Skip to content

باب  4  

 ادارت

 تحریر کا بنیادی مقصد تر سیل ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھ سکیں۔ بعض تحریر یں شاعر و ادیب کی ذات کا اظہار ہوتی ہیں تو بعض میں اطلاعات و معلومات کی فراہمی مقصود ہوتی ہے۔ ان تحریروں میں ترسیلی قوت نہ ہو تو قاری کے لیے ان کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اس لیے قلم کار اپنی تحریروں پربار بار نظرثانی کرتے ہیں اور ضرورت محسوس ہونے پر ان میں ردّوبدل کرتے ہیں اور کمزور حصّوں کو دوبارہ لکھتے ہیں۔ یہ ساری کوشش اور محنت زبان کو خوبصورت، تحریر کو موثر اورترسیل کو بہتر بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ قلم کار ایک بار میں ہی اپنی تحریر کو حتمی طور سے لکھ لے اور اس کی نوک پلک سنوارنے کی ضرورت نہ پڑے ۔ ادارت دراصل تحریر کی نوک پلک سنوارنے، زبان و بیان کی خامیوں کو دور کرکے اسے پُر کشش ، مؤثر اور قابلِ ترسیل بنانے کا نام ہے۔ 

عام طور سے املا اور قواعد کی غلطیوں کی تصحیح کو ادارت سمجھا جاتا ہے لیکن ادارت کا دائرۂ کاروسیع ہے۔ اس کا سروکار تحریر کے فکری عناصر اور معنوی نظام سے بھی ہے اور زبان و بیان کی درستگی سے بھی۔ اخبار ات و رسائل ، میڈیا و غیرہ میں خبروں ، فیچروں ، مضامین وغیرہ کے انتخاب کا کام بھی شعبۂ ادارت کا ہوتا ہے۔ ایڈیٹنگ میں انگریزی کے پانچ سی(5 C)  Correct, Concise, Consistent, Clear, Complete  رہنما کردار ادا کرتے ہیں۔یعنی تحریر درست، جامع، یکساں، واضح اور مکمل ہونی چاہیے۔ ایڈیٹنگ میں املا اور جملوں کی ساخت وغیرہ کو درست کرنا اور متن کو صفحہ کی مناسبت سے ترتیب دینا اور قاری کے لیے دلچسپ بناناشامل ہیں ۔ ایڈیٹنگ کا کام بھی ایک قسم کا تحقیقی کام ہے ۔ ایک اچھا ایڈیٹر کسی تحریر یا متن میں نئی جان ڈال دیتا ہے ۔ ایڈیٹنگ کرنے والے کو زبان پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔ ایڈیٹنگ کے لیے قوت فیصلہ، تحقیقی اور اختر اعی ذہن، قابلیت، مہارت، دور اندیشی اور سنجیدگی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔

ادارت کی ضرورت علوم کے ہر شعبے میں ہوتی ہے ۔اس ضمن میں ہم تین اہم شعبوں : شعر وادب، میڈیا اور تراجم کی ضرورت اور نوعیت پر بات کریں گے۔ ان تینوں شعبوں میں ادارت کے طریقۂ کار میں فرق ہوتا ہے ۔

4.1  شعرو ادب

شعرو ادب سے متعلق تحریروں کی ادارت خود شاعروادیب کرتے ہیں ۔ عام طور سے اس میں مُدیر یا کسی دوسرے شخص کی مداخلت کی زیادہ گنجائش نہیں ہوتی ہے۔جب شاعر و ادیب اپنی تخلیقات کی ادارت کرتے ہیں تو اسے عموماً چار مرحلوں میں انجام دیتے ہیں۔ 

← مرحلہ  1   

قلم کار ایک بار میں جتنا کچھ لکھتا ہے ، اگلی بار مزید لکھنے سے پہلے پچھلے بار کی لکھی ہوئی تحریر پر ازسرِ نو غور و خوض اور نظرِ ثانی کرتا ہے اور جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے، اپنی تحریر میں ردّو بدل کرتا ہے ۔ یہ ردّو بدل زبان و بیان کی سطح پر بھی ہوتی ہے اور فکر و معنی کی سطح پر بھی۔

   مرحلہ  2 ←

جب پورا مسوّدہ تیار ہوجاتا ہے تو مصنّف پہلی سطر سے لے کر آخری لفظ تک اسے ایک بار پھر سے پڑھتا ہے اور ساتھ ساتھ حسبِ ضرورت ردّ و بدل اور ترمیم و اضافہ کرتا جاتا ہے۔ مطمئن ہوجانے کے بعد مسوّدے کی کتابت یا کمپوزنگ کی جاتی ہے۔

 ←  مرحلہ  3

اس مرحلے میں کمپوزنگ /کتابت شدہ مسوّدے کو قلم کار اوّل تا آخر پڑھتا ہے او رجہاں بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے یا کوئی کمی نظر آتی ہے تو اسے نوٹ کر لیتا ہے۔پورا مسودہ پڑھنے اور پروف ریڈنگ کے بعد وہ اپنے مسوّدے میں ضروری ردّو بدل اور ترمیم کر کے اسے آخری شکل دیتا ہے۔ عموماً لوگ اسی مرحلے پر مسودے کو چھپنے کے لیے بھیج دیتے ہیں حالانکہ چوتھے مرحلے پر عمل پیرا ہونے سے مسوّدہ اور بہتر ہو سکتا ہے۔ 

← مرحلہ  4

چھپنے سے پہلے قلم کار اپنے مسوّدے کوابتدا سے لے کر آخر تک بہ آوازِ بلند پڑھ کر خود یا کسی دوست یا رشتہ دار کو سناتا ہے۔ بلند آواز سے پڑھنے کے دوران وہ نوٹ کرتا جاتا ہے کہ :

(i) کہیں پڑھنے میں رکاوٹ، رخنہ یا سکتہ تو نہیں آرہا ہے ۔

(ii) محاورات ، کہا وتوں اور روزمرّہ وغیرہ کا غلط استعمال تو نہیں ہوا ہے۔

(iii) مسودّہ میں کہی ہوئی بات آسانی سے سمجھ میں آرہی ہے یا نہیں۔

ان پہلوؤں پر مصنّف کو ازسرِ نو غورکرکے مناسب ردّ و بدل کرنا چاہیے ۔اس سے تحریر میں روانی آجاتی ہے۔
زیادہ تر اشاعتی اداروں میں زبان کے مدیر (لینگویج ایڈیٹر ) ہوتے ہیں جو اشاعت سے قبل مسوّدے میں زبان و بیان کے معیار کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور اگر کہیں ضروری محسوس ہوتی ہے تو اس حصّے میں ترمیم و اضافہ کے لیے مصنّف کو مشورہ دیتے ہیں۔ ایسا شاید ہی کبھی ہوتا ہے کہ مدیر مصنّف کی زبان بدل کر اپنی زبان لکھ دے۔اس سلسلے میں مصنّف کی رائے کو حتمی سمجھا جاتا ہے ۔

سرگرمی 8.8

میڈیا میں ادارت (Editing) خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔اخبارات و رسائل،ریڈیو ٹی وی کی کسی خبر کی روشنی میں اس کی ادارتی خصوصیات کا جائزہ لیجیے اور ساتھیوں سے تبادلہ خیال کیجیے۔

4.2  میڈیا 

میڈیا میں خبروں اور اس سے متعلق تحریروں پر زیادہ زور ہوتا ہے۔ اس وجہ سے میڈیا میں ادارتی شعبہ فعّال اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ نامہ نگار عجلت میں خبریں اور رپورٹیں بھیجتے ہیں ، ان میں غلطیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ادارتی شعبہ ان خبروں اور رپورٹوں کو اغلاط سے پاک کرکے معیاری بنانے کا کام کرتا ہے ۔ یہ شعبہ دوسطحوں پرادارتی فرائض انجام دیتا ہے ۔ پہلی سطح پر حقائق کی تصدیق کی جاتی ہے اور یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون کون سی خبریں اور ہر خبر کے کون کون سے حصّے اہم ہیں جنھیں اشاعت یا بلیٹن میں شامل کیا جانا چاہیے۔اس پر بھی نظر رکھی جاتی ہے کہ خبر کے مختلف حصّے اہمیت کے اعتبار سے کس ترتیب میں رکھے جائیں۔ اکثر رپورٹر تفصیلی خبریں اور طویل رپورٹ بھیجتے ہیں۔ ادارتی شعبہ انھیں کاٹ چھانٹ کر کے اپنی ضرورت کے مطابق تیار کرتا ہے۔ بعض دفعہ مختلف اداروں اور نامہ نگاروں کی بھیجی ہوئی خبروں اور رپورٹوں سے اہم نکات منتخب کرکے نئی خبر یا رپورٹ تیّار کی جاتی ہے، یہ کام ادارتی شعبہ انجام دیتا ہے۔
دوسری سطح پر زبان وبیان کے معیار کو درست کرنے کا کام کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے میڈیا یا اشاعتی اداروں کے معیارِ زبان کو پیش ِنظر رکھا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف اخباروں کی زبان کے معیار میں خاصا فرق پایا جاتا ہے۔ اخبارات ورسائل،ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینل سبھی زبان کے معیار اور اندازِبیان سے اپنی الگ شناخت بنانا چاہتے ہیں۔ زبان اور اس کی پیش کش کے معیار کو بنانے،اُس پر عمل پیرا ہونے اور اسے برقرار رکھنے کی اہم ذمیّ داریاں شعبٔہ ادارات ہی پوری کرتا ہے۔
اخبار کے دفاتر اور نیوز ایجنسیوں میں مختلف ذرائع سے خبریں موصول ہوتی ہیں۔ان میں وہ خبریں بھی ہوتی ہیں جو اخبار کے اپنے نامہ نگاروں کی روانہ کردہ ہوتی ہیں۔ جب کہ زیادہ تر خبریں یو این آئی، پی ٹی آئی، اے ایف پی، اے پی، رائٹر(Reuter) اور آئی این ایس جیسی ایجنسیوں سے موصول ہوتی ہیں ۔یہ ایجنسیاں مقامی ، قومی اور بین الاقوامی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ چو ں کہ نامہ نگاروں کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے ، اس لیے وہ جلد بازی میں رپورٹ تیار کر کے اخبار کے دفتر تک پہنچاتے ہیں ۔ لہٰذا نیوز کاپی خامیوں سے بھری ہوتی ہے۔ اس میں زبان و قواعد کی غلطیاں ، الفاظ کی تکرار اور غیر ضروری طوالت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی اطلاع بے حد مختصر بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر اخبار کی اپنی پالیسی ہوتی ہے۔ اخبار کا اپنا ایک علیحدہ اندازِ بیان ہوتا ہے۔ جسے ہم ’’ ہاوس اسٹائل‘‘ کہتے ہیں ۔ ان حالات میں ایڈیٹنگ ضروری ہوجاتی ہے ۔ اہم خبروں کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا اور اشتہارات کو روک بھی نہیں سکتے۔ اس صورت میں خبروںکو اختصار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ۔ یہاں خاص طور سے ایڈیٹنگ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاکہ خبر کا سب سے اہم حصہ قاری تک پہنچ جائے۔ایڈٹ کرتے وقت لفظ کی درستگی (Accuracy) ، ہجے ، قواعد، اسلوب ، حقائق، جملوں کی ساخت، پیراگرافنگ وغیرہ کو درست کیا جاتا ہے 
اخبار کے دفتر تک پہنچنے والی خبروں کو نیوز کاپی کہتے ہیں ۔ ان کاپیوں کو قابلِ اشاعت بنانے کے لیے متن میں جو تصحیح یا تبدیلیاں کی جاتی ہیں اس کو سب ایڈیٹنگ یا ایڈیٹنگ کہتے ہیں۔ اردواخبارات اور رسائل میں ایڈیٹنگ، سب ایڈیٹنگ یا سبنگ (Subbing)  اور ترجمہ بیک وقت ہوتا ہے۔ یعنی اردو اخبارات میں خبروں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ بھی کرنا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ خبروں کی ایڈیٹنگ بھی کرنی ہوتی ہے ۔ اردو اخبارات میں سب ایڈیٹر صفحات و اشتہارات کی گنجائش اور ادارے کی پالیسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے خبروں کا ترجمہ کرتا ہے۔ متن سے غیر ضروری حصہ خارج کرتا ہے اور اہم ترین نکتوں کونمایا ں کر کے اپنے اخبار میں سب سے پہلے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ خبروں کی ایڈیٹنگ کے دوران زیادہ اہمیت اس بات کو دی جاتی ہے کہ خبر کی زبان درست اور عام فہم ہو ، تاکہ قاری کو خبر اور اس کے پیغام کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہ پیش آئے ۔

سرگرمی 8.9 

اپنی پسندیدہ نظم پر ایک تنقیدی مضمون لکھیے۔ اپنے مضمون کو کم از کم تین بار پڑھیے۔ پڑھنے کے دوران آپ کو زبان و بیان اور مفہوم کی ادائیگی کے حوالے سے جو کمی کھٹکتی ہے، اُسے دور کرنے کی کوشش کیجیے۔ ہر بار ادارت کے بعد مضمون کو ازسرِ نو لکھیے۔ لکھنے کے بعد پھر نظرِ ثانی کیجیے۔ پہلے مرحلے سے لے کر آخری مرحلے تک کے تمام صفحات کو یکجا کر کے اپنے اُستاد کو دکھایئے۔ اُن سے کہیے کہ وہ آپ کی آخری کاپی کی ادارت کریں اور پھر اُن سے تبادلۂ خیال کیجیے۔



ایڈٹنگ کے مرحلے میں نامہ نگاروں کے ذریعے جانے انجانے شامل کیے گئے نجی خیالات، لفاظی (Verbosity) کسی لفظ یا حقائق کی تکرار ،اکتاہٹ پیدا کرنے والی غیر ضروری تفصیل، بے محل ہونا (Incongruities)، بالواسطہ اشتہارات (Advertising in Disguise)، ہتک آمیزتحریر Libel))، دل لگی (Hoaxes)، نجی مفاد (Axe Grinding) اور واقعات کا باسی پن، جیسے نقائص کو ہٹا کر خبر کو تازہ شکل میں پیش کرنا بھی شامل ہے۔
اخباروں میں عموماًہر صفحہ کی ادارات کا کام کئی افراد پر مشتمل ٹیم انجام دیتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں بھی ہوتا ہے جہاں مختلف شعبوں سے الگ الگ ادارتی ٹیم وابستہ ہوتی ہے۔ مثلاً اقتصادی خبروں اور کھیل کود کی خبروں کی ادارت الگ الگ ادارتی ٹیم کرتی ہے۔ البتّہ اتنا طے ہے کہ میڈیا کا کوئی بھی روپ ہو، زبان کی درستگی اور صحت کا خیال ہر جگہ رکھنا ضروری ہے۔

سرگرمی 8.10 

کسی اہم انگریزی اخبار سے اپنی دلچسپی کی کوئی خبر منتخب کر کے اُس کا ترجمہ خود کیجیے اور اپنے ہم جماعت کو بھی کرنے کے لیے کہیے۔ ہم جماعت کے ترجمے کی ادارت آپ کیجیے اور آپ کے ترجمے کی ادارت آپ کا ہم جماعت کرے۔ پھر دونوں اپنے اپنے ترجمے اور ادارت شدہ کاپی کو اپنے استاد کو دکھائیں اور اُن سے دریافت کریں کہ کس کا ترجمہ بہتر ہوا ہے اور کس کی ادارت معیاری ہے۔ اُن کی رائے کی وجہ بھی پوچھیے۔

4.3  ترجمہ

ترجمہ میں ایک زبان کے خیال وافکار کو دوسری زبان میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ترجمے کو اصل سے قریب،مربوط اور موثر بنانے کے لیے ادارت کی ضرورت پڑتی ہے۔ گیارھویں جماعت میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ ترجمہ نگار کس طرح ترجمے کے دوران نظرثانی،ردّوبدل اور ترمیم واضافہ کے عمل سے گزرتا ہے۔ مطمئن ہونے کے بعد ہی وہ ترجمے کو اشاعت کے لیے بھیجتا ہے۔ اشاعت کے لیے موصول ہونے والے ترجمے کی ادارت کا کام مدیر انجام دیتا ہے۔ ادبی تراجم میں مُدیر کا زیادہ رول نہیں ہوتا۔ وہ جملوں کی ساخت،قواعدکے اصول وضوابط کی پاسداری،املا کی درستگی،رموزِ اوقاف وغیرہ پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ جملوں میں ربط وتسلسل اور ترسیل کو مؤثر بنانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔
جہاں تک علمی تراجم کا تعلق ہے تو اس میں خیال کی منتقلی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ اس لیے ان تراجم کی ادارت کے دوران مدیر کو اصل متن اور ترجمہ شدہ متن دونوں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ خیال کی منتقلی کے عمل کے دوران مفہوم بدل نہ گیا ہو یا بعض خیالات منتقل ہونے سے رہ نہیں گئے ہوں۔ درج ذیل مثال دیکھیے:

Applications for leave should be purpose-specific. Vague application will not be entertained.

ترجمہ:  چھٹّی کی درخواستوں کا مقصد ہونا چاہیے۔ مبہم درخواستوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

اس ترجمے میں Purpose-specificکا ترجمہ ’’مقصد‘‘ کیا گیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی entertainکا ترجمہ’’قبول کرنا‘‘ کیا گیا ہے جو مفہوم کی مکمّل وضاحت نہیں کرتا۔ اس طرح کے تراجم کے حوالے سے مُدیر کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ ایک اچھا مدیر اس ترجمے کی ادارت کرتے ہوئے مفہوم کی منتقلی کے ساتھ اس کے ترسیلی پہلو کو مزیدروشن کردے گا۔یہ ترجمہ دیکھیے:
’’چھٹّی کی درخواستوں میں وضاحت ہونی چاہیے کہ چھٹّی کس مقصد سے چاہیے۔ مبہم درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔‘‘
ہندوستانی میڈیا پر نظر ڈالیں تو اس میں بھی ترجمہ کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ مغربی ممالک میں رونما ہونے والے واقعات،لیڈروں کے بیان وغیرہ مغربی زبانوں بالخصوص انگریزی میں دستیاب ہوتے ہیں۔ اخباری مترجم اور نامہ نگاروں کو فوری اور ہنگامی طور پر ترجمے کی ذمیّ داری انجام دینی پڑتی ہے،اس لیے میڈیا میں ادارت کا کام نہایت ذمّہ داری کا ہے ورنہ مفہوم کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ چند مثالیں دیکھیے:

Car collided with a stationary truck.

 اخبار میں ترجمہ یوں شائع ہوا:  اسٹیشنری سے بھرے ٹرک اور کار میں تصادم

صحیح ترجمہ یہ ہے :  کھڑے ہوئے ٹرک سے کار ٹکرائی

Statement recorded in camera

اخبارمیں ترجمہ یوں شائع ہوا:   کیمرے میں بیان ریکارڈ کیا گیا

صحیح ترجمہ یوں ہوتا:  جج کے کمرے میں بیان ریکارڈ کیا گیا

ان مثالوں سے واضح ہے کہ میڈیا میں ہونے ہوالے تراجم کی ادارت ایک مشکل ذمہ داری ہے۔ مدیر کو بیدار ذہن ہونا چاہیے۔ مختلف شعبوں کی اصطلاحات اور انگریزی زبان سے گہری واقفیت اس کی پیشہ وارانہ مہارت کو جلا بخشے گی۔ 

ایڈیٹر کے اوصاف

ایڈیٹر کو ایک بہترین پیغام پہنچانے والا (Communicator) ہونا چاہیے چونکہ ذرائع ابلاغ کا بنیادی فریضہ پیغام رسانی ہے۔ اس لیے ایڈیٹر کو پیغام رسانی کے فن سے بخوبی واقفیت حاصل کرنی چاہیے ۔   مختصراً ایڈیٹر کو حسب ذیل صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہیے :
 پیغام رسانی کی بہترین صلاحیت ۔  

 ← انتظامی امورمیں مہارت۔

بہترین رابطۂ کار ۔

خوب سے خوب تر کا شوق۔

عوامی سطح پر خوش گوار تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت۔