Skip to content
Dhanak-001


13

پنڈت رتن ناتھ سرشارؔ

(1902-1846)

سرشارؔ لکھنؤ کے ایک معزّز کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ منشی نول کشور نے ان سے ’’فسانۂ آزاد‘‘نام کا ایک ناول نما قصّہ اپنے اخبار کے لیے قِسطوں میں لکھوایا۔ تھوڑے ہی دنوں میں سرشارؔ کی دھوم مچ گئی۔ کہنے کو یہ لکھنؤ کے ایک نوجوان میاں آزاد کی داستان ہے۔ لیکن کتاب کا بڑا حصّہ دوسرے بہت سے چھوٹے چھوٹے واقعات اور قصّہ در قصّہ کی طرح مناظر پر مشتمل ہے۔ کرداروں، واقعات اور جگہوں کی اس بھیڑمیں ہنسی مذاق بھی ہے۔اس زمانے کی تہذیب کی طنزیہ یا ہمدردانہ تصویریں بھی ہیں، انگریزی اور ہندوستانی مزاج و تہذیب کا ایک دوسرے پر اثر اور ردِّ عمل بھی ہے۔ سرشارؔ کو ہر طرح کی زبان کے استعمال پر قدرت حاصل تھی۔ وہ موقع و محل کے لحاظ سے سلیس و سادہ، فارسی آمیز اور مرصّع عبارت بے تکلّف لکھتے تھے۔

صف شکن بٹیر 

میاں آزاد نواب کی ڈیوڑھی پرآئے اور آداب بجالائے۔ اتنے میں ایک چوب دار برہنہ سر، پریشان ومُضطر لپکتا ہواآیا۔’’ خداوند! بڑاغضب ہوگیا۔‘‘’’ کیا کہتے ہو؟‘‘ ’’کیا کہوں؟‘‘  ’’کہو، ایں ! خیرہے؟ بولوتو!‘‘

سب کا رنگ فق کہ خُدا ہی خیر کرے ،نواب کا کلیجہ دہل گیا۔ ’’میاں! کچھ منہ سے بولو سرسے کھیلو، آخر کیا آفت آئی ؟ کچھ معلوم تو ہو؟‘‘

چوب دار: ( ہاتھ جوڑکر) ’’ جان بخشی ہوتو عرض کروں۔ بٹیر سب اُڑگئے‘‘۔

14

نواب            : (ہاتھ ملتے ہوئے) ’’ سب؟ ارے سب اُڑگئے؟ ہائے ! میرے صف شکن کو جو ڈھونڈلائے، ہزار نقد انقد پائے۔ اس وقت میں جیتے جی مرمٹا۔ اُف! بھائی اُف! ابھی سانڈنی سواروں کو حکم دو کہ پنج کو سی دورہ کریں، جہاں صف شکن ملے ، سمجھا بجھا کرلے ہی آئیں۔‘‘

مُصاحب          :   ’’ خداوند! سمجھانا کیسا؟ وہ بھی کوئی آدمی ہے کہ سمجھ جائے گا؟ جنور لاکھ پڑھے، پھر جنورہے۔‘‘

نواب            : ’’کوئی ہے۔‘‘

رُفقا              :      حاضر پیرومرشد! خداوند! جی حضور۔

نواب            :      ’’ان پر جوتے پڑیں۔ لوصاحب! ہم تو اس وقت گھبرائے ہوئے ہیں یہ بات کاٹتا ہے۔ صف شکن کو ایسے گدھوں سے زیادہ تمیز ہے۔‘‘

رُفقا              : ’’حق ہے اے حضور! وہ تو عربی سمجھ لیتا ہے۔‘‘ 

دوسرے بولے   : ’’ خُداوند! اُسے قرآن کے کئی پارے یاد ہیں۔‘‘ 

تیسرے نے کہا   :     ’’ قسم پنج تن پاک کی، میں نے اُسے نمازپڑھتے دیکھا ہے۔‘‘ 

چوتھے             : ’’ ایک دن ہنس رہا تھا۔‘‘

پانچویں             : ’’ اجی! ہم نے اُسے ڈنڈ پیلتے دیکھا ہے۔‘‘

’’نواب صاحب کو ان کُل باتوں کا یقین آگیا ۔ اُس مُصاحب بے چارے کی گُدّی پرکئی گدّے پڑگئے۔ بٹیر کیا اُڑ گیا کہ نواب صاحب کے ہاتھوں کے توتے اُڑگئے۔ آنکھوں سے اشک جاری ، ٹپ ٹپ آنسو گررہے ہیں۔ کلیجہ بلیوں اچھل رہا ہے۔ چہرے پر ہوائیاں اُڑرہی ہیں۔’’ ہائے میرا صف شکن! پیار ا صف شکن!‘‘۔

مُصاحب          : حضور کو یادہوگا، رمضان شریف کے مہینے میں اس نے دانہ تک نہ چھوا۔ حضور سمجھے تھے بونداہوگیا، مگر میں تاڑگیا کہ پابند صوم وصلوٰۃ ہے۔

میرصاحب        : پیرومرشد! یقین جانیے، پچھلے پہرسے سحر کا ذب تک حق حق کی آواز کا بک سے آیا کرتی تھی۔غفور! تم کو بھی ہم نے کئی بار جگاکر سُنایا تھا کہ صف شکن یاد ِخدا میں مصروف ہیں۔

غفور              :   ہاں میاں! پچھلے پہر سے حق حق کیا کرتے تھے، اور اکثر دیکھا تھا کہ سجدہ کررہے ہیں۔

خوجی              :      جَلَّ جَلالہٗ۔ واہ میاں صف شکن علی شاہ۔

نواب              :      ہم نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اُف اُف! بھئی کوئی پنکھا جھلنا۔

مصاحبین          : (غل مچاکر)  پنکھا لاؤ جلدی ۔ سامنے کھڑے ہوکر جھلو۔

نواب              :   پیتم! جومیں جانتی، کہ پیت کیے دُکھ ہوئے

                                    نگر ڈھنڈوراپٹیتی ، پیت کرے نہ کوئے

خوجی               :       (پینک سے چونک کر) ہاں ذری اونچے سُروں میں، واہ اُستاد ! چھیڑے جا۔ اس وقت تو میاں شوریؔ کی روٗح پھڑک گئی ہوگی۔

نواب              :     چُپ نامعقول! کوئی ہے؟ ان کو یہاں سے ٹہلاؤ۔ یہ رئیسوں کی صُحبت کے قابل نہیں۔ یہاں توجی جلتا ہے، اندرہی اندر پک رہا ہوں۔ ان کے نزدیک قوّالی ہورہی ہے ، کہنے لگے، ’’اونچے سُروں میں، میاں شوری یاد آتے ہیں۔‘‘ تم ایسے مُفت خوروں کو کسی کے دکھ درد سے کیا سروکار؟ تم کو تو چکھوتیوں سے مطلب ہے۔ اور بس فیرنی ہو، کھیر پکے، مز عفر پر ہاتھ پڑے۔ ٹکڑے کھائے، دل بہلائے، کپڑے پھٹے، گھر کو آئے۔

خوجی              :    خُداوند! غُلام تو اس وقت آپے میں نہیں۔ ہائے! صف شکن کی کابک خالی ہو اور میں اپنے ہوش وحواس سے چوکس رہوں۔ میرا معشوق نظر سے غائب ہو تو طبیعت کیوں کر حاضر ہو؟ حضور نے اس وقت مجھ پر جبر کیا، افسوس! ہائے افسوس! ارے یارو! صف شکن کو کہیں سے ڈھونڈھ لاؤ۔ کوئی تو پتہ لگاؤ۔ چورگیدی سے خُداسمجھے۔

نواب               :        شاباش ! خوجی ، شاباش ! اس وقت طبیعت بہت ہی خوش ہوگئی ۔ بے شک تم نمک حلال، تمھارے باپ داد ا نمک حلال ۔ ارے بھئی! سانڈنی سواردوڑائے گئے یا نہیں؟۔

مصاحب            :        شجاعت علی سے کہوابھی سانڈنی تیار ہواور پنج کو سی چکّر لگائے، جہاں صف شکن ملیں انھیں سمجھا بجھا کرلے ہی آئے۔

شجاعت علی         :        جاتا تو ہوں ، مگر وہ منطق پڑھے ہیں۔ میری کیا سنیں گے؟ کوئی مولوی بھی ساتھ بیھجیے۔ اُن سے بحثے گا کون؟ غلام تو کچھ اونٹ چلانا ہی خوب جانتا ہے۔ اُن سے دلیل کون کرے گا بھلا؟۔

میاں آزاد          : پیرومُرشد! بانک، بنوٹ، لکڑی، پٹے کا چرچا ہوتا تو بندہ بھی تلوار سونت کر عین موقعۂ واردات پر جاڈٹتا اور چرکے پر چرکا، نشتر پر نشتر لگاتا۔ منطق کی بحث کچھ خالہ جی کا گھر توہے نہیں، کسی جُغادری مولانا کو بُلوائیے۔

مصاحبوں نے ایک مولانا کو تجویزا۔ مولانا بچارے پھٹے حالوں تھے، سمجھے کہ جو ملے غنیمت ہے، مگر یاران سرپُل نے اُن سے کُل داستان نہیں بیان کی۔چوب دارمکان پرگیا اور کہا نواب صاحب نے آپ کو یاد کیا ہے چلیے! کسی بڑے عالم سے بحث ہوگی۔

مولانا               : السّلام علیکم! حضور نے آج یاد فرمایا ہے۔ زہے نصیب۔

 نواب              :   وعلیکم السّلام! آپ کو اس وجہ سے تکلیف دی ہے کہ میراقُرّۃُ العین، لختِ جگر، نورِبصر ناراض ہوکر چلا گیا۔ مگر بہت منطقی ہے۔ اسرار خُدائی سے واقف، علم مناظرہ میں طاق، پابند روزہ نماز، آپ بحث کیجیے اور معقول کرکے اُسے لائیے۔

مولانا               : انشاء اللہ ! والدین کا بڑاحق ہوتا ہے ۔ وہ کیسے نادان آدمی ہیں کہ والدین سے خفا ہوگئے؟ مقام اِستعجاب ہے۔

خوجی                :      مولانا صاحب ! وہ بٹیر ہے، مگر خوش تمیز، عارف، زاہد، عفّت کوش، متّقی مشرّع، منطقی، فلسفی، ہئیت داں ، عربی خواں۔

میر صاحب         :       کیا صف شکن کا نام مولانا نے نہ سُنا ہوگا؟ وہ تو روٗم تک مشہور تھے۔

قبلہ ! حقیقت حال یوں ہے کہ سرکار کا بٹیر صف شکن کل کا بک سے اُڑگیا ۔ اب تجویز یہ ہوئی ہے کہ ایک سانڈنی سوارجائے اور سمجھا بجھا کرلے آئے ، مگر شتربان پھر شتربان ہے، لاکھ صُحبت یافتہ ہو تو کیا! لہٰذاآپ بلائے گئے کہ سانڈنی پر سوار ہوجیے، اور اُن کو بہ لطائف الحیل بلالائیے۔

مولانا              : درست، آپ سب کے سب نشے میں تو نہیں؟ ہوش کی باتیں کیجیے۔ خود مسخرے بنتے ہویا مجھے مسخرا بناتے ہو۔ بٹیر منطقی کیسا؟ لاحَولَ وَلاقوّۃ۔اور سُنیے ، بٹیر اُڑگیا، اُس کو سمجھا کر لاؤ۔ وہ بھی کوئی مولوی ہے یا آدمی ہے؟  صف شکن! کون لڑائی سرکی تھی؟ استغفر اللہ ! استغفراللہ! اچھے گاؤدیوں کا مجمع ہے ۔ بندہ رخصت ہوتا ہے۔

نواب              :      یہ کس کوڑھ مغز کولائے تھے؟ خاصاجانگلوہے۔

آزاد              :     اچھا ! حضور بھی کیاخیال کریں گے اتنے بڑے دربار میں ایک بھی منطقی نہ نکلا، لو! اب غلام نے بیٹرا اُٹھالیا کہ جاؤں گا اور لاؤں گا۔ ایک تو سانڈنی دیجیے۔ بادرفتار، اور دودن کی خوراک دیجیے، اور ایک خط اپنے دست مبارک سے لکھ دیجیے۔ تیسرے دن غلام مع صف شکن بہادر کے ڈیوڑھی پر موجود نہ ہو، تو مو نچھیں منڈادیجیے۔

نواب              : اچھّا آپ جائیے اور لیس ہوکر آئیے۔ میں یہاں بندوبست کیے دیتا ہوں۔ مگر ابھی آئیے، دیر نہ ہونے پائے، اتنا خیال رہے۔

میاں آزاد گھر گئے اور مصاحبوں میں کھچڑی پکنے لگی۔ ’’یارو! یہ تو بازی جیت لے گیا۔ پالااسی کے ہاتھ رہا۔ اور جو کہیں صف شکن  کو لے آیا، تو پھر ہم سب پر شیر ہوجائے گا۔ پھر آزادہی آزاد چوطرفہ نظر آئیں گے۔ ہم کو، آپ کو ، کوئی نہ پوچھے گا۔ اس کی فکر کیجیے۔‘‘

خوجی               :   ’’حضور ! جاں بخشی ہوتو عرض کروں۔‘‘

نواب              : ’’کہیے نا۔ یہ جاں بخشی کا کون سا موقع ہے؟ کوئی عُمدہ صلا ح بتائیے، کوئی معقول تدبیر نکالیے۔‘‘

خوجی: حضور!میاں آزاد، ابھی دودن سے اس دربا رمیں آئے ہیں۔ اُن کا اِعتبار کیا؟ خُدا جانے اچُکّے ہیں، اُٹھائی گیرے ہیں، چور ہیں، گرہ کٹ ہیں، کوئی کیا جانے؟ اور جو سانڈنی ہی لے کر رفو چکّر ہوں، تو پھر کوئی کہاں ان کا پتہ لگاتا پھرے گا؟ انصاف سے کہیے گا کہ ایک خانہ برباد، خانہ بہ دوش آدمی کا ٹھکانا کیا؟ اور وہ کچھ بیدھا ہے کہ واپس آئے گا؟‘‘

مُصاحب          : ہاں خداوند!  سچ تو سچ ہے۔

میر صاحب        :    یہ خوجی صورت ہی سے کچھ ایسے معلوم ہوتے تھے، مگر بات کہی ٹھکانے کی ۔

مسیتا بیگ         :   ہم تو حضور کو صلاح نہیں دیں گے، کہ میاں آزاد کو سانڈنی دیجیے۔

نواب             : چلو، بس بہت نہ بکو! تم اُٹھائی گیرے ، مفت خورے ہونا۔ سب کو اپنا ہی ایسا سمجھتے ہو۔ آزادکی چتون کہے دیتی ہے کہ وہ وزارت کے قابل ہے۔ تم میں سے کوئی اس کی جوتی کی پھٹ پھٹ کو نہیں پہنچتا، اور فرض کرو کہ سانڈنی جاتی ہی رہے تو کیا میں بھی کوئی ٹکُڑگداہوں کہ سانڈنی کے کھونے سے مجھے بھیک مانگنے کی  نوبت آجائے گی؟ اور ہزاروں کی ایک بات تو یہ ہے کہ صف شکن پرسے لاکھوں صدقے ہیں۔ سانڈنی کس شمار میں ہے۔

ہمارے سیلانی جوان، رنگیلے پہلوان، ظریفوں کی جان، زندہ دلوں کی روح رواں، میاں آزاد نے سانڈنی پر کاٹھی کسی، اور بھولے بھالے، دیوانے ، متوالے نواب سے رُخصت ہوئے۔

میر صاحب        : ذری ، سانڈنی سے چوکس رہیے گا۔

آزاد               :   خُداوند! رُخصت، مجراعرض ہے غلام کے حق میں دعا ئے خیر کیجیے۔

نواب              :   خُداحافظ وناصر ہے، اور میرا تو رونگٹا رونگٹا دُعادے رہا ہے ۔ لیجیے بسم اللہ کیجیے۔

میاں آزاد نے پُشت پھیری تھی کہ اتنے میں پٹ سے چھینک پڑی۔ ہات تیری کی ناک کاٹوں، ہتّھے پر ٹوکا کم بخت نے، لے میاں ذری جو تابدل ڈالو، اور یہ گلوری کھالو۔  میاں آزاد پھر سب سے رخصت ہوئے ۔فی امان اللہ ! خُدا حافظ! اللہ کو سونپا، مگر سانڈنی کی خیر نہیں نظر آتی ۔ بی مبارک قدم، لونڈی اور ماما، اصیلوں نے چٹ چٹ بلائیں لیں اور دعائیں دیں۔

الغرض میاں آزاد سانڈنی پر سوار ہوکر ہوا ہوئے۔ یہ جاوہ جا۔ تھوڑی دیر میں نظر سے اوجھل۔

 جب کئی دن گزرگئے، تو خوشامد خوروں نے چنگ پر چڑھایا، پیرومُرشد! دیکھا، ہم نہ کہتے تھے کہ میاں آزاد، خانہ برباد کا ٹھکانہ کیا؟ حضور نے نہ مانا، آخرش سانڈنی کی سانڈنی گئی، اور رنج کا رنج ہوا۔

خوجی             : اوربے وقوف کے بے وقوف بنے۔

میر صاحب       :   اور انعام جودیاگیا، اُس کی گنتی ہی نہیں۔

غفور              :   ہجور! اب وہ پھرتے نجر نہیں آتے ۔ دوتین سوکی سانڈنی پرپانی پھر گیا۔

خوجی             :   ہونہہ! یہ دوہی تین سولیے پھرتے ہیں۔ اے میاں ! وہ سانڈنی بلا کی دھاواکرنے والی ہے۔ ریل کی دُم میں باند ھ دو، دیکھو چند وسی تک برابر چھم چھم کرتی چلی جاتی ہے یا نہیں؟ ہندوستان سے ملک میں ویسی تو ایک نظر نہیں آتی۔ کیا دم خم ہے؟

نواب             : اتنے بڑے لونبٹر ے ہوئے مگر گھو کے ہی رہے۔ جو بات کریں گے، بے ٹھکانے۔ سانڈنی، ٹکے کا جانور، گئی گئی۔ اب اُس کا رونا کیا؟ ہائے,! رنج تو یہ ہواکہ میاں صف شکن اب ہاتھ نہیں آنے کے۔ میرا ہی دل جانتا ہے کہ کلیجے پر کیسی چوٹ لگی ہے؟ بھئی ! اس سے تو مجھے موت ہی آجاتی تو سمجھتا ، بڑا خوش نصیب ہوں افسوس!۔

مصاحب           :   حضور ! صبر کیجیے۔ بڑے نواب صاحب مرگئے، تو حضور نے کیا کرلیا؟ چچا، حضور کو چھوڑ کر چل بسے، تو حضور نے کیا کرلیا؟ داداجان، ساری ثروت سے منہ موڑکر داغِ جُدائی دے گئے، تو حضور نے کیا کرلیا؟ اب صبر کیجیے۔

نواب              : میاں! باپ دادا تو سب ہی کے مراکرتے ہیں، مگر صف شکن سے وفادار جانور کا ایک دم بھی جُدا ہونا کھلتا ہے، نہ کہ کا بک سے اُڑجانا۔ خیر ، خُدا اُن کو بخشے۔ اس وقت دل ہے کہ بے اختیار اُمڈاچلا آتا ہے۔

خوجی               :    اس وقت تہہ دل سے دُعا نکلتی ہے کہ میاں آزاد مع صف شکن علی شاہ کے کھٹ سے آجائیں، اور حضور، واللہ !دل گواہی دیتا ہے کہ آیا ہی چاہتے ہیں۔ بس صبح وشام آئے ، داخل۔

نواب              : تمھارے منہ میں گھی شکّر۔

مسیتا               :   حضور! مٹھائی کا اقرار کرلیں۔

خوجی               :     اور سنیے !یہ ابے مٹھائی کیسی؟ وہ جلسے اڑیں، وہ جشن ہوں کہ واہ جی واہ! مہینوں طبلے پرتھا پ پڑے، اور دور دور سے طائفے آئیں۔ صف شکن کا آنا کوئی ایسی ویسی بات ہے؟ گیدی کہیں کا۔

نواب              :      انشاء اللہ! پھر میں اپنے دل کا ارمان نکالوں۔ وہ دھماچوکڑی مچے کہ واہ جی ، واہ۔

الغرض، میاں آزاد کا خط لے کر چابک سوار نواب کی خدمت میں حاضر ہوا۔

چابک سوار         :     مجراعرض ہے۔

نواب               :     سلام! کہو! بیٹا کہ بیٹی؟ جلدی سے بولو، یہاں پیٹ میں چوہے کودرہے ہیں۔

چابک سوار          :    حضور ! غلام نے راہ میں دم لیا ہو، توجریمانہ دوں ، بس گھوڑے کی پیٹھ پر آیا اور کڑکڑادیا۔

خوجی                 :    کتنے بے تکے ہومیاں! سوال دیگر جواب دیگر، کہیں کھیت کی ، سنیں کھلیان کی۔ بھلا اپنی کار گزاری جتانے کا یہ کون سا موقع ہے؟ جی آزاد کا پتہ بتاؤ، مار ے شیخی کے دُبلے ہوئے جاتے ہیں۔

اب سنیے کہ میاں آزاد اپنی سانڈنی پر سوار، صف شکن علی شاہ کو کابک میں بٹھائے سڑک پر ڈٹے ہوئے تھے۔ ایں! صف شکن علی شاہ کہاں سے آگئے؟ اجی کسی اٹیر بٹیرکو ادھر ادھر سے خرید لیا ہوگا۔ 

ناصاحب! وہی صف شکن ۔

 ناظرین کو یاد ہوگا کہ میاں آزاد نے اور سب بٹیروں کو تواُڑادیا تھا، مگر صف شکن علی شاہ کو چھپار کھا تھا، اب موقع پر اُن کو نکالا۔ خیر ، خوجی آتے ہی اُن سے بغل گیر ہوئے اور میر صاحب گلے ملے، اور غفور خدمت گارنے سلام کیا اور رفقاو مُصاحبین سے مصافحہ ہوا۔

خوجی                 : مثل مشہور ہے کہ سوبرس بعد گھورے کے دن بھی بہورتے ہیں۔ سوہمارے تو آج دن بہورے کہ آپ آئے اور شاہ جی لائے ، نواب کے یہاں سناٹا پڑاہوا تھا۔ وہ چہل پہل ہی نہیں، وہ دل لگی ہی نہیں، صف شکن کے سوگ میں سب پر مرُدنی چھائی تھی نواب چونک چونک پڑتے تھے ۔ کھٹ ہوا اور پوچھا ۔ ’’آزاد آئے۔‘‘  دھم ہوا اور کنمنائے مگر آپ نہ آئے۔

آزاد                  :     بھائی! کچھ پوچھو نہیں۔ واللہ !آسمان میں تھگلی لگائی تب کہیں ان کی زیارت نصیب ہوئی، خداجانے کن کن جنگلوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔اور وہاں کیا کیا اُفتادیں پڑیں۔

 خلاصہ یہ کہ خوجی اور میر صاحب اور رفقااور مُصاحبین سب کے سب مل کر میاں آزاد کو چیتے یار بناتے تھے، مگر ہمارے آزاد ایک ہی استاد تھے۔ خوب سمجھے کہ اب نواب کے یہاں ہمارا جو طوطی بولے گا، اُس سے یہ سب ہمارے پارچے بن رہے ہیں۔ تھوڑی دیر تک تو خوب گھل گھل کر باتیں ہوئیں، تو میاں آزاد نے کہا : حضرت! اب رات جاتی ہے یا آتی ہے، چلیے نا، بس اب انتظار کس کا ہے؟ اچھا بسم اللہ کیجیے، پنشاخے چڑھاؤ، لالٹینیں جلاؤ، گھوڑے چلاؤ، ہاتھی کے پرے جماؤ، باجابجاؤ، تامدان بڑھاؤ، سب قرینے سے لگاؤ، جب جلوس آراستہ ہوا تو میاں آزاد ایک فیل فلک شکوہ پر جاڈٹے اور صف شکن علی شاہ کی کابک کو آگے رکھ لیا۔ شہر میں تو پہلے ہی سے ہلّڑ تھا کہ نواب والا بٹیر بڑے ٹھسے سے آرہا ہے۔ لاکھوں آدمی چوک میں تماشا دیکھنے کو ڈٹے ہوئے تھے۔ چھتیں پھٹی پڑتی تھیں ۔ وہ بھیڑ بھٹر کاّ کہ شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ باجوں کی آواز جوکانوں میں پڑی تو تماشائی چشم درانتظار ہوئے۔

نشان کا ہاتھی جھنڈے کا پھر ہرااُڑاتا، اٹکھیلیاں کرتا، سامنے آیا۔ پھولوں کے تخت آگے تھے۔ انگریزی باجے نے کانوں کو سرور، نازنینانِ پری وش کے رُخِ انورنے آنکھوں کو نور بخشا۔

 

 (پنڈت رتن ناتھ سرشاؔر)


مشق

سوالات:

1.    نواب صاحب کے رفیقوں نے صف شکن کی تعریف میں اس کی کیا کیا خصوصیات بتائیں؟ کوئی پانچ خصوصیات لکھیے۔

2 .   مولانا کو کیوں بُلا یا گیا تھا اور اس پورے معاملے پر ان کا ردعمل کیا تھا؟

3.   صف شکن کو واپس لانے کی ذمہ داری کس نے لی اور اس کام کے لیے کیا کیا چیزیں طلب کیں؟

4.   مصاحبوں نے نواب صاحب کو آزاد کے خلاف بھڑکانے کے لیے اس کی بُرائی میں کیا کیا کہا؟

5.  صف شکن کو آزاد کہاں سے ڈھونڈ کر لائے؟ تفصیل سے بتائیے۔