اکائی
14
حیاتیاتی سالمات
(Biomolecules)
مقاصد
اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
- کاربوہائڈریٹ، پروٹین،نیوکلیک ایسڈ اورہارمون جیسے حیاتیاتی سالمات کی خصوصیات کی وضاحت کر سکیں ؛
- کاربوہائڈریٹ، پروٹین، نیوکلیک ایسڈ اور وٹامنوں کی درجہ بندی ان کی ساختوں کی بنیاد پر کر سکیں ؛
- DNA اور RNA کے درمیان فرق کی وضاحت کر سکیں ؛
- حیاتیاتی نظام میں حیاتیاتی سالمات کا کردار بیان کر سکیں ۔
’’یہ جسم میں کیمیائی تعاملات کا باقاعدہ اور منظم سلسلہ ہے جو زندگی کو تحریک دیتا ہے‘‘۔
حیاتیاتی نظام نمو کرتا ہے، بقا کرتا ہے اور خود اپنی تولید کرتا ہے۔ حیاتیاتی نظام کے معاملہ میں سب سے تعجب خیز بات یہ ہے کہ یہ غیر حیاتیاتی ایٹموں اور سالمات پر مشتمل ہے۔ حیاتیاتی نظام میں کیمیائی اعتبار سے کون کون سے واقعات رونما ہو رہے ہیں، اس کا مطالعہ حیاتیاتی کیمیا (Biochemistry) کے تحت کیا جاتا ہے۔ حیاتیاتی نظام کاربو ہائڈریٹ، پروٹین، نیوکلیک ایسڈ، لپڈس وغیرہ جیسے متعدد پیچیدہ حیاتیاتی سالمات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ پروٹین اور کاربوہائڈریٹ ہماری غذا کے لازمی اجزا ہیں۔ یہ حیاتیاتی سالمات ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عمل کرتے ہیں اور افعال زندگی کی سالماتی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں وٹامن اور معدنی نمک جیسے کچھ سادہ سالمات بھی عضویوں کے افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ حیاتیاتی سالمات کی ساخت اور افعال پر اس اکائی میں بحث کی گئی ہے۔
14.1 کاربوہائڈریٹ (Carbohydrates)
کاربوہائڈریٹ بنیادی طور پر پودوں کے ذریعہ تیار کیے جاتے ہیں اور قدرتی طور پر پائے جانے والے نامیاتی مرکبات کے ایک بہت بڑے گروپ کی تشکیل کرتے ہیں۔ گنے کی شکر، گلوکوز، اسٹارچ وغیرہ کاربو ہائڈریٹ کی کچھ عام مثالیں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کاربو ہائڈریٹ جنرل فارمولہ Cx(H2O)y ہے اور انہیں کاربن کے ہائڈریٹ تصور کیا جاتا تھا جہاں سے ان کا نام کاربوہائڈریٹ اخذ کیا گیا۔ مثال کے طور پر گلوگوز (C6H12O6) کا سالماتی فارمولہ اس جنرل فارمولے C6(H2O)6 میں فِٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن وہ تمام مرکبات جن پر یہ جنرل فارمولہ صادق آتا ہے ان کی درجہ بندی کاربوہائڈریٹ کے تحت نہیں کی جاسکتی۔ ایسیٹک ایسڈ (CH3COOH) پر یہ جنرل فارمولہC2(H2O)2 صادق آتا ہے لیکن یہ کاربوہائڈریٹ نہیں ہے۔ اسی طرح ریمناز (Rhamnose) C6H12O5 کاربوہائڈریٹ ہے مگر اس پر جنرل فارمولہ صادق نہیں آتا۔ ان کے تعاملات کی ایک بہت بڑی تعداد اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ مخصوص تفاعلی گروپوں (Functional groups) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کیمیائی اعتبار سے کاربوہائڈریٹ کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ بصری اعتبار سے سرگرم (Optically active) پالی ہائڈراکسی الڈیہائڈ یا کیٹون ہیں یا ایسے مرکبات ہیں جو برق پاشیدگی کے نتیجے میں اس قسم کی اکائیاں پیدا کرتے ہیں۔ کچھ ایسے کاربو ہائڈریٹ جن کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے شکر (Sugar) کہلاتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں استعمال ہونے والی عام چینی سکروز (Sucrose) کہلاتی ہے جبکہ دودھ میں موجود شکر لیکٹوز (Lactose) کہلاتی ہے۔ کاربوہائڈریٹ سیکرائڈ (Saccharides) بھی کہلاتے ہیں (یونانی میں Sakcharon کا مطلب ہے شکر)۔
14.1.1 کاربوہائڈریٹ کی درجہ بندی (Classification of Carbohydrates)
کاربوہائڈریٹ کی درجہ بندی آب پاشیدگی پران کے طرز عمل کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ انہیں مندرجہ ذیل تین گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(i) مونوسیکرائڈ (Monosaccharides): وہ کاربوہائڈریٹ جن سے پالی ہائڈراکسی الڈیہائڈ یا کیٹون کی سادہ اکائی حاصل کرنے کے لیے مزید آب پاشیدگی نہیں کی جاسکتی، مونوسیکرائڈ کہلاتے ہیں۔ قدرتی ماحول میں پائے جانے والے تقریباً 20 مونوسیکرائڈ کی جانکاری موجود ہے۔ گلوکوز، فرکٹوز، رائبوز وغیرہ ان کی کچھ عام مثالیں ہیں۔
(ii) اولیگو سیکرائڈ (Oligosaccharides) : ایسے کاربوہائڈریٹ جو آب پاشیدگی کے نتیجے میں دو سے دس تک مونو سیکرائڈ اکائیاں بناتے ہیں اولیگو سیکرائڈ (Oligosaccharides) کہلاتے ہیں۔ ان کی مزید درجہ بندی ڈائی سیکرائڈ، ٹرائی سیکرائڈ، ٹیٹراسیکرائڈ وغیرہ میں کی جاسکتی ہے جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ آب پاشیدگی کے نتیجے میں کتنے مونو سیکرائڈ فراہم کرتے ہیں۔ ان میں ڈائی سیکرائڈ سب سے زیادہ عام ہیں۔ ڈائی سیکرائڈ کی آب پاشیدگی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دو مونوسیکرائڈ اکائیاں یکساں بھی ہو سکتی ہیں اور مختلف بھی۔ مثال کے طور پر سکروز کے ایک سالمہ کی آب پاشیدگی کے نتیجے میں گلوکوز اور فرکٹوز کا ایک ایک سالمہ حاصل ہوتا ہے جبکہ مالٹوز (Maltose) کی آب پاشیدگی سے صرف گلوکوز کے دو سالمات حاصل ہوتے ہیں۔
(iii) پالی سیکرائڈ (Polysaccharides): وہ کاربوہائڈریٹ جو آب پاشیدگی کے نتیجے میں متعدد مونوسیکرائڈ اکائیاں فراہم کرتے ہیں، پالی سیکرائڈ کہلاتے ہیں۔ سیلیولوز، گلائی کوجن، اسٹارچ، گوند وغیرہ اس کی عام مثالیں ہیں۔ پالی سیکرائڈ کا ذائقہ میٹھا نہیں ہوتا اسی لیے انہیں نان شگر (non-sugars) کہا جاتا ہے۔
کاربوہائڈریٹ کی درجہ بندی تحویلی شکر یا غیر تحویلی شکر کے طور پر بھی کی جاسکتی ہے۔ وہ تمام کاربوہائڈریٹ جو فیہلنگ محلول اور ٹالنس ریجنٹ کی تحویل کرتے ہیں تحویلی شکر کہلاتے ہیں۔ سبھی مونو سیکرائڈ چاہے وہ ایلڈوز ہوں یا کیٹوز، تحویلی شکر ہیں۔
14.1.2 مونوسیکرائڈ (Monosaccharides)
مونوسیکرائڈ کی مزید درجہ بندی ان میں موجود کاربن ایٹموں کی تعداد اور فنکشنل گروپ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر مونوسیکرائڈ الڈیہائڈ گروپ پر مشتمل ہے تو یہ ایلڈوز (Aldose)کہلاتا ہے اور اگر اس میں کیٹو (Keto) گروپ موجود ہے تو یہ کیٹوز(Ketose) کہلاتا ہے۔ مونوسیکرائڈ میں موجود کاربن ایٹموں کی تعداد کو بھی ان کے نام میں شامل کیا جاتا ہے جیسا کہ جدول 14.1 میں دیا گیا ہے۔
14.1 مختلف قسم کے مونو سیکرائڈ
| کاربن ایٹم | عام اصطلاح | الڈیہائڈ | کیٹون |
| 3 4 5 6 7 |
ٹرایوز ٹیٹروز پینٹوز ہیکسوز ہیپٹوز |
ایلڈوٹرایوز ایلڈوٹیٹروز ایلڈوپینٹوز ایلڈوہیکسوز ایلڈوہیپٹوز |
کیٹوٹرایوز کیٹوٹیٹروز کیٹوپینٹوز کیٹوہیکسوز کیٹوہیپٹوز |
14.1.2.1 گلوکوز (Glucose)
گلوکوز قدرتی ماحول میں آزاد اور متحد دونوں شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ میٹھے پھلوں اور شہد میں پایا جاتا ہے۔ پکے ہوئے انگوروں میں بھی گلوکوز بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اسے مندرجہ ذیل طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے۔
گلوکوز کی تیاری (Preparation of Glucose)
1۔ سکروز (گنے کی شکر) سے: اگر الکحل محلول میں سکروز کو ڈائی لیوٹ HCl یا H2SO4 کے ساتھ ابالا جاتا ہے تو گلوکوز اور فرکٹوز مساوی مقدار میں حاصل ہوتے ہیں۔

فرکٹوز ، گلوکوز ، سکروز
2۔ اسٹارچ سے: تجارتی پیمانے پر گلوکوز تیار کرنے کے لیے کم دبائو اور 393 K پر اسٹارچ کو ڈائی لیوٹ H2SO4 کے ساتھ ابال کر اس کی آب پاشیدگی کی جاتی ہے۔

گلوکوز ، اسٹارچ یا سیلیولوز
گلوکوز کی ساخت (Structure of Glucose)
گلوکوز ایلڈوہیکسوز (Aldohexose) ہے اور ڈیکسٹروز (Dextrose) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ اسٹارچ سیلیولوز جیسے بہت سے نسبتاً بڑے کاربوہائڈریٹ کا مونومر (Monomer) ہے۔ یہ زمین پر سب سے زیاہ پایا جانے والا نامیاتی مرکب ہے۔ اسے مندرجہ ذیل ثبوتوں کی بنیاد پر ساخت تفویض کی گئی ہے۔
- اس کا سالماتی فارمولہ C6H12O6 ہے۔
- اسے HI کے ساتھ دیر تک گرم کرنے پر n- ہیکسین (n-Hexane) حاصل ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سبھی چھ کاربن ایٹم ایک مستقیم زنجیر میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔


3۔ گلوکوز، ہائڈراکسل امین سے تعامل کرکے آکزائم (Oxime) بناتا ہے اور ہائڈروجن سائنائڈ کے ایک سالمہ کی جمع سے سائنوہائڈرن (Cyanohydrin) بناتا ہے۔ یہ تعاملات گلوکوز میں کاربونل گروپ ( C = 0<) کی موجودگی کو ثابت کرتے ہیں۔

4۔ برومین واٹر جیسے معتدل تکسیدی ایجنٹ کے ساتھ تعامل کرنے پر گلوکوز کی چھ کاربن والے کاربوکسلک ایسڈ (گلوکونِک ایسڈ) میں تکسید ہو جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاربونل گروپ، الڈیہائڈ گروپ کے طور پر موجود ہے۔

5۔ ایسیٹک این ہائڈرائڈ کے ساتھ گلوکوز کے ایسیٹائلیشن سے گلوکوز پینٹاایسیٹیٹ حاصل ہوتا ہے جس سے پانچ –OH گروپوں کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک مستحکم مرکب کے طور پر پایا جاتا ہے اس لیے پانچ –OH گروپ مختلف کاربن ایٹموں سے منسلک ہونے چاہئیں۔
6۔ نائٹرک ایسڈ کے ساتھ گلوکوز اور گلوکونک ایسڈ دونوں کی تکسید کے نتیجے میں ڈائی کاربوکسلک ایسڈ (سیکرک ایسڈ) حاصل ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلوکوز میں الکوحلی گروپ (–OH) موجود ہے۔

مختلف OH گروپوں کی قطعی مکانی ترتیب کو دوسری کئی خصوصیات کا مطالعہ کرنے کے بعد فشر (Fischer) کے ذریعہ پیش کیا گیا۔ اس کا تشکل بالکل صحیح طریقے سے I کی طرح ظاہر کیا گیا۔ اس طرح گلوکونک ایسڈ کو II کی طرح اور سیکرک ایسڈ کو III کی طرح ظاہر کیا جاتا ہے۔

گلوکوز کا صحیح نام (+)D- گلوکوز ہے۔ گلوکوز کے نام سے پہلے 'D' تشکل کو ظاہر کرتی ہے جبکہ '(+)' سالمہ کی ڈیکسٹروروٹیٹری نوعیت (Dextrorotatory nature) کو ظاہر کرتا ہے۔ یاد رکھیے کہ 'D' اور 'L' کے مرکب کی بصری سرگرمی (Optical activity) سے کوئی تعلق نہیںہے۔ان کا کوئی تعلق ’d‘ اور’l‘سے بھی نہیں ہوتاہے(دیکھیے یونٹ10-)۔ –D اور –L ترسیموں کے معنیٰ ذیل میں دیے گئے ہیں۔
کسی بھی مرکب کے نام سے پہلے حروف 'D' اور 'L' کسی مرکب کے مخصوص اسٹیریو آئسومر کی نسبتی تشکل کو ظاہر کرتے ہیں جس کا تشکل کسی دوسرے مرکب کے تشکل کے حوالے سے ہوجسے ہم جانتے ہیں کاربوہائیڈریٹ کے معاملے میں۔ یہ گلسرلڈیہائڈ کے کسی مخصوص آئسومر کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ گلسرلڈیہائڈ ایک غیرمتشاکل کاربن ایٹم پر مشتمل ہوتا ہے اور دو انینشیو میرک (Anantiomeric) شکلوں میں پایا جاتاہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

گلسرلڈیہائڈکے (+)ہم ترکیب (آئسومر)کاتشکل Dہوتاہے اس کا مطلب ہے کہ جب کاغذ پرساختی ضابطہ لکھاجائے گا۔درج ذیل مخصوص روایت کے مطابق جوآپ اعلیٰ جماعتوں میں پڑھیں گے، OH-گروپ ساخت کے دائیں سمت رہتا ہے۔ وہ سبھی مرکبات جو کیمیائی اعتبار سے گلسرلڈیہائڈ کے D(+) آئسومر سے متعلق ہیں انہیں D– تشکل والے کہا جاتا ہے۔ جبکہ گلسرلڈیہائڈ کے L(–) آئسو مر سے تعلق رکھنے والے مرکبات L –تشکل والے مرکبات کہلاتے ہیں۔L(-)آئسومرمیںOH-گروپ بائیں سمت میں ہوگا جیسا کہ آپ ساخت میں دیکھ رہے ہیں۔ مونو سیکرائڈ کے تشکل کی تفویض کے لیے، جس کا موازنہ کیا جاتا ہے وہ کمترین غیر متشاکل کاربن ایٹم (جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے)ہوتا ہے۔ جیسا کہ (+) گلوکوز میں، OH دائیں طرف کمترین غیر متشاکل کاربن ایٹم پر ہے جس کا موازنہ D(+) گلسرلڈیہائڈ سے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے (+)گلوکوزکو D– تشکل تفویض کیا گیا ہے۔اس مقابلے کے لیے گلوکوزکے دیگر غیرمتشکل کاربن ایٹموں کواہمیت نہیں دی گئی ہے۔اس موازنہ کے لیے گلوکوزاورگلسرلڈیہائڈکی ساخت کو اس طرح لکھا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ تکسیدی کاربن یہاں پرCHO- سب سے اوپر رہے۔

گلوکوز کی سائیکلک ساخت (Cyclic Structure of Glucose)
گلوکوز کی (I) ساخت اس کی زیادہ تر خصوصیات کو واضح کرتی ہے مگراس ساخت کے ذریعہ مندرجہ ذیل تعاملات اور حقائق کی تشریح نہیں ہوپاتی۔
- الڈیہائڈ گروپ پر مشتمل ہونے کے باوجود گلوکوز شف ٹیسٹ(Schiff's test) نہیں دیتا نیز یہ NaHSO3 کے ساتھ ہائڈروجن سلفائٹ (جمع ماحصل) نہیں بناتا۔
- گلوکوز کا پینٹا ایسیٹیٹ، ہائڈراکسل امین کے ساتھ تعامل نہیں کرتا اور آزاد CHO– گروپ کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
- گلوکوز دو مختلف کرسٹلی شکلوں میں پایا جاتا ہے جن کے نام
ہیں۔ گلوکوز کی شکل (نقطۂ گداخت 419 K) کو 303 K پر گلوکوز کے مرتکز محلول کی کرسٹل سازی کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے جبکہ
شکل (نقطہ گداخت 423 K)کو 371K پر گرم اور سیر شدہ آبی محلول کی کرسٹل سازی سے حاصل کیا جاتا ہے۔
اس طرز عمل کی تشریح گلوکوز کی کھلی زنجیری ساخت (I) کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی۔ یہ تجویز کیا گیا کہ کوئی ایکOH– گروپ CHO– گروپ کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے اور سائیکلو ہیمی ایسیٹل ساخت بناتا ہے۔ یہ پایا گیا کہ گلوکوز چھ ارکان والے رِنگ پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس میں C–5 پر OH– رِنگ (Ring) کی تشکیل میں ملوث ہوتا ہے۔ یہ CHO– گروپ کی عدم موجودگی کی وضاحت کرتا ہے اور دو شکلوں میں گلوکوز کے وجود کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔ یہ دونوں سائیکلک شکلیں کھلی زنجیری ساخت کے ساتھ توازن میں رہتی ہیں۔

گلوکوز کی دو ہیمی ایسیٹل شکلیں C1 (جسے اینومیرک کاربن کہتے ہیں ، یعنی سائیکلیزیشن سے پہلے الڈیہائڈ کاربن پر ہائڈراکسل گروپ کے تشکل کے معاملے میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس قسم کے آئسومر یعنی a-شکل اور
- شکل اینومر (Anomers) کہلاتے ہیں۔ چھ ارکان پر مشتمل گلوکوز کی سائیکلک ساخت پائران (Pyran) سے مشابہت کی وجہ سے پائرانوز ساخت (Pyranose structure)
کہلاتی ہے۔ پائران ایک سائیکلک نامیاتی مرکب ہے جس کے رِنگ میں ایک آکسیجن ایٹم اور پانچ کاربن ایٹم ہوتے ہیں۔ گلوکوز کی سائیکلک ساخت کو زیادہ صحیح طریقے سے ہاورتھ (Haworth) ساخت کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جیسا کہ ذیل میں دیا گیا ہے۔

14.1.2.2فرکٹوز (Fructose)
فرکٹوز ایک اہم کیٹوہیکسوز (Ketohexose)ہے۔ اسے ڈائی سیکرائڈ (سکروز) کی آب پاشیدگی کے دوران گلوکوز کے ہمراہ حاصل کیا جاتا ہے۔فرکٹوزایک قدرتی مونوسیکرائیڈہے جوپھلوں اورسبزیوں میں پایا جاتاہے ۔ اپنی خاص حالت میں اسے مٹھاس کے طورپر استعمال کیا جاتاہے۔
فرکٹوز کی ساخت (Structure of Fructose)
فرکٹوز کا سالماتی فارمولہ C6H12O6 ہے۔ اس کے تعاملات کی بنیاد پر یہ پایا گیا کہ اس میں کاربن نمبر 2 پر کیٹونک تفاعلی گروپ موجود ہوتا ہے اور مستقیم زنجیر میں چھ کاربن ایٹم ہوتے ہیں جیسا کہ گلوکوز میں ہوتا ہے۔ یہ D– سلسلہ سے تعلق رکھتا ہے اور لیوو روٹیٹری (Laevorotatory) مرکب ہے۔ اسے صحیح طریقے سے -D-(–)فرکٹوز لکھا جاتا ہے۔ اس کی کھلی زنجیری ساخت کو یہاں دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی دو سائیکلک شکلوں میں پایا جاتا ہے جنھیںOH–کو C5 پر
گروپ کے ساتھ جمع کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والا رِنگ پانچ ممبران پر مشتمل ہوتا ہے اور فیوران (Furan) مرکب سے مشابہت کی وجہ سے اس کا نام فیورانوز (Furanose) ہے۔ فیوران پانچ ارکان پر مشتمل سائیکلک مرکب ہے جس میں ایک آکسیجن اور چار کاربن ایٹم ہوتے ہیں۔

فرکٹوز کے دو انیومر کی سائیکلک ساختوں کو ہاورتھ ساختوں (Haworth structures) کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جیسا کہ ذیل میں دیا گیا ہے۔

14.1.3 ڈائی سیکرائڈ (Disaccharides)
آپ پہلے ہی مطالعہ کر چکے ہیں کہ ڈائی لیوٹ ایسڈ یا انزائموں کے ساتھ ڈائی سیکرائڈ کی آب پاشیدگی سے مونوسیکرائڈ کے یکساں یا مختلف دو سالمات حاصل ہوتے ہیں۔ دو مونو سیکرائڈ ایک دوسرے کے ساتھ آکسائڈ بانڈ کے ذریعہ جڑے رہتے ہیں جو کہ پانی کے ایک سالمہ کے خارج ہونے سے بنتا ہے۔ آکسیجن ایٹم کے ذریعہ دو مونو سیکرائڈ اکائیوں کے درمیان اس قسم کا انسلاک گلائکو سائڈک انسلاک (Glycosidic linkage) کہلاتا ہے۔
ڈائی سیکرائڈ میں اگر مونوسیکرائڈ کے تحویلی گروپ یعنی الڈیہائڈ اور کیٹون گروپ شامل ہیں تو یہ غیر تحویلی شکر ہیں مثلاً سکروز۔ اس کے برعکس وہ شکر جن میں یہ تفاعلی گروپ آزاد ہیں تحویلی شکر ہیں مثال کے طور پر مالٹوز اور لیکٹوز۔
(i) سکروز (Sucrose): سکروز عام سیکرائڈ میں سے ایک ہے۔ اس کی آب پاشیدگی سے glucose اورfrutose۔ D–(–)– ۔ D–(+)– کا مساوی مولر آمیزہ حاصل ہوتا ہے۔
یہ دونوں سیکرائڈ ایک دوسرے کے ساتھ
فرکٹوز کے C2 کے درمیان گلائکوسائڈک انسلاک کے ذریعہ جڑے رہتے ہیں۔ کیونکہ گلوکوز اور فرکٹوز کے تحویلی گروپ گلائکوسائڈک بانڈ کی تشکیل میں ملوث ہوتے ہیں اس لیے اسے غیر تحویلی شکر کہا جاتا ہے۔

سکروز ڈیکسٹرو روٹیٹری ہے لیکن ہائڈرولسس (آب پاشیدگی) کے بعد ڈیکسٹروروٹیٹری گلوکوز اور لیووروٹیٹری فرکٹوز حاصل ہوتے ہیں۔ کیونکہ فرکٹوزکالیووروٹیشن(92.4–)گلوکوزکے ڈیکسٹروروٹیشن (°52.5+) سے زیادہ ہے۔ اس طرح سکروز کی آب پاشیدگی سے گردش کی علامت میں تبدیلی آجاتی ہے یعنی ڈیکسٹرو (+) سے لیوو (–) اور ماحصل کا نام تقلیبی شکر (Invert sugar) ہو جاتا ہے۔
(ii) مالٹوز (Maltose) : ایک اور ڈائی سیکرائڈ مالٹوز دو a-D-glucose اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں ایک گلوکوز (I) کا C1 دوسری گلوکوز اکائی (II) کے C4 سے منسلک ہوتا ہے۔ آزاد الڈیہائڈ گروپ کو محلول میں دوسرے گلوکوز کے C1 پر پیدا کیا جاسکتا ہے اور یہ تحویلی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے اس لیے یہ تحویلی شکر ہے۔

(iii) لیکٹوز (Lactose) : اسے عام طور سے دودھ کی شکر کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ ڈائی سیکرائڈ دودھ میں پایا جاتا ہے۔ یہD-galactose -
اور
-D-glucose-
پر مشتمل ہوتا ہے۔ انسلاک گیلیکٹوز کے C1 اور گلوکوز کے C4 کے درمیان ہوتا ہے آزاد الڈیہائیڈ گروپ گلوکوزاکائی کے C1پر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اسی لیے یہ تحویلی شکر کہلاتا ہے۔

14.1.4 پالی سیکرائڈ (Polysaccharides)
پالی سیکرائڈ متعدد مونوسیکرائڈ اکائیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ گلائکو سائڈک بندش کے ذریعہ جڑے رہتے ہیں۔ یہ قدرتی ماحول میں پائے جانے والے سب سے عام کاربوہائڈریٹ ہیں۔ یہ ساختی مادوں کے لیے غذائی ذخیرے کے طور پر کام کرتے ہیں۔
(i) اسٹارچ (Starch) : اسٹارچ پودوں میں پایا جانے والا سب سے اہم پالی سیکرائڈ ذخیرہ ہے۔ یہ انسانوں کے لیے سب سے اہم غذائی ذریعہ ہے۔ اناج، جڑوں، قند اور کچھ سبزیوں میں اسٹارچ کی بہت زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ a- گلوکوز کا پالیمر ہے اور دو اجزا ایمائلوز (Amylose) اور ایمائلوپیکٹین (Amylopectin) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایمائلوز پانی میں حل پذیر جزو ہے جو کہ اسٹارچ کا %15-20 حصہ تشکیل دیتا ہے۔ کیمیائی اعتبار سے ایمائلوز بغیر شاخ والی طویل زنجیر ہے جس میں 200 سے لے کر 1000 تک a-D-(+)-glucose اکائیاں C1–C4 گلائکو سائڈک بندش کے ذریعہ ایک ساتھ جڑی رہتی ہیں۔
ایمائلوپیکٹن پانی میں حل پذیر نہیں ہے اور کل اسٹارچ کا %80–85 حصہ ہوتا ہے۔ یہ a-D-glucose اکائیوں کا شاخدار زنجیری پالیمر ہے۔
جس میں زنجیر کی تشکیل C1–C4 گلائکو سائڈک انسلاک کے ذریعہ ہوتی ہے جبکہ شاخوں کی تشکیل C1–C6 گلائکو سائڈک انسلاک کے ذریعہ ہوتی ہے۔


(ii) سیلیولوز (Cellulose) : سیلیولوز خاص طور سے پودوں میں پایا جاتا ہے اور پلانٹ کنگڈم میں سب سے زیادہ مقدار میں پایا جانے والا نامیاتی مادہ ہے۔ یہ نباتاتی خلیوں کی خلوی دیوار کا سب سے اہم جزو ہے۔ سیلیولوز مستقیم زنجیر پر مشتمل پالی سیکرائڈ ہے جس میں صرف D-glucose-
اکائیاں ہوتی ہیں ان میں ایک گلوکوز اکائی کا C1 دوسری گلوکوز اکائی کے C4 سے منسلک ہوتا ہے۔

(iii) گلائکوجن (Glycogen) : حیوانی جسم میں کاربوہائڈریٹ کا ذخیرہ گلائکوجن کی شکل میں ہوتا ہے۔ اسے حیوانی اسٹارچ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ساخت ایمائلوپیکٹن سے مشابہت رکھتی ہے اور بہت زیادہ شاخدار ہوتی ہے۔ یہ جگر، عضلات اور دماغ میں موجود رہتا ہے۔ جب جسم کو گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے تو انزائم گلائکوجن کو توڑ کر گلوکوز بناتے ہیں۔ گلائکوجن ایسٹ اور پھپھوند (Fungi) میں بھی پایا جاتا ہے۔
14.1.5 کاربوہائڈریٹ کی اہمیت (Importance of Carbohydrates)
کاربوہائڈریٹ پودوں اور جانوروں دونوں کی زندگی کے لیے اہم ہے۔ یہ ہماری غذا کا ایک بہت بڑا حصہ تشکیل دیتے ہیں۔ شہد کا استعمال حکیم یا ویدقدیم زمانے سے توانائی کے فوری ذریعہ کے طور پر کرتے آرہے ہیں۔ کاربوہائڈریٹ کا استعمال پودوں میں اسٹارچ کی شکل میں اور جانوروں میں گلائکوجن کی شکل میں ذخیرہ سالمات کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بیکٹیریا اور پودوں کی خلوی دیوار سیلیولوز کی بنی ہوتی ہے۔ ہم فرنیچر وغیرہ لکڑی سے بناتے ہیں جو کہ سیلیولوز کی ایک شکل ہے اس کے علاوہ کپڑے بنانے کے لیے سوتی ریشے بھی سیلیولوز کی ہی ایک شکل ہے یہ ٹیکسٹائل (پارچہ بافی)، کاغذ اور شراب بنانے والی صنعتوں کے لیے خام مادے فراہم کرتے ہیں۔
دو ایلڈوپینٹوز (Aldopentose) جیسے کہ D-ribose اور 2-deoxy-D-ribose (سیکشن 14.5.1، کلاس XII) نیوکلک ایسڈ میں موجود ہوتے ہیں۔ کاربوہائڈریٹ حیاتیاتی نظام میں پروٹین اور لپڈ (Lipid) کے ساتھ متحد حالت میں پائے جاتے ہیں۔
متن پر مبنی سوالات
14.1 گلوکوز اور سکروز پانی میں حل پذیر ہیں لیکن سائیکلوہیکسین یا بینزین (سادہ چھ رکنی رنگ مرکبات) پانی میں حل پذیر نہیں ہیں۔ وضاحت کیجیے۔
14.2 لیکٹوز کی آب پاشیدگی سے کون سے ماحصلات بنیں گے؟
14.3 D-Glucose کے پینٹاایسیٹیٹ میں آپ الڈیہائڈ گروپ کی عدم موجودگی کو کس طرح واضح کریں گے؟
14.2 پروٹین (Protein)
پروٹین حیاتیاتی نظام میں سب سے زیادہ پائے جانے والے حیاتیاتی سالمات ہیں۔ دودھ، پنیر، دالیں، مونگ پھلیاں،مچھلی، گوشت وغیر پروٹین کے اہم مآخذ ہیں۔ پروٹین جسم کے ہر ایک حصہ میں پائی جاتی ہیں اور زندگی کے افعال اور ساخت کی بنیاد تشکیل دیتی ہیں۔ جسم کی نشوونما اور اس کے رکھ رکھاؤ کے لیے بھی پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ پروٹین یونانی زبان کے 'Proteios' سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ابتدائی اہمیت۔ سبھی پروٹین a امینو ایسڈ کی پالیمر ہیں۔
14.2.1امینو ایسڈ (Amino Acids)

امینو ایسڈ امینو (–NH2) اور کاربوکسل (–COOH) تفاعلی گروپوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کاربوکسل گروپ کی مناسبت سے امینو گروپ کی نسبتی پوزیشن کی بنیاد پر امینو ایسڈ کی درجہ بندی
وغیرہ کے تحت کی جاسکتی ہے۔ صرف a-امینو ایسڈ کو پروٹین کی آب پاشیدگی کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔ ان میں دیگر تفاعلی گروپ بھی پائے جاتے ہیں۔
تمام امینو ایسڈ کے Trivial نام ہیں جو عام طور سے اس مرکب یا اس کے مآخذ کی خصوصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گلائسین کا نام گلائسین اس لیے پڑا کیونکہ اس کا ذائقہ میٹھا ہے (یونانی میں Glykos کا مطلب ہے میٹھا) اور ٹائروسین (Tyrosine) کو سب سے پہلے پنیر سے حاصل کیا گیا تھا (یونانی میں Tyros کا
مطلب ہے پنیر)۔ امینو ایسڈوں کو عام طور سے تین حرفی علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے، کبھی کبھی ایک حرفی علامت کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طریقے سے پائے جانے والے کچھ امینو ایسڈوں کی ساختوں کو ان کی 3 حرفی اور ایک حرفی علامتوں کے ساتھ جدول 14.2 میں دیا گیا ہے۔
جدول 14.2:قدرتی امینو ایسڈ 

| امینو ایسڈ کا کام | جانبی زنجیر،Rکی نمایاں خصوصیت | تین حرفی علامت | ایک حرفی علامت |
| 1-گلائسین 2-ایلانین 3-ویلین* 4-لیوسین* 5-آئسولیوسین* 6-آرجینین* 7-لائسین * 8-گلوٹیمک ایسڈ 9-ایسپارٹک ایسڈ 10-گلوٹامن 11-ایسپاراجین 12-تھریونائن* 13-سیرین 14-سسٹین 15-میتھایونین * 16-فنائل ایلانین * 17-ٹائروسین 18-ٹرپٹوفین * 19-ہسٹڈین * 20-پرولین |
![]() ![]() ![]() |
Gly A1a Va1 Leu I1e Arg Lys Glu Asp G1n Asn Thr Ser Cys Met Phe Tyr Trp His Pro |
G A V L I R K E D Q N T S C M F Y W H P |
لازمی امینو ایسڈ، مکمل ساخت=a
14.2.2 امینوایسڈوں کی درجہ بندی (Classification of Amino Acids)
امینو ایسڈوں کی درجہ بندی تیزابی، اساسی یا تعدیلی امینو ایسڈ کے تحت کی جاسکتی ہے جس کا انحصار ان کے سالمہ میں امینو اور کاربوکسل گروپ کی نسبتی تعداد پر ہوتا ہے۔ امینو اور کاربوکسل گروپوں کی تعداداگر مساوی ہے تو یہ تعدیلی امینو ایسڈ ہے، کاربوکسل گروپوں کے مقابلے اگر امینو گروپ زیادہ ہیں تو یہ اساس ہوگا اور اگر کاربوکسل گروپوں کی تعداد امینو گروپوں کے مقابلے زیادہ ہے تو امینو ایسڈ تیزابی ہے۔ وہ امینو ایسڈ جن کی تالیف جسم کے اندر کی جاسکتی ہے غیرلازمی امینو ایسڈ (non-essential amino acids) کہلاتے ہیں۔ اس کے برعکس جن کی تالیف جسم کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی اور جنہیں غذا کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے لازمی امینوایسڈ (essential amino acids) کہلاتے ہیں (جدول 14.2 میں لازمی امینو ایسڈوں کو * سے ظاہر کیا گیا ہے)
امینو ایسڈ عام طور سے بے رنگ کرسٹلی ٹھوس ہوتے ہیں۔ یہ پانی میں حل پذیر، بہت زیادہ نقطۂ گداخت والے ٹھوس ہیں اور سادہ امین یا کاربوکسلک ایسڈوں کے مقابلے نمکوں کی طرح طرز عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایک ہی سالمہ میں تیزابی (کاربوکسل گروپ) اور اساس (امینو گروپ) دونوں گروپوں کی موجودگی اس طرز عمل کی خاص وجہ ہے۔ آبی محلول میں کاربوکسل گروپ پروٹان کھو سکتا ہے اور امینو گروپ پروٹان حاصل کر سکتا ہے جس سے دو قطبی آین (Dipolar ion) حاصل ہوتا ہے، یہ زویٹر آین (Zwitter ion) کہلاتا ہے۔ یہ تعدیلی ہوتا ہے لیکن مثبت اور منفی دونوں قسم کے چارجوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

زویٹرآینی شکل میں امینو ایسڈ ایمفو ٹیرک طرز عمل کو ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ یہ تیزاب اور اساس دونوں سے تعامل کرتے ہیں۔ گلائسین کے علاوہ قدرتی طور پر پائے جانے والے باقی تمام
امینو ایسد بصری اعتبار سے سر گرم(Optically active) ہوتے ہیں کیونکہ
کاربن ایٹم غیر متشاکل ہوتا ہے۔یہ"D"اور "L" دونوں شکلوں میں پائے جاتے ہیں۔ قدرتی طور پر پائے جانے والے زیادہ تر امینو ایسڈ L-تشکل والے ہوتے ہیں۔L-امینو ایسڈوں کو بائیں جانبNH2-گروپ لکھ کر ظاہر کیا جاتا ہے۔
14.2.3 پروٹین کی ساخت (Structure of Proteins)
آپ پہلے ہی مطالعہ کر چکے ہیں کہ پروٹین a-امینو ایسڈ کے پالیمر ہیں یہ ایک دوسرے کے ساتھ پیپٹائڈ بانڈ (Peptide bond) کے ذریعہ جڑی رہتی ہیں کیمیائی اعتبار سے پیپٹائڈ انسلاک COOH– گروپ اور NH2– گروپ کے درمیان تشکیل پانے والا ایمائڈ ہے۔ دو یکساں یا مختلف امینو ایسڈوں کے درمیان تعامل ایک سالمہ کے امینو گروپ اور دوسرے سالمہ کے کاربوکسل گروپ کے اتحاد کے ذریعہ سے انجام پاتا ہے۔ اس تعامل کے نتیجے میں پانی کا سالمہ خارج ہو جاتا ہے اور پیپٹائڈ بانڈ –CO–NH– تشکیل پاتا ہے۔ تعامل کا ماحصل ڈائی پیٹائڈ کہلاتا ہے کیونکہ یہ دو امینو ایسڈوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب گلائسین کا کاربوکسل گروپ ایلانین کے امینو گروپ کے ساتھ متحد ہوتا ہے تو ہمیں ڈائی پیٹائڈ، گلائسل ایلانین (Glycylalanine) حاصل ہوتا ہے۔

اگر کوئی تیسرا امینو ایسڈ ڈائی پیپٹائڈ کے ساتھ اتحاد کرتا ہے تو ماحصل ٹرائی پیپٹائڈ (Tripeptide) کہلاتا ہے۔ٹرائی پیپٹائڈ تین امینو ایسڈوں پر مشتمل ہوتا ہے جو دو پیٹائڈ بانڈ کے ذریعہ منسلک رہتے ہیں۔ اسی طرح جب چار، پانچ یا چھ امینو ایسڈ منسلک ہوتے ہیں تو بالترتیب ٹیٹراپیپٹائڈ، پینٹا پیپٹائڈ یا ہکسا پیپٹائڈ ماحصلات بنتے ہیں۔ جب اس قسم کے امینو ایسڈوں کی تعداد دس سے زیادہ ہوتی ہے تو ماحصل پالی پیپٹائڈ کہلاتے ہیں۔ سو سے زیادہ امینو ایسڈ والے پالی پیپٹائڈ جن کی سالماتی کمیتu۔ 10,000 سے زیادہ ہوتی ہے پروٹین کہلاتے ہیں۔ تاہم، پالی پیپٹائڈ اور پروٹین کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ تھوڑے امینو ایسڈ والے پالی پیپٹائڈ کو بھی پروٹین کہا جاسکتا ہے اگر وہ عام طور سے پروٹین کی معرف شدہ Conformation پر مشتمل ہے جیسا کہ انسولین جس میں 51امینو ایسڈ ہوتے ہیں۔
پروٹینوں کی درجہ بندی ان کی سالماتی شکل کی بنیاد پر دو قسموں میں کی جاسکتی ہے۔
(a)ریشہ دار پروٹین (Fibrous proteins)
جب پالی پیپٹائڈ زنجیریں ایک دوسرے کے متوازی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ڈائی سلفائڈ بانڈ کے ذریعہ منسلک ہوتی ہیں تو ریشہ جیسی ساختیں تشکیل پاتی ہیں۔ اس قسم کی پروٹین عام طور سے پانی میں غیر حل پذیر ہوتی ہیں۔ کچھ عام مثالیں ہیں: کیراٹِن (Keratin) (بال، اون، ریشم میں پائی جانے والی) اور میوسِن (Myosin) (عضلات میں پائی جانے والی) وغیرہ۔
(b) گلوبولر پروٹین (Globular proteins)
جب پالی پیپٹائڈ کی زنجیر یں لپٹ کر کروی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو اس قسم کی ساخت وجود میں آتی ہے۔ یہ عام طور سے پانی میں حل پذیر ہیں۔ انسولین اور البیومین گلوبولر پروٹین کی عام مثالیں ہیں۔
پروٹین کی ساخت اور شکل کا مطالعہ چار مختلف درجات کے تحت کیا جاسکتا ہے یعنی پرائمری، سیکنڈری، ٹرشری اور کواٹرنری، ہر ایک درجہ اپنے پہلے درجہ کے مقابلے زیادہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔
(i) پروٹین کی پرائمری ساخت: پروٹین میں ایک یا زیادہ پالی پیپٹائڈ زنجیریں ہو سکتی ہیں۔ پروٹین میں ہر ایک پالی پیپٹائڈ امینو ایسڈ پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ ایک مخصوص تواتر میں منسلک ہوتے ہیں اور امینو ایسڈ کا یہ تواتر اس پروٹین کی پرائمری ساخت کہلاتا ہے۔ اس ابتدائی ساخت یعنی امینو ایسڈ کے تواتر میں کوئی بھی تبدیلی مختلف قسم کی پروٹین کی تشکیل کا سبب بن جاتی ہے۔

شکل 14.1:کروٹین کی
ھیلکسی ساخت
(ii) پروٹین کی سیکنڈری ساخت : پروٹین کی سیکنڈری ساخت وہ شکل ہے جس میں پالی پیپٹائڈ کی ایک لمبی زنجیر موجود ہوسکتی ہے۔ یہ دو مختلف قسم کی ساختوں جیسے کہ a- ہیلکس
ہیلکس ساخت ایک ایسی ساخت ہے جس میں پالی پیپٹائڈ سلسلہ میں سبھی ممکنہ ہائڈروجن بانڈ بن سکتے ہیں۔ اس میں پالی پیپٹائڈ زنجیر دائیں ہاتھ کے پیچ کی طرح جڑی رہتی ہیں۔ نتیجتاً ہر ایک امینو ایسڈ Residue کا -NHگروپ ہیلکس کے متصل موڑ پر واقع گروپ کے ساتھ ہائڈروجن بانڈ بناتا ہے جیسا کہ شکل 14.1 میں دکھایا گیا ہے۔

(iii) پروٹین کی ٹرشری ساخت : پروٹین کی ٹرشری ساخت پالی پیپٹائڈ زنجیروں کی مکمل تہہ (Folding) کو ظاہر کرتی ہے یعنی سیکنڈری ساخت کی مزید تہہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ریشہ دار اور گلوبولر دو سالماتی شکلیں تشکیل پاتی ہیں۔ وہ اہم قوتیں جو پروٹین کی 2 اور 3 ساختوں کو استحکام عطا کرتی ہیں ہائڈروجن بانڈ، ڈائی سلفائڈ انسلاک، وان ڈروال اور برق سکونی قوتیں ہیں۔
(iv) پروٹین کوارٹرنری ساخت : کچھ پروٹین دو یا زیادہ پالی پیپٹائڈ زنجیروں پر مشتمل ہوتی ہیں جو کہ ذیلی اکائیاں کہلاتی ہیں۔ ان ذیلی اکائیوں کی مکانی ترتیب ایک دوسرے کی مناسبت سے کواٹرنری ساخت کہلاتی ہے۔
ان سبھی چاروں ساختوں کو ڈائی گرام کی مدد سے شکل 14.3 میں دکھایا گیا ہے۔ جہاں ہر ایک رنگین گیند ایک امینو ایسڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

کوارٹرنری ٹرشری ساخت سیکنڈری ساخت پرائمری ساخت
شکل 14.3: پروٹین کی ساخت کا تصویری اظہار (کوارٹرنی ساخت میں دو قسم کی دو ذیلی اکائیاں)

(d)کوارٹرنری ساخت (c)ٹرشری ساخت (b)سیکنڈری ساخت
(a)پرائمری ساخت
(a)پرائمری ساخت
Rگروپ
ہیم گروپ
N
O
C
H
شکل 14.4: ہیموگلوبن کی پرائمری، سیکنڈری، ٹرشری اور کوارٹرنری ساخت
14.2.4 پروٹین کا ڈی نیچریشن (Denaturation of Proteins)
حیاتیاتی نظام میں پائی جانے والی ایک منفرد سہ ابعادی ساخت اور حیاتیاتی سرگرمی والی پروٹین قدرتی پروٹین کہلاتی ہے۔ جب پروٹین کی قدرتی شکل میں طبیعی تبدیلی جیسے کہ درجۂ حرارت میں تبدیلی اور کیمیائی تبدیلی جیسے کہ pH میں تبدیلی کی وجہ سے ہائڈروجن بانڈ میں خلل پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں گلوبیولس کی تہہ کھل جاتی ہیں اور ہیلکس کے پھیرے بھی کھل جاتے ہیں اور پروٹین اپنی حیاتیاتی سرگرمی انجام نہیں دے پاتی۔ اسے پروٹین کا ڈی نیچریشن کہتے ہیں۔ 2 اور 3 کے ڈی نیچریشن کے دوران 2 اور 3 ساختیں تباہ ہو جاتی ہیں لیکن 1° ساخت برقرار رہتی ہے۔ انڈے کو ابالنے پر اس کی سفیدی کی بستگی ڈی نیچریشن کی ایک عام مثال ہے۔ دودھ کی دہی میں تبدیلی اس کی ایک اور مثال ہے جو کہ دودھ میں موجود بیکٹیریا کے ذریعہ لیکٹک ایسڈ کے بننے کی وجہ سے تیار ہوتی ہے۔
متن پر مبنی سوالات
14.4 امینو ایسڈ کے نقطۂ گداخت اور پانی میں حل پذیری نظیری ہیلو ایسڈوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ وضاحت کیجیے۔
14.5 انڈے کو ابالنے کے بعد اس میں موجود پانی کہاں چلا جاتا ہے؟
14.3 انزائم (Enzymes)
جاندار عضویوں میں متعدد تعاملات میں ارتباط کی وجہ سے ہی زندگی ممکن ہے۔ غذا کا ہضم ہونا، مناسب سالمات کا انجذاب اور اخیر میں توانائی پیدا ہونا اس کی ایک مثال ہے۔ اس عمل میں تعاملات کا ایک تواتر ملوث ہوتا ہے اور یہ سبھی تعاملات جسم کے اندر بہت زیادہ معتدل حالات کے تحت انجام دیے جاتے ہیں۔ یہ تعاملات مخصوص حیاتیاتی وسیط (Biocatalysts) کی مدد سے انجام دیے جاتے ہیں۔ یہ وسیط انزائم (Enzyme) کہلاتے ہیں۔ تقریباً سبھی انزائم گلوبولر پروٹین ہیں۔ انزائم ایک خاص تعامل اور خاص سبسٹریٹ (Substrate) کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان کے نام عام طور سے ان مرکبات یا مرکبات کے زمرہ کی بنیاد پر رکھے جاتے ہیں جن پر یہ عمل پیرا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ انزائم جو مالٹوز کی گلوکوز میں آب پاشیدگی کو کیلائٹز کرتا ہے مالٹیز (Maltase) کہلاتا ہے۔

گلوکوز مالٹوز
بعض اوقات انزائموں کے نام ان تعاملات کی بنیاد پر بھی رکھے جاتے ہیں جن تعاملات میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ انزائم جو کسی سبسٹریٹ کی تکسید اور اسی وقت دوسرے سبسٹریٹ کی تحویل کو کیٹلائز کرتا ہے آکسیڈوریڈ کٹیز (Oxidoreductase) انزائم کہلاتا ہے۔ انزائم کے نام کے آخیر میں ase - لکھا جاتا ہے۔
14.3.1 انزائم ایکشن کا میکانزم (Mechanism of Enzyme Action)
تعامل کو انجام دینے کے لیے انزائموں کی بہت تھوڑی مقدار ہی درکار ہوتی ہے۔ کیمیائی وسیط کے ایکشن کی طرح ہی انزائم بھی ایکٹیویشن توانائی کی قدر کو کم کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سکروز کی تیزابی آب پاشیدگی کی ایکٹیویشن توانائی –kJ moll۔16.22 ہے جبکہ سکریز (Sucrase) انزائم کے ذریعہ آب پاشیدگی کرنے پر ایکٹیویشن توانائی صرف kj mol-1۔2.15 ہوتی ہے۔ انزائم ایکشن پر اکائی 5 میں بحث ہے۔
14.4 وٹامن (Vitamins)
یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ہماری خوراک میں کچھ مخصوص نامیاتی مرکبات کی تھوڑی سی مقدار ضروری ہے اور ان کی کمی کی وجہ سے مخصوص قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ مرکبات وٹامن کہلاتے ہیں۔ زیادہ تر وٹامن ہمارے جسم میں تیار نہیں کیے جاسکتے لیکن پودے تقریباً سبھی وٹامنوں کی تالیف کر سکتے ہیں اسی لیے انہیں لازمی غذائی عوامل (Essential food factors) کہا جاتا ہے۔ حالانکہ Gut میں پائے جانے والے بیکٹیریا کچھ ایسے وٹامنوں کو پیدا کر سکتے ہیں جو ہمیں درکار ہیں۔ سبھی وٹامن عام طور سے ہماری غذا میں موجود رہتے ہیں۔ مختلف وٹامنوں کا تعلق مختلف کیمیائی زمروں سے ہے اسی لیے ساخت کی بنیاد پر ان کی تعریف بیان کرنا مشکل امر ہے۔ یہ عام طور سے ایسے نامیاتی مرکبات ہیں جو عضویہ کی مناسب نمو کے رکھ رکھاؤ اور صحت کے لیے مخصوص حیاتیاتی افعال کو انجام دینے کے لیے تھوڑی سی مقدار میں درکار ہوتے ہیں۔ وٹامنوں کو A، B، C، D حروف تفویض کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ وٹامنوں کے نام ذیلی گروپوں کے طور پر رکھے گئے ہیں جیسے B1، B2 B6، B12 وغیرہ۔ وٹامنوں کی زیادتی بھی نقصان دہ ہوتی ہے اور وٹامنوں کی گولیاں ڈاکٹر کی صلاح کے بغیر نہیں لینی چاہئیں۔
اصطلاح "Vitamine" لفظ vital + amine سے اخذ کیا گیا تھا کیونکہ پہلے جن مرکبات کی شناخت کی گئی تھی وہ امینو گروپ پر مشتمل تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں سے زیادہ تر میں تو امینو گروپ موجود ہی نہیں ہے لہٰذا حرف 'e' کو ہٹا دیا گیا اور آج کل اصطلاح وٹامن (Vitamin) کا استعمال کیا جاتا ہے۔
14.4.1 وٹامنوں کی درجہ بندی (Classification of Vitamins)
وٹامنوں کو ان کے پانی اور چربی میں حل ہونے کی بنیاد پر دو گروپوں میں رکھا گیا ہے۔
(i) چربی میں حل پذیر وٹامن : وہ وٹامن جو چربی اور تیلوں میں حل پذیر ہیں لیکن پانی میں حل پذیر نہیں ہیں انہیں اس زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ان وٹامنوں میں وٹامن A، D، E اور وٹامن K شامل ہیں۔ یہ جگر اور ایڈیپوز (چربی کا ذخیرہ کرنے والے) بافتوں میں اسٹور رہتے ہیں۔
(ii) پانی میں حل پذیر وٹامن: B گروپ کے وٹامن اور وٹامن C پانی میں حل پذیر ہیں اس لیے انہیں ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔ پانی میں حل پذیر وٹامنوں کی خوراک میں مسلسل فراہمی ضروری ہے کیونکہ یہ وٹامن پیشاب کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں اور ہمارے جسم میں ان کا ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا (وٹامن B12 کو چھوڑ کر)۔
کچھ اہم وٹامن، ان کے مآخذ اور ان کی کمی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کی فہرست جدول 14.3 میں دی گئی ہے۔
جدول 14.3: کچھ اہم وٹامن ان کے مآخذ اور ان کی کمی کے باعث ہونے والی بیماریاں
| نمبر شمار وٹامن کا نام | مآخذ | امراض قلت |
| 1- وٹامنA 2- وٹامن(B1(Thiamine 3- وٹامن (B2(Riboflavin 4- وٹامن(B6(Pyridoxin 5- وٹامنB12 6- وٹامنC (Ascorbic Acid) 7- وٹامنD 8- وٹامنE 9- وٹامن K |
مچھلی کے جگر کا تیل،گاجر،مکھن اور دودھ ایسٹ،دودھ،ہری سبزیاں اور اناج دودھ، انڈے کی سفیدی، جگر، گردے ایسٹ، دودھ، انڈے کی زردی، اناج اور چنے گوشت،مچھلی،انڈا اور وہی رس دار پھل، آملہ اور ہرے پتوں والی سبزیاں دھوپ میں جسم کو کھلا رکھنا،مچھلی اور انڈے کی زردی خوردنی تیلوں جیسے کہ سورج مکھی کا تیل وغیرہ ہرے پتوں والی سبزیاں |
زیروفتھیلمیا(کارینا کا سخت ہو جانا) رتوندی بیری-بیری(بھوک کم لگنا اور نمو کا متاثر ہونا) چیلوسس(منھ کے کونوں اور ہونٹوں کا پھٹنا)ہاضمی عارضے اور جلد کی سوزش اینٹھن(Convulsions) خون کی کمی(Prnicious) anaemia(ہیموگلوبن میںRBCکی کمی) اسکروی(مسوڑھوں سے خون بہنا ریکیٹس( بچوں میں ہڈیاں بدشکل ہو جاتی ہیں) اور آسٹومیلیشیا(بالغوںمیں ہڈیوں کا ملائم ہو جانا اور جوڑوں میں درد ہونا) RBC کی Fragility اور عضلاتی کمزوری میں اضافہ خون کے جمنے میں تاخیر |
14.5 نیوکلک ایسڈ (Nucleic Acids)
ہر ایک نوع کی ہر ایک پیڑھی کئی معاملوں میں اپنے آبا و اجداد سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ خصوصیات ایک پیڑھی سے دوسری پیڑھی میں کس طرح منتقل ہوتی ہیں؟ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ توارثی خصوصیات کی ترسیل (جسے توارث بھی کہتے ہیں) کے لیے جاندار خلیہ کا نیوکلیس ذمہ دار ہے۔توارث کے لیے ذمہ دار خلیہ کے نیوکلیس میں پائے جانے والے ذرات کروموزوم (Chromosomes) کہلاتے ہیں جو کہ پروٹین اور دیگر قسم کے حیاتیاتی سالمات، جنہیں نیوکلک ایسڈ کہتے ہیں، پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ نیوکلک ایسڈ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ (DNA) اور رائبونیوکلک ایسڈ (RNA)۔ کیونکہ نیوکلک ایسڈ نیوکلیوٹائڈ کے طویل زنجیری پالیمر میں ہیں لہٰذا انہیں پانی نیوکلیوٹائڈ بھی کہا جاتا ہے۔
جیمس ڈیوی واٹسن

جیمس ڈیوی واٹسن کی پیدائش 1928 میں شکاگو میں ہوئی ڈاکٹر واٹسن کو 1950 میں انڈیانا یونیورسٹی سے علم حیوانات (Zoology) میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی۔ ڈاکٹرواٹسن DNA کی ساخت کی اپنی اس کھوج کے لیے مشہور ہیں جس کے لیے انہیں 1962 میں فرانسس کرک اور مورس ولکنس کے ساتھ مشترکہ طور پر عضویات (Physiology) اور طب (Medicine) کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ان کی تجویز تھی کہ DNA سالمہ کی شکل ڈبل ہیلکس کی طرح ہے یعنی ایک سادہ ساخت جو کہ بل کھائی ہوئی سیڑھی کی بیچ کا ہوتی ہے۔ سیڑھی کے جانبی ڈنڈے (Rail) فاسفیٹ اور ڈی آکسی رائبوز شکر کی متبادل اکائیوں کے بنے ہوتے ہیں اور سیڑھی کا ہر ایک ڈنڈا پیورین/ پائری مِڈین اساس کے جوڑے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس تحقیق نے سالماتی حیاتیات (Molecular Biology) کے ابھرتے ہوئے شعبہ کی بنیاد ڈالی۔ نیوکلیوٹائڈ اساسوں کی اتمامی جفتہ سازی (Complementary pairing) سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ پدری DNA کی ہو بہو نقلیں دو دختر خلیوں میں کس طرح منتقل ہو جاتی ہیں۔ اس تحقیق نے بایولوجی میں ایک انقلاب برپا کر دیا جس کی وجہ سے جدید باز متحد تکنیکیں وجود میں آئیں۔
14.5.1 نیوکلک ایسڈ کی کیمیائی ترکیب (Chemical Composition of Nucleic Acids)
DNA (یا RNA) کی مکمل آب پاشیدگی کے نتیجے میں پینٹوز شگر، فاسفورک ایسڈ اور نائٹروجن پر مشتمل ہیٹروسائیکلک مرکبات (جنہیں اساس کہتے ہیں) حاصل ہوتے ہیں۔ DNA سالمات میں
ڈی آکسی رائبوز ہے جبکہ RNA سالمہ میں یہ
رائبوز ہے۔

DNA چار اساس یعنی ایڈینین (Adenine)۔(A) ،گوانین (Guanine)۔(G)،سائٹو سین (Cytosine)۔(C)اور تھائمین (Thymine)۔(T) پر مشتمل ہوتا ہے۔ RNA بھی چار اساس پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے تین اساس DNA کی طرح ہی ہوتے ہیں لیکن چوتھا اساس یوریسل (Uracil)۔(U) ہوتا ہے۔

14.5.2 نیوکلک ایسڈ کی ساخت (Structure of Nucleic Acids)
شگر کی '1 پوزیشن سے اساس کے منسلک ہونے پر بننے والی اکائی نیوکلیوسائڈ (Nucleoside) کہلاتی ہے۔ نیوکلیوسائڈ میں شگر کے کاربنوں کو '1، '2، '3 وغیرہ نمبر اس ترتیب میں دیے جاتے ہیں کہ یہ اساس سے ممتاز رہیں
جب نیوکلوسائڈ، فاسفورک ایسڈ سے شگر کی 5' پوزیشن پر منسلک ہوتا ہے تو ہمیں نیوکلیوٹائڈ حاصل ہوتا ہے (شکل 14.5)۔

شکل 14.5:(a) ایک نیوکلو ایسڈ اور (b) ایک نیو کلو ٹائڈ کی تشکیل
نیوکلیوٹائڈ فاسفوڈائی ایسٹر (Phosphodiester) بندش کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ پینٹوز شگر کے '5اور '3 کاربن ایٹموں کے درمیان منسلک رہتے ہیں۔ ڈائی نیوکلیوٹائڈ کی تشکیل کو شکل 14.6 میں دکھایا گیا ہے۔

شکل 14.6 : ڈائی نیوکلیوٹائڈ کی تشکیل
نیوکلک ایسٹر زنجیر کی ایک سادہ شکل کو ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

نیوکلک ایسڈ زنجیر میں نیوکلیوٹائڈ کے تواتر کے متعلق جانکاری اس کی پرائمری ساخت کہلاتی ہے۔ نیوکلک ایسڈ کی سیکنڈری ساخت بھی ہوتی ہے۔ جیمس واٹسن اور فرانسس کرک نے DNA کے لیے ڈبل اسٹرینڈہیلکس ساخت تجویز کی تھی (شکل 14.7)۔ دونیوکلک ایسڈ زنجیریں ایک دوسرے پر لپٹی رہتی ہیں اور اساس جوڑوں کے درمیان ہائڈروجن بانڈ کے ذریعہ ایک دوسرے سے منسلک رہتی ہیں۔ دونوں لڑیاں (Strands) ایک دوسرے کا تتمہ ہیں کیونکہ ہائڈروجن بانڈ اساس کے مخصوص جوڑوں کے درمیان بنتے ہیں۔ ایڈینین، تھائمین کے ساتھ ہائڈروجن بانڈ بناتا ہے جبکہ سائٹوسین، گوانین کے ساتھ ہائڈروجن بانڈ بناتا ہے۔

شکل 14.7: DNAکی ڈبل اسٹرینڈ ہیلکس ساخت
RNA کی سیکنڈری ساخت میں ایسے ہیلکس موجود ہوتے ہیں جو واحد لڑی (Single strand) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اپنے اوپر ہی لپٹ کر ڈبل ہیلکس ساخت بناتے ہیں۔ RNA سالمات تین قسم کے ہوتے ہیں اور مختلف افعال انجام دیتے ہیں۔ ان کے نام ہیں میسنجرRNA۔ (m-RNA)، رائبوسومل RNA۔(r-RNA) اور ٹرانسفر RNA۔(t-RNA)۔
ہرگوبند کھرانہ

ہرگوبند کھرانہ کی پیدائش 1922 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم۔ ایس۔ سی کی ڈگری حاصل کی انہوں نے پروفیسر ولادمیر پری لوگ (Vladimir Prelog) کے ساتھ کام کیا جنہوں نے کھرانہ کے خیالات اور فلسفہ کو سائنس، کام اور کاوش میں تبدیل کر دیا۔ 1949 میں ہندوستان میں اپنے مختصر قیام کے بعد کھرانہ انگلینڈ واپس چلے گئے اور پروفیسر G.W کینر (G.W. Kenner) اور پروفیسر اے۔ آر۔ٹوڈ (A.R. Todd) کے ساتھ کام کیا۔ وہ جب کیمبرج .U.K میں تھے تو انہیں پروٹین اور نیوکلک ایسڈ دونوں میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ ڈاکٹر کھرانہ کو جینیٹک کوڈ کا پتہ لگانے کے لیے 1968 میں مارشل نیرن برگ (Marshall Nirenberg) اور رابرٹ ہولی (Robert Holley) کے ساتھ مشترکہ طور پر طب اور عضویات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
DNA فنگرپرنٹنگ
یہ سبھی کو معلوم ہے کہ ہر فرد کے فنگر پرنٹ یکتا ہوتے ہیں یہ پرنٹ یا نشان انگلیوں کے سروں پر پائے جاتے ہیں اور کافی عرصہ سے فرد کی شناخت کے لیے ان کا استعمال ہورہا ہے لیکن سرجری کے ذریعہ انہیں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ DNA پر اساس کا تواتر بھی ہر ایک شخص کے لیے یکتا ہوتا ہے اور اس سے متعلق جانکاری DNA فنگر پرنٹنگ کہلاتی ہے۔ یہ ہر ایک خلیہ کے لیے یکساں ہوتی ہے اور کسی بھی طریقہ سے اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ DNA فنگر پرنٹنگ کا استعمال اب مندرجہ ذیل معاملوں میں کیا جاتا ہے:
(i) مجرموں کی شناخت کے لیے فارینسک تجربہ گاہوں میں۔
(ii) کسی فرد کی ولدیت کا تعین کرنے کے لیے۔
(iii) والدین یا بچوں کے DNA سے موازنہ کرکے کسی حادثہ کے شکار مردہ جسم کی شناخت کے لیے۔
(iv) حیاتیاتی ارتقا کو دوبارہ لکھنے کے لیے کسی نسلی گروپ کی شناخت میں کیا جاتا ہے۔
14.5.3نیوکلک ایسڈ کے حیاتیاتی افعال (Biological Functions of Nucleic Acids)
DNA توارث کی بنیاد ہے اور انہیں جینیٹک اطلاعات کا ذخیرہ تصور کیا جاتا ہے۔ لاکھوں برسوں سے عضویوں کی مختلف انواع کی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے خاص طور سے DNA ذمہ دار ہے۔ خلوی تقسیم کے دوران DNA سالمہ اپنی خود کی نقل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مماثل DNA اسٹرینڈ دختر خلیوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ نیوکلک ایسڈ کا ایک اور اہم کام یہ ہے کہ یہ خلیہ میں پروٹین کی تالیف کرتا ہے۔ درحقیقت خلیہ میں پروٹین کی تالیف متعدد RNA سالمات کے ذریعہ کی جاتی ہے لیکن کسی خاص پروٹین کی تالیف کے لیے پیغام DNA میں موجود ہوتا ہے۔
14.6 ہارمون (Hormones)
ہارمون ایسے سالمات ہیں جو بین خلوی میسنجر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ہارمون کا افراز جسم کے اندر درون افرازی غدود کے ذریعے ہوتا ہے اور یہ غدود ہارمونوں کو براہِ راست خون میں چھوڑ دیتے ہیں جہاں سے یہ خون کے ہمراہ ان مقامات پر پہنچ جاتے ہیں جہاں انھیں استعمال کیا جائے گا۔
کیمیائی نوعیت کے اعتبار سے کچھ ہارمون اسٹیرائیڈ ہوتے ہیں مثلاً ایسٹروجنس اور اینڈروجنس، کچھ پولی پیپٹائڈ جیسے انسولین اور اینڈورفنس جب کہ کچھ ہارمون امینوایسڈ اشتقاق ہیں مثلاً ایپی نیفرین اور نوریپی نیفرین۔
ہارمون جسم کے اندر متعدد افعال انجام دیتے ہیں۔ یہ جسم میں حیاتیاتی سرگرمیوں کے مابین توازن قائم رکھتے ہیں۔ خون میں گلوکوز کی سطح کو ایک بہت چھوٹی سی رینج میں بنائے رکھنے کے لیے انسولین کا رول اس کی ایک مثال ہے۔ خون میں گلوکوز کی سطح میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے ردعمل کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس گلوکاگون ہارمون خون میں گلوکوز کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔ دونوں ہارمون ایک ساتھ خون میں گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرتے ہیں۔ایپی نیفرین اور نوریپی نیفرین ہارمون بیرونی محرکات کے تئیں ردعمل میں ثالث کے طور پر کام کرتے ہیں۔ گروتھ ہارمون اور جنسی ہارمون نمو اور نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔ تھائرائیڈ غدہ میں پیدا ہونے والا تھائراکسن ہارمون امینوایسڈ ٹائروسین کا آیوڈین مشتق ہے۔ تھائراکسن کی کمی کی وجہ سے ہائپوتھائرائیڈزم (Hypothyroidism) ہوجاتا ہے جو سستی اور موٹاپے کا سبب ہے۔ غذا میں آیوڈین کی قلت ہائپوتھائرائیڈزم کا سبب ہے اور اس کے نتیجے میں تھائرائیڈ غدہ بڑا ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے کھانے کے نمک میں سوڈیم آیوڈائڈ ملایا جاتا ہے (آیوڈین شدہ نمک)
اسٹیرائیڈ ہارمون کا افراز ایڈرینل کارٹیکس اور تولیدی اعضا (نر میں انثیے اور مادہ میں بیض دان) کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایڈرینل کارٹیکس کے ذریعے افراز ہونے والے ہارمون جسم کے افعال میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گلوکو کورٹی کوائیڈ (Glucocorticoids) کاربو ہائیڈریٹ تحول کو کنٹرول کرتا ہے، جلن سے متعلق تعاملات کو ماڈیولیٹ کرتا ہے اور دباؤ (Stress) سے متعلق تعاملات میں شامل حال رہتا ہے۔ اگر ایڈرینل کارٹیکس صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایڈیسن بیماری ہو جاتی ہے جس میں ہائپوگلائی سیمیا ہو جاتا ہے، کمزوری آجاتی ہے اور دباؤ / تناؤ کے تئیں حساسیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر اس بیماری کا علاج گلوکو کورٹی کوائڈ اور منریلو کورٹی کوائیڈ (Mineralocorticoids)۔ تولیدی اعضا سے افراز ہونے والے ہارمون نشوونما اور ثانوی جنسی خصوصیات کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ٹیسٹواسٹیران نر میں افراز ہونے والا اہم جنسی ہارمون ہے۔ یہ نر میں ثانوی صنفی خصوصیات (بھاری آواز، چہرے پر بال اگنا، عام جسمانی تشکیل) کے لیے ذمہ دار ہے اور ایسٹریڈائل (Estradiol) اہم مادہ جنسی ہارمون ہے۔ یہ دور حیض کو کنٹرول کرتا ہے۔پروجیسٹران (Progestron) بارور انڈے کی تنصیب کے لیے رحم کو تیار کرتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
14.6 وٹامن C کا ہمارے جسم میں ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاسکتا؟
14.7 جب تھائمین پر مشتمل DNA کے نیوکلیوٹائڈ کی آب پاشیدگی کی جاتی ہے تو کون سے ماحصلات بنتے ہیں؟
14.8 جب RNA کی آب پاشیدگی ہوتی ہے تو حاصل ہونے والے مختلف اساس کی مقداروں میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت RNA کی ساخت کے بارے میں کیا تجویز کرتی ہے؟
خلاصہ
کاربوہائڈریٹ بصری اعتبار سے سرگرم پالی ہائڈراکسی الڈیہائڈ یا کیٹون یا ایسے سالمات ہیں جو آب پاشیدگی کے نتیجے میں اس قسم کی اکائیاں فراہم کرتے ہیں۔ ان کی درجہ بندی تین گروپوں میں کی جاسکتی ہے۔ مونو سیکرائڈ، ڈائی سیکرائڈ اور پالی سیکرائڈ۔ گلوکوز پستانیوں میں توانائی کا ایک اہم ماخذ ہے، اسے اسٹارچ کے ہاضمہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مونوسیکرائڈ ایک دوسرے کے ساتھ گلائکوسائڈک بانڈ کے ذریعہ منسلک رہتے ہیں اور ڈائی سیکرائڈ یاپالی سیکرائڈ کی تشکیل کرتے ہیں۔
پروٹین تقریباً بیس مختلف امینو ایسڈ کی پالیمرہیں جو کہ پیپٹائڈ بانڈ کے ذریعہ منسلک رہتے ہیں۔ دس امینو ایسڈ لازمی امینو ایسڈ کہلاتے ہیں کیونکہ ہمارے جسم میں ان کی تالیف نہیں کی جاسکتی اور اسی لیے انہیں خوراک کے ذریعہ فراہم کیا جاتا ہے۔ پروٹین عضویوں میں متعدد ساختی اور ڈائنمک افعال انجام دیتی ہیں۔ وہ پروٹین جو صرفa- امینو ایسڈوں پر مشتمل ہوتی ہیں سادہ پروٹین کہلاتی ہیں۔ pH یا درجۂ حرارت میں تبدیلی لانے پر پروٹین کی سیکنڈری یا ٹرشری ساخت میں خلل پیدا ہو جاتا ہے اور یہ اپنے افعال کو انجام دینے سے قاصر رہتی ہیں۔ اسے پروٹین کا ڈی نیچریشن کہتے ہیں۔ انزائم حیاتیاتی وسیط ہیں جو حیاتیاتی نظاموں میں تعاملات کی شرح کو بڑھا دیتے ہیں یہ اپنے ایکشن کے لحاظ سے بہت زیادہ مخصوص اور انتخابی ہوتے ہیں اور کیمیائی اعتبار سے سبھی انزائم پروٹین ہیں۔
وٹامن لازمی غذائی عوامل ہیں جن کی غذا میں موجودگی لازمی ہے۔ ان کی درجہ بندی چربی میں حل پذیر (A، D، E اور K) اور پانی میں حل پذیر (B گروپ اور C) وٹامنوں کے تحت کی جاتی ہے۔ وٹامنوں کی کمی کی وجہ سے کئی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
نیوکلک ایسڈ نیوکلیوٹائڈاساس پینٹوز شگر اور فاسفیٹ Moiety پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نیوکلک ایسڈ والدین سے ان کی اولادوں میں خصوصیات کی منتقلی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دو قسم کے نیوکلک ایسڈ ہیں DNA اور DNA-RNA پانچ کاربن والی شگر کے سالمہ (جسے 2- ڈی آکسی رائبوز کہتے ہیں) پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ RNA رائبوز پر مشتمل ہوتا ہے۔ RNA اور DNA دونوں ہی ایڈینین، گوانین اور سائٹوسین پر مشتمل ہوتے ہیں۔ چوتھا اساس DNA میں تھائمین ہوتا ہے اور RNAمیں یوریسل ہوتا ہے۔DNAکی ساخت ڈبل اسٹرینڈ ہوتی ہے جبکہ RNA صرف ایک اسٹرینڈ سالمہ ہے۔ DNA توریث کی کیمیائی بنیاد ہے اور ان میں خلیہ میں پروٹین کی تالیف کے لیے کوڈ پر مشتمل پیغامات پائے جاتے ہیں۔ RNA کی تین قسمیں ہیں۔ mRNA۔rRNA اور tRNA جو خلیہ میں پروٹین کی تالیف کا کام انجام دیتی ہیں۔
مشق
14.1 مونوسیکرائڈ کیا ہیں؟
14.2 تحویلی شکر کیا ہیں؟
14.3 پودوں میں کاربوہائڈریٹ کے دو اہم افعال لکھیے۔
14.4 مندرجہ ذیل کی درجہ بندی مونوسیکرائڈ اور ڈائی سیکررائڈ کے تحت کیجیے۔
رائبوز، 2-ڈای آکسی رائبوز، مالٹوز، گیلیکٹوز، فرکٹوز اور لیکٹوز
14.5 گلائکو سائڈک انسلاک اصطلاح سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
14.6 گلائکوجن کیا ہے؟ یہ اسٹارچ سے کس طرح مختلف ہے؟
14.7 مندرجہ ذیل کی آب پاشیدگی سے کون سے ماحصلات بنیں گے؟
(i) سکروز (ii) لیکٹوز
14.8 اسٹارچ اور سیلیولوز کی ساخت میں بنیادی فرق کیا ہے؟
14.9 جب مندرجہ ذیل ریجنٹ کے ساتھ D-گلوکوز کا تعامل کرایا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟
(i) H1 (ii) برومین واٹر (iii)۔ HNO3
14.10 D- گلوکوز کے ان تعاملات کا بیان کیجیے جن کی وضاحت اس کی کھلی زنجیری ساخت کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی۔
14.11 لازمی اور غیر لازمی امینو ایسڈ کیا ہیں؟ ہر ایک قسم کے امینو ایسڈ کی دو مثالیں پیش کیجیے۔
14.12 پروٹین سے متعلق مندرجہ ذیل کی تعریف بیان کیجیے۔
(i) پیپٹائڈ انسلاک (ii) پرائمری ساخت (iii) ڈی نیچریشن
14.13 پروٹین کی سیکنڈری ساخت کی عام اقسام کیا ہیں؟
14.14 پروٹین کی a-ہیلکس ساخت کو استحکام عطا کرنے میں کس قسم کا بانڈ معاون ہے؟
14.15 گلوبولر اور ریشہ دار پروٹین میں فرق واضح کیجیے۔
14.16 آپ امینو ایسڈ کے ایمفوٹیرک طرز عمل کو کس طرح واضح کریں گے؟
14.17 انزائم کیا ہیں؟
14.18 پروٹین کی ساخت پر ڈی نیچریشن کا کیا اثر ہوتا ہے؟
14.19 وٹامنوں کی درجہ بندی کس طرح کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کا نام بتائیے جو خون کی بستگی کے لیے ذمہ دار ہے۔
14.20 وٹامن A اور وٹامن C ہمارے لیے کیوں ضروری ہیں؟ ان کے اہم مآخذ بتائیے۔
14.21 نیوکلک ایسڈ کیا ہیں؟ ان کے دو اہم افعال بیان کیجیے۔
14.22 نیوکلیوسائڈ اور نیوکلیوٹائڈ میں کیا فرق ہے؟
14.23 DNA میں دونوں اسٹرینڈ مماثل نہیں ہیں لیکن تتمی ہیں۔ وضاحت کیجیے۔
14.24 DNA اور RNA کے درمیان اہم ساختی اور تفاعلی فرق بیان کیجیے۔
14.25 خلیہ میں پائے جانے والے مختلف قسم کے RNA کون کون سے ہیں؟


