Skip to content
Dhanak-001




ناول

ناول اُس نثر ی صِنف کوکہاجاتاہے جس میں ایک مربوط قصہ بیان کیاگیاہواورجو ایک وسیع پس منظر میں زندگی کی ترجمانی کرتا ہو۔ ناول  کا فن دراصل معاشرتی یا انفرادی زندگی کی ترجمانی اور تصویر کشی کا فن ہے۔ ناول نویس اپنے فکر وخیال سے ایک نئی حقیقت وضع کرتا ہے جو دراصل زندگی سے ماخوذ ہوتی ہے۔ روایتی ناول کے اجزائے ترکیبی میں پلاٹ یعنی کہانی،کردار،مکالمہ اور نظریۂ حیات پر بالخصوص زور دیا جاتا ہے۔ ان اجزا میں منظر نگاری بھی شامل ہے لیکن ناول کے فن میں بہت تنوّع ہے۔

اُنیسویں صدی عیسوی کے نصفِ آخر میں ہندوستان غیر ملکی سامراج کے شکنجے میں تھا لیکن مغربی تعلیم کے اثر سے   نشاۃُ الثّانِیہ کے آثار پیدا ہونے لگے تھے۔ اس زمانے میں نذیر احمد اور ان کے معاصرین کے ہاتھوں اردو ناول کا آغاز ہوا۔اردو کے ابتدائی ناول قصّوں کی شکل میں وجود میں آئے جن کا بنیادی مقصد اخلاقی اور معاشرتی اصلاح تھا۔ نذیر احمد کے ناولوں میں ’’مِراۃ العروس‘‘،’’توبتہ النّصوح‘‘،’’ابن الوقت‘‘ اور ’’فسانۂ مبتلا‘‘ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔رتن ناتھ سر شار نے کئی ناول لکھے لیکن ’’فسانۂ آزاد‘‘ کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔سرشار کے ہم عصر وں میں سجاد حسین، قاری سرفراز حسین اور  عبدالحلیم شرر خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔شرر کے تاریخی ناول بہت مقبول ہوئے۔مرزا محمد ہادی رسواکے ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں ہوتا ہے۔رسواکے بعد پریم چند اردو کے سب سے بڑے ناول نگار ہیں۔انھوں نے ہندوستان کے دیہات کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔پریم چند کے ناولوں میں ’’گئودان‘‘ شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ پریم چند کے بعد کرشن چندر، عصمت چغتائی،حیات اللہ انصاری، عزیز احمد ، خدیجہ مستور، قرۃ العین حیدر،عبداللہ حسین،جمیلہ ہاشمی، قاضی عبدالستار اور انتظار حسین اردو کے اہم ناول نگار ہیں۔

11

ڈپٹی نذیر احمد

(1831 – 1912) 

ڈپٹی نذیر احمد اُتّر پردیش کے ضلع بجنور، تحصیل نگینہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ریہڑ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولوی سعادت علی تھا۔ نذیر احمد کی ابتدائی تعلیم بجنور ، مظفّر نگر اور دہلی میں ہوئی ۔اعلیٰ تعلیم دلّی کالج میں ہوئی جو اب ذاکر حسین کالج کے نام سے مشہور ہے۔ 

1854 میں تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے پنجاب کے ایک مدرسے میں مدرّسی کا پیشہ اختیار کیا۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ’شمس العلما‘ کا خطاب دیا۔ 1902 میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی ڈگری تفویض کی۔

ڈپٹی نذیر احمد ناول نگار، ادیب، ترجمہ نگار اور مقرّر تھے۔ اردوکے ابتدائی اہم ناول نگاروں میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ ’’مراۃ العروس‘‘ ،’’بنات النّعش‘‘،’’ توبتہ النّصو ح‘‘ اور ’’ابن الوقت‘‘ ان کے اہم ناول ہیں۔ ان کے ناول حقیقت پسندی ، اخلاقی تربیت اورسماجی اصلاح کا مثالی نمونہ ہیں۔

مرزاظاہر داربیگ

مرزا کی کیفیت یہ تھی کہ شاید اس کا نانا، وہ بھی حقیقی نہیں، ابتداے عمل داریِ سرکار میں جناب ریزیڈنٹ کی اردلی کا جمعدار تھا۔ اوّل تو ایسی عالی جاہ سرکار، دوسرے با اعتبارِ منصب اردلی کا جمعدار ۔ مرزا کی ماں اوائل عمر میں بیوہ ہوگئی تھی۔

 جمعدار اگرچہ بہت کچھ وصیت کر مرے تھے، مگر اُن کے ورثانے بہ ہزاردقّت محل سراکے پہلومیں ایک بہت چھوٹاسا قطعہ اِس کے رہنے کو دیا اور سات روپے مہینے کے کرائے کی دکانیں مرزا کے نام کردیں۔ یہ تو حال تھا کہ مرزا، مرزا کی ماں، مرزاکی بیوی، تین تین آدمی اور سات روپے کی کُل کائنات ، اس پر مرزا کی شیخی اور نموٗد۔ یہ مسخرہ اس ہستی پر چاہتا تھا کہ جمعدار والوں کی برابری کرلے، جن کو صدہاروپے ماہوار کی آمدنی تھی۔ اگر چہ جمعدار والے اس کو مُنہ نہ لگاتے تھے، مگر یہ بے غیر ت زبردستی اُن میں گھُستا تھا۔ ماں بے چاری بہتیرا، بکتی ، مگر کون سُنتا تھا؟ مرزا کو جب دیکھو، پاؤں میں ڈیڑھ حاشیے کی جوٗتی ، سرپردوہری بیل کی بھاری کامدار ٹوپی، بد ن میں ایک چھوڑ دودو انگرکھے ، اوپر ہلکی سی تن زیب نیچے کوئی طرح دارڈھا کے کانینو، جاڑا ہوا تو بانات، مگر سات روپے گز سے کم کی نہیں، ریشمی ازار بند، گھٹنوں میں لٹکتا ہوا اور اس میں قفل کی کنجیوں کا گچھّا۔ غرض دیکھا تو مرزا صاحب اس ہیئتِ کذائی سے چھیلا بنے ہوئے سرِبازار چھم چھم کرتے چلتے جارہے ہیں۔

کلیم سے اور مرزاسے محفلِ مشاعرہ میں تعارف ہوا۔ شدہ شدہ مرزاصاحب کلیم کے مکان پر تشریف لانے لگے۔ یہاں تک کہ چندروزسے تو دونوں میں ایسی گاڑھی چھننے لگی تھی کہ گویا ایک جان دوقالب تھے۔ کلیم کو تو مرزا کے مکان پر جانے کا کبھی اتّفاق نہیں ہوا، مگر مرزا شام کو تو کبھی کبھی، لیکن صبح کو بلا نا غہ آتے ، اور تمام تمام دن کلیم کے پاس رہتے ۔ مرزا نے اپنا اصلی حال کلیم پر ظاہر نہیں ہونے دیا اور اسی غلط فہمی میں وہ گھر سے نکلا تو سیدھا جمعدار کے محل سراکی ڈیوڑھی پر جا موجود ہوا۔ باربار کے پکارنے اور کنڈی کھڑکھڑانے سے دولونڈیاں چراغ لیے ہوئے اندر سے نکلیں اور اُن میں سے ایک نے پوچھا، ’’کون صاحب ہیں، اور اتنی رات گئے کیا کام ہے؟‘‘

کلیم: ’’جاؤ، مرزا کو بھیج دو۔‘‘

لونڈی:   ’’کون مرزا؟‘‘

کلیم: ’’ مرزاظاہر داربیگ، جن کا مکان ہے اور کون مرزا؟‘‘

لونڈی: ’’یہاں کوئی ظاہر دار بیگ نہیں رہتا۔‘‘

اتنا کہہ کر، قریب تھا کہ لونڈی پھر کو اڑبند کر لے کہ جلدی سے کلیم نے کہا، ’’ کیوں جی !کیا یہ جمعدار صاحب کی محل سرانہیں؟‘‘

لونڈی: ’’ ہے کیوں نہیں؟‘‘

کلیم: ’’ پھر تم نے یہ کیا کہا کہ یہاں کوئی ظاہردار بیگ نہیں۔ کیا ظاہر داربیگ جمعدار کے وارث اورجانشین نہیں؟‘‘

لونڈی: ’’جمعدار کے وارثوں کو خداسلامت رکھے ۔ مواظاہر داربیگ جمعدار کا وارث بننے والا کون ہوتا ہے؟‘‘

دوسری لونڈی:  ’’ اری کم بخت! یہ کہیں مرزا بانکے کے بیٹے کو نہ پوچھتے ہوں۔ وہ ہر جگہ اپنے تئیں جمعدار کا بیٹا بتایاکرتا ہے۔ (کلیم کی طرف مخاطب ہوکر) کیوں میاں! وہی ظاہر دار بیگ نا، جن کی رنگت زردہے، آنکھیں کرنجی، چھوٹا قد، دُبلا ڈیل، اپنے تئیں بہت بنائے سنوارے رکھتے ہیں۔‘‘

کلیم : ’’ ہاں ہاں، وہی ظاہر داربیگ۔‘‘

لونڈی: ’’ تو میاں! اس مکان کے پچھواڑے، اُپلو ں کی ٹال کے برابر ایک چھوٹا سا کچّا مکان ہے، وہ اُس میں رہتے ہیں۔‘‘

(کلیم نے وہاں جاکر آوازدی تو کچھ دیر بعد مرزاصاحب ننگ دھڑنگ جانگھیہ پہنے ہوئے باہرتشریف لائے اور کلیم کو دیکھ کر شرمائے اور بولے ، ’’اہا ! آپ ہیں، معاف کیجیے گا ، میں سمجھا کوئی اور صاحب ہیں۔ بندے کو کپڑے پہن کر سونے کی عادت نہیں۔ میں ذرا کپڑے پہن آؤں تو آپ کے ہم رکاب چلوں۔‘‘)

کلیم : ’’چلیے گا کہاں؟ میں آپ ہی کے پاس تک آیا تھا۔‘‘

مرزا: ’’پھر اگر کچھ دیر تک تشریف رکھنا منظور ہوتو میں اندر پردہ کرادوں؟‘‘

کلیم: ’’میں آج شب کو آپ ہی کے یہاں رہنے کی نیت سے آیا ہوں۔‘‘

مرزا: ’’ بسم اللہ تو چلیے، اسی مسجد میں تشریف رکھیے۔ بڑی فضا کی جگہ ہے۔ میں ابھی آیا۔‘‘

 کلیم نے جو مسجد میں آکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک نہایت پُرانی چھوٹی سی مسجد ہے۔ مسجدِ ضرار کی طرح وحشت ناک، نہ کوئی حافظ ہے نہ مُلاّ، نہ طالب علم نہ مسافر، ہزارہا چمگادڑیں اُس میں رہتی ہیں کہ ان کی تسبیح ِبے ہنگام سے کان کے پردے پھٹے جاتے ہیں۔ فرش پر اس قدر بیٹ پڑی ہے کہ بجائے خود کھڑنجے کا فرش بن گیا ہے۔ مرزا کے انتظار میں کلیم کو چاروناچار اسی مسجد میں ٹھہرنا پڑا۔ مرزا آئے بھی تو اتنی دیر کے بعد کہ کلیم مایوس ہوچکا تھا۔ قبل اس کے کہ کلیم شکایت کرے، مرزا صاحب فرمانے لگے کہ بندے کے گھر میں کئی دن سے طبیعت علیل ہے۔ اب جو میں آپ کے پاس سے گیا تو ان کو غشی میں پایا۔ اس وجہ سے دیر ہوئی۔ پہلے یہ تو فرمائیے کہ اس وقت بندہ نوازی فرمانے کی کیا وجہ ہے؟‘‘

کلیم نے باپ کی طلب، اپنا انکار، بھائی کی التجا، ماں کا اصرار، تمام ماجراکہہ سُنایا۔

مرزا: ’’ پھر اب کیا ارادہ ہے؟‘‘

کلیم: ’’ سوائے اس کے کہ اب گھرلوٹ کرجانے کا ارادہ تو نہیں ہے اور جو آپ کی صلاح ہو۔‘‘

مرزا : ’’ خیر، بہت شب حرام، صبح تو ہو، آپ بے تکلف استراحت فرمائیے ۔میں جاکر بچھونا وغیرہ بھیجے دیتاہوں۔ مریضہ کی تیمارداری کے لیے اجازت دیجیے کہ آج اس کی علالت میں اشتداد ہے۔‘‘

کلیم: ’’یہ ماجراکیا ہے؟ تم تو کہا کرتے تھے کہ ہمارے یہاں دوہری محل سرائیں، متعدّد دیوان خانے، کئی پائیں باغ ہیں۔ حوض اور حمام اور کٹرے اور گنج اور دُکانیں اور سرائیں ہیں ۔ میں تو جانتاہوں عمارت کی قسم سے کوئی چیز ایسی نہ ہوگی جسے تم نے اپنی مِلک نہ بتایا ہو یا یہ حال کہ ایک متنفّس کے واسطے ایک شب کے لیے تمھیں جگہ میسر نہیں۔ جو جو حالات تم نے اپنی زبان سے بیان کیے، اُن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ جمعدار کے تمام ترکے پرتم قابض اور متصّرف ہو۔ لیکن میں اُس تمام جاہ و حشمت کا ایک شمّہ بھی نہیں دیکھتا۔‘‘

مرزا: ’’آپ کو میری نسبت سے سخن سازی کا احتمال ہونا سخت تعجّب کی بات ہے۔ اتنی مدت مجھ سے آپ سے صحبت رہی۔ مگر افسوس ہے کہ آپ نے میری طبیعت اور عادت کو نہ پہچانا۔ یہ اختلافِ حالت جو آپ دیکھتے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بندے کو جمعدار صاحب مرحوم ومغفور نے متبنّیٰ کیا تھا اور جانشین کر مرے تھے۔ شہر کے کل رؤسا اس سے واقف اور آگاہ ہیں۔ اُن کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس میں رخنہ اندازیاں کیں۔ بندے کو آپ جانتے ہیں کہ بکھیڑے سے کو سوں بھاگتا ہے۔ صحبتِ ناملائم دیکھ کر کنارہ کش ہوگیا، لیکن کسی کو انتظام کا سلیقہ، بندوبست کا حوصلہ نہیں، اسی روز سے اندر باہر واویلامچی ہوئی ہے اور اس بات کے مشورے ہورہے ہیں کہ بندے کو منالے جائیں۔‘‘

کلیم: ’’ لیکن آپ نے کبھی تذکرہ بھی نہیں کیا۔‘‘

مرزا: ’’ اگر میں آپ سے یا کسی سے تذکرہ کرتا تو استقلالِ مزاج سے بے بہرہ اور غیرت وحمیّت سے بے نصیب ٹھہرتا ۔ ا ب آپ کوکھڑے رہنے میں تکلیف ہوگی۔ اجازت دیجیے کہ میں جاکر بچھونا بھجو ادوں اور مریضہ کی تیمارداری کروں۔‘‘

کلیم: ’’ خیر، مقامِ مجبوری ہے، لیکن پہلے ایک چراغ تو بھیج دیجیے۔ تاریکی کی وجہ سے طبیعت اور بھی گھبراتی ہے۔‘‘

مرزا: ’’ چراغ کیا، میں نے تو لیمپ روشن کرانے کا ارادہ کیا تھا، لیکن گرمی کے دن ہیں پروانے بہت جمع ہوجائیں گے اور آپ زیادہ پریشان ہوجیے گا اور مکان میں ابابیلوں کی بھی کثرت ہے۔ روشنی دیکھ کر گرنے شروع ہوں گے اور آپ کا بیٹھنا دشوار کردیں گے۔ تھوڑی دیر صبر کیجیے کہ ماہتاب نکلاآتا ہے۔‘‘

کلیم جب گھر سے نکلاتھا تو کھانا تیار تھا لیکن وہ اس قدر طیش میں تھا کہ اُس نے کھانے کی مطلق پروانہ کی۔ بے کھاوے نکل کھڑاہوا۔ مرزا سے ملنے کے بعد وہ منتظر تھا کہ آخر مرزا خود پوچھیں گے ہی تو کہہ دوں گا۔ مرزا کو ہر چند کھانے کی نسبت پوچھنا ضرور تھا۔ کیوں کہ اوّل تو رات کچھ ایسی زیادہ نہیں گئی تھی۔ دوسرے اسے یہ معلوم ہوچکا تھا کہ کلیم گھر سے نکلا ہے۔ تیسرے دونوں میں بے تکلفی غایت درجے کی تھی، لیکن مرزا قصداًاِس بات سے معترض ہی نہ ہوا اور کلیم بے چارے کا یہ حال کہ مسجد میں آنے سے پہلے اُس کی انتڑیوں نے قُلْ ھُوَ اللہ پڑھنی شروع کردی تھی۔ جب اُس نے دیکھا کہ مرزا کسی طرح اس پہلو پر نہیں آتا اور عن قریب تمام شب کے واسطے رخصت ہواچاہتا ہے توبے چارے نے بے غیرت بن کر کہا، ’’سنویار! میں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔‘‘

مرزا: ’’سچ کہو! نہیں‘ جھوٹ بہکاتے ہو۔‘‘

کلیم: ’’ تمھارے سر کی قسم‘ میں بھوکاہوں۔‘‘

مرزا: ’’ مردِخدا! تونے آتے ہی کیوں نہیں کہا؟ اب اتنی رات گئے کیا ہوسکتا ہے؟ دوکانیں سب بند ہوگئیں اور جو ایک دوکُھلی بھی ہیں تو باسی چیزیں رہ گئی ہوں گی جن کے کھانے سے فاقہ بہتر۔ گھر میں تو آج آگ تک نہیں سُلگی، مگر ظاہراً تم سے بھوک کی سہار ہونی مشکل معلوم ہوتی ہے۔ دیو ِاشتہا کو زیر کرنا بہت ہمّت والوں کا کام ہے۔ ایک تدبیر سمجھ میں آئی ہے کہ جاؤں چھدامی بھڑ بھونجے کے یہاں سے گرما گرم چنے کی دال بنوالاؤں۔ بس ایک دھیلے کی مجھے اور تجھے دونوں کو کافی ہوگی، رات کا وقت ہے۔‘‘

ابھی کلیم کچھ کہنے ہی نہ پایا تھا کہ مرزا جلدی سے اُٹھ ، باہر گئے اور چشم زدن میں چنے بُھنو الائے۔ مگر دھیلے کے کہہ کرگئے تھے، یا تو کم کے لائے یاراہ میں دوچار پھنکے لگائے، اس واسطے کہ کلیم کے روبہ رد دوتین مٹّھی چنے سے زیادہ نہ تھے۔

مرزا: ’’یار! ہو بڑے خوش قسمت، اس وقت بھاڑمل گیا۔ واللہ ذراہاتھ تو لگاؤ دیکھو کیسے بھلس رہے ہیں اور سوندھی سوندھی خوش بو، عجیب ہی دل فریب ہے کہ بس بیان نہیں ہوسکتا ۔تعجب ہے کہ لوگوں نے خس اور مٹّی کا عطر نکالا ۔ مگر بُھنے ہوئے چنوں کی طرف کسی کا ذہن منتقل نہیں ہوا۔ کوئی فن ہو، کمال بھی کیا چیز ہے۔ دیکھیے، اتنی رات گئی ہے مگر چھدامی کی دوکان پر بھیڑلگی ہوئی ہے۔ بندے نے بہ تحقیق سنا ہے کہ حضورِوالا کے خاصے میں چھدامی کی دوکان کا چنا بلاناغہ لگ کرجاتا ہے اور واقع میں آپ ذراغور سے دیکھیے کیا کمال کرتا ہے کہ بھوننے میں چنوں کو سڈول بنا دیتا ہے۔ بھئی ! تمھیں میرے سر کی قسم، سچ کہنا۔ ایسے خوب صورت خوش قطع، سڈول چنے تم نے پہلے بھی کبھی دیکھے تھے؟ دال بنانے میں اُسے کمال حاصل ہے کہ کسی دانے پر خراش تک نہیں، ٹوٹنے پھوٹنے کا کیا مذکور! دانوں کی رنگت دیکھیے، کوئی بسنتی ہے، کوئی پستئی ، غرض دونوں رنگ خوش نما۔ یوں تو صدہا قسم کے غلّے اور پھل زمین سے اُگتے ہیں لیکن چنے کی لذّت کو کوئی نہیں پاتا۔‘‘

غرض، مرزا نے اپنی چرب زبانی سے چنوں کو گھی کی تلی دال بنا کر اپنے دوست کلیم کو کھلایا۔ کلیم بھوکا تو تھا ہی، اُسے بھی ہمیشہ سے کچھ زیادہ مزے دار معلوم ہوئے۔ مرزا نے گھر جاکر ایک میلی دری اور ایک کثیف ساتکیہ بھیج دیا۔ دوہی گھڑی میں کلیم کی حالت کا اس قدر متغیّر ہوجانا عبرت کا مقام ہے۔ یا تو خِلوت خانے اور عشرت منزل میں تھا یا اب ایک مسجد میں آکر پڑا اور مسجد بھی ایسی، جس کا تھوڑا ساحال ہم نے اوپر بیان کردیا ہے۔ گھر کے الوانِ نعمت کو لات مارکرنکلا، تو پہلے ہی وقت چنے چبانے پڑے۔ نہ چراغ نہ چارپائی، نہ بہن نہ بھائی، نہ مونس نہ غم خوار، نہ نوکر نہ خدمت گار، مسجد میں اکیلا بیٹھا تھا جیسے قید خانے میں حاکم کا گنہ گار یا قفس میں مرغ نوگر فتار۔ کوئی اور ہوتا تو اس حالت پر تنبیہ پکڑتا۔ اپنی حرکت سے توبہ اور اپنے اعمال سے استغفار کرتا اور اسی وقت نہیں تو سویرے گجردم باپ کے ساتھ نماز میں جاشریک ہوتا۔ لیکن کلیم کو اور بہت سے مضمون سوچنے تھے۔  اس نے رات بھر میں ایک قصیدہ مسجد کی ہجومیں تیار کیا اور ایک مثنوی مرزا کی شان میں۔ صبح ہوتے آنکھ لگ گئی تو نہیں معلوم مرزا یا محلّے کا کوئی اورعیاّر، ٹوپی، جوتی، رومال ، چھڑی، تکیہ، دری یعنی جو چیز کلیم کے بدن سے منفک اور اس کے جسم سے جُدا تھی، لے کر چمپت ہوگیا۔ کلیم یوں بھی بہت دیر کو سوکراُٹھتا تھا اور آج رات تو ایک خاص وجہ تھی۔ کوئی پہرسوا پہر دن چڑھے جاگا تو دیکھتا ہے کہ فرشِ مسجد پر پڑا ہے اور نیند کی حالت میں جو کروٹیں لی ہیں، تو سیروں گرد کا بھبھوٗت اور چمگادڑوں کی بیٹ کا ضمادبدن پرتُھپاہوا ہے۔  حیران ہواکہ  قلبِ ماہیت ہوکرکہیں بھتنا تو نہیں بن گیا۔  مرزا کو ادھر دیکھا، اُدھر دیکھا، کہیں پتا  نہیں۔  مسجد بھی ویران ، اس میں پانی کہاں؟ صبر کرکے بیٹھ رہا، کہ اللہ کا کوئی بندہ ادھر کو آنکلے تو اس کے ہاتھ مرزا کو بلواؤں یامنہ ہاتھ دھوکر خود مرزا تک جاؤں۔ اس میں دوپہر ہونے کو آئی۔ بارے ایک لڑکا کھیلتا ہواآیا، جوں ہی زینے پر چڑھا کہ کلیم اس سے عرضِ مطلب کرنے کے لیے لپکا، وہ لڑکا اس کی ہیت کذائی دیکھ، ڈرکر بھاگا۔ خداجانے اس نے اسے بھوت سمجھا، یا سڑی خیال کیا، کلیم نے بہتیرا پکارا، اس لڑکے نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ ناچار کلیم نے بہ ہزار مصیبت دوسرے فاقہ سے شام پکڑی اور جب اندھیرا ہوا تو اُلّو کی طرح اپنے نشیمن سے نکلا، سید ھا مرزا کے مکان پر گیا اور آوازدی تو یہ جواب ملا کہ وہ تو بڑے سویرے کے قطب صاحب سدھارے ہیں۔ کلیم نے چاہا کہ اپنا تعارف ظاہر کرکے ممکن ہو تو منہ ہاتھ دھونے کو پانی اور مرزا کی پھٹی پرانی جوتی مانگے تاکہ کسی طرح گلی کو چوں میں چلنے کے قابل ہوجائے۔ یہ سوچ کر اس نے کہا، ’’کیوں حضرت! آپ مجھ سے بھی واقف ہیں؟‘‘ اندر سے آواز آئی- ’’ہم تمھاری آواز تو نہیں پہچانتے، اپنا نام ونشان بتاؤ تو معلوم ہو۔‘‘

کلیم: ’’ میرا نام کلیم ہے اور مجھ سے اور مرزا ظاہر داربیگ سے بڑی دوستی ہے۔ بلکہ میں شب کو مرزا صاحب ہی کی وجہ سے مسجد میں تھا۔‘‘

گھر والے : ’’ وہ دری تکیہ کہاں ہے، جو رات تمھارے سونے کے لیے بھیجا گیاتھا؟‘‘

تکیہ اور دری کا نام سُن کر کلیم بہت چکرایا اور ابھی جواب دینے میں تامّل تھا کہ اندر سے آوازآئی، ’’مرزا زبردست بیگ! دیکھنا یہ مردو اکہیں چل نہ دے، دوڑکرتکیہ، دری تو اُس سے لو۔‘‘ کلیم یہ بات سُن کر بھاگا۔ ابھی گلی کے نُکّڑ تک نہیں پہنچا تھا کہ زبردست بیگ نے چور چور کرکے جالیا۔ کلیم نے ہر چند مرزا ظاہر دار بیگ کے ساتھ اپنے حقوقِ معرفت ثابت کیے، مگر زبردست کا ٹھینگا سرپر، اُس نے ایک نہ مانی اور پکڑ کر کو توالی لے گیا۔ کو توال نے سرسری طور پر دونوں کا بیان سُنا اور کلیم سے اس کا بیان سُنا،پوچھا۔ کلیم ہر چند اپنا پتا بتانے میں جھینپتا تھا مگر چاروناچار اسے بتانا پڑا۔ لیکن اس کی حالتِ ظاہر ی ایسی غیر ہورہی تھی کہ اُس کا سچ بھی جھوٹ معلوم ہوتا تھا۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                              (نذیر احمد)

                                  مشق

سوالات

1.   مرزا ظاہر داربیگ کا حُلیہ لکھیے؟

2 .   کلیم کو جس مسجد میں ٹھہرایا گیا اس کی کیفیت لکھیے؟

3.   ظاہر دار بیگ نے چنے کی تعریف میں کیا کہا؟

4.   کلیم جب صبح سوکرا ٹھا تو اس نے خود کو کس حالت میں پایا؟

5.   اس قصّے سے مرزاظاہر داربیگ کے کردار کی کون سی خصوصیات سامنے آتی ہیں؟ لکھیے۔