Skip to content
Dhanak-001



15

محمد حسین آزادؔ

(1829 – 1910)

محمد حسین آزاد ؔاردو کے اہم ادیب اور شاعر تھے۔ وہ ذوقؔ دہلوی کے شاگرد اور دہلی اردو اخبار کے مدیر مولوی محمد باقرکے بیٹے تھے۔  ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ ابتدامیں انھوں نے ملازمت کے سلسلے میں مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ آخر میں وہ لاہور میں محکمۂ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔

لاہور میں انھوں نے انجمن پنجاب کی زیرنگرانی ایک نئے انداز کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی جس میں شاعردیے گئے عنوانات پر نظمیں سناتے تھے۔یہیں سے اردومیں جدید نظم نگاری یا جدید شاعری کا آغاز ہوا۔

محمد حسین آزادؔ اچھے شاعرہی نہیں بلندپایہ انشاپردازبھی تھے۔ ’آبِ حیات‘،’درباراکبری‘،’نیر نگ ِخیال‘، ’سخن دانِ فارس‘ وغیرہ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔انھوں نے بچّوں کے لیے اردو ریڈرس اور نظمیں بھی لکھی ہیں۔ محمد حسین آزادؔ صاحب طرز ادیب ہیں۔ان کی نثر شگفتہ اورسجی ہوتی ہے۔

انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا

سُقرا ط حکیم نے کیا خوب لطیفہ کہا ہے کہ اگر تمام اَہلِ دُنیا کی مُصیبتیں ایک جگہ لاکر ڈھیر کردیں اور پھر سب کو برابر بانٹ دیں تو جو لوگ اب اپنے تئیں بدنصیب سمجھ رہے ہیں وہ اس تقسیم کو مصیبت اور پہلی مُصیبت کو غنیمت سمجھیں گے۔

ایک اور حکیم اس لطیفے کے مضمون کو اور بھی بالاتر لے گیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم اپنی اپنی مصیبتوں کو آپس میں بدل سکتے تو پھر ہر شخص اپنی پہلی ہی مُصیبت کو اچھّا سمجھتا۔

میں ان دونوں خیالوں کو وُسعت دے رہا تھااور بے فکری کے تکیے سے لگا بیٹھا تھا کہ نیند آگئی اور خواب میں دیکھتا ہوں کہ سُلطانِ افلاک کے دربار سے ایک اشتہار جاری ہوا ہے ۔خُلاصہ جس کا یہ ہے کہ تمام اہلِ عالم اپنے اپنے رنج والم اور مصائب و تکالیف کو لائیں اور ایک جگہ ڈھیر لگا ئیں۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ایک میدان کہ میدانِ خیا ل سے بھی زیادہ وسیع تھا، تجویز ہوا اور لوگ آنے شروع ہوئے۔ میں میدانِ میں بیچوں بیچ میں کھڑا تھا اور اُن کے تماشے کا لُطف اُٹھارہا تھا۔ دیکھتا تھا کہ ایک کے بعد ایک آتا ہے اور اپنا بوجھ سرسے پھینک جاتا ہے لیکن جو بوجھ گرتا ہے مقدار میں اور بھی بڑا ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مُصیبتوں کا پہاڑبادلوں سے بھی اونچا ہوگیا۔

ایک شخص سوٗکھا، سہما، دُبلا پے کے مارے فقط ہوا کی حالت ہورہا تھا، اس انبوہ میں نہایت چالاکی اور پُھرتی سے پھر رہا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک آئینہ تھا جس میں دیکھنے سے شکل نہایت بڑی معلوم ہونے لگتی تھی۔ وہ ایک ڈھیلی ڈھالی پوشاک پہنے تھا جس کا دامن، دامنِ قیامت سے بندھا تھا۔ اُس پر دیوزادوں اور جنّاتوں کی تصویریں،زردوزی کڑھی ہوئی تھیں اور جب وہ ہوا سے لہراتی تھیں تو ہزاروں عجیب وغریب صورتیں اُس پر نظر آتی تھیں۔ اُس کی آنکھیں وحشیانہ تھیں مگر نگاہ میں افسردگی تھی اور نام اُس کاوہم تھا۔ ہر شخص کا بوجھ بند ھواتا تھا اور لدواتا تھا اور مقامِ مقّررہ پر لے جاتا تھا۔ میں نے اپنے ہم جنسوں اور ہم صورت   بھائیوں کو جب بوجھوں کے نیچے گڑگڑاتے دیکھااور ان مصیبتوں کے انبار کو خیال کیا تو بہت گھبرایا اور دل میں ایسا ترس آیا کہ بیان نہیں ہوسکتا۔

اس عالم میں بھی چند شخصوں کی حالت ایسی نظرا ٓئی کہ اُ س نے ذرامیرادل بہلایا صورت بہلاوے کی یہ ہوئی کہ دیکھتا ہوں کہ ایک شخص پُرانے سے چکن کے چُغے میں ایک بھاری سی گٹھری لیے آتا ہے۔ جب وہ گٹھری انبار میں پھینکی تو معلوم ہوا کہ افلاس کا عذاب تھا۔ اُس کے پیچھے ایک اور شخص دوڑاآتا تھا، بدن سے پسینہ بہتا تھا، اور مارے بوجھ کے ہانپتا جاتا تھا۔ اُ س نے بھی اپنا بوجھ سرسے پھینکا اور معلوم ہوا کہ وہ اس کی جوروتھی جو بہت بُری تھی اُس نے وہ بلا سرسے پھینکی ہے۔

ان کے بعد ایک بڑی بھیڑآئی کہ جن کی تعداد کا شمارنہ تھا۔ معلوم ہواکہ یہ عاشقوں کا گروہ ہے ۔ ان کے سروں پر دوٗدِآہ کی گٹھریاں تھیں کہ انھیں میں آہوں کے تیرِ خیالی اور نالوں کے نیزۂ وبالی دبے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ لوگ مارے بوجھ کے اس طرح دردسے آہیں بھرتے تھے کہ گویا اَب سینے ان کے پھٹ جائیں گے لیکن تعجب یہ ہے کہ جب اس انبار کے پاس آئے تو اتنا نہ ہوسکا کہ ان بوجھوں کو سرسے پھینک دیں۔ کچھ جدّوجہد سے سرہلایا مگر جس طرح لدے ہوئے آئے تھے اسی طرح چلے گئے۔ بہت بُڑھیاں دیکھیں کہ بدن کی جُھرّیاں پھینک رہی تھیں۔ چند نوجوان اپنی کالی رنگت، کچھ موٹے موٹے ہونٹ، اکثر ایسے میل جمے ہوئے دانت پھینکتے تھے کہ جنھیں دیکھ کر شرم آتی تھی مگرمجھے یہی حیرت تھی کہ اس پہاڑ میں سب سے زیادہ جسمانی عیب تھے۔ ایک شخص کو دیکھتا ہوں کہ اُس کی پیٹھ پر بھاری سے بھاری اور بڑے سے بڑا بوجھ ہے ، مگر خوشی خوشی اُٹھائے چلا آتا ہے۔ جب پاس آیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک کُبڑا ہے اور آدم زاد کے انبارِرنج والم میں اپنے کُبڑے پن کو پھینکنے آیا ہے کہ اُس کے نزدیک اس سے زیادہ کوئی مُصیبت نہیں۔ اس انبار میں انواع واقسام کے سُقم اور امراض بھی تھے جن میں بعض اصلی تھے اور بعض ایسے تھے کہ غلط فہمیوں نے خواہ مخواہ اُنھیں مرض سمجھ لیا تھا۔ ایک بوجھ مجھے اور نظر آیا جو امراض آدم زاد پر عارض ہوتے ہیں اُن سب کا مجموعہ تھا۔ یعنی بہت سے حسین نوجوان تھے کہ اپنے ہاتھوں کی کمائی یعنی امراض نوجوانی ہاتھوں میں لیے آتے تھے، مگر میں فقط ایک ہی بات میں حیران تھا، اور وہ یہ تھی کہ اتنے بڑے انبار میں کوئی بے وقوفی یا بد اطواری پڑی ہوئی نہ دکھائی دی۔ میں یہ تماشے دیکھتا تھا اور دل میں یہ کہتا تھا کہ اگر ہوس ہائے نفسانی اور ضُعفِ جسمانی اور عیوبِ عقلی سے کوئی نجات پانی چاہے تو اس سے بہتر موقع نہ ہاتھ آئے گا۔ کاش! کہ جلد آئے اور پھینک جائے۔ اتنے میں ایک عیاّش کو دیکھا کہ اپنے گناہوں کا بوجھ اُٹھائے بے پرواچلا آتا ہے۔ اُس نے بھی ایک گٹھری پھینک دی مگر جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ گناہوں کے عوض اپنی عاقبت اندیشی کو پھینک گیا۔ ساتھ ہی ایک چھٹے ہوئے شہدے آئے۔ میں سمجھا کہ یہ شاید اپنی کوتاہ اندیشی کو پھینکیں گے مگر وہ بجائے اس کے اپنی شرم وحیا کو پھینک گئے۔

جب تمام بنی آدم اپنے اپنے بوجھوں کا وبال سرسے اُتارچکے تومیاں وہم کہ جب سے اب تک اس مصروفیت میں سرگرداں تھے، مجھے الگ کھڑادیکھ کر سمجھے کہ یہ شخص خالی ہے۔ چنانچہ اس خیال سے میری طرف جھکے۔ اُن کو اپنی طرف آتے دیکھ کر میرے حواس اُڑگئے مگر اُنھوں نے جھٹ اپنا آئینہ سامنے کیا۔ مجھے اپنامنہ اُس میں ایسا چھوٹا معلوم ہوا کہ جی بے زار ہوگیااور ایسا گھبرایا کہ چہرے کو نقاب کی طرح اُتار کر پھینک دیا او ر خاص خوش نصیبی اس بات کو سمجھا کہ ایک شخص نے اپنے چہرے کو بڑا اور  اپنے بدن پر ناموزوں سمجھ کر اُتار پھینکا تھا۔ یہ چہر ہ حقیقت میں بہت بڑاتھا۔ یہاں تک کہ فقط اُس کی ناک میرے سارے چہرے کے برابر تھی۔

ہم اس انبوہِ آفات پر غورسے نظر کررہے تھے اور اس عالم ہیولانی کی ایک ایک بات کو تاک تاک کر دیکھ رہے تھے جو سُلطان الافلاک کی بارگاہ سے حُکم پہنچا کہ اب سب کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اپنے اپنے رنج وتکلیف تبدیل کرلیں اور اپنے اپنے بوجھ لے کر گھروں کو چلے جائیں۔ یہ سُنتے ہی میاں وہم پھر مستعد ہوئے اور پھر بڑی تُرت پھرت کے ساتھ اس انبارِ عظیم کے بوجھ باندھ باندھ کر تقسیم کرنے لگے۔ ہر شخص اپنا اپنا بوجھ سنبھالنے لگا اور اس طرح کی ریل پیل اور دھکم دھکاّہوئی کہ بیان سے   باہر ہے۔ چنانچہ اس وقت چند باتیں جو میں نے دیکھیں وہ بیان کرتا ہوں۔

ایک پیر مرد کہ نہایت معززومحترم معلوم ہوتا تھادردِ قولنج سے جاں بلب تھا اور لاولدی کے سبب سے اپنے مال واملاک  کے لیے ایک وارث چاہتا تھا ۔ اُس نے دردِ مذکور کو پھینک کر ایک خوب صورت نوجوان لڑکے کو لیا۔ مگر لڑکے نابکارکونافرمانی اور سر شوری کے سبب سے دِق ہوکر اُس کے باپ نے چھوڑدیا تھا۔ چنانچہ اُس نالائق نوجوان نے آتے ہی جھٹ بُڈّھے کی داڑھی پکڑلی اور سر توڑنے کو تیاّرہوا۔ اتّفاقاً برابرہی لڑکے کا حقیقی باپ نظر آیا کہ اب وہ دردِ قولنج کے مارے لوٹنے لگا تھا۔ چنانچہ بڈّھے نے اُس سے کہا کہ برائے خُدا میرادردِ قولنج مجھے پھیر دیجیے اور اپنا لڑکا لے لیجیے کہ میرا پہلا عذاب اس سے ہزاردرجہ بہتر تھا۔ مگر مشکل یہ ہوئی کہ یہ مبادلہ اب پھر نہ ہوسکتا تھا۔

ایک بے چارہ جہازی غُلام تھا کہ اُس نے قیدِزنجیر اور جہازی محنت کی تکلیف سے دِق ہوکر اس عذاب کو چھوڑا تھا اور جھوٗلے کے مرض کو لے لیا تھا۔ اُسے دیکھا کہ دو قدم چل کر بیٹھ گیااور سر پکڑے بسوررہا تھا۔

غرض اسی طرح کئی شخص تھے کہ اپنی اپنی حالت میں گرفتار تھے اور اپنے کیے پر پچھتا رہے تھے۔ مثلاً کسی بیمارنے افلاس لیا تھا اور وہ اس سے ناراض تھا ۔کسی کو بھوک نہ لگتی تھی، اب وہ جوع البقر کے مارے پیٹ کو پیٖٹ رہاتھا۔ ایک شخص نے فکر سے دق ہوکر اُسے چھوڑاتھا۔ اب وہ دردِجگر کا مارالوٹ رہا تھا اور اس طرح برعکس غرض ہر شخص کو دیکھ کر عبرت اور پشیمانی ہی حاصل ہوتی تھی۔

عورتیں اپنی ادل بدل کے عذاب میں گرفتار تھیں۔ کسی نے سفید بالوں کو چھوڑا تھا مگر اب پاؤں میں ایک پھوڑا ہوگیا تھا کہ لنگڑاتی تھی اور ہائے !ہائے! کرتی چلی جاتی تھی۔ کسی کی پہلے کمر بہت پتلی تھی مگر چوں کہ سینہ اور بازو بھی دُبلے تھے، اس لیے پتلی کمر کو چھوڑاتھا۔ اب گول گول بازؤں کے ساتھ بڑی سی توندنکالے چلی جاتی تھی۔کسی نے چہرے کی خوب صورتی لی تھی، مگر اس کے ساتھ بے آبروئی کا داغ اور بدنامی کاٹیکا بھی چلا آیاتھا۔ غرض ان سب میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جسے پہلے نقص کی بہ نسبت نیا نقص گراں نہ معلوم ہورہا ہو۔ ان سب کی حالتوں کود یکھ کر یہ میری سمجھ میں آیا کہ جو مُصیبتیں ہم پر پڑتی ہیں وہ حقیقت میں ہمارے سہارنے بموجب ہوتی ہیںیا یہ بات ہے کہ سہتے سہتے ہمیں اُن کی عادت ہوجاتی ہے۔

مجھے اُس بڈّھے کے حال پر نہایت افسوس آیا کہ ایک خوب صورت سجیلاجوان بن کر چلا مگر مثانے میں ایک پتھری پیداہوگئی تھی کہ اب بھی سیدھی طرح نہ چل سکتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ اس نوجوان کے حال پر افسوس آتا تھا کہ بچارالکڑی ٹیکتا گرتا پڑتا چلا جاتا تھا۔ کمر جھکی ہوئی، گردن بیٹھی ہوئی تھی ،کَھوے سرسے اونچے نکل آئے تھے اور جو عورتیں پہلے اس کی سج دھج پرجان دیتی تھیں اُن کا غول گرِد تھا یہ اُنھیں دیکھتا تھا اورپانی پانی ہواجاتا تھا۔ جب سب کے مبادلے بیان کیے ہیں تو اپنے مبادلے سے بھی مجھے صاف صاف نہ گزرنا چاہیے۔ چنانچہ اس کی صورت حال یہ ہے کہ بڑے چہرے والے یار میرے چھوٹے چہرے کولے کر ایسے بدنُما معلوم ہونے لگے کہ جب میں نے اُن کی طرف دیکھا تو اگرچہ میراہی چہرہ تھا مگر ایسا بے اختیار ہنسا کہ میری اپنی بھی صورت بگڑگئی اور صاف معلوم ہواکہ وہ بچارامیرے ہنسنے سے شرماگیا مگر مجھے بھی اپنے حال پر کچھ فخر کی جگہ نہ تھی۔ کیوں کہ جب میں اپنی پیشانی سے عرقِ ندامت پونچھنے لگا تو وہاں تک ہاتھ نہ پہنچ سکا۔ چہرہ اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ ہاتھ رکھتا کہیں تھا اور جاپڑتا کہیں تھا۔ ناک اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ جب چہرے پر ہاتھ پھیرا تو کئی دفعہ ہاتھ نے ناک سے ٹکّر کھائی۔ میرے پاس ہی دوآدمی اور بھی تھے جن کے حال پر تمسخر کرنا واجب تھا۔ ایک تو وہ شخص تھا کہ پہلے ٹانگوں کے مُٹاپے کے سبب سے چھدراکرچلتا تھا اُس نے ایک لم ٹنگوسے مبادلہ کرلیا تھا کہ جس میں پنڈلی معلوم ہی نہ ہوتی تھی۔ ان دونوں کو جودیکھتا تھا، وہ ہنستا تھا۔ ایک تو ایسا معلوم ہوتا تھا گویا دوبلّیوں پر چلا جاتا تھا۔ سرکایہ عالم تھا گویا ہوامیں اُڑاجاتا ہے اور دوسرے کا یہ حال تھا کہ چل ہی نہ سکتا تھا۔ کمالِ کوشش سے قدم اُٹھاتا تھا مگر یہ حال تھا کہ دونوں طرف دودائرے کھنچے چلے جاتے تھے۔ میں نے اس عجیب الخلقت کی حالت ِغریب کو دیکھ کرکہا کہ میاں! اگر دس قدم سیدھے چلے جاؤ تو سوادَ مڑی کی ریوڑیاں کھلاتے ہیں۔

غرض وہ سارااَنبار عورتوں اور مردوں میں تقسیم ہوگیا مگر لوگوں کا یہ حال تھا کہ دیکھنے سے ترس آتا تھا یعنی ان سے بے زار تھے اور اپنے اپنے بوجھوں میں دبے ہوئے اوپر تلے دوڑتے پھرتے تھے۔ سارا میدان گریہ وزاری، نالہ وفریاد، آہِ افسوس سے دُھواں دھارہورہا تھا۔ آخرمیں سُلطان الافلاک کو بے کس آدم زاد کے حالِ دردناک پر رحم آیا اور حُکم دیا کہ اپنے اپنے بوجھ اُتار کر پھینک دیں، پہلے ہی بوجھ اُنھیں مل جائیں۔ سب نے خوشی خوشی اُن وبالوں کو سروگردن سے اُتار کر پھینک دیا۔ اتنے میں دوسراحُکم آیا کہ وہم جس نے اُنھیں دھوکے میں ڈال رکھاتھا وہ شیطان نابکار یہاں سے دفع ہوجائے۔ اُس کی جگہ ایک فرشتۂ رحمت آسمان سے نازل ہوا۔ اُس کی حرکات وسکنات نہایت معقول وباو قار تھیں۔ اور چہرہ بھی سنجیدہ اور خوش نما تھا۔ اُس نے باربار اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اُٹھا یا اور رحمتِ الٰہی پر توکّل کرکے نگاہ کو اُسی کی آس پر لگا دیا۔ اُس کا نام صبر وتحمّل تھا۔ ابھی وہ اس کو ہِ مُصیبت کے پاس آکر بیٹھا ہی تھا جو کوہِ مذکور خودبہ خود سمٹنا شروع ہوا، یہاں تک کہ گھٹتے گھٹتے ایک ثُلث رہ گیا۔ پھر اُس نے ہر شخص کو اصلی اور واجبی بوجھ اُٹھا کردینا شروع کیا اور ایک ایک کو سمجھاتا گیا کہ نہ گھبراؤ اور بُردباری کے ساتھ اُٹھاؤ۔ ہر شخص لیتا تھا اور اپنے گھر کو راضی رضا مند چلا جاتا تھا۔ ساتھ ہی اُس کا شکریہ اداکرتا تھا کہ آپ کی عنایت سے مجھے اس انبارِ لاانتہا میں سے اپنا بارِ مُصیبت چُننا نہ پڑا ۔


                                                                                   (محمد حسین آزادؔ)

                                         مشق

سوالات:


1.    سُلطانِ افلاک کے دربار سے کیا اشتہار جاری ہوا؟

2 .    وہم کا کیا حُلیہ بتا یا گیا ہے تفصیل سے لکھیے۔

3.     لوگ اپنی پہلی مصیبت سے چُھٹکارا کیوں پانا چاہتے تھے؟

4.    مصیبتوں کو بدلنے کے بعد لوگوں نے خود کو کیسا محسوس کیا؟

5.     اپنی اپنی مصیبتوں کو بدلنے کے بعد بھی لوگوں کی پریشانیاں کم کیوں نہیں ہوئیں؟

6.     صبر وتحمل کا بیان کس طرح کیا گیا ہے؟