Skip to content

باب 2

 میڈیا کے لیے لکھنا  -II

میڈیاکے لیے لکھتے وقت جن پروگراموں میں اسکرپٹ کی ضرورت ہے ان میں تحریر کا طریقۂ کار، زبان، مدّت وغیرہ کا تعین، پروگرام کی نوعیت (فارمیٹ) اور سامعین / ناظرین (ٹارگیٹ آڈینس) کوذہن میں رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے ۔ ہر پروگرام کی زبان اس کے موضوع کے مطابق طے پاتی ہے۔ اسکرپٹ لکھتے وقت اس بات کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ پروگرام کس عمر ، علاقے اور کس سطح کے لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ 

تحریر کا آسان، رواں اور عام فہم ہونا ضروری ہے۔ برقی میڈیا کی زبان پرنٹ میڈیا سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایسے الفاظ کا انتخاب کیا جانا چاہیے جن کی ادائیگی بھی آسان ہو اور ترسیل اچھی طرح ہو جائے۔ میڈیا کو موضوعاتی اعتبار سے بنیادی طور پر دو حصوں صحافتی میڈیا اور تفریحی میڈیا میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ صحافتی میڈیا کی تحریر حقیقت پر مبنی ہو تی ہے اوراسے واقعاتی تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔ اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی خبریں اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ تفریحی میڈیا کی تحریرمیں کسی حقیقی یا تخیل پر مبنی واقعے یا حادثے کو افسانوی اور ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔تفریحی میڈیا میں فیچر فلم، سیریل،ریڈیو ڈراما،ٹیلی ڈراما، ڈاکیو ڈراما وغیرہ شامل ہیں۔ 

2.1  اسکرپٹ (ریڈیو، ٹیلی ویژن)

ریڈیواسکرپٹ لکھتے وقت تمام توجہ آوازوں یعنی الفاظ، موسیقی، ایفکٹس وغیرہ پر رہتی ہے۔ اس کے لیے اسکرپٹ لکھنا ٹی وی اسکرپٹ کے مقابلے قدرے آسان ہوتا ہے ۔ ٹی وی میں کئی فارمیٹ ایسے ہیں جن کے لیے اسکرپٹ لکھتے وقت یہ بھی بتانا ہوتا ہے کہ کردار کیمرے کے سامنے کیا ایکشن کریں گے ۔یعنی ٹی وی اسکرپٹ میں کردار کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ اورمکالمے ہی نہیں بلکہ ان کی حرکات و سکنات بھی تحریر کی جاتی ہیں۔

ریڈیو اور ٹی وی دونوں میں ڈاکیو ڈراما ایک ایسا فارمیٹ ہے جہاں کمنٹری کے ساتھ اسکرپٹ میں حرکات، حرکات کی نوعیت اور مکالمے سب کچھ لکھنا ہوتا ہے۔ریڈیو اور ٹی وی میں بھی اسکرپٹ موضوع اور فارمیٹ کے اعتبار سے بدل جاتا ہے اور ہر فارمیٹ کی الگ الگ تکنیک ہے جسے ذہن میں رکھ کر اسکرپٹ تیار کرنا ہوتا ہے۔

زبان وادب کی کسی بھی صنف میں لکھنے میں مہارت بہم پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس صنف کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں۔ اسی طرح اسکرپٹ لکھنے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ اسکرپٹس کا مطالعہ سودمند ہوگا۔ یاد رکھیے کہ کسی ٹی۔وی۔سیریل کے لیے لکھے جانے والی اسکرپٹ کے تقاضے کچھ اور ہیں اور فلم کی اسکرپٹ کے تقاضے کچھ اور۔ گو دونوں میڈیم کے لئے جو اسکرپٹ تیار کی جائیگی ان میں بنیادی باتیں یکساں ہوں گی۔ تاہم تکنیکی اعتبار سے ان دونوں میں خاصا فرق ہوگا۔

ذیل میں این سی آر ٹی کی تیار کردہ آٹھویں جماعت کی کتاب ’اپنی زبان‘ سے ماخوذ، ممتاز مفتی کے ڈرامہ، ’مہمان‘ کے ایک حصّے کو اسکرپٹ نگاری کے فارم میں نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

  اسکرپٹ نگاری کا نمونہ 

سین نمبر:  1 / Indoor/ Day                       کردار  :   جمیل (شوہر)                      ثریا  (بیوی)                     بدھو  (نوکر)

مکالمہ  Dialogue
ثریا : میں پوچھتی ہوں بار بار حساب جوڑنے سے مشکل حل ہو جائے گی کیا؟
جمیل : (اپنے آپ سے) تین سو۔ تین سو پچہتّر۔ یہ ہوئے چار سو…
ثریّا:  بار بار گننے سے ان رقموں کی میزان کم ہو جائے گی کیا؟
جمیل : لیکن اتنی ساری رقم کیسے ادا کریں گے؟ اب کی بار 252   تو تنخواہ کے آئیں گے اور تین سو بقایا ملے گا یعنی کل رقم 552  ہوگی۔
ثریا:  ٹھیک تو ہے۔ 532  قرض ادا کریں گے۔ باقی بچے بیس، اللہ کے فضل سے ہو جائے گا گزارہ۔
جمیل :  تم تو مذاق کرتی ہو۔ بیس روپے میں مہینہ کیسے گزرے گا؟
ثریا:   اگر میں کہوں اللہ کے فضل سے ہو جائے گا تو کہتے ہیں مذاق کرتی ہو اور جب آپ خود کہا کرتے ہیں ’’تم نہیں سمجھتیں ثریّا۔ اللہ کے فضل سے ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
       اس وقت؟
جمیل :  لاحول ولاقوۃ۔ پھر وہی مذاق۔ ذرا سنجیدگی سے سوچونا!
ثریّا:   میں کیا سوچوں! میری سنتا ہی کون ہے؟
جمیل :  ہائیں یہ کون؟ بدھّو، او بدھّو!
ثریّا :    ہوگا ہمارا ہی کوئی دوست۔ ادھر چائے کا وقت ہوا، اُدھر کوئی آپہنچا۔ کیوں نہ آئے اللہ کے فضل سے کھاتا پیتا گھر ہے۔ اب ان کو کیا معلوم کہ اندر سے کیا حالت ہے؟
بدھّو :  (آکر) جی بابوجی!
جمیل :  کھڑا کیا ہے۔ باہر جا کر دیکھ کون آیا ہے؟
بدھّو :   بہت اچھا بابو جی!
جمیل:   نوکر بھی وہ لائے ہیں چن کر جس کا جواب نہیں۔
بدھّو:  باہر تو کوئی نہیں ہے بابو جی۔ یہ پرچی سی پڑی تھی ڈیوڑھی میں۔
ثریّا:  دکھا تو، جاتو، اب جاکر کپڑے استری کر۔
بدھّو:  اچھا جی!
ثریّا:   ہے اللہ، یہ تو ایک اور بِل ہے۔
جمیل:   ایک اور بِل!
ثریّا :  پانی کا بِل ہے ۔ پندرہ روپے بارہ آنے کا۔
جمیل :  اتنا بِل!
منظرنامہ  Screenplay
جمیل کے مکان کا ایک کمرہ ہے۔ جس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے۔ جس پر گاؤ تکیہ لگا ہے۔ جمیل تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ قمیض اور پائجامہ پہنے ہوئے ہے۔ اس کے سر پر لال ٹوپی ہے۔ دوسری طرف اس کی بیوی ثریّا بیگنی رنگ کا شلوار سوٹ پہنی بیٹھی ہے۔
جمیل اور ثریا گھر کے اخراجات کے متعلق پریشان ہیں۔ جمیل روپے پیسے کا حساب کرتا ہے تاکہ بقایا رقم ادا کی جا سکے۔
ثریّا طنز کرتے ہوئے جمیل کا مذاق اڑاتی ہے۔
جمیل ثریّا کے طنز پر برہمی کا اظہار کرتا ہے۔
ثریّا ناراضگی ظاہر کر تے ہوئے چہرے کے تاثرات بدلتی ہے۔
بدھّو پرچی ثریّا کو دکھاتا ہے۔ ثریّا پرچی دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہے۔
دونوں پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے ہیں۔



24

سرگرمی 6.13  

اسکرپٹ پر مبنی ریڈیو /ٹی وی کے کسی پروگرام کا انتخاب کیجیے۔ اس پروگرام کی اسکرپٹ پر فنّی نقطۂ نظر سے کلاس میں تبادلۂ خیال کیجیے۔

ہم یہاں اسکرپٹ نگاری کے صرف بنیادی نکات پر توجہ کریں گے۔

»  بہت زیادہ لکھنے سے گریز 

عام طور پر اسکرپٹ کا ایک صفحہ ایک منٹ سے بھی کم مدت میں ختم ہوجاتا ہے۔ اس میں صرف کام کی باتیں تحریر کی جاتی ہیں۔ یہ کتاب یا مضمون 
نہیں ہے جس میں بہت زیادہ لکھنے کی گنجائش ہو۔

 کہانی کا بنیادی خیال
 بنیادی خیال کو آپ جملے یا ایک فقرے میں بیان کیجیے۔ ایک ایسا جملہ جو کہانی کے پلاٹ کو مختصر ترین الفاظ میں بیان کردے۔

»  طریقۂ کار  Treatment

 مکالمے اور کرداروں کی حرکات وسکنات لکھنے سے قبل کہانی کا ایک بنیادی خاکہ/لائحہ عمل تیار کرلیجیے کہ آپ کی کہانی میں کیا کیا ہوگا۔ اس طرح آپ اِدھر ُادھر بھٹکنے سے بچ جائیں گے۔ اس بات کی منصوبہ بندی یا پیش بندی کرلیجیے کہ واقعات کس طرح ظہور میں آئیں گے۔ یہ منصوبہ بندی آپ واحد غائب (Third Person) کی صورت میں لکھیں گے۔

»  کہانی کا بیان

 ڈرامے، ٹی۔وی سیریل یا فلم میں پیش آنے والے تمام واقعات لکھیے جس میں تمام تفصیلات اور جزئیات ہوں۔ اس حصے میں مکمل پلاٹ، شخصیات، ان کے مابین تعلقات، کرداروں کی صفات اور کہانی کا بنیادی نقطہ نظر تحریر کیجیے۔

»  کردار اور مکالمے

ہر کردار کے مکالمے اور ان کی حرکات وسکنات تحریر کیجیے۔ ان کی پوزیشن لکھیے۔ یعنی کیمرے کے فریم میں وہ کس طرف ہوں گے۔ دائیں طرف یا بائیں طرف یا پھر مرکز میں۔
یاد رکھیے کہ اسکرپٹ کرداروں کی حرکات وسکنات اور ان کے مکالموں کی صحیح   پیش کش سے عبارت ہے۔ آپ کے کردار حقیقی زبان بولتے نظر آئیں۔ اگر کسی کردار کے لیے کوئی خاص ضرورت نہ ہو تو سبھی کردار عام لب ولہجے میں گفتگو کرتے نظر آئیں۔ حرکات وسکنات کا بیان بھی مختصر ہو۔ یعنی یہ سمجھ میں آجائے کہ اسکرین پر کیا ہونا چاہیے۔ اس میں تفصیلات اور جزئیات ہدایت کار بھریں گے۔

» نظر ثانی  

اسکرپٹ تحریر کرنے کے بعد اس پر نظرثانی ضرور کیجیے۔ یہ دیکھیے کہ کسی بات کو بیان کرنے کے لیے آپ نے زیادہ الفاظ تو استعمال نہیں کرلیے۔ اسی بات کو کچھ اور کم الفاظ میں زیادہ بہتر طورپر کہنا ممکن ہو تو انھیں استعمال کیجیے۔
اس بات کی وضاحت ایک بار پھر ضروری ہے کہ یہ اسکرپٹ کے بنیادی نکات ہیں جو کسی کہانی کو اسکرپٹ کی شکل میں لکھتے وقت پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹی۔وی اسکرپٹ کے بنیادی نکات تو یہی ہیں البتہ ریڈیو میں آوازوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ موسیقی اور دیگر ساونڈ ایفیکٹس کی تفصیلات بھی اسکرپٹ نگار تحریر کرتا ہے۔ ہرصنف کے اعتبار سے اسکرپٹ کا طریقۂ کار بھی الگ ہو جاتا ہے۔

سرگرمی 6.14  

ریڈیو/ٹی وی کی کسی خبر کو سامنے رکھیے اور ان دونوں کے بنیادی فرقی کا مختصر جائزہ کلاس میں پیش کیجیے۔

2.1.1  میڈیا کے لیے خبریں تیار کرنا

پچھلی جماعت میں آپ خبر اور خبر تیار کرنے کے طریقوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں۔ آپ کو خبر کے تعلق سے ’چھ کاف‘اور معکوس مثلث جیسے نکات یاد ہوں گے۔ اس جماعت میں آپ نے پرنٹ میڈیا کے حوالے سے خبر کے بارے میں پڑھا تھا۔ یہاں برقی میڈیا کے حوالے سے خبر کے متعلقات پر گفتگو کی جائے گی ۔
انسان فطری طور پر کچھ بتانا اور کچھ جاننا چاہتا ہے یعنی ترسیل اور تجسّس، انسانی فطرت کا خاصّہ ہیں۔ انسان کا یہ فطری عمل اسے ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے۔ خبررسانی میں جاننے، بتانے، حاصل کرنے، اطلاع دینے وغیرہ کا یکساں دخل ہے۔ جس کی بنیاد پر خبر کی تشکیل کی جاتی ہے۔

سرگرمی 6.15  

اگر آپ کو ریڈیو/ٹی وی پر دس منٹ کی خبریں پیش کرنے کا موقع دیا جائے تو ایک اچھی نیوز ریڈر کے طور پر آپ یہ ذمہ داری کس طرح انجام دیں گے؟اپنے ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

 2.1.2  ’خبر‘ کیا ہے؟

مختلف نقطہ ہائے نظر سے خبر کی بہت سی تعریفیں متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس کی کوئی جامع تعریف متعین نہیں کی جا سکتی۔ پھر بھی تمام تعریفوں کا حاصل یہ ہے کہ :
’خبر اس چیز کا حال ہے جو واقع ہوئی ہو‘۔ 
ہر واقعہ کے پیش آتے ہی چھے بنیادی سوال ذہن میں آتے ہیں۔

 ان سوالوں کو چھے کاف کہا جاتا ہے :

» کیا؟ یعنی واقعہ کیا تھا جو پیش آیا؟

» کون؟ کس سے متعلق تھا یعنی وہ کون تھا جس کے ساتھ واقعہ پیش آیا۔

» کب؟ کب پیش آیا (وقت)۔

» کہاں؟ کہاں پیش آیا۔ جگہ کیا تھی۔ کیا مقام تھا وغیرہ۔

» کیوں؟ وجہ کیا تھی۔

» کیسے؟ وہ حالات کیا تھے جن میں واقعہ پیش آیا۔

واقعے سے پیدا شدہ ان سوالات کی جو خبر تشفی کرتی ہے وہ مکمل خبر کہلاتی ہے۔ مگر عام طور پر ’مطلق خبر‘ صرف شروع کے چار سوالوں کیا، کون ، کب اور کہاں کے مختصر جوابات فراہم کرتی ہے جب کہ آخری دو سوالوں کیوں اور کیسے کے تشفی بخش جوابات کی تفصیل دراصل وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے صحافتی اظہار کے مختلف طریقے وجود میں آئے جنھوں نے مطلق اطلاع کو مکمل خبر بنانے میں مدد کی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے اہم ذرائع پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کے لیے ’’خبر‘‘ اگرچہ واقعے کی حیثیت سے یکساں ہوتی ہے مگر ذریعۂ ابلاغ کی نوعیت کے اعتبار سے خبر کو مکمل خبر بنانے کے طریقے اور تقاضے مختلف ہیں۔
ریڈیو اور ٹی وی میں بھی خبریں عام طور پر مختلف ذرائع سے حاصل شدہ اطلاعات کے مواد پر لکھ کر ہی تیار کی جاتی ہیں لیکن ان کے پیش کرنے کا طریقہ، زبان، پہنچ اور اثر اخبار میں شائع ہونے والی خبر سے کافی الگ ہوتا ہے۔ 

خبریں کیسی ہی ہوں وہ خبرین ہوتی ہیں اور خبریں رہتی ہیں، جب ان خبروں کی بنیاد پر کچھ اور لکھا جاتا ہے، وہ اڈیٹوریل نوٹ ہو، کوئی مضمون ہو، کوئی افسانہ ہو، نظم ہو یا ڈراما،تب ادب اور صحافت کی بحث شروع ہوتی ہے۔

ادب اور صحافت میں دور کی نسبت ہے،مگر یہ دونوں نسبتیں ایک ہی شخص میں بخوبی جمع ہو سکتی ہیں اور اس کی تحریر میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔

ــ رشید حسن خان

ریڈیو اور ٹی وی میں خبریں سنانے اور دکھانے کے دو مقبول طریقے ہیں :

» مختلف ذرائع سے حاصل شدہ اطلاعات کو لکھ کر سنانا (نشر کرنا) ۔
» جائے واقعہ سے براہ راست نشر کرنا۔ ایسی صورت میں اسکرپٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ لیکن دونوں صورتوں میں میڈیم سے متعلق زبان اور اسلوب کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

 2.1.3  ریڈیو نیوز بلیٹن 

ریڈیو نیوز بلیٹن کی تیاری میں مندرجہ ذیل نکات کا خاص طور پر دھیان رکھا جاتاہے۔

 » زبان

ریڈیو ہر سطح کے لوگ سنتے ہیں اس لیے اس کی زبان آسان اور عام فہم ہوتی ہے۔ خبر سے متعلق تمام اہم نکات کوآسان زبان میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے لوگ بھی اسے سن کر سمجھ لیں۔ اخبار میں چھپی ہوئی خبروں میں اگر کچھ سمجھ میں نہ آئے تو دوبارہ پڑھا جا سکتا ہے لیکن ریڈیو میں یہ ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پیش کش کی ہر سطح پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ خبر کی ترسیل میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
65

بلیٹن لکھنا 

خبریں کاغذپر لکھتے وقت اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ کاغذ کے ایک طرف کھلے کھلے صاف صاف لفظوں میں خبر لکھی جائے تاکہ آسانی اور روانی کے ساتھ پڑھا جاسکے۔ صفحات کو الگ الگ رکھا جاتا ہے تاکہ انھیں اٹھا کر پڑھنا آسان ہو۔اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ ایک صفحہ پڑھ کر دوسرا صفحہ اٹھاتے ہوئے کوئی آواز نہ ہو۔ ایک صفحے پر ایک خبر تحریر کی جاتی ہے ۔اگر خبر طویل ہو اور دو صفحوں پر آئے تو کوشش کی جاتی ہے کہ پہلے صفحے کے اختتام پر ایک بات مکمل ہو جائے یا کم از کم جملہ پورا ہوجائے ۔ دوسرے صفحے سے نیا جملہ شروع ہو ۔
برقی میڈیا  میں تحریر کی مدّت (Duration) بہت اہمیت رکھتی ہے ۔اس لیے بلیٹن کی تیاری میں اس کا لحاظ رکھنا بے حد ضروری ہے کہ خبریں وقت کے اندر اندر پوری ہو جائیں۔
نیوز اینکر/ریڈر، خبر کو بار بار پڑھ کر اپنے شبہات دور کر لیتا ہے تاکہ براہِ راست خبریں پڑھتے وقت روانی میں کمی نہ آئے ۔اب اگرچہ ٹائپ شدہ کاپی کی سہولت موجود ہے اور تحریر کے پڑھے جانے کا مسئلہ سنگین نہیں رہا لیکن ٹائپ کی غلطیوں کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ اس لیے بہت باریکی سے پروف ریڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ریڈیو میں بلیٹن کی آخری کاپی میں (جس کاپی سے پڑھ کر نشر ہونا ہے) زیروزبر، پیش وغیرہ کے علاوہ رموز اوقاف بھی لگانے ضروری ہیں تاکہ بلیٹن سناتے وقت کسی غلطی کے امکانات کو مزید کم کیا جا سکے۔
پروفیشنل نیوز ریڈر اسکرپٹ میں ڈیش (–) اور لمبا ڈیش (—) وغیرہ جیسے نشانات لگا کر یاد رکھتے ہیں کہ کہاں کتنا وقفہ (Pause) دینا ہے۔ وقفے کی معیاد کے صحیح تعین کے لیے کوئی طے شدہ اصول نہیں ہیں۔ اس کا انحصار نیوز ریڈر کی تربیت اور تجربے پر ہے۔ اعداد و شمار لکھنے میں خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔
66 

بلیٹن پڑھنا

ریڈیو میں بلیٹن پڑھ کر سنانے والے کو نیوز ریڈر اور نیوز کاسٹر کہا جاتا ہے۔ نیوز ریڈر کے لیے مندرجہ ذیل صلاحیتیں ضروری ہیں :
آواز ایک قدرتی نعمت ہے۔ اس میں مشق اور محنت سے مزید نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ریڈیو کے لیے کس کی آواز اور کس طرح کی آواز مناسب ہے اس کا فیصلہ ذوق سماعت پر منحصر ہے۔ اسی لیے جو آواز نشریات کے لیے موزوں ہو اس کی تلاش جاری رہتی ہے۔
نیوز ریڈر لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سناتا ہے مگر اس کے لیے صرف آواز پر ہی نہیں زبان اور متعلقاتِ زبان پر بھی دسترس ضروری ہے۔نیوز ریڈر کے لیے خود اعتمادی اور حاضر دماغی بھی ضروری ہے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ لکھے ہوئے بلیٹن کے درمیان اچانک کوئی خبر یا لائیو خبر آجاتی ہے تو اس وقت نیوز ریڈر کی خود اعتمادی اور حاضر دماغی ہی کام آتی ہے۔

سرگرمی 6.16  

ٹی وی کے کسی نیوز بلیٹن کو دیکھیے اور اس ضمن میں بنیادی نکات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس نیوز بلیٹن کا جائزہ لیجیے اور کلاس میں ساتھیوں کے درمیان پیش کیجیے۔

» رپورٹنگ 

کسی حادثے کی جگہ، جلسہ گاہ، کسی میلے یا کھیل کے میدان وغیرہ سے آنکھوں دیکھا حال اور تفصیلات بیان کرنے کو رپورٹنگ کہتے ہیں۔رپورٹنگ عام طور سے دو طرح کی ہوتی ہے :
» ایک رپورٹنگ وہ ہوتی ہے جس میں رپورٹر جائے وقوع کا دورہ کرتا ہے۔ وہاں سے نوٹس لے کر اپنی رپورٹ تیار کرتا ہے جسے بعد میں نشر کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی رپورٹنگ اور نیوز بلیٹن میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ اگر مناسب ہو تو اس جگہ پر موجود کچھ لوگوں کے بیانات اور ارد گرد کی آوازیں ایمبینس (Ambience) شامل کر لی جاتی ہیں اور ایڈیٹنگ کر کے رپورٹ تیار کر لی جاتی ہے۔
» دوسری رپورٹنگ جائے وقوع سے براہ راست نشر کی جاتی ہے۔ اس کے تقاضے مختلف ہیں۔ براہ راست ہونے کی وجہ سے اس میں تحریری حصہ شامل نہیں ہوتا اور ایڈیٹنگ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس میں ’جو ہے، جیسا ہے، جہاں ہے‘ کا اصول کام کرتا ہے۔ رپورٹنگ کی یہ قسم مشکل ہے اور جوکھم بھری بھی۔ اس میں کسی غلطی کے سدھارنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ ایسی رپورٹنگ سے صحیح معنوں میں پتا لگتا ہے کہ رپورٹر میں کتنی صلاحیت ہے۔ مختلف جگہوں اور الگ الگ طرح کے واقعات کی رپورٹنگ کے لیے مختلف صلاحیتوں کے افراد اسی لیے مقرر کیے جاتے ہیں تاکہ وہ موقع کے مطابق کسی تحریری معاونت کے بغیر مناسب اور مؤثر رپورٹنگ کر سکیں۔ موسم، کھیل، حالاتِ حاضرہ اور حادثات سے متعلق خبروں کی رپورٹنگ کے لیے انھیں افراد کو ترجیح دی جاتی ہے جو متعلقہ شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔

سرگرمی 6.17  

ٹی وی پروڈکشن کے کسی پروگرام کی روشنی میں اس کے بیانیہ اور مکالمہ کا جائزہ لیجیے اور اپنی کلاس میں پیش کیجیے۔

  2.1.4ٹی وی نیوز بلیٹن

موجودہ زمانے میں ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہے۔ کئی چینل تو صرف خبروں کے لیے ہی بنائے گئے ہیں۔ لوگ اخبار اور ریڈیو کے مقابلے خبریں بھی ٹی وی پر زیادہ دیکھنے لگے ہیں۔ اس لیے ٹی وی خبروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ٹی وی نیوز بلیٹن میں خبروں کے حصول کے بنیادی ذرائع گرچہ ریڈیو والے ہی ہیں اور یہاں بھی نیوز بلیٹن میں ان بنیادی چیزوں اور صلاحیتوں کی ضرورت ہے جن کا ذکر ریڈیو بلیٹن کے ضمن میں آیا۔ لیکن ٹی وی آڈیو ویژول (Audio-Visual) میڈیا ہے۔ اس وجہ سے اس میں ریڈیو سے کچھ زیادہ صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔ انسان فطری طور پر سننے سے زیادہ دیکھنے پر یقین رکھتا ہے اور ٹی وی سناتا بھی ہے اور دکھاتا بھی ہے۔
67

  2.1.5 ٹی وی کے لیے خبروں کا انتخاب

خبروں کے انتخاب میں اس کا خیال رکھتے ہیں کہ اگر اسے سنانے کے بجائے دکھانا پڑے تو اس میں تصویری صلاحیت کتنی ہے اور اسے دکھانا مناسب بھی ہوگا یا نہیں۔ کیا دکھانا ہے، کیا نہیں دکھانا ہے، اس میں چینل کی پالیسی کے علاوہ صحافت کی عالمی اخلاقیات راہ نمائی کرتی ہیں۔ اسی لیے ہو سکتا ہے کہ کوئی خبر ریڈیو کے بلیٹن میں اہم جگہ پائے اور ٹی وی بلیٹن میں اس کی جگہ کہیں اور ہو۔ 

  2.1.6 ٹی وی نیوز ایڈیٹنگ 

ٹی وی میں ایڈیٹنگ کے کم از کم دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ایک ریڈیو بلیٹن کی طرح کاغذ پر ایڈیٹنگ اور خبروں کی ترتیب اور دوسرے ویڈیو ایڈیٹنگ۔ ویڈیو ایڈیٹنگ ٹی وی نشریات کا ایک بڑا شعبہ ہے۔ اس کی فی زمانہ بہت سی تکنیکی قسمیں ہیں اور اس کے لیے ایک خاص طرح کی تربیت اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ٹی وی میں ایڈیٹر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کون سا ویژول (Visual)کتنی مدّت تک اثر رکھتا ہے ،کتنی مدّت تک اسے ٹی وی پر دکھایا جانا ہے۔ یہ تمام فیصلے ایک خاص تجربے اور ذوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عام طور پر اب ویڈیو ایڈیٹر، ایڈیٹنگ کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں۔ 

سرگرمی 6.18  

ایک فلم اور ایک دستاویزی فلم کا انتخاب کیجیے۔ ان دونوں میں کیا بنیادی فرق ہے اسے ساتھیوں کے ساتھ پیش کیجیے۔

  2.1.7 ٹی وی خبروں کی پیش کش 

ٹی وی نیوز کی پیش کش ایک اہم شعبہ ہے۔ ٹی وی خبرکی پیش کش میںاس کے ظاہری تقاضوں یعنی دل کشی اور سلیقے دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ریڈیو براڈ کاسٹر کے لیے جس طرح آواز کا مناسب ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح ٹی وی نیوز اینکر کے لیے آواز اور صورت دونوں کا مناسب ہونا ضروری ہے۔ مائک کی اپنی ضروریات ہیں تو کیمرے کے اپنے تقاضے ہیں اور ان دونوں کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے ٹیلی کاسٹر۔
ٹیلی کاسٹر کے لیے ریڈیو کی طرح زبان اور زبان کے متعلقات یعنی تلفظ، لہجہ اور ادائیگی سے واقفیت شرط ہے۔ یہاں لفظ کے اثرات بھی ہیں اور تاثرات و حرکات کے اثرات بھی ہیں۔ یہاں لہجہ بھی شستہ چاہیے اور لباس بھی مہذب۔ یہاں لفظ اور لباس دونوں کے انتخاب میں مہارت کی ضرورت پڑتی ہے۔
ریڈیو میں لہجے اور تلفظ کی اہمیت ہے۔ ٹی وی میں بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ لفظوں کے صحیح اِملا کا علم بھی ضروری ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ٹی وی پر خبروں کے ویڈیو دکھائے جانے کے ساتھ ساتھ اسکرین پر خبریں لکھی ہوئی بھی آتی رہتی ہیں۔ اسکرین کے نچلے حصّے پر مستقل جاری رہنے والی تحریری خبروں کو اسکرول کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اسکرین پر لکھی ہوئی خبریں درست املا کے ساتھ نشر کی جائیں۔ 

سرگرمی 6.19  

کسی دستاویزی فلم کا انتخاب کیجیے اور اس میں بیانیہ کی تکنیک کا جائزہ لیجیے اور اپنی کلاس میں پیش کیجیے۔

68

 2.2ٹیلی ویژن دستاویزی فلم  Television Documentary

دستاویزی فلم ( Documentary) کی تعریف، عناصر اور جزئیات کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دستاویزی فلم اور ویژول میڈیم کی دوسری اصناف (Formats) میں کیا فرق ہے۔ فن کی دیگر اصناف کی طرح یہاں بھی ایک صنف کے عناصر دوسری صنف میں موجود ہوتے ہیں ۔یعنی دو اور دو چار کی طرح یہاں بھی اصناف کی حدبندی قطعی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ اسی لیے دستاویزی فلم کی کوئی حتمی تعریف نہیں کی جا سکی ہے۔ کچھ لوگ اسے غیرحقیقی فکشن(Nonfictional Fiction) اور کچھ لوگ اسے حقیقی فکشن (Factsfiction)کہتے ہیں۔ موضوع کا حقیقی شکل میں تخلیقی اظہار دستاویزی فلم کا لازمی اور بنیادی عنصر ہے۔دستاویزی فلم حقیقی اشیا کی براہِ ر است رپورٹنگ ہے اور نہ کہ تخیلی واردات کا نتیجہ ہے۔ دستاویزی فلم کی اسکرپٹ میں دستاویزی حقائق کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ گویا جو ’کچھ ہو چکا ہے‘ اور جس کا ثبوت دستاویز میں موجود ہے اس کو سامنے رکھ کر دستاویزی فلم کی اسکرپٹ تیار کی جاتی ہے۔ دستاویزی فلم کا کوئی بھی موضوع ہو سکتا ہے۔ کسی تاریخی مقام، ادارے، عہد یا شخصیت سے متعلق دستاویزی فلم بنائی جاسکتی ہے ۔ امریکی فلم ڈائریکٹر Robert Fleherty نے 1922 میں’Nanook of the North‘نام سے پہلی باضابطہ دستاویزی فلم تیار کی۔ 
اس دستاویزی فلم میں برف کی وادی میں رہنے والے آدمی کی روز مرہ زندگی کے حقائق کو بے حد فنکارانہ، مؤثر اوردلچسپ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اس سے تحریک پا کر دیگر لوگوں نے بھی دستاویزی فلموں کی طرف رخ کیا اور بہت جلد اسے پوری دنیا میں مقبولیت حاصل ہوگئی۔ اسکرپٹ نگاری کے تعلق سے اسکرپٹ کے جو بنیادی نکات آپ نے پڑھے، دستاویزی فلم کی اسکرپٹ لکھتے وقت بھی ان تمام امور کا خیال رکھا جاتا ہے۔

سرگرمی 6.20  

ریڈیو یا ٹی وی کی کسی دستاویزی فلم کا انتخاب کیجیے اور اس کی تیاری کے ضمن میں جو بنیادی نکات درکار ہوتے ہیں، ان کی روشنی میں اس کا جائزہ لیجیے اور اسکول اسمبلی میں پیش کیجیے۔

  2.3ڈاکیو ڈراما  Docu Drama

جیساکہ نام سے ظاہر ہے اس میں دو اصناف ڈاکیو منٹری اور ڈراما کو یکجا کیا گیا ہے۔ یعنی کچھ دستاویزی حقیقتوں کو ڈرامائی شکل میں فلمایا جاتا ہے۔ اس سے ڈاکیوڈراما کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے، ٹھوس حقائق کی خشک بیانی میں کمی آجاتی ہے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اس کی دستاویزی اہمیت کا وہ معیار باقی نہیں رہتا جو خالص دستاویزی فلم کا خاصہ ہے۔ کیوں کہ ڈرامے کے عناصر فکشن کے ساتھ آتے ہیں جس سے دلچسپی تو بڑھ جاتی ہے اور حقیقت جیتے جاگتے روپ میں پردے پر نمودار ہوجاتی ہے، مگر اس سے دستاویزی فلم کی بنیادی اہمیت مجروح ہوتی ہے۔ تاہم ڈاکومینٹری سے کہیں زیادہ ڈاکیو ڈراما مقبول ہے اور اب یہ کوشش بھی کی جانے لگی ہے کہ اس میں دستاویزی عناصر مجروح نہ ہوں۔
ڈاکیو ڈراما کا ایک اعلیٰ نمونہ ٹی وی پر دکھایا جانے والا پروگرام ’بھارت ایک کھوج‘ ہے۔ دراصل ڈراما لکھنے اور بنانے میں ڈاکومینٹری اور ڈراما دونوں میں مہارت ضروری ہے۔

سرگرمی 6.21  

ڈاکیو ڈراما کی بنیادی خصوصیات کی روشنی میں ’’بھارت ایک کھوج‘‘ ٹی پروگرام اگر آپ نے کبھی دیکھا ہے تو اس کا جائزہ لیجیے۔

69

2.4 نیو میڈیا  New Media

’نیومیڈیا‘ صحافت کی ایک نئی اصطلاح ہے۔ عہدِرفتہ میں ایجاد ہونے اور فروغ پانے والی مواصلاتی (کمیونی کیشن) ٹیکنالوجی کو عام طور پر ’نیو میڈیا ‘کا نام دیا جاتا ہے۔ چند برس پہلے تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ طریقے جن میں کمپیوٹر کا استعمال کیا جائے ’نیومیڈیا‘ ہیں۔ تاہم نئے دور کی مسلسل تغیرپذیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس خیال کی تردید کردی۔ اس کے علاوہ اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ کی مقبولیت نے بھی اس خیال کو غلط ثابت کردیا۔ لہٰذا یہ باور کیا جانے لگا کہ اطلاع رسانی کے ایسے طریقۂ کار جن میں انٹرنیٹ کا استعمال کیا جائے وہ ’نیومیڈیا‘ہیں۔ ایک عرصے تک اس بیان کو ہی نیومیڈیا کے لیے درست مان لیا گیا۔ لیکن بلوٹوتھ اور موبائیل کنکٹیوٹی (Mobile Connectivity)  کی نئی ایپلی کیشنوں اور شیئرنگ ایپس(Sharing Apps) نے ایک مرتبہ پھر اس خیال کو مسترد کردیا۔  لہٰذا اب کہا جاتا ہے کہ اطلاع رسانی کے وہ تمام نئے ذرائع جیسے کمپیوٹر( ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، پام ٹاپ )، موبائل فون اوردستی کمپیوٹنگ مشین یعنی ٹیبلیٹ وغیرہ جن کے ذریعے انٹرنیٹ یا کسی دیگر رابطۂ تکنیک (Uplinking Technology) کا استعمال کیا جاسکے، نیومیڈیا ہیں۔
مختصر یہ کہ اب اطلاعات رسانی کے تمام برقیاتی اور اختراعی طریقوں کو ’نیومیڈیا‘ کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ تحریری متن، گرافکس اور سمعی و بصری مواد کی آن لائن نشرواشاعت کا تازہ ترین میڈیم ہے۔ اسی لیے اسے ’نیومیڈیا‘ کہاجاتا ہے۔ اس میں معلومات کا ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ اس میں کئی کتب خانے سمائے ہوئے ہیں جو مضامین کا تناظر و پس منظر بتاتے ہیں اور حقائق کی تصدیق و تردید کرتے ہیں۔ یہ میڈیاخبریں اور رائے نشر کرنے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صحافی کی معلومات کا اہم مآخذ بھی ہے اور معلومات کی جانچ کرنے کا بہترین اور آسان طریقہ بھی۔ 
70
عہدِحاضر میں نیومیڈیا کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا (اخبارات و رسائل) اور الیکٹرانک میڈیا (ریڈیو اور ٹیلی ویژن) میں قاری، سامعین اور ناظرین کو اپنی رائے دینے کے مواقع بہت کم حاصل تھے۔ ان کے مقابلے نیومیڈیا میں عوام (قاری، سامع اور ناظر) کو فوری طور پر اپنی رائے دینے کی آزادی حاصل ہے۔ 
71
نیومیڈیا کے تیزی سے مقبول ہونے کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ استعمال میں آسان (User Friendly) ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی مقبولیت کے پیچھے کاروباری مقاصد بھی کارفرما ہیں۔ اشتہارات کی سستی اور آسان ترسیل اور بیک وقت متعدد ایس ایم ایس (Bulk SMS)کی ابتدا نے بھی اس کی مقبولیت میں اہم رول ادا کیا ہے۔ 
یہ غلط فہمی عام ہے کہ اکثر لوگ ’سوشل نیٹ ورک‘ کو ہی نیومیڈیا سمجھ لیتے ہیں۔ دراصل یہ نیومیڈیا کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ایسا نیٹ ورک جو ہمارے سماجی رابطوں کے لیے استعمال کیا جائے ’سوشل نیٹ ورک‘ کہلاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں ’فیس بُک‘ ، ’ٹویٹر‘ اور ’واٹس اَپ‘ ا س کی شاندار اور مقبول مثالیں ہیں۔

سرگرمی 6.22  

نیو میڈیا، سوشل نیٹ ورک، فیس بک، ٹوئٹر، واٹس اپ، ڈیسک ٹاپ ، لیپ ٹاپ ، ٹیبلیٹ، ٹیلی پرنٹر وغیرہ برقی ذرائع ابلاگ کی اہمیت اور افادیت پر مختلف طلبا کی شمولیت کے ساتھ ایک مذاکرہ کیجیے۔ 

72
نیو میڈیا کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ آج پوری دنیا اس کی بہ دولت گلوبل/ عالمی گاوں میں تبدیل ہوگئی ہے۔ گلوبل گاوں سے مراد اطلاعات کی آسان اور بر وقت ترسیل ہے۔ نیو میڈیا نے اجنبی افراد کے مابین رشتہ استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے آن لائن تجارت کی بڑی ترقی ہوئی ہے۔ اس کی مدد سے ہم گھر بیٹھے اشیا کی خرید وفروخت کرسکتے ہیں۔ اس سے اشتہار کے شعبے کا فروغ ہوا ہے اور اشتہارات تک عام لوگوں کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔ ای-بینکنگ کے ذریعے مالی لین دین اور صنعت و حرفت کے معاملات بھی طے کرسکتے ہیں۔ نیو میڈیا کا سب سے بڑا کارنامہ ذاتی صحافت (Citizen journalism)  کا فروغ ہے۔ آج ہمارے لیے قومی اور بین الاقوامی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار اسی کے سبب آسان ہوگیا ہے۔ نیو میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے یا تبلیغ کا بھی بڑے پیمانے پر کام لیا جارہا ہے۔ آج سیاسی جماعتیں اور تجارتی ادارے بھی نیو میڈیا کا بخوبی استعمال کر رہے ہیں۔ چوں کہ نیو میڈیا ایک آزاد اور غیر منظم ذریعۂ اظہار ہے لہٰذا ایسی صورت میں اس کے نامناسب استعمال کی گنجائش بھی رہتی ہے۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے اس کا مناسب استعمال کرنا چاہیے۔
نیومیڈیا کے لیے کام کرنے والا صحافی چوبیس گھنٹے مصروف رہتا ہے۔ اس پر ہمہ وقت اپنے کام کو پورا کرنے کی ذمے داری ہوتی ہے اور اسے اطلاعات کو مختلف شکلوں میں پیش کرنے کی مہارت پیدا کرنی ہوتی ہے۔ مثلاً اسے تحریری، گرافکس، سمعی اور بصری مواد تیار کرنے کے علاوہ ایک اچھا فوٹوگرافر، ایک ماہر کمپیوٹر داں اور اچھا ویب ماسٹر ہونا لازمی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ وہ نیومیڈیا کی طرز پر سوچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو یعنی اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی اطلاع پیش کرنے کے لیے کس آلے، تکنیک اور طریقۂ کار کو اختیار کرنا چاہیے۔ کسی مخصوص واقعے کو ایک کہانی کی طرز پر پیش کرنا بہتر ہوگا یا گرافکس کی شکل میں؟ اس میں ویڈیو کلپ کہاں آنا چاہیے اور آڈیو کہاں مناسب رہے گی؟ کسی مخصوص رپورٹ میں ان سبھی تکنیکوں کا استعمال کیا جانا چاہیے یا محض چندایک کا؟ غرض یہ کہ اس کے ذہن میں تحریری نقوش کے ساتھ ساتھ سمعی و بصری تصورات بھی واضح ہونے چاہئیں۔ 
نیومیڈیا سے وابستہ صحافی کو مسلسل اپنے علم و فن میں اضافہ کرنے اور نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کی تگ و دو میں لگے رہنا چاہیے۔ پیجر جیسے آلے اور انفراریڈ (Infrared)جیسی تکنیک کے تیزرفتار خاتمے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیومیڈیا کی دنیا میں کسی آلے یا تکنیک کے مقبول و متروک ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گذشتہ صدی کے اختتام پر رابطے اور خبررسانی کے لیے ’پیجر‘ (Pager)کو بھی ایک اہم آلہ (Device)سمجھا جاتا تھا۔ تاہم موبائل فون میں مختصر پیام رسانی (Short Messaging Service - SMS)کی ابتدا اور  کم خرچ استعمال اور فراوانی کے سبب پیجر کی ضرورت و مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی۔ اس طرح یہ آلہ محض چند روز ہی کارگر ثابت ہوسکا اور جلد ہی ناپید ہوگیا۔ اسی طرح انفراریڈ جیسی تکنیک کی عمر پیجر سے بھی مختصر رہی اور نئی نسل کے لوگ اس سے واقف ہی نہیں ہیں۔ دراصل انفراریڈ کے فوراً بعد بلوٹوتھ (Bluetooth)اور پھرنیٹ ورک فائل ٹرانسفر NFTکی ایجاد نے اس ٹیکنالوجی کو پنپنے نہیں دیا۔ لہٰذا صحافی کے لیے یہ لازمی ہوگیا کہ وہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی پر نظر رکھے اور نئی تکنیکوں سے واقفیت حاصل کرے۔

سرگرمی 6.23  

اردو زبان و ادب کی تدریس و آموزش کو موثر و مفید بنانے کے لیے آپ سوشل نیٹ ورکنگ کی مختلف سائٹس کا استعمال کس طرح کریں گے۔ ساتھیوں سے تبادلۂ خیال کیجیے۔


صحافی کو ٹیکنالوجی کی قوت کا اندازہ بھی ہونا چاہیے۔ محض تکنیک سیکھ لینے
 اور اس پر بغیرسوچے سمجھے عمل شروع کردینے سے مؤثر صحافت کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً 1994  میں ورلڈ وائڈ ویب (World Wide Web)کے متعارف ہوتے ہی اخبارات و نشریاتی اسٹیشنوں نے اپنے مواد کو آن لائن کرنا شروع کردیا۔ کیوں کہ ان دنوں خبروں کے متن کو ویب سائٹ پر ڈالنا ہی خبروں کو آن لائن کرنا تصور کیا جاتا تھا۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے ٹیلی ویژن کے ابتدائی دورمیں خبریں پڑھنے والے اور نامہ نگار اس میڈیم کی قوت کا بھرپور استعمال نہیں جانتے تھے اور محض کیمرے کے سامنے خبریں پڑھنا ہی سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم رفتہ رفتہ انٹرنیٹ کا استعمال بڑھنے لگا اور آن لائن صحافت مزید اثرانگیز اور طاقتور بھی ہوتی گئی۔ 
یہاں نیومیڈیا میں استعمال ہونے والے آلات اور تکنیکوں کا مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے۔ 

نیومیڈیا ایک نظر میں
تکنیک مقبول/عام طورپر استعمال ہونے والا آلہ سافٹ ویئر/ایپلی کیشن نمبر شمار
انٹرنیٹ کمپیوٹر/ٹیبلیٹ/موبائل فیس بک 1
انٹرنیٹ ٹیبلیٹ/موبائل ٹویٹر 2
انٹرنیٹ کمپیوٹر/ٹیبلیٹ/موبائل ای میل 3
انٹرنیٹ
کمپیوٹر بلاگ 4
انٹرنیٹ کمپیوٹر/اسمارٹ فون ایس ایم ایس (Bul)بلک 5
شیئرنگ ایپلیکیشن موبائل،ٹیبلیٹ شیئرنگ ایپس،بلوٹوتھ NET،(Bluetooth) 6
انٹرنیٹ ٹیبلیٹ/موبائل/کمپیوٹر (Messanger) پیام رساں 7
انٹرنیٹ کمپیوٹر،موبائل ای بک،ای پیپر،ای میگزین 8
انٹرنیٹ موبائل/ٹیبلیٹ جی پی ایس 9
انٹرنیٹ کمپیوٹر/ٹیبلیٹ/موبائل کلینڈر 10
انٹرنیٹ ٹیبلیٹ/موبائل ٹکٹنگ کمپیوٹر 11
انٹرنیٹ موبائل/ٹیبلیٹ/کمپیوٹر کمرشل ایپ 12
لین/انٹرنیٹ کمپیوٹر/ٹیبلیٹ/موبائل/ٹیلی پرنٹر خبررسانی 13

غور کرنے کی بات 
= ہر تحریر کے مخصوص تقاضے ہیں۔ اخبار کے لیے پڑھنے، ریڈیو کے لیے سمعی اصولوں اور ٹی وی کے لیے سمعی وبصری دونوں ضرورتوں پر یکساں توجہ دینی ہوتی ہے، نیز یہ بھی کہ تحریر کیوں اور کس کے لیے ہے۔ متعین وقت میں اس کی تکمیل ہو، زبان سادہ، عام فہم اور موثر و جامع ہو۔
= ذرائع ابلاغ کی ترقی کے مراحل مسلسل جاری ہیں۔ یہ ترقی جدید طریقوں اور تکنیک کی ایجاد پر منحصر ہے۔ 
= ریڈیو ٹاک، انٹرویو، مذاکرہ، معلومات عامہ، شاعری، کلاسیکی موسیقی، فلمی موسیقی، رواں تبصرہ، ڈاکیومنٹری، فیچر ، ریڈیو برج، ریڈیو ڈراما، خبریں وغیرہ ریڈیو سے نشر ہونے والے اہم پروگرام ہیں۔
= ریڈیو فیچرحقیقت پر مبنی ڈرامائی تخلیق ہے۔ ڈاکیومنٹری، ریڈیائی ڈرامے کی تکنیک بھی ہے اور ایک علاحدہ صنف بھی۔ جھلکی میں عام طور پر زندگی کے کسی پُرکشش واقعے کو چند منٹ میں پیش کر دیا جاتا ہے۔
= ریڈیو کی دنیا ساز اور آواز کی دنیا ہے۔ لیکن ٹیلی ویژن کا تعلق ان دونوں کے علاوہ سمعی و بصری حواس سے بھی ہے۔
= ہندوستان میں ٹیلی ویژن کی ابتدا 15  ستمبر 1959  کو دوردرشن، نام سے ہوئی۔
= NASA  نے 1975   میں آریہ بھٹ سیٹلائٹ، 1978  میں بھاسکر سیٹلائٹ اور 1983   میں امریکہ کے سیٹلائٹ کو  INSAT IB  کے ذریعے خلا/مدار میں بھیجا، اس کے سبب دوردرشن کے سبھی مراکز ایک دوسرے سے منسلک ہو گئے، اس طرح پورے ملک میں اب کسی بھی پروگرام کو بیک وقت دیکھا جا سکتا ہے۔
= رپورٹنگ صحافت کی اہم کڑی ہے۔ جب کہ کسی بھی میڈیم کا سب سے مقبول شعبہ اس کی رپورٹنگ ہوتی ہے۔ اس کے بغیر خبرنویسی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹر میڈیا کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ انھیں پریس کے دل کی دھڑکن کہا جاتا ہے۔
= ہندوستان میں سنیما کا سفر 1896   سے شروع ہوا۔ 1913  میں دادا صاحب پھالکے نے ہریش چندر نام کی پہلی فلم بنائی۔ایک اچھے فلم مبصر کے لیے ضروری ہے کہ وہ فلم سازی کے تمام پہلوؤں سے واقف ہو اور فلم کے فن کی باریکیوں سے دوسروں کو روشناس کرائے۔
= ملاقات یا انٹرویو خبر کا اہم ذریعہ ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا، انٹرویو کے ذریعے بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
= آج کے دور کو اگر اشتہار کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اشتہار ات سے واسطہ پڑتا ہے۔ آج کا انسان پیدائش سے موت تک اشہار کی دنیا میں رہتا ہے۔ فرد صارف بن گیا ہے۔ 
= ٹی وی اشتہارریڈیو سے زیادہ موثر اشتہار ہے۔ اس کے ذریعے کوئی بھی مصنوعات (پروڈکٹ) بہترین اشیا میں شمار ہونے لگتی ہے۔ راتوں رات اس کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے ٹی وی اشتہار سب سے موثر اور سب سے مہنگا ذریعہ ہے۔
= ریڈیواور ٹی وی میں اسکرپٹ موضوع اور فارمیٹ کے لحاظ سے بدل جاتی ہے؟ فارمیٹ کی تکنیک بھی الگ ہوتی ہے۔
= خبر اس چیز کا نام ہے جو واقع ہوتی ہے۔ ہر واقعہ پیش آتے ہی چھ بنیادی سوال ذہن میں آتے ہیں ۔ کیا، کون، کب، کہاں، کیوں اور کیسے۔ ان سوال کو ’چھے کاف‘ کہا جاتا ہے۔
= خبروں کے بلیٹن میں رپورٹنگ اور ایڈیٹنگ کی خاص اہمیت ہے۔ اس کے لیے خاص قسم کی مہارت درکار ہوتی ہے۔
= ٹی وی پر نیوز کی پیش کش اب تقریباً سب سے اہم شعبہ بن گیا ہے۔ اس لیے پیش کش کے طریقے اور خود پیش کرنے والے کی شکل وصورت، لباس، حرکات و سکنات اور شخصیت بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔
= دستاویزی فلم کے اسکرپٹ میں دستاویزی حقائق کو پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی جو کچھ ہو چکا ہے اور اس کے ہو چکنے کا جو ثبوت (دستاویز) موجود ہے۔ اس کو سامنے رکھ کر دستاویزی فلم کی اسکرپٹ لکھی جاتی ہے۔
= بنیادی خیال، خلاصہ، طریقۂ کار، شوٹنگ ’اسکرپٹ‘ صوتی و تصویری تسلسل دستاویزی فلم کی اسکرپٹ تیار کرنے کے بنیادی نکات ہیں۔
= اطلاع رسانی کے وہ تمام نئے ذرائع جسے کمپیوٹر، ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، پام ٹاپ، موبائل فون، ٹیلی پرنٹر، دستی کمپیوٹر (Tablet) وغیرہ کے ذریعے انٹرنیٹ یا کسی دوسرے رابطۂ تکنیک کا استعمال کیا جا سکے نیو میڈیا ہیں۔ عوام میں ضروری طور پر اپنی رائے دینے کی آزادی کے سبب نیو میڈیا تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
= وہ نیٹ ورک جو ہمارے سماجی رابطوں کے لیے استعمال کیا جائے سوشل نیٹ ورک کہلاتا ہے۔ سوشل نیٹ ورک نیو میڈیا کا ایک جزو ہے۔ فیس بک ، ٹوئیٹر ، واٹس اپ وغیرہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
= نیو میڈیا اب دراصل گرافکس اور سمعی و بصری مواد کی آن لائن نشر و اشاعت کا تازہ ترین ذریعہ ہے۔
7677747573

مشق

ذرائع ابلاغ کے آغازو ارتقا پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔
ریڈیو نشریات کے مختلف پروگراموں بالخصوص اردو پروگرام سے متعلق اظہار خیال کیجیے۔
مختلف ریڈیائی اصناف اور ان کی نمایاں خصوصیات واضح کیجیے۔
ٹیلی ویژن میں اسکرپٹ نگاری، رپورٹنگ اور ایڈیٹنگ کا اہم رول ہے۔تفصیل سے بیان کیجیے۔
فلمی تبصرے کی اہمیت اور اس کے لکھنے کے لیے بنیادی نکات واضح کیجیے۔
میڈیا میں انٹرویو کی اہمیت اور طریقۂ کار پر روشنی ڈالیے۔
اشتہار کی ضرورت و اہمیت اور ریڈیو اور ٹی وی اشتہار کے فرق پر اظہار خیال کیجیے۔
ریڈیو اور ٹی وی میں اینکرنگ کی اہمیت اور ایک اچھے اینکر کی نمایاں صفات پر تفصیلی روشنی ڈالیے۔
ریڈیو اور ٹی وی کی اسکرپٹ لکھتے وقت کن اہم نکات کو پیش ِ نظر رکھنا چاہیے۔
10۔ خبر کی تعریف، چھے  کاف کے اصول اور برقی میڈیا میں پیش کیے جانے کے الگ الگ طریقوں پر مختصراً اظہارِ خیال کیجیے۔
11۔ ریڈیو نیوز بلیٹن کی تیاری میں کن بنیادی نکات کو ذہن میں رکھا جاتا ہے؟
12۔ رپورٹنگ کتنی طرح کی ہوتی ہے۔ ان کی کیا خصوصیات ہیں اور خبروں میں ایڈیٹر کا کیا رول ہوتا ہے؟
13۔ ٹی وی نیوز بلیٹن کی اہمیت، افادیت اور طریقۂ کار پر روشنی ڈالیے۔
14۔ دستاویزی فلم کی مختصر تعریف، تاریخ اور اس کی اسکرپٹ کے بنیادی نکات واضح لکھیے۔
15۔ ٹی وی پروڈکشن میں بیانیہ و مکالمہ کی اہم خصوصیات اُجاگر کیجیے۔
16۔ نیو میڈیا کی تعریف، اہمیت اور نیو میڈیا میں استعمال ہونے والے مختلف آلات اور تکنیکوں اور ان سے وابستہ صحافی کے رول پر روشنی ڈالیے۔