باب 3
ترجمہ اورزبان کی ساخت
(اردو،ہندی اور انگریزی کے حوالے سے)
لفظ ،زبان کی لسانی اور معنوی اکائی ہے۔ گفتگو یا تحریر کے دوران ہم ایک لفظ نہیں بلکہ لفظوں کی ایک ایسی ترتیب استعمال کرتے ہیں جو با معنی ہو۔لفظوں کی بامعنی ترتیب کو جملہ یا فقرہ کہتے ہیں۔درج ذیل الفاظ پر غور کیجیے:
کتاب باتیں ہوتی علم میں اور حکمت ہیں کی۔
الفاظ کی اس ترتیب میں ہم ہر لفظ کے معنی جانتے ہیں لیکن اس ترتیب سے کوئی معنی برآمد نہیں کر پاتے ۔الفاظ کی اس ترتیب کو بدل کر اگر ایسے لکھ دیں:
کتاب میں علم اور حکمت کی باتیں ہوتی ہیں۔
اب ہم اس ترتیب سے معنی و مطلب اخذ کر سکتے ہیں۔ پہلے جملے میں وہی الفاظ ہیں جو د وسرے جملے میں ہیں لیکن پہلی ترتیب بے معنی ہے جب کہ دوسری ترتیب با معنی ہے۔
آخر دوسری ترتیب با معنی کیوں ہے؟ دوسری ترتیب میں اردو زبان کی ساخت (بناوٹ،ڈھانچہ )کی پاسداری کی گئی ہے،اس لیے وہ بامعنی ہے۔ ہر زبان میں جملوں اور فقروں کا مخصوص ساختیاتی نظام ہوتا ہے جس پر عمل در آمد کرکے ہی ہم بامعنی جملے بول یا لکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر درج ذیل جملوں کو دیکھیے:
کتاب میں علم اور حکمت کی باتیں ہوتی ہیں۔
علم اور حکمت کی باتیں کتاب میں ہوتی ہیں۔
کتاب میں ہوتی ہیں باتیں علم اور حکمت کی۔
کتاب میں ہوتی ہیںعلم اور حکمت کی باتیں۔
کتاب میں باتیں ہوتی ہیں علم اور حکمت کی۔
علم اور حکمت کی ہوتی ہیں باتیں کتاب میں۔
علم اور حکمت کی کتاب میں باتیں ہوتی ہیں۔
ہوتی ہیں باتیں علم اور حکمت کی کتاب میں۔
باتیں ہوتی ہیں علم اور حکمت کی کتاب میں۔
ان سبھی جملوں پر غور کیجیے تو پتا چلے گا کہ ہر جملے سے معنی اخذ کیے جا سکتے ہیں یعنی ہر جملہ اردو زبان کی ساخت پر پورا اترتا ہے۔ پہلے اور دوسرے جملے کی ساخت باقی جملوں کے مقابلے میں بہتر ہے اور عام بول چال یا روز مرہ زبان میں ہم ایسے ہی بولتے یا لکھتے ہیں۔
ترجمے کے عمل میں ہم ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کرتے ہیں۔ اس عمل میں معنی و مطلب کی منتقلی تو ہوتی ہے لیکن ایک زبان کی ساخت کو دوسری زبان میں بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔خاص طور سے جب دونوں زبانوں کی ساخت میں نمایاں فرق ہو۔
دنیا کی بیشتر ز بانوں کی ساختیاتی تشکیل میں فاعل (مبتدا)،فعل اور مفعول (مسند،خبر) کی کلیدی اہمیت ہوتی ہے۔اگر ہم اردو زبان کی بات کریں تو اس کی بنیادی ساخت بالترتیب فاعل،مفعول،فعل سے تشکیل پاتی ہے۔
میں کتاب پڑھتا ہوں۔
فاعل مفعول فعل
یہی صورت حال ہندی کی بھی ہے ۔
فعل مفعول فاعل
لیکن اسی بات کو انگریزی میں کہنے میں ساخت بدل جائے گی۔
I read a book.
مفعول فعل فاعل
سرگرمی 8.6
’’زبان کی ساخت کا علم اور ترجمہ‘‘ اس عنوان کے تحت کلاس کے طلبا کے درمیان مباحثے کا انعقاد کیجیے۔
3.1 اردو — ہندی ترجمہ اور زبان کی ساخت
اردواور ہندی جدید ہندآریائی زبانیں ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی لسانی خاندان سے ہے۔ دونوں زبانیں کھڑی بولی سے نکلی ہیں جو دہلی اور اس کے گرد ونواح میں بولی جاتی تھی۔لسانی، جغرافیائی اور تہذیبی مماثلت کی وجہ سے اردو اور ہندی کی ساخت تقریباً یکساں ہیں۔ البتہ دونوں کے ذخیرۂ الفاظ میں فرق پایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دونوں زبانوں میں زیادہ تر افعال مشترک ہیں۔ جیسے کھیلنا، پڑھنا،سونا،کھانا،لڑنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ اسم ، ضمیر ،صفت وغیرہ کی بھی بڑی تعداد د ونوں ز بانوں میں مشترک ہے۔ اس وجہ سے اردو سے ہندی یا ہندی سے اردو میں ترجمہ کرتے وقت ساخت کے مسائل سے دو چار نہیں ہونا پڑتا ہے۔
میری کتاب کھو گئی ۔

مجھے اپنے وطن سے محبت ہے۔

دونوں مثالوں سے واضح ہے کہ ترجمے کے دوران جملے کی ساخت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ البتہ ’کتاب‘ کے لیے पुस्तक ’وطن‘ کے لیے देश اور ’محبت‘ کے لیے प्रेम جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔
اردو اور ہندی میں کچھ الفاظ ایسے ہیں جو ایک زبان میں مذکر ہیں تو دوسری زبان میں مونث۔ جب ایسے الفاظ والے جملوں کا ترجمہ کرتے ہیں تو زبان کی ساخت بدلنی پڑتی ہے کیوں کہ اردو اور ہندی میں تذکیر و تانیث سے فعل کی شکل بدل جاتی ہے۔مثال دیکھیے:
میرا قلم کھوگیا ہے۔
اسی طرح ایک زبان میں کوئی لفظ مذکر ہے اور دوسری زبان میں اس کا متبادل لفظ مونث ہے تو ایسی صورت میں بھی فعل کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے۔
میرا امتحان ختم ہوا۔

ہندی میں مؤنث ہے جب کہ اردو میں اس کا متبادل لفظ’امتحان‘ مذّکر ہے، لہٰذا ہندی میں ’ہوئی‘ اور اردو میں ’ہوا‘کا استعمال کریں گے۔
سرگرمی 8.8
درجِ ذیل اردو جملوں کا انگریزی میں ترجمہ کیجیے اور جملے کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشان دہی کیجیے:
(i) یہ کہانی نہایت سبق آموز ہے۔
(ii) بارش کے بعد مطلع صاف ہو گیا۔
(iii) وہ طویل مسافت کے بعد پیرس پہنچی۔
(iv) اگلے چوبیس گھنٹے میں رک رک کر بارش ہونے کا امکان ہے۔
(v) آپ آیئے تو سہی، ہم جشن منائیں گے۔
سرگرمی 8.7
درجِ ذیل انگریزی جملوں کا اردو میں ترجمہ کیجیے اور اس کی نشان دہی کیجیے کہ ترجمے کے دوران جملے کی ساخت کیسے بدل جاتی ہے:
(i) The Principal inaugrates the annual school function tomorrow.
(ii) I, on behalf of class XII students, thank our teachers for such a wonderful farewell.
(iii) The board examinations are round the corner and we have become book worms.
(iv) Time and Tide waits for none.
(v) Here comes Sachin Tendulkar to open the Indian inning.
3.2 اردو —انگریزی ترجمہ اور زبان کی ساخت
اردو اور انگریزی زبانوں کی جائے پیدائش میں ایک وسیع جغرافیائی فاصلہ حائل ہے اور دونوں زبانوں کے ذخیرۂ الفاظ بھی جداگانہ ہیں۔ پھر دونوں زبانوں کی ساخت بھی الگ الگ ہے۔ اس لیے اردو سے انگریزی یا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرتے وقت دشواریاں پیش آتی ہیں۔ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ انگریزی کی بنیادی ساخت فاعل، فعل اورمفعول سے ترتیب پاتی ہے جب کہ اردو کی فاعل ،مفعول اور فعل سے ۔اس بات کو ذہن نشیں رکھنا چاہیے کہ انگریزی اور اردو،دونوں زبانوںمیں فعل سے زمانے کاپتا چلتا ہے۔انگریزی میں Eat, Ate, Will Eat. اور اردو میں کھاتا ہوں ،کھایا اور کھاؤں گا سے پتا چل جاتا ہے کہ کھانے کے عمل کا تعلق زمانۂ حال ،زمانۂ ماضی یا زمانۂ مستقبل میں سے کس سے ہے ۔یہاں چند مثالوں کے ذریعہ دونوں زبانوں کی ساخت میں واقع فرق کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔
(1) فاعل کے واحد یا جمع ہونے سے فعل کی شکل میں تبدیلی
اردو میں ہر زمانے میں فاعل کے واحد یا جمع ہونے سے فعل کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے جب کہ انگریزی میں زمانۂ حال میں تو فعل کی شکل بدلتی ہے مگر زمانۂ ماضی میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا ۔
زمانۂ حال Present Tense
|
واحد singular |
جمع plural |
| اردو/انگریزی |
وہ چاول کھاتا ہے۔ He eats rice |
وہ لوگ چاول کھاتے ہیں۔ They eat rice |
| اردو/انگریزی |
وہ چاول کھا رہا ہے۔ He is eating rice
|
وہ لوگ چاول کھا رہے ہیں۔ They are eating rice
|
اردومیں فاعل کے واحد ہونے کی صورت میں فعل ’کھاتا ہے‘ اور ’کھا رہا ہے‘ استعمال کیا جاتا ہے جب کہ فاعل کے جمع ہونے کی صورت میں فعل’کھاتے ہیں‘اور ’کھا رہے ہیں‘ہو جاتا ہے۔انگریزی میں فاعل کے واحد غائب ہونے پر فعل s eat اور is eating اورجمع ہونے پر eat اور are eating ہو جاتا ہے۔
زمانہ ٔ ماضی Past Tense
| plural جمع |
singular واحد |
|
وہ لوگ ہنسے They laughed
|
وہ ہنسا He laughed |
اردو/انگریزی |
وہ لوگ ہنس رہے تھے They were laughing
|
وہ ہنس رہا تھا He was laughing
|
اردو/انگریزی |
صاف ظاہر ہے کہ He laughed اور They laughed میں فعل کی شکل نہیں بدلی جب کہ اردو میں’ ہنسا‘ تبدیل ہو کر ’ہنسے‘ ہوگیا ۔
زمانہ ٔ مستقبل Future Tense
(1) مستقبل میں اردو میں فاعل کے واحد یا جمع ہونے سے فعل کی شکل بدل جاتی ہے جب کہ انگریزی میں ایسا نہیں ہوتا۔
| plural جمع |
singular واحد |
|
وہ لوگ جائیں گے They will go |
وہ جائے گا He will go |
اردو/انگریزی |
وہ لوگ جارہے ہوں گے They will be going |
وہ جارہا ہوگا He will be going |
اردو/انگریزی |
یہاں He will go اور They will go میں فعل کی شکل نہیں بدلی جب کہ اردو میں ’جائے گا‘ تبدیل ہو کر ’جائیں گے‘ ہو گیا۔
(2) فاعل کے مذّکر یا مؤنث ہونے سے فعل میں تبدیلی
اردو کے افعال ہر زمانے میں فاعل کی تذکیر و تانیث سے متاثر ہوتے ہیں جب کہ انگریزی میں تذکیر و تانیث سے فعل متاثر نہیں ہوتا۔
زمانہ ٔ حال
| مؤنث |
مذکر |
|
رانی کتاب پڑھتی ہے۔ Rani reads a book |
احمد کتاب پڑھتا ہے۔ Ahmad reads a book |
اردو/انگریزی |
رانی کتاب پڑھ رہی ہے۔ Rani is reading a book |
احمد کتاب پڑھ رہا ہے۔ Ahmad is reading a book |
اردو/انگریزی |
زمانہ ٔ ماضی
|
مذکر |
مؤنث |
| اردو/انگریزی |
سچن بولا۔ Sachin spoke |
شکنتلا بولی۔ Shakuntla spoke |
| اردو/انگریزی |
سچن بول رہا تھا۔ Sachin was speaking |
شکنتلا بول رہی تھی۔ Shakuntala was speaking |
زمانہ ٔ مستقبل
|
مذکر |
مؤنث |
| اردو/انگریزی |
سلمان کل آئے گا۔ Salman will come tomorrow |
زرینہ کل آئے گی۔ zarina will come tomorrow |
اوپر کی مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اردو میں فاعل کے مذکر یا مؤنث ہونے سے فعل تبدیل ہو جاتا ہے جب کہ انگریزی میں ایسا نہیں ہوتا۔
3- اردو میں ’نے ‘ کا استعمال
اردو میں زمانہ ٔ ماضی کے جملوں میں ’نے ،کا استعمال ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں فعل کی شکل فاعل کے بجائے مفعول کی قواعدی حیثیت کے مطابق بدلتی ہے لیکن انگریزی میں ایسا نہیں ہوتا۔
| اردو/انگریزی |
اصغر نے روٹی کھائی۔
Asghar ate a bread.
|
اصغر نے روٹیاں کھائیں۔
Asghar ate breaks.
|
’روٹی‘ واحد مونث ہے، اس کی مناسبت سے فعل کی شکل ’کھائی‘ ہوگی—’روٹیاں‘ جمع مؤنث ہے ،لہٰذا یہاں پر فعل ’کھائیں‘ ہوگا۔ انگریزی میں دونوں صورت میں فعل ’ate‘ ہی رہے گا۔
| اردو/انگریزی |
جمیلہ نے پنکھا چلایا۔
Jameela switched on the fan.
|
جمیلہ نے پنکھے چلائے۔
Jameela swished on the fans.
|
(4) اردو اور انگریزی میں ضمیر
انگریزی میں ضمیر واحد غائب (Third Person) میں تذکیر و تانیث کے لیے الگ الگ الفاظ She اور He استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ اردو میں دونوں صورت میں’وہ ‘کا ہی استعمال ہوتا ہے ۔حالاں کہ انگریزی میں She اور He کے ہونے سے فعل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، البتہ یہ پتا ضرور چل جا تا ہے کہ فاعل مذکر ہے یا مؤنث۔ مثلاً
Rita is a graduate. She teaches Physics.
Mohan is an intelligent person. He works in a bank.
اردو میں ریتا اور موہن دونوں کے لیے ضمیر’وہ ‘ کا استعمال کیا جاتا ہے اور فعل کی شکل سے پتا چلتا ہے کہ ’وہ‘ مذکر ہے یا مؤنث۔
اردو میں ان جملوں کا ترجمہ ایسے کیا جائے گا:
ریتاگریجویٹ ہے۔ وہ فزکس پڑھاتی ہے۔
موہن ایک ذہین شخص ہے ۔وہ بینک میں کام کرتاہے۔
دوسرے جملے میں ’پڑھاتی ہے‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’وہ‘ مؤنث ہے جب کہ چوتھے جملے میں ’کرتا ہے‘ سے پتا چلتا ہے کہ ’وہ‘مذکر ہے۔
(5)صفت کی تذکیر و تانیث اور واحد و جمع
انگریزی میں اسم کی تذکیر وتانیث یا واحد و جمع ہونے کی صورت میں صفت کی شکل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ مثال دیکھیے:
She is a good doctor.
They are good players.
He is a good musician.
فاعل چاہے He ، She یا They ہو ؛ اسم چاہے Players, Student یا Musician ہو، صفت’’good‘‘کی شکل میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اردو میں ’آ‘ کی آواز پر ختم ہونے والے صفتی الفاظ، فاعل کے جنس اور تعداد یا اسم کی قواعدی نوعیت کے مطابق اپنی شکل تبدیل کرتے ہیں۔
وہ ایک اچھی ڈاکٹر ہے۔ (فاعل’وہ‘ مؤنث ہے)
وہ لوگ اچھے کھلاڑی ہیں۔ (فاعل’وہ لوگ‘ جمع ہے)
وہ ایک اچھا موسیقار ہے۔ (فاعل’وہ‘ مذکر ہے)
ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی خوبی کو بیان کرنے والا لفظ جنس اور تعداد کے مطابق ’اچھا‘، ’اچھے‘ یا ’اچھی‘ میں بدل جاتا ہے۔ اسی طرح سے ٹھنڈا، ٹھنڈے، ٹھنڈی؛ گندا، گندے، گندی وغیرہ کی شکلیں فاعل یا متعلقہ اسم کے مطابق طے پاتی ہیں۔
انگریزی زبان کی ساخت میں ’The‘ کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اسے بعض اسمِ خاص (Proper Noun) اور اسمِ عام (Common Noun) کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جب کہ اردو میں اس طرح کے کسی حرف /لفظ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سورج مشرق سے ابھرتا ہے۔
The sun rises in the east.
گنگا ہندوستان میں بہتی ہے۔
The Ganges flows in India.
میں نے ایک لڑکا دیکھا۔ وہ لڑکا میری طرف بڑھا۔
I saw a boy. The boy came towards me.
(7) ’اسم ۔اسم‘ مرکّب (Noun-Noun Compound) الفاظ
انگریزی میں اسم ۔اسم مرکّب الفاظ کا چلن اردو کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اردو جملے میں دو اسما کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے عموماً حرفِ ربط (کا،کے،کی وغیرہ) کا استعمال کرتے ہیں۔
The Parliament session begins in July.
پارلیامنٹ کا اجلاس جولائی میں شروع ہو رہا ہے۔
یہاں پر Parliament Session کا ترجمہ ’پارلیامنٹ کا اجلاس‘کیا گیا۔ایسی بہت سے مثالیں انگریزی موجود ہیں۔ اردو میں بھی اسم ۔اسم مرکّبات کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ مثلاً کتب خانہ، چڑیا گھر،وغیرہ ۔لیکن انگریزی کے مقابلے میں یہ بہت کم ہیں۔
(8)اردو میں افعال کی زمرہ بندی
اردو میں اکثر ایک سے زیادہ افعال کو زمرہ بند کرکے ایک فعل مراد لیا جاتا ہے۔یہ طریقہ اردو بولنے والوں میں رائج ہے۔ مثال کے طور پر یہ جملے دیکھیے:
وہ اکثر یہاں آتا جاتا رہتا ہے۔
زمین اپنے محور پر گھومتی رہتی ہے۔
اس کا لائبریری میں ا کثر آنا جانا لگا رہتا ہے۔
ان جملوں میں ایک سے زیادہ افعال کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ ان جملوں کا انگریزی ترجمہ دیکھیے اور فعل کی شکل پر غور کیجیے:
He often comes here.
The earth rotates on its axis.
He frequently visits the library.
انگریزی زبان کی ساخت میں ایک سے زیادہ فعل کو یکجا نہیں کیا جاتا ۔
(9) اردو میں تعظیمی جملے
اردو میں ادب و احترام کے اظہار کے لیے ضمیر واحد غائب کے لیے جمع فعل کا استعمال کرتے ہیں جب کہ انگریزی میں یہ معاملہ نہیں ہے۔
صدرجمہوریہ ہمارے اسکول میں کل تشریف لانے والے ہیں۔
The President is visiting our school tomorrow.
(10) انگریزی میں Preposition ، اردو میں Post position
درج ذیل جملوں اور اُن کے ترجمے کو غور سے دیکھیے :
| اردو/انگریزی |
He lives in India |
وہ ہندوستان میں رہتا ہے۔ |
| اردو/انگریزی |
کتاب ٹیبل پر ہے۔ |
The book is on the table |
پہلے دو جملوں پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ انگریزی میں India کے پہلے in لکھا ہوا ہے جب کہ اردو میں ’ہندوستان‘ کے بعد ’میں‘ استعمال کیا گیا ہے۔ آخری دو جملوں پر غور کیجیے تو یہی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ اردو میں ’ٹیبل‘ کے بعد ’پر‘ جب کہ انگریزی میں The table کے پہلے on کا استعمال ہوا ہے۔ انگریزی جملوں میں in اور on کو preposition کہا جاتا ہے جب کہ اردو میں ’میں ‘ اور ’پر‘ کی حیثیتpost position کی ہے۔ انگریزی اور اردو زبان میں ساخت کا ایک بنیادی فرق preposition اور post position کا ہے۔
'in'، 'at'، 'on' ، 'up' ، 'under' ، 'of' وغیرہ preposition ہیں جب کہ ’میں‘، ’پر‘، ’کے‘، ’سے‘ وغیرہ post position ہیں۔
یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب انگریزی میں verb کوpreposition کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تو اسے phrasal verb کہتے ہیں. اس کے معنی متعلقہ verb اور preposition سے مختلف ہوتے ہیں۔
یہ مثالیں دیکھیے:
Look on، Look in ، Look down، Look after ، Look at
اگر Look after کے معنی دیکھیں تو اسے Look اور after سے اخذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اس کے معنی ’بعد میں دیکھنا‘ یا ’دیکھنا بعد میں‘ نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے معنی ’دیکھ ریکھ کرنا‘ یا ’دیکھ بھال کرنا‘ ہے۔ اُردو میں اس طرح سے محاورات نہیں بنائے جاتے ہیں۔بلکہ ’اسم‘ اور ’فعل‘ کو ملا کر محاورے بنتے ہیں۔ چند مثالیں دیکھیے:
دل دینا، رفو چکّر ہونا، مغز مارنا، خارکھانا وغیرہ درج بالا مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اردو اور انگریزی زبان اور جملوں کی ساخت میں خاصا فرق پایا جاتا ہے۔لہٰذا ترجمے کے دوران اس فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے ۔