Skip to content

باب 2 

مطالعہ، تجزیہ اور ترسیل

ترجمے کا پہلا مرحلہ اصل متن کا مطالعہ ہوتا ہے۔ مطالعے کے دوران ہی مترجم کے ذہن میں ترجمے کے نقوش ابھرنے شروع ہو جاتے ہیں۔ مطالعے کے ساتھ ہی تفہیم کا عمل جاری رہتا ہے۔ مطالعے کے ساتھ ہی پھر مطلوبہ زبان میں اس کی ترسیل کا طریقہ تلاش کیا جاتا ہے۔

پہلے ہمارے ذہن میں اصل متن کا مفہوم واضح ہوتا ہے ۔ پھر اس کے اظہار کے لیے ایسے الفاظ تلاش کیے جاتے ہیں جن سے دوسری زبان کے قاری تک اس کی ترسیل ہو سکے۔ گویا کسی زبان کے اصل متن میں پیش کردہ خیالات کو دوسری زبان کے قاری تک پہنچانے کا عمل ترجمہ ہے۔

بنیادی متن کے مکمل معنی کی ترسیل کے لیے مترجم شعوری طور پر کسی متن کی تمام خصوصیات کی تعبیر اور تجزیہ کرتا ہے۔ اس عمل کے لیے ضروری ہے کہ مترجم دونوں زبانوں کے درج ذیل نکات سے واقف ہو۔

 قواعد

» اصطلاحات

» علمِ بیان (تشبیہ، استعارہ وغیرہ)

» محاورہ

» تہذیبی تناظر

  بنیادی متن کی صنف

زبان کے ان نکات سے واقفیت کی بنا پر جو ترجمہ کیا جائے گا وہ زیادہ بامعنی اور پراثر ہوگا۔ مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ بنیادی اور مطلوبہ زبان دونوں کی خوب اچھی واقفیت رکھتا ہو۔ تاہم مطلوبہ زبان کی واقفیت زیادہ ضروری ہے کیوں کہ جس زبان میں اُسے متن کی تشکیلِ نو کرنی ہے، اس کے تمام پہلوؤں سے واقفیت کی بنا پر وہ بہتر ترجمہ کر پائے گا۔

سرگرمی    7.4

ترجمے کے ذریعے ایک نئی تخلیق کیسے وجود میں آتی ہے کچھ مثالوں کے ذریعے اپنی کلاس میں مذاکرہ کیجیے۔

2.1   مطالعہ

ترجمے کا پہلا مرحلہ اصل متن کا مطالعہ ہوتا ہے۔ مطالعہ ایک ایسا ذہنی عمل ہے جس میں حروف اور الفاظ کی شکل میں تحریر کردہ علامتوں پر غور کیا جاتا ہے تاکہ متن کے معنی کی تشکیل کی جا سکے۔ مطالعہ تحصیل زبان کا اہم وسیلہ ہے اور اسی کے توسط سے اطلاعات اور خیالات ایک دوسرے تک پہنچائے جاتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مطالعہ متن اور قاری کے درمیان باہمی تال میل یا باہمی گفتگو کا ایک عمل ہے جس کی شکل وصورت قاری کی سابقہ معلومات، تجربات، روّیے اور زبان کی معلومات سے طے پاتی ہے۔ مطالعے کا عمل لگاتار مشق کا مطالبہ کرتا ہے یعنی قاری جتنا زیادہ مطالعے کرے گا اتنا ہی وہ مالعہ کے عمل میں ترقی اور فضیلت حاصل کرے گا۔ اس کے ساتھ مطالعہ تخلیقیت اور تنقیدی تجزیے کی صلاحیت کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ زبان و ادب کا مطالعہ کرنے والا قاری متن کے ہر حصے کے ساتھ وابستگی اختیار کرتا ہے اور وہ محض الفاظ سے برآمد ہونے والے معنی پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے ذہن میں ایسے پیکر تراشتا ہے جو اسے متن میں بیان کردہ غیر مانوس مقامات کی سیر کرا دیتے ہیں۔ مطالعہ ایک ایسا پیچیدہ عمل ہے جسے ایک یا دو تعبیرات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ مطالعے کا کوئی طے شدہ اصول نہیں ہے۔ اس کے برعکس مطالعہ قارئین کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے معنی برآمد کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس طرح تعبیری عمل کے دوران متن کے نئے نئے معنی برآمد ہونے کے مواقع ملتے ہیں۔ قارئین مطالعے کی الگ الگ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں تاکہ معنی تک رسائی حاصل کر سکیں۔ وہ نامانوس یا نئے الفاظ کے معنی کو سمجھنے کے لیے سیاق و سباق کی مدد لیتے ہیں۔ بعض مرتبہ سیاق و سباق انھیں صحیح معنی تک پہنچا دیتا ہے اور کئی مرتبہ وہ قاری کو گمراہ بھی کر دیتا ہے۔ مثلاً پریم چند کی یہ عبارت دیکھیے :

’’تھوڑی دیر میں الاؤ جل اٹھا۔ اس کی لو اوپر والے درخت کی پتّوں کو چھو چھو کر بھاگنے لگی۔ اس متزلزل روشنی میں باغ کے عالی شان درخت ایسے معلوم ہوتے تھے کہ وہ اس لا اِنتہا اندھیرے کو اپنی گردن پر سنبھالے ہوں۔‘‘

      (پوس کی رات)

سرگرمی   7.5

’’ترجمے کی کامیابی کا دارومدار ترسیل پر ہے‘‘۔ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟ ساتھیوں کے درمیان مباحثہ کیجیے۔

اس عبارت میں ایک لفظ ’’متزلزل‘‘ آیا ہے۔ نئے قارئین کے لیے یہ لفظ نیا اور نامانوس ہوگا۔ اگر اس نے پہلے اور دوسرے جملے پر غور کیا اور ان کا ایک پیکر اپنے ذہن میں بنا لیا تو سیاق و سباق سے الاؤ کے جلنے اور اس کی لو کے پتّیوں کو چھو چھو کر بھاگنے کے بیان سے یہی تعبیر فراہم کرے گا کہ ’متزلزل‘ روشنی کے معنی ’ہلتی ہوئی روشنی‘ ہوئے۔ تاہم اگر اس نے اُسی جملے کے سیاق میں اس لفظ ’متزلزل‘ کو سمجھنے کے کوشش کی جس میں اسے استعمال کیا گیا ہے تو گمراہ ہونے یا غلط معنی برآمد کرنے کے امکانات ہیں۔ قاری ’لا اِنتہا اندھیرے کو اپنی گردن پر سنبھالے ہونے‘ کی مناسبت سے ’متزلزل روشنی‘ سے ’چکا چوند کر دینے والی روشنی‘ بھی مراد لے سکتا ہے۔
اس طرح متن کا مطالعہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ متن کو بار بار پڑھا جائے۔ اس پر   غور و فکر کیا جائے اور اگر کوئی نیا یا نامانوس لفظ متن میں آگیا ہے تو اس کے معنی تک رسائی کے لیے لغت یا کسی استاد کی مدد لی جائے۔ استاد کی مدد لینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ زبان و ادب کے مطالعے کے ضمن میں بعض اوقات لغات بھی معاونت نہیں کرتیں۔ مثال کے طور پر اردو شاعری میں جو استعارے اور علامتیں استعمال کی جاتی ہیں ان کے اپنے مخصوص معنی ہوتے ہیں۔ گُل، چاند اور کافر ایسے لفظ ہیں جو ہماری شاعری میں اپنے اصل معنی کے بجائے ’محبوب‘ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح بُلبُل عاشق کا ’رات‘مایوسی کا اور ’صبح‘ امیّد کا استعارہ ہے۔ اس لیے مطالعے کے دوران قاری کو زبان کی لغوی مناسبت سے ہی نہیں استعاراتی مناسبت سے بھی واسطہ رکھنا پڑتا ہے تبھی مطالعہ سودمند ہوتا ہے اور صحیح یا اصل معنی تک رسائی کا سبب بنتا ہے۔
اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ترجمہ نگار کو مطالعے کے دوران زیادہ احتیاط برتنی ہوتی ہے۔ بار بار متن کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ متن سے برآمد ہونے والے اصل معنی کو دوسری زبان میں بہ تمام و کمال منتقل کر سکے۔

2.2  تجزیہ

مطالعے کے بعد متن کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔ بعض متن سادہ اور آسان ہوتے ہیں اور پہلی قرأت میں ہی ان کا مفہوم سمجھ میں آجاتا ہے۔ بعض متن گنجلک، پیچیدہ یا مشکل ہوتے ہیں، جن کا مفہوم سمجھنے کے لیے متن کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ تجزیے میں، کسی متن کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ کر ان پر غور و فکر کیا جاتا ہے تاکہ متن کی بہتر تفہیم ممکن ہو سکے۔ تجزیے کے اس عمل کو پہلے ریاضی یا منطق کے کسی مسئلے کے حل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن اس کی افادیت کے پیشِ نظر اب اسے تمام مضامین اور موضوعات کے لیے کارآمد سمجھا جاتا ہے۔ زبان و ادب کی تفہیم کے لیے بھی اس کی افادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
متن کے تجزیے میں کسی عبارت کے چھوٹے چھوٹے حصّے کر کے ان سے برآمد ہونے والے مفہوم کی جستجو کی جاتی ہے۔ لفظوں کے استعمال، ان کے مشتقات یا ماخذ، لفظوں کی تاریخ، عبارت میں شامل نامانوس الفاظ یا تراکیب کے معنی کی تلاش، جملے کی تشکیل، اسلوب اور طرزِ تحریر وغیرہ پر غور کرنا تجزیے میں شامل ہے۔ موضوع اور مضمون کے اعتبار سے بھی لفظ اپنے معنی بدل لیتے ہیں۔ ترجمے کے دوران مترجم عبارت کی تعبیر کے لیے اور اس کی قدر شناسی کے لیے متن کا تجزیہ کرتے وقت ان تمام امور کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ تجزیے کی مدد سے متن کی نوعیت کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس کی امتیازی خصوصیات کا تعین کیا جاتا ہے اور متن کے مختلف حصّوں کا باقاعدہ مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ان حصوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ مثلاً انگریزی کی یہ عبارت دیکھیے:

'Inspired by Malala Yusufzai, this organisation's aim is to raise girls' voices and ensure every girl has access to 12 years of free, safe quality primary and secondary education.'

یہ ایک طویل جملہ ہے جس میں بیک وقت کئی باتیں بیان کر دی گئی ہیں۔ ان سب باتوں کو پورے طور پر سمجھنے کے لیے اس کا تجزیہ کرنا یا عبارت کو الگ الگ حصّوں میں سمجھنا زیادہ سودمند ہوگا۔ اس عبارت میں کسی تنظیم کے بنیادی مقصد کی بات کی گئی ہے جو لڑکیوں کی آواز کو بلند کرنے اور ان کی مفت معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ تنظیم ملالہ یوسف زئی سے متاثر بھی ہے۔ اس طرح اس انگریزی جملے کے مختلف حصّے کر دینے یا انھیں الگ الگ ٹکڑوں میں سمجھ لینے سے بات زیادہ آسان اور مکمل طور پر سمجھ میں آجاتی ہے۔ اب مترجم اس جملے کا ترجمہ آسانی سے کر سکے گا۔
’ملالہ یوسف زئی سے تحریک پانے والی اس تنظیم کا مقصد بچّیوں کی آواز کو بلند کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ  ہر ایک بچّی اپنی عمر کے بارہ برس تک مفت، محفوظ اور معیاری ابتدائی و ثانوی تعلیم تک رسائی حاصل کر سکے۔‘
تجزیے کے عمل نے متن کی تفہیم کو آسان بنا دیا۔ اب ترسیلِ متن کا مرحلہ آسان ہو جائے گا۔ شعری متن کے ترجمے میں تجزیہ اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ شعر میں چوں کہ ابہام ہوتا ہے اور اس کے معنی پوشیدہ ہوتے ہیں اس لیے اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ ن۔ م۔ راشد کی نظم ’زندگی سے ڈرتے ہو‘ کا پہلا حصّہ دیکھیے :

زندگی سے ڈرتے ہو؟

زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں!
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں!
آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے،
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے!
’’ان کہی‘‘ سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی، اُس گھڑی سے ڈرتے ہو
اُس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!
—  ن۔م۔راشد
12
(1975-1910)ن م راشد

غور کیجیے :

اس حصّے میں شاعر نے سوال اور جواب کے ذریعے انسان کو ڈر اور خوف کی زندگی سے نکال کر خوش و خرّم یا خوف سے پاک زندگی گزارنے کا پیغام دیا ہے۔ نظم کو الگ الگ حصّوں میں مصرعے کو سمجھنے کی کوشش کرنا زیادہ سودمند ہوگا۔ 

نظم کا تجزیہ مترجم کی رہنمائی کرے گا کہ وہ اس کی بہتر سے بہتر تعبیر کر سکے اور پھر اسے از سرِ نو تخلیق کر کے ایک نئی تخلیق کا رنگ دے سکے۔ دیکھیے انگریزی مترجم نے نظم کے اس حصّے کا کس خوبی سے ترجمہ کیا ہے۔

Afraid of Life

Afraid of life?

You are living, so are we!

Afraid of man?

You are men, so are we!

Man is a tongue, and a word as well;

But you are not afraid of this!

Man is bound in iron chains of word and meaning

But life is bound by man;

You are not afraid of this!

The 'unsaid word' you dread;

You dread the moment not yet come;

You dread because you know it is to come!


اردو اور انگریزی متن کا مصرعہ بہ مصرعہ موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مترجم نے نظم کو ایک ایسا رنگ روپ دیا ہے جو مطلوبہ زبان کی تہذیب سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ انگریزی مصرعوں کا اختصار اور ان میں موجود قافیہ بندی اس بات کا ثبوت ہے کہ مترجم نے اردو کے مطالعے کے بعد اس کا تجزیہ کیا ہے اور ہر ایک مصرعے کو تعبیر اور قدر شناسی کے مرحلے سے گزارا۔ پھر خود اس کے ذہن نے ہر اردو مصرعے کے مفہوم کے لیے انگریزی متبادل پیش کیے اور اس طرح ایک نئی تخلیق وجود میں آئی۔

2.3  ترسیلِ متن

ترجمے میں متن کی ترسیل بھی اسی قدر اہمیت کی حامل ہے جتنا کہ مطالعہ یا پھر تجزیہ۔ ابتدائی دو مراحل کی تکمیل کے بعد متن کے مفہوم کی مطلوبہ زبان میں ترسیل کی جاتی ہے۔ ترجمے کی کامیابی کا دارومدار اسی مرحلے پر ہے۔ یہی مرحلہ طے کرے گا کہ آیا ترجمہ نگار نے مطالعے، تجزیے اور ترسیل کا حق ادا کیا ہے یا نہیں۔ اگر ترجمے میں کوئی پیچیدگی یا ابہام رہ گیا  یا ترجمہ شدہ متن بے معنی رہ گیا تو یہی کہا جائے گا کہ متن کی ترسیل مکمل طور پر نہیں ہو سکی۔ اس کے برخلاف ایک اچھا ترجمہ نہ صرف یہ کہ متن کے ترسیل کا حق ادا کرتا ہے بلکہ وہ متن کی معنی و مفاہیم کی وضاحت بھی کر دیتا ہے۔ پہلے باب میں ’ترجمے کا عمل - ایک تعارف‘ میں مثال کے ذریعے آپ کو یہ بات سمجھائی گئی ہے۔
کچھ ترجمے ایسے ہوتے ہیں جو اصل متن کے معنی کی ترسیل نہیں کر پاتے۔ ایسے ترجمے گنجلک ہوکر پیچیدگی پیدا کرتے ہیں اور پھر معنی بھی واضح نہیں ہو پاتے ہیں۔ اصل متن میں کچھ اور بات ہوتی ہے اور ترجمہ نگار کا ترجمہ کوئی اور مفہوم برآمد کرتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال دیکھیے:

'The commercialization of education that is often spoken of is a global phenomenon, leading necessaries to a more job oriented, utilitarian education. This has to do with the way the market has penetrated every aspect of life, the increasing reach of education and perhaps other factors.'

کسی ترجمہ نگار نے انگریزی کے ان دو جملوں کا جو ترجمہ کیا وہ دیکھیے :

’تعلیم کی کاروباریت نے حسین کو اکثر ایک عالمی مظہر بھی کہا جاتا ہے۔ ایک زیادہ ملازمت والی، کارآمد تعلیم کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ اسے اس طریقے پر کیا جانا چاہیے جس طریقے پر اس نے زندگی کے ہر پہلو میں جگہ بنائی ہے، تعلیم کی بڑھتی ہوئی رسائی اور شاید دیگر عوامل۔‘

  غور کیجیے :

اس ترجمے کو ایک بار پڑھنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ترجمہ میں کئی کمیاں ہیں۔ حالاں کہ ترجمے میں ہر لفظ کے بدلے لفظ دیا گیا ہے۔ ترجمہ نگار نے ہر انگریزی لفظ کا اردو متبادل تقریباً صحیح صحیح لکھ دیا ہے لیکن معنی کی ترسیل نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ترجمہ نگار نے متن کی نئی تشکیل کی شعوری کوشش نہیں کی۔ وہ محض لفظوں کے گورکھ دھندے میں پھنسا رہا۔ اس نے معنی اور ترسیل معنی کی طرف توجہ ہی نہیں کی اور نہ اپنی ترجمہ شدہ عبارت کا مطالعہ کیا ورنہ اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کی عبارت پیچیدہ ہوکر بے معنی ہو گئی ہے۔اب اسی انگریزی عبارت کا ایک اور ترجمہ دیکھیے جس میں مترجم نے کمالِ احتیاط سے انگریزی کے ہر لفظ پر گرفت کرتے ہوئے ترسیلِ متن کی طرف توجہ کی ہے اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔
’تعلیم کو ایک سودمند کاروباری سرگرمی بنائے جانے سے، جسے اکثر لوگ ایک عالمی مظہر قرار دیتے ہیں، روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے والی اور کارآمد تعلیم کی ضرورت عام ہوئی ہے۔ تعلیم بھی اسی نہج پر ہونی چاہیے جس نہج پر بازار کی مانگ نے زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے یعنی تعلیم بھی اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں تک پہنچ پانے کی وجہ بنے اور شاید یہ کہ تعلیم دوسرے عوام کے لیے بھی سودمند ہو۔‘
اس عبارت میں ترجمہ نگار نے انگریزی کے مفہوم کی تعبیر اور قدر شناسی کے بعد متن کی ترسیل اس طرح کی کہ مطلوبہ زبان کے قاری کو مفہوم سمجھ میں آسکے اور انگریزی میں کہی ہوئی کوئی بات رہ نہ جائے۔ـ
اس طرح ترسیل متن میں نہ صرف یہ کے اصل متن پوری طرح سما جاتا ہے بلکہ یہ متن کی نئی تشکیل بھی ہوتی ہے۔یاد رکھیے لفظی ترجمہ سے ترجمے کا مقصد حل نہیں ہوتا۔ 
یہ ضروری ہے کہ ہمیں اپنی زبان کے تہذیبی رنگ وآہنگ کے مطابق دوسری زبان کے متن کو منتقل کرنا چاہیے۔ ترجمہ نگار میں یہ صلاحیت کافی مشق و ریاض کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ اسے ہر دو زبان کی نزاکتوں اور تہذیبی مزاج کا بخوبی علم ہونا چاہیے۔ تب ہی زیادہ سے زیادہ متن کی حرمت بھی محفوظ رہ سکتی ہے اور اس کی تاثیر میں بھی کمی واقع نہیں ہوگی۔

غور کرنے کی بات 

=اچھا ترجمہ ایک تخلیقی عمل ہے۔ ترجمہ نگار/ مترجم پہلے اصل زبان کے متن کا مطالعہ، اس کے معنی کی تعبیر وقدر شناسی کرتا ہے اور پھر اس کی از سر نو تخلیق کرتا ہے۔
=متن کی نوعیت کے مطابق ترجمے کے عمل کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے۔
=تکنیکی، صحافتی اور ادبی تحریروں کے ترجموں کے تقاضے بھی الگ ہوتے ہیں۔
= ترجمے کے لیے ضروری ہے کہ مترجم دونوں زبانوں کے بنیادی نکات جیسے قواعد، علم بیان، محاورہ، تہذیبی تناظر اور بنیادی متن کی صنف/نوعیت سے واقف ہو۔
= مطالعہ، متن اور قاری کے درمیان باہمی تال میل کا عمل ہے۔ بار بار مطالعہ سے ہی متن سے برآمد ہونے والے معنی ومفہوم کو دوسری زبان میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔
= تجزیے میں متن کی عبارت کے چھوٹے چھوٹے حصے کرکے ان سے برآمد ہونے والے مفہوم کی جستجو کی جاتی ہے۔ تجزیے کا عمل متن کی تفہیم کو آسان بناتا ہے۔
=اچھا ترجمہ نہ صرف متن کی ترسیل کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعے متن کی نئی تشکیل بھی ہوتی ہے۔
= ترجمہ کرتے وقت لفظ کے سیاقی معنی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
7
32
5
4

مشق

ترجمے کے عمل میں چار بنیادی مراحل کی نشاندہی کیجیے اور مختصراً اظہارِ خیال کیجیے۔
تکنیکی، صحافتی اور ادبی تحریروں میں ترجمے کے عمل کی کیا نوعیت ہوتی ہے؟
بہتر ومؤثر ترجمے کے لیے مترجم کو دونوں زبانوں کے کِن اہم نکات سے واقف ہونا ضروری ہے؟
ترجمے کے عمل میں تجزیے کی اہمیت اور بنیادی نکات واضح کیجیے۔
ترسیل متن سے نئی تشکیل بھی ہوتی ہے، اس خیال کے تحت ترسیل کی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔
تخلیقی ترجمے یا اچھے ترجمے کی کیا خصوصیات ہیں؟