
اکائی- V ادبی اظہار -II










باب 1 خیال اور اس کا ارتقا
1.1 افسانے میں خیال کا ارتقا
1.1.1 افسانہ ’ہزاروں سال لمبی رات‘ میں ادبی اظہار اور خیال کا ارتقا
1.2 نظم میں خیال کا ارتقا
1.2.1 نظم ’اعتماد‘ میں ادبی اظہار اور خیال کا ارتقا
باب 2 تخلیقیت اور تحریر - II
= تخیل کی سرگرمی
= احساس کا عمل
= جذبات کی نمائندگی
= الفاظ کو برتنے کا سلیقہ
= صنائع و بدائع کا استعمال
2.1 شاعری
= غزل
= گیت
2.2 نثر
= تخلیقی نثر
= غیر تخلیقی نثر
2.2.1 افسانوی نثر
= مختصر افسانہ /کہانی
= داستان
= ناول
2.2.2 غیر افسانوی نثر
= رپورتاژ
= مضمون
= خاکہ
= روزنامچہ /ڈائری
= مکتوب نگاری /خط نگاری

(1931-2015)
’’خواب وہ نہیں ہوتے جو ہم سوتے ہوئے دیکھتے ہیں، خواب وہ ہوتے ہیں جو ہمیں سونے نہیں دیتے۔ ‘‘
— اے ۔ پی۔ جے عبد الکلام
سابق صدرجمہوریۂ ہند
اس یونٹ میں خیال اور اس کے ارتقا کو موضوع بناکر افسانے اور نظم کی مثالوں کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ کسی ادبی تحریر میں خیال کا ارتقا کیسے ہوتا ہے۔ دوسرے باب میں تخلیقیت اور تحریر کو موضوع بنا کر غزل اور افسانے کے فن پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ غزل اور افسانہ لکھنے کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں دیگر اصناف کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ طالب علموں میں دوسری اصناف میں بھی طبع آزمائی کا شوق پیدا ہو۔
باب 1
خیال اور اُس کا ارتقا
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب ہم کسی سے بات کرتے ہیں یا کسی کی بات کا جواب دیتے ہیں توہمارا مقصد صرف اپنی بات پہنچانا نہیں ہوتا، بلکہ قائل کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ہم ایسی زبان استعمال کرتے اور ایسا لہجہ اختیار کرتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ اثر پیدا کر سکے۔ خطابت میں لہجے اور جسم کی حرکات وسکنات (Body Language) کی خاص اہمیت ہے کیوں کہ محض سپاٹ زبان سننے والے پر گہرا اثر نہیں ڈال سکتی۔ لہجہ، الفاظ اور جسمانی حرکات و سکنات مل کر اثر کو بڑھادیتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی یہ بھی سوچا کہ روزمرّہ استعمال میں آنے والی زبان اور تحریری زبان میں کیا فرق ہے؟ جب ہم کچھ بولتے ہیں تو لفظوں کے انتخاب اور جملوں کی ساخت پر کم توجہ دیتے ہیں لیکن لکھتے وقت ہم زیادہ محتاط ہوتے ہیں، ہم اچھی طرح غور وفکر کے بعد لکھتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہم اپنے خیال کو لفظوں کی مدد سے دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ترسیلِ خیال میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
تحریری زبان کی دو قسمیں ہیں،ایک علمی اور کاروباری زبان، دوسری ادبی یا تخلیقی زبان۔ علمی اور کاروباری زبان واضح ہوتی ہے اور قواعد کے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے۔ اس میں ایک خاص قسم کے نظم و ضبط کا خیال رکھا جاتا ہے، اس کے اپنے مخصوص تقاضے ہیں۔ اس کے برعکس ادبی تحریر میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ تخلیقی زبان کہلاتی ہے اور ایسی تحریروں کو ہم تخلیقی ادب کہتے ہیں۔
تخلیقی ادب نے بہت سے فنّی محاسن اور صنعتیں لوک ادب اور خطابت کے فن سے اخذ کی ہیں۔ زبانی ادب کی روایت سب سے قدیم ہے۔ اس سے انسان کے تخیل کی اس سرگرمی کا پتا چلتا ہے جس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور جو فطرت کی بخشی ہوئی ایک بیش قیمت سعادت ہے۔ تخلیق کے برگ و بار اسی سے پھوٹتے ہیں۔ تخیل ہمارے مشاہدات و تجربات کو از سر نو مرتب کرتاہے۔علمی اور کاروباری تحریر میں تخیل کو زیادہ آزادی حاصل نہیں ہوتی، جب کہ تخلیقی ادب میں تخیل کی زیادہ کارفرمائی ہوتی ہے۔ تخلیقی فن کار اپنے جذبوں کے اظہار میں ان آزادیوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
آسمان کے کنارے پر نمودار ہونے والی شام کی سرخی، دونوں وقتوں کے ملنے سے پیدا ہونے والی نور آگیں دھند، بارش کی ہلکی ہلکی پھوہاریں، پہاڑوں کا سینہ چیر کر پگھلی ہوئی چاندی کے مانند پھوٹنے والے چشمے، گہری اندھیری رات میں ستاروں کے ہزاروں جھرمٹ، پھولوں کی نرم و نازک پنکھڑیوں پر چمکتی ہوئی شبنم کی ننھی ننھی بوندیں، اوس میں ڈوبے ہوئے ہرے بھرے میدان، پہاڑوں
فن کا تخلیقی عمل فن کار کی شخصیت کو اس کے فن میں پورے طور پر جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ شیکسپیر اپنے ڈرامے کے ہر کردار میں اپنی روح پھونکتا ہے اور خود کہیں نظر نہیں آتا۔ یہی اس کی بڑائی ہے۔ یہاں بات سے زیادہ بات کہنے کے طریقے پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ البتہ اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بات کہنے کے ڈھنگ پر نظر جمی رہ جائے اور بات نظر سے اوجھل ہو جائے اور ہم ذریعے کے چکّر میں پھنس کر مقصد کو بھول جائیں۔ شاعر اور ادیب زندگی اور حسن کی تصویر کشی کرتا ہے اور ادب کے مطالعے سے ہمارا مقصد زندگی اور حسن کا مطالعہ ہے۔
— اطہر پرویز
سے اترتے ہوئے دریاؤں کے شور سے پیدا ہونے والا ترنّم۔ فطرت کے ان مظاہر سے نہ صرف ہمارے احساسات کو تسکین ملتی ہے بلکہ ہماری روح بھی ان سے سیراب ہوتی ہے اور ہم فطرت کے اس حسن کی داد دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ہمارے باطن میں ہلچل سی پیدا ہوجاتی ہے۔ جذباتی ردِّعمل کی یہ صورتیں فوری طور پر اظہار چاہتی ہیں۔ فطرت کے ان حسین مناظر کے علاوہ ایسے واقعات سے بھی ہمارا واسطہ پڑتا رہتا ہے جنھیں دیکھ کر یا سن کر ہمیں خوشی یا طمانیت حاصل ہوتی ہے یا ہم دکھ اور تکلیف کے احساس سے دوچار ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے تجربے کو افسانے یا شعر کی صورت میں قلم بند کرکے محفوظ کرلیں۔ اس احساس سے ہی تخلیقی اظہار کو تحریک ملتی ہے۔ دراصل تخلیقی اظہار کی اُمنگ کا پیدا ہونا ہی اہم چیز ہے۔
شروع میں ہم اپنے تجربات کو اچھی طرح بیان نہیں کرپاتے لیکن ہمیں اپنے ابتدائی تجربات کے کچّے پکّے تخلیقی اظہار سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ آہستہ آہستہ لفظوں کو سلیقے کے ساتھ برتنا آجاتا ہے اور ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ہر تجربہ شعری تجربہ نہیں ہوسکتا۔جو تجربہ تخلیقی تجربے میں ڈھلنے کی اہلیت رکھتا ہے اسی سے تخلیق کا انکُر پھوٹتا ہے اور دھیرے دھیرے پورے درخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔تخلیقی اظہار کے بہت سے وسیلے ہیں جیسے داستان، ناول،افسانہ ،غزل، نظم،مضمون یا دیگر اصناف۔ ان وسیلوں کے تقاضوں کے موافق ہی فنکار زبان، اسلوب یا فنی تدابیر کا استعمال کرتا ہے۔
اب ہمیں اس نکتے پر غور کرنا ہے کہ کسی ادب پارے میں ہم اپنے خیالات کس طرح پیش کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی ادیب کچھ کہنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ افسانے کی صنف کا انتخاب کرتا ہے تو صنف کے تقاضوں کا لحاظ کرتے ہوئے وہ اپنی بات کیسے کہے گا۔ آیئے ایک مثال کے ذریعے سمجھیں کہ افسانہ نگار اپنے خیالات کس طرح پیش کرتا ہے۔
سرگرمی 5.1
آپ نے بہت سے افسانے اور کہانیاں پڑھی ہوں گی۔ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کیجیے اور بتایئے کہ وہ افسانہ یا کہانی آپ کو کیوں پسند ہے؟ کلاس کے ساتھیوں کے درمیان ان نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تبادلۂ خیال کیجیے: کہانی کا موضوع، مختلف کردار، مرکزی کردار، وحدتِ تاثر، نقطۂ عروج، زبان وبیان وغیرہ۔
1.1 افسانے میں خیال کا ارتقا
افسانہ ایک ایسی بیانیہ صنف ہے جس میں ایک یا ایک سے زائد کرداروں کے ذریعے سے کوئی واقعہ یا واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔لیکن افسانہ نگار کسی واقعے کو عام لوگوں کی طرح جوں کا توں بیان نہیں کر دیتا بلکہ اصل زندگی میں رونما ہونے والے واقعے کووہ نئے سرے سے تخلیق کرتا ہے۔ افسانہ نگارافسانے میں واقعے کو اسی ترتیب یا تفصیل سے بیان نہیں کرتا جس ترتیب یا تفصیل سے وہ واقعہ اصل زندگی میں رونما ہوا ہے ۔ بلکہ کبھی تو وہ یہ کرتا ہے کہ افسانے کی ابتدا واقعے کے آخری حصے سے کرتا ہے ، کبھی درمیانی حصے سے،کبھی افسانے کی ابتدا بھی واقعے کی ابتدا ہی سے ہوتی ہے۔جہاں تک افسانے میں راوی کا تعلق ہے۔کبھی وہ اپنے کسی تجربے کو واقعے کی صورت میں کسی دوسرے کردار کی زبانی پیش کرتا ہے اور کبھی کسی اور کے حادثے کو اپنا بنا کر بیان کرتا ہے۔افسانے میں خیال کاارتقاکس طرح ہوتاہے اسے درجِ ذیل مثال سے سمجھاجاسکتاہے۔
ہزاروں سال لمبی رات
سننے والے اُس کی بات بڑے انہماک سے سُن رہے تھے۔ حالاں کہ سنانے والا، جو اُن کے بیچ بیٹھا ہواتھا، بالکل اوٹ پٹانگ باتیں کررہا تھا۔ ان میں کہیں تسلسل نہیں تھا۔بات کرتا کرتا وہ خود بہک جاتا،جیسے راہ چلتا مسافر اپنی راہ سے بھٹک کر کسی غلط راستے پر چلنے لگے۔ایک بات ادھوری ہی چھوڑ کر وہ کسی دوسری بات کا سرا پکڑ لیتا۔ اس طرح رات بہت دھیرے دھیرے سرک رہی تھی۔
حُسن اور فن کی مختلف شکلوں کی تحسین اور ان سے لطف اندوزی انسانی زندگی کا اہم حصّہ ہے۔ مختلف فنون (Arts)، ادب ( Literature) اور دیگر علوم میں تخلیقیت (Creativity) کا گہرا ربط ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیم کے ذریعے بچّوں میں تخلیقی اظہار اور جمالیاتی تحسین کے جذبے کو فروغ دیا جائے۔ ہمارے عہد میں جہاں بازار کی قوتوں کے ذریعے رائے اور پسند کو متاثر کرنے اور جمالیاتی سحرکاری کی زیادہ گنجائش ہے، تعلیم میں جمالیاتی تحسین (aesthetic appreciation) اور تخلیقیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس لیے یہ کوشش ضروری ہے کہ طالب علم حسن کے مختلف زاویوں کو سمجھنے کا اہل ہو سکے۔
قومی درسیات کا خاکہ— 2005


نیاز فتح پوری (1966-1884)
وہ سب کے سب ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والے بازار کی ایک دُکان کے برآمد ے میں آکر رات کاٹنے کے لیے لیٹ گئے تھے ۔تھوڑی دیر بعد جب اُن میں سے سب سے بوڑھے آدمی نے گلا صاف کرتے ہوئے کسی راجا کی بات شروع کی تو اس برآمدے میں لیٹے ہوئے سب کے سب آدمی ہنکاری بھرنے لگے۔

ادب حقیقتاً ایک ریکارڈ ہے اُن تمام تجربات و احساسات کا جن سے انسان اپنی زندگی میں دوچار ہوتا ہے۔ گویا بہ الفاظ دیگریوں کہہ سکتے ہیں کہ ادب زندگی کا اظہار ہے الفاظ کے ذریعے سے۔
— نیاز فتح پوری
’’ہوں‘‘ پھر کیا ہوا بابا!‘‘
بس پھر کیا تھا بات چل نکلی۔
’’ایک بادشا ہ تھا۔ اس کی سات رانیاں تھیں۔ ساتوں رانیوں کے لیے بادشاہ نے الگ الگ محل بنوائے۔ ایک لکڑی کا، دوسرا اینٹ گارے کا،تیسرا سنگِ مرمر کا ،چوتھا تانبے کا، پانچواں چاندی کا ،چھٹا سونے کا اور ساتویں میں ہیرے جواہرات جڑے تھے۔‘‘
’’بالکل ٹھیک۔‘‘کسی نے ہنکاری بھری۔
’’اتنی دولت ہونے پر بھی بادشاہ کے یہاں اولاد نہیں تھی۔ اس لیے وہ بہت دُکھی تھا۔ بادشاہ کو آخر کسی نے رائے دی، فلاں فلاں جنگل میں ایک پیڑ ہے۔ اس پیڑ پر سات پھل لگے ہیں۔ اگر بادشاہ پھلوں کو توڑ کر اپنی رانیوں کو کھلائے تو سب کو اولاد ہو جائے گی۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس پیڑ تک پہنچنا مشکل تھا۔راستے میں سات دریا پڑتے تھے اور سات دیووں سے مقابلہ کرنا پڑتا تھا اور پیڑ کے گرد سات سانپوں کا زبردست پہرا تھا لیکن بادشاہ بھی اپنی دُھن کاپکاّ تھا۔ وہ اپنا لاؤ لشکر لے کر چل پڑا۔‘‘

بات ابھی یہیں تک پہنچی تھی کہ بوڑھے کو کھانسی کا دورہ پڑا۔ جب اُس کی سانس درست ہوئی تو وہ لیٹ گیا اور لیٹ کر اس نے ایک دوسری بات چلادی ۔
بوڑھے نے کہا:’’ بڑی پرانی بات ہے۔ایک کاری گر نے ایک ایسا ڈنڈا بنایا جس کے اندر ایک آدمی بیٹھ سکتا تھا۔اس طرح وہ ڈنڈا آدمیوں کی طرح بولتا تھا، چلتا تھا اور کھاتا پیتا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ۔ٹھیک ۔‘‘سب نے مل کر ہُنکارا۔
پھراچانک یہ ہو ا کہ رکشوں اور تانگوں کا ریلا شور مچاتا ہوا سڑک پر سے گزرنے لگا۔ شاید اسٹیشن پر کوئی مسافر گاڑی تھی۔ اس لیے بوڑھا تھوڑی دیر رکا۔پھر اس نے ایک مچھلی کی بات شروع کر دی جو اتنی بڑی تھی کہ اُس کی پیٹھ پر باقاعدہ ایک شہر بسا ہوا تھاجس پر نہ معلوم کتنے ہی مکان بنے ہوئے تھے، کتنے ہی کھیت تھے۔ سمندر میں جس طرف یہ مچھلی جاتی، اس طرف بسا بسایا شہر چلا جاتا
ادب کا کامل ذوق سلیم ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتا۔ بڑے نقاد اور مبصر فاش غلطیاں کر جاتے ہیں لیکن ان سے ان کے کام پر حرف نہیں آتا ہے۔ غلطی ترقی کی مانع نہیں ہے بلکہ وہ صحّت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ پچھلوں کی بھول چوک آنے والے مسافر کو رستہ بھٹکنے سے بچا دیتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ غلطی کو غلطی سمجھا جائے نہ یہ کہ خامیوں کو محاسن تصور کر لیا جائے۔
کلیم الدین احمد

فنکار سوچتا بہت کچھ ہے۔ اس کے تجربات شدید ہیں، اس کے خیالات کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، افکار کا ایک ہجوم بے پناہ سا ہے۔ وہ ان سب کا اظہار چاہتا ہے، اُس کو زبان و بیان پر قابو ہے، اظہار کے وسائل پر قدرت ہے، تاہم وہ محسوس کرتا ہے کہ زبان و بیان کے یہ سانچے، ترسیل کے یہ وسائل، اظہار کے ذرائع محدود اور ناکافی ہیں۔ ایک تنگنائے ہے کہ ِاس سے اُس کے خیالات کا سیل گزر نہیں سکتا۔ یہ فنکار کا عجز نہیں، اظہار کے وسائل کا عجز ہے۔ اس مرحلہ پر ہر بڑا فنکار اپنے لیے ایک اسلوب وضع کر لیتا ہے۔
— سلیمان اطہر جاوید
’’بالکل ٹھیک۔‘‘سب نے پھر ہنکاری بھری۔
اس طرح رات نہایت آہستہ آہستہ کِھسک رہی تھی۔بوڑھا باتیں کیے جا رہا تھااور وہ سب کے سب بڑے غور سے سُن رہے تھے۔ پھر کسی بات کو ادھوری ہی چھوڑ کر بوڑھے نے ایک نئی بات شروع کی!
’’ہزاروں سال پہلے کی بات ہے کہ بادشاہ نے آدھی دنیا فتح کر لی۔‘‘
پھر؟
’’پھر اس خوشی میں بادشاہ نے ایک بہت بڑی دعوت دی۔‘‘

پھر ،پھر؟
’’پھر کیا،اتنا کھانا بنایا گیا کہ بادشاہ کے شہر کے سارے مکانوں میں کھانا بنا کر رکھاگیا۔
پھر ،پھر ،پھر؟سبھی آدمی ایک ساتھ ہنکاری بھر رہے تھے۔
بوڑھے نے کہنا شروع کیا:’’ سب سے پہلے بادشاہ اور اس کے رشتے داروں نے کھانا کھایا۔‘‘
’’ٹھیک۔‘‘
’’پھر بادشاہ کے سینکڑوں امیروں اوروزیروں نے کھانا کھایا۔‘‘
’’ٹھیک۔‘‘
’’اتنے لوگوں کے کھانا کھاتے کھاتے رات ہو گئی۔‘‘
’’ٹھیک۔‘‘
’’اور سب کے بعد رات کے وقت لاکھوں غریب ،غربا اور فقیروں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔‘‘
’’بالکل جھوٹ!بالکل جھوٹ۔‘‘
اس برآمدے میں لیٹے ہوئے سبھی آدمی احتجاجاً اُٹھ کھڑے ہوئے۔
اور ان میں سے ایک آدمی بولا:’’بوڑھے !تجھے جھوٹی باتیں کرتے شرم نہیں آتی۔اگر ہم نے رات کو پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو تا تو اس وقت چین کی نیند نہ سوئے ہوتے۔رات بھر تمھاری یہ بکواس کون سنتا؟‘‘
’’اے بھائی! ناراض کیوں ہوتے ہو؟‘‘
بوڑھے نے کچھ سہمی ہوئی آواز میں کہا:’’ میں بھی تمھاری طرح بھوکا ہوں۔ اگر مجھے بھی نیندآرہی ہوتی تو یہ باتیں کرنے کے لیے جاگتا ہوتا؟ میں بھی تو سوجاتا۔‘‘
رتن سنگھ
سرگرمی5.2
پوری کلاس کو چار پانچ گروپ میں اس طرح بانٹیں کہ ہر گروپ میں چار پانچ طلبا اور طالبات ہوں۔ انھیں کوئی ایک موضوع مثلاً ماحولیات کا تحفظ، عورتوں کی عزّت، دوستی اور بھائی چارہ وغیرہ دیا جائے اور ہرگروپ سے کہا جائے کہ وہ اس موضوع پر کہانی لکھ کر لائیں۔ ہرگروپ اپنی کہانی کو کلاس روم میں پڑھ کر سنائے۔ پھر پوری کلاس باہم تبادلۂ خیال سے یہ طے کرے کہ کس کی کہانی سب سے اچھی ہے اور کیوں؟

سرگرمی 5.3
کہانی میں پلاٹ، کردار، تسلسلِ خیال، پیش کش، زبان وبیان، وحدتِ تاثر اور نقطۂ عروج کی خاص اہمیت ہے۔ ان نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی کہانی/ افسانہ سے متعلق کلاس میں تبادلہ ٔخیال کیجیے۔

سلیم شہزاد(1939)
خیال کی نمود ذہن میں ہوتی ہے اس لیے یہ ایک نفسی عمل ہے اور اس کا اظہار، تکلمی ہو یا تحریری، طبعی نفسی عمل جو چند لمحوں میں جملے یا جملوں میں ڈھل کر ترسیل و تفہیم کے ہر دو عمل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
— سلیم شہزاد
1.1.1 افسانہ: ’ہزاروں سال لمبی رات‘ میں ادبی اظہاراور خیال کا ارتقا
’’ہزاروں سال لمبی رات‘‘ مشہور افسانہ نگار رتن سنگھ کی کہانی ہے۔ اس کا عنوان ہی ادبیت کا مظہر ہے۔ کیا کوئی رات ہزاروں سال کی ہو سکتی ہے؟ ظاہر ہے نہیں۔ لیکن کسی خاص وجہ سے کوئی رات ہزاروں سال لمبی رات کا تاثر تو دے سکتی ہے۔ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں بھی ایسی کیفیتوں سے گزرتے رہتے ہیں۔ خوشی کے لمحے ، خوشبو کی طرح فوراً اُڑ جاتے ہیں لیکن دکھ اور تکلیف میں ایک ایک پل کئی گھنٹوں پر بھاری ہوتا ہے۔ انتظار میں کوئی اگر گھنٹہ آدھ گھنٹہ دیر سے پہنچتا ہے تو ہم غصّے سے کہتے ہیں کہ دس گھنٹے سے انتظار کر رہے ہیں۔ اس افسانے میں ہزاروں سال لمبی رات سے کیا مراد ہے، اس کا جواب افسانے کے آخر میں ہمارے سامنے آتا ہے۔
اس افسانے پر مزید گفتگو کرنے سے قبل، ہمیں افسانے کے فن کے حوالے سے یہ جان لینا چاہیے کہ کسی بھی افسانے کے چار اہم اجزا ہوتے ہیں:
1۔ پلاٹ Plot
2۔ کردار Character
3۔ اطراف و ماحول Setting
4۔ اُسلوب Style
پلاٹ کی عمارت کسی کہانی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ اس کا ایک آغاز، ایک وسط اور ایک نقطۂ عروج ہوتا ہے۔ بعض ایسی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں جن میں اس طرح کا نظم وضبط نظر نہیں آتا۔ پھر بھی وہ کہانی ہی کہلاتی ہیں ۔ ہزاروں سال لمبی رات میں باقاعدہ ایک نقطۂ آغاز ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب کی ایک دُکان کے برآمدے میں چند بے گھر لوگ رات کاٹنے کے لیے لیٹے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک بوڑھا آدمی کسی بادشاہ اور اس کی سات رانیوں کی کہانی سنانے لگتا ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے سب بہ غور سنتے ہیں۔ بوڑھے کو ایک دم کھانسی کا دورہ پڑتا ہے اور وہ دم لینے لگتا ہے۔ سانسیں جب درست ہو جاتی ہیں تو وہ پچھلی کہانی کو ادھورا چھوڑ کر دوسری کہانی سنانے لگتا ہے۔ سڑک کے شور و غل کی وجہ سے یہ کہانی بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔ جب شور ذرا کم ہوتا ہے تو بوڑھا تیسری کہانی شروع کرتا ہے: ’’ہزاروں سال پہلے کی بات ہے کہ بادشاہ نے آدھی دنیا فتح کر لی۔‘‘ یہ سن کر پھر سب کے سب چوکنا ہو جاتے ہیں۔ یہاں سے ایک نیا تجسس پیدا ہو جاتا ہے، اسے کہانی کا وسط کا مرحلہ سمجھنا چاہیے۔
بادشاہ اپنی جیت کی خوشی میں ایک عظیم الشان دعوت کا اہتمام کرتا ہے۔ کھانا اتنا تھا کہ سارا شہر ہی کھانے سے بھر گیا۔ بوڑھا بتاتا ہے کہ سب سے پہلے بادشاہ اور اس کے رشتے داروں نے کھانا کھایا۔ پھر امیروں اور وزیروں کی باری آئی۔ ’’اتنے لوگوں کے کھانا کھاتے کھاتے رات ہو گئی‘‘۔
کسی طرف سے آواز آتی ہے ’’ٹھیک‘‘۔
’’اور سب کے بعد رات کے وقت لاکھوں غریب، غربا اور فقیروں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔‘‘
بوڑھا جیسے ہی یہ بات کہتا ہے سب یک زبان ہوکر بول اٹھتے ہیں ۔ ’’جھوٹ، بالکل جھوٹ۔‘‘
سب بوڑھے کو جھوٹا کہتے ہیں، کیوں کہ رات تھی اور سب کے سب بھوکے تھے اور بھوکے آدمی کو نیند نہیں آتی۔
نیند، سکون اور آرام کی علامت ہے۔ جب نیند ہی نہ آئے تو رات پہاڑ بن جاتی ہے۔ جسے کاٹنے کے لیے کوئی کام نہیں آتا سوائے روٹی کے۔ ان لوگوں کے لیے بھوکے پیٹ، ایک رات ہزاروں سال لمبی رات کے برابر ہوگئی۔
اس کہانی میں ایک بوڑھا مرکزی کردار ہے جو کہانیاں سناتا ہے تاکہ اس کے بھوکے ساتھیوں کو نیند آجائے۔ مگر نیند کیا آتی۔ آخری کہانی نے تو سب کو چیخنے پر مجبور کردیا۔ بوڑھا سب کا ہم درد ہے، وہ خود بھی بھوکا ہے اور کہانی سنا کر خود کو بھی بہلانا چاہتا ہے۔ اس کے دل میں دوسروں کے لیے گہری ہم دردی اور دردمندی ہے۔ بھوک کی وجہ سے اس کی نیند اُڑ گئی ہے لیکن وہ کہانیاں سنا کر دوسروں کو سلانا چاہتا ہے۔ بوڑھا بے حد معصوم بھی ہے کیوں کہ وہ یہ بھول گیا ہے کہ اس کے ساتھی بچّے نہیں ہیں۔ وہ بالغ ہیں، غریب ہیں، بے گھر ہیں، دن بھر محنت کرتے ہیں لیکن محنت کا پھل انھیں اتنا بھی نہیں ملتا کہ پیٹ بھر کھانا ہی کھا لیں۔ کھانا تو پہلے امیروں اور وزیروں کو ملتا ہے۔ ان کا نمبر آتے آتے رات ہو جاتی ہے یا کھانا ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بوڑھے کے علاوہ دوسرے ضمنی کردار بھی ہیں لیکن وہ محض پس منظر کا کام کرتے ہیں۔
کہانی میں ریلوے اسٹیشن کے گردوپیش کا شور و غل سے بھرا ہوا ماحول ہے۔ ان بے گھر لوگوں کا یہی ٹھکانا ہے۔ ایک تو وہ لوگ بھوکے ہیں، دوسرے اسٹیشن کے اطراف انسانوں اور گاڑیوں کا شور شرابہ،یہ دونوں چیزیں ان غریبوں کی نیند کی دشمن ہیں۔
کہانی کی زبان کہانی کے مطابق ہے۔ آسان، رواں اور ڈرامائیت سے بھرپور۔ افسانہ نگار نے ماحول کی تصویر کشی میں بھی اختصار سے کام لیا ہے۔ مکالموں میں بھی چستی اور برجستگی ہے۔ افسانے کا پس منظر نیا ہے لیکن انداز حکائی نوعیت کا(حکایت جیسا) ہے۔ اسی لیے کہانی جوں جوں آگے بڑھتی ہے، تجسس اور گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ ’بالکل جھوٹ‘، بالکل جھوٹ، کہانی کا نقطۂ عروج ہے۔ بوڑھے کا یہ آخری جملہ کہ’’ اگر مجھے بھی نیند آرہی ہوتی تو یہ باتیں کرنے کے لیے جاگتا ہوتا؟ میں بھی تو سو جاتا۔‘‘ بس یہی کہانی کا اینٹی کلائمیکس ہے۔
آپ نے دیکھا کہ ایک افسانہ نگار کس طرح اپنی بات کہتا ہے۔ اب نظم میں خیال کے ارتقا پر غور کرتے ہیں۔

سلام سندیلوی (1917-2000)
اگر انسان کا دماغ بیدار ہو اور ذہن تیز ہو تو اس کو قدم قدم پر موضوعات مل سکتے ہیں۔ ایک افسانہ نگار دوستوں سے باتیں کرتا ہے۔ اس گفتگو کے دوران میں کوئی بات افسانہ کا موضوع بن سکتی ہے۔ سڑک پر چلتا ہوا کوئی انسان اس کے لیے افسانے کی زبان پیدا کر سکتا ہے۔ کسی رسالے کی کوئی تصویر اس کو افسانے کا موضوع پیش کر سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ضروری ہے کہ موضوع کے انتخاب کے بعد لکھنے میں جلدی نہ کرنی چاہیے بلکہ جب موضوع کے تمام پہلو اس کے سامنے آجائیں تب افسانہ نگار کو قلم اٹھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ افسانہ نگار کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صرف انھیں موضوعات پر قلم اٹھائے جن سے بذات خود وہ واقف بھی ہو اور جن سے اس کو دلچسپی بھی ہو ورنہ وہ اپنے افسانے میں روح پیدا نہ کر سکے گا۔
— سلام سندیلوی
سرگرمی5.4
واقعہ، بیان اور زمان ومکاں کی روشنی میں کسی افسانے کا انتخاب کرتے ہوئے، اس میں خیال کے ارتقا کی وضاحتی مضمون لکھیے۔ اپنی بات کی دلیل میں افسانے کے اقتباسات پیش کیجیے۔ اپنے مقالے کو کلاس میں پڑھ کر سنایئے اور ہم جماعتوں اور استاد سے اُن کے تاثرات معلوم کیجیے اور اُن کی روشنی میں اپنی تحریر میں مناسب ردّ وبدل کیجیے۔
سرگرمی 5.5
اپنی پسند کی کسی نظم کا انتخاب کیجیے اور اس میں ادبی اظہار کے اہم نکات واضح کیجیے۔
1.2 نظم میں خیال کا ارتقا
ہر صنفِ سخن کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ زبان کے استعمال کے سلسلے میں بھی ہر صنف کا تقاضا دوسری صنف سے مختلف ہوتا ہے۔ غزل، گیت اور لیرک (Lyric) کی زبان میں بلند آہنگ لفظوں کے بجائے ایسے الفاظ کو ترجیح دی جاتی ہے جن کا سُردھیما ہوتا ہے اور جن سے ہمارے نازک ترین جذبوں کا بھرپور اظہار ممکن ہے۔ بیانیہ شاعری میں واقعے یا واقعات کے بیان کی اہمیت ہے۔ درمیان میں جذباتی صورتیں بھی واقع ہوتی ہیں لیکن یہ جذباتی صورتیں پورے بیانیہ پر حاوی نہیں ہوتیں کیوں کہ غزل یا گیت کی طرح بیانیہ شاعری یا بیانیہ ادب کا مقصد ذات کے تجربے کا اظہار نہیں ہوتا۔ اس میں واقعے یا واقعات کے بیان کے علاوہ کردار نگاری اور جزئیاتی تفصیلات بھی ہوتی ہیں۔ جس واقعے کو بیان کیا جاتا ہے اس کا کوئی دورانِ وقت ہوتا ہے اور کوئی جائے وقوع بھی، جسے ہم زمان و مکاں کا نام دیتے ہیں۔ غزل یا گیت جیسی اصناف سے ہم ان چیزوں کی توقع نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ہر صنفِ ادب میں یکساں طور پرخیال کا ارتقا نہیں پایا جاتا۔
نظم، خیال کے ارتقا کی پابند ہے۔ نظم کی روایتی تعریف یہ ہے کہ اس میں ایک آغاز، ایک وسط اور ایک انتہا ہوتی ہے لیکن ہر نظم اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ اتنا ضرور مانا جاتا ہے کہ اس میں شروع سے آخر تک موتی کی لڑی کی طرح ایک تسلسل اور ربط و ضبط ہونا چاہیے، نقطہ ٔ عروج یعنی Climax ہو یا نہ ہو۔ وہ نظمیں جو بند کی صورت میں کہی گئی ہیں یا جن میں ہر بند کے بعد ٹیپ کے مصرعے دہرائے جاتے ہیں ان میں تسلسل کو قائم رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تسلسل کے علاوہ خیال کے ارتقا میں بھی فطری پن نہیں ہوتا۔ پابند نظموں میں قافیہ بھی خیال کے تسلسل اور ارتقا کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ شاعر کو قافیے کے مطابق اپنے خیال کو ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیش تر جدید شعرا کا رجحان بلاقافیہ یعنی معرّیٰ یا آزاد نظم کی طرف ہے۔ ان میں بحرووزن کی پابندی تو کی جاتی ہے لیکن قافیے کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ اس طرح کی نظموں میں ہی خیال کے ارتقا کی نشان دہی ممکن ہے۔ جن جدید شعرا نے اس قسم کی نئی نظمیں لکھی ہیں، ان میں اخترالایمان کی خاص اہمیت ہے۔ اخترالایمان نے طویل نظمیں بھی کہی ہیں اور مختصر بھی۔ مختصر نظم میں خیال کے ارتقا کو قائم رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ان کی نظم ’اعتماد‘ ایک ایسی ہی معّریٰ نظم ہے۔ آئیے اب ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس نظم میں ادبی اظہاراورخیال کا ارتقا کس طرح ہواہے۔
اعتماد
بولی، خود سَر ہوا، ایک ذرّہ ہے تُو
یوں اڑا دوں گی مَیں، موجِ دریا بڑھی
بولی، میرے لیے ایک تنکا ہے تو
یوں بہادوں گی مَیں، آتشِ تُند کی
اِک لپٹ نے کہا، مَیں جلا ڈالوں گی
اور زمیں نے کہا مَیں نگل جاؤں گی
مَیں نے چہرے سے اپنے اُلٹ دی نقاب
اور ہنس کر کہا، مَیں سلیمان ہوں
ابن آدم ہوںمیں،یعنی انسان ہوں میں
اختر الایمان

اخترالایمان (1915-1996)
سرگرمی5.6
اپنی پسند کی کسی نظم کا انتخاب کیجیے اور اس میں ادبی اظہار کے درجِ ذیل نکات پر روشنی ڈالیے:
(i) موضوع
(ii) خیال/ تجربہ کی تحریک اور پیش کش
(iii) فنّی محاسن (صنائع بدائع وغیرہ)
(iv) منظر نگاری / جزئیات نگاری
(v) صوتی آہنگ
(vi) زبان وبیان
(viii) آپ کے محسوسات
تنہائی
پھر کوئی آیا دل زار، نہیں کوئی نہیں
راہ رو ہوگا، کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سوگئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلادیے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں، بڑھاؤ مئے ومینا وایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کرلو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا
— فیض احمد فیضؔ

فیض احمد فیضؔ (1911-1984)
سرگرمی 5.7
فیض احمد فیضؔ کی نظم ’تنہائی‘ کا بہ غور مطالعہ کیجیے اور بتایئے کہ اس میں خیال کا ارتقا کس طرح سے ہورہا ہے؟ نظم کے درجِ ذیل فقروں کو کئی بار پڑھیے۔ اس سے آپ کو اپنی بات کی وضاحت میں کافی مدد ملے گی۔ پھر کوئی آیا، کہیں اور چلا جائے گا، ڈھل چکی، بکھرنے لگا، لڑکھڑانے لگے، سوگئی، دھندلادیے، گل کرو، بڑھادو، مقفّل کرلو، کوئی نہیں آئے گا۔
1.2.1 نظم ’اعتماد‘ میں ادبی اظہار اور خیال کا ارتقا
اختر الایمان کی نظم ’’اعتماد‘‘ (9) مصرعوں پر مشتمل ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اردو میں مصرعہ اسی کو کہتے ہیں جو اپنے مفہوم میں مکمل ہوتا ہے۔ غزل کے مصرعوں پر بھی یہ شرط عائد ہوتی ہے۔ دوسرا مصرعہ پہلے مصرعے کے مضمون سے متعلق دلیل یا جواز کے طور پر واقع ہوتا ہے یا اس کی مزید توسیع و تکمیل کرتا ہے۔ کہیں کہیں شاعروں نے اس روایت کو توڑا بھی ہے۔ لیکن عموماً اس روایت کا خیال رکھا گیا ہے۔ عام طور سے معرّیٰ نظموں میں بھی ہر مصرعہ اپنے مضمون و مفہوم کے لحاظ سے مکمل ہوتا ہے۔ لیکن اخترالایمان کی نظموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اکثر مصرعے مکمل مفہوم ادا نہیں کرتے۔ وہ تواتر کے ساتھ ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں جسے انگریزی میں run on line کی تکنیک کہا جاتا ہے۔ اخترالایمان نے اپنی نظم، ’اعتماد‘میں اسی تکنیک کا استعمال کیا ہے جس کے باعث درمیان میں خیال کہیں ٹوٹتا نہیں ہے۔ خیال کے ارتقا کے ضمن میں اسے ایک عمدہ مثال سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے اس نظم کے مصرعوں پر غور کیجیے۔ ابتدائی پانچوں مصرعے مفہوم کے لحاظ سے مکمل نہیں ہیں۔ ایک مصرعہ دوسرے مصرعے کے ساتھ مل کر مفہوم ادا کر رہا ہے اورہر مصرعہ ایک دوسرے سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ ایک لڑی سی بن گئی ہے۔ خیال کا سلسلہ کہیں نہیں ٹوٹتا۔
سوال یہ ہے کہ اس نظم میں خیال کا ارتقا کس طرح ہوا ہے؟ ہمیں سب سے پہلے عنوان پر غور کرنا ہوگا۔ اس کے بعد نظم کو شروع سے آخر تک ایک سے زیادہ بار پڑھنے کے بعد ہی ہم یہ سمجھ سکیں گے کہ شاعر نے نظم کا یہ عنوان کیوں رکھا ہے۔ نظم کے اور بھی بہت سے عنوان ہو سکتے ہیں لیکن شاعر کے نزدیک یہی عنوان اُن کے طرز احساس سے مطابقت رکھتا ہے۔ اخترالایمان کی نظموں کے عنوانات عموماً نظم کے موضوع سے براہِ راست مطابقت رکھتے ہیں۔ اس نظم میں بھی نظم کے عنوان اور نظم کے موضوع ومفہوم میں براہِ راست تال میل ہے۔ اس تال میل کا نظم کے ابتدائی حصے میں پتا نہیں چلتا۔ نظم کے آخری تین مصرعوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر نے نظم کا عنوان ’’اعتماد‘‘ کیوں رکھا ہے۔
اختر الایمان کی پیشِ نظر نظم بغیر کسی تمہید کے یک لخت شروع ہوتی ہے۔ انھوں نے اکثر نظمیں اسی تکنیک میں لکھی ہیں۔ نظم میں دو چیزیں فوراً اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ ایک ڈرامائیت اور دوسرے غیر مرئی چیزوں جیسے ہوا، موجِ دریا، آتش یا زمین کو ذی روح کے طور پر تجسیم (Personify ) کرنے کا عمل۔ یہ دونوں تکنیکیں خیال کے ارتقائی عمل میں معاون ثابت ہوئی ہیں۔
شاعر نے اعتماد پر مبنی خیال کو اپنی انتہا پر پہنچانے کے لیے ہوا، موجِ دریا، آتشِ تُند اور زمین (مراد مٹی)کے کردار تشکیل کیے ہیں۔انسانی وجود کو بھی انہی چاروں عناصر کی ترتیب یا مرکّب کا نام دیا گیا ہے۔ ہوا کو خود سرکہا گیا ہے جو بڑے اعتماد کے ساتھ، اُڑا دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ دریا کی موج بھی پورے اعتماد کے ساتھ تنکے کی طرح بہادینے کی دھمکی دیتی ہے۔ آتشِ تُند بھی جلا کر خاک کر دینے کا دعویٰ کرتی ہے اور زمین پُراعتماد لہجے میں نگل جانے کی بات کہتی ہے۔ ان تمام کرداروں کا خطاب کس سے ہے؟ ابھی تک ہم اس سے لاعلم تھے۔ ساتویں مصرعے میں انکشاف ہوتا ہے کہ خطاب انسان سے ہے ۔ جسے ایک انتہائی کم زور مخلوق سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہوا کے زور، دریا کے تمّوج اور آگ کی تُندی میں بلا کی قوت ہے۔ زمین کی گہرائیوں میں بھی سمونے کی بڑی وسعت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فطرت کے سامنے انسان ایک بے حد کم زور ہستی کے طور پر نظر آتا ہے۔ اسی لیے فطرت کے یہ عناصر اپنی طاقت کے غرور میں انسان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ان کی دھمکی میں غرور ہے اور پورا اعتماد بھی ۔ ان سب کے اعتماد کو اس وقت ٹھیس پہنچتی ہے جب انسان اپنے چہرے سے ہنس کر نقاب اُلٹ دیتا ہے۔ ہنسی انسان کے اعتماد کی مظہر ہے یعنی وہ پورے اعتماد کے ساتھ یہ راز فاش کرتا ہے کہ میں کوئی اور نہیں انسان ہوں اور حضرت سلیمانؑ میرے ہی بزرگوں میں سے تھے۔ جن کے قبضے میں تمام چرند پرند تھے اور ان چاروں عناصر یعنی پانی، ہوا، آگ اور زمین پر بھی ان کی حکومت تھی۔ نظم کا کلائمیکس آخری مصرعے کا آخری فقرہ یعنی ’انسان ہوں‘ ہے۔شاعر نے انسان کو حضرت سلیمانؑ کی وراثت کا امین قرار دیا ہے۔
آپ نے دیکھا کہ نظم میں شاعر نے جس خیال کو پیش کیا ہے اس کی بنیاد ’اعتماد‘ پر ہے۔ یہ اعتماد فطرت کے ان تمام عناصرمیں بھی ہے جو قوی ہیں اور جنھیں گمان ہے کہ انسان کو زیر کرنایا مٹا دینا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے کیوں کہ انسان ان کے نزدیک ایک کمزور ہستی ہے۔ انسان جب جواباً اپنی طاقت کا راز کھولتا ہے تو اس کے لہجے میں غرور ہے نہ دھمکی کا انداز۔ اُسے فکر اور عمل کی جو قوتیں عطا ہوئی ہیں ان کے زور پر وہ فطرت کو زیر کرتا رہا ہے، اسے تراشتا خراشتا رہا ہے، اسے اپنے موافق بناتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں سے قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ نظم میں انسان کے معنی انسانیت کے اس وسیع تر سلسلے کے ہیں جو گزشتہ بے شمار صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ درحقیقت یہی وہ خیال ہے جو انسان کے اندر اعتماد کی لَو روشن رکھتا ہے۔ ایک انسان کی موت، انسانیت کی موت نہیں ہے۔ فطرت کے عناصر یعنی پانی، ہوا، آگ اور مٹّی اسے ڈرا نہیں سکتے۔انسان اپنے اعمال کے ذریعے ماضی سے جڑا ہوا ہے۔ اور اسی طرح سلسلۂ حیات جاری ہے۔ یہ تصور نظم میں ایک خیال کی صورت میں آگے بڑھتا ہے اور درجہ بدرجہ ارتقا کے مراحل طے کرتا ہے۔







سرگرمی 5.8
دو الگ الگ نظموں کا انتخاب کیجیے ایک پابند نظم اور ایک آزاد نظم۔ ان دونوں میں خیال کے ارتقا کا جائزہ لیجیے۔

مسعود حسن رضوی ادیب (1893-1975)
لفظ کی مناسبت خیال سے بہ اعتبار معنی کے ایک ہی بات کئی طرح سے کہی جا سکتی ہے مگر سب سے اچھا طرز ادا وہ ہے جو ایک کی بات ہی دوسرے تک نہ پہنچا دے بلکہ بات کے ساتھ دل کی حالت بھی دکھا دے یعنی جس سے کہنے والے کے صرف خیالات ہی معلوم نہ ہو جائیں بلکہ وہ جذبات بھی سمجھ میں آجائیں جو اُن خیالوں کے ساتھ دل میں پیدا ہوئے تھے۔ جب تک لفظوں کے انتخاب میں اِس بات کا لحاظ نہ کیا جائے گا اُس وقت تک کلام میں شعریت پیدا ہی نہ ہوگی۔
ـ مسعودحسن رضوی ادیب