انشائیہ
لفظ انشا اردو میں کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ انشائیہ بھی اسی لفط سے بناہے۔
ابتدا میں مضمون نگاری اور انشائیہ نگاری میں زیادہ فرق نہیں تھا، مگر رفتہ رفتہ ان میں فرق پیدا ہوتا گیا، یہاں تک کہ انشائیہ ایک علاحدہ صنف قرار پائی۔ انشائیہ نگار اپنے مخصوص ذاتی مشاہدات اور تاثرات کو بے باکی اور بے تکلفی سے بیان کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انشائیہ میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات سے متعلق خیال کے تمام مرحلے خوش طبعی کے ساتھ طے کیے جاتے ہیں۔ یہ بات میں بات پیدا کرنے کا فن ہے۔ انشائیہ نگار مفہوم سے خالی گفتگو میں بھی معنی پیدا کردیتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ اختصار اس کی پہچان ہے۔ اس میں مزاح یا ٹھٹھول کی جگہ ہلکی پھلکی زیرِ لب ہنسی پنہاں ہوتی ہے۔ خیال آفرینی اس کی ایک اہم خوبی ہے۔
اردو میں انشائیے کی ابتدا سر سید احمد خاں کے رسالے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ سے ہوتی ہے۔ مولوی نذیر احمد اور ذکاء اللہ کے بعد ’’اودھ پنچ‘‘ اور ’’مخزن‘‘ نے اسے فروغ دیا۔ میر ناصر علی، سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش، سجاد انصاری، نیاز فتح پوری، مہدی افادی، فرحت اللہ بیگ، قاضی عبدالغفّار، پطرس بخاری، سید محفوظ علی بدایونی، خواجہ حسن نظامی، رشید احمد صدیقی، مشتاق احمد یوسفی، احمد جمال پاشا، یوسف ناظم، شفیقہ فرحت اور مجتبیٰ حسین نے اس صنف کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ابوالکلام آزادؔ
(1958-1888)
مولانا ابوالکلام آزاد ؔکا اصل نام محی الدین احمد، کنّیت ابوالکلام اور تخلص آزادؔ تھا۔ وہ مکّۂ معظّمہ میں پیداہوئے۔ کچھ مدّت کے بعد ان کے والدین کو لکاتہ اور پھر دہلی آگئے ۔ مولانا کا خاندان علم وفضل کی برکتوں سے مالا مال تھا۔ ان کی تعلیم وتربیت گھر کے علمی ماحول میں ہوئی۔ انھوں نے کئی زبانوں اور مختلف علوم کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ کا شمار اپنے وقت کی ذہین ترین شخصیایت میں ہوتا ہے۔ تصنیف وتالیف کا شوق بچپن سے تھا۔ اخبارات ورسائل میں مضامین کی اشاعت کے ساتھ ہی پورے ملک میں ان کے طرزِ تحریر کی دھوٗم مچ گئی۔ مولانا آزادؔ کے اخبارات ’’لِسان الصّدق‘‘ ، ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ اپنی انفرادیت کی وجہ سے ایسے مشہور ومقبول ہوئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے مولانا دنیا ئے صحافت پر چھا گئے۔
مولانا ابوالکلام آزادؔایک بے مثال صحافی ہی نہیں، ایک جیّد عالِم، عظیم مفکّر، جادوٗ بیان مُقِّرر، صائب الرّائے دانشور اور بے باک سیاست داں تھے۔ انھوں نے ہندوستان کی جنگِ آزادی میں نہایت اہم کردار اداکیا۔ اپنی زبان اور قلم کے ذریعے اہلِ وطن کے دلوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کرنے کے سبب وہ باربار نظر بند کیے گئے اور جیل بھیجے گئے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے اہم رہنما تھے۔1939ء میں کانگریس کے صدر منتخب ہوئے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے پہلے مرکزی وزیرِ تعلیم بنائے گئے۔
مولاناکی تصانیف میں ’’ تذکرہ‘‘ ، ’’ ترجمان القرآن‘‘ ، ’’کاروانِ خیال‘‘ ، ’’ہماری آزادی‘‘ اور ’’عبارِ خاطر‘‘ بہت مشہور ہیں۔
چڑیا چڑے کی کہانی
آئیے، آج آپ کو چڑیا چڑے کی کہانی سُناؤں:
یہاں کمرے جو ہمیں رہنے کو ملے ہیں، پچھلی صدی کی تعمیرات کا نمونہ ہیں۔ چھت لکڑی کے شہتیروں کی ہے اور شہتیروں کے سہارے کے لیے محر ابیں ڈال دی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جابجا گھو نسلا بنانے کے قدرتی گوشے نکل آئے، اور گورّیاؤں کی بستیاں آباد ہوگئیں۔ دن بھر ان کا ہنگامۂ تگ ودوگرم رہتا ہے۔ یہاں کی ویرانی دیکھ کر گھر کی ویرانی یاد آگئی:
اُگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

گذشتہ سال جب اگست میں یہاں ہم آئے تھے، تو ان چڑیوں کی آشیاں سازیوں نے بہت پریشان کردیا تھا۔ کمرے کے مشرقی گوشے میں منہ دھونے کی ٹیبل لگی ہے۔ ٹھیک اس کے اُوپر نہیں معلوم کب سے ایک پُرانا گھونسلاتعمیر پا چکا تھا۔دن بھر میدان سے تنکے چُن چُن کر لاتیں اور گھونسلے میں بچھانا چاہیتں۔ وہ ٹیبل پر گر کے اسے کوڑے کرکٹ سے اٹ دیتے۔ ادھر پانی کا جگ بھروا کے رکھا، ادُھر تنکوں کی بارش شروع ہوگئی۔ پچھم کی طرف چارپائی دیوارسے لگی تھی، اس کے اُوپر نئی تعمیروں کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ان نئی تعمیروں کا ہنگامہ اور زیادہ عاجز کردینے والا تھا۔ ان چڑیوں کو ذرا سی تو چونچ ملی ہے اور مٹّھی بھر کا بھی بدن نہیں لیکن طلب وسعی کا جوش اس بلا کا پایا ہے کہ چند منٹوں کے اندر بالشت بھر کلفات کھود کے صاف کردیں گی ۔
پہلے دیوار پر چونچ مارمار کے اتنی جگہ بنا لیں گی کہ پنجے ٹیکنے کا سہار انکل آئے پھر اس پر پنجے جما کر چونچ کا پھاوڑا چلانا شروع کردیں گی، اور اس زور سے چلائیں گی کہ سارا جسم سُکڑ سُکڑ کر کانپنے لگے گا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد دیکھیے، تو کئی انچ کلفات اُڑچکی ہوگی۔ مکان چونکہ پرانا ہے، اس لیے نہیں معلوم ، کتنی مرتبہ چونے اور ریت کی تہیں دیوار پر چڑھتی رہی ہیں۔ اب مل ملا کر تعمیری مسالے کا ایک موٹا سا دل بن گیا ہے۔ ٹوٹتا ہے تو سارے کمرے میں گردکا دھواں پھیل جاتا ہے اور کپڑوں کو دیکھیے تو غبار کی تہیں جم گئی ہیں۔
چند دنوں تک تو میں نے صبر کیا لیکن پھر برداشت نے صاف جواب دے دیااور فیصلہ کرنا پڑا اب لڑائی کے بغیر چارہ نہیں۔
یہاں میرے سامان میں ایک چھتری بھی آگئی ہے، میں نے اٹھائی اور اعلانِ جنگ کردیا ۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوگیا کہ اس کو تاہ دستی کے ساتھ ان حریفانِ سقف و محراب کا مقابلہ ممکن نہیں۔ حیران ہوکر کبھی چھتری کی نارسائی دیکھتا ،کبھی حریفوں کی بلند آشیانی ۔
اب کسی دوسرے ہتھیار کی تلاش ہوئی۔ برآمد ے میں جالا صاف کرنے کا بانس پڑا تھا۔ دوڑتا ہوا گیا اور اُسے اُٹھا لایا۔ اب کچھ نہ پوچھیے کہ میدانِ کارزا رمیں کس زور کارن پڑا۔ کمرے میں چاروں طرف حریف طواف کررہا تھا اور میں بانس اُٹھائے، اس کے پیچھے دوڑرہا تھا ۔
آخرمیدان اپنے ہی ہاتھ رہا اور تھوڑی دیر کے بعد کمرہ ان حریفانِ سقف و محراب سے بالکل صاف تھا۔
اب میں نے چھت کے تمام گوشوں پر فتح مندانہ نظرڈالی اور مطمئن ہوکر لکھنے میں مشغول ہو گیا۔ لیکن ابھی پندرہ منٹ بھی پورے نہیں گزرے ہونگے کہ کیا سنتا ہوں کہ حریفوں کی رجزخوانیوں اور ہوا پیمائیوں کی آوازیں پھر اٹھ رہی ہیں۔ سراٹھا کے جو د یکھا، تو چھت کا ہر گوشہ ان کے قبضے میں تھا۔ میں فوراً اٹھا اور بانس لاکر پھر معرکۂ کارزار گرم کردیا۔
اس مرتبہ حریفوں نے بڑی پامردی دکھائی۔ ایک گوشہ چھوڑنے پر مجبور ہوتے ، تو دوسرے میں ڈٹ جاتے لیکن بالآ خرمیدان کو پیٹھ دکھانی ہی پڑی۔ کمرے سے بھاگ کر برآمدے میں آئے اور وہاں اپنا لاؤلشکر نئے سرے سے جمانے لگے۔ میں نے وہاں بھی تعاقّب کیا۔ اور اس وقت تک ہتھیار ہاتھ سے نہیں رکھا کہ سرحد سے بہت دورتک میدان صاف نہیں ہوگیا تھا۔ اب دشمن کی فوج تتر بتر ہوگئی تھی مگر یہ اندیشہ باقی تھا کہ کہیں پھر اکٹھی ہوکر میدان کا رُخ نہ کرے۔ تجربے سے معلوم ہوا تھا کہ بانس کے نیزے کی ہیبت دشمنوں پر خوب چھاگئی ہے جس طرف رُخ کرتا تھا اسے دیکھتے ہی کلمۂ فرار پڑھتے تھے۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ ابھی کچھ عرصے تک اُسے کمرے میں رہنے دیاجائے۔ اگر کسی اکاّدکاّ حریف نے رُخ کرنے کی جرأت بھی کی تو یہ سربفلک نیزہ دیکھ کر اُلٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور ہوجائیگا ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ سب سے پرانا گھو نسلا منھ دھونے کی ٹیبل کے اوپر تھا ۔ بانس اس طر ح وہاں کھڑا کر دیا گیا کہ اس کا سراٹھیک ٹھیک گھونسلے کے دروازے کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اب گومستقبل اندیشوں سے خالی نہ تھا، تاہم طبیعت مطمئن تھی کہ اپنی طرف سے سروسامانِ جنگ میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔
اب گیار ہ بج رہے تھے، میں کھانے کے لیے چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو کمرے میں قدم رکھتے ہی ٹھٹھک کے رہ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سارا کمرہ پھر حریف کے قبضے میں ہے اور اس اطمینان و فراغت سے اپنے کاموں میں مشغول ہیں جیسے کوئی حادثہ پیش آیا ہی نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ہتھیار کی ہیبت پر اس درجہ بھروسہ کیا گیا تھا وہی حریفوں کی کا م جوئیوں کا ایک نیا آلہ ثابت ہوا۔ بانس کا سر ا جو گھونسلے سے بالکل لگا ہوا تھا، گھونسلے میں جانے کے لیے اب دہلیز کا کام دینے لگا ہے۔ تنکے چن چن کر لاتے ہیں اور اس نو تعمیر دہلیز پر بیٹھ کر بہ اطمینانِ تمام گھونسلے میں بچھاتے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی چوں چوں بھی کرتے جاتے ہیں۔
اپنی وہمی فتح مندیوں کا یہ حسرت انگیز انجام دیکھ کر بے اختیار ہمّت نے جواب دے دیا۔ صاف نظر آگیا کہ چند لمحوں کے لیے حریف کو عاجز کردینا تو آسان ہے مگر ان کے جوشِ استقامت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں اور اب اس میدان میں ہارمان لینے کے سواکوئی چارہ ٔکار نہیں رہا۔
اب یہ فکر ہوئی کہ ایسی رسم وراہ اختیار کرنی چاہیے کہ ان ناخواندہ مہمانوں کے ساتھ ایک گھر میں گزارا ہوسکے۔ سب سے پہلے چارپائی کا معاملہ سامنے آیا۔ یہ بالکل نئی تعمیرات کی زدمیں تھی، پرانی عمارت کے گرنے اور نئی تعمیروں کے سروسامان سے جس قدر گردوغباراور کوڑا کرکٹ نکلتا، سب کا سب اسی پر گرتا ۔ اس لیے اسے دیوار سے اتنا ہٹا دیا گیا کہ براہ راست زدمیں نہ رہے۔ اس تبدیلی سے کمرے کی شکل ضروربگڑ گئی لیکن اب اس کا علاج ہی کیا تھا۔ جب خود اپنا گھر ہی اپنے قبضے میں نہ رہا تو پھر شکل وترتیب کی آرائشوں کی کسے فکر ہوسکتی تھی۔ البتّہ منہ دھونے کے ٹیبل کا معاملہ اتنا آسان نہ تھا۔ وہ جس گوشے میں رکھا گیا تھا صرف و ہی جگہ اس کے لیے نکل سکتی تھی۔ ذرا بھی ادھر اُدھر کرنے کی گنجائش نہ تھی۔ مجبوراً یہ انتظام کرنا پڑا کہ بازار سے بہت سے جھاڑن منگواکر رکھ لیے اور ٹیبل کی ہر چیز پر ایک جھاڑن ڈال دیا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد انھیں اٹھا کر جھاڑ دیتا اور پھر ڈال دیتا۔ ایک جھاڑن اس غرض سے رکھنا پڑا کہ ٹیبل کی سطح کی صفائی برابر ہوتی رہے ۔ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ فرش کی صفائی کاتھا لیکن اسے بھی کسی نہ کسی طرح حل کیا گیا۔ یہ بات طے کرلی گئی کہ صبح کی معمولی صفائی کے علاوہ بھی کمرے میں باربار جھاڑ وپھر جانا چاہیے۔ ایک نیا جھاڑومنگوا کرالماری کی آڑمیں چھپادیا۔ کبھی دن میں دومرتبہ کبھی تین مرتبہ کبھی اس سے بھی زیادہ اس سے کام لینے کی ضرورت پیش آتی ۔ یہاں ہر دوکمرے کے پیچھے ایک قیدی صفائی کے لیے دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ہر وقت جھاڑولیے کھڑا نہیں رہ سکتا تھا اور اگر رہ بھی سکتا تو اس پر اتنا بوجھ ڈالنا انصاف کے خلاف تھا۔ اس لیے یہ طریقہ اختیار کرنا پڑا کہ خود ہی جھاڑواٹھالیا اور ہمسایوں کی نظریں بچا کے جلدجلد دوچار ہاتھ ماردیے۔
ایک دن خیا ل ہوا کہ جب صلح ہوگئی تو چاہیے کہ پوری طرح صلح ہو۔ یہ ٹھیک نہیں کہ رہیں ایک ہی گھر میں اور رہیں بیگانوں کی طرح۔ میں نے باورچی خانے سے تھوڑا سا کچا چاول منگوایا اور جس صوفے پر بیٹھا کرتا ہوں اس کے سامنے کی دری پر چند دانے چھٹک دیے۔ پھر اس طرح سنبھل کے بیٹھ گیا جیسے ایک شکاری دام بچھا کے بیٹھ جاتا ہے ۔کچھ دیر تک تو مہمانوں کو توجہ نہیں ہوئی؟ اگر ہوئی بھی تو ایک غلط انداز نظر سے معاملہ آگے نہیں بڑھا لیکن پھر صاف نظر آگیا کہ معشوقانِ ستم پیشہ کے تغافل کی طرح یہ تغافل بھی نظر بازی کا ایک پردہ ہے، ورنہ نیلے رنگ کی دری پر سفید سفید ابھر ے ہوئے دانوں کی کشش ایسی نہیں کہ کام نہ کر جائے۔

آپ نے غور کیا ہوگا کہ گوریّاجب تفتیش اورتفّحص کی نگاہوں سے دیکھتی ہے تو اس کے چہرے کا کچھ عجیب سنجیدہ انداز ہوجاتا ہے۔ پہلے گردن اٹھا کے سامنے کی طرف دیکھے گی پھر گردن موڑ کے داہنے بائیں دیکھنے لگے گی پھر کبھی گردن کو مروڑدے کر اوپر کی طرف نظر اٹھائے گی اور چہرے پر تفحص اور استفہام کا کچھ ایسا انداز چھا جائے گا جیسے ایک آدمی ہر طرف متعجبانہ نگاہ ڈال کر اپنے آپ سے کہہ رہا ہو کہ آخر یہ معاملہ ہے کیا، اور ہوکیا رہا ہے؟
پھر کچھ دیر کے بعد آہستہ آہستہ قدم بڑھنے لگے لیکن براہ راست دانوں کی طرف نہیں آڑے ترچھے ہوکر بڑھتے اور کتراکر نکل جاتے ۔ گویا یہ بات دکھائی جارہی تھی کہ خدا نخواستہ ہم دانوں کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ صید سے کہیں زیادہ صیاّ د کو اپنی نگرانیاں کرنی پڑتی ہیں۔ جوں ہی ان کے قدموں کا رخ دانوں کی طرف پھر ا، میں نے دم سادھ لیا، نگاہیں دوسری طرف کرلیں اور ساراجسم پتھر کی طرح بے حس وحرکت بنالیا۔ گو یا آدمی کی جگہ پتھر کی ایک مورتی دھری ہے۔ کیونکہ جانتا تھا کہ اگر نگاہِ شوق نے مضطرب ہوکر ذرا بھی جلد بازی کی تو شکاردام کے پاس آتے آتے نکل جائے گا۔ یہ گویا نازِحسن اور نیازِ عشق کے معاملات کا پہلا مرحلہ تھا۔
خیر، خداخدا کرکے اس عشوۂ تغافل نما کے ابتدائی مرحلے طے ہوئے اور ایک بُتِ طناّز نے صاف صاف دانوں کی طرف رخ کیا مگر یہ رخ کیا قیامت کا رخ تھا، ہزارتغافل اس کے جلو میں چل رہے تھے۔
ایک قدم آگے بڑھتا تھا تو دو قدم پیچھے ہٹتے تھے۔ میں جی ہی جی میں کہہ رہا تھا کہ التفات وتغافل کا یہ ملا جلا انداز بھی کیا خوب انداز ہے۔ کاش تھوڑی سی تبدیلی اس میں کی جاسکتی، دوقدم آگے بڑھتے ، ایک قدم پیچھے ہٹتا۔
التفات وتغافل کی ان عشوہ گریوں کی ابھی جلوہ فروشی ہوہی رہی تھی کہ نا گہاں ایک تنومند چڑے نے جو اپنی قلندرانہ بے دماغی اور رندانہ جرأتوں کے لحاظ سے پورے حلقہ میں ممتاز تھا، سلسلۂ کارکی درازی سے اکتا کر بے با کا نہ قدم اٹھا دیا۔
اس ایک قدم کا اٹھنا تھا کہ معلوم ہوا جیسے اچانک تمام رکے ہوئے قدموں کے بندھن کُھل پڑے۔ اب نہ کسی قدم میں جھجک تھی،نہ کسی نگاہ میں تذبذب، مجمع کا مجمع بہ یک دفعہ دانوں پر ٹوٹ پڑا اور اگر انگریزی محاورے کی تعبیر مستعارلی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ حجاب وتامّل کی ساری برف اچانک ٹوٹ گئی یایوں کہیے کہ پگھل گئی۔ غورکیجیے تواس کا رگاہ ِعمل کے ہر گوشے کی قدم رانیاں ہمیشہ اسی ایک قدم کے انتظار میں رہا کرتی ہیں۔ جب تک یہ نہیں اٹھتا سارے قدم زمین میں گڑے رہتے ہیں یہ اُٹھا اور گویا ساری دنیا اچانک اُٹھ گئی۔
اس بزمِ سودوزیاں میں کا مرانی کا جام کبھی کو تاہ دستوں کے لیے نہیں بھراگیا۔ وہ ہمیشہ انھیں کے حصّے میں آیا جو خود بڑھ کر اٹھالینے کی جرأت رکھتے تھے۔ شاد عظیم آبادی مرحوم نے ایک شعر کیا خوب کہا تھا:
یہ بزم مے ہے،یاں کوتا ہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
اس چڑے کا یہ بے با کا نہ اقدام کچھ ایسا دل پسند واقع ہوا کہ اسی وقت دل نے ٹھان لی کہ اس مردکارِ سے رسم وراہ بڑھانی چاہیے۔ میں نے اس کا نام قلندر رکھ دیا ۔ کیونکہ بے دماغی اوروارستگی کی سرگرانیوں کے ساتھ ایک خاص طرح کا بانکپن بھی ملا ہوا تھا اور اُس کی وضعِ قلندرانہ کو آب وتاب دے رہا تھا:
رہے اک بانکپن بھی بے دماغی میں تو زیبا ہے
بڑھا دو جبین و ابرو پر ادائے کج کلاہی کو
دوتین دن تک اسی طرح ان کی خاطر تواضع ہوتی رہی۔ دن میں دو تین مرتبہ دانے دری پر ڈال دیتا۔ ایک ایک کرکے آتے، اور ایک ایک دانہ چن لیتے۔ کبھی دانہ ڈالنے میں دیر ہوجاتی تو قلندر آکر چوں چوں کرنا شروع کردیتا کہ وقت معہود گزررہا ہے۔ اس صورت حال نے اب اطمینان دلا دیا تھا کہ پردۂ حجاب اُٹھ چکا وہ وقت دور نہیں کہ رہی سہی جھجک نکل جائے
ع اور کُھل جائیں گے دوچار ملاقاتوں میں
چنددنوں کے بعد میں نے اس معاملہ کا دوسرا قدم اٹھایا۔ خالی ٹین کا ایک ڈھکنا لیا، اس میں چاول کے دانے ڈالے اور ڈھکنا دری کے کنارے رکھ دیا۔ فوراً مہمانوں کی نظر پڑی ۔ کوئی ڈھکنے کے پاس آکر منہ مارنے لگا، کوئی ڈھکنے کے کنارے پر چڑھ کر زیاد ہ جمعیت خاطر کے ساتھ چگنے میں مشغول ہوگیا۔ آپس میں رقیبا نہ ردّوکد بھی ہوتی رہی ۔ جب دیکھا کہ اس طریقِ ضیافت سے طبیعتیں آشنا ہوگئی ہیں تودوسرے دن ڈھکنا دری کے کنارے سے کچھ ہٹا کر رکھا۔ تیسرے دن اور زیادہ ہٹا دیا اور بالکل اپنے سامنے رکھ دیا۔ گویا اس طرح بتدریج بعد سے قرب کی طرف معاملہ بڑھ رہا تھا۔
اتنا قرب دیکھ کر پہلے تو مہمانوں کو کچھ تامّل ہوا۔ دری کے پاس آگئے مگر قدموں میں جھجک تھی اور نگاہوں میں تذبذب بول رہاتھا ۔ لیکن اتنے میں قلندر اپنے قلندر انہ نعرے لگا تا ہوا آپہنچا اور اس کی رندانہ جرأتیں دیکھ کر سب کی جھجک دور ہوگئی، گویا اس راہ میں سب قلندرہی کے پیروہوئے۔ جہاں اس کا قدم اُٹھا، سب کے اُٹھ گئے۔
جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تو پھر ایک قدم اور اٹھا یا گیا اور دانوں کا برتن دری سے اٹھا کے تپائی پر رکھ دیا۔ یہ تپائی میرے بائیں جانب صوفے سے لگی رہتی ہے اور پوری طرح میرے ہاتھ کی زد میں ہے۔ اس تبدیلی سے خوگر ہونے میں کچھ دیر لگی۔ بار بار آتے اور تپائی کے چکّرلگا کے چلے جاتے۔ بالآخر یہاں بھی قلندر ہی کو پہلا قدم بڑھانا پڑا اور اس کا بڑھنا تھا کہ یہ منزل بھی پچھلی منزلوں کی طرح سب پر کھل گئی۔ اب تپائی کبھی تو ان کی مجلس آرائیوں کا ایوانِ طرب بنتی ، کبھی باہمی معر کہ آرائیوں کا اکھاڑا۔ جب اس قدر نزدیک آجانے کے خوگر ہوگئے تو میں نے خیال کیا، اب معاملہ کچھ اور بڑھایا جاسکتا ہے۔ ایک دن صبح یہ کیا کہ چاول کا برتن صوفے پر ٹھیک اپنی بغل میں رکھ دیا اور پھر لکھنے میں اس طر ح مشغول ہوگیا گویا اس معاملہ سے کوئی سروکار نہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد کیا سنتا ہوں کہ زورزور سے چونچ مارنے کی آوازآرہی ہے کنکھیوں سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہمارا پرانا دوست قلند ر پہنچ گیا ہے اور بے تکان چونچ مار رہا ہے۔ ڈھکنا چونکہ بالکل پاس دھرا تھا اس لیے اس کی دُم میرے گھٹنے کو چھورہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے یارانِ تیز گام بھی پہنچ گئے اور پھر تو یہ حال ہو گیا کہ ہر وقت دوتین دوستوں کا حلقہ بے تکلف میری بغل میں اچھل کود کرتا رہتا، کبھی کوئی صوفے کی پشت پر چڑھ جاتا، کبھی کوئی جست لگا کر کتابوں پر کھڑا ہوجاتا ،کبھی نیچے اُتر آتا اور چوں چوں کرکے پھر واپس آجاتا۔ بے تکلّفی کی اس اچھل کود میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میرے کاندھے کو درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ سمجھ کر اپنی جست وخیز کا نشانہ بنانا چاہالیکن پھر چونک کرپلٹ گئے یا پنجوں سے اُسے چُھو ااور اوپر ہی اوپر نکل گئے۔
بہر حال رفتہ رفتہ ان آہوانِ ہوائی کو یقین ہوگیا کہ یہ صورت جو ہمیشہ صوفے پرد کھائی دیتی ہے، آدمی ہونے پر بھی آدمیوں کی طرح خطرناک نہیں ہے۔ دیکھیے محبت کا افسوں جو انسانوں کو رام نہیں کرسکتا، وحشی پرندوں کو رام کرلیتا ہے۔
بارہا ایسا ہوا کہ میں اپنے خیالات میں محو، لکھنے میں مشغول ہوں۔ اتنے میں کو ئی دلنشیں بات نوکِ قلم پر آگئی یا عبارت کی مناسبت نے اچانک کوئی پُرکیف شعر یاد دلادیا اور بے اختیار اس کی کیفیت کی خودرفتگی میں میرا سروشانہ ہلنے لگا یا منہ سے ’’ہا‘‘ نکل گیااور یکا یک زور سے پروں کے اُڑنے کی ایک پُھرسی آوازسنائی دی۔ اب جو دیکھتا ہوں تو معلوم ہوا کہ ان یار انِ بے تکلف کا ایک طائفہ میری بغل میں بیٹھا بے تامّل اپنی اچھل کود میں مشغول تھا۔ اچانک انھوں نے دیکھا کہ یہ پتھر اب ہلنے لگا ہے تو گھبر ا کر اُڑ گئے۔ عجب نہیں، اپنے جی میں کہتے ہوں، یہاں صوفے پر ایک پتھر پڑا رہتا ہے لیکن کبھی کبھی آدمی بن جاتا ہے۔
(ابوالکلام آزاد)
مشق
سوالات:
1. مصنف نے اپنے کمرے کا منظر کس طرح پیش کیا ہے؟
2. چڑیا چڑے کی کہانی میں مولانا آزاد نے چڑیا چڑے کی کس خوبی کو سب سے زیادہ اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے؟
3. مصنف نے قلندر کس کوکہا ہے اور کیوں کہاہے؟
4. اپنے حریفوں سے صلح کرنے کے لیے مصنف نے کیا تدبیریں کیں؟
5. ’’آدمی ہونے پر بھی آدمیوں کی طرح خطرناک نہیں ہے‘‘ اس جملے سے مصنف کی کیا مراد ہے؟