اکائی
16
روزمرہ زندگی میں کیمیا
(Chemistry in Everyday Life)
مقاصد
اس اکائی کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
زندہ منظر نامہ سے مجرد خیال تک اور مجرد خیال سے عمل تک۔
وی۔ آئی۔ لینن
اب تک آپ نے کیمیا کے بنیادی اصولوں کا مطالعہ کیا ہے اور اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ انسانی زندگی کا ہر گوشہ اس سے متاثر ہے۔ کیمیا کے اصولوں کا استعمال انسانی مفاد کے لیے کیا گیا ہے۔ ذرا صفائی ستھرائی پر غور کیجیے۔ صابن، ڈٹرجنٹ، گھروں میں استعمال ہونے والے بلیچ، ٹوتھ پیسٹ وغیرہ جیسی اشیا آپ کے ذہن میں آجاتی ہیں۔ خوبصورت کپڑوں کی طرف دیکھیے تو آپ کے ذہن میں فوراً کپڑا بنانے کے لیے تالیفی ریشوں کے کیمکلز اور انہیں رنگ عطا کرنے والے کیمکلز آجاتے ہیں۔ غذائی اشیا — ایک مرتبہ پھر ایسی متعدد کیمیاوی اشیا آپ کے ذہن میں ہوں گی جن کا مطالعہ آپ گذشتہ اکائی میں کر چکے ہیں۔ بلاشک و شبہہ عوارض اور امراض ادویہ کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتے ہیں یہ ادویہ بھی کیمیائی اشیا ہیں دھماکہ خیز اشیا ایندھن، راکٹ پروپیلنٹ، عمارتی اور الیکٹرانک اشیا وغیرہ یہ بھی کیمکلز ہیں۔ کیمیا کا ہماری زندگی میں اتنا عمل دخل ہے کہ ہر لمحہ جن کیمکل سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے ہم انھیں بھی نہیں سمجھ پاتے۔ہم خود ایک خوبصورت کیمیائی شاہکار ہیں اور ہماری تمام سرگرمیاں کیمکلز کے ذریعہ ہی کنٹرول کی جاتی ہیں۔ اس اکائی میں ہم تین اہم اور دلچسپ شعبوں میں کیمیا کے اطلاق کا مطالعہ کریں گے۔ جن کے نام ہیں : ادویہ، غذائی اشیا اور صفائی میں استعمال ہونے والے ایجنٹ۔
16.1 ڈرگس اور ان کی درجہ بندی
(Drugs and their Classification)
ڈرگس(Drugs) کم سالماتی کمیت (~100 – 500 u) والی کیمیائی اشیا ہیں۔ یہ کلاں سالماتی ہدف کے ساتھ باہمی عمل کرتی ہیں اور حیاتیاتی رد عمل کی تشکیل کرتی ہیں۔ جب حیاتیاتی ردعمل معالجاتی (Therapeutic) اور مفید ہوتا ہے تو یہ کیمیائی اشیا ادویہ (Medicines) کہلاتی ہیں اور امراض کی تشخیص، روک تھام اور علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔ مجوزہ مقدار سے زیادہ دوائوں کے طور پر لی گئی اکثر ڈرگس بالقوۃ طورپرزہریلی ہوتی ہیں۔معالجہ کے لیے کیمیادوائوں کا استعمال کیموتھیریپی(chemotherapy) کہلاتا ہے۔
16.1.1 ڈرگس کی درجہ بندی (Classification of Drugs)
ڈرگس کی درجہ بندی مندرجہ ذیل بنیاد پر کی جاتی ہے:
(a) فارماکولوجیکل اثر کی بنیاد پر (On the basis of pharmacological effect)
یہ درجہ بندی ڈرگس کے فارماکولوجیکل اثر پر مبنی ہے۔ یہ ڈاکٹر حضرات کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ اس سے انہیں کسی مخصوص مسئلہ کے علاج کے لیے ڈرگس کی مکمل رینج دستیاب ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر انالجیسک (Analgesics) درد کو دور کرنے میں موثر ہیں اور اینٹی سیپٹک خرد عضویوں کی نمو کو ختم یا کم کر دیتی ہیں۔
(b) ڈرگ ایکشن کی بنیاد پر (On the basis of drug action)
یہ درجہ بندی کسی مخصوص حیاتیاتی کیمیائی عمل پر ہونے والے ڈرگس کے اثر پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر تمام اینٹی ہسٹامائن ڈرگس ہسٹامائن مرکبات کے اثر کو زائل کرتی ہیں۔ یہ مرکبات جسم میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے طریقے ہیں جن کے ذریعہ ہسٹامائن کے ایکشن کو روکا جاسکتا ہے۔ آپ اس کا مطالعہ سیکشن 16.3.2 میں کریں گے۔
(c) کیمیائی ساخت کی بنیاد پر (On the basis of chemical structure)
یہ ڈرگس کی کیمیائی ساخت پر مبنی ہے۔ اس طریقے سے جن ڈرگس کی درجہ بندی کی جاتی ہیں ان کی ساختی خصوصیات مشترک ہوتی ہیں اور ان کی فارماکولوجیکل سرگرمی بھی یکساں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سلفونیمائڈ (Sulphonamides) کی ساختی خصوصیات یکساں ہوتی ہیں جیسا کہ ذیل میں دیا گیا ہے۔

سلفونیمائڈ کی ساختی خصوصیات
(d) سالمات اہداف کی بنیاد پر (On the basis of molecular targets)
ڈرگس عام طور سے کاربوہائڈریٹ، لپڈ، پروٹین اور نیوکلک ایسڈ جیسے حیاتیاتی سالمات کے ساتھ باہمی عمل کرتی ہیں۔ یہ سالمات ہدف سالمات یا ڈرگ ٹارگیٹ کہلاتے ہیں۔ اہداف پر، مشترک ساختی خصوصیات والی ڈرگس کے ایکشن کا میکانزم یکساں ہوتا ہے۔ سالماتی اہداف پر مبنی درجہ بندی ادویاتی کیمیا دانوں (Medicinal chemists) کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔
16.2 ڈرگ ٹارگیٹ باہمی عمل (Drug-Target Interaction)
حیاتیاتی نژاد کلاں سالمات جسم میں متعدد افعال انجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ پروٹین جو جسم میں حیاتیاتی وسیط کا کردار ادا کرتی ہیں انزائم (Enzyme) کہلاتی ہیں اور جو جسم میں ترسیلی نظام میں مدد کرتی ہیں رسیپٹرس (Receptors) کہلاتی ہیں۔ حمال پروٹین قطبی سالمات کو خلوی جھلی کے آر پار لے جاتی ہیں۔ نیوکلک ایسڈوں میں خلیہ کے لیے کوڈشدہ جینیٹک اطلاعات ہوتی ہیں۔ لپڈ اور کاربوہائڈریٹ خلوی جھلی کے ساختی حصے ہیں۔ ہم ڈرگ ٹارگیٹ باہمی عمل کو انزائم اور رسیپٹرس کی مثالوں کے ساتھ واضح کریں گے۔
16.2.1 انزائم بطور ڈرگ ٹارگیٹ (Enzymes as Drug Targets)
(a) انزائموں کا وسیطی عمل (Catalytic action of enzymes)
ڈرگ اور انزائم کے درمیان باہمی عمل کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ انزائم تعاملات کو کس طرح کیٹلائز کرتے ہیں (سیکشن 5.2.4)۔ اپنی وسیطی سرگرمی میں انزائم دو اہم افعال انجام دیتے ہیں:
(i) انزائم کا سب سے پہلا کام ہے تعامل کے لیے سبسٹریٹ کوپکڑ کر رکھنا۔ انزائموں کی ایکٹوسائٹ (Active sites) سبسٹریٹ سالمات کو مناسب مقامات پر پکڑ کر رکھتی ہیں تاکہ ریجنٹ کے ذریعہ اس پر مؤثر طور سے حملہ کیا جاسکے۔
سبسٹریٹ انزائم کی ایکٹیوسائٹ سے جیسے آینی بندش، ہائڈروجن بندش، وانڈروال قوتوں جیسے مختلف باہمی عملوں کے ذریعہ منسلک ہوتے ہیں (شکل 16.1)۔

شکل 16.1 (a) انزائم کی ایکٹو ساخت (b) سبسٹریٹ (c) انزائم کی ایکٹو ساخت پر مقید سبسٹریٹ
(ii) انزائم کا دوسرا کام تفاعلی گروپ دستیاب کرانا ہے جو سبسٹریٹ پر حملہ آور ہو کر کیمیائی تعامل کو انجام دیتا ہے۔
(b) ڈرگ- انزائم باہمی عمل (Drug-enzyme interaction)
ڈرگس، انزائموں کی مذکورہ بالا سرگرمیوں کو روک دیتی ہیں۔ یہ انزائم کی بندشی سائٹ کو بلاک کر سکتی ہیں اور سبسٹریٹ کی بندش کو روک دیتی ہیں یا انزائم کی وسیطی سرگرمی کو روک دیتی ہیں۔ اس قسم کی ڈرگس انزائم مانع (Enzyme inhibitors) کہلاتی ہیں۔ ڈرگس، انزائم کی ایکٹیو سائٹ سے سبسٹریٹ کے انسلاک کو دو مختلف طریقوں سے روکتی ہیں۔
(i) ڈرگس، انزائموں کی ایکٹیوسائٹ سے منسلک ہونے کے لیے قدرتی سبسٹریٹ سے مسابقت کرتی ہیں۔ اس قسم کی ڈرگس مسابقتی موانع (Competitive inhibitors) کہلاتی ہیں (شکل16.2)۔

شکل 16.2ڈرگ اور سبسٹریٹ کے درمیان ایکٹیو سائٹ کے لیے مسابقت ہوتی ہے۔
ڈرگس ، ڈرگس، ایکٹیو سائٹ، سبسٹریٹ، انزائم، سبسٹریٹ، انزائم
ڈرگ انزائم کی ایکٹیو سائٹ کو بلاک کر دیتی ہے۔
ڈرگ اور سبسٹریٹ کے درمیان ایکٹیوسائٹ کے لیے مسابقت ہوتی ہے۔

شکل 16.3: غیر مسابقتی Inhibitor ایلوسٹیرک سائٹ سے بندش کے بعد انزائم کی ایکٹیو سائٹ کو تبدیل کردیتے ہیں۔
ایکٹیو سائٹ تبدیل شدہ شکل کے ساتھ، ایکٹیوسائٹ
مانع ایلوسٹیرک سائٹ پر قبضہ کر لیتا ہے، مانع، ایلوسٹیرک سائٹ، انزائم
(ii) کچھ ڈرگس انزائموں کی ایکٹیوسائٹ کے ساتھ بندش نہیں کرتیں۔ یہ انزائم کی مختلف سائٹ کے ساتھ بندش کرتی ہیں جسے ایلوسٹیرک سائٹ (Allosteric site) کہتے ہیں۔ ایلوسٹیرک سائٹ سے Inhibitor کی یہ بندش ایکٹیوسائٹ کی شکل کو اس انداز میں تبدیل کردیتی ہے کہ سبسٹریٹ کو اس کی شناخت نہیں ہوپاتی۔
اگر انزائم اور Inhibitor کے درمیان بننے والا بانڈ مضبوط شریک گرفت بانڈ ہے اور اسے آسانی سے توڑا نہیں جاسکتا ہے تو انزائم مستقل طور سے بلاک ہو جاتا ہے۔ اس طرح جسم انزائم - کمپلیکس کو متنزل کر دیتی ہے اور نئے انزائم کی تالیف کرتی ہے۔
16.2.2 ریسیپٹرس بطور ڈرگ اہداف (Receptors as Drug Targets)
ریسیپٹرس وہ پروٹین ہیں جو جسم کے ترسیلی عمل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خلوی جھلی میں دھنسی رہتی ہیں (شکل 16.4) ریسیپٹرس پروٹین خلوی جھلی میں اس طرح دھنسی رہتی ہیں کہ ان کی ایکٹیوسائٹ والا چھوٹا سا حصہ جھلی کی سطح سے باہر نکلا رہتا ہے اور خلوی جھلی کے بیرونی حصہ کی طرف کھلا رہتا ہے۔

شکل 16.4
ریسپٹر پروٹین خلوی جھلی میں دھنسی رہتی ہیں، ریسیپٹر کی ایکٹیو سائٹ خلیہ کے بیرونی حصے کی طرف کھلی رہتی ہے۔
ریسیپٹر کی بندش سائٹ، خلوی جھلی کی بیرونی سطح، ریسیپٹر پروٹین، خلوی جھلی کی اندرونی سطح ، خلوی جھلی کا اندرونی حصہ، خلوی جھلی کا چھوٹا حصہ (پلازمہ جھلی)
جسم میں، دو نیوران نیز نیوران اور عضلات کے مابین پیغام رسانی کا عمل مخصوص کیمیائی اشیا کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ یہ کیمیائی اشیا کیمیائی پیغام رساں (Chemical messengers) کہلاتی ہیں۔ انہیں ریسیپٹر پروٹین کی بندشی سائٹ پر موصول کیا جاتا ہے۔ پیغام رساں کو Accommodate کرنے کے لیے ریسیپٹر کی بندشی سائٹ کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس سے پیغام خلیہ میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کیمیائی پیغام رساں خلیہ میں داخل ہوئے بغیر خلیہ کو پیغام پہنچادیتے ہیں (شکل 16.5)۔

شکل 16.5 : (a) ریسیپٹر کیمیائی پیغام رساں کو موصول کرتے ہوئے
(b) پیغام رساں سے منسلک ہونے کے بعد ریسیپٹر کی شکل میں تبدیلی
(c) کیمیائی پیغام رساں کے ہٹنے کے بعد ریسیپٹر اپنی پہلی شکل حاصل کرلیتا ہے۔
جسم میں مختلف ریسیپٹر کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے یہ مختلف کیمیائی پیغام رساں کے ساتھ باہمی عمل کرتے ہیں۔ یہ ریسیپٹر ایک کیمیائی پیغام رساں کے ساتھ دوسرے کے مقابلے انتخابیت کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ ان کے بندشی مقامات (Binding sites) کی شکل، ساخت اور امینو ایسڈ کی ترکیب مختلف ہوتی ہے۔
وہ ڈرگس جو ریسیپٹر سائٹ کے ساتھ بندش کرتی ہیں اور اس کے قدرتی فعل کو روک دیتی ہیں۔ اینٹا گونسٹس (Antagonists) کہلاتی ہیں۔ یہ اس وقت مفید ثابت ہوتی ہیں جب پیغام کو بلاک کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور بھی کئی قسم کی ڈرگ ہیں جو ریسیپٹرکا سوئچ آن کرکے قدرتی پیغام رساںکی نقل کرلیتی ہیں، انہیں ایگونسٹس (Agonists) کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت مفید ثابت ہوتی ہیں جب قدرتی کیمیائی پیغام رساں کا فقدان ہوتا ہے۔
16.3 ڈرگس کے مختلف زمروں کا معالجاتی اثر
(Therapeutic Action of Different Classes of Drugs)
اس سیکشن میں ہم ڈرگس کے مختلف زمروں کے معالجاتی اثر پر بحث کریں گے۔
16.3.1 اینٹا سڈ (Antacids)
معدہ میں تیزاب کی زیادتی کی وجہ سے درد اور جلن ہونے لگتی ہے۔ انتہائی معاملوں میں معدہ میں السر پیدا ہو جاتے ہیں۔ 1970 تک تیزابیت کا واحد علاج سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ یا ایلیومینیم اور میگنیشیم ہائڈراکسائڈ کا آمیزہ جیسے اینٹاسڈ تھے۔ تاہم ہائڈروجن کاربونیٹ کی زیادہ مقدار کی وجہ سے یہ معدہ قلوی ہو جاتا ہے اور معدہ کو مزید تیزاب پیدا کرنے کے لیے اکساتے ہیں۔ دھاتی آکسائڈ بہتر متبادل ہیں کیونکہ یہ حل پذیر نہ ہونے کی وجہ سے تعدیلیت سے اوپر pH میں اضافہ نہیں کرتے۔ یہ علاج صرف علامات کو کنٹرول کرتا ہے اس کے سبب کا خاتمہ نہیں کرتا۔ لہٰذا ان دھاتی نمکوں کے ساتھ مریض کا علاج آسانی سے نہیں کیا جاسکتا۔ آخری اسٹیج میں السر زندگی کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں اور اس کا علاج یہ ہوتا ہے کہ معدہ کے متاثرہ حصہ کوعلاحدہ کرنا پڑتا ہے۔
تیزابیت کی زیادتی کے علاج میں ایک بڑی کامیابی اس وقت ملی جب اس بات کی کھوج ہوئی کہ ہسٹامائن (Histamine) معدہ میں پیپسن اور ہائڈروکلورک ایسڈ کے افراز کو تحریک دیتے ہیں۔ سیمیٹیڈین (Cimatidine) ڈرگ کو معدہ کی دیوار میں موجود ریسیپٹر کے ساتھ ہسٹامائن کے باہمی عمل کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں بہت کم تیزاب پیدا ہوتا ہے۔ ڈرگ کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ رینیٹیڈین (Ranitidine) (Zantac) کی کھوج ہونے تک یہ دنیا میں سب سے زیادہ فروخت کی جانے والی ڈرگ تھی۔

سیمیٹیڈین، ہسٹامائن،
رینیٹیڈین
16.3.2 اینٹی ہسٹامائن (Antihistamines)
ہسٹامائن ایک Vasodilator ہے۔ اس کے کئی افعال ہیں یہ برانکی (Bronchi) اور gut میں ہموار عضلات کو سکوڑ دیتا ہے اور دوسرے عضلات کو پھیلا دیتا ہے بالکل اسی انداز میں جیسا کہ خون کی نالیوں میں ہوتا ہے۔ ہسٹامائن نزلہ، زکام کے دوران ناک بند ہونے کے لیے بھی ذمہ دار ہے اور زیرہ دانوں (Pollen) کے تئیں الرجی پیدا کرتا ہے۔
تالیفی ڈرگ برومفینر امائن (Brompheniramine) (Dimetapp) اور ٹرفیناڈائن (Terfenadine) (Seldane) اینٹی ہسٹامائن کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ ریسیپٹر کے ان بندشی مقامات، جہاں ہسٹامائن اپنا اثر رکھتے ہیں، کے لیے ہسٹامائن کے ساتھ مسابقت کے ذریعہ ہسٹامائن کے قدرتی عمل میں خلل پیدا کرتی ہیں۔

ٹرفیناڈائن (Seldane)
برومفینرامائن (Dimetapp, Dimetane)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’مذکورہ بالا اینٹی ہسٹامائن معدہ میں تیزاب کے افراز کو متاثر کیوں نہیں کرتیں؟‘‘ وجہ یہ ہے کہ اینٹی الرجک اور اینٹاسڈ ڈرگ مختلف ریسیپٹر پر کام کرتی ہیں۔
16.3.3 عصبی اعتبار سے سرگرم ڈرگس (Neurologically Active Drugs)
(a) ٹرانکیولائزر (Tranquilizers)
ٹرانکیولائزر اور انالجیسک (Analgesics) عصبی اعتبار سے سرگرم ڈرگس ہیں۔ یہ عصب سے رسیپیٹر میں پیغام کی منتقلی کو متاثر کرتی ہیں۔
ٹرانکیولائزر کیمیائی مرکبات کا زمرہ ہیں جن کا استعمال ذہنی الجھن اور معتدل یا شدید دماغی بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ یہ آسودگی کے احساس کے ذریعہ الجھن، ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن یا جوش وخروش کی زیادتی کو روکتی ہیں۔ نیند کی گولیوں کا لازمی جزو ہیں۔ ٹرانکیولائزر کی کئی قسمیں ہیں۔ یہ مختلف میکانزم کے تحت کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نوراڈرینالین(Noradrenaline) ان نیوروٹرانسمیٹر (Neurotransmitter) میں سے ہے جو مزاج کو تبدیل کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اگر نوراڈرینالین کا لیول کسی وجہ سے کم ہو جاتا ہے تو سگنل بھیجنے کا عمل سست ہو جاتا ہے اور فرد مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں اینٹی ڈیپریسینٹ (Antidepressant) ڈرگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ڈرگ ان انزائموں کو روک دیتی ہیں جو نوراڈرینالین کی تنزلی کو کیٹلائز کرتے ہیں۔ اگر انزائم کو روک دیا جاتا ہے تو اس اہم نیوروٹرانسمیٹرکا آہستہ آہستہ تحول ہوتا ہے اور یہ اپنے ریسیپٹر کو زیادہ وقت کے لیے ایکٹیویٹ کر سکتا ہے اور اس طرح مایوسی کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ Iproniazid اور Phenelzine اس قسم کی دو ڈرگس ہیں۔

فینیلزائن (Nardil)
آئپرونیازڈ
کلوروڈائی ایزیپوکسائڈ (Chlordiazepoxide) اور میپروبیمیٹ (Meprobamate)جیسے کچھ ٹرانکیولائزر نسبتاً معتدل قسم کے ٹرانکیولائزر ہیں جو ذہنی تناؤ کو دور کرنے کے لیے موزوں ہیں۔ ایکیوانل (Equanil) کا استعمال مایوسی (Depression) اور ہائپرٹینشن پر قابو پانے میں کیا جاتا ہے۔

میپروبیمیٹ
ایکونیل
کلوروڈائی ایپوکسائڈ
باربیٹیورک ایسڈ (Barbituric acid) کے مشتق جیسے کہ ویرونل (Veronal)، ایمائٹل (Amytal)، نیمبیوٹل (Nembutal)، لیومنل (Luminal) اور سیکونل (Seconal) ٹرانکیولائزر کے ایک اہم زمرہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ مشتق باربیٹیوریٹس (Barbiturates) کہلاتے ہیں۔ باربیٹیوریٹس ہپنوٹک اثر رکھتے ہیں یعنی منوم ایجنٹ ہیں۔ ویلیم (Valium) اور سیروٹنن(Serotonin) ٹرانکیولائز رکے طو رپر استعمال ہونے والی کچھ دیگر اشیا ہیں۔

سیروٹنن، ویلیم، ویرونل
(b) انالجیسکس (Analgesics)
انالجیسکس (Analgesics) ہوش و حواس، ذہنی ابہام، عدم ارتباط میں کسی قسم کی خرابی یا فالج (Paralysis) یا عصبی نظام میں خلل کے بغیر ہی درد کو ختم یا کم کر دیتی ہیں۔ ان کی درجہ بندی مندرجہ ذیل کے مطابق کی گئی ہے:
(i) غیر منشّی (غیر معدّی) انالجیسکس (Non-narcotic (non-addictive) analgesics)
(ii) منشّی ڈرگس (Narcotic drugs)
(i) غیر منشّی (غیر معدّی) انالجیسکس (Non-narcotic (non-addictive) analgesics): ایسپرین (Aspirin) اور پیراسیٹامول (Paracetamol) غیر منشی انالجیسکس کے زمرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایسپرین ایک جانی پہچانی مثال ہے۔ ایسپرین ان کیمیائی اشیا کی تالیف میں رکاوٹ پیدا کر دیتی ہے جنھیں پروسٹاگلینڈن (Prostaglandins) کہتے ہیں۔ یہ کیمیائی اشیا بافتوں میں جلن پیدا کرتے ہیں اور درد کا سبب بنتے ہیں۔ یہ ڈرگس ہڈیوں کے درد کو دور کرنے میں کافی مؤثر ہیں مثلاً جوڑوں کا درد (Arthritis)۔ یہ ڈرگس بخار کو کم کرتی ہیں (Antipyretic) اور پلٹلیٹ کی بستگی کو روکتی ہیں۔ ایسپرین چونکہ خون کے جمنے کو روکتی ہے لہٰذا اس کا استعمال دل کے دورہ کو روکنے میں کیا جاتا ہے۔
(ii) منشّی انالجیسکس (Narcotic drugs): مارفین (Marphine) اور اس کے کئی ہم وصف (Homologues)کا استعمال جب دوا کے طور پر کیا جاتا ہے تو درد سے راحت ملتی ہے اور نیند آتی ہے۔ بہت زیادہ مقدار میں یہ کوما، مدھوشی، اعضا میں اینٹھن اور آخیر میں موت کا سبب بن جاتی ہے۔ مارفین منشیات بعض اوقات اوپی ایٹ (Opiate) بھی کہلاتی ہیں کیونکہ انھیں پوست کے پودوں (Opium poppy) سے تیار کیا جاتا ہے۔
انالجیسکس ڈرگس کا استعمال خاص طور سے آپریشن کے بعد ہونے والے درد، قلبی درد اور ٹرمنل کینسر کے درد اور دردِزہ سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

کوڈین، ہیوئن، مارفین
16.3.4 مانع جراثیم (Antimicrobials)
انسانوں اور جانوروں میں بیکٹیریا، وائرس، پھپھوند اور دیگر مرض آفریں خرد عضویوں کے ذریعہ بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایک مانع جراثیم (Antimicrobial) میں بیکٹیریا (Antibacterial drugs)، پھپھوند (Antifungal agents)، وائرس (Antiviral agents) جیسے خردعضویوں یا دیگر طفیلیوں (Antiparasitic drugs) کے مرض آفریں عمل کو انتخابی طور پر ختم کرنے/ روکنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اینٹی بایوٹک، اینٹی سیپٹک اور مانع تعدیہ (Disinfectants) مانع جراثیم ڈرگس ہیں۔
(a) اینٹی بایوٹک (Antibiotics)
اینٹی بایوٹک کا استعمال ڈرگس کے طور پر تعدیہ کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ انسانوں اور جانوروں کے تئیں بہت کم سمی ہوتی ہیں۔ ابتدائی طور پر اینٹی بایوٹک کی درجہ بندی ایسی کیمیائی اشیا کے طور پر کی گئی تھی جو خرد عضویوں ( بیکٹیریا، پھپھوند اور مولڈ) کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں اور خرد عضویوں کی نمو کو روک دیتے ہیں یا انہیں ختم کر دیتے ہیں۔ تالیفی طریقوں کی مدد سے کچھ ایسے مرکبات کی تالیف میں مدد ملی جن کی کھوج ابتدائی طور پر خرد عضویوں کے ماحصلات کے طور پر ہوئی کچھ خالص تالیفی مرکبات بھی ہیں جن میں بیکٹیریا مخالف سرگرمی موجود ہوتی ہے اور اس طرح اینٹی بایوٹک کی تعریف میں ترمیم کردی گئی۔ اب اینٹی بایوٹک ایسی اشیا ہیں جو مکمل یا جزوی طور پر کیمیائی تالیف کے ذریعہ تیار کی جاتی ہیں اور کم ارتکاز میں خرد عضویوں کے تحولی عملوں میں خلل پیدا کرکے انہیں ختم کر دیتی ہیں یا ان کی نمو کو روک دیتی ہیں۔ ایسی کیمیائی اشیا کی تلاش انیسویں صدی میں شروع ہو گئی تھی جو حملہ آور بیکٹیریا پر منفی اثرات مرتب کرتی ہوں لیکن میزبان خلیہ پر نہیں۔ ایک جرمن ماہر بیکٹیریا پال ایرلچ (Paul Ehrlich) نے اس تصور کو پیش کیا۔ انہوں نے سوزاک (Syphilis) کے علاج کے لیے کم سمی اشیا پیدا کرنے کی غرض سے آرسینک پر مبنی ساختوں کی تحقیق کی۔ انہوں نے آرسفینامائن (Arsphenamine) دوا تیار کی جسے سلوارسن (Salvarsan) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پال ایرلچ کو اس تحقیق کے لیے 1908 میں طب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ حالانکہ سلوارسن انسانوں کے تئیں سمی ہے، لیکن اسپائروکیٹ (Spirochete) بیکٹیریا (جو سوزاک کے لیے ذمہ دار ہے) پر اس کا اثر انسانوں پر پڑنے والے اثر کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔ اسی دوران ایرلچ ایزوڈائز پر بھی کام کر رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ سلوارسن اور ایزوڈائز کی ساختوں میں یکسانیت ہے۔ آرسفینا مائن میں –AS = AS– بندش ایزوڈائز میں –N = N– بندش کے مشابہ ہوتی ہے فرق اتنا ہے کہ نائٹروجن کی جگہ آرسینک ایٹم ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بافت ڈائز کے ذریعہ انتخابی طور پر رنگ حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا ایرلچ نے ایسے مرکبات کی تلاش شروع کردی جن کی ساخت ایزو ڈائز کے مشابہ ہو اور انتخابی طور پر بیکٹیریا کے ساتھ جڑ سکیں۔ 1932 میں انہیں پہلے مؤثر مانع بیکٹیریا ایجنٹ تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوگئی۔ یہ ایجنٹ پرونٹوسل (Prontosil) تھا جس کی ساخت سلوارسن کے مشابہ تھی۔ جلد ہی اس بات کی کھوج ہو گئی کہ جسم میں پرونٹوسل ایک مرکب میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے سلفانل ایمائڈ (Sulphanilamide) کہتے ہیں جو کہ حقیقی سرگرم مرکب ہے۔ اس طرح سلفاڈرگس (Sulpha drugs) کی کھوج ہوئی۔ سلفونیمائڈ اینالوگ (Analogue) کی ایک وسیع رینج تالیف کی گئی۔ سلفاپائریڈین (Sulphapyridins) مؤثر ترین ڈرگس میں سے ایک ہے۔

ایچ۔ڈبلیو۔ فلوری اور الکزینڈر فلیمنگ کو پینسلین کی تحقیق میں ان کے آزادانہ تعاون کے لیے 1945 میں میڈیسین کے مشترکہ نوبل انعام سے نوازا گیا۔
سلفونیمائڈ کی کامیابی کے علاوہ اینٹی بیکٹیریل تھیراپی میں حقیقی انقلاب کی شروعات 1929 میں ہوئی جب الکزنیڈ رفلیمنگ نے پینسیلیم پھپھوند (Penicillium fungus) کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی کھوج کی۔ کلینکل ٹرائل کے لیے درکار مناسب مادہ جمع کرنے کے لیے سرگرم مرکب کی علاحدگی اور تخلیص میں تیرہ برس لگ گئے۔
اینٹی بایوٹک، جراثیموں کو یا تو ختم کر دیتی ہیں (Cidal effect) یا انہیں ساکت کر دیتی ہیں (Static effect)۔ دونوں قسم کی اینٹی بایوٹک کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:
بیکٹیری سائڈل (Bactericidal) بیکٹیریواسٹیٹک (Bacteriostatic)
پینسلین (Penicillin) اری تھرومائسین (Erythromycin)
امینو گلائکو سائڈس (Aminoglycosides) ٹیٹراسائیکلین (Tetracycline)
آفلوکسیسن (Ofloxacin) کلوریمفینکال (Chloramphenicol)
ایسے بیکٹیریا یا دیگر خرد عضویوں کی رینج جو کہ مخصوص اینٹی بایوٹک کے ذریعہ متاثر ہوتے ہیں اس کے اسپیکٹرم آف ایکشن کے ذریعہ ظاہر کیے جاتے ہیں۔ وہ اینٹی بایوٹک جو گرام مثبت اور گرام منفی بیکٹیریا کی وسیع رینج کا خاتمہ کر دیتی ہیں یا ان کی نمو کو روک دیتی ہیں وسیع اسپیکٹرم اینٹی بایوٹک (Broad spectrum antibiotics) کہلاتی ہیں۔ وہ اینٹی بایوٹک جو خاص طور سے گرام مثبت یا گرام منفی بیکٹیریا کے خلاف کام کرتی ہیں تنگ اسپیکٹرم اینٹی بایوٹک (Narrow spectrum antibiotics) کہلاتی ہیں۔ اگر کسی واحد عضویہ یا بیماری کے خلاف مؤثر ہیں تو محدود اسپیکٹرم اینٹی بایوٹک (Limited spectrum) کہلاتی ہیں۔ پینسلین G ایک تنگ اسپیکٹرم ہے۔ ایمپسلین اور ایموکسی سلین (Amoxicillin) پینسلین کی تالیفی اصلاحات (Synthetic modifications) ہیں۔ یہ وسیع اسپیکٹرم اینٹی بایوٹک ہیں۔ کسی مریض کو پینسلین اینٹی بایوٹک دینے سے پہلے اس کے تئیں حساسیت (Allergy) کی جانچ نہایت ضروری ہے۔ ہندوستان میں پینسلین کوپمپری (Pimpri) میں ہندوستان اینٹی بایوٹکس اور پرائیوٹ سیکٹر انڈسٹری میں تیار کیاجاتا ہے۔
کلوریمفینکال (Chloramphenicol) کو 1947 میں علاحدہ کیا گیا تھا یہ ایک وسیع اسپیکٹرم اینٹی بایوٹک ہے۔ یہ گیسٹروانٹیسٹائنل ٹریکٹ (Gastrointestinal tract) کے ذریعہ بہت تیزی سے جذب ہو جاتی ہے اسی لیے اسے ٹائفائڈ، پیچش، تیز بخار، پیشاب سے متعلق متعدد قسم کے تعدیوں، دماغی بخار (Meningitis) اور نمونیا جیسی بیماریوں کے علاج میں مریض کو کھلایا جاتا ہے۔ وینکو مائسین (Vancomycin) اور آفلوکیسن (Afloxacin) دیگر وسیع اسپیکٹرم اینٹی بایوٹک ہیں۔ ڈس آئڈ ازرائن (Dysidazirine) اینٹی بایوٹک کینسر خلیوں کے مخصوص اسٹرین کے تئیں (Strain)سمیت ظاہر کرتی ہے۔

(b) اینٹی سیپٹک اور مانع تعدیہ (Antiseptics and disinfectants)
اینٹی سیپٹک اور مانع تعدیہ بھی ایسی کیمیائی اشیا ہیں جو یا تو خرد عضویوں کا خاتمہ کر دیتی ہیں یا ان کی نمو کو روک دیتی ہیں۔
اینٹی سیپٹک کا استعمال جاندار بافتوں پر کیا جاتا ہے جیسے زخم، کٹے ہوئے حصے، السر اور بیمار جلد کی سطح، فیوراسین (Furacine) اور سوفرا مائسین (Soframycin) اینٹی سیپٹک کی مثالیں ہیں۔ انہیں اینٹی بایوٹک کی طرح خوراک کے ذریعہ نہیں لیا جاتا۔ عام طور سے استعمال کیا جانے والا ڈیٹول (Dettol)، کلوروکسی لینول (Chloroxylenol) اور ٹرپینیول (Terpineol) کا آمیزہ ہے۔ بائی تھایونول (Bithionol) (یہ مرکب بائی تھایونول Bithionol بھی کہلاتا ہے)کا استعمال صابنوں میں اینٹی سیپٹک خصوصیات پیدا کرنے میں کیا جاتاہے۔ الکحل میں اس کا 2–3 فیصد محلول ٹنکچر آف آیوڈین کہلاتا ہے۔ اسے زخموں پر لگایا جاتا ہے۔ آیوڈوفارم (Iodoform) کا استعمال بھی بطور اینٹی سیپٹک زخموں پر لگانے میں کیا جاتا ہے۔ ڈائی لیوٹ آبی محلول میں بورک ایسڈ (Boric Acid) آنکھوں کے لیے کمزور قسم کا اینٹی سیپٹک ہے۔

مانع تعدیہ (Disinfectants) کا استعمال فرش، ڈرین سسٹم، اوزاروں وغیرہ پر کیا جاتا ہے تاکہ ان پر جاندار اجسام کا اثر نہ ہو سکے۔ ایک ہی شے اینٹی سیپٹک کے ساتھ ساتھ مانع تعدیہ کے طور پر بھی کام کر سکتی ہے اگر اس کے ارتکاز کو تبدیل کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر فینال کا 0.2 فیصد محلول ایک اینٹی سیپٹک ہے جبکہ اس کا ایک فیصد محلول مانع تعدیہ ہے۔
آبی محلول میں کلورین کا
0.2 – 0.4 ppm
ارتکاز اور بہت کم ارتکاز میں سلفرڈائی آکسائڈ مانع تعدیہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔
16.3.5 مانع باروری ڈرگس (Antifertility Drugs)
اینٹی بایوٹک انقلاب نے لوگوں کو صحت مند زندگی عطا کی ہے۔ متوقع عمر بھی لگ بھگ دوگنی ہو گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے کئی سماجی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں جیسے غذائی وسائل سے متعلق مسئلے، ماحولیاتی مسائل اور روز گار سے جڑے مسئلے وغیرہ وغیرہ۔ ان مسئلوں پر قابو پانے کے لیے آبادی پر قابو پانا ضروری ہے۔ اس بات کے مد نظر خاندانی منصوبہ بندی کا تصور پیدا ہوا۔ مانع باروری ڈرگس کا استعمال اسی کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔ برتھ کنٹرول گولیاں، تالیفی ایسٹروجن اور پروجیسٹرون مشتقوں کے آمیزہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ دونوں مرکبات ہارمون ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ پروجیسٹران بیض اندازی (Ovulation) کودبا دیتی ہے۔ تالیفی پروجیسٹران مشتق پروجیسٹران کے مقابلے زیادہ کارگر ہیں۔ نارتھنڈران (Norethindrone) ایک تالیفی پروجیسٹران مشتق ہے جس کا استعمال مانع باروری ڈرگ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ وہ ایسٹروجن مشتق جس کا استعمال پروجیسٹران مشتق کے ساتھ ملا کر کیا جاتا ہے ایتھائنائل ایسٹراڈائی اول (Ethynylestradiol) ہے یعنی نویسٹرال (Novestrol)۔

ایتھائنائل ایسٹر ڈائی اول(نویسٹرال)
نارتھنڈران
متن پر مبنی سوالات
16.1 نیند کی گولیاں ڈاکٹر حضرات ایسے مریضوں کو تجویز کرتے ہیں جو نیند نہ آنے کی صورتحال سے دوچار رہتے ہیں لیکن ڈاکٹر کے مشورہ کے بغیر اس کی خوراک قطعی نہیں لینی چاہیے۔ کیوں؟
16.2 کس درجہ بندی کے حوالے سے یہ بیان دیا گیا ہے کہ ’’رینیٹیڈین (Ranitidine) ایک اینٹاسڈ ہے‘‘؟
16.4 غذا میں کیمیائی اشیا (Chemicals in Food)
غذا میں کیمیائی اشیا کا استعمال (i) غذا کو محفوظ رکھنے (ii) ان کی اشتہامیں اضافہ کرنے اور (iii) ان کو مغذی بنانے میں کیا جاتا ہے۔ غذا میں شامل کیے جانے والی کیمیائی اشیا کے اہم زمرے مندرجہ ذیل ہیں:
(i) غذائی رنگ
(ii) `مہک اور مٹھاس پیدا کرنے والے
(iii) فیٹ ایملسیفائر (Fatemulsifier) اور استحکام عطا کرنے والے ایجنٹ
(iv) آٹے میں بہتری لانے والے۔ اینٹی اسٹالنگ ایجنٹ اور بلیچ
(v) مانع تکسید کار (Antioxidant)
(vi) تحفظ عطا کرنے والے
(vii) غذا کو مغذی بنانے والے —
معدنیات، وٹامن اور امینوایسڈ۔ زمرہ (vii)سے تعلق رکھنے والی کیمیائی اشیا کے علاوہ مذکورہ بالا کوئی بھی کیمیائی شے مغذی نہیں ہوتی۔ انہیں یا تو غذا کو زیادہ دنوں تک ذخیرہ کرنے کے لیے یا کاسمیٹک مقاصد کے لیے ملایا جاتا ہے۔ اس سیکشن میں ہم صرف مٹھاس پیدا کرنے والے اور غذا کو تحفظ عطا کرنے والے ایجنٹ پر بحث کریں گے۔
16.4.1 مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ (Artificial Sweetening Agents)
قدرتی مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ مثلاً سکروز کیلوری میں اضافہ کردیتے ہیں۔ لہٰذا بہت سے لوگ مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔ آرتھو سلفوبینزیمائڈ (Ortho-sulphobenzimide) جسے سیکرین (Saccharin) بھی کہا جاتا ہے، سب سے پہلا مشہور و معروف مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والا ایجنٹ ہے۔ مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ کے طور پر اس کا استعمال اسی وقت سے ہو رہا ہے جب سے 1879 میں اس کی کھوج ہوئی تھی۔ یہ گنے کی شکر کے مقابلے میں 550 گنا میٹھا ہے۔ یہ مکمل طور پر غیر عامل ہے اور اس کے استعمال سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوتا۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اور ایسے لوگوں کے لیے جو کیلوری پر قابو رکھنا چاہتے ہیں یہ نہایت مفید ہے۔ عام طور سے بازار میں دستیاب کچھ مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ جدول 16.1 میں دیے گئے ہیں۔
ایسپارٹیم (Aspartame) کامیاب ترین اور سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والا ایجنٹ ہے۔ یہ گنے کی چینی کے مقابلے تقریباً 100 گنا میٹھا ہے۔ یہ ڈائی پیپٹائڈ کا متھائل ایسڈ ہے جسے ایسپارک ایسڈ اور فنائل ایلانین سے تیار کیا جاتا ہے۔ ایسپارٹیم کا استعمال ٹھنڈی غذاؤں اور سافٹ ڈرنک تک ہی محدود ہے کیونکہ یہ کھانا پکانے کے درجہ حرارت پر غیر مستحکم ہوتا ہے۔
جدول 16.1:مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے
| سکروس کے مقابلے میں مٹھاس | ساختی فارمولا | مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے |
| 100 550 600 2000 |
![]() |
ایسپارٹیم سیکرین سکرولوز ایلیٹیم |

ایلیٹیم (Alitame) بہت زیادہ کارگر مٹھاس پیدا کرنے والا ایجنٹ ہے۔ حالانکہ یہ ایسپارٹیم کے مقابلے زیادہ مستحکم ہے، لیکن اسے استعمال کرتے وقت غذا میں مٹھاس کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔
سکرولوز، سکروز کا ٹرائی کلورومشتق ہے۔ یہ دیکھنے اور ذائقہ میں چینی کی طرح ہوتا ہے۔ یہ کھانا پکانے کے درجۂ حرارت پر مستحکم ہوتا ہے اس سے کیلوری حاصل نہیں ہوتی۔
16.4.2 غذائی تحفظ کار (Food Preservatives)
غذائی تحفظ کار جراثیموں کی نمو کی وجہ سے غذا کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں۔ عام طور سے استعمال ہونے والے تحفظ کار (Preservative) نمک، شکر، خوردنی تیل اور سوڈیم بینزوئیٹ C6H5COONa ہیں۔ سوڈیم بینزوئیٹ کا استعمال محدود مقدار میں کیا جاتا ہے اور یہ جسم میں تحول پذیر رہتا ہے۔ سوربک ایسڈ (Sorbic acid) اور پروپینائک ایسڈ کے نمک بھی غذائی تحفظ کار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
متن پر مبنی سوالات
16.3 ہمیں مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
16.4.3 غذا میں اینٹی آکسیڈینٹ(Antioxidants in Food)
یہ اہم اور لازمی غذائی ایڈٹیو (Food Additives) ہیں۔ یہ غذا میں آکسیجن کے عمل کو سست کرکے غذا کے تحفظ میں مدد کرتے ہیں۔ یہ اس غذا کے مقابلے میں آکسیجن کے تئیں زیادہ سرعت سے تعامل کرتے ہیں جس کا تحفظ مقصود ہے۔ یوٹیلیٹڈ ہائڈراکسل ٹولوئین (Butylated Hydroxy Toluene - BHT) اور بیوٹیلیٹڈ ہائڈراکسی اینی سول (Butylated Hydroxy Anisole-BHA) دو مشہور و معروف اینٹی آکسیڈینٹ ہیں۔ مکھن میں BHA کی آمیزش اسے کئی سال تک تحفظ فراہم کرتا ہے۔
بعض اوقات BHT اور BHA کو سٹرک ایسڈ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جس سے یہ زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ سلفرڈائی آکسائیڈ اور سلفائٹ شراب اور بیئر، شیرا، کٹے اور چھلے ہوئے یا خشک پھلوں اور سبزیوں کے لیے استعمال کیے جانے والے مفید اینٹی آکسیڈینٹ ہیں۔
16.5 مصفی (Cleansing Agents)
اس سیکشن میں ہم ڈٹرجنٹ کا مطالعہ کریں گے۔ دو قسم کے ڈٹرجنٹ کا استعمال بطور مصفیٰ (Cleansing agents) کیا جاتا ہے۔ یہ صابن اور تالیفی ڈٹرجنٹ ہیں۔ یہ پانی کی مصحفی خصوصیات میں بہتری لاتے ہیں۔ یہ اس چربی کو ہٹانے میں مدد کرتے ہیں جو دیگر اشیا کو کپڑوں یا جلد سے منسلک کر دیتی ہے۔
16.5.1 صابن (Soap)

گلسرال (یا گلسرین)، سوڈیم اسٹیئریٹ، سوڈیم ہائڈراکسائڈ، اسٹیئرک ایسڈکا گلسرل ایسڈ (چربی)
صابن ایسے ڈٹرجنٹ ہیں جن کا استعمال لمبے عرصے سے ہوتا آرہا ہے۔ صابن کا استعمال صفائی کے مقصد سے کیا جاتا ہے۔ صابن لمبی زنجیر والے فیٹی ایسڈوں مثلاً اسٹیئرک ایسڈ (Stearic Acid)، اولیئک (Oleic) اور پامیٹک ایسڈ (Palmitic acid) کے سوڈیم یا پوٹاشیم نمک ہیں۔ سوڈیم نمک پر مشتمل صابنوں کوچربی (مثلاً فیٹی ایسڈ کے گلسرل ایسٹر) اور آبی سوڈیم ہائڈراکسائڈ کو گرم کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ تعامل تصبین (Saponification) کہلاتا ہے۔
اس تعامل میں، فیٹی ایسڈ کے ایسٹر آب پاشیدہ ہو جاتے ہیں اور صابن کو لائڈی شکل میں باقی رہ جاتے ہیں۔ محلول میں سوڈیم کلورائڈ ملاکر اس کی ترسیب کی جاتی ہے۔ صابن علاحدہ کرنے کے بعد باقی ماندہ محلول گلسرال (Glycerol) پر مشتمل ہوتا ہے جسے کسری کشید کے ذریعہ حاصل کر لیا جاتا ہے۔ صرف سوڈیم اور پوٹاشیم صابن ہی پانی میں حل پذیر ہیں اور ان کا استعمال صفائی کے کاموں میں کیا جاتا ہے۔ عام طور سے پوٹاشیم صابن جلد کے لیے ملائم ہوتے ہیں۔ انہیں محلول میں سوڈیم ہائڈراکسائڈ کی جگہ پوٹاشیم ہائڈراکسائڈ ملاکر حاصل کیا جاتا ہے۔
صابنوں کی اقسام (Types of soaps)
بنیادی طور پر سبھی صابن چربیوں یا تیلوں کو مناسب حل پذیر ہائڈراکسائڈ کے ساتھ ابال کر تیار کیے جاتے ہیں۔ مختلف خام مادوں کا استعمال کرکے مختلف قسم کے صابن بنائے جاتے ہیں۔
نہانے کے لیے استعمال ہونے والے صابنوں کو عمدہ قسم کی چربی یا تیلوں سے بنایا جاتا ہے اور اس بات کا دھیان رکھا جاتا ہے کہ اضافی القلی کو ہٹادیا جائے۔ انہیں زیادہ پر کشش بنانے کے لیے رنگ اور خوشبو کا استعمال کیا جاتا ہے۔
وہ صابن جو پانی میں تیرتے ہیں انہیں صابن کو سخت کرنے سے پہلے اس میں چھوٹے چھوٹے بلبلے چھوڑ کر بنایا جاتا ہے۔ شفاف صابن بنانے کے لیے صابن کو پہلے ایتھنال میں حل کیا جاتا ہے اور پھر اضافی محلل کی تبخیر کی جاتی ہے۔
طبی اہمیت کے حامل صابن (Medicated soaps) بنانے کے لیے ان میں طبی اعتبار سے اہم اشیا کو ملایا جاتا ہے۔ کچھ صابنوں میں بدبو کو دور کرنے والے عوامل (Deodorant) ملائے جاتے ہیں۔ شیونگ سوپ گلسرال پر مشتمل ہوتے ہیں تاکہ ایک دم خشک نہ ہونے پائیں۔ انہیں بنانے کے دوران ان میں روزن (Rosin) جو کہ ایک قسم کا گوند ہے، ملایا جاتا ہے۔ یہ سوڈیم روزینیٹ (Sodium rosinate) بناتا ہے جو کہ بہت زیادہ جھاگ پیدا کرتا ہے۔ لانڈری میں استعمال ہونے والے صابنوں میں سوڈیم روزنیٹ، سوڈیم سلیکیٹ، بوریکس اور سوڈیم کاربونیٹ جیسے فِلر (Filler) کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سوپ چپس (Soap chips) کو بنانے کے لیے پگھلے ہوئے صابن کی پتلی پٹی کو ایک ٹھنڈے سلنڈر پر پھیلایا جاتا ہے اور صابن کو چھوٹے ہوئے ٹکڑوں کی شکل میں حاصل کیا جاتاہے۔ صابن کے دانے (Soap granules) صابن کے بہت چھوٹے خشک بلبلے ہیں۔ صابن کے پاؤڈر اور رگڑائی کرنے والے صابن (Scouring soaps) پاؤڈر پیومک، نہایت باریک ریت جیسے رگڑائی کرنے والے ایجنٹ، کچھ صابن نیز سوڈیم کاربونیٹ اور ٹرائی سوڈیم فاسفیٹ جیسے بلڈر (Builder)پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بلڈر کی موجودگی کی وجہ سے صابن بہت تیزی سے کام کرتے ہیں۔ صابن کی صفائی کے عمل کو اکائی 15 میں بیان کیا گیا ہے۔
صابن سخت پانی میں کام کیوں نہیں کرتے؟
سخت پانی کیلشیم اور میگنیشیم آینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب بالترتیب سوڈیم یا پوٹاشیم صابنوں کو سخت پانی میں ملایا جاتا ہے تویہ آین غیر حل پذیر کیلشیم اور میگنیشیم صابن بناتے ہیں۔

غیر حل پزیر کیلشیم اسٹیریٹ (صابن)، صابن
16.5.2 تالیفی ڈٹرجنٹ (Synthetic Detergents)
یہ غیر حل پذیر صابن پانی میں گاد (Scum) کی شکل میں علاحدہ ہو جاتے ہیں اور صفائی کا کام نہیں کرتے۔ درحقیقت یہ اچھی دھلائی میں رکاوٹ ہیں کیونکہ رسوب کپڑوں پر گوند جیسی کمیت کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے۔ بھاری پانی سے بال دھونے پر ان کی چمک ختم ہو جاتی ہے کیونکہ ان پر رسوب جمع ہو جاتا ہے۔ جب بھاری پانی میں صابن سے کپڑے دھوئے جاتے ہیں تو اس گوند جیسی کمیت کی وجہ سے یہ رنگوں کو جذب نہیں کرپاتے۔
تالیفی ڈٹرجنٹ، مصفی ایجنٹ ہیں جن میں صابنوں کی سبھی خصوصیات ہوتی ہیں لیکن ان میں صابن نہیں ہوتے۔ انہیں سخت اور نرم دونوں قسم کے پانی میں استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ بھاری پانی میں بھی جھاگ بناتے ہیں۔ کچھ ڈٹرجنٹ تو سرد پانی میں بھی جھاگ پیدا کرتے ہیں۔
تالیفی ڈٹرجنٹ کی درجہ بندی تین زمروں کے تحت کی گئی ہے۔
(i) این آینی ڈٹرجنٹ (ii) کیٹ آینی ڈٹرجنٹ اور (iii) غیر آینی ڈٹرجنٹ
(i) این آینی ڈٹرجنٹ (Anionic Detergents) این آینی ڈٹرجنٹ سلفونیٹڈ طویل زنجیری الکوحل یا ہائڈروکاربنوں کے سوڈیم نمک ہیں۔ الکائل ہائڈروجن سلفیٹ کو طویل زنجیری الکوحل کے مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ساتھ تعامل سے بنایا جاتا ہے، انہیں القلی سے تعدیل کرکے این آینی ڈٹرجنٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح الکائل بینزین سلفونیٹ کو الکائل بینزین سلفونک ایسڈ کی القلی کے ساتھ تعدیلی سے بنایا جاتا ہے۔

سوڈیم لارل سلفیٹ (این آینی ڈٹرجنٹ)، لارل ہائڈروجن، لارل الکحل
سوڈیم ڈوڈسل بینزین سلفونیٹ، ڈوڈیسل بینزین سلفونک ایسڈ، ڈوڈیسل بینزین
این آینی ڈٹرجنٹ میں سالمہ کا این آینی حصہ صفائی کا عمل انجام دیتا ہے۔ الکائل بینزین سلفونیٹ (Alkylbenzenesulphonates) کے سوڈیم نمک این آینی ڈٹرجنٹ کا اہم زمرہ ہیں۔
ان کا استعمال عام طور سے گھریلو کاموں میں کیا جاتا ہے۔ این آینی ڈٹرجنٹ کا استعمال ٹوتھ پیسٹ میں بھی کیا جاتا ہے۔

سٹائل ٹرائی میتھائل امونیم برومائڈ
(ii) کیٹ آینی ڈٹرجنٹ (Cationic Detergents): کیٹ آینی ڈٹرجنٹ امین (Amine) کے کواٹرنری امونیم نمک ہیں جن میں ایسیٹٹ، کلورائڈ یا برومائڈ آین موجود ہوتے ہیں۔ کیٹ آینی حصہ طویل ہائڈروکاربن زنجیر پر مشتمل ہوتا ہے اور نائٹروجن ایٹم پر مثبت چارج ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ کیٹ آینی ڈٹرجنٹ کہلاتے ہیں۔ سیٹائل ٹرائی متھائل امونیم برومائڈ (Cetyltrimethylammonium bromide) ایک مشہور کیٹ آینی ڈٹرجنٹ ہے اور اس کا استعمال ہیئرکنڈیشنر میں کیا جاتا ہے۔
کیٹ آینی ڈٹرجنٹ میں جراثیموں کو ختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ مہنگے ہوتے ہیں لہٰذا ان کے استعمال محدود ہیں۔
(iii) غیر آینی ڈٹرجنٹ (Non-ionic Detergents): غیر آینی ڈٹرجنٹ کی ترکیب میں کسی قسم کا آین موجود نہیں ہوتا۔ اس قسم کے ایک ڈٹرجنٹ کو اسٹیرک ایسڈ اور پالی ایتھائلین گلائکول کے تعامل سے بنایا جاتا ہے۔

پالی ایتھائلین گلائکول ، اسٹیئرک ایسڈ
برتن دھونے میں استعمال ہونے والییٔ رقیق ڈٹرجنٹ غیر آینی قسم کے ہوتے ہیں۔ اس قسم کے ڈٹرجنٹ صفائی کا عمل اسی طرح انجام دیتے ہیں جس طرح صابن انجام دیتے ہیں۔ یہ بھی مسیل کی تشکیل کے ذریعہ گریز یا چکنائی کو ہٹا دیتے ہیں۔
ڈٹرجنٹ کے استعمال میں اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان کا ہائڈروکاربن بہت زیادہ شاخدار ہے تو یہ بیکٹیریا کے ذریعہ آسانی سے تحلیل نہیں ہوپاتے۔ تنزلی کا عمل سست ہونے کی وجہ سے یہ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اس قسم کے ڈٹرجنٹ پر مشتمل پانی ندیوں، تالابوں وغیرہ میں پہنچتا ہے۔ یہ سیوج ٹریٹمنٹ کے باوجود بھی پانی میں موجود رہتے ہیں اور ندیوں، تالابوں میں جھاگ پیدا کرکے انہیں آلودہ کر دیتے ہیں۔
آج کل ہائڈروکاربن زنجیر کی شاخ کو کنٹرول کرکے کم سے کم رکھا گیا ہے۔ بغیر شاخ والی زنجیریں آسانی سے حیاتیاتی طور پر روبہ تنزل ہو جاتی ہیں اور اس طرح آلودگی کو روکا جاتا ہے۔
متن پر مبنی سوالات
16.4 گلسرل اولئیٹ اور گلسرل پامیٹیٹ سے سوڈیم صابن تیار کرنے کے لیے کیمیائی مساوات لکھیے۔ ان مرکبات کے ساختی فارمولے ذیل میں دیے گئے ہیں:

16.5 مندرجہ ذیل قسم کے غیر آینی ڈٹرجنٹ رقیق ڈٹرجنٹ، ایملسیفائنگ ایجنٹ اور مرطوبی ایجنٹ (Wetting agent) میں موجود ہیں۔ سالمہ میں ہائڈروفلک اور ہائڈروفوبک حصہ کو لیبل کیجیے۔ سالمہ میں موجود تفاعلی گروپ کی شناخت کیجیے۔

خلاصہ
کیمیا انسانیت کی بہتری کے لیے مادوں اور نئی اشیا کو تیار کرنے کا مطالعہ ہے۔ ڈرگ وہ کیمیائی ایجنٹ ہے جو انسانی تحول کو متاثر کرتا ہے اور بیماری کا علاج مہیا کرتا ہے۔ اگر انہیں مجوزہ مقدار سے زیادہ استعمال کر لیا جائے تو یہ مہلک بن جاتی ہیں۔ معالجاتی اثر کے لیے کیمیائی اشیا کا استعمال کیموتھیراپی (Chemotheropy) کہلاتا ہے۔ ڈرگس عام طور سے کاربوہائڈریٹ، پروٹین، لپڈ اورنیوکلک ایسڈ جیسے حیاتیاتی کلاں سالمات کے ساتھ باہمی عمل کرتی ہیں۔ یہ سالمات ہدف سالمات (Target molecules) کہلاتے ہیں۔ ڈرگس کو مخصوص اہداف کے ساتھ باہمی عمل کے لحاظ سے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ دیگر اہداف پر ان کا اثر کم سے کم ہو۔ اس طرح ضمنی اثرات (Side effects) کم ہو جاتے ہیں اور ڈرگ کا ایکشن لوکلائز ہو جاتا ہے۔ ڈرگ کیمیا کا مقصد خرد عضویوں (Microbes) کو ختم کرنا، جسم کی متعدد متعدی امراض سے حفاظت اور ذہنی تناؤ کو دور کرنا ہے۔ اس طرح انالجیسکس، اینٹی بایوٹکس، اینٹی سیپٹکس، مانع تعدیہ (Disinfectants)، اینٹاسڈ اور ٹرانکیولائزر (Tranquilizers) جیسی ڈرگس کا استعمال مخصوص مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ آبادی کے اضافہ کو روکنے کے لیے مانع باروری ڈرگس ہماری زندگی میں کافی مقبول ہو چکی ہیں۔
غذا میں ملائے جانے والی اشیا مثلاً غذائی تحفظ کار، مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ، مانع تکسید کار (Antioxident)، خوردنی رنگ اور مغذی اشیا (Nutritional supplements) غذا کو پرکشش، ذائقہ دار اور مغذی بنانے کے لیے ملائی جاتی ہیں۔ تحفظ کار غذا میں اس لیے ملائے جاتے ہیں تاکہ جراثیموں کی نمو کی وجہ سے غذا کو خراب ہونے سے بچایا جاسکے۔ مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ ایسے افراد کے ذریعہ استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں کم کیلوری درکار ہیں یا ذیابیطس میں مبتلا ہیں اور سکروز کا استعمال نہیں کرنا چاہتے۔
ان دنوں، ڈٹرجنٹ کا استعمال عام ہے اور انہیں صابنوں پر فوقیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ سخت پانی میں بھی کام کرتے ہیں۔ تالیفی ڈٹرجنٹ کی درجہ بندی تین اہم زمروں میں کی گئی ہے جن کے نام ہیں : این آینی، کیٹ آینی اور غیر آینی۔ ہر ایک زمرہ کے ڈٹرجنٹ کا استعمال مخصوص ہے۔ شاخ دار زنجیر والے ہائڈروکاربنوں کے مقابلے مستقیم زنجیر والے ہائڈروکاربنوں پر مشتمل ڈٹرجنٹ کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ شاخدار زنجیر والے ہائڈروکاربنوں پر مشتمل ڈٹرجنٹ حیاتیاتی طور پر تنزل پذیر نہیں ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب ہیں۔
مشق
لکھیے جو ڈرگ اہداف کے طور پر منتخب کیے جاتے ہیں۔
16.4 ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوائیاں نہیں لینی چاہئیں۔ کیوں؟
16.5 اصطلاح کیموتھیراپی (Chemotheropy) کی تعریف بیان کیجیے۔
16.6 ڈرگس کو انزائم کی ایکٹیوسائٹ سے منسلک رکھنے میں کون سی قوتیں شامل ہوتی ہیں؟
16.7 اینٹاسڈ اور اینٹی الرجک ڈرگس ہسٹامائن کے فعل میں خلل پیدا کرتی ہیں، یہ ایک دوسرے کے فعل میں خلل کیوں نہیں پیدا کرتیں؟
16.8 نورایڈرینلن (Noradrenaline) کی کمی مایوسی (Depression) کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے علاج کے لیے کس قسم کی ڈرگس درکار ہوں گی؟ دو ڈرگس تجویز کیجیے۔
16.9 اصطلاح ’’وسیع اسپیکٹرم اینٹی بایوٹکس‘‘ سے کیا مراد ہے؟ تشریح کیجیے۔
16.10 اینٹی سیپٹک (Antiseptics) اور مانع تعدیہ (Disinfectants) میں کیا فرق ہے؟ ہر ایک کی ایک ایک مثال دیجیے۔
16.11 سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ یا میگنیشیم یا ایلیومینیم ہائڈراکسائڈ کے مقابلے سیمیٹیڈین (Cimetidine) اور رینٹیڈین (Rantidine) بہتر اینٹاسڈ ہیں۔ کیوں؟
16.12 اس شے کا نام بتائیے جس کا استعمال اینٹی سیپٹک کے ساتھ ساتھ مانع تعدیہ کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔
16.13 ڈیٹال (Dettol) کے اہم اجزا کیا کیا ہیں؟
16.14 ٹنکچر آف آیوڈین کیا ہے؟ اس کا استعمال لکھیے۔
16.15 غذائی تحفظ کار (Food preservative) کیا ہیں؟
16.16 ایسپارٹیم (Aspartame) کا استعمال ٹھنڈی غذاؤں اور سافٹ ڈرنک تک ہی کیوں محدود ہے؟
16.17 مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے ایجنٹ (Artificial sweetening agents) کیا ہیں؟ دو مثالیں دیجیے۔
16.18 ذیابیطس میں مبتلا مریض کے لیے مٹھائی تیار کرنے میں استعمال کیے جانے والے (Sweetening agent) کا نام لکھیے۔
16.19 ایلیٹیم (Alitame) کو مصنوعی مٹھاس پیدا کرنے والے کے طور پر استعمال کرنے سے کس قسم کا مسئلہ پید اہو سکتا ہے؟
16.20 تالیفی ڈٹرجنٹ صابنوں سے بہتر کیوں ہیں؟
16.21 مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تشریح مناسب مثالوں کے ساتھ کیجیے:
(i) کیٹ آینی ڈٹرجنٹ
(ii) این آینی ڈٹرجنٹ
(iii) غیر آینی ڈٹرجنٹ
16.22 حیاتیاتی تنزل پذیر اور غیر حیاتیاتی تنزل پذیر ڈٹرجنٹ کیا ہیں؟ ہر ایک کی ایک ایک مثال دیجیے۔
16.23 صابن سخت پانی میں کام کیوں نہیں کرتے؟
16.24 کیا آپ پانی کی سختی کو کم کرنے کے لیے صابن اور تالیفی ڈٹرجنٹ کا استعمال کر سکتے ہیں؟
16.25 صابن کے عمل صفائی (Cleansing action) کی تشریح کیجیے۔
16.26 اگر پانی میں کیلشیم ہائڈروجن کاربونیٹ گھلا ہوا ہے تو کپڑے دھونے کے لیے آپ صابن اور تالیفی ڈٹرجنٹ میں سے کس کا استعمال کریں گے؟
16.27 مندرجہ ذیل مرکبات میں ہائڈروفلک اور ہائڈروفوبک حصوں کو لیبل کیجیے۔

متن پر مبنی سوالات
16.1 زیادہ تر ڈرگس اگر مجوزہ مقدار سے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں تو مضر اثرات پیدا کرسکتی ہیں اور زہر کا کام کرتی ہیں۔ لہٰذا دوا لینے سے پہلے ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
16.2 یہ بیان ڈرگس کے فارما کولوجیکل اثر کے مطابق درجہ بندی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ کوئی بھی ڈرگ جس کا استعمال معدہ میں اضافی ایسڈ کے اثر کو زائل کرنے کے لیے کیا جائے گا وہ اینٹاسڈ کہلائے گی۔
16.5 

