
پریم چند
(1880 – 1936)
پریم چند کا اصلی نام دھنپت رائے تھا۔ وہ بنارس کے قریب ایک گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا شماراردو کے ابتدائی اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے حقیقی مسائل پیش کیے گئے ہیں۔ عام انسان ، خصوصاً دیہاتی کسان اور مزدور، ان کے افسانوں کے اہم کردار ہوتے ہیں۔
پریم چند نے سیکڑوں افسانے اور کئی ناول لکھے ہیں۔’پریم پچیسی‘، ’پریم بتّیسی‘، ’دودھ کی قیمت‘ اور ’واردات‘ ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔ ’گئود ان‘، ’غبن‘، ’میدانِ عمل ‘، ’بیوہ‘ اور ’بازارِحسن‘ ان کے اہم ناول ہیں۔
بوڑھی کاکی
بڑھا پا اکثر بچپن کا دورِثانی ہواکرتا ہے۔ بوڑھی کاکی میں ذائقہ کے سواکوئی حِس باقی نہ تھی اور نہ اپنی شکایتوں کی طرف مخاطب کرنے کا رونے کے سواکوئی دوسراذریعہ۔ آنکھیں، ہاتھ، پیر سب جواب دے چکے تھے۔ زمین پر پڑی رہتیں اور جب گھر والے کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف کرتے، کھانے کا وقت ٹل جاتا یا مقدار کافی نہ ہوتی یابازارسے کوئی چیز آتی اور انھیں نہ ملتی تو وہ رونے لگتی تھیں اور ان کا رونا محض بسورنانہ تھا۔ وہ بہ آواز بلند روتی تھیں۔ ان کے شوہر کو مرے ہوئے ایک زمانہ گزرگیا۔ سات بیٹے جوان ہوہوکر داغ دے گئے اور اب ایک بھتیجے کے سوادنیا میں ان کا اور کوئی نہ تھا۔ اسی بھتیجے کے نام انھوں نے اپنی ساری جائداد لکھ دی تھی۔ اُن حضرت نے لکھاتے وقت تو خوب لمبے چوڑے وعدے کیے لیکن وہ وعدے صرف سبزباغ تھے۔ اگرچہ اس جائداد کی سالانہ آمدنی ڈیڑھ دوسوروپے سے کم نہ تھی ۔ لیکن بوڑھی کا کی کو اب پیٹ بھرروکھا دانہ بھی مشکل سے ملتا تھا۔
بدھ رام طبیعت کے نیک آدمی تھے۔ لیکن اسی وقت تک کہ ان کی جیب پر کوئی آنچ نہ آئے۔ روپا طبیعت کی تیزتھی لیکن ایشورسے ڈرتی تھی، اس لیے بوڑھی کا کی پر اس کی تیزی اتنی نہ کَھلتی تھی جتنی بدھ رام کی نیکی۔
بدھ رام کو کبھی کبھی اپنی بے انصافی کا احساس ہوتا۔ وہ سوچتے کہ اس جائداد کی بدولت میں اس وقت بھلا آدمی بنا بیٹھا ہوں اور اگر زبانی تسکین یاتشفّی سے صورتِ حال میں کچھ اصلاح ہوسکتی تو انھیں مطلق دریغ نہ ہوتا لیکن مزید خرچ کا خوف ان کی نیکی کو دبائے رکھتا تھا۔ اِس کے برعکس اگر دروازہ پر کوئی بھلامانس بیٹھاہوتا اور بوڑھی کاکی اپنا نغمۂ بے ہنگام شروع کردیتیں تو وہ آگ ہوجاتے تھے اور گھر میں آکر انھیں زور سے ڈانٹتے تھے۔ لڑکے جنھیں بڈھوں سے ایک بغضِ للّٰہی ہوتا ہے، والدین کا یہ رنگ دیکھ کر بوڑھی کاکی کو اور بھی دِق کرتے ۔کوئی چٹکی لے کر بھاگتا، کوئی ان پر پانی کی کُلّی کردیتا۔ کاکی چیخ مارکر روتیں لیکن یہ تو مشہورہی تھا کہ وہ صرف کھانے کے لیے روتی ہیں۔ اس لیے کوئی ان کے نالہ وفریاد پر دھیان نہ دیتا تھا۔ ہاں اگر کاکی کبھی غصّے میں آکر لڑکوں کو گالیاں دینے لگتیں تو روپا موقعۂ واردات پر ضرور جاتی۔ اس خوف سے کاکی اپنی شمشیر زبانی کا شاذ ہی کبھی استعمال کرتی تھیں۔ حالاں کہ رفع ِشرکی یہ تدبیر رونے سے زیادہ کارگرتھی۔
سارے گھر میں اگر کسی کو کاکی سے محبت تھی تو وہ بدھ رام کی چھوٹی لڑکی لاڈلی تھی۔ لاڈلی اپنے دونوں بھائیوں کے خوف سے اپنے حصے کی مٹھائی یا چبینا بوڑھی کاکی کے پاس بیٹھ کر کھایا کرتی تھی۔ ان مناسب اغراض نے ان دونوں میں محبت اور ہمدردی پیداکردی تھی۔
رات کا وقت تھا ۔ بدھ رام کے دروازے پر شہنائی بج رہی تھی اور گاؤں کے بچّوں کا جمّ غفیر نگاہِ حیرت سے گانے کی داددے رہاتھا۔ آج بدھ رام کے بڑے لڑکے سکھ رام کا تلک آیا ہے۔ یہ اسی کا جشن ہے۔ گھر میں مستورات گارہی تھیں اور روپامہمانوں کی دعوت کا سامان کرنے میں مصروف تھی۔ بھٹیوں پر کڑاہ چڑھے ہوئے تھے۔ ایک میں پوریاں کچو ریاں نکل رہی تھیں۔ ایک بڑے ہنڈے میں مصالحے دار ترکاری پک رہی تھی۔ گھی اور مصالحے کی اشتہا انگیز خوشبوچاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔
بوڑھی کاکی اپنی اندھیری کوٹھری میں خیالِ غم کی طر ح بیٹھی ہوئی تھیں۔ یہ لذّت آمیز خوشبو انھیں بے تاب کررہی تھی۔ وہ دل میں سوچتی تھیں شاید مجھے پوریاں نہ ملیں گی۔ اتنی دیر ہوگئی، کوئی کھانا لے کر نہیں آیا۔ معلوم ہوتا ہے لوگ سب کھاگئے ہیں۔ میرے لیے کچھ نہ بچا۔ یہ سوچ کر انھیں بے اختیار رونا آیا ۔ لیکن شگون کے خوف سے رونہ سکیں۔
آہا! کیسی خوش بوہے۔ اب مجھے کون پوچھتا ہے۔ جب روٹیوں ہی کے لالے ہیں تو ایسے نصیب کہاں کہ پوریاں پیٹ بھرملیں۔ یہ سوچ کر انھیں پھر بے اختیار رونا آیا۔ کلیجے میں ایک ہوٗک سی اُٹھنے لگی لیکن روپا کے خوف سے انھوں نے پھر ضبط کیا۔
بوڑھی کاکی دیر تک اِنھیں افسوس ناک خیالوں میں ڈوبی رہیں۔ گھی اور مصالحے کی خوش بو رہ رہ کردل کو آپے سے باہر کیے دیتی تھی۔ منہ میں پانی بھربھر آتا تھا۔ پوریوں کا ذائقہ یادکرکے دل میں گُدگدی ہونے لگتی تھی۔ ’’کسے پکاروں۔ آج لاڈلی بھی نہیں آئی۔ دونوں لونڈے روز دِق کیا کرتے ہیں۔ آج ان کا بھی کہیں پتا نہیں۔ کچھ معلوم ہوتا کہ کیا بَن رہا ہے۔‘‘
بوڑھی کاکی کی چشمِ خیال میں پوریوں کی تصویر ناچنے لگی۔ خوب لال لال پھولی پھولی نرم نرم ہوں گی۔ روپانے خوب مائن دیا ہوگا۔ کچوریوں میں اجوائن اور الائچی کی مہک آرہی ہوگی۔ ایک پوری ملتی تو ذرا ہاتھ میں لے کر دیکھتی ۔ کیوں نہ چل کر کڑاہ کے سامنے ہی بیٹھوں۔ پوریاں چھن چھن کر کے کڑاہ میں تیرتی ہوں گی۔ کڑاہ سے گرما گرم نکل کر کٹھونے میں رکھی جاتی ہوں گی۔ پھول ہم گھر میں بھی سونگھ سکتے ہیں لیکن سیرِ باغ کا کچھ اور ہی لطف ہے۔
اس طرح فیصلہ کرکے بوڑھی کاکی اُکڑوں بیٹھ کر ہاتھ کے بل کھسکتی ہوئی بمشکل تمام چوکھٹ سے اتریں اور دھیرے دھیرے رینگتی ہوئی کڑھاؤکے پاس جا بیٹھیں۔ روپا اس وقت ایک سراسیمگی کی حالت میں تھی۔کبھی اس کمرے میں جاتی ، کبھی اس کمرے میں، کبھی کڑاہ کے پاس، کبھی کوٹھے پر ۔ کسی نے باہر سے آکر کہا ،’’مہراج ٹھنڈائی مانگ رہے ہیں۔‘‘ ٹھنڈائی دینے لگی۔ ایک آدمی نے آکر پوچھا کہ ابھی کھانا تیار ہونے میں کتنی دیر ہے؟ ذرا ڈھول مجیرااتاردو۔بے چاری اکیلی عورت چاروں طرف دوڑتے دوڑتے حیران ہورہی تھی۔ جھنجھلاتی تھی۔ کُڑھتی تھی پر غصّہ باہر نکلنے کا موقع نہ پاتاتھا۔ خوف ہوتا تھا۔ کہیں پڑوسنیں یہ نہ کہنے لگیں کہ اتنے ہی میں اُبل پڑیں۔ پیاس سے خود اس کا حلق سوکھاجاتا تھا۔ گرمی کے مارے پھنکی جاتی تھی لیکن اتنی فرصت کہاں کہ ذرا پانی پی لے یا پنکھا لے کر جھلے۔ یہ بھی اندیشہ تھا کہ ذرانگاہ پلٹی اور چیزوں کی لوٹ مچی۔ اس کش مکش کے عالم میں اس نے بوڑھی کاکی کو کڑاہ کے پاس بیٹھے دیکھا تو جل گئی۔ غصّہ نہ رک سکا، یہ خیال نہ رہا کہ پڑوسنیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ دل میں کیا کہیں گی۔ مردانے میں لوگ سنیں گے تو کیا کہیں گے۔ جیسے مینڈک کیچوے پر جھپٹتا ہے اسی طرح وہ بوڑھی کاکی پر جھپٹی اور انھیں دونوں ہاتھوں سے جھنجوڑ کر بولی، ’’ ایسے پیٹ میں آگ لگے۔ پیٹ ہے کہ آگ کا کُنڈ ہے۔ کوٹھری میں بیٹھتے کیا دم گھٹتا تھا۔ ابھی مہمانوں نے نہیں کھایا۔ دیوتاؤں کا بھوگ تک نہیں لگا۔ تب تک صبر نہ ہو سکا۔ آکر چھاتی پرسوار ہوگئیں۔ نوج، ایسی جیبھ۔ دن بھر کھاتی نہ رہتیں تو نہ جانے کس کی ہانڈی میں منہ ڈالتیں۔ گاؤں دیکھے گا تو کہے گا کہ بڑھیا بھر پیٹ کھانے کو نہیں پاتی۔ تب ہی تو اس طرح بوکھلائی پھرتی ہے۔ (اس خیال سے اس کا غصّہ اور بھی تیز ہوگیا) ڈائن نہ مرے نہ ماچا چھوڑے۔ نام بیچنے پرلگی ہے۔ ناک کٹواکے دم لے گی۔ اتنا ٹھونستی ہے نہ جانے کہاںبھسم ہوجاتا ہے۔ لے بھلاچاہتی ہو تو جاکر کوٹھری میں بیٹھو۔ جب گھر کے لوگ لیں گے تو تمھیں بھی ملے گا۔ تم کوئی دیوی نہیں ہو کہ چاہے کسی کے منہ میں پانی تک نہ جائے لیکن پہلے تمھاری پوجا کردے۔
بوڑھی کاکی نے سرنہ اٹھایا۔ نہ روئیں نہ بولیں۔ چپ چاپ رینگتی ہوئی وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ صدمہ ایسا سخت تھا کہ دل ودماغ کی ساری قّوتیں، سارے جذبات ساری حسّیات اس طرح رجوع ہوگئیں تھیں جیسے ندی میں جب کراڑ کا کوئی بڑا ٹکڑاکٹ کر گرتا ہے تو آس پاس کا پانی چاروں طرف سے سمٹ کر اس خلاکو پوراکرنے کے لیے دوڑتا ہے۔
کھانا تیار ہوگیا۔ آنگن میں پتّل پڑگئے۔ مہمان کھانے لگے ۔ عورتوں نے جیونار گاناشروع کیا۔ لیکن آدابِ مجلس کے مطابق جب تک سب کے سب کھانہ چکیں کوئی اُٹھ نہ سکتا تھا۔
بوڑھی کاکی اپنی کوٹھری میں جاکر پچھتارہی تھیں کہ کہاں سے کہاں گئی۔ انھیں روپا پر غصّہ نہیں تھا۔ اپنی عجلت پر افسوس تھا۔ سچ تو ہے جب تک مہمان لوگ کھانہ چکیں گے گھروالے کیسے کھائیں گے ۔ مجھ سے اتنی دیر بھی نہ رہا گیا۔ سب کے سامنے پانی اتر گیا۔ اب جب تک کوئی نہ بلانے آئے گا نہ جاؤں گی۔
دل میں یہ فیصلہ کرکے وہ خموشی سے بلاوے کا انتظارکرنے لگیں لیکن گھی کی مرغوب خو شبو بہت صبر آزما ثابت ہورہی تھی۔ انھیں ایک ایک لمحہ ایک گھنٹہ معلوم ہوتا تھا۔ اب پتّل بچھ گئے ہوں گے۔ اب مہمان آگئے ہوں گے۔ لوگ ہاتھ پیردھورہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے لوگ کھانے پر بیٹھ گئے۔ جیونار گایا جارہا ہے۔ یہ سوچ کر بہانے کے لیے لیٹ گئیں اور دھیرے دھیرے گنگنانے لگیں۔ انھیں معلوم ہوا کہ مجھے گاتے بہت دیر ہوگئی۔ کیا اتنی دیر تک لوگ کھاہی رہے ہوں گے ۔ کسی کی بول چال سنائی نہیں دیتی۔ ضرور لوگ کھاپی کے چلے گئے ۔ مجھے کوئی بلانے نہیں آیا۔ روپا چڑگئی ہے ۔ کیا جانے نہ بلائے۔ سوچتی ہو کہ آپ ہی آئیں گی۔ کوئی مہمان نہیں کہ بلاؤں۔
بوڑھی کاکی چلنے کے لیے تیار ہوئیں۔ یہ یقین کہ اب ایک لمحے میں پوریاں اور مصالحے دار ترکاریاں سامنے آئیں گی ان کے حسنِ ذائقہ کو گد گدانے لگا۔ انھوں نے دل میں طرح طرح کے منصوبے باندھے۔ ’پہلے ترکاری سے پوریاں کھاؤں گی پھردہی اور شکر سے۔ کچوریاں رائتے کے ساتھ مزے دار معلوم ہوں گی۔ چاہے کوئی برامانے یا بھلا میں تو مانگ مانگ کر کھاؤں گی۔ یہی نہ، لوگ کہیں گے، انھیں لحاظ نہیں ہے۔ کیا کریں۔ اتنے دنوں کے بعد پوریاں مل رہی ہیں تو منہ جھوٹا کر کے تھوڑے ہی اٹھ آؤں گی۔
وہ اکڑوں بیٹھ کر ہاتھوں کے بل کھسکتی ہوئی آنگن میں آئیں۔ مگر وائے قسمت ! اشتیاق نے اپنی پرانی عادت کے مطابق وقت کا غلط اندازہ کیا تھا۔ مہمانوں کی جماعت ابھی بیٹھی ہوئی تھی۔ کوئی کھاکر انگلیاں چاٹتا تھا اور کنکھیوں سے دیکھتا تھا کہ اور لوگ کھارہے ہیں یا نہیں۔ کوئی اس فکر میں تھا کہ پتّل پرپوریاں چھوٹی جاتی ہیں۔ کاش کسی طرح انھیں اندررکھ لیتا۔ کوئی دہی کھاکے زبان چٹخارتا تھا لیکن دوسرا سنکورامانگتے ہوئے شرماتا تھا کہ اتنے میں بوڑھی کاکی رینگتی ہوئی ان کے بیچ میں جا پہنچیں۔ کئی آدمی چونک کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ آوازیں آئیں۔ ’’ ارے یہ کون بڑھیا ہے؟ دیکھ کسی کو چھومت ،اے۔‘‘
پنڈت بد ھ رام کاکی کو دیکھتے ہی غصّے سے تِلملا گئے۔ پوریوں کا تھال لیے کھڑے تھے۔ تھال کو زمین پر پٹک دیا اور جس طرح بے رحم ساہو کار اپنے کسی نادہند مغرور اسامی کو دیکھتے ہی جھپٹ کر اس کا ٹیٹوالیتا ہے اسی طرح لپک کر انھوں نے بوڑھی کاکی کے دونوں شانے پکڑے اورگھیٹتے ہوئے لاکر انھیں اس اندھیری کوٹھری میں دھم سے گرادیا۔ آرزوؤں کا سبزباغ لوٗکے ایک جھونکے میں ویران ہوگیا۔
مہمانوں نے کھانا کھایا، گھروالوں نے کھایا، باجے والے بھی کھاچکے لیکن بوڑھی کاکی کو کسی نے نہ پوچھا۔ بدھ رام اور روپا دونوں ہی انھیں ان کی بے حیائی کی سزادینے کا تصفیہ کرچکے تھے۔ ان کے بڑھاپے پر، بے کسی پر، فتورِ عقل پر کسی کو ترس نہیں آتا تھا۔ اکیلی لاڈلی ان کے لیے کُڑھ رہی تھی۔
لاڈلی کو کاکی سے بہت اُنس تھا ۔ بے چاری بھولی، سیدھی لڑکی تھی۔ طفلا نہ شوخی اورشرات کی اس میں بو تک نہ تھی۔ دونوں بار جب اس کے ماں اور باپ نے کاکی کو بے رحمی سے گھسیٹا تو لاڈلی کا کلیجہ بیٹھ کر رہ گیا۔ وہ جھنجھلا رہی تھی کہ یہ لوگ کاکی کو کیوں بہت سی پوریاں نہیں دے دیتے۔ کیا مہمان سب کی سب تھوڑے ہی کھاجائیں گے اور اگر کاکی نے مہمانوں سے پہلے ہی کھالیا توکیا بگڑجائے گا؟ وہ کاکی کے پاس جاکر انھیں تشفّی دینا چاہتی تھی لیکن ماں کے خوف سے نہ جاتی تھی۔ اس نے اپنے حصّے کی پوریاں مطلق نہ کھائی تھیں۔ اپنی گڑیوں کی پٹاری میں بندکررکھی تھیں۔ وہ یہ پوریاں کاکی کے پاس لے جانا چاہتی تھی۔اس کا دل بے قرار ہورہا تھا۔ بوڑھی کاکی میری آواز سنتے ہی اٹھ بیٹھیں گی۔ پوریاں دیکھ کر کیسی خوش ہوں گی۔ مجھے خوب پیار کریں گی۔
رات کے گیار ہ بج چکے تھے۔ روپا آنگن میں پڑی سورہی تھی۔ لاڈلی کی آنکھوں میں نیند نہ آتی تھی۔ کاکی کو پوریاں کھلانے کی خوشی اسے سونے نہ دیتی تھی۔ اس نے گڑیوں کی پٹاری سامنے ہی رکھی۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ اماّں غافل سورہی ہیں تو وہ چپکے سے اٹھی اور سوچنے لگی کہ کیسے چلوں۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ صرف چولھوں میں آگ چمک رہی تھی۔ اور چولھوں کے پاس ایک کُتّا لیٹا ہوا تھا۔ لاڈلی کی نگاہ دروازے والے نیم کے درخت کی طرف گئی۔ اسے معلوم ہواکہ اس پر ہنومان جی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی دُم، ان کی گداسب صاف نظر آتی تھی۔ مارے خوف کے اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں کُتّا اٹھ بیٹھا ۔ لاڈلی کو ڈھارس ہوئی۔ کئی سوتے ہوئے آدمیوں کی بہ نسبت ایک جاگتا ہوا کتّا اس کے لیے زیادہ تقویت کا باعث ہوا۔ اس نے پٹاری اٹھائی اور بوڑھی کاکی کی کوٹھری کی طرف چلی۔
بوڑھی کاکی کو محض اتنا یاد تھا کہ کسی نے میرے شانے پکڑے، پھر انھیں ایسا معلوم ہواجیسے کوئی پہاڑ اڑائے لیے جاتا ہے۔ ان کے پیر باربار پتھروں سے ٹکرائے۔ تب کسی نے انھیں پہاڑ پر سے پٹک دیا۔ وہ بے ہوش ہوگئیں۔
جب ان کے ہوش بجاہوئے تو کسی کی ذرابھی آہٹ نہ ملتی تھی۔ سمجھ گئیں کہ سب لوگ کھاپی کر سوگئے اور ان کے ساتھ میری تقدیر بھی سوگئی۔ رات کیسے کٹے گی۔ رام! کیا کھاؤں؟ پیٹ میں آگ جل رہی ہے۔ ہائے! کسی نے میری سُدھ نہ لی۔ کیا میرا ہی پیٹ کاٹنے سے دھن ہوجائے گا؟ ان لوگوں کو اتنی دَیا بھی نہیں آتی کہ بڑھیا نہ جانے کب مرجائے۔ اس کا رویاں کیوں دُکھائیں۔ میں پیٹ کی روٹیاں ہی کھاتی ہوں کہ اور کچھ ۔ اس پر یہ حال ۔ میں اندھی اپاہج ٹھہری۔ نہ کچھ سوجھے نہ بوجھے۔ اگر آنگن میں چلی گئی تو کیا بدھ رام سے اتنا کہتے نہ بنتا تھا کہ کاکی ابھی لوگ کھارہے ہیں۔ پھر آنا۔ مجھے گھسیٹا، پٹکا۔ انھیں پوریوں کے لیے روپا نے سب کے سامنے گالیاں دیں۔ انھیں پوریوں کے لیے اور اتنی درگت کرکے بھی ان کا پتّھر کا کلیجہ نہ پسیجا۔ سب کو کھلایا۔ میری بات نہ پوچھی۔ جب تب ہی نہ دیا تو اب کیا دے گی۔ یہ سوچ کر مایوسا نہ صبر کے ساتھ لیٹ گئیں۔ رِقّت سے گلا بھر بھر آتا تھا۔ لیکن مہمانوں کے لحاظ سے روتی نہ تھیں۔
یکایک ان کے کان میں آواز آئی۔ ’’کاکی اٹھو میں پوریاں لائی ہوں۔‘‘
کاکی نے لاڈلی کی آواز پہچانی۔ چٹ پٹ اٹھ بیٹھیں۔ دونوں ہاتھ سے لاڈلی کو ٹٹولا اور اسے گود میں بٹھالیا۔ لاڈلی نے پوریاں نکال کر دیں۔ کاکی نے پوچھا۔
’’کیا تمھاری اماّں نے دی ہیں؟‘‘

لاڈلی نے فخر سے کہا ’’ نہیں یہ میرے حصّے کی ہیں۔‘‘
کاکی پوریوں پر ٹوٹ پڑیں۔ پانچ منٹ میں پٹاری خالی ہوگئی۔ لاڈلی نے پوچھا، ’’کاکی پیٹ بھر گیا؟‘‘
جیسے تھوڑی سی بارش ٹھنڈک کی جگہ اور بھی اُمس پیداکردیتی ہے۔ اسی طرح ان چند پوریوں نے کاکی کی اشتہا اور رغبت کو اور بھی تیز کردیا تھا۔ بولیں، ’’ نہیں بیٹی جاکے اماّں سے اور مانگ لاؤ۔‘‘
لاڈلی: ’’اماں سوتی ہیں۔ جگاؤں گی تو اماّں ماریں گی۔‘‘
کاکی نے پٹاری کو پھر ٹٹولا۔ اس میں چند ریزے گرے تھے۔ انھیں نکال کر کھاگئیں۔ باربار ہونٹ چاٹتی تھیں۔ چٹخارے بھرتی تھیں۔ دل مسوس رہا تھا کہ اور پوریاں کیسے پاؤں؟ صبر کا باندھ جب ٹوٹ جاتا ہے تو خواہش کا بہاؤ قابوسے باہر ہوجاتا ہے۔ مستوں کو سرور کی یاددلانا انھیں دیوانہ بناتا ہے۔ کاکی کا بیتاب دل خواہش کے اس بہاؤ میں بہہ گیا۔ حلال حرام کی تمیز نہ رہی۔ وہ کچھ دیر تک اس خواہش کو روکتی رہیں۔ یکا یک لاڈلی سے بولیں۔
’’میراہاتھ پکڑ کروہاں لے چلو جہاں مہمانوں نے بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔‘‘
لاڈلی ان کا منشانہ سمجھ سکی۔ اس نے کاکی کا ہاتھ پکڑا اور انھیں لاکر جھوٹے پتّلوں کے پاس بٹھادیا اور غریب بھوک کی ماری فاترالعقل بڑھیا پتّلوں سے پوریوں کے ٹکڑے چن چن کر کھانے لگی۔ دہی کتنا لذیذ تھا۔ سالن کتنا مزے دار ، کچوریاں کتنی سلونی۔ سموسے کتنے خستہ اور نرم ۔؟
کاکی فتور عقل کے باوجود جانتی تھیں کہ میں وہ کررہی ہوں جو مجھے نہ کرنا چاہیے۔ میں دوسروں کے جھوٹے پتّل چاٹ رہی ہوں۔ لیکن بڑھاپے کی حرص، مرض کا آخری دورہے۔ جب سارے حواس ایک ہی مرکز پر آکر جمع ہوجاتے ہیں۔ بوڑھی کاکی میں یہ مرکز ان کا حسنِ ذائقہ تھا۔
عین اسی وقت روپاکی آنکھ کھلی۔ اسے معلوم ہوا کہ لاڈلی میرے پاس نہیں ہے، چونکی چارپائی کے ادھر اُدھر تاکنے لگی کہ کہیں لڑکی نیچے تو نہیں گرپڑی ۔ اسے وہاں نہ پاکر وہ اٹھ بیٹھی تو کیا دیکھتی ہے کہ لاڈلی جھوٹے پتّلوں کے پاس چپ چاپ کھڑی ہے اور بوڑھی کاکی پتّلوں پر سے پوریوں کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر کھارہی ہیں۔ روپا کا کلیجہ سن سے ہوگیا۔ ایک برہمنی دوسروں کا جھوٹا پتّل ٹٹولے اس سے عبرتناک نظارہ ناممکن تھا۔ پوریوں کے چند لقموں کے لیے اس کی چچیری ساس ایسا رکیک اور حقیر فعل کررہی ہے۔ یہ وہ نظارہ تھا جس سے دیکھنے والوں کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا کہ زمین رک گئی ہے۔ آسمان چکّر کھا رہاہے۔ دنیا پر کوئی نئی آفت آنے والی ہے۔ روپا کو غصّہ نہ آیا۔ عبر ت کے سامنے غصّے کا ذکر کیا؟ درد اور خوف سے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس دھرم اور پاپ کا الزام کس پر ہے؟ اس نے صدقِ دل سے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا، ’’پرماتما! میرے بچوّں پر رحم کرنا۔ اس ادھرم کی سزا مجھے مت دینا۔ ہماراستیاناس ہوجائے گا۔‘‘
روپا کو اپنی خود غرضی اور بے انصافی آج تک کبھی اتنی صفائی سے نظر نہ آئی تھی ۔ ہائے میں کتنی بے رحم ہوں۔ جس کی جائدادسے مجھے دوسوروپے سال کی آمدنی ہورہی ہے۔ اس کی یہ درگت اور میرے کارن۔ اے ایشور مجھ سے بڑا بھاری گناہ ہوا ہے، مجھے معاف کرو۔ آج میرے بیٹے کا تلک تھا۔ سیکڑوں آدمیوں نے کھانا کھایا۔ میں ان کے اشار ے کی غلام بنی ہوئی تھی۔ اپنے نام کے لیے، اپنی بڑائی کے لیے سیکڑوں روپے خرچ کردیے لیکن جس کی بدولت ہزاروں روپے کھائے اسے اس تقریب کے دن بھی پیٹ بھر کر کھانا نہ دے سکی۔ محض اس لیے نہ کہ وہ بڑھیا ہے، بے کس ہے، بے زبان ہے۔
اس نے چراغ جلایا۔ اپنے بھنڈار ے کا دروازہ کھولا اور ایک تھالی میں کھانے کی سب چیز یں سجا کر لیے ہوئے بوڑھی کاکی کی طرف چلی۔
آدھی رات ہوچکی تھی، آسمان پر تاروں کے تھال سجے ہوئے تھے اور ان پر بیٹھے ہوئے فرشتے بہشتی نعمتیں سجارہے تھے۔ لیکن ان میں کسی کو وہ مسّرت نہ حاصل ہوسکتی تھی جو بوڑھی کاکی کو اپنے سامنے تھال دیکھ کر ہوئی۔ روپانے رقّت آمیز لہجہ میں کہا۔
’’کاکی اٹھوکھانا کھالو۔ مجھ سے آج بڑی بھول ہوئی۔ اس کا برانہ ماننا۔ پرماتما سے دعاکرو کہ وہ میری خطامعاف کردے۔‘‘
بھولے بھالے بچّے کی طرح جو مٹھائیاں پاکر مار اور گُھڑکیاں سب بھول جاتا ہے، بوڑھی کاکی بیٹھی ہوئی کھانا کھارہی تھیں۔ ان کے ایک ایک روئیں سے سچی دعائیں نکل رہی تھیں اور روپا بیٹھی یہ روحانی نظارہ دیکھ رہی تھی۔
(منشی پریم چند)
مشق
سوالات
1. کاکی کے عزیزوں میں کون کون باقی بچا تھا؟
2 . روپا نے کاکی کو کڑاہ کے پاس بیٹھے دیکھ کر غصّے میں کیا کہا؟
3. لاڈلی کو نیند کیوں نہیں آرہی تھی؟
4. کاکی کو جھوٹے پتّل چاٹتے دیکھ کر روپا کا ردِّعمل کیا تھا؟
5. روپا کے معافی مانگنے پر کاکی نے کیاکِیا؟