ترجمہ ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل ہے۔ جس زبان سے ترجمہ کیا جاتا ہے، اسے بنیادی زبان اور جس زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے، اسے مطلوبہ زبان کہتے ہیں۔ بہ ظاہر یہ ایک آسان کام معلوم ہوتا ہے جسے لغت کی مدد سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ لیکن عملی طور پر ترجمہ نگار کو بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے ڈکشنری کے علاوہ اور بھی کئی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
ترجمہ لسانی تہذیبی مفاہمے کا بھی فریضہ انجام دیتا ہے۔ یعنی جب ہم ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرتے ہیں تو جس زبان سے ترجمہ کرتے ہیں، اُس زبان کی تہذیب اور اُس زبان کو بولنے والوں کے اندازِ فکر کو بھی ہمیں پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے ترجمے کے ذریعے ایک تہذیب دوسری تہذیب سے روشناس ہوتی ہے۔ ترجمے کے ذریعے ایک زبان میں پیش کیے گئے خیالات دوسری زبان تک پہنچتے ہیں اور اس طرح تہذیبوں کا آپسی لین دین ہوتا ہے۔
ترجمے کے ذریعے ایک زبان دوسری زبان کے علمی سرمایے اور ادبی ذخیرے تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں ترجمے کی ضرورت اور اہمیت ماضی کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ آج ترجمہ ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اسے ایک علاحدہ مضمون کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ ترجمے کے وسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ’’مشینی ترجمے‘‘ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ ان باتوں پر اگلے یونٹ میں روشنی ڈالی جائے گی ۔ یہاں ہم ترجمے کے عمل کو سمجھنے کے لیے فیض کی ایک نظم اور اس کے انگریزی ترجمے پر نظر ڈالتے ہیں :
تنہائی
پھر کوئی آیا دل زار! نہیں کوئی نہیں
راہ رَو ہوگا، کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سوگئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں، بڑھادو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مُقفَّل کرلو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا
فیض احمد فیضؔ
فیض احمد فیضؔ (1984-1911)
محمد ذاکرنے اس نظم کا ترجمہ Loneliness کے نام سے کیا، جو درج ذیل ہے:
Loneliness
My grieving heart,
Is there anyone, here, again?
No one!
Might be a passer-by,
He will go somewhere else
The night has sunk
And the dusty stars are to disperse soon;
Flickering lamps droop down
In palatial halls;
Every pathway has fallen asleep
Tired of a long expectant wait;
Alien dust has dimmed every footmark
Put out these candles,
Set aside this wine, flask and cup,
Bolt your sleepless doors,
No one will come here, now! No no one,
No one!
(Faiz Ahmad Faiz)
’’ترجمہ نے ہر عہد میں نئے نئے افکار و نظریات کو ایک قوم سے دوسری قوم تک پہنچایا ہے۔ایک تہذیب کو دوسری تہذیب سے روشناس کرایا ہے۔ترجمہ کے ذریعے ایک زبان دوسری زبا ن کے اظہار ات اس کے مزاج اور نحوی ساخت سے متعارف ہو کر اپنا روپ بدلتی اور وسعت حاصل کرتی ہے۔اکثر دوسری زبانوں کے شاہکاروں کا ترجمہ بھی ادیبوں کو نئے ادبی میلانوں اورفنی معیاروں کا احساس دلا کر نئے تجربات پر اکساتا اور نئے ادبی رجحانات کا محرّک ثابت ہوتا ہے۔‘‘-
— پروفیسر قمر رئیس
سرگرمی 7.1
انگریزی/ ہندی کی اپنی درسی کتاب کے کسی اقتباس کے انتخاب کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کا اردو ترجمہ کیجیے۔
غور کیجیے :
فیض کی نظم بنیاد ی زبان کا متن ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ مطلوبہ زبان میں اس کی ازسر نو پیش کش ہے۔ اب کچھ دیر کے لیے فیض کی نظم کے اصل متن کو بھول کر نظم کے انگریزی ترجمے کو غور سے پڑھیے۔ آپ کو اس ترجمے میں بھی ایک حسن محسوس ہوگا۔
یاد رکھیے، اچھا ترجمہ ایک تخلیقی عمل ہے۔ ترجمہ نگار متن کا مطالعہ کرتا ہے، اس کی تعبیر کرتا ہے، اس کی قدر شناسی کرتا ہے اور پھر اسے تخلیق کرتا ہے۔ اس طرح ترجمہ مطالعے، تعبیر، قدر شناسی اورمطلوبہ زبان میں متن کی از سر نو تخلیق (Re-writing and Re-creation)کا عمل ہے ۔وہ لوگ جو بنیادی زبان تک رسائی نہیں رکھتے وہ ترجمے کے ذریعے اصل تخلیق کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔
اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترجمے میں چار مرحلے ہوتے ہیں۔
سرگرمی 7.2
ترجمے کے لیے تین الگ الگ ایسی عبارتوں کا انتخاب کیجیے جوتکنیکی، صحافتی اور ادبی نوعیت کی ہوں۔
» بنیادی متن کامطالعہ
» بنیادی متن کے معنی کی تعبیر
» بنیادی متن کے مواد اور زبان کی قدر شناسی
» مطلوبہ زبان میں متن کی ا ز سر نو تشکیل
اوپر دی ہوئی مثال کا تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ مترجم نے نظم کے پہلے مصرعے کا انگریزی ترجمہ تین سطروں میں کیا ہے۔ انگریزی کی پہلی سطر میں My grieving heartلکھا ہے جس کا اردو ترجمہ ہوگا ’میرے دل زار‘۔ اصل اردو متن میں لفظ ’میرے‘ نہیں ہے۔ مترجم نے نظم کے مطالعے کے بعد یہ تعبیر کی کہ فیض اس نظم میں خود سے یا اپنے دل زار سے مخاطب ہے اور پوری نظم خود کلامی کے انداز میں ہے۔ اس لیے اس نے نظم کی قدر شناسی کا حق ادا کرتے ہوئے اس مصرعے کی ازسر نو تشکیل کی اور یہاں’میرے(My)‘ کا اضافہ کردیا۔ اس طرح پہلے ہی مصرعے سے یہ معلوم ہوگیا کہ شاعر خود سے مخاطب ہے۔
نظم کا تیسرا مصرعہ ہے ’ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار‘۔ ڈھل چکی رات کے لیے مترجم نے The Night has Sunkلکھ دیا لیکن ’بکھرنے لگا تاروں کا غبار‘ کا ترجمہ ذرا مشکل ہے۔ اسے غوروفکر، تعبیر اور قدر شناسی کے بعد ایک نیا روپ دینا ہوگا۔ ایسا روپ جوبنیادی متن سے زیادہ دور نہ ہو۔ مترجم نے ترجمہ کیا ہے
And the dusty stars are to disperse soon ’تاروں کا غبار‘ کے لیے مترجم نے ’Dusty stars‘ لکھا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ہوگا ’دھندلے تارے‘ یا، غبار کی سی صفت والے تارے‘۔ چوں کہ رات ڈھل چکی ہے اور تاروں کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ اس لیےفیض نے ’تاروں کا غبار‘ کہا ہے اور اس کے لیے مترجم کا استعمال کردہ انگریزی فقرہ ’Dusty stars‘ مناسب ہے۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ فیض نے ’بکھرنے لگا‘ تاروں کا غبار لکھا تھا جب کہ مترجم نے لکھا ہے کہ
And the dusty stars are to disperse soon' جس کا مطلب ہوگا ’ تاروں کا غبار جلد ہی بکھرنے والا ہے۔‘ اصل یا بنیادی متن میں نہ جلد کا لفظ ہے اورنہ یہ کہ ’غبار بکھرنے والا ہے۔ مترجم نے فیض کے مصرعے کا مطالعہ کیا۔ اُس کی تعبیر اور قدر شناسی کے بعد جو پیکر ذہن میں ابھرا، جو تصویر ذہن میں بنی۔ اس کی ازسرنو تشکیل کردی۔ یہ پیکر فیض کے تشکیل کردہ پیکر کو بالکل صحیح طور پر بیان کر رہا ہے۔ اگر مترجم نے’بکھرنے لگا‘ کے لیے Start dispersing لکھا ہوتا تو وہ خوبی پیدا نہ ہوتی جو اب نظر آرہی ہے۔
ساتویں مصرعے کی طرف بھی توجہ کیجیے۔ مصرعہ ہے: ’گل کروشمعیں، بڑھا دومے و مینا وایاغ‘ ’ گل کرو شمعیں‘ کے لیے مترجم نے Put out these candlesلکھا۔ ترجمے کا حق ادا ہوگیا۔ اب ’بڑھا دومے و مینا وایاغ‘ کا ترجمہ کرنا ہے تو یہاں مطالعہ اور تعبیر دونوں سے کام لے کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اردو تہذیب میں ’بڑھانا‘ کالفظ کسی چیز کو ہٹانے یا بند کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً شام کو دکان بند کرتے وقت یہ کہا جاتا ہے کہ ’دکان بڑھادو‘۔یہاں مترجم نے بڑھادو کی اس تہذیبی معنویت کی تعبیر کے بعداس کے لیے مرادی معنی Set aside کا لفظ استعمال کیا یعنی سامنے سے ہٹا دو۔
آپ نے دیکھا کہ کس طرح ایک اچھا ترجمہ تخلیقی عمل بن جاتا ہے اور اصل کا مزہ دیتا ہے۔
متن مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے ترجمے میں بھی یکساں اصول کارفرما نہیں ہوں گے۔ ترجمہ کے عمل کی مختلف نوعیت اور درجے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے سائنسی موضوع پر ایک انگریزی متن اور اس کا اردو ترجمہ دیکھیے۔
صحافتی متن کا ترجمہ علمی اور ادبی متن کے ترجمے سے مختلف ہوتا ہے۔ اخبارات کے لیے تیزی سے اور مقرّرہ وقت میں خبروں کا ترجمہ کرنا ہوتا ہے۔ خبروں کا مترجم کوشش کرتا ہے کہ عبارت کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کر دیا جائے۔ وہ مفہوم کو کم سے کم الفاظ میں بیان کرنے اور اُسے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔