیم ہائڈراکسائڈ کے ساتھ تعامل کرکے سوڈیم فیناکسائڈ بناتے ہیں۔

مذکورہ بالا تعاملات سے ظاہر ہوتا ہے کہ الکحل اور فینالس تیزابی فطرت کے حامل ہیں۔ درحقیقت الکحل اور فینالس برانسٹڈ تیزاب ہیں یعنی یہ قوی اساس (B:) کو پروٹان دے سکتے ہیں۔

(ii) الکحل کی تیزابیت : الکحل کی تیزابی خصوصیت O–H بانڈ کی قطبی فطرت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ الیکٹران خارج کرنے والاگروپ (–CH3, –C2H5) آکسیجن پر الیکٹران کثافت میں اضافہ کرتا ہے جس سے O–H بانڈ کی قطبیت میں کمی آتی ہے۔ اس سے تیزاب کی قوت کم ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے الکحل کی تیزابی قوت مندرجہ ذیل ترتیب میں گھٹتی ہے:

الکحل تاہم پانی کے مقابلے کمزور تیزاب ہیں۔ الکوکسائڈ (Alkoxide) کے ساتھ پانی کے تعامل کی مساوات کے ذریعہ اس کی وضاحت کی جاسکتی ہے۔

اس تعامل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی الکحل کے مقابلے بہتر پروٹان معطی ہے (یعنی قوی تیزاب)۔ مزید یہ کہ مذکورہ بالا تعامل میں ہم نوٹ کرتے ہیں کہ الکوکسائڈ آین ہائڈروکسائڈ آین کے مقابلے بہتر پروٹان حصول کار ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ الکوکسائڈ قوی اساس ہیں (سوڈیم ایتھاکسائڈ، سوڈیم ہائڈراکسائڈ مقابلے قوی اساس ہے)
الکحل برانسٹڈ اساس کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ آکسیجن پر بغیر ساجھے کے الیکٹران جوڑوں کی موجودگی کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے جو انھیں پروٹون حصول کار بنادیتا ہے۔
(iii) فینالس کی تیزابیت (Acidity of phenols) :دھاتوں (یعنی سوڈیم، ایلیومینیم) اور سوڈیم ہائڈراکسائڈ کے ساتھ فینالس کے تعاملات اس کی تیزابی فطرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ فینالس میں ہائڈراکسل گروپ بینزین رنگ کے sp2 مخلوط شدہ کاربن ایٹم کے ساتھ براہ راست منسلک ہوتا ہے جو ایک الیکٹران ودڈرائنگ گروپ (Electron withdraing group) کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس وجہ سے فینالس سالمہ میں چارج تقسیم O–H گروپ کی آکسیجن کو مثبت بنادیتی ہے جیسا کہ اس کی گمک ساختوں میں دکھایا گیا ہے۔

آبی سوڈیم ہائڈراکسائڈ کے ساتھ فینالس کا تعامل یہ ظاہر کرتا ہے کہ فینالس، الکحل اور پانی کے مقابلے قوی تیزاب ہیں۔ آئیے اس بات کی جانچ کرتے ہیں کہ وہ مرکب جس میں ہائڈراکسل گروپ ایرومیٹک رِنگ سے منسلک ہوتا ہے اس مرکب کے مقابلے زیادہ تیزابی کیوں ہوتا ہے جس میں ہائڈراکسل گروپ الکائل گروپ سے منسلک ہوتا ہے۔
الکحل اور فینالس کا آیونائزیشن مندرجہ ذیل طریقہ سے ہوتا ہے:

فینالس کے sp2 مخلوط شدہ کاربن، جس سے OH منسلک ہوتا ہے، کی زیادہ برقی منفیت کی وجہ سے آکسیجن پر الیکٹران کثافت کم ہوجاتی ہے۔ اس سے OH کی قطبیت میں اضافہ ہوتا ہے جس کے سبب الکحل کے مقابلے فینالس کے آیونائزیشن میں اضافہ ہوتا ہے۔ آئیے اب الکوکسائڈ اور فیناکسائڈ آینوں کے استحکام کی جانچ کرتے ہیں۔ الکوکسائڈ آین میں منفی چارج آکسیجن پر لوکلائزڈ (Localized) ہوتا ہے جبکہ فیناکسائڈ آین میں چارج ڈی لوکلائزڈ ہو جاتا ہے منفی چارج کے ڈی لوکلائزڈ کی وجہ سے (ساخت I-V) فیناکسائڈ آین زیادہ مستحکم ہو جاتا ہے اور فینالس کے آیونائزیشن میں مدد کرتا ہے۔ حالانکہ فینالس میں چارج کا ڈی لوکلائزیشن بھی ہوتا ہے، اس کی گمک ساختوں میں چارج علاحدگی ہوتی ہے جس کی وجہ سے فینالس سالمہ فیناکسائڈ آین کے مقابلے کم مستحکم ہوتا ہے۔

بدل شدہ (Substituted) فینالس میں نائٹروگروپ جیسے الیکٹران و ڈرائنگ گروپ کی موجودگی فینالس کی تیزابی قوت میں اضافہ کر دیتی ہے۔ یہ اثر اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب اس قسم کا گروپ آرتھو اور پیرا پوزیشنوں پر موجود ہو۔ ایسا فیناکسائڈ آین میں منفی چارج کے مؤثر ڈی لوکلائزیشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔جب بدل(Substitute)آرتھو اورپیرامقام پرہوں۔ اس کے برعکس الیکٹران خارج کرنے والا گروپ جیسے کہ الکائل گروپ عام طور سے فیناکسائڈ آین کی تشکیل میں معاون نہیں ہوتا جس کی وجہ سے تیزابی قوت کم ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر فینالس کے مقابلے کریسالس (Cresols) کم تیزابی ہیں۔
pKa کی قدر جتنی زیادہ ہوگی تیزاب اتنا ہی کمزور ہوگا۔
جدول 11.3کچھ فینالس اور ایتھنال کی pKa قدریں
| مرکب | فارمولہ | pKa |
| o-نائٹروفینال m-نائٹروفینال p-نائٹروفینال فینال o-کریسول m-کریسول p-کریسول ایتھنال |
![]() |
7.2 8.3 7.1 10.0 10.2 10.1 10.2 15.9 |
مذکورہ بالا اعداد و شمار سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ فینالس ایتھنال کے مقابلے لاکھوں گنا زیادہ تیزابی ہے۔
مثال 11.4
مندرجہ ذیل مرکبات کو ان کی تیزابی قوت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھیے:
پروپین - 1- آل، 2، 4، 6 ٹرائی نائٹروفینالس، 3 - نائٹروفینالس، 3، 5 ڈائی نائٹروفینال، فینالس، 4 - میتھائل فینالس
حل
پروپین - 1 - آل، 4- میتھائل فینالس، فینالس، 3- نائٹروفینالس 3، 5 - ڈائی نائٹروفینالس، 2، 4، 6 ٹرائی نائٹروفینالس
2۔ ایسٹر سازی (Esterification)
الکحل اور فینالس، کاربوکسلک ایسڈ، ایسڈ کلورائڈ اور ایسٹر این ہائڈرائڈ سے تعامل کرکے ایسٹر بناتے ہیں۔

ایسپرین میں اینا لجیسک، مانع سوزش (Anti inflammatory) اور اینٹی پائریٹک خصوصیات ہوتی ہیں۔
کاربوکسلک ایسڈ اور ایسڈ این ہائڈرائڈ کے ساتھ تعامل کے لیے مرتکز سلفیورک ایسڈ کی تھوڑی سی مقدار کی موجودگی ضروری ہے۔ تعامل رجعتی ہے اور اسی لیے جیسے ہی پانی بنتا ہے اسے ہٹادیا جاتا ہے۔ کلورائڈ کے ساتھ تعامل اساس (Pyridine) کی موجودگی میں ہوتا ہے تاکہ تعامل کے دوران بننے والے HCl کو تعدیل کیا جاسکے۔ یہ توازن کو دائیں جانب شفٹ کر دیتا ہے۔ الکحل اور فینالس میں ایسیٹائل گروپ (CH3CO) کی شمولیت ایسیٹائلیشن (Acetylation) کہلاتی ہے۔ سیلیسلک ایسڈ (Salicyclic Acid) کے ایسیٹائلیشن سے ایسپرین (Aspirine) حاصل ہوتی ہے۔

ایسٹیل سیلیسلک ایسڈ( ایسپرین) ، سیلیسلک ایسڈ
(b) الکحل میں کاربن - آکسیجن (C–O) بانڈ کی شکستگی سے وابستہ تعاملات
ایسے تعاملات جن میں C–O بانڈ کی شکستگی شامل ہے صرف الکحل ہی میں ہوتے ہیں۔ فینالس اس قسم کا تعامل صرف زنک کے ساتھ ہی انجام دیتاہے۔
1۔ ہائڈروجن ہیلائڈوں کے ساتھ تعامل: الکحل، ہائڈروجن ہیلائڈوں کے ساتھ تعامل کرکے الکائل ہیلائڈ بناتے ہیں (اکائی 10، کلاس XII ملاحظہ کیجیے)۔
HCl کے ساتھ الکحل کے تینوں زمروں کی تعاملیت میں فرق کی وجہ سے ان میں فرق کیا جاسکتا ہے (Lucas Test)۔ الکحل لیوکس ریجنٹ (مرتکز HCl اور ZnCl2) میں حل پذیر ہیں جبکہ ان کے ہیلائڈ غیر حل پذیر ہیں اور محلول میں دھندلا پن (Turbidity) پیدا کرتے ہیں۔ ٹرشری الکحل کے معاملہ میں دھندلاپن فوراً ہی پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ آسانی سے ہیلائڈ بناتے ہیں۔ پرائمری ہیلائڈ کمرہ کے درجۂ حرارت پر دھندلا پن (Turbidity) پیدا نہیں کرتے۔
2۔ فاسفورس ٹرائی ہیلائڈوں کے ساتھ تعامل : الکحل، فاسفورس ٹرائی برومائڈ کے ساتھ تعامل کرکے الکائل برومائڈ میں تبدیل ہو جاتے ہیں (اکائی 10 کلاس XII ملاحظہ کیجیے)۔
3۔ نابیدگی (Dehydration) : الکحل کو پروٹک ایسڈ مثلاً مرتکز H2SO4 اور H2PO4 یا نابیدہ زنک کلورائڈ یا ایلیومینا جیسے وسیط پر نابیدہ (پانی کے سالمہ کی علاحدگی) ہو جاتے ہیں اور الکینس (Alkenes) بناتے ہیں (اکائی 13، کلاس XI)۔
ایتھنال کو 443 K پر مرتکز H2SO4 کے ساتھ گرم کرنے پر اس کا ڈی ہائڈریشن ہو جاتا ہے۔
سیکنڈری اور ٹرشری الکحل مناسب حالات میں نابیدہ ہو جاتے ہیں۔

ٹرشری کاربوکیٹ آین زیادہ مستحکم ہوتے ہیں اور اسی لیے سیکنڈری اور پرائمری کاربوکیٹ آین بناتے ہیں۔ ٹرشری الکحل آسانی سے نابیدہ ہو جاتے ہیں۔
اس طرح، الکحل کی نابیدگی کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے:
پرائمری < سیکنڈری < ٹرشری
پروپین -2- آل کی نابیدگی کا میکانزم مندرجہ ذیل مراحل پر مشتمل ہے:
میکانزم
مرحلہ 1: پروٹو نیٹڈ الکحل کی تشکیل:

مرحلہ 2 : کاربوکیٹ آین کی تشکیل: یہ سست ترین مرحلہ ہے اور اس طرح تعامل کی شرح کو تعین کرنے والا مرحلہ ہے۔

مرحلہ 3 : پروٹان کے خارج ہونے سے پروپین کی تشکیل۔

مرحلہ 1 میں استعمال ہونے والا ایسڈ مرحلہ 3 میں پیدا ہوتا ہے توازن کو دائیں طرف لے جانے کے لیے ایتھین (Ethene) کو بننے کے فوراً بعد ہٹا دیا جاتا ہے۔
4۔ تکسید (Oxidation) : الکحل کی تکسید کے نتیجے میں کاربن- آکسیجن ڈبل بانڈ کی تشکیل ہوتی ہے نیز O–H اور C–H بانڈ کی شکستگی ہوتی ہے۔

اس قسم کی شکستگی اور تشکیل تکسیدی تعاملات میں ہوتی ہے۔ انھیں ڈی ہائڈروجنیشن تعاملات بھی کہتے ہیں کیونکہ ان میں الکحل سالمہ سے ڈائی ہائڈروجن کا زیاں ہوتا ہے۔ استعمال کیے جانے والے تکسیدی ایجنٹ کی بنیاد پر پرائمری الکحل کی الڈیہائڈ میں تکسید ہوتی ہے جو اس کے بعد کاربوکسلک ایسڈ میں تکسید ہو جاتا ہے۔

الکحل کاربوکسلک ایسڈوں کو براہ راست حاصل کرنے کے لیے پوٹاشیم پر میگنیٹ جیسے قوی تکسیدی ایجنٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ الڈیہائڈ کی علاحدگی کے لیے نابیدہ میڈیم میں CrO3 کا استعمال بطور تکسیدی ایجنٹ کیا جاتا ہے۔
اچھی مقدار میں پرائمری الکحل کی الڈیہائڈ میں تکسید کے لیے PCC (Pyridinium Chlorochromate) ایک بہتر ریجنٹ ہے۔
سیکنڈری الکحل کی کیٹون میں تکسید کرومک این ہائڈرائڈ (CrO3) کے ذریعہ ہوتی ہے۔

ٹرشری الکحل میں تکسیدی تعامل نہیں ہوتا۔ مضبوط تعاملاتی حالات جیسے کہ قوی تکسیدی ایجنٹ اور اونچے درجۂ حرارت کے سبب متعدد C–C بانڈ کی شکستگی عمل میں آتی ہے اور کم کاربن ایٹموں پر مشتمل کاربوکسلک ایسڈوں کا آمیزہ بنتا ہے۔

جب 573 K پر گرم کاپر سے پرائمری یا سیکنڈری الکحل کے بخارات کو گزارا جاتا ہے تو ڈی ہائڈروجینیشن واقع ہوتا ہے اور الڈیہائڈ یا کیٹون بنتے ہیں جبکہ ٹرشری الکحل میں نابیدگی ہوتی ہے۔
جسم میں میتھنال اور ایتھنال کی حیاتیاتی تکسید کے نتیجے میں نظیری الڈیہائڈ بنتے ہیں جو کہ بعد میں تیزاب بناتے ہیں۔ الکحل کا استعمال کرنے والے غلطی سے میتھنال اور ایتھنال کا آمیزہ (جسے ڈینیچرڈ(Denatured) الکحل بھی کہتے ہیں) نوش کر لیتے ہیں۔ جسم میں میتھنال پہلے تو تکسید ہو کر میتھنال (Methanal) بناتا ہے اور پھر میتھنائک ایسڈ بناتا ہے جس کی وجہ سے بینائی ختم ہو سکتی ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ میتھنال کی سمیت سے متاثر ہونے والے مریض کو ورید کے ذریعہ ڈائی لیوٹ ایتھنال چڑھایا جاتا ہے۔ الڈیہائڈ (HCHO) کی ایسڈ میں تکسید کے لیے ذمہ دار انزائم پانی کو جذب کر لیتا ہے اور گردوں کو میتھنل خارج کرنے کے لیے وقت مل جاتا ہے۔
(c) فینالس کے تعاملات (Reactions of phenols)
مندرجہ ذیل تعاملات صرف فینالس ہی میں ہوتے ہیں۔
1۔ الیکٹروفلک ایرومیٹک بدل :
فینالس میں ایرومیٹک رِنگ پر ہونے والے تعاملات الیکٹروفلک بدل تعاملات (اکائی 13، کلاس XI) ہوتے ہیں۔ بینزین رِنگ سے منسلک OHگروپ اسے الیکٹروفلک بدل کے لیے ایکٹیویٹ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ آنے والے گروپ کو رِنگ میں آرتھو اور پیرا پوزیشنوں کی طرف بھیجتا ہے۔ جس سے OH گروپ کے ذریعہ پیدا ہونے والے گمک اثر کی وجہ سے ان مقامات پر الیکٹران کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ گمک ساختیں فینالس کی تیزابیت کے تحت دکھائی جاتی ہیں۔
فینالس میں عام الیکٹروفلک ایرومیٹک بدل تعالات مندرجہ ذیل طریقے سے ہوتے ہیں:
(i) نائٹریشن (Nitration) :کم درجۂ حرارت (298 K) پر ڈائی لیوٹ نائٹرک ایسڈ کے ساتھ فینالس، آرتھو اور پیرا فینالس کا آمیزہ بناتا ہے

آرتھو اور پیرا آئسومر کو بھاپی کشید کے ذریعہ علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ آرتھو- نائٹروفینالس بین سالماتی ہائڈروجن بندش کی وجہ سے بھاپ طیران پذیر ہوتا ہے جبکہ پیرانائٹروفینالس انٹرسالماتی ہائڈروجن بندش کی وجہ سے کم طیران پذیر ہوتا ہے۔

2، 4، 6 - ٹرائی نائٹروفینالس تین الیکٹران ودڈرائنگ –NO2 گروپوں کی موجودگی کی وجہ سے قوی تیزاب ہے یہ گروپ ہائڈروجن آین کے اخراج میں مدد کرتے ہیں۔
مرتکز نائٹرک ایسڈ کے ساتھ فینالس سے 2، 4، 6 - ٹرائی نائٹروفینالس حاصل ہوتا ہے۔ ماحصل کو عام طور سے پکرک ایسڈ (Picric Acid) کہتے ہیں۔ تعامل کے نتیجے میں ماحصل کم پیدا ہوتا ہے۔

آج کل پکرک ایسڈ کو بنانے کے لیے پہلے فینالس کا تعامل مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ساتھ کرایا جاتا ہے جو اسے فینالس - 2، 4 - ڈائی سلفیورک ایسڈ میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس کے بعد مرتکز نائٹرک ایسڈ کے ساتھ 2، 4، 6 - ٹرائی نائٹروفینالس حاصل ہوتا ہے۔ کیا آپ ان تعاملات کی مساوات لکھ سکتے ہیں؟
(ii) ہیلو جینیشن (Halogenation) : مختلف تجرباتی حالات میں برومین کے ساتھ فینالس کے تعامل کے نتیجے میں مختلف ماحصلات پیدا ہوتے ہیں۔
(a) جب تعامل کم درجۂ حرارت اور CHCl3 یا CS2 جیسے کم قطبیت والے محلول میں کرایا جاتا ہے تو مونو بروموفینالس حاصل ہوتا ہے۔

بینزین کا ہیلوجینیشن عام طور سے FeBr3 جیسے لیوئس ایسڈ(Lewis acid) کی موجودگی میں ہوتا ہے (اکائی 10، کلاس XII)جو ہیلوجن سالمہ کو قطبی بنادیتا ہے۔ فینالس کے معاملہ میں برومین کے سالمہ کی تقطیب لیوئس ایسڈ کی عدم موجودگی میں بھی ہو جاتی ہے۔ بینزین رِنگ سے منسلک OHگروپ کے بہت زیادہ ایکٹیویٹنگ اثر کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔
(b) جب فینالس برومین واٹر سے تعامل کرتا ہے تو 2، 4، 6 - ٹرائی بروموفینالس حاصل ہوتا ہے۔

مثال 11.5
مندرجہ ذیل تعاملات کے نتیجے میں بننے والے اہم ماحصلات کی ساختیں لکھیے۔
(a)۔ 3- میتھائل فینالس کا مونو نائٹریشن
(b)۔ 3- میتھائل فینالس کا ڈائی نائٹرریشن
(c) فنائل میتھانوایٹ کا مونونائٹریشن
حل
OH– اور CH3– گروپوں کا مجموعی اثر آنے والے گروپ کی پوزیشن کا تعین کرتا ہے۔

2۔ کولبے کا تعامل (Kolbe’s reaction)
فینالس اور سوڈیم ہائڈراکسائڈ کے درمیان ہونے والے تعامل کے نتیجے میں بننے والے فیناکسائڈ آین الیکٹروفلک ایرومیٹک بدل تعالات کے تئیں فینالس سے زیادہ تعامل پذیر ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ کاربن ڈائی آکسائڈ (ایک کمزور نیوکلیوفائل) کے ساتھ الیکٹرو فلک بدل تعاملات دیتے ہیں۔ اہم ماحصل کے طور پر آرتھو ہائڈراکسی بینزوئک ایسڈ بنتا ہے۔

3۔ ریمر-ٹائی مین تعامل (Reimer-Tiemann reaction)
سوڈیم ہائڈراکسائڈ کی موجودگی میں فینالس کا کلوروفارم کے ساتھ تعامل کرانے پر بینزین رِنگ کی آرتھو پوزیشن پر –CHO گروپ آجاتا ہے۔ یہ تعامل ریمر- ٹائی مین تعامل کہلاتا ہے۔
ضمنی بدل بینزل کلورائڈ (Benzal chloride) القلی کی موجودگی میں آب پاشیدہ ہو کر سیلیسل ڈیہائڈ (Salicyladehyde) بناتا ہے۔

4۔ فینالس کا زنک ڈسٹ کے ساتھ تعامل (Reaction of phenol with zinc dust)
فینالس کو زنک ڈسٹ کے ساتھ گرم کرنے پر یہ بینزین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

5۔ تکسید (Oxidation)
کرومک ایسڈ (Chromic Acid) کے ساتھ فینالس کی تکسید سے زوجی کیٹون (Conjugated ketone) بنتا ہے جسے بینزوکیونون (Benzoquinone) بھی کہتے ہیں۔ ہوا کی موجودگی میں فینالس آہستہ آہستہ تکسید ہو کر گہرے رنگ کا آمیزہ بناتا ہے جو کیونون (Quinone) پر مشتمل ہوتا ہے۔ میتھنال اور ایتھنال دو ایسے الکحل ہیں جو صنعتی اہمیت کے حامل ہیں۔

متن پر مبنی سوالات
11.6 جب مندرجہ ذیل ہر ایک الکحل
سے تعامل کرتا ہے تو آپ جن ماحصلات کے بننے کی توقع رکھتے ہیں ان کی ساختیں لکھیے۔
(i) بیوٹین -1- آل (ii)۔ 2- میتھائل بیوٹین -2-آل
11.7 مندرجہ ذیل کی ایسڈ کیٹلائزڈ ڈیہائڈریشن کے نتیجے میں بننے والے اہم ماحصل کی پیشین گوئی کیجیے۔
(i) 1- میتھائل سائکلو ہیکسنال اور (ii) بیوٹین -1- آل
11.8 فینالس کے مقابلے آرتھو اور پیرا نائٹروفینالس زیادہ تیزابی ہیں نظیری فینا کسائڈ آینوں کی گمک ساختیں بنائیے۔
11.9 مندرجہ ذیل تعاملات میں ملوث مساواتیں لکھیے۔
(i) ریمر ٹائی مین تعامل (ii) کولبے کا تعامل
11.5 صنعتی اعتبار سے کچھ اہم الکحل
(Some Commercially Important Alcohols)
1۔ میتھنال (Methanol)
میتھنال، CH3OH کو ووڈاسپرٹ (Wood sprit) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اسے لکڑی کی فارقی کشید (Destructive distillation) سے تیار کیا گیا تھا۔ آج کل زیادہ تر میتھنال ZnO – Cr2O3 وسیط کی موجودگی میں اور اونچے دباؤ و درجۂ حرارت پر کاربن مونو آکسائڈ کے وسیطی ہائڈروجینیشن سے تیار کیا جاتا ہے۔

میتھنال بے رنگ رقیق ہے جو 337 K پر ابلتا ہے۔ یہ انتہائی زہریلی فطرت کا حامل ہے۔ میتھنال کی معمولی سی مقدار نوش کرنے سے بینائی ختم ہو سکتی ہے اور زیادہ مقدار موت کا سبب بن سکتی ہے۔ میتھنال کا استعمال روغنوں، وارنش اور خاص طور سے فارمل ڈیہائڈ بنانے کے لیے محلل کے طور پر کیا جاتا ہے۔
2۔ ایتھنال (Ethanol)
ایتھنال C2H5OH کو صنعتی پیمانے پر چینی کی تخمیر (ایک قدیم طریقہ) سے تیار کیا جاتا ہے۔ شیرا (Molasses)، گنے (Sugarcane) یا انگور جیسے پھلوں کی شکر کو انور ٹیز (Invertase) انزائم کی موجودگی میں گلوکوز اور فرکٹوز (دونوں کا فارمولہ C6H12O6 ہے) میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ گلوکوز اور فرکٹوز ایک اور انزائم یعنی زائی میز (Zymase) جو کہ خمیر (Yeast) میں پایا جاتا ہے، کی موجودگی میں تخمیر ہو جاتے ہیں۔

شراب بنانے کے لیے شوگر اور ایسٹ کا ذریعہ انگور ہیں۔ جیسے ہی انگور پکتے ہیں ان میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور بیرونی سطح پر ایسٹ نمو کرنے لگتے ہیں۔ جب انگور کو کچل دیا جاتا ہے تو شوگر اور انزائم ایک دوسرے کے رابطہ میں آجاتے ہیں اور تخمیر کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ عمل تخمیر غیر ہوا باش (Anaerobic) حالات یعنی ہوا کی غیر موجودگی میں واقع ہوتا ہے۔ تخمیر کے دوران ان سے کاربن ڈائی آکسائڈ خارج ہوتی ہے۔
جب الکحل کی فیصد 14% سے تجاوز کر جاتی ہے تو انزائم کے عمل کو روک دیا جاتا ہے۔ اگر تخمیری آمیزہ میں ہوا داخل ہو جاتی ہے تو ہوا کی آکسیجن ایتھنال کی ایتھنائک ایسڈ میں تکسید کر دیتی ہے جو الکحلی مشروبات کا ذائقہ خراب کر دیتی ہے۔
ایتھنال ایک بے رنگ رقیق ہے جس کا نقطۂ جوش 351 K ہوتا ہے۔ اسے روغن کی صنعت میں محلل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور متعدد کاربن کے مرکبات بنانے میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ صنعتی الکحل میں تھوڑا سا کاپر سلفیٹ (اسے رنگ عطا کرنے کے لیے) اور پائریڈین (تیز بو والا رقیق) کی آمیزش کی جاتی ہے تاکہ یہ پینے کے قابل نہ رہے اسے ڈینیچرڈ الکحل (Denatured alcohol) بھی کہتے ہیں۔
آج کل ایتھنال کو بڑے پیمانے پر ایتھین (Ethene) کے ہائڈریشن سے تیار کیا جاتا ہے (سیکشن11.4)۔
ایتھنال جسم میں مرکزی عصبی نظام کو متاثر کرتا ہے۔کم مقدار فیصلہ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اور Inhibitions کو کم کر دیتی ہے۔ زیادہ ارتکاز کی وجہ سے متلی اور بیھوشی ہو جاتی ہے زیادہ ارتکاز از خود تنفس میں رکاوٹ پیدسا کرتا ہے، اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔
11.6 ایتھرس (Ethers)
11.6.1 ایتھرس کی تیاری (Preparation of Ethers)
ڈائی ایتھائل ایتھر کا استعمال سانس کے ذریعہ بیھوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن اس کے کم اثر اور صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کی وجہ سے اس کی جگہ دوسرے مرکبات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
1۔ الکحل کی نابیدگی سے (By dehydration of alcohols)
پروٹک ایسڈوں (H2SO4, H3PO4) کی موجودگی میں الکحل کی نابیدگی ہو جاتی ہے۔ ماحصل الکین (Alkene) یا ایتھرس ہے اس کا انحصار تعامل کے حالات پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایتھنال 443 K پر سلفیورک ایسڈ کی موجودگی میں نابیدہ ہو کر ایتھین (Ethene) بناتا ہے۔ 413 K پر خاص ماحصل ایتھاکسی ایتھین (Ethoxyethane) بنتا ہے۔

ڈائی ایتھائل ایتھرس کو زیادہ تر سانس کے ذریعہ لیے جانے والے اینیستھیسیا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے سست اثر اور بار آور ہونے کے ناپسندیدہ وقفہ کی وجہ سے اس کی جگہ دوسرے مرکبات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ایتھرس کا بننا نیوکلیو بائی مالیکیولر تعامل ہے (SN2) جس میں پروٹونیٹڈ الکحل پر الکحل کا سالمہ حملہ کی زد میں آتا ہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے:

الکحل کی تیزابی نابیدگی سے الکین (Alkene) کا بننا بھی بدل تعامل سے وابستہ ہے جس سے ایتھرس حاصل ہوتا ہے۔
یہ طریقہ ان ایتھرس کی تیاری کے لیے موزوں ہے جن میں صرف پرائمری الکائل گروپ ہوتا ہے۔ الکائل گروپ پررکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ نہیں تو تعامل کے نتیجے میں الکین (Alkene) حاصل ہوگی۔ اگر الکحل سیکنڈری یا ٹرشری ہے جو تعامل SN1 میکانزم کا اتباع کرتا ہے جس کا مطالعہ آپ اعلیٰ جماعتوں میں کریں گے۔ تاہم سیکنڈری اور ٹرشری الکحل کی نابیدگی سے نظیری ایتھرس کے بننے کا عمل ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ اخراج بدل پر سبقت حاصل کر لیتا ہے اور آسانی سے الکین بن جاتی ہے۔
کیا آپ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ دو سالماتی نابیدگی (Bimolecular dehydration) ایتھائل میتھائل ایتھرس بنانے کے لیے کیوں موزوں نہیں ہے؟
2۔ ولیم سن تالیف (Williamson synthesis)
تشاکلی اور غیر تشاکلی ایتھرس بنانے کا ایک اہم طریقہ ہے جسے تجربہ گاہ میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اس طریقے میں الکائل ہیلائڈ کا سوڈیم الکوکسائڈ سے تعامل کرایا جاتا ہے۔
الکنزینڈر ولیم ولیمسن (1824-1904) لندن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین اسکاٹ لینڈ کے باشندے تھے۔ وہ 1849 میں یونیورسٹی کالج لندن میں کیمسٹری کے پروفیسر بن گئے۔
بدل شدہ الکائل گروپ والے ایتھرس (سیکنڈری اور ٹرشری) بھی اسی طریقے سے بنائے جاسکتے ہیں۔ تعامل پرائمری الکائل ہیلائڈ پر الکوکسائڈ کے SN2 حملہ پر مشتمل ہے۔

اگر الکائل ہیلائڈ پرائرمری ہے تو بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سیکنڈری اور ٹرشری الکائل ہیلائڈ کے معاملے میں اخراج (Elimination) بدل (Substitution) پر سبقت حاصل کر لیتا ہے۔ اگر ٹرشری الکائل ہیلائڈ کا استعمال کیا جاتا ہے تو صرف الکین حاصل ہوتی ہے ایتھرس قطعی حاصل نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر
کے ساتھ CH3ONa کا تعامل خاص طور سے 2- میتھائل پروپین (2-methyl propene) دیتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ الکوکسائڈ نہ صرف نیوکلیوفائل ہے بلکہ ایک قوی اساس بھی ہے۔ یہ الکائل ہیلائڈوں سے تعامل کرکے اخراجی تعاملات انجام دیتے ہیں۔
مثال 11.6
مندرجہ ذیل تعال t- بیوٹائل ایتھائل ایتھرس کی تیاری کے لیے موزوں نہیںہے۔

(i) اس تعامل کا اہم ماحصل کیا ہوگا؟
(ii)۔ t- بیوٹائل ایتھائل ایتھرس بنانے کے لیے مناسب تعامل لکھیے۔
حل
(i) دیے ہوئے تعامل کا اہم ماحصل 2- میتھائل پروپ -1-این (2-methylprop-1-ene) ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوڈیم ایتھاکسائڈ ایک قوی نیوکلیوفائل کے ساتھ ساتھ قوی اساس بھی ہے۔ یہ اخراجی تعامل بدل تعامل پر سبقت حاصل کر لیتا ہے۔
اس طریقے کے ذریعہ فینالس کو بھی ایتھرس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں فینالس کا استعمال Phenoxide moiety کے طور پر کیا جاتا ہے۔

11.6.2 طبیعی خصوصیات(Physical Properties)
ایتھرس میں C–O بانڈ قطبی نوعیت کے ہوتے ہیں اور اسی لیے ایتھرس پر نیٹ ڈائی پول مومنٹ آجاتا ہے۔ ایتھرس کی کمزور قطبیت ان کے نقطہ جوش کو بہت زیادہ متاثر نہیں کرتی۔ ان کے نقطہ جوش قابل موازنہ سالماتی کمیت والے الکینس (Alkanes) کے نقطہ جوش کے قریب قریب ہوتے ہیں لیکن الکحل کے نقطہ جوش سے بہت کم ہوتے ہیں جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

الکحل اور ایتھرس کے نقطہ جوش میں بہت زیادہ فرق الکحل میں ہائڈروجن بندش کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔
ایتھرس کی پانی میں حل پذیری، یکساں سالماتی کمیت والے الکحل کے مشابہ ہے۔ ایتھاکسی ایتھین اور بیوٹین -1 - آل دونوں ہی تقریباً یکساں حد تک پانی میں حل پذیر ہیں یعنی بالترتیب 7.5 اور 9 گرام فی 100 mL پانی، جبکہ پینٹین (Pentane) پانی میں حل پذیر نہیں ہے۔ کیا آپ اس مشاہدہ کی وضاحت کر سکتے ہیں؟
یہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ الکحل کی طرح ایتھرس کی آکسیجن بھی پانی کے سالمہ کے ساتھ ہائڈروجن بانڈ بناتی ہے جیسا کہ دکھایا گیا ہے:

11.6.3 کیمیائی تعاملات (Chemical Reactions)
1۔ ایتھرس میں C–O بانڈ کی شکستگی
ایتھرس تفاعلی گروپوں میں سب سے کم تعامل پذیر ہوتے ہیں۔ ایتھرس میں C–O بانڈ کی شکستگی وافر ہائڈروجن ہیلائڈ کی موجودگی میں شدید حالات کے تحت ہوتی ہے۔ ڈائی الکائل ایتھرس کے تعامل سے دو الکائل ہیلائڈ سالمات حاصل ہوتے ہیں۔

الکائل ایرائل ایتھرس الکائل آکسیجن بانڈ پر شکستہ ہوتے ہیں کیونکہ ایرائل آکسیجن بانڈ زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ تعامل کے نتیجے میں فینالس اور الکائل ہیلائڈ بنتے ہیں۔

دو مختلف الکائل گروپ والے ایتھرس میں بھی شکستگی اسی انداز سے ہوتی ہے۔
ہائڈروجن ہیلائڈوں کی تعاملیت کی ترتیب HI > HBr > HCl ہے۔ ایتھرس کی شکستگی مرتکز HI یا HBr کے ساتھ اونچے درجہ حرارت پر ہوتی ہے۔
میکانزم
ایتھرس کا مرتکز HI کے ساتھ تعامل ایتھرس سالمہ کے پروٹونیشن سے شروع ہوتا ہے۔
مرحلہ 1 :

تعامل HBr یا HI کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ دونوں کافی تیزابی ہیں۔
مرحلہ 2 :
آیوڈائڈایک اچھا نیوکلیوفائل ہے یہ مرحلہ 1 میں بننے والے آکسونیم آین کے کمترین بدل شدہ کاربن پر حملہ کرتا ہے اور SN2 میکانزم کے ذریعہ الکحل سالمہ کو ہٹا دیتا ہے۔ اس طرح دو مختلف الکائل گروپ والے مکسڈ ایتھرس کی شکستگی سے الکحل اور الکائل آیوڈائڈ بنتا ہے جن کا انحصار الکائل گروپ کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ جب پرائمری یا سیکنڈری الکائل گروپ موجود ہوتے ہیں تو کمزور الکائل گروپ الکائل آیوڈائڈ بناتا ہے (SN2 تعامل)۔

جب HI وافر مقدار میں ہو اور تعامل اونچے درجۂ حرارت پر ہو رہا ہو تو ایتھنال HI کے دوسرے سالمہ سے تعامل کرکے ایتھائل آیوڈائڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مرحلہ 3 :

تاہم اگر ایک الکائل گروپ ٹرشری گروپ ہو تو بننے والا ہیلائڈ ٹرشری ہیلائڈ ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ تعامل کے دوسرے مرحلہ (CO–CH3) لیونگ گروپ (Leaving Group) کی روانگی ایک زیادہ مستحکم کاربوکیٹ آین [(CH3)3C+] کی تشکیل کرتی ہے اور تعامل SN1 میکانزم کا اتباع کرتا ہے۔
اینی سول (Anisole) کے معاملے میں میتھائل فِنائل آکسونیم آین،
ایتھرس کے پروٹونیشن سے بنتا ہے۔ O–CH3 کے درمیان کا بانڈ O–C6H5 کے درمیان کے بانڈ کے مقابلے کمزور ہوتا ہے کیوںکہ فنائل گروپ کا کاربن sp2 مخلوط شدہ ہوتا ہے اور جزوی ڈبل بانڈ خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ لہٰذا I– آین کا حملہ O–CH3 بانڈ کو توڑ دیتا ہے اور اور CH3I بناتا ہے۔ فینالس مزید تعامل کرکے ہیلائڈ نہیں بناتے ہیں کیونکہ فینالس کا sp2 مخلوط شدہ کاربن نیوکلیوفلک بدل تعامل نہیں کرتا جو کہ ہیلائڈ میں تبدیلی کے لیے درکار ہوتی ہے۔
ایتھرس کے پروٹونیشن سے بنتا ہے۔ O–CH3 کے درمیان کا بانڈ O–C6H5 کے درمیان کے بانڈ کے مقابلے کمزور ہوتا ہے کیوںکہ فنائل گروپ کا کاربن sp2 مخلوط شدہ ہوتا ہے اور جزوی ڈبل بانڈ خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ لہٰذا I– آین کا حملہ O–CH3 بانڈ کو توڑ دیتا ہے اور اور CH3I بناتا ہے۔ فینالس مزید تعامل کرکے ہیلائڈ نہیں بناتے ہیں کیونکہ فینالس کا sp2 مخلوط شدہ کاربن نیوکلیوفلک بدل تعامل نہیں کرتا جو کہ ہیلائڈ میں تبدیلی کے لیے درکار ہوتی ہے۔

2۔الیکٹروفلک بدل
الکوکسی گروپ (–OR) آرتھو، پیرا ڈائریکٹنگ ہوتے ہیں اور ایرومیٹک رنگ کو الیکٹروفلک بدل کی طرف ایکٹیویٹ کرتا ہے بالکل اسی طرح جیسا کہ فینالس میں ہوتا ہے۔

(i) ہیلوجینیشن: فینائل الکائل ایتھرس کے بینزین رنگ میں عام ہیلوجینیشن ہوتا ہے یعنی اینی سول (Anisole) آئرن (III) برومائڈ کی عدم موجودگی میں بھی ایتھنائک ایسڈ برومین کے ساتھ برومینیشن کرتا ہے۔ ایسا میتھاکسی گروپ کے ذریعہ بینزین رِنگ کے ایکٹیویشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

(ii) فریڈل کرافٹ تعامل : اینی سول فریڈل کرافٹ تعامل کرتے ہیں یعنی الکائل اور ایسائل گروپ نابیدہ ایلیومینیم کلورائڈ (ایک لیوئس ایسڈ) وسیط کی موجودگی میں الکائل ہیلائڈ یا ایسائل ہیلائڈ سے تعامل کرکے آرتھو اور پیرا مقامات پر متعارف ہوتے ہیں۔

(iii) نائٹریشن (Nitration) : اینی سول مرتکز سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک ایسڈ کے آمیزہ کے ساتھ تعامل کرکے آرتھو اور پیرانائٹرواینی سول بناتا ہے۔

متن پر مبنی سوالات
11.10 ایتھنال اور 3-میتھائل پینٹین - 2- آل سے شروع کرکے 2- ایتھاکسی 3-میتھائل پینٹین کی ولیم سن تالیف کے تعاملات لکھیے۔
11.11 1-میتھاکسی - 4 - نائٹروبینزین کی تیاری کے لیے مندرجہ ذیل میں سے متعاملوں کا کون سا سیٹ موزوں ہے اور کیوں؟
11.12 مندرجہ ذیل تعاملات کے ماحصلات بتائیے۔

خلاصہ
الکحل اور فینالس کی درجہ بندی (i) ہائڈراکسل گروپوں کی تعداد کی بنیاد پر اور (ii) اس کاربن ایٹم کی مخلوطیت sp3 یا sp2 کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے جس سے OH گروپ منسلک ہوتا ہے۔ ایتھرس کی درجہ بندی آکسیجن ایٹم سے منسلک گروپوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
الکحل (1) الکین (Alkene) کے ہائڈریشن کے ذریعہ (i) ایسٹر کی موجودگی میں (ii) ہائڈروبوریشن آکسیڈیشن (2) کاربونل مرکبات کے ذریعہ (i) وسیطی تحویل اور (ii) گرگنارڈ ریجنٹ کے عمل سے تیار کیے جاسکتے ہیں۔ فینالس (1) ہیلو ایرینس میں ہیلوجن ایٹم اور ایرائل سلفونک ایسڈ میں سلفونک ایسڈ گروپ کو –OH گروپ سے بدل کر (2) ڈائی اینزونیم نمکوں کی آب پاشیدگی اور (3) صنعتی طور پر کیومین سے تیار کیے جاتے ہیں۔
الکحل کے نقطہ جوش مرکبات کے دیگر زمروں جیسے ہائڈروکاربن، ایتھرس اور ہیلوالکینس کے مقابلے زیادہ ہوتے ہیں۔ الکحل، فینالس اور ایتھرس کی پانی کے ساتھ انٹر مالیکیولر ہائڈروجن بندش بنانے کی صلاحیت انھیں پانی میں حل پذیر بنادیتی ہے۔
الکحل اور فینالس تیزابی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ فینالس میں الیکٹران ودڈرائنگ گروپ اس کی تیزابی قوت میں اضافہ کرتا ہے اور الیکٹران ریلیزنگ گروپ اس میں کمی کا باعث ہے۔
الکحل، ہائڈروجن ہیلائڈ کے ساتھ نیوکلیوفلک بدل تعامل کرکے الکائل ہیلائڈ بناتے ہیں۔ الکحل کی نابیدگی (Dehydration) کے نتیجے میں الکینس (Alkanes) حاصل ہوتے ہیں۔ تکسید ہونے پر پرائمری الکحل معتدل تکسیدی ایجنٹ کے ساتھ الڈیہائڈ بناتے ہیں اور قوی تکسیدی ایجنٹ کے ساتھ کاربوکسلک ایسڈ بناتے ہیں جبکہ سیکنڈری الکحل کیٹونس (Ketones) بناتے ہیں۔ ٹرشری الکحل تکسید مزاحم ہوتے ہیں۔
فینالس میں OH گروپ کی موجودگی ایرومیٹک رنگ کو الیکٹروفلک بدل کے تئیں ایکٹیویٹ کرتا ہے اور آنے والے گروپ کو گمک اثر کی وجہ سے آرتھواور پیرا پوزیشن پر ڈائریکٹ کرتا ہے ۔ فینالس کے ریمر - ٹائی مین (Reimer-Tiemann) تعامل کے نتیجے میں سیلیسل ڈیہائڈ (Salicylaldehyde) بنتا ہے۔ سوڈیم ہائڈراکسائڈ کی موجودگی میں فینالس فیناکسائڈ آین بناتے ہیں جو کہ فینالس سے بھی زیادہ تعامل پذیر ہوتے ہیں اس طرح قلوی میڈیم میں فینالس کولبے تعامل (Kolbe's Reaction) انجام دیتے ہیں۔
ایتھرس (i) الکحل کی نابیدگی اور (ii) ولیم سن تالیف کے ذریعہ تیار کیے جاسکتے ہیں۔ ایتھرس کے نقطۂ جوش الکینس (Alkanes) کے نقطۂ جوش سے مشابہت رکھتے ہیں جبکہ ان کی حل پذیری یکساں سالماتی کمیت والے الکحل کے قریب قریب ہوتی ہے۔ ایتھرس میں C-O بانڈ ہائڈروجن ہیلائڈ کے ذریعہ شکستہ ہو سکتا ہے الیکٹروفلک بدل میںالکو کسی گروپ (Alkoxy group) ایرومیٹک رِنگ کو ایکٹیویٹ کرتا ہے اور آنے والے گروپ کو آرتھو اور پیرا پوزیشن پر ڈائریکٹ کرتا ہے۔
مشق
11.1 مندرجہ ذیل مرکبات کے IUPAC نام لکھیے۔

11.2 ان مرکبات کی ساختیں لکھیے جن کے IUPAC نام ذیل میں دیے گئے ہیں۔
(i)۔ 2- میتھائل بیوٹین - 2 - آل (2-Methylbutan-2-ol)
(ii)۔ 1-فِنائل پروپین - 2 - آل
(iii)۔ 3، 5 - ڈائی میتھائل ہیکسین -5، 3، 1 - ٹرائی آل
(3,5-Dimethylhexane –1, 3, 5-triol)
(iv)۔ 3، 2 - ڈائی ایتھائل فینالس
(2,3 – Diethylphenol)
(v)۔ 1- ایتھاکسی پروپین
(1 – Ethoxypropane)
(vi)۔ 2 - ایتھاکسی - 3 - میتھائل پینٹین
(2-Ethoxy-3-methylpentane)
(vii) سائیکلو ہیکسل میتھنال (Cyclohexylmethanol)
(viii)۔ 3-سائیکلو ہیکسل پینٹین -3 -آل
(3-Cyclohexylpentan-3-ol)
(ix) سائیکلو پینٹ -3- این -1- آل (Cyclopent-3-en-1-ol)
(v)۔ 4- کلورو - 3-ایتھل بیوٹین-1-آل (4-Chloro-3-ethylbutan-1-ol)
0011.3 ۔ (i)۔ C5H12O سالماتی فارمولہ والے آئسومیرک الکحل کی ساختیں بنائیے اور ان کے IUPAC نام لکھیے۔
(ii)۔ (i)۔ 11.3 میں الکحل کے آئسو مرکی درجہ بندی پرائمری، سیکنڈری ٹرشری الکحل کے تحت کیجیے۔
11.4 پروپینال کا نقطہ جوش بیوٹین (Butane) کے مقابلے زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
11.5 الکحل قابل موازنہ سالماتی کمیت والے ہائڈروکاربنوں کے مقابلے پانی میں زیادہ حل پذیر ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کی وضاحت کیجیے۔
11.6 ہائڈروبوریشن تکسیدی تعامل سے کیا مراد ہے؟ اسے مثالوں کے ذریعہ واضح کیجیے۔
11.7 سالماتی فارمولہ C7H8O والے مونو ہائڈرک فینالس کے IUPAC نام اور ساختیں لکھیے۔
11.8 جب آرتھو اور پیرا نائٹروفینالس کا آمیزہ بھاپی کشید کے ذریعہ علاحدہ کیا جاتا ہے تو اس آئسو مر کا نام بتائیے جو بھاپ طیران پذیر ہے۔ وجہ بتائیے۔
11.9 کیومین سے فینالس بنانے کے لیے ہونے والے تعامل کی مساوات لکھیے۔
11.10 کلوروبینزین سے فینالس بنانے کے لیے کیمیائی تعامل لکھیے۔
11.11 ایتھنال بنانے کے لیے ایتھین کے ہائڈریشن کا میکانزم لکھیے۔
11.12 آپ کو بینزین، مرتکز H2SO4 اور NaOH دیا گیا ہے۔ ان ریجنٹ کا استعمال کرکے فینالس بنانے کے لیے مساوات لکھیے۔
11.13 مندرجہ ذیل کی تالیف آپ کس طرح کریں گے؟
(i) مناسب الکین (Alkene) سے 1- فِنائل ایتھنال
(ii)۔ SN2 تعامل کے ذریعہ الکائل ہیلائڈ کا استعمال کرکے سائیکلوہیکسل میتھنال
(iii) مناسب الکائل ہیلائڈ کا استعمال کرکے پینٹین -1- آل(Pentan -1-ol)
11.14 فینالس کی تیزابی نوعیت کو ظاہر کرنے کے لیے دو تعاملات لکھیے۔
11.15 آرتھو میتھاکسی فینالس کے مقابلے آرتھو نائٹروفینالس زیادہ تیزابی کیوں ہے؟
11.16 بینزین رِنگ کے کاربن سے منسلک –OH گروپ اسے الیکٹرو فلک بدل کے تئیں کس طرح ایکٹیویٹ کرتا ہے؟ واضح کیجیے۔
11.17 مندرجہ ذیل تعاملات کی مساوات لکھیے:
(i)۔ KMnO4 محلول کے ساتھ پروپین -1 - آل کی تکسید
(ii) فینالس کے ساتھ CS2 میں برومین
(iii) فینالس کے ساتھ ڈائی لیوٹ HNO3
(iv) آبی NaOH کی موجودگی میں فینالس کا کلوروفارم سے تعامل
11.18 مندرجہ ذیل کی وضاحت مثال کے ساتھ کیجئے۔
(i) کولبے کا تعامل
(ii) ریمر-ٹائی مین تعامل
(iii) ولیم سن ایتھرس تالیف
(iv) غیر متشاکل ایتھرس
11.19 ایتھین حاصل کرنے کے لیے ایتھنال کی تیزابی نابیدگی کا میکانزم لکھیے۔
11.20 مندرجہ ذیل تبدیلیاں کس طرح انجام دی جائیں گی؟
(i) پروپین
پروپین -2- آل
(ii) بینزائل کلورائڈ
بینزائل الکحل
(iii) ایتھائل میگنیشیم کلورائڈ
پروپین -1- آل
(iv) میتھائل میگنیشیم برومائل
2- میتھائل پروپین -2 - آل
11.21 مندرجہ دیل تعاملات میں استعمال ہونے والے ریجنٹ کے نام لکھیے۔
(i) پرائمری الکحل کی کاربوکسلک ایسڈ میں تکسید
(ii) پرائمری الکحل کی الڈیہائڈ میں تکسید
(iii)۔ 2، 4، 6 - ٹرائی بروموفینالس حاصل کرنے کے لیے فینالس کا برومینیشن
(iv) بینزائل الکحل سے بینزوئک ایسڈ
(v) پروپین -2- آل کی نابیدگی سے پروپین (Propene)
(vi)۔ Butan-2-One سے بیوٹین -2- آل
11.22 میتھاکسی میتھین کے مقابلے میں ایتھنال کا نقطۂ جوش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وجہ بتائیے۔
11.23 مندرجہ ذیل ایتھرس کے IUPAC نام لکھیے۔

11.24 ولیمسن تالیف کے ذریعہ مندرجہ ذیل ایتھرس بنانے کے لیے درکار ریجنٹ کے نام اور تعاملات لکھیے۔
(i)۔ 1 - پروپاکسی پروپین (1-Propoxypropane)
(ii) ایتھاکسی بینزین (Ethoxybenzene)
(iii)۔ 2- میتھاکسی -2- میتھائل پروپین (2-Methoxy-2-methylpropane)
(iv)۔ 1- میتھاکسی ایتھین
11.25 مخصوص قسم کے ایتھرس بنانے کے لیے ولیم سن تالیف کی حدود کی وضاحت مثالوں کی مدد سے کیجیے۔
11.26 پروپین -1 - آل سے 1 - پروپاکسی پروپین (1-propoxypropane) کی تالیف کس طرح کی جاتی ہے؟ اس تعامل کا میکانزم لکھیے۔
11.27 سیکنڈری یا ٹرشری الکحل کی تیزابی نابیدگی کے ذریعہ ایتھرس کی تیاری مناسب طریقہ نہیں ہے۔ وجہ بتائیے۔
11.28 مندرجہ ذیل کے ساتھ ہائڈروجن کے تعامل کی مساوات لکھیے۔
(i)۔ 1- پروپاکسی پروپین
(ii) میتھاکسی بینزین اور
(iii) بینزائل ایتھائل ایتھرس
11.29 اس حقیقت کی تشریح کیجیے کہ الکائل ایرائل ایتھرس میں (i) الکوکسی گروپ بینزین رِنگ کو الیکٹروفلک بدل کے تئیں ایکٹیوٹ کرتا ہے (ii) یہ آنے والے Substituant کو بینزین رِنگ میں آرتھو اور پیرا پوزیشنوں کے لیے ڈائریکٹ کرتا ہے۔
11.30 میتھاکسی میتھین کے ساتھ HI کے تعامل کا میکانزم لکھیے۔
11.31 مندرجہ ذیل تعاملات کی مساواتیں لکھیے۔
(i) فریڈل - کرافٹ تعامل - اینی سول کا الکائلیشن
(ii) اینی سول کا نائٹریشن
(iii) ایتھنائک ایسڈ میڈیم میں اینی سول کا برومینیشن
(iv) اینی سول کا فریڈل کرافٹ ایسیٹائلیشن
11.32 مناسب الکینس (Alkenes) کا استعمال کرکے آپ مندرجہ ذیل کی تالیف کس طرح کریں گے؟ دکھائیے۔

11.33 جب 3 - میتھائل بیوٹین - 2 - آل کا تعامل HBr کے ساتھ کرایا جاتا ہے تو مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے۔

اس تعامل کا میکانزم لکھیے۔
(اشارہ: دوسرے مرحلہ میں بننے والے سیکنڈری کاربوکیٹ آین تیسرے کاربن ایٹم سے ہائڈرائڈ آین شفٹ کے ذریعہزیادہ مستحکم ٹرشری کاربوکیٹ آین میں ازسرنو مرتب ہو جاتا ہے۔)
متن پر مبنی کچھ سوالوں کے جوابات
11.1 پرائمری الکحلس (iii)، (ii)، (i)
سیکنڈری الکحلس (iv) اور (v)
ٹرشری الکحلس (vi)
11.2 ایلیلک الکحل (Allylic Alcohol) (ii) اور (vi)
11.3 (i) 3- کلورومیتھائل -2- آئسو پروپائل پینٹین -1- آل
(ii) 2، 5 ڈائی میتھائل ہیکسین -1، 3- ڈائی آل
(iii) 3 - بروموسائیکلو ہیکسنال
(iv) ہیکس -1- این -3- آل
(v)۔ 2- برومو - 3 - میتھائل بیوٹ -2 این - 1 - آل

11.7 (i) -1میتھائل سائیکلوہیکسن
(ii) بیوٹ -1-این اوربیوٹ-2-این کا محلول بنتا ہے جس میں بیوٹ-2-این ایک خاص ماحصل ہوتاہے۔کیوں کہ بازترتیبی کے ذریعے سیکنڈری کاربوکیٹ آین بنتاہے۔





