Skip to content
I

VII-اکائی

II-ترجمہ

4523
1
باب1 ترجمے کا عمل ۔مختصر تعارف
باب 2 مطالعہ ، تجزیہ اور ترسیل
2.1 مطالعہ
2.2 تجزیہ
2.3 ترسیلِ متن 

کوئی بھی ترجمہ محض ترجمہ نہیں ہوتا، وہ تخلیقی جوہر سے آراستہ ہوتا ہے۔ ’’تخلیقی جوہر‘‘ کے پہلے حصے میں ترجمے کے فن، اہمیت، دائرۂ کار، مترجم کے فرائض، ترجمے کی اقسام اور طریقۂ کار سے متعلق اہم بنیادی نکات واضح کیے جاچکے ہیں۔ کتاب کے دوسرے حصے کی اس اکائی میں متن کی نوعیت کے مطابق ترجمے کے عمل میں مختلف مراحل کو پیش کیا گیا ہے۔ ترجمہ شدہ مختلف نمونوں کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش
 کی گئی ہے کہ ترجمے کے عمل میں اصل متن کا مطالعہ، تجزیہ، 
تشکیل، ترسیل، اور مطلوبہ زبان میں از سرِ نو تخلیق بنیادی
 اہمیت کے حامل نکات ہیں۔

باب 1

ترجمے کا عمل:مختصر تعارف

ترجمہ ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل ہے۔ جس زبان سے ترجمہ کیا جاتا ہے، اسے بنیادی زبان اور جس زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے، اسے مطلوبہ زبان کہتے ہیں۔ بہ ظاہر یہ ایک آسان کام معلوم ہوتا ہے جسے لغت کی مدد سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ لیکن عملی طور پر ترجمہ نگار کو بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے ڈکشنری کے علاوہ اور بھی کئی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
ترجمہ لسانی تہذیبی مفاہمے کا بھی فریضہ انجام دیتا ہے۔ یعنی جب ہم ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرتے ہیں تو جس زبان سے ترجمہ کرتے ہیں، اُس زبان کی تہذیب اور اُس زبان کو بولنے والوں کے اندازِ فکر کو بھی ہمیں پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے ترجمے کے ذریعے ایک تہذیب دوسری تہذیب سے روشناس ہوتی ہے۔ ترجمے کے ذریعے ایک زبان میں پیش کیے گئے خیالات دوسری زبان تک پہنچتے ہیں اور اس طرح تہذیبوں کا آپسی لین دین ہوتا ہے۔ 
ترجمے کے ذریعے ایک زبان دوسری زبان کے علمی سرمایے اور ادبی ذخیرے تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں ترجمے کی ضرورت اور اہمیت ماضی کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ آج ترجمہ ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اسے ایک علاحدہ مضمون کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ ترجمے کے وسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ’’مشینی ترجمے‘‘ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ ان باتوں پر اگلے یونٹ میں روشنی ڈالی جائے گی ۔ یہاں ہم ترجمے کے عمل کو سمجھنے کے لیے فیض کی ایک نظم اور اس کے انگریزی ترجمے پر نظر ڈالتے ہیں :

تنہائی 

پھر کوئی آیا دل زار! نہیں کوئی نہیں
راہ رَو ہوگا، کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سوگئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں، بڑھادو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مُقفَّل کرلو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا
فیض احمد فیضؔ
6
فیض احمد فیضؔ  (1984-1911)


محمد ذاکرنے اس نظم کا ترجمہ Loneliness   کے نام سے کیا، جو درج     ذیل ہے:

Loneliness
My grieving heart,
Is there anyone, here, again?
No one!
Might be a passer-by,
He will go somewhere else
The night has sunk
And the dusty stars are to disperse soon;
Flickering lamps droop down
In palatial halls;
Every pathway has fallen asleep
Tired of a long expectant wait;
Alien dust has dimmed every footmark
Put out these candles,
Set aside this wine, flask and cup,
Bolt your sleepless doors,
No one will come here, now!                           No no one,
No one!
(Faiz Ahmad Faiz)

’’ترجمہ نے ہر عہد میں نئے نئے افکار و نظریات کو ایک قوم سے دوسری قوم تک پہنچایا ہے۔ایک تہذیب کو دوسری تہذیب سے روشناس کرایا ہے۔ترجمہ کے ذریعے ایک زبان دوسری زبا ن کے اظہار ات اس کے مزاج اور نحوی ساخت سے متعارف ہو کر اپنا روپ بدلتی اور وسعت حاصل کرتی ہے۔اکثر دوسری زبانوں کے شاہکاروں کا ترجمہ بھی ادیبوں کو نئے ادبی میلانوں اورفنی معیاروں کا احساس دلا کر نئے تجربات پر اکساتا اور نئے ادبی رجحانات کا محرّک ثابت ہوتا ہے۔‘‘- 

 —   پروفیسر قمر رئیس


سرگرمی 7.1

انگریزی/ ہندی کی اپنی درسی کتاب کے کسی اقتباس کے انتخاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کا اردو ترجمہ کیجیے۔

غور کیجیے :

 فیض کی نظم بنیاد ی زبان کا متن ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ مطلوبہ زبان میں اس کی ازسر نو پیش کش ہے۔ اب کچھ دیر کے لیے فیض کی نظم کے اصل متن کو بھول کر نظم کے انگریزی ترجمے کو غور سے پڑھیے۔ آپ کو اس ترجمے میں بھی ایک حسن محسوس ہوگا۔
یاد رکھیے، اچھا ترجمہ ایک تخلیقی عمل ہے۔ ترجمہ نگار متن کا مطالعہ کرتا ہے، اس کی تعبیر کرتا ہے، اس کی قدر شناسی کرتا ہے اور پھر اسے تخلیق کرتا ہے۔ اس طرح ترجمہ مطالعے، تعبیر، قدر شناسی اورمطلوبہ زبان میں متن کی از سر نو تخلیق (Re-writing and Re-creation)کا عمل ہے ۔وہ لوگ جو بنیادی زبان تک رسائی نہیں رکھتے وہ ترجمے کے ذریعے اصل تخلیق کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔
اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترجمے میں چار مرحلے ہوتے ہیں۔

سرگرمی   7.2

ترجمے کے لیے تین الگ الگ ایسی عبارتوں کا انتخاب کیجیے جوتکنیکی، صحافتی اور ادبی نوعیت کی ہوں۔

» بنیادی متن کامطالعہ

» بنیادی متن کے معنی کی تعبیر

»   بنیادی متن کے مواد اور زبان کی قدر شناسی

» مطلوبہ زبان میں متن کی ا ز سر نو تشکیل

اوپر دی ہوئی مثال کا تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ مترجم نے نظم کے پہلے مصرعے کا انگریزی ترجمہ تین سطروں میں کیا ہے۔ انگریزی کی پہلی سطر میں My grieving heartلکھا ہے جس کا اردو ترجمہ ہوگا ’میرے دل زار‘۔ اصل اردو متن میں لفظ ’میرے‘ نہیں ہے۔ مترجم نے نظم کے مطالعے کے بعد یہ تعبیر کی کہ فیض اس نظم میں خود سے یا اپنے دل زار سے مخاطب ہے اور پوری نظم خود کلامی کے انداز میں ہے۔ اس لیے اس نے نظم کی قدر شناسی کا حق ادا کرتے ہوئے اس مصرعے کی ازسر نو تشکیل کی اور یہاں’میرے(My)‘ کا اضافہ کردیا۔ اس طرح پہلے ہی مصرعے سے یہ معلوم ہوگیا کہ شاعر خود سے مخاطب ہے۔
7
نظم کا تیسرا مصرعہ ہے ’ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار‘۔ ڈھل چکی رات کے لیے مترجم نے The Night has Sunkلکھ دیا لیکن ’بکھرنے لگا تاروں کا غبار‘ کا ترجمہ ذرا مشکل ہے۔ اسے غوروفکر، تعبیر اور قدر شناسی کے بعد ایک نیا روپ دینا ہوگا۔ ایسا روپ جوبنیادی متن سے زیادہ دور نہ ہو۔ مترجم نے ترجمہ کیا ہے
And the dusty stars are to disperse soon ’تاروں کا غبار‘ کے لیے مترجم نے ’Dusty stars‘ لکھا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ہوگا ’دھندلے تارے‘ یا، غبار کی سی صفت والے تارے‘۔ چوں کہ رات ڈھل چکی ہے اور تاروں کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ اس لیےفیض نے ’تاروں کا غبار‘ کہا ہے اور اس کے لیے مترجم کا استعمال کردہ انگریزی  فقرہ ’Dusty stars‘ مناسب ہے۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ فیض نے ’بکھرنے لگا‘ تاروں کا غبار لکھا تھا جب کہ مترجم نے لکھا ہے کہ
 And the dusty stars are to disperse soon'  جس کا مطلب ہوگا ’ تاروں کا غبار جلد ہی بکھرنے والا ہے۔‘ اصل یا بنیادی متن میں نہ جلد کا لفظ ہے اورنہ یہ کہ ’غبار بکھرنے والا ہے۔ مترجم نے فیض کے مصرعے کا مطالعہ کیا۔ اُس کی تعبیر اور قدر شناسی کے بعد جو پیکر ذہن میں ابھرا، جو تصویر ذہن میں بنی۔ اس کی ازسرنو تشکیل کردی۔ یہ پیکر فیض کے تشکیل کردہ پیکر کو بالکل صحیح طور پر بیان کر رہا ہے۔ اگر مترجم نے’بکھرنے لگا‘ کے لیے  Start dispersing لکھا ہوتا تو وہ خوبی پیدا نہ ہوتی جو اب نظر آرہی ہے۔
ساتویں مصرعے کی طرف بھی توجہ کیجیے۔ مصرعہ ہے: ’گل کروشمعیں، بڑھا دومے و مینا وایاغ‘ ’ گل کرو شمعیں‘ کے لیے مترجم نے Put out these candlesلکھا۔ ترجمے کا حق ادا ہوگیا۔ اب ’بڑھا دومے و مینا وایاغ‘ کا ترجمہ کرنا ہے تو یہاں مطالعہ اور تعبیر دونوں سے کام لے کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اردو تہذیب میں ’بڑھانا‘ کالفظ کسی چیز کو ہٹانے یا بند کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً شام کو دکان بند کرتے وقت یہ کہا جاتا ہے کہ ’دکان بڑھادو‘۔یہاں مترجم نے بڑھادو کی اس تہذیبی معنویت کی تعبیر کے بعداس کے لیے مرادی معنی Set aside  کا لفظ استعمال کیا یعنی سامنے سے ہٹا دو۔
آپ نے دیکھا کہ کس طرح ایک اچھا ترجمہ تخلیقی عمل بن جاتا ہے اور اصل کا مزہ دیتا ہے۔
متن مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے ترجمے میں بھی یکساں اصول کارفرما نہیں ہوں گے۔ ترجمہ کے عمل کی مختلف نوعیت اور درجے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے سائنسی موضوع پر ایک انگریزی متن اور اس کا اردو ترجمہ دیکھیے۔

We know that particles of matter are always moving and are never at rest. At a given temperature in any gas, liquid or solid, there are particles with different amount of kinetic energy. In the case of liquids, a small fraction of particles at the surface, having higher kinetic energy, is able to break away from the forces of attraction of other partilces and gets converted into vapour. This phenomenon of change of liquid into vapours at any temperature below its boiling point is called evaporation.

اردو ترجمہ 

’ہم جانتے ہیں کہ مادّے کے ذرّات ہمیشہ حرکت میں ہوتے ہیں اور کبھی بھی ساکت نہیں رہتے ہیں۔ دیے گئے درجۂ حرارت پر کسی بھی گیس، رقیق یا ٹھوس ذرّات مختلف حر کی توانائی کے حامل ہوتے ہیں۔ رقیق میں سطح پر موجودذرات کا چھوٹا سا حصہ جن کی حر کی توانائی زیادہ ہوتی ہے، دوسرے ذرّات کی    قوّتِ کشش کو توڑ کر علیحدہ ہوجاتے ہیں اور ابخارات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اپنے نقطۂ اُبال سے نیچے کسی بھی درجۂ حرارت پرایک رقیق کا ابخارات میں تبدیل ہونے کا عمل تبخیر کہلاتا ہے‘‘۔



یہ متن تکنیکی تحریر کا ایک نمونہ ہے اور اس کے ترجمے میں مخصوص مسائل درپیش ہوں گے۔ تکنیکی تحریر کی زبان مختلف ہوتی ہے۔ اس میں تکنیکی الفاظ اور اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔ تکنیکی تحریر کے ترجمے میں تکنیکی لفظوں کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً اس ترجمے میں انگریزی لفظ Temperature  کے لیے درجۂ حرارت، Kinetic Energy  کے لیے حرکی توانائی، Vapour  کے لیے ابخارات، Boiling Point  کے لیے نقطۂ اُبال اورEvaporation  کے لیے عمل تبخیر کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ سائنسی اصطلاحیں ہیں جن کا اردو ترجمہ متعّین ہے۔ اصطلاحات کا ترجمہ کرتے وقت ان کا مفہوم سمجھ کر اپنی طرف سے کوئی نیا لفظ نہیں دیا جاتا بلکہ اس علم کے لیے مخصوص اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ مثلاً Temperature   کے لیے بخارکا لفظ بھی رائج ہے لیکن یہاں اس کے لیے   درجۂ حرارت کی اصطلاح ہی استعمال کرنی ہوگی۔ 
صحافتی متن کا ترجمہ علمی اور ادبی متن کے ترجمے سے مختلف ہوتا ہے۔ اخبارات کے لیے تیزی سے اور مقرّرہ وقت میں خبروں کا ترجمہ کرنا ہوتا ہے۔ خبروں کا مترجم کوشش کرتا ہے کہ عبارت کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کر دیا جائے۔ وہ مفہوم کو کم سے کم الفاظ میں بیان کرنے اور اُسے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

سرگرمی    7.3

’’ترجمے میں مطالعے کی اہمیت اور مطالعے کے مطالبات‘‘ کے عنوان سے اپنی کلاس کے ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔


8
غالب (1869-1797
کسی ادبی متن مثلاً اشعار کا ترجمہ کرتے وقت مختلف قسم کی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ مثلاً غالبؔ کا یہ شعر پڑھیے:

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسرّ نہیں انساں ہونا

اگر اس شعر کا ترجمہ کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے اس کا بار بار مطالعہ کرنا ہوگا۔ اس کا مفہوم ذہن نشیں کرنا ہوگا اس کی قدر شناسی کرنی ہوگی، آدمی اور انسان کے تہذیبی فرق کو سمجھنا ہوگا، ان کے مناسب انگریزی متبادل تلاش کرنے ہوں گے، پھر اس کے بعد اسے ازسر نو تشکیل کرنا ہوگا۔ تب یہ ترجمہ تخلیقی ترجمہ کی صورت اختیار کرسکے گا۔
اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نظم یا شعر ایک جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔ اس تجربے کی از سرِ نو تشکیل کرنااور اسے کسی دوسری زبان میں بیان کرنا مترجم کے لیے ایک دشوار گزار عمل ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ آپ جگرمرادآبادی کی غزل کے اس شعر کا ترجمہ کر کے دیکھیے۔
ترا ملنا، ترا نہیں ملنا
اور جنّت ہے کیا جہنّم کیا
اس سے قبل ہم نے فیض ؔکی نظم کے ترجمے میں دیکھا کہ شاعر نے شعوری طور پر کچھ مخصوص الفاظ اور اظہار کے اسالیب کا انتخاب کیا تاکہ ایک خاص جذباتی تاثر قائم کر سکے۔ لیکن کسی دوسری زبان میں اس کا لفظ بہ لفظ ترجمہ مشکل سے ہی اس جذباتی تاثر کو قائم کر سکے گا جو شاعر کو مطلوب ہے۔ چنانچہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ترجمہ ازسر نو تشکیل کا عمل ہے اور یہ کہ ترجمہ شدہ متن محض اصل متن کی نقل نہیں ہوتا۔
ترجمے کی ایک اور مثال دیکھیے جس میں کمار گندھرو کے تحریر کردہ ہندی مضمون ’بھارتیہ گائیکاوں میں بے جوڑ— لتا منگیشکر‘ سے ماخوذ ایک اقتباس اور اس کا اردو ترجمہ دیکھیے۔
10
भारतीय गायकाओं  में बेजोड़ - लता मंगेशकर  मेरा स्पस्ट मत है कि भारतीय गायिकाओं में लता के जोड़ की गायिका हुई ही नहीं। लता के कारण चित्रपट संगीत को विलक्षण लोकप्रियता प्राप्त हुई है,यही नहीं लोगों का शास्त्रीय संगीत की ओर देखने का दृश्टिकोण भी एकदम बदला है.छोटी बात कहूंगा। पहले भी घर घर छोटे बच्चे गाय करते थे पर उस गाने में और आजकल घरों में सुनाई देने वाले बच्चों के गाने में बड़ा अंतर हो गया है।आजकल के नन्हे -मुन्ने भी स्वर में गुनगुनाते हैं.क्या लता इस जादू का कारण नहीं हैं ?कोकिला का स्वर निरंतर कानों में पड़ने लगे तो कोई भी सुनने वाला उसका अनुकरण करने का प्रयत्न करेगा। ये सवभाविक ही है।   -कुमार गंधर्व 

—کمار گندھرو (1992-1924)
4

بے مثال گلوکارہ— لتا منگیشکر

میں بلاجھجک کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستانی گلوکاراؤں میں لتاکے مقابلے کی کوئی گلوکارہ نہیں ہوئی۔ لتا کی وجہ سے فلمی سنگیت کو حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہوئی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کلاسیکی موسیقی کے سلسلے میں لوگوں کا زاویۂ نظر بھی بدل گیا۔ پہلے بھی گھر گھر چھوٹے بچے گیت گایا کرتے تھے لیکن ان گیتوں میں اور آج کل گائے جانے والے گانوں میں بڑا فرق نظر آتا ہے۔ آج کل کے ننھے منّے بھی سُر میں گانے لگے ہیں۔ کیا یہ لتا کا جادو نہیں ہے؟ کوئل کی آواز جب مسلسل کانوں سے ٹکراتی ہے تو سننے والا اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ فطری امر ہے۔
(ہندی سے ترجمہ)
 غور کیجیے:
 اردو مترجم نے ترجمے کو تخلیق کا روپ دینے کے لیے عبارت کا لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں کیا بلکہ متن کی تفہیم کے بعد اس کا از سرِ نو تشکیل کی۔ جیسے ہندی عبارت کا آغاز esjk Li"V er gS   سے ہوتا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ہوگا’ صاف طور پر میری رائے ہے‘۔ تاہم یہ ترجمہ اردو تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے مترجم نے اس کے ترجمے میں لکھا، میں بلا جھجک کہہ سکتا ہوں، اس طرح یہ جملہ اردو روز مرّہ کے موافق ہوگیا۔ اس سلسلے میں اس طرف بھی توجہ کیجیے کہ ہندی اور اردو میں جملے کی ساخت کے اعتبار سے چوں کہ زیادہ فرق نہیں ہے، اس لیے مترجم کو ہندی متن کو اردو کا روپ دینے میں خاصی آسانی ہوئی۔ ہندی کے بعض مشکل الفاظ جیسے   foy{k.k اور n`f"Vdks.k   وغیرہ کے اردو مترادفات تحریر کیے اور انھیں اردو زبان کے مزاج کے مطابق ایسا رنگ روپ دے دیا کہ اب یہ متن اردو متن ہی معلوم ہوتا ہے۔
ترجمے کی عمل کی تفہیم کے لیے اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے مشہور افسانے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ سے ماخوذ ایک اقتباس اور اس کا انگریزی ترجمہ دیا جارہا ہے۔ آپ دیکھیے کہ انگریزی ترجمہ نگار نے اس عبارت کو انگریزی زبان کے مزاج کے مطابق اس طرح نیارنگ دیا ہے کہ 
انگریزی متن ترجمہ نہیں اصل عبارت معلوم ہوتا ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ
پاکستان اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی ہے۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا کہ ملنے والے آرہے ہیں۔ پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔
اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔ اور اس کے لیے پھل مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو یقینا اُسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں ۔ کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔
تبادلے میں کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لیے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا مگر سپاہیوں نے اسے روکا ’’یہ تم سے ملنے آیا ہے ۔ تمھارا دوست فضل دین ہے۔‘‘
بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ’’میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی۔تمھارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے - مجھ سے جتنی مدد ہوسکی میں نے کی - تمھاری بیٹی روپ کور---
وہ کچھ کہتے کہتے رُک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔
’’بیٹی روپ کور‘‘۔
فضل دین نے رک رک کر کہا۔ ’’ہاں …… وہ …… وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی۔‘‘
بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا۔ ’’انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمھاری خیرخیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سُنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو-- بھائی بلبیر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے سلام کہنا ۔ اور بہن امرت کور سے بھی… بھائی بلبیر سے کہنا فضل دین راضی خوشی ہے۔ … اور … اور میرے لائق جو خدمت ہو کہنا، میں ہر وقت تیار ہوں… اور یہ تمھارے لیے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں۔‘‘
بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟‘‘
فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا ’’کہاں ہے؟ - وہیں ہے جہاں تھا۔‘‘
بشن سنگھ نے پوچھا ’’پاکستان میں یا ہندوستان میں؟‘‘
’’ہندوستان میں ۔ نہیں نہیں پاکستان میں۔‘‘فضل دین بوکھلا سا گیا۔ بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ اوپڑوی گڑگڑ دی اینکس دی دھیانا دی منگ دی وال آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی درفٹے منہ۔‘‘

11
 سعادت حسن منٹو(1955-1912)

Toba Tek Singh

When the India-Pakistan caboodle started Bishan Singh often asked the other inmates where Toba Tek Singh was. Nobody could tell him. Now even the visitors had stopped coming. Previously his sixth sense would tell him when the visitors were due to come. But not anymore. His inner voice seemed to have stilled. He missed his family, the gifts they used to bring and the concern with which they used to speak to him. He was sure they would have told him whether Toba Tek Singh was in India or Pakistan. He also had the feeling that they came from Toba Tek Singh, his old home.

A few days before the exchange was due to take place, a Muslim from Toba Tek Singh who happened to be a friend of Bishan Singh came to meet him. He had never visited him before. On seeing him, Bishan Singh tried to slink away, but the warder barred his way. "Don't you recognize your friend Fazal Din?" he said. "He has come to meet you." Bishan Singh looked furtively at Fazal Din, then started to mumble something. Fazal Din placed his hand on Bishan Singh's shoulder. "I have been thinking of visiting you for a long time," he said. "But I couldn't get the time. Your family is well and has gone to India safely. I did what I could to help. As for your dughter, Roop Kaur"-- he hesitated-- 'She is safe too in India."

Bishan Singh kept quiet. Fazal Din continued: "Your family wanted me to make sure you were well. Soon you'll be moving to India. Please give my salaam to bhai Balbir Singh and bhai Wadhawa Singh and bahain Amrit Kaur. Tell Balbir that Fazal Din is well. Say I think of them often and to write to me if there is anything I can do."

Then he added "Here, I've brought some plums for you."

Bishan Singh took the gift from Fazal Din and handed it to the guard. "Where is Toba Tek Singh?" he asked.

"Where? Why, it is where it has always been."

"In India or Pakisan?"

"In India O no, in Pakistan."

Without saying another word, Bishan Singh walked away, muttering "Uper the gur gur the annexe the bay dhyana the mungh the dal of the Pakistan and India dur fittey moun."

(Translated by Urdu)

ترجمے کے اس تخلیقی عمل کی مکمل تفہیم کے لیے اس کے اہم نکات پر تفصیل سے غور کرتے ہیں۔