باب 2
تخلیقیت اور تحریر -II
تحریر کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ادبی، دوسری علمی یا وہ تحریر جس کا تعلق غیرادبی اصناف سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تحریر ادبی نہیں ہوتی۔لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قدرت نے ہر انسان کو کچھ نہ کچھ تخلیقیت کے جوہر سے نوازا ہے تو اس کے معنی یہ بھی ہوئے کہ ہماری تخلیقیت کا اظہار محض ادبی تحریر تک ہی محدود نہیں ہوتا۔ ہم اپنی عملی زندگی کے مختلف شعبوں میں بھی اس جوہر سے کام لیتے رہتے ہیں۔ تخلیقیت ہمارے طرز اِحساس اور طرزِ زندگی کو انفرادیت بخشتی ہے اور یہی وہ جوہر ہے جو تحریر کو دل کش اور منفرد بناتا ہے۔ اس طرح کی تحریر کو ادبی تحریر کہا جاتا ہے۔
ادبی تحریر کی تشکیل میں درجِ ذیل امور کی بنیادی اہمیت ہے:
› تخیل کی سرگرمی › احساس کا عمل
› جذبات کی نمائندگی › الفاظ کو برتنے کا سلیقہ
› صنائع وبدائع کا استعمال
› تخیل کی سرگرمی
قدرت نے تخیل کی صلاحیت سے کم و بیش ہر انسان کونوازا ہے۔ کسی میں یہ صلاحیت زیادہ ہوتی ہے کسی میں کم۔ زندگی کے رنگا رنگ تجربات ومشاہدات سے تخیل کی صلاحیت کو جِلاملتی ہے۔ جس کا مشاہدہ بسیط اور مطالعہ وسیع ہوتا ہے، اس کے تخیل کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے۔ بچّے کے علم و تجربے کی دنیا محدود ہوتی ہے اس لیے اس کے تخیل کی سرگرمی کی بھی ایک حد ہے۔ وہ محض نقل کرتا ہے لیکن کسی بھی نقل کے عمل کو تخیل کے عمل سے عاری نہیں کہا جاسکتا۔نقل کرنے والا یہی چاہتا ہے کہ نقل، اصل کی جگہ لے لے ۔یعنی نقل و اصل میں کوئی فرق نہ ہو۔ جب کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر نقل کے عمل کے پہلو بہ پہلو تخیل کا خاموش عمل بھی جاری رہتا ہے۔ جس کی بنا پر نقل کردہ شے اصل کا درجہ تو نہیں پاتی لیکن ایک نئی حقیقت کی شکل ضرور اختیار کر لیتی ہے۔ تخلیقی فن کار بھی اپنے تجربات کوکئی طرح کی تبدیلیوں سے گزارتا اور انھیں ایک نئی ترتیب و تنظیم بخشتا ہے۔ اسی کو مختلف حقائق سے ایک نئی حقیقت کے خلق کرنے کا عمل کہتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہی باز تخلیق یا Recreation کا عمل کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کا یہ شعر دیکھیے :
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
آسمان پر چمکنے والے ستارے معمول کا مظہر ہیں یہ وہ نظارہ ہے جسے ہم اور آپ روزانہ رات کو آسمان پر دیکھتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آسماں سے پرے بھی کئی دنیائیں آباد ہیں۔ ہماری بینائی کی رسائی صرف ان تاروں تک محدود ہے لیکن اس کے آگے بھی بہت کچھ ہے۔ اقبال نے اس حقیقت کو اپنے تخیل کی پرواز سے ایک نیا رنگ دیا اور اس خیال کو بہت خوب صورتی کے ساتھ اس مصرعے میں بیان کردیا کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر آیا کہ تجربات ومشاہدات سے تخیل کی صلاحیت کو جلا ملتی ہے، اقبال نے ایک عام مشاہدے کو اپنے تخیل کی بلند پروازی سے ایک نیا مشاہدہ بنا دیا۔ گویا یہ عام مشاہدے کی باز تخلیق ہے۔
شبلی نعمانی (1857-1914)
قوتِ تخیل ایک چیز کو سوسو دفعہ دیکھتی ہے اور ہر دفعہ اُس کو اِس میں ایک نیا کرشمہ نظر آتا ہے۔ پھول کو تم نے سیکڑوں بار دیکھا ہوگا اور ہر دفعہ تم نے صرف اس کے رنگ و بو سے لطف اٹھایا ہوگا لیکن شاعر قوتِ تخیل کے ذریعے سے ہربار نئے نئے پہلو سے دیکھتا ہے اور ہر دفعہ اس کو نیا عالم نظر آتا ہے۔
— شبلی نعمانی
عزّت نفس اور اخلاقیات کی تربیت اور بچوں میں تخلیقی اُپج (Creativity) کے فروغ کی ضرورت کو اوّلیت دی جانی چاہیے۔ دنیا کی تیز رفتار تبدیلی اور عالمی سطح پر مسابقتی تناظر میں یہ ضروری ہے کہ ہم بچوں کے فطری شعور اور تخیل کی قدر کریں۔
قومی درسیات کا خاکہ— 2005
احساس کا عمل‹
عام زندگی میں تجربہ حاصل کرنے کے دو ذرائع ہیں۔ ایک ادراک یا تعقل دوسرا احساس۔ کسی شے کو ہر پہلو سے سمجھنے کے لیے ہم اپنی تحقیقی فہم سے کام لیتے ہیں۔ خارجی علم کا حصول ہی ہمارا مدعا نہیں ہوتا بلکہ اس کے باطن کی حقیقت کا پتا لگانا بھی ہمارا مقصد ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک تخلیق کار چیزوں سے احساس کی سطح پر رشتہ قائم کرتا ہے۔ اس کا مقصد اپنے قاری یا سامع کو باقاعدہ کوئی علم مہیا کرانا نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق احساس کے توسط سے ملنے والے محض ایک مخصوص قسم کے علم سے ہوتا ہے جو معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ ہمیں مسرت بخشتا ہے اور ہماری بصیرت میں اضافہ کرتاہے۔مثلاً میر تقی میرؔ کا یہ شعر دیکھیے:
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
اس دنیا میں آنے والے ہر شخص کو اس بات کا احساس ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے اور اسے اس دنیا میں ایک خاص مدّت تک زندگی گزارنے کے بعد واپس لوٹنا ہے۔ اس احساس کے ساتھ یہ خیال بھی ذہن میں رہتا ہے کہ کسی کو اپنی عمر کی مدّت کا علم نہیں ہے۔ نہ جانے کس وقت موت کا فرشتہ آجائے۔ میرؔ نے اس احساس کو تشبیہ کے ذریعے ایک نئے معنی عطا کیے ہیں۔ انھوں نے زندگی کو پانی کے بلبلے کی مانند بتا کر اس کی عدم پختگی کے احساس کو اور مضبوطی عطا کی ہے۔ جس طرح پانی کے بلبلے کی عمر کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی، شاعر کو اپنی ہستی یا زندگی بھی ایسی ہی معلوم ہوتی ہے جس کی مدّت کے متعلق کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی۔ اس طرح اس شعر نے ہمیں مسرت تو عطا کی ہے ساتھ ہی بصیرت میں بھی اضافہ کیا۔
> جذبات کی نمائندگی
تخلیقی فن پارے یا تخلیقی تحریر میں جذبات و احساسات کے اظہار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ شبلی کے نزدیک جذبات کا اظہار ہی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انگریزی کے مشہور شاعر ولیم ورڈ زورتھ کا کہنا تھا:
Poetry is emotions recollected in tranquility.
یعنی شاعری عالم سکون میں جذبات کا اظہار ہے ۔
اس نے دوسری جگہ یہ بھی کہا ہے کہ شاعری جذبات کے بے ساختہ اظہار کا نام ہے ۔شبلی کا بھی یہی تصوّر ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تخلیقی زبان جذباتی زبان ہوتی ہے۔ جذباتی زبان میں تاثیر بھی گہری ہوتی ہے اور وہ فوراً ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ بیش تر انسانی جذبات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔اگر کوئی تخلیق پُرکشش محسوس ہوتی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہ انسانی جذبے ہیں جن کا تعلق فن کار کی ذات سے ہے یا جو پوری انسانیت میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی تخلیق میں جب ہمارے جذبات یا احساسات کی عکاسی نظر آتی ہے تو فطری طور سے ہم اس سے قربت محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فراق گورکھپوری کا یہ شعر دیکھیے:
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
آپ جانتے ہیں شاعری جذبات واحساسات کے اظہار کا نام ہے۔ جن لوگوں سے ہمیں زیادہ محبت ہوتی ہے ان سے وابستہ ہر چیز ہمیں پسند ہوتی ہے۔ ہم ان کے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، بولنے اور خاموش رہنے کے ہر انداز کو پسند کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے احساسات ہماری پسندیدہ شخصیت کی آہٹ کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ فراق نے اسی احساس کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے محبوب کی آہٹ کا بیان کیا ہے۔ انھوں نے محبوب کو ’زندگی‘ سے استعارہ کیا اور اسے دور سے ہی پہچان لینے کے احساس کو خوب صورتی کے ساتھ لفظوں میں ادا کردیا ہے۔
آرٹ اور جمالیات (Art and Aesthetics) میں بہت سے الفاظ مشترک ہوتے ہیں جیسے نغمگی، آہنگ، سُرتال، اظہار (Expression) اور توازن اگرچہ انھیں نئے مفہوم و احساس یا استعمال و اطلاق کی نت نئی شکلوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ آرٹ میں موضوعی فیصلے کرنے کی بڑی گنجائش ہوتی ہے۔ تاہم تنقیدی طور پر یہ جاننے کے لیے کہ کیا اچھا ہے کیا برا۔ فن کارانہ تخیل کی تعلیم و تربیت کی جا سکتی ہے۔
قومی درسیات کا خاکہ— 2005
نیاز فتح پوری (1884-1966)
فنون لطیفہ میں نقاشی و موسیقی سے بھی جمالیاتی لطف اٹھایا جاتا ہے لیکن اس کاتعلق حواس ظاہری سے ہے۔یعنی حواس کی بیرونی تحریک ختم ہوجاتی ہے تو لطف بھی زائل ہوجاتاہے۔برخلاف اس کے، ادبیات کا جمالیاتی لطف کسی بیرونی تحریک سے وابستہ نہیں ہے اور وہ اپنے اثرات بغیر کسی مادی وساطت کے بھی انسان کے ذہن و دماغ پر چھوڑجاتاہے۔
نیاز فتح پوری
› الفاظ کو برتنے کا سلیقہ
جذبات واحساسات کے اظہار کے لیے الفاظ کا انتخاب بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ لکھنے والے کو اس بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے جن الفاظ کا انتخاب کرے، ان میں ادبی حسن پایا جائے، ساتھ ہی جو بات وہ کہنا چاہتا ہے وہ پوری طرح ادا ہوجائے۔ الفاظ اپنی انفرادی حیثیت میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ انھیں استعمال کرنے یا برتنے سے ان کی اہمیت قائم ہوتی ہے۔ لکھنے والا اپنے کسی جملے یا مصرعے کے لیے جو لفظ یا الفاظ منتخب کرتا ہے۔ ان سے لفظ کے معنی اور ان کے تاثر میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسے غالب کا یہ شعر دیکھیے:
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
اس شعر میں غالبؔ نے ’دلِ ناداں‘ کی جو ترکیب استعمال کی ہے وہ کوئی بالکل نئی ترکیب نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی غزل کے اشعار میں نادان دل یا دلِ ناداں کی ترکیب استعمال کی جاتی رہی ہے۔ غالب نے اس ترکیب کو اس سلیقے سے برتا ہے کہ اس کے معنی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ شعر ہر مرتبہ نیا احساس اور نیا تاثر قائم کرتا ہے۔ چوں کہ یہ ترکیب مصرعے یا شعر میں استعمال کی گئی ہے اس لیے اس میں ترنم اور آہنگ کو بھی ذہن میں رکھا گیا ہے۔ اس طرح یہ شعر مجموعی اعتبار سے ہمارے احساسِ جمال کو بھی طمانیت بخشتا ہے۔
›صنائع و بدائع کا استعمال
تخلیقی تحریر عام مروّجہ زبان کو کم ہی قبول کرتی ہے بلکہ تخلیقی تحریر (جیسے شاعری) میں عام بول چال کی زبان سے انحراف کیا جاتا ہے۔ تخلیقی زبان کو مجازی زبان بھی کہتے ہیں۔ یعنی وہ ایسی زبان ہوتی ہے جوعموماً لُغوی معنی کو رد کرتی ہے۔ بحرووزن کی پابندی کی وجہ سے شاعری میں جملوں یا مصرعوں کی ساخت نحوی قواعد کی پابند نہیں ہوتی۔ فعل، فاعل، مفعول کی ترتیب بھی اُلٹ پلٹ جاتی ہے۔ایسی شاعری کی خاص اہمیت ہے جس میں تشبیہات و استعارات میں جدّت و ندرت پائی جائے اور جو مانوس زبان اور جذبوں کو نامانوس بنا کر پیش کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔شعر کو زیادہ معنی خیز بنانے کے لیے استعاروں کے علاوہ تلمیح، حُسنِ تعلیل ، مراعات النظیر وغیرہ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔استعارے کی تفہیم کے لیے یہ مثال دیکھیے :
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتشِ گُل سے چمن تمام
دوسرے مصرعے میں آتشِ گُل استعمال ہوا ہے۔ آتشِ گُل سے مراد ہے ’دہکتا ہوا پھول‘ یا بہت خوب صورت پھول۔ شاعر نے اس مصرعے میں یہ نہیں کہا کہ اس کے محبوب کا حسن آتشِ گُل کے مانند ہے۔ اس نے صرف آتشِ گُل کہا اور ہم نے سمجھ لیا کہ اس کا مطلب دہکتا ہوا پھول نہیں بلکہ جمالِ یار یعنی محبوب کا حسن ہے۔ یہاں لفظ کو اپنے اصل معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ ’وہ لفظ جو اپنے اصلی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے اور دونوں معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہو، اُسے استعارہ کہتے ہیں۔‘
استعارہ لفظ ’مستعار‘ سے بنا ہے جس کے معنی ’ادھار لینا‘ ہے۔ اسی لیے استعارے میں لفظ اپنے لغوی معنی کے بجائے کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ دونوں لفظوں کے مابین کسی خصوصیت کی بنا پر تشبیہ کا تعلق ضرور پایا جاتا ہے۔ تلمیح کی مثال :
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اس شعر میں ابنِ مریمؑ یعنی حضرت عیسیٰؑ کی تلمیح استعمال کی گئی ہے۔ خدا نے حضرت عیسیٰؑ کو یہ معجزہ عطا کیا تھا کہ وہ مُردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے اور بیمار ان کی دعا سے اچھے ہو جاتے تھے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ تخلیقیت محض ادبی فن پارے کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے۔ مختلف علوم کی تحریروں میں بھی تخلیقیت کا جوہر کہیں کہیں اپنا اثر دکھا ہی جاتا ہے۔ ادبی ہو یا غیرادبی، ہر تحریر ایک خاص نظم و ضبط اورہیئت کی تشکیل کا تقاضا کرتی ہے۔ علمی تحریر کا ذریعۂ اظہار زبان ہے اور زبان کی اندرونی قوت کا نام تخلیقی جوہر ہے۔استعارے کو زبان کے جوہر سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ جہاں اس قسم کی زبان سے سابقہ پڑتا ہے وہاں بڑی چمک سی پیدا ہو جاتی ہے۔ سوانحی تحریروں، مکتوبات، تنقیدی مقالات، روزنامچوں اور مختلف نوعیت کے مضامین میں جزوی طور پر اس قسم کی اتفاقی صورتیں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر ایسی
تحریروں کا شمار غیرافسانوی اصناف میں کیا جاتا ہے۔
سرگرمی 5.9
اپنی فائل میں کچھ ایسے اشعار کا انتخاب کیجیے جو تشبیہ، استعارہ اور صنائع بدائع سے مرصع ہوں۔
شاعری کی سب سے پہلی علامت موزونی طبع سمجھی جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو اشعار بعضے فاضلوں سے موزوں نہیں پڑھے جاتے ان کو بعض ان پڑھ اور صغیر سن بچے بلا تکلف موزوں پڑھ دیتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ شاعری کوئی اکتسابی چیز نہیں ہے۔ بلکہ بعضی طبیعتوں میں اس کی استعداد خدا داد ہوتی ہے۔
الطاف حسین حالیؔ (1837-1914)
2.1 شا عری
موسیقی، مصوّری، مجسمہ سازی، رقص وغیرہ دیگر فنونِ لطیفہ کی طرح شاعری بھی ایک فنِ لطیف ہے۔ یہ انسانی جذبات کالفظی اظہار ہے۔ اس کا بنیادی مقصد لطف اندوزی ہے۔ چوں کہ شاعری میں جذبے اور احساس کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے دو اور دو،چار کے اصول پر نہیں پرکھا جا سکتا ہے۔جذبات اور احساسات کا اظہار ہم نثر میں بھی کرتے ہیں۔ لیکن نثر اور شعر میں اظہار کی سطح مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً ہمارا کوئی دوست ہم سے رخصت ہو رہا ہو تو ہم اس سے کہتے ہیں خدا کرے، آپ سے دوبارہ جلد ملاقات ہو۔ ہماری دلی خواہش کا یہ نثری اظہار ہے۔ لیکن اسی بات کو اگر ہم اس طرح کہیں کہ خدا کرے آپ ایک بار جائیں اور ہزار بار آئیں تویہ ہماری خواہش کا شعری اظہار ہوا۔ اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ آپ کی عمر دراز ہو تو یہ نثری اظہار ہوا لیکن اسی بات کو اگر یوں کہا جائے کہ آپ قیامت تک سلامت رہیں اور خدا کرے قیامت کبھی نہ آئے تو ہمارا یہ بیان شعری بیان ہوگا۔ کسی آدمی کا قیامت تک زندہ رہنا ممکن نہیں اور یہ بھی ممکن نہیں کہ قیامت کبھی نہ آئے۔ لیکن دل سے پوچھیے تو وہ یہی کہتا ہے۔ اسے ہم شاعرانہ خیال کہیں گے۔ ہمارا یہی خیال جب موزوں الفاظ کے سہارے ایک خاص طریقے سے ادا ہوتا ہے تو ہم اسے شاعری کہتے ہیں۔ وہ خاص طریقہ کیا ہے؟ کیسے ہمارا شاعرانہ خیال شعر یا شاعری بن جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب ہم اپنے خیالات، تجربات اور مشاہدات کومنتخب الفاظ میں وزن، بحر یا آہنگ کا خیال رکھتے ہوئے تخلیقی انداز میں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جذبات و احساسات کا غلبہ ہو تو اسے شاعری کہتے ہیں۔ تخیل، مشاہدے اور مناسب ذخیرۂ الفاظ کے بغیر شاعری ممکن نہیں۔ اپنے تاثرات اور احساسات کو ابھارنے کے لیے شاعر تشبیہ، استعارے، تلمیح، رمز و کنایے اور مبالغے سے حسبِ ضرورت کام لیتا ہے۔
اردو میں شاعری کی بہت سی اصناف ہیں مثلاً قصیدہ، غزل، مثنوی، مرثیہ، نظم، گیت، رباعی وغیرہ۔ اس باب میں غزل اور گیت پر روشنی ڈالی جائے گی۔
شاعری صرف محسوسات کی تصویر نہیں کھینچتی بلکہ جذبات اور احساسات کو بھی پیشِ نظر کر دیتی ہے۔ دھندلی چیزیں چمک اٹھتی ہیں، مٹا ہوا نقش اجاگر ہو جاتا ہے، کھوئی ہوئی چیز ہاتھ آجاتی ہے۔ خود ہماری روحانی تصویر جو کسی آئینے کے ذریعے سے ہم نہیں دیکھ سکتے، شعر ہم کو دکھا دیتا ہے۔
- شبلی نعمانی
سرگرمی 5.10
اپنی پسند کی پانچ غزلوں کو خوش خط لکھ کر اُن کے نیچے قافیہ، ردیف، مطلع، حسنِ مطلع اور مقطع کی نشان دہی کیجیے۔ تراکیب اور اس کے معنی بھی لکھیے۔
• غزل
’’غزل‘‘ اردو شاعری کی خاص صنف ہے۔ لغت کے اعتبار سے یہ عربی لفظ ہے جس کے معنی عشق و محبت کی باتیں کرنا ہے۔ ابتدائی دور کی غزلوں میں عام طور پر حسن و عشق، تصوف ، رندی و سرمستی اور فلسفہ وغیرہ کے مضامین بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم بعد کے شعرا نے غزل کو انھیں مضامین تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس میں حیات و کائنات کے مختلف مضامین کو موضوع بنایا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزل میں زندگی کے ہر رنگ کو سمونے کی گنجائش موجود ہے۔اس لیے رشید احمد صدیقی نے کہا تھا کہ : ’’غزل اردو شاعری کی آبرو ہے۔ ہماری تہذیب غزل میں اور غزل ہماری تہذیب میں ڈھلی ہے۔‘‘
• ہیئت
غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے اور اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ اگر دوسرے شعر کے دونوں مصرعے بھی ہم قافیہ ہوں تو اُسے مطلعِ ثانی کہتے ہیں۔ تیسرا شعر بھی مطلع کی طرح کہا گیا ہو، یعنی دونوں مصرعوں میں قافیے کی پابندی کی گئی ہو، تو اسے مطلعِ ثالث کہتے ہیں۔ مطلعے کے بعد آنے والا شعر ’حسنِ مطلع‘ کہلاتا ہے۔ غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ لیکن غزل میں تخلص کا ہونا لازمی نہیں۔ غزل کے تمام اشعار ہم وزن ہوتے ہیں۔
غزل کے اشعار معنوی اعتبار سے باہم مربوط نہیں ہوتے بلکہ اس کا ہر شعر مضمون کے لحاظ سے مختلف اور اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔ غزل کے تمام اشعار ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ عام طور پر غزل میں ردیف بھی ہوتی ہے۔ لیکن ہر غزل میں ردیف کا ہونا ضروری نہیں ۔ جن غزلوں میں ردیف نہیں ہوتی، انھیں ’غیرمردّف‘ غزل کہتے ہیں۔ غزل کی ایک مخصوص ہیئت ہوتی ہے جس میں مطلع، حسنِ مطلع، قافیہ اور ردیف وغیرہ کی خاص اہمیت ہے۔
غزل میں اشعار کی تعداد مقرر نہیں ہے۔ البتہ کلاسیکی شعرا نے کم از کم پانچ اشعار کی پابندی کی ہے ۔ اگر ایک ہی زمین میں دو یا تین غزلیں کہی جائیں تو انھیں ’دوغزلہ ‘ اور ’سہ غزلہ ‘کہتے ہیں۔ غزل کے سب سے اچھے شعر کو بیت الغزل، شاہ بیت یا حاصلِ غزل کہا جاتا ہے۔ غزل کی مقبولیت میں اس کی ہیئت اور مضامین کی رنگارنگی کا بڑا دخل ہے۔
سرگرمی 5.11
اپنی پسند کی کوئی غزل لیجیے اور اس کے اشعار میں تخیل ، احساس اور جذبات کا جائزہ لیجیے۔
اے عشق! کہیں لے چل!
اِ ن چاند ستاروں کے بکھرے ہوئے شہروں میں
ان نوٗر کی کِرنوں کی ٹھہری ہوئی نہروں میں
ٹھہری ہوئی نہروں میں، سوئی ہوئی لہروں میں
اے خِضرِ حسیں! لے چل، اے عشق! کہیں لے چل!
آنکھوں میں سمائی ہے اِک خواب نُما دُنیا
تاروں کی طرح رَوشن مہتاب نُما دُنیا
جنّت کی طرح رنگیں، شاداب نُما دنیا
!لِلّٰہ ! وہیں لے چل! اے عِشق کہیں لے چل
یہ درد بھری دُنیا بستی ہے گُناہوں کی
دِل چاک اُمیدوں کی، سفّاک نِگاہوں کی
ظُلموں کی، جفاؤں کی، آہوں کی، کراہوں کی
ہَیں غم سے حزیں، لے چل! اے عِشق کہیں لے چل!
قُدرت ہو حمایت پر، ہمدرد ہو قِسمت بھی
سلمٰی بھی ہو پہلوٗ میں، سلمٰی کی محبّت بھی
ہر شے سے فراغت ہو، اَور تیری عِنایت بھی
اے طِفل حسیں لے چل، اے عِشق! کہیں لے چل!
ہم پریم پُجاری ہیں، تو پریم کنھیّا ہَے
ہم پریم کنھیّا ہیں، یہ پریم کی نیّا ہَے
یہ پریم کی نیّا ہے، تو اِس کا کھِویّا ہَے
کُچھ فِکر نہیں، لے چل! اے عِشق! کہیں لے چل!
• غزل کی روایت
غزل کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کی ابتدا عربی قصیدے سے ہوئی۔ قصیدے کا ابتدائی حصّہ جسے تشبیب کہا جاتا ہے اس میں عام طور پر حسن و شباب اور بہار کا ذکر ہوتا تھا۔ عربی قصیدہ ایران پہنچا تو فارسی میں اسی طرز پر قصیدے کہے جانے لگے اور قصیدے کا یہ ابتدائی حصّہ الگ سے شاعری کی ایک صنف بن گیا جو ’غزل‘ کہلایا۔ جب یہ غزل فارسی سے اردو میں آئی تو ہمارے شعرا نے بہت جلد اسے اپنے ماحول میں ڈھال کر ایک مقبول صنف کا درجہ عطا کردیا۔ اردو شعرا نے اسے اپنے جذبات، حالات اور کیفیات کا ترجمان بنایا۔ اس کو خوب صورت اور دل کش لہجہ دیا۔ نرمی، شیرینی، بے ساختگی، لطافت اور نغمگی غزل کی خصوصیات ٹھہریں۔
جنوبی ہند میں سولھویں صدی کے آخر اور سترھویں صدی کی ابتدا میں غزل کو ترقی ملی۔ محمد قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر تھا۔ ولیؔ دکنی نے غزل کی روایت کو مستحکم کیا۔ ان کے اثر سے شمالی ہند میں اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
اٹھارھویں صدی اردو شاعری کا سنہرا دور ہے۔ اس عہد میں میرؔ، سوداؔ اور دردؔجیسے باکمال شعرا نے غزل کی روایت کو فروغ دیا۔ مصحفیؔ، آتشؔ اور ناسخؔ نے غزل کو نئے رنگ و آہنگ سے آشنا کیا۔بعد میں غالبؔ نے غزل کو فکروفن کی بلندیاں عطا کیں اور اقبالؔ نے اسے فکروفلسفے سے متعارف کرایا۔ بیسویں صدی میں شادؔ، اصغرؔ، فانیؔ، حسرتؔ، یگانہؔ، فراقؔ اور جگرؔنے غزل کو جدید رنگ دیا۔
ترقی پسند شعرا میں جذبیؔ، فیضؔ، مجروحؔ اور ساحرؔ نے غزل پر خاص توجہ کی۔ اس زمانے کے نمائندہ غزل گو شعرا میں ناصرؔکاظمی، خلیل الرحمن اعظمی، ابنِ انشا، شادعارفی اور منیر نیازی کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے بعد احمد مشتاق، شہزاد احمد، ظفراقبال، محمد علوی، بانیؔ، شہریارؔ، حسن نعیم اور عرفان ؔ صدیقی وغیرہ کی غزلیں کئی اعتبار سے متوجہ کرتی ہیں۔ اردو غزل کا سفر آج بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
• غزل کیسے لکھیں
شاعرکے لیے کہا جاتا ہے کہ موزوں طبع ہونا ضروری ہے۔ موزوں طبع ہونے کے معنی ہیں ’شاعری کے لیے طبیعت کا موافق ہونا۔‘ یعنی شعر گوئی کی وہ صلاحیت جو فطرت کی طرف سے بخشی جاتی ہے۔ جس کے باعث وہ تخلیقیت کی طرف مائل ہوتا ہے یا طبیعت، تخلیق کی طرف خود بخود مائل ہوتی ہے۔ لیکن محض موزوں طبع ہونا ہی شرط نہیں ہے، اپنی فطری تخلیقی صلاحیت کو مسلسل مشق کے ذریعے قائم رکھنا اور جلا بخشنا بھی ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا لازمی ہے کہ اگر آپ شعر کہنا چاہتے ہیں تو یہ نہ سوچیں کہ آپ موزوں طبع ہیں کہ نہیں کیوں کہ موزوں طبع ہونے یا نہ ہونے کا کوئی حتمی پیمانہ نہیں ہے۔ آپ کے اندر شعر کہنے کی خواہش اگر پیدا ہوئی ہے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کے اندر سے کوئی آواز اٹھی ہے اور وہ کچھ نہ کچھ تخلیق کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ گویا آپ میں تخلیقی حِس پہلے سے موجود تھی اسے ابھرنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔
مثلاً آپ غزل کہنا چاہتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ غزل آپ کی پسندیدہ صنف ہے۔ آپ نے بہت سی غزلیں سنی اور پڑھی ہوں گی، جن سے آپ لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔ آپ شاید بعض غزلوں کو گنگناتے بھی ہوں گے۔ گنگناتے ہوئے آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ غزل کا ہر مصرعہ ایک خاص صوتی توازن اور خوش آہنگی کے ساتھ مربوط ہے، جو پڑھنے، سننے اور گنگنانے میں بھی ایک خاص لطف عطا کرتا ہے۔ جو غزلیں اپنے ترنُّم کی کیفیت کے باعث آپ کو مرغوب ہیں، انھیں آپ بار بار پڑھیں، سُنیں اور گنگنائیں تو کچھ عرصے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے اندر آہنگ کا ایسا شعور پیدا ہو گیا ہے جسے عام معنی میں وزن شناسی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ عروض، شعر کا وزن جانچنے کا علم ہے۔ ہر شاعر اس علم سے واقف نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ایک مشکل فن ہے۔ جنھیں علمِ عروض پر پوری دسترس ہوتی ہے انھیں عام طور پر ’استاد‘ کہا جاتا ہے۔ اکثر شعرا اُن سے یہ فن سیکھتے ہیں یا اپنی شعری تخلیق میں صحیح و غلط کی نشان دہی کے لیے ان سے مشورہ لیتے ہیں۔ اردو میں شروع ہی سے استادی شاگردی کی یہ روایت چلی آرہی ہے۔ جس نے ایک مکتب کی شکل اختیار کر لی تھی۔
سرگرمی 5.12
اپنی پسند کی کسی ایک غزل کے سب سے اچھے شعر (بیت الغزل، شاہ بیت) کو جلی حروف میں خوش خط لکھ کر بلیک بورڈ پر ٹانگیے۔ اس شعر کے مختلف معنوی اور فنّی پہلووں پر غور کیجیے۔ اس سلسلے میں ہم جماعتوں، اساتذہ اور والدین سے بھی مدد لیجیے۔ کلاس میں استاد کی جگہ کھڑے ہوکر اس شعر کی تشریح کیجیے۔
سرگرمی 5.13
غزل کی صنف سے متعلق کچھ معروف ادیبوں اور شاعروں کے اقوال چارٹ میں پیش کیجیے۔
سرگرمی 5.14
غزل کی تخلیق کے ضمن میں کچھ ممکنہ نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے غزل کہنے کی کوشش کیجیے۔
غالب ؔ (1797-1869)
سرگرمی 5.15
آہنگ، موزونیت، اختصار، جامعیت، دل کشی، تاثیر وغیرہ غزل کے اشعار کی اہم خصوصیات ہیں۔ قافیہ ، ردیف، مطلع، مقطع وغیرہ غزل کی شناخت ہیں۔ ان پہلوؤں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہر طالب علم کم ازکم پانچ اشعار کی غزل کہے۔ کسی روز کلاس میں مشاعرے کا اہتمام کیا جائے اور کلاس کا ہی کوئی طالب علم مشاعرے کی نظامت کرے۔ مہمان کے طور پر پرنسپل، اردو کے سبھی اساتذہ اور چند مقامی شاعروں کو بھی مدعو کیا جاسکتا ہے۔
آپ کو پہلے ہی سے یہ علم ہے کہ غزل کسے کہتے ہیں۔ اس کے لُغوی معنی کیا ہیں۔ قافیہ اور ردیف کسے کہتے ہیں۔ غزل میں مطلع اور مقطع کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ ہم یہاں صرف یہ بتائیں گے کہ غزل کہنے سے پہلے آپ کو کس طرح کی مشق کرنی ہے۔ مثال کے لیے ہم غالبؔ کی غزل کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے چند اشعار درج ہیں :
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اِس درد کی دوا کیا ہے؟
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا اِلٰہی! یہ ماجرا کیا ہے؟
میں بھی مُنہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش! پوچھو کہ ’’مُدّعا کیا ہے؟‘‘
ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمیّد
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مُفت ہاتھ آئے تو، بُرا کیا ہے؟
— غالبؔ
مشق کے طور پر آپ اس غزل کو تنہائی میں بہ آواز بلند بار بار پڑھیں، ممکن ہو تو ترنُّم کے ساتھ گائیں۔ فلم غالب میں بھی اِسے اس دور کی ایک بے حد ممتاز اداکارہ ثریّا نے نہایت دل کش آواز میں پیش کیا تھا۔ اگر اسی کی نقل کی جائے تو غزل سے ملنے والا لطف دوبالا ہو جائے گا اور آپ کو بار بار دُہرانے میں اُکتاہٹ محسوس نہیں ہوگی۔ چوں کہ آپ مشق کر رہے ہیں اس لیے ان اشعار کے معنی و مفہوم پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب آپ اس غزل کو کئی مرتبہ دُہرائیں تو اسی بحر اور اسی وزن میں غالب کی دوسری درجِ ذیل مشہور غزل کو ترنُّم سے بار بار گانے کی کوشش کریں۔
کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی
کعبہ کس مُنہ سے جاؤگے غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی
غالب
اوپر دی ہوئی غزل کو جب آپ کئی مرتبہ بہ آواز بلند پڑھ لیں اور ترنُّم سے ادا کر لیں تو آپ یہ کوشش کریں کہ اسی ترنُّم میں کچھ الگ
الگ مصرعے لکھ سکیں۔ ممکن ہے پہلی کوشش میں آپ کو کامیابی نہ ملے۔ لیکن جب آپ بار بار کوشش کرتے رہیں گے تو ضرور کامیاب ہوں گے۔ اور اسی وزن پر کوئی نہ کوئی مصرعہ کہنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ آپ یہ نہ سوچیے کہ یہ مصرعے کتنے بے معنی، پُھسپھُسے یا بے وزن ہیں۔ ہر فن ، صبر، استقلال اور مشق کا تقاضا کرتا ہے۔ یہاں ہم اسی بحر و وزن میں چند مصرعے درج کرتے ہیں جن کے پیچھے کسی خاص کوشش کا دخل نہیں ہے۔ ہمارے لیے شاید یہ آسان تھا۔ آپ کو بس یہ دیکھنا ہے کہ یہ مصرعے بامعنی ہیں لیکن دوسرے مصرعے کے بغیر ادھورے بھی ہیں۔ ہم نے آپ کی تربیت کے لیے اور نمونے کے طور پر یہ مصرعے کہے ہیں۔ اسی طرح آپ بھی کہنے کی کوشش کریں:
ہم نے اپنی زباں نہیں کھولی
زندگی کا یہی تماشا ہے
آخرِ کار یہ تو ہونا تھا
تیری نظروں میں ہم نے دیکھا ہے
تیری یادوں کی فصل آئی ہے
ہم نے دیکھی ہے دوستی تیری
دل ہی دل میں خیال آیا تھا
روشنی کس طرف سے آئی تھی
یہ تمام مصرعے ایک ہی بحر و وزن میں ہیں۔ آپ اسی طرح بہت سے مصرعے کہنے میں کامیاب ہو جائیں تو غالبؔ کی زمین میں یعنی اسی
قافیے اور ردیف میں شعر کہنے کی کوشش کریں جس کا استعمال غالبؔ نے کیا ہے۔ اپنی غزل کلاس ٹیچر کو دکھائیں یا انھیں سنائیں۔ اپنے دوستوں کو بھی سنا سکتے ہیں جس سے آپ کو حوصلہ ملے۔ اگر کچھ غلطیاں واقع ہو گئی ہیں تو آئندہ ان سے بچنے کی کوشش کر سکیں گے۔
اس بحر و وزن پر قدرت حاصل کرنے کے بعد پھر کسی دوسرے شاعر کی غزل کی زمین میں شعر کہنے کی کوشش کریں۔اپنے نصاب میں شامل غزلوں کو بھی بنیاد بنا سکتے ہیں۔ اس طرح الگ الگ بحروں اور اوزان سے آپ واقف ہو سکیں گے۔ اس بات کا خیال رہے کہ آپ ابھی مشق کے مرحلے میں ہیں اس لیے ایسی غزلوں کو چُنیں جو رواں اور مترنّم ہوں اور قافیہ و ردیف کے لحاظ سے بھی سہولت بخش ہوں۔
ادب کی تخلیق ایک شعوری، منظم، فن کارانہ جمالیاتی عمل ہے جس میں ذہن اور جذبے کی ساری قوتیں بہ یک وقت کام کرتی ہیں۔ بہتر
نظامِ زندگی کے لیے لڑائی صرف سیاسی، اقتصادی اور معاشی میدانوں میں نہیں لڑی جاتی، خیالات اور افکار جذبات اور احساسات کے دائرے میں بھی لڑی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ادب، قدروں کے تخلیقی عمل میں شریک ہوتا ہے۔ ادیب اور شاعر بہ راہ راست قدریں نہ پیدا کر سکیں لیکن اُن کو اپنے خوب صورت اظہار سے، زیادہ بامعنی، زیادہ قابل قبول، زیادہ حسین بنا سکتے ہیں۔
سرگرمی 5.16
گیارھویں جماعت کی اردو کی معاون درسی کتاب ’خیابانِ اردو‘ میں متعدد گیت شامل کیے گئے ہیں۔ یہ گیت مختلف موڈ، موسم، مواقع، تقریبات کے موقع پر گائے
جاتے ہیں۔ ہر موڈ اور موقع کی مناسبت سے کم از کم دو گیت تلاش کرکے ایک پورٹ فولیو تیار کیجیے۔
سرگرمی 5.17
اپنے اسکول کی کرکٹ ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایک گیت تیار کیجیے اور اس کی لَے اور دُھن بھی تیار کیجیے۔ مثلاً آپ نے وہ گیت ضرور سنا ہوگا۔
’’من میں ہے وشواس، پورا ہے وشواس
’’ہم ہوں گے کامیاب ایک دن، ہو ہو ہو‘‘
اس سے ملتا جلتا کوئی بھی گیت آپ تیار کرسکتے ہیں۔
گیت
گیت ہندوستانی شاعری کی ایک مقبول صنف ہے۔ گیت کی زبان سادہ اور عام فہم ہوتی ہے۔ عام طور پر گیت میں مقامی زندگی کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ گیتوں کا تعلق موسموں، فصلوں اور مختلف رسموں سے زیادہ ہے۔ شادی بیاہ کے گیت بھی بہت مقبول ہیں۔ زبان اور آہنگ کے اعتبار سے گیت میں دل کے تاروں کو چھو لینے والی کیفیت ہوتی ہے۔ گیت کی فضا رومانی ہوتی ہے۔ موسموں کے رنگ، پیار کی ترنگ، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، الجھنیں اور معاشرے کے مختلف روپ، یہ تمام چیزیں مل کر گیت کو بہت دلچسپ بنا دیتی ہیں۔
گیت کا موسیقی سے بہت گہرارشتہ ہے اسی لیے اسے غنائی شاعری میں شامل کیا جاتا ہے۔ گیت میں کسی ایک خیال ، احساس ، جذبے یا کیفیت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ نغمگی گیت کا خاص وصف ہے۔
’عشق‘گیت کا خاص موضوع ہے۔ جدائی کے غم اور ملن کی خوشی سے ہمارے گیت بھرے پڑے ہیں۔ تاہم عشقیہ جذبے کے علاوہ مناظرِ فطرت، مختلف موسموں، تہواروں اور حب الوطنی کے موضوعات پر بھی گیت لکھے گئے ہیں۔
گیت میں عشقیہ جذبے کا اظہار عام طور پر محبوب یا عورت کے ذریعے کیا جاتا ہے جو اپنے عاشق سے جدائی کے غم یا ملن کی خوشی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس کی زبان سیدھی سادی آسان اور پُراثر ہوتی ہے۔
قدیم زمانے سے دنیا بھر میں علاقائی سطح پرمختلف گیت رائج ہیں۔ جنھیں ’لوک گیت‘ کہا جاتا ہے۔ گاؤں کی عورتیں بہار کی آمد ، شادی بیاہ یا دوسری تقریبات کے موقعوں پر گیت گاتی ہیں۔ برسات کے موسم میں درختوں پر جھولے ڈال کر پینگیں لیتے ہوئے گیت گانا ایک الگ ہی لطف دیتا ہے۔ کسی کام میں مصروف لوگ اجتماعی طور پر گیت گاتے ہیں تو ان کا جوش بڑھ جاتا ہے، قوت مرکوز ہوجاتی ہے اور باہمی اشتراک میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے ان کے کام کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور دشواری کا احساس کم ہوجاتاہے۔ مثال کے طور پر مچھلیاں پکڑتے ہوئے ماہی گیر اور کھیتوں میں کام کرتے مزدور اور کشتیاں کھیتے ہوئے ملاّح گیت گاتے ہوئے مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کام سے مسرّت
حاصل کرتے ہیں۔
جاں نثار اخترؔ (1914-1976)
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے
دل کا وہ حال ہوا ہے غمِ دوراں کے تلے
جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے
ہم نے انسانوں کے دکھ درد کا حل ڈھونڈ لیا
کیا بُرا ہے جو یہ افواہ اڑا دی جائے
ہم کو گزری ہوئی صدیاں تو نہ پہچانیں گی
آنے والے کسی لمحے کو صدا دی جائے
انھی گل رنگ دریچوں سے سحر جھانکے گی
کیوں نہ کھِلتے ہوئے زخموں کو دعا دی جائے
ہم سے پوچھوکہ غزل کیا ہے، غزل کا فن کیا
چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے
— جاں نثار اختر
ہیئت •
’گیت‘ کسی بھی بحر میں لکھا جاسکتا ہے۔ لیکن عموماً اس کے لیے چھوٹی بحریں ہی استعمال کی جاتی ہیں۔ گیت کا مُکھڑا یا پہلا شعر بہت اہم ہوتا ہے یہ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے تو قاری پورا گیت پڑھنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ عام طور پر گیت ایک ہی بحر میں لکھے جاتے ہیں لیکن اکثر ایسے گیت بھی لکھے گئے ہیں جن کا مکھڑا ایک بحر میں اور باقی بول دوسری بحروں میں ہوتے ہیں۔ گیت میں نرم،سبک، شیریں اور مترنم الفاظ میں احساسات و تجربات بیان کیے جاتے ہیں۔
گیت کی روایت•
اردو میں گیت کی روایت امیرخسرو سے منسوب کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں میرابائی اور کبیرداس کے گیتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دکن میں بھی گیت کے لیے فضا بہت سازگار رہی۔ ابراہیم عادل شاہ ثانی، قلی قطب شاہ، وجہی، علی عادل شاہ اور دوسرے شعرا نے اردو گیت کو فروغ دیا۔ شمالی ہندوستان میں افضل نارنولوی، واجد علی شاہ اور امانت لکھنوی نے اس جانب خصوصی توجہ کی۔ جدید دور کے آغاز کے ساتھ عظمت اللہ خاں، آغاحشر، آرزو لکھنوی، حفیظ جالندھری، اخترشیرانی، میراجی، مطلبی فریدآبادی، سلام مچھلی شہری، شادعارفی، احسان دانش، بیکل اُتساہی، ندافاضلی اور زبیررضوی وغیرہ نے گیت کی صنف میں اہم اضافے کیے ہیں۔
گیت کیسے لکھیں•
اگر آپ گیت لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ گیت کہتے کسے ہیں۔ پچھلے صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ گیت کے موضوعات کیا ہیں اور ان کا گیت میں کس طرح اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے ان باتوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا ہے تو اب آپ کچھ اچھے گیت کاروں کے گیت سامنے رکھ کر انھیں بار بار پڑھیں اور دیکھیں کہ انھوں نے اپنی بات کس طرح کہی ہے۔ ان گیتوں کو بار بار پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ خود آپ کے لیے گیت کہنا آسان ہوگیا ہے۔ جب آپ محسوس کریں کہ گیت کہنے کی طرف طبیعت مائل ہونے لگی ہے تو اب آپ کو کاغذ قلم لے کر بیٹھ جانا چاہیے۔ چوں کہ ابھی آپ کو گیت لکھنے کی مشق نہیں ہے اس لیے آپ کو گیت کے بول لکھنے سے قبل تھوڑی سی تیاری کرنی ہوگی۔
پہلے یہ طے کیجیے کہ آپ کا موضوع کیا ہوگا۔ آپ جانتے ہیں کہ گیت کی فضا عام طور سے رومانی ہوتی ہے۔ اس میں کبھی تو محبوب کی ملاقات سے حاصل ہونے والی خوشی کا ذکر ہوتا ہے اور کبھی محبوب سے جدائی کا غم بیان ہوتا ہے۔موسم، مناظرِ فطرت، حب الوطنی اور تہواروں کے حوالے سے بھی گیت لکھے گئے ہیں۔ آپ کو کس موضوع پر گیت لکھنا ہے، اس کا فیصلہ کیجیے اور کاغذ پر اپنے موضوع سے متعلق خیالات قلم بند کرلیجیے۔
آپ جانتے ہیں کہ گیت میں بہت ساری باتیں نہیں ہوتیں، بالعموم چند باتوں کو ہی پھیلا کر بیان کیا جاتا ہے۔ بعض مصرعے یا بول دہرائے بھی جاتے ہیں۔ گیت لکھتے وقت آپ کو بھی یہی کرنا ہے۔ ایک کام اور کیجیے۔ اپنے موضوع سے ملتا جلتا کوئی گیت نمونے کے طور پر سامنے رکھ لیجیے۔ اور اسے دیکھ کر خود بھی لکھنے کی کوشش کیجیے۔ گویا الفاظ اور خیالات آپ کے ہوں گے لیکن نمونے کے بول کسی پختہ مشق گیت کار کے۔ مثلاً آپ کو عشقیہ موضوع پر کوئی گیت لکھنا ہے۔ اس کے لیے آپ احسان دانش کے درج ذیل گیت ’پریت ہے من کا روگ‘ کو سامنے رکھ کر غور کریں کہ گیت کار نے کس طرح اپنی بات کہی ہے:
پریت ہے من کا روگ
پریت ہے من کا روگ
سکھی ری
پریت ہے من کا روگ
انگ ہے اگنی، نین پانی
بولت ہیں سب وِش کی بانی
ویوگ میں بیتی جات جوانی
اَتی کٹھن سنجوگ
سکھی ری
پریت ہے من کا روگ
دھرتی چپ آکاش اندھیرا
روٹھ گیو، رَتین سے سویرا
برہن کا من، دکھ کا ڈیرا
چھایو جگ میں سوگسکھی ری
پریت ہے من کا روگ
چھب دِکھلا جا کرشن مراری
درس کے پیاسے ہیں نر ناری
کھائی ہے ایسی پریم کٹاری
ویاکُل ہیں سب لوگ
سکھی ری
پریت ہے من کا روگ
— احسان دانشؔ
احسان دانشؔ (1914-1982)
سرگرمی 5.18
گیت سے متعلق ممکنہ نکات کی روشنی میں کوئی گیت تحریر کیجیے۔
اس گیت کو پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ یہاں شدّت جذبات کو فوقیت حاصل ہے۔ یعنی جذبہ بھی ہے اور جذبے کے بیان میں
شدّت بھی ہے۔ آپ کو بھی اسی طرح لکھنا ہے۔
جذبے کی شدّت کو ظاہر کرنے کے لیے شاعر نے بعض بول دُہرائے بھی ہیں اور انداز ایسا اختیار کیا ہے کہ اسے دو تین لوگ مل کر گا بھی سکیں۔ آپ جانتے ہیں کہ غنائیت گیت کا ایک اہم عنصر ہے۔ شاعر نے اس پہلو کا بھی خیال رکھا ہے۔ آپ کو بھی گیت لکھتے وقت جذبے اور غنائیت کا خیال رکھنا ہوگا۔
یہ بھی دیکھیے کہ گیت کار نے ہلکے پھلکے اور شیریں الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔ چوں کہ گیت ہندی صنف ہے اس لیے آپ چاہیں تو حسب ضرورت بول چال کے ہندی الفاظ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
گیت کے بارے میں یہ بات آپ کو معلوم ہے کہ یہ ایک قدیم صنف ہے۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر مل جل کر گیت گانے کا رواج رہا ہے۔ اسی طرح برسات کے موسم میں یا کسی کام کو کرتے وقت بھی عورتیں ایک ساتھ مل کر گیت گاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گیت میں ’ہم احساسی‘ ضروری ہے۔ یعنی گیت میں جذبے کا ’مشترکہ اظہار‘ ہوتا ہے۔ نمونے کے طور پر آپ نے جو گیت سامنے رکھا ہے، اس میں بھی یہ کیفیت موجود ہے۔ آپ کو بھی اس کا خیال رکھنا ہوگا۔
اب آپ نے گیت لکھنے کے لیے ساری ضروری تیاریاں کرلی ہیں۔ لکھیے اور دیکھیے کہ آپ کے گیت میں جذبہ شدت کے ساتھ ظاہر ہوا ہے یا نہیں؟ ہم احساسی کی کیفیت موجود ہے یا نہیں؟ زبان مشکل تو نہیں ہوگئی ہے؟ یہ بھی دیکھیے کہ آپ نے جو گیت لکھا ہے اسے گیت کے انداز میں گایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر آپ کے گیت میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں تو سمجھ لیجیے آپ کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ آپ کی پہلی کوشش ہے۔ ابھی اس میں مزید نکھار لانا ہے۔ جب آپ بار بار گیت لکھیں گے، اساتذہ اور دوسرے اہل علم کو اپنے گیت دکھا کر ان سے رہنمائی حاصل کریں گے تو آہستہ آہستہ آپ کے گیتوں میں بھی پختگی پیدا ہوجائے گی۔ اور آپ کا شمار مشہور گیت کاروں میں ہونے لگے گا۔

2.2 نثر
نثر میں خیالات کو واضح اور راست انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔اس میں جملے کی ساخت اور قواعد کے مخصوص اصولوں کی پابندی ہوتی ہے اور مفہوم کی ترسیل پر زیادہ زورہوتا ہے تاکہ پڑھنے والا بغیر کسی ابہام یا الجھن کے مفہوم سے واقف ہو جائے۔
موضوع کے لحاظ سے نثر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ علمی نثر اور تخلیقی یا ادبی نثر۔ علمی نثر عموماً سادہ اور تکلّف سے پاک ہوتی ہے۔ اس میں وضاحت کے ساتھ مفہوم کی ادائیگی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ علمی نثر میں منطق اور دلیل کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ معلومات کی فراہمی اس کا بنیادی مقصد ہے ۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ علمی نثر غیر دلچسپ ہوتی ہے بلکہ اس میں موجود علمی بصیرت قاری کو ذہنی تسکین کا سامان فراہم کرتی ہے۔
علمی نثر میں الفاظ کا استعمال موضوع کے تقاضے کے عین مطابق ہوتا ہے۔مثلاً اگر موضوع سائنس سے متعلق ہے تواسی کے مطابق لفظیات اور اصطلاحات کا استعمال کیا جاتا ہے اور اگر موضوع تاریخ، طب، سیاست ،تعلیم، تہذیب وغیرہ سے متعلق ہے تو اسی مناسبت سے لفظیات اور اصطلاحات کا استعمال ہوتا ہے۔ علمی نثر لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ غیر متعلق باتوں سے گریز کیا جائے اور موضوع سے متعلق پہلوؤں پر ہی توجہ مرکوز رہے۔
نثر کی مختلف اقسام کے بارے میں آپ گیارھویں جماعت میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں البتہ اعادے کے لیے یہاں اُن اقسام کے بارے
میں مختصر مختصر معلومات فراہم کی جارہی ہے۔
سرگرمی 5.19
کسی معروف افسانہ نگار کا کوئی افسانہ منتخب کیجیے اور اس میں افسانے کے اجزائے ترکیبی نمایاں کیجیے۔
مختصر افسانہ ناول ہی کا اختصار ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ناول اس قدر مرکوز اور گتھا ہوا نہیں ہوتا بلکہ کسی تاثر پر ٹھہر جانے کی بجائے وہ
اس تاثر کے محرکات اور پھر کسی قدر ان کے متعلقات سے بھی بحث کرتا ہے اور انھیں اس طرح پیش کرتا ہے کہ ساری باتیں ایک سلسلے کی کڑیاں معلوم ہونے لگتی ہیں، جب کہ مختصر افسانہ ان میں سے کسی ایک کڑی ہی کو چن لیتا ہے اور اسی پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔
- محمد حسن
محمد حسن (1926-2010)
»تخلیقی نثر
تخلیقی نثر سے مراد ہے ایسی نثر جس میں الفاظ کا استعمال اور طرزِ بیان ادبی ہو یعنی بیان بھی حسین ہو اور الفاظ وتراکیب بھی دل کش ہوں۔ زبان وبیان کے حسن کے علاوہ تخیل کی کارفرمائی بھی تخلیقی نثر کا ایک خاص وصف ہے۔ اسی لیے اسی میں تشبیہ، استعارے اور رمزوکنائے سے کام لیا جاتا ہے۔
گویا تخلیقی نثر کا مقصد صرف اظہارِ خیال نہیں ہے بلکہ لطافت اور ادبیت بھی اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ داستان، ناول، افسانے اور انشایئے وغیرہ میں تخلیقی نثر کا استعمال کیا جاتا ہے۔
غیر تخلیقی نثر
غیر تخلیقی نثر کو علمی نثر بھی کہتے ہیں۔ ایسی نثر جس میں وضاحت اور قطعیت کے ساتھ جچے تلے الفاظ میں کسی موضوع پر اس طرح اظہارِخیال کیا جاتا ہے کہ جو بات لکھنے والے کے ذہن میں ہے وہی قاری تک پہنچے۔ اس لیے غیر تخلیقی نثر کی زبان سادہ ہوتی ہے۔ اس میں تشبیہ، استعارے یا تخیل سے کام نہیں لیا جاتا۔ ترسیلِ خیال اس کا بنیادی مقصد ہے۔ عام طور سے علمی موضوعات کے بیان میں غیر تخلیقی نثر کا استعمال کیا جاتا ہے۔
غیر تخلیقی نثر اور تخلیقی نثر میں جو فرق ہے وہ دونوں کے مقاصد کی بنیاد پر ہے۔تخلیقی نثر کا مقصد انبساط آفرینی ہے یہی وجہ ہے کہ تخلیقی نثرلطیف ہونے کے ساتھ ہماری بصیرت کو بھی جلا بخشتی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نتیجہ خیزی تخلیقی نثر کا منصب نہیں ہے۔ اس لیے اس سے مکمل ابلاغ کی توقع بھی نہیں کرنا چاہیے۔ غیرتخلیقی تحریروں کی نثر کا مقصد ہی علم و معلومات فراہم کرناہے۔ اس لیے اس قسم کی نثر میں وضاحت و صراحت سے کام لیا جاتا ہے۔ اور دلائل کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔گویا مکمل ابلاغ اس کی پہلی شرط ہے۔
2.2.1 افسانوی نثر
وہ نثر جس کا استعمال قصہ، کہانی بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے افسانوی نثر کہلاتی ہے۔ یعنی کہانی پن یا افسانویت کی صفت رکھنے والی نثر افسانوی نثر کے زمرے میں آتی ہے۔ افسانہ اپنے اندر تحیّر، تجسّس اور ڈرامائی عناصرلیے ہوتا ہے۔ ان عناصر کو تخلیقی پیکر عطا کرنے کے لیے ان کے مطابق اسلوب اور زبان درکار ہوتی ہے۔
افسانوی اصناف میں موضوع کی پیش کش کے لیے پلاٹ، کرداراور منظر کشی کے علاوہ موزوں زبان و بیان کو بھی لازمی جزو تسلیم کیا جاتا ہے۔تخلیق کار اپنے تجربے، مشاہدے اور قوتِ متخیّلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے گرد وپیش میں بکھرے ہوئے حادثات و واقعات سے مواد لے کر انھیں پر کشش اسلوبِ بیان سے دلچسپ قصے کہانی کا روپ عطا کرتا ہے۔ اس ضمن میں حقیقت کی افسانوی رنگ آمیزی قاری کی ذہنی و جمالیاتی تسکین کا سبب بنتی ہے۔
نثرکی افسانوی اصناف میں داستان ، ناول اور مختصر افسانہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان اصناف کے اپنے صنفی تقاضے اور خصوصیتیں ہوتی ہیں۔ صنفی تقاضے کے لحاظ سے ہرافسانوی صنف کی پیش کش کے طریقے اور تکنیکیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔
سرگرمی 5.20
چار طلبا کے ایک گروپ کو کوئی معروف افسانہ (ممکن ہو تو دسویں جماعت میں شامل کوئی افسانہ یا کہانی) پڑھنے کو دیا جائے۔ اُن میں سے ایک طالب علم افسانے کے پلاٹ، دوسرا کردار، تیسرا منظر نگاری اور جزئیات نگاری اور چوتھا وحدتِ تاثر یا وحدتِ عمل کے بارے میں کلاس کے سامنے اپنے خیالات پیش کرے۔ اس کے لیے گروپ کو دوتین روز کا وقت دیا جائے۔
» مختصر افسانہ/کہانی
افسانہ یا کہانی ایک ایسی صنف ہے جسے دنیا کی ہر زبان میں کم و بیش یکساں مقبولیت حاصل ہے۔کہانی کہنا اور سننا ہمیشہ سے انسان کا دلچسپ مشغلہ رہا ہے۔ایک وقت تھا کہ رات میں سونے سے پہلے یا فرصت کے اوقات میں گھر کے تمام بچّے دادا،دادی، نانا، نانی، ماں،باپ یا کسی اور بزرگ کے پاس بیٹھ جاتے تھے اور ان سے کہانیاں سنا کرتے تھے۔اس عمل میں وہ نئی نئی باتیں سیکھتے تھے اور اَن دیکھی دنیاوں کی سیر کرتے تھے۔ یہ کہانیاں صرف تفریح کا ذریعہ نہ تھیں بلکہ ان کے ذریعے بچے انسانیت کی اعلیٰ قدروں اور اخلاقی اصولوں سے بھی واقف ہوتے تھے۔کہانی سننے کے بہانے خاندان کے سبھی افراد کا ایک ساتھ بیٹھنا بھی تربیت کا ایک بہتر ذریعہ ہوتا تھا۔ بچّے نہ صرف آدابِ نشست و برخاست سے واقف ہوتے تھے بلکہ ان کی زبان اور ذخیرۂ الفاظ میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ریڈیو، فلم اور ٹیلی ویژن اور اب انٹر نیٹ کے زمانے میں بھی کہانی کی اہمیت و معنویت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ البتہ کہانی کہنے اور سننے کے انداز ضرور بدل گئے ہیں۔یہاں آپ کو افسانے کے فن اور افسانہ لکھنے کے بارے میں بتا یاجارہا ہے۔افسانہ اردو کی ایک اہم اور مقبول صنف ہے۔یہ ایک مختصر نثری قصّہ ہے۔ اردو میں داستان اور ناول کے بعد افسانے کاباقاعدہ آغاز ہوا۔افسانے میں زندگی کے کسی خاص واقعے ، تجربے یا پہلو کی عکاسی کی جاتی ہے یا کسی مخصوص نفسیاتی یا جذباتی صورتِ حال کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ افسانے کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں کہانی اور کرداروں کا تصور ابھرتا ہے۔کسی بھی افسانے میں کہانی اور کردار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کے علاوہ پلاٹ، مرکزی خیال، زبان واسلوب اورتکنیک بھی اس کے اہم اجزا ہیں۔ ان اجزا کو افسانے کے اجزائے ترکیبی کہا جاتا ہے۔جن کا تعارف درج ذیل ہے:
» پلاٹ
واقعات کی ترتیب کا نام پلاٹ ہے۔ یعنی کہانی کا تابانا بنتے وقت کون سا واقعہ کب اور کہاں بیان کرنا ہے۔ سب سے پہلے افسانہ نگار موضوع کا انتخاب کرتا ہے، پھر وہ اس کے پلاٹ کا خاکہ ترتیب دیتا ہے، اس کے بعد اس کے ذہن میں اس سے متعلق کردار آتے ہیں اور وہ انھیں پلاٹ کے تقاضے کے مطابق ڈھالتا ہے۔ایک اچھا افسانہ نگار پلاٹ کی فنی ترتیب و تعمیر پرخاص توجہ دیتا ہے۔اسی طرح کہانی کے تمام واقعات اس کے مرکزی موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔
پلاٹ کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ سادہ پلاٹ، پیچیدہ پلاٹ،غیر منظم پلاٹ، ضمنی پلاٹ وغیرہ۔سادہ پلاٹ میں تسلسل کے ساتھ واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ ایسے پلاٹ میں کہانی کے آغاز ، وسط اور انجام میں ربط پایا جاتا ہے۔اس میں قصّہ بتدریج آگے بڑھتا ہے اور اختتام پذیر ہوتا ہے۔پیچیدہ پلاٹ میں افسانے کے واقعات میں ایک دوسرے سے ربط تو ہوتا ہے لیکن ان میں قصہ اس تسلسل کے ساتھ بیان نہیں کیا جاتا جس طرح سادہ پلاٹ میں کیا جاتا ہے۔ ا س میں کبھی افسانے کا آغاز اس کے انجام سے کیا جاتا ہے اور کبھی وسط سے اس کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ایسے افسانوں میں تجسس اور حیرت کی کیفیت شروع سے آخر تک برقرار رہتی ہے۔ کچھ افسانوں میں غیر منظم پلاٹ بھی ہوتا ہے۔
موضوع اور عنوان دونوں میں نیا پن ہونا ضروری ہے۔ یہ نیا پن ہی ہے جو قاری کو افسانہ پڑھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔اسی طرح اختصار اور جامعیت بھی پلاٹ کی ایک اہم خوبی تسلیم کی جاتی ہے۔واقعات کے بیان میں غیر ضروری تفصیل اور بے جا طوالت کی وجہ سے افسانے میں قاری کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔

کردار
افسانہ نگار قصہ بیان کرنے کے لیے جن افراد کو اپنی کہانی میں استعمال کرتا ہے انھیں کردار کہتے ہیں۔ مختصراً یوں کہہ سکتے ہیں کہ افسانے میں موجود افراد کردار کہلاتے ہیں۔ جو کردار جس طبقے، عمر،نسل،جنس یا علاقے کا ہو اسی کی مناسبت سے اس کے اعمال،زبان اور مکالمے پیش کیے جاتے ہیں۔ کردار کا فطری ہونا ضروری ہے۔اس میں بناوٹ یا دکھاوا نہیں ہونا چاہیے۔ پریم چند کے افسانے ’کفن‘ (گھیسو،مادھو)، سعادت حسن منٹو کے افسانے ’نیاقانون‘ (منگو کوچوان)وغیرہ میں ایسے جاندار اور توانا کردار پیش کیے گئے ہیں کہ انھیں قاری بھول نہیں سکتا۔کردارکی تشکیل وتعمیر میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ حقیقی معلوم ہوں اور قاری ان سے بہت زیادہ اجنبیت نہ محسوس کرے۔
»مکالمہ
دو کرداروں کے درمیان گفتگو یا بات چیت کو مکالمہ کہتے ہیں۔مکالمے کے لیے ضروری ہے کہ یہ کرداروں کی شخصیت کے عین مطابق اور ان کے حسب حال ہوں۔ افسانے میں مکالمے کرداروں کی جنس، ان کی عمر ، ان کے طبقے، ماحول اور ان کی لیاقت کے اعتبار سے ہی ادا کروائے جاتے ہیں۔کردار اگر پڑھا لکھا ہے تو اس کی زبان صاف ستھری اور علمی ہوگی۔ ان پڑھ ہے تو اس کا تلفظ بہت درست اور گفتگو عالمانہ نہ ہوگی۔بچہ ہے تو بچوں کی زبان بولے گا اور اگر عورت کردار ہے تومکالمے میں عورت کا لب و لہجہ ، روز مرہ اور محاورہ استعمال کیا جائیگا۔جس طرح حلیے اور چال ڈھال کے بیان سے کردار کی ظاہری شخصیت کو ابھارا جاتا ہے، ویسے ہی کسی بھی کردار کی باطنی شخصیت کو نمایاں کرنے میں مکالمے کا اہم رول ہوتاہے۔ مکالمے سے کرداروں کی نفسیات، ان کے جذبات و احساسات اور ان کے فکر و خیال کے اظہار میں بھی مدد لی جا تی ہے۔

» تکنیک
افسانہ میں واقعہ یا قصّہ بیان کرنے کے طریقے کو تکنیک کہا جاتا ہے۔ افسانہ نگار آزاد ہے کہ وہ جس انداز میں چاہے کہانی بیان کرے۔ چنانچہ وہ کبھی راوی یا تماشائی کی حیثیت سے کہانی بیان کرتا ہے ، کبھی وہ خود افسانے کا ایک کردار بن کر تمام واقعات اپنی ہی زبانی سناتا ہے۔ اسی طرح وہ کبھی ڈائری کی صورت میں کہانی لکھتا ہے، کبھی سفرنامے کی اور کبھی سیدھے سادے بیانیہ انداز میں واقعات لکھتا جاتا ہے۔ کسی افسانے میں وہ بچے کی زبان سے کہانی بیان کرواتا ہے ، کسی میں بوڑھے مرد ، بوڑھی عورت یا پھر نوجوان لڑکے یا لڑکی کے ذریعے کہانی سنواتا ہے۔ کبھی وہ یہ طریقہ اختیار کرتا ہے کہ افسانے کی ابتدا واقعے کے درمیان سے کرتا ہے، کبھی واقعے کی ابتدا سے ہی افسانہ شروع کر دیتا ہے ۔کسی افسانے میں وہ ماضی کے واقعات بیان کرتا ہوا زمانۂ حال میں آجاتا ہے،تو حال کے واقعات سناتے سناتے ماضی میں چلا جاتا ہے۔ افسانہ لکھنے کے اِن سارے طریقوں کو تکنیک کہا جاتا ہے۔ ان کے نام بھی الگ الگ ہیں۔ جیسے بیانیہ تکنیک، ڈائری کی تکنیک، سفرنامے کی تکنیک اور شعور کی رو کی تکنیک وغیرہ۔
وحدتِ تاثر
افسانے کے اجزائے ترکیبی میں وحدتِ تاثر کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ افسانہ اپنے آپ میں ایک اکائی ہے۔ اس میں شروع سے آخر تک ایک ماحول، ایک فضا اور ایک کیفیت کی ترجمانی کی جاتی ہے۔ چوں کہ افسانے میں کردار کی زندگی کے ایک گوشے یا ایک واقعے کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے لہٰذا اس میں متفرق حالات وکیفیات کے بیان کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔
افسانے میں کبھی ایک ہی واقعہ بیان کیا جاتا ہے، کبھی ایک واقعے کے مختلف پہلوؤں کوبیان کیا جاتا ہے اور بعض افسانوں میں ایک سے زائد واقعات بھی بیان کیے جاتے ہیں۔لیکن افسانہ نگار ابتدا سے آخر تک کسی ایک واقعے یا واقعے کے کسی ایک پہلو کوتوجہ کا مرکز بناتا ہے۔ تاکہ وہ قاری کے ذہن پر کوئی خاص تاثر قائم کر سکے۔ اسی تاثر کے لیے وہ کہانی کے سارے تانے بانے بُنتا ہے ، کرداروں کے اعمال و افعال طے کرتا ہے اور کہانی بیان کرنے کے لیے کوئی مخصوص اسلوب اپناتا ہے۔ یوں کہانی کا پلاٹ، اس کے کردار، مکالمے اور طرز نگارش سے کہانی پڑھنے والوں پر اُس مرکزی واقعے یا خیال کی وجہ سے ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ پورے افسانے کی قرأت سے بر آمد ہونے والی اسی کیفیت کو وحدتِ تاثر کہتے ہیں۔
»مرکزی خیال
مرکزی خیال کو افسانے کی تھیم بھی کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر افسانہ نگار اپنے افسانے میں کوئی پیغام، کوئی تصور، کوئی نظریہ یا خیال پوشیدہ رکھتا ہے جسے وہ اپنے پڑھنے والوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ لیکن یہ پیغام یا خیال افسانے کے تانے بانے میں اس طرح شامل ہوتا ہے کہ افسانہ پڑھتے ہوئے یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ افسانہ نگار نے آپ کے دل و دماغ میں بہت ہی سلیقے سے اپنی بات ڈال دی ہے۔ عام طور سے یہ خیال افسانے کے مرکزی واقعے، کردار یا کہانی کے تاثر کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے۔جیسے پریم چند کے افسانے ’پوس کی رات ‘ کا مرکزی خیال زمینداروں کے استحصال کے خلاف ایک طرح کی بغاوت ہے، رتن سنگھ کی کہانی’ہزاروں سال لمبی رات‘ کا مرکزی خیال بھوک کی حقیقت ہے، جیلانی بانو کے افسانے ’دوشالہ‘ کا مرکزی خیال اپنے اسلاف کی یادگار سے شدید محبت ہے۔
»نقطۂ نظر
افسانے کے دوسرے اجزائے ترکیبی مثلاً پلاٹ، کرداراور مکالمے کی طرح اس کا ایک اہم جز نقطۂ نظر بھی ہوتا ہے۔ نقطۂ نظر کا مطلب یہ ہے کہ افسانہ کے ذریعے افسانہ نگار اپنے پڑھنے والوں کو کوئی نہ کوئی پیغام دینا چاہتا ہے، انھیں اپنے تجربات و احساسات میں شامل کرنا چاہتا ہے، یا ان پر کوئی تاثر یا کیفیت طاری کرنا چاہتا ہے۔ لیکن افسانہ نگار اپنے اس مقصدیا نظریے کوافسانے میں کھلے عام بیان نہیں کرتا اور نہ ہی وہ براہ راست اپنے خیال یا نظریے کی تبلیغ کرتاہے ۔بلکہ وہ اسے طرز نگارش اور بیانِ واقعہ کے پردے میں اس طرح شامل کر دیتا ہے کہ پڑھنے والے کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ افسانہ نگار اسے کوئی پیغام دے رہا ہے یا اپنا خیال یانظریہ منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ افسانے میں درپردہ بیان کی گئی افسانہ نگار کی اسی رائے، نظریے یا پیغام کو نقطۂ نظر کہتے ہیں۔
’فن کار مواد کو اسلوب سے ہم آہنگ کر کے اسے ایک مخصوص طریقے سے متشکل کرتا ہے۔ افسانے کی تعمیر میں جس طریقے سے مواد ڈھلتا جاتا ہے وہی ’تکنیک‘ ہے ۔ مثلا ً ایک برتن بنانے کے لیے سب سے پہلے مٹی کی ضرورت ہے ۔ اسے ’خام مواد‘ سمجھ لیجیے ۔ پھر اس میں رنگ ملایا جائے گا ۔ یہ ’اسلوب ‘ ہے۔ پھر کاری گر مٹی اور رنگ کے اس مرکب کو اچھی طرح گوندھتا ، توڑتا مروڑتا، دباتا، کھینچتا، کسی حصے کو گول کسی کو چوکور، کہیں سے لمبا، کہیں سے گہرا اور مخصوص شکل پیدا ہونے تک اسی طرح ڈھالتا چلا جاتا ہے اور آخر میں جو شکل پیدا ہوتی ہے اسے ’ہئیت‘کہتے ہیں اور جو چیز بنتی ہے وہ ’افسانہ ‘ ہے۔
— ممتاز شیریں
سرگرمی 5.22
افسانے کی تخلیق کے ضمن میں جو اہم نکات بتائے گئے ہیں ان کی روشنی میں کوئی افسانہ تخلیق کیجیے۔
زبان اور اسلوب
» زبان
زبان اور اسلوب کی افسانے میں بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ کوئی بھی افسانہ اپنی زبان اور اپنے اسلوب کی وجہ سے ہی اہم ، اثر انگیز اور معیاری ہوتا ہے ۔لیکن افسانے میں زبان کا معاملہ شاعری سے مختلف ہوتا ہے۔شاعری میں زبان عام طور پر تشبیہ و استعارے اور مختلف شعری صنعتوں سے معمور فصیح و بلیغ ہوتی ہے۔ چوں کہ شاعری میں تما م باتیں محض شاعر کی زبان سے ادا ہوتی ہیں اس لیے یہ ایک جیسی ہوتی ہے۔افسانے میں طرح طرح کے کردار ہوتے ہیں اور سب اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں اس لیے سب کی زبان بھی مختلف ہوتی ہے۔ کسان اور مزدور کی زبان الگ ہوتی ہے، پڑھے لکھوں کی الگ۔ پھر اس میں افسانہ نگار کی بھی زبان ہوتی ہے جو اِن سب سے مختلف ہوتی ہے۔ افسانے میں اچھی زبان کا مطلب ہوتا ہے کرداروں کے حسب حال ہونا ۔
» اُسلوب
اسلوب کو طرزِ نگارش، طرزِ تحریر، لکھنے کاطریقہ اور مصنف کا اسٹائل بھی کہتے ہیں۔ ہراچھے افسانہ نگار کے لکھنے کا اپنا ایک خاص طریقہ ہوتا ہے جس پر اس کی شخصیت کی چھاپ ہوتی ہے۔ افسانہ نگار کے سوچنے کے طریقے، اس کے ماحول اور اس کی لفظیات سے اس کے لکھنے کا ایک الگ انداز بنتاہے جس کی وجہ سے اس کی تمام تحریریں ایک خاص رنگ میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ لکھنے کا یہی الگ انداز یا تحریرکا خاص رنگ افسانہ نگار کا اُسلوب کہلاتا ہے۔ افسانہ نگاروں کے پسندیدہ موضوعات بھی ان کے اُسلوب کی تعمیر میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر افسانہ نگار کے لکھنے کاانداز اور اس کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً کرشن چندر کا اندازِبیان شاعرانہ ہے، منٹو کے افسانوں میں جنسی اور نفسیاتی تجزیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، عصمت چغتائی کے افسانوں کی زبان مسلم متوسط طبقے کی گھریلو عورتوں کی زبان ہے، بیدی اور احمد ندیم قاسمی کے اسلوب پر پنجاب کی تہذیب کا رنگ ہے، قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں تعلیم یافتہ اعلیٰ طبقے کی گفتگو کا انداز ہے۔ اسی طرح تمام بڑے افسانہ نگاروں کا اپنا ایک خاص اسلوب ہوتا ہے جس سے ان کی شناخت قائم ہوتی ہے۔
سرگرمی 5.21
افسانے میں واقعے اور اس کے بیان کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی ہے۔ کوئی ایسا واقعہ جس نے آپ کو بہت زیادہ متاثر کیا ہو، اُسے اپنی زبان میں بیان کیجیے۔ یہ خیال رہے کہ اس بیانیہ(narrative) میں پلاٹ، کردار، منظرنگاری اور وحدتِ عمل پر آپ کو خصوصی توجہ دینی ہے۔ آپ نے اگر ایسا کرلیا تو افسانہ نگاری کے میدان میں یہ آپ کا پہلا بھرپور قدم ہوگا۔
» اردو میں افسانے کی روایت
اردو میں افسانہ بیسویں صدی کی دین ہے۔ اردو افسانے کا باقاعدہ آغاز پریم چند سے ہوا۔ اردو افسانے کے ابتدائی دور میں دو قسم کے رجحانات سامنے آئے۔ پہلا رجحان حقیقت پسندی کا تھا جس کے روحِ رواں پریم چند تھے۔ انھوں نے افسانوی ادب کا رخ تبدیل کر دیا ۔دیہی معاشرت اور پسماندہ طبقات کی زندگی کے مسائل کو موضوع بنایا۔ ’سوزِ وطن‘ (1907)پریم چند کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ پریم چند کی روایت کو آگے بڑھانے والے افسانہ نگاروں میں پنڈت سدرشن، اعظم کریوی، علی عباس حسینی، حیات اللہ انصاری، سہیل عظیم آبادی اور اوپندرناتھ اشک کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
حقیقت پسند رجحان کے ساتھ ساتھ اردو میں رومانی افسانے کی روایت بھی ملتی ہے۔ اس روایت کوآگے بڑھانے والوں میں سجاد حیدر یلدرم، ل۔ احمد اکبر آبادی، سلطان حیدر جوش، مجنوں گورکھپوری اور بیگم حجاب امتیاز علی کے نام اہم ہیں۔
بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں باغیانہ تیور رکھنے والے افسانہ نگاروں کی ایک نئی نسل سامنے آئی۔ ان لوگوں نے پرانی روایت سے انحراف کرتے ہوئے اپنی الگ ڈگر بنانے کی کوشش کی۔ ان افسانہ نگاروں کا ایک مجموعہ ’انگارے‘1932 میں شائع ہوا جس میں سجّاد ظہیر، رشید جہاں، محمود الظفراور احمد علی وغیرہ کی کہانیاں شامل ہیں۔ انگارے میں شامل کہانیوں نے افسانے کی دنیا میں ہلچل مچا دی ۔ 1936میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، خواجہ احمد عباس، بلونت سنگھ، قاضی عبدالستار اور رتن سنگھ وغیرہ نمائندہ ترقی پسند افسانہ نگار ہیں۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے کسانوں، مزدوروں اور سماج کے دیگر مظلوم افراد کی زندگی اور مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ انھوں نے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سماج میں عام آدمی پر ہونے والے ظلم و جبر اور استحصال پر کھل کر لکھا۔ ان کے علاوہ سعادت حسن منٹو کا شمار بھی اسی عہد کے اہم افسانہ نگاروں میں کیا جاتا ہے جو اپنے افسانوں کے موضوع اور تکنیک کے لحاظ سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اسی عہد میں حسن عسکری، قرۃ العین حیدر، ممتاز شیریں اورانتظار حسین نے نئے افسانے کی بنیاد رکھی۔
1955-60 میں جدیدیت کا رجحان سامنے آیا ۔اس رجحان کے زیر اثر اردو میں علامتی اور تجریدی افسانے لکھے جانے لگے۔ ان افسانوں میں فرد کی تنہائی، معاشرے کے زوال، سماجی زندگی کے انتشاراور بے سمتی جیسے موضوعات پر زور دیا گیا۔ بلراج مین را، خالدہ حسین، غیاث احمد گدی، جوگندر پال،سریندر پرکاش، اقبال متین، اقبال مجید اور انور سجاد کے افسانوں میں علامت کا رنگ گہرا ہے۔ان افسانہ نگاروں نے ہی پہلی مرتبہ پلاٹ سے عاری افسانے لکھے۔ اس روایت کو بعد کے جن افسانہ نگاروں نے فروغ دیا ان میں شفق، شموئل احمد، عبدالصمد، شوکت حیات، سلام بن رزّاق، انور خاں، علی امام نقوی، انور قمر، سیّد محمد اشرف وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
یاد رکھیں کہ زبانیں سماجی اور تہذیبی ماحول میں بنتی ہیں اور زندگی کی روزمرہ سرگرمیوں اور باہمی رابطوں کے زیر اثر بدلتی رہتی ہیں۔ تعلیم کے نقطۂ نظر سے بہترین صورت یہ ہے کہ زبان (زبانوں) کی نشو و نما اسی صلاحیت کی بنیاد پر کی جائے۔ طلبا کی لسانی صلاحیتوں کے فروغ سے ان کا خود ’اپنے آپ‘ اور اپنی تہذیبی بنیادوں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔
قومی درسیات کا خاکہ— 2005
قرۃ العین حیدر (1926/27-2007)
انتظار حسین (1922/25-2016)
» افسانہ کیسے لکھیں
افسانہ نگاری کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ میں غورو فکر کی عادت اور صلاحیت ہو، اپنے آس پاس کی چیزوں اور ماحول پر گہری نگا ہ ہو۔ آپ اپنے گردوپیش کے واقعات و حالات سے اپنے افسانوں کے موضوعات منتخب کرسکتے ہیں۔آپ اپنی زندگی کے گزرے ہوئے دنوں پر غور کیجیے۔ ان میں ایسے بہت سارے واقعات یا ایسی بہت سی باتیں ہوں گی جنھیں افسانے کا روپ دیا جاسکتا ہے۔ان گزرے دنوں میں خوشی اور غم دونوں کے مواقع آئے ہوں گے۔آپ ان میں سے کوئی ایک واقعہ منتخب کرسکتے ہیں۔اس کے بعد یہ طے کیجیے کہ اس میں کتنے کردار ہوں گے،ان سے کیا کام لینا ہے یعنی وہ افسانے میںکس نوعیت کا رول ادا کریں گے۔افسانے میں انھیں کس طرح متعارف کرانا ہے،کہانی کا آغاز کیسے کرنا ہے،اسے کیسے آگے بڑھانا ہے۔ ان تمام امور پر غور کرنا ضروری ہے۔ کہانی میں کرداربہت اہم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی تخلیق کرتے وقت احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔مرکزی کردار کون ہوگا، اس کا نام کیا ہوگا،وہ کس طرح کا انسان ہے،اس کی شخصیت کیسی ہے، کیا کرتا ہے،اس کا حلیہ کیا ہے ، کہاں رہتا ہے، کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے، اس کی سوچ کیسی ہے، رویّہ کیسا ہے، اس کی پسند و ناپسند کیا ہے۔دوسرے کردار کون سے ہوں گے، ان کا نام کیا ہوگا،کہانی میں ان کا کیا رول ہوگا،مرکزی کردار سے ان کے رشتے کیسے ہوں گے وغیرہ امور پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
افسانے میں عموماً کم ہی کردار ہوتے ہیں۔ابتدا میں آپ خود کو بھی ایک کردار کی شکل میں پیش کرسکتے ہیں۔ افسانے کو واحد متکلم کے صیغے میں لکھیے۔اس سے آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ بھی کہانی کا ایک حصہ ہیں۔جب آپ کہانی لکھنے کے فن سے اچھی طرح واقف ہو جائیں تو واحد غائب کے صیغے میں لکھناشروع کیجیے۔
کہانی کی ابتداکسی بنیادی مسئلے سے ہوتی ہے جس کے گرد تمام واقعات گردش کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ جب بہت شدت اختیار کر جاتا ہے اور کسی فیصلہ کن موڑ پر پہنچ جاتا ہے تو اسے کہانی کا کلائمیکس یا نقطئہ عروج کہتے ہیں ۔جب یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔
افسانہ نگار کو موضوع، ماحول اور مقام کے اعتبار سے کہانی کے لیے کردارچننے ہوتے ہیں۔کرداروں کے سماجی اور تہذیبی پس منظر،ذہنیت و نفسیات، علاقہ، عمر،جنس اور تعلیمی لیاقت کے اعتبارسے ان کی زبان،لباس، کھانے پینے ، حرکت و عمل وغیرہ کی پیش کش کی جانی چاہیے۔اچھے مکالمے کہانی کو آگے بڑھانے اور کرداروں کی صفات اور ان کے منصوبوں کو اجاگر کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ کہانی میں کچھ مکالمے بھی دیے جائیں ۔ اس کے لیے آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کی گفتگو دھیان سے سنیے، مختلف طبقے اور پیشے کے لوگوں کی زبان پر غور کیجیے اور انھیں مکالموں میں استعمال کیجیے۔اس سے آپ کے مکالموں میں فطری پن پیدا ہوگا۔
عموماًہرکہانی میں آغاز، وسط اورانجام ہوتا ہے۔آپ ایک خاکہ تیار کیجیے کہ کہانی میں کون کون سے واقعات بیان کرنے ہیں اور ان کی ترتیب کیا ہوگی۔واقعات یا واقعہ کے انتخاب میں بھی بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔صرف ان ہی واقعات کو کہانی میں شامل کیجیے جن سے کہانی کو آگے بڑھانے اور ایک منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملے۔یاد رکھیے کہ افسانے میں اختصار سے کام لینا ضروری ہے ورنہ اس میں قاری کی دلچسپی برقرار نہیں رہے گی۔اس لیے افسانہ لکھتے وقت غیر ضروری تفصیل سے گریز لازمی ہے ۔ اختصار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جہاں تفصیل کی ضرورت ہو وہاں بھی اختصار ہی سے کام لیا جائے۔افسانہ نگار کو اعتدال اورتوازن سے کام لینا چاہیے۔ افسانے کا آغاز ایسا ہونا چاہیے کہ شروع سے ہی قاری اس میں دلچسپی لینے لگے۔قصے کو اس طور پر آگے بڑھائیے کہ قاری کو بوریت کا احساس نہ ہواور ’ آگے کیا ہوگا‘کا تجسس برقرار رہے۔آہستہ آہستہ اسے اختتام کی طرف لے جائیے ۔ افسانے کا انجام نہ بعید از قیاس ہوناچاہیے اور نہ ایسا کہ جس کے بارے میں پہلے سے ہی قاری اندازہ لگالے ۔
افسانے میں تمام اجزا کا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہونا بھی ضروری ہے ۔ایسا نہ ہو کہ کوئی جز زائد یا بھرتی کا تصور دے ۔اگر کسی حصّے کو نکال دیا جائے تو افسانے کی فنّی تنظیم پر کوئی اثر ہی نہ پڑے۔ہم وضاحت کے ساتھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ افسانے میں واقعہ اور کردار ،کردار اور زبان، واقعہ اور اس کے پس منظر میں گہرا رشتہ ہوتا ہے۔پریم چند کے افسانوں کے جغرافیائی اور تہذیبی تناظر کا تعلق دیہاتی زندگی سے ہے۔ان کے دیہی کرداروں کے عادات واطوار میں عموماً سادہ لوحی اور بے ریائی ہوتی ہے۔ان کے لباس، رہن سہن کے طریقوں اور بات چیت کے انداز میں بھی بے تکلفی کا رنگ حاوی ہوتا ہے۔ان کی زبان بھی شہری زبان کی طرح نفیس و مہذب نہیں ہوتی کیوں کہ وہ مقامی کچّی پکّی زبان کے عادی ہوتے ہیں۔پریم چند اپنے کرداروں کو وہ پس منظر مہیا نہیں کر سکتے تھے ِجیساکہ قرۃ العین حیدر اپنے افسانوں میں مہیا کرتی ہیں اور قرۃ العین کے شہری کردار اس زبان میں گفتگو نہیں کرسکتے جو پریم چند کے کرداروں کی ہے۔ اگر افسانہ نگار نے کوئی واقعہ تاریخ سے اخذ کیا ہے تو اُس عہد کے تہذیبی پس منظر کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے، ورنہ عدم مناسبت کو افسانہ نگار کی لا علمی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

سعادت حسن منٹو(1912-1955)
راجندر سنگھ بیدی (1915-1984)
عصمت چغتائی (1915-1991)
اردو کے اہم افسانہ نگاروں مثلاًپریم چند،منٹو، بیدی،عصمت، کرشن چندر، قرۃالعین حیدر وغیرہ کے افسانوں کا مطالعہ کیجیے اور غور کیجیے کہ ان میں آغاز، وسط اور انجام کس نوعیت کے ہیں، پلاٹ کیسا ہے،کردار کیسے ہیں،زبان کیسی ہے۔افسانہ لکھنے سے پہلے اردو کے مشہور افسانوں کا خوب مطالعہ کیجیے تاکہ آپ عملی طور پرافسانے کے فن اور تکنیک سے بخوبی واقف ہوجائیں۔
جب کہانی مکمل ہوجائے تو اس کا ایک دلچسپ عنوان تحریر کریں۔عنوان پہلے بھی طے کیا جاسکتا ہے۔عنوان ایسا ہوکہ قاری کو افسانہ پڑھنے کی جانب راغب کرے۔
افسانہ مکمل کرنے کے بعد اُسے کئی بار پڑھیے۔یہ دیکھیے کہ پلاٹ میں کوئی جھول یا کمی تو نہیں ہے، کوئی حصہ ادھورا تو نہیں رہ گیاہے۔کہانی کی زبان کیسی ہے، مکالمے فطری ہیں یانہیں۔ایک بار جب آپ خود ہر طرح سے مطمئن ہوجائیں تو اپنی تخلیق اپنے کسی ساتھی یا استاد کو دکھائیے۔ ان کی رائے پر غور کیجیے اور جہاں ضروری ہو،اس میں اصلاح کیجیے۔
آپ کی رہنمائی کے لیے یہاں پریم چند کی مشہور کہانی ’پوس کی رات‘ دی جارہی ہے۔ اس کا مطالعہ کیجیے اور غور کیجیے کہ پریم چند نے قصے کا آغاز کس طرح کیاہے، کرداروں کا تعارف کیسے کرایا ہے،ان کی خصوصیات کس طرح بیان کی ہیں، واقعات کی ترتیب کیسی ہے، انجام کیسا ہے، زبان کیسی استعمال کی ہے اور کہانی ختم ہونے کے بعد آپ پر کیا تاثر قائم ہوا ہے۔
پوس ٗکی رات
ہلکو نے اپنی بیوی سے آکر کہا۔’’شہنا آیا ہے۔لاؤ، جو روپیے رکھے ہیں اسے دے دو ۔کسی طرح گردن تو چھوٗٹے۔‘‘
مُنّی بہو جھاڑو لگا رہی تھی،پیچھے پھر کر بولی’’تین ہی تو روپیے ہیں۔ دے دوں تو کمبل کہاں سے آئے گا؟ماگھ پوس کی رات کھیت میں کیسے کٹے گی۔ اس سے کہہ دو کہ فصل پر روپیے دے دیں گے،ابھی نہیں ہیں۔‘‘
ہلکو تھوڑی دیر تک چپ کھڑا رہا اور اپنے دل میں سوچتا رہا پوٗس سر پر آگیا۔بغیر کمبل کے، کھیت میں رات کو وہ کسی طرح سو نہیں سکتا،مگر شہنا مانے گا نہیں۔ گُھڑ کیاں دے گا، گالیاں سنائے گا ۔ بَلاسے، جاڑے سے مریں گے،یہ بلا تو سر سے ٹل جائے گی، یہ سوچتا ہُوا وہ اپنا بھاری جِسم لیے ہوئے (جو اس کے نام کو غلط ثابت کر رہاتھا) اپنی بیوی کے پاس گیا اور خوشامد کر کے بولا ’’لا،دے دے۔ گردن تو کسی طرح بچے۔ کمبل کے لیے کوئی دوسری تدبیر سوچوں گا۔‘‘
مُنّی اس کے پاس سے دور ہٹ گئی اور آنکھیں ٹیڑھی کرتی ہوئی بولی ’’کرچکے دوسری تدبیر۔ ذرا سُنوں، کون سی تدبیر کروگے؟ کون کمبل خیرات میں دے دے گا؟نہ جانے کتنا روپیہ باقی ہے جوکسی طرح ادا ہی نہیں ہوتا ۔مَیں کہتی ہوں تم کھیتی کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔ مرمر کر کام کرو، پیدا وار ہو تو اس سے قرضہ ادا کرو۔ چلو چھُٹّی ہوئی۔ قرضہ ادا کرنے کے لیے تو ہم پیدا ہی ہوئے ہیں۔ ایسی کھیتی سے باز آئے۔ میں روپیے نہ دوں گی۔ نہ دوں گی۔‘‘
ہلکو رنجیدہ ہو کر بولا’’تو کیا گالیاں کھاؤں؟‘‘

میر امّن (1750-1837)
باغ و بہار
اب آغاز قصّے کا کرتا ہوں۔ ذرا کان دھر کر سنو اورمنصفی کرو۔ سیر میں چار درویش کی یوں لکھا ہے اور کہنے والے نے اس طرح کہا ہے کہ آگے روم کے ملک میں کوئی شہنشاہ تھا کہ نوشیرواں کی سی عدالت اور حاتم کی سی سخاوت اس کی ذات میں تھی۔ نام اس کا آزاد بخت تھا۔ اس کے وقت میں رعیت آباد، خزانہ معمور، لشکر مرفہ، غریب غربا آسودہ ،ایسے چین سے گزران کرتے اور خوشی سے رہتے کہ ہر ایک گھر میں دن عید، رات شب برات تھی اور جتنے چورچکار ، جیب کترے، صبح خیزے، اٹھائی گیرے، دغا باز تھے سب کو نیست و نابود کرکرنام و نشان ان کا ملک بھر میں نہ رکھا تھا۔ ساری رات دروازے گھروں کے بند نہ ہوتے اور دکانیں بازاروں کی کھلی رہتیں۔ راہی مسافر جنگل میں سونا اچھالتے چلے جاتے، کوئی نہ پوچھتا کہ تمھارے منہ میں کے دانت ہیں اور کہاں جاتے ہو۔
– میرامّن
مُنّی نے کہا’’ گالی کیوں دے گا؟ کیا اس کا راج ہے؟‘‘مگر یہ کہنے کے ساتھ ہی اس کی تنی ہوئی بھویں ڈھیلی پڑ گئیں۔ہلکو کی بات میں جو دِل ہلا دینے والی صداقت تھی، معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کی جانب ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھ رہی تھی۔اُس نے طاق پر سے روپیے اُٹھائے اور لاکر ہلکو کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ پھر بولی’’تم اب کھیتی چھوڑ دو۔ مزدوری میں سُکھ سے ایک روٹی تو کھانے کو ملے گی۔ کسی کی دھونس تو نہ رہے گی۔ اچھّی کھیتی ہے، مزدوری کرکے لاؤ وہ بھی اس میں جھونک دو۔ اس پر سے دھونس !‘‘
ہلکو نے روپیے لیے اور اس طرح باہر چلا کہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنا کلیجہ نکال کر دینے جا رہا ہے۔اس نے ایک ایک پیسہ کاٹ کر تین روپیے کمبل کے لیے جمع کیے تھے، وہ آج نکلے جا رہے ہیں۔ایک ایک قدم کے ساتھ اس کا دماغ اپنی ناداری کے بوجھ سے دبا جا رہا تھا۔
پوٗس کی اندھیری رات۔آسمان پر تارے بھی ٹھِٹُھرتے ہوئے معلوم ہو تے تھے۔ ہلکواپنے کھیت کے کنارے اُوکھ کے پتّوں کی ایک چھتری کے نیچے بانس کے کھٹولے پر اپنی پُرانی گاڑھے کی چادر اوڑھے ہوئے کانپ رہا تھا۔ کھٹولے کے نیچے اُس کا ساتھی کُتّا’جبرا‘ پیٹ میں مُنہ ڈالے سردی سے کوٗں کوٗں کر رہا تھا۔ دو میں سے ایک کو بھی نیند نہ آتی تھی۔
ہلکو نے گُھٹنوں کوگردن میں چِمٹاتے ہوئے کہا’’کیوں جبرا، جاڑا لگتا ہے؟کہا تو تھا کہ گھر میں پَیال پر لیٹ رہ۔ تو یہاں کیا لینے آیا تھا؟اب کھا سردی،مَیں کیا کروں؟ جانتا تھا — میں حلوہ پوری کھانے جا رہا ہوں۔ دوڑتے ہوئے آگے چلے آئے ۔اب روؤ اپنی نانی کے نام کو۔‘‘ جبرا نے لیٹے ہوئے دُم ہلائی اور ایک انگڑائی لے کر چُپ ہو گیا۔ شاید وہ یہ سمجھ گیا تھا کہ اس کی کوٗں کوٗں کی آواز سے اس کے مالک کو نیند نہیں آرہی ہے۔
ہلکو نے ہاتھ نکال کر جبرا کی ٹھنڈی پیٹھ سہلاتے ہوئے کہا’’کَل سے میرے ساتھ نہ آنا نہیں تو ٹھنڈے ہو جاؤگے ۔یہ پچَھوا ہَوا نہ جانے کہاں سے برف لیے آرہی ہے۔یہ کھیتی کا مزہ ہے۔ اور ایک ایک بھاگوان ایسے پڑے ہیں جن کے پاس اگر جاڑا جائے تو گرمی سے گھبرا کر بھاگے۔ موٹے گدّے، لحاف، کمبل، مجال ہے کہ جاڑے کا گُزر ہو جائے۔ تقدیر کی خُوبی ہے مزدوری ہم کریں، مزہ دوسرے لوٹیں۔‘‘
جبرا نے اُس کی جانب محبت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ ہلکو نے کہا ’’آج اور جاڑا کھا لے۔ کل سے مَیں یہاں پیال بچھا دوں گا۔ اس میں گھُس کر بیٹھنا، جاڑا نہ لگے گا۔‘‘
جبرا نے اگلے پنجے اس کے گھٹنوں پر رکھ دیے اور اس کے مُنہ کے پاس اپنا مُنہ لے گیا۔ ہلکو کو اس کی گرم سانس لگی۔ ہلکو پھر لیٹا اور یہ طے کر لیا کہ چاہے جو کچھ ہو، اب کی سوجاؤں گا لیکن ایک لمحے میں اُس کا کلیجہ کانپنے لگا۔ کبھی اِس کروٹ لیٹا، کبھی اُس کروٹ۔ جاڑا کسی بھوت کی مانند اِس کی چھاتی کو دبائے ہوئے تھا۔
جب کسی طرح نہ رہا گیا تو اس نے جبرا کو دھیرے سے اٹھایا اور اس کے سر کو تھپ تھپا کر اسے اپنی گود میں سُلالیا۔کُتّے کے جسم سے معلوم نہیں کیسی بدبو آرہی تھی، پر اسے اپنی گود سے چمٹاتے ہوئے ایسا سُکھ معلوم ہوتا تھا جو اِدھر مہینوں سے اسے نہ ملا تھا۔جبر ا شاید یہ خیال کر رہا تھا کہ بہشت یہی ہے اور ہلکو کی رُوح اِتنی پاک تھی کہ اُس کو کُتّے سے بالکل نفرت نہ تھی۔ وہ اپنی غریبی سے پریشان تھا جس کی وجہ سے وہ اس حالت کو پہنچ گیا تھا۔ ایسی انوکھی دوستی نے اُس کی روح کے سب دروازے کھول دیے تھے اور اس کا ایک ایک ذرّہ حقیقی روشنی سے منّور ہو گیا تھا۔اسی اثنا میں جبرا نے کسی جانور کی آہٹ پائی۔اس کے مالک کی اس خاص روحانیت نے اس کے دِل میں ایک جدید طاقت پیدا کر دی تھی جو ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں کو بھی ناچیز سمجھ رہی تھی۔وہ جھپٹ کر اٹھا اور چھپّر سے باہر آکر بھونکنے لگا۔ ہلکو نے اسے کئی بار پُچکار کر بُلایا پر وہ اس کے پاس نہ آیا ۔ کھیت میں چاروں طرف دوڑ دوڑ کر بھونکتا رہا۔ایک لمحہ کے لیے آبھی جاتا تو فوراً ہی پھر دوڑتا۔فرض کی ادائیگی نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔
کرشن چندر (1914-1977)
پودے
دوپہر کو پریم سوسائٹی کا افتتاح تھا۔ حسین ساگر میں جو کلب ہے وہاں دعوت بھی تھی۔ ادیبوں کو کشتیوں میں سوار کر کے کلب میں پہنچایا گیا۔ درحالیکہ ایک راستہ خشکی سے بھی جاتا تھا۔ غالباً موٹربوٹ کی نمائش مقصود تھی۔ کلب کی عمارت جھیل میں تعمیر کی گئی ہے۔ کوئی پچاس کے قریب ملازم ہوں گے۔ آٹھ کورس کا کھانا۔ اس دعوت پر اتنا صرف کیا گیا تھا کہ غالباً پریم چند کو اپنی زندگی میں اتنی رائلٹی نہ ملی ہوگی۔ یورپ میں جب ادیب زندہ ہوتا ہے تو اس کی قدر ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مرنے کے بعد اسے پوچھا جاتا ہے۔ چنانچہ آج پریم چند سوسائٹی کا افتتاح تھا۔ قاضی عبدالغفّار تقریر کر رہے تھے۔ اور مرغن کھانے دعوت میں شامل تھے۔ جھیل کے منظر سے ادیب لطف اندوز ہو رہے تھے۔
— کرشن چندر
قمر رئیس (1932-2009)
بہ ظاہر یہ داستانیں زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہیں، لیکن فی الحقیقت ان کے کردار اپنی تہذیبی وضع قطع اور تمدنی حوالوں سے ہندوستان یا پھر ہند ایرانی کلچر کی نمائندگی کرتے ہیں، انشا کی ’رانی کیتکی کی کہانی، تو خالص ہندوستانی رنگ میں ڈوبی ہے، اس کے علاوہ پرانوں سے ماخوذ قصّے جیسے نل د من یا لوک کہانیاں گلِ بکاؤلی یا راجہ گوپی چند میں فطری طور پر ہندوستان کی تہذیب و معاشرت کا گہرا رنگ جھلکتا ہے۔ اس سلسلے میں رجب علی بیگ سرور کی فسانۂ عجائب میں لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب و معاشرت کی جو مرقع کشی کی گئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
— قمر رئیس
ایک گھنٹہ گُزر گیا۔سردی بڑھنے لگی۔ہلکو اُٹھ بیٹھا اور دونوں گُھٹنوں کو چھاتی سے ملا کر سر کو چھُپالیا۔ پھر بھی سردی کم نہ ہوئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارا خون مُنجمد ہو گیاہے۔اس نے اُٹھ کر آسمان کی جانب دیکھا۔ ابھی کتنی رات باقی ہے۔وہ سات ستارے جو قُطب کے گِرد گھومتے ہیں، ابھی اپنا نِصف دَورہ بھی ختم نہیں کرچکے۔ جب وہ اُوپر آجائیں گے تو کہیں سویرا ہوگا۔ ابھی ایک پہر سے زیادہ رات باقی ہے۔
ہلکو کے کھیت سے تھوڑی دور کے فاصلے پر ایک باغ تھا۔ پت جھڑ شروع ہو گئی تھی۔ باغ میں پتّوں کا ڈھیر لگا ہُوا تھا۔ ہلکو نے سو چا چل کر پتّیاں بٹوروٗں اور اُن کو جلا کر خوب تاپوٗں۔ رات کو کوئی پتّیاں بٹورتے دیکھے تو سمجھے گا کہ کوئی بھوت ہے۔کون جانے کوئی جانور ہی چھُپا بیٹھا ہو مگر اب تو بیٹھے نہیں رہا جاتا۔
اس نے پاس کے ارہر کے کھیت میں جا کر کئی پودے اکھاڑے اور اس کا ایک جھاڑو بناکر ہاتھ میں سُلگتا ہوا اُپلا لیے باغ کی طرف چلا ۔جبرا نے اسے جاتے دیکھا تو پاس آیا اور دُم ہلا نے لگا۔
ہلکو نے کہا’’اب تو نہیں رہا جاتا۔جبروٗ چلو، باغ میں پتّیاں بٹور کر تاپیں ۔ٹاٹھے ہو جائیں گے تو پھر آکر سوئیں گے۔ابھی تو رات بہت ہے۔‘‘
جبرا نے کوٗں کوٗں کرتے ہوئے اپنے مالک کی رائے سے موافقت ظاہر کی اور آگے آگے باغ کی جانب چلا۔باغ میں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔درختوں سے شبنم کی بوندیں ٹَپ ٹَپ ٹپک رہی تھیں۔ یکایک ایک جھونکا مہندی کے پھولوں کی خوشبو لیے ہوئے آیا۔
ہلکو نے کہا’’کیسی اچھی مہک آئی جبرا!تمھاری ناک میں بھی کچھ خوشبو آرہی ہے؟‘‘
جبرا کو کہیں زمین پر ایک ہڈّی پڑی مل گئی تھی وہ اسے چُوس رہاتھا۔ہلکو نے آگ زمین پر رکھ دی اور پتّیاں بٹورنے لگا۔ تھوڑی دیر میں پتّیوں کا ایک ڈھیر لگ گیا ۔ہاتھ ٹھِٹھرتے جا تے تھے۔ ننگے پاوں گَلے جاتے تھے۔ اور وہ پتّیوں کا پہاڑ کھڑا کر رہا تھا۔اسی الاو میں وہ سردی کو جلا کر خاک کردے گا۔
تھوڑی دیر میں الاو جل اٹھا۔اس کی لَو اُوپر والے درخت کی پتّیوں کو چُھو چُھو کر بھاگنے لگی۔ اس متزلزل روشنی میں باغ کے عالی شان درخت ایسے معلوم ہوتے تھے کہ وہ اس لا انتہا اندھیرے کو اپنی گردن پر سنبھالے ہوں۔ تاریکی کے اِس اتھاہ سمندر میں یہ روشنی ایک ناؤ کے مانند معلوم ہوتی تھی۔
ہلکو الاو کے سامنے بیٹھا ہُوا آگ تاپ رہا تھا۔
ایک منٹ میں اُس نے اپنی چادر بغل میں دبالی اور دونوں پاؤں پھیلادیے، گویا وہ سردی کو للکار کر کہہ رہا تھا۔’’تیرے جی میں جو آئے وہ کر‘‘۔سردی کی اس بے پایاں طاقت پر فتح پاکر وہ خوشی کو چُھپا نہ سکتا تھا۔
اُس نے جبرا سے کہا’’کیوں جبرے !اب تو ٹھنڈ نہیں لگ رہی؟‘‘
جبرا نے کوٗ ں کوٗں کرکے گویا کہا’’اب کیا ٹھنڈ لگتی ہی رہے گی۔‘‘
’’پہلے یہ تدبیر نہیں سُوجھی۔ نہیں اتنی ٹھنڈ کیوں کھاتے۔‘‘
جبرا نے دُم ہلائی ۔
’’اچھّا آو اِس الاو کو کوٗد کر پار کریں۔دیکھیں کون نکل جاتا ہے۔‘‘
’’اگر جل گئے بچّہ تو مَیں دوا نہ کروں گا۔‘‘
جبرا نے خوف زدہ نگاہوں سے الاو کی جانب دیکھا۔
’’مُنّی سے کَل نہ جَڑ دینا کہ رات خوب ٹھنڈ لگی اور تاپ تاپ کر رات کاٹی۔ ورنہ لڑائی کرے گی۔‘‘
یہ کہتا ہُوا وہ اُچھلا اَور اُس الاو کے اُوپر سے صاف نکل گیا۔پیروں میں ذرا سی لَپَٹ لگی پر وہ کوئی بات نہ تھی۔جبرا الاو کے گِرد گھوم کر اُس کے پس آکھڑا ہُوا۔
ہلکو نے کہا ’’چلو چلو اُس کی سہی نہیں ۔اُوپر سے کود کر آو۔‘‘
وہ پھر کو دا اور الاو کے اس پار آگیا۔
پتّیاں جل چُکی تھیں۔باغیچے میں پھر اندھیرا چھا گیا تھا۔ راکھ کے نیچے ابھی کچھ کچھ آگ باقی تھی جو ہَوا کا جھونکا آنے پر ذرا جاگ اٹھتی تھی پر ایک لمحہ میں پھر آنکھیں بند کر لیتی تھی۔
ہلکونے پھر چادر اوڑھ لی اور گرم راکھ کے پاس بیٹھا ہُو ا گیت گُنگُنانے لگا۔ اُس کے جسم میں گرمی آگئی تھی پرجوٗں جوٗں سردی بڑھتی جاتی تھی اسے سُستی دبائے لیتی تھی۔
دفعتاًجبرا زور سے بھونک کر کھیت کی طرف بھاگا ۔
ہلکو کو ایسا معلوم ہُوا کہ جانوروں کا ایک غول اس کے کھیت میں آیا۔شاید نیل گایوں کا جھُنڈ تھا۔ اُن کے کوٗدنے اور دوڑنے کی آوازیں صاف کان میں آرہی تھیں۔ پھر ایسا معلوم ہوا کہ وہ کھیت میں چررہی ہیں۔
اُس نے دل میں کہا’’نہیں، جبرا کے ہوتے ہوئے کوئی جانور کھیت میں نہیں آ سکتا۔نوچ ہی ڈالے۔مجھے وہم ہورہا ہے!اب تو کچھ سُنائی نہیں دیتا۔ مجھے بھی کیسا دھوکا ہُوا!‘‘
اُس نے زور سے آواز لگائی۔’’ جبرا !جبرا!‘‘
جانوروں کے چرنے کی آواز چَرچَر سنائی دینے لگی۔ ہلکو اب اپنے کو فریب نہ دے سکا۔ مگر اُسے اِس وقت اپنی جگہ سے ہلنا زہر معلوم ہوتا تھا۔کیسا گرمایاہُوا مزے سے بیٹھا تھا۔اِس جاڑے پالے میں کھیت میں جانا ،جانوروں کو بھگانا،ان کا تعاقب کرنا اُسے پہاڑ معلوم ہوتاتھا۔ اپنی جگہ سے نہ ہلا ۔بیٹھے بیٹھے جانوروں کو بھگانے کے لیے چلّانے لگا۔
’’لِہو،لِہو،ہو،ہو،ہاہا-‘‘
مگر جبرا پھر بھونک اُٹھا۔اگر جانور بھاگ جاتے تو وہ اب تک لَوٹ آیا ہوتا۔ نہیں بھاگے۔ ابھی تک چر رہے ہیں۔ شاید وہ سب بھی سمجھ رہے ہیں کہ اس سردی میں کون بیدھا ہے جو اُن کے پیچھے دوڑے گا۔ فصل تیار ہے۔ کیسی اچھّی کھیتی تھی۔ سارا گاؤں دیکھ دیکھ کر جلتا تھا۔ اُسے یہ ابھاگے تباہ کیے ڈالتے ہیں!
اب ہلکو سے نہ رہا گیا۔ وہ پکّا ارادہ کر کے اُٹھا اور دو تین قدم چلا۔ پھر یکایک ہَوا کا ایسا ٹھنڈا، چبھنے والا، بچّھو کے ڈنک کا سا جھونکا لگا کہ وہ پھر بُجھتے ہوئے الاؤ کے پاس آبیٹھا اور راکھ کو کُرید کُرید کر اپنے ٹھنڈے جسم کو گرمانے لگا۔
جبرا اپنا گلا پھاڑے ڈالتا تھا، نیل گائیں صفایا کیے ڈالتی تھیں اور ہلکو گرم راکھ کے پاس بے حِس بیٹھا ہُوا۔ افسردگی نے اُسے چاروں طرف سے رسّی کی طرح جکڑ رکھا تھا۔
آخر وہیں چادر اوڑھ کر سو گیا۔
سویرے جب اُس کی نیند کھلی تو دیکھا چاروں طرف دھوپ پھیل گئی ہے اور مُنّی کھڑی کہہ رہی ہے۔ ’’کیا آج سوتے ہی رہو گے۔ تم یہاں میٹھی نیند سو رہے ہو اور اُدھر سارا کھیت چَوپٹ ہو گیا۔‘‘ سارے کھیت کا ستیاناس ہو گیا۔ بھَلا کوئی ایسا بھی سوتا ہے۔ تمھارے یہاں مَنڈیا ڈالنے سے کیا ہُوا؟
ہلکو نے بات بنائی ’’مَیں مرتے مرتے بچا،تجھے اپنے کھیت کی پڑی ہے۔پیٹ میں ایسا درد اٹھا تھا کہ میں ہی جانتا ہوں۔‘‘
دونوں پھر کھیت کے ڈانڈ پر آئے۔دیکھا کھیت میں ایک پودے کا نام نہیں اور جبرا مَنڈیا کے نیچے چِت پڑا ہے گویا بدن میں جان ہی نہیں ہے۔
دونوں کھیت کی طرف دیکھ رہے تھے ۔مُنّی کے چہرے پر اُداسی چھائی ہوئی تھی، پر ہلکو خوش تھا۔
مُنّی نے فکرمند ہو کر کہا’’اب مجوری کرکے مال گُجاری دینی پڑے گی۔‘‘
ہلکو نے مستانہ انداز سے کہا ’’ رات کو ٹھنڈمیں یہاں سونا تو نہ پڑے گا۔‘‘
’’میں اس کھیت کا لگان نہ دوں گی۔ کہے دیتی ہوں۔ جینے کے لیے کھیتی کرتے ہیں۔ مرنے کے لیے نہیں کرتے۔‘‘
’’جبرا ابھی تک سویا ہُوا ہے۔اِتنا تو کبھی نہ سوتا تھا۔‘‘
’’آج جا کر شہنا سے کہہ دے کھیت جانور چر گئے ۔ہم ایک پیسہ نہ دیں گے۔‘‘
’’رات بڑے گجب کی سردی تھی۔‘‘
’’میں کیا کہتی ہوں۔ تم کیا سنتے ہو۔‘‘
’’تو، گالی کھِلانے کی بات کہہ رہی ہے۔شہنا کو ان باتوں سے کیا سروکار۔تمھارا کھیت چاہے جانور کھائیں، چاہے آگ لگ جائے،اَولے پڑ جائیں، اسے تو اپنی مال گُجاری چاہیے۔‘‘
’’تو چھوڑ دو کھیتی ۔میں ایسی کھیتی سے باز آئی ۔‘‘
ہلکو نے مایوسانہ انداز سے کہا’’جی میں تو میرے بھی یہی آتا ہے کہ کھیتی باڑی چھوڑ دوں۔ مُنّی تجھ سے سچ کہتا ہوں مگر مجوری کا کھیال کرتا ہوں تو جی گھبرا اٹھتا ہے، کسان کا بیٹا ہو کر اب مجوری نہ کروں گا۔ چاہے کتنی ہی دُرگت ہو جائے ۔ کھیتی کا مرجادنہ بگاڑوں گا۔‘‘
’’جبرا ! جبرا !کیا سوتا ہی رہے گا؟ چل گھر چلیں۔‘‘
- پریم چند
کلیم الدین احمد (1908/09-1983)
داستان کہانی کی طویل، پیچیدہ، بھاری بھرکم صورت ہے ۔۔۔ لیکن داستان اپنی طوالت، پیچیدگی، بوجھل پن کے باوجود بنیادی طور پر دل بہلانے کی ایک صورت ہے۔ اس میں بھی حقیقت و واقعیت سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہاں بھی جانور بولتے چالتے، چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، یہاں بھی ناقابلِ یقین واقعات و مناظر ملتے ہیں اور یہاں بھی فوق فطرت ہئیتوں کے کرشموں سے سابقہ پڑتا ہے۔ الغرض داستانوں کی فضا کہانیوں کی فضا سے مختلف نہیں ہوتی اور یہ فضا اجنبی، حیرت انگیز ہوتی ہے۔ اس میں اور انسانی دنیا کی فضا میں صاف فرق نظر آتا ہے۔
— کلیم الدین احمد
سرگرمی 5.23
آپ کے اسکول میں مختلف ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی رپورتاژ لکھیے۔ لکھتے وقت زبان کو پُر کشش اور واقعات کو دلچسپ بنانے کی کوشش کیجیے۔
داستان
داستان سے مراد وہ طویل اور مسلسل قصہ ہے جس میں واقعات کو دل کش اسلوب میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ قاری اس میں محو ہو جائے۔ حیرت اور تجسّس پیدا کرنا داستان کے فن کا لازمی تقاضا ہے۔ اسی لیے داستان میں مافوق الفطرت (Super natural) عناصر اور پُراسرار کرداروں سے کام لیا جاتا ہے۔ داستان میں حقیقی زندگی سے تعلق رکھنے والے واقعات و حادثات کے بجائے خواب و خیال کی دنیا سے وابستہ باتیں ہوتی ہیں جس کے سبب قاری داستان میں حقیقی دنیا اور اپنے گردوپیش کی زندگی کی تصویر دیکھنے کے بجائے خیالی دنیا میں محو ہو جاتا ہے اور یہی صفات داستان کو کامیابی سے ہم کنار کرتی ہیں۔داستان کا فن بنیادی طور پر سننے اور سنانے سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن بعد میں اسے تحریری شکل میں پیش کیا جانے لگا۔
حالاں کہ داستان میں حقیقی زندگی کے معاملات و مسائل کی عکاسی نہیں ہوتی لیکن ان کے مطالعے سے اس عہدکی تہذیبی و ثقافتی اقدار کا پتا چلتا ہے۔ اس کے باعث وہ ثقافتی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ جدید دور کے آغاز کے ساتھ ہی نئے علوم اور حقیقت پسندی کے بڑھتے رجحان کے سبب داستان نگاری کی روایت ختم ہو گئی۔ داستان کے عناصر ترکیبی میں قصہ طرازی ،فضا بندی ،ما فوق الفطرت عناصر اور کردار سازی کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ انیسویں صدی کے نصف آخر تک آتے آتے داستان کی جگہ نئی افسانوی اصناف یعنی ناول اور مختصر افسانے نے لے لی۔ اردو کی مشہور داستانوں میں داستان امیرحمزہ، بوستانِ خیال، آرائشِ محفل، باغ و بہار اور فسانہ عجائب کی خاص اہمیت ہے ۔ حالیہ دنوں میں داستان جیسی ہی انگریزی فکشن ’ہیری پوٹر‘، ’اسپائیڈرمین‘، ’سپر مین‘ وغیرہ الکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا دونوں سطح پر مقبول ہوئی ہیں۔
اسلوب احمد انصاری (2016-1924)
ناول
دوسری اصنافِ ادب کی طرح ناول بھی انسانی تجربے یا تجربات کے اظہار پر اپنی اساس رکھتا ہے۔ افسانے کے برعکس یہ صرف زندگی کی ایک قاش یا تجربے کے Sheds پر منحصر نہیں، بلکہ تجربات کی گوناگونی اور واقعات کی فراوانی اور بہتات سے کام نکالنا جانتا ہے۔
—اسلوب احمد انصاری
ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر فن کی درسیات میں طلبا کو اپنی دلچسپی کے کسی فن میں خصوصی مہارت حاصل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ فن کی تعلیم حاصل کرنے اور اس کی مشق کرنے کے دوران طلبا فن کے نظریے سے متعلق معلومات اور جمالیاتی تجربہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے ان کی تحسین آفرینی میں گہرائی پیدا ہوگی اور وہ علم کے اس شعبے کی معنویت کو سمجھ سکیں گے۔ آرٹ کی معروف ثقافتی اصناف اور تخلیقیت کے ذریعے مختلف فنون کے پس منظر کو سمجھنے اور ان کے ذوق کی نشوونما میں مدد ملے گی۔
قومی درسیات کا خاکہ— 2005
ناول
ناول افسانوی نثر سے تعلق رکھنے والی ایک جدید صنف ہے۔ ہمارے ادب میں انیسویں صدی کے نصف آخر میں ناول کا آغاز ہوا۔ناول کو جدید دور کے انسان اور اس کی پیچیدہ زندگی کے معاملات ومسائل کا ترجمان کہا جاتا ہے۔ ناول ایک طویل کہانی ہوتی ہے لیکن اس کی طوالت داستانوں کی طرح پیچ در پیچ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے کردار خیالی اور غیرفطری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی لیے ناول کی کہانی اور کرداروں میں حقیقی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔
ناول کا فن زندگی کی مکمل ترجمانی کا فن ہے،فرد اور سماج کے باہمی رشتے کے تعلق سے کسی عہد کی سماجی، سیاسی، تہذیبی اور اخلاقی اقدار ا ور نظام کی تصویر ناول میں پیش کی جاتی ہے۔ اس میں موضوع، فن اور پیش کش کے لحاظ سے بڑی وسعت ہوتی ہے۔
ناول کا ڈھانچہ جن اجزا سے تشکیل پاتا ہے ان میں موضوع یا مرکزی خیال، پلاٹ، کردار، منظر وغیرہ اہم ہیں ، لیکن ان اجزا کو برتنے میں ہر ناول نگار آزاد ہوتا ہے۔ جدید ناول میں ان اجزاکی پیروی روایتی انداز میں نہیں ہوتی۔مولوی نذیر احمد اور پنڈت رتن ناتھ سرشار نے سب سے پہلے ناول نگاری کی طرف توجہ دی۔ نذیر احمد کے ناول ’مراۃ العروس ‘کو اردو کا پہلا ناول تسلیم کیا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے اہم ناولوں میں نذیر احمد کا ’توبۃ النصوح‘، پنڈت رتن ناتھ سرشارکا ’فسانہ ٔ ا ٓزاد‘ ، مرزا ہادی رُسواؔ کا ’امراؤ جان ادا‘، عبدالحلیم شرر کا ’فردوسِ بریں‘ شامل ہیں۔ بیسویں صدی میں پریم چند نے ناول کی روایت کو استحکام عطا کیا۔ ان کے ناولوں میں ،’گئودان ‘اور’ میدان عمل ‘کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی، بعد میں عصمت چغتائی، کرشن چندر، قرۃ العین حیدر، جمیلہ ہاشمی، قاضی عبدالستار، جیلانی بانو، شوکت صدیقی، ممتاز مفتی اور حیات اللہ انصاری وغیرہ نے اپنے ناولوں کے ذریعے اردو ناول کے دامن کو وسیع کیا۔
رشید احمد صدیقی (1892-1977)
ہم سب کی زندگی میں مرحوم کے گھل مل جانے کا راز یہ تھا کہ ان میں بہ ظاہر کوئی بات غیر معمولی نہ تھی۔ وہ کچھ عالم فاضل نہ تھے، ایسے طباع اور ذہین بھی نہ تھے نہ انھیں توڑ جوڑ آتا تھا، نہ خوش پوشاک نہ خوش گفتار، نہ خوش باش نہ رنگین ورعنا۔ وہ معمولی آدمیوں سے بھی کچھ زیادہ معمولی تھے۔ پھر بھی شاید ایسے تھے کہ اب ہم میں ویسا کوئی نہیں اور نہ اب ڈھونڈے سے بھی شاید کوئی ایسا ملے۔
سیاہ فام،چیچک رو، پستہ قد، نحیف الجثہ۔ پہلے پہل کوئی دیکھے تو منھ پھیر لے۔ برت لے تو غلام بن جائے۔ بتا نہیں سکتا کہ ایوب کی خوبیوں نے ان کی بد ہیئتی کو کس درجہ دل کش بنا دیا تھا۔ فطرت اپنی چوک کی بسا اوقات کسی بے دریغ بخشش سے تلافی کرتی ہے۔ ۔۔۔خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس پیکر حقیر میں دل سوزی وخود سپاری کا کیسا بے کراں و بیش قیمت خزانہ ودیعت تھا۔ — رشید احمد صدیقی
2.2.2 غیر افسانوی نثر
غیر افسانوی نثر سے مراد ہے، ایسی نثر جس میں ہر قسم کے ابہام، اشارے، کنایے سے مکمل طور پر بچتے ہوئے، صاف ستھرے انداز میں حقائق کو بیان کیا گیا ہو۔ اس کا مقصد کسی مسئلے یا موضوع کے مختلف پہلوؤں کو مربوط اور منظم طریقے سے پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے غیرافسانوی نثر میں وضاحت اور ترسیلِ خیال کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔رپورتاژ، خاکہ، انشائیہ، مضمون، خط، سوانح، آپ بیتی اور ڈائری وغیرہ غیرافسانوی نثری اصناف ہیں۔ یہاں ان میں سے چند اصناف کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔
» رپورتاژ
رپورتاژ (Reportage)فرانسیسی لفظ ہے۔ فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں رپورتاژ کا استعمال دو معنوں میں کیا جاتا ہے۔ اوّل اخباری رپورٹ، دوم کسی اخباری رپورٹ کو دلچسپ انداز میں پیش کرنا۔
رپورتاژ غیرافسانوی نثری ادب کی ایک صنف ہے۔ کسی واقعے یا حادثے سے فوری تحریک ملنے پر جو روداد لکھی جاتی ہے اسے رپورتاژ کہتے ہیں۔ اس قسم کی تحریر میں قلم کار اپنے جذبات و تجربات کا بھی اظہار کرتا ہے۔ رپورتاژ بیانیہ کا فن ہے۔ رپورتاژنگار تفصیلات اور جزئیات کے ذریعے قاری کے سامنے متحرک تصویروں کا سماں باندھ دیتا ہے۔ رپورتاژ صرف چشم دید واقعات پر لکھا جاتا ہے۔ سنے سنائے واقعات پر مبنی تخلیق افسانہ، ناول یا ڈراما تو ہو سکتی ہے، رپورتاژ نہیں ۔ اس میں واقعات کی صداقت کے ساتھ جذبات و تاثرات کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ اسی لیے رپورتاژنگار کا کسی واقعے، حادثے، ادبی جلسے، مشاعرے، کانفرنس وغیرہ کا ذاتی طور پر دیکھنا اور اس کی صحیح تصویر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار کرنا بھی لازمی ہے۔
رپورتاژ میں کسی واقعے یا تقریب کی تفصیلات کو افسانوی انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔رپورتاژ کی زبان صاف، شستہ اور رواں ہونی چاہیے۔ ایک آزاد اور مستقل نثری صنف کی حیثیت سے اردو میں رپورتاژ کا وجود ترقی پسند تحریک کی دین ہے۔ اردو کا پہلا معروف رپورتاژ کرشن چندر کا ’پودے‘ ہے۔ اس کے بعد قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، ابراہیم جلیس، سہیل عظیم آبادی اور صفیہ اختر کے رپورتاژ مقبول ہوئے۔
رپورتاژ کیسے لکھیں
رپورتاژ نویسی کے لیے درجِ ذیل نکات کو پیشِ نظر رکھیے:
» رپورتاژ غیرافسانوی ادب کا حصہ ہے لیکن اس میں جگہ جگہ فکشن کا رنگ جھلکتا ہے جو قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ہے۔ اس لیے رپورتاژ نگار کو واقعات و حالات کے مطابق اپنے انداز کو افسانوی رنگ سے آراستہ کرنا چاہیے۔ کہیں ڈرامائی تو کہیں داستانی اندازِ بیان بہتر معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات راست گفتگو کا پیرایہ اختیار کیا جاسکتا ہے ۔
» رپورتاژ اس طرح تحریر کرنا چاہیے کہ وہ محض مختصر عرصے کے لیے ہی توجہ کا باعث نہ ہو بلکہ وہ ایسی قدروں کی نمائندگی بھی کرے کہ ہر زمانے میں اس کی دل چسپی قائم رہے۔
» رپورتاژ کا اسلوب ادبی ہونا چاہیے۔
» واقعات کی پیش کش میں ربط و تنظیم ہونی چاہیے۔
» رپورتاژ میں تفصیلات کے بیان کی بڑی اہمیت ہے۔ اس لیے قلم کار کو جزئیات نگاری پر قدرت ہونی چاہیے۔
» منظرنگاری اور تصویرکشی کے بغیر رپورتاژ میں حقیقت کا رنگ پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح شخصیت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے۔ اس کے احساسات و خیالات تک بھی قلم کار کی رسائی ہونی چاہیے۔
» رپورتاژ میں لکھنے والا خود بھی ہرجگہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات خودنمائی کا رنگ غالب ہونے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے میں احتیاط برتی جائے۔
» رپورتاژ کا بنیادی مقصد رپورٹ تیار کرنا ہے ۔ تاہم اس کو ایک ادبی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ایک رپورٹ تب ہی ادبی حیثیت اختیار کرسکتی ہے جب وہ حقیقت اور تخلیقیت کا اعلیٰ نمونہ ہو۔
وارث علوی(1928/36-2014)
وقت گزرنے کے ساتھ ناولوں کی دُنیائیں پرانی ہو جاتی ہیں لیکن آپ وقت کے کسی بھی مرحلے میں ہوں جب آپ ناول کی دُنیا میں داخل ہوتے ہیں تو وہ آپ کے لیے زندہ ہو جاتی ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ اس دُنیا میں، اس دُنیا کے لوگوں میں، ان کے دُکھ درد، المیوں اور طربیوں میں زندہ رہنا مجھے اچّھالگا۔ کم از کم آپ یہ محسوس نہیں کرتے کہ چلو اچّھا ہوا تاریخ کا یہ دور بھی ختم ہوا۔ جو کچھ بھی تھا اپنی دھوپ چھاؤں لیے ایک خوشگوار دِن تھا جس میں تاریک واقعات نے بھی جنم لیا۔
— وارث علوی
سرگرمی 5.24
مضمون لکھنے سے متعلق اہم نکات کے مطابق اپنی پسند کے کسی موضوع پر مضمون تحریر کیجیے۔
» مضمون
عام طور پر خیالات و احساسات اور تجربات و مشاہدات کو تحریری شکل میں پیش کرنا مضمون کہلاتا ہے۔ کسی بھی موضوع یا مسئلے پر معلوماتی یا تجزیاتی تحریر کو مضمون کہتے ہیں۔ مضمون بنیادی طور پر کسی ایک موضوع کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے۔ اس میں علمیت اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ معلوماتی مضامین کا انداز غیرشخصی اور غیرجانبدارانہ ہوتا ہے۔ عہدِ حاضر میں مضمون نویسی کا فن تیزی سے مقبول ہوا ہے جس کے ذریعے لوگ کسی بھی عنوان کے تحت اپنی رائے اور حقائق عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
مضمون عام طور پر مختصر ہوتا ہے۔ تاہم موضوعات کے اعتبار سے مضمون کا دائرہ بہت وسیع ہے۔
مضمون کی کامیابی کا انحصار ربط و ترتیب اور تنظیم پر ہے۔ ایک اچھے مضمون میں موضوع یا مسئلے کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے تمام اہم پہلو زیربحث آجائیں۔ تمہیدی حصّے میں موضوع کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد منطقی ترتیب میں سنجیدہ اور مدّلل طریقے سے اہم نکات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ انتشار سے بچتے ہوئے ضروری وضاحت اور صراحت کے ساتھ بات کہی جاتی ہے اور کسی نتیجے پر پہنچ کر مضمون کو ختم کردیا جاتا ہے۔ اس طرح مضمون تین حصوں پر مبنی ہوتا ہے۔ پہلا حصّہ تمہیدی یا تعارفی ہوتا ہے ۔ اس حصے میں مضمون نگار کوئی دعویٰ بھی پیش کرسکتا ہے۔ مضمون کے دوسرے حصے میں وہ اپنے دعوے کی دلیلیں پیش کرتا ہے۔ اس طرح دوسرا حصہ استدلال اور بحث پر مبنی متن ہوتا ہے۔ اسے نفسِ مضمون بھی کہتے ہیں۔ تیسرے حصّے میں بحث کا حاصل یا نتیجہ بیان کیا جاتا ہے۔ مضمون میں طرزِ بیان اور زبان کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ الفاظ میں جس قدر قطعیت اور بیان میں جس قدر شفّافیت ہوگی اسی قدر مضمون نگاری کا حق ادا ہوگا۔
اردو میں رسالوں اور اخباروں کے فروغ کے ساتھ مضمون نگاری کو فروغ حاصل ہوا۔ 1857کے بعد بدلے ہوئے حالات میں مضمون نگاری سے زیادہ کام لیا گیا۔ ماسٹر رام چندر، ڈپٹی نذیر احمد، محمد حسین آزاد، منشی ذکاء اللہ اور ماسٹر پیارے لال وغیرہ اردو کے ابتدائی مضمون نگار تھے۔ ان کے بعد سرسیّداحمد خاں، مولانا الطاف حسین حالی، مولانا شبلی نعمانی، محسن الملک، وقارالملک اور چراغ علی وغیرہ نے مضمون نگاری کی روایت کو آگے بڑھایا۔ ان کے علاوہ میرناصر علی، محمود شیرانی، مہدی افادی، نیازفتح پوری، رشید احمد صدیقی، فرحت اللہ بیگ، وحیدالدین سلیم، سیدسلیمان ندوی، مولوی عبدالحق، خواجہ غلام السیدین، عابد حسین، محمد مجیب وغیرہ نے اردو میں مضمون نگاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیاہے ۔ موجودہ عہد میں اردو اخبارات و رسائل کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا جس کے باعث مضمون نگاری کی روایت کو غیرمعمولی فروغ حاصل ہوا ہے۔
سرگرمی 5.25
اپنے ہم جماعت طلبا کے دو گروپ بنایئے اور ان کے درمیان مضمون اور انشایئے سے متعلق ایک مباحثہ کیجیے۔
سرگرمی 5.26
مضمون لکھنے سے متعلق اہم نکات کے مطابق اپنی پسند کے کسی موضوع پر مضمون تحریر کیجیے۔
» مضمون کیسے لکھیں
مضمون لکھنے سے پہلے ذہن میں یہ طے کرلیں کہ آپ کو کس موضوع پر لکھنا ہے اور اس میں کیا کیا باتیں تحریر کرنی ہیں۔ پھر یہ طے کریں کہ آپ کو مضمون کس کے لیے لکھنا ہے یعنی مضمون کو پڑھنے یا سننے والے کون لوگ ہوں گے؛ تعلیم یافتہ طبقہ ، اسکول کے طلبا، یاعام لوگ۔ اس کے بعد آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ مضمون کس قسم کا ہوگا۔ معلوماتی، علمی، تحقیقی، تنقیدی ،ادبی، شخصی، یا صحافتی ۔ اب آپ کو جس موضوع پر مضمون لکھنا ہے اُس سے متعلق ضروری معلومات حاصل کریں۔اس ضمن میں آپ کو اپنے مطالعے و مشاہدے سے روشنی ملے گی۔ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ اس موضوع پر کتابوں اور رسالوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں،اس موضوع کے ماہرین سے گفتگو کر سکتے ہیں اور انٹر نیٹ کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔
مضمون میں آپ کو اپنی بات وضاحت اور قطعیت سے کہنی چاہیے۔ اس میں لایعنی باتیں بیان کرنے سے بچنا چاہیے اور کمزور دلائل پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس میں پیچیدگی ،ابہام اور غیر ضروری طوالت کی گنجائش نہیں۔ مضمون میں حقائق کی درستگی ، جملوں کی ترتیب اور قواعد کا خیال رکھنا لازمی ہے۔
مضمون لکھتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اس میں اس طرح کے مبہم الفاظ استعمال نہ کریں مثلاً ’بعض لوگوں کا خیال ہے‘ ، ’لوگوں کا کہنا ہے‘، ’کسی نقاد نے لکھا ہے‘، ’پوری دنیا جانتی ہے‘ ، یہ بات کون نہیں جانتا‘ وغیرہ۔اور نہ ہی اس طرح کے دعوے کرنے چاہیے مثلاً ’ عظیم ترین نقاد‘ ، ’ سب سے بڑے دانشور‘ ، ’میرا دعویٰ ہے ‘،’ اب تک یہ بات کسی کے علم میں نہیں ہے‘وغیرہ۔
جب مضمون مکمل ہوجائے تو اسے ایک بار پھر شروع سے آخر تک پڑھیں۔ اس میں بیان کیے گئے حقائق اور قواعد اور زبان کے استعمال پر نظر ثانی کریں اور طرز اظہار کو درست کر لیں۔ اس کے بعد یہ مضمون اپنے کسی دوست کو سنائیے ، پھر اپنے کسی استادکو دکھائیے پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد مضمون کو اشاعت کے لیے بھیجئے۔
سرگرمی 5.27
اپنے بہترین دوست کا خاکہ لکھیے اور کلاس ٹیچر کی اجازت سے کلاس میں پڑھ کر سنایئے۔
» خاکہ
’خاکہ‘ انگریزی اصطلاح Sketchکا اردو ترجمہ ہے ۔ یہ صنف ہمارے یہاں انگریزی ادب سے آئی ہے۔ یہ وہ صنف ادب ہے جس میں کسی شخص کی زندگی، سیرت و صورت، عادات و اطوار اور کارناموں کی چند مخصوص جھلکیاں اس طرح پیش کی جاتی ہیں کہ اس کے مطالعے سے پڑھنے والے کو جمالیاتی حظ حاصل ہوتا ہے اور وہ شخص جیتا جاگتا سا آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔ خاکے میں شخصیت کو جیسی وہ ہوتی ہے بالکل ویسا ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اسے اچھا یا برا کچھ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ اس کے اہم اور امتیازی پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کیا جاتا ہے کہ شخصیت کے ظاہرو باطن نمایاں ہوجائیں۔ خاکہ کسی فرد کی داستان حیات نہیں ہوتا، نہ اس میں شخصیت کے تمام پہلووں کا اظہار ہو تا ہے۔ اس میں فرد کی نمایاں خصوصیات کی عکاسی کی جاتی ہے۔ اس میں تفصیل سے زیادہ اجمال ، اور وضاحت سے زیادہ اشارے ہوتے ہیں۔اچھا خاکہ وہی ہوتا ہے جس میں انسان کے کردار اور افکار دونوں کی جھلک ہو۔ جس کا خاکہ لکھا گیا ہے اس کی صورت، اس کی سیرت، اس کا مزاج، اس کے ذہن کی افتاد،اس کا زاویۂ فکر، اس کی شخصی خوبیاں اورخامیاں سب نظروں کے سامنے آجائیں۔ خاکے میں نہ تو مبالغہ ہونا چاہیے، نہ تخیل آمیزی اور نہ ہی مدح سرائی۔ ّ
خاکہ نگاری کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ آپ اسی شخص کا خاکہ لکھ سکتے ہیں جسے آپ اچھی طرح سے جانتے ہوں۔ تاکہ ظاہری حلیے کے علاوہ آپ اس کے اٹھنے بیٹھنے کے طریقے، گفتگو کے انداز، اس کے مخصوص اعمال، اس کی پسند و ناپسند ، اس کے برتاو،اس کے مزاج ،اور کسی حد تک اس کی نفسیات کے ذکر سے خاکے میں حقیقی رنگ بھر سکیں۔
خاکہ نگاری میں زبان و بیان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ خاکہ نگار کسی شخصیت کو اس کی خوبیوں ، خامیوں اور لطافتوں کے ساتھ دل کش پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خاکہ نگار کو زبان و بیان پر مہارت ہو، تاکہ وہ اپنے محسوسات اور مشاہدات کوایسے دلچسپ انداز اور پُر اثر طریقے سے پیش کر نے پر قادر ہو کہ حقائق بھی مجروح نہ ہوں اور بیان کی لطافت بھی قائم رہے۔
اردو کے پہلے باضابطہ خاکہ نگار مرزا فرحت اللہ بیگ ہیں اور ان کی تصنیف ’نذیر احمد کی کہانی کچھ اُن کی کچھ میری زبانی‘اردو کا پہلا طویل خاکہ ہے۔ اس کے بعد خاکہ کو اردو میں ایک اہم صنف کے طورپر برتا جانے لگا اور اسے کافی مقبولیت بھی ملی۔ متعدد ادیبوں، شاعروں اور نقادوں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے اور ہمیں کئی اچھے خاکے دیے ہیں۔ سید عابدحسین کے خاکوں کا مجمو عہ ’کیا خوب آدمی تھا‘، مولوی عبدالحق کے خاکوں کی کتاب ’ چند ہم عصر‘، سعادت حسن منٹوکے خاکوں کا مجموعہ ’گنجے فرشتے‘ رشید احمد صدیقی کے مجموعے ’گنج ہائے گرانمایہ‘ اور ’ہم نفسانِ رفتہ‘ ، اشرف صبوحی کا مجموعہ ’ دلی کی چند عجیب ہستیاں‘ اور علی جواد زیدی کے خاکوں کا مجموعہ ’ان سے ملیے‘ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ عصمت چغتائی ، شاہد احمد دہلوی، شفیقہ فرحت، محمد طفیل، مجتبیٰ حسین اور نورالحسن نقوی وغیرہ نے عمدہ اور دلچسپ خاکے لکھے ہیں۔

» خاکہ کیسے لکھیں
خاکہ لکھنے سے پہلے آپ کو چند باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ اہم لوگوں کے لکھے ہوئے بہت سارے خاکے پڑھیے اور غور کیجیے کہ ان لوگوں نے کیسے لکھاہے ، صاحب خاکہ کی سیرت و صورت کے کِن کِن پہلوؤں کوکس طرح پیش کیا ہے، آپ کو کون سا خاکہ زیادہ پسند آیا ہے اور کس خاکہ نگار کی طرزِ نگارش آپ کو اچھی لگی ہے۔
پہلے سیدھا سادہ خاکہ لکھیے، مثلاً جس آدمی کا آپ خاکہ لکھ رہے ہیں؛ اس کا حلیہ بیان کیجیے ، پھر اس کی بات چیت کا انداز بیان ، اس کی کوئی مخصوص یا دلچسپ عادت ہو تو اس کا ذکر کیجیے، وغیرہ۔ اس کے بعد اس کی سیرت یا شخصیت بیان کیجیے۔
اب آپ نے جو خاکہ لکھا ہے اسے دوستوں کو سنائیے ،وہ جو مشورہ دیں اس کے مطابق خاکے میں ردّوبدل کیجیے اور پھراسے اپنے کسی استاد کو دکھائیے۔
» روزنامچہ/ڈائری
ڈائری کواردو میں روزنامچہ کہتے ہیں۔ ڈائری انتہائی ذاتی نوعیت کی تحریر ہوتی ہے۔ ڈائری نگار کی دلچسپی، اس کے خیالات، تصورات اور شخصیت کا عکس اس کے ہر صفحے پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ڈائری ہر آدمی لکھ سکتا ہے۔ ڈائری نگار کو کسی موضوع و مسئلے پر گھنٹوں غوروفکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن ڈائری اسی وقت ڈائری کہلائے گی جب کہ ڈائری لکھنے والے کے تجربے میں کچھ ایسی باتیں بھی ہوں جو دوسروں کے لیے دلچسپ ہوں اور ان سے زندگی کی تفہیم میں مدد ملے۔
ڈائری کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ذاتی اور دوسری محاضراتی۔ذاتی سے مراد وہ ڈائری ہے جس کا موضوع ابتدا سے انتہا تک لکھنے والے کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی ذات سے وابستہ دیگر مظاہر اور اشخاص کا ذکر بھی کرتا ہے لیکن دوسری چیزوں کے مقابلے میں اس کی توجہ اپنی ذات پر زیادہ ہوتی ہے۔
محاضراتی سے مراد وہ ڈائری ہے جس میں مصنف اپنی ذات پر توجہ کم دیتا ہے اور حالاتِ حاضرہ اور دیگر قسم کی سرگرمیوں پر اس کی نگاہ زیادہ ہوتی ہے۔ خواجہ حسن نظامی کی یاد داشتیں یا روزنامچے ا س کی عمدہ مثالیں ہیں جن میں انھوں نے اپنی ذات سے زیادہ سیاسی، سماجی اور تہذیبی سرگرمیوں کو اپنی ڈائری کا موضوع بنایاہے۔
سرگرمی 5.28
اپنے کسی سفر سے متعلق اہم اور دلچسپ معلومات، واقعات اور تجربات کو سفرنامے کی شکل میں پیش کیجیے۔
سرگرمی 5.29
اپنے شب وروز کے واقعات اور تجربات کو ڈائری میں لکھیے۔ ایک ہفتہ کے اندراجات کو اپنے استاد اور دوستوں کو دکھایئے اور اُن کی رائے معلوم کیجیے۔
روزنامچہ/ ڈائری کیسے لکھیں؟
ڈائری یا روزنامچہ کوئی بھی لکھ سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ اس میں دوسروں کے لیے دلچسپی کا سامان ہو۔ ڈائری لکھنے والا روزانہ کے اہم مشاغل، واقعات، تجربات یا محسوسات تحریر کرتا ہے۔ اس ضمن میں یہ خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ عام قسم کی باتیں یا روزمرہ کے مشاغل کا ذکر اس میں نہیں کیا جاتا ۔ اس میں وہ باتیں تحریر کی جاتی ہیں جومعمول سے ہٹ کر ہوں۔ ڈائری نگار اپنے گھریلو حالات، گردوپیش کے اہم واقعات، کسی اہم علاقائی، قومی یا بین الاقوامی واقعے یا حادثے سے متعلق تفصیل اور اپنے ذاتی تاثرات بھی بیان کر سکتا ہے۔ کوئی شاعر یا ادیب اپنے تخلیقی تجربے کے بارے میں بھی ڈائری لکھ سکتا ہے۔ ڈائری میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی اہمیت کے واقعات بھی بیان کیے جاسکتے ہیں۔ غرض اس کے لیے موضوعات کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ خارجی واقعات میں داخلی محسوسات و تاثرات کی آمیزش ڈائری کو اہم بنا دیتی ہے۔ ڈائری لکھنے میں مصنف کی اپنی پسند و نا پسند کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ڈائری نگار جس پیشے سے تعلق رکھتا ہے اس کے موضوعات بھی زیادہ تر اسی سے متعلق ہوتے ہیں۔ مثلا ً شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد کی ڈائری میں ادبی مباحث یا اس سے متعلق دیگر باتوں کا ذکر زیادہ ملتا ہے۔
ڈائری میں درج تفصیلات سے حوالے اور سند کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر غالب نے 1857 کے حالات فارسی میں ’’دستنبو‘‘ نامی روزنامچے میں لکھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس دور میں دہلی اور دہلی والوں پر کیا بیتی۔روزنامچہ نگاری کے لیے صداقت، حقیقت بیانی، معروضیت، اختصار اور دل کش اسلوب بیان ضروری ہے۔ آپ ڈائری لکھنے کا آغاز اپنے اسکول کے کسی پروگرام سے متعلق تفصیلات سے کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے اسکول میں یوم آزادی یا یوم جمہوریہ یا یومِ تعلیم یا یومِ اساتذہ کا پروگرام منعقد ہوا۔ وہ پروگرام آپ کو کیسا لگا، اس کی خاص باتیں کیا تھیں، آپ نے اس میں کیا کردار ادا کیا، آپ کے پرنسپل نے اس میں کیا پیغام دیا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں اپنی ڈائری میں لکھیے۔ ڈائری لکھنے کے بعد اس پر نظرثانی کیجیے اور پھر اپنے کسی دوست یا استاد کو دکھایئے۔
سرگرمی 5.30
خط/مکتوب میں آپ کن خصوصیات کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کی روشنی میں اپنے دوست کے نام خط کا ایک نمونہ پیش کیجیے۔
مکتوب نگاری / خط نگاری
خط نگاری ایک دوسرے کو اپنی خیر و عافیت اور جذبات و خیالات سے واقف کرانے کا فن ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے مکتوب نگاری کی خاص اہمیت ہے۔ نظم، ناول، افسانہ وغیرہ کی مانند مکتوب نگاری بھی ایک جدید صنفِ ادب ہے جس کے ساتھ کسی متعین ہئیت کا تصور وابستہ نہیں ہے۔ اردو میں غالب کے خطوط سے قبل فارسی زبان میں خط لکھنے کی رو ایت تھی جس میں مقفّیٰ ومسجع عبارت آرائی پر زور تھا۔خط نگار عموماً موضوع یا جذبات کے اظہار کے بجائے اسلوبِ نگارش پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ غالب نے خط کو بات چیت کی زبان سے قریب تر کرکے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔
خطوط دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک ذاتی، دوسرے کاروباری۔ خط لکھتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ یہ ترسیلی نثر میں لکھے جائیں۔ جملے رواں اور مختصر ہوں۔ نامانوس ترکیبوں اور دقیق لفظوں کا استعمال نہ ہو۔ جذبات واحساسات کا راست اظہار ہو۔ ذاتی خطوط میں معاملات ومسائل کا ترتیب وار اظہار لازمی نہیں ہوتا جب کہ کاروباری خط میں ضابطے کی پابندی کی جاتی ہے۔ کاروباری خطوط ضروری معلومات تک محدود ہوتے ہیں، ان میں وضاحت اور اختصار ہوتاہے۔
مکتوب / خط کیسے لکھیں
خط لکھتے وقت چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً خط کہاں سے لکھا جارہا ہے، کون سی تاریخ میں لکھا جارہا ہے، کس کو لکھا جارہا ہے۔ لکھنے والے سے اس کا کیا رشتہ ہے اور خط لکھنے کا مقصد کیا ہے۔ ان باتوں کو بالعموم ایک خاص ترتیب سے پیش کیا جاتا ہے۔ اسے آپ خط کی ہیئت بھی کہہ سکتے ہیں۔ عام طور سے اردو میں خط کے شروع میں دائیں طرف مکتوب نگار کا مختصر پتا، اس کے نیچے تاریخ، پھر اس کے بعد مخاطب کے لیے القاب و آداب اور اس کے بعد اصل مضمون آتا ہے۔ آخر میں اختتامی کلمہ لکھ کر مکتوب نگار اپنا نام درج کردیتا ہے۔ یہ خط کی عام ہیئت ہے۔
کاروباری خط میں چوں کہ صرف کام کی باتیں لکھی جاتی ہیں اس لیے ایسے خطوط قلم بند کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ لیکن ذاتی نوعیت کے خطوط کا دلچسپ ہونا ضروری ہے۔ ایک اچھے خط میں غیر ضروری تکلف سے بچتے ہوئے گفتگو کے انداز میں اظہارِ مدعا کیا جاتا ہے۔
آپ خط لکھنے بیٹھیں تو سب سے پہلے یہ دیکھیے کہ خط کس کو لکھا جارہا ہے۔ اگر وہ رشتے میں آپ سے بڑے ہیں تو آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے سیدھے سادے انداز میں اپنی خیریت، مصروفیات اور اصل مقصد پر روشنی ڈالیے۔ جسے خط لکھ رہے ہیں اگروہ آپ کے دوست ہیں تو کچھ ہنسی مذاق کی باتیں اور بے تکلف انداز مناسب رہے گا۔ اگر آپ اپنے چھوٹے بھائی بہن یا کسی کم عمر عزیز کو خط لکھ رہے ہیں تو اپنائیت کے ساتھ ساتھ شفقت کا بھی اظہار ہونا چاہیے۔
سچ تو یہ ہے کہ ایک اچھا خط کس طرح لکھا جاسکتا ہے، اس کا کوئی خاص اصول نہیں ہے۔ خط مکتوب نگار کی شخصیت کا آئینہ ہے۔ اگر مکتوب نگار کی شخصیت دلچسپ ہے تو خط بھی دلچسپ ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر آپ کو اپنی بات کہنے کا سلیقہ آتا ہے تو آپ کا لکھا ہوا خط بھی خوب صورت ہوگا۔ ایک اچھا خط لکھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ نے بہت سے اچھے مکتوب نگاروں کے خط پڑھ رکھے ہوں۔ غالب ؔ، حالیؔ، شبلیؔ، اکبرؔ الٰہ آبادی، مہدی افادی، ابوالکلام آزادؔ، صفیہ اختر وغیرہ کے خطوط کے مطالعے سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ مختلف خیالات، جذبات اور احساسات کو خط میں کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ آپ اپنی پسند کے مکتوب نگاروں کے خطوں کو بار بار پڑھیے۔ اس سے خود آپ کے اندازِ تحریر میں نکھار پیدا ہوگا۔ اور آپ جان جائیں گے کہ اچھے خط کس طرح لکھے جاتے ہیں۔

غور کرنے کی بات
• ادبی تحریر کی تشکیل میں تخیّل، احساس، جذبات کی نمائندگی، الفاظ کا انتخاب اور انھیں برتنے کا سلیقہ اور صنائع بدائع وغیرہ کی بنیادی اہمیت ہے۔
• تخلیقی اظہار کی دو صورتیں ہیں، نثر اور شعر۔ نثر میں بھی ایک ہے تخلیقی نثر اور دوسری غیرتخلیقی نثر۔
• تخلیقی اظہار کے بہت سے وسیلے ہیں جیسے ناول ، افسانہ، غزل وغیرہ ۔ ان کے تقاضوں کے موافق ہی فن کار زبان، اسلوب یا فنی تدابیر کا استعمال کرتا ہے۔ کسی بھی ادبی اظہار میں اثر آفرینی کی قدر بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
• شاعری ایک لطیف فن اور انسانی جذبات کا نہایت خوب صورت اظہار ہے۔ شاعری کے لیے عام طور پر تخیّل، مشاہدے، مطالعے، وزن، قافیے اور ذخیرۂ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
• غزل میں قافیے کی خاص اہمیت ہے۔ غزل میں تخیّل تخلیق کی جان ہوتا ہے۔ لفظی آہنگ، او زان و بحر وغیرہ سے واقفیت ضروری ہے۔
• گیت کا موسیقی سے خاص رشتہ ہے۔ نغمگی گیت کا خاص وصف ہے۔
• افسانہ ایک بیانیہ تخلیق ہے جس میں ایک یا ایک سے زائد کرداروں کے حوالے سے کوئی واقعہ یا واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔
• افسانے میں چار اجزا کی خاص اہمیت ہے۔ پلاٹ، کردار، اطراف و ماحول اور اسلوب -پلاٹ کی عمارت کسی کہانی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
• غیرافسانوی نثر اپنی تخلیقیت کی وجہ سے ایک الگ تاثر فراہم کرتی ہے۔ رپورتاژ، مضمون، انشائیہ، خاکہ، خودنوشت (آپ بیتی)، روزنامچہ (ڈائری)،مکتوب نگاری، غیر افسانوی نثر کی مختلف اصناف ہیں۔
مشق Exercise
۱۔ تخلیقیت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
۲۔ادبی تحریر کی تشکیل میں ’جذبات کی نمائندگی‘اور ’احساس کےعمل‘کی کیا اہمیت ہے؟
۳۔اردو میں غزل کی روایت،اہمیت اورغزل کے فن پرتفصیلی روشنی ڈالئے۔
۴۔ اردو میں گیت کی روایت اور اس کے فنی تقاضوں پر اظہارِ خیال کیجئے۔
۵۔تخلیقی نثر اور غیر تخلیقی نثرکی بنیادی خصوصیات کی نشان دہی کیجئے۔
۶۔ اپنی درسی کتاب کے کسی افسانے کا انتخاب کیجئے اور اس کا فنی جائزہ پیش کیجئے۔
۷۔افسانہ نگاری کے فن،اجزائے ترکیبی اور اردو میں افسانےکی روایت کا تفصیلی جائزہ پیش کیجئے۔
۸۔ناول کے فن پر اظہارِ خیال کیجئے۔
۹۔ خاکہ نگاری کی بنیادی خصوصیات پر اظہارِ خیال کیجئے۔
۱۰۔ رپور تاژ کی خصوصیات بیان کیجئے۔
۱۱۔ ایک اچھے مضمون کی خصوصیات بیان کیجئے۔