باب5
پروف ریڈنگ اور پریس کاپی
کسی دن منھ اندھیرے بیدار ہو جایئے اور چہل قدمی کے لیے شہر کی کسی سڑک پر نکل جایئے۔ آپ دیکھیں گے کہ شہر ابھی سو رہا ہے لیکن سائیکل پر سوار اخبار والے گھروں اور دفتروں میں اخبار پہنچانے کے لیے رواں دواں ہیں۔ آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہوگا کہ اخبار کتنی جلدی چھپ جاتا ہے کہ سورج کی کرنوں سے پہلے ہمارے گھروں میں پہنچ جاتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اخبار کی تیاری میں سینکڑوں افراد رات بھر لگے رہتے ہیں اور رات دو بجے کے قریب اخبار کی فائنل کاپی چھپنے کے لیے پریس بھیج دی جاتی ہے جسے ہم پریس کاپی کہتے ہیں۔ گویا پریس کاپی ہی چھپ کر اخبار کی صورت میں صبح سویرے ہمارے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔
5.1 پریس کاپی
← اشتہارات
← خبریں، رپورٹیں وغیرہ شامل کرنا
← ڈیزائننگ اور اسٹائل
سرگرمی 8.12
اگر آپ کو کسی کتاب یا مضمون کا مسودہ پروف ریڈنگ کے لیے دیا جائے تو ا ٓپ اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کریں گے؟
5.2 پروف ریڈنگ
5.2 پروف ریڈنگ
سرگرمی 8.13
1۔ اخبار کے کسی ایک صفحے کی پریس کاپی تیار کیجیے۔ پریس کاپی تیار کرتے وقت صفحے کی ڈیزائننگ پر خاص توجہ دیجیے۔ اس سلسلے میں اردو و انگریزی کے مختلف اخبارات کے ڈیزائن اور سیٹنگ سے مدد لیجیے۔ اپنے صفحے میں اشتہارات، خبروں، تصاویر اور مختلف اسٹوری کو اس طرح سے شامل کریں کہ صفحہ دیدہ زیب اور دل کش لگے۔ خبروں کی اہمیت کے اعتبار سے پُرکشش شہ سرخیوں اور ذیلی سرخیوں کا انتخاب کیجیے۔
رموز اوقاف Punctuation
وہ خاص علامتیں جو عبارت کو درست طور پر پڑھنے کے لیے لگائی جاتی ہیں، انھیں رموز اوقاف کہا جاتا ہے۔
(i) ختمہ ( ۔ )
وہ نشان جو جملہ مکمل ہونے پر لگایا جاتا ہے، اُسے ختمہ کہتے ہیں ۔ مثلاً
آج اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوگا۔
(ii) سکتہ ( ، )
دو یا دو سے زیادہ الفاظ یا فقروں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے یہ نشان استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تھوڑا سا ٹھہرنے کی علامت ہے۔ مثلاً
احمد، جمیل اور پرکاش تقریری مقابلے میں حصہ لیں گے۔
(iii) وقفہ ( ؛ )
سکتے سے ذرا زیادہ ٹھہرنا ہو تو وقفہ کا استعمال کرتے ہیں۔کسی بات کے بعد اگر یہ علامت آئے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آگے اس سے متعلق تفصیل بیان کی جائے گی۔ مثلاً
خیر و شرکی جنگ؛ یہ جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک یوں ہی جاری رہے گی۔
(iv) رابطہ ( : )
وہ نشان جو کسی بات کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے یا پھر کسی شخص کے بیان کو اُس سے منسوب کرنے کے لیے لگاتے ہیں، اُسے رابطہ کہتے ہیں۔
نظم کی چار قسمیں ہیں : پابند نظم، معّرا نظم، آزاد نظم ، نثری نظم
ہم ورلڈ کپ جیت کرلائیں گے : دھونی
(v) سوالیہ نشان ( ؟ )
جب کسی جملے کا مقصد سوال پوچھنا ہو تب جملے کے آخر میں یہ نشان لگاتے ہیں۔
تمھارا نام کیا ہے؟ سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟
آپ نے کھانا کھا لیا؟
(vi) فجائیہ ( ! )
حیرت، تعجب، خوشی یا غم وغیرہ کو ظاہر کرنے کے لیے اس نشان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی کو پکارنے یا مخاطب کرنے کے لیے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔
کیا غضب کا موسم ہے! کتنا حسین منظر ہے!
آہ! یہ خبر بھی سننی تھی۔ دوستو! شام ہوئی، اب گھر چلیں۔
(vii) واوین ( ’’……‘‘ )
’’فوٹوگرافر‘‘ قرۃ العین حیدر کا شاہکار افسانہ ہے۔
(viii) قوسین ( )
ابراہیم عادل شاہ ثانی (دورِ حکومت : 1580-1627 )
ہم اکثر ٹیوشن (Tuition) کے لیے ساتھ جایا کرتے تھے۔
پروف ریڈنگ کا طریقۂ کار
پروف ریڈر کے اوصاف
غور کرنے کی بات
مشق
فرہنگ Glossary
لفظ معنی Word
ابلاغ Communication
ابہام مبہم، غیر واضح Ambiguity
اجزائے ترکیبی، عناصِر ترکیبی Formative parts/elements
احساسِ جمال خوب صورتی کا احساس Aesthatic sense
اختصار اور جامعیت Brevity and Comprehensiveness
ادارتی صفحہ Editorial Page
ادبی اصناف نثر و شاعری کی مختلف اقسام Literary Forms
ادبی اظہار Literary Expression
ادبی تحریر Literary Writing
ادبی فن پارہ کوئی ادبی حصہ Literary piece
ادراک تعقل، فہم، رسائی Cognition, Preception
استعارہ Metaphor
اسکرپٹ نگاری کسی فلم یا ڈرامہ وغیرہ کے لیے لکھی گئی تحریر Script Writing
اسلوب /طرزِ بیان/ طرز نگارش Way of Expression/ Style
المیہ و طربیہ Tragedy and Comedy
انبساط آفرینی خوشی پیدا کرنا Creation of Joy, Cheerfulness
انحراف برخلاف، انکار، پلٹ جانا، پھر جانا Deviation
ب
باز تخلیق دوبارہ تخلیق کی کوشش Recreation
باز رسی Feed back
بحر اور وزن Metre, Weighing of verse
برقی ذرائع ابلاغ Electronic Media
برقی لہر Electronic Wave
بصیرت آگاہی Wisdom



