Skip to content
Dhanak-001


pic 4


لیو ٹالسٹائی

(1828-1910)


ٹالسٹائی کا شمار دنیا کے مشہور ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ روسی ادب میں بحیثیت ناول نگار ان کا قد بہت بلند ہے ۔ ٹالسٹائی روس کے ایک رئیس گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 23سال کی عمر میں ر وسی فوج میں بھرتی ہو گئے اور کریمین جنگ میں حصّہ لیا ۔ اسی عرصے میں انھوں نے اپنا پہلا ناول ’’ بچپن ‘‘ لکھا جسے ادبی حلقوں میں کافی سراہا گیا ۔ اس طرح اپنے پہلے ناول سے ٹالسٹائی کا شمار معروف ادیبوں میں ہونے لگا ۔ اپنے باغیانہ خیالات کے لیے انھیں عتاب کا شکار بھی ہونا پڑا ۔

ٹالسٹائی نے متعدّ د ناول ، کہانیاں اور ڈرامے لکھے ۔ ان کے ناول ’جنگ اور امن‘ اور ’ انّا کرینینا‘ کو عالمی ادب میں شاہکار کا درجہ حاصل ہے ۔ ٹالسٹائی کو روسی سماج اور تہذیب کا مصوِّر کہا جاتا ہے۔ انھوں نے روسی معاشرے کے جاگیردارانہ نظا م کی تلخ حقیقتوں کو اپنے ناولوں میں بڑی فن کاری کے ساتھ نمایاں کیا ہے ۔ان کے ناول اور کہانیاں حقیقت نگاری کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان کی تحریروں میں اصلاحی پہلو نمایاں ہے ۔

تین سوال

ایک بار ایک بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اگر اُسے پہلے سے ہی یہ معلوم ہوجا یا کر ے کہ کسی کام کے شروع کرنے کا صحیح وقت کیا ہے، وہ کون مناسب لوگ ہیں جن کی رائے پر بھروسہ کیا جائے اور وہ کون لوگ ہیں جن سے بچا جائے۔ سب سے بڑھ  کر یہ کہ اگر اسے یہ معلوم ہوجا یا کرے کہ وہ کون سا کام ہے جسے سب سے زیادہ ضروری سمجھاجائے تو اسے ناکامی کا منہ کبھی نہ  دیکھنا پڑے۔

دل میں یہ خیال آتے ہی بادشاہ نے پوری سلطنت میں منادی کرادی کہ وہ اُس شخص کو ایک بڑا انعام دے گا جو اُسے یہ بتا سکے کہ ہر کام کے شروع کرنے کا صحیح وقت کیا ہے۔ بہت اہم لوگ کون ہیں اور وہ کس طرح جان سکے کہ سب سے زیادہ ضروری کام کیا ہے جو اُسے کرنا چاہیے۔

بادشاہ کے پاس بہت سے پڑھے لکھے لوگ آئے لیکن اُن سب نے بادشاہ کے سوالات کے مختلف جوابات دیے۔ جواب مختلف ہونے کی وجہ سے بادشاہ ان میں سے کسی کی بات نہ مان سکا اور نہ اس نے کسی کو انعام دیا لیکن چوں کہ وہ اپنے سوالات کے جوابات جاننے کے لیے اب بھی فکر مند تھا اس لیے اُس نے طے کیا کہ وہ ایک سادھو سے جواپنی سوجھ بوجھ کی وجہ سے سلطنت کے کونے کونے میں مشہور تھا، مشورہ کرے گا۔

سادھو ایک جنگل میں رہتا تھا جس کے باہر وہ کبھی نہیں گیا تھا وہ عام آدمیوں کے علاوہ کسی سے نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ بادشاہ نے معمولی کپڑے پہنے اور سادھو کی کُٹیاسے پہلے ہی اپنے گھوڑے سے اتر پڑا۔ وہ اپنے سپاہیوں کو پیچھے چھوڑ کر سادھوسے ملنے کے لیے اکیلا چل پڑا۔

جب بادشاہ قریب پہنچا تو اس وقت سادھو اپنی کُٹیا کے سامنے زمین گوڑ رہا تھا۔ بادشاہ کو دیکھتے ہی اس نے اُسے سلام کیا اور زمین گوڑتا رہا۔ سادھو دُبلا پتلا اور کم زور تھا۔ ہر بارجب وہ اپنا پھا وڑا زمین پر چلاتا ، بہت تھوڑی مٹی کھودپا تا اور بُری طرح ہانپنے لگتا۔

بادشاہ اس کے پاس گیا اور بولا، ’’ عقل مند سادھو، میں تمھارے پاس اپنے تین سوالوں کے جواب لینے آیا ہوں۔ میں کیسے جان سکتا ہوں کہ صحیح کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جن کی مجھے بہت ضرورت ہے تاکہ میں دوسروں کے مقابلے میں ان لوگوں پر زیادہ توجہ کرسکوں اور وہ کون سے معاملات ہیں جوبہت ضروری ہیں اور جن پر مجھے فوراً توجہ کرنی چاہیے؟‘‘

سادھونے بادشاہ کی بات سنی لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ اور پھرزمین گوڑنا شروع کردی۔

’’ تم تھک گئے ہو‘‘۔ بادشاہ نے کہا، ’’ مجھے پھاوڑا دو، میں تھوڑی دیر تمھار ا کام کروں گا۔‘‘

pic 5

’’شکریہ‘‘، سادھونے کہا اور بادشاہ کو پھا وڑا دے کر زمین پر بیٹھ گیا۔

جب بادشاہ دوکیاریاں گوڑچکا تو وہ ٹھہر گیا اور اس نے پھر اپنے سوال دہرائے ۔ سادھونے پھر کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ اٹھ کھڑا ہوااور پھاوڑے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اُس نے کہا،’’اب تم دم بھر آرام کرو اور مجھے تھوڑا کام کرنے دو۔‘‘ لیکن بادشاہ نے اس کو پھاوڑا نہیں دیا اور زمین گوڑتا رہا۔ ایک گھنٹہ گزرااور دوسرا بھی ۔سورج درختوں کے پیچھے چُھپنے لگا۔ بادشاہ نے آخر کار پھاوڑا زمین پر مارتے ہوئے کہا، ’’ عقل مند آدمی! میں تمھارے پاس اپنے سوالوں کے جواب لینے آیا تھا۔ اگر کوئی جواب نہیں دے سکتے تو کہہ دو ،میں اپنے گھر لوٹ جاؤں۔‘‘

’’ کوئی آدمی بھاگا ہواآرہاہے۔‘‘ سادھو نے کہا، ’’ آؤدیکھیں وہ کون ہے؟‘‘

بادشاہ گھوٗما۔ اس نے ایک داڑھی والے آدمی کو جنگل سے بھاگ کرآتے ہوئے دیکھا۔ آدمی اپنے ہاتھوں سے اپنا پیٹ دبائے ہوئے تھا اور خون اس کے ہاتھوں سے ٹپک رہا تھا۔ وہ کمزوری سے کراہتا ہوابادشاہ کے پاس پہنچا اور زمین پر گر کربے ہوش ہوگیا۔ بادشاہ اور سادھونے اس آدمی کے کپڑے کھولے۔ اس کے پیٹ میں ایک بڑا زخم تھا۔ بادشاہ نے جہاں تک ہوسکا اس کے زخم کو اچھّی طرح دھویا ۔ اس پر اپنے رومال اور سادھو کے تولیے سے پٹّی باندھی لیکن خون کا بہنا بند نہیں ہوا۔ بادشاہ باربار پٹّی کھولتا رہا جو گرم خون سے ترہوجاتی اور اسے دھودھو کر باربار باندھتا رہا۔ آخر کا ر جب خون کا بہنا بند ہوگیا تو آدمی کو ہوش آیا اور اس نے کچھ پینے کے لیے مانگا۔ اتنی دیر میں بادشاہ تازہ پانی لایا اور اسے پلا یا۔ سورج ڈوب چکا تھا اور ٹھنڈک بھی بڑھ چلی تھی۔ اسی لیے بادشاہ نے سادھو کی مدد سے زخمی کو جھونپڑے کے اندر پہنچایا اور اس کو چارپائی پر لٹا دیا۔ چارپائی پر لیٹتے ہی اس آدمی نے آنکھیں بند کرلیں اور خاموش ہوگیا۔ بادشاہ بھی دن بھر کی دوڑدھوپ اور کام کی وجہ سے اتنا تھک گیا تھا کہ وہ دہلیز پر ہی پڑکر سورہا۔ رات بھر اس کی آنکھ بھی نہ کُھلی۔ صبح جب اسے ہوش آیا تو اس کو بڑی دیر تک یاد ہی نہ آیا کہ وہ کہاں ہے۔ وہ داڑھی والا آدمی جو چارپائی پر لیٹا ہوا اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں سے اُسے ٹکٹکی لگائے ہوئے دیکھ رہا ہے، کون ہے؟

’’مجھے معاف کردیجیے۔‘‘ اس داڑھی والے آدمی نے بادشاہ کو جاگتے اور اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھاتو کہا۔

’’میں تم کو نہیں جانتا اور ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کے لیے میں تم کو معاف کروں ۔‘‘ بادشاہ نے کہا۔

 ’’آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کو جانتاہوں ۔ میں آپ کا وہ دشمن ہوں جس نے آپ سے بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی۔ 

آپ نے میرے بھائی کو قتل کردیا تھا اور اس کی جائد اد ضبط کرلی تھی۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ سادھو سے ملنے اکیلے گئے ہیں۔ میں نے طے کیا کہ جب آپ لوٹیں گے، میں آپ کو راستے میں قتل کردوں گا لیکن دن گزرگیا اور آپ نہیں لوٹے۔ اس لیے میں آپ کا پتا لگانے کے لیے اپنی کمیں گاہ سے نکل آیا۔ آپ کے حفاظتی دستے کے سپاہیوں سے میری مُڈبھیڑ ہوگئی۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا اور زخمی کردیا۔

pic 6

 میں ان سے تو بھاگ آیالیکن اگر آپ میرے زخم پر پٹّی نہ باندھتے تو میں زیادہ خون نکل جانے کی وجہ سے مرجاتا ۔ میں نے آپ کو قتل کرنا چاہا لیکن آپ نے میری جان بچالی ۔ اب اگر میں زندہ رہا اور آپ کی بھی مرضی ہوئی تو میں ساری زندگی آپ کی خدمت ایک وفادار غلام کی حیثیت سے کرتارہوں گا ۔ میں اپنے لڑکوں کو بھی نصیحت کرجاؤں گا کہ وہ ایسا ہی کریں۔ مجھے معاف کردیجیے۔‘‘

بادشاہ اپنے دشمن سے ، اتنی آسانی سے صلح کرکے اور اُسے دوست بناکر بہت خوش ہوا۔ اُس نے اس کو معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس سے کہا کہ وہ اپنے نوکر وں اور شاہی طبیب کو اس کی دیکھ بھال اورعلاج کے لیے بھیجے گا۔ اور اس کی جائد اد بھی اسے واپس کردے گا۔

زخمی آدمی سے رُخصت ہوکر بادشاہ دہلیز کے سامنے گیا اور سادھو کو اِدھر اُدھر دیکھنے لگا ۔ جانے سے پہلے وہ ایک بار پھر اپنے سوالوں کے جواب حاصل کرنا چاہتا تھا۔ سادھو باہر اپنے گھٹنوں پر جُھکا ہوا اُن کیاریوں میں بُوائی کررہا تھا جو ایک روزپہلے گوڑی اور بنائی گئی تھیں۔

بادشاہ سادھو کے پاس پہنچا اور کہنے لگا۔

’’ عقل مند آدمی! میں آخری بار تم سے اپنے سوالوں کے جواب کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘

’’ جواب توتم پاچکے ہو‘‘ سادھو نے کہا جو ابھی تک اپنی دبلی پتلی ٹانگوں پر جھکا ہوابادشاہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔

’’کیسا جواب؟ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘

’’ کیا تمھاری سمجھ میں نہیں آیا۔‘‘ سادھو نے جواب دیا ۔ ’’اگر تم نے کل میری کمزوری پر ترس کھا کر ان کیا ریوں کو میرے لیے گوڑانہ ہوتا اور اپنے راستے پر چلے گئے ہوتے تو وہ آدمی تم پر حملہ کردیتا اور تم میرے ساتھ نہ ٹھہرے رہنے پر افسوس کررہے ہوتے۔ اس لیے وہ وقت بہت اہم تھا جب تم کیاریاں گوڑرہے تھے۔ میں بہت اہم آدمی تھا اور میرے ساتھ نیکی کرنا سب سے اہم کام تھا۔ بعد کو جب وہ آدمی بھاگ کر ہم لوگوں کے پاس آیا تو وہ وقت بڑا اہم تھا جب تم اس کی دیکھ بھال کررہے تھے کیوں کہ اگر تم اس کے زخموں پر پٹّی نہ باندھتے تو وہ تم سے صلح کیے بغیر مرجاتا۔ اس لیے وہ بہت اہم آدمی تھا اور جو کچھ تم نے اس کے لیے کیا وہ بہت اہم کام تھا۔ اس لیے یادرکھوکہ ایک ہی وقت بہت اہم ہے اور وہ ہے ’’اب‘‘ ۔ یہ بہت اہم وقت ہے۔ اس لیے کہ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں کوئی طاقت حاصل رہتی ہے۔ سب سے اہم آدمی وہ ہے جس کے ساتھ تم ہو۔ کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس کا معاملہ پھر کسی دوسرے سے پڑے گا بھی یا نہیں اور سب سے اہم کام یہ ہے کہ اس کے ساتھ نیکی کی جائے، اس لیے کہ انسان کو اسی مقصد سے یہ زندگی عطا ہوئی ہے۔‘‘


                (لیوٹالسٹا ئی)

مشق

سوالات:

1 .    بادشاہ کے تین سوال کیا تھے؟

2 .    بادشاہ سادھو کے پاس کیوں اور کس طرح گیا؟

3 .    بادشاہ کا دشمن بادشاہ کی کس بات سے متاثر ہوا؟

4.     سادھو نے بادشاہ کے سوالوں کا جواب کس طرح دیا؟

5 .     اس کہانی سے کیا پیغام ملتا ہے؟