Skip to content
I

 vi-اکائی

II -میڈیا کے لئے لکھنا

45

23
1

باب  :  1 برقی ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک میڈیا) سے متعلق تحریروں کامختصر تعارف 
1.1 برقی ذرائع ابلاغ
1.2 ذرائع ابلاغ کی تاریخ
1.3 ریڈیو
1.3.1 ایف ایم ریڈیو ٹیلی کاسٹ
1.3.2   ریڈیو پروگرام اور اس کی اہم اصناف
1.4 ریڈیو کے لیے لکھنا
1.4.1 ریڈیو فیچر
1.4.2 ڈاکومینٹری
1.4.3 ریڈیو  ڈراما
1.4.4 ریڈیو ٹاک
1.4.5 مباحثہ، مذاکرہ
1.4.6 ریڈیو کی منظوم اصناف
1.5 ٹیلی ویژن
1.5.1 نیوز رپورٹنگ
1.5.2 اسکرپٹ نگاری 
1.6 سنیما/ فلم
1.6.1 فلمی تبصرہ
1.7 انٹرویو
1.8 اشتہار
1.8.1 ریڈیائی اشتہار
1.8.2 ٹی وی اشتہار
1.9 ریڈیو اور ٹی وی اینکرنگ
باب  :  2  میڈیا کے لیے لکھنا  -II  
2.1 اسکرپٹ (ریڈیو، ٹیلی ویژن)
2.1.1 میڈیا کے لیے خبریں تیار کرنا
2.1.2 ’خبر‘ کیا ہے؟
2.1.3 ریڈیو نیوز بلیٹن
2.1.4 ٹی وی نیوز بلیٹن
2.1.6 ٹی وی نیوز ایڈیٹنگ
2.1.5 ٹی وی کے لیے خبروں کا انتخاب
2.1.7 ٹی وی خبروں کی پیش کش
2.2      ٹیلی ویژن دستاویزی فلم
2.3 ڈاکیوڈراما
2.4 نیو میڈیا


تخلیقی جوہر کے پہلے حصے میں میڈیا کی اقسام پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور نیو میڈیا کا تعارف پیش کیا گیا تھا اور پرنٹ میڈیا کے لیے لکھنے کا طریقہ بتایا گیا تھا۔ یہاں اس اکائی کے پہلے باب میں برقی میڈیا کے لیے لکھی جانے والی تحریروں اور نیو میڈیا سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہے۔ برقی ذرائع ابلاغ ریڈیو، ٹی وی، سنیما وغیرہ کے آغاز و ارتقا اور
 تاریخی پس منظر کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس یونٹ میں ریڈیو اور 
ٹی ۔ وی اصناف اور انھیں لکھنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ نیوز بلیٹن 
کی تیاری اور پیش کش اور ڈاکیوڈرامے کی اہمیت بھی اس 
یونٹ میں شامل ہے۔ 





باب1

برقی ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک میڈیا) سےمتعلق تحریروں کامختصرتعارف 


ذرائع ابلاغ و ترسیل ،افکار و خیالات کو ایک فرد یا مقام سے دوسرے افراد یا مقامات تک پہنچانے کے وسائل ہیں۔ ان وسائل کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ۔ہے کہ یہ مسلسل انسانی ایجادات کے ساتھ ساتھ اپنی صورت اور اپنے طریقۂ کار تبدیل کرتے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ذرائع ابلاغ عہد بہ عہد ترقی کے مراحل طے کرتے جا رہے ہیں۔
پرنٹ میڈیا کی مقبولیت کے بعد ریڈیو، سنیما اور ٹیلی ویژن جیسے وسائل سامنے آئے۔ ان وسیلوں کے عام ہونے سے الیکٹرانک میڈیا کی ایک اصطلاح رائج ہوئی۔ الیکٹرانک میڈیا کے لیے جو تحریریں لکھی جاتی ہیں ان کے تقاضے پرنٹ میڈیا کی تحریروں سے مختلف ہیں۔
 ان تقاضوں کا تعلق پیش کش کے مقاصد، ذرائع اور طریقۂ کار سے ہوتا ہے مثلاً اخبار کے لیے لکھتے وقت پڑھنے کے تقاضوں کا خیال رکھا جاتا ہے،ریڈیو کے لیے لکھتے وقت سمعی اصولوں پر نظر رکھی جاتی ہے اور ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے وقت سمعی اور بصری دونوں ضرورتوں پریکساں توجہ دی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں تکنیکی تقاضوں کے علاوہ لکھنے کے مقاصد اور سامعین،قارئین اور ناظرین کے ذہن اور ان کی تہذیب و معاشرت کے لحاظ سے بھی مضامین، موضوعات، اسلوب ، طریقۂ کا ر اور زبان کے معیار میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔

1.1  برقی ذرائع ابلاغ   Electronic Media

برقی یا الیکٹرانک میڈیا کے لیے لکھنے والے کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ یہ تحریر کیوں اور کس کے لیے لکھی جا رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں نشر ہونے والے پروگرام کا وقت متعین ہوتا ہے۔ لکھنے والا وقت کے دورانیے کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ یہ بے حد ضروری ہے کہ جو کچھ وہ لکھ رہا ہے وہ طے شدہ مدّت میں ختم ہو، نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ زبان آسان اور جملے مختصر اور واضح ہوں۔ کسی تحریر میں جامعیت تب ہی آتی ہے جب لکھنے والے کو یہ معلوم ہو کہ اسے کیا نہیں لکھنا ہے اور جو لکھنا ہے اسے کم سے کم الفاظ میں کس طرح ترسیل و تفہیم کے لائق بنانا ہے۔ترسیل و ابلاغ میں ’کیوں،کیا ،کیسے ،کب، کہاں اور کس کے لیے پیش کرنا ہے‘ کی اہمیت مسلّم ہے لیکن ’کتنے وقت میں پیش کرنا ہے‘ کو ان سب پرفوقیت حاصل ہے۔ کیو ں کہ برقی ترسیل و ابلاغ کے سبھی ذرائع پیش کش کی مدت کے پابند ہوتے ہیں۔ آیئے اس باب کے آغاز میں الکٹرانک میڈیا کی تاریخ کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ اس کے بعد اس میڈیا کے لیے لکھی جانے والی تحریروں پر توجہ کی جائے گی۔

سرگرمی 6.1  

برقی ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک میڈیا) کے بتدریج آغاز و ارتقا کو ایک چارٹ کی شکل میں پیش کیجیے

1.2  ذرائع ابلاغ کی تاریخ

برقی ذرائع ابلاغ کا آغاز 1852 میں ٹیلی گراف کی ایجاد سے ہوا۔ ٹیلی گراف میں تار اور بجلی کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ صوتی اشارے بھیجے جاتے تھے۔ٹیلی گراف کے ذریعے پہلا پیغام  24مئی 1844 کو امریکہ میں واشنگٹن سے ’بالٹی مور‘ بھیجا گیا جس کا جواب بھی موصول ہوا۔ تقریباً بارہ برس بعد پیغام رسانی کے اس وسیلے کو وسعت ملی اور امریکہ سے یورپ کے مابین کیبل کی مدد سے پیغامات بھیجے جانے لگے۔ ٹیلی گرام کے اشارتی پیغام کو دور تک بھیجنے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انسانی آواز کو ایک مقام سے دو سرے مقام تک بھیجنے کی کوشش کی جانے لگی اور 1876 میں گراہم بیل نے ٹیلی فون کی ایجاد میں کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد سائنس دانوں نے تلاش وجستجو کی اگلی منزل طے کرتے ہوئے برقی ابلاغ کے لیے استعمال ہونے والے تار کو بے تار کرکے پیغامات کو ہوا میں موجود برقی لہروں کے ذریعے بھیجنا شروع کیا۔اسی کو ’وائرلیس‘کہا جاتا ہے۔اسے ’ہینرچ ہر ٹز‘(Heinrich Hertz) نے ایجاد کیا اور’ گوگلیمو مارکونی‘( Guglielmo Marconi)نے اس کی توسیع کرکے اسے کاروباری استعمال کے قابل بنایا۔ ’وائرلیس‘ کی ایجاد ایک ایسا اہم اور بنیادی نوعیت کا کارنامہ تھا جس نے ریڈیو ،ٹیلی ویژن اور سیٹلائٹ کی ایجادات کو آسان بنا دیا۔

جدید سماج کی تشکیل میں کمپیوٹر اور شماریات کی تکنیک کا جو زبردست اثر ہے اس سے اس طرح کے تعلیم یافتہ عوام کی ضرورت سامنے آئی ہے جو اس تکنیک کو سماج اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے مؤثر طور پر استعمال کر سکیں۔ اس لیے یہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ علم کے اس دائرہ اثر کو اسکولی درسیات میں جگہ ملنی چاہیے۔ کمپیوٹر تکنیک کے روز افزوں اثرات کے پیش نظر ہمیں اس بنیادی چیلنج کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور رابطے کی تکنیک کے معاملے میں معروضی متبادل تلاش کرنے ہوں گے جو ہندوستان کے شہری اور دیہی اسکولوں کے لیے مناسب اور فائدہ مند ہوں۔ ہمیں کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹکنالوجی میں ایک جامع اور مربوط نصاب کو ترقی دینے کے مسئلے کو بھی حل کرنا ہوگا جو تعلیمی تربیت کار، منتظمین اور عوام کے درمیان تبادلۂ خیال کے لیے بنیاد فراہم کر سکے۔ درسیات کو کارآمد بنانے کے لیے مخصوص موضوعات کو بھی جو بین مضامین افکار (Interdisciplinary) کی سہولت فراہم کرتے ہیں، شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

 قومی درسیات کا خاکہ— 2005 

1.3  ریڈیو

ہندوستان میں ریڈیو نشریات کا آغاز 1921 میں ٹائمس آف انڈیا اورپوسٹ اینڈ ٹیلی گراف محکمہ کے اشتراک سے نشر کیے جانے والے ایک موسیقی کے پروگرام سے ہوا۔ 1930 میں حکومت نے ’انڈین براڈ کاسٹنگ سروس‘شروع کی۔ 1936 میں اسے ’آل انڈیا ریڈیو‘ کا نام دیا گیا جسے 1957 سے’ آکاش وانی‘کہا جانے لگا۔ آل انڈیا ریڈیو کے آغاز کے ساتھ ہی ریڈیو کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہ ابلاغ کا ایک ایسا آسان وسیلہ ثابت ہوا جس نے کچھ ہی عرصے میں گھر گھر میں رسائی حاصل کر لی۔ ریڈیو کے لیے خصوصی پروگرام تیار کیے جانے لگے۔ خبروں کی نشرو اشاعت کے لیے بھی یہ ایک بہترین وسیلہ ثابت ہوا۔ ریڈیو پر ہندی، اردو اور انگریزی زبانوں میں خبریں نشر کی جانے لگیں۔ عوام کو یہ وسیلہ اس قدر پسند آیا کہ جس وقت ریڈیو سے خبریں نشر ہوتیں، لوگ ریڈیو کے ارد گرد جمع ہو کر انتظار کیا کرتے۔ اس کی مقبولیت اور افادیت کے پیشِ نظر ریڈیو کا دائرہ روز بروز بڑھتا گیا۔ بہت جلد ریڈیو کے کئی علاقائی چینل شروع ہوگئے۔ ہندوستان جیسے وسیع ملک میں جہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر بڑی زبان کے علاقے کے لحاظ سے کئی ریڈیو اسٹیشن کھلتے چلے گئے۔ ادھر آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے پروگرام اور چینلوں کی تعداد میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری رہا۔ خبروں کے علاوہ فلمی موسیقی کے پروگراموں نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔ ملک بھر سے لوگ اپنی فرمائشیں لکھ کر آل انڈیا ریڈیو پر بھیجتے اور ان کی فرمائش پر فلمی گیت، غزلیں اور نظمیں وغیرہ نشر کی جاتیں۔ فرمائشی گیتوں کے کئی پروگرام جیسے ’فوجی بھائیوں کے فرمائشی گیت‘ بے حد مقبول ہوئے۔ اسی طرح ریڈیو ڈرامے کی نشر و اشاعت نے بھی عوام کے دل کو موہ لیا۔ ڈراموں کے مختلف پروگرام جیسے ’ہوا محل‘ آج بھی اُس نسل کے ذہن میں تازہ ہیں جس نے اپنی نوجوانی میں انھیں ریڈیو کے وسیلے سے سُنا تھا۔ ریڈیو اناؤنسمنٹ نے بھی عوام کے دل میں اپنی جگہ بنائی۔ بعض پروگرام تو لوگ صرف اس وجہ سے سنتے تھے کہ انھیں پروگرام کے اناؤنسر کی آواز اور انداز بے حد پسند تھا۔ ریڈیو پر نشر ہونے والے اشتہارات بھی سماعت سے گزر کر لوگوں کے ذہن و دل کا حصّہ بنے اور لوگ اکثر اشتہارات بھی گنگنانے لگے۔ 
6
آپ کو معلوم ہے کہ کسی ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والے پروگرام ریڈیو سیٹ پر سنے جاتے ہیں۔ ریڈیو سیٹ ان ریڈیائی لہروں کو کیچ (Catch) کرتا ہے جو ریڈیو اسٹیشن سے نشر کی جاتی ہیں۔ ان ریڈیائی لہروں کا ایک مخصوص دائرہ ہوتا ہے جسے ہم ان لہروں کی حد بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسے آپ یوں سمجھیے کہ کسی ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والے پروگرام اُس اسٹیشن کے ارد گرد واقع 100  کلومیٹر کے دائرے میں سنے جا سکتے ہیں اور کسی اسٹیشن کے پروگرام اس اسٹیشن سے 5   ہزار کلومیٹر کی دوری پر بھی سنے جا سکتے ہیں۔ اس کا انحصار ریڈیو اسٹیشن کی تکنیکی صلاحیت یا ریڈیائی لہروں کی Wavelength  پر ہوتا ہے جس کی پیمائش میٹر میں کی جاتی ہے۔ ان لہروں کی پیمائش کے اعتبار سے میڈیم ویو (MW) بینڈ اور شارٹ ویو (SW) بینڈ وجود میں آئے۔ ساتھ ہی ان کی فریکوئینسی کے پیمانے میگاہرٹز بھی مقرر ہیں۔ چناں چہ ریڈیو اسٹیشنوں سے آج بھی اس نوعیت کے اعلان کیے جاتے ہیں کہ ’’یہ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس ہے۔ آپ ہمارے پروگرام میڈیم ویو اور شارٹ ویو پر سُن سکتے ہیں۔ ہمارے میٹرز ہیں میڈیوم ویو 427.3   میٹر یا 702  کلو ہرٹز، میڈیم ویو 280.1   میٹر یعنی 4860  کلوہرٹز، شارٹ ویو 31.27  میٹرز یعنی 9595  کلو ہرٹز اور 100.8   میگاہرٹز اور 1468.504   میگا ہرٹز پر یہ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس ہے۔‘‘آزادی کے فوراً بعد ہندستان میں کل چھے ریڈیو اسٹیشن ،بارہ میڈیم ویو (MW) اور چھے شارٹ ویو (SW) ٹرانسمیٹر تھے۔ فی الحال ہندوستان بھر میں 210 سے زائد براڈکاسٹنگ سینٹر قائم ہیں جو ملک کی تقریباً کل آبادی کو اپنی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ 1997 میں ایک خود مختار نشریاتی ادارہ Broadcasting Corporation of India کی تشکیل عمل میں آئی جسے ’پرسار بھارتی‘ کے نام سے مقبولیت ملی۔
7

1.3.1  ایف ایم ریڈیو ٹیلی کاسٹ

ہندوستان میں آکاش وانی سے تقریباً نصف درجن شہروں میں ایف ایم (Frequency Modulated)  ریڈیو نشریات کی ابتدا 1993  میں ہوئی۔ ایف ایم ریڈیو چھوٹی دوری عموماً 30 سے 40 کلو میٹر تک کا نشریہ ہے اور اس کی صوتی کوالٹی اعلیٰ درجے کی ہے۔اس نشریہ پر خراب موسم کا اثر بھی کم پڑتا ہے۔ ایف ایم نشریات موسیقی، ملاقات، انٹرویو پر مبنی لائیو ٹیلی فون اِن پروگرام ہیں۔ 
 1999 میں حکومت نے 40 شہروں میں 150 ایف ایم مراکز کو منظوری دے دی۔ ساتھ ہی حکومت نے خود کار تنظیموں، تعلیمی اداروں اور رضاکار تنظیموں کو بھی کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت دی۔ اس طرح ہندوستان میں ایف ایم کی توسیع کے لامحدود امکانات ہیں۔

1.3.2  ریڈیو پروگرام اور اس کی اہم اصناف

ریڈیو کے نشریاتی پروگراموں کی زمرہ بندی موسیقی ،گفتگو اور خبر کی صورت میں کی جاتی ہے۔موسیقی کے تحت ساز کی موسیقی (Instrumental Music)اورآواز کی موسیقی (Vocal Music)نشر کی جاتی ہے۔ان میں کلاسیکی، نیم کلاسیکی، ہلکی پھلکی یا مقبول موسیقی، لوک موسیقی، ساز سنگیت، فلمی موسیقی اورمغربی موسیقی کا شمار ہوتا ہے۔گفتگو کے پروگرام میں ریڈیو ٹاک (Radio Talk)، کلامِ شاعر، شعری نشست، ادبی نشست، مباحثہ، انٹرویو، آنکھوں دیکھا حال یا رواں تبصرہ، ریڈیو رپورٹ، ریڈیو فیچر،تمثیلی اور ریڈیائی ڈرامے شامل ہیں۔ اسی طرح خبروں کے پروگرام میں خبروں کے علاوہ حالاتِ حاضرہ کے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

1.4  ریڈیو کے لیے لکھنا

ریڈیو کی دنیا ساز وآواز سے آباد ہوتی ہے۔ اس لیے ریڈیائی اصناف تخلیق کرتے وقت زبان کی صوتی خوبیوں ،الفاظ کے مزاج ، زبان کے فطری استعمال کے ہنر سے واقف ہونا ضروری ہے۔ ریڈیائی اصناف میں تحریری زبان کے بجائے روز مرہ اور بول چال کی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ریڈیائی تقریروں کو Speech نہیں Talk کہاجاتا ہے۔ اردو میں Talk سے مراد تقریر،’بات چیت‘ یا ’گفتگو‘ ہے۔ریڈیو میں  Spoken Words کے تحت ریڈیو تقریر، انٹرویو ، مذاکرہ ، مباحثہ، تبصرہ ، شعری نشست اور حالاتِ حاضرہ کو شامل کیا جاتا ہے۔ان سبھی اصناف کو تخلیق یاپیش کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ان کو سنتے وقت سامعین پر یہ تاثر قائم ہو کہ وہ جو کچھ سن رہے ہیں وہ بے تکلف گفتگو یا بات چیت کا حصہ ہے۔ گویا جب ریڈیو کے لیے کچھ لکھا جائے تو متعینہ وقت کے لحاظ سے یہ طے کر لینا چاہیے کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا ہے۔اس کے بعد اہمیت کے لحاظ سے ان نکات کو ترتیب دینا چاہیے۔واقعات و نکات کو ترتیب دیتے وقت عام لوگوں کی دلچسپی کے علاوہ متعلقہ سامعین کی دلچسپی، ذہنی بلوغت، تعلیمی لیاقت اور پیشے کے اعتبار سے زبان کا استعمال کرنا چاہیے۔مجموعی طورپر عوامی ذرائع ابلاغ کے لیے لکھی جانے والی تحریر کا مقصد اپنی زبان دانی سے سامعین کو متاثر کرنا نہیں ہوتا بلکہ اطلاعات و معلومات کی ترسیل کو اس میں اہم مانا جاتاہے۔ ریڈیوپر الگ الگ نوعیت کے مختلف پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ پروگراموں کی نوعیت کے لحاظ سے انھیں ریڈیائی اصناف کہا جاتا ہے۔ یہاں بعض اہم اور مقبول ریڈیائی اصناف کی تفصیل دی جا رہی ہے۔

1.4.1   ریڈیو فیچر

 کسی موضوع پر مشتمل دستاویزی پیش کش کو ڈرامائی شکل میں نشر کرنا فیچر ہے۔ فنی نقطئہ نظر سے  فیچر ایک بیانیہ ہے جو ایک سے زیادہ آوازوں میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ فیچر کا بنیادی مقصد تفریح ہوتا ہے۔ اگر اس میں خالص حقیقت بیانی سے کام لیا گیا تو اس کی صورت مضمون کی ہوجائے گی۔ لہٰذا اس میں حقیقت کو تفریحی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کوشش بھی کی جاتی ہے کہ فیچر میں ایسی باتیں شامل کی جائیں جو عام معلومات کا حصّہ نہیں ہے۔ فیچر شخصی ہو سکتا ہے اور موضوعاتی بھی، منظوم ہو سکتا ہے اور نثری بھی۔ شخصی فیچر میں کسی شخص کی زندگی کے اہم حالات و واقعات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ موضوعاتی فیچر میں کسی خاص موضوع مثلاً ادب، تاریخ، سیاست، سائنس، کھیل کود وغیرہ کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ڈرامائی فیچر کو کرداروں کے مکالموں کے ذریعے ڈرامے کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ریڈیو فیچر تحریر کرنے والے کے لیے طے شدہ وقت یا دورانیے کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ 
ریڈیو  فیچر کی پیش کش کے لیے آواز کے اتار چڑھاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ موقع ومحل کی مناسبت سے بیک گراؤنڈ میوزک کے ذریعے بھی ریڈیو فیچر کے تاثر میں اضافہ کیا جا تا ہے۔

»    ریڈیو فیچر کیسے لکھیں

جیساکہ بتایا گیافیچر کا بنیادی مقصد تفریح ہوتا ہے، اس لیے فیچر لکھتے وقت سامعین کی تفریح کا خیال رکھیے۔ تحریر میں ڈرامائی اور افسانوی نثر کا استعمال کیجیے۔ حقیقت کو ادبی انداز میں پیش کیجیے۔ موضوع کا انتخاب کرتے وقت سامعین کی دلچسپی کو پیشِ نظر رکھیے۔ فیچر میں کوئی نئی بات پیش کرنے کی کوشش کیجیے۔ آسان الفاظ اور مؤثر مکالمے کا استعمال کیجیے۔

1.4.2  ڈاکیومینٹری 

ڈاکیومینٹری بنیادی طور پر دو لفظ ڈاکیومنٹ (Document) اور کمینٹری (Commentary) کا مرکب ہے۔ ڈاکیومینٹری کے اصطلاحی معنی دستاویز یا حقائق کو کمینٹری کی شکل میں پیش کرنا ہے۔ ڈاکیومینٹری کو دلچسپ بنانے کے لیے کمینٹری کے دوران انٹرویو کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دراصل ڈاکیومینٹری حقیقت میں تخلیقیت کی آمیزش سے تیار ہوتی ہے۔فن اور پیش کش کے لحاظ سے ڈاکیومینٹری کی دو قسمیں ہیں۔

(i)  ڈاکیومینٹری (ii)  ڈاکیو ڈراما

ڈاکیومینٹری اور ڈاکیو ڈراما دونوں ہی کسی حقیقی واقعے کو بنیاد بنا کر تیار کیے جاتے ہیں اور دونوں میں حقیقت کے عنصر کا غلبہ ہوتا ہے۔ البتہ ڈاکیوڈراما میں کوشش کی جاتی ہے کہ ان واقعات کو ڈرامے کی صورت میں پیش کیا جائے جو حقیقی طور پر پیش آچکے ہیں۔ اس لیے ڈاکیو ڈرامے کی پیش کش میں ڈرامے کے تمام اجزا پلاٹ، کردار، مکالمہ، وحدتِ عمل، وحدتِ زماں ومکاں کے علاوہ تضاد و کشمکش کا ہونا ضروری ہے۔ ڈاکیومینٹری میں واقعات کی ڈرامائی انداز میں پیش کش کی بہ نسبت ایسی فضا قائم کرنے پر توجہ کی جاتی ہے جو حقیقی معلوم ہو۔ اس میں ڈرامائی عناصر شامل کیے جاتے ہیں۔ کہیں کچھ کردار وضع کر دیے جاتے ہیں جو ان و اقعات و حالات کو مکالماتی انداز میں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ڈرامے کا سا لطف محسوس ہوتاہے۔

ڈاکومینٹری کیسے لکھیں

ڈاکیومینٹری لکھنے کے لیے پہلے موضوع کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے مواد حاصل کیا جاتا ہے اور تحقیق کردہ مواد کو مرتب کر کے کمنٹری لکھی جاتی ہے۔ کمنٹری کے درمیان ضرورت کے مطابق انٹروویوز کا استعمال ڈاکیومینٹری کو مؤثر بناتا ہے۔ ڈاکیومینٹری کی اسکرپٹ لکھتے وقت سامعین کی دلچسپی اور حقائق کی پیش کش کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اسکرپٹ لکھتے وقت سادہ، سلیس اور مؤثر زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکیومینٹری کسی تاریخی واقعے یا کسی مخصوص عہد سے متعلق ہے تو اُسی زمانے کی لفظیات اور اسلوب کا استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔

1.4.3  ریڈیو ڈراما

 ریڈیو آواز کا میڈیم ہے جب کہ اسٹیج اور ٹیلی ویژن دید وشنید دونوں سے سروکار رکھتے ہیں۔ریڈیو میں ہر ایک کیف و جذبہ،مسرّت و غم یہاں تک کہ خاموشی کو بھی آواز کے ذریعے ہی پیش کیا جاتا ہے۔آواز کے ذریعے ہی کرداروں کی شبیہ سازی، صورت حال کی تصویر کشی، مناظر کی تخلیق، جذبات کی شدت یہاں تک کہ آنسووں کی حدّت کا احساس کرایا جاتا ہے جب کہ اسٹیج، فلم اور ٹیلی ویژن میں یہ سب کچھ متحرک صورت میں ہوتا ہوا دکھایا جاسکتا ہے۔اس لیے ریڈیو ڈرامے میں مکالمے کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔یہاں حرکات و سکنات اور رفتار و عمل کے مراحل زبان، صوتی تاثر، موسیقی، مکالمے اور گفتگو سے ہی طے کیے جاتے ہیں۔اس میں صوتی آہنگ ،زبان کی موزونیت اور مکالموں کی برجستگی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

  ریڈیو ڈراما کیسے لکھیں

کسی بھی میڈیم کے لیے ڈراما لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ڈرامے کے ہیئتی اجزامیں پلاٹ،قصہ ،کردار اور مکالمے کی بنیادی اہمیت ہے۔ ڈراما لکھتے وقت خیال رکھنا چاہیے کہ پلاٹ جامع،قصہ تہہ دار، کردار متحرک اورمکالمے مختصر اور پرکشش ہوں۔ ڈرامے کو مجموعی طورپر دلچسپ بنانے کے لیے کشمکش،تذبذب اور تضاد کا ہونا لازمی ہے۔اسی طرح ڈرامے کی تشکیل میں وحدتِ ثلاثہ یعنی عمل،زمان اور مکان کی وحدت کا استعمال اور ان کے امتزاج سے وحدتِ تاثر کا پیدا ہونا کامیاب ڈرامے کی دلیل ہے۔مذکورہ تمام نکات ڈرامے کو پیش کرنے کے سبھی ذرائع کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

1.4.4   ریڈیو ٹاک

کسی موضوع پر بے تکلف تبادلۂ خیال کو ’ریڈیو ٹاک‘کہا جاتا ہے۔اس کے موضوعات انسانی فلاح و بہبود ،سائنس اور ٹکنالوجی، سیروسیاحت،تاریخ و تہذیب ،جغرافیہ اور سیاست ،کتابوں پر تبصرے ،افسانے اور شاعری پر مشتمل ہوتے ہیں۔ریڈیو ٹاک میں کسی ایک موضوع پر کوئی ایک شخص بے تکلف گفتگو  پیش کرتا ہے۔ ٹاک لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ گفتگو کی فضا مصنوعی نہیں حقیقی معلوم ہو اور طرز گفتگو بے تکلف ہو۔ ٹاک میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ متعلقہ موضوع کے سبھی نکات واضح ہو جائیں۔

» ریڈیو ٹاک کیسے لکھیں

ریڈیو ٹاک،کسی موضوع پر ایک جامع نوعیت کی گفتگو ہوتی ہے جسے مضمون کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے کسی موضوع کا انتخاب کیجیے۔ پھر ایسا مضمون لکھیے، جسے دس سے پندرہ منٹ میں ریڈیو پرپیش کیا جا سکے۔ ریڈیو ٹاک میں مضمون نگاری کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھیے۔ آسان الفاظ اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں اپنی بات مکمل کیجیے۔

 1.4.5 مباحثہ ،مذاکرہ

مباحثہ بھی ایک اہم پروگرام ہے جس میں سماجی، معاشی،تہذیبی،ثقافتی ،ادبی،سائنسی اور تاریخی موضوعات کے علاوہ ہنگامی نوعیت کے موضوعات اور حالاتِ حاضرہ پر ماہرین اپنے نظریات و خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔مباحثے کا پروگرام عام طورپر تیس منٹ کا ہوتا ہے۔جس میں چار یا پانچ شرکا ہوتے ہیں۔اس پروگرام میں ایک موڈریٹر (Moderator)  ہوتا ہے جو مباحثے کی سمت ورفتار متعین کرتا ہے۔اس پروگرام کا خاکہ تیار کرنے یا اس میں شریک ہونے کے لیے متعینہ مدت کاخاص طورپر خیال رکھنا چاہیے۔ ایک صحت مند مباحثے کی پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ شرکا سوالات کا جواب دیتے وقت اِدھر ُادھر بہکنے سے پرہیز کریں۔
مذاکرہ ریڈیو پر نشر ہونے والا ایک اہم پروگرام ہے۔ اس میں بھی مباحثہ کی طرح مختلف علمی، ادبی اور معاشرتی موضوعات پر ماہرین کو مدعو کیا جاتا ہے، جو کسی طے شدہ موضوع پر اپنی اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کسی ایک موضوع کے متعلق مختلف لوگوں کی رائے کے اظہار سے ریڈیو کے سامعین کی معلومات اور بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مذاکرے اور مباحثے کا کوئی اسکرپٹ نہیں ہوتا۔ ماہرین اپنے موضوع کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ 
مباحثے اور مذاکرے میں ایک باریک امتیاز یہ ہے کہ مباحثے کے دوران اینکر یا شرکا ایک دوسرے کی گفتگو میں مداخلت کر سکتے ہیں لیکن مذاکرے میں عام طور پر شرکا یا ماہرین ایک موضوع سے متعلق اپنے اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار کرتے ہیں۔

1.4.6  ریڈیو کی منظوم اصناف (منظوم ڈراما، اوپیرا یا غنائیہ اور ڈانس ڈراما)

نشریات کے ابتدائی زمانے میں ریڈیو سے نشر ہونے والی منظوم تخلیقات کو سنگیت روپک یا منظوم فیچر کہا جاتا تھا۔ اس نوع کی پیش کش میں موضوعات سے زیادہ فضا اور کیفیت کی وحدت پر زور دیا جاتا ہے۔ منظوم ڈرامے کو لکھنے اور پیش کرنے میں تجربے کیے جانے لگے تو ماہرین نے انھیں مختلف ناموں سے منسوب کردیا۔ اس طرح یہ منظوم تخلیقات اوپیرا، ڈانس ڈراما ،بیلے اور منظوم ڈرامے کی صورت میں اپنی آزادانہ اور امتیازی شناخت قائم کرنے لگیں۔
بیلے اور ڈانس ڈراما کا تعلق ریڈیو سے زیادہ اسٹیج اور اسکرین سے ہے ۔جسے عرفِ عام میں اوپیرا کہا جاتا ہے۔اسی کو ریڈیو والے غنائیہ کہتے ہیں۔منظوم ڈراما، اوپیرا اور ڈانس ڈراما میں تحریری سطح پر بڑی مماثلت ہوتی ہے ۔لیکن جب کسی واقعے یا احساس کو منظوم الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے تو اسے منظوم ڈراما کہتے ہیں اور جب اس منظوم پیش کش میں موسیقی کا مسلسل استعمال ہو تو اوپیرا کہلاتا ہے۔اس طرح کسی احساس یا جذبے کو رقص کے ذریعے پیش کیا جائے تو اسے بیلے کہتے ہیں ۔اگر اس رقص میں مکالمے بھی شامل ہو جائیں تو اسے ڈانس ڈراما کہتے ہیں۔گویا ان اصناف کی تخلیق کرتے وقت یاد رکھنا چاہیے کہ منظوم ڈرامے کے لیے مکالموں کا منظوم ہونا، اوپیرا کے لیے موسیقی، بیلے کے لیے رقص اور ڈانس ڈراما کے لیے رقص اور مکالمے کا امتزاج لازم ہے۔
منظوم ڈرامے میں قدیم قصّوں، داستانوں یا دیگر اہم قصّوں کو بنیاد بنا کر ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کے تمام مکالمے منظوم ہوتے ہیں۔ ریڈیو پر ایک راوی قصّے کو آگے بڑھاتا ہے اور دوسرے کردار منظوم مکالموں کو ترنّم میں ادا کرتے ہیں۔ ان مکالموں کے ذریعے کرداروں کی شخصی خصوصیات کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس طرح کے ڈراموں کے لیے عام طور پر ایسے قصّوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کے متعلق سامعین کو پہلے سے بنیادی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ جب وہ پہلے سے معلوم قصّے کو منظوم شکل میں سنتے ہیں تو بے حد لطف اندوز ہوتے ہیں۔ 
منظوم ڈرامے میں آپ کو غالباً کئی کرداروں کے لیے الفاظ تلاش کرنے ہوتے ہیں۔ یہ شاعری (یعنی خاص ڈرامائی لمحوں کی زبان، جب اس میں شدت پیدا ہوتی ہے) کرداروں کے اپنے اپنے خصائص کے لحاظ سے سب میں تقسیم ہونی چاہیے اور آپ کو چاہیے کہ آپ ہر کردار سے وہی الفاظ کہلوائیں جو اس کے لیے موزوں ہوں۔ جب کوئی کردار شعروں میں باتیں کر رہا ہو۔ تو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود شاعر کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اس لیے شاعر کا کام صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ ہر کردار سے صرف اسی قدر شعر اور صرف اسی شدّت کے ساتھ کہلوائے جو اس کردار کے ساتھ بہ آسانی منسوب ہو سکے۔ ان اشعار کا ایک اور جواز یہ ہونا چاہیے کہ وہ کس حد تک ڈرامے کی مطلوبہ کیفیت کو ابھارنے میں معاون ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کردار کے منھ سے پُرشکوہ اشعار بہت موزوں معلوم ہوں لیکن ان اشعار کا ڈرامے کے عمل کے لیے موزوں ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ خاص موقعے کی جذباتی شدت کو پورے طور پر ابھار سکیں۔

اجنبی زندگی میں
ریڈیو کے لیے ایک منظوم تمثیل
کردار:
اجنبی 
 ہمیشہ سے — اپنے وطن میں — یہاں— ہر کہیں اجنبی— ہاں میں صحرائے وحشت کی ایک چیخ ہوں، اجنبی اور آوارۂ چارسُو۔
پھول جب بھی جلے، شمع جب بھی بُجھی، دل جہاں بھی لُٹا،
میں اذیت سے روتا رہا………
نووارد
میں ہمیشہ ترے ساتھ، تجھ سے قریب ، اس قدر تیرے نزدیک ہوتا ہوں،تیرا ہر آنسو مری آنکھ سے ہوکے بہتا ہے — میرا بھی دامن بھگوتا ہے۔
مجھے میری آواز سے جان  —  صورت تو آنکھوں کا اک واہمہ ہے۔
ایسترؔ
اصل سے :ماورا تو ہی اصلِ حقیقت ہے اے ایسترؔ،
دیوتاؤں کے اسرار کی محرم خاص!
وہ ستاروں کی گردش کی سب سے بڑی رازداں، 
جس کی آہٹ پہ کلیاں چٹکتی ہیں!
اہرمن اور اس کے درباری  —
جہاں لفظ سب بے حقیقت ہیں! … سایوں کی دنیا!
اجنبی : وہ تاریخ کا سب سے پُرہول دن!
نووارد : ہاں، وہی شیطنت کے گھٹاٹوپ اندھیرے
کہ جب ایسترؔ
اجنبی : دیوتاؤں کے اسرار کی محرمِ خاص
نووارد : جب ایسترؔ
اجنبی : وہ ستاروں کی گردش کی سب سے بڑی رازداں، ایسترؔ
نووارد : اپنے معبد میں شب بھر ٹرپتی رہی
اس کی بے حرمتی، اس کی توہین  —
اجنبی : تاریخ کا سب سے پُرہول جرم
نووارد : ایسترؔ لٹ گئی،
اجنبی : دیوتاؤ، ہمیں بخش دو!
نووارد:  ایسترؔ کھو گئی
اس کے ویران معبد کی دہلیز پر جا کے دیکھو،
ابھی خون تازہ ہے
دیکھو وہاں کتنے بھوکے درندے ابھی تک اسے چاٹتے ہیں،
اجنبی : یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا ہو گیا؟
نووارد : تونے وہ جشن ِخونیں بھی دیکھا تھا،
جب ظلمتِ شب میں نغمہ سی شاخوں سے پھنکارتے ناگ لپٹے ہوئے ان کا رس چوستے تھے؟
اجنبی : مجھے یاد ہے!
نووارد : تونے اس وقت جتنے بھی آنسو بہائے تھے
وہ میرے سینے میں زخموں کے مانند محفوظ ہیں!!
اجنبی : ایسترؔ کھو گئی ……!!
نووارد: اس کے سنسان معبد میں اب کون شمعیں جلائے گا؟
کوئی نہیں! روشنی کھو گئی!
تم نے دیکھا نہیں، رات کتنی بھیانک ہے؟
گلیوں میں زخمی پرندے کہاں سے تڑپتے ہوئے آگئے ہیں،
کبھی تم نے پہلے ہواؤں میں یہ پھڑپھڑاہٹ سنی۔
— سیّدرضی ترمذی


سرگرمی 6.2  

مختلف ریڈیائی اصناف سے متعلق لکھنے کے ضمن میں جو بنیادی نکات ہیں، کلاس میں ان پر تبادلۂ خیال کیجیے۔




سرگرمی 6.3  

ٹی وی نیوز بلیٹن کی نمایاں خصوصیات کا ایک خاکہ بنایئے اور اس پر ساتھیوں کے درمیان اپنی رائے پیش کیجیے۔

1.5  ٹیلی ویژن

ٹیلی ویژن عوامی ذرائع ابلاغ کا سب سے مؤثر اور مقبول میڈیم ہے۔ آواز کے ساتھ تصویروں کی ترسیل کے باعث ٹیلی ویژن سے انسانی جذبات اور شخصیت کی ترجمانی کو کامیابی کے ساتھ اور مؤثر طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین پر اس کا براہِ راست اثر ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی مدد سے دور دراز علاقوں میں ہونے والے واقعات اور حادثات سے گھر بیٹھے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ Tele  اور Vision کے امتزاج سے لفظ ٹیلی ویژن بنا ہے۔Tele کے لفظی معنی ہے دوری پر (Far off) اور Vision کے معنی ہیں دیکھنا ۔
8
ٹیلی ویژن کے ذریعے دور کی چیزوں کو دیکھ پانے کے باعث ہی اس کا نام ٹیلی ویژن رکھا گیا۔
ٹیلی ویژن کی ایجاد 1922 میں اسکاٹ لینڈ کے سائنسداں جان لوگی بیرڈ (John Logie Baird) نے کی۔ 1926 میں بیرڈ نے Royal Institution میں ٹیلی ویژن کا تجربہ کیا تھا۔نیویارک اور واشنگٹن کے درمیان سب سے پہلے تجربے کے طور پر ٹیلی ویژن پروگرام کو برقی تار کے ذریعے پیش کیا گیا تھا اور اسے ٹیلی ویژن پروگرام سیریز کی پہلی کڑی مانا جاتا ہے۔ٹیلی ویژن پروگراموں کا دنیا میں پہلا ٹیلی کاسٹ 1936 میں برطانیہ میں برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن یعنی بی بی سی نے کیا۔ فرانس میں 1938میں اور امریکہ میں 1941 میں  ٹیلی ویژن پروگراموں کا ٹیلی کاسٹ شروع ہوگیا۔
ہندوستان میں ٹیلی ویژن کی ابتدا  15؍ستمبر ، 1959 میں تجربے کے طورپر یونیسکو کے ذریعے چلائے جا رہے ایک خصوصی پروجیکٹ کے تحت ہوئی۔15  اگست ، 1965  میں ٹیلی ویژن کی روزانہ سروس کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ 1975  میں سٹیلائیٹ کے استعمال سے ہندوستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ میں انقلابی تبدیلی آئی۔ جس سے      ٹیلی نشریات وہاں تک پہنچ سکیں، جہاں زمینی اسٹیشن کارگر نہیں تھے۔ 15 اگست  1982 کو دوردرشن نے رنگین ٹیلی ویژن نشریات کی ابتدا کی۔ رنگین ٹی۔وی کی آمد کے بعد ٹی۔وی چینل کی مقبولیت میں بے حد اضافہ ہوا۔ 1990  کی دہائی کے آغاز میں کیبل ٹی۔وی نشریات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اب ٹی وی محض سرکاری نشریہ نہیں رہا بلکہ پرائیوٹ کمپنیوں نے اس کی روز افزوں مقبولیت سے فائدہ اٹھایا۔ ایک کے بعد ایک نئے نئے چینل شروع ہوتے گئے۔ تفریحی چینل، فلمی چینل، گانوں کے چینل اور 24 گھنٹے خبر نشر کرنے والے چینل –کیبل ٹی۔وی یا پرائیوٹ ٹی۔وی چینلوں کی آمد کے بعد اس مواصلاتی وسیلے کی دنیا ہی بدل کر رہ گئی۔ ٹی۔وی نے بدلتے سماجی رجحانات کے مطابق پروگرام پیش کرنا شروع کیے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں پرائیوٹ ٹی۔وی چینلز مختلف نوعیت کے پروگرام پیش کرنے لگے۔ ان میں فلمی موسیقی اور فلموں سے متعلق گپ شپ کے علاوہ ٹی۔وی سیریلوں کو بے حد مقبولیت ملی۔ بعض ٹی۔ وی چینلوں نے محض اپنے کسی ایک سیریل کی مقبولیت کی بنا پر بہت نام کمایا۔ ان ٹی۔وی سیریلوں نے سماج کے بڑے طبقے کو متاثر کیا اور سماجی اقدار کو نیا رُخ بخشا۔ 
9
 ٹی۔وی سیریلوں کی تیاری میں کہانی لکھنے سے لے کر اسکرین پر پیش کش تک کئی مراحل ایسے آتے ہیں جن میں ماہر لکھنے والے اپنی اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ کوئی کہانی لکھتا ہے، کوئی اسکرین پلے، کوئی مکالمے لکھتا ہے تو کوئی اسکرپٹ۔ فلموں ہی کی طرح اس دنیا میں بھی مؤثر اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دل کو چھولینے والی کہانی اور پُراثر مکالمے تحریر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس نصاب کا مطالعہ کرنے والے طالب علم اپنے ذوق و شوق اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتبار سے ٹی۔وی کی دنیا میں اپنا کیریئر بنا سکتے ہیں۔ صرف سیریل ہی نہیں، فلمی دنیا سے متعلق دیگر پروگراموں یا فلمی دنیا کی گپ شپ کی پیش کش کے لیے بھی قلم کاروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ٹی ۔وی پر نشر ہونے والے ہر پروگرام کی پہلے اسکرپٹ تیار کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہی اس کی تیاری اور نشر کیے جانے کا مرحلہ آتا ہے۔ 
پرائیوٹ چینلوں کی آمد کے بعد تفریحی نوعیت کے پروگرام پیش کرنے والے ٹی۔وی چینلوں کے علاوہ خبروں کے چینلوں نے بھی اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ ایسے ٹی وی چینل 24  گھنٹے خبریں یا خبروں پر مبنی بحث و مباحثے کے پروگرام نشر کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں بعض نیوز ٹی۔وی چینل اپنے رپورٹروں اور خبریں پیش کرنے والوں کی مہارت کے سبب اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ بعض ٹی۔وی رپورٹر معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے خطرات مول لیتے ہیں۔ کچھ ماہر صحافی بڑے لیڈروں کو اپنے سوالوں سے اس قدر متاثر یا مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اندر کا سچ کہنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
اس یونٹ ’میڈیا کے لیے لکھنا‘ میں بنیادی طور پر لکھنے کے ان فارمیٹس کی طرف توجہ کی جا رہی ہے جن کا تعلق خبروں کے چینل سے ہے۔ خبروں کے چینل پر خبروں کی تیاری سے لے کر پیش کش تک جو مراحل سامنے آتے ہیں، ان کا مختصر ذکر یہاں پیش ہے۔

سرگرمی 6.4  

ٹی وی نیوز میں ایڈیٹنگ کے رول، اہمیت اور افادیت پر ایک مذاکرہ کیجیے۔

10

1.5.1  نیوزرپورٹنگ 

رپورٹنگ صحافت کی ایک اہم کڑی تسلیم کی جاتی ہے اور اس کے بغیر کسی ادارے میں خبر نویسی کا تصور ممکن نہیں ہے۔ رپورٹنگ کے لفظی معنی ہیں رپورٹ لکھنا یا بھیجنا ، اطلاع دینا،بتانا یا کہنا،معلومات فراہم کرنا ۔رپورٹر اس کام کو بخوبی انجام دیتا ہے ۔ رپورٹر کا کام ہے خبروں کی فراہمی یعنی انھیں حاصل کرنا یا اکٹھا کرنا اور انھیں کسی ذرائع ابلا غ کے لیے لکھنا۔ رپورٹر میں خبر کے حصول کے لیے ایک خاص کیفیت ہوتی ہے ۔ وہ خبر کی جستجو اور تلاش میں رہتا ہے۔ وہ خبر کی تہہ تک جاتا ہے۔ وہ واقعے کی تحقیق اور تفتیش کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنی رپورٹ تیار کرتا ہے۔اس میں خبر کوتلاش کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے ۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کس خبر کی کتنی اہمیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہیں کوئی حادثہ،جرم یا واردات ہو، پبلک میٹنگ ،لیڈروں کی تقریریں، سیمینار، پریس کانفرنس، ثقافتی اور ادبی محفلوں کا انعقاد ہو یا کھیل کا میدان ، وہاں رپورٹر موجود ملتے ہیں۔ رپورٹر کی ان خوبیوں کے سبب انھیں ’پریس کی دھڑکن‘ کہا جاتاہے۔

سرگرمی 6.5  

ٹی وی خبروں کی پیش کش کے بنیادی نکات پر اپنے ساتھیوں سے تبادلۂ خیال کیجیے

11
رپورٹر کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اخبار ،ٹی وی ،ریڈیو اور دیگر ذرائع ابلاغ کی آنکھ ،کان ،ناک اور منھ ہوتے ہیں۔ واقعات کے چشم دید ہونے کے باعث وہ آنکھ ہیں۔ گلی ،سڑک ،اسٹیج ،آڈیٹوریم کی مختلف سرگرمیوں کو سن سن کر اپنے دماغ میں محفوظ کرتے ہیں اس لیے وہ کان ہیں۔ وہ خبر کی اہمیت کوبہت جلد محسوس کرلیتے ہیں یا سونگھ لیتے ہیں اس لیے وہ ناک ہیں ۔اپنی مضبوط واور غیرجانبدار تحریروں سے خبر کو عوام کے سامنے سنانے کا کام کرتے ہیں اس لیے وہ منھ ہیں۔ دراصل رپورٹر صحافت کا اہم جز ہے۔ وہ اپنی رپورٹ کے ایک ایک حرف کے لیے ذمہ دار اورجواب دہ ہو تا ہے۔

سرگرمی 6.6  

اگر آپ سے کسی خبر کی رپورٹنگ کے لیے کہا جائے تو آپ ایک اچھے رپورٹر کا رول کیسے ادا کریں گے؟

1.5.2  اسکرپٹ نگاری

الیکٹرانک میڈیا میں ہر پروگرام کی اشاعت سے قبل اس کی اسکرپٹ تیار کی جاتی ہے۔ اسکرپٹ ایک تکنیکی نوعیت کی دستاویز ہے جس میں پروگرام کے آغاز سے لے کر آخر تک کی تمام تفصیلات درج کی جاتی ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں اگر کوئی کہانی شائع کی جاتی ہے تو اسے بغیر کسی تبدیلی کے جوں کا توں شائع کر دیا جاتا ہے۔ لیکن الکٹرانک میڈیا میں نشر ہونے والے پروگرام کا تعلق اس کی پیش کش سے ہے اس لیے کسی مشہور کہانی کو بھی بغیر تبدیلی کے من وعن پیش نہیں کیا جاتا۔ پہلے کہانی کو بنیاد بنا کر اسکرپٹ تیار کی جاتی ہے پھر اس کی پیش کش کا مرحلہ آتا ہے۔ مثال کے طور پر  پریم چند کی کہانی ’عیدگاہ‘ اگر کسی کتاب یا رسالے میں شائع ہوگی تو پریم چند کے اصل متن کو شائع کر دیا جائے گا۔ اس میں کوئی تبدیلی یا اصلاح نہیں کی جائے گی۔ البتہ اگر اسی کہانی کو ٹی۔وی یا فلم اسکرین پر پیش کرنا ہے تو پھر پریم چند کا اصل متن کافی نہیں ہوگا۔ اس متن کو اسکرپٹ کی صورت میں ڈھالنا ہوگا۔ کہانی کی پیش کش سے متعلق تمام تفصیلات درج کی جائیں گی۔ یہ بتایا جائے گا کہ کہانی کے آغاز میں پریم چند نے جو منظر لفظوں میں بیان کیا ہے اس کی تصویری پیش کش کے لیے پروگرام کے ہدایت کار کو کن کن مناظر کی تصویریں پیش کرنی ہیں۔ اسکرپٹ میں یہ بھی تحریر کیا جائے گا کہ کہانی میں جو بیانیہ (Narration) ہے وہ کسی کی زبان سے ادا ہوگا یا اسے مناظر کی صورت میں دکھایا جائے گا۔ مثلاً اسی کہانی میں عید کے دن حامد کی دادی کو اداس دکھانے کے لیے اسکرپٹ نگار یہ تحریر کرے گا کہ ایک بوڑھی عورت کو اسکرین پر پیش کیا جائے جس کے چہرے پر اداسی اور فکرمندی چھائی ہوئی ہے۔ وہ عید کے دن بھی فکرمند ہے کہ اس کا پوتا حامد عید کی نماز پڑھنے کس کے ساتھ جائے گا۔ میلے میں کچھ خریدنا چاہے گا تو کہاں سے خریدے گا۔ اسکرپٹ نگار نہ صرف یہ کہ مناظر کی جزئیات و تفصیلات تحریر کرے گا بلکہ وہ یہ بھی بتائے گا کہ کسی منظر کا دورانیہ (مدّت) کتنا ہوگا۔ اس کی پیش کش کا طریقۂ کار کیا ہوگا۔ کردار کس کس مقام پر۔ کھڑے ہوں گے، بیٹھے ہوں گے یا لیٹے ہوئے ہوں گے، یا کسی کام میں مشغول ہوں گے۔ وہ کرداروں کے حرکات و سکنات اور تاثرات بھی تحریر کرتا ہے۔ پھر ہر کردار کے مکالموں کو تسلسل کے ساتھ الگ الگ درج کرنا بھی اسکرپٹ نگار کی ذمہ داری ہے۔ اسکرپٹ نگار صوتی تاثرات یعنی موسیقی اور ساؤنڈ افیکٹس کے متعلق بھی ہدایات تحریر کرتا ہے۔ اسکرپٹ نگار پورے پروگرام یا کہانی کی تلخیص کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے اور اسے دلچسپ انداز میں اسکرپٹ میں پیش کرتا ہے۔
12

سرگرمی 6.7  

ایک اچھی اسکرپٹ کی خصوصیات پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔

اسکرپٹ کہانی کی پیش کش کے لیے ہو کسی ٹی۔وی سیریل، یا فلم یا پھر موسیقی پر مبنی کسی پروگرام کی پیش کش کے لیے، ہر ایک میں بہت سی تکنیکی باتیں شامل ہوتی ہیں جو اسکرپٹ نگار کو اپنی اسکرپٹ میں تحریر کرنی ہوتی ہیں۔ جن باتوں کو ہم نے اوپر قدرے وضاحت سے بیان کیا انھیں نکات کی شکل میں یہاں تحریر کیا جا رہا ہے تاکہ ہمارے طالب علم یہ سمجھ لیں کہ اسکرپٹ میں بنیادی طور پر کون کون سی باتیں شامل ہوتی ہیں۔

بنیادی خیال Original Idea or Basic Concept
خلاصہ/تلخیص Synopsis 
طریقۂ کار Treatment
منظر نامہ Shooting Script
مکالمہ اور بیانیہ Dialougue and Narrative
بصری و سمعی تسلسل Audio and Visual Continuity

پروگرام کی نوعیت کے اعتبار سے اسکرپٹ میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ یعنی ٹی۔وی سیریل کے لیے اسکرپٹ لکھنے کے تقاضے، غزل یا موسیقی پر مبنی کسی پروگرام کے لیے اسکرپٹ تیار کرنے کے تقاضوں سے مختلف ہوں گے۔ اسی طرح فلم صنعت کے اداکاروں کی خانگی اور فلمی مصروفیات کی گپ شپ پر مبنی پروگرام کی اسکرپٹ میں چٹخارے دار اور پُرلطف زبان و بیان کا استعمال کیا جائے گا جب کہ خبروں کے سنجیدہ پروگرام کی اسکرپٹ میں سادگی اور متانت کا خیال رکھا جائے گا۔
الیکٹرانک میڈیا میں اسکرپٹ نگاری ایک ایسا فن ہے جس میں کیریئر بنانے کے وسیع امکانات ہیں۔ ریڈیو اور ٹی۔وی سے نشر ہونے والے وہی پروگرام زیادہ مقبول ہوتے ہیں جن کی اسکرپٹ معاشرتی زندگی کو ذہن میں رکھ کر سادہ اور دلچسپ زبان میں تیار کی جاتی ہیں۔ اردو کے طالب علم کو اردو افسانوں، ناولوں، نظموں اور غزلوں کے مطالعے کے سبب معاشرتی زندگی کا گہرا شعور حاصل ہوتا ہے۔ ادب کے مطالعے سے وہ زبان و بیان یا اظہار کے بہتر وسیلوں پر بھی قدرت حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بڑی بڑی اور گہری باتوں کو کس طرح غزل کے ایک شعر میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ وہ اسکرپٹ لکھتے وقت اشعار کا استعمال کر سکتے ہیں، کہانیوں کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ چُست اور برجستہ مکالمے تحریر کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اسکرپٹ نگاری کے تکنیکی تقاضوں سے پوری واقفیت حاصل کر لیں اور پھر اردو زبان وادب کے اپنے مطالعے کو اسکرپٹ تحریر کرتے وقت بروئے کار لائیں۔

14
15
13

1.6  سنیما/فلم

Cinema  یا Kinema  یونانی لفظ ہے۔19ویں صدی میں جب سنیما کی ایجاد ہوئی تو اس وقتCinematograph کی جگہ  Kinematograph کہا گیا۔ فرانس کے باشندے اسے Kinematograph کی جگہ Cinematograph  کہنے لگے۔ اس لفظ کی طوالت کی وجہ سے اسے مختصراً  Cinema کر لیا گیا اور پھر ہر جگہ یہی رائج ہو گیا۔ ایک لمبے وقت تک خاموش فلموں کا دور چلا۔
1926  میںVeetaphone Corporation  تجارتی نقطہ نظر سے نیویارک میں Warnerbrothers Theatre  میں ’ڈان جان‘ نامی فلم دکھائی گئی۔ یہ دنیا کی پہلی بولتی فلم تھی۔ یہیں سے سنیما کو مقبولیت ملنی شروع ہوئی۔
ہندوستان میں سنیما کا سفر 1896 سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا آغاز فرانس کے لومیئر برادران نے کیا۔ وہ اسے بمبئی لائے اور پھر کلکتہ اور دوسرے بڑے شہروں میں اس کی نمائش ہوئی۔
1913 میں ہندوستانی فلم انڈسٹری کے بنیاد گزار دادا صاحب پھالکے نے راجہ ہریش چندر نام کی فلم بنائی۔ اسے پہلی مکمل ہندوستانی فلم ہو نے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ4  ریل کی فلم تھی جس کی مدت ایک گھنٹہ تھی ۔ یہ ہندوستانی زبان کے ساتھ انگریزی میں بھی بنائی گئی تھی۔ دادا صاحب کو اسے بنانے میں بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سرمایے کی کمی کے علاوہ فلم سازی کے آلہ جات بھی ایجاد کرنے پڑے ، بالآخر انھیں کامیابی حاصل ہوئی۔
دادا صاحب پھالکے کا پورا نام دھندی راج گوند پھالکے تھا۔ ان کی پیدائش ایک روایتی خاندان میں ہوئی تھی مگر ان کی اختراعی طبیعت نے ان سے بہت کام لیے۔  

سرگرمی 6.8  

ہمارے ملک کی فلم صحافت میں فلمی تبصروں سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔

 1.6.1  فلمی تبصرہ

 ہندوستانی فلم صحافت میں سب سے آسان کام فلموں کا تبصرہ ہی مانا جاتا ہے جب کہ بیرونی ممالک میں فلم مبصراُسے تسلیم کیا جاتا ہے جو فلم صحافت میں معقول محنت کرنے کے بعد اس کے فن سے اچھی طرح واقف ہو گیا ہو۔ایک تجربہ کار مبصر، فلم کی خوبیوں اور خامیوں کو بڑی کامیابی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔وہ فلم کے پیچیدہ پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ وہ اپنے تبصرے سے رائے سازی کا بھی کام کرتا ہے۔ 
 فلم مبصر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فلم سازی اورہدایت کاری کے رموزو نکات سے آشنا ہو۔ایسے مبصرین کی رائے ناظرین کے ساتھ ساتھ پروڈیوسراورڈائریکٹر کے لیے بھی قابلِ قدر ہوتی ہے۔ فلم تبصرہ لکھنے کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:
فلم آرٹ کی گہری سمجھ ہو۔

فلم سازی کے تمام پہلوؤں مثلاً اسکرپٹ، ہدایت، شوٹنگ، اداکاری، نغمہ، موسیقی وغیرہ پر باریک نگاہ ہو۔
اگر کوئی سین حقیقتاً جاندار ہے تو اس کا کریڈٹ ڈائریکٹر کو دیا جانا چاہیے یا رائٹر کو؟
مکالموں کا سہارا لیے بغیر ڈائریکٹر نے کیمرے سے کتنی اور کیسی باتیں کہی ہیں؟
فلم میں کیاپیغام دیا گیا ہے؟فلم کی انفرادیت کیا ہے؟
اگر فلم میں کوئی نیا تجربہ یا طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے تو اس کی وضاحت کی جائے۔

 فلم پر تبصرہ کرتے وقت کسی فلم کے پلاٹ، اس کے قصّے، اس کے کردار، اس کے نغمے، اس کی فوٹو گرافی سنیمیٹوگرافی، اس کے مناظر، اس کے مکالمے، اس کے آغاز، ارتقا اور اختتام پر نظر رکھنی چاہیے۔ مثلاً فلم کی کہانی کا پس منظر اگر تاریخی ہے تو اس کی زبان، اس کے مکالمے، اس کے کردار اور کرداروں کا لباس، فلم کے مناظر اُسی زمانے سے مناسبت رکھنے والے ہیں کہ نہیں۔فلم جس موضوع پر بنائی گئی ہے، وہ دیگر فلموں سے کس قدر مختلف ہے۔فلم سے کیا پیغام دیا گیا ہے اور سماج پر اس کے کیا اثرات پڑسکتے ہیں۔  فلم کی پیش کش میں طریقۂ کار (Treatment)  کی بڑی اہمیت ہے۔ اس لیے اس کی نشان دہی بھی ضروری ہے۔

سرگرمی 6.9  

ساتھیوں کے ساتھ اپنی کسی پسندیدہ فلم پر تبصرہ کیجیے اور بتایئے کہ آپ کے نزدیک وہ کن خصوصیات کی حامل ہے؟

تبصرہ

16
17
18
19

’مانجھی – دِی ماؤنٹین مین‘ 

فلم ساز : نینا لاتھ گپتا، دیپا ساہی ہدایت کار : کیتن مہتا

موسیقی : سندیپ شانڈلیہ، ہتیش سونک نغمہ نگار : دیپک رمولا، کیتن مہتا، کمار

تحریر :  کیتن مہتا، انجم رجب علی، مہیندر جھاکر

اداکار : نوازالدین صدیقی(دسرتھ مانجھی)، رادھیکا آپٹے (پھگونیا، مانجھی کی بیوی)، اشرف الحق(مگرو، مانجھی کا باپ)، تِگمانشو دھو لیا (مکھیا، زمیندار) اور گورو دویدی(آلوک جھا، صحافی)

ہماری فلمی دنیا ہمیشہ نئے نئے تجربات سے گزرتی رہی ہے۔ ان دنوں سچّے واقعات یا اہم شخصیات کی زندگی پر مبنی فلمیں بنانے کی روایت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ یا ’پان سنگھ تومر‘ معروف شخصیات کی زندگی پر مبنی ان فلموں نے نہ صرف ناقدینِ فلم کو اپنی طرف متوجہ کیا بلکہ یہ عوام میں بھی مقبول ہوئیں۔ ’مانجھی — دی ماؤنٹین مین‘بھی ایسی ہی ایک فلم ہے جو بہار کے ایک دور دراز واقع گاؤں کے انتہائی پسماندہ ’دسرتھ مانجھی‘ کی جدوجہد اور عزم و حوصلے کی داستان ہے۔ 
یہ فلم 21  اگست ، 2015کو ریلیز ہوئی تھی ۔ دسرتھ مانجھی، اپنی زندگی میں پہاڑ کا سینہ چیر کر عام لوگوں کے لیے سڑک بنانے کے سبب ماؤ نٹین مین کے نام سے مشہور ہوا۔مانجھی پسماندہ طبقے کا ایک غریب بندھوا مزدور ہے۔جو 1960  سے بہار کے ضلع ’گیا ‘کے نزدیک ’گہلور‘ میں اپنی بیوی پھگونیا دیوی اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ رہتا آیا ہے۔ اس کا گاؤں ایک پہاڑ کی وجہ سے دنیا کے باقی حصّے سے کٹا ہوا تھا۔ کسی دوسرے شہر یا قصبے تک پہنچنے کے لیے اس پہاڑ کے گرد لمبا چکّر کاٹ کر پہنچنا پڑتا تھا جس کے سبب گاؤں کے لوگ بنیادی سہولت سے محروم تھے۔ ایک روز مانجھی کی بیوی پہاڑ کو چڑھ کر پار کرنے کی کوشش میں پھسل کر گر جاتی ہے اور شدید زخمی ہوجاتی ہے ۔ زخمی بیوی کوپہاڑ کا چکر لگاکر قصبے کے اسپتال تک لے جاتے ہوئے کافی وقت گزر جاتا ہے اور اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ بیوی کی موت مانجھی کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر راستہ اتنا طویل نہ ہوتا تو اس کی زخمی بیوی کا بروقت علاج ہوجاتا اور وہ بچ سکتی تھی۔ وہ طے کرتا ہے کہ پہاڑ کو کاٹ کر قصبے تک مختصر راستہ بنائے گا۔ جب مانجھی پہاڑ کاٹ کر راستہ بنانے لگا تو لوگ اسے خبطی اور بیوقوف کہنے لگے۔لیکن 22  برس کی مسلسل اور تنہا محنت ومشقت کے بعد اس نے صرف ہتھوڑے اور چھینی کی مدد سے 360  فُٹ لمبا ، 25   فُٹ گہرا اور 30   فُٹ چوڑا راستہ بنا ڈالا۔مانجھی کی موت 2007 میں ہوئی۔
 فلم مانجھی، ایک معمولی انسان کی محبت، محنت اور جنون کی حیرت انگیز کارنامے کی داستان ہے۔اس میں دکھایا گیا ہے کہ اگر انسان میں حوصلہ اور جذبہ ہو تو وہ مشکل سے مشکل راہ سے گزر کر اپنی منزل پا سکتا ہے۔ فلم میں زمیندارانہ نظام کے جبر اور پسماندہ طبقے کے استحصال کو بڑی بے باکی سے پیش کیا گیا ہے۔مانجھی کے کردار میں احتجاج ہے ۔ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ جس کے لیے اسے زدو کوب بھی کیا جاتاہے۔ 
فلم مانجھی عزم وحوصلے، انسان دوستی اور قوم وملک کے لیے خود کو وقف کرنے والے ایک عام ہندوستانی کی سبق آموز داستان ہے۔ فلم میں مانجھی کے کردار کو نوازالدین صدیقی نے ادا کیا ہے اور اس کردار کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔ ان کی زبان سے تکیہ کلام کے طور پر  بار بار یہ جملہ ادا ہوتا ہے ’ساندار، جبرجست، جندہ باد (شاندار، زبردست، زندہ باد)۔ انھوں نے اس کردار کو اس طرح جیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہی دسرتھ مانجھی ہیں۔
 فلم ’مانجھی۔ دِی ماؤنٹین مین ‘، مؤثر بیانیہ، جاندار محبت، حوصلہ مندی، شدیدجذبہ، انتہائی جنون اورقوتِ عزم کی کہانی ہے۔ یہ فلم عمدہ فوٹو گرافی، بامعنی مکالے، دل کش موسیقی، شاندار ادا کاری اورکامیاب ہدایت کاری کی بہترین مثال ہے۔ فلم میں انٹرول سے پہلے جگہ جگہ مزاح اور رومان پیدا کرکے ناظرین کو سنجیدہ پیغام کو قبول کرنے کے لیے فضا ہموار کی گئی ہے۔
سرگرمی 6.10  
آپ ریڈیو اور ٹی وی پر بہت سے لوگوں کے انٹرویو سنتے اور دیکھتے ہوں گے۔ انٹرویو کے ضمن میں بنیادی نکات کی روشنی میں کسی انٹرویو کا جائزہ لیجیے اور کلاس میں پیش کیجیے۔
20
21

1.7  انٹرویو

انٹرویو ، ایک سنجیدہ اورفکری وذہنی عمل ہے ۔ ایک با معنی انٹرویو کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔یہ کسی اصل پروگرام کی تخلیق کرنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ انٹرویو کسی اہم شخصیت، اعلیٰ عہدوں پر فائز کسی سرکاری افسر، آرٹ یا بزنس کی دنیا سے متعلق کسی شخص یا پھر کسی عام آدمی سے ہوسکتا ہے۔ انٹرویو لینے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس شخص کا انٹرویو لینا ہے ، اس کے متعلق مکمل معلومات حاصل کی جائے ۔ 
الیکٹرانک میڈیامیں انٹرویو کرنے کے دو طریقے ہیں۔ وزیر اعظم یا صدر جمہوریہ کے ساتھ انٹرویو کرنے کے لیے پبلک رِلیشن افسر یا پرنسپل انفارمیشن افسر کے بنائے گئے ڈیزائن کے مطابق ہی رپورٹر کو اپنا سیٹ تیار کرنا ہوگا اور اس کے لیے انتظامات کرنے ہوں گے۔ اگر یہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو ہے تو کئی لوگ درکار ہوں گے۔جیسے کیمرہ مین، ساونڈ ریکارڈسٹ، لائٹنگ ٹیکنیشین اور ساونڈ ٹیکنیشین وغیرہ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انٹرویو کسی اسٹوڈیو میں منعقد کیا جائے۔ ایسی صورت میں بھی کچھ مناسب انتظامات کرنے ہوں گے۔ ریڈیو انٹرویو کے لیے ایک بہت اچھی ریکارڈنگ مشین کی ضرورت ہوگی۔ اس میں خاص طور پر مائیکروفون اور لیپل کا استعمال کیا جانا ضروری ہے جو باہری یا غیر ضروری آواز کو مائیکروفون میں جانے سے روکتا ہے۔ انٹرویو نشر کیے جانے والے پروگرام کا ٹرانس کرپشن کرنا بھی ضروری ہے۔ انٹرویو کے الگ الگ حصے بناکر اس کی پہلے سے ہی نشان دہی کرلینی چاہیے اور انٹرویو کو ضرورت کے مطابق ایڈٹ کرکے سلسلہ وار بنا دینا چاہیے تاکہ اس میں تسلسل اور مناسبت برقرار رہے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے ایڈٹ ایڈیٹر کی ضرورت ہوگی ۔
انٹرویو کی شروعات کسی ایسے سوال سے کرنی چاہیے جس کا دائرہ وسیع ہو۔ اس سے صحافی کو اس شخص کو پرکھنے کا موقع ملتا ہے اور ساتھ ہی اپنے سوالات کو ٹھیک سے ذہن نشین کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ انٹرویو کے دوران اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ رپورٹر کو کچھ ایسی اطلاعات مل جاتی ہیں جس کی اسے قطعی توقع نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں رپورٹر کو ذہنی طور پر پھر سے نئے سوالات کے لیے تیار رہنا ہوگا تاکہ انٹرویو کی سمت اور رفتار غلط راہ پر نہ پڑنے پائے۔ انٹرویو کے دوران بہت زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور پیچیدہ سوالوں سے پریشان نہیں کرنا چاہیے۔ جب تک انٹرویو دینے والا ذہنی طور پر سکون محسوس نہیں کرے گا تب تک کوئی کارآمد بات معلوم نہیں ہوپائے گی۔

سرگرمی 6.11  

ریڈیو اور ٹی وی پر آپ دن رات بے شمار اشتہارات سنتے اور دیکھتے ہیں۔ ’’ریڈیو اور ٹی وی اشتہار کی حقیقت‘‘ عنوان سے کلاس کے طلبا کے درمیان ایک مباحثے کا انعقاد کیجیے۔

1.8  اشتہار

آج کے دور کو اگر اشتہار کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ طرزِ معاشرت،آدابِ زندگی، رہن سہن، خوردو نوش،لباس، آرائش و زیبائش، تعلیم و تفریح  سے لے کر مذہب، سیاست وغیرہ سماج کے ہر شعبے میں اشتہار نے اپنی جگہ بنالی ہے۔ تعلیم کی ترویج اور صنعت کاری کے اثر کے نتیجے کے طور پر آدمی صارف (Consumer)  بن کر رہ گیا ہے اورآج اس کی سرگرمی کا ہرفیصلہ اشتہار کررہاہے۔ مثال کے طور پر آپ کیا کھائیں گے، کیا پہنیں گے، کیسے گھر میں رہیں گے، کہاں پڑھیں گے، کہاں ٹریننگ لیں گے، کہاں نوکری کریں گے، کہاں اپنا کاروبار کریں گے، کہاں شادی کریں گے، معاشی ذرائع کہاں سے فراہم ہوں گے، ان سب کا فیصلہ کرنے میں اشتہار کا اہم رول ہے۔
اشتہار عام طور پر کسی شے، ہنر، مہارت یا خدمت سے صارفین کوواقف کراتا ہے۔ ان میں خریدنے کی خواہش بیدار کرتا ہے۔ بہت سی موجود اشیا میں سے ایک کا انتخاب کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کسی شے کے مخصوص برانڈ کے تئیں ان میں رغبت پیدا کرتا ہے۔
 ریڈیو، ٹی وی، رسائل اور اخبار کے ذریعے، پوسٹر، دیوار پر لکھی عبارتیں، بس، ٹرین اورسڑک پر بڑے بڑے سائز کے ہورڈنگ، کھیل کے میدان میں، سینما گھر میں، ریستوراں میں اور جہاں بھی آپ جایئے اشتہار آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ یہ آپ کے دل ودماغ پر ہر وقت چھائے رہتے ہیں۔

 1.8.1 ریڈیائی اشتہار

ریڈیو سمعی میڈیم ہونے کے باعث آواز کا جادو بکھیرتا ہے اور لمحہ بھر کے اندر ندیوں، سمندروں اور دور دراز کے پہاڑوں سے گزرتا ہوا سات سمندر پار بیٹھے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میڈیم کو اشتہار کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں 1957 میں وِوِدھ بھارتی کے کمرشیل پروگرام کے ساتھ ریڈیائی اشتہار کی ابتدا ہوئی۔ ریڈیو اشتہار میں لفظ اور آواز کی اہمیت ہے۔ کم سے کم لفظوں میں مؤثر اشتہار دل کو چھولیتے ہیں۔ اگرچہ ریڈیو سے نشر کیا گیا اشتہار مختصر ہوتا ہے۔ تاہم بار بار نشر ہونے کے باعث سامعین کے ذہن میں ایسی جگہ بنالیتا ہے کہ اسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ عمدہ موسیقی اور مؤثر مکالموں کے ذریعے نشر کیا گیا اشتہار سامعین کے دل ودماغ پر اپنا دیر پا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ان دنوں مصنوعات یا خدمات کے اشتہارات کے ساتھ ایک ٹیگ لائن نشر کرنے کی روایت قائم ہو گئی ہے۔ یہ ٹیگ لائن جتنی آسان، سہل اور مربوط ہوگی اتنی ہی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ مثلاً حکومت کی جانب سے پولیو کی دوا پلائے جانے کے اشتہار میں ’دوبوند زندگی کی‘ یا ایل آئی سی کے اشتہار میں ’زندگی کے ساتھ بھی زندگی کے بعد بھی‘ جیسی ٹیگ لائن سامعین کے ذہن کا حصّہ بن جاتی ہیں۔ یہ ٹیگ لائن سنتے ہی فوراً ان کا ذہن اس چیز یا خدمت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جس کی تشہیر کی گئی ہے۔ اس طرح اگر آپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی چیز یا خدمت کے اشتہار کے لیے کوئی ٹیگ لائن وضع کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ عوام کی زبان کا مقبول فقرہ بن جائے۔

 1.8.2ٹی وی اشتہار

ٹی وی سمعی اور بصری دونوں میڈیم ہونے کی وجہ زیادہ مؤثر اور طاقت ور میڈیم ہے۔ ٹی۔وی۔ ایک ایسا مقبول وسیلہ ہے جس کی رسائی عوام کے بہت بڑے حصّے تک ہے۔ اس لیے بڑی بڑی کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ٹی وی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ حکومت بھی اپنی پالیسی یا اسکیم کی تشہیر کے لیے ٹی وی پر اشتہار دیتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ٹی وی کے بعض اشتہارات اتنے مقبول ہیں کہ ہم انھیں بار بار دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ عام طور پر ٹی وی اشتہارات دس، بیس یا تیس سیکنڈ کے ہوتے ہیں۔ اس قلیل مدت کے اندر کسی چیز کی اہم ترین خصوصیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ ناظرین پر یہ تاثر قائم کرنا ہوتا ہے کہ جس چیز کا اشتہار وہ دیکھ رہے ہیں وہ سب سے زیادہ کارآمد اور استعمال میں آسان ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو مدِّنظر رکھ کر ٹی وی اشتہار بنائے جاتے ہیں۔ ٹی وی اشتہار بنانے سے قبل اس کی اسکرپٹ تیار کی جاتی ہے۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ تخلیقی صلاحیت کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ بڑی بڑی باتوں کو کم سے کم الفاظ میں اس طرح پیش کیا جا سکے کہ بھرپور تاثر قائم ہو۔

سرگرمی 6.12  

اینکر کی بنیادی خصوصیات کی روشنی میں ریڈیو، ٹی وی کے کسی پروگرام میں اینکر کے رول کا جائزہ لیجیے اور اپنے ساتھیوں کے درمیان پیش کیجیے۔

22
23

1.9  ریڈیو اور ٹی وی اینکرنگ

Anchor  انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’لنگر ڈالنا‘ ’پانی کے جہاز یا غبارے کو باندھنے کا لنگر‘۔ الکٹرانک میڈیا میں اینکر اُسے کہتے ہیں جس کی مدد سے پورا پروگرام ایک دھاگے میں پرویا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی میں اینکر اپنے ادارے کا چہرہ ہوتا ہے۔ ریڈیو میں تو اینکر سامعین کی نظروں کے سامنے نہیں ہوتے لیکن اپنی آواز کا جادو بکھیر کر سامعین کے ایک بڑے طبقے کو اپنا ہم خیال بنا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس ٹی وی میں وہ ناظرین کے سامنے ہوتے ہیں۔
اینکرنگ صحافت کی ایک شاخ کی شکل میں پروان چڑھی ہے۔ جب بات ریڈیو کی آتی ہے تو سب سے پہلے ابھر کر سامنے آتی ہے، آواز- یعنی ریڈیو پورے طور پر آواز کی دنیا ہے۔ اس لیے ریڈیو اینکر کی آواز بہت صا ف ستھری اور لائقِ سماعت ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ ریڈیو میں آواز ہی اینکر کی سب سے بڑی پونجی ہے۔ دوسرے یہ کہ ریڈیو میں اینکرنگ کرتے وقت تلفظ کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ ریڈیو کو تلفظ کے لیے معیاری ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس لیے اینکر کو اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پروگرام کی پیش کش کرنی ہوگی کہ جو کچھ بولا جائے وہ درست ہو اور سامع آپ کے تلفظ کومثالی مان کرسیکھ سکے۔ ریڈیو اینکرنگ میں آواز کے زیر وبم پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کے نجی نیوز چینلز اب ایسے اینکر ز کا انتخاب کرتے ہیں جو زبان اور فطری پیش کش پر تو گرفت رکھتے ہی ہوں، ساتھ ہی واقعات کا تیزی سے تجزیہ کر سکتے ہوں اور عصری موضوعات پر مہارت رکھتے ہوں۔ اب اینکرنگ ایک ایسی ذمے داری کی شکل میں ابھری ہے جسے کامیابی کے ساتھ پورا کرنے کے لیے سخت محنت، لگن اور مطالعے کی ضرورت ہے۔ عصری موضوعات پر گہری نظر اور تجزیاتی نظریہ مطالعے سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اینکر کی بنیادی صفات کو اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے۔

خبر سے تعارف آواز اور بولنے کا اسٹائل

• زبان کا علم اور درست تلفظ جسمانی زبان

• خبر سے تعارف

اینکر کو کسی خبر کے حال کے ساتھ ہی اس کے پس منظر سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ اس میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ خبر کی معروضیت کو سمجھ سکے۔ اینکر اگر کسی خبر کو غلط پڑھتا ہے تو اس کا سب سے پہلا اثر خود اسی کی شبیہ پر پڑتا ہے۔ اس لیے اینکر کو خبروں کی دوڑتی بھاگتی دنیا سے رابطہ قائم رکھنا چاہیے۔

•  آواز اور بولنے کا اسٹائل 

ویسے تو ہر انسان کی آواز اور بولنے کا طریقہ دوسرے سے الگ ہوتا ہے لیکن اینکرنگ کرتے وقت اپنے اسٹائل پر مسلسل نگاہ رکھنی ضروری ہے۔ اینکر کی آواز نہ صرف مؤثر ہونی چاہیے بلکہ زیروبم میں بھی مناسبت ضروری ہے۔ اینکر خواہ کتنا ہی تجربہ کار کیوں نہ ہو، ٹیلی کاسٹ سے پہلے اسے نیوز اسٹوری کو بار بار پڑھنے کی عادت برقرار رکھنی چاہیے۔ اینکر اس بات کا دھیان رکھتا ہے کہ کس لفظ پر زیادہ زور دینا ہے اور کس پر کم۔ بولنے کی رفتار میں مناسبت ہونی چاہیے۔جملوں کے درمیان میں صحیح موقعوں پر ہلکا وقفہ لینا نہ بھولیں۔ 

•  زبان کا علم اور درست تلفظ 

جیساکہ پہلے ذکر آیا نیوز اینکر کے لیے زبان کا علم اور صحیح تلفظ ضروری ہے۔ اس لیے نیوز اینکر خبریں پڑھتے وقت تلفّظ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اگر کسی لفظ کے تلفّظ میں شبہ ہوتا ہے تو ماہرین سے معلوم کر لیتے ہیں یا لغت وغیرہ سے رجوع کرتے ہیں۔ غیر ملکی ناموں کے تلفّظ کی ادائیگی سے قبل ان کا درست تلفّظ معلوم کر لینا بھی ضروری ہے۔

•  جسمانی زبان Body Languages 

جسم کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے جو براہ راست یا بالواسطہ اپنی بات کہتی ہے۔مثال کے طور پر تکلیف پہنچانے والی خبروں کو مسکرا کر نہ پڑھیں اور مجرم یا متاثرہ شخص پر غلطی سے بھی طنزیہ انداز نہ ظاہر کریں۔اینکرنگ کے وقت پورا جسم محتاط اور چہرہ تازگی اور بشاشت سے بھرپور ہونا چاہیے۔