Skip to content
Dhanak-001



افسانہ

افسانہ اردو ادب کی ایک مشہور صنف ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے کا ساتھ دینے اور دماغی طور پر مصروف رہنے والوں کے لیے ’مختصر افسانہ‘ ناول اور داستان سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔ مختلف نقّادوں نے افسانے کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔ ایک نقّاد نے کہا ہے کہ افسانہ ایسی نثری کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکے۔ ایک اور نقاد کاکہنا ہے کہ افسانے میں بنیادی چیز وحدتِ تاثّر ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ افسانے کے فن میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ 

ایک اچھا افسانہ اختصار کے ساتھ زندگی کے کسی گوشے کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مختصر ہونے کی وجہ سے افسانے میں جھول ہونے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ افسانہ نگار کا مشاہدہ اور انسانی نفسیات کا مطالعہ گہرا ہونا چاہیے۔ کردار ایسے ہوں جو ہماری زندگی اور ہمارے تجربوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔

اردو کے افسانہ نگاروں میں پریم چند، علی عباس حسینی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، غلام عباس، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین بہت اہم ہیں۔ ان کے بعد نئے افسانہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد بھی سامنے آچکی ہے۔

عقل بڑی یا بھینس

چھتّیس گڑھ کے علاقے میں ایک بہت گھنا جنگل تھا۔ اس کے ایک حصّے میں نہایت صاف اور شفّاف پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس میں خوبصورت کنول کھلے ہوئے تھے۔ تالاب کے کنارے اونچے اونچے درخت تھے جن پر بہت سے پرند ے رات کو بسیرا کرتے اور صبح ہوتے ہی دانہ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر اُڑجاتے تھے۔ وہیں کچھ بگلے بیٹھتے، کچھ پانی پر اُڑتے پھرتے اور کچھ بگلے اور سارس اپنے لیے شکار کی تلاش میں کنارے کنارے گھومتے پھرتے تھے۔ 

کچھ دن بعدایک بھینس بھی نہانے کی غرض سے اس تالاب میں آنے لگی۔ وہ دن بھر پانی میں تیر تی یا کنارے پر آرام کرتی اور شام ہوتے ہی اپنے گاؤں لوٹ جاتی۔ جس جگہ بھینس نہاتی وہاں کا پانی گندا اور مٹ میلا ہوجاتا تھا جس سے بگلوں اور سارسوں کو مچھلیاں پکڑنے میں بڑی دشواری ہوتی تھی۔

ایک دن بھینس نے تالاب کا پانی کچھ زیادہ ہی گنداکردیا۔ اس پر ایک سارس نے بڑی عاجزی اور انکسار کے ساتھ اپنی لمبی گردن جُھکا کر بھینس سے کہا، ’’ بہن! ہم کئی دنوں سے بہت کم شکار کرپائے ہیں۔ آج تو آپ نے پورے تالاب کو ہی گندا کرڈالا ‘‘۔ 

pic 2

یہ سنتے ہی بھینس آگ بگولاہوگئی اور غصّے سے سر اُٹھا کر بولی، ’’ گستاخ! یہی کیا کم ہے کہ میں تم جیسے لوگوں کو اس تالاب سے مچھلیاں پکڑلینے دیتی ہوں۔‘‘ بے چارہ سارس اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ مگر بگلا خاموش نہ رہ سکا۔ اس نے جواب دیا، ’’اس تالاب پر تو جنگل کے تمام چرند وپرند کا یکساں حق ہے ۔ البتہّ آپ خداجانے کہاں سے آٹپکی ہیں…‘‘

بھینس نے کڑک کرکہا، ’’ بدتمیز ! میں یہاں کی مہارانی ہوں۔ جیسے میرادل چاہے گا ویسے نہاؤں گی۔‘‘ بھینس کی یہ پُر غرور باتیں سن کے بگلے کو بھی غصہّ آگیا ۔اس نے اپنے پروں کو پھڑپھڑایا اور ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر بولا،’’ مہارانی جی! آپ شاید اپنے ڈیل ڈول اور اپنی طاقت پر مغرور ہیں، تو ہمیں بھی خدانے عقل دی ہے، خدا گنجے کو ناخون نہیں دیتا…‘‘ بھینس بھلا بگلے کی یہ طنز بھری بات کیسے برداشت کر لیتی۔ وہ پانی سے باہر نکلتے ہوئے بولی ،’’ ٹھہر کم بخت! میں بتاتی ہوں تجھے۔ بڑا بگلا بھگت بنا پھر تا ہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔‘‘ بھینس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بگلا فوراً ایک پیڑپر جا بیٹھا اور وہیں سے جلی کٹی سُنا تارہا۔ بھینس پرندہ تو تھی نہیں جو اُڑ کر بگلے کو پکڑتی اور سزا دیتی۔ وہ پیڑ کے نیچے کھڑی ہوئی فوں فاں کرتی رہی اور تھک ہار کر یہ کہتی ہوئی چلی گئی، ’’ ہونہہ!اِن کے منہ کون لگے۔‘‘ بھینس کے جانے کے بعد ایک سارس نے بگلے سے کہا، ’’ بھائی! تم نے یہ اچھّا نہیں کیا۔ اب وہ سچ مچ ہمیں شکار کرنے نہیں دے گی۔‘‘ بگلا بولا، ’’ دوستو! طاقت ہی سب کچھ نہیں ہوتی بلکہ عقل سے طاقت ور دشمن کو آسانی سے زیر کیا جاسکتاہے۔ میں جلد ہی مہارانی جی کا پتّاکاٹ دوں گا۔‘‘

سارس کو شاید بگلے کی بات کا یقین نہ آیا ۔ اس نے کہا، ’’ اگرتمھیں یقین ہے تو ٹھیک ہے مگر مجھے تو یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔‘‘ بگلے نے جواب دیا، ’’میں ایسی چال چلوں گا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ آپ لوگ بے فکر رہیے۔‘‘ اسی کے ساتھ تمام پرندے اپنے اپنے بسیروں کی طرف پرواز کرگئے۔ ان سب کے جانے کے بعد بگلے نے سوچا بات تو بگڑ ہی  گئی ہے۔ خیر! اب خوشامد ہی ایسی ترکیب ہے جس سے بھینس کو رام کیا جاسکتا ہے۔ خوشامد سے بے وقوف مزیدبے وقوف بن جاتا ہے۔ یہ سوچ کر بگلے نے دوسرے دن سے بھینس کو صبح شام بڑے ادب سے سلام کرنا شروع کردیا اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس ترکیب پر عمل کرنے کو کہا ۔ لیکن یہ ترکیب بھی زیادہ کار آمد ثابت نہ ہو سکی۔ بگلے کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ یہ دوستی یک طرفہ ہے۔ بھینس اب بھی ہم لوگوں کو حقیر سمجھتی ہے۔ لیکن فی الحال سوائے صبر کے کوئی چارہ نہ تھا۔

کچھ دن بعد بگلے کو بھینس سے بدلہ لینے کا موقع مل گیا۔ ہوا یہ کہ تالاب کے کنارے ایک بارات آکر رکی ۔ دوپہر میں سب لوگوں نے آرام کیا اور شام کے وقت کچھ لوگ نہانے لگے۔ دولہا میاں نے بھی اپنے کپڑے اور سونے کا ہا ر اُتار کر ایک طرف رکھ دیا اور نہانے میں مشغول ہوگئے۔ اسی اثنا میں بگلے کی نظر ہار پر پڑی اس نے خوش ہوکر سوچا ۔ ’’ اہا! یہ موقع ہے مہارانی جی سے  بدلہ لینے اور سزادلوانے کا۔‘‘ وہ فوراً دولہا میاں کا ہارلے کر اُڑا۔ اسی وقت بھینس بھی تالاب سے نکل کر اپنے گاؤں کے لیے چل دی۔ بگلا تو بھینس کی تلاش میں تھا ہی، اسے دیکھتے ہی وہ بھینس کی پیٹھ پر جا بیٹھا اور بڑی ہوشیاری سے ہار کو اس کے سینگ میں الجھا کر ہنستا ہوا اُڑ گیا۔

ادھر جب دولہا میاں نہا کر فارغ ہوئے تو کپڑے پہنتے وقت معلوم ہوا کہ ہار غائب ہے۔ اس خبر سے بارات میں تہلکہ مچ گیا اور ہر طرف ہار کو تلاش کیا جانے لگا۔ دولہا کا بھائی اتّفاق سے اسی راستے پرجا نکلا جدھر بھینس جارہی تھی۔ اچانک اس کی نگاہ بھینس کے سینگ میں اُلجھے ہوئے ہار پر پڑی تو وہ چونک پڑا اور اس نے بھینس کو روک کر اپنے ساتھیوں کو آوازدی۔ کچھ لوگ اس طرف دوڑ پڑے ۔ بس پھر کیا تھا بھینس پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ ہار تو اس کے سینگ سے نکال لیا گیا اور چاروں طرف سے اس پر ڈنڈوں کی برسات ہونے لگی۔ جیسے تیسے بے چاری اپنی جان بچا کر بھاگی ۔ ہڈّیوں میں کافی چوٹیں آئی تھیں۔وہ کراہتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی ۔ چلتے چلتے اچانک اسے خیال آیا کہ یہ ہار میرے سینگ میں آیا کیسے؟ میں نے تو اٹھا یا نہیں تھا۔ بگلے کا خیال آتے ہی وہ سب کچھ سمجھ گئی۔

’’ ہو نہ ہو یہ کام اُسی بگلا بھگت کا ہے۔‘‘ اسی وقت قریب کے ایک درخت سے بگلوں کے ہنسنے کی آوازوں نے اسے چونکا دیا۔ بگلا کہہ رہا تھا: ’’ کہیے مہارانی جی! کہاں گئی آپ کی وہ طاقت جس پر آپ کو اتنا گھمنڈ تھا۔ بڑے بول کا سرہمیشہ نیچارہتا ہے۔ دیکھا آپ نے ہماری عقل نے کیا کام کیا ۔‘‘ بگلے کی بات سُن کر بھینس بڑی شرمندہ ہوئی اور سرجھکا کر بولی۔ ’’ دوستو! مجھے معاف کردو۔ میں آئند ہ تمھاری دوست بن کر رہوں گی۔‘‘

اس طرح بگلے اور بھینس کی ایسی دوستی ہوئی جو آج تک قائم ہے۔ بگلاآج بھی بھینس کی پیٹھ پر سواری کرتا ہے اور ہر وقت اسے سمجھاتا رہتا ہے لیکن بھینس کی سمجھ میں اب تک یہ بات نہ آسکی کہ عقل بڑی ہوتی ہے یا بھینس ۔

     (لوک کہانی)


مشق

سوالات:

1 .     بھینس نے سارس اور بگلے کو حقیر کیوں سمجھا؟

2 . بھینس نے سارس کی عاجزی اور انکسار کا جواب کس انداز میں دیا؟

3 .    بگلا خاموش کیوں نہ رہا اور اس نے بھینس سے کیا کہا؟

4.    بگلے نے بھینس سے کس طرح بدلہ لیا؟

5.    اس کہانی کا مرکزی خیال کیا ہے؟